Baaghi TV

Category: مذہب

  • گزشتہ جمعہ یوم استغفار تھا تحریر عثمان

    گزشتہ جمعہ یوم استغفار تھا تحریر عثمان

    میری لاہوری قیام گاہ سے خاصی دور جلسہ گاہ ہے جہاں اس وقت ایک بڑے یا بہت بڑے جلسے کی تیاریاں جاری ہیں ۔ جب آپ یہ سطریں  زہر مار کر رہے ہوں گے تو یہ چھوٹابڑا یا بہت بڑا جلسہ ہو چکا ہو گا، اس کے بارے میں کسی پیش گوئی کی ضرورت نہیں ۔ شاہی قلعے اور شاہی مسجد کے نزدیک ترین پڑوس میں مینار پاکستان اور اس کا سبزہ زار واقع ہے ۔ یہ جگہ اس شہر کی سیاسی جلسہ گاہ نہیں ۔ اس شہر کی تاریخی جلسہ گاہ اور سیاسی علامت باغ بیرون موچی دروازہ ہے۔  لیکن پرانی سیاست والا موچی دروازہ اب عہد حاضر کی حاضری کی وسعت کو سمیٹ نہیں سکتا۔ آج کے سامعین جلسہ کو نظریات اور سیاسی مقام و مرتبہ سے کہیں زیادہ مال و دولت کی فراوانی دکھائی جاتی ہے۔ جس کی بہتر نمائش مینار پاکستان میں ہوتی ہے۔ جلسہ عام جدید سیاستدانوں کا ہو یا جبہ ود ستار والوں کا، سب کے انداز خسروانہ ہی ہوتے ہیں ۔ موچی دروازے کا ڈیڑھ دو سو روپے خرچ والا پبلک جلسہ آج کروڑوں بلکہ ان سے بھی زیادہ کے خرچ سے منعقد ہو تا ہے ۔اس سیاسی انقلاب کا ایک خوفناک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایسے بڑے بڑے جلسے کر نے والے ان کا خرچہ سیاست سے وصول کرتے ہیں۔ اور ہم سب کھلی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھتے ہیں لیکن پھر کیا کر تے ہیں، اسے مت پوچھئے۔ ہماری حالت دیکھئے کہ اب کوئی ایسا گہر اکنواں بھی باقی نہیں رہا جس میں ہمارے زوال کا گوشوارہ گرتے گرتے گم ہو جاۓ ۔ ہمارے اس ملک کی سرحد میں ابھی تک کیوں باقی ہیں اور ہمارے مٹانے والے کن سوچوں میں پڑے ہیں معلوم نہیں۔ لیکن عمرانی حکیموں اور قوموں کے حالات سے تعارف رکھنے والوں نے ایک خیال یہ ظاہر کیا ہے کہ فی الحال ہمارے آقا ہمیں زندہ تو رکھنا چاہتے ہیں مگر بہت کمزور ،کسی ایٹمی قسم کے نخرے اور نخوت کے بغیر ۔ معلوم ہوا کہ پیپلز پارٹی اور جناب آصف زرداری کی پانچ برس کی حکومت نے ان کا بہت سارا کام نپٹا دیا ہے اور اس ملک کے معاشرے میں کر پشن کا زہر گھول کر اسے بے جان کر دیا ہے ۔اب میں دفاع کے قابل نہیں رہا۔ ادھر بھارت نے عام لام بندی کا پروگرام شروع کر دیا ہے۔ جس میں ہر بھارتی کو فوجی تربیت دی جائے گی اور اس کی فوج میں بھرتی بھی ہو گی، اسرائیل کی طرح۔ 

     میں نے اپنی ذاتی اور قوم کی حالت دیکھ کر دل کو جو پریشانی لگا لی  تھی۔  اس سے گھبرا کر میں ایک روحانی رہنما کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان کا خیال تھا کہ ”ایک وہ زمانہ تھا جب قومیں بنے اور بگڑنے میں برسوں لگادیتی تھیں یعنی وہ بننے اور پھر مٹنے میں بھی کئی برس اور نسلیں لگا دیتی تھیں۔ لیکن اب زمانہ بہت تیز ہو چکا ہے۔ برسوں کے کام مہینوں میں ہو رہے ہیں۔ ضمیر کو مطمئن رکھنے کے لئے جو ہو سکتا ہے وہ کرتے رہیں۔ قلبی اطمینان کی حالت میں ان حالات سے گزر جائیں۔ ہم نے خود یہ ثابت کیا ہے کہ ہم ایک جدید ریاست چلانے کے اہل نہیں ہیں۔ نہ ہمارے اندر اس کاجذ بہ ہے نہ ہماری نیت درست ہے اور نہ ہی سمجھ بوجھ۔ ہمارے بانی اور قائد کی جیب میں کھوٹے سکے تھے اور ہمارے سابقہ حکمرانوں کے ایک مستند دانشور نے فیصلہ دیا تھا کہ ہم ابھی آزادی کے اہل نہیں ہیں ۔ ہندو ہم سے کچھ بہتر ثابت ہوۓ جو زوال

    نہیں استقلال کی طرف بڑھ رہے ہیں”۔ ہماری ایک مذہبی جماعت کے سربراہ سید منور حسن نے حالات سے گھبرا کر قوم سے استغفار کی اپیل کی ۔ گزشتہ جمعہ کو قوم نے اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی۔ یہ ایک بڑا ہی مشکل کام ہے ، پہلے گناہ کا اعتراف کر نا پڑ تا ہے اور پھر اس کی معافی اور یہ سارا عمل خاموشی کے ساتھ بندے اور اس کے آقا کے درمیان رہتا ہے ۔ استغفار کا مطلب ہے پہلے کسی کو اپنا آقا تسلیم کر نا پھر اس سے معافی مانگنا۔ یہ ایک بڑاہی نیک انسانی عمل ہے جو کسی کسی کے

    نصیب میں ہو تا ہے۔ ایک برقی پیغام ملا جس نے استغفار کا ایک انتہائی مؤثر واقعہ بیان کیا ہے۔ میں آپ کو اس میں شریک کر تاہوں۔ حضرت امام احمد بن حنبل کو سفر میں رات آگئی تو وہ قریبی گاؤں کی مسجد میں رات بسر کرنے چلے گئے اور صحن میں لیٹ گئے۔ چوکیدار آیا اور اس نے انہیں مسجد سے باہر نکال دیا۔ وہ مسجد سے باہر ایک جگہ پر لیٹ گئے تو وہی چوکیدار پھر آیا اور ان کو پاؤں اور ٹانگ سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا دور لے جاکر پھینک دیا۔ اس وقت ایک صاحب آئے اور انہیں گھر لے گئے ۔ وہ کچھ پڑھتے رہے ۔ امام نے پوچھا کیا پڑھ رہے ہیں ؟ اس نے جواب میں کہا استغفار کرتا رہتا ہوں۔ اس کا فائدہ کیا ہو تا ہے ، امام کے اس سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ میری ہر دعا قبول ہوتی ہے البتہ میری ایک دعا ابھی تک قبول نہیں ہوئی اور وہ ہے امام احمد بن حنبل سے ملاقات، جس کی مجھے شدید خواہش ہے۔اس کے جواب میں امام نے کہا کہ قدرت اسے تو زمین پر گھسیٹ کر تمہارے پاس لے آئی ہے۔ 

    @candiusman

  • اولیا کرام کی اسلام کے لئے خدمات… تحریر جام محمد ماجد..

    اولیا کرام کی اسلام کے لئے خدمات… تحریر جام محمد ماجد..

