Baaghi TV

Category: مذہب

  • یوم دفاع  اسلام بمقابلہ ہندومت، تاریخ کے آئینے میں   تحریر: احسان الحق

    یوم دفاع اسلام بمقابلہ ہندومت، تاریخ کے آئینے میں تحریر: احسان الحق

    پاکستانی قوم حسب روایت بڑے جوش وجذبے اور حب الوطنی کے ساتھ 6 ستمبر کو یوم دفاع منا رہی ہے. پاکستان کی تاریخ کے چند اہم ترین دنوں میں سے 6 ستمبر 1965 کا ایک دن "یوم دفاع” کا ہے جب قوت ایمانی سے سرشار اور شہادت کی تمنا لئے پاکستان کے جانباز سپاہیوں نے ہمت و شجاعت کی ناقابل فراموش داستانیں رقم کرتے ہوئے اور ناقابل یقین جوانمردی کا مظاہر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دشمن کو تاریخی عبرت ناک شکست دی.

    ہندوؤں کی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور دشمنی نئی بات نہیں، اس تعصب اور دشمنی کی ساڑھے چودہ سو سالہ تاریخ ہے. تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ہندو روز اول سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف صف آراء رہے ہیں. قیام پاکستان کے بعد تعصب اور دشمنی میں اضافہ ہوا، بھارت نے ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے پاکستان کو معاشی، ثقافتی، دفاعی اور سیاسی الغرض ہر لحاظ سے کمزور کرنے کی کوشش کی ہے اور کرتا آ رہا ہے. اس کی بہت ساری وجوہات ہیں. قیام پاکستان کے بعد ہندوستان اور ہندوؤں کی پاکستان اور اسلام دشمنی سب پر عیاں ہو چکی ہے. آج ہم اسلام اور ہندو مت کے درمیان چیدہ چیدہ تاریخی معرکوں کے بارے میں جانتے ہیں.

    تاریخ میں پہلی بار مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان معرکہ خلیفہ ثانی امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں پیش آیا. ہندو معاشرہ رنگ نسل، ذات پات میں بٹا ہوا تھا. امیر اور غریب کے لئے الگ الگ قانون تھا. ہندو معاشرے میں برہمنوں اور دلتوں کے لئے الگ الگ نظام زندگی تھا. سن 14 ہجری میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے فارس کو فتح کرکے اسلامی ریاست میں شامل کر لیا. اس وقت برصغیر کے متعصب ہندو حکمرانوں کو یہ بات قطعی پسند نہ آئی کہ ہمارے پڑوس میں ایک ایسا نظام رائج ہو جس میں عدل و انصاف ہو، جہاں مالک اور نوکر، آقا و غلام اور امیر غریب کے لئے ایک جیسا انصاف ہو، جہاں کسی امیر کو غریب پر، کسی گورے کو کالے پر کوئی سبقت نہ ہو، جہاں ذات پات کی کوئی قید نہ ہو.

    چنانچہ سن 28 ہجری میں ہندوؤں نے اسلامی ریاست پر حملہ کرتے ہوئے ہرات پر قبضہ کر لیا. موجودہ ہرات اس وقت ایران میں شامل تھا. اس وقت خلیفہ ثالث امیرالمؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مہلب بن صفرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی قیادت میں لشکر بھیجا. اسلامی لشکر نے برہمنوں کو شرمناک اور ذلت آمیز شکست دیکر ہرات کو واپس اسلامی ریاست میں شامل کر دیا. مگر ہندوؤں کو چین نہ آیا، وہ موقع کی تلاش میں رہتے اور وقتاً فوقتاً حملہ آور ہوتے رہتے تھے. حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی خَلافت میں مکران فتح ہوا. مکران کی سرحد سندھ سے ملتی تھی جہاں ہندو راجہ داہر کی حکومت تھی.

    امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے خلافت سنبھالی تو آپ نے ایک عرب سردار کو سندھ کے ساحلی علاقوں کی دیکھ بھال اور نگرانی کے لئے مقرر فرمایا. خلافت راشدہ کے بعد اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کی خلافت میں عراقی گورنر حجاج بن یوسف نے سندھ کی طرف خصوصی توجہ دی. سندھ کا ہندو حکمراں راجہ داہر مسلمانوں کے لئے بہت ظالم اور جابر حکمران تھا. سری لنکا سے جانے والے مسلمان قافلے کو سندھ کے نزدیک سندھ کے بحری قزاقوں نے لوٹ کر مسافروں کو یرغمال بنا لیا تھا جن کو راجہ داہر کی سرپرستی حاصل تھی. حجاج بن یوسف کے خبردار کرنے کے باوجود راجہ داہر مغویوں اور سامان کو بازیاب کرانے میں عدم دلچسپی سے کام لیتا رہا اور عذر پیش کرتا رہا کہ بحری قزاق میرے دائرہ اختیار میں نہیں. حجاج بن یوسف نے نوعمر سپاہ سالار محمد بن قاسم کی سرپرستی میں لشکر بھیج کر راجہ داہر کو شکست فاش دیتے ہوئے سندھ فتح کر لیا.

    عہد سبکتگین میں پنجاب کے ہندو حکمراں جے پال غزنی پر حملہ آور ہوا مگر ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوا. تاوان کے بدلے سبکتگین نے امن معاہدہ کر لیا، بعد میں جے پال تاوان دینے سے مکر گیا. اگلے سال پشاور کے نزدیک سبکتگین نے جے پال کو شکست دی.

    سبکتگین کی وفات کے بعد محمود غزنوی نے پشاور کے نزدیک نہ صرف جے پال کو شکست دی بلکہ گرفتار کر لیا.

    جے پال کی موت کے بعد اس کا بیٹا انند پال تخت حکمرانی پر بیٹھا تو اس نے گردونواح کی ریاستوