Baaghi TV

Category: مذہب

  • ربیع الاول برکتوں والا مہینہ تحریر۔ نعیم الزمان

    ربیع الاول برکتوں والا مہینہ تحریر۔ نعیم الزمان

    لاکھوں کروڑوں درود وسلام اس ذات پر جیسے اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت العالمین بنا کر بھیجا۔جو وجہ تخلیق کائنات ہے۔

    جن کو بہترین معلم بنا کر بھیجا گیا۔

     اسلامی سال کا تیسرا مہینے کا نام ربیع الاوّل ہے۔ ربیع الاول کے معنی  ہیں پہلی بہار۔ یہ مہینہ خیرات وبرکات اور سعادتوں کا مہینہ ہے۔ اس مہینے کی بارہویں تاریخ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیدا فرمایا۔ احمد مجتبیٰ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت العالمین بنا کر بھیجا۔  اس وجہ سے بھی ربیع الاوّل کے مہینے کو اہمیت حاصل ہے۔ ۱۲ ربیع الاوّل کے دن کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کی نسبت سے مسلمان مناسب انداز میں خوشی منا کر اپنے ربّ کی رحمت کا شُکر ادا کرتے ہیں۔ کچھ لوگ نوافل، شب بیداری،  اور درود وسلام کی محفلیں منعقد کرتے ہیں۔اور کچھ لوگ اپنے گلی محلوں کو سجاتے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔اس دن کی نسبت سے بہت سارے لوگ اپنے گھروں کے باہر  مشروبات اور کھانے پینے کا اہتمام کرتے ہیں اور لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ برصغیر پاک وہند میں ربیع الاوّل کی ۱۲ تاریخ کو مسلمان عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طور پر مناتے ہیں۔پاکستان میں اس دن کی مناسبت سے سرکاری طور پر چھٹی ہوتی ہے۔ اس دن کو میلاد النبی کے جلوس بھی نکالے جاتے ہیں۔ مساجد میں محفلیں منعقد کی جاتی ہیں۔ 

    اور بہت سارے لوگ اس دن کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کا دن قرار دے رہے ہیں۔ 

    اور اس دن کو جشن منانے والوں کو شیطان سے تشبیہ دیتے ہیں۔ لیکن بحیثیت مسلمان میرا عقیدہ ہے کوئی بھی مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال پر خوشی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ یقیناً  ولادتِ باسعادت پر ہی چشن منایا جاتا ہے۔ رسول اللہ کا ارشادِ مبارک ہے: ”قبولیت اعمال کا دارومدار نیت پر ہے”(بخاری )۔ یہ ایک مختصر مگر جامع فلسفۂ زندگی ہے جس پر کسی بھی عمل کرنے والے کے فلاح کا دارومدار ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: ”لوگ قیامت کے دن صرف اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے”

     اللہ تعالیٰ نے ظاہری نیکی کو قبول نہیں فرمایا بلکہ وہ ارادہ، نیت، شعوری کوشش،قلب و ذہن کی آمادگی کو مدنظر رکھ کر اجر و ثواب کا مستحق سمجھے گا۔ دلوں کا حال اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یہ وہ علم ہے جو صرف اسی خالق کو ہی زیبا ہے جس نے ساری مخلوقات کو پیدا فرمایا. اس لیے یہ عمل بھی انسان کی نیت پر منحصر ہے۔ یقیناً کوئی بھی مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال پر خوشی منانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہر مسلمان ان کی ولادت پر جشن مناتاہے۔ دنیا اپنے رہنماؤں اور لیڈروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی  پیدائش کو بڑے جوش وخروش سے مناتے ہیں۔ اپنے بچوں اور پیاروں کی پیدائش پر برتھ ڈے مناتے ہیں۔ اس موقع پر دعوت کا اہتمام کرتے ہیں۔

     تو پھر کیوں نہ ہم اس شخصیت کی پیدائش پر جشن منائیں جو نہ کسی ایک قوم اور ملک کے رہنما ہیں مگر تمام جہانوں کے رہنما ہیں۔ کیوں نہ ان کی پیدائش پر فی سبیل اللہ طعام اور مشروبات تقسیم کریں۔

     اللہ تعالی ہم سب کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کی خوشی منانے کے ساتھ ساتھ ان کی سنت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطاء فرمائے۔ ان کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ ان کی ناموس کا تحفظ کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی  زندگی ہر مسلمان کے لیے بہترین نمونہ ہے۔جس کسی نے آپ کی سنتوں پر عمل کیا گویا اس نے آخرت میں اپنا ٹھکانہ جنت بنایا۔ اللہ پاک ہیمں اپنے پیارے حبیب کی زندگی کو سمجھنے اور ان کی سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطاء فرمائے۔

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ 

    Follow on 

    Twitter @786Rajanaeem

  • ایک عہد ساز شخصیت (مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ) : تحریر احسان اللہ خان

    ایک عہد ساز شخصیت (مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ) : تحریر احسان اللہ خان

    مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا وجود ملت اسلامیہ کے لیے قدرت کا عطیہ تھا۔ آپ کو قدرت نے بے شمار خوبیوں سے سرفراز فرمایا تھا اور آپ کی تمام تر خوبیاں و صلاحیتیں خدمتِ اسلام کے لیے وقف تھیں۔

    آپ 1919 میں ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں پنیالہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے ہی گاؤں سے کیا۔ میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول پنیالہ سے امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کیلئے دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے۔ ایک سال تک دارالعلوم دیوبند میں رہے اور بعد میں تعلیم مکمل کرنے کیلئے آپ جامعہ قاسمیہ مراد آباد تشریف لے گئے۔ 

    حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ نے سیاسی زندگی کا آغاز زمانہ طالبعلمی سے کیا۔ دوران تعلیم ہی میں آپ نے جمعیت علماء ہند میں شمولیت اختیار کیا۔ 1943 میں آپ تعلیم سے فارغ ہوگئے تو "ہندوستان چھوڑدو” کی تحریک جاری تھی۔ یہ تحریک انگریزوں کے دور کی بہت ہی اہم اور دور غلامی کی آخری متحدہ تحریک تھی۔ آپ ہی نے اس تحریک میں بھر پور حصہ لیا۔

    آپ 1944 کو ہندوستان سے واپس وطن آگئے۔ اور سرحد جمعیت پلیٹ فارم پر جدوجہد آزادی کی مہم میں مصروف ہوگئے۔ بے پناہ قربانیوں، صلاحیتوں اور بھرپور سیاسی سرگرمیوں کیوجہ سے جلد ہی حضرت مفتی صاحب جمعیت علماء سرحد کی مجلس عاملہ کے رکن اور آل انڈیا جمعیت علماء کے کونسلر منتخب ہوگئے۔

    قیام پاکستان کے بعد آپ نے ملتان کے سب سے بڑے دینی اور تعلیمی ادارے جامعہ قاسم العلوم میں مدرس کی حیثیت سے علمی زندگی کا آغاز کیا۔ یہاں پر حضرت مفتی صاحب شیخ الحدیث اور مفتی کے منصب پر فائز ہوگئے۔ افتاء کے سلسلے میں آپ کی شہرت اور عظمت ملک و بیرون میں تسلیم کی گئی۔ فقہی مسائل میں آپ کی باریک بینی، نکتہ آفرینی وسعت علمی اور بلند نظری آپ نے مخالفین بھی مان گئے۔ آپ نے چالیس ہزار سے زائد شرعی فتوے جاری کئے۔ جنہیں علمی اور فنی اعتبار سے آج تک کسی نے چیلنج نہیں کیا۔ حضرت مفتی صاحب کا شمار اسی صدی کے ممتاز ترین علماء کرام میں ہوتا تھا۔ آپ ایک بلند پایہ مفکر، نکتہ سنج فقہیہ، عمدہ مفسر، بہترین ادیب، محقق اور مورخ ہی نہیں تھے بلکہ قانوں و سیاست اور سائنس و فلسفہ پر عبور رکھتے تھے۔ حضرت مفتی صاحب کئی زبانوں کے ماہر تھے بالخصوص عربی، فارسی اور اردو ادب پر گہری دسترس حاصل تھی۔ حضرت مفتی صاحب کی شخصیت کا سیاسی پہلو بڑا تابناک اور شاندار تاریخی روایات کو اپنے اندر لئے ہوئے تھے۔ حضرت مفتی صاحب نے برصغیر کے تقسیم سے پہلے سیاست کی پرخار وادی میں قدم رکھا اور برطانیہ کے استعمار کے خلاف قومی آزادی کی جدوجہد میں بھرپور حصہ بھی لے لیا۔

