Baaghi TV

Category: مذہب

  • غسل کے احکام ومسائل تحریر حسینہ کھوسہ

    غسل کے احکام ومسائل تحریر حسینہ کھوسہ

    غسل کا مطلب ہوتا ہے انسان کا اپنے پورے بدن پر ایک مخصوص طریقہ سے پانی بہانا۔ غسل کو واجب کرنے والی چیزیں چھ ہیں: 

    (۱) کسی مرد یا عورت کا احتلام ہو جانا مین می کا

    قوت کے ساتھ شرم گاہ سے باہر آنا۔

     (۲) میاں بیوی کا ہم بستری کرنا۔

     (۳) کسی کافر کا اسلام

    لے آنا۔ 

    (۴) کسی مسلمان کا مر جانا۔ واضح رہے کہ راہ خدا میں شہید ہونے والے کے علاوہ ہر

    میت کونسل دینا واجب ہے۔ 

    (۵) عورت کا حیض (ماہواری) کے خون سے پاک ہونا۔ (6)عورت کا نفاس (بچہ جننے کے بعد نکلنے والا فاضل خون) کے خون سے پاک ہونا۔

    غسل کرنے کے دو طریقہ ہیں : پسندیدہ ومحبوب طریقہ اور بقدر ضرورت جائز طریقہ۔

    پہلے طریقہ غنسل کرنے سے غسل کامل و مکمل اور شریعت کی نگاہ میں محبوب ہوتا ہے جبکہ دوسرے

    طریقہ سے غسل کرنے میں غسل کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے۔ ویسے دونوں طر لیے جائز ہیں۔

    پہلے طریقہ یعنی کامل و مکمل کرنے کا انداز یہ ہے

    غسل کی نیت دل میں کی جائے اور بسم الله پڑھا جائے۔

     دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا جائے اور شرمگاہ کو دھویا جائے۔

     پھر پورا وضو کیا جائے جس طرح سے نماز کے لیے وضو کیا جاتا ہے۔

     پھر تین بار سر پر پانی ڈالا جائے تا کہ بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچ جائے۔

    = پر پورے بدن پر پانی ڈالا جائے۔ پانی ڈالنے میں جسم کے دائیں حصہ پر پہلے ڈالا

    جائے اس کے بعد بائیں حصہ پر پانی ڈالا جائے جسم کو ہاتھوں سے رگڑا جائے تا کہ کوئی جگہ

    سوکھی نہ رہ جائے۔ اس مرحلہ میں صابون ، شیمپو وغیرہ کا استعمال کرنا بھی جائز ہے۔

    غسل کا دوسرا بقدر ضرورت طریقہ یہ ہے کہ ایک ساتھ ہی پورے بدن پر پانی ڈال لیا

    جائے۔ واضح رہے کہ اس طریقہ میں منہ اور ناک میں پانی ڈال کر انہیں صاف کرنا ضروری ہے۔

    پہلے طریقہ میں وضو کرنے میں یہ دونوں چیز میں آ جاتی ہیں۔

    ویسے تو انسان غسل کسی بھی وقت کرسکتا ہے۔ تاہم غسل جن موقعوں پر کرنا شریت

    کی نگاہ میں مستحب ہے وہ یہ ہیں:

    عید کی نماز کے لیے۔ اس میں عید الفطر اورعیدالانی دونوں شامل ہیں۔

    جمعہ کی نماز کے لیے۔

    = حج یا عمرہ کے لیے احرام باندھنے سے پہلے۔

    = وہ عورت جسے کی بیماری کی وجہ سے خون آرہا ہو

    ، اس کے لیے شرعا پسندیدہ ہے کہ وہ

    ہرنماز سے پہلے غسل کرے۔ اگرچہ واجب نہیں۔ بلکہ ہر نماز سے پہلے صرف وضواجب ہے۔

    یہاں ذہن میں رہنا چاہیے کہ ان موقعوں پرنہانا محض مستحب ہے، فرض نہیں۔ لیکن اگر

    کوئی ان مواقع پر نہاتا نہیں ہے تو وہ کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا۔

    خواتین کے لیے غسل کے چند اہم مسائل درج ذیل ہیں:

    1) عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے جسم کے ہر حصہ کو جانچ لے کہ وہاں پانی پہنچا

    کہ نہیں۔ 

    اس میں بالوں کی جڑوں کو حلق کے نیچے، بغلوں میں، ناف کے نیچے گھنٹوں کے

    موڑنے کی جگہوں کو بطور خاص دیکھ لینا چاہیے۔ اگر کوئی انگوٹی یا گھڑی پہن رکھی ہے تو نہاتے

    ہوئے انہیں گھما اور ہلا لینا چاہیے تاکہ پانی ان کے نیچے تک پہنچ جائے ۔

    ۲) عورتوں کو غسل میں دو چیزوں کا خاص طور سے اہتمام کرنا چاہیے: ایک تو یہ کہ غسل مکمل کیا جائے یعنی جسم کی کھال کا کوئی حصہ ایا باقی نہ رہنے پائے جس تک پانی نہ پہنچا ہو۔

    دوسری بات یہ کہ بلاوجہ پانی کا اسراف نہ کیا جائے۔ شریعت میں جس بات ک تعلیم دیتا ہے وہ یہ

    ہے کہ غسل مکمل کیا جائے لیکن اس میں کم سے کم پانی استعمال کیا جائے۔ اللہ کے رسول کے

    بارے میں حدیث گزر چکی ہے کہ آپ کا وضو ایک مد میں اور غسل ایک صاع کے برابر پانی

    میں ہوجاتا تھا۔ یہ مد اور صاع دو پیمانے ہیں جن سے عربوں میں سیال اشیا کوناپا جاتا تھا۔ موجودہ

    زمانے کی اصطلاح میں مد آدھی کلو کے برابر ہوتا ہے اور ایک صاع دوکلو کے برابر ہوتا ہے۔

    ۳) ناپاک عورت کے لیے اسی حالت میں سونا جائز ہے، تاہم افضل یہ ہے کہ سونے

    سے پہلے وضو کر لیا جائے۔

    4)اگر عورت کے بال گھنے ہیں یا چٹیا میں گندھے ہوئے ہیں تو اس کے لیے ضروری

    نہیں ہے کہ انہیں کھول کر ہی نہائے ۔ جو چیز ضروری ہے وہ یہ کہ پانی کو بالوں کی جڑوں تک پہنچایا

    جائے۔ اس میں بہتر ہے کہ پوری چٹیا کوایک بارفواره یائونٹی کے نیچے رکھ کر بھگولیا جائے اور پھر سر 

    پرہی اسے نچوڑ دیا جائے تا کہ سارے بالوں میں پانی پہنچ جائے

  • رحمت للعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تحریر: خوشنود

    رحمت للعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تحریر: خوشنود

           جب سے یہ کائنات ظہور میں آئی ہے اللّٰہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی، اپنے بندوں کی اصلاح اور انہیں سیدھی راہ پر چلانے کے لئے مختلف ادوار میں کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کو بھیجا۔ نبوت کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر آکے ختم ہوا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللّٰہ عزوجل کے تمام انبیاء مرسلین رحمت تھے مگر رحمت للعالمین نہیں تھے۔ اُنکی نبوت اپنی قوم، اپنے دور اور اپنے زمانے تک محدود تھی جبکہ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت و شفقت ہر عہد، ہر زمانے، ہر قوم اور تمام جہانوں کے لئے ہے۔ سرکارِ دو عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو اللّٰہ تعالیٰ نے رحمت للعالمین بنا کر بھیجا۔ جہاں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنا تعارف رب العالمین کروایا ہے وہاں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمت للعالمین کے لقب سے نوازا۔یہ لقب اور شرف ایسا ہے جو کسی اور کے لئے استعمال نہیں کیا گیا۔

    قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: 

    وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین

    "اور (اے پیغمبر) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔”

    اِس آیتِ کریمہ پر توجہ کی جائے تو معلوم ہوتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صرف عرب کے لئے رحمت بنا کر نہیں بھیجا گیا تھا۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم صرف اُمتِ مسلمہ کے لئے رحمت نہیں، تمام نبیوں، رسولوں اور فرشتوں کے لئے بھی رحمت ہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تمام چرند پرند، حیوانات و نباتات کے لئے بھی سراپا رحمت بن کر آئے۔ غرض عالم میں جتنی چیزیں ہیں سید المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سب کے لئے رحمت ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ جو تمام عالموں کا مالک و مختار ہے اُس نے اِن عالموں کے لئے رحمت کا اہتمام اپنے آخری نبی محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت میں کر دیا۔ 

