Baaghi TV

Category: خواتین

  • تبدیلی ، تحلل ، انقلاب،تحریر:پارس کیانی

    تبدیلی ، تحلل ، انقلاب،تحریر:پارس کیانی

    زندگی میں بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ انسان کی سوچ کی بنیادیں بدل دیتے ہیں۔ میرے ساتھ ایسا ہی ایک واقعہ دورانِ ملازمت پیش آیا۔ ڈیوٹی سے فارغ ہو کر میں گھر جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھی۔ راستے میں گاڑی ایک جگہ رکی اور سامنے ایک پرانی، عام سی ویگن کھڑی تھی۔ اس کے پیچھے لکھا ہوا جملہ میرے اندر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا "میں بڑی ہو کر ڈیؤ (DAEWOO) بنوں گی!”

    اس وقت میں بے اختیار ہنس پڑی۔ برسوں گزر گئے، مگر اب میں سمجھتی ہوں کہ وہ محض مذاق نہیں تھا, یہ ایک علامت تھی۔ وہ ویگن اپنی موجودہ حالت میں "بڑی” نہیں ہو رہی تھی، بلکہ وہ بدلنے کا اعلان کر رہی تھی۔ وہ اپنی شکل، اپنی ساخت، اپنے معیار، اور اپنے اندر کی توانائی کو تبدیل کرنے کی خواہش رکھتی تھی۔ اسی طرح انسان بھی کسی پیشہ، عمر یا مرتبے سے نہیں بڑھتا، وہ اپنے آپ کو بدل کر ہی کچھ بنتا ہے۔
    اور یہی وہ لمحہ ہے جب میں نے پہلی بار یہ سمجھا کہ انسان کے اندر کا پرانا وجود مکمل طور پر ختم ہوتا ہے، تب ہی وہ نئی شکل اختیار کر پاتا ہے۔ اس مرحلے میں وہ جو پہلے تھا، وہ اپنے اندر مار دیا جاتا ہے، اور جو نیا جنم لیتا ہے، وہی اصل ٹرانسفارمیشن ہے۔
    تبدیلی صرف ظاہری تبدیلی نہیں، بلکہ اندرونی انقلاب ہے۔ انسان کی شخصیت، اس کے رویے، اس کے خوف، اور اس کے ضمیر کی ساخت یہ سب ٹوٹ کر دوبارہ بناتے ہیں۔
    کائنات کی ہر حرکت اسی قانون کے تابع ہے: ستارے ٹوٹتے ہیں، پہاڑ بلند ہوتے ہیں، دریا رخ بدل لیتے ہیں۔ ہر شے مستقل حرکت میں ہے۔ انسان بھی اسی نظام کی کڑی ہے۔ اگر وہ ساکن رہے تو جمود میں رک جاتا ہے، مگر اگر وہ بدل جائے تو نئی تخلیق پیدا کرتا ہے۔

    یہ داخلی انقلاب وہ لمحہ ہے جب انسان کے اندر کا پرانا انسان مر جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انسان اپنے پچھلے خوف، پرانی عادتوں، محدود سوچ، اور پرانے تصورِ خود کو مکمل طور پر چھوڑ دیتا ہے۔ یہ مکمل موت ہے تاکہ ایک نیا وجود جنم لے۔
    یہی وہ لمحہ ہے جو فلسفیانہ اعتبار سے سب سے اہم ہے:
    جیسے خزاں میں خشک پتّا درخت سے الگ ہو کر مٹی میں مل جاتا ہے، مگر اسی مٹی سے نئی کونپل جنم لیتی ہے؛
    جیسے لوہار پُرانے لوہے کو بھٹی میں پگھلا کر نئی شکل دیتا ہے، مگر پہلے لوہے کی موت لازمی ہے؛
    اور جیسے کیڑا اپنے خول کو توڑ کر تتلی بنتا ہے۔
    یہ داخلی موت ہی انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے نئے آپ میں پیدا ہونے کے بعد واقعی کچھ بن سکے۔ یہی اصلی ٹرانسفارمیشن ہے۔

    تبدیلی نہ صرف نفسیاتی بلکہ ادبی اور علامتی سطح پر بھی واضح ہے۔
    ویگن کا جملہ، "میں بڑی ہو کر ڈیؤ بنوں گی”، ادبی طور پر ایک علامت ہے۔ ویگن کا یہ دعویٰ، اس کی موجودہ حالت پر مبنی نہیں، بلکہ اس کی تخلیقی صلاحیت اور اندرونی ارتقا پر مبنی ہے۔ انسان بھی ایسا ہی ہے:
    وہ اپنی موجودہ حالت کو بدل کر بڑا انسان بنتا ہے۔
    نفسیاتی مطالعے بھی یہی بات ثابت کرتے ہیں کہ انسان کی اصل تبدیلی اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنی پرانے انا کو فنا کر دیتا ہے۔ یونگ کے مطابق، "اندرونی خود کی موت” کے بغیر کوئی بھی شخص اپنی مکمل شخصیت کے بلند درجات تک نہیں پہنچ سکتا۔ "راجرز اور فرائیڈ” بھی یہ سمجھتے ہیں کہ حقیقی تبدیلی تب ہوتی ہے جب انسان اپنے اندر کے پرانے تصورات اور محدود یقینوں کو تحلیل کر دیتا ہے۔
    علامتی سطح پر بھی ہم زندگی میں کئی مثالیں دیکھتے ہیں جیسے
    بیج درخت بنتا ہے، مگر پہلے بیج کو مٹی میں تحلیل ہونا پڑتا ہے۔
    دریا اپنی راکھ اور ریت کو توڑ کر نیا رخ اختیار کرتا ہے۔
    ستارہ اپنی توانائی جلانے کے بعد روشنی میں بدل جاتا ہے۔
    یہ سب مشاہدات انسان کی انقلاب ذات کے فلسفے کو ظاہر کرتے ہیں: انسان بھی اگر بدل جائے تو نئے وجود میں پیدا ہوتا ہے، اور اپنے پچھلے خود کو مکمل طور پر ختم کر کے نئی شکل اختیار کرتا ہے۔

