Baaghi TV

Category: کشمیر

  • کشمیریوں پر مظالم سے باز آجائیں:یورپی پارلیمنٹ کا نریندر مودی سے بڑا مطالبہ

    کشمیریوں پر مظالم سے باز آجائیں:یورپی پارلیمنٹ کا نریندر مودی سے بڑا مطالبہ

    برسلز: کشمیریوں پر مظالم سے باز آجائیں:یورپی پارلیمنٹ کا نریندر مودی سے بڑا مطالبہ ،اطلاعات کے مطابق اراکین یورپی پارلیمنٹ نے کشمیری رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کے 21 ممبران نے بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی سمیت بھارتی اعلیٰ حکام کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بے گناہ حراست میں لیے گئے افراد کو فوری رہا کیا جائے۔اراکین یورپی پارلیمنٹ کا خط میں کہنا تھا کہ خرم پرویز اور دیگر اسیران کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں اور رہنما اصولوں پر عمل کرتے ہیں۔

    خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ آئندہ یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس میں اس سنگین صورتحال پربحث کرنے کی درخواست کریں گے کہ نئی دہلی یو این جنرل اسمبلی کی قراردادوں کی مکمل پاسداری کرے۔

    واضح رہے کہ کشمیری کونسل ای یو کے چیئرمین علی رضا سید نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی کارکن خرم پرویز اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں سمیت سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں کی رہائی کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرے۔

    دوسری جانب علی رضا سید نے یورپی پارلیمنٹ کے 21 ارکان کی طرف سے وزیر اعظم نریندر مودی سمیت اعلیٰ بھارتی حکام کو لکھے گئے کھلے خط کو بھی سراہا ہے۔

    ادھر اس سے پہلے طلاعات کے مطابق کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنزکے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر کے بارے میں عدم فعالیت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کونسل کی عدم توجہی کی وجہ سے بھارتی حکومت کی نہتے کشمیریوں پر ظلم وتشدد جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

    الطاف وانی نے ان خیالات کا اظہار جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 49ویں اجلاس میں ایجنڈا آئٹم 2 کے تحت منعقدہ ایک بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔ورلڈ مسلم کانگریس کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین وانی نے ہائی کمشنر کے دفتر کی تعریف کی کہ وہ آج دنیا کو درپیش اہم مسائل کو اجاگر کرنے میں مصروف ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کونسل بھارتی حکومت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکی ہے جس کی افواج مقبوضہ کشمیر میں شہری آبادی کو گزشتہ 33 برس سے وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنا رہی ہے۔

  • اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھارت کیخلاف کارروائی کرے:الطاف وانی

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھارت کیخلاف کارروائی کرے:الطاف وانی

    نیویارک: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھارت کیخلاف کارروائی کرے:اطلاعات کے مطابق کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنزکے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر کے بارے میں عدم فعالیت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کونسل کی عدم توجہی کی وجہ سے بھارتی حکومت کی نہتے کشمیریوں پر ظلم وتشدد جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

    الطاف وانی نے ان خیالات کا اظہار جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 49ویں اجلاس میں ایجنڈا آئٹم 2 کے تحت منعقدہ ایک بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔ورلڈ مسلم کانگریس کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین وانی نے ہائی کمشنر کے دفتر کی تعریف کی کہ وہ آج دنیا کو درپیش اہم مسائل کو اجاگر کرنے میں مصروف ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کونسل بھارتی حکومت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکی ہے جس کی افواج مقبوضہ کشمیر میں شہری آبادی کو گزشتہ 33 برس سے وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنا رہی ہے۔

    انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں سیاسی اور انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کی طرف کونسل کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اپنے مکینوں کے لیے جہنم بن چکا ہے جہاں بھارتی حکومت نے کشمیریوں سے ان کے تمام بنیادی حقوق حتی کہ زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیا ہے۔الطاف وانی نے کہاکہ وہ گزشتہ تیس برس سے انسانی حقو ق کونسل اور اس سے قبل کمیشن برائے انسانی حقوق میں نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانیوالے مظالم کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کشمیریوں پر مظالم 2018اور 2019میںعالمی اداے نے اس وقت کچھ توجہ مبذول کی جب انسانی حقوق کونسل نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں دو رپورٹیںجاری کی تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری مساوات اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔الطاف وانی نے کہاکہ دس لاکھ سے زائد بھارتی فوجی گزشتہ 33 بر س سے نہتے کشمیریوں کے خلاف برسر پیکار ہیں تاہم انسانی حقوق کونسل نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے ،جس سے بھارت کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن آف انکوائری تشکیل دے ۔