    اللّه کریم رحمن و رحیم جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے جس نے ساری کائنات بنائی اور اس میں سے انسان کو اعلی مقام دے کر اشرف المخلوقات بنا کر پوری کائنات میں دیگر تمام مخلوقات میں فضیلت عطا فرمائی حضرت آدم علہیہ السلام کو تخلیق فرما کر ابو البشر بنایا اور اللّه پاک نے تمام فرشتوں کو انھیں سجدہ کرنے کو کہا تمام فرشتوں نے حکم کی تعمیل کی سواے ابلیس نے پس وہ مردود ہوا اور حکم ماننے سے انکار کیا تو ذلیل و خوار اور رسوا ہوا اور اسی طرح سے اس دن سے لے کر بہکانا شروع کیا اور آج تک بہکاتا آیا ہے تو اللّه تعالیٰ نے انسانوں کو راہ راست پے لانے کے لئے انبیا کرام کو کو نازل کیا جنہوں نے بھٹکے ہووں کو راہ راست پے لیا اور اللّه کی وحدانیت اور اللّه کے دین کی تعلیم دی اسی طرح سے یہ سلسلہ چلتہا یہاں تک کے ہمارے پیارے نبی پاک نبی آخر زماں حضرت محمد صلی اللّه علیہ وسلم تشریف لاے جو کے اللّه کے آخری رسول اور نبی ہیں آپ صلی اللّه علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلم ہو گیا ہے آپ صلی اللّه علیہ وسلم کی تعلیمات کو رہتی دنیا تک انسانیت کی فلاح و بہبود کا ذریعہ قرار دیا گیا حضور پاک صلی اللّه علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابہ کرام رضی اللّه عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللّه علیہ وسلم کے دین حق کی تبلیغ کی اور اسلام کو پھیلایا ان کے بعد دین اسلام کی تبلیغ کو اللّه کے نیک کامل بندوں نے سنبھالا اور لوگوں کو اللّه تعالیٰ اور حضور نبی کریم صلی اللّه علیہ وسلم کے دین کی پہچان کرائی جس سے یہ نیک لوگ اولیا اللّه کے منصب پر فیض ہوے اور انہیں نیک بندوں کے بارے میں اللّه تعالیٰ نے قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرمایا کے انھیں نہ کسی بات کا خوف ہو گا نہ ہی کسی چیز کا ڈر ہو گا
    اللّه کریم کے یہ نیک صالح بندے اپنی عادت و اطوار میں حضور نبی کریم صلی اللّه علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہیں اور سنتوں پر سختی سے کاربند ہوتے ہیں برصغیر پاک و ہند میں انہی نیک صالح اولیا اللّه کی وجہ سے اللّه پاک نے اسلام کو طاقت بخشی جس کی وجہ سے یہاں اسلام غالب آیا کیوں کے اولیا اللّه کی آمد فتح سندھ کے ساتھ ہی شورع ہو گئی تھی اور نیک لوگوں کی محبت سے لوگ جوق در جوق دین اسلام کی طرف کھنچے چلے آے کیوں کے اس سے پہلے برصغیر اندھیروں بتوں کی پوجا اور کفر سے ڈوبا ہوا تھا بعد میں اسلام کی روشنی سے مالامال ہو گیا اور یہ سب اللّه کے نیک بندوں کی محبت سے پھیلای گئی تبلیغ کا نتیجہ ہے اور اس طرح اللّه کے کامل اور صالح لوگوں کے فیض سے ہر سو روشنی پھیل گئی اور برصغیر پاک و ہند اسلام کا مرکز بن گیا .
    اللّه پاک ہمیں سہی معنوں میں اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماے اور پاکستان کو رہتی دنیا تک اسلام و امن کا گہوارہ بناے آمین…
    پاکستان زندہ باد

    ٹویٹر ہینڈل @Majidjampti

  • محسنِ انسانیت بحثیت معلّمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم  (عالمی یومِ اساتذہ کی مناسبت سے)   تحریر: عرفان صادق

    محسنِ انسانیت بحثیت معلّمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم (عالمی یومِ اساتذہ کی مناسبت سے) تحریر: عرفان صادق

    رسولِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شمار دنیا کی ان چیدہ چیدہ اثرانگیز ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے دنیا کو کئی اہم معاملات میں نئے اسالیب اور جہات سے متعارف کروایا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کامل شخصیت تھے جنہوں نے نا صرف اپنی کمال تربیت بلکہ اپنے کردار سے بھی ایسی جماعت تیار کی جن میں انسانیت کا وجودِ کامل نظر آتا ہے۔ حضرتِ انسان نے اپنی تخلیق سے لے کر رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد تک ہر ایک ذات میں کوئی نہ کوئی کمی، کوتاہی یا غلطی پائی لیکن آمنہ رضی اللہ تعالی عنھا کے بطنِ اطہر سے پیدا ہونے والے لعل نے انسانیت کے لیے ایسا نادر نمونہ پیش کیا جو ہر قسم کی ھفوات سے مبرّا تھا۔ بے شمار خصائصِ جمیلہ و اوصاف حمیدہ کے مرکّب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور معلّم اور مدرّس بے مثل کردار پیش کیا۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے زیادہ متاثر کن معلّم آپ کا اخلاق تھا۔ذیل میں ہم ان چند اصولِ تدریس کا ذکر کریں گے جو حیاتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ماخوذ ہیں ۔
    پہلے شاگردوں میں حصولِ علم کا شوق و جستجو پیدا کرنا پھر علم منتقل کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تدریسی طریقہ تھا ۔ کئی مواقع پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کو مخاطب کرکے پہلے ان میں حصول علم کا اشتیاق پیدا کرتے پھر انتقال فرماتے ہیں مثلا: الا اخبرکم؟ (کیا میں تمہیں خبر نہ دوں ) ، الا ادلکم۔؟(کیا تمہیں ایسی چیز کی رہنمائی نہ کروں) ، اتدرون ما الغیبۃ؟ (کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے )
    اور ایسے کئی الفاظ جو انسان کو چوکنا کر دینے کو کافی ہوتے تھے۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موقعہ کی مناسبت اور طالب علم کی کیفیت دیکھ کر تعلیم دیتے مثلا ایک ہی سوال” اسلام میں سب سے افضل عمل کونسا ہے ؟” مختلف صحابہ کرام رضی اللہ تعالی نے مختلف اوقات میں پوچھا تو ہر ایک کو ان کے ذاتی معاملات اور موقعہ کی مناسب دیکھ کر مختلف جواب دیا ۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طلباء کے ساتھ نرمی اور شفقت کا معاملہ کرتے اور بے جا مارپیٹ اور زود و کوب کرنے سے اجتناب کرنا بھی تعلیمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی خاصہ تھا۔
    حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بطور خادم و طالب علم دس سال گزارے وہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج تک کبھی مجھے مارنا تو دور کی بات غصہ تک نہ ہوئے حتی کہ مجھے یہ تک نہ کہا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا یہ کام کیوں نہ کیا۔؟ سبحان اللہ العظیم ۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو سمجھانے کے لیے کچھ کر کے پیش کرتے ہیں یا کرواتے ۔جسے ہم آج کے جدید دور میں (Activity Based Learning) کا نام دیتے ہیں جس سے موضوع کا فہم اور ادراک صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کے قلوب و اذہان میں ازبر ہو جاتا ۔مثلا ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عصا سے زمین پر ایک سیدھا خط کھینچا اور کہا یہ میرا سیدھا راستہ ہے جو اس پر چلا وہ کامیاب ہوگیا ۔ اور پھر اس خط کے گرد کئی خطوط کھینچے اور کہا یہ گمراہی کے راستے ہیں۔
    اس کے علاوہ رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم ہر میسر آنے والے موقعے میں تعلیم کے پہلو کو اُجاگر کر کے اسے اپنے طلبہ تک پہنچاتے۔ آپنے پاس بغرضِ علم آنے والے طلباء کا خیر مقدم کرتے گفتگو کرتے ہوئے طلباء کو اپنے قریب بٹھاتے اور پھر ان کی طرف اتنی توجہ کرتے ہیں کہ سامعین بھی ہمہ تن گوش ہو جاتے اور کلام کا ایسا انداز اختیار کرتے کہ سننے والے دم سادھ کر بیٹھتے اور ایک ایک بات بعینہ انہی الفاظ کے ساتھ ازبر کر لیتے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان سے نکال دیتےاحادیث کے بے شمار مجموعے اس بات کی کامل دلیل ہیں۔یعنی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم Communication Skills) میں کمال مہارت رکھتے ۔
    شاگردوں سے محبت کے اظہار کے لئے کبھی ان کو مختصر نام یا کبھی کنیت سے پکارتے تھے ۔جیسے ایک دن ایک صحابی کو بلیوں سے کھیلتے دیکھا تو ابوہریرہ کہہ دیا اور پھر وہ تاابد راوی حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بن کر رہ گئے ۔
    ایسے ہی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو مٹی سے کھیلتے دیکھا تو ابوتراب کہہ دیا ۔
    محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسے اپنے طلباء کے لیے تعلیم و تربیت کا بندوبست کرتے ایسے اپنے طلباء کے لئے دعائیں بھی خوب کرتے ۔مثال کے طور پر ایک دن عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا قرآن مجید سے محبت کا عالم دیکھا تو ان کے لئے دعا کی کہ "اللھم علمہ القرآن”
    اے اللہ ان کو قرآن کا عالم بنا دے ۔ایسی دعا کی کہ چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود آج بھی ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ تفسیرِ قرآن کے ماخذ شمار کیے جاتے ہیں ۔
    رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب طلباء سے بات کرتے ہیں تو ان کی گفتگو میں ٹھہراؤ ہوتا اور اپنی بات کو خوب وضاحت کے ساتھ بیان فرماتے ہیں اور حسبِ ضرورت اپنی بات کا اعادہ بھی فرما دیتے ۔ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طلباء کو تعلیم دیتے ہوئے ہاتھوں سے مناسب اشارے یعنی باڈی لینگویج کا بھرپور استعمال کرتے ۔ مثلا ایک دن فرمایا میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ایسے ہوں گے اور ساتھ ہی اپنی شہادت والی اوردرمیانی انگشت مبارک کوملا کر ہوا میں لہرایا۔
    معلّمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طلباء کے فہمِ کامل کے لئے مثالوں کا استعمال کرتے ہیں مثلا ایک دفعہ فرمانے لگے کہ اللہ کو گناہ گار کا توبہ کرنا اس قدر خوشگوار لگتا ہے جیسے کسی بھوکے صحرائی مسافر کو اپنے گمشدہ زادِراہ مل جائے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مناسب اور علم طلب سوال سے خوش ہوتے اور بےکار اور باعثِ مشقت سوال پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے اور کسی سوال کا جواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ ہوتا تو بجائے اپنی طرف سے جواب دینے یا اٹکل پنجو لگانے کے خاموش ہو جاتے اور وحیِ الٰہی کا انتظار فرماتے ۔ کسی قابلِ شرم مسئلہ پر تفہیم مقصود ہوتی تو اس سے ہرگز صرف نظر نہ کرتے لیکن ایسی باتوں کو اشارہ کنایہ کی زبان میں ایسے سمجھاتے کہ انتقالِ علم بھی ہو جاتا اور شرم و حیا کا دامن بھی سلامت رہتا۔
    ایسے ہی آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم طلبہ کسی کے عمل کو آسان بنانے کے لئے پہلے اجمالاً بیان کرتے پھر مکمل تفصیل کے ساتھ مکمل جزئیات کو سمجھاتے اگر کہیں مناسب سمجھتے ہیں کہ تھوڑے کلام سے یہ بات مکمل سمجھ آ جائے گی تو اس پر اکتفا کرتے۔ ایسی احادیث جن میں تھوڑے کلام میں گہری بات کہہ دی جائے ان کو جوامع الکلم کہا جاتا ہے مثلا "لا ضرر ولا ضرار” "اسلام میں نہ خود کو نقصان پہنچانا جائز ہے نہ کسی دوسرے کو "۔
    الغرض رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بطور استاد ایک کامل ترین معلّم تھے جن کے مکتب سے نکلنے والے طلباء عرب و عجم کے ایسے حکمران بنے کہ وہ عوام کے اجسام کے ساتھ ساتھ ان کے قلوب و اذہان کے بھی حکمران ہوتے تھے۔

