Baaghi TV

Category: مذہب

  • نبی رحمت ﷺ  پر وحی کا حصہ  دوم  تحریر:محمد آصف شفیق

    نبی رحمت ﷺ پر وحی کا حصہ دوم تحریر:محمد آصف شفیق

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول کس طرح شروع ہوا، اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم نے تم پر وحی بھیجی جس طرح حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے بعد پیغمبروں پر وحی بھیجی اور اسی طرح ہم احادیث کی روشنی میں جاننے کوشش کرتے ہیں
    حضرت عروہ، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ حارث بن ہشام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کبھی میرے پاس گھنٹے کی آواز کی طرح آتی ہے اور وہ مجھ پر بہت سخت ہوتی ہے اور جب میں اسے یاد کر لیتا ہوں جو اس نے کہا تو وہ حالت مجھ سے دور ہو جاتی ہے اور کبھی فرشتہ آدمی کی صورت میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور جو وہ کہتا ہے اسے میں یاد کر لیتا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے سخت سردی کے دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتے ہوئے دیکھا پھر جب وحی موقوف ہو جاتی تو آپ کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا۔ صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2

    حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ مدینہ کے کھنڈروں میں چل رہا تھا اور آپ کھجور کی ایک چھڑی کو زمین پر ٹکا کر چلتے تھے کہ یہود کے کچھ لوگوں پر آپ گذرے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ سے روح کی بابت سوال کرو، اس پر بعض نے کہا کہ نہ پوچھو، مبادا اس میں کوئی ایسی بات نہ کہہ دیں جو تم کو بری معلوم ہو پھر ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ ہم ضرور آپ ﷺسے پوچھیں گے، چنانچہ ان میں سے ایک شخص کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ اے ابوالقاسم! روح کیا چیز ہے؟ آپ نے سکوت فرمایا (ابن مسعودؓ کہتے ہیں) میں نے اپنے دل میں کہا کہ آپﷺ پر وحی آرہی ہے، لہذا میں کھڑا ہو گیا، پھر جب وہ حالت آپﷺ سے دور ہوئی، تو آپﷺ پر یہ آیات نازل ہوئیں وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا 85؀ (ترجمہ یہ لوگ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو ’’یہ روح میرے رب کے حکم سے آتی ہے ، مگر تم لوگوں نے علم سے کم ہی بہرہ پایا ہے۔‘‘ (تمہیں تو تھوڑا ہی سا علم عطا ہوا ہے)(85سورۃ بنی اسرائیل )
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چالیس سال کی عمر میں وحی نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں (بعد نبوت) تیرہ سال رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم ہوا تو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور وہاں دس سال رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال ہوگیاصحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1083
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں نبوت ملی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ سال اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی ٹھہرے رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی (حالت میں) دس سال (مدینہ میں گزارے) اور تریسٹھ سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا تھا۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1136
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان کو حرکت دیتے اور سفیان نے بیان کیا کہ اس سے آپﷺ کا مقصد یہ تھا کہ آپ اس کو یاد کرلیں تو اللہ تعالیٰ نے (لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ 16؀ۭ) اے نبی ﷺ ! اس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو ! (16سورۃ القیٰمہ ) یہ آیات نازل فرمائیں
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کو اس کے مثل (معجزات) دیئے گئے ہیں جس قدر لوگ ان پر ایمان لائے اور مجھے جو چیز دی گئی ہے وہ وحی ہے جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف بھیجی ہے اس لئے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے سب سے زیادہ ہوں گے۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2217
    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آپﷺ کی وفات سے پہلے متواتر وحی بھیجی یہاں تک کہ آپ کی آخری عمر میں پہلے کے اعتبار سے وحی کثرت سے آنے لگی پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا ۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2218
    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک بار لوگ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے، کہ اتنے میں ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا کہ آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوئی، اور حکم دیا گیا کہ کعبہ کی طرف رخ کریں، اس لئے تم لوگ کعبہ کی طرف منہ پھیر لو، اس وقت ان لوگوں کا رخ شام کی طرف تھا، چنانچہ لوگ کعبہ کی طرف گھوم گئے۔ صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2157
    ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کو ایسے معجزے عطا کئے گئے ہیں جو اسی جیسے دوسرے انبیاء علیہم السلام کو بھی عطا کئے گئے اور لوگ ان پر ایمان لائے اور مجھے جو معجزہ عطا کیا گیا وہ وحی الہی یعنی قرآن مجید ہے کہ اور کوئی نبی اس معجزہ میں میرا شریک نہیں کہ اس جیسا معجزہ اسے ملا ہو اور مجھے امید ہے کہ میری پیروی کرنے والوں کی تعداد دوسرے انیباء علیہم السلام کی پیروی کرنے والوں کی تعداد سے قیامت کے دن زیادہ ہوگی۔ صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 385
    حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ سے سوموار کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسی دن میں مجھے پیدا کیا گیا اور اس دن میں مجھ پر وحی نازل کی گئی۔ صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 256
    اے رب کریم ہمیں نبی مہربانﷺ پر اترنے والے آپ کے پیغامات کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا بنا دے
    آمین یا رب العالمین

    @mmasief

  • (حسینی شعور) دیتی رہے گی درس شہادت حسین قیامت تک :  تحریر محمد جاوید

    (حسینی شعور) دیتی رہے گی درس شہادت حسین قیامت تک : تحریر محمد جاوید

    یہاں مراد وہ حق ہے جیس کو نقصان پہنچنے سے تمام افراد معاشرہ کے حقوق کو نقصان پہنچتا ہے اور جیس کے محفوظ رہنے سے تمام حقوق کے محفوظ رہنے کا راستہ نکلتا ہے ۔ یہ حق ملت اسلامیہ کی سر براہی کا حق حکمرانی کا قیادت کی legitimacy کا پرابلم ہے ۔ حکمرانی اور قیادت کے پرابلم پر امت مسلمہ آج سے چودہ سو سال پہلے جیس انتشار کا شکار ہوئی اس کو آج تک سمیٹ نہیں سکی ۔ امام حسین کے بعد ملوكيت، بادشاہت اور بعد ازآں غلامی کے شکنجے میں جکڑے ہوۓ حلانکہ امام حسین کی قربانیوں کا مقصد امت کی اصلاح اور انسانوں کے حقوق کی حفاظت تھا۔
    امام امربالمعروف اور نہی عن المنکر اور اپنے اپنے اباؤ اجداد کی پیروی ہے۔”
    جیسا کہ crisis of legitimacy کا مسلہ ابھی بھی پاکستان کے علاوہ کافی مسلم ممالک میں پایا جاتا ہے یعنی عوام کے مرضی کے بنا کسی بھی بہانے یا حربے سے اقتدار پہ قبضہ کرنا اور اسی بحران کا سامنا امام حسین کو بھی کرنا پڑاتھا ۔
    شہادت حسين اثبات حق اور باطل کی داستان ہے اور یہ سادہ و رنگین داستان صرف اہل اسلام کی نہیں پوری انسانیت کی جنگ بن چکی ہے اور حق و باطل کی کشمکش میں ایک بین الااقوامی علامت بن چکی ہے۔
    اس علامت کو کہیں شاعری میں استعمال کیا گیا اور کہیں ڈرامہ اور دوسرے ثقافتی و تہذیبی مظاہروں میں ۔آپ نے عزاداروں کے محفلوں میں اور ماتم گساروں کے جلوسوں میں خطیبوں کے وعظوں اور شاعروں کے مرثیوں میں اس علامت کو بڑے موثر طور پر استعمال ہوتے دیکھا اور سنا ہوگا۔
    امام حسین کا نام ہر مسلمان کے لئے قابل احترام ہے لیکن طاقت اور جبر کے اشتراک واتحاد کی بنیاد پر حکومت کرنے والے مسلمان ہونے کے باوجود حسینی شعور سے وابستہ علامتوں کو گوارہ نہیں کر سکتے اور تاریخ شاہد ہے کہ حسینی شعور یعنی انقلابی شعور بیدار ہو جائے تو پھر اسے اپنی جنگ خود لڑنی پڑتی ہے ۔ کسی سہارے یا سہارے کے وعدے کے بغیر۔ حسینی شعور کسی مادی وسيلے یا اعانت کا منتظر نہیں رہتا۔ وہ خود ہی بھڑکتا اور ارد گرد کے سارے ماحول کو اپنی روشنی اور تپش سے زندگی اور حرارت بخشتا ہے۔ وہ اپنی بشارت آپ ہے اور یقین کیجے پاکستان کے مسلمانوں کی رگ وپے میں خون کی طرح گردش کرنے والے حسینی شعور کو اب ہمہ وقت بیدار اور نگران رہنے کی ضرورت ہے۔
    بے خبری میں ان کے حقوق پر کئی شب خون مارے جا چکے ہیں اور مزید کا بھی خطرہ ہے استعماری طاقتوں کے گدھ ہمارے منڈیروں پر بیٹھے اپنے پر پھڑپھڑاتے رہتے ہیں ۔ امام حسین حرمت ضمیر کے محافظ اور انسانی حقوق کے چمپین تھا اور یہ چمپین انسانیت کی جنگ لڑتے لڑتے شہید ضمیر ہو کر امر ہو گئے۔
    یزید دولت شہرت اور ٹھاٹھ باٹھ کا خواہش مند تھا اور اپنی اس خواہش تکمیل کے لئے اسے ظالموں کی ہوائے نفسانی کے بند مزاروں میں محبوس ہو جانا پڑا۔
    امام حسین رضی اللہ عنہ کو کربلا میں شہید ہوئے جب وہ کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ تھا جس نے ایک لازوال اثر چھوڑا۔
    شہادت حسین تو انسان کو یہ سیکھاتی ہے کہ ماضی کے گہوارے، حال کے دائرے اور وقت کے جالے کو توڑ کر نئی منزلوں اور نئے جہانوں کی طرف کیونکر بڑھا جاسکتا ہے ۔ آج امام حسین واقعتا” وقت کے پیمانوں یعنی ماضی وحال کے تمام جال توڑ کر دائمی اور لازوال عظمتوں سے ہمکنار ہو چکا ہے اور ہر عہد کے اجتمائی ضمیر اور شعور کا امین اور رفیق بن چکا ہے۔
    امام حسین خون میں دوڑنے والی ایک غیرت ہے۔ ایک ادارہ ہے۔ امام حسین جانتے تھے کہ مجھے شہید ہونا ہے۔ امام اس لئے گئے تاکہ حق کا علم بلند ہو۔ حسینؓ وہ مینار ہے جو اتنی بلندی پر قائم ہے کہ قیامت تک امت کے لئے روشنی دیتا رہے گا۔ حق و باطل کی جنگ ہمیشہ جاری رہی ہے اور آج بھی جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گی۔ غدار ہر جگہ ہیں، شام اور کوفہ ہر جگہ ہیں۔
     حضرت امام حسینؓ نے کربلا کے میدان میں حق و صداقت کی جہاں ایک تاریخ رقم کی وہاں انہوں نے اسلام کی بقا کی ضمانت بھی اپنے لہو سے دی۔ ہم نے جس نظریے کے تحت پاکستان بنایا ، اس نظریے کو زندہ کرنا ہے اور نوجوان نسل کو اس نظریے سے اچھی طرح آگاہ کرنا ہے اور اس کی اصلیت کا یقین دلانا بھی ہماری ذمداری ہے اگر اسا کرتے ہیں تو تو یقیناً ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ان اشعار پر بات ختم کرتا ہوں  