  • خاموش رہنے پر صدر یا نائب صدر بننے کی پیش کش کی گئی تھی:سابق گورنر کا انکشاف

    خاموش رہنے پر صدر یا نائب صدر بننے کی پیش کش کی گئی تھی:سابق گورنر کا انکشاف

    نئی دلی:
    بھارتی ریاست میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے جو بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے گورنر بھی رہ چکے ہیں کہاہے کہ ان کے دوستوں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پر تنقید نہ کریں کیونکہ اگر وہ خاموش رہیں تو انہیں ملک کا صدر یا نائب صدر بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ انہیں ان عہدوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔

    ستیہ پال ملک نے یہ انکشاف جنڈ کے گائوں کنڈیلا میں کنڈیلا کھاپ اور ماجرا کھاپ کے زیر اہتمام کسان سمان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وہ تینوں متنازعہ زرعی قوانین سمیت متعدد معاملات پر بی جے پی کی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر کڑی تنقید کرتے رہے ہیں ۔ جنوری میں ستیہ پال ملک نے دعویٰ کیاتھا کہ وہ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کے معاملے پر وزیرا عظم سے ملنے گئے تھے ۔

    تاہم انہوں نے کہاکہ وہ یہ نہیں بتائیں گے کہ پی ایم مودی نے انہیں کیا جواب دیا، لیکن یہ بہت تکلیف دہ ملاقات تھی اور مودی نے اس موقع پر ان سے لڑائی کی ۔ تاہم انہوں نے کہاکہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ میں آخر تک بات کریں گے ۔ستیہ پال نے کہاکہ ان کے دوستوں نے انہیں مشورہ دیاتھا کہ اگر آپ خاموش رہیں تو انہیں صدر یا نائب صدر بنایاجا سکتاہے۔

    تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ان عہدوں کو لات مارتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس سارے واقعے سے ناراض ہوکر انہوں نے گورنر کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اورکسانوں کی تحریک میں حصہ لینے کا سوچا۔ وہ بھارتی حکومت کے ایک وزیر کے پاس یہ بتانے کیلئے بھی گیا کہ وہ استعفی دے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے ان سے کہا کہ وہ یہ غلطی نہ کریں، کسانوں کے لیے بولیں، ان کے لیے لڑیں، دھرنے پر بیٹھیں لیکن تب تک استعفیٰ نہ دیں جب ان سے اس بارے میں کہاجائے۔

    ستیہ پال ملک نے کسانوں پرنئی دلی میں حکومت کی تبدیلی کیلئے متحدہونے پر زوردیتے ہوئے کہاکہ وہ اب سڑکوں پر بیٹھنا اور دھرنا دینا بند کریں۔ اپنی حکومت بنائیں، حکومت بدلیں، کسی سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ 2سال بعد لوک سبھا کے انتخابات ہیں۔ اگر کسان متحد ہو کر ووٹ دیں گے تو یہ سارے لیڈر دہلی سے بھاگ جائیں گے اور وہاں کسانوں کی حکومت ہوگی۔

  • مقبوضہ کشمیر:قابض انتظامیہ کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف مظاہرے

    مقبوضہ کشمیر:قابض انتظامیہ کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف مظاہرے

    سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مختلف سرکاری محکموں کے عارضی ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں جموں میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔جموں وکشمیر کیجول لیبررز یونائیٹڈ فرنٹ کے بینر تلے بڑی تعداد میں ملازمین نے پریس کلب جموں کے قریب جمع ہوکر مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔

    احتجاج کرنے والے ملازمین باقاعدہ کرنے، کم از کم اجرت ایکٹ کے نفاذ اور زیر التوا اجرت کے اجراءکا مطالبہ کر رہے تھے۔دیہات دفاعی کمیٹیوں(وی سی ڈی) کے خصوصی پولیس افسروں نے جموں خطے کے ضلع ڈوڈہ میں بھارتی حکومت کے حالیہ فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں انہیں کمیٹیوں کے دیگر اراکین کے برابر لایا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 25 برس سے وی ڈی سی میں بطور ایس پی او خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن انہیں تمام مراعات سے محروم رکھا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ نئے فیصلے کے مطابق ان کی تنزلی کی گئی ہے اور ان کا اعزازیہ کم کر کے 4500 سوروپے ماہانہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں محکمہ پولیس کے مستقل ملازمین میں شامل کرنے کے بجائے رضاکاروں کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

    ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی پولیس نےکل ضلع شوپیا ں میں تین کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔ نے اشفاق احمد ڈار، ندیم رفیق راتھر اور رئوف مشتاق نجار نامی نوجوانوں کو ضلع کے علاقے Khudpora میں ایک چوکی سے گرفتار کیا۔ پولیس نے نوجوانوں کو مجاہد تنظیم کے کارکن قراردے دیا ہے ۔

  • ہندو انتہا پسندوں کا پادری پر تشدد، جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا

    ہندو انتہا پسندوں کا پادری پر تشدد، جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا

    نئی دہلی :ہندو انتہا پسندوں کا پادری پر تشدد، جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا ،اطلاعات کے مطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک پادری نے کہاہے کہ نامعلوم افراد کے ایک گروپ نے انہیں مارا پیٹا گیا، ان کی تذلیل کی اور جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا ۔

    یہ واقعہ رواں برس 25 فروری کو جنوبی دہلی کے علاقے فتح پوری بیری میں پیش آیا تھا لیکن پادریKelom Tet نے واقعے کی دو دن بعد میدان گڑھی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ۔

    دہلی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ اسے 27 فروری کی شام کو پادری کی شکایت موصول ہوئی تھی ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ شکایت کی تحقیقات کر رہی ہے۔پینتیس سالہ پادری جو گزشتہ 18 برس سے جنوبی دہلی کے اسولا میں مقیم ہے، نے کہا کہ انہیں کہ 15 سال قبل بھی دہلی کی سنجے کالونی میں ایک نامعلوم گروہ نے نشانہ بنایا تھا۔

    ادھر بھارتی ریاست کرناٹک میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے ایک درگاہ میں پوجا کااہتمام کرنے کی مذموم کوشش کے بعد پولیس نے مجرموں کو گرفتار کرنے کے بجائے 150سے زائد مسلمانوںکو گرفتار کر لیا ہے۔

    ریاست کے ضلع کالبرگی کے قصبے کا الند میں اس وقت کشیدگی شروع ہوئی جب ایک بدنام زمانہ ہندو انتہا پسند گروپ سری راما سین نے لاڈلے مشک درگاہ میں پوجا کا اہتمام کرنے کا اعلان کیا۔تاہم حکام نے امتناعی احکامات جاری کرتے ہوئے گروپ کو درگاہ جانے سے روکنے کی کوشش کی لیکن مرکزی وزیر بھتوانت کھویاسمیت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماوں کی قیادت میں لوگوں کا ایک گروپ درگاہ پہنچا اور پوجا شروع کی جس کے باعث علاقے میں تناو پیدا ہو گیا۔

    الند کے سابق کانگریس ایم ایل اے بی آر پاٹل نے ایک بیان میں کہا کہ حکام احکامات کو نافذ کرنے میں ناکام رہے اور بی جے پی رہنماﺅں کو درگاہ پہنچنے کی اجازت دی جس کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہوئی۔مسلمانوں کا کہنا ہے کہ پولیس تعصب کا مظاہرہ کر رہی ہے اور انہیں گرفتار کر رہی ہے حالانکہ تمام اشتعال انگیزی ہندو دائیں بازو کے گروپ سے وابستہ لوگوں کی طرف سے کی گئی تھی۔

  • :3مارچ پاکستان میں بھارت کی دہشتگردکارروائیوں کی تلخ یاد دہانی کا دن:مگربھارت پھرباز نہ آیا

    :3مارچ پاکستان میں بھارت کی دہشتگردکارروائیوں کی تلخ یاد دہانی کا دن:مگربھارت پھرباز نہ آیا