  • ناموس رسالت زندہ باد تحریر۔محمد نسیم

    ناموس رسالت زندہ باد تحریر۔محمد نسیم


    قارئین  میری تحری پڑھنے سے پہلے ایک بار دور پاک ﷺ  ضرور پڑھ لیں
    ناموس رسالت ہر صاحب ایمان کے دل میں بستی ہے گویا اسلام میں داخل ہونے کے لئیے ناموس رسالت ﷺ کا دل میں داخل ہونا شرطِ اول ہے اسی پر ایک شاعر نے کہا ہے
    محمدٗ کی محبت میں دین حق کی شرط اول ہے
    اسی میں ہو اگر خامی تو ایمان نامکمل ہے
    قارئین یہ عقیدہ اسلام سے ہی روزِ اول لازم و ملزوم ہے۔زمانہ عروج اسلام سے ہی ختم نبوت پر حملہ کرنے والے اور پیغمبرِ اسلام کی توہین کرنے والے کچھ لعین پیدا ہوتے رہتے ہیں اور سپوت اسلام ان کو ابتدائے اسلام سے ہی موت کے گھاٹ اتارتے رہے ہیں کیونکہ رسالتِ اسلام پر حملہ دراصل اسلام پر حملہ ہے اور اسلام کسی کو خود پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا
    یہاں ایک بات انتہائی قابل غور ہے اور اس پر آجکل بہت بحث بھی ہوتی ہے چند نام نہاد دانشور جو مذہب اور اسکی تعلیمات سے بلکل ہی نا آشنا ہیں وہ توہین رسالت ﷺ اور اسلام کو اس وجہ سے سزا دینے کے حق میں نہیں ہوتے کیونکہ اسے وہ مذہبی رواداری سمجھتے ہیں اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لئیے در گزر کرنا ضروری سمجھتے ہیں
    ان افراد کے لئیے چند قابل غور چیزیں سامنے رکھنا چاہتا ہوں اول تو یہ کہ مذہبی رواداری اس وقت عمل میں لائی جاتی ہے جب مذہب پر حملہ نہ کیا جائے بلکہ تمام مذاہب والے ایک دوسرے کے مذاہب کو عزت کی نظر سے دیکھیں اور ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کریں دوم یہ کہ یہ قانون خود خدا کا بنایا ہوا ہے کہ جب جب اسلام کا نعرہ بلند ہوتا رہے گا سرورِ کائنات ﷺ کا ذکر اور نامِ نامی بلند ہوتا رہے گا تیسرا یہ کہ ختم نبوت پر پہرا خود نبیِ کائنات ﷺ اور ان کے اصحاب نے ہمیں سکھایا ہے
    اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں مسلمہ کذاب کا واقعہ سرِ فہرست ملتا ہے جب کہ مسلمانوں کی حالت اتنی مضبوط نہ تھی کہ ایک طاقتور دشمن سے جنگ چھیڑ سکیں لیکن ابوبکر صدیق نے پھر بھی مسلمہ کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اور کئی سو حفاظ اور عالی رتبہ صحابی اس راہ حق میں جام شہادت نوش کرگیے
    اس وقت سے اب تک کئی بد بخت اس دنیا پر آئے جو نبوت کا جھوٹا دعٰوی کرتے یا ناموس رسالت ﷺ کی توہین کرتے ان کا حال بھی مسلمہ سے الگ نہ ہوا یا تو مسلمانوں نے خود زور سے ان بد بختوں کو جہنم واصل کیا اگر یہ کام ان کے ہاتھوں نہ ہوسکا تو رب جلال نے خود ناموس رسالت اور اسلام کا پہرہ دیا اور ان بدبختوں کا انجام دُنیا میں ہی برا کیا
    قارئین ربیع الاول کی آمد آمد ہے اور رب جلیل کا اپنے حبیب سے وعدہ ہے کہ "اے محبوب ہم نے آپکے لئیے آپکا ذکر بلند کردےا”
    آجکل ناموس رسالت ﷺ پر کئی جلسے اور جلوس آب و تاب سے ہورہے ہیں اور ہر جلسے میں اس امت کے غلام نبوی رب تعالٰی کی بارگاہ میں رو رو کر ختم نبوت پر حملہ کرنے والوں کے برے انجام کی التجا کرتے ہیں
    ان دنوں انہی دعاؤں کے نتیجے میں ایک لعین سویڈیش لارس ولکس جو کہ سویڈن میں نعوذ بااللہ رسالت معاب کے خاکے بنا کر توہین رسالت کرتا تھا ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوکر جہنم واصل ہوگیا ہے
    قائین یاد رہے کہ جب سے اس لعین نے توئین رسالت کی ہے تب سے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ سے لے کر دُنیا کے تمام ممالک کے سامنے اپنے پیارے آقائے دو جہاں حضرت محمد ﷺ کی ناموس پر پہرہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ہم مسلمانوں کے دل ایسی حرکت کی وجہ سے دکھتے ہیں اور زخمی ہیں ایسے قوانین بنائیں جائیں کہ آئندہ کوئی ایسی حرکت کا سوچے بھی نہیں اور اسکے ساتھ ساتھ سویڈش حکومت کے ساتھ احتجاج بھی جاری رکھا ہوا تھا قارئین جب سے اس لعین نے خاکے شائع کئیے تب سے مجاہدین اسلام اس کو جہنم واصل کرنے کے درپے تھے لیکن سویڈن حکومت نے اسے سپیشل سیکورٹی دے رکھی اس لعین پر اس کے گھٹیا پروجیکٹ کے دوران بھی ایک مجاہد نے حملہ کیا لیکن اس کی جگہ ایک فلم ڈائریکٹر ہلاک ہوگیا تب سے یہ لعین پولیس کے ساتھ ان  کی گاڑیوں میں گھومتا اور خدا کرنی دیکھئیے انہی پولیس والوں کے ساتھ ساتھ یہ لعین بھی جہنم واصل ہوگیا ہے
    اگر سویڈن کے سامنے مسلمان ممالک کمزور ہیں تو میرا رب بہت بڑی طاقت والا ہے اور جس سرورکائنات کے لئیے یہ دُنیا بنا سکتا ہے وہ اپنے حبیب کی ناموس کا مذاق کبھی برداشت نہیں کرسکتا اور مسلمانوں کو ربیع الاول کا بہترین ٹحفہ اس کو جہنم واصل کرکے دیا ہے
    الله تعالٰی سے دعا ہے کہ ہمیں ناموس رسالت ﷺ پر پہرہ دینے والا بنائے اور ہم جب اس دُنیا سے چلیں تو ماموس رسالت ﷺ کا تاج سر پر سجائے بارگاہ پروردگار میں حاضر ہوں آمین
    رہے گا یوں ہی انکا چرچا رہے گا
    پڑے خاک ہوجائیں جل جانے والے
    ‎@Naseem_Khera

  • بنی اسرائیل  کی ابتداء کہاں سے ہوئی   تحریر اکرام اللہ نسیم

    بنی اسرائیل  کی ابتداء کہاں سے ہوئی تحریر اکرام اللہ نسیم

    بنی اسرائیل قوم کا تذکرہ اللہ رب العزت نے بہت مرتبہ قرآن مجید میں کیا

    انکا تذکرہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس لئے کیا کہ یہی قوم فرعون کے سامنے اپنے دین پر قائم رہی اپنے دین سے نہیں ہٹیں