    انقلاب ذات انسان کی زندگی کا سب سے گہرا راز ہے۔ وہ بڑے ہونے سے نہیں بنتا، بلکہ بدلنے سے بنتا ہے۔ اس بدلاؤ میں انسان کے اندر کا پرانا وجود ختم ہوتا ہے اور نئی شخصیت، نئی سوچ اور نئی بصیرت پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان واقعی زندگی کے اصولوں کو سمجھ پاتا ہے اور نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔
    ویگن پر لکھا جملہ، "میں بڑی ہو کر ڈیؤ بنوں گی”، آج صرف مذاق یا سادگی نہیں لگتا۔ یہ علامتی اعلان ہے ہر انسان کے اندر چھپی ٹرانسفارمیشن کا۔ وہ “بڑی” نہیں ہونی تھی، وہ نئی ہونی تھی۔ اور نئی ہونے کے لیے ضروری تھا: اپنے پچھلے وجود کو دفن کرنا، اپنے اندر کے پرانے انسان کو مار دینا، اور اس جگہ ایک نیا وجود پیدا کرنا
    یہی انسانی ترقی، ارتقا اور اصلی تبدیلی transformation ہے۔ اور یہی زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے:
    انسان سماجی طور پر بتدریج بڑا نہیں ہوتا
    نہ موجودہ حقیقت سے بڑا بنتا ہے بلکہ اپنے اندر کے "ممکنہ خود” سے بڑا بنتا ہے۔

  • صحت، رب کی سب سے بڑی نعمت،تحریر:نور فاطمہ

    صحت، رب کی سب سے بڑی نعمت،تحریر:نور فاطمہ

    انسان کو عطا ہونے والی بے شمار نعمتوں میں اگر کوئی نعمت خاموشی سے انسان کی زندگی کو سہارا دیتی ہے تو وہ صحت ہے۔ یہ وہ دولت ہے جو نظر نہیں آتی، مگر اس کی موجودگی میں زندگی رواں دواں رہتی ہے۔ جب جسم تندرست ہو تو دن مختصر اور راتیں پرسکون لگتی ہیں، لیکن جونہی بخار، درد یا کمزوری دستک دیتی ہے، انسان کو اپنی حیثیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔بخار، بلڈ پریشر کا اتار چڑھاؤ، جسم میں درد، کمزوری، بے چینی، ڈاکٹر کے چکر اور دواؤں کا بوجھ،یہ سب تکلیفیں بظاہر بیماری لگتی ہیں، مگر درحقیقت یہ اللہ کی طرف سے ایک پیغام ہوتی ہیں۔ کبھی یہ آزمائش ہوتی ہیں، کبھی تنبیہ، اور کبھی انسان کو اس کی غفلت کا احساس دلانے کا ذریعہ۔اللہ تعالیٰ بندے کو فوراً نہیں پکڑتا، پہلے اشاروں میں سمجھاتا ہے۔ جسم کی تکلیف دراصل روح کو جھنجھوڑنے کا نام ہے کہ “اپنے آپ کو پہچانو، اپنی نعمتوں کی قدر کرو، اور اپنی زندگی کو سنوارو۔”

    بیماری میں ڈاکٹر کی دوائیں ضروری ہیں، مگر یہ یاد رکھنا بھی لازم ہے کہ شفا دوا میں نہیں، اللہ کے حکم میں ہے۔ دوا تو صرف ایک وسیلہ ہے۔ کتنے ہی مریض ایک ہی دوا کھاتے ہیں، مگر شفا کسی کو ملتی ہے اور کسی کو نہیں،کیونکہ شفا دینے والا صرف رب ہے۔اسی لیے دوا کے ساتھ دعا اور شکر کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ بیماری انسان کو عاجزی سکھاتی ہے، اور عاجزی بندے کو رب کے قریب لے جاتی ہے۔صحت ہو تو عبادت میں دل لگتا ہے،محنت آسان لگتی ہے،رزق کے دروازے کھلتے ہیں،رشتے نبھانا سہل ہو جاتا ہے،چھوٹی چھوٹی خوشیاں بڑی لگتی ہیں،لیکن جب صحت نہ ہو تو دولت بے معنی لگتی ہے،کامیابی بوجھ بن جاتی ہے،ہنسی تکلیف دیتی ہے،اور زندگی رک سی جاتی ہے،اسی لیے کہا گیا ہے کہ “صحت مند انسان ہزار خواہشیں رکھتا ہے، بیمار انسان صرف ایک۔”

    بدقسمتی سے ہم صحت کو ہمیشہ موجود رہنے والی چیز سمجھ لیتے ہیں۔ نہ کھانے پینے کا خیال، نہ آرام کی پرواہ، نہ ذہنی سکون اور جب جسم جواب دینے لگتا ہے تو شکوہ شروع ہو جاتا ہے۔حالانکہ اصل شکر یہ ہے کہ متوازن غذا اختیار کی جائے،وقت پر آرام کیا جائے،ذہنی دباؤ کم رکھا جائے،اللہ کی یاد کو زندگی کا حصہ بنایا جائے،کیونکہ جو انسان اپنی صحت کی حفاظت کرتا ہے، وہ دراصل اللہ کی نعمت کی حفاظت کرتا ہے۔یہ ایک سادہ مگر گہرا سچ ہے کہ صحت ہوگی تو زندگی آسانی سے چلے گی۔ مشکلات آئیں گی، مگر ان کا سامنا کرنے کی طاقت ہوگی۔ آزمائشیں ہوں گی، مگر حوصلہ باقی رہے گا۔صحت انسان کو یہ ہمت دیتی ہے کہ وہ گرے تو اٹھ سکے، روئے تو سنبھل سکے، اور ہارے تو پھر کوشش کر سکے۔

    صحت اللہ کی وہ نعمت ہے جو ہر سانس کے ساتھ ہمیں عطا ہو رہی ہے۔ بیماری آئے تو شکوہ نہیں، سوچ میں تبدیلی آنی چاہیے۔ یہ وقت خود کو پہچاننے، سنورنے اور رب کی طرف لوٹنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔آئیے صحت کو معمولی نہ سمجھیں،اس کی قدر کریں،اور ہر دن یہ دعا کریں “یا اللہ! ہمیں صحتِ کاملہ عطا فرما، اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے والا بنا دے۔ آمین”