    دیتی رہے گی درس شہادت حسینؓ کی  ۔۔۔ آزادیِ حیات کا یہ سرمدی اصول 

    کٹ جائے چڑھ کے سر ترا نیزے کی نوک پر ۔۔۔ لیکن یزیدیوں کی اطاعت نہ کر قبول
    امام حسین کی شہادت تاقیامت تک یاد رکھاجائے گا اور بحثیت مسلمان ہماری کمیابی کی ضمانت بھی فلسفہ حسینیت میں ہمارے اندر حسینی شعور کا ہونا بہت ضروری ہے پھر ہم عدل وانصاف حق وہ باطل کو پرکھنے کے قابل ہو جائینگے۔
    امام کو پتا تھا اسے شہید کر دیا جائے گا مگر وہ پیچھے نہیں ہٹے کیوں کہ عدل وانصاف اور اسلام کی سر بلندی بہت ضروری تھی تبھی امام حسین نے اپنی جان کی پروا نہیں کیا اور اتنی بڑی قربانی دے دی جو قیامت تک یاد رکھا جاے گا۔ 
    آسان نہیں ہے معرفت راز کربلا
    دل حق شناس دیدہ بیدار چائے
    @I_MJawed

  • واقعہ مینار پاکستان

    واقعہ مینار پاکستان

    مینار پاکستان کا واقعہ ہمارے لیے بھی افسوس اورشرم کا باعث ہے یہ واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے بہت کم ہے ہے کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ ہر مرد کو یہ سوچنا چاہیے کہ یہ تمہاری وجہ سے کسی کی ماں بہن کو راستہ تبدیل کرنا پڑے تو تم میں اورکتے میں کیا فرق ہے

    ‏‎اس واقعے سے نہ صرف پاکستان بلکہ اسلام کی بھی کافی بدنامی ہوئی ہے اور انڈیا کے میڈیا میں اس کو خوب اچھالا گیا ہے ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں ہماری مائیں بہنیں نہیں ہیں جو کسی کی ماں بہن پر نظر ڈالتے ہیں

    ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اگر آج ہم کسی کی ماں بہن کی عزت نہیں کریں گے تو کل کوئی ہماری بھی ماں اور بہن کی کوئی نہیں کرے گا

    اور یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا مکافات عمل ہے ایک نہ ایک دن جیسا
    کروگے ویسا ہی بھرو گے

    میرے خیال میں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کی کمی ہے اور لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ ہم نے کیا اور ہم کہاں جا رہے ہیں تعلیم ایک زیور ہے تعلیم حاصل کرنے سے ہمیں پتہ چل جاتا ہے کہ ہمارے حدوں کیا ہیں

    اور اسلام سے دوری بھی اس کی ایک اہم وجہ ہے اسلام امن کا درس دیتا ہے اور عورت کی تکریم اسلام سے کم ہی کسی نے کی ہے

    ہمارے معاشرے میں اسلام کے بنیادی اصول صرف ایک اپنانا لے تو میرا خیال نہیں اگلی دفعہ مینار پاکستان جیسا واقعہ نہیں ہوگا اور وہ اصول یہی ہے کہ
    مرد نیچی نظریں کرکے گزرے اور عورت ضروری پردہ اور اختیار کریں
    تصویر کی دوسری طرف دیکھیں تو مشہورٹک ٹوکر کے لچھلن اچھے نہیں دکھائی دے رہے ہیں

    جناب تاریخ 14 اگست کا واقع ہے اور پندرہ کو تو اس نے اپنے انسٹاگرام پر پر فوٹو اپ ڈیٹ کی ہے اور اس وقت تک کوئی افسوس نہیں اور کوئی صدمہ نہیں تھا

    گھر کا غلط ایڈریس دےکر آنا اور پولیس والوں سے آگے کاروائی نہ کرنا اس معاملے کو مشکوک بنا رہا ہے

    تو اچانک ایسا کیا ہواکہ صدمہ بھی ہو کیا اور اقرار اور شامی وہاں پہنچ بھی گئے ہیں

    دیکھنے میں تو یہ بھی آیا ہے کہ جہاں وہ بیٹھے ہیں یہی اقرار کے مطابق یہ ان کے گھر گئے ہیں لیکن دوسری تصویروں کے مطابق میں یہ گھر شامی صاحب کا ہے

    ابھی تک صحیح تحقیقات ہو رہی ہیں نہیں ابھی تک کچھ پتہ نہیں ہے اصل معاملات کیا تھے سو کو گرفتارکرلیاگیا ہے میرا خیال ہے اس میں ایک کریکٹر بہت اہم ہے اس کا نام ریمبو ہے اس بندے سے بھی مکمل تفتیش ہونی چاہیے اور مجھے امید ہے کہ تمام معاملہ کا پتہ لگ جائے گا ۔بہت سے لوگوں اس کو پبلسٹی سٹنٹ بھی کہتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ بات بھی ہو ہمارے ملک میں مشہور ہونے کے لیے اس سے بہتر طریقہ کوئی نہیں ہے اور ریٹنگ حاصل کرنے کا ایک طریقہ بھی ہو سکتا ہے

    اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مسلسل تین دنوں سے ٹیلی ویژن پر نشریات جارہی ہیں ٹیوٹر پر مسلسل ٹرینڈ میں جا رہا ہے

    یہ ہمارے صحافیوں سے بھی گزارش ہے کہ برائے مہربانی کسی واقعہ کو بھی بیان کرنے سے پہلے تھوڑی سی تحقیقات لینی چاہیے کہ پاکستان اور اسلام کا نام خراب نہ ہو

    حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیات کرکے عوام کے سامنے رکھے اور اس میں جو بھی قصور وار ہے اس کو سزا دینی چاہیے@sikander037 #sikander037