    بنی اسرائیل قوم کہاں سے شروع ہوئی  دراصل حضرت یعقوب علیہ السلام جو کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے والد تھے اُن دوسرا نام اسرائیل تھا

    وہاں سے اس قوم کی ابتدا ہوئی

    حضرت یعقوب علیہ السلام کے 12 بیٹے تھے انکو بنی اسرائیل کہا جاتا تھا پہلے یہ لوگ کنعان میں آباد تھے پھر حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ کے بعد مصر میں جابسے۔ اس طرح بنی اسرائیل مصر میں پھلے پھولے اور لاکھوں کی تعداد تک پہنچ گئے حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کا بادشاہ جو  مصریان بن ولید جو حضرت یوسف علیہ السلام کے ہاتھوں مسلمان ہو گیا تھا جب انکا انتقال ہوا تو 

    مصر کے بادشاہت کے تخت پر آپ بیٹھ گئے

    اور مصر کا نظم و نسق سنبھالا جب آپکا انتقال ہوا

    آپ کے بعد بادشاہ قابوس نامی والی  مصر ہوا کفر اور ضلالت کے جو باب آپ نے بند کئے تھے وہ اس قابوس بادشاہ نے دوبارہ کھولے

    جب اولاد یعقوب علیہ السلام نے س طریقے کو قبول نہ کیا تو ان کو غیر ملکی کہہ کر غلام بنالیا اور انتہائی سخت کام لینے لگا جب اس بھی انتقال ہوا اس کا بھائی ولید بن مصعب والی مصر ہوا مصر کے بادشاہ کو فرعون کہتے ہیں یہ اس دوسرے فرعون سے بھی زیادہ ظالم تھا 

    اس نے بادشاہ کا تخت سنبھالتے ہوئے کہا 

    انا ربکم الاعلی  ترجمہ۔ میں تمہارا بڑا رب ہوں  

    یہ اس لحاظ سے بھی ظالم تھا کہ اس نے خدائی کا دعویٰ بھی کرڈالا 

    اور ساتھ یہ احکامات بھی جاری کئے کہ اعلی سے ادنی تک تمام رعایا مجھے سجدہ کرے

    چنانچہ ہامان نے سب سے پہلے اسے سجدہ کیا  پھر اور وزیروں اور مشیروں نے اسکو سجدہ کیا 

    اور جو لوگ دور دراز علاقوں میں رہتے تھے انکے لئے اپنے سونے کہ مجسمے  بنا کر بھیجے جن مجسموں کے نیچے ہاتھی کے دانت آبنوس اور چاندی کے تخت رکھے اور انکے آس پاس سنہری درخت کروائے چاندی سے پرندے تیار کئے درختوں کے شاخوں پر اس طرح سے نصب کئے تھے اور ہر جانور اسی ترتیب سے رکھی تھی کہ جس وقت بھی خادم تحت کو حرکت دیتا تھا تو انکے پیٹ سے آواز آتی تھی کہ اے مصر کے لوگو فرعون تمہارا خدا ہے اسکو سجدہ کرو یہ سن کر مورتی کے آگے سب قصبے والے سجدہ ریز ہو جاتے لیکن بنی اسرائیل اس سے باز نہ آئے فرعون نے بنی اسرائیل کے سرداروں کو بلایا اور تنبیہ کی اور کہا کہ تم مجھے سجدہ کیوں نہیں۔ کرتے ہو لیکن بنی اسرائیل کے سردار انکی دھمکی سے مرعوب نہ ہوئے اور یہ کہا کہ فرعون کا عذاب ہلکا ہے اور عذاب خداوندی ابدی ہے بہتر یہی ہے کہ فرعون کے عذاب پر صبر کرو اور اسکو سجدہ نہ کرو یہ بات تمام بنی اسرائیل نے منظور کرلی اور فرعون کو بھی باور کرایا کے ہم نے اپنے دین سے نہیں ہٹنا اللہ کے علاؤہ کوئی رب نہیں یہ سن کر فرعون کو غصہ آیا اور تانبے کی بڑی بڑی دیگیں منگوائی اور اسمیں زیتون کا تیل ڈالا اور پھر جو بھی فرعون کے رب ہونے سے انکار کرتا اسکو فرعون کھولتی ہوئی دیگیوں میں پھینکواتا یہاں تک کہ انبوہ کثیر کو اسی طریقے سے جلا ڈالا مگر بنی اسرائیل جو دین اسلام پر جان تو دے سکتی تھی مگر پیچھے نہیں ہٹ سکتی تھی بنی اسرائیل اپنے ایمان پر قائم و ثابت قدم رہے 

    @realikramnaseem

    ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل

  • خضرؑ وموسیؑ   کا  واقعہ ! تحریر: محمدآصف شفیق

    خضرؑ وموسیؑ   کا  واقعہ ! تحریر: محمدآصف شفیق

    سورۃ کہف جس کی تلاوت ہم ہر جمعہ کو کرتے ہیں اسی سورۃ میں  حضرت خضرؑ اور حضرت موسیٰ  علیہ السلام کا واقعہ بھی ہے اس حوالے سے کچھ تفصیل اس حدیث مبارکہ میں بھی ہے آئیں آج اس پر غورو خوض  کرتے ہیں

      عبداللہ بن محمد السندی، سفیان، عمرو، سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا کہ نوف بکالی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام جو خضر سے ہم نشین ہوئے تھے، بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں تھے، وہ کوئی دوسرے موسیٰ ہیں، تو ابن عباس نے کہا کہ (وہ) اللہ کا دشمن جھوٹ بولتا ہے، ہم سے ابی بن کعب نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی کہ موسیٰ علیہ السلام (ایک دن) بنی اسرائیل میں خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ جاننے والا کون ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ زیادہ جاننے والا میں ہوں، لہذا اللہ نے ان پر عتاب فرمایا کہ انہوں نے علم کو اللہ کے حوالے کیوں نہ کردیا، پھر اللہ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ مجمع البحرین میں ہے وہ تم سے زیادہ جاننے والا ہے، موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے اے میرے پروردگار! میری ان سے کیسے ملاقات ہوگی؟ تو ان سے کہا گیا کہ مچھلی کو زنبیل میں رکھو اور مجمع البحرین کی طرف چل پڑو، جب اس مچھلی کو نہ پاؤ تو سمجھ لینا کہ وہ بندہ وہیں ہے، موسیٰ علیہ السلام چلے اور اپنے ہمراہ اپنے خادم یوشع بن نون علیہ السلام کو بھی لے لیا، اور ان دونوں نے ایک مچھلی زنبیل میں رکھ لی، یہاں تک کہ جب پتھر کے پاس پہنچے تو دونوں نے اپنے سر (اس پر) رکھ لئے اور سوگئے، مچھلی زنبیل سے نکل گئی اور دریا میں اس نے راستہ بنا لیا، بعد میں (مچھلی کے زندہ ہو جانے سے) موسیٰ اور ان کے خادم کو تعجب ہوا، پھر وہ دونوں باقی رات اور ایک دن چلتے رہے، جب صبح ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے کہا کہ ہمارا ناشتہ لاؤ بے شک ہم نے اپنے اس سفر سے تکلیف اٹھائی اور موسیٰ جب تک کہ اس جگہ سے آگے نہیں گئے، جس کا حکم دیا گیا تھا، اس وقت تک انہوں نے کچھ تکلیف محسوس نہیں کی، ان کے خادم نے دیکھا تو مچھلی غائب تھی، تب انہوں نے کہا کہ کیا آپ نے دیکھا جب ہم پتھر کے پاس بیٹھے تھے تو میں مچھلی کا واقعہ کہنا بھول گیا، موسیٰ نے کہا یہی وہ (مقام) ہے، جس کی تلاش کرتے تھے، پھر وہ دونوں اپنے قدموں پر لوٹ گئے، پس جب اس پتھر تک پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی کپڑا اوڑھے ہوئے یا یہ کہا کہ اس نے کپڑا اوڑھ لیا تھا، بیٹھا ہوا ہے موسیٰ نے سلام کیا تو خضر علیہ السلام نے کہا اس مقام میں سلام کہاں ؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا میں (یہاں کا رہنے والا نہیں ہوں میں) موسی  علیہ السلام ٰہوں، خضر علیہ السلام نے کہا بنی اسرائیل کے موسیٰ؟، انہوں نے کہا ہاں، موسیٰ نے کہا کیا میں اس امید پر تمہارے ہمراہ رہوں کہ جو کچھ ہدایت تمہیں سکھائی گئی ہے، مجھے بھی سکھلا دو، انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ رہ کر میری باتوں پر ہرگز صبر نہ کر سکو گے، اے موسیٰ! میں اللہ کے علم میں سے ایک ایسے علم پر (حاوی) ہوں کہ تم اسے نہیں جانتے وہ اللہ نے مجھے سکھایا ہے اور تم ایسے علم پر حاوی ہو جو اللہ نے تمہیں تلقین کیا ہے کہ میں اسے نہیں جانتا، موسیٰ  علیہ السلام  نے کہا انشاء اللہ! تم مجھے صبر کرنے والا پاؤ گے، اور میں کسی بات میں تمہاری  نافرمانی نہ کروں گا، پھر وہ دونوں دریا کے کنارے کنارے چلے ان کے پاس کوئی کشتی نہ تھی، اتنے میں ایک کشتی ان کے پاس (سے ہو کر) گذری، تو کشتی والوں سے انہوں نے کہا کہ ہمیں بٹھا لو، خضر علیہ السلام پہچان لئے گئے اور کشتی والوں نے انہیں بے اجرت بٹھا لیا پھر (اسی اثنا میں) ایک چڑیا آئی، اور کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی اور اس نے ایک چونچ یا دو چونچیں دریا میں ماریں، خضر علیہ السلام بولے کہ اے موسیٰ میرے علم اور تمہارے علم نے اللہ کے علم سے اس چڑیا کی چونچ کی بقدر بھی کم نہیں کیا ہے، پھر خضر علیہ السلام نے کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ کی طرف قصد کیا اور اسے اکھیڑ ڈالا، موسیٰ کہنے لگے، ان لوگوں نے ہم کو بے کرایہ (لئے ہوئے) بٹھا لیا اور تم نے ان کی کشتی کے ساتھ برائی کا) قصد کیا، اسے توڑ دیا، تاکہ اس کے لوگوں کو غرق کر دو، خضر علیہ السلام نے کہا کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ رہ کر میری باتوں پر صبر نہ کر سکو گے، موسیٰ نے کہا جو میں بھول گیا، اس کا مواخدہ مجھ سے نہ کرو اور میرے کام میں مجھ پر تنگی نہ کرو، راوی کہتا ہے کہ پہلی بار موسیٰ سے بھول کر یہ بات اعتراض کی ہوگئی، پھر وہ دونوں کشتی سے اتر کر چلے، تو ایک لڑکا ملا جو اور لڑکوں کے ہمراہ کھیل رہا تھا، خضر علیہ السلام اس کا سر اوپر سے پکڑ لیا اور اپنے ہاتھ سے اس کو اکھیڑ ڈالا، موسیٰ نے کہا کہ ایک بے گناہ بچے کو بے وجہ قتل کردیا، خضر علیہ السلام نے کہا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ رہ کر میری باتوں پر ہرگز صبر نہ کر سکو گے، پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک گاؤں کے لوگوں کے پاس پہنچے، وہاں کے رہنے والوں سے انہوں نے کھانا مانگا، ان لوگوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا، پھر وہاں ایک دیوار ایسی دیکھی جو گرنے کے قریب تھی، خضر نے اپنے ہاتھ سے اس کو سہارا دیا اور اس کو درست کردیا، موسیٰ نے ان سے کہا کہ اگر تم چاہتے تو اس پر کچھ اجرت لے لیتے، خضر بولے کہ (بس اب) یہی ہمارے اور تمہارے درمیان جدائی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں تک بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم کرے، ہم یہ چاہتے تھے کہ کاش موسیٰ صبر کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کا (پورا) قصہ ہم سے بیان فرماتا۔ صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 125           حدیث مرفوع      مکررات  16   متفق علیہ 11

