Baaghi TV

Category: مذہب

  • بجٹ، آئی ایم ایف اورسگریٹ پرٹیکس ۔۔؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    بجٹ، آئی ایم ایف اورسگریٹ پرٹیکس ۔۔؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    بجٹ سے پہلے رواں ہفتے میاں شہبازشریف کی حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عوام پرمہنگائی کا بم گراتے ہوئے ایکدم پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30روپے فی لیٹربہت بڑااضافہ کرکے عوام کوزندہ درگور کر دیا اور پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ پاکستان کودیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا ناگزیرہوگیاتھا کیونکہ یہ اضافہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض کی قسط حاصل کرنے کیلئے کیا گیا ہے۔ اس سے قبل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بغیر قرض جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔

    اس وقت پاکستان میں سیاسی بھونچال جمودکاشکار ہے۔عمران خان کی حکومت گر گئی اورپی ڈی ایم اتحادکی نئی حکومت بن گئی، کردار بدل گئے ،سابقہ حکمرانوں نے اپوزیشن کا درجہ حاصل کرلیا اور اپوزیشن حکمران بن گئی لیکن پاکستان کی اقتصادی بدقسمتی کا المیہ جاری ہے ۔جس کے سبب خدانخواستہ آنے والے دنوں میں پاکستان کے سری لنکا کی طرح کے حالات پیداہونے کاخدشہ ہے۔سعودی عرب،متحدہ عرب امارت اورچین سمیت تینوں ملکوں نے امداد دینے کاکوئی وعدہ نہیں کیا ،جس سے میاں شہباز شریف کی حکومت کے لئے مشکلات کھڑی ہوگئیں ہیں،جس کاحل انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاکرنکالا۔پٹرولیم مصنوعات کی ہردورمیں ہرحکومت نے من چاہی قیمتیں مقررکیں اور آئی ایم ایف بھی ہربارپٹرول اوربجلی کی قیمت بڑھانے کامطالبہ کرتا ہے لیکن اس کے برعکس تمباکوکی مصنوعات خاص طور پر سگریٹ کی قیمت بڑھانے کی کبھی بات نہیں کی گئی ،کافی عرصہ سے پاکستا ن میں سگریٹ پر ٹیکس نہیں لگایا گیا دنیابھر میں سب سے سستے سگریٹ پاکستان میں فروخت ہورہے ہیں ،کیاآئی ایم ایف کوپاکستان میںسستے سگریٹ دکھائی نہیں دیتے ؟اورسستے سگریٹس کی وجہ سے پیداہونے والی بیماریوں کے علاج پرخرچ ہونے والاخطیرزرمبادلہ دکھائی نہیںدیتا؟
    پاکستان میں سگریٹ پر ٹیکس 43 فیصد ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی تجویز ہے کہ سگریٹ کے پیکٹ کی قیمت کا 70 فیصد ٹیکس لاگو ہونا چاہیے۔یہ ٹیکس لاگو نہ ہونے سے پاکستان میں سگریٹ نوشی میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے اس وقت ایک اندازے کے مطابق تقریبا تین کروڑ پاکستانی سگریٹ نوشی کرتے ہیں جبکہ اس سے سالانہ اموات ایک لاکھ 60 ہزار ہیں، یعنی روزانہ تقریبا 300 کے قریب لوگ مرجاتے ہیں۔ اتنی اموات تو کرونا سے بھی نہیںہوئیں۔کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں جان بچانے والی تقریبا 100 ادویات کی قیمتوں میں تو 260 فیصد تک اضافہ ہوا ہے لیکن جان لیوا سگریٹ پر ایک روپے کابھی ٹیکس نہیں لگایا گیا؟ پاکستان میں سگریٹ نوشی سے ہونے والے معاشی نقصانات 615 ارب سے تجاوز کر گئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ٹوبیکو کمپنیاں سالانہ صرف 100 ارب روپے ٹیکس ادا کرتی ہیں۔پاکستان میں دو قسم کی کمپنیاں سگریٹ بناتی ہیں۔ ایک برٹش ٹوبیکو کمپنی اور فلپ مورس جیسی ملٹی نیشنل کمپنیاں جن کا مارکیٹ شیئر 95 فیصد ہے اور دوسرا لوکل کمپنیاں جن کا مارکیٹ میں حصہ پانچ فیصد ہے۔

    پاکستان میں آئندہ بجٹ پیش کرنے کی تیاریاں جاری ہیں لیکن تمباکو کمپنیاں مضر سگریٹ پر ٹیکس کم کرنے اور مزید قیمت نہ بڑھانے کے لیے اشتہارات سے یہ دعوی کر رہی ہیں کہ یہ سگریٹ ہی ہیں، جس نے پاکستان کی معیشت کو سنبھال رکھا ہے۔جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے یہ ٹوبیکو کمپنیاں سالانہ صرف 100 ارب روپے ٹیکس ادا کرتی ہیں اوران ٹوبیکوکمپنیوں کی وجہ سے پاکستان کو ہر سال تمباکو کے باعث بیماریوں سے 615 ارب روپے کا نقصان پہنچتا ہے، اس رقم کا 71 فیصد صرف سرطان، امراض قلب اور پھیپڑوں کی بیماریوں پر خرچ ہوتا ہے۔ یہ رقم سگریٹ کمپنیوں سے حاصل کردہ ٹیکس سے بھی 5 گنا زیادہ ہے۔ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں 60 فیصد سگریٹ نوشی نوعمری میں شروع کی جاتی ہے۔ اسکی بڑی وجہ پاکستان میں دنیا بھر کے مقابلے میں سستے ترین سگریٹس کی دستیابی ہے جس سے نہ صرف نوجوان اس لت کا شکار ہوتے ہیں بلکہ کچھ کیسز میں سگریٹ نوشی شروع کرنے کی عمر 6 سال ہے۔

    تمباکونوشی کے عادی غریب طبقے سے وابستہ افراد سستے سگریٹ کی وجہ سے موت بآسانی خرید لیتے ہیں جبکہ اس کے باعث کینسر جیسے مہلک اور مہنگے مرض سے لڑ نہیں پاتے کیونکہ اس کا علاج اتنا مہنگا ہوتا ہے کہ عام آدمی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ شوکت خانم ہسپتال کی ویب سائٹ پر بتائی گئی تفصیلات کے مطابق اس کے ایک سال کے علاج کا لگ بھگ خرچہ کچھ اس طرح ہوتا ہے؛سرجری پر 300000 روپے، ریڈی ایشن کیلئے125000روپے، کیموتھراپی کیلئے 150000روپے جبکہ کل لاگت تقریبا 1075000 روپے تک آتی ہے۔ اب کہاں 60،70 روپے کے سگریٹ سے ہونے والا کینسر اور کہاں یہ 1075000روپے کی نئی زندگی،جس کی ادویات ودیگراخراجات علیحدہ ہیں۔