     قیام پاکستان کے بعد جب سیاست اور معیشت پر مخصوص مفادات کے حامل برطانوی اقتدار کا پیدا کردہ طبقہ مسلط ہوگیا اور اسلام جمہوریت، انسانی حقوق اور معاشی آزادی کے داعی افراد اور جماعتوں پر قدغن لگادی گئی اور علماء کرام (وہ علماء کرام جو برصغیر کی سیاست کا اہم عنصر تھے) کا ملک کی سیاست سے اثر ختم کردیا گیا اور انہیں صرف اور صرف مساجدوں، مدرسوں اور خانقاہوں تک محدود کردیا گیا تو اس وقت حضرت مفتی صاحب پہلے ہی شخص تھے جو نہایت ناخوشگوار حالات، مالی وسائل اور پروپیگنڈوں سے تہی دست ہوتے ہوئے ملک میں علماء کی سیاست کو تسلیم کروانے سیاسی میدانوں میں علماء حق کا سکہ پھر سے رائج کیا اور پھر سے ملک میں اسلام کی بقاء قائم رکھنے کیلئے 1956ء میں سکندر مرزا کی صدارت میں دوران سیاسی سٹیج پر نہایت آہستگی اور توازن سے نمودار ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب ملک کی سیاسی عدم و استحکام اور افراتفری کا شکار تھا۔ سکندر مرزا نے وزارتوں کو اکھاڑ پچھاڑ کاسلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ امریکہ سے چند معاہدوں کی وجہ سے ملکی سیاست، معیشت، ثقافت اور معاشرت پر امریکی اثر و رسوخ بڑھتا جارہا تھا۔ نظام حکومت مکمل طور پر نوکر شاہی کے ہاتھوں جاچکا تھا۔ 

    1956ء ہی میں پاکستان کا پہلا آئین دستور ساز اسمبلی نے پاس کیا تھا۔ جس میں اسلام کا صرف اور صرف نام ہی استعمال کیا گیا تھا۔ حقیقی اسلام کی عکاسی اس سے نہیں ہوتی تھی۔ حضرت مفتی صاحب نے 1956ء کے درمیان میں علماء کا ملگ گیر کنونشن بلایا۔ جس مقصد یہ تھی کہ حقیقی اسلام کے حمایتی افراد جو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے اور پوری خلوص اور سرگرمی سے ملکی سیاست میں حصہ لیا جائے۔ اگرچہ یہ مفتی صاحب کا پہلا سیاسی اقدام تھا مگر اس کے نتائج بہت حوصلہ افزاء رہے اور اس کنونشن میں باقاعدہ جمعیت علماء اسلام کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس وقت شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری کو جمعیتہ علماء اسلام کا پہلا امیر منتخب کیا گیا جو ایک طویل سیاسی تجربہ رکھتے تھے۔ جمعیتہ علماء اسلام کی تاریخ چلتی رہی، ملک میں آئین بنتے رہے۔ ان کے بنوانے میں جمعیتہ اور حضرت مفتی صاحب نے نمایاں کردار ادا کیا۔ اور ایک وقت آیا کہ حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ مئ 1962ء میں صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ 

    حضرت مفتی سرحد (خیبرپختونخوا) کا زیراعلیٰ بننے کے بعد اسلامی روایات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی۔ حضرت مفتی صاحب نے امتناع شراب کے قوانین جاری کئے اور تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبہ سرحد (خیبرپختونخوا) میں شراب مکمل پابندی عائد کردی گئی۔ حضرت مفتی صاحب نے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے قرون اولیٰ کے درویش حکمرانوں کی یاد تازہ کی اور ان کی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں ایک دن بھی دفعہ 144 نہ لگا، جہیز پر پابندی، سرکاری اداروں میں قومی لباس کی تاکید سادگی کی اعلیٰ ترین مثالیں ہیں۔ جمعہ کی تعطیل کی سفارش، اردو کو سرکاری زبان قرار دینا ان کی حکومت کے ایسے کارنامے ہیں فراموش نہیں کئے جاسکتے۔ پاکستانی سیاست پہلی مرتبہ یہ روایات بھی حضرت مفتی صاحب نے قائم کی کہ جسکی اکثریت کی نمائندہ حکومت کو بلاوجہ برخواست کیا گیا تو انہوں نے بھی احتجاجاً اپنی حکومت کا استعفیٰ پیش کردیا۔ جب 1973ء میں بھٹو مرحوم نے مسلمہ جمہوری اقدار کو پامال کرتے ہوئے صوبہ سرحد اور بلوچستان کے گورنر برطرف کردئے اور بلوچستان کی کابینہ کو بھی سبکدوش کردیا تو حضرت مفتی صاحب نے بھٹو نے اس اقدام پر جرتمندی اور بے باکی سے صدائے احتجاج بلند کی اور وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ ذولفقار علی بھٹو کو یہ خیال نہ تھا کہ مفتی محمود رحمہ اللہ استعفیٰ دینگے۔ تو انہوں نے مفتی صاحب کو کہا کہ حضرت آپ تو ہمارے امام ہیں، آپ کو کسی نے نہیں چھیڑا، آپ نے استعفیٰ کیوں دیا ؟ آپ استعفیٰ واپس لیں، حضرت مفتی صاحب نے جواب دیا کہ پہلے ہمارے اس شکایات کا تدارک کریں جو استعفیٰ کا باعث بنی ہے۔ ذولفقار علی بھٹو نے کئ دن تک اس کا استعفیٰ منظور نہ کیا اور حضرت مفتی صاحب کو استعفیٰ واپس لینے پر مجبور کرتے رہے۔ مگر انہوں اصولی سیاست پر اپنے منصب کو قربان کردیا اور پاکستان کی سیاست میں روشن و تابندہ مثال قائم کی۔ ذولفقار علی بھٹو نے حضرت مفتی صاحب کو پیغام بھیجا اور ملاقات جی خواہش کا اظہار کیا لیکن مفتی صاحب نے یہ تجویز بھی مسترد کردی اور کہا کہ : ” ہم آئین کے پابند ہیں اور اسکی بالادستی کا حلف لیا ہے اسلئے غیر آئینی اقدامات کی حمایت یا است درست قرار دینا حلف کی خلاف ورزی ہے۔ وہ کوئی اور ہونگے جن کو اقتدار سے پیار ہے، میں ایسا نہیں کرسکتا "۔ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ وزارت اعلیٰ کو ٹھوکر ماردی اور یوں ممکن ہوا کہ انہوں نے وزارت اعلی سے کوئی سیای اور مادی فائدہ نہیں اٹھایا۔ سرکاری کار دفتر کیلئے ضرور استعمال کی جو اس کی ضرورت تھی، مگر کوئی تنخواہ اور مراعات حاصل نہیں کیں۔ یقیناً وزیراعلیٰ کے منصب کو عوام کی امانت کو جانا اور ان کی فلاح و بہبود کیلئے وقف کردیا اور یہ ایسا واقعہ ہے جس کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اقتدار چھوڑنا مشکل کام ہے۔ 1973ء کے آئین کو اسلامی بنانے میں حضرت مفتی صاحب کا بہت اہم کردار ہے۔ حضرت مفتی صاحب نے سیاسی حقوق کی بازیابی کے علاوہ آئینی سطح پر ہر کسی سے ٹکر لی۔ قومی اسمبلی سے7 ستمبر1974 کو قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں حضرت مفتی صاحب کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے اسمبلی میں قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر پر جو علمی جرح کی، وہ تاریخ کا ایک ناقابل فراموش حصہ ہے۔ 

    1977ء کی تحریک میں قبائلی عوام نے تحریک میں شامل ہونے کی پیش کش کی تو مفتی صاحب نے انہیں منع کیا اور فرمایا کہ اگر قبائلی تحریک میں آگئے تو وہ بندوقیں اٹھائیں گے بندوق سے شدت آئے گی اور میں شدت پسندی کا قائل نہیں۔ حضرت مفتی صاحب نے قبائلی رہنماؤں اور عمائدین کا رخ مسلح جدوجہد سے سیسی جدوجہد کی طرف موڑا، اس وجہ سے آج تک قبائلی عام نے علماء کرام اور جمعیتہ علماء اسلام پر اعتماد کرنے ہیں۔ جس کے جمعیتہ علماء اسلام کے تحت قبائلی عمائدین پر مشتمل "قبائلی جرگہ” ہی پر اثر پلیٹ فارم ہے۔ وزارتِ اعلیٰ کے منصب تک پہنچے اور بڑے بڑے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی موجودگی میں بھی نو سیاسی جماعتوں کے متحدہ محاز نے قیادت کی ذمہ داری بھی ان کو سونپ دی اور وہ پاکستان کے قومی اتحاد کے سربراہ منتخب ہوئے۔