    چھٹی صدی عیسوی کا زمانہ جو بعثت نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل کا زمانہ ہے اُس زمانے میں نہ صرف سر زمین عرب بلکہ پوری دنیا جہالت و گمراہی کا شکار تھی۔ پورا معاشرہ پستیوں کی گہری دلدل میں ڈوبا ہوا تھا۔ ذات پات کا ایسا خوفناک نظام رائج تھا کہ انسانیت پناہ مانگتی تھی۔

    حیوان تو حیوان آپس میں انسانوں کے ساتھ بھی جانوروں سے بدتر سلوک کیا جاتا تھا۔ انسان انسان کا دشمن اور بھائی بھائی کے لہو کا پیاسا تھا۔ یتیموں کا مال ہڑپ کر لیا جاتا تھا اور بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ کفر و شرک، ظلم و بربریت، قتل و غارت، چوری، ڈاکہ زنی، شراب نوشی نیز ہر قسم کا گناہ عام تھا۔ ان سب حالات اور گھٹا ٹوپ اندھیرے کو دور کرنے کے لئے عرب کی سر زمین سے وہ آفتابِ ہدایت طلوع ہو جسکی چکا چوند کر دینے والی روشنی نے جہالت کی تمام تاریکیوں کو ختم کر دیا۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی۔ جس معاشرے میں غلام اور عورت کی کوئی عزت نہیں تھی آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس معاشرے میں غلاموں کو بھی عزت دلوائی عورت کو بحیثیت ماں، بہن، بیٹی، بیوی ہر روپ میں بلند مقام بخشا۔ اللّٰہ تعالیٰ کے تمام احکامات کی صرف تبلیغ نہیں کی بلکہ اپنی زندگی میں عملی طور پہ کر کے بھی دکھایا۔ وہ معاشرہ جو اپنے افعال و اعمال اور اخلاق و کردار کے لحاظ سے حیوانوں سے بھی بدتر تھا آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہو کر فرشتوں سے بھی افضل گردانا گیا۔ الغرض تاریخِ انسانی میں حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ایک ایسا اعلیٰ و ارفع مقام رکھتی ہے جسکی کوئی مثال نہیں۔ 

    وہ دانائے سبل ختمُ الرسل مولائے کُل جس نے 

    غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادی سینا 

    نگاہِ عشق ومستی میں وہی اول، وہی آخر

    وہی قرآں،وہی فرقان، وہی یٰسین، وہی طہٰ

    آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم محسنِ انسانیت ہیں، انسان کامل ہیں اور ہر لحاظ سے قابلِ تقلید ہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی قیامت تک کے انسانوں کے لئے بہترین نمونہ ہے۔ بطور مسلمان ہمیں ہر وقت اللّٰہ کریم کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے کہ اُس نے ہمیں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا اُمتی بنایا۔ جو شخص دنیا میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے گا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و پیروی کرے گا اُسے دونوں جہانوں میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت سے حصہ ملے گا۔ ہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم سیرتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا مطالعہ کریں اور اپنی زندگی کے ہر پہلو میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو اپنے لئے مشعلِ راہ بنائیں تا کہ ہماری دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں۔

      @_Khushnood_

  • ماہ ربیع الاوّل اور ہمارا طرزِ عمل   تحریر: قاری محمد صدیق الازھری

    ماہ ربیع الاوّل اور ہمارا طرزِ عمل تحریر: قاری محمد صدیق الازھری

    ” ربیع ” عربی میں موسمِ بہار کو کہا جاتا ہے، اور اوّل کے معنی ہیں: پہلا، تو ربیع الاول کے معنی ہوئے: پہلا موسمِ بہار۔ اس مہینے میں سرورِ دو عالم حضور اقدس جناب محمد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے اور یہ مقام کسی اور مہینے کو حاصل نہیں، اسی لیے جب آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے پیر کےدن روزے کےبارے میں پوچھاگیا ،تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی فضیلت کی ایک وجہ یہ بیان فرمائی کہ اس دن میں پیدا ہوا، جب پیر کے دن روزہ کو حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے، تو ماہِ ربیع الاوّل کوبھی آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا مہینہ ہونے کی خاص حیثیت کے اعتبارسے سال بھر کے تمام مہینوں پر فضیلت وفوقیت حاصل ہے۔

    محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم بن عبد الله بن عبد المطلب بن ہاشم بن مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان بن ادو بن ہمیسع بن سلامان بن عوض بن بوض بن قموال بن ابی بن عوام بن ناشد ‏بن حزا بن بلداس بن یدلاف بن طابخ بن جاحم بن ناحش بن ماخی بن عیفی بن عبقر بن عبید بن الدعا بن ہمدان بن سمب بن یژبی بن یحزن بن یلجن بن ارعوا بن عیضی بن ذیشان بن عیصر بن اقناد بن ایہام بن مقصر بن ناحث بن ضارح بن سمی بن مزی بن عوض بن عرام قیدار بن اسماعیل بن ابراہیم بن آذر بن ناحور ‏بن سروج بن رعو بن فائج بن عابر بن ارفکشاد بن سام بن نوح بن لامک بن متوشائح بن اخنون بن یارو بن ملہل ایل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم علیہ السلام کی ساری زندگی ہم سب کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ یہی وہ مقدس مہینہ ہے جس میں حضور اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی اور اسی مہینے میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ الله تعالٰی نے قرآن مجید کی سورۃ الانبیاء میں ارشاد فرمایا کہ؛ "اے محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم! ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔” 

    حضوراکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر مبارک ایک اعلی ترین عبادت ہے، بلکہ روحِ ایمان ہے۔

    آپ کی ولادت، آپ کا بچپن، آپ کا شباب، آپ کی بعثت، آپ کی دعوت ، آپ کا جہاد ،آپ کی عبادت ونماز، آپ کے اخلاق، آپ کی صورت وسیرت، آپ کازہدو تقوی، آپ کی صلح وجنگ ، خفگی و غصہ، رحمت و شفقت، تبسم و مسکراہٹ، آپ کا اٹھنابیٹھنا ، چلنا پھرنا، سونا جاگنا، الغرض آپ کی ایک ایک ادا اور ایک ایک حرکت و سکون امت کے لیے اسؤہ حسنہ اور اکسیر ہدایت ہے اور اس کا سیکھنا سکھانا، اس کا مذاکرہ کرنا اور دعوت دینا امت کا فرض ہے۔

    نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا ذکر مبارک انسان کی عظیم ترین سعادت ہے اور اس روئے زمین پر کسی بھی ہستی کا تذکرہ اتنا باعث اجر و ثواب اتنا باعث خیر و برکت نہیں ہوسکتا جتنا سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ ہوسکتا ہے۔ لیکن تذکرہ کے ساتھ ساتھ ان سیرتِ طیبہ کی محفلوں میں ہم نے بہت سی ایسی غلط باتیں شروع کردی ہیں جن کی وجہ سے ذکر مبارک کا صحیح فائدہ اور صحیح ثمر ہمیں حاصل نہیں ہورہا ہے۔ ان غلطیوں میں سے ایک غلطی یہ ہے کہ ہم نے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر مبارک صرف ایک مہینے یعنی ربیع الاوّل کے ساتھ خاص کردیا ہے اور ربیع الاوّل کے بھی صرف ایک دن اور ایک دن میں بھی صرف چند گھنٹے نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرکے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کاحق ادا کردیا ہے، یہ حضورِ اقدس صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے ساتھ اتنا بڑا ظلم ہے کہ اس سے بڑا ظلم سیرتِ طیبہ کے ساتھ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔

    اصل ربیع الاوّل اس کا ہے، جو رات دن ہر وقت حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو یاد رکھتا ہے، سال میں ایک مہینے کے لیے نہیں، ایک دن کے لیے نہیں، بارہ ربیع الاوّل کے لیے نہیں، جو اللہ کے نبی کی سنت پر زندہ رہتا ہے، ہر سانس میں سوچتاہے اور اہلِ علم سے پوچھتا ہے کہ یہ خوشی کیسے مناؤں؟ غمی کیسے ہو؟ اپنی زندگی اسلامی طرز عمل پر کیسے گزاروں؟  ساری سنتیں پوچھتاہے اور سنت پوچھ کر سنت کے مطابق خوشی اور غمی کی تقریبات کرتاہے،تو جس کی ہر سانس سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت پر فد ا ہو، اس کی ہر سانس حضور اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی دین کی اشاعت کے لیے ہے۔ جو شخص آپ کی سنت پرعمل کررہاہے اس کا ہر دن خوشی کا دن ہے، کیونکہ آپ کے دنیا میں تشریف لانے کا مقصد یہی ہے کہ امت آپ کے نقشِ قدم کی اتباع کرے، کیونکہ؎

    نقشِ قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے

    ﷲ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے

    Bio: The contributer Qari Muhammad Siddique Al- Azhari is a columnist and blogger. I have written many columns in newspapers and websites.

    Twitter ID:

    https://twitter.com/iamqarisiddique?s=09

  • ربیع الاول برکتوں والا مہینہ تحریر۔ نعیم الزمان

    ربیع الاول برکتوں والا مہینہ تحریر۔ نعیم الزمان

    لاکھوں کروڑوں درود وسلام اس ذات پر جیسے اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت العالمین بنا کر بھیجا۔جو وجہ تخلیق کائنات ہے۔

    جن کو بہترین معلم بنا کر بھیجا گیا۔

     اسلامی سال کا تیسرا مہینے کا نام ربیع الاوّل ہے۔ ربیع الاول کے معنی  ہیں پہلی بہار۔ یہ مہینہ خیرات وبرکات اور سعادتوں کا مہینہ ہے۔ اس مہینے کی بارہویں تاریخ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیدا فرمایا۔ احمد مجتبیٰ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت العالمین بنا کر بھیجا۔  اس وجہ سے بھی ربیع الاوّل کے مہینے کو اہمیت حاصل ہے۔ ۱۲ ربیع الاوّل کے دن کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کی نسبت سے مسلمان مناسب انداز میں خوشی منا کر اپنے ربّ کی رحمت کا شُکر ادا کرتے ہیں۔ کچھ لوگ نوافل، شب بیداری،  اور درود وسلام کی محفلیں منعقد کرتے ہیں۔اور کچھ لوگ اپنے گلی محلوں کو سجاتے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔اس دن کی نسبت سے بہت سارے لوگ اپنے گھروں کے باہر  مشروبات اور کھانے پینے کا اہتمام کرتے ہیں اور لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ برصغیر پاک وہند میں ربیع الاوّل کی ۱۲ تاریخ کو مسلمان عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طور پر مناتے ہیں۔پاکستان میں اس دن کی مناسبت سے سرکاری طور پر چھٹی ہوتی ہے۔ اس دن کو میلاد النبی کے جلوس بھی نکالے جاتے ہیں۔ مساجد میں محفلیں منعقد کی جاتی ہیں۔ 

    اور بہت سارے لوگ اس دن کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کا دن قرار دے رہے ہیں۔ 

    اور اس دن کو جشن منانے والوں کو شیطان سے تشبیہ دیتے ہیں۔ لیکن بحیثیت مسلمان میرا عقیدہ ہے کوئی بھی مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال پر خوشی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ یقیناً  ولادتِ باسعادت پر ہی چشن منایا جاتا ہے۔ رسول اللہ کا ارشادِ مبارک ہے: ”قبولیت اعمال کا دارومدار نیت پر ہے”(بخاری )۔ یہ ایک مختصر مگر جامع فلسفۂ زندگی ہے جس پر کسی بھی عمل کرنے والے کے فلاح کا دارومدار ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: ”لوگ قیامت کے دن صرف اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے”

     اللہ تعالیٰ نے ظاہری نیکی کو قبول نہیں فرمایا بلکہ وہ ارادہ، نیت، شعوری کوشش،قلب و ذہن کی آمادگی کو مدنظر رکھ کر اجر و ثواب کا مستحق سمجھے گا۔ دلوں کا حال اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یہ وہ علم ہے جو صرف اسی خالق کو ہی زیبا ہے جس نے ساری مخلوقات کو پیدا فرمایا. اس لیے یہ عمل بھی انسان کی نیت پر منحصر ہے۔ یقیناً کوئی بھی مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال پر خوشی منانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہر مسلمان ان کی ولادت پر جشن مناتاہے۔ دنیا اپنے رہنماؤں اور لیڈروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی  پیدائش کو بڑے جوش وخروش سے مناتے ہیں۔ اپنے بچوں اور پیاروں کی پیدائش پر برتھ ڈے مناتے ہیں۔ اس موقع پر دعوت کا اہتمام کرتے ہیں۔

     تو پھر کیوں نہ ہم اس شخصیت کی پیدائش پر جشن منائیں جو نہ کسی ایک قوم اور ملک کے رہنما ہیں مگر تمام جہانوں کے رہنما ہیں۔ کیوں نہ ان کی پیدائش پر فی سبیل اللہ طعام اور مشروبات تقسیم کریں۔

     اللہ تعالی ہم سب کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کی خوشی منانے کے ساتھ ساتھ ان کی سنت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطاء فرمائے۔ ان کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ ان کی ناموس کا تحفظ کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی  زندگی ہر مسلمان کے لیے بہترین نمونہ ہے۔جس کسی نے آپ کی سنتوں پر عمل کیا گویا اس نے آخرت میں اپنا ٹھکانہ جنت بنایا۔ اللہ پاک ہیمں اپنے پیارے حبیب کی زندگی کو سمجھنے اور ان کی سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطاء فرمائے۔

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ 

    Follow on 

    Twitter @786Rajanaeem

  • ایک عہد ساز شخصیت (مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ) : تحریر احسان اللہ خان

    ایک عہد ساز شخصیت (مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ) : تحریر احسان اللہ خان

    مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا وجود ملت اسلامیہ کے لیے قدرت کا عطیہ تھا۔ آپ کو قدرت نے بے شمار خوبیوں سے سرفراز فرمایا تھا اور آپ کی تمام تر خوبیاں و صلاحیتیں خدمتِ اسلام کے لیے وقف تھیں۔

    آپ 1919 میں ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں پنیالہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے ہی گاؤں سے کیا۔ میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول پنیالہ سے امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کیلئے دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے۔ ایک سال تک دارالعلوم دیوبند میں رہے اور بعد میں تعلیم مکمل کرنے کیلئے آپ جامعہ قاسمیہ مراد آباد تشریف لے گئے۔ 

    حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ نے سیاسی زندگی کا آغاز زمانہ طالبعلمی سے کیا۔ دوران تعلیم ہی میں آپ نے جمعیت علماء ہند میں شمولیت اختیار کیا۔ 1943 میں آپ تعلیم سے فارغ ہوگئے تو "ہندوستان چھوڑدو” کی تحریک جاری تھی۔ یہ تحریک انگریزوں کے دور کی بہت ہی اہم اور دور غلامی کی آخری متحدہ تحریک تھی۔ آپ ہی نے اس تحریک میں بھر پور حصہ لیا۔

    آپ 1944 کو ہندوستان سے واپس وطن آگئے۔ اور سرحد جمعیت پلیٹ فارم پر جدوجہد آزادی کی مہم میں مصروف ہوگئے۔ بے پناہ قربانیوں، صلاحیتوں اور بھرپور سیاسی سرگرمیوں کیوجہ سے جلد ہی حضرت مفتی صاحب جمعیت علماء سرحد کی مجلس عاملہ کے رکن اور آل انڈیا جمعیت علماء کے کونسلر منتخب ہوگئے۔

    قیام پاکستان کے بعد آپ نے ملتان کے سب سے بڑے دینی اور تعلیمی ادارے جامعہ قاسم العلوم میں مدرس کی حیثیت سے علمی زندگی کا آغاز کیا۔ یہاں پر حضرت مفتی صاحب شیخ الحدیث اور مفتی کے منصب پر فائز ہوگئے۔ افتاء کے سلسلے میں آپ کی شہرت اور عظمت ملک و بیرون میں تسلیم کی گئی۔ فقہی مسائل میں آپ کی باریک بینی، نکتہ آفرینی وسعت علمی اور بلند نظری آپ نے مخالفین بھی مان گئے۔ آپ نے چالیس ہزار سے زائد شرعی فتوے جاری کئے۔ جنہیں علمی اور فنی اعتبار سے آج تک کسی نے چیلنج نہیں کیا۔ حضرت مفتی صاحب کا شمار اسی صدی کے ممتاز ترین علماء کرام میں ہوتا تھا۔ آپ ایک بلند پایہ مفکر، نکتہ سنج فقہیہ، عمدہ مفسر، بہترین ادیب، محقق اور مورخ ہی نہیں تھے بلکہ قانوں و سیاست اور سائنس و فلسفہ پر عبور رکھتے تھے۔ حضرت مفتی صاحب کئی زبانوں کے ماہر تھے بالخصوص عربی، فارسی اور اردو ادب پر گہری دسترس حاصل تھی۔ حضرت مفتی صاحب کی شخصیت کا سیاسی پہلو بڑا تابناک اور شاندار تاریخی روایات کو اپنے اندر لئے ہوئے تھے۔ حضرت مفتی صاحب نے برصغیر کے تقسیم سے پہلے سیاست کی پرخار وادی میں قدم رکھا اور برطانیہ کے استعمار کے خلاف قومی آزادی کی جدوجہد میں بھرپور حصہ بھی لے لیا۔