    اسلام آباد ::3مارچ پاکستان میں بھارت کی دہشتگردکارروائیوں کی تلخ یاد دہانی کا دن ہے ،تاریخ شاہد ہے کہ 03 مارچ 2009لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں جنہیں بھارتی خفیہ ایجنسی را کی مالی سرپرستی میں حاصل تھی کے جان لیوا حملے اور 2016میں پاکستان میں دہشتگردی کے ماسٹر مائنڈ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کی تلخ یاد دہانی کادن ہے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ دونوں واقعات میں براہ راست بھارت ملوث ہے جن کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا تھا۔

    سری لنکن کرکٹ ٹیم پر بھارتی ایجنٹوں نے 3مارچ 2009کو لاہور میں دہشت گرد حملہ کیاتھا جس کامقصد عالمی سطح پر پاکستان کو کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد کیلئے پاکستان کو خطرناک ملک ثابت کرنا تھا ۔بعد ازاں 3مارچ 2016کو بھارتی جاسوس اور خفیہ ایجنسی را کے دہشت گردکمانڈر کلبھوشن یادیو جو بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر ہے کو بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے ایرانی پاسپورٹ پر پاکستان جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملے سمیت پاکستان میں دہشت گردی کی مذموم کارروائیوں میں ملوث ہے ۔

    کلبھوشن نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے بارے میں چونکا دینے والے انکشافات کئے ہیں۔ بھارتی جاسوس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ صفورا بس حملہ کے ماسٹر مائنڈ سے بھی رابطہ میں تھا، جس میں مسلح افراد نے 45 اسماعیلی فرقے کے لوگوں کو گولی مار کرقتل کیا تھا۔ گرفتار بھارتی جاسوس کے اعترافی بیان سے ثابت ہو گیا ہے کہ بھارت پڑوسی مسلم ملک پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔

    بھارت کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کو پاکستان کے خلاف اپنے مذموم عزائم کے لیے پراکسی کے طور پر استعمال کررہا ہے اور پاکستان نے ایک ڈوزئیر کے ذریعے عالمی برادری کو پاکستان میں بھارت کی کی دہشت گردانہ کارروائیوں سے آگاہ بھی کیا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر:زکورہ اور ٹینگ پورہ قتل عام کی برسی   :   مگرعالمی برادری خاموش

    مقبوضہ کشمیر:زکورہ اور ٹینگ پورہ قتل عام کی برسی : مگرعالمی برادری خاموش

    مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی سفاکوں نے 1990 کے اوائل سے ہی یہاں کی سرزمین کو انسانی خون سے نہلایا ہے،مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارت کے ناجائز اور غاصبانہ قبضے کے خاتمے کیلئے اہل کشمیر کی شروع کی گی تحریک آزادی کو کمزوراور ختم کرنے کی کوشش میں بھارتی سفاکوں نے اجتماعی قتل عام کے درجنوں واقعات دہرائے،پھر قاتل اور سفاک اہلکاروں کو یہاں نافذ بدنامہ زمانہ قوانین کی استثناء کی اڑ میں انصاف کے کٹہرے میں بھی نہیں لایا جاسکا،اجتماعی قتل عام کے ان سانحات میں زکورہ اور ٹینگ پورہ سرینگربھی شامل ہیں جہاں1990ء میں آج ہی کے دن سیتا کے پجاریوں اور وردی میں ملبوس دہشت گرد بھارتی فوجیوں نے 50سے زائد کشمیریوں کو خاک و خون میں نہلادیا۔

    32 برس کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی شہدا کے متاثرین اب بھی انصاف کے حصول کے منتظر ہیں،یکم مارچ 1990ء میں زکورہ کراسنگ اور ٹینگ پورہ سرینگر اجتماعی قتل عام کی یادیں اہل کشمیر کے ذہنوں میں آج بھی تازہ ہیں۔ زکورہ اور ٹینگ پورہ سرینگر جیسے انسانی قتل عام کے سانحات نے بھارتی فوجیوں کا سفاک چہرہ بے نقاب کر دیا ہے ۔بھارتی سفاک صرف زکورہ اور ٹینگ پورہ تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ ایک کے بعد ایک اجتماعی قتل عام کے سانحات دہرائے،مقبوضہ کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوجی تعیناتی والا خطہ بن چکا ہے اور بھارتی فوجی گزشتہ 7 دہائیوں سے کشمیری عوام کے قتل عام میں ملوث ہیں۔