    گذشتہ ہفتے پاکستان کے سرکردہ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے رضاکاروں نے پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کا عہد کیا۔ یہ عزم انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیم کرومیٹک ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں کیا۔ کانفرنس کا انعقاد مری کے ایک نجی ہوٹل میں کیا گیا۔کانفرنس کا آغاز ایک جامع پریزنٹیشن سے ہوا جس میں تمباکو کے صارفین کی تازہ ترین تحقیق اور ڈیٹا، صحت کے شعبے پر اثرات اور ٹیکس شامل تھے۔ پراجیکٹ مینیجر کرومیٹک ٹرسٹ، طیب رضا نے کانفرنس کے شرکا کو پریزنٹیشن کے دوران بتایا کہ تمباکو نوشی کس طرح بیماری، معذوری اور موت کا باعث بنتی ہے۔کانفرنس میں سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے رضاکاروں پر زور دیا گیا کہ وہ تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر سگریٹ نوشی کی وجہ سستے سگریٹ کی دستیابی ہے۔ سی ای او کرومیٹک ٹرسٹ شارق خان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے سروے کے مطابق پاکستان میں روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں جو کہ تشویشناک ہے اور ہمیں اپنے نوجوانوں کو اس لعنت سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت تمباکو کی تشہیر اور اسپانسر شپ کے حوالے سے اپنے قانون کو مزید مضبوط کرے۔سی ٹی ایف کے کے کنٹری ہیڈ ملک عمران احمد نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک موت تمباکو کے استعمال سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں تمباکو کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے جس کی وجہ آبادی میں مسلسل اضافہ، کم قیمتیں، اس کے خطرات سے آگاہی کی کمی اور تمباکو کی صنعت کی مارکیٹنگ کی جارحانہ کوششیں ہیں ۔ انہوں نے کانفرنس میں شریک سوشل میڈیا کے رضا کاروں سے درخواست کی کہ اگر اس وقت عوام میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے حوالے سے مہم چلائی جائے تو یقینا حکومت آئندہ بجٹ میں اس پہ ٹیکس لگانے پہ مجبور ہوگی ۔ڈاکٹر ضیا الدین اسلام، کنٹری لیڈ ٹوبیکو کنٹرول، وائٹل اسٹریٹیجیز اور سابقہ ہیڈ ٹوبیکو کنٹرول سیل منسٹری آف این ایچ ایس آر سی نے تمباکو نوشی کو اس کی اصل روح کے مطابق لاگو کرنے کا مطالبہ کیا، جس میں سگریٹ کے پیکٹ پر تصویری صحت کے انتباہات کا سائز بڑھانا ، کھلے سگریٹ کی فروخت اور اشتہارات پر پابندی کا نفاذ شامل ہیں ۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ کیا جائے کیونکہ پانچ سال سے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سگریٹ کو ناقابل فروخت بنانے کے لیے ہیلتھ لیوی یا ہیلتھ ٹیکس کو لاگو کرنے کی ضرورت ہے جسے صحت کے شعبے میں معیشت کو فائدہ پہنچانے اور نوجوانوں کو سگریٹ نوشی سے روکنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔آئی ایم ایف پٹرول کی قیمت بڑھانے پرتوزوردیتا ہے لیکن سگریٹ پر بھاری ٹیکس لگاکرسگریٹ مہنگاکرنے کی بات نہیں کرتا کیونکہ آئی ایم ایف ہمیشہ سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات کاتحفظ کرتاہے،سگریٹ پرٹیکس بڑھانے کا ایسا کوئی بھی مطالبہ سگریٹ بنانے والی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات کونقصان پہنچ سکتاہے اس لئے آئی ایم ایف کبھی بھی پاکستانی حکومت کوسگریٹ مہنگے کرنے کامطالبہ نہیں کریگا۔

    سگریٹ کی قیمت میں 10 فیصد اضافے سے فوری طور پر5 فیصد تمباکو نوشی میں کمی ہوگی ، اگر مہنگائی کے تناسب سے قیمتوں میںمسلسل اضافہ ہوتارہے تو 10 فیصد تمباکو نوشی کو کم کیا جا سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق سگریٹ مہنگی کرنے سے سب سے زیادہ نوجوان تمباکو نوشی ترک کرتے ہیں ۔ نوجوانوں میں یہ رجحان بوڑھے افراد سے 2 گنازیادہ ہے۔ سگریٹ نوشوں میں 10 فیصد کمی کا مطلب پاکستانی معیشت کو 60 ارب روپے سالانہ کی بچت جبکہ 16 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی زندگیوں کو بچایا جا سکے گا۔ بہت سے ممالک نے سگریٹ کی قیمت میں 70 سے 80 فیصد تک اضافہ کیا ہے۔اب درست فیصلے کرنے کاوقت ہے، آنے والے بجٹ میں حکومت سیگریٹ پربھاری ٹیکس لگاکراس کی قیمت بڑھائے اس سے ایک توکثیرریونیوحاصل ہوگا دوسراسیگریٹ مہنگے ہونے سے نو جوانوں کی زندگیاں بھی بچ جائیں گی۔ وزیراعظم شہبازشریف صاحب آپ سگریٹ مافیا کیخلاف بھی کارروائی کا حکمنامہ جاری کر کے آپ لاکھوں جانیں بچا سکتے ہیں۔ ان موت کے سوداگروں اور بین الاقوامی مافیا کو لگام آپ ہی ڈال سکتے ہیں ۔ اس مافیاکوپاکستان کی معیشت اور عوام کی جان سے کھیلنے نہ دیا جائے۔ بچوں کو تمباکو کے استعمال سے بچائیں، سگریٹ پر ایف ای ڈی میں کم از کم 30 فیصد اضافہ کریں۔ ان کی قوت خرید سے باہر ہونے کے لئے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ بہت ضروری ہے۔سگریٹ پر بھاری ٹیکسوں کے نفاذ سے حکومت کے ریونیو میں اضافے کیساتھ یہ کم عمر افراد کی پہنچ سے دور ہوجائے گی مزید برآں اس کے بآسانی دستیاب نہ ہونے سے حکومت کے صحت کے شعبے پر اخراجات میں کمی ہوگی اور فضا بھی صاف ستھری ہوگی ماحولیاتی آلودگی کاخاتمہ بھی ممکن ہوگاجس سے پاکستانی عوام صاف ستھرے ماحول میں سانس لیکر بیماریوں سے محفوظ پاکستان میں اپنی زندگیاں بسرکرسکے گی۔

  • "رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی” تحریر محمد عبداللہ

    "رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی” تحریر محمد عبداللہ

    فیسبک ٹائم لائن پر کئی احباب کی تحاریر دیکھی ہیں جن میں جمعہ کے خطبہ، واعظین کے انداز بیان، سلیقہ گفتگو وغیرہ کو موضوع بحث بنایا گیا ہے. یہ بات واقعی ہی حقیقت رکھتی ہے کہ واعظین کے سلیقہ گفتگو اور موضوعات کے انتخاب پر لازمی طور پر بحث ہونی چاہیے اور ان کو دونوں چیزوں کو یکسر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے.
    بشمول میرے اکثر احباب کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ جمعہ کی نماز وہاں پڑھی جائے جہاں پر خطبہ دینے والا دھیمے مزاج میں گفتگو کر رہا ہو اور اس کی گفتگو کا موضوع ہمارے مسائل معاملات لیے ہو تاکہ ہم دلچسپی سے سن سکیں. وگرنہ تو جمعہ کے خطبہ کے دوران نیند معمول بنتی جا رہی ہے.
    ہم ڈی ایچ اے فیز تھری کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرتے رہے ہیں وہاں پر خطبہ دینے والے مولانا صاحب نے مجال ہے جو کبھی اپنے موضوع سے ہٹ کر بات کی ہو، یا موضوع کو ہی بہت زیادہ پھیلادیا ہوکہ بعد میں سمیٹنا مشکل ہوجائے اور عام موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے کبھی مائک پھاڑا ہوا یا شدت جذبات سے ڈائس پر مکے مارے ہوں. ایسی بہت ساری مساجد اور وائطین دیکھے ہیں لیکن تاحال ہزاروں ایسے ہیں جو پورے ہفتہ کے غصے اور جذبات کے اظہار کے لیے جمعہ کے خطبہ کو بہترین خیال کرتے ہیں.
    مثال کے طور آپ نے بیان کرنا ہے کہ مسواک سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور آپ نے اس کی تاکید بیان کی ہے تو یہ بلکہ دھیمے انداز میں خوبصورت الفاظ کے ساتھ نرمی سے بیان ہوسکتا ہے اب مسواک کو اس طرح شدت سے "مسسسسسوااااااااااااااک” کہنے سے لوگ جمعہ چھوڑ کر مسواکیں خریدنے تھوڑا چلے جائیں گے.
    آپ جنت کے موضوع پر گفتگو کر رہے ہیں تو جنت جتنی پیاری ہوگی ہم سوچ بھی نہیں سکتے لیکن بعض وائظین ایسے گلہ پھاڑ انداز میں "جنت” لفظ کو کھینچتے ہیں ڈر لگنے لگ جاتا کہ جنت ہی ہے نا جس کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں میں شوق پیدا کیا کرتے تھے.
    ایک اور بڑا ایشو جمعہ کے خطبہ کے لیے موضوعات کا انتخاب اور اس کی تیاری ہے. معاشرے میں مسائل کیا چل رہے ہیں، نوجوان کن مسائل میں الجھا ہوا ہے، والدین کے ایشوز کیا ہیں. اگر عالم دین کو سامنے بیٹھے لوگوں کے معاملات و مسائل سے آگاہی اور وہ اس ترتیب میں موضوع کا انتخاب اور اسکی باقاعدہ تیاری کرے تو مجال ہے اس کی مسجد کا رش اور لوگوں کی دلچسپی کم ہو.
    لوگ موٹیویشنل اسپیکرز کو کیوں سنتے ہیں وجہ ہے کہ وہ ان کے مجموعی اور انفرادی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی امید دیتے ہیں. حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ محلے کی مسجد کا خطیب سب سے بڑا موٹیویشنل اسپیکر ہونا چاہیے اور ہوتے بھی ہیں. وہ لوگوں کو امید دے، شوق دے اور سوشل ہو اور سوشل ایکٹیویٹیز میں لوگوں کے ساتھ چلے.
    محمد عبداللہ