     قیام پاکستان کے بعد جب سیاست اور معیشت پر مخصوص مفادات کے حامل برطانوی اقتدار کا پیدا کردہ طبقہ مسلط ہوگیا اور اسلام جمہوریت، انسانی حقوق اور معاشی آزادی کے داعی افراد اور جماعتوں پر قدغن لگادی گئی اور علماء کرام (وہ علماء کرام جو برصغیر کی سیاست کا اہم عنصر تھے) کا ملک کی سیاست سے اثر ختم کردیا گیا اور انہیں صرف اور صرف مساجدوں، مدرسوں اور خانقاہوں تک محدود کردیا گیا تو اس وقت حضرت مفتی صاحب پہلے ہی شخص تھے جو نہایت ناخوشگوار حالات، مالی وسائل اور پروپیگنڈوں سے تہی دست ہوتے ہوئے ملک میں علماء کی سیاست کو تسلیم کروانے سیاسی میدانوں میں علماء حق کا سکہ پھر سے رائج کیا اور پھر سے ملک میں اسلام کی بقاء قائم رکھنے کیلئے 1956ء میں سکندر مرزا کی صدارت میں دوران سیاسی سٹیج پر نہایت آہستگی اور توازن سے نمودار ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب ملک کی سیاسی عدم و استحکام اور افراتفری کا شکار تھا۔ سکندر مرزا نے وزارتوں کو اکھاڑ پچھاڑ کاسلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ امریکہ سے چند معاہدوں کی وجہ سے ملکی سیاست، معیشت، ثقافت اور معاشرت پر امریکی اثر و رسوخ بڑھتا جارہا تھا۔ نظام حکومت مکمل طور پر نوکر شاہی کے ہاتھوں جاچکا تھا۔ 

    1956ء ہی میں پاکستان کا پہلا آئین دستور ساز اسمبلی نے پاس کیا تھا۔ جس میں اسلام کا صرف اور صرف نام ہی استعمال کیا گیا تھا۔ حقیقی اسلام کی عکاسی اس سے نہیں ہوتی تھی۔ حضرت مفتی صاحب نے 1956ء کے درمیان میں علماء کا ملگ گیر کنونشن بلایا۔ جس مقصد یہ تھی کہ حقیقی اسلام کے حمایتی افراد جو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے اور پوری خلوص اور سرگرمی سے ملکی سیاست میں حصہ لیا جائے۔ اگرچہ یہ مفتی صاحب کا پہلا سیاسی اقدام تھا مگر اس کے نتائج بہت حوصلہ افزاء رہے اور اس کنونشن میں باقاعدہ جمعیت علماء اسلام کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس وقت شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری کو جمعیتہ علماء اسلام کا پہلا امیر منتخب کیا گیا جو ایک طویل سیاسی تجربہ رکھتے تھے۔ جمعیتہ علماء اسلام کی تاریخ چلتی رہی، ملک میں آئین بنتے رہے۔ ان کے بنوانے میں جمعیتہ اور حضرت مفتی صاحب نے نمایاں کردار ادا کیا۔ اور ایک وقت آیا کہ حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ مئ 1962ء میں صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ 

    حضرت مفتی سرحد (خیبرپختونخوا) کا زیراعلیٰ بننے کے بعد اسلامی روایات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی۔ حضرت مفتی صاحب نے امتناع شراب کے قوانین جاری کئے اور تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبہ سرحد (خیبرپختونخوا) میں شراب مکمل پابندی عائد کردی گئی۔ حضرت مفتی صاحب نے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے قرون اولیٰ کے درویش حکمرانوں کی یاد تازہ کی اور ان کی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں ایک دن بھی دفعہ 144 نہ لگا، جہیز پر پابندی، سرکاری اداروں میں قومی لباس کی تاکید سادگی کی اعلیٰ ترین مثالیں ہیں۔ جمعہ کی تعطیل کی سفارش، اردو کو سرکاری زبان قرار دینا ان کی حکومت کے ایسے کارنامے ہیں فراموش نہیں کئے جاسکتے۔ پاکستانی سیاست پہلی مرتبہ یہ روایات بھی حضرت مفتی صاحب نے قائم کی کہ جسکی اکثریت کی نمائندہ حکومت کو بلاوجہ برخواست کیا گیا تو انہوں نے بھی احتجاجاً اپنی حکومت کا استعفیٰ پیش کردیا۔ جب 1973ء میں بھٹو مرحوم نے مسلمہ جمہوری اقدار کو پامال کرتے ہوئے صوبہ سرحد اور بلوچستان کے گورنر برطرف کردئے اور بلوچستان کی کابینہ کو بھی سبکدوش کردیا تو حضرت مفتی صاحب نے بھٹو نے اس اقدام پر جرتمندی اور بے باکی سے صدائے احتجاج بلند کی اور وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ ذولفقار علی بھٹو کو یہ خیال نہ تھا کہ مفتی محمود رحمہ اللہ استعفیٰ دینگے۔ تو انہوں نے مفتی صاحب کو کہا کہ حضرت آپ تو ہمارے امام ہیں، آپ کو کسی نے نہیں چھیڑا، آپ نے استعفیٰ کیوں دیا ؟ آپ استعفیٰ واپس لیں، حضرت مفتی صاحب نے جواب دیا کہ پہلے ہمارے اس شکایات کا تدارک کریں جو استعفیٰ کا باعث بنی ہے۔ ذولفقار علی بھٹو نے کئ دن تک اس کا استعفیٰ منظور نہ کیا اور حضرت مفتی صاحب کو استعفیٰ واپس لینے پر مجبور کرتے رہے۔ مگر انہوں اصولی سیاست پر اپنے منصب کو قربان کردیا اور پاکستان کی سیاست میں روشن و تابندہ مثال قائم کی۔ ذولفقار علی بھٹو نے حضرت مفتی صاحب کو پیغام بھیجا اور ملاقات جی خواہش کا اظہار کیا لیکن مفتی صاحب نے یہ تجویز بھی مسترد کردی اور کہا کہ : ” ہم آئین کے پابند ہیں اور اسکی بالادستی کا حلف لیا ہے اسلئے غیر آئینی اقدامات کی حمایت یا است درست قرار دینا حلف کی خلاف ورزی ہے۔ وہ کوئی اور ہونگے جن کو اقتدار سے پیار ہے، میں ایسا نہیں کرسکتا "۔ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ وزارت اعلیٰ کو ٹھوکر ماردی اور یوں ممکن ہوا کہ انہوں نے وزارت اعلی سے کوئی سیای اور مادی فائدہ نہیں اٹھایا۔ سرکاری کار دفتر کیلئے ضرور استعمال کی جو اس کی ضرورت تھی، مگر کوئی تنخواہ اور مراعات حاصل نہیں کیں۔ یقیناً وزیراعلیٰ کے منصب کو عوام کی امانت کو جانا اور ان کی فلاح و بہبود کیلئے وقف کردیا اور یہ ایسا واقعہ ہے جس کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اقتدار چھوڑنا مشکل کام ہے۔ 1973ء کے آئین کو اسلامی بنانے میں حضرت مفتی صاحب کا بہت اہم کردار ہے۔ حضرت مفتی صاحب نے سیاسی حقوق کی بازیابی کے علاوہ آئینی سطح پر ہر کسی سے ٹکر لی۔ قومی اسمبلی سے7 ستمبر1974 کو قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں حضرت مفتی صاحب کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے اسمبلی میں قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر پر جو علمی جرح کی، وہ تاریخ کا ایک ناقابل فراموش حصہ ہے۔ 