    گزشتہ 33 برسوں میں 95,970 سے زائد کشمیری بھارتی گولیوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ بین الاقوامی برادری کو مجرمانہ خاموشی ترک کرکے بھارت کی طرف سے کشمیری عوام کی نسل کشی کا نوٹس لینا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے جنگی جرائم کے ٹریبونل کو زکوہ اور ٹینگ پورہ اجتماعی قتل عام اور دیگر سانحات میں ملوث بھارتی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کرکے انہیں انصاف کے کٹہروں میں کھڑا کرنا چاہیے۔

    اہل کشمیرعظیم اور لازوال قربانیوں سے مزین تحریک آزادی کو جاری وساری رکھے ہوئے ہیں اور گزشتہ ماہ فروری میں بھی8کشمیری بھارتی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے،جن میں سے 3 نوجوانوں کو فرضی مقابلے میں شہید کیا گیا۔کشمیری عوام شہدا کے مشن کو ہر حال میںمنطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔ تحریک آزادی کشمیر کیلئے بہایا جانے والا شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گااور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی شکست نوشتہ دیوار ہے

  • جوریاست کے ساتھ وفا نہیں کرے گا وہ اپنا نقصان آپ کرے گا:مودی ڈاکٹرائن سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں

    جوریاست کے ساتھ وفا نہیں کرے گا وہ اپنا نقصان آپ کرے گا:مودی ڈاکٹرائن سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں

    اسلام آباد:جوریاست کے ساتھ وفا نہیں کرے گا وہ اپنا نقصان آپ کرے گا:مودی ڈاکٹرائن سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں ،اطلاعات کے مطابق بھارت صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ملکوں میں سے ایک ہے جہاں نریندر مودی کی فسطائی حکومت کی لائن پر نہ چلنے والے صحافیوں کو ہراساں کرنا روز کا معمول بن گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں گزشتہ 5 برسوں میں 18 صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے کیونکہ مودی حکومت صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لیے مختلف دھمکی آمیز حربے استعمال کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں صحافیوں پر مقدمے، قتل اور ڈرانا دھمکانا معمول بن چکا ہے جبکہ2014 میں مودی کی بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں پر حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی مودی کی قیادت میں بھارت عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں مسلسل نیچے کی آرہاہے اور رپورٹرز ودآو¿ٹ بارڈر کی تازہ ترین سالانہ درجہ بندی میں 180 ممالک میں سے وہ 142 ویں نمبر پر ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو صحافی بی جے ی کی لائن کو نہیں مانتے انہیں ہراساں کرنے اور دڑانے دھمکانے کا سلسلہ روز بہ روز تیز ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں میڈیا والوں کے خلاف سچ بولنے پر کالے قوانین کے تحت مقدمات درج گئے گئے ۔

    کے ایم ایس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 5 اگست 2019 سے مقبوضہ علاقے میں صحافیوں کو نشانہ بنانے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی صحافی رعنا ایوب مودی حکومت کا تازہ ترین ہدف بنی ہیں اور انہیں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے جان سے مارنے اور ریپ کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممبئی میں مقیم خاتون مسلم صحافی رعنا ایوب تنقیدی رپورٹنگ کی وجہ سے مودی حکومت کے حملوں کی زد میں ہیں یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی انہیں کو ہراساں کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسے نشانہ بنانا بند کریں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کو دنیا سے چھپانے کے لیے آزاد پریس کو نشانہ بنا رہی ہے۔

  • کشمیری کبھی بھی بھارتی قابض افواج کی بربریت کو نہیں بھولیں گے:ترجمان دفتر خارجہ

    کشمیری کبھی بھی بھارتی قابض افواج کی بربریت کو نہیں بھولیں گے:ترجمان دفتر خارجہ

    اسلام آباد:کشمیری کبھی بھی بھارتی قابض افواج کی بربریت کو نہیں بھولیں گے:اطلاعات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام بھارتی قابض افواج کی بربریت کو کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتے

    2020 کے ہولناک دہلی فسادات کی دوسری برسی اور 1991 میں ہندوستان کے غیر قانونی طور پر زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے کنن اور پوش پورہ دیہات میں کشمیری خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی 31 ویں برسی کے موقع پر ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ فروری 2020 کا دہلی قتل عام ہندوستان کی مسلم کمیونٹی کے خلاف امتیازی سلوک، اور منظم مہم کی ہولناک مثالوں میں سے ایک ہے۔