  • رائے ونڈ….مسلمانوں کاعظیم الشان اجتماع					  تحریر:یاسرشہزادتنولی

    رائے ونڈ….مسلمانوں کاعظیم الشان اجتماع تحریر:یاسرشہزادتنولی

    ۔

    رائے ونڈ ایک گمنام جگہ تھی لیکن تبلیغی جماعت کی محنت نے اسے پوری دنیا میں متعارف کرادیا،آج دنیا کے کونے کونے سے لوگ رائے ونڈ آکر دین اسلام کی فکر اور حضورنبی کریم ﷺکی محنت کا طریقہ سیکھ کر دین کی محنت میں لگ جاتے ہیں،یہاں سے ہرسال بے شمار جماعتیں نکل کر پوری دینامیں جاتی ہیں اور دین اسلام کی آفاقی دعوت دینے کی سعادت حاصل کرتے ہیں، دین اسلام کے مبلغ اول جناب رسول اللہ ﷺہیں، جنہوں نے مکہ جیسے مخالفین کے بھرے شہر میں بے شمار سختیاں برداشت کرکے دین اسلام کی محنت شروع فرمائی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اسلام دنیا میں پھیل کر روئے زمین کا سب بڑامذہب بن گیا،جناب رسول اللہ ﷺکے بعد خلفائے راشدین نے دین اسلام کے دامن کو مزید وسعت دے کر چین سے فرانس،ہسپانیہ کے جزائر،افریقہ کے جنگلات اور مراکش کے آخری کونے تک اسلامی تعلیمات کا جال پھیلادیا،اس کے بعد مسلمان حکمران،مجاہدین اسلام،مبلغین،علماء،صوفیا ء اوردردِ دل رکھنے والے مسلمانوں کی محنتوں سے اسلام کی شمع جلتی رہی،برصغیرپاک وہندمیں انگریز ی دوراقتدارمیں اسلام کی شمع ٹمٹمانے لگی ہندوستان کے بعض دیہات خصوصاًمیوات میں اسلام برائے نام رہ گیا تھا،1923ء انتہائی متعصب ہندوتحریک شدھی سنگٹھن نے ہزاروں مسلمانوں کو زبردستی اسلام سے برگشتہ کیا،جس مسلمان علمائے کرام دلوں کو شدید دچھکا پہنچا،ہمارے اکابر حضرت مولاناانورشاہ کشمیریؒ،مولاناحبیب الرحمن عثمانی ؒ،مولاناشبیر احمدعثمانی ؒ،مولاناسید حسین احمدمدنی ؒ، دہلویؒ،مولانا احمدسعید دہلویؒ،مولاناشمس الحق افغانی ؒ،امام الہند مولاناابولکلام آزادؒ،مولانامحمد الیاس دہلویؒ،مولاناشاہ عبدالقادر رائے پوریؒ،امیر شریعت مولاناسید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اوردیگر اکابرین امت نے اس طوفان کے سامنے ڈٹ کر مسلمانوں کے ایمان کو بچانے کی بھرپور محنت کی جس کی بدولت ہزاروں مسلمان اپنے دین کی طرف واپس آگئے،ان حالات میں مولانامحمدالیاس دہلویؒ نے ایک مستقل ایمانی تحریک برپا کرکے مسلمانوں کو مستقل دین اسلام کی دعوت میں بھرپور طریقے سے لگانے کی سوچ وفکر کا آغاز کیا،علماء کرام،صوفائے عظام،اہل مدارس اور اپنے زمانہ کے تمام اکابر ین امت سے صلاح ومشورہ کے بعد مدینہ منورہ میں حاضر ہوکر خاص ہجرہ نبوی کے اندر ایک ہفتہ اعتکاف کے بعد جب ہندوستان واپس آئے تو 1926ء میں تبلیغی محنت کا آغازکیا جو آگے جاکر تبلیغی جماعت کی موجودہ شکل وصورت میں دنیا ئے اسلام کی سب سے بڑی تحریک بن گئی،تبلیغی جماعت کا پہلا اجتماع حضرت مولانامحمد الیاس دہلوی کے دورمیں 28،29،30،نومبر 1941ء کو میوات کے علاقہ قصبہ نوح کے اندرہوا،اس اجتماع میں حضرت مولانامحمدالیاس صاحب ؒکے علاوہ شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمدمدنی ؒشیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند،مفتی اعظم ہند،مولانامفتی کفایت اللہ دہلویؒ،حکیم الاسلام حضرت مولاناقاری محمدطیب قاسمیؒ مہتمم دارالعلوم دیوبند،سحبان الہندحضرت مولانااحمدسعید دہلوی ؒناظم اعلی جمعیت علماء ہند،مفکر اسلام حضرت مولاناسید ابوالحسن ندویؒ،مناظراسلام مولانامحمدمنظورنعمانی ؒ،مولاناعبداللطیف ناظم جامعہ مظاہرالعلوم سہارن پور،الحاج محمدشفیع قریشی امیر اول تبلیغی جماعت پاکستان اور ان کے علاوہ اس دورکے تمام اکابرین امت شامل تھے،نماز جمعہ شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمدمدنی ؒنے پڑھائی اور اس کے بعد اجتماع کی کاروائی شروع ہوئی،اس اجتماع کے بارہ میں مفکر اسلام حضرت مولاناسیدابوالحسن علی ندویؒ لکھتے ہیں کہ یہ اجتماع،اجتماع سے زیادہ زندہ خانقاہ معلوم ہوتاتھا،جس میں عبادت وذکر،نمازوں کی پابندی اور ذوق نوافل کے ساتھ چستی مستعدی،جفاکشی ومجاہدہ،سادگی وبے تکلفی،تواضع وخدمت،دین کی توقیر اور اسلامی اخلاق کے موثر مناظر دیکھنے میں آئے۔دوسرا بڑااور اہم اجتماع مولانامحمدالیاس دہلوی کی وفات کے بعد 14،15،16،جنوری 1945ء کو مسجد شاہی مرادآباد میں ہوا،اس اجتماع میں امیر تبلیغی جماعت مولانامحمدیوسف دہلویؒ سمیت شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمدمدنیؒ ؒ،مفتی اعظم ہندمفتی کفایت اللہ دہلوی ؒ،شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریاکاندہلوی ؒ،مفکر اسلام مولاناسید ابوالحسن علی ندویؒ اور دیگر اکابرین امت نے شرکت کی،اس اجتماع کی خاص بات یہ تھی کہ حضرت شیخ الہند مولانامحمود حسن ؒ(بانی تحریک آزادی ہند)کے وہ متعلقین جنہوں نے حضرت شیخ الہندؒکی وفات کے بعد شدت غم سے گوشہ نشینی اختیار کررکھی تھی اورعلاقہ سے باہر نکلناچھوڑدیا تھا،انہوں نے اپناعہد توڑا اور حضرت مدنی ؒکو لانے کے لئے دیوبند حاضرہوئے اور حضرت شیخ الاسلام مولانامدنی ؒکو شدیدمصروفیات کے باوجود اجتماع میں شرکت کرنے پر آمادہ کیا۔اس کے بعد اجتماعات کا نہ ٹوٹنے ولا وہ سلسلہ شروع ہوگیا جوآج دنیا کے اکثرممالک میں دین اسلام کی شان وشوکت اور تبلیغ اسلام کا سب سے بڑا موثرذریعہ بن چکا ہے۔تقسیم ہندکے بعد پاکستان میں حضرت حاجی عبدالوہاب رحمہ اللہ کی کوششوں سے تبلیغی جماعت کا کام شروع ہوا،اور پہلا اجتماع 10/اپریل1954ء بروزہفتہ رائے ونڈ کے مقام پر منعقد ہوا،مولانا محمدیوسف کاندہلوی صاحب ؒ اس دن صبح دہلی سے روانہ ہوکر دن کے بارہ بجے لاہور پہنچ گئے اور عصرکی نماز کے بعد اجتماع میں تشریف لائے،یہاں مولانایوسف صاحب ؒ نے تین دن قیام فرمایا۔جب اجتماع ختم ہوا تو مولانا یوسف صاحب ؒ نے تمام احباب کو ایک جگہ جمع کیا اور فرمایا:”دیکھوبھائی! آج کے بعد یہ جگہ تمہاری جماعت کا مرکز ہے،تم نے اسے سرسبزوشاداب بناناہے،اور اس جگہ کو دین کی محنت سے آباد کرنا ہے،اس لئے تنگی آئے یا وسعت،بھوک آئے یا پاس،بیماری آئے یاموت،تم نے دنیا کے کسی کام میں نہیں لگنا،بلکہ اسی کمائے کے کام میں لگنا ہے اور اپنے آپ کو یہاں مٹادینا ہے،جو تیارہو وہ اُٹھے اور میرے ہاتھ پر موت کی بیعت کرے،پھر فرمایا کوئی کسی کو ترغیب بھی نہ دے،جس نے کھڑاہونا ہے اپنی ذمہ داری پر کھڑاہو”چنانچہ جو شخص پہلے کھڑاہوا اس کانام”حاجی عبدالوہاب” تھا اس کے بعد حافظ سلیمان(سابق امام رائے ونڈمرکز) کھڑے ہوئے،اس کے بعد میاں جی عبداللہ کھڑے ہوئے،اس کے بعد میاں جی عبدالرحمن کھڑے ہوئے،اس کے بعد حافظ نورمحمد کھڑے ہوئے،اس کے بعد میاں جی اسماعیل کھڑے ہوئے،جوکھڑاہوتا مولانایوسف صاحب اس کو آگے اپنے پاس بلالیتے اور اس سے یہ اقرار(حلف نامہ) لیتے کہ:آج کے بعد میں اشاعت اسلام،خدمت دین،اور مرکزکی آبادی کے علاوہ دنیا کے کسی کام میں نہیں لگوں گا،اس راستے میں اگرمجھے بھوک آئی توبرداشت کروں گا،پیاس آئی تو برداشت کروں گا،بیماری آئی تو برداشت کروں گا لیکن کسی دوسرے کام میں نہیں لگوں گا”۔ابھی مولانامحمدیوسف کاندہلوی ؒ یہ کہلواکر ایک ایک کو علیحدہ علیحدہ باہر بٹھارہے تھے،کہ اسی اثنامیں آپ کی نظرمیاں جی محراب پر پڑگئی جو حاجی محمدمشتاق صاحب ؒ کو تیار کررہے تھے،تو آپ نے میاں جی محراب کو انتہائی زور سے ڈانٹا اورفرمایا:”میں نے پہلے ہی نہیں کہا تھاکہ کوئی کسی کو تیارنہ کرے ورنہ کل جب بھوک اور پیاس آئے گی تو پھر یہ تمہیں گالیاں دے گا کہ مجھے اس نے پھنسایا تھا،اس لئے کوئی کسی کو تیار نہ کرے”۔الغرض کل 18آدمی کھڑے ہوئے اور انیسویں حاجی مشتاق صاحبؒ تھے،جو سب سے آخرمیں کھڑے ہوئے تھے،یہ کل انیس آدمی تھے جنہوں نے تمام ترمخدوش حالات کامقابلہ کرتے ہوئے تبلیغ دین کی بنیادوں کو مضبوط کیااور اس ڈانواڈول کشتی کو بھنور سے نکالا اور اسے کھینچ کر ساحل پر لائے،ان میں سے جو احباب موت تک یہیں رائے ونڈمیں پڑے رہے وہ چھ تھے (1)حضرت حافظ نورمحمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ(2) حضرت میاں جی محمداسماعیل صاحب رحمۃ اللہ علیہ (3)حضرت حافظ سلیمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ (4)حضرت میاں جی عبداللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ(5)حضرت حاجی محمدمشتاق صاحب رحمۃ اللہ علیہ(6)حضرت حاجی عبدالوہاب صاحب رحمۃ اللہ علیہ،اس کے بعد جب تبلیغی محنت مزید آگے بڑھی اور ماہانہ مشورہ شروع ہوا جس کی ابتداء اس طرح ہوئی حاجی عبدالوہاب صاحب فرمایاکرتے تھے کہ میں مشورہ کے لئے ایک ایک آدمی کے پاس جایاکرتاتھا، محمدشفیع قریشی صاحب ؒکے پاس پنڈی،قاضی عبدالقادر صاحبؒ کے پاس سرگودھا،مفتی زین العابدین صاحبؒ کے پاس فیصل آباد اوربھائی بشیر صاحبؒ کے پاس کراچی جاتا،پھر سب کو بتاتاکہ فلاں کی یہ رائے ہے،فلاں کی یہ رائے ہے،پھر سب کو خیال آیا کہ یہ اکیلا ہم سب کے پاس پھرتا ہے کوئی دن مہینہ میں ایسا طے کرلیناچاہئے کہ ہم خود اس کے پاس اکٹھے ہوجایاکریں۔ چنانچہ حاجی صاحب ؒکی اس قربانی کی برکت سے ماہانہ مشورہ شروع ہوا،جس پر سب حضرات حاجی صاحبؒ کے پاس آنے لگے،شروع میں ہرماہ ایک دن کے لئے آتے تھے پھر جوں جوں کام بڑھتا گیا اور تقاقضے بڑھتے گئے توتین دن کے لئے مشورہ کے عنوان سے جمع ہونے لگے۔ان بزرگوں کی دن رات ان تھک محنتوں اورکاوشوں سے جو کام شروع ہوا،وہ ملک کے مختلف حصوں میں پھیلنے کے ساتھ ساتھ بیرونی دنیا تک پہنچ گیا اور آج وہ کام پوری دنیا کے ہرملک کے ہر قصبے اور دیہات میں پھیل چکا ہے،کروڑوں مسلمان آج اس تحریک کے سات وابستہ ہیں جن کی نقل وحرکت سے مسلمانانِ عالم میں دینداری کی ایک عمومی فضابن چکی ہے،رائے ونڈکا سالانہ اجتماع جوپہلے ایک ہی بڑااجتماع ہواکرتاتھا،پھر دوحصوں میں تقسیم ہوگیا اور اب چندسالوں سے عوام کی بڑھتی ہوئی تعدادکے باعث چار حصوں میں تقسیم ہوچکا ہے دوحصوں کا اجتماع ایک سال اوردوسرے دوحصوں کا دوسرے سال ہوتاہے،اس سال دوحصوں کاپہلااجتماع،4نومبر 2021ء کو رائے ونڈمیں شروع ہے جس سے پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش اور ہندوستان کے بزرگوں کے خطابات کاسلسلہ بھی شروع ہے۔دوسرے حصے کا اجتماع 11نومبر کو شروع ہوگا اور 14نومبر2021کو اختتامی دعاپر ختم ہوگا۔