  • پاکستان میں شرعی نظام کیوں نہیں ؟؟  تحریر : محسنؔ خان

    پاکستان میں شرعی نظام کیوں نہیں ؟؟ تحریر : محسنؔ خان

    جیسا کہ ہم جانتے ہیں گزشتہ دِنوں میں طالبان نے افغانستان پہ مکمل قبضہ کر لیا ہے جہاں پہ وہ اسلامی قوانین لانا چاہتے ہیں اور ہم پاکستانی عوام اسلامی قانون کی مکمل حمایت کر رہی ہے کیونکہ وہ افغانستان میں جو نافذ کیا جا رہا ہے
    شریعت کا نفاذ افغانستان میں ہی کیوں کیا جائے وہاں بھی جمہوری نظام ہی رہے تو ٹھیک ہے ہم پاکستان خود کیوں شریعت کے نفاذ سے ڈر رہے ہیں ؟؟
    اس سوال کا جواب ہر ایک پاکستان کا خود کا ضمیر دے گا کہ ہم جمہوری نظام کے حق میں کیوں ہیں کیونکہ یہاں سب کچھ اپنی مرضی سے کیا جا سکتا ہے اگر یہاں پر اسلامی شرعی اصول نافذ ہو گئے تو تمام ہیرا پھیریاں اور بے ایمانیاں ختم ہو جائیں گی ہر پاکستانی خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی بے ایمانی میں ملوث ہے.
    ہماری عدلیہ کا نظام سب سے گندا ہے جہاں ایک فیصلہ کیلیے سالوں سال تھانے اور کچہری کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں پولیس تھانوں میں بیٹھی الگ سے لُوٹ رہی ہے اور وکلاء اور جج الگ سے غریب طبقہ اپنے حق کے حصول کیلیے قبر تک پہنچ جاتا ہے اور اسے حق نہیں ملتا.

    اگر کوئی ہسپتال ہے تو اس میں ڈاکٹروں کو ہوش نہیں یے کہ کوئی مریض مر رہا ہے وہ صرف پیسے کیلیے کام کر رہے ہوتے ہیں

    یہی حال ہمارے سکولوں اور کالجوں کا ہے ہمارے تعلیمی اداروں میں رشوت اور بے حیائی عام ہے
    مخلوط تعلیم کے زیر تربیت طالبعلم تعلیمی اداروں میں بے حیائی کا مظاہرہ کر رہے ہیں عورت کو پردے کی فکر نہیں نیم برہنہ کپڑے تعلیمی اداروں میں پہنے اور بازاروں میں بیچے جا رہے ہیں
    ہم جمہوریت کے اس لیے حامی ہیں کہ یہاں پہ پیسے اور سفارش سے جان چھوٹ جاتی یے لیکن شریعت میں ایسا نہیں ہے حقدار کو حق ملتا ہے خواہ وہ جزا ہو یا پھر سزا
    ہم جمہوریت کے اس لیے حامی ہیں کہ ہم رشوت اور لوٹ مار کے خاتمے کی وجہ سے ڈرتے ہیں اگر رشوت ستانی اور لوٹ مار ختم ہو گئی تو مالی نقصان ہوگا لیکن ہمیں دینی و روحانی نقصان کی زرا پرواہ نہیں ہے.
    طالبان حکومت کے خلاف بہت سے گروہ مہم جوئی میں مصروف ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف دین اسلام کو (نعوزباللّہ) بدترین دین قرار دینا ہے اور اس مہم میں ہمارے کچھ اپنے ایمان فروش لوگ بھی شامل ہیں یہ لوگ طالبانوں کو ظالم اور مسلمانوں کے مذہب اسلام کو ظالم و بربریت کا دین قرار دینے پر تُلے ہوئے ہیں.

    شریعت نافذ ہونے سے یہ فائدہ ہوگا کہ کوئی شخص چوری نہیں کرے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اسلام میں اس کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے لیکن ہم چوری نہیں چھوڑنا چاہتے اسی لیے جمہوریت کو ترجیح دیتے ہیں

    کوئی شخص کسی کے مال پہ غاصبانہ قبضہ نہیں کرے گا کیونکہ اسلام میں دو ٹوک فیصلے کا حُکم ہے اس لیے مافیہ کا گروہ شریعت کے خلاف ہے اگر جمہوریت رہی تو جیبیں بھری رہیں گی

    سب لوگ صوم و صلوٰۃ کے پابند ہوں گے جیسے جنرل ضیاء کے دور میں صلوٰۃ کمیٹی نے کافی کامیابی سمیٹی لیکن ہم یہاں بھی ایمان کے کچے ہیں حالانکہ نماز کا حکم دیا گیا ہے مگر ہم لوگ نماز نہیں پڑھنا چاہتے ہمارا نظریہ اتنا بگڑ چکا ہے کہ ہم قرآن سے زیادہ تعویز دھاگوں کو ترجیح دیتے ہیں

    کوئی عورت باپردہ نہیں ہوگی عورت کو اسلامی قوانین کے مطابق عزت اور آزادی حاصل ہوگی اور اسی بات پہ لبرل طبقہ اسلام کو عورت کیلیے غیر محفوظ قرار دیتا ہے اور اس کی تشہیر کیلیے عورت مارچ جیسے شیطانی مارچ کرتا یے

    اگر شریعت نافذ ہوتی ہے تو جرائم کی کمی ہو گی چھوٹی بچیوں سے زیادتی کو لگام پڑے گی کیونکہ ہمارے لوگ اس کی عبرتناک موت سے ڈرتے ہیں.

    جہاں اسلام ایک مکمل دین ہے وہیں اسلام میں قوانین کے خلاف ورزی پہ سخت سزائیں ہیں ہم جمہوری نظام کو ہی رکھنا چاہیں گے کیونکہ ہم معاشرے سے گناہ کی گندگی ختم نہیں کرنا چاہتے رشوت, چور بازاری, زنا, جھوٹ, دھوکہ, فریب اور متعدد گندی بیماریوں میں اُلجھا ہوا یہ معاشرہ صرف افغانستان میں ہی شریعت کا نفاذ چاہتا ہے نا کہ پاکستان میں کیونکہ ہم اسلام سے ڈرتے ہیں اسلامی قوانین سے ڈرتے ہیں ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم منافقت کے کس درجے پہ کھڑے ہیں.

    ہم سب کو اپنے ضمیر میں جھانکنا چاہیے کہ کیا ہم مسلمان ہیں؟ اگر ہیں تو اسلام سے کیوں ڈرتے ہیں عمران خان صاحب نے ریاستِ مدینہ کی بات کی تھی لیکن اس پہ عمل طالبان کر کے بازی کے گئے.

    اللّہ عالم اسلام کو تمام عالم پہ غالب کرے اور ہم مسلمانوں کو حقیقی مسلمان بننے کی توفیق دے آمین ثم آمین