    باقی واقعہ قرآن کریم  کی سورۃ الکھف میں کچھ اس طرح سے ہے 

    اس نے کہا :بس میرا تمہارا ساتھ ختم ہوا۔ اب میں تمہیں ان باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں ، جن پر تم صبر نہ کر سکے۔ اس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جودریا میں محنت مزدوری کرتے تھے۔ میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر (بے عیب)کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔ رہا وہ لڑکا ، تو اس کے والدین مومن تھے ، ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا اپنی سرکشی اور کفر سے ان کو تنگ کرے گا۔ اس لیے ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس کے بدلے ان کو ایسی اولاد دے جو اخلاق میں بھی اس سے بہتر ہو اور جس سے صلہ ٔ رحمی بھی زیادہ متوقع ہو۔اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لیے ایک خزانہ مد فون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ اس لیے تمہارے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پر کیا گیا ہے ، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کر دیا ہے۔ یہ ہے حقیقت اُن باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے۔(78-82سورت الکھف)

    @mmasief

  • ملک میں نفاذ اسلام کا موضوع  تحریر :جواد خان یوسفزئی

     ایک زمانے میں بہت زیر بحث رہتا تھا۔ آج کل اس طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسلام پسند جماعتیں ایک تو کافی غیر فعال ہیں دوسرے ان کی توجہ امور خارجہ پر زیادہ رہتی ہے۔ دیگر جماعتیں اسلام کی بات کرتی ہیں لیکن بغیر سوچے سمجھے۔ عام آدمی کے ذہن میں مملکتی سطح پر اسلام کا مطلب غیر مسلموں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے آگے کچھ نہیں۔
    اسلام کا مقصد انسانی معاشرے کی ایک خاص نہج پر تعمیر ہے۔ معاشرے کی تعمیر کے لیے اخلاقی تعلیمات کے علاوہ قوانین کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اسلام کا بھی اپنا ایک مفصل قانونی نظام ہے جسے ملک کا نظام بنانا ہی نفاذ اسلام کی بنیاد ہے۔
    1977 اور 1985 کے دوران اسلامی قوانین کے نفاذ کی کچھ کوششیں ہوئیں۔ ان میں زکواۃ و عشر آرڈنینس کو چھوڑ کر باقی کچھ مخصوص جرائم کی سزاؤں کے بارے میں ہیں جنہیں حدود کہا جاتا ہے۔ قتل، زنا، بہتان تراشی اور چوری۔
    ظاہر ہے ان چار جرائم کے علاوہ بھی بے شمار جرائم معاشرے میں ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہمارا قانونی نظام انگریزی قانون پر عمل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مندرجہ بالا نافذ شدہ قوانین سزائیں بھی بہت مخصوص حالات میں قابل نفاذ ہیں اور باقی حالات میں ان جرائم پر قانون تقریباً خاموش ہے۔
    یہ درست ہے کہ فقہ میں حدود کے علاوہ دیگر جرائم پر سزاؤں کی بھی گنجائش ہے اور انہیں اصطلاحی طور پر "تعزیرسیاسیہ” کہا جاتا ہے یعنی ایسی سزائیں جن کا تعین حکومت پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ ان کا تعین قاضی (عدالت) کی صوابدید ہے۔ لیکن پورے قانونی نظام کی تفصیلات کو عدالت کی صوبدید پر نہیں چھوڑا جاسکتا بلکہ تحریری قانون بہت ضروری ہوتا ہے۔ ایسا نہ ہو تو قانون کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا کیونکہ قانون میں یکسانیت بنیادی چیز ہوتی ہے۔
    ایسا بھی نہیں کہ تعزیرات کو مکمل طور پر عدالت کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہو۔ فقہاء نے بہت سے جرائم کے لیے سزائیں تجویز کی ہیں، جن سے مدد لی جاسکتی ہے۔ ان کے علاوہ ایک مثال ترکی کی عثمانی سلطنت کی ہے جہاں "مجلۃ الاحکام العدلیہ” کے نام سے کچھ اسلامی قوانین کو مدون شکل میں پیش کیا گیا تھا۔ ہمارے ہندوستان میں عالمگیر بادشاہ کے زمانے میں فتاوےٰ کا ایک مجموعہ مدون ہوا تھا۔
    پاکستان میں اسلامی قوانین کو نافذ کرنے کے لیے سب سے پہلے ایک واحد قابل عمل مجموعہ ترتیب دینا ضروری ہے۔ ظاہر ہے پاکستان میں حنفیوں کی اکثریت ہے تو یہ کام حنفی فقہ کے اندر رہتے ہوئے کرنا پڑے گا۔ اس مجوعے میں ہر معاملے کے لیے ایک واحد قانون بتانا ہوگا جس کے مطابق عدالت نے فیصلہ دینا ہے۔ قران و حدیث نیز قیاس و اجماع کے دلائل اور ائمہ کے اختلاف نیز فتاویٰ کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ اکیڈیمک باتیں ہیں جن سے عدالت کو کوئی سروکار نہیں ہوچاہیے۔ اسے ایک حتمی قانونی دفعہ چاہیے ہوتا ہے جس پر وہ فیصلہ دے سکے۔
    تعزیرات کے علاوہ دیوانی قوانین کو بھی اسی طریقے سے مدون کیا جائے۔
    شخصی قوانین (personal laws) کے مجموعے ہر فقہی مکتب کے لیے الگ الگ مرتب کیے جاسکتے ہیں۔
    یہاں یہ مت کہیں کہ ہمارے پاس پہلے سے ہی قوانین موجود ہیں۔ قوانین کا موجود ہونا اور انہیں زمانے کی ضروریات کے مطابق ترتیب دے کر نافذ کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو لوگ بہت پہلے آرام سے بیٹھ جاتے۔ ہر دور میں کتابیں لکھنے اور فتاوےٰ تحریر کرنے کی کوئی ضرورت نہ ہوتی۔
    آخری بات یہ کہ اس وقت کسی اجتہاد وغیرہ کی نہیں بلکہ پہلے سے موجود فقہی قوانین کو مدون کرنے کی ضرورت ہے۔
    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com

  • عُمرِ فاروق ابنِ خطاب تصی اللّہ تعالیٰ کے دور کی اسلامی ریاست تحریر:محمد رضوان۔

    عُمرِ فاروق ابنِ خطاب تصی اللّہ تعالیٰ کے دور کی اسلامی ریاست تحریر:محمد رضوان۔

    آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا 

    آپ رضی اللّہ تعالیٰ عنہ مراد نبی ہیں آپ رضی اللّہ تعالیٰ عنہ کو آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا میں مانگا ہے 

    خلیفہ اور حکمرانوں کے کسی دور میں اسلامی ریاست اپنی مثالی شکل میں حاصل نہیں کی گئی ، جیسا کہ دوسرے خلیفہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں حاصل کیا گیا تھا۔ ، جس نے سالمیت اور مضبوطی ، رحم اور انصاف ، وقار اور عاجزی ، شدت اور سنیاست کو جوڑ دیا۔

    الفاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے دس سالوں میں تاریخ کی سب سے طاقتور سلطنت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ، لہذا اسلامی ریاست فارسی اور رومی سلطنتوں کے زوال کے بعد قائم ہوئی۔ فارس اور مشرق میں چین کی سرحدوں سے لے کر مغرب میں مصر اور افریقہ تک ، اور شمال میں بحیرہ کیسپین سے لے کر جنوب میں سوڈان اور یمن تک ، "عمر” رضی اللہ عنہ قابل تھے ان دو سلطنتوں کو ان عربوں کے ساتھ فتح کریں جو کہ کچھ عرصہ پہلے تک بدوین قبائل تھے ، ان کے درمیان اختلافات تھے اور معمولی وجوہات کی بنا پر جنگیں شروع ہوئیں ، قبائلی جنونیت سے متاثر ہو کر ، اور قبل از اسلام رسم و رواج اور فنا ہونے والے رسم و رواج سے اندھا ہو گیا۔ اس مذہب کی چھتری کے نیچے متحد ، جس نے اسے عقیدے کے بندھن اور بھائی چارے اور محبت کے بندھنوں سے جوڑ دیا ، اور تخیل سے بالاتر ہو کر جلال اور بہادری حاصل کی ، خدا نے اس کے لیے وہ کارنامہ تخلیق کیا جو اس کے راستے کی رہنمائی کرتا تھا ، اور اس کے بینر تک لے جاتا تھا اس نے دنیا پر غلبہ حاصل کیا ، اور دنیا کی ملکیت تھی۔

    عمر ابن الخطاب کی پیدائش اور پرورش

    عمر بن الخطاب بن نفیل بن عبدالعزیز بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ مکہ میں پیدا ہوئے اور ان کی پرورش ہوئی اور ان کے والد الخطاب اپنی سختی کے لیے مشہور تھے۔ اور بے رحمی ، اور وہ ایک ذہین آدمی تھا ، اپنی قوم میں کھڑا ، بہادر اور جرات مندانہ تھا۔ ، اور "الخطاب” نے کئی عورتوں سے شادی کی ، اور ان کے بہت سے بیٹے تھے۔

    اور عمر رضی اللہ عنہ – اپنے بچپن میں – اس سے لطف اندوز ہوئے جو قریش سے ان کے بہت سے ساتھیوں نے نہیں کیا۔ انہوں نے پڑھنا لکھنا سیکھا اور تمام قریش میں صرف سترہ آدمی اس میں ماہر تھے۔

    اور جب عمر رضی اللہ عنہ بڑے ہوئے تو وہ اپنے والد کے اونٹوں کو چراتے تھے اور خود کو کسی نہ کسی کھیل میں لے جاتے تھے۔

    عمر رضی اللہ عنہ – اسلام سے پہلے "مکہ” کے دوسرے نوجوانوں کی طرح – تفریح ​​اور  مہنگے خوشبوں  کا عاشق تھا ، اور "عمر” نے مسلمانوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کی دشمنی حبشہ کی پہلی ہجرت تک جاری رکھی ، اور "عمر” نے اپنے لوگوں سے ان کی علیحدگی پر کچھ دکھ اور غم محسوس کرنا شروع کیا۔ وطن کے بعد جب انہوں نے اذیت اور زیادتی برداشت کی ، اور "محمد” سے چھٹکارا پانے کا اس کا عزم طے ہو گیا۔ قریش کی طرف لوٹنا اس اتحاد کو جو اس نئے مذہب سے ٹوٹ گیا تھا! چنانچہ اس نے اپنی تلوار چھین لی ، اور وہاں گیا جہاں محمد اور اس کے ساتھی دار العقم میں جمع ہوئے تھے ، اور جب وہ راستے میں تھے تو وہ بنی زہرہ کے ایک آدمی سے ملے اور کہا: عمر تم کہاں گئے تھے؟ اس نے کہا: میں محمد کو قتل کرنا چاہتا ہوں اس نے کہا: کیا تم اپنے گھر کے لوگوں کے پاس واپس جا کر ان کے معاملات قائم نہیں کرو گے؟اور اس نے اسے اپنی بہن "فاطمہ بنت الخطاب” اور اس کے شوہر "سعید بن زید بن عمر رضی اللہ عنہ” اور "عمر” کے جلدی جلدی ان کے گھر آنے کی اطلاع دی اور وہ "خباب بن العراط” رضی اللہ عنہ ان سے سورہ "طہ” کی تلاوت کر رہے تھے ، جب انہوں نے اس کی آواز سنی تو "خباب” اور "فاطمہ” نے اخبار چھپا لیا ، تو عمر پریشان ہو گئے سعید پر چھلانگ لگائی اور اسے مارا ، اور اس کی بہن کو تھپڑ مارا ، اس کا چہرہ لہو لہان ہو گیا۔ اس کے کپڑوں کے بنڈلوں اور تلوار کے ٹکڑوں کے بارے میں ، اور اس سے کہا: کیا تم ختم نہیں ہو گئے ہو ، عمر ، جب تک خدا تمہیں ذلت اور سزا سے نیچے نہیں لاتا ، الولید بن المغیرہ کو کیا ہوا؟ عمر نے کہا: اے خدا کے رسول ، میں تمہارے پاس خدا اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے لیے آیا تھا اور جو خدا کی طرف سے آیا تھا ، اس لیے خدا کے رسول اور مسلمان بڑے ہوئے ، عمر نے کہا: اے خدا کے رسول ، کیا ہم سچ پر نہیں ہیں؟ اگر ہم مرتے ہیں اور اگر ہم زندہ رہتے ہیں؟ اس نے کہا: ہاں ، اس نے کہا:غائب کیوں؟ مسجد میں داخل ہونے تک مسلمان دو صفوں میں نکل گئے۔قریش نے جب انہیں دیکھا تو وہ ایک ڈپریشن میں مبتلا ہوگئیں جو کہ وہ نہیں کرتی تھیں اور یہ مشرکین کے خلاف مسلمانوں کی پہلی ظاہری شکل تھی ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا نے اسے اس دور سے "الفرق” کیا

    فاروق عمر نے کال کے چھٹے سال ذی الحجہ میں اسلام قبول کیا ، اور اس کی عمر چھبیس سال ہے ، اور اس نے تقریبا for چالیس مردوں کے بعد اسلام قبول کیا ، اور "عمر” نے اس جوش کے ساتھ اسلام میں داخل کیا وہ اس سے پہلے لڑ رہا تھا ، اس لیے وہ اپنے قریش کی تبدیلی کی خبر پھیلانا چاہتا تھا۔ یہاں تک کہ مسلمانوں نے مشرکین کے نقصان سے اپنے مذہب کے ساتھ بھاگتے ہوئے "مدینہ” کی طرف ہجرت شروع کر دی اور وہ چھپ کر اس کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ سات ، پھر مزار پر آئے اور دعا کی ، پھر اس نے مشرکین کے گروہ کو بلایا: "جو شخص اپنی ماں کو سوگوار کرنا چاہتا ہے یا اس کا بیٹا یتیم ہے یا اس کی بیوی بیوہ ہے تو وہ مجھے اس وادی کے پیچھے پھینک دے۔”

    مدینہ میں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اور "عتبان بن مالک” کے درمیان بھائی چارہ بنایا اور کہا گیا: "معاذ بن افرا” اور اس میں اس کی زندگی کا ایک اور پہلو تھا جس سے وہ واقف نہیں تھا مکہ میں ، اور بہت سے پہلو اور نئے پہلو ظاہر ہونے لگے ، "عمر” کی شخصیت سے ، اور وہ "شہر” میں عوامی زندگی میں نمایاں کردار بن گئے۔

    عمر ابن الخطاب بہت زیادہ ایمان ، تجرید اور شفافیت کی وجہ سے ممتاز تھے ، اور وہ اسلام سے انتہائی حسد اور سچائی میں دلیری کے لیے مشہور تھے ، کیونکہ وہ عقل ، حکمت اور اچھی رائے کے حامل تھے۔ خدا ، اگر ہم نے ابراہیم کی جگہ کو نماز کی جگہ لیا: تو آیت نازل ہوئی (اور ابراہیم کی جگہ سے نماز کی جگہ لے لو) [البقر:: 125] ، اور اس نے کہا ، "اے اللہ کے رسول ، تمہارا عورتیں ان میں نیک اور بدکار دونوں داخل ہوں گی۔

    اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے کہا جو ان کے بارے میں حسد میں جمع تھیں: (شاید اس کا رب اگر اس نے تمہیں طلاق دے دی تو اس کی جگہ تم سے بہتر بیویاں لے لیں گے) [التحریم : 5] تو یہ نازل ہوا۔

    شاید ان حالات میں عمر کی رائے سے متفق ہو کر وحی کا نزول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے: "خدا نے عمر کی زبان اور دل کو سچ بنایا ہے۔”

    ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں بیان کیا گیا: "لوگوں پر کوئی بات نازل نہیں ہوئی اور انہوں نے اس کے بارے میں کہا اور عمر ابن الخطاب نے اس کے بارے میں کہا ، لیکن قرآن اس طرح نازل ہوا جس طرح عمر ، خدا ہو۔ اس سے خوش ، کہا۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا اور دوست "ابوبکر” نے مسلمانوں کی خلافت سنبھالی ، چنانچہ عمر ابن الخطاب ان کے وفادار وزیر اور مشیر تھے۔ ایک پردہ جو عظیم انسانی جذبات کے اس تمام بہاؤ کے پیچھے چھپا ہوا ہے جسے بہت سے لوگ ایک کمزوری سمجھتے ہیں جو مردوں ، خاص طور پر رہنماؤں اور رہنماؤں کے قابل نہیں ہے۔ دوست کی موت کے بعد مسلمان۔

    کمانڈر "عمر بن الخطاب” کی بیعت کا عہد ” ابوبکر الصدیق ” کی وفات کے اگلے دن مسلمانوں کا خلیفہ تھا [22 جمعہ الاخیرہ 13 ھ: 23 اگست 632 AD] .

    اور نئے خلیفہ نے پہلے لمحے سے ان کے سامنے آنے والی مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا کرنا شروع کیا ، خاص طور پر لیونٹ میں مسلم افواج کی نازک جنگی پوزیشن۔جنہوں نے اسے دریائے فرات کے پل کو عبور کرنے کے خطرے سے خبردار کیا ، اور اسے مشورہ دیا کہ فارسیوں نے اسے عبور کیا کیونکہ دریا کے مغرب میں مسلم افواج کی پوزیشن بہتر ہے ، یہاں تک کہ اگر مسلمانوں نے فتح حاصل کی تو انہوں نے پل آسانی سے عبور کیا ، لیکن "ابو عبیدہ” نے ان کا جواب نہیں دیا ، جس کی وجہ سے مسلمانوں کو جنگ میں شکست ہوئی پل ، اور ابو عبیدہ اور چار ہزار مسلم فوج کی شہادت

    "پل کی لڑائی” میں مسلمانوں کو جو شکست ہوئی تھی اس کے بعد المثنا بن حارثہ نے شکست کے اثرات کو مٹانے کی کوشش میں مسلم فوج کے حوصلے بلند کرنے کی کوشش کی اور پھر اس نے فارسیوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے کام کیا۔ دریا کے مغرب کو عبور کیا ، اور انہیں دھوکہ دینے کے بعد انہیں پار کرنے کے لیے آگے بڑھانے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے مسلمانوں پر جتنی جلدی فتح حاصل کی ، اس لیے المتھانہ نے انہیں اپنی افواج سے حیران کر دیا ، اور الج کے کنارے پر ذلت آمیز شکست دی۔ دریائے بویب ، جس کے لیے اس جنگ کا نام لیا گیا۔

    اس فتح کی خبر مدینہ میں الفاروق تک پہنچی ، چنانچہ وہ فارسیوں سے لڑنے کے لیے خود ایک فوج کے سربراہ کے طور پر باہر جانا چاہتا تھا ، لیکن ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ مسلمان رہنماؤں کے علاوہ کسی اور کو منتخب کرے فوج کی ، اور انہوں نے اسے "سعد بن ابی وقاص” نامزد کیا تو عمر نے اسے حکم دیا۔ لیوینٹ کی طرف جانے والی فوج پر ، جہاں اس نے "القادسیہ” میں ڈیرہ ڈالا۔

    سعد نے اپنے لوگوں کا ایک وفد فارسیوں کے بادشاہ بوروجرد III کے پاس بھیجا۔ اسے اسلام پیش کرنے کے لیے کہ وہ اپنی بادشاہی میں رہے اور اسے اس کے یا خراج یا جنگ کے درمیان انتخاب دے ، لیکن بادشاہ نے تکبر اور تکبر کے ساتھ وفد سے ملاقات کی اور جنگ کے سوا کسی چیز سے انکار کیا ، اس لیے دونوں ٹیموں کے درمیان جنگ ہوئی ، اور جنگ چار دن تک جاری رہی یہاں تک کہ اس کے نتیجے میں "القادسیہ” میں مسلمانوں کی فتح ہوئی ، اور فارسی فوج کو ایک شکست ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسلامی تاریخ میں فیصلہ کن لڑائیاں ، جیسا کہ اس نے عربوں اور مسلمانوں کو صدیوں تک فارسیوں کے کنٹرول میں رہنے کے بعد "عراق” واپس کر دیا ، اور اس فتح نے مسلمانوں کے لیے مزید فتوحات کا راستہ کھول دیا۔

    خلیفہ دوئم کی عظمت بیان کرتے وقت کم کوتاہی ہو تو اللّہ تعالیٰ معاف فرمائے 

    Twitter @RizwanANA97

  • "تحفظِ ختمِ نبوت”  تحریر:صائمہ ستار

    "تحفظِ ختمِ نبوت”  تحریر:صائمہ ستار

    "خود میرے نبی نہ یہ بات بتا دی لا نبی بعدی

    سنے لے ہر زمانہ یہ نوائے ہادی لا نبی بعدی”

    عقیدہ ختمِ نبوت ہر امتی کو جان سے بھی پیارا ہے. یہ اسلام کا ایسا لازم رکن ہے جسکے بغیر مسلمان کا ایمان کبھی مکمل نہیں ہو سکتا.یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس پر تمام مسالک اور فرقے متفق ہیں کہ سیدنا محمدﷺ کو آخری نبی نہ ماننے والا یقینی طور پر دائرہ اسلام سے خارج ہے. اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر فرمایا ہے”محمد ﷺتمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کا سلسلہ ختم کرنے والے ہیں ” اس آیت سے  علم ہوا کہ نبوت کا دروازہ ہمیشہ کیلیے بند ہوگیا ہے اور یہ وہ اعزاز ہے جو کسی نبی یا رسول کو عطا نہیں ہوا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”(لا نبی بعدی)”  میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے. "قادیانی مرزا کافر کی نبوت پر جتنے دلائل پیش کرتے ہیں وہ سب نہ تو قرآن سے ثابت ہے اور نہ ہی احادیث سے بلکہ یہ سب تو ان کی من گھڑت باتیں ہیں. تحفظِ ختمِ نبوت پر زندگی فدا کر دینا زندگی کا بہترین استعمال ہے. اس کام کی فضیلت اسقدر ہے کہ علماء کا اتفاق ہے کہ جو شخص اس بات کاخواہش مند ہو کہ وہ سیدنا محمدﷺ کی ذاتی خدمت کرنا چاہے وہ ختمِ نبوت کے تحفظ کا کام کرے. 

    فتنہِ قادیانیت پہلی بار سیدنا ابو بکر صدیق کہ دورِ خلافت میں اٹھا. 1200 صحابہ اکرام نے جنگِ یمامہ میں اپنی جانیں قربان کر کہ فتنہِ قادیانیت کو مکمل طور پر مٹا ڈالا. آنے والے وقتوں میں اسطرح کے مرتد سر اٹھاتے رہے لیکن ہر دور میں اس فتنہ کی سرکوبی کرنے والا مردِ مجاہد میدان میں موجود رہا. قیامِ پاکستان کے بعد نئی سلطنت کو درپیش مسائل میں ایک فتنہِ قادیانیت سے نمٹنا بھی تھا. اسوقت تک پاکستان کے آئین کے مطابق قادیانی کافر نہیں تھے. وقت کے ساتھ ساتھ یہ فتنہ اپنی جڑیں وسیع کر رہا تھا جسے کاٹنا بہت ضروری ہو گیا تھا.اسی نازک صورتحال میں سپہ سالارِ تحریکِ ختمِ نبوت,فاتح قادیانیت علامہ شاہ احمد نورانی اٹھے. آپ نے زندگی کی آخری سانس تک ختمِ نبوت کے تحفظ کی جدوجہد کی. محراب و منبر سے لے کر سینٹ کے ایوانوں تک ہر میدان میں یہ مردِ مجاہد قادیانیت کی موت بن کر  سامنے آیا. آپ نے قادیانیوں کو کافر قرار دینے کی تحریک کا آغاز کیا. اس میں آپکے رفیقِ کار عبدالستار خان نیازی کی خدمات بھی قابلِ قدر ہیں.اس تحریک کے دوران دی جانے والی قربانیاں آبِ زرسے لکھنے کے لائق ہیں. پاکستان کا پہلا مارشل لاء اسی دوران نافذ ہوا جسے ختمِ نبوت کے محافظوں پر ہی آزمایا گیا. اور 10 ہزار کے قریب  نہتے بچے,بزرگ اور نوجوان محظ ختمِ نبوت کی پہریداری کے جرم میں شہید ہوئے.لاہور کی تاریخ کا یہ لہو رنگ دور تھا. سیکرٹری دفاع سکندر مرزا نے یہ فرعونی آرڈر جاری کر رکھا تھا کہ:”مجھے یہ نہ بتایا جائے کہ کوئی ہنگامہ ختم کر دیا گیا ہے، بلکہ مجھے یہ بتایا جائے کہ وہاں کتنی لاشیں گرائی گئی ہیں؟مجاہدین کا عزم اس قدر بلند تھا کہ بے انتہا ظلم و تشدد,گرفتاریاں اور گولیاں بھی اس جذبے کو سرد کرنے میں ناکام تھیں. ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا گیا. اور ہزاروں بے گناہوں کو شاہی قلعہ اور جیلوں میں ٹھونس کر بے رحم پولیس کیرحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا.کرفیو کے باوجود جلوس نکلتے رہے,ڈنڈے گولیاں برستی رہیں.