    https://twitter.com/YST_007?s=09

  • علماء کرام اپنے محراب ومنبر سے مذہبی رواداری، پیار و محبت اور قانون کی پاسداری کا درس جاری رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر

    علماء کرام اپنے محراب ومنبر سے مذہبی رواداری، پیار و محبت اور قانون کی پاسداری کا درس جاری رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر

    فیصل آباد(عثمان صادق)ضلعی مسجد کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی کمشنر علی شہزاد کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مولانا محمد یوسف انور،صاحبزادہ فیض رسول رضوی،مفتی محمد ضیاء مدنی،سیدجعفر نقوی،صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی کے علاوہ دیگر علماء کرام،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو فضل ربی چیمہ،اسسٹنٹ کمشنر سٹی صاحبزادہ محمد یوسف بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے علماء کرام کا خیر مقدم کرتے ہوئے معاشرتی امن اورمذہبی رواداری کی فضاء برقرار رکھنے کے لئے ان کی شاندارخدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے خوشی اوراطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد ضلع میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام آپس میں متحد ومتفق ہیں تاہم اس نوعیت کے اجلاس خیروبرکت اورباہمی رابطے کے استحکام کے لئے منعقد کئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ علماء کرام اپنے محراب ومنبر سے مذہبی رواداری،پیارومحبت اور قانون کی پاسداری کا درس جاری رکھیں اور خصوصی طور پر جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں کورونا ویکسین لگوانے کی ترغیب دیں تاکہ اس وباء سے محفوظ رہا جاسکے۔انہوں نے علماء کرام کی طرف سے نشاندہی کئے گئے بعض مسائل کے ترجیحی بنیادوں پر حل کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ مسجد کمیٹی کا اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیا جائے گا۔اس موقع پر علماء کرام نے امن وامان کے قیام اور رواداری کے فروغ کے لئے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔آخرمیں ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی،امن وسلامتی،اتحاد ویکجہتی اورخیروبرکت کی دعا کی گئی۔

  • قبر کی پہلی رات تحریر : ساجد علی

    قبر کی پہلی رات تحریر : ساجد علی

    حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ اے امام علی

    قبر میں انسان کی پہلی رات کیسے گزرتی ہے تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا کہ  انسان کی سب سے مشکل رات قبر کی پہلی رات ہوتی ہے ۔

    جب دوسرے انسان اس کے دوست عزیزواقارب رشتے دار اسے دفنا کے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو وہ انسان روتا رہتا ہے ہر ایک دوست کے پاس آتا ہے اور اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے کہ مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ لیکن افسوس اس کی آواز کوئی نہیں سنتا ۔

    حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگوں اپنی موت کو یاد کیا کرو ۔

    قبر ہر دن اپنے مُردوں سے اعلان کرتی ہے کہ میں غربت اور تنہائی کا گھر ہوں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں مٹی کا ڈھیر ہوں۔ 

    جب مؤمن کو دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے مرحبا کہ کر خوشخبری دیتی ہے کہ میری پشت پر چلنے والوں میں سے تو بڑا محبوب تھا آج میں تیری ہو گئی اور تو میرے پاس آ گیا آج میرا احسان دیکھ ۔

    یہ کہہ کر قبر کشادہ ہو جاتی ہے اور جنت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے جہاں سے اس کو تازی ہوا آتی ہے 

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک تھے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا آپ ایک قبر پر بیٹھ گئے اور فرمایا :

    کہ یہ قبر ہر روز با آواز بلند کہتی ہے کہ آدم کی اولاد تو کیوں مجھے بھول گیا، کیا تجھے یہ معلوم نہیں کہ میں تنہائی کا گھر غربت کا گھر وحشت کا گھر اور کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں ۔

    مگر اللہ جس کے لئے کشادگی کا حکم فرمائے گا اس کے لیے کشادہ ہو جاؤں گی ۔

    اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے قبر تو یا تو جنت کا چمن ہے یا تو پھر آگ کا ایک تندور ہے ۔

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ مردہ جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو قبر اسے کہتی ہے اے ابن آدم تو ہلاک ہو تجھے کس چیز نے مجھ سے دھوکے میں رکھا۔

     کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں تجھے کس چیز نے مجھ سے بہکا کر نڈر کر دیا اور تو میری پشت پر بہت اکڑ کر چلتا تھا ۔

    اگر وہ مردہ نیک ہوگا تو جواب دینے والے اسے جواب دیں گے ،کہ اے قبر تو دیکھ تو سہی اس کے اعمال کیسے ہیں یہ اچھائی اختیار کرتا تھا اور برائی سے دور رہتا تھا یہ سن کر قبر کہتی ہے بے شک یہ نیک تھا اب میں اس کے لئے سرسبز ہو جاتی ہوں۔

      مُردے کا جسم اس وقت منور ہو جاتا ہے اور اس کی روح اللہ تعالی کی طرف بھیج دی جاتی ہے ۔

    حضرت عبداللہ بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    کے مردہ قبر میں پیشتا ہے اور ان لوگوں کے گھروں کی آواز بھی سنتا ہے جو اس کے ساتھ جنازے میں گئے ہوں مردے سے اس کی قبر کہتی ہے کہ ابن آدم تیری ہلاکت ہو ۔

    تو نے میری تنگی بدبو اور کیڑے مکوڑوں کا خوف نہیں کیا اس لئے تو نے ان چیزوں سے بچنے کے لیے تیاری نہ کی بد اعمال مردے سے قبر کہتی ہے ،

    کہ تو نے میری تاریکی، میری وحشت، میری تنہائی اور تنگی، میرا غم تجھے یاد نہیں رہا۔

     اس کے بعد قبر اس کو جکڑ لیتی ہے  اور  فرشتے اسکو  ہتھوڑوں سے ایسے مارتے ہیں کے اس کی پسلیاں اِدھر کی اُدھر ہوجاتی ہیں   پھر دوزخ کی کھڑکی اس پر کھول دی جاتی ہے اور وہ مردہ حشر تک اس عذاب میں مبتلا رہتا ہے ۔

    مرنے کے بعد ہر مردے کو صبح اور شام  اس کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے ، فرشتے جنتی کو جنت دکھا کر خوشخبری دیتے ہیں، اور دوزخی کو دوزخ دکھا کر اس کی حسرت اڑاتے ہیں ۔

    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم سب کو مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جو  مسلمان اس دنیا سے جا چکے ہیں ان کی بخشش فرمائے آمین ۔

  • جمعتہ المبارک  کی سنتیں  تحریر: محمد آصف  شفیق

    جمعتہ المبارک  کی سنتیں  تحریر: محمد آصف  شفیق

    جمعہ کا دن دین اسلام میں ایک خاص مقام رکھتا ہے اس دن کے حوالے سے رب کریم قرآن کریم میں  فرماتے ہیں

    يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۭ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ

    اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذِکر کی طرف دوڑو اور خریدو فروخت چھوڑ دو ، یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو۔(9سورۃ الجمعہ)

    اور پھر اگلی ہی آیت میں فرمایا جا رہا ہے کہ 

    فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ

    پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو ، شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہو جائے۔(10سورۃ الجمعہ )

    اس دن میں  غسل کرنا اچھی طرح تیار ہونا خوشبو لگانا سب نبی مہربان ﷺ کی سنتیں  ہیں اس  دن کی برکت کو سمجھنے  کیلئے چند احادیث مبارکہ کا  آج مطالعہ کریں گے

    حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور جس قدر ممکن ہو، پاکی حاصل کرے، یا پھر تیل لگائے یا خوشبو ملے اور مسجد میں اس طرح جائے کہ دو آدمیوں کو جدا کرکے ان کے درمیان نہ بیٹھے اور جس قدر اس کی قسمت میں تھا، نماز پڑھے، پر جب امام خطبہ کیلئے نکلے تو خاموش رہے، تو اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔

    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 874

    حضرت ابوالیمان، شعیب، زہری، طاؤس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا کہ لوگوں کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرو، اور اپنے سروں کو دھولو، اگرچہ تمہیں نہانے کی ضرورت نہ ہو، اور خوشبو لگاؤ، تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جواب دیا کہ غسل کا حکم تو صحیح ہے، لیکن خوشبو کے متعلق مجھے معلوم نہیں۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 850 )

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے جو شخص جمعہ کی نماز کیلئے آئے تو وہ غسل کر لے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 860)

    حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ مرد پر واجب ہے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 861)

    حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جمعہ کے دن سویرے نکلتے اور جمعہ کی نماز کے بعد لیٹتے تھے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 868)

    حضرت یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب روایت کرتے ہیں، کہ ان سے سائب بن یزید نے بیان کیا کہ جمعہ کے دن دوسری اذان کا حکم حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیا، جب کہ اہل مسجد کی تعداد بہت بڑھ گئی، اور جمعہ کے دن اذان اس وقت ہوتی تھی جب کہ امام (منبر پر) بیٹھ جاتا تھا۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 879)

    نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے بروقت   مسجد پہنچنے کی فضیلت اس حدیث  مبارکہ میں  یوں بیان کی گئی ہے 

    حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور سب سے پہلے اور اس کے بعد آنے والوں کے نام لکھتے ہیں اور سویرے جانے والا اس شخص کی طرح ہے جو اونٹ کی قربانی کرے پھر اس شخص کی طرح جو گائے کی قربانی کرے اس کے بعد دنبہ پھر مرغی، پھر انڈا صدقہ کرنے والے کی طرح ہے جب امام خطبہ کے لئے جاتا ہے تو وہ اپنے دفتر لپیٹ لیتے ہیں اور خطبہ کی طرف کان لگاتے ہیں۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 893)

    جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی ہے  جس میں اللہ  رب العالمین سے  جو بھی  دعا کی جائے وہ قبول ہوتی ہے  جسے اس حدیث مبارکہ میں یوں   بیان کیا گیا ہے

    حضرت  ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس دن میں ایک ساعت ایسی ہے کہ کوئی مسلمان بندہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے اور اس ساعت میں جو چیز بھی اللہ سے مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عطا کرتا ہے، اور اپنے ہاتھوں سے اس ساعت کی کمی کی طرف اشارہ کیا۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 899 )

    آپ ﷺ  جمعہ کے دن نماز فجر میں  سورۃ السجدہ اور سورۃ  دہر  کی  تلاوت فرماتے

    ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت الم تَنْزِيلُ (السَّجْدَةُ) اور هَلْ أَتَی عَلَی الْإِنْسَانِ ( سورت دہر) پڑھتے تھے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1025)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے، مگر یہ کہ اس کے ایک دن پہلے یا اس کے بعد ملا کر روزہ رکھے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1910)

    ہمیں کوشش کرنی چاہئے  کہ ہم جمعہ کے دن جلد مسجد پہنچیں  تاکہ ہمارا نام بھی  اول  وقت میں آنے والوں میں لکھا جائے

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے ہر دروازہ پر (متعین ہو کر) سب سے پہلے پھر اس کے بعد (پھر اس کے بعد اسی طرح) آنے والے کو لکھتے رہتے ہیں جب امام (خطبہ کے لئے) منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے صحیفوں کو لپیٹ لیتے ہیں اور خطبہ سننے کے لئے آجاتے ہیں۔(صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 471)

    اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں  جمعہ کی فضیلت کو سمجھنے والا اور  اس دن کے اجر وثواب کو حاصل کرنے والا بنا دے  آمین یا رب العالمین

  • اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ تحریر: علی حمزہٰ 

    اللّٰه تعالیٰ نے اس دنیا میں کم و پیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ ان میں سے کسی نا کسی پر کتاب یا صحیفے نازل فرمائے اور اپنے دین کے کام کے لیے کسی نا کسی جگہ پر اُتارا اور وہ آکر لوگوں کو اللّٰهِ تعالیٰ کی وحدانیت کا درس دیتے۔ اللّٰه تعالیٰ نے اپنے دین کی ترویج و تقسیم کا کام حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کیا جو کہ ہم سب کے باپ ہیں۔ اور یہ سلسلہ ہمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم فرما دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبيين ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ اسی طرح کلمہ طیبہ بھی اسی بات کی گواہی ہے اللّٰه تعالیٰ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔

    لَا إِلٰهَ إِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَسُولُ الله

    ترجمہ:   

    اللّٰه کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

     اسی طرح تمام انبیاء کی سابقہ شریعتوں و طریقوں پر عمل کرنے کا انکار ہے (اس لئے کہ تمام شریعتیں شریعت محمدی  صلی اللہ علیہ وسلم میں سموگئی ہیں) اور صرف اسوئہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر چلنے کا اقرار ہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ کو آخری نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ سلسلہٴ نبوت و رسالت کو آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم پر ختم کر دیا گیا۔ اب آپ کے بعد کوئی رسول یا نبی نہیں آئیگا۔ قرآن کی طرح آپ کی رسالت و نبوت بھی آفاقی و عالمگیر ہے جس طرح تعلیمات قرآنی پر عمل پیرا ہونا فرض ہے اسی طرح تعلیمات نبوی صلی اللّٰه علیہ وسلم پر عمل کرنا فرض ہے۔ آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم کی دعوت تمام جن و انس کیلئے عام ہے دنیا کی ساری قومیں اور نسلیں آپ کی مدعو ہیں تمام انبیاء کرام میں رسالت کی بین الاقوامی خصوصیت اور نبوت کی ہمیشگی کا امتیاز صرف آنحضرت صلی اللّٰه علیہ وسلم کو حاصل ہے۔ آنحضرت صلی اللّٰه علیہ وسلم گروہ انبیاء کرام کے آخری فرد ہیں اور سلسلہٴ نبوت و رسالت کی آخری کڑی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلاصہ انسانیت ہیں۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کی گواہی قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔

    چنانچہ اس آیت میں اس کی پوری وضاحت اور ہرطرح کی صراحت موجود ہے "مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِن رَّسُولَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلَیْمًا”

     نہیں ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن اللّٰه کے رسول اور تمام انبیاء کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں اور اللّٰه ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

    اس آیت میں اللّٰه تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی کہہ کر نبوت کا سلسلہ ہی ختم کر دیا ہے۔ اس کے بعد اب کوئی گنجائش ہی نہیں بچتی کوئی قیامت تک نبی آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بہت سے لوگوں نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا لیکن سب جہنم واصل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانے بنا کوئی دائرہ اسلام میں داخل ہی نہیں ہو سکتا۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نا مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا۔

    اَنَا خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِيَ بَعْدِيْ.

    ”میں خاتم النبیّین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔”

    پس سلسلہ نبوت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہو چکا ہے اس لیے جو شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کو نبی مانے یا جائز جانے یا نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔

    امام ابوحنیفہ رح کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کے علامات پیش کروں اس پر امام اعظم نے فرمایا کہ جو شخص اس سے نبوت کی کوئی علامت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہوجائے گا کیونکہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم فرماچکے ہیں کہ "لاَنَبِیَّ بَعْدِیْ”  غرض یہ کہ شروع سے اب تک تمام اسلامی عدالتوں اور درباروں کا یہی فیصلہ رہا ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرنے والے اور اسے ماننے والے کافر مرتد اور واجب القتل ہیں۔

    اللّٰه تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ اللّٰه تعالیٰ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سچی اور پکی محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    Twitter Handle: @AliHamz21

  • کشف الاسرار تحریر کاشف علی

    1400 سو سال پہلے آج ہی کے دن یعنی 12 ربیع الاول کو12 ربیع الاول سن 11 ھجری سوموار کا دن اور زوال سے پہلے کا وقت ہے۔ سورج کی زرد کرنیں زمین سے ٹکرا رہی ہیں ۔نبی کریم رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کیساتھ ٹیک لگائے ہوئے ہیں۔ پانی کا پیالہ پاس رکھا ہوا ہے۔ اس میں ہاتھ ڈالتے اور چہرہ انور پر پھرا لیتے ہیں۔ روئے اقدس کبھی سرخ اور کبھی زرد پڑ جاتا ہے۔ زبان مبارک آہستہ آہستہ حرکت میں ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور موت تکلیف کیساتھ ہے۔ یہ الفاظ ورد زبان ہیں۔حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنھما ایک تازہ مسواک لیے سامنے آتے ہیں۔آپ کی نظر مسواک پر جم جاتی ہے۔ ادھر اماں عائشہؓ سمجھ جاتی ہیں کہ آپﷺ مسواک فرمانا چاہتے ہیں۔ ام المؤمنین نے مسواک اپنے دانتوں میں نرم کرکے پیش کی اور آپﷺ نے بالکل تندرستوں کی طرح مسواک استعمال کی اور ہھاتھ اونچا فرمایا گویا کہ کہیں تشریف لے جا رہے ہیں اور زبان اقدس سے فرمایا۔ بل الرفیق الاعلی۔اب کوئی اور نہیں صرف اسی کی رفاقت منظور ہے۔ بل الرفیق الاعلی ، بل الرفیق الاعلی۔ تیسری آواز پر ہاتھ نیچے کو لٹک آئے ،آنکھ کی پتلی اوپر کو اٹھ گئیاور روح مبارک عالم قدس کو ہمیشہ کیلئے رخصت ہو گئی۔اللھم صل علی محمد و علٰی آل محمد و بارک وسلم۔ عمر مبارک قمری حساب سے63 سال4 دن ہے ۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اس غم ہائے بیکراں اور حادثہ دلفگار (دل کو چیر دینے والا حادثہ) کی خبر فوراً مدینہ میں پھیل گئی تب عمرؓ کھڑے ہوے تلوار نکالی اور کہا جس نے کہا رسول اللہؐ فوت ہوگئے ہیں میں اس کی گردن اڑا دوں گا یہ عالم جذبات تھا عمرؓ شدت جذبات سے تقریر کر رہے تبھی ابوبکرؓ آئے نبیؐ کا دیدار کیا چہرہ اقدس سے کپڑا اٹھا کر پیشانی مبارک پر بوسہ دیا پھر چادر واپس ڈال دی اور روتے ہوئے فرمایا، حضورﷺ پر میرے ماں باپ قربان آپﷺ کی زندگی بھی پاک تھی اور آپﷺ کی موت بھی پاک ہے، واللہ اب آپﷺ پردوموتیں وارد نہیں ہوں گی، اللہ نے جو موت لکھ رکھی تھی۔ آج آپﷺ نے اسکا ذائقہ چکھ لیا ہے اور اب اسکے بعد ابد تک موت آپﷺ کا دامن نہیں چھو سکے گی۔. اور باہر تشریف کائے اور عمرؓ جوش میں تقریر کر رہے تھے کہ خبردار نبیؐ فوت نہیں ہوے بلکہ حضرت موسیٰؑ کی طرح 40 دن کے لیے گئے ہیں وغیرہ اس دوران ابو بکرؓ نے عمرؓ سے فرمایا عمر رکو میری بات سنو مگر عمرؓ جوش سے تقریر کر رہے تھے تب ابوبکر ؓ نے لوگوں اپنی طرف بلایا لوگ عمرؓ کو چھوڑ کر ابوبکرؓ کی طرف آئے حمد و ثناء کے بعد فرمایا جو جو محمدؐ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے( ان محمد قد مات )تحقیق بے شک محمدؐ وفات پاچکے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ اللہ حی القیوم ہے اور یہ آیات پڑھیں
    وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ‌ؕ اَفَا۟ٮِٕنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ‌ؕ وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡـــًٔا‌ ؕ وَسَيَجۡزِى اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ
    ترجمہ:

    اور محمد (خدا نہیں ہیں) صرف رسول ہیں ‘ ان سے پہلے اور رسول گزر چکے ہیں اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے تو جو اپنی ایڑیوں پر پھرجائے گا سو وہ اللہ کا کچھ نقصان نہی کرے گا اور عنقریب اللہ کا شکر کرنے والوں کو جزا دے گا

    یہ آیت سن کر صحابہ کو لگا کہ جیسے یہ آیت آج ہی اتری ہے تب یہی12 ربیع الاول کا دن تھا عمرؓ فرماتے ہیں کہ ابوبکرؓ سے یہ آیت سن کر میرے پاؤں ٹوٹ گئے اور کھڑے رہنے کی قوت باقی نہیں رہی تھی، میں زمین پر گر پڑا اور مجھ کو یقین ہوگیا کہ واقعی محمدؐ رحلت فرما گئے ہیں۔صحابہ کلیجہ تھام تھام کر رو رہے کچھ سمجھ نہیں جو بیٹھے تھے شدت غم سے کھڑا نا ہوا جارہاتھاکئی صحابہ حیران وسرگردان ہو کر آبادیوں سے نکل گئے۔ کوئی جنگل کی طرف بھاگ گیا۔ جو بیٹھا تھا بیٹھا رہ گیا، جو کھڑا تھا اس کو بیٹھ جانے کا یارانہ ہوا۔ مسجد نبوی قیامت سے پہلے قیامت کا نمونہ پیش کر رہی تھی . مدینہ فضا سوگوار تھی صحابہ زارو زار آنسو بہا رہے دنیا سے بہت بڑی رحمت رخصت ہو چکی تھی انکے محبوبؐ ان سے جدا ہو چکے شدت غم سے کلیجے پھٹے جارہے تھے یقینًا 12 ربیع الاول کا دن تھا آنکھوں سے آنسووں کی لڑیاں ذباں سے درود سلام یقینًا یہ صدمہ اولاد اور مال و جان سے بڑھ کر تھا کیوں کہ وہ حقیقی طور نبیؐ سے اپنی مال و جان اولاد سے بڑھ کر محبت رکھتے تھے بھلا کسی کا ایسا رحیم نبی اور ایساکریم سردار ہوسکتا ہے
    فضاء اداس اور ملول ہے دنیا کی تاریخ کا سب بہترین اور رحمت بھرا دور اختتام پذیر ہو رہا تھا آج کا سورج افسردہ تھا 12 ربیع الاول مدینے کی یہ شام غمگین اور افسردہ تھی آنسووں سے فضاء نمناک تھی اگرچہ انسانوں اور فرشتوں کے جھنڈ کے جھنڈ آرہے تھے مگر اتنے رش کے باوجود مدینہ ویران ویران لگ رہاتھا جس کے سبب اس عالم پر اک خصوصی رحمت تھی آہ! کہ آج اسی وجود سرمدی سے ہماری دنیا خالی ہے۔
    اس سوگوار اور نمناک فضاء میں اک دلدوز غم سے بھری آنسووں سے لبریز صدا بلند ہوتی تھی ۔آہ! وہ کون ہے جو جبرائیل امیں کو اس حادثۂ غم کی اطلاع کر دے۔الٰہی! فاطمہؓ کی روح کو محمدؐ کی روح کے پاس پہنچا دے۔ الٰہی! مجھے دیدار رسول کی مسرت عطا فرما دے۔
    حضرت فاطمہؓ کی آنکھ سے آنسو نا رکتے تھے آج فاطمہؓ کے بابا ان سے بچھڑ گئے تھے کیا فاطمہؓ کے بابا جیسا کوئی بابا ہوسکتا ہے وہ جو پتھر کھا کر دعا کرے وہ جو دو جہانوں کے لیے رحمت تھا آج کا12 ربیع الاول کا دن تھا فاطمہؓ کا پیارا بابا ان سے جدا ہوگیا تھا
    حضرت عائشہؓ اور تمام ازواج مطہرات شدت غم سے نڈھال ہیں بھلا ایسا محبوب وعظیم شوہر دنیا میں جس کی مثال نہیں آج عائشہؓ کے سر کے تاج رخصت ہوچکے ہیں سرکار دو عالمؐ رحمةللعالمین رخصت ہوے
    بلالؓ ہائے بلالؓ پر غم کے پہاڑ ٹوٹ گئے ان کے آقاؓ ان سے بچھڑ گئے ہیں بلالؓ شدت غم سے نڈھال ہیں صدمہ اسقدر زیادہ ہے کہ بلالؓ نے اس کے بعد ازان نہیں کہی اور گلیوں میں لوگوں سے کہتے تھے لوگو تم نے رسول اللہؐ کو دیکھا ہے تو مجھے بھی دکھا دو حتیٰ کہ مدینہ چھوڑ دیاکافی عرصہ بعد واپس آئے تو سیدنا حسنین کریمین سے سفارش کروائی گئی جب آپ نے آزان دی جب آپ رضی اللہ عنہ نے (بآوازِ بلند) اﷲ اکبر اﷲ اکبر کہا، مدینہ منورہ گونج اٹھا (آپ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے جذبات میں اضافہ ہوتا چلا گیا)، جب أشهد أن لا إلٰه إلا اﷲ کے کلمات ادا کئے گونج میں مزید اضافہ ہو گیا، جب أشهد أنّ محمداً رسول اﷲ کے کے کلمات پر پہنچے تو تمام لوگ حتی کہ پردہ نشین خواتین بھی گھروں سے باہر نکل آئیں (رقت و گریہ زاری کا عجیب منظر تھا) لوگوں نے کہا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد مدینہ منورہ میں اس دن سے زیادہ رونے والے مرد و زن نہیں دیکھے گئے۔

    علامہ اقبال رحمۃ اﷲ علیہ اذانِ بلال رضی اللہ عنہ کو ترانۂ عشق قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

    اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
    نماز اُس کے نظارے کا اک بہانہ بنی
    12 ربیع الاول کے دن اس ذمین کا سب بہترین وقت اختتام پذیر کیونکہ نبیؐ نے فرمایا
    سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب میں بہترین زمانہ میرا ہے۔ پھر جو ان سے نزدیک ہیں، پھر جو ان سے نزدیک ہیں پھر جو ان سے نزدیک ہیں۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ٹھیک سے نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زمانہ کے بعد دو کا ذکر فرمایا یا تین کا ذکر فرمایا۔ پھر ان کے بعد وہ لوگ پیدا ہوں گے جو گواہی کے مطالبہ کے بغیر گواہی دیں گے، خائن ہوں گے اور امانتداری نہ کریں گے، نذر مانیں گے لیکن پوری نہ کریں گے اور ان میں موٹاپا پھیل جائے گا۔