  • اللہ کی خاطر محبت، فوائد و نشانیاں تحریر: رمیز راجہ

    "ایمان کی سر بلندی یہ ہے کہ الله کے لئے دوستی ہو اور الله کے لئے دشمنی ہو، الله کے لئے محبت اور الله کے لئے نفرت ہو۔”
    سب سے پہلا سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی خاطر یا اس کی رضا کے لیے محبت کرنے سے کیا مراد ہے، اُس کی صِفات کیا ہیں ؟ جن کی موجودگی میں اُس کی پہچان ہو تی ہے ؟ اِن شاء اللہ آج ہم اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ اور اُس کے رسول کریم مُحمدؐ کے فرامین مُبارکہ میں اِن سوالات کے جوابات کا مطالعہ کریں گے ۔
    اجمالی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اللہ کی خاطر مُحبت وہ ہے جِس میں کوئی مُحب کسی کو صِرف اللہ کی رضا کے حصول کے لیے اپنا مَحبُوب رکھے اور پھر وہ مُحب اپنے مَحبُوب کو اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کی طرف بلاتا رہے اور اس میں اس کا مددگار رہے ، اور نافرمانی سے روکتا رہے اور نافرمانی سے رُکے رہنے میں اُس کا مددگار رہے ، اُسے کفار و مشرکین اور اہل بدعت سے محفوظ رہنے میں اُس کا مددگار رہے ۔ عموما ً لفظ مُحبت سن کر اُن جذبات کا خیال آتا جو دو متضاد جنسوں میں ایک دوسرے کے لیےپائی جانے والی رغبت کی وجہ سے ظاہر ہوتے ہیں ، جبکہ مُحبت صِرف اُنہی جذبات کا نام نہیں بلکہ مُحبت انسانوں میں تو کیا بعض جانوروں کے درمیان پائے جانے والے رشتوں اور تعلقات میں تقریباً ہر رشتے اور تعلق میں موجود ہوسکتی ہے ۔ مُحبت انسانی جذبات میں سے سب سے زیادہ نازک ، لیکن مضبوط اور تُند و تیز جذبہ ہے ، اور اگر یہ جذبہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دِیا جائے تو اِس جذبے کی کیفیت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔
    اللہ کی خاطر مُحبت کی وجہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے محبوب رسول کریمؐ کی اُمت کو جو نعمتیں عطاء فرماتا ہے، اور اس مُحبت کے جو عظیم فوائد ہیں اُن سب کی بہت سی خبریں ہمیں دی گئی ہیں ، اور انہی خبروں میں اللہ کی خاطر ایک دوسرےسے مُحبت کرنے والوں کی ، اور محبت کی نشانیاں بھی بتائی گئی ہیں ، ان خبروں کا بغور مطالعہ ہمارے لیے اُن سوالات کے جوابات مہیا کرنے والا ہے جو میں نے اپنی بات کے آغاز میں پیش کیے تھے، آئیے اُن خبروں میں سے کچھ کا مطالعہ کرتے ہیں۔
    اللہ کی خاطر محبت کرنے کےفوائد:
    1۔ تکمیل اِیمان کے اسباب میں سے ہے۔
    ابی اُمامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐنے اِرشاد فرمایا،” جِس نے اللہ کی خاطر مُحبت کی ، اور اللہ کی خاطر نفرت کی، اور اللہ کی خاطرہی (کسی کو کچھ) دِیا ، اور اللہ ہی کی خاطر(کسی کو کچھ)دینے سے رُکا رہا ، تو یقیناً اُس نے اپنا اِیمان مکمل کر لیا” (سنن ابو داؤد)
    2۔ ایمان کی مضبوطی کے اسباب میں سے ہے۔
    رسول اللہ ؐ نے ابو ذر الغِفاری سے فرمایا، ” اے ابو ذر کیا تُم جانتے ہو کہ اِیمان کی سب سے زیادہ مضبوط گرہ کونسی ہے؟”۔ ابو ذر نے عرض کیا، ” اللہ اور اس کے رسول ہی سب سے زیادہ عِلم رکھتے ہیں”۔ تو رسول اللہ ؐ نے اِرشاد فرمایا، ” اللہ کے لیے دوستی رکھنا ، اور اللہ کے لیے دُشمنی رکھنا ، اور اللہ کے لیے مُحبت کرنا ، اور اللہ کے لیے نفرت کرنا”۔
    3۔ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی مُحبت پانے کے اسباب میں سے ہے۔
    مُعاذ ابن جبل کا کہنا ہے کہ میں نے رسول اللہؐ کو اِرشاد فرماتے ہوئے سُنا کہ، "اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمانا ہے کہ میرے لیے آپس میں مُحبت کرنے والوں، ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے والوں ، اور ایک دوسرے کو جا کر ملنے والوں ، اور (ایک دوسرے کی خیر کے لیے) اپنی قوتیں صرف کرنے والوں کے لیے میری مُحبت واجب ہوگئی”۔
    4۔ قیامت والے دِن بھی یہ مُحبتیں قائم رہیں گی۔
    "اُس دِن سب ہی دوست دُشمن بن جائیں گے سوائے تقویٰ والوں کے "۔سُورت الزُخرف (43)/آیت67
    5۔ انبیاء اور شہداء کے لیے بھی پسندیدہ درجہ حاصل ہونےکے اسباب میں سے ہے۔
    رسول اللہ ؐکے دوسرے بلا فصل خلیفہ امیر المؤمنین عُمر الفارق کا فرمان ہے کہ رسول اللہ ؐنے اِرشاد فرمایا، "بے شک اللہ کے بندوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے،جو انبیاء میں سے نہیں اور نہ ہی شہیدوں میں سے ہوں گےلیکن قیامت والے دِن اللہ کے پاس اُن کی رتبے کی انبیاء اور شہید بھی تعریف کریں گے "۔ صحابہ نے عرض کیا، ” اے اللہ کے رسول ہمیں بتایے کہ وہ لوگ کون ہیں ؟ "۔ تو اِرشاد فرمایا، ” وہ(صِرف )اللہ کی خاطر مُحبت کرنے والے لوگ ہوں گے ، (کیونکہ ) اُن کے درمیان نہ تو (اِیمان کے عِلاوہ)کوئی رشتہ داری ہو گی اور نہ ہی کوئی مال لینے دینے کا معاملہ ، پس اللہ کی قَسم اُن کے چہرے روشنی ہی روشنی ہوں گے اور وہ روشنی پر ہوں گے ، جب (قیامت والے دِن) لوگ ڈر رہے ہوں گے اور غم زدہ ہوں گے تو وہ نہیں ڈریں گے ، اور نہ ہی غم زدہ ہوں گے "۔

    اللہ کی خاطر مُحبت کرنے والوں کی نشانیاں:
    1۔ ایک دوسرے کو نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے باز رہنے کی تلقین کرنا اور ان دونوں ہی کاموں کی تکمیل میں ایک دوسرے کی مدد کرنا۔
    2۔ ایک دوسرے کے دُکھ درد کو بالکل اپنے دُکھ درد کی طرح محسوس کرنا ، اور ایک دوسرے پر رحم و شفقت کرنا اور مددگار رہنا۔
    3۔ ایک دوسرے کو برائی سے روکنا اور ظلم سے بچانا۔
    اللہ تبارک و تعالی ٰ ہم سب کو اور ہر ایک کلمہ گو ایک دوسرے سے صرف اور صرف اللہ کے لیے مُحبت کی توفیق عطاء فرمائے اور ہمارے اختلافات کو ہماری مُحبت کے خاتمےکا سبب نہ بننے دے ، بلکہ اُسی مُحبت میں ایک دوسرے کی اصلاح کی نیک کوششوں کی ہمت دے ۔ آمین!