    1977ء کی تحریک میں قبائلی عوام نے تحریک میں شامل ہونے کی پیش کش کی تو مفتی صاحب نے انہیں منع کیا اور فرمایا کہ اگر قبائلی تحریک میں آگئے تو وہ بندوقیں اٹھائیں گے بندوق سے شدت آئے گی اور میں شدت پسندی کا قائل نہیں۔ حضرت مفتی صاحب نے قبائلی رہنماؤں اور عمائدین کا رخ مسلح جدوجہد سے سیسی جدوجہد کی طرف موڑا، اس وجہ سے آج تک قبائلی عام نے علماء کرام اور جمعیتہ علماء اسلام پر اعتماد کرنے ہیں۔ جس کے جمعیتہ علماء اسلام کے تحت قبائلی عمائدین پر مشتمل "قبائلی جرگہ” ہی پر اثر پلیٹ فارم ہے۔ وزارتِ اعلیٰ کے منصب تک پہنچے اور بڑے بڑے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی موجودگی میں بھی نو سیاسی جماعتوں کے متحدہ محاز نے قیادت کی ذمہ داری بھی ان کو سونپ دی اور وہ پاکستان کے قومی اتحاد کے سربراہ منتخب ہوئے۔

    حضرت مفتی صاحب حج کے لئے روانہ ہوئے کراچی پہنچ کرایک علمی موضوع پرحضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی،حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی،حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید،حضرت مولانا مفتی احمدالرحمنؒ،مفتی محمد جمیل خان شہید،حضرت مولانا ڈاکٹرعبدالرزاق سکندرکی موجودگی میں ایک خالص فقہی مسئلے پر گفتگو کر تے ہوئے 14اکتوبر1980کواچانک سفرآخرت پرروانہ ہوئے۔

    Twitter / ‎@IhsanMarwat_786

    https://t.co/vCKLp37n27‎

  • خدا کا شکر ادا کرنا سیکھیں تحریر: نعمان سرور

    خدا کا شکر ادا کرنا سیکھیں تحریر: نعمان سرور


    اسٹریس ہائپر ٹینشن ڈپریشن ٹینشن آجکل اس طرح کے مسائل ہر انسان کو درپیش
    ہیں بڑے دکھ کی بات ہے ہمارے معاشرے میں نفسیات اور احساسات کو زیادہ
    اہمیت نہیں دی جاتی جب کہ ہر دوسرا انسان اپنے اندر ایک جنگ لڑ رہا ہے
    بعض اوقات کچھ یادیں تکلیفیں الجھنیں انسان کو اندر ہی اندر توڑ کر رکھ
    دیتی ہیں اور انسان پر مایوسی اور دل شکستگی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے
    انسان اپنی توجہ دنیا کی ہر چیز سے ہٹا کر ایک نقطے پر مرکوز کر دیتا وہ
    ہے  بے سکونی ,مایوسی ,نا امیدی ,چڑچڑا پن۔

    ڈپریشن کا زیادہ شکار حساس لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کو خوش کرتے کرتے اپنی
    زات کو فراموش کر دیتے ہیں روزمرہ کی زندگی میں دیکھیں تو ایک طالب علم
    سے لے کر نوکری کرنے والا انسان کسی نہ کسی ذہنی دباؤ کا شکار ہے کچھ تو
    کام کا تحاشہ لوڈ طویل دورانیے کی نوکری بھی اچھے خاصے انسان کو چڑ چیڑا
    بنا دیتی ہے۔

    کیا کبھی کسی نے سوچا کہ انسان ذہنی مریض کیوں بنتا ہے کیا وجہ ہے دن بدن
    انسان اپنی زندگی سے مایوس ہو جاتا ہے کبھی سوچا اذیت کی وہ کیا انتہا ہو
    گی کہ انسان اس حد تک بے بس ہو جاتا کہ وہ خودکشی تک کرنے پر موجود ہوتا
    ہے ہمارے معاشرے کی یہ بد قسمتی ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اس کو بیماری
    ہی نہیں سمجھتے ہمارے نزدیک بیماری وہی ہے جو نظر آجائے اور جب تک ہمیں
    یہ بات سمجھ آتی ہے بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

    عموماً دیکھا گیا ہے ڈپریشن عام انسان سے زیادہ پڑھے لکھے، مایوس، نوکری
    پیشہ، بیمار ،تنہائی میں مبتلا لوگوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ تو
    محبتوں سے محروم ہوتے ہیں احساس محرومی ان کی رگوں میں سرائیت کر جاتی ہے
    جو تکلیف اور ناامیدی کا باعث بنتی ہے یا یہ کہہ لیں کبھی کبھی انسانی
    رویے، ان کے کہے کچھ الفاظ درد کا باعث بنتے ہیں غیروں کے الفاظ انکے
    رویے بھی انسان کسی حد تک سہہ لیتا ہے مگر جب بات دل سے جڑے رشتوں کی
    ہوتی ہے تو وہ کٹ کر رہ جاتا ہے  یا جب اپنے چاہنے والوں سے رخصت ہونا
    پڑتا ہے تو انسان کے پاس بس ان کی یادیں ہوتی ہیں جو اس کا جینا محال کر
    دیتی ہیں کبھی کوئی حالات کا مارا ہوتا نفرت کا ڈسا ہوتا یا محبت کا لوگ
    کس تکلیف سے گزر رہے ہوتے ہیں کسی کو احساس نہیں ہوتا کیوں کہ ہمارے
    معاشرے میں درد پر مرہم رکھنے کی ریت نہیں بلکہ دوسرے کے دکھوں کو لوگ
    ہرا کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں  ایسا نفسا نفسی کا دور ہے کسی کی نیند
    ٹوٹے یا خواب دل ٹوٹے یا ہمت کسی کو کوئی پرواہ نہیں لوگ اپنی دنیا میں
    ہی مست رہتے۔

     ایسا بھی دیکھا گیا ہے کبھی کبھی انسان ڈپریشن خود پر بھی مسلط کر لیتا
    ہے وجہ ہوتی ہماری لاشعور میں پلنے والی تکلیفیں, یادیں,تلخیاں اور یہ
    پھر ہماری زندگی کے ہر حصے پر اثر انداز ہوتی ہیں  انسان نہ ٹھیک سے کوئی
    کام کر سکتا ہے نہ کوئی فیصلہ لے پاتا ہے بس مایوسی کے دلدل میں دھنستا
    چلا جاتا ہے۔

    بہت سی نامور شخصیات کے بارے میں سنا ہو گا دولت عزت شہرت  دنیا کی ہر
    آسائش ہونے کے باوجود اپنی زندگی سے مایوس ہو کر سکوں کی تلاش میں نشے کی
    لت میں پڑ جاتے یا اتنے بیزار ہو جاتے خودکشی پر مجبور ہو جاتے اس طرح کی
    تمام برائیوں کی جڑ  ایمان کی کمی ہے انسان در بدر سکون کی تلاش میں رہتا
    ہے مگر انسان یہ سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے کہ سکون کا تعلق دل سے ہوتا ہے
    دل اس کا مطمین ہو گا تو سکون خود بخود اس کے اندر سرایت کر جائے گا مگر
    سوال یہ ہے کہ دل مطمئن کیسے کریں تو اس کا آسان جواب بیشک اللّٰہ کے ذکر
    میں ہی سکون ہے یعنی اللّٰہ پاک کو یاد کرنا اسکی عبادت کرنا اس کے ذکر
    کو اسکے احکامات کو اپنی روح میں ڈھالنا ہے۔ جس سکون کو ہم دنیا بھر میں
    ڈھونڈنے پھرتے ہیں  وہ تو ہماری شہہ رگ سے بھی قریب تر ہے۔

     اگر آپ اپنی زندگی میں ﻣﺜﺒﺖ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻓﮑﺮ ﺍﭘﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻋﺎﺩﯼ بن جائیں ﺗﻮ کسی
    قسم کا ﺩﺑﺎﻭٔ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮕﺎﮌ ﺳﮑتا منفی سوچوں خیالات سے دور رہیں
    ہر حال میں اللّٰہ پاک کا شکر ادا کریں اپنے لیے جینا سیکھیں یہ آپ خود
    پر منحصر ہے کہ آپ  اپنی ذہنی پریشانی سے خود کو اس سے کیسے باہر نکالتے
    ہیں یہ آپ نے طے کرنا کہ آپ کے اندر کون سے صلاحیت ہے جسے بروئے کار لا
    کر خودکو ہلکا پھلکا محسوس کر سکتے ہیں جیسے کہ اچھی کتابیں پڑھیں
    باغبانی کریں وغیرہ وغیرہ یا اپنے والدین سے بات کریں نہیں ہیں تو کسی
    قریبی دوست سے اپنے دل کی بات کریں یقین کریں آپ واقعی خود کو ہلکا پھلکا
    محسوس کریں گے اپنے اندر خوشگوار تبدیلی محسوس کریں گے۔

      کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے میں خود بہت مایوس ہو جاتا ہوں شدید ڈپریشن
    ہوتا ایسا لگتا جیسے سر درد سے پھٹ جاۓ گا ایسے میں  سورہ رحمن کی تلاوت
    سنتا ہوں سکون جیسے نس نس میں اتر جاتا ہے۔کبھی ایسا بھی ہوتا میں  اپنے
    خیالات کو اپنی پریشانیوں کو کاغذ پر اتار کر دل ہلکا کر لیتا ہوں دنیا
    میں شاید میرے جیسے بے شمار لوگ ہوں کہ جن کو سنے والا سمجھنے والا کوئی
    نہیں ہوتا تو انکے پاس بس کاغد اور قلم کا سہارا ہوتا۔ یہ میرا ذاتی
    تجربہ ہے اور میں نے بہت حد تک فضول سوچنا اور ٹینشنز پالنا ختم کر دی
    ہیں بجائے ہم منفی ردعمل اپنائیں مثبت چیزیں کر کے دیکھیں بہت حد تک بہتر
    محسوس کریں گے۔۔!!

    ٹویٹر اکاؤنٹ

    ‎@Nomysahir

  • خاتم البنین حضرت محمد ﷺ کی بعثت کو ساڑھے چودہ سو سال ہوگیۓ ہیں  تحریر : نواب فیصل اعوان

    خاتم البنین حضرت محمد ﷺ کی بعثت کو ساڑھے چودہ سو سال ہوگیۓ ہیں تحریر : نواب فیصل اعوان

    ۔
    حضور کریم ﷺ کی سیرت طیبہ پہ لاکھوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا ۔
    خاتم النبین حضور پاک رسول اللہ ﷺ سے محبت ہی صرف وہ چیز ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں فلاح کی ضمانت اور اللہ رب العزت کی محبت پانے کاذریعہ ہے ۔
    اسی طرح کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔
    فرمانِ نبویﷺ ہے
    ” تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو ”
    چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اسلام میں حرمت اور ناموس کے اعتبار سے کسی نبی میں کوئی فرق نہیں ۔“
    تمام انبیاء میں کسی بھی نبی پر کوئی زبان درازی یا گستاخی کے مرتکب کی سزا قتل کے علاوہ کوئی نہیں ہے ایسے شخص کا سر قلم کر دیا جاۓ جو خاتم النبین حضرت محمد ﷺ یا اللہ کے کسی بھی نبی یا پیغمبر کے بارے میں زبان درازی کرے ۔
    یہ تو ہر مسلمان ہی جانتا ہوگا کہ
    حضور نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ تمام مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ اورروشن چراغ دوسرے لفظوں میں مشعل راہ ہے ۔
    ہمارے دین اسلام کی تعلیمات نہایت سادہ، واضح اور عام فہم ہیں، ان میں کسی قسم کی پیچیدگی کا گزر نہیں ہے۔
    ان تعلیمات و ہدایات کا مکمل نمونہ آنحضرتﷺ کی ذات گرامی تھی فلہٰذا جب تک آپﷺ کا اسوہ حسنہ ہمارے سامنے نہ ہو اس وقت تک نہ ہم اسلام کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی صحیح طور پر اس پر عمل کر سکتے ہیں۔
    مسلمانوں کے لیے یہ باعث سعادت ہے کہ نبی کریمﷺ کی سیرت کے تقریباً ہر پہلو پر علمی کام ہو چکا ہے۔ سیرت النبیﷺ کے کہا کہنے کہ جب وہ بولیں تو ہونٹوں سے پھول جھڑیں کہ جب وہ دیکھیں تو انسان منجمد ہو جاۓ خاتم النبین محمد ﷺ ہمارے بڑی شان والے ۔
    اس وقت سیرت نبوی ﷺ کا معالعہ اس لیۓ بھی ضروری ہے کہ غیر مسلم ہمارے پیارے آقا و کریم خاتم النبین ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق رہنماٸ حاصل کر سکیں وہ جان سکیں کہ ہمارے آقا کی زندگی کیسی تھی ۔؟
    قرآن مجید میں ہے کہ
    ” آپ کیلۓ ہمارے نبی ﷺ کی زندگی اسوہ حسنہ ہے ۔“
    قرآن کریم میں اس بات کا بھی سختی سے ذکر کیا گیا ہے کہ
    ” ہمارے نبی کی اطاعت کرو “
    خاتم النبین حضور کریم آقا مرسلین نانا حسنؓ و حسینؓ حضرت محمد مصطفی کی اطاعت ہر مسلمان پر لازم و ملزوم ہے اس کیلۓ تمام مسلمانوں کو سیرت نبوی کا بغور مطالعہ کرنا چاہیۓ تاکہ وہ جان سکیں کہ حضور کو کونسی چیز پسند تھی کس سے آقا و مولا کریم نے روکا تاکہ آقا کریم کی زندگی کی روشنی میں کامل زندگی بسر کی جا سکے ۔
    اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ
    اے مومنوں نبیﷺ کی اطاعت کرو
    یہاں اطاعت سے مراد یہ ہے کہ نبی کریم خاتم النبین حضور کریم ﷺ کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا جاۓ آپﷺ کی زندگی مکمل ضابطہ حیات اور مشعل راہ ہے ۔
    مسلمان سیرت رسول خاتم النبین کی زندگی کے ہر پہلو میں رہنماٸ پاٸیں ۔
    حضور کریم ﷺ کی عادات و اطوار کا مطالعہ کیا جاۓ تاکہ ایک مکمل کامل زندگی جی جا سکیں کیونکہ کاملیت اس وقت ہوگی جب دل میں حضورکریم خاتم النبین ﷺ کی محبت انتہا کو ہوگی تبھی ایک انسان کامل انسان بن سکتا ہے اور یہی کاملیت انسان کو حضور پاک ﷺ کی کچہری نصیب کرا سکتی ہے اور نبی کریم ﷺ کی شفاعت رب سے ملا سکتی ہے ۔
    اللہ آپ آپکو مجھے سب مسلمانوں کو حضور کریم خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کا فرماں بردار بناۓ اور ان کی زندگی کے رہنما اصولوں پہ اور متعین کردہ حدود و قیود پہ زندگی گزارنے کی توفیق دے آمین ..