    حضرت مفتی صاحب حج کے لئے روانہ ہوئے کراچی پہنچ کرایک علمی موضوع پرحضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی،حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی،حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید،حضرت مولانا مفتی احمدالرحمنؒ،مفتی محمد جمیل خان شہید،حضرت مولانا ڈاکٹرعبدالرزاق سکندرکی موجودگی میں ایک خالص فقہی مسئلے پر گفتگو کر تے ہوئے 14اکتوبر1980کواچانک سفرآخرت پرروانہ ہوئے۔

    Twitter / ‎@IhsanMarwat_786

    https://t.co/vCKLp37n27‎

  • خدا کا شکر ادا کرنا سیکھیں تحریر: نعمان سرور

    خدا کا شکر ادا کرنا سیکھیں تحریر: نعمان سرور


    اسٹریس ہائپر ٹینشن ڈپریشن ٹینشن آجکل اس طرح کے مسائل ہر انسان کو درپیش
    ہیں بڑے دکھ کی بات ہے ہمارے معاشرے میں نفسیات اور احساسات کو زیادہ
    اہمیت نہیں دی جاتی جب کہ ہر دوسرا انسان اپنے اندر ایک جنگ لڑ رہا ہے
    بعض اوقات کچھ یادیں تکلیفیں الجھنیں انسان کو اندر ہی اندر توڑ کر رکھ
    دیتی ہیں اور انسان پر مایوسی اور دل شکستگی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے
    انسان اپنی توجہ دنیا کی ہر چیز سے ہٹا کر ایک نقطے پر مرکوز کر دیتا وہ
    ہے  بے سکونی ,مایوسی ,نا امیدی ,چڑچڑا پن۔

    ڈپریشن کا زیادہ شکار حساس لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کو خوش کرتے کرتے اپنی
    زات کو فراموش کر دیتے ہیں روزمرہ کی زندگی میں دیکھیں تو ایک طالب علم
    سے لے کر نوکری کرنے والا انسان کسی نہ کسی ذہنی دباؤ کا شکار ہے کچھ تو
    کام کا تحاشہ لوڈ طویل دورانیے کی نوکری بھی اچھے خاصے انسان کو چڑ چیڑا
    بنا دیتی ہے۔

    کیا کبھی کسی نے سوچا کہ انسان ذہنی مریض کیوں بنتا ہے کیا وجہ ہے دن بدن
    انسان اپنی زندگی سے مایوس ہو جاتا ہے کبھی سوچا اذیت کی وہ کیا انتہا ہو
    گی کہ انسان اس حد تک بے بس ہو جاتا کہ وہ خودکشی تک کرنے پر موجود ہوتا
    ہے ہمارے معاشرے کی یہ بد قسمتی ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اس کو بیماری
    ہی نہیں سمجھتے ہمارے نزدیک بیماری وہی ہے جو نظر آجائے اور جب تک ہمیں
    یہ بات سمجھ آتی ہے بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

    عموماً دیکھا گیا ہے ڈپریشن عام انسان سے زیادہ پڑھے لکھے، مایوس، نوکری
    پیشہ، بیمار ،تنہائی میں مبتلا لوگوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ تو
    محبتوں سے محروم ہوتے ہیں احساس محرومی ان کی رگوں میں سرائیت کر جاتی ہے
    جو تکلیف اور ناامیدی کا باعث بنتی ہے یا یہ کہہ لیں کبھی کبھی انسانی
    رویے، ان کے کہے کچھ الفاظ درد کا باعث بنتے ہیں غیروں کے الفاظ انکے
    رویے بھی انسان کسی حد تک سہہ لیتا ہے مگر جب بات دل سے جڑے رشتوں کی
    ہوتی ہے تو وہ کٹ کر رہ جاتا ہے  یا جب اپنے چاہنے والوں سے رخصت ہونا
    پڑتا ہے تو انسان کے پاس بس ان کی یادیں ہوتی ہیں جو اس کا جینا محال کر
    دیتی ہیں کبھی کوئی حالات کا مارا ہوتا نفرت کا ڈسا ہوتا یا محبت کا لوگ
    کس تکلیف سے گزر رہے ہوتے ہیں کسی کو احساس نہیں ہوتا کیوں کہ ہمارے
    معاشرے میں درد پر مرہم رکھنے کی ریت نہیں بلکہ دوسرے کے دکھوں کو لوگ
    ہرا کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں  ایسا نفسا نفسی کا دور ہے کسی کی نیند
    ٹوٹے یا خواب دل ٹوٹے یا ہمت کسی کو کوئی پرواہ نہیں لوگ اپنی دنیا میں
    ہی مست رہتے۔

     ایسا بھی دیکھا گیا ہے کبھی کبھی انسان ڈپریشن خود پر بھی مسلط کر لیتا
    ہے وجہ ہوتی ہماری لاشعور میں پلنے والی تکلیفیں, یادیں,تلخیاں اور یہ
    پھر ہماری زندگی کے ہر حصے پر اثر انداز ہوتی ہیں  انسان نہ ٹھیک سے کوئی
    کام کر سکتا ہے نہ کوئی فیصلہ لے پاتا ہے بس مایوسی کے دلدل میں دھنستا
    چلا جاتا ہے۔

    بہت سی نامور شخصیات کے بارے میں سنا ہو گا دولت عزت شہرت  دنیا کی ہر
    آسائش ہونے کے باوجود اپنی زندگی سے مایوس ہو کر سکوں کی تلاش میں نشے کی
    لت میں پڑ جاتے یا اتنے بیزار ہو جاتے خودکشی پر مجبور ہو جاتے اس طرح کی
    تمام برائیوں کی جڑ  ایمان کی کمی ہے انسان در بدر سکون کی تلاش میں رہتا
    ہے مگر انسان یہ سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے کہ سکون کا تعلق دل سے ہوتا ہے
    دل اس کا مطمین ہو گا تو سکون خود بخود اس کے اندر سرایت کر جائے گا مگر
    سوال یہ ہے کہ دل مطمئن کیسے کریں تو اس کا آسان جواب بیشک اللّٰہ کے ذکر
    میں ہی سکون ہے یعنی اللّٰہ پاک کو یاد کرنا اسکی عبادت کرنا اس کے ذکر
    کو اسکے احکامات کو اپنی روح میں ڈھالنا ہے۔ جس سکون کو ہم دنیا بھر میں
    ڈھونڈنے پھرتے ہیں  وہ تو ہماری شہہ رگ سے بھی قریب تر ہے۔

     اگر آپ اپنی زندگی میں ﻣﺜﺒﺖ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻓﮑﺮ ﺍﭘﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻋﺎﺩﯼ بن جائیں ﺗﻮ کسی
    قسم کا ﺩﺑﺎﻭٔ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮕﺎﮌ ﺳﮑتا منفی سوچوں خیالات سے دور رہیں
    ہر حال میں اللّٰہ پاک کا شکر ادا کریں اپنے لیے جینا سیکھیں یہ آپ خود
    پر منحصر ہے کہ آپ  اپنی ذہنی پریشانی سے خود کو اس سے کیسے باہر نکالتے
    ہیں یہ آپ نے طے کرنا کہ آپ کے اندر کون سے صلاحیت ہے جسے بروئے کار لا
    کر خودکو ہلکا پھلکا محسوس کر سکتے ہیں جیسے کہ اچھی کتابیں پڑھیں
    باغبانی کریں وغیرہ وغیرہ یا اپنے والدین سے بات کریں نہیں ہیں تو کسی
    قریبی دوست سے اپنے دل کی بات کریں یقین کریں آپ واقعی خود کو ہلکا پھلکا
    محسوس کریں گے اپنے اندر خوشگوار تبدیلی محسوس کریں گے۔

      کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے میں خود بہت مایوس ہو جاتا ہوں شدید ڈپریشن
    ہوتا ایسا لگتا جیسے سر درد سے پھٹ جاۓ گا ایسے میں  سورہ رحمن کی تلاوت
    سنتا ہوں سکون جیسے نس نس میں اتر جاتا ہے۔کبھی ایسا بھی ہوتا میں  اپنے
    خیالات کو اپنی پریشانیوں کو کاغذ پر اتار کر دل ہلکا کر لیتا ہوں دنیا
    میں شاید میرے جیسے بے شمار لوگ ہوں کہ جن کو سنے والا سمجھنے والا کوئی
    نہیں ہوتا تو انکے پاس بس کاغد اور قلم کا سہارا ہوتا۔ یہ میرا ذاتی
    تجربہ ہے اور میں نے بہت حد تک فضول سوچنا اور ٹینشنز پالنا ختم کر دی
    ہیں بجائے ہم منفی ردعمل اپنائیں مثبت چیزیں کر کے دیکھیں بہت حد تک بہتر
    محسوس کریں گے۔۔!!

    ٹویٹر اکاؤنٹ

    ‎@Nomysahir

  • خاتم البنین حضرت محمد ﷺ کی بعثت کو ساڑھے چودہ سو سال ہوگیۓ ہیں  تحریر : نواب فیصل اعوان

    خاتم البنین حضرت محمد ﷺ کی بعثت کو ساڑھے چودہ سو سال ہوگیۓ ہیں تحریر : نواب فیصل اعوان

    ۔
    حضور کریم ﷺ کی سیرت طیبہ پہ لاکھوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا ۔
    خاتم النبین حضور پاک رسول اللہ ﷺ سے محبت ہی صرف وہ چیز ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں فلاح کی ضمانت اور اللہ رب العزت کی محبت پانے کاذریعہ ہے ۔
    اسی طرح کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔
    فرمانِ نبویﷺ ہے
    ” تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو ”
    چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اسلام میں حرمت اور ناموس کے اعتبار سے کسی نبی میں کوئی فرق نہیں ۔“
    تمام انبیاء میں کسی بھی نبی پر کوئی زبان درازی یا گستاخی کے مرتکب کی سزا قتل کے علاوہ کوئی نہیں ہے ایسے شخص کا سر قلم کر دیا جاۓ جو خاتم النبین حضرت محمد ﷺ یا اللہ کے کسی بھی نبی یا پیغمبر کے بارے میں زبان درازی کرے ۔
    یہ تو ہر مسلمان ہی جانتا ہوگا کہ
    حضور نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ تمام مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ اورروشن چراغ دوسرے لفظوں میں مشعل راہ ہے ۔
    ہمارے دین اسلام کی تعلیمات نہایت سادہ، واضح اور عام فہم ہیں، ان میں کسی قسم کی پیچیدگی کا گزر نہیں ہے۔
    ان تعلیمات و ہدایات کا مکمل نمونہ آنحضرتﷺ کی ذات گرامی تھی فلہٰذا جب تک آپﷺ کا اسوہ حسنہ ہمارے سامنے نہ ہو اس وقت تک نہ ہم اسلام کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی صحیح طور پر اس پر عمل کر سکتے ہیں۔
    مسلمانوں کے لیے یہ باعث سعادت ہے کہ نبی کریمﷺ کی سیرت کے تقریباً ہر پہلو پر علمی کام ہو چکا ہے۔ سیرت النبیﷺ کے کہا کہنے کہ جب وہ بولیں تو ہونٹوں سے پھول جھڑیں کہ جب وہ دیکھیں تو انسان منجمد ہو جاۓ خاتم النبین محمد ﷺ ہمارے بڑی شان والے ۔
    اس وقت سیرت نبوی ﷺ کا معالعہ اس لیۓ بھی ضروری ہے کہ غیر مسلم ہمارے پیارے آقا و کریم خاتم النبین ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق رہنماٸ حاصل کر سکیں وہ جان سکیں کہ ہمارے آقا کی زندگی کیسی تھی ۔؟
    قرآن مجید میں ہے کہ
    ” آپ کیلۓ ہمارے نبی ﷺ کی زندگی اسوہ حسنہ ہے ۔“
    قرآن کریم میں اس بات کا بھی سختی سے ذکر کیا گیا ہے کہ
    ” ہمارے نبی کی اطاعت کرو “
    خاتم النبین حضور کریم آقا مرسلین نانا حسنؓ و حسینؓ حضرت محمد مصطفی کی اطاعت ہر مسلمان پر لازم و ملزوم ہے اس کیلۓ تمام مسلمانوں کو سیرت نبوی کا بغور مطالعہ کرنا چاہیۓ تاکہ وہ جان سکیں کہ حضور کو کونسی چیز پسند تھی کس سے آقا و مولا کریم نے روکا تاکہ آقا کریم کی زندگی کی روشنی میں کامل زندگی بسر کی جا سکے ۔
    اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ
    اے مومنوں نبیﷺ کی اطاعت کرو
    یہاں اطاعت سے مراد یہ ہے کہ نبی کریم خاتم النبین حضور کریم ﷺ کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا جاۓ آپﷺ کی زندگی مکمل ضابطہ حیات اور مشعل راہ ہے ۔
    مسلمان سیرت رسول خاتم النبین کی زندگی کے ہر پہلو میں رہنماٸ پاٸیں ۔
    حضور کریم ﷺ کی عادات و اطوار کا مطالعہ کیا جاۓ تاکہ ایک مکمل کامل زندگی جی جا سکیں کیونکہ کاملیت اس وقت ہوگی جب دل میں حضورکریم خاتم النبین ﷺ کی محبت انتہا کو ہوگی تبھی ایک انسان کامل انسان بن سکتا ہے اور یہی کاملیت انسان کو حضور پاک ﷺ کی کچہری نصیب کرا سکتی ہے اور نبی کریم ﷺ کی شفاعت رب سے ملا سکتی ہے ۔
    اللہ آپ آپکو مجھے سب مسلمانوں کو حضور کریم خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کا فرماں بردار بناۓ اور ان کی زندگی کے رہنما اصولوں پہ اور متعین کردہ حدود و قیود پہ زندگی گزارنے کی توفیق دے آمین ..

    ‎@NAwabFebi

  • جنگ احد ‏تحریر سکندر کھوسہ

    جنگ احد ‏تحریر سکندر کھوسہ

    ۔
     یہ مقام ، شمالی مدینہ میں ہے ، جہاں احد کی جنگ 3 ہجری (624 عیسوی) میں ہوئی۔  یہ مسلمانوں اور کافر مککین افواج کے مابین دوسری جنگ تھی۔  ابتدائی فتح مسلمانوں کے لیے شکست میں بدل گئی جب کچھ جنگجوؤں نے اپنی پوزیشن چھوڑ دی ، غلطی سے یہ سمجھتے ہوئے کہ جنگ ختم ہو گئی ہے۔
     ایک سال قبل بدر کی جنگ میں ذلت آمیز شکست کے بعد ، مکہ کے قریش نے مسلمانوں سے دوبارہ لڑنے اور انتقام لینے کے لیے ایک عظیم فوج جمع کرنے کی تیاری کی۔  انہوں نے 300 اونٹوں ، 200 گھوڑوں اور 700 کوٹ ڈاک کے ساتھ 3000 سپاہیوں کی فوج جمع کی۔  بدر میں مقتول سرداروں کی بیویاں اور بیٹیاں فوج کے ہمراہ قاتلوں کے مارے جانے کا تماشا اپنی آنکھوں سے دیکھتی تھیں۔  ابو سفیان مکہ فوج کا کمانڈر انچیف تھا اور اس کی بیوی ہند نے خواتین کے سیکشن کی کمان کی۔  دونوں اس وقت غیر مسلم تھے اور اسلام کے سخت دشمن تھے۔  بائیں اور دائیں طرف کا حکم بالترتیب عکرمہ ابن ابی جہل اور خالد بن ولید نے دیا۔  عمرو بن العاص کو گھڑ سوار کا کمانڈر نامزد کیا گیا اور ان کا کام گھڑ سوار پروں کے درمیان حملے کو مربوط کرنا تھا۔  (تینوں بعد میں مسلمان ہوئے اور اسلام کے عظیم جرنیل بن گئے)
     نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف 700 مسلمانوں کی فوج کے ساتھ کوہ احد کی وادی کے لیے مدینہ چھوڑا اور اپنی فوج کو جنگ کے لیے کھینچ لیا۔  جنگ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 50 تیراندازوں کو عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے ماتحت رکھا تھا۔  اس نے (ﷺ) انہیں سختی سے حکم دیا کہ اگلے احکامات تک وہیں رہیں ، جو بھی شرط ہو۔  اگر وہ پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ کریں تو وہ دشمن کو روکیں گے۔
     دونوں لشکر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے اور ایک شدید جنگ شروع ہوئی۔  مسلمان سپاہیوں نے اپنے حملے کو کافروں کے گیارہ معیاری علمبرداروں پر مرکوز رکھا یہاں تک کہ وہ سب ختم ہو گئے۔  جیسے ہی دشمن کا معیار زمین پر گرتا گیا ، مسلمان سپاہیوں نے اپنے آپ کو دشمن کے خلاف پھینک دیا۔  ابو دجانہ (رضي اللہ عنه) اور حمزہ (رضي الله عنه) نے بڑی بے خوفی کے ساتھ جنگ ​​کی اور میدان جنگ میں ان کی بہادری کے کارنامے مسلم فوجی تاریخ میں افسانوی بننے والے تھے۔
     حمزہ (رضی اللہ عنہ) کے نقصان کے باوجود ، مسلمان ان کافروں پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے جنہیں ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑا ، بھاگنے لگے۔  کافر عورتیں بھی بکھر گئیں جب کچھ مسلمان فوجیوں نے پیچھا کیا۔
     یہ سمجھی ہوئی فتح کے اس مقام پر تھا کہ واقعات نے بے نقاب ہونا شروع کیا۔  تیر اندازوں کو جنہیں اپنے بھائیوں کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی پیغمبر کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کی اور یہ سمجھتے ہوئے کہ جنگ ختم ہوچکی ہے اپنے اسٹیشنوں کو چھوڑ دیا۔  چالیس پچھلے پہاڑ پہاڑ سے اترے اور مسلمانوں کو دشمن کے جوابی حملے کا شکار کر دیا۔
     خالد بن ولید نے دیکھا کہ اچانک خلاء پیچھے کے محافظ کے غائب ہونے سے پیدا ہوا اور اس کے گھڑسواروں نے پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ کیا ، اس عمل میں بہت سے لوگ مارے گئے۔  جب مسلمانوں نے اپنے آپ کو گھرا ہوا دیکھا تو وہ گھبراہٹ اور انتشار سے دوچار ہو گئے اور ایک مربوط منصوبہ بنانے میں ناکام رہے۔
     دشمن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اپنا راستہ لڑا جسے پتھر سے مارا گیا اور آپ کے پہلو میں گر گیا۔  اس کے سامنے کے دانتوں میں سے ایک کاٹا گیا ، اس کا نچلا ہونٹ کاٹا گیا ، اور اس کا ہیلمٹ خراب ہو گیا۔  جب دشمن کے ایک سپاہی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تلوار پھینکی تو اس نے اپنی ہڈی کو آنکھ کے نیچے اور دو کو پکڑ لیا۔
    Twitter Account ‎@SikandrKhosa

  • ربیع الاول کی فضیلت اور ہماری کچھ ذمدارياں تحریر:ہارون خان جدون

    ربیع الاول کی فضیلت اور ہماری کچھ ذمدارياں تحریر:ہارون خان جدون

    ربیع الاول کی فضیلت اور ہماری کچھ ذمدارياں
    عربی زبان میں ربیع کے معنی بہار کے ہیں اور اول کے معنی پہلا ہے بہار ہے

    یعنی ربیع اول کا مہینہ اسلامی کلینڈر کے حساب سے تیسرا مہینہ ہے اس مہینے کی مسلمانوں کے نزدیک بہت زیادہ اہمیت ہے کیوں کے اس مہینے میں 12 ربیع الاول کے دن آقا نامدار حضرت محمد  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم تشریف لائے.

     حضرت محمّد  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم اللہ تمام جہانوں کے لئے رحمت العالمین ہیں اور وہ اللہ  کے آخری نبی ہیں اور انکے بعد کوئی نبی نہیں آے گا مسلمان ہر سال میں اس مہینے کو بڑی عقیدت کے ساتھ مناتے ہیں خوشی کا اظہار کرتے ہیں اپنے گھروں کو سجاتے ہیں اور ہر طرف چراغاں کیا جاتا ہے گھروں اور مساجد میں عیدمیلادالنبی کی محفلیں کا انقاد کیا جاتا ہے ہمیں بلکل اسی طرح ہے سال اس دن کو خوشی کے ساتھ منانا چاہیے اور اپنے والدین سے پوچھنا چاہیے کے ہم اس دن کو کیوں مناتے ہیں اور والدین کو اس دن کی اہمیت اپنے بچوں کو بتانی چاہیے اور ہم سبکو حضرت محمد  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی سنتوں پر عمل کرنا چاہیے اور انکے بتاۓ ہوے طریقوں پر چل کر اپنی زندگی گزارنی چاہیے کیوں اللّه کے رسول ﷺ کے آنے سے جہالت کا خاتمہ ہوا اور اسلام کا بول بالا ہوا سرور کائنات دنیا میں تشریف نا لاتے تو ابھی تک دنیا میں اندھیرا ہی ہوتا اور دنیا آج تک اندھیرے میں ہی ہوتی انکے آنے سے دنیا میں اجالا ہوا اور حضرت محمد  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ہمیں سیدھا رستہ دکھایا آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی زندگی ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے

     آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم پر اللہ پاک ہر وقت رحمتیں نازل فرماتے ہیں

    آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم پر فرشتے ہر وقت درود بھیجتے ہیں

    آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم سے آگے بڑھنے کی اہل ایمان کو اجازت نہیں ہے

    آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی اطاعت میں جنت ہے اور دنیا اور آخرت کی بہتری ہے

    جہاں اللہ پاک نے ہمیں آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی اطاعت کا حکم دیا ہے وہاں ہی ہمیں آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم سے محبت بھی لازم ہے

    اللہ پاک نے ہمیں آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی اتباع کا حکم دیا ہے کیوں کے دنیا میں انکی پیروی سے ہی نجات ہے

    پوری کائنات کا وجود انکی نسبت سے ہے اگر آپ دنیا میں نا آتے تو دنیا میں کچھ نا ہوتا میرے اور آپ کے نبی حضرت محمد  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم آخری نبی ہیں آپ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے یہی ہمارا ایمان اور عقیدہ ہے اسی عقیدے کی نسبت سے اللہ پاک کل روز محشر ہمارے لئے آسانی کرے گا کیوں ہم تو خطاکار ہیں گناہگار ہیں بس یہی آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی شفاعت کا واحد آسرا ہے ہمارے پاس، ہمیں چاہیے کے ہم کثرت سے آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم درود و سلام بھیجیں.

     ارشاد باری تعالی ہے جس نے میرے محبوب محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی۔۔

    رسول اللہ ﷺ کی پاکیزہ اور شفاف زندگی کو سیکھ کر اور اس پر عمل کر کے ہی دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اپنی ساری زندگی کو آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی سیرت کے سانچے میں ڈال دینا ہی اصل محبت ہے

    اگر اللہ اور اسکے رسول ﷺ سے سچی محبت کے دعوےدار ہیں تو پھر اپنی اپنی زندگی کو رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق گزاریں، اچھے اعمال کریں، صلح رحمی اختیار کریں، یتیموں کا خیال رکھیں، حقوق العباد کا خیال رکھیں اپنے ارد گرد لوگوں کی مشکلات کو دیکھ کر انکی مدد کریں، کسی کی حق تلفی نا کریں، کسی کو تکلیف نا دیں، اپنے والدین کے ساتھ اچھا برتاو کریں اور لوگوں تک آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم  کا دین پنچاہیں کیوں کے اب امت میں دین کا کام ہم امتیوں پر فرض ہے

    اگر ہم یہ کام کریں گے تو ہماری اپنی دنیا اور آخرت سنورے گی اور ساتھ ساتھ دوسروں دین سے بٹکے ہوے لوگوں کا بھی بلا ہوگا

    اللہ پاک آپکو اور مجھے آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی اطاعت اور پیروی کرنے کی توفیق عطاء فرماۓ اور ہمارا خاتمہ ایمان پر کرے اور مرتے وقت كلمہ نصیب کرے ۔۔۔آمین

    @ItzJadoon

  • پیرِکاملﷺ  تحریر: فضیلت اجالہ 

    پیرِکاملﷺ تحریر: فضیلت اجالہ 

    ”پیرکامل وہ انسان جس میں کاملیت ہوتی ہے۔ کاملیت یعنی دینی و دنیاوی ہر لحاظ سے مکمل، جس کی عبادات خالص رضائے الہی کیلیے ہوتی ہیں، جو نیکی و پارسائ کا منہ بولتا ثبوت ہو، جس کی ہر دعا کو قبولیت کی سند حاصل ہو، جس کے کلام کی تاثیر سے پتھر موم ہو جائیں، جس کو الہام نہیں وجدان حاصل ہو، ایسا انسان کامل جس پر خواب نہیں وحی اترتی ہو اور وحی بھلا عام انسانوں پر کہاں اترتی ہے 

    سائنس جتنی مرضی ترقی کر لے ،انسان شہرت و کامیابی کی بلندیوں کے عروج پر بھی پہنچ جائیں پھر بھی کہیں ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ پیر کامل کی ضرورت محسوس کرتا ہے، ہر زی روح کی کتاب حیات میں کہیں ایسا ورق ضرور کھلتا ہے جب اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے لبوں سے نکلی ہر دعا اور دل سے نکلی ہر صدا بے اثر ہے، اس کے پھیلے ہوئے ہاتھ خدائے بزرگ و برتر کی نعمتوں و رحمتوں کا رخ اپنی طرف موڑنے سے کاثر ہیں، اس لمحے روح و دل کا وہ تعلق جو خدا سے ہے وہ ٹوٹتا محسوس ہوتا ہے تو پھر انسان پیر کامل کی تلاش کی جستجوں لیے ایسے انسان کی تلاش میں دوڑتا ہے جو اسکے لیئے خدا کے سامنے گڑ گڑائے، جس کی دعائیں رد نا ہوتی ہوں جو الہام نہیں وجدان رکھتا ہو 

    پیرکامل کی یہ تلاش آج کی بات نہیں یہ ارتقاء انسانی سے جاری ہے ۔ ایک ایسی تلاش جس کی خواہش اللہ خود قلب انسانی میں پیدا کرتا ہے۔ انسان کی یہی تلاش ہی تھی جو اسے ہر زمانے میں اتارے جانے والے پیغمبروں کی طرف لے جاتی رہی، جس نے انسانوں کو پیغمبروں پہ یقین کا راستہ دکھایا۔

    انسان کی فلاح و بہبود کیلیے بھیجے گئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں میں سے خدائے برتر کا ہر پیغمبر کامل تھا مگر پیرکامل صرف ایک ،جس کو بھیجنے کا بعد خدا نے سلسلہ نبوت کا اختتام فر مادیا، جسے رحمت العالمین کا خطاب دیا، جس سے دو جہاں کی تاریکیوں نے روشنائی پائی۔جس سے اپنے تو اپنے غیروں نے بھی شفا حاصل کی،، جس کے جیسا کوئ دوسرا تو کیا انکا سایہ بھی تخلیق نا ہوا 

    رخ مصطفی ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ

    نہ ہماری بزم خیال میں نہ دکان آئینہ ساز میں،

     جس کی امت کو تمام امتوں کا سردار کہا گیا ہو کیا اس امت کو کسی اور پیر کامل کی ضرورت ہو سکتی ہے؟  

    پیر کامل صرف میرے نبی کی زات ہے نا ان سے پہلے نا انکے بعد کوئ ایسی ہستی ہو گی جسے محبوب خدا سے بڑھ کر کاملیت کا درجہ دیا جائے ۔

    رسول اللہ کے ہوتے ہوئے کسی اور پیر کی تلاش کیوں؟ جب ہم نبی آخر الزماں کے امتی ہیں ختم الرسل کے بیعت شدہ ہیں تو پھر کسی اور کی بیعت کیا ضرورت؟

     دین اسلام ہمیں توحید و اخوت کا درس دیتا ہے، جب تمام مسلمانوں کے لیے ایک اللہ، ایک آخری رسول ،ایک آخری کتاب ایک ہی سنت ہے تو پھر اس راستے کو چھوڑ کر فرقوں، گروہ بندیوں اور نت نئے راستوں کی تلاش کیوں؟

    کیا ہمارے نبی کا کوئ فرقہ تھا؟ وہ تو رحمت اللعالمین ہیں،وہ ہر فرقے سے بالاتر ایک مسلمان تھے جو صراط مستقیم کے راہی تھے جنہوں نے ہر زی روح کو صرف ایک خدا اور دین اسلام کا پیغام دیا ،جو محسن انسانیت ہیں جنہوں نے ہمیشہ یہ سیکھایا کہ خدا کی طرف جانے کا راستہ صرف ایک ہی ہے اگر سیدھے راستے پہ چلیں گے تو جنت اور اگر سیدھے راستے کو چھوڑ دیں گے تو جہنم 

    صراطِ مستقیم کا درس دیتے ہوئے میرے نبی نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں فرمادیا ہے،کہ جس کام کا اللہ حکم دے وہ کرو اور جس سے روکے اس سے رک جاؤ ۔ آقائے دوجہاں حضرت محمد مصطفیٰ صلی علیہ وسلم قرآن مجید کی عملی تفسیر ہیں جس میں کوئ ابہام نہیں ہے، کسی چیز کو کسی بات کو، کسی شریعت کو پردے میں نہیں رکھا گیا ہر چیز کو ہر مسلے کو کھول کر بیان کیا گیا ہے،

    آپ کی زات مبارکہ وہ واحد زات ہے جسے ”دانائے سبل مولائے کل ختم الرسل” کے لقب سے نوازا گیا۔

    ذات محمدی ﷺ ابر رحمت کی مانند ہے ہے جس نے عرب وعجم کے مردہ دلوں کو جلا بخشی ، ہم پہ تو احسان عظیم کیا گیا ہے کہ ہم پیدا ہی انکی امت میں کیئے گئے ہیں ،ہمارے لئیے تو راہ حیات پہلے سے مقرر فرما دی گئی ہے کہ

    راہ ھدائت کی تلاش ہے تو قرآن سے مدد لیجیے درگاہوں سے نہیں، 

    دعا قبول نہیں ہوتی تو درباروں اور تعویزوں کا سہارا ڈھونڈنے کی بجائے اللہ سے تعلق مظبوط بنائیں، الفاظ نہیں مل رہے تو بھی بس ہاتھ پھیلا دیجیے وہ تو شہ رگ سے بھی قریب ہے وہ تو بن کہے بھی جان لیتا ہے اور اگر پھر بھی وہ آرزو پوری نہیں ہو رہی تو صبر کر لیجیے کہ اسی میں بہتری ہے 

    زندگی کی سمجھ نہیں آرہی تو اسوہ حسنہ سے مدد لیجیئے ۔

    ولی اللہ، اولیائے اکرام، شہداء، صالحین، بزرگان دین، پیر، فقیر سب سے عقیدت رکھیں سب کا احترام بھی کریں لیکن مدد صرف اس زات سے مانگیں جو وجہ تخلیق کائنات ہیں۔ اطاعت و بندگی صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کریں، کیونکہ انہوں نے جو کچھ ہم تک ہم پہنچایا اس میں سے ایک لفظ بھی انکا خود کا شامل کردہ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ احکامات ہیں ۔

    نبی ختم المرسلین کی زات مبارکہ نا صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی باعث شفاعت و نجات ہے، آپ کی مدح سرائ میرے حقیر الفاظ کے بس میں نہیں قصہ مختصر آپ ﷺ کی سوانحہ حیاتی کا ہر لمحہ ہر پہلو نوح انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ اور سراج منیر ہے جس سے ہر دور میں ہر کوئ ہر شعبۂ زندگی سے متعلق فیض حاصل کر سکتا ہے ۔

    تھکی ہے فکر رساں ، مدح باقی ہے 

    قلم ہے آبلہ پا، مدح باقی ہے 

    ورق تمام ہوا ، مدح باقی ہے 

    اورعمر تمام لکھا، مدح باقی ہے

        @_Ujala_R

  • صبر و تحمل اور عفو و درگزر کا دامن تھامنے والا کبھی شرمندہ نھیں ہوتا، یغورعطاری

    صبر و تحمل اور عفو و درگزر کا دامن تھامنے والا کبھی شرمندہ نھیں ہوتا، یغورعطاری

    گوجرانوالہ: دعوت اسلامی کے تحت نجی میرج ہال اعوان چوک میں اجتماع منعقد ھوا جس میں رکن شوری حاجی یعفور عطاری نے خطاب فرمایا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ انسان کے اچھے اخلاق، نرم گفتار، اور ستھرے کردار کی وجہ سے معاشرے میں اس کی عزت ہوتی ہے۔آسامی معاشرے میں بہترین اخلاق اپنانے پر بہت زور دیا گیا ہے۔اگر انسانی رویے بہتر ہونگے تو معاشرے میں بہتری آئے گی۔نرم لہجے و انداز کے سبب عزت میں اضافہ ہوتا ہے۔صبر و تحمل اور عفو و درگزر کا دامن تھامنے والا کبھی شرمندہ نھیں ہوتا۔گھریلو، سماجی اور معاشرتی مسائل کو اچھے اخلاق سے حل کیا جا سکتا ہے۔دوسروں کی عزت کرنے والا خود بھی عزت پاتا ہے۔ہر انسان عزت کا طلبگار ہے آپ جس کو عزت دینگے وہ آپکی عزت بھی کریگا۔اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ دوسروں کی عزت کرو، کمزوروں کی مدد کرو، جو قطعہ تعلقی کرے اس سے تعلق جوڑو، جو محروم کرے اسے عطا کرو، جو ظلم کرے اس معاف کر دو۔اس سے بہترین معاشرہ وجود میں آتاہے۔انسان کی سوچ تعمیری ہونی چاہیے۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی بہت لازم ہے۔جو دوسروں کے لیے سکون و خوشی کا سبب بنتا ہے اللہ پاک اس سے راضی ہوتا ہے۔اس اجتماع میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے بلڈ کیمپ بھی لگایا گیا جس میں دعوت اسلامی کے کارکنان نے اپنا خون عطیہ کیا۔اس اجتماع میں مولانا یعقوب عطاری، مولانا خوشی مدنی ،جہانزیب عطاری اور فیصل عطاری نے بھی شرکت کی آخر میں ملک و قوم کی سلامتی کے لیے دعا کی گئی۔

  • نماز کی اہمیت  تحریر مدثر خورشید

    نماز کی اہمیت تحریر مدثر خورشید

    نماز اسلام کا اہم ترین رکن ہے، نماز کو دین کا ستون بھی کہا گیا، نماز مومن اور کافر کے درمیان فرق کرتی ہے، نماز کا قرآن میں سینکڑوں جگہ اور احادیث میں تو ہزاروں بار ذکر آیا ہے،

    چند آیات اور احادیث پیش خدمت ہیں،

    جو بے دیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں ، اور نماز قائم کرتے ہیں ، اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا اس میں سے ( اللہ کی خوشنودی کے کاموں میں ) خرچ کرتے ہیں، بقرہ 3

    نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو ، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو

    بقرہ 43

    اور صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو ۔ نماز بھاری ضرور معلوم ہوتی ہے ، مگر ان لوگوں کو نہیں جو خشوع ( یعنی دھیان اور عاجزی ) سے پڑھتے ہیں، بقرہ 45

    اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو ، اور ( یاد رکھو کہ ) جو بھلائی کا عمل بھی تم خود اپنے فائدے کے لیے آگے بھیج دو گے اس کو اللہ کے پاس پاؤ گے ۔ بیشک جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے ۔ بقرہ 110

    اور تم جہاں سے بھی ( سفر کے لیے ) نکلو ، اپنا منہ ( نماز کے وقت ) مسجد حرام کی طرف کرو ۔ اور یقینا یہی بات حق ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے آئی ہے ۔ ( ٩٨ ) اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بے خبر نہیں ہے ۔ بقرہ 149

    اے ایمان والو ! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو ۔ بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے بقرہ 153

    یہ تو چند آیات تھیں اس کے علاوہ بے شمار آیات ہیں اب چند مشہور احادیث ملاحظہ فرمائیں،

    آپ نے فرمایا کہ عصر کی نماز جلدی پڑھ لو۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی، اس کا نیک عمل ضائع ہو گیا۔ صحیح بخاری 553

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، آدمی اور شرک و کفر کے درمیان ( فاصلہ مٹانے والا عمل ) نماز چھوڑنا ہے ، مسلم 247

    سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  کہتے ہیں کہ رسول اللہ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:  میرا یہ ارادہ ہے کہ میں جوانوں کو جلنے والی لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں، پھر میں ایک آدمی کو حکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور خود نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے پیچھے چلا جاؤں اور ان سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں۔ اللہ کی قسم! اگر ان میں سے کسی کو یہ پتہ چل جائے کہ اسے نماز میں حاضر ہونے پر گوشت والی اچھی سی ہڈی یا دو کھر ملیں گے تو وہ ضرور آئے گا، اور اگر ان کو پتہ چل جائے کہ اس نماز میں کتنا اجر وثواب ہے تو یہ ضرور حاضر ہوں، اگرچہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے،

    مسند احمد 2468

    تمام آیات اور احادیث کو لکھنا ناممکن ہے لیکن آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کتنی سخت وعید ہے نماز چھوڑنے پہ لہذا ہمیں کسی بھی حالت میں نماز نہیں چھوڑنی چاہیئے، یہ سب شیطان کا بہکاوے ہیں کہ کل سے شروع کروں گا لیکن کل کل کرتے سالوں بیت جاتے ہیں،

    اگر ہم بستر سے اٹھ کر نماز کے لیئے مسجد نہیں جا سکتے تو ہم کیسے امید لگا سکتے ہیں کہ ہم مر کے سیدھے جنت میں جائیں گے؟ تمام بہن بھائیوں سے گزارش ہے کہ کل نہیں بلکہ آج اور ابھی سے نماز شروع کریں اور اس کا آسان حل مجھے یہ نظر آیا آپ بھی آزمائیں ان شاء اللہ آپ بھی نمازی بن جائیں گے میرا آزمودہ عمل ہے کہ جب بھی اذان کی آواز سنیں اسی وقت سب کام چھوڑ کر صرف وضو کر لیں، جب آپ کی یہ عادت بن جائے گی تو یقین کیجیئے نماز آسان ہو جائے گی لیکن کرنا یہ ہے کہ اذان سنتے ہی موبائل فون رکھ دیں سارے کام چھوڑ دیں اور وضو بنا لیں بس

    کیپ ٹاؤن ساوتھ افریقہ

    @Mudasir_SA 

  • عفو و درگذر  تحریر   محمد آصف شفیق

    عفو و درگذر تحریر   محمد آصف شفیق

    عفوودرگزر اللہ رب العالمین کی پسندیدہ بندوں کی صفتوں میں  سے ایک صفت  ہے ,اللہ رب العالمین قرآن کریم میں  فرماتے ہیں

    وَ مَنْ اَحْسَنُ  قَوْلًا مِّمَّنۡ دَعَاۤ  اِلَی اللہِ وَ عَمِلَ  صَالِحًا وَّ قَالَ  اِنَّنِیۡ مِنَ الْمُسْلِمِیۡنَ ﴿۳۳﴾   وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ  وَلَا السَّیِّئَۃُ ؕ اِدْفَعْ  بِالَّتِیۡ  ہِیَ  اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَبَیۡنَہٗ  عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ  وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ ﴿۳۴﴾   وَمَا یُلَقّٰہَاۤ  اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا ۚ وَمَا یُلَقّٰہَاۤ  اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِیۡمٍ ﴿۳۵﴾ وَ اِمَّا یَنۡزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیۡطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ ؕ اِنَّہٗ  ہُوَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ ﴿۳۶﴾      حٰم اسجدہ(34۔36)

    نیکی اور بدی  یکساں نہیں ہیں۔  تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو، تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ تمہارا جگری دوست بن گیاہے۔   یہ صفت نصیب نہیں ہوتی  مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں ، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بٹرے نصیبے والے  ہیں۔   اور اگر تمہیں شیطان کی جانب سے کوئی وسوسہ پیدا ہو تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔ بےشک وہ سنتا  اورجانتا ہے .   