  • لونڈیوں کا اسلام میں تصور تحریر: محمد اسعد لعل

    لونڈیوں کا اسلام میں تصور تحریر: محمد اسعد لعل

    لونڈیاں اور غلام اسلام یا اسلام کی تعلیمات کا کوئی حصہ نہیں ہیں۔ یہ دنیا میں ایک مصیبت موجود تھی اور صدیوں تک موجود رہی۔ یہ کیسے پیدا ہوئی اس کو سمجھنا ضروری ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ دنیا تین بڑے ادوار سے گزری ہے۔ پہلے قبیلوں کی صورت میں لوگ منظم ہوئے اُس کے بعد پھر جاگیردرانہ تمدن پیدا ہوا بڑی بڑی ذمہ داریاں آ گئیں اور ایک زراعی زندگی پیدا ہوئی، اور اس کے بعد انڈسٹریل ریوولوشن ہوا اور آہستہ آہستہ دنیا کے اندر ایک تیسرا دور شروع ہو گیا۔ اب ٹیکنالوجی اور خاص کر انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ایک چوتھے دور کی ابتدا کر دی ہے۔
    جب قبائلی زمانہ تھا اس میں ایک قبیلہ دوسرے قبیلے پر چراگاہیں حاصل کرنے کے لیے،نخلستان حاصل کرنے کے لیے ، یہاں تک کے پانی ختم ہو جاتا تو حملہ کر دیتا تھا۔ جب کوئی کسی دوسرے قبیلے پر حملہ کر دیتا تو حملہ آور کو اگر شکست ہو جاتی تو جنگی جرم میں اس کے تمام مردوں اور عورتوں کو غلام بنا لیا جاتا تھا۔ یعنی غلامی کی ابتدا یہاں سے ہوئی۔ اس کو کسی پیغمبر نے آ کر شروع نہیں کیا۔ لوگوں نے اپنی لڑائیوں میں جارحیت کرنے والے کوسزا دینے کا یہ طریقہ استعمال کیا کہ اگر تمہارا قبیلہ ہم پر حملہ آور ہوا تو ہم تمہارے تمام مردوں اور عورتوں کو غلام بنا لیں گے۔
    جس وقت آپﷺ کی آمد ہوئی اس وقت عرب کی پوری معیشت غلاموں پر منحصر تھی۔ یعنی جو صورت اِس وقت سود کی ہے، آپ دیکھیں تو اس وقت سارا بینکاری اور انشورنس کا نظام سود پر کھڑا ہے۔ اگر میں یا آپ کوئی آدمی یہ کہے کہ سود بُری چیز ہے، ظالمانہ چیز ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہیے تو لوگ فوراً کہتے ہیں کہ اس کا کوئی متبادل لائیں پھر ہی اس کا خاتمہ ہو گا ورنہ تو معیشت ختم ہو جائے گی، دوسرے دن سارا سسٹم درہم برہم ہو جائے گا۔ تو جو اِس وقت بینکاری کے نظام کا معاملہ ہے گلی گلی بینک قائم ہیں بالکل یہی صورتحال آپﷺ کے دور میں غلامی کی تھی۔ ہر گھر میں غلام تھے ،وہی گھروں کے کام کرتے تھے، وہی کھیتوں میں کام کرتے تھے، وہی تجارت کے قافلے لےکر جاتے تھے۔ یہ برسوں سے لوگوں کے پاس تھے اور اُن کو بیچ بھی دیا جاتا تھا۔
    قرآن مجید نے اس کو دو طرف سے ختم کرنے کا آغاز کیا۔ کسی بھی چیز کو ختم کرنےکے دو ہی طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ چیز جہاں سے پیدا ہو رہی ہے اس کو بند کیا جائے، دوسری یہ کہ جتنی پیدا ہو چکی ہے اس سے نمٹا جائے۔ اور پھر ایسا ہی کیا گیا۔
    سورۃ محمد کو نکال کے دیکھیں، جتنے بھی غلام بنتے تھے جنگ میں بنتے تھے۔ یعنی جنگ ہوتی، قیدی پکڑے جاتے، عورتیں اور مرد غلام بنا لیے جاتے۔
    پہلی جنگ جب مسلمانوں کو پیش آنے والی تھی تو بدر سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بتایا کہ یہ جنگ پیش آنے والی ہے اور اس جنگ کے بعد جب قیدی پکڑ لیے جائیں گے تو ان کے معاملے میں غلامی کا کوئی تصور نہیں ہو گا۔ اس کے بعد دو ہی طریقے جائز رہے، ایک یہ ہے کہ آپ فدیہ لے کے اُن کو آزاد کر دیں، دوسرا یہ کہ احسان کے طور پر چھوڑ دیں۔ اس طرح سے غلامی کے پیدا ہونے کا دروازہ بند کر دیا گیا۔
    اب صرف وہ غلام بچے جو پہلے سے غلام تھے، لوگ ان کو پہلے ہی خرید چکے تھے اور وہ ان کے گھروں میں برسوں سے تھے۔ ان کے بارے میں اگر یہ کہا جاتا کہ آج کے بعد سب آزاد ہیں، تو آپ جانتے ہیں اس کا کیا نتیجہ نکلتا؟ غلام عورتیں اور مرد بے گھر ہو جاتے، کسی کے پاس چھت نہ رہتی، کسی کے پاس کھانے کے لیے روٹی نہ رہتی کیوں کہ ان کی ساری زندگی کا انحصار اُن کے مالکوں کے اوپر تھا۔ عورتیں جسم فروشی پر مجبور ہو جاتیں اور مرد بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتے۔
    تو اس کے لیے اسلام میں کیا طریقہ استعمال کیا گیا؟
    قرآن مجید میں بتایا گیا کہ سب سے بڑی نیکی غلاموں کو آزاد کرنا ہے۔ تاکہ لوگ اس کو نیکی سمجھ کر غلاموں کو آزاد کر دیں ۔ اور ایسا ہی ہوا لوگ غلام آزاد کرنے لگے یہاں تک کہ زیادہ نیکی حاصل کرنے کے لیے غلام خرید کر آزاد کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ گویا جو موجودہ غلام تھے ان کی آزادی کی ایک تحریک چل پڑی۔
    اس کے بعد قرآن مجید نے ایک دوسرا حکم دیا اور آپﷺ نے اس کو نافذ کیا۔ وہ حکم یہ تھا کہ نفسیات کو بدلا جائےاور یہ کہا گیا کہ اب غلام اور لونڈی کا لفظ استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اس کی جگہ مرد اور عورت کے الفاظ استعمال کیے گئے۔
    اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا جتنے بھی ذی صلاحیت غلام ہیں ان کی شادیاں کروائی جائیں۔ تاکہ ان کے گھر آباد ہوں اور وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے کوئی راستہ نکالیں۔
    پھر مذہبی لحاظ سے لوگوں سے جتنے گناہ ہو جاتے تھے ان کے کفارے کے طور پر غلاموں کو آزاد کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر وہ وقت آ گیا جب یہ حکم دے دیا گیا کہ جو خود کھاؤ گے ان کو کھلاؤ گے اور جو خود پہنو گے وہ ان کو پہناؤ گے۔مقصد یہ تھا کہ لوگ یہ نہیں کر سکیں گے تو غلام آزاد کر دیں گے تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے چلے جائیں۔
    اس کے بعد لوگوں کو ترغیب دی گئی کہ جن لونڈیوں کی اخلاقی حالت اچھی ہے اور وہ شادی کرنا چاہتی ہیں تو ان سے شادی کر لیں۔قرآن مجید میں سورۃالنساء میں اس کو بیان کیا گیا ہے۔
    اس طرح کی اور بہت سی اصطلاحات کرنے کے بعد آخر میں سورۃالنور میں یہ حکم دے دیا گیا کہ اب ہر لونڈی اور غلام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مالک سے یہ درخواست کرے کہ مجھے ایک سال یا چھ مہینے، جتنا وہ مناسب سمجھیں اس کی مہلت دے دی جائے، تاکہ اس عرصے میں وہ کما کر اپنی قیمت ادا کر دیں۔
    کوئی غلام اپنی کمائی کا مالک نہیں ہوتا تھا لیکن پھر بھی گویا ان کی آزادی کا پروانہ ان کے ہاتھوں میں پکڑا دیا گیا کہ اپنی تقدیر کے پروانے پر خود دستخط کر لو۔ اس عمل کا مقصد یہ تھا کہ اس مہلت میں پتا چل جائے کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں یا نہیں۔
    یہ طریقہ اسلام نے اختیار کیا یعنی ایک طرف غلام بنانے پر پابندی لگا دی اور دوسری طرف آزادی کی راہ اس طرح کھول دی۔ کیااس سے بہتر کوئی طریقہ بُرائی کو ختم کرنے کا ہو سکتا ہے؟ اس لیے ہمیں فخر کے ساتھ اس کو بیان کرنا چاہیے۔

    twitter.com/iamasadlal
    @iamAsadLal

  • نبی رحمت ﷺ پر وحی کا نزول  حصہ اول تحریر  محمد آصف شفیق

    نبی رحمت ﷺ پر وحی کا نزول حصہ اول تحریر محمد آصف شفیق

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول کس طرح شروع ہوا، اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم نے تم پر وحی بھیجی جس طرح حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے بعد پیغمبروں پر وحی بھیجینبی رحمت ﷺ پر وحی کے نزول کے حوالے سے ہم احادیث کی روشنی میں جاننے کی کوشش کریں گے
    حضرت عروہ بن زبیر ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ سب سے پہلی وحی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اترنی شروع ہوئی وہ اچھے خواب تھے، جو بحالت نیند آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھتے تھے، چنانچہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواب دیکھتے تو وہ صبح کی روشنی کی طرح ظاہر ہوجاتا، پھر تنہائی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محبت ہونے لگی اور غار حرا میں تنہا رہنے لگے اور قبل اس کے کہ گھر والوں کے پاس آنے کا شوق ہو وہاں تحنث کیا کرتے، تحنث سے مراد کئی راتیں عبادت کرنا ہے اور اس کے لئے توشہ ساتھ لے جاتے پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس واپس آتے اور اسی طرح توشہ لے جاتے، یہاں تک کہ جب وہ غار حرا میں تھے، حق آیا، چنانچہ ان کے پاس فرشتہ آیا اور کہا پڑھ، آپ نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرتے ہیں کہ مجھے فرشتے نے پکڑ کر زور سے دبایا، یہاں تک کہ مجھے تکلیف محسوس ہوئی، پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھ! میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، پھر دوسری بار مجھے پکڑا اور زور سے دبایا، یہاں تک کہ میری طاقت جواب دینے لگی پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھ! میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ تیسری بار پکڑ کر مجھے زور سے دبایا پھر چھوڑ دیا اور کہا پڑھ! اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا، پڑھ اور تیرا رب سب سے بزرگ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دہرایا اس حال میں کہ آپ کا دل کانپ رہا تھا چنانچہ آپ حضرت خدیجؓہ بنت خویلد کے پاس آئے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے کمبل اڑھا دو، تو لوگوں نے کمبل اڑھا دیا، یہاں تک کہ آپ کا ڈر جاتا رہا، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ا سے سارا واقعہ بیان کر کے فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہرگز نہیں، اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صلہ رحمی کرتے ہیں، ناتوانوں کا بوجھ اپنے اوپر لیتے ہیں، محتاجوں کے لئے کماتے ہیں، مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی راہ میں مصیبتیں اٹھاتے ہیں، پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر ورقہ بن نوفل بن اسید بن عبدالعزی کے پاس گئیں جو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے چچا زاد بھائی تھے، زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہوگئے تھے اور عبرانی کتاب لکھا کرتے تھےچنانچہ انجیل کو عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے، جس قدر اللہ چاہتا، نابینا اور بوڑھے ہوگئے تھے، ان سے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ا نے کہا اے میرے چچا زاد بھائی اپنے بھتیجے کی بات سنو آپ سے ورقہ نے کہا اے میرے بھتیجے تم کیا دیکھتے ہو؟ تو جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا تھا، بیان کر دیا، ورقہ نے آپﷺ سے کہا کہ یہی وہ ناموس ہے، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا، کاش میں نوجوان ہوتا، کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا، جب تمہاری قوم تمہیں نکال دے گی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے جواب دیا، ہاں! جو چیز تو لے کر آیا ہے اس طرح کی چیز جو بھی لے کر آیا اس سے دشمنی کی گئی، اگر میں تیرا زمانہ پاؤں تو میں تیری پوری مدد کروں گا، پھر زیادہ زمانہ نہیں گذرا کہ ورقہ کا انتقال ہوگیا، اور وحی کا آنا کچھ دنوں کے لئے بند ہوگیا، ابن شہاب نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے بیان کیا کہ جابر بن عبداللہ انصاری وحی کے رکنے کی حدیث بیان کر رہے تھے، تو اس حدیث میں بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان فرما رہے تھے کہ ایک بار میں جا رہا تھا تو آسمان سے ایک آواز سنی، نظر اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ تھا، جو میرے پاس حرا میں آیا تھا ، آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا، مجھ پر رعب طاری ہوگیا اور واپس لوٹ کر میں نے کہا مجھے کمبل اڑھا دو مجھے کمبل اڑھا دو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، (يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ Ǻ۝ۙ قُمْ فَاَنْذِرْ Ą۝۽ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ Ǽ۝۽ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ Ć۝۽ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ Ĉ۝۽) اے (محمد ﷺ) اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے ، اٹھیے اور خبردار کیجئے ۔ (لوگوں کو ڈرائیے) ، اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو اور اپنے کپڑے پاک رکھو ،پھر وحی کا سلسلہ گرم ہوگیا اور لگاتار آنے لگی۔ عبداللہ بن یوسف اور ابو صالح نے اس کے متابع حدیث بیان کی ہے اور ہلال بن رواد نے زہری سے متابعت کی ہے، یونس اور معمر نے فوادہ کی جگہ بوادرہ بیان کیا۔ صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 3

    @mmasief

  • محرم الحرام ایک تاریخی اور حرمت کا مہینہ تحریر: رانا بشارت محمود

    محرم الحرام ایک تاریخی اور حرمت کا مہینہ تحریر: رانا بشارت محمود

    محرم الحرام جو کہ ہجری کیلنڈر کے بارہ مہینوں میں سے پہلا مہینہ ہے جہاں سے اسلامی سال کی شروعات ہوتی ہے اور حرمت کے چار مہینوں، جن میں ذوالقعد، ذوالحج اور رجب کے بعد محرم الحرام بھی ان میں سے ایک ہے۔ جنہیں اللہ تعالی نے اشہرُ الحُرُم کے نام سے بھی نوازا ہے۔ محرم الحرام جو کہ اسلامی تاریخ میں حرمت و ادب کے اعتبار سے اپنی الگ پہچان تو رکھتا ہی ہے لیکن اگر ہم بنی نوع انسان کی تاریخ کو حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے بعد سے دیکھیں تو بھی ہمیں بہت سے ایسے اہم واقعات ملتے ہیں، جو کہ اس حرمت کے مہینے محرم الحرام میں پیش آئے ہیں۔

    اور انہی پیش آنے والے اہم واقعات میں سے چند کا ذکر مندرجہ ذیل ہے۔

    حضرت آدم علیہ السلام کو جب ابلیس کے اکسانے پر غلطی کرنے کی وجہ سے اللہ تعالی کے حکم پہ جب جنت سے نکال کر دنیا میں بھیج دیا گیا تھا اور پھر آپ علیہ السلام کی اللہ تعالی سے کی گئی بہت سی دعاؤں اور معافیوں و استغفار کے بعد پھر جب اللہ تعالی اُن کی توبہ کو قبول فرمایا تو تب محرم الحرام کا ہی مہینہ تھا۔

    اور پھر جب اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمانے کے بعد جب میدانِ عرفات میں جبل رحمت کے مقام پر اُن کی ملاقات حضرت اماں حوّا سے کروائی، تو تب بھی 10 محرم الحرام ہی تھا۔

    حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پہ جب اللہ تعالی کے حکم سے عذاب نازل کیا گیا جس کو طوفانِ نوح بھی کہتے ہیں، اور اللہ کے حکم سے تب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں کو اور جانوروں و پرندوں کے ایک ایک جوڑے کو اپنی بنائی ہوئی ایک کشتی میں سوار کر لیا تھا۔ تو اس طوفان کے تھمنے کے بعد جس دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی نامی پہاڑ پہ جا کر ٹھہری، تو تب بھی 10 محرم الحرام کا ہی دن تھا۔

    اللہ کے ایک اور پیارے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام جنہیں کلیم اللہ کا لقب بھی حاصل ہے۔ تو جب فرعون اپنے لشکر کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان پہ ایمان لے کر آنے والے ان کے ساتھیوں کا پیچھا کر رہا تھا لیکن پھر اللّٰہ تعالٰی کے حکم سے انھوں نے اپنا عصا سمندر میں مارا تو سمندر کے پانی نے اُنہیں اور اُن کے ساتھیوں کو گزرنے کے لیے راستہ دیا اور پھر فرعون اپنے لشکر سمیت اُسی سمندر میں غرق ہو گیا تھا، تو تب بھی 10 محرم الحرام کا ہی دن تھا۔

    پھر ایک اور اللہ کے نبی حضرت یونس علیہ السلام جب اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے آئی ہوئی آزمائش کے طور پہ چالیس روز تک مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے بعد جب اللّٰہ تعالٰی کے حکم سے باحفاظت باہر آئے، تب بھی 10 محرم الحرام کا ہی دن تھا۔

    پھرحضور اقدس جناب محمد رسول اللہ کی اللہ سے دعاوں کے زریعے مانگي گئی مراد اور تقریباً بائیس لاکھ مربع میل تک حکومت کرنے والے مسلمانوں کے عظیم خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت بھی اسی حرمت کے مہینے محرم الحرام کی پہلی تاریخ کو ہی ہوئی تھی۔

    تو اب آتے ہیں اُس عظیم اور دلوں کو چیر دینے واقعے کی طرف جو 10 محرم الحرام کو ہی پیش آیا تھا۔ لیکن ان سب بڑے بڑے تاریخی واقعات پہ اپنی عظمت کی وجہ سے چھا گیا۔ اللہ کے سب سے پیارے نبی و رسول اور نبی آخرالزماں جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی پیاری بیٹی اور جنت کی تمام عورتوں کی سردار حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی اور خلفاء راشدین رضوان اللہ علیھم اجمعین میں سے چوتھے اور آخری خلیفہ اور اللہ کے شیر کا لقب پانے والے جناب حضرت علی ابنِ ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور نواسہ رسول و جگر گوشہ بتول اور نبی مکرم ﷺ سے شکل و صورت میں مشابہت رکھنے والے اور جنت کے نوجوانوں کے سردار جناب حضرت حسین علیہ السلام نے جب اپنے اہلِ و عیال، عزیز و اقارب اور ساتھیوں سمیت تقریباً 72 افراد نے (جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے)۔ جب کربلا کے میدان میں ظالم و جابر یزید اور اس کے لشکر کے ظلم و ستم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو گئے تھے اور وہ ظالم آپ علیہ السلام سے اپنی حکمرانی کو قبول کرنے کے لیے بیعت لینا چاہتا تھا۔

    اور اس سے پہلے بھی اور تب بھی اس ظالم یزید نے اپنی بیعت کروانے کے بدلے میں حضرت حسین علیہ السلام اور ان کے خاندان و ساتھیوں کی جان بخشی کرنے اور انہیں بہت سے دنیاوی انعام و اکرام سے نوازنے کی بھی مسلسل پیش کشیں کیں۔ لیکن حضرت حسین علیہ السلام نے اپنے نانا جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی سکھائی ہوئی تعلیمات اور اسلام کی سربلندی کی خاطر اُس ظالم و جابر یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے اہلِ خانہ اور ساتھیوں سمیت کربلا کی تپتے ہوئی ریت والے ریگستانوں میں اُس ظالم اور اُس کے لشکر کے خلاف ڈٹے رہنے کے بعد شہادت کی عظیم مثالیں قائم کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نظرانے پیش فرمائے۔