    ‎@NAwabFebi

  • جنگ احد ‏تحریر سکندر کھوسہ

    جنگ احد ‏تحریر سکندر کھوسہ

    ۔
     یہ مقام ، شمالی مدینہ میں ہے ، جہاں احد کی جنگ 3 ہجری (624 عیسوی) میں ہوئی۔  یہ مسلمانوں اور کافر مککین افواج کے مابین دوسری جنگ تھی۔  ابتدائی فتح مسلمانوں کے لیے شکست میں بدل گئی جب کچھ جنگجوؤں نے اپنی پوزیشن چھوڑ دی ، غلطی سے یہ سمجھتے ہوئے کہ جنگ ختم ہو گئی ہے۔
     ایک سال قبل بدر کی جنگ میں ذلت آمیز شکست کے بعد ، مکہ کے قریش نے مسلمانوں سے دوبارہ لڑنے اور انتقام لینے کے لیے ایک عظیم فوج جمع کرنے کی تیاری کی۔  انہوں نے 300 اونٹوں ، 200 گھوڑوں اور 700 کوٹ ڈاک کے ساتھ 3000 سپاہیوں کی فوج جمع کی۔  بدر میں مقتول سرداروں کی بیویاں اور بیٹیاں فوج کے ہمراہ قاتلوں کے مارے جانے کا تماشا اپنی آنکھوں سے دیکھتی تھیں۔  ابو سفیان مکہ فوج کا کمانڈر انچیف تھا اور اس کی بیوی ہند نے خواتین کے سیکشن کی کمان کی۔  دونوں اس وقت غیر مسلم تھے اور اسلام کے سخت دشمن تھے۔  بائیں اور دائیں طرف کا حکم بالترتیب عکرمہ ابن ابی جہل اور خالد بن ولید نے دیا۔  عمرو بن العاص کو گھڑ سوار کا کمانڈر نامزد کیا گیا اور ان کا کام گھڑ سوار پروں کے درمیان حملے کو مربوط کرنا تھا۔  (تینوں بعد میں مسلمان ہوئے اور اسلام کے عظیم جرنیل بن گئے)
     نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف 700 مسلمانوں کی فوج کے ساتھ کوہ احد کی وادی کے لیے مدینہ چھوڑا اور اپنی فوج کو جنگ کے لیے کھینچ لیا۔  جنگ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 50 تیراندازوں کو عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے ماتحت رکھا تھا۔  اس نے (ﷺ) انہیں سختی سے حکم دیا کہ اگلے احکامات تک وہیں رہیں ، جو بھی شرط ہو۔  اگر وہ پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ کریں تو وہ دشمن کو روکیں گے۔
     دونوں لشکر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے اور ایک شدید جنگ شروع ہوئی۔  مسلمان سپاہیوں نے اپنے حملے کو کافروں کے گیارہ معیاری علمبرداروں پر مرکوز رکھا یہاں تک کہ وہ سب ختم ہو گئے۔  جیسے ہی دشمن کا معیار زمین پر گرتا گیا ، مسلمان سپاہیوں نے اپنے آپ کو دشمن کے خلاف پھینک دیا۔  ابو دجانہ (رضي اللہ عنه) اور حمزہ (رضي الله عنه) نے بڑی بے خوفی کے ساتھ جنگ ​​کی اور میدان جنگ میں ان کی بہادری کے کارنامے مسلم فوجی تاریخ میں افسانوی بننے والے تھے۔
     حمزہ (رضی اللہ عنہ) کے نقصان کے باوجود ، مسلمان ان کافروں پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے جنہیں ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑا ، بھاگنے لگے۔  کافر عورتیں بھی بکھر گئیں جب کچھ مسلمان فوجیوں نے پیچھا کیا۔
     یہ سمجھی ہوئی فتح کے اس مقام پر تھا کہ واقعات نے بے نقاب ہونا شروع کیا۔  تیر اندازوں کو جنہیں اپنے بھائیوں کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی پیغمبر کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کی اور یہ سمجھتے ہوئے کہ جنگ ختم ہوچکی ہے اپنے اسٹیشنوں کو چھوڑ دیا۔  چالیس پچھلے پہاڑ پہاڑ سے اترے اور مسلمانوں کو دشمن کے جوابی حملے کا شکار کر دیا۔
     خالد بن ولید نے دیکھا کہ اچانک خلاء پیچھے کے محافظ کے غائب ہونے سے پیدا ہوا اور اس کے گھڑسواروں نے پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ کیا ، اس عمل میں بہت سے لوگ مارے گئے۔  جب مسلمانوں نے اپنے آپ کو گھرا ہوا دیکھا تو وہ گھبراہٹ اور انتشار سے دوچار ہو گئے اور ایک مربوط منصوبہ بنانے میں ناکام رہے۔
     دشمن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اپنا راستہ لڑا جسے پتھر سے مارا گیا اور آپ کے پہلو میں گر گیا۔  اس کے سامنے کے دانتوں میں سے ایک کاٹا گیا ، اس کا نچلا ہونٹ کاٹا گیا ، اور اس کا ہیلمٹ خراب ہو گیا۔  جب دشمن کے ایک سپاہی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تلوار پھینکی تو اس نے اپنی ہڈی کو آنکھ کے نیچے اور دو کو پکڑ لیا۔
    Twitter Account ‎@SikandrKhosa

  • ربیع الاول کی فضیلت اور ہماری کچھ ذمدارياں تحریر:ہارون خان جدون

    ربیع الاول کی فضیلت اور ہماری کچھ ذمدارياں تحریر:ہارون خان جدون

    ربیع الاول کی فضیلت اور ہماری کچھ ذمدارياں
    عربی زبان میں ربیع کے معنی بہار کے ہیں اور اول کے معنی پہلا ہے بہار ہے

    یعنی ربیع اول کا مہینہ اسلامی کلینڈر کے حساب سے تیسرا مہینہ ہے اس مہینے کی مسلمانوں کے نزدیک بہت زیادہ اہمیت ہے کیوں کے اس مہینے میں 12 ربیع الاول کے دن آقا نامدار حضرت محمد  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم تشریف لائے.

     حضرت محمّد  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم اللہ تمام جہانوں کے لئے رحمت العالمین ہیں اور وہ اللہ  کے آخری نبی ہیں اور انکے بعد کوئی نبی نہیں آے گا مسلمان ہر سال میں اس مہینے کو بڑی عقیدت کے ساتھ مناتے ہیں خوشی کا اظہار کرتے ہیں اپنے گھروں کو سجاتے ہیں اور ہر طرف چراغاں کیا جاتا ہے گھروں اور مساجد میں عیدمیلادالنبی کی محفلیں کا انقاد کیا جاتا ہے ہمیں بلکل اسی طرح ہے سال اس دن کو خوشی کے ساتھ منانا چاہیے اور اپنے والدین سے پوچھنا چاہیے کے ہم اس دن کو کیوں مناتے ہیں اور والدین کو اس دن کی اہمیت اپنے بچوں کو بتانی چاہیے اور ہم سبکو حضرت محمد  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی سنتوں پر عمل کرنا چاہیے اور انکے بتاۓ ہوے طریقوں پر چل کر اپنی زندگی گزارنی چاہیے کیوں اللّه کے رسول ﷺ کے آنے سے جہالت کا خاتمہ ہوا اور اسلام کا بول بالا ہوا سرور کائنات دنیا میں تشریف نا لاتے تو ابھی تک دنیا میں اندھیرا ہی ہوتا اور دنیا آج تک اندھیرے میں ہی ہوتی انکے آنے سے دنیا میں اجالا ہوا اور حضرت محمد  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ہمیں سیدھا رستہ دکھایا آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی زندگی ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے

     آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم پر اللہ پاک ہر وقت رحمتیں نازل فرماتے ہیں

    آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم پر فرشتے ہر وقت درود بھیجتے ہیں

    آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم سے آگے بڑھنے کی اہل ایمان کو اجازت نہیں ہے

    آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی اطاعت میں جنت ہے اور دنیا اور آخرت کی بہتری ہے

    جہاں اللہ پاک نے ہمیں آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی اطاعت کا حکم دیا ہے وہاں ہی ہمیں آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم سے محبت بھی لازم ہے

    اللہ پاک نے ہمیں آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی اتباع کا حکم دیا ہے کیوں کے دنیا میں انکی پیروی سے ہی نجات ہے

    پوری کائنات کا وجود انکی نسبت سے ہے اگر آپ دنیا میں نا آتے تو دنیا میں کچھ نا ہوتا میرے اور آپ کے نبی حضرت محمد  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم آخری نبی ہیں آپ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے یہی ہمارا ایمان اور عقیدہ ہے اسی عقیدے کی نسبت سے اللہ پاک کل روز محشر ہمارے لئے آسانی کرے گا کیوں ہم تو خطاکار ہیں گناہگار ہیں بس یہی آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی شفاعت کا واحد آسرا ہے ہمارے پاس، ہمیں چاہیے کے ہم کثرت سے آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم درود و سلام بھیجیں.