  • دماغ کی خاموش چیخ،تحریر:صدف ابرار

    دماغ کی خاموش چیخ،تحریر:صدف ابرار

    ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں جسمانی تکلیف کو فوراً بیماری مان لیا جاتا ہے مگر ذہنی اذیت کو آج بھی کمزوری، وہم یا ڈرامہ کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دماغ بھی جسم کا اتنا ہی اہم حصہ ہے جتنا دل، گردے یا پھیپھڑے، بلکہ اگر سچ کہا جائے تو پوری باڈی کا کنٹرول ہی دماغ کے ہاتھ میں ہے، ہماری نیند، ہماری سوچ، ہمارے فیصلے، ہمارے جذبات، سب کچھ وہیں سے جڑا ہوا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ جب یہی دماغ تھک جائے، الجھ جائے یا دباؤ میں آ جائے تو ہم اسے ماننے کے بجائے چھپانے کو ترجیح دیتے ہیں، پاکستان جیسے معاشرے میں ذہنی بیماری کو آج بھی ایمان کی کمی، کمزور اعصاب یا زیادہ سوچنے کا نتیجہ قرار دے دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ شخص مزید تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔

    یہ مسئلہ صرف رویوں تک محدود نہیں بلکہ سہولیات کی کمی اسے اور سنگین بنا دیتی ہے، پاکستان کی آبادی تقریباً چوبیس کروڑ ہے مگر اس پوری آبادی کے لیے صرف پانچ سو کے قریب سائیکاٹرسٹ دستیاب ہیں، یعنی ہر ایک لاکھ افراد کے لیے صرف صفر اعشاریہ دو سے صفر اعشاریہ پچیس ماہرِ نفسیات، سادہ الفاظ میں ایک ڈاکٹر لاکھوں لوگوں کے مسائل سننے کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، ایسے میں یہ توقع رکھنا کہ ہر مریض کو بروقت اور معیاری علاج مل جائے، خود ایک خام خیالی ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں تو ذہنی صحت کی سہولت کا تصور ہی موجود نہیں۔

    جو چند ماہرین دستیاب ہیں، ان کی فیس اتنی زیادہ ہے کہ ایک عام آدمی کے لیے علاج کروانا آسان نہیں، ایک ایسا شخص جو پہلے ہی ذہنی دباؤ، بے چینی یا ڈپریشن کا شکار ہو، وہ مہنگے سیشنز اور مسلسل علاج کا خرچ کیسے برداشت کرے؟ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ یا تو خود ہی خاموشی سے لڑتے رہتے ہیں یا پھر ایسے مشوروں کا سہارا لیتے ہیں جو بظاہر ہمدردی لگتے ہیں مگر حقیقت میں زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوتے ہیں۔ان تمام وجوہات کی بنا پر پاکستان میں ذہنی بیماریوں میں مبتلا 80 فیصد سے زیادہ افراد کسی بھی قسم کے پیشہ ورانہ علاج تک پہنچ ہی نہیں پاتے، اور یہی وہ خاموش المیہ ہے جس پر ہم بات کرنے سے گھبراتے ہیں، حالانکہ ذہنی صحت کوئی لگژری نہیں، یہ بھی اتنی ہی بنیادی ضرورت ہے جتنی جسمانی صحت، جب تک ہم یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ دماغ بھی بیمار ہو سکتا ہے، جب تک ہم علاج کو شرمندگی کے بجائے حق نہیں سمجھیں گے، اور جب تک ہم انسان کو پاگل کا لیبل لگانے کے بجائے سمجھنے کی کوشش نہیں کریں گے، تب تک یہ مسئلہ ہمارے معاشرے کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرتا رہے گا۔وقت آ گیا ہے کہ ہم خاموشی توڑیں، کیونکہ دماغ بھی بیمار ہوتا ہے، اور اس کا علاج بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی اور بیماری کا۔

  • خاموش آنکھیں، بولتا ہوا کرب،تحریر:اقصیٰ جبار

    خاموش آنکھیں، بولتا ہوا کرب،تحریر:اقصیٰ جبار

    آنکھیں کبھی جھوٹ نہیں بولتیں، چاہے زبان خاموش رہ جائے۔
    معاشرتی زندگی کی سب سے بڑی سچائی شاید آنکھوں میں چھپی ہوتی ہے۔ زبان کبھی مصلحت کی قید میں آ جاتی ہے، مگر آنکھیں چھپائی نہیں جا سکتیں۔ وہ ہر درد، ہر کرب اور ہر خاموشی کو ظاہر کر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی خبر صرف سرخیوں یا خبروں میں نہیں، بلکہ انسانی آنکھوں میں چھپی ہوتی ہے۔

    آج ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں ہر طرف بولی اور شور ہے، مگر سچائی سننے والا کم ہے۔ ہنسی مذاق، مصروفیت اور سوشل میڈیا کے ہنگامے کے بیچ، وہ آنکھیں جو دن بھر کے دکھ کو سہہ کر بھی خاموش رہتی ہیں، سب کچھ کہہ جاتی ہیں۔ ایک طالب علم کی آنکھ میں خوف، والدین کی نگاہ میں فکر، مزدور کی تھکن اور بزرگ کی تنہائی،یہ سب خبریں ہیں جو کسی اخبار کے صفحے پر نہیں آتیں، مگر معاشرت کی اصل تصویر یہی ہیں۔

    دکھ انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ خوشی ہمیں غافل رکھتی ہے، لیکن کرب ہمارے وجود کی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔ صوفیانہ روایت میں دکھ عبادت اور بیداری کا ذریعہ ہے، سزا یا مایوسی نہیں۔ جو انسان دکھ کے باوجود خاموش رہتا ہے، وہ سب سے مضبوط اور باشعور ہوتا ہے۔ہمارا سماج اکثر آنکھوں کے غم کو کمزوری سمجھتا ہے اور اسے چھپانے کا مشورہ دیتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ خاموش آنکھیں سب کچھ کہہ دیتی ہیں۔ والدین جو دن بھر محنت کرتے ہیں، اکثر اپنی تھکن چھپاتے ہیں۔ بزرگ جو تنہائی میں بیٹھ کر زندگی کے لمحے یاد کرتے ہیں، ان کی آنکھیں ہر کہانی سناتی ہیں۔

    یہ آنکھیں کبھی شکایت نہیں کرتیں، نہ کوئی رونا دھونا کرتی ہیں، مگر ہر سچائی کا آئینہ ہوتی ہیں۔ شاید یہی خاموشی کا جادو ہے، جو لفظوں سے کہیں زیادہ اثر کرتی ہے۔قاری سے سوال یہ ہے کہ اگر خاموش آنکھیں اتنا کچھ کہہ سکتی ہیں، تو کیا ہم واقعی سننے کی کوشش کر رہے ہیں؟ یہ سوال معاشرت کے لیے نہیں، بلکہ ہر فرد کے لیے ہے۔ جو آنکھیں بول سکتی ہیں اور ہم نہیں سنتے، وہ سچائی کبھی چھپ نہیں سکتی۔ اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں اپنے اندر سننے کی طاقت کو جگانا ہوگا، تاکہ یہ خاموش کرب، خاموش محبت، اور خاموش حقیقت ہمیں صرف دیکھنے والے نہیں، بلکہ سمجھنے والے بھی بنا سکے۔

  • شیشہ گر،تحریر:پارس کیانی

    شیشہ گر،تحریر:پارس کیانی

    الیگزے شیشہ بنانے والا تھا، مگر یہ پیشہ اس کی پہلی پسند نہیں تھا۔ حالات نے اسے "شیشہ گر” بنا دیا تھا۔ شہر کے پرانے حصے میں تنگ گلیوں والے بازار میں اس کی دکان تھی، ایک عام سی دکان جسے لوگ "شیشہ گھر” کہتے تھے۔ شفاف دیواریں، قطار اندر قطار آئینے، اور ان کے بیچوں بیچ ایک خاموش آدمی جو برسوں سے دوسروں کو خود سے ملواتا آ رہا تھا۔
    صبح سے شام تک لوگ آتے۔ کوئی اپنے چہرے کی جھریاں دیکھتا، کوئی اپنی آنکھوں میں جھانک کر چونکتا، کوئی شیشے پر انگلی رکھ کر مسکرا دیتا جیسے اسے اپنا آپ مل گیا ہو۔ شیشہ گر سب کو دیکھتا، سب کی بات سنتا، مگر خود بولتا کم تھا۔ وہ جانتا تھا کہ شیشہ بولتا ہے، آدمی نہیں۔ آدمی اگر بولنے لگے تو شیشہ ٹوٹ جاتا ہے۔

    اس کی زندگی اسی ترتیب سے گزرتی رہی۔ دن، مہینے، ،سال سب ایک جیسے۔ اس نے بڑے بڑے لوگوں کے لیے آئینے بنائے تھے۔ ایسے آئینے جن میں سچ چھپ نہیں سکتا تھا۔ کئی بار لوگ ناراض ہو کر لوٹے، کئی بار تعریف کر کے۔ مگر کسی نے کبھی اس سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ خود کیا دیکھتا ہے، یا دیکھتا بھی ہے یا نہیں۔۔۔۔؟

    رات کو جب دکان بند ہو جاتی تو الیگزے دیر تک وہیں بیٹھا رہتا۔ شیشوں کے درمیان۔ اسے یوں لگتا جیسے وہ ایک ہجوم میں اکیلا بیٹھا ہو۔ ہر طرف عکس تھے، مگر ان عکسوں میں اس کی اپنی صورت کہیں گم ہو گئی تھی۔ کبھی کبھی وہ سوچتا کہ شاید اس نے خود کو دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ شاید اسے ڈر تھا، اس بات کا کہ اگر اس نے خود کو دیکھا تو سوال اٹھیں گے، اور سوال زندگی کا سکون چھین لیتے ہیں۔

    وہ یاد کرنے لگا کہ کبھی اس نے بھی کچھ اور بننے کا خواب دیکھا تھا۔ شاید کسی اور ہنر کی خواہش تھی، یا محض یہ آرزو کہ وہ بھی کسی دن بے فکر ہو کر اپنے آپ سے بات کر سکے۔ مگر یہ سب خیال ذمہ داریوں کے شور میں دب گئے تھے۔ گھر، وقت، ضرورت، سب نے مل کر اسے ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا جہاں وہ انسان کم اور مشین زیادہ بن گیا تھا۔

    ایک دن ایک لڑکا دکان میں داخل ہوا۔ اس کی آنکھوں میں تجسس تھا، انے والی زندگی کے خواب تھے، اس نے بے دھڑک شیشے میں خود کو دیکھنا شروع کیا۔ اس کم سن لڑکے نے خود کو سر سے پاؤں تک دیکھا اسے اپنے جسم میں جو نقص نظر آیا اس نے فوری طور پر اس کو درست کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔ "الیگزے” اس کی جرأت پر حیران تھا لڑکا شیشوں میں اپنا بغور جائزہ لینے کے بعد اس سے گویا ہوا؛

    کیا آپ نے کبھی خود کو ان شیشوں میں دیکھا ہے؟
    یہ سوال غیر متوقع تھا الیگزے چونکا۔ برسوں میں پہلی بار کسی نے آئینے کے پار نہیں، آئینہ بنانے والے کی طرف دیکھا تھا۔ وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر سچ بول دیا:
    “نہیں۔”
    لڑکا مسکرایا، جیسے اسے یہی جواب درکار تھا۔ اس نے کہا:
    "پھر شاید یہ شیشے ابھی مکمل نہیں ہوئے۔”
    وہ لڑکا چلا گیا، مگر اس کا جملہ دکان میں رہ گیا۔ اس رات الیگزے حسبِ معمول بیٹھا رہا، مگر اس بار خاموشی مختلف تھی۔ اس نے ایک شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو دیکھا۔ پہلی بار۔ کوئی وہم نہیں، کوئی خوف نہیں، بس ایک تھکا ہوا انسان، جس کی آنکھوں میں سوال تھے، مگر جواب کی خواہش بھی تھی۔
    اگلے دن اس نے دکان کی ترتیب بدل دی۔ ایک آئینے کا رخ اس نے اپنی طرف رکھ لیا، ایسا نہیں کہ لوگ اسے نہ دیکھ سکیں، بلکہ ایسا کہ وہ خود ہر دن اس کے سامنے سے گزرے۔ وہ جان گیا تھا کہ شیشہ گر ہونا برا نہیں، برا یہ ہے کہ آدمی خود کی نظروں سے اوجھل ہو جائے۔

    اب بھی لوگ آتے ہیں، شیشے دیکھتے ہیں، چلے جاتے ہیں۔ دکان اب بھی شیشہ گر کی ہی کہلاتی ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ اب وہاں ایک انسان بھی رہتا ہے،جو دوسروں کو سچ دکھاتے ہوئے، خود کو دیکھنا نہیں بھولتا۔
    اور یہی شاید کسی بھی شیشہ گر کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ لیکن۔۔۔۔۔۔اس کی سوچ کی سوئی ایک جگہ اٹک گئی ۔۔۔۔

    میں نے شیشہ گر ہوتے ہوئے صرف دوسروں کو شیشہ دکھایا میں عیب جو بن گیا لوگوں کے عیب لوگوں کو دکھانے لگا اور لوگوں نے میرے آئینے میں خود کو دیکھا، میرے بنائے گئے شیشوں کی زبانی سن سن کر اپنے نقص دور کرنے شروع کر دئیے۔ اب میرے سامنے شفاف چہرے، شفاف جسم تھے لیکن آج جب وہی شیشہ میرے سامنے آیا تو مجھے اپنے چہرے پہ داغ دھبے، جھریاں، زخم خوردہ جلد، تھکی خشک آنکھیں اترا ہوا چہرہ نظر ا رہا ہے۔ میں نے اتنے سال تک خود کو کیوں نہ دیکھا۔ اپنی تھکن اپنے بدنمائی دور کیوں نہیں کی ۔۔۔۔؟
    شیشہ گر ہوں ۔۔۔جب میں نے اپنے لیے کوئی شیشہ نہیں بنایا تو میں
    "شیشہ گر” کیسے تھا ۔۔۔۔۔۔؟
    میں صرف عیب جو تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ سوچتے ہوئے اس نے سامنے شیشے میں دیکھا۔
    الیگزے خود سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا ۔

  • نیاز احساس، تحریر:پارس کیانی

    نیاز احساس، تحریر:پارس کیانی

    نیاز احساس یا احساساتی ضرورت جسے (Emotional Need)بھی کہا جاتا ہے۔انسانی رشتوں کی بنیاد میں ایک خفیہ مگر بنیادی ضرورت کے طور پر چھپی ہوئی ہے جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ صرف محبت یا توجہ کی معمولی خواہش نہیں، بلکہ ایک گہری نفسیاتی ضرورت ہے جو انسانی جذبات، ذہنی سکون، اور رشتوں کی مضبوطی سے جڑی ہے۔ بچے کی طرح بالغ انسان بھی اس ضرورت کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ جب یہ پوری نہیں ہوتی تو دل میں خالی پن پیدا ہوتا ہے، اور زندگی کے ہر تعلق میں خلا محسوس ہوتا ہے۔

    ہر فرد کے لیے تعلق، محبت، توجہ اور جذباتی تصدیق کی ضرورت ضروری ہے۔ اگر یہ فراہم نہ کی جائے، تو انسان اندر سے تنہا، کمزور اور بے سکون محسوس کرتا ہے۔ یہ خلا مال و دولت یا دنیاوی آرام سے کبھی نہیں بھرا جا سکتا۔ چاہے انسان کے پاس سب سہولتیں ہوں، مگر نیازِ احساس پوری نہ ہو تو اندرونی خالی پن اور بےچینی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے بعض لوگ زندگی میں ناکامی، جذباتی دباؤ یا ذہنی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    رشتوں میں جذبات کی تسکین نہ ہونا صرف فرد کو متاثر نہیں کرتا بلکہ تعلقات کی مضبوطی اور پائیداری پر بھی اثر ڈال دیتا ہے۔ والدین، بچے، شریک حیات، دوست یا استاد، ہر تعلق میں اگر دوسرے فرد کی جذباتی ضرورت کو نظرانداز کیا جائے، تو رشتے کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ والدین اگر بچوں کی ضرورت کو صرف جسمانی یا مالی حوالے تک محدود رکھیں، تو اعتماد اور جذباتی سکون متاثر ہوتا ہے۔ بالغ افراد میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے: شریک حیات یا دوست کی جذباتی تصدیق، توجہ اور احترام کی کمی رشتوں کو کمزور کر دیتی ہے۔

    انسان جب اپنے جذبات کی قدر محسوس کرتا ہے، اسے سننے والا ملتا ہے اور یہ یقین ہو کہ اس کی قدر کی جا رہی ہے، تو وہ زیادہ پرسکون، مثبت اور متوازن رویہ اختیار کرتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر یہ ضرورت رد یا نظر انداز کی جائے تو اندرونی خلا اور تنہائی بڑھتی ہے، جو معاشرتی تعلقات میں غلط فہمیاں اور فاصلے پیدا کرتی ہے۔نیازِ احساس صرف محبت یا جذباتی تعلق تک محدود نہیں۔ یہ ہر انسانی جذبے، خواہش اور تعلق کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ چاہے یہ احترام کی خواہش ہو، تعریف کی ضرورت ہو، یا یہ کہ کوئی آپ کے جذبات کو سمجھے، یہ سب زندگی میں اہمیت رکھتے ہیں۔ رشتوں کی حقیقت تبھی مکمل ہوتی ہے جب ہم اس ضرورت کو پہچانیں اور پورا کریں۔

    انسانی زندگی میں نیازِ احساس کو نظرانداز کرنا یا کم سمجھنا ایک خامی ہے جو نہ صرف فرد کو اندر سے خالی کرتی ہے بلکہ رشتوں کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ ہر تعلق اور انسانی تعامل اسی وقت مکمل اور صحت مند رہتا ہے جب اس میں جذبات کی تسکین اور احساس کی تصدیق شامل ہو۔ یہ وہ سرمایہ ہے جو دنیاوی کامیابی یا مال و دولت سے کبھی خریدا نہیں جا سکتا۔جب ہم اپنے رشتوں میں جذبات کی قدر اور احساس کی اہمیت سمجھتے ہیں، تو نہ صرف رشتے مضبوط ہوتے ہیں بلکہ انسانیت بھی مکمل اور پرامن رہتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو زندگی کو معنی اور سکون سے بھر دیتا ہے، اور انسانی تعلقات کو وہ گہرائی دیتا ہے جس کے بغیر محبت یا رشتہ محض رسمی لفظ رہ جاتا ہے۔نیاز احساس، (Emotional need) شدت سے چاہے جانے کی خواہش نہیں، بلکہ کسی بھی رشتے میں انسانی ذات کو پوری شدت سے تسلیم کیے جانے کا نام ہے۔

  • جہیز .تحریر:تابندہ طارق عکس

    جہیز .تحریر:تابندہ طارق عکس

    لخت جگر دے دینا کوئی کم تھوڑی ہے جس کے ساتھ جہیز دینا اہم قرار دے دیا گیا ہے۔انسان کی قیمت تو ادا کرنا ممکن ہی نہیں ہے پھر بھی انسان کو چیزوں کے ترازو میں تولنا کہاں کا انصاف ہے۔لڑکی والے تو نہیں کہہ سکتے لیکن لڑکے والے تو آگے بڑھ کر دل بڑا کر ہی سکتے ہیں کے انھیں جہیز نہیں چاہیے ہے۔ان کے گھر میں ضرورت کی ہر چیز موجود ہوتے ہوئے بھی کیسے فخر سے سب لے جاتے ہیں۔کاش یہ سوچیں کچھ بدلیں ایک دفعہ خود کو اس بات پر رکھ کر سوچیں کہ اگر بہو گھر لے جانے کے بجائے انھیں اپنے بیٹوں کو گھر سے رخصت کرنا پڑے اور صرف بیٹا نہیں بلکہ اس کے ساتھ سود کے طور پر جہیز بھی دینا پڑے اور پھر ساس سسر کی خدمت اور سالیوں اور سالوں کی باتیں بھی سننی پڑیں۔بچے ہونے کے بعد وہ بھی سنبھالیں پڑیں گھر کے کام بھی جدوجہد سے کرنے پڑ جائیں تو یہ سب وہ کر سکیں گے؟ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ انتہائی ناقابل قبول حقیقت ہے۔ایک بہو،ایک بیوی ایک بھابھی یہ سب کچھ کرتی ہے لیکن پھر بھی اسے عزت نہیں ملتی کیوں؟ کیا وہ عزت کی حق دار نہیں ہے؟

    ہمارے معاشرے کا الگ ہی المیہ ہے اپنی بیٹی کو اپنی بیٹی ہی سمجھتے رہتے ہیں جس نے کل کو کسی اور کے گھر کی زینت بننا ہوتا ہے اور جو ان کے گھر آتی ہے اسے کبھی بیٹی کا درجہ نہیں دیتے۔حالانکہ کے قابل غور تو یہ حقیقت ہے کے اصل بیٹی تو بہو ہی ہوتی ہے اسے بیٹی کا مقام دیں بیٹی کی طرح رکھیں اور بہو کو بھی چاہیے وہ بیٹی بننے کی کوشش کرے کچھ سمجھوتے تو سب کو کرنے پڑتے ہیں۔

    جہیز کی بنیاد پر رشتوں کی تعمیر مت کریں جہیز کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے لڑکوں کو انکار کی صورت میں پہل کرنی چاہیے تاکہ اس کا ہمارے معاشرے سے خاتمہ ہو سکے۔

  • انسانیت کا کیمو فلاج،تحریر:پارس کیانی

    انسانیت کا کیمو فلاج،تحریر:پارس کیانی

    ہم جس دنیا میں رہتے ہیں، وہاں سب سے زیادہ جو چیز بک رہی ہے وہ سچ نہیں، تاثر ہے۔ یہاں نیت سے زیادہ نعرہ، کردار سے زیادہ چہرہ، اور عمل سے زیادہ اعلان معتبر مانا جاتا ہے۔ انسان کے لفظ نرم ہوتے جا رہے ہیں مگر رویے سخت، زبان شائستہ ہوتی جا رہی ہے مگر دل تنگ۔ بظاہر سب کچھ درست دکھائی دیتا ہے، مگر ذرا سا کھرچنے پر اندر سے کچھ اور ہی نکل آتا ہے۔
    ہر انسان خود کو بہتر ثابت کرنے کی ایک مسلسل کوشش میں ہے۔ کوئی اخلاق کا سہارا لیتا ہے، کوئی تہذیب کا، کوئی مذہب کا، کوئی نظریے کا۔ مگر یہ سب اکثر اس لیے نہیں کہ وہ واقعی بہتر بننا چاہتا ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ سوال سے بچ سکے۔ سوال اگر اٹھ جائے تو چہرے اترنے لگتے ہیں، اس لیے انسان نے خود کو اتنا آراستہ کر لیا ہے کہ کوئی اس کے اندر جھانکنے کی جسارت ہی نہ کرے۔

    ہم انصاف کی بات کرتے ہیں مگر صرف وہاں جہاں ہمارا نقصان نہ ہو۔ ہم انسانیت کے گیت گاتے ہیں مگر صرف اپنے جیسے انسانوں کے لیے۔ ہم برابری کا درس دیتے ہیں مگر اپنی برتری کو خاموشی سے محفوظ رکھتے ہیں۔ ہمیں اصول بہت عزیز ہیں، مگر صرف اس وقت تک جب تک وہ ہمارے راستے میں رکاوٹ نہ بنیں۔ اصول اگر مفاد سے ٹکرا جائیں تو ہم اصول کی نئی تشریح گھڑ لیتے ہیں۔
    یہ رویہ کسی ایک معاشرے، کسی ایک قوم یا کسی ایک مذہب تک محدود نہیں۔ طاقت جہاں بھی ہو، اس کے چہرے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ دلیلیں بدل جاتی ہیں، زبان بدل جاتی ہے، مگر جواز وہی رہتا ہے۔ کہیں اسے تہذیب کہا جاتا ہے، کہیں سلامتی، کہیں ترقی، کہیں روایت۔ نام بدل جاتے ہیں، مگر انسان کے ہاتھ میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی پردہ ہوتا ہے۔

    جدید دنیا نے اس عمل کو مزید نفیس بنا دیا ہے۔ اب انسان صرف وہ نہیں چھپاتا جو وہ کرتا ہے، بلکہ وہ یہ بھی طے کرتا ہے کہ اسے کیا دکھانا ہے۔ دکھ بانٹنا نہیں، دکھ پیش کرنا اہم ہو گیا ہے۔ ہمدردی ایک کیفیت نہیں، ایک اظہار بن گئی ہے۔ خاموشی اب احساس نہیں، ایک حکمتِ عملی ہے۔ اور بےحسی کو مصروفیت کا نام دے کر قبول کر لیا گیا ہے۔
    نسل، رنگ اور مذہب کے نام پر جو خلیجیں ہیں، وہ بھی اسی رویے کا نتیجہ ہیں۔ ہر گروہ خود کو حق پر اور دوسرے کو خطا پر سمجھتا ہے۔ ہر ایک کے پاس اپنی برتری کا کوئی نہ کوئی اخلاقی یا تاریخی جواز ہے۔ کوئی بھی خود کو آئینے میں دیکھنے پر آمادہ نہیں، کیونکہ آئینہ سوال کرتا ہے، اور سوال ہمیں ننگا کر دیتے ہیں۔

    اصل مسئلہ یہ نہیں کہ انسان میں کمزوریاں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو خوبیوں کا لباس پہنا دیتا ہے۔ وہ ظلم کو مجبوری، مفاد کو دانائی، اور بےحسی کو حقیقت پسندی کہہ کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیتا ہے۔ یوں ضمیر خاموش ہو جاتا ہے اور انسان مطمئن، حالانکہ کچھ بھی درست نہیں ہوتا۔
    اگر انسان واقعی بدلنا چاہے تو اسے کسی انقلاب، کسی نعرے یا کسی بڑے دعوے کی ضرورت نہیں۔ اسے صرف اتنی ہمت چاہیے کہ وہ خود کو بغیر آرائش کے دیکھ سکے۔ وہ مان سکے کہ وہ جیسا دکھتا ہے، ویسا ہے نہیں۔ وہ تسلیم کر سکے کہ جو پردے اس نے اوڑھ رکھے ہیں، وہ دوسروں کے لیے نہیں، خود اپنے ضمیر کو دھوکہ دینے کے لیے ہیں۔ انسان شاید اس لیے بھی اس دوہرے پن کا عادی ہو چکا ہے کہ سچ کے ساتھ جینا آسان نہیں۔ سچ قربانی مانگتا ہے، قیمت وصول کرتا ہے، اور آئینہ دکھاتا ہے۔ جبکہ دکھاوا سہولت دیتا ہے، قبولیت دلاتا ہے اور سوال سے بچا لیتا ہے۔ اس لیے ہم نے آہستہ آہستہ اصل ہونے کے بجائے موزوں ہونا سیکھ لیا ہے۔ ہم نے سیکھ لیا ہے کہ کب خاموش رہنا ہے، کب بولنا ہے، کہاں آنسو دکھانے ہیں اور کہاں مسکراہٹ سجانی ہے۔ یوں ہم خود بھی نہیں جان پاتے کہ ہمارے اندر جو رہ گیا ہے، وہ حقیقت ہے یا برسوں کی مشق سے تیار کیا گیا کوئی محفوظ چہرہ۔۔۔۔۔
    اور یہی وہ مقام ہے جہاں حقیقت اپنا نام ظاہر کرتی ہے۔

    یہ جو اخلاق، تہذیب، انسانیت اور اصولوں کی خوبصورت تہیں ہم نے خود پر چڑھا رکھی ہیں، یہ سب دراصل انسانیت کا "کیموفلاج” ہیں۔

  • جب خودداری ناگوار بن جائے،تحریر:صدف ابرار

    جب خودداری ناگوار بن جائے،تحریر:صدف ابرار

    زندگی میں ایک خاموش مگر فیصلہ کن لمحہ آتا ہے جب انسان کو یہ ادراک ہو جاتا ہے کہ بعض رشتے باہمی احترام پر نہیں بلکہ محض سہولت پر قائم ہوتے ہیں۔ میں نے خود کو بارہا ایسے تعلقات میں الجھا پایا جہاں میری خلوص نیت کو تو قبول کیا گیا، مگر میری شخصیت کو نہیں۔ میری کوششوں کو سراہا نہیں گیا، صرف استعمال کیا گیا، اور میرے بڑھنے، بہتر ہونے یا آگے بڑھنے کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔ ایسے ماحول میں اچھائی کی قدر نہیں ہوتی، اسے صرف برت لیا جاتا ہے۔

    میں ہمیشہ بہتر کرنے پر یقین رکھتی ہوں،پورے خلوص سے دینے، حالات کو سنوارنے اور دیانت داری کے ساتھ موجود رہنے پر۔ مگر وقت کے ساتھ یہ واضح ہوتا گیا کہ میری آمادگی کو میری کمزوری سمجھ لیا گیا۔ جو میں نے خوش دلی سے دیا، وہ شکرگزاری کے بغیر لے لیا گیا، اور جسے میں نے اپنی حدود کے ذریعے محفوظ کیا، اسے بغاوت سمجھا گیا۔ جس لمحے میں نے اپنی خودداری پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا، اسی لمحے میری موجودگی اُن لوگوں کے لیے بے معنی ہونے لگی جو کبھی مجھ پر انحصار کرتے تھے۔

    یہ شعور اچانک پیدا نہیں ہوا، بلکہ مایوسی، خاموشی اور جذباتی فاصلے کی تہوں سے گزر کر سامنے آیا۔ میں نے ایک واضح نمونہ دیکھا، جب تک میں کسی مقصد کے کام آتی رہی، میں قابلِ قبول تھی۔ جیسے ہی میں نے خود کو منوانا چاہا،انکار کیا، انصاف مانگا یا برابری کی توقع رکھی میں مشکل، دور یا غیر ضروری بنا دی گئی۔ تب مجھے ایک تلخ حقیقت کا سامنا ہوا کچھ لوگ آپ کو انسان کے طور پر نہیں چاہتے، وہ آپ کو ایک ذریعے کے طور پر چاہتے ہیں۔

    خود کو سمجھنا انسان سے تمام خوش فہمیاں چھین لیتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ ہر کھو دینے والی چیز ناکامی نہیں ہوتی، اور ہر خاتمہ سزا نہیں ہوتا۔ اُن جگہوں سے نکل آنا جو آپ کو خالی کر دیں، خود غرضی نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ میں نے سیکھا کہ وہ رشتے جو سچائی، حدود اور نشوونما کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، وہ قائم رہنے کے لیے بنے ہی نہیں ہوتے۔ وہ اسی لمحے ٹوٹ جاتے ہیں جب آپ خود کو سمیٹنے سے انکار کر دیتے ہیں۔

    آج میں اپنی قدر کا تعین اپنی افادیت سے نہیں کرتی۔ میری اہمیت اس بات سے نہیں جانی جا سکتی کہ میں کتنا دیتی ہوں، کتنا سنبھالتی ہوں یا کتنا برداشت کرتی ہوں۔ میں سہولت بننے کے لیے نہیں، احترام کے لیے موجود ہوں۔ اور جو لوگ میری خودداری سے خوفزدہ ہوں، وہ دراصل میری خاموشی کے عادی تھے، میری موجودگی کے نہیں۔
    یہ شعور مجھے بدل چکی ہے۔ اب میں الجھن کے بجائے وضاحت، وابستگی کے بجائے وقار، اور قبولیت کے بجائے خودکے احترام کا انتخاب کرتی ہوں۔ مجھے اب اس بات کا خوف نہیں کہ وہ لوگ مجھے غلط سمجھیں جنہوں نے ہمیشہ مجھے غلط سمجھ کر فائدہ اٹھایا۔ بعض اوقات نشوونما فاصلے مانگتی ہے، اور طاقت اکثر چھوڑ دینے میں ہوتی ہے۔
    کیونکہ اب میں یہ جان چکی ہوں ،میں کبھی زیادہ نہیں مانگ رہی تھی،میں بس غلط لوگوں سے مانگ رہی تھی۔

  • منفیّت ترقی کے راستے کی رکاوٹ ،تحریر:پارس کیانی

    منفیّت ترقی کے راستے کی رکاوٹ ،تحریر:پارس کیانی

    انسان کا ذہن، فطرتاً، ایک مقناطیسی نظام کی طرح ہے۔ یہ جس سمت میں سوچتا ہے، توانائی بھی اُسی طرف جذب کرتا ہے۔ مثبت سوچ ذہن کے اندر نئے امکانات کے دروازے کھولتی ہے، جبکہ منفیّت ہر راستے پر اندھیرا بچھا دیتی ہے۔ یہی منفیّت ہے جو ترقی کے سفر کو سست کر دیتی ہے، اور اکثر اوقات انسان کو اپنی ہی ناکامی کا ذمہ دار بنا دیتی ہے۔

    منفیّت دراصل ایک ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان ہر بات کا تاریک پہلو دیکھتا ہے۔ کسی کی کامیابی پر حسد، کسی کی خوشی پر بدگمانی، کسی کی رائے پر اعتراض، یہ سب منفیّت کی شاخیں ہیں۔ ڈاکٹر جوزف مرے کے مطابق، “Negative thinking releases stress hormones that block creative and decision-making parts of the brain.” یعنی منفی سوچ دماغ میں ایسے کیمیائی مادّے پیدا کرتی ہے جو فیصلہ سازی اور تخلیقی عمل کو مفلوج کر دیتے ہیں۔

    سائنس دانوں نے ثابت کیا ہے کہ انسان کے دماغ میں ایک حصہ "Amygdala” کہلاتا ہے، جو خوف اور غصے کے جذبات کو کنٹرول کرتا ہے۔ جب کوئی شخص منفی انداز میں سوچتا ہے تو Amygdala مسلسل متحرک رہتا ہے، جس سے دماغ پر دباؤ بڑھتا ہے، اور انسان بے وجہ بددل، مایوس اور بدگمان ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، مثبت سوچ "Prefrontal Cortex” کو متحرک کرتی ہے، جو منصوبہ بندی، امید اور تخلیق کی صلاحیتوں کو ابھارتی ہے۔ یوں مثبت سوچ دماغ میں روشنی پھیلاتی ہے اور انسان کے عمل میں توانائی پیدا کرتی ہے۔

    لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں منفیّت کو اکثر عقل مندی سمجھ لیا جاتا ہے۔ جو شخص ہر بات پر شک کرے، ہر کام میں نقص نکالے، اسے "حقیقت پسند” کہا جاتا ہے، حالانکہ وہ دراصل زندگی کی خوبصورتی سے کٹ چکا ہوتا ہے۔ اقبال نے کہا تھا:

    "عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے ”

    منفیّت خودی کی دشمن ہے۔ یہ انسان کے اندر سے اعتماد، جرات اور جوش چھین لیتی ہے۔ ایک منفی شخص اپنے لیے خود زہرِ قاتل ثابت ہوتا ہے، کیونکہ وہ ہر کامیابی سے پہلے ناکامی کا تصور کر لیتا ہے۔ وہ دوسروں پر الزام دھر کر خود کو بری سمجھتا ہے، مگر انجام میں تنہائی، مایوسی اور حسرت اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
    معاشرتی سطح پر دیکھیں تو منفیّت قوموں کو بھی پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کی کامیابی میں رکاوٹ بننے لگیں، جب ہر نئی سوچ کا مذاق اڑایا جائے، جب ہر اچھے ارادے کو شک کی نظر سے دیکھا جائے تو ترقی رک جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنی فکری توانائی کو حسد، بدگمانی اور نفرت میں ضائع کیا، وہ دنیا کے نقشے پر پیچھے رہ گئیں۔

    منفیّت ایک خاموش زہر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کسی دوسرے کے بارے میں برا سوچ رہے ہیں، لیکن دراصل ہم اپنے اندر زہر گھول رہے ہوتے ہیں۔ روحانی سطح پر بھی یہی حقیقت بیان ہوئی ہے کہ انسان جو توانائی دوسروں کی طرف بھیجتا ہے، وہ کسی نہ کسی صورت میں واپس خود اس کی طرف پلٹتی ہے۔ اس لیے جب ہم نفرت، حسد یا بدگمانی پھیلاتے ہیں تو دراصل اپنی ہی فضا کو آلودہ کر رہے ہوتے ہیں۔منفیّت کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار شکرگزاری اور خوش فہمی ہے۔ جو شخص شکر کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ کبھی اندھیرے میں نہیں رہتا۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
    "لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ”
    "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔”
    یعنی مثبت رویّہ نہ صرف روحانی ترقی کا ذریعہ ہے بلکہ عملی کامیابی کا بھی راز ہے۔

    آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ منفیّت ایک ایسا بوجھ ہے جسے کندھوں پر اٹھا کر چلنے والا کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ جو دل میں بدگمانی، حسد یا شک رکھتا ہے، وہ اپنے لیے رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ اگر ہم اپنے ذہن کو صاف رکھیں، اپنی سوچ کو روشن بنائیں، اور دوسروں کی کامیابی میں خوشی محسوس کریں تو یقیناً ترقی کا سفر آسان ہو جائے گا۔زندگی کے سفر میں سب سے بڑی جیت یہی ہے کہ ہم منفیّت کو ہرا دیں, کیونکہ منفیّت کو شکست دینا، دراصل خود کو جیتنا ہے۔