    اور شہادت کی ان عظیم مثالوں کے زریعے اپنے نانا جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے دینِ اسلام میں ایک نئی روح پھونکی اور اسلام پہ چلنے والے مسلمانوں کے لیے حق کی راہ میں اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی جانوں تک کو قربان کر دینے سے بھی نہ کتراتے کی عظیم مثال قائم کی، جو کہ قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے ایک مشعلِ راہ کے طور پہ بھی یاد رکھی جائے گی۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ حضرت حسین علیہ السلام کی شہادت کی اِس عظیم مثال سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالی اور اُس کے رسول ﷺ اور اسلام کو اپنی جان سے بڑھ کر عزیز جاننا چاہیے اور حق بات پر ڈٹے رہنے کے ساتھ ساتھ کسی ظالم یا جابر سے ڈر کر اپنی جان بچانے کی خاطر کبھی اُن کا ساتھ نہیں دینا چاہیے، بلکہ وقت پڑنے پر حق تعالی کی خاطر جان کی بازی تک لگا دینے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب مسلمانوں کو حضرت حسین علیہ السلام کی قائم کی ہوئی اس عظیم مثال پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    Author Name: Twitter Handle: @MainBhiHoonPAK

  • اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے.   تحریر: احسان الحق

    اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے. تحریر: احسان الحق

    جس کام پر انسان کا خاتمہ ہوتا ہے، اور انسان ہمیشہ اسی کام میں رہے گا اور روز قیامت اسی کام کو سرانجام دیتے ہوئے زندہ کیا جائے گا. اعمال کی مقبولیت کا دارومدار نیت پر ہے اور ان مقبول اعمال کا فائدہ بندے کے خاتمے پر منحصر ہے. اگر کوئی بندہ ساری زندگی اعمال صالحہ کرتا رہے اور خدانخواستہ اس کا خاتمہ اچھا نہ ہو تو ان اعمال کا فائدہ نہیں ہوگا. اگر کوئی بندہ نیک اعمال نہیں کرتا مگر اس کا خاتمہ باالخیر ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے فلاح پا جاتا ہے.

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
    بعض اوقات تم جس بندے کو اعمال صالحہ اور تقویٰ کی بنیاد پر جنتی سمجھ رہے ہوتے ہو اس کا ٹھکانہ جہنم میں ہوتا ہے اور معصیتوں اور برے کاموں کی بنیاد پر جس بندے کو تم جہنمی سمجھ رہے ہوتے ہو بعض اوقات اس کا ٹھکانہ جنت میں ہوتا ہے.
    مندرجہ بالا ارشاد عالیشان سے مراد یہی ہے کہ خاتمہ ہر حال میں خیر پر اور بہتر ہونا چاہئے.

    شریعت نے ایسے امور کی راہنمائی فرمائی ہے جو اچھے خاتمے کا سبب بنتے ہیں. اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ.
    "اللہ اہل ایمان کو ثابت قدمی عطا فرماتا ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور قیامت کے دن بھی” یہاں قول ثابت سے مراد لا اله الا الله مطلب توحید ہے. بندہ صحیح معنوں میں توحید پر ڈٹا رہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دنیا اور آخرت کے متعلق ثابت قدمی عطا فرماتے ہیں.
    دوسرے مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک تم ان دونوں چیزوں کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے اس وقت تم گمراہ نہیں ہونگے، ایک قرآن اور دوسری حدیث.

    خاتمے کی بنیاد پر جنتی یا جہنمی کا فیصلہ ہو جاتا ہے. اس حوالے سے متعدد صحیح واقعات احادیث مبارکہ میں موجود ہیں.
    ایک غزوہ میں ایک آدمی بڑی شجاعت اور جوانمردی سے کفار کا قتال کر رہا تھا. کفار کی جس صف میں گھستا سب کو موت کے گھاٹ اتار کر واپس نکلتا. صحابہ کرامؓ فرماتے کہ قتال، شجاعت اور بہادری میں اس دن اس سے کوئی بڑا نہیں تھا. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب سے فرمایا کہ اگر تم لوگوں میں سے کسی نے جہنمی کو دیکھنا ہو تو اس شخص کو دیکھ لو.
    صحابہ کرامؓ یہ سن کر پریشان ہو گئے کہ اتنی بہادری سے کفار کا قتل عام کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے تو پھر ہمارا کیا بنے گا. ایک صحابی اس آدمی کے تعاقب میں رہتے ہیں. وہ بندہ اسی شجاعت اور جوانمردی سے قتل پہ قتل کرتا جا رہا ہے. آخرکار وہ شدید زخمی ہو گیا اور زخموں کی تکلیف کو برداشت نہ کر پایا. اپنی تلوار کا دستہ زمین پر لگا کر اپنا سینہ تلوار پر رکھ کر جھول گیا اور تلوار دو کندھوں کے درمیان پشت سے آرپار ہو گئی اور وہ حرام موت مر گیا. ساری زندگی اچھے کام کئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آخری جنگ میں شریک ہو کر کفار کا قتل عام بھی کیا مگر خاتمہ اچھا نہیں ہوا.

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آخرت کے دن شہید کو لایا جائے گا، اس کی شہہ رگ کٹی ہوئی ہوگی، خون بہہ رہا ہوگا. خون کا رنگ تو لال ہوگا مگر اس سے جنت کی کستوری والی خوشبو آ رہی ہو گی. جس کام پر انسان کا خاتمہ ہوتا ہے وہ کام کرتے ہوئے اس کو زندہ کیا جاتا ہے.
    ایک محدث رحمتہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ سلف صالحین کی آنکھوں کو جس بات نے سب سے زیادہ رلایا وہ خاتمے کے متعلق ہے. وہ اس بات پر روتے رہتے تھے کہ خاتمہ کس صورت اور کس حال میں ہوگا.

    صحیح بخاری میں ایک شخص کا قصہ مزکور بے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج ادا کر رہا تھا. طواف کرتے ہوئے تلبیہ پڑھ رہا تھا. کہیں اس کی سواری کا پاؤں کسی ناہموار جگہ یا کسی بل میں چلا گیا، جس سے اونٹنی اپنا توازن کھو بیٹھی اور آدمی گردن کے بل گر گیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی.
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے احرام کی چادروں کو نہ بدلو، اسی احرام کی چادروں میں دفن کرو. اس کا سر نہ ڈھانپو، دوران حج احرام میں سر ننگا ہوتا ہے. اس کو خوشبو بھی مت لگاؤ کیوں کہ احرام کی صورت میں خوشبو لگانا منع ہے. یہ بندہ حالت حج کی ادائیگی میں فوت ہوا اور قیامت کے دن اسی طرح حج کرتے ہوئے اٹھے گا.

    بنی اسرائیل کا مشہور واقعہ ہے کہ 100 بندوں کے قاتل کو اللہ تعالیٰ نے جہنم سے نکال کر جنت میں بھیج دیتے ہیں. کیوں اس بندے کا خاتمہ خوف الٰہی کی وجہ سے توبہ کی تلاش پر ہوا. وہ بندہ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو کر توبہ کی غرض سے دوسری بستی جا رہا ہوتا ہے کہ راستے میں موت واقع ہو جاتی ہے.
    کفل کا واقعہ بھی ہم سب جانتے ہیں، آخری درجے کا زانی اور شرابی تھا. ایک رات برائی کرتے وقت دل میں خیال آیا اور عورت کو مقررہ رقم دے کر واپس بھیج دیا. خوف خدا دل میں آیا اور توبہ کی اور اسی لمحے فوت ہو گیا. اللہ تعالیٰ نے اس کے دروازے پر لکھوا دیا کہ کفل کو معاف کر دیا گیا ہے.

    صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ حضرت محمد رسولﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کی موت کے وقت اسکو لا اله الا الله کا علم ہو جائے تو وہ جنت میں جائے گا. موت کے وقت خالی کلمہ کے ورد کا فائدہ نہیں، لا اله الا الله میں توحید ہے. اس میں ایک اثبات اور نفی ہے. اس کلمے کی بنیاد پر مرنے والے شخص کا خاتمہ ہونا چاہیے. اللہ کے رسولﷺ نے تبلیغ کے ذریعے تمام لوگوں تک توحید کا پیغام پہنچا کر حجت قائم کر دی. بندے کے خاتمے اور ٹھکانے والا معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے.
    اللہ تعالیٰ ہم سب کو اعمال صالحہ کی توفیق دیں اور خاتمہ باالایمان عطا فرمائیں.