     ارشاد باری تعالی ہے جس نے میرے محبوب محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی۔۔

    رسول اللہ ﷺ کی پاکیزہ اور شفاف زندگی کو سیکھ کر اور اس پر عمل کر کے ہی دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اپنی ساری زندگی کو آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی سیرت کے سانچے میں ڈال دینا ہی اصل محبت ہے

    اگر اللہ اور اسکے رسول ﷺ سے سچی محبت کے دعوےدار ہیں تو پھر اپنی اپنی زندگی کو رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق گزاریں، اچھے اعمال کریں، صلح رحمی اختیار کریں، یتیموں کا خیال رکھیں، حقوق العباد کا خیال رکھیں اپنے ارد گرد لوگوں کی مشکلات کو دیکھ کر انکی مدد کریں، کسی کی حق تلفی نا کریں، کسی کو تکلیف نا دیں، اپنے والدین کے ساتھ اچھا برتاو کریں اور لوگوں تک آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم  کا دین پنچاہیں کیوں کے اب امت میں دین کا کام ہم امتیوں پر فرض ہے

    اگر ہم یہ کام کریں گے تو ہماری اپنی دنیا اور آخرت سنورے گی اور ساتھ ساتھ دوسروں دین سے بٹکے ہوے لوگوں کا بھی بلا ہوگا

    اللہ پاک آپکو اور مجھے آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی اطاعت اور پیروی کرنے کی توفیق عطاء فرماۓ اور ہمارا خاتمہ ایمان پر کرے اور مرتے وقت كلمہ نصیب کرے ۔۔۔آمین

    @ItzJadoon

  • پیرِکاملﷺ  تحریر: فضیلت اجالہ 

    پیرِکاملﷺ تحریر: فضیلت اجالہ 

    ”پیرکامل وہ انسان جس میں کاملیت ہوتی ہے۔ کاملیت یعنی دینی و دنیاوی ہر لحاظ سے مکمل، جس کی عبادات خالص رضائے الہی کیلیے ہوتی ہیں، جو نیکی و پارسائ کا منہ بولتا ثبوت ہو، جس کی ہر دعا کو قبولیت کی سند حاصل ہو، جس کے کلام کی تاثیر سے پتھر موم ہو جائیں، جس کو الہام نہیں وجدان حاصل ہو، ایسا انسان کامل جس پر خواب نہیں وحی اترتی ہو اور وحی بھلا عام انسانوں پر کہاں اترتی ہے 

    سائنس جتنی مرضی ترقی کر لے ،انسان شہرت و کامیابی کی بلندیوں کے عروج پر بھی پہنچ جائیں پھر بھی کہیں ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ پیر کامل کی ضرورت محسوس کرتا ہے، ہر زی روح کی کتاب حیات میں کہیں ایسا ورق ضرور کھلتا ہے جب اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے لبوں سے نکلی ہر دعا اور دل سے نکلی ہر صدا بے اثر ہے، اس کے پھیلے ہوئے ہاتھ خدائے بزرگ و برتر کی نعمتوں و رحمتوں کا رخ اپنی طرف موڑنے سے کاثر ہیں، اس لمحے روح و دل کا وہ تعلق جو خدا سے ہے وہ ٹوٹتا محسوس ہوتا ہے تو پھر انسان پیر کامل کی تلاش کی جستجوں لیے ایسے انسان کی تلاش میں دوڑتا ہے جو اسکے لیئے خدا کے سامنے گڑ گڑائے، جس کی دعائیں رد نا ہوتی ہوں جو الہام نہیں وجدان رکھتا ہو 

    پیرکامل کی یہ تلاش آج کی بات نہیں یہ ارتقاء انسانی سے جاری ہے ۔ ایک ایسی تلاش جس کی خواہش اللہ خود قلب انسانی میں پیدا کرتا ہے۔ انسان کی یہی تلاش ہی تھی جو اسے ہر زمانے میں اتارے جانے والے پیغمبروں کی طرف لے جاتی رہی، جس نے انسانوں کو پیغمبروں پہ یقین کا راستہ دکھایا۔

    انسان کی فلاح و بہبود کیلیے بھیجے گئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں میں سے خدائے برتر کا ہر پیغمبر کامل تھا مگر پیرکامل صرف ایک ،جس کو بھیجنے کا بعد خدا نے سلسلہ نبوت کا اختتام فر مادیا، جسے رحمت العالمین کا خطاب دیا، جس سے دو جہاں کی تاریکیوں نے روشنائی پائی۔جس سے اپنے تو اپنے غیروں نے بھی شفا حاصل کی،، جس کے جیسا کوئ دوسرا تو کیا انکا سایہ بھی تخلیق نا ہوا 

    رخ مصطفی ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ

    نہ ہماری بزم خیال میں نہ دکان آئینہ ساز میں،

     جس کی امت کو تمام امتوں کا سردار کہا گیا ہو کیا اس امت کو کسی اور پیر کامل کی ضرورت ہو سکتی ہے؟  

    پیر کامل صرف میرے نبی کی زات ہے نا ان سے پہلے نا انکے بعد کوئ ایسی ہستی ہو گی جسے محبوب خدا سے بڑھ کر کاملیت کا درجہ دیا جائے ۔

    رسول اللہ کے ہوتے ہوئے کسی اور پیر کی تلاش کیوں؟ جب ہم نبی آخر الزماں کے امتی ہیں ختم الرسل کے بیعت شدہ ہیں تو پھر کسی اور کی بیعت کیا ضرورت؟

     دین اسلام ہمیں توحید و اخوت کا درس دیتا ہے، جب تمام مسلمانوں کے لیے ایک اللہ، ایک آخری رسول ،ایک آخری کتاب ایک ہی سنت ہے تو پھر اس راستے کو چھوڑ کر فرقوں، گروہ بندیوں اور نت نئے راستوں کی تلاش کیوں؟

    کیا ہمارے نبی کا کوئ فرقہ تھا؟ وہ تو رحمت اللعالمین ہیں،وہ ہر فرقے سے بالاتر ایک مسلمان تھے جو صراط مستقیم کے راہی تھے جنہوں نے ہر زی روح کو صرف ایک خدا اور دین اسلام کا پیغام دیا ،جو محسن انسانیت ہیں جنہوں نے ہمیشہ یہ سیکھایا کہ خدا کی طرف جانے کا راستہ صرف ایک ہی ہے اگر سیدھے راستے پہ چلیں گے تو جنت اور اگر سیدھے راستے کو چھوڑ دیں گے تو جہنم 

    صراطِ مستقیم کا درس دیتے ہوئے میرے نبی نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں فرمادیا ہے،کہ جس کام کا اللہ حکم دے وہ کرو اور جس سے روکے اس سے رک جاؤ ۔ آقائے دوجہاں حضرت محمد مصطفیٰ صلی علیہ وسلم قرآن مجید کی عملی تفسیر ہیں جس میں کوئ ابہام نہیں ہے، کسی چیز کو کسی بات کو، کسی شریعت کو پردے میں نہیں رکھا گیا ہر چیز کو ہر مسلے کو کھول کر بیان کیا گیا ہے،

    آپ کی زات مبارکہ وہ واحد زات ہے جسے ”دانائے سبل مولائے کل ختم الرسل” کے لقب سے نوازا گیا۔

    ذات محمدی ﷺ ابر رحمت کی مانند ہے ہے جس نے عرب وعجم کے مردہ دلوں کو جلا بخشی ، ہم پہ تو احسان عظیم کیا گیا ہے کہ ہم پیدا ہی انکی امت میں کیئے گئے ہیں ،ہمارے لئیے تو راہ حیات پہلے سے مقرر فرما دی گئی ہے کہ

    راہ ھدائت کی تلاش ہے تو قرآن سے مدد لیجیے درگاہوں سے نہیں، 

    دعا قبول نہیں ہوتی تو درباروں اور تعویزوں کا سہارا ڈھونڈنے کی بجائے اللہ سے تعلق مظبوط بنائیں، الفاظ نہیں مل رہے تو بھی بس ہاتھ پھیلا دیجیے وہ تو شہ رگ سے بھی قریب ہے وہ تو بن کہے بھی جان لیتا ہے اور اگر پھر بھی وہ آرزو پوری نہیں ہو رہی تو صبر کر لیجیے کہ اسی میں بہتری ہے 

    زندگی کی سمجھ نہیں آرہی تو اسوہ حسنہ سے مدد لیجیئے ۔

    ولی اللہ، اولیائے اکرام، شہداء، صالحین، بزرگان دین، پیر، فقیر سب سے عقیدت رکھیں سب کا احترام بھی کریں لیکن مدد صرف اس زات سے مانگیں جو وجہ تخلیق کائنات ہیں۔ اطاعت و بندگی صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کریں، کیونکہ انہوں نے جو کچھ ہم تک ہم پہنچایا اس میں سے ایک لفظ بھی انکا خود کا شامل کردہ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ احکامات ہیں ۔

    نبی ختم المرسلین کی زات مبارکہ نا صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی باعث شفاعت و نجات ہے، آپ کی مدح سرائ میرے حقیر الفاظ کے بس میں نہیں قصہ مختصر آپ ﷺ کی سوانحہ حیاتی کا ہر لمحہ ہر پہلو نوح انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ اور سراج منیر ہے جس سے ہر دور میں ہر کوئ ہر شعبۂ زندگی سے متعلق فیض حاصل کر سکتا ہے ۔

    تھکی ہے فکر رساں ، مدح باقی ہے 

    قلم ہے آبلہ پا، مدح باقی ہے 

    ورق تمام ہوا ، مدح باقی ہے 

    اورعمر تمام لکھا، مدح باقی ہے

        @_Ujala_R