    انہوں نے کہا کہ امتیازی شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہروں کے دوران بی جے پی رہنماؤں کی طرف سے ’غداروں کو گولی مارو‘ کے بیانات نے انکی نفرت کی گہرائی کو ظاہر کیا، بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم مہم شروع کی گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام اور ان کی املاک، کاروبار اور تاریخی مقامات کی توڑ پھوڑ اور ان کے مذہبی مقامات کی بے حرمتی کی گئی، تئیس اور چوبیس فروری 1991 کی بھیانک یاد بھی اتنی ہی خوفناک ہے۔

    عاصم افتخار نے کہا کہ بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ جموں کشمیر کے کنن اور پوش پورہ دیہات میں 40 سے زائد کشمیری خواتین کی بے رحمی سے عصمت دری کی، 31 سالوں سے اس گھناؤنے فعل میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی نہ ہو سکی۔

    ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار احمد کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام بھارتی قابض افواج کی اس بربریت کو کبھی نہیں بھولیں گے، پاکستان اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کے لیے بھارت کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کرتا ہے۔

  • بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپراستعمال کر رہاہے:کشمیری رہنما

    بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپراستعمال کر رہاہے:کشمیری رہنما

    سرینگر: بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپراستعمال کر رہاہے:کشمیری رہنما ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی تذلیل اور انکی جدوجہدآزادی کو دبانے کے لیے کشمیری خواتین کی عصمت دری کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

    حریت رہنماوں نے 1991 کے کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کی شدید مذمت کی اور اسے جموں و کشمیر کی تاریخ کا سب سے المناک واقعہ قرار دیا۔ انہوں نے ایسے تمام واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ ملوث بھارتی فوجیوں کو سزا دی جا سکے۔ بھارتی فوجیوں نے23 فروری 1991 کی رات کو ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران تقریباً سو خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی تھی۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے نائب چیئرمین غلام احمد گلزار نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ کنن پوش پورہ میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے اجتماعی عصمت دری ایک شرمناک فعل ہے جس کی دنیا کے تمام انسانوں کو مذمت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کے مجرم سزائے موت کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیرکے لوگوں کا بھارتی عدلیہ پر سے اعتماد ختم ہو چکا ہے اور وہ ایسے دلخراش واقعات میں انصاف کی توقع نہیں رکھتے۔

    غلام احمد گلزار نے اجتماعی عصمت دری کے تمام متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کشمیریوں کی جاری مزاحمتی تحریک کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور بین الاقوامی فوجداری عدالت پر زور دیا کہ وہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری جیسے انسانیت کے خلاف سنگین جرائم پر بھارت کے خلاف کارروائی کرے اور مجرموں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لائے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما مولوی بشیر احمد عرفانی نے سرینگر میں ایک بیان میں افسوس کا اظہار کیا کہ کنن پوش پورہ سانحہ کے متاثرین کو تین دہائیوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔

    حریت رہنما محمد یوسف نقاش نے سرینگر میں اپنے بیان میں کہا کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کشمیری خواتین کو تحریک آزادی سے دور رکھنے کے لیے بھارتی حکام کی طرف سے رچی گئی ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی رہنما زمرودہ حبیب نے سرینگر میں ایک بیان میں اس اندوہناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار اور کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کیس کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا

    حریت رہنما یٰسمین راجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور فاشزم کی ایک واضح مثال ہے۔۔حریت رہنما عبدالصمد انقلابی نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کو بھارتی فورسز اہلکاروں کے ہاتھوں عصمت دری، جنسی زیادتی اور چھیڑ چھاڑ کی ہولناکیوں کا سامنا ہے

    کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموںوکشمیر شاخ کی رہنما، شمیم شال نے اسلام آباد میں ایک بیان میں کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہر سال 23 فروری کشمیریوں کو مقبوضہ جموںوکشمیرمیں بھارتی فوجیوں کی طرف سے کی جانے والی ایک بھیانک حرکت کی یاد دلاتا ہے۔