     

    پر امن زندگی ہر معاشرہ کی اولین ضرورت ہے، اس کے لئےقانون بنائے جاتے ہیں، پھر ان قوانین کے نفاذ کے لئے محکمے بنائے جاتے ہیں، لیکن آج کےجدید اور اپنے آپ کو مہذب کہلانے والے معاشروں میں قانون تو نظر آتا ہے لیکن سکون نظر نہیں آتا۔ اس سکون کی تلاش میں افراد  ادویات اور اس سے بڑھ کر منشیات کے عادی بن جاتے ہیں،دنیا کے اجمالی حالات پر نظر ڈالیں تو  یہ دنیا  ایک مہذب دنیا کا نہیں بلکہ ایک جنگل کا  نقشہ نظر آیا جس میں طاقت کےزور پر کمزور کو اپنا غلام بنانے، ان کے وسائل پر قبضہ کرنے، ان کو انتشار کا شکار کرنے کی منصوبہ بندی ایسے خوبصورت طریقہ سے کی جا رہی ہے کہ ان ممالک میں بسنے والے انسانوں کو سمجھ میں نہیں ہوتا کہ ان کے ملک میں کیا ڈراما ہو رہا ہے۔ اس سب کے منفی اثرات عام لوگوں کی زندگیوں پر  پڑ رہے ہیں،  انسان اپنی بنیادی ضرورت ” امن ” سے محروم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس انسانی اخلاق کی ترقی کے سارے ادارے ٹوٹ چھوٹ کاشکار ہو رہے ہیں۔ ان اداروں کو بچانے اور اس امن کے حصول کے لئے ہمیں  دین کی تعلیمات کی طرف رجوح کرنا ہوگا۔  تاکہ ہم اپنے اندر وہ اخلاق پروان چڑھا سکیں جو اس دنیا کو رہنے کے قابل بن سکے۔

    موجودہ  تہذیب نے ہمارے اوقات پر قبضہ کر لیا ہے۔  ملٹی میڈیا  کی شکل میں آج انسانی اوقات کا بڑا حصہ  ٹی وی کے سامنے بیٹھے گذر جاتا ہے۔ یا وہ افراد جن کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے وہ  بڑےاوقات ونڈو بروزنگ میں گذار دیتے ہیں۔ دینِی علوم کا حصول کہیں بھی ترجہح اول  نہیں  ۔  اس طرح اصل علم  پر ایمان رکھنے کے باوجود اس سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

    قرآن پاک اورنبی رحمتﷺ کی تعلیمات کو سامنے رکھتے ہوئے آج اس سکون کو حاصل کرنے کے طریقوں پر غور کریں گے۔ 

    عفو کے معنی  اللہ کی خوشنودی کی خاطر، انتقام لینے کی قدرت کے باوجود، درگذر سے کام لیناہے۔ اس کو حاصل کرنے کے لئے  جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ "صبر” ہے۔

    حضرت ابوہریرۃؓنے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا۔

    میرے رب نے مجھے نو باتوں کا حکم دیا ہے ،کھلے اور چھپے ہر حال میں اللہ سے ڈرتا رہوں،کسی سے خوش ہوں یا کسی سے غصہ میں دونوں حالتوں میں انصاف کی بات کہوں،خواہ تنگ دستی ہو یا خوش حالی دونوں حالتوں میں راستی اور اعتدال پر قائم رہوں، اور مجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں،جو مجھے محروم کرے میں اسے دوں،

    اور جو مجھ پر زیادتی کرے میں اسے معاف کر دوں،اور یہ کہ میری خاموشی غور و فکر کی خاموشی ہو،

    اور میری گفتگو ذکر الہٰی کی گفتگو ہو،اور میری نگاہ عبرت کی نگاہ ہو۔اس کے بعد نبیﷺ نے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں نیکی کا حکم دوں اور برائی سے روکوں  (مشکواۃ شریف)

     

    اگر کوئی اہم پیغام جس کو  ہر وقت اپنے سامنے رکھنے کی ضرورت ہوتی تو اس کو  اُس جگہ لکھ لیا جاتا ہے جو ہمیشہ سامنے رہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ نبی اکرمﷺ کی تلوار پر یہ کلمات لکھے ہوئے تھے:

    جو ظلم کرے تو اسے معاف کر دے،جو تجھ سے رشتہ توڑتے تُو اُسے جوڑ دے،جو تجھ سے بدی کرئے تُو اُس سے نیکی کر،ہمیشہ  سچی بات کہہ  خواہ  تیرے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو

    ایک دوسری حدیث میں  جس کی راوی  حضرت ابوذرغفاری ہیں، نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا    

    تو جہاں کہیں بھی ہو خدا سے خوف کر، بدی کے بدلے نیکی اور احسان کر، کیونکہ نیکی برائی کو مٹا دیتی ہے،  لوگوں سے نیک سلوک کر اور اُن سے حن اخلاق سے پیش آ۔

    قرآن مجید میں معاف کر دینے، برائی کو نیکی سے تبدیل کرنے اور صبر کرنے کے سلسلہ میں بہت سی آیات آئی ہیں، جن میں سے چند ایک کو یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔وَسَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ  مِّنۡ رَّبِّكُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۳۳﴾ۙ  الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ فِی السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ وَالْکٰظِمِیۡنَ الْغَیۡظَ وَالْعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِ ؕ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿۱۳۴﴾ۚ   آل عمران (133۔134  )

    دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ ان خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی ہے۔   جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں، خواہ بدحال ہوں یا خوشحال،  اور جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں۔  اور اللہ ایسےہی  نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔

     

    اللہ نے جن لوگوں کو اپنا بندہ کہا ہے، سورۃ فرقان میں ان کی پہلی نشان یہ بیان فرمائی ہے۔

    وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَاماً Oالفرقان ۶۳

    رحمان کے (اصلی) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں، اور جاہل منہ کو آئیں تو کہہ دیتے ہیں تم کو سلام۔      

     

    وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ           شوریٰ (42۔43)

    اور جو صبر کرے اور قصور معاف کردے تو یہ ہمت کے کام ہیں

     

    وَلَا يَأْتَلِ أُوْلُوا الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُوْلِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ        نور(22۔23)

    اور جو لوگ تم میں صاحب فضل (اور صاحب) وسعت ہیں، وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور محتاجوں اور وطن چھوڑ جانے والوں کو کچھ خرچ پات نہیں دیں گے۔ ان کو چاہیئے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تم کو بخش دے؟ اور اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے

    خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ  وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ O

    اے نبیﷺ!  نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرؤ ،  اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو  اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے، تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو ،  وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ اعراف(199۔200)

    قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّن صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَآ أَذًى وَاللّهُ غَنِيٌّ حَلِيم۲۔۲۶۳ٌ بقرہ

    جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بے ادبی سے) درگزر کرنا بہتر ہے اور اللہ بےپروا اور بردبار ہے

    وَجَزَاء سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ

    اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے۔ مگر جو درگزر کرے اور (معاملے کو) درست کردے تو اس کا بدلہ اللہ کے ذمے ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ،   شوری(۴۲،۴۰)

    حضرت یوسف کا بھائیوں کو معاف کر دینا اور  نبی اکرمﷺ کا  فتح مکہ کے دن عام معافی کا اعلان کرنا عفو درگزر کی عظیم مثالیں ہیں  جسکا ذکر قرآن کریم میں   اس طرح آیا ہے کہ 

    قَالَ لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ        سورۃ یوسف (٩٢)

    کہا کہ آج کے دن سے تم پر  کوئی گرفت نہیں ہے۔  اللہ تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم فرمانے والا ہے

    عفو و درگزرکے ثمرات

    ماحول پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، اخلاقی طو رپر ذمہ داران کو برتری مل جاتی ہے، ایک اچھی مثال قائم ہوتی ہے،مستقبل میں مسائل کو حل کرنے میں معاونت ملتی ہے۔دوسرے کے اخلاقی بنک میں ایک بہت بڑا DEPOSITEداخل کیا جا سکتا ہے۔

    عفو و درگزرکے راہ میں رکاوٹیں

    غصہ:  مندرجہ ذیل اسباب غصہ کا سبب بنتے ہیں:

    غرور و تکبر,مذاق  اڑانا، مسخرہ پن عیب جوئی، طعنہ ذنی، ملامت ,اقتدار، مال و دولت اور شان و شوکت  کی حرص  وغیرہ

    عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ مغرور اور متکبر لوگ بہت جلد غصہ میں آجاتے ہیں، کیونکہ ان کے ذہین میں ان کا  اپنامقام بہت بلند ہوتا ہے، اگر ان کو  اس مقام میں ذرہ بھی کمی ہوتی محسوس ہو تو یہ ان کی برداشت سے باہر ہوتی ہے۔ ان کے لئے  اس دنیا  میں مقام اور عزت ہی سب کچھ ہوتا ہے، جس کو وہ ہر طریقہ سے  حاصل کرنا اور برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

    اسی طرح  مذاق میں کبھی  کبھی ایسی بات کہی دی جاتی ہے  جو سخت ناراضگی کا سبب بن جاتی ہے۔ اور انسان یہ اندازہ کرنے سے قاصر ہوتا ہے کہ اس کی بات نے دوسرے پر کتنا بُرا اثر ڈالا ہے۔

    اسی طرح  غیبت، عیب جوئی، چغلی اوربہتان میں نفرت اور غصہ چھپا ہے۔ اللہ رب العالمین ہمیں ان سب برائیوں سے بچائیں  ،آمین یا رب العالمین

    @mmasief