    @mian_ihsaan

  • مومن حیا دار ہوتا ہے  تحریر:  نصرت پروین

    مومن حیا دار ہوتا ہے تحریر: نصرت پروین

    عورت کی حیا حجاب میں ہے۔
    اور مرد کی حیا نظر کی پاکیزگی میں ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سے اوصاف سے نوازا۔ ان اوصاف میں سے ایک بہترین وصف حیا ہے۔ حیا سے مراد دل کا برائی سے پردہ کرنا ہے۔ حیا کردار کی اکائی ہےاور حیا کا ایمان سے بہت گہرا تعلق ہے۔ حیا کی وجہ سے انسان میں تقوی پروان چڑھتا ہے اور وہ گناہ سے باز آتا ہے۔ حیا اور ایمان ساتھ ساتھ ہیں۔ جس میں حیا نہیں اس میں ایمان نہیں۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
    حیا کی ساٹھ سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ جب ان دونوں میں سے ایک اٹھ جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔
    حیا اللہ کی طرف سے عطا کردہ نور ہے۔ جب دل میں حیا پیدا ہوتا ہے تو انسان ہر حالت میں تنہائی میں یا لوگوں کے سامنے غرضیکہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے حیا کرتا ہے۔ وہ برائی سے اجتناب کرتا ہے۔
    حیا اللہ کی طرف سے عطا کردہ ایسا وصف ہے جو انسان کو حیوانات سے ممتاز کرتا ہے۔ اور باحیا اور باپردہ دین والے ہی پاکیزگی کی اعلی مثال ہوتے ہیں۔ اگر حیا رخصت ہوجائے تو باقی تمام خوبیوِں پر خود ہی پانی پھر جاتا ہے۔ انسان ذلت و رسوائی میں پڑ جاتا ہے۔ خواہشاتِ نفس کا غلام بن جاتا ہے۔ برائی کے کام سرکشی کے ساتھ کرتا چلاجاتا ہے۔ اسی لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کر۔
    یہ ایک المیہ ہے کہ جب معاشرے سے حیا اٹھ جائے تو لوگوں کے اخلاق بگڑ جاتے ہیں۔ لوگ بری عادات میں مبتلا ہوجاتے ہیں حیا کا سر چشمہ مرد اور عورت دونوں کے لئے انتہائی ضروری ہے۔
    "بے شک ہر دین کا ایک خلق ہے اور اسلام کا خلق حیا ہے”
    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اگر مرد میں حیا نہ رہے تو وہ انسان نہیں بلکہ حیوان بن جاتا ہے۔ اور اگر عورت سے حیا اٹھ جائے تو نسلیں برباد ہوجاتی ہیں۔ اور جب کسی سر زمین پر بے حیائی پھیل جاتی ہے تو وہاں سے اللہ کی رحمت اٹھ جاتی ہے وہاں طرح طرح کے عذاب آتے ہیں ۔ اور یہ سب کچھ آج ہمارے معاشرے میں ہورہا ہے۔ لوگوں کا ایک بہت بڑا طبقہ بے حیائی کے پھیلانے میں اہم کردا اد کر رہاہے۔ اس میں میڈیا خصوصاً ٹک ٹاک جیسی فحاشی سے بھرپور ایپلیکیشنز جو معاشرے سے حیا کو دیمک کی طرح کھا رہی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ زمانے میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے ہر شعبے میں تبدیلی آرہی ہے۔ کبھی ہم مشرقی تہذیب کے امین ہوا کرتے تھے۔ ہمارے مرد و خواتین شرم و حیا کا پیکر ہوتے تھے۔ لیکن پھر جدیدیت کے نام پر بے حیائی کی ایسی ہوا چلی جو ایمان کو بہا لے گئی۔ آج بے حیائی بھی عام ہے۔ اس کو سراہا بھی جاتا ہے۔ دوسروں کو بھی راغب کیا جاتا ہے۔ ان سب کی جیتی جاگتی مثال 14 اگست کے دن مینارِ پاکستان پر ہونے والا واقعہ ہے یقیناً یہ واقعہ ایک عام انسان کے لئے جب پہلی بار سنے تو دل چیر دینے والا واقعہ ہے۔ میں نے خود جب پہلی بار سنا تو بہت ہمدردی ہوئی لیکن جب حقیقت سامنے آئی تو پتہ چلا کہ سارے واقعے کی جڑ ٹک ٹاک نے ہماری تہذیب کا ایسا جنازہ نکالا کہ جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ بے حیائی بھی گولہ نما ہوتی ہے جس کو جتنا پھیلایا جائے اتنی ہی پھیلتی چلی جاتی ہے۔ اور بہت کچھ اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں بے حیائی اللہ کی حدود سے تجاوز کر کے برائی کا نام ہے جس ہر اللہ کا عذاب تو ہوتا ہی ہے لیکن دنیاوی طور پہ بھی نتائج بہت سنگین ہوتے ہیں۔ یقیناً یہ بہت تکلیف دہ واقعہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سے تلخ حقائق پر مشتمل بھی ہے۔ دیکھیں اگر دنیا کی ساری عورتیں برہنہ ہو جائیں تو بھی اسلام مرد کو نگاہیں جھکانے کا حکم دیتا ہے اور مرد کا نگاہیں جھکانا ہی حیا ہے۔ اور دنیا کے سارے مرد اندھے ہو جائیں تو بھی اسلام عورت کو حجاب وحیاء کا درس دیتا ہے۔ اور حجاب ہی عورت کا حیا ہے۔ اور جب دونوں یعنی مرد کی نظر کی حیا اور عرت کا حجاب باقی نہ رہیں تو اذیت ناک نتائج بھگتنا پڑتے ہیں جو ہم بھگت رہے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں بےحیائی پھیلانے والوں کے متعلق فرمایا
    ‏بیشک جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ (ایسے لوگوں کے عزائم کو) جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
    (سورۃ النُّوْر، 24 : 19)
    آج جائزہ لیں تو
    حافظ ابن قیم رحمہ اللہ حیا کے بارے میں رقمطراز ہیں کہ :
    1۔ ‏لوگوں میں سب سے کامل زندگی اس کی ہے جو حیا میں کامل تر ہے۔ حیا کی کمی آدمی کی زندگی کی کمی ہے۔
    2۔ ‏حیا لفظ حیات سے مشتق ہے
    پس جس میں حیا ہے وہی درحقیقت
    حیات ہے۔
    3۔ ‏حیا قلبی حیات کا جوہر ہے، حیا ہمہ قسم کی بھلائی کا سرچشمہ ہے، اگر حیا ختم ہو جائے تو پھر بہتری کی کوئی رمق باقی نہیں رہتی۔
    4۔ تمام اخلاق و صفات میں سے سب سے افضل اور قدر و منزلت کے اعتبار سے سب سے بلند اور نفع بخش صفت حیا ہے، بلکہ یہ انسانی خواص میں سے ہے، جس شخص میں حیا نہیں وہ انسان نہیں محض گوشت پوست کا ایک ٹکڑا ہے۔
    5۔ اللہ تعالی کی اپنے بندے سے حیا کرنے کی کیفیت انسانی ذہن سے بالا تر ہے؛ عقل اس کی کیفیت بیان کرنے سے قاصر ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کی حیا میں سخاوت، احسان، جود اور جلال شامل ہے۔
    6۔‏جتنا دل توحید میں کمزور اور شرک میں مضبوط ہوگا وہ دل اتنا ہی بے حیا اور حیا باختہ ہوگا۔
    7۔ ‏معاصی کی ایک سزا یہ بھی ہے کہ حیا جو قلب کا اصلی جوہر حیات ہے، فنا ہو جاتی ہے حالانکہ ہر خیر و فلاح کی اصل جڑ شرم و حیا ہی ہے۔ جب یہی فنا ہو جائے تو خیر و فلاح کی امید ہی نہیں قائم کی جاسکتی۔
    دیکھیں دنیا ایک ظاہری زیب و زینت پر مشتمل گھاٹے کا سودا ہے۔ جس میں بے حیائی کے کئی رنگ ہیں۔ لہذا ان رنگوں میں گم ہو کر اپنے ایمان کا سودا نہ کریں۔ دین اسلام کا تو مزاج ہی حیا ہے۔ حیا کا ایمان، ادب اور اخلاقیات سے گہرا تعلق ہے۔ تو اس سلسلے میں آپ بطور مسلمان اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات دیکھیں۔ وہ کیسے شرم و حیا کا پیکر تھے۔ صحابہ کی زندگیاں پڑھیں جس طرح ہم مغرب ہیروز کو پڑھتے ہیں ایسے ہی اسلامک ہیروز کی حیات کا مطالعہ کریں تو ضرور اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ معاشرے کو جو گھن لگ گیا ہے اسکی سب سے بڑی وجہ ہماری بےحیائی ہے جو مختلف صورتوں میں ہو سکتی ہے۔ اور مومن کبھی بھی بےحیا نہیں ہوتا ایمان کے دعوے دار تو ہم سب ہیں۔ لہذا ہمیں اپنے ایمانی لیول کا جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے اور پھر حیا کو اپنانا اور معاشرے مین پروان چڑھانا ہمارا فریضہ ہے۔
    اللہ رب العزت ہم سب کو ایمان اور حیا کی بہترین حالت میں رکھیں۔ آمین
    جزاکم اللہ خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes