Baaghi TV

Category: خواتین

  • چھوٹی بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد ،تحریر:ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

    چھوٹی بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد ،تحریر:ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

    چھوٹی بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد پاکستان کے معاشرے کا ایک سنگین اور بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔ ہر سال ہزاروں معصوم بچیاں جنسی زیادتی، اغوا اور قتل جیسے مہلک جرائم کا شکار ہو رہی ہیں۔کبھی ان بچیوں کو گھروں سے اغوا کیا جاتا ہے ، کبھی گلی محلوں سے ، کبھی تنہا دیکھ کر۔ کبھی چیزوں کا لالچ دے کر۔ان سب نفسیاتی حربوں کی بدولت معصوم بچیوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ان معصوم ننھی کلیوں کو ایسے لوگوں کے بالکل پہچان نہیں ہوتی۔ نہ تو وہ بیچاری نفسیات کا مطالعہ کر سکتی ہیں۔ نہ لڑائی جھگڑا اور نہ شور و غل۔ پچھلے 10 سالوں سے یہ عجیب سی کیفیت ہے۔سہیل نامی این جی او کی رپورٹ کے مطابق، 2025 میں پاکستان بھر میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے 3,630 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 53 فیصد (1,924) متاثرین لڑکیاں تھیں۔ 2024 میں یہ تعداد 3,364 تھی جس میں 1,791 لڑکیاں شامل تھیں۔

    یہ اعداد و شمار صرف رپورٹ ہونے والے کیسز ہیں، جب کہ اصل تعداد کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہ ایک خاموش وبا ہے جو ہمارے معاشرے کی بنیادیں کھوکھلا کر رہی ہے۔ اس کے کئی وجوہات ہیں جو پورے معاشرے کے لیے چیلنج رکھتی ہیں۔سوچ بچار پر مجبور کرتی ہیں۔چند بڑی وجوہات میں غربت بچوں کو جنسی استحصال کے لیے زیادہ خطرے میں ڈالتی ہے۔

    غریب خاندان اکثر اپنی بچیوں کو کم عمری میں نوکری یا شادی پر مجبور کر دیتے ہیں، جہاں وہ استحصال کا شکار ہوتی ہیں۔جنسی بھیڑیے ایسے مواقع سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔اس حقیقت کی دوسری بڑی وجہ تعلیم کی کمی ہے۔اکثر
    پاکستانی معاشرے میں جنسی تعلیم کو ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ بچوں کو "اچھا لمس” اور "برا لمس” کے بارے میں آگاہی نہیں دی جاتی۔ طلاق جیسی صورت حال میں بچوں کے جنسی استحصال کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں سزا کی شرح انتہائی کم ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

    ایس ایس ڈی او کی رپورٹ کے مطابق، 2024 میں جنسی زیادتی کے 2,954 کیسز میں صرف 28 افراد کو سزا ہوئی۔اس سزا سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایسے لوگوں کو کتنی سزا ملتی ہے؟ یہ انتہائی شرم ناک اعداد و شمار ہیں جو سچ کا چہرہ دکھا کر آگاہی دے رہے ہیں۔ صوبہ خیبرپختونخوا میں جنسی زیادتی کے 366 کیسز میں کوئی سزا نہیں ہوئی۔ مجموعی طور پر کنویکشن ریٹ 1 فیصد سے بھی کم ہے۔یہ ایک تلخ ، ترش اور ناقابل بیان کہانی ہے۔
    تخمینہ کے مطابق 10 سے 15 فیصد کیسز مذہبی مدارس میں رونما ہوتے ہیں۔یہ بھی ہماری زندگی پر سوالیہ نشان ہے جو ہمیں خطرات ، صورت حال اور مستقبل میں لائحہ عمل کی تلقین کرتا ہے تاکہ ایسے مجرموں کو سنگین سے سنگین سزا دی جائے۔اگر ایسے حالات و واقعات پر غور و خوص کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر واقعات گھروں کے اندر ، اور رشتے داروں کے ہاتھوں یا پڑوسیوں کی بدولت خطا ہوتے ہیں۔

    خاندان معاشرتی بدنامی کے خوف سے کیس رپورٹ نہیں کرتے۔جب معاشرہ ایسی صورت حال سی دو چار ہو جائے تو حکومت وقت کو ہنگامی بنیادوں پر کچھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔مثلا؛
    بچوں کے لیے مخصوص عدالتوں کا قیام لایا جائے۔
    زیادتی کے مقدمات کی تیز رفتار سماعت کی جائے
    کنویکشن ریٹ بڑھانے کے لیے سخت سزائیں دی جائیں۔
    اسکولوں میں "اچھا لمس، برا لمس” کے بارے میں نصاب شامل کیا جائے۔
    جنسی تعلیم کو "سیفٹی ایجوکیشن” کے نام سے متعارف کرایا جائے۔ اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔یہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور بچیوں کے تحفظ کا معاملہ بھی۔
    والدین کو بچوں سے کھل کر بات کرنے کی ترغیب دی جائے۔
    ہر ضلع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کا قیام کیا جائے۔
    24/7 ہیلپ لائن کا اجراء ہو تاکہ ایسے لوگوں کو مہلت ہی نہ ملے۔انہیں پکڑ کر عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے۔
    رپورٹنگ نہ کرنے والے اداروں پر بھاری جرمانے کیے جائیں
    مذہبی رہنماؤں کو بچوں کے تحفظ کے لیے متحرک کیا جائے۔
    اپنے گھر اور محلے میں بچیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے تاکہ اپنے آس پاس کہیں بھی زیادتی کا واقعہ دیکھیں تو فوری طور پر پولیس اسٹیشن اطلاع دیں۔
    چھوٹی بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد ایک ایسا ناسور ہے جسے جڑ سے ختم کرنا ہمارا فرض ہے۔ بڑھتے ہوئے اعداد و شمار، کم سزا کی شرح اور معاشرتی خاموشی اس مسئلے کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ حکومت، معاشرہ اور ہر فرد کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ہماری آنے والی نسلیں محفوظ رہ سکی
    یاد رکھیں: خاموشی زیادتی کرنے والوں کی ہمت بڑھاتی ہے۔ اپنی آواز اٹھائیں، اپنے بچوں کی حفاظت کریں اور ایک محفوظ پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • ہم خود سے اتنے دور کیوں ہو گئے؟تحریر: زینب جہانزیب

    ہم خود سے اتنے دور کیوں ہو گئے؟تحریر: زینب جہانزیب

    کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی گمشدگی کسی شہر، کسی راستے یا کسی شخص میں نہیں ہوتی، بلکہ وہ خود اپنی ہی ذات کے اندر کہیں گم ہو جاتا ہے۔ عجیب بات ہے نا۔۔۔ ہم ساری عمر خود کو ڈھونڈتے رہتے ہیں، مگر جس جگہ ہمیں خود کو تلاش کرنا چاہیے، وہاں جانے سے ہی ڈرتے ہیں۔ ہم دنیا کے ہر سوال کا جواب تلاش کرنا چاہتے ہیں، مگر اپنے وجود کے اُس سوال سے نظریں چرا لیتے ہیں جو خاموشی سے ہمارے اندر بیٹھا ہوتا ہے: میں کون ہوں؟ یہ "میں” آخر ہے کیا؟ ایک نام؟ ایک چہرہ؟ ایک جسم؟ چند رشتے؟ کچھ خواہشیں؟ کچھ کامیابیاں؟ یا پھر وہ سب کچھ جو ہم نے اپنے بارے میں لوگوں کی زبان سے سن کر سچ مان لیا؟

    ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو ساری زندگی دوسروں کی بنائی ہوئی اپنی تصویر کو سچ سمجھ کر جیتے رہتے ہیں۔ کسی نے کہا تم بہت مضبوط ہو، تو ہم اپنے آنسو چھپا لیتے ہیں۔ کسی نے کہا تم ناکام ہو، تو ہم اپنی قدر بھول جاتے ہیں۔ کسی نے ہمیں چھوڑ دیا تو ہمیں لگتا ہے شاید ہم محبت کے قابل ہی نہیں تھے۔ کسی نے ہمیں سراہ دیا تو ہم خود کو مکمل سمجھ بیٹھے۔ یوں آہستہ آہستہ ہماری ذات ہمارے اپنے ہاتھوں سے نکل کر دوسروں کی رائے میں بٹ جاتی ہے۔

    اور پھر ایک دن ہم آئینے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ چہرہ وہی ہوتا ہے، آنکھیں وہی، نام وہی۔۔۔ مگر اندر سے ایک اجنبی ہمیں دیکھ رہا ہوتا ہے۔ ہم اسے پہچان نہیں پاتے۔ وہ شاید برسوں سے ہمارا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔ وہی شخص جسے ہم نے دنیا کو خوش رکھنے کے لیے خاموش کر دیا، جس کی خواہشوں کو مصلحتوں کے نیچے دفن کر دیا، جس کے سوالوں کو مصروفیات میں دبا دیا، اور جس کے زخموں پر کامیابیوں کے پردے ڈال دیے۔
    ہم نے اپنے گرد اتنی آوازیں جمع کر لیں کہ اپنی روح کی آواز سنائی دینا ہی بند ہو گئی۔ موبائل کی گھنٹی، لوگوں کے پیغامات، دنیا کی خبریں، دوسروں کی زندگیاں، دوسروں کی کامیابیاں، دوسروں کے خواب۔۔۔ ہر طرف کسی نہ کسی کی آواز ہے۔ مگر ہماری اپنی آواز کہاں ہے؟ وہ جو کبھی رات کے آخری پہر ہمیں جگا کر پوچھتی تھی: "کیا یہی زندگی ہے جس کی تمہیں تلاش تھی؟” ہم اس سوال سے بھی بھاگتے رہے، کیونکہ کچھ سوال جواب نہیں مانگتے، وہ صرف انسان کو اس کی حقیقت کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں۔ اور انسان اپنی حقیقت سے زیادہ دیر تک آنکھ نہیں ملا سکتا۔

    ہم خود کو مصروف رکھتے ہیں تاکہ اپنے اندر نہ اترنا پڑے۔ ہم لوگوں میں بیٹھتے ہیں تاکہ اپنی تنہائی محسوس نہ ہو۔ ہم ہنستے ہیں تاکہ کوئی ہماری خاموشی نہ پڑھ لے۔ ہم محبت کرتے ہیں، مگر اکثر محبت میں بھی خود کو تلاش کرتے ہیں۔ ہم عبادت کرتے ہیں، مگر کبھی کبھی عبادت میں بھی اپنے مطالبات لے کر کھڑے ہوتے ہیں۔ اور پھر سوچتے ہیں کہ دل کو سکون کیوں نہیں ملتا؟ شاید اس لیے کہ سکون ہمیشہ چیزوں کے مل جانے سے نہیں آتا۔ کبھی کبھی سکون چیزوں کے چھن جانے کے بعد آتا ہے، جب انسان کے پاس اپنے بارے میں بنائی ہوئی تمام کہانیاں ختم ہو جائیں، جب وہ یہ مان لے کہ جسے وہ "میں” سمجھتا رہا، شاید وہ صرف ایک پردہ تھا، ایک ایسا پردہ جس کے پیچھے اصل وجود چھپا ہوا تھا۔

    صوفیانہ سفر شاید یہی تو ہے۔۔۔ پردے ہٹنے کا سفر۔ ایک ایک کر کے۔ خواہش کا پردہ، انا کا پردہ، خوف کا پردہ، لوگوں کی رائے کا پردہ، دنیا سے اپنی پہچان بنانے کا پردہ، اور آخر میں وہ سب سے باریک پردہ۔۔۔ "میں” کا پردہ۔ انسان جب تک خود کو دیکھتا رہتا ہے، حقیقت اس سے اوجھل رہتی ہے۔ اور جب وہ خود کو دیکھنے والے سے آگے بڑھ کر اس حقیقت کو دیکھنے لگتا ہے جس نے اسے وجود دیا، تب سفر کا رخ بدل جاتا ہے۔
    تب سوال یہ نہیں رہتا کہ "میں کیا ہوں؟” بلکہ سوال یہ بن جاتا ہے: "وہ کون ہے جس کے بغیر میرا ہونا بھی ممکن نہیں؟” شاید اسی مقام سے آئینہ بدل جاتا ہے۔ پہلے آئینے میں صرف اپنا چہرہ دکھائی دیتا تھا، پھر اپنے اندر کے زخم، پھر اپنی کمزوریاں، پھر اپنی حقیقت، اور آخرکار۔۔۔ وہ روشنی جس کے سامنے "میں” کا وجود بھی مدھم پڑنے لگتا ہے۔

    شاید اسی کو فنا کہتے ہیں۔ مٹ جانا نہیں، بلکہ اُس جھوٹے وجود کا مٹ جانا جسے ہم نے ساری عمر اپنا اصل وجود سمجھا۔ اور شاید انسان کا سب سے خوبصورت سفر وہی ہے جب وہ دنیا سے کچھ پانے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے اندر سے کچھ چھوڑنے کے لیے سفر کرتا ہے۔ کیونکہ بعض اوقات منزل ہمیں کہیں دور نہیں ملتی۔ ہم صرف اتنا کرتے ہیں کہ اپنے اندر جمع کیے ہوئے پردے ہٹا دیتے ہیں۔۔۔ اور جو سامنے آتا ہے، وہ ہمیشہ سے وہیں موجود تھا۔

  • ضمیر کی موت ،تحریر: عائشہ گُل

    ضمیر کی موت ،تحریر: عائشہ گُل

    انا للہ وانا الیہ راجعون

    موبائل کو سائیڈ پر رکھیں۔ اپنے چہرے پر ایک زوردار چپت رسید کیجئے۔ کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں۔ بیٹھے ہیں تو سانس روک کر پڑھیے۔ کیونکہ اگلی چند سطریں آپ کے ضمیر کا امتحان ہیں۔ سب سے پہلا سوال: آپ کا ضمیر زندہ ہے یا مر چکا ہے؟ جواب آئینے میں دیکھ کر دیجئے گا۔ گزشتہ دنوں کراچی میں ڈیڑھ سالہ ننھی کلی مٹی تلے سو گئی۔ ٹھہریے! لفظ بدلیے۔ "سلا دی گئی”۔ 17 سالہ لڑکے کے ہاتھوں۔ جو ابھی بلوغت کی دہلیز پر بھی نہیں پہنچا تھا۔ رشتے میں ماموں لگتا تھا۔ چیز کا لالچ دے کر گھر سے لے گیا۔ اور جب لوٹی تو کلی مرجھائی ہوئی تھی۔ زار و قطار رو رہی تھی۔ وہ بول نہیں سکتی تھی۔ صرف اٹھکیاں لیتی تھی۔ والدین ہسپتال لے گئے تو ڈاکٹروں نے کہا: "بہت دیر ہو چکی”۔ اور یوں وہ معصوم، کسی شکایت کے بغیر، کسی فریاد کے بغیر، آنسوؤں کی گواہی کے ساتھ مٹی کی آغوش میں اتار دی گئی۔ قرآن پاک ہمیں یہ سوال یاد دلاتا ہے: "اور جب زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی”۔ [سورۃ التکویر: 8-9] قیامت کے دن جب اس ننھی کلی سے یہ سوال ہوگا تو ہم سب کا سر شرم سے جھک جائے گا۔ ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟ میرے قلم کی سیاہی بھی آج آنسو بن گئی ہے۔ سوچتا ہوں اس ماں پر کیا گزری ہوگی جس کے آنگن کا چراغ سفید کفن میں لپیٹ کر قبر میں رکھ دیا گیا۔ یہ منظر قیامت سے کم نہیں۔

    ہم کس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ یہ خبر پڑھ کر اگلی خبر پر سکرول کر دیتے ہیں۔ کیونکہ یہ "روز کا معمول” بن چکا ہے۔ جنسی ہوس ایک ایسا ناسور ہے جو انسان کو درندہ بنا دیتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ سامنے فرشتہ ہے، نابالغ ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ "اللہ دیکھ رہا ہے”۔ شیطان کے بہکاوے میں آ کر وہ اپنی ہی نسل کی جڑیں کاٹ دیتا ہے۔ توبہ! اللہ کی پناہ۔ جن کے ضمیر مر چکے، انہیں زندہ لاش کہنا بھی زندہ لاشوں کی توہین ہے۔ تو اب علاج کیا ہے؟ سزا کیا ہے؟ ہمارے رب نے 1400 سال پہلے ہی ہمیں راستہ دکھا دیا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سورہ نور میں ارشاد فرماتا ہے: "زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ اور اللہ کے دین کے معاملے میں ان پر ترس نہ کھاؤ۔ اور چاہیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہو”۔ [سورۃ النور: 2] غور کیجئے! اللہ نے سزا کے ساتھ "گواہوں کا مجمع” کیوں رکھا؟ تاکہ ایک کو سزا ملے اور ہزاروں کو عبرت۔ تاکہ ہر مجرم کو پتہ ہو کہ گناہ کے بعد چھوٹ نہیں، سزا ہے۔ اسی لیے آج ضرورت ہے کہ ہم ایسے وحشی درندوں کو سرِعام کیفرِ کردار تک پہنچائیں۔ انہیں ایسی سزا دیں جو دوسروں کے لیے نشانِ عبرت بن جائے۔ تاکہ جب کوئی گندی نظر اٹھے تو اس کے ہاتھ کانپ جائیں۔ تاکہ ہماری ننھی کلیاں، ہمارے آنگن کے چراغ محفوظ رہ سکیں۔

    اور اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں یا آنے والی نسلوں کے لیے دیوار بنیں؟ سب سے پہلے گھر سے شروع کریں: اپنے بیٹوں کو "مرد” نہیں "انسان” بنائیں۔ انہیں سمجھائیں کہ طاقت عزت لوٹنے کے لیے نہیں، عزت بچانے کے لیے ہے۔ انہیں بتائیں کہ ہر حال میں عورت کا محافظ بننا ہے۔ غیر محرم ہو تب بھی عورت کو میری نظر سے نہیں دیکھنا۔ قرآن میں تمہیں بھی حکم دیا گیا ہے "نظریں نیچی رکھو”۔ اس حکم پر عمل کرنا ہے تب ہی معاشرہ سنورے گا۔ دوسرا نظام سے مطالبہ کریں: فوری، شفاف اور عبرتناک انصاف۔ تاکہ عدالتوں کے چکر نہ لگیں، صرف سزا کی گونج سنائی دے۔ تیسرا خاموشی توڑیں: ظلم دیکھ کر چپ رہنا بھی ظلم میں شراکت ہے۔ ایک آواز کئی کلیوں کو بچا سکتی ہے۔ میں ان تمام جنسی درندوں کے لیے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتی ہوں۔ کیونکہ وہ مر چکے ہیں۔ اور اب وہ دوسروں کو بھی مار رہے ہیں۔ یاد رکھیے: جب قوم کا ضمیر مر جائے تو قبریں ہی اس کا مقدر بنتی ہیں۔ اور جب قوم کا قانون جاگ جائے تو قبریں بند ہو جاتی ہیں۔ نوٹ: یہ کالم کسی خاص فرد، گروہ یا عمر کے خلاف نہیں ہے۔ اس کا مقصد صرف ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور معاشرے میں شعور بیدار کرنا ہے۔ میرا مقصد دل آزاری نہیں اصلاح ہے۔ اللہ ہم سب کو اپنی اور دوسروں کی عزتوں کا محافظ بنائے۔ اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو.
    آمین یا رب العالمین

  • معجزے ہوتے ہیں دعائیں سُن لی جاتی ہیں،تحریر:آمنہ خواجہ

    معجزے ہوتے ہیں دعائیں سُن لی جاتی ہیں،تحریر:آمنہ خواجہ

    زندگی ہمیشہ ہماری خواہشوں کے مطابق نہیں چلتی۔ کبھی راستے پھولوں سے بھرے ہوتے ہیں اور کبھی قدم قدم پر کانٹے بچھ جاتے ہیں۔ کبھی دعائیں مانگتے ہوئے دل کو فوراً سکون مل جاتا ہے اور کبھی انسان برسوں سجدوں میں سر رکھ کر بھی اپنی مراد کا انتظار کرتا رہتا ہے۔ کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہماری آواز آسمان تک پہنچ ہی نہیں رہی، جیسے ہماری دعائیں کسی بند دروازے پر دستک دے کر واپس لوٹ آتی ہیں، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ رب العالمین اپنے بندے کی ہر آہ سنتا ہے، ہر آنسو دیکھتا ہے، ہر سسکی سے واقف ہے اور دل میں چھپی ہوئی اس خواہش کو بھی جانتا ہے جسے زبان تک لانے کی ہمت نہیں ہوتی۔

    بس فرق اتنا ہے کہ ہم وقت کے حساب سے مانگتے ہیں اور رب حکمت کے حساب سے عطا کرتا ہے۔
    ہم چاہتے ہیں کہ دعا آج مانگی جائے اور قبولیت کل ہمارے دروازے پر کھڑی ہو، مگر اللہ جانتا ہے کہ ہمارے لیے کون سا وقت بہتر ہے، کون سی چیز فائدہ مند ہے اور کون سا راستہ ہمیں منزل تک پہنچائے گا۔ بعض اوقات ہم جس چیز کے لیے بے قرار ہوتے ہیں وہ ہمارے حق میں نقصان دہ ہوتی ہے اور جس چیز کو ہم محرومی سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ دراصل کسی بڑی نعمت کی تمہید ہوتی ہے۔

    اسی لیے صبر صرف خاموش رہنے کا نام نہیں، صبر اس یقین کا نام ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔
    جب انسان ہر طرف سے تھک جاتا ہے، جب اپنے بھی اجنبی محسوس ہونے لگتے ہیں، جب راستے بند دکھائی دیتے ہیں، جب ایک کے بعد ایک آزمائش زندگی کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے تو ایسے وقت میں انسان کے پاس اگر کچھ بچتا ہے تو وہ اللہ پر ایمان، اس پر توکل اور صبر ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جو ایک ٹوٹے ہوئے دل کو دوبارہ جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔
    یاد رکھیے، معجزے آج بھی ہوتے ہیں۔

    معجزہ صرف یہ نہیں کہ سمندر راستہ دے دے یا ناممکن ممکن ہو جائے۔ کبھی ایک ایسا شخص آپ کی زندگی میں آ جاتا ہے جو آپ کے زخموں پر مرہم بن جاتا ہے، یہ بھی معجزہ ہے۔ کبھی برسوں کی پریشانی کے بعد اچانک حالات بدل جاتے ہیں، یہ بھی معجزہ ہے۔ کبھی انسان کسی ایسی مصیبت سے بچ جاتا ہے جس کا اسے علم تک نہیں ہوتا، یہ بھی رب کی رحمت ہے۔ کبھی ایک دعا قبول ہونے میں وقت لگتا ہے اور پھر انسان پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو سمجھ آتا ہے کہ اگر وہ دعا پہلے قبول ہو جاتی تو شاید آج کی خوشی نصیب ہی نہ ہوتی۔
    اللہ کی تدبیر ہماری سوچ سے کہیں بڑی ہے۔

    ہم اکثر ایک دروازہ بند ہونے پر سمجھتے ہیں کہ ہماری دنیا ختم ہو گئی، حالانکہ ممکن ہے رب ہمیں ایک ایسے دروازے کی طرف لے جا رہا ہو جس کے بارے میں ہم نے کبھی سوچا بھی نہ ہو۔ ہم ایک شخص کے جانے پر ٹوٹ جاتے ہیں، شاید اللہ ہمیں ایسے لوگوں سے ملانے والا ہو جو ہمارے وجود کی قدر جانتے ہوں۔ ہم ایک موقع کے چھن جانے پر روتے ہیں، شاید ہمارے لیے اس سے بہتر موقع محفوظ ہو۔ ہم کسی خواہش کے پورا نہ ہونے کو محرومی سمجھتے ہیں، شاید رب ہمیں اس خواہش کے نقصان سے بچا رہا ہو۔
    انسان محدود دیکھتا ہے، اللہ مکمل حقیقت جانتا ہے۔

    اس لیے جب زندگی میں کچھ ایسا ہو جائے جسے سمجھنا مشکل ہو تو فوراً یہ فیصلہ نہ کریں کہ اللہ نے ہمیں چھوڑ دیا ہے۔ ممکن ہے وہ ہمیں کسی بڑی آزمائش سے نکال رہا ہو۔ ممکن ہے ہماری تاخیر میں ہماری حفاظت ہو۔ ممکن ہے ہماری خاموش راتوں کے بعد ایسی صبح لکھی جا چکی ہو جس کا تصور بھی ہمارے وہم و گمان میں نہ ہو۔
    اور پھر دعائیں۔
    دعائیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔

    کبھی دعا اسی صورت میں ملتی ہے جس صورت میں ہم مانگتے ہیں، کبھی اس سے بہتر صورت میں عطا ہوتی ہے اور کبھی کسی آنے والی مصیبت کو ٹال دیتی ہے۔ کبھی دعا کا اثر ہمارے حالات سے پہلے ہمارے دل پر ہوتا ہے۔ انسان وہی ہوتا ہے، مسئلہ وہی ہوتا ہے، حالات بھی وہی ہوتے ہیں مگر دل کے اندر ایک عجیب سا سکون اتر آتا ہے۔ یہی سکون کبھی کبھی سب سے بڑا جواب ہوتا ہے۔

    کبھی اللہ حالات نہیں بدلتا، انسان کو حالات برداشت کرنے کی طاقت دے دیتا ہے۔ کبھی مسئلہ ختم نہیں ہوتا مگر دل مضبوط ہو جاتا ہے۔ کبھی راستہ فوراً نہیں کھلتا مگر قدموں میں استقامت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور کبھی انسان کو آخرکار وہ مل جاتا ہے جس کے لیے وہ برسوں سے دعا کر رہا ہوتا ہے۔
    بس شرط یہ ہے کہ انسان دعا کرتے کرتے مایوس نہ ہو۔
    صبر کا مطلب یہ نہیں کہ آنکھوں سے آنسو نہ نکلیں۔ صبر کا مطلب یہ نہیں کہ دل کو درد محسوس نہ ہو۔ صبر یہ ہے کہ آنکھ روئے مگر دل رب سے بدگمان نہ ہو۔ انسان ٹوٹے مگر اپنے رب سے تعلق نہ توڑے۔ زبان پر شکوہ کم اور دعا زیادہ ہو۔ راستے مشکل ہوں مگر قدم حرام راستوں کی طرف نہ جائیں۔
    صبر دراصل ایمان کی وہ کیفیت ہے جس میں انسان کہتا ہے
    یا اللہ میں نہیں جانتا مگر تو جانتا ہے
    میں نہیں دیکھ سکتا مگر تو دیکھ رہا ہے
    میں نہیں سمجھ پا رہا مگر مجھے یقین ہے کہ تیری حکمت مجھ سے بہتر ہے
    یہی توکل ہے۔
    توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں۔ توکل یہ ہے کہ انسان اپنی پوری کوشش کرے، جائز راستہ اختیار کرے، محنت کرے، دعا کرے اور پھر نتیجہ اپنے رب کے سپرد کر دے۔ کیونکہ کوشش ہمارے اختیار میں ہے، نتیجہ نہیں۔

    کتنی ہی راتیں ایسی ہوتی ہیں جب انسان اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھ کر روتا ہے۔ کسی کو اپنی تکلیف نہیں بتاتا۔ چہرے پر مسکراہٹ رکھتا ہے مگر دل کے اندر طوفان برپا ہوتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ شخص بہت مضبوط ہے، مگر وہ شخص جانتا ہے کہ اسے مضبوط اس کے رب نے رکھا ہوا ہے۔
    وہی رب جو ٹوٹے ہوئے دلوں کا حال جانتا ہے۔
    اس لیے اگر آج آپ کسی مشکل میں ہیں، اگر آپ کی کوئی دعا ابھی تک قبول نہیں ہوئی، اگر آپ کسی انتظار میں تھک چکے ہیں، اگر آپ کے حالات آپ کے خلاف ہیں، اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی زندگی میں خوشیوں کا دروازہ بند ہو گیا ہے تو بس ذرا ٹھہریے۔
    مایوس مت ہوں۔
    اپنے رب کی رحمت پر یقین رکھیے۔

    ہو سکتا ہے جس صبح کا آپ انتظار کر رہے ہیں وہ قریب ہو۔ ہو سکتا ہے جس دعا کو آپ برسوں سے اپنی زندگی کی سب سے بڑی محرومی سمجھ رہے ہیں، اس کا جواب اللہ نے کسی اور شکل میں آپ کے لیے لکھ رکھا ہو۔ ہو سکتا ہے آپ کی زندگی کا سب سے خوبصورت باب ابھی شروع ہی نہ ہوا ہو۔
    آپ اچھی طرح سے صبر کریں۔
    اپنی دعاؤں کو زندہ رکھیں۔ اپنے سجدوں کو آباد رکھیں۔ اپنے دل کو شکووں سے نہیں یقین سے بھریں۔ حالات خواہ کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، رب العالمین کی رحمت ان سب سے بڑی ہے۔
    یقین رکھیے اندھیری رات ہمیشہ نہیں رہتی۔ آنسو ہمیشہ نہیں بہتے۔ زخم ہمیشہ نہیں دکھتے۔ آزمائش ہمیشہ نہیں رہتی۔
    زخم بھر دیے جاتے ہیں۔
    دعائیں سُن لی جاتی ہیں۔
    بند راستے کھول دیے جاتے ہیں۔
    ٹوٹے دل جوڑ دیے جاتے ہیں۔
    اور کبھی کبھی وہاں سے روشنی آتی ہے جہاں انسان نے صرف اندھیرا دیکھا ہوتا ہے۔
    بس ایمان کو کمزور نہ ہونے دیں۔
    کیونکہ زندگی کی سب سے بڑی طاقت یہ یقین ہے کہ میرا رب مجھے بھولا نہیں۔
    اور جب یہ یقین دل میں اتر جائے تو انسان انتظار بھی عبادت سمجھ کر کرتا ہے، آنسو بھی دعا بنا دیتا ہے اور آزمائش میں بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتا۔
    معجزے ہوتے ہیں دعائیں سُن لی جاتی ہیں، زخم بھر دیے جاتے ہیں۔ بس رب العالمین پر ایمان، توکل اور صبر قائم رکھیں۔ کیونکہ جس رب نے آپ کو آج تک سنبھال رکھا ہے، وہ آپ کو آگے بھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔

  • سفاکیت اور بے رحمی،تحریر: عائشہ گُل

    سفاکیت اور بے رحمی،تحریر: عائشہ گُل

    شام ڈھل رہی تھی آسمان پر ہلکی ہلکی بوندا باندی تھی اور سورج مغرب میں ڈوبنے والا تھا لیکن آج صحن میں عجیب سناٹا تھا باہر گلی سے بچوں کے کھیلنے کی کوئی آواز نہیں آ رہی تھی نہ قہقہے نہ شور نہ گیند کے ٹھپے گھر کے صحن میں ایک پرانی چارپائی بچھائی تھی اسی چارپائی پر اماں صغرا بیٹھی تھیں سفید دوپٹے کا پلو سر پر لیے ایک ہاتھ میں تسبیح اور دوسرے ہاتھ میں سات سالہ پوتی حور وہ بڑے پیار سے حور کے بال سہلا رہی تھیں مگر ان کی نظریں خلا میں کہیں دور تھیں حور نے معصومیت سے پوچھا دادی امّاں آپ کن خیالوں میں گم ہیں اماں صغرا نے گہری سانس لی ان کی آنکھیں نم ہو گئیں وہ آہستہ سے بولیں بیٹا میں آج سے برسوں پہلے کا زمانہ یاد کر رہی تھی آج سے 50 سال پہلے کا وقت تھا اس وقت شام ہوتے ہی پورے محلے میں بچوں کی گہما گہمی ہوا کرتی تھی گلیوں میں شور قہقہے گیند کے ٹھپے اور دروازے رات گئے تک کھلے رہتے تھے وہ رکیں اور حور کے ماتھے پر بوسہ دیا اور بولیں اور آج دیکھو بیٹا باہر مکمل خاموشی ہے حور نے حیرت سے پوچھا دادی ایسا کیوں ہو گیا اماں صغرا نے حور کو سینے سے لگا لیا اور بولیں بیٹا کبھی یہ دو لفظ سن کر روح کانپ جایا کرتی تھی سفاکیت اور بے رحمی نام سنتے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے انسان سوچتا تھا کیا کوئی اتنا گر سکتا ہے اور آج آج یہ سب بہت عام ہو گیا ہے اس بے رحمی نے کسی کو نہیں بخشا مرد عورت بوڑھا بچہ ایک ڈیڑھ سالہ معصوم کلی بھی محفوظ نہیں اور قبر میں لیٹا مردہ بھی محفوظ نہیں۔۔۔۔ ہم کس طرح کے لوگوں میں سانس لے رہے ہیں جہاں انسان کو انسان کہنا بھی مشکل ہے اور درندہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں۔۔۔۔ بیٹا میں نے وہ وقت بھی دیکھا ہے 50 سال پہلے شفیق چہرے اچھی تربیت سب اچھا تھا یہ کہہ کر دادی اماں نے گہری آہ بھری اور خاموش ہو گئیں۔۔۔۔ حور نے تجس سے پوچھا پھر یہ روشنی کہاں بجھ گئی دادی اماں!اماں صغرا نے دھیمی آواز میں کہا دین سے دوری موبائل کی اسکرین میں قید زندگی سوشل میڈیا کا فضول استعمال ان سب محرکات نے انسان کو خود میں غرق کر لیا ہے۔

    حور نے معصوم لہجے میں سوال کیا دادی اماں کیا وہ سنہرا زمانہ کبھی پلٹ کر نہیں آئے گا کیا ہم کبھی کھلی فضا میں کھل کر سانس نہیں لے سکیں گے کیا میں بھی کبھی گلیوں میں دوستوں کے ساتھ ہنس کھیل نہیں سکوں گی ؟؟؟
    پھر اماں صغرا نے حور کے ماتھے پر بوسہ دیا اور اپنے بازو میں لپیٹتے ہوئے کہا بیٹا ہمیشہ کی طرح حل صرف ایک ہی ہے جب تک ہم اپنے اصل کی طرف واپس نہیں لوٹیں گے اسی طرح دربدر بھٹکتے رہیں گے بہت سی قومیں اپنے اصل کو چھوڑ کر تباہ ہوئیں اور ہم بھی آج تباہی کے کنارے پر نہیں کھڑے بلکہ تباہ ہو چکے ہیں۔۔۔ افسوس! کہ ہمارے پاس وہ نظر بھی نہیں جس سے ہم اپنی تباہی کو دیکھ سکیں یہ کہہ کر دادی جان نے چارپائی کے بالکل پاس ایک چراغ روشن کیا شام کی مدھم روشنی میں اس کی لو کپکپائی وقاص خاموشی سے دادی اماں اور حور کی باتیں سن رہا تھا جیسے ہی دادی اماں نے دیا روشن کیا وقاص بھی اپنے حصے کا دیا لے آیا اور حور کہاں پیچھے رہنے والی تھی۔ وہ مچلتی ہوئی اٹھی اور شوق میں اس نے بھی دیا جلایا۔

    تینوں چراغوں کی روشنی صحن میں پھیل گئی دادی اماں نے کہا بیٹا اگر اسی طرح ہر کوئی انسان اپنے حصے کا دیا جلائے جس طرح آج ہمارا یہ صحن تین دیوں سے روشن ہو چکا ہے تو ہمارا معاشرہ بھی روشن ہو جائے گا۔ بے رحمی اور سفاکیت سے پاک ہو کر امن و امان کا گہوارہ بن جائے گا۔ حور زور سے دادی کے ساتھ لپٹ گئی۔ باہر اب بھی سناٹا تھا مگر اس صحن میں روشنی تھی۔

  • سب سے خطرناک موت وہ ہے، جس پر کوئی جنازہ نہیں ہوتا،تحریر: زینب جہانزیب

    سب سے خطرناک موت وہ ہے، جس پر کوئی جنازہ نہیں ہوتا،تحریر: زینب جہانزیب

    ہر موت قبرستان تک نہیں پہنچتی۔ کچھ اموات ایسی بھی ہوتی ہیں جن پر نہ کوئی تعزیت کرتا ہے، نہ کوئی فاتحہ پڑھتا ہے، نہ کسی آنکھ سے آنسو گرتے ہیں۔ وہ خاموشی سے انسان کے اندر وقوع پذیر ہوتی ہیں اور دنیا کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ ایک دن انسان کا خواب مر جاتا ہے، کسی دن اس کا یقین، کسی شام اس کی بےساختہ ہنسی، اور کسی رات وہ خود بھی زندہ رہتے ہوئے اندر سے ختم ہو جاتا ہے۔

    عجیب بات ہے، ہم جسم کی موت سے ڈرتے ہیں مگر روح کی موت کو معمول سمجھ لیتے ہیں۔ جب کوئی شخص پہلی بار یہ سوچتا ہے کہ "اب فرق ہی کیا پڑتا ہے”، تو شاید اسی لمحے اس کے اندر کچھ ہمیشہ کے لیے مر جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ چلتا بھی ہے، بولتا بھی ہے، مسکراتا بھی ہے، مگر ان سب کے پیچھے زندگی نہیں، صرف عادت رہ جاتی ہے۔

    ہم ایسے لوگوں سے روز ملتے ہیں۔ دفتر میں، بازار میں، بسوں میں، جامعات میں، حتیٰ کہ اپنے گھروں میں بھی۔ وہ سب زندہ دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کی آنکھوں میں کوئی موسم نہیں اترتا۔ انہیں بارش صرف پانی لگتی ہے، صبح صرف ایک اور مصروف دن، اور رات صرف تھکن کا دوسرا نام۔ یہ وہ لوگ نہیں جنہوں نے زندگی ہار دی، بلکہ وہ ہیں جنہوں نے محسوس کرنا چھوڑ دیا۔

    دنیا سمجھتی ہے کہ انسان کو سب سے زیادہ غربت توڑتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کو سب سے زیادہ بےمعنویت توڑتی ہے۔ جب اسے اپنی موجودگی کا مقصد نظر آنا بند ہو جائے، تب اس کے اندر ایک ایسی خاموش ویرانی جنم لیتی ہے جسے کوئی دولت، کوئی شہرت اور کوئی تعریف آباد نہیں کر سکتی۔ ہم نے کامیابی کا مطلب تو سیکھ لیا، مگر زندہ رہنے کا ہنر بھول گئے۔ ہم نے اپنے کمروں کو سجا لیا، مگر اپنے اندر کے ویران گھروں کی خبر نہ لی۔ ہم نے چہروں پر اعتماد اوڑھ لیا، مگر دلوں میں بیٹھے خوف سے کبھی بات نہ کی۔ شاید اسی لیے آج انسان کے پاس ہر سہولت موجود ہے، مگر سکون سب سے نایاب چیز بن چکا ہے۔

    سوچیے، اگر آپ کی ساری کامیابیاں آپ سے لے لی جائیں، آپ کا عہدہ، آپ کی پہچان، آپ کی شہرت، آپ کے تعارف کے تمام لفظ… تو کیا بچے گا؟ اگر اس سوال کا جواب آپ کے پاس نہیں، تو شاید آپ نے اپنی شناخت چیزوں میں تلاش کی، اپنی ذات میں نہیں۔

    ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ زندگی ہمیں آہستہ آہستہ ختم کرتی ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہم خود کو تھوڑا تھوڑا کرکے ختم کرتے ہیں۔ ہر اُس دن جب ہم اپنی سچائی کے خلاف فیصلہ کرتے ہیں، ہر اُس لمحے جب ہم خوف کو اپنی خواہش پر ترجیح دیتے ہیں، اور ہر اُس موقع پر جب ہم صرف اس لیے خاموش رہتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب ہمیں یاد بھی نہیں رہتا کہ ہم اصل میں تھے کون۔

    شاید یہی سب سے خطرناک موت ہے۔ وہ موت جس میں سانس باقی رہتی ہے، مگر زندگی نہیں۔ وہ موت جس پر کوئی جنازہ نہیں ہوتا، کیونکہ مرنے والا باہر نہیں، اندر دفن ہوتا ہے۔
    اس لیے کبھی فرصت ملے تو اپنی نبض نہیں، اپنے احساسات کو ٹٹولیے۔ دیکھیے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کی آواز اب بھی بول رہی ہو، مگر آپ کی روح مدتوں پہلے خاموش ہو چکی ہو۔ کیونکہ انسان کا سب سے بڑا المیہ مر جانا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی ہی میں اپنی ذات کا آخری گواہ بن جائے۔

  • ہم سب کسی نہ کسی حد تک اداکاری کر رہے ہیں،تحریر: زینب جہانزیب

    ہم سب کسی نہ کسی حد تک اداکاری کر رہے ہیں،تحریر: زینب جہانزیب

    دنیا کا سب سے کامیاب اداکار شاید وہ نہیں جسے ایوارڈ ملتے ہیں، بلکہ وہ ہے جسے لوگ روز دیکھتے ہیں مگر اس کی اداکاری پہچان نہیں پاتے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس اسٹیج کا نام فلم یا تھیٹر نہیں، زندگی ہے، اور اس کے کردار ہم سب ہیں۔

    ہم ہر روز کئی چہرے پہنتے ہیں۔ گھر میں ایک، دفتر میں دوسرا، دوستوں کے درمیان تیسرا، اور سوشل میڈیا پر شاید سب سے مختلف۔ وقت کے ساتھ ہمیں اتنی مہارت حاصل ہو جاتی ہے کہ ہم خود بھی بھول جاتے ہیں کہ ان سب چہروں کے پیچھے ہمارا اصل چہرہ کون سا تھا۔یہ اداکاری ہمیشہ دھوکے کے لیے نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہ ایک دفاعی حصار بن جاتی ہے۔ کوئی اپنی کمزوری چھپانے کے لیے مضبوط ہونے کا کردار ادا کرتا ہے، کوئی اندر سے ٹوٹا ہوا ہونے کے باوجود ہنستا رہتا ہے، کوئی ہر وقت مصروف دکھائی دیتا ہے تاکہ اسے اپنی تنہائی سے سامنا نہ کرنا پڑے، اور کوئی مسلسل دوسروں کو خوش رکھنے میں لگا رہتا ہے تاکہ اسے مسترد کیے جانے کا خوف نہ ستائے۔

    شاید اسی لیے ہمیں لوگوں کو سمجھنے میں اتنی غلطیاں ہوتی ہیں۔ ہم ان کے چہروں کو پڑھتے ہیں، ان کی خاموشیوں کو نہیں۔ ہم ان کے الفاظ سنتے ہیں، ان کے خوف نہیں۔ ہم ان کی کامیابی دیکھتے ہیں، ان کی قیمت نہیں۔ انسان کو جاننا کبھی آسان نہیں تھا، کیونکہ اکثر وہ خود بھی اپنے اندر چھپے ہوئے کرداروں سے پوری طرح واقف نہیں ہوتا۔

    اس دور نے اس اداکاری کو اور بھی آسان بنا دیا ہے۔ چند تصویریں، چند جملے اور چند لمحوں کی ویڈیوز ایک ایسی زندگی کا تاثر دے دیتے ہیں جو حقیقت میں شاید موجود ہی نہ ہو۔ ہم دوسروں کی زندگیوں کے خوبصورت مناظر دیکھ کر اپنی پوری زندگی کا فیصلہ کرنے لگتے ہیں، حالانکہ ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ پردے کے پیچھے کتنی خاموش جنگیں لڑی جا رہی ہیں۔

    لیکن سب سے خطرناک اداکاری وہ نہیں جو ہم دنیا کے سامنے کرتے ہیں، بلکہ وہ ہے جو ہم اپنے آپ سے کرتے ہیں۔ جب ہم خود کو یہ یقین دلانے لگتے ہیں کہ ہم خوش ہیں، حالانکہ ہم صرف عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمیں کسی چیز کی پروا نہیں، مگر رات کی خاموشی میں وہی بات ہمیں سونے نہیں دیتی۔ جب ہم خود سے یہ کہتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے، حالانکہ دل بار بار اقرار چاہتا ہے کہ کچھ ٹوٹ چکا ہے۔
    انسان کا سب سے مشکل امتحان دوسروں کو سچ بتانا نہیں، بلکہ اپنے آپ سے سچ بولنا ہے۔ کیونکہ دوسروں سے جھوٹ بولنے کی سزا شاید کبھی نہ ملے، مگر اپنی ذات سے مسلسل جھوٹ بولنے کی قیمت ایک دن اپنی شناخت کھو کر ادا کرنی پڑتی ہے۔ پھر انسان کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس کی اپنی خواہش کیا تھی اور وہ دوسروں کی توقعات پوری کرتے کرتے کہاں بدل گیا۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر اداکاری بری نہیں ہوتی۔ ایک ماں اپنی تکلیف چھپا کر بچوں کے سامنے مسکرا دیتی ہے، ایک باپ اپنی پریشانی دل میں رکھ کر گھر والوں کو محفوظ محسوس کرواتا ہے، ایک استاد اپنے ذاتی مسائل کے باوجود طلبہ کو امید دیتا ہے، اور ایک ڈاکٹر اپنے تھکے ہوئے وجود کے ساتھ بھی مریض کو حوصلہ دیتا ہے۔ یہ وہ کردار ہیں جن کے پیچھے محبت اور ذمہ داری ہوتی ہے، نہ کہ دکھاوا۔
    مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جب کردار ہماری ضرورت نہیں، ہماری مستقل شناخت بن جائے۔ جب ہم دوسروں کی پسندیدہ تصویر بننے کی کوشش میں اپنی اصل شخصیت کو ہی گم کر دیں۔ جب ہمیں لوگوں کی تالیاں تو مل جائیں، مگر آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے نظریں ملانا مشکل ہو جائے۔

    شاید زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ وہ نہیں جب پوری دنیا ہمیں قبول کر لے، بلکہ وہ ہے جب ہمیں اپنے اصل ہونے کے لیے کسی کردار کی ضرورت نہ رہے۔ جب ہماری مسکراہٹ، ہماری خاموشی، ہمارے فیصلے اور ہماری شخصیت ایک ہی حقیقت کی ترجمانی کریں، نہ کہ مختلف اسٹیجوں پر مختلف کرداروں کی۔
    اس لیے کبھی فرصت ملے تو آئینے میں اپنا چہرہ ضرور دیکھیے، مگر اس سے بھی زیادہ اپنے اندر جھانکیے۔ شاید وہاں کوئی ایسا انسان آپ کا انتظار کر رہا ہو جسے آپ نے برسوں پہلے دوسروں کو خوش کرنے کی کوشش میں کہیں پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ اور شاید زندگی کی اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان دنیا کے سامنے نہیں، اپنے ضمیر کے سامنے اداکاری کرنا چھوڑ دے۔

  • خاموش وراثت،تحریر: زینب جہانزیب

    خاموش وراثت،تحریر: زینب جہانزیب

    ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ وراثت صرف وہ ہوتی ہے جو کاغذوں میں لکھی جاتی ہے؛ زمین، جائیداد، خاندانی نام یا روایات۔ مگر ایک ایسی وراثت بھی ہے جو نہ دیکھی جا سکتی ہے، نہ چھوئی جا سکتی ہے، پھر بھی نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔ یہ وراثت ہے خاموش زخموں، ادھورے دکھوں اور ان احساسات کی، جنہیں کبھی جینے یا سمجھنے کی اجازت نہیں ملی۔
    گھر صرف اینٹوں اور دیواروں سے نہیں بنتا، بلکہ لہجوں، رویوں، خاموشیوں اور جذبات سے تشکیل پاتا ہے۔ بچہ انہی چیزوں کے درمیان اپنی شخصیت بناتا ہے۔ اگر اس کے اردگرد خوف ہو تو وہ خوف سیکھتا ہے، اگر مسلسل تنقید ہو تو وہ خود کو ناکافی سمجھنے لگتا ہے، اور اگر جذبات کے اظہار کو کمزوری کہا جائے تو وہ اپنے ہی احساسات سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔

    نفسیات اس عمل کو Intergenerational Trauma یعنی بین النسلی صدمہ کہتی ہے۔ یہ وہ خاموش منتقلی ہے جس میں ایک نسل کے حل نہ ہونے والے نفسیاتی زخم اگلی نسل کے ذہن، شخصیت اور تعلقات میں سرایت کر جاتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بعض اوقات نئی نسل نے وہ حادثات کبھی خود نہیں دیکھے ہوتے، مگر ان کے اثرات پھر بھی اس کی زندگی میں نمایاں ہوتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق بچے صرف والدین کے الفاظ نہیں سنتے، بلکہ ان کے اعصابی نظام کے ردِعمل سے بھی سیکھتے ہیں۔ اسی لیے مسلسل خوف، بے یقینی، غصہ یا جذباتی دوری میں پلنے والا بچہ دنیا کو غیر محفوظ سمجھنے لگتا ہے، اور یہ احساس اس کی پوری شخصیت پر اثر ڈال سکتا ہے۔

    ڈاکٹر ریچل یہودا (Rachel Yehuda) اور دیگر محققین کی تحقیقات نے یہ اشارہ دیا ہے کہ شدید نفسیاتی صدمات انسان کے Stress Response System پر دیرپا اثرات چھوڑ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج جدید نفسیات صرف زخموں کو سمجھنے کی بات نہیں کرتی، بلکہ ان کے علاج کو آنے والی نسلوں کی ذہنی صحت سے بھی جوڑتی ہے۔

    شاید اسی لیے بعض گھروں میں محبت تو موجود ہوتی ہے، مگر اس کا اظہار نہیں۔ لوگ ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہیں، مگر ایک دوسرے کے جذبات تک نہیں پہنچ پاتے۔ بچے ہر سہولت پا لیتے ہیں، مگر جذباتی تحفظ سے محروم رہ جاتے ہیں، اور پھر وہی محرومی ان کے تعلقات، خود اعتمادی اور زندگی کے فیصلوں میں خاموشی سے بولتی رہتی ہے۔

    ہم اکثر اپنے والدین کے رویوں پر سوال اٹھاتے ہیں، مگر شاید کسی نے ان سے بھی کبھی یہ نہیں پوچھا تھا کہ وہ خود کس درد سے گزرے تھے۔ ممکن ہے ان کے زخم بھی کسی اور نسل کی امانت ہوں۔ اس حقیقت کو سمجھنا کسی کو قصوروار ٹھہرانا نہیں، بلکہ اس سلسلے کو پہچاننا ہے جو برسوں سے چلتا آ رہا ہے۔لیکن ہر نسل کے پاس ایک انتخاب ضرور ہوتا ہے۔ یا تو وہ ماضی کے زخموں کو وراثت بنا دیتی ہے، یا ان کا علاج کر کے ایک نئی روایت قائم کرتی ہے۔ ہماری نسل شاید پہلی نسل بن سکتی ہے جو یہ فیصلہ کرے کہ ہمارے بچوں کو خوف، خاموشی اور جذباتی محرومی ورثے میں نہیں ملے گی۔ ہم انہیں یہ سکھائیں گے کہ احساسات کو دبانا نہیں، سمجھنا اور بیان کرنا بھی طاقت کی علامت ہے۔
    کیونکہ اصل وراثت صرف وہ نہیں جو ہم چھوڑ کر جاتے ہیں، بلکہ وہ بھی ہے جو ہم اپنے بچوں کے دل و دماغ میں بسا جاتے ہیں۔
    اور آخر میں صرف ایک سوال
    کیا ہم اپنی آنے والی نسل کو اپنی محبت ورثے میں دے رہے ہیں، یا وہ زخم جن کا علاج انہیں اپنی پوری زندگی کرنا پڑے گا؟

  • پمز ہسپتال کی نرسری میں جلتے خواب، بجھتی سانسیں،تحریر: زینب جہانزیب

    پمز ہسپتال کی نرسری میں جلتے خواب، بجھتی سانسیں،تحریر: زینب جہانزیب

    کبھی کبھی کوئی خبر صرف خبر نہیں ہوتی، وہ انسان کے اندر ایک ایسا زخم کھول دیتی ہے جس پر الفاظ بھی مرہم رکھنے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔ PIMS ہسپتال کی نرسری میں لگنے والی آگ کی خبر بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ چند لمحوں کی وہ آگ، جس نے صرف ایک کمرے کو نہیں جلایا، بلکہ کئی ماؤں کی گود، کئی باپوں کے خواب اور کئی گھروں کی وہ خوشیاں جلا ڈالیں جنہیں ابھی دنیا کی روشنی دیکھنا تھی۔
    وہ بچے جنہوں نے ابھی زندگی کا مطلب بھی نہیں جانا تھا، جن کی آنکھیں ابھی پوری طرح دنیا سے آشنا نہیں ہوئی تھیں، جن کے ننھے ہاتھ شاید ابھی ماں کی انگلی مضبوطی سے تھامنا بھی نہیں سیکھ پائے تھے، وہ آگ کی لپیٹ میں آگئے۔ سوچ کر ہی دل کانپ جاتا ہے کہ جن بچوں کے لیے ماں اپنے سینے سے لگا کر دعائیں پڑھتی ہے، جن کے ایک سانس لینے پر گھر والے شکر ادا کرتے ہیں، وہی ننھی سانسیں دھوئیں اور شعلوں کے بیچ رک گئی ہوں گی۔

    ایک ماں کے لیے اس سے بڑا المیہ کیا ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو دنیا میں لانے کے بعد اسے اپنی بانہوں میں لینے سے پہلے ہی کھو دے؟ جس بچے کے لیے اس نے مہینوں تک اپنے وجود میں تکلیف برداشت کی، جس کے آنے کی خبر پر گھر میں امید کے چراغ روشن ہوئے، جس کے لیے شاید ایک چھوٹا سا لباس سنبھال کر رکھا گیا ہو، اس بچے کی قبر کا تصور بھی کسی ماں کے دل کو اندر سے توڑ دینے کے لیے کافی ہے۔
    ہم اکثر کہتے ہیں کہ بچے فرشتے ہوتے ہیں۔ شاید اسی لیے ان کے جانے کا دکھ بھی زمین کے دکھوں سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ کسی سے نفرت نہیں کرتے، کسی کا حق نہیں مارتے، کسی کے خلاف سازش نہیں کرتے، کسی کو تکلیف دینے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ وہ تو بس زندگی کے دروازے پر کھڑے معصوم وجود ہوتے ہیں۔ مگر اس دنیا میں کبھی کبھی سب سے زیادہ بے گناہ ہی سب سے زیادہ بے رحم حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں۔

    یہ سوال صرف یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ ننھے وجود محفوظ کیوں نہ رہے؟ ہسپتال، جہاں انسان اپنے سب سے کمزور وقت میں زندگی کی حفاظت کی امید لے کر آتا ہے، اگر وہیں زندگی غیر محفوظ ہوجائے تو پھر عام انسان کس دروازے پر دستک دے؟
    حادثات کبھی بتا کر نہیں آتے، مگر حادثات سے بچاؤ کے انتظامات ضرور کیے جاسکتے ہیں۔ نرسری میں موجود ہر بچہ کسی ایک خاندان کا نہیں، ایک پوری امید کا نمائندہ ہوتا ہے۔ ان کی حفاظت محض ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک انسانی امانت ہے۔ ایک ننھی جان کی قیمت کسی فائل، کسی رپورٹ، کسی وضاحت یا کسی انکوائری سے پوری نہیں ہوسکتی۔

    اور آج ان بچوں کی مائیں شاید کسی جواب کی تلاش میں نہیں بلکہ اپنے بچوں کی آخری تصویر تلاش کر رہی ہوں گی۔ شاید کسی کپڑے کو سینے سے لگا کر رو رہی ہوں گی۔ شاید کسی نے ابھی تک یقین ہی نہ کیا ہو کہ جس بچے کے لیے دعائیں مانگی تھیں، وہ دعا قبول ہونے سے پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔
    کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جن کے سامنے انسان صرف خاموش رہ سکتا ہے۔
    آج ان ننھی جانوں کے لیے الفاظ لکھتے ہوئے قلم بھی بوجھل ہے۔ دل چاہتا ہے کہ بس اتنا کہا جائے کہ اے اللہ! ان معصوم بچوں کو اپنی رحمت کی آغوش میں جگہ دے، ان کے والدین کو وہ صبر عطا کر جس کا تصور بھی ہمارے لیے ممکن نہیں، اور ہمارے ہسپتالوں کو ایسی غفلت، ایسی کمزوری اور ایسے حادثات سے محفوظ فرما۔
    کیونکہ بچے صرف پیدا نہیں ہوتے، وہ اپنے ساتھ کئی لوگوں کی پوری دنیا لے کر آتے ہیں۔
    اور جب ایک بچہ چلا جاتا ہے تو صرف ایک سانس ختم نہیں ہوتی۔۔۔
    کئی دلوں کی دھڑکن ہمیشہ کے لیے بدل جاتی ہے۔

  • ماں تیرے بغیر زندگی بے رنگ ہے، تحریر: سماویہ اعظم

    ماں تیرے بغیر زندگی بے رنگ ہے، تحریر: سماویہ اعظم

    میں جب بھی گھر آتا ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے اندر سے ابھی تم آواز دو گی۔
    کون ہے؟
    اور میں مسکرا کر کہوں گا ماں! میں آ گیا ہوں، لیکن اب اس گھر میں ماں کی آواز نہیں آتی اور جواب دینے والا بھی کوئی موجود نہیں۔ اس گھر میں ہر طرف اداسی پھیلی ہوئی ہے جیسے اس گھر نے خوشی کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ دیا ہو۔
    ماں! میں آج بھی اس دروازے کو دیکھتا ہوں جہاں تم کھڑی ہو کر مجھے رخصت کرتی تھی۔ مجھے دعا دیتی تھی اور مسکرا کر کہتی تھی۔
    جلدی آ جانا، تمہارے بغیر میرا دل نہیں لگتا اور میں ہنستے ہوئے کہتا تھا، میری پیاری اماں جان! افسر بڑا سنگ دل بندہ ہے ورنہ میں تو جلدی گھر آ جاؤں۔
    پھر ایک دن تم واقعی مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔ وہ دن میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ تمہاری آواز، تمہاری ہنسی، تمہاری باتیں سب کچھ یک دم ختم ہو گیا۔ میں نے یقین نہیں کیا۔ میں نے دروازہ کھولا اور اونچی آواز میں پکارا
    میری سوہنی ماں! مجھے چھوڑ کر کہاں چلی گئی؟
    میں سمجھا شاید تم باورچی خانے میں ہو گی۔ میں وہاں گیا مگر تم نہیں تھی۔ اس دن مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ جو بچھڑ جاتے ہیں وہ کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔ وقت گزرتا گیا۔ لوگ کہتے رہے کہ صبر کرو، وقت سب ٹھیک کر دیتا ہے مگر کسی نے یہ نہیں بتایا کہ ماں کے بغیر کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہتا۔ سب کچھ چلتا رہتا ہے مگر اندر سے انسان ٹوٹ جاتا ہے۔ میں آج بھی صبح اٹھ کر تمہارے کمرے میں جاتا ہوں۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے تم میرے آنے کا انتظار کر رہی ہو گی مگر وہاں صرف خاموشی ہوتی ہے۔ تمہاری آواز کہیں سے نہیں آتی۔ کبھی کبھار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تم واقعی کہیں موجود ہو، بس نظر نہیں آ رہی۔ ایک دن میں تمہارے کمرے میں بیٹھا تھا۔ وہی پرانی چارپائی، وہی تکیہ، وہی چادر، سب کچھ ویسا ہی تھا۔ میں نے آہستہ سے تکیہ اٹھایا۔ اس میں آج بھی تمہاری خوشبو محسوس ہوتی ہے۔
    میں اکثر تمہاری تصویروں سے باتیں کرتا ہوں مگر تم جواب نہیں دیتی۔
    ماں! زندگی تمہارے بغیر بے رنگ ہے۔ یہ رنگین دنیا مجھے اب زہر لگتی ہے کیوں کہ میرے پاس تم نہیں ہو۔ میں اکثر تمہارے کمرے میں بیٹھ کر روتا رہتا ہوں۔ مجھے یاد ہے جب میں بیمار ہوتا تھا تو تم ساری رات جاگتی تھی۔ تم میرے لیے بے چین رہتی تھی۔ میرے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہتی تھی۔ میرے بچے، تو جلدی ٹھیک ہو جائے گا اور واقعی میں اگلے دن ٹھیک ہو جاتا تھا کیوں کہ ماں کی دعا دوا سے زیادہ طاقت رکھتی تھی۔ اب جب میں بیمار ہوتا ہوں تو کوئی نہیں ہوتا جو ماتھا چھو کر کہے کہ تم ٹھیک ہو جاؤ گے۔ اب صرف دوائیں ہیں اور ایک ایسی تنہائی ہے جو بیماری سے بھی زیادہ تکلیف دیتی ہے۔
    ایک دن میں نے خواب دیکھا۔ تم باورچی خانے میں کھڑی ہو۔ میں تمہیں دیکھ کر دوڑتا ہوا آیا اور کہا
    ماں! تم واپس آ گئی؟
    تم نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور کہا
    میرے بیٹے، میں تو کبھی تجھ سے دور گئی ہی نہیں، میں تو ہمیشہ تیرے پاس ہوں۔
    ماں! اب میں دفتر سے جلدی گھر آ جاتا ہوں کیوں کہ تیرے بغیر میری زندگی بے رنگ ہو گئی ہے۔