  • رحمت للعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم  تحریر: خوشنود

    رحمت للعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم  تحریر: خوشنود

           جب سے یہ کائنات ظہور میں آئی ہے اللّٰہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی، اپنے بندوں کی اصلاح اور انہیں سیدھی راہ پر چلانے کے لئے مختلف ادوار میں کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کو بھیجا۔ نبوت کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر آکے ختم ہوا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللّٰہ عزوجل کے تمام انبیاء مرسلین رحمت تھے مگر رحمت للعالمین نہیں تھے۔ اُنکی نبوت اپنی قوم، اپنے دور اور اپنے زمانے تک محدود تھی جبکہ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت و شفقت ہر عہد، ہر زمانے، ہر قوم اور تمام جہانوں کے لئے ہے۔ سرکارِ دو عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو اللّٰہ تعالیٰ نے رحمت للعالمین بنا کر بھیجا۔ جہاں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنا تعارف رب العالمین کروایا ہے وہاں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمت للعالمین کے لقب سے نوازا۔یہ لقب اور شرف ایسا ہے جو کسی اور کے لئے استعمال نہیں کیا گیا۔

    قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: 

    وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین

    "اور (اے پیغمبر) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔”

    اس آیتِ کریمہ پر توجہ کی جائے تو معلوم ہوتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صرف عرب کے لئے رحمت بنا کر نہیں بھیجا گیا تھا۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم صرف اُمتِ مسلمہ کے لئے رحمت نہیں، تمام نبیوں، رسولوں اور فرشتوں کے لئے بھی رحمت ہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تمام چرند پرند، حیوانات و نباتات کے لئے بھی سراپا رحمت بن کر آئے۔ غرض عالم میں جتنی چیزیں ہیں سید المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سب کے لئے رحمت ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ جو تمام عالموں کا مالک و مختار ہے اُس نے اِن عالموں کے لئے رحمت کا اہتمام اپنے آخری نبی محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت میں کر دیا۔ 

    چھٹی صدی عیسوی کا زمانہ جو بعثت نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل کا زمانہ ہے اُس زمانے میں نہ صرف سر زمین عرب بلکہ پوری دنیا جہالت و گمراہی کا شکار تھی۔ پورا معاشرہ پستیوں کی گہری دلدل میں ڈوبا ہوا تھا۔ ذات پات کا ایسا خوفناک نظام رائج تھا کہ انسانیت پناہ مانگتی تھی۔

    حیوان تو حیوان آپس میں انسانوں کے ساتھ بھی جانوروں سے بدتر سلوک کیا جاتا تھا۔ انسان انسان کا دشمن اور بھائی بھائی کے لہو کا پیاسا تھا۔ یتیموں کا مال ہڑپ کر لیا جاتا تھا اور بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ کفر و شرک، ظلم و بربریت، قتل و غارت، چوری، ڈاکہ زنی، شراب نوشی نیز ہر قسم کا گناہ عام تھا۔ ان سب حالات اور گھٹا ٹوپ اندھیرے کو دور کرنے کے لئے عرب کی سر زمین سے وہ آفتابِ ہدایت طلوع ہو جسکی چکا چوند کر دینے والی روشنی نے جہالت کی تمام تاریکیوں کو ختم کر دیا۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی۔ جس معاشرے میں غلام اور عورت کی کوئی عزت نہیں تھی آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس معاشرے میں غلاموں کو بھی عزت دلوائی عورت کو بحیثیت ماں، بہن، بیٹی، بیوی ہر روپ میں بلند مقام بخشا۔ اللّٰہ تعالیٰ کے تمام احکامات کی صرف تبلیغ نہیں کی بلکہ اپنی زندگی میں عملی طور پہ کر کے بھی دکھایا۔ وہ معاشرہ جو اپنے افعال و اعمال اور اخلاق و کردار کے لحاظ سے حیوانوں سے بھی بدتر تھا آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہو کر فرشتوں سے بھی افضل گردانا گیا۔ الغرض تاریخِ انسانی میں حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ایک ایسا اعلیٰ و ارفع مقام رکھتی ہے جسکی کوئی مثال نہیں۔ 

    وہ دانائے سبل ختمُ الرسل مولائے کُل جس نے 

    غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادی سینا 

    نگاہِ عشق ومستی میں وہی اول، وہی آخر

    وہی قرآں،وہی فرقان، وہی یٰسین، وہی طہٰ

    آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم محسنِ انسانیت ہیں، انسان کامل ہیں اور ہر لحاظ سے قابلِ تقلید ہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی قیامت تک کے انسانوں کے لئے بہترین نمونہ ہے۔ بطور مسلمان ہمیں ہر وقت اللّٰہ کریم کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے کہ اُس نے ہمیں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا اُمتی بنایا۔ جو شخص دنیا میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے گا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و پیروی کرے گا اُسے دونوں جہانوں میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت سے حصہ ملے گا۔ ہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم سیرتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا مطالعہ کریں اور اپنی زندگی کے ہر پہلو میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو اپنے لئے مشعلِ راہ بنائیں تا کہ ہماری دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں۔

    @_Khushnood_

  • رسول ﷺ سے محبت تحریر : محمد عدنان شاہد

    اگر حب رسول ﷺ کی بات کی جائے تو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔ رسول اکرم کی محبت دین اسلام کی اصل بنیاد میں ہے۔ ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ اللہ کو معبود ماننے کے بعد نبی کو اس کا رسول بھی مانتا ہے درحقیقت نبی اکرم اس سے آپ سے محبت شرط جس نے میری محبت کا دعوی کیا اسے چاہئے کہ وہ آپ ﷺ کی پیروی کرے” اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی اکرم نے ارشادفر مایا، ” تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والدین ، اس کی اولا داور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں”( صحیح بخاری)

    حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کے دل میں آپ ﷺ کے لئے محبت تمام قریبی رشتوں سے زیادہ ہو۔ اس سے مراد وہ جذباتی محبت نہیں جو انسان کو اپنی بیوی یا اولاد سے ہوتی ہے کیونکہ جذبات اللہ تعالی کے بناۓ ہوۓ ہیں ، اس سے ہٹ کر یہاں اختیاری محبت ہے۔ یہ سب سے زیادہ نبی اکرم ﷺ سے ہونی چاہئے ۔ اس محبت کا معیار قرآن وحدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر آدمی کے سامنے کوئی ایسا موڑ آ جائے جہاں اس کو یہ فیصلہ کرنا ہو کہ بیوی بچوں کی محبت میں میں کام کر دوں یا نبی ﷺ کا حکم مانوں کیونکہ آپ ﷺ نے اس کو کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ اگر انسان اس جگہ اس چیز کو اختیار کر لے جو نبی ﷺ سے محبت رکھتا ہے۔اور جس کے آپ کی محبت نہیں وہ عذاب الہی کو دعوت دیتا ہے۔ ” نبی کا تعلق مومنوں کے ساتھ اس ۔ ہے جتنا ان لوگوں کا اپنے آپ سے ہے”. (الاحزاب)

    حب رسول کا اصل تقاضا ہے "اتباع رسول . ” اللہ پاک قرآن پاک میں ارشادفرماتے ہیں: "اے نبی!(اہل ایمان سے کہہ دیجئے کہ اگرتم اللہ سے محبت رکھتے ہوتو میرا اتباع کرو(می عمران آیت 31)

    اتباع کا مفہوم ہے ” محبت کے جذبے سے سرشار ہوکر پیروی کرنا” اتباع کا تقاضا یہ ہے کہ نہ صرف حضرت محمد ﷺ کے قول پرعمل کیا جائے بلکہ ان کے فعل کی بھی پیروی کی جاۓ۔ حب رسول ﷺ کا اصل تقاضا ہی یہ ہے کہ ہماری زندگیاں احکام نبی ﷺ کے تابع ہو جائیں۔ہماری زندگی نبی اکرم ﷺ کے اسوہ حسنہ کے سانچے میں ڈھل جاۓ ۔ ہماری زندگیاں اس راستے کی طرف چل
    پڑیں جس کے لئے نبی اکرم ﷺ مبعوث ہوۓ۔ جس کے لئے صحابہ کرام نے مصائب و مظالم برداشت
    کئے ۔اسے ملک نصر اللہ عزیز مرحوم نے ایک بڑے سادے انداز میں بیان کیا ہے
    مری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
    (الحشر )

    میں اس لیے مسلماں میں اسی لیے نمازی اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کا تقاضا امر بمعروف و نہی عن المنکر ہے۔
    اللّه پاک ہم سب کو سچا عاشق رسول ﷺ بننے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے بتاے ہوے اصولوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
    اے ہمارے رب! ہم کو اپنے رسول ﷺ کی محبت نصیب فرما جو آپ کو پسند ہو۔(آمین

    @RealPahore