    شہر میں شہدائے ختم نبوت کے پاک جسموں کے ڈھیر لگ گئے تھے جنہیں ٹرکوں میں لاد کر، چھانگا مانگا کے جنگل میں اجتماعی قبر کھود کر ڈالا جاتا اور پھر تیل چھڑک کر آگ لگا دی جاتی تھی، تاکہ شہیدانِ عشقِ رسالت  کا نام و نشاں مٹ جائے لیکن وہ بد بخت یہ نہیں جانتے تھے کہ تحفظِ ختم نبوت کے لیے آنے والی موت تو ابدی زندگی ہے. 

    . اس تحریک کے 3 مطالبات درج ذیل تھے.

    1۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔2۔قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے فارغ کیا جائے۔ 3۔قادیانی وزیرِ خارجہ سر ظفر اللہ خان کو بر طرف کیا جائے۔

    اگر چہ وقتی طور پر تحفظِ ختمِ نبوت کی تحریک کو ریاستی طاقت کا ناجائز استعمال کرتے دبا دیا گیا لیکن آنے والے وقتوں میں شہداء کا مبارک خون اور قربانیاں رنگ لائیں. اور تمام مطالبات ایک ایک کر کہ پورے ہو گئے.سر ظفر اللہ قادیانی رسوا ہوا.اور اقتدار کو ترستا مرا. قادیانی غیرمسلم قرار پائے.یوں یہ تحریک اپنے مقصد میں کامیاب ہوئ.قادیانی اپنی اس ہار کو بھولے نہیں اور آج بھی وہ دوبارہ یہ خواب دیکھتے ہیں کہ کسی دن وہ اس وطن میں انکو کافر قرار دینے والا قانون ختم کروانے میں کامیب ہو جائیں گے. لیکن سیدنا محمدﷺ کا جب تک آخری جانثار بھی زندہ ہم اس وطن میں یہ ممکن نہیں ہونے دیں گے انشاء اللہ. ہمارا فرض ہے کہ آنے والی نسلوں کو ختم نبوت کی اہمیت, فتنہ قادیانیت اور اسکی سرکوبی کے لیے دی جانے والی لازاول قربانیوں سے آگاہ کریں. بطوایک امتی اللہ تعالیٰ ہم سب کو زندگی کی آخری سانس تک عقیدہِ ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالت کا وفادار رکھے اور اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق دے. آمین.

    "فتحِ بابِ نبوت پہ بے حد درود 

    ختمِ دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام”

    ‎@just_S32

  • تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟ تحریر: خوشنود

    تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟ تحریر: خوشنود


    آج کا مسلمان مختلف قوموں، قبیلوں، خاندانوں، فرقوں، حسب نسب میں بٹ چکا ہے۔ اسلام، اسلام کی تعلیمات تو آج کے مسلمان میں بس رسمی سی رہ گئی ہیں۔ خود کے مسلمان ہونے پہ فخر تو کرتے ہیں لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو کھوکھلا سا ایمان، نہ ہونے کے برابر دینی تعلیمات کی پیروی۔ بس "نام نہاد مسلمان”۔ اکثریت کے لئے تو اسلام، مسلمان ہونا بس ایک رمضان کے مہینے تک محدود ہوگیا ہوا وہ بھی بس ایک چُٹکی کے برابر۔

    ” اسلام” نام تو ایک مذہب کا ہے لیکن آج کے مسلمان نے اصولِ دین و عقائدِ دین میں اختلافات پہ اپنی مختلف فرقوں، مسلکوں میں تقسیم کر لی ہے۔

    قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: 

    "تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا، تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو”

    لیکن آج کا مسلمان تو اسلام میں اپنے اپنے عقیدے کو لیکر اپنے سگے بھائی سے اختلافات رکھے ہوئے اُسے بھی پہچاننے سے عاری ہے۔ 

    اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو فرض احکامات ہیں انکو پورا کرتے نہیں اور دیگر اصول و عقائد کی بحث میں کوئی سُنی بن گیا، کوئی سلفی، کوئی دیو بند اور کوئی شیعہ۔ مختلف مسالک و فرقے تو بن گئے لیکن عملی طور پر ایک مکمل مسلمان ہونا نہ رہا۔ 

    مذہب کی آڑ میں ایسے ایسے بیانات دیتے ہیں کہ نا جانے ایمان بھی قائم رہتا ہو گا کہ نہیں۔کلمہ طیبہ ک اقرار کرتے ہیں لیکن جس اللہ اور اُسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ ایمان کی زبان سے گواہی دیتے ہیں اُنہی کے نام پہ آپسی اختلافات میں ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں اپنا اپنا عقیدہ لیکر ایک دوسرے کو گالی گلوچ، توہمات، کافر تک کہہ دیتے ہیں، اسلام و ایمان کے ٹھیکیدار بنے ہوئے دوسروں کے دائرہ اسلام، دائرہ ایمان سے ہی خارج کر دیتے ہیں۔

    آج کا مسلمان تو بس دنیاوی زندگی، دنیاوی آسائشوں کو لیکر بس اِسی دنیا کی زندگی میں غرق ہو کے رہ گیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ دولت و شہرت کے چکروں میں سبھی قرآنی تعلیمات، دینی احکامات کو بھلائے بیٹھا ہے۔ کوئی بھی مسلمان جس بھی فِیلڈ میں ہے اپنی اپنی فِیلڈ میں آگے سے آگے بڑھنے، دوسروں سے سبقت لے جانے کے لئے رشوت، جھوٹ، زیادتی، دھوکا، ظلم و ستم، نا انصافی نیز ہر قسم کا غلط، نا جائز حربہ استعمال کر رہا ہے۔ حق تلفی عام ہے۔ ایک دوسرے سے برتری لے جانے کے لئے دوسروں کے لئے اپنے دلوں میں بُغض، حسد، کینہ، نفرتیں پالے ہوئے ہے۔ دوسروں کو کمتر ثابت کرنے کے لئے کوئی بھی گھناؤنا قدم اٹھا لیتا ہے۔ آج کا مسلمان یہ بھولے بیٹھا ہے کہ کل کو روزِ محشر اللہ کے سامنے اپنے ہر ہر عمل کے لئے جوابدہ ہونا ہے۔ 

    اسلام تو امن کا دین ہے، آسانیوں کا پیغام دیتا ہے۔ آج کا مسلمان جو سب کچھ کر رہا ہے یہ تو اسلام کی تعلیمات نہیں ہیں۔ جو سب کچھ آج اسلامی معاشرے میں ہو رہا ہے اور اپنے اپنے عقیدوں کو لیکر مسلمان جو مختلف فرقوں میں بٹ چکے ہیں یہ تو اسلام نہیں ہے۔

    آج کے مسلمانوں کے لئے پیغام ہے پہلے اپنے مسلمان ہونے کے فرائض تو پورے کر لیں کلمہ طیبہ کا بس زبان سے اقرار نہیں، اپنے ہر عمل سے بھی اللہ اور اُسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان کی مضبوطی دکھائیں۔اسلام میں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد مقرر کئے گئے ہیں اُنکو پورا کریں۔ یہ”دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔” 

    اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہو گی، فانی کے لئے دائمی کو تباہ و برباد نہیں کریں۔ اگلی ہمیشہ کی رہنے والی زندگی میں آسائشوں اور آسانیوں کے لئے یہ ختم ہو جانے والی زندگی کو ایک سچے مسلمان ہوتے ہوئے مکمل دائرہ اسلام میں داخل ہو کر اسلامی تعلیمات و احکامِ الہی کے مطابق گزاریں۔ 

    آخر میں اقبال کے شعر سے آج کے مسلمان سے سوال ہے۔۔۔۔

    یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو 

    تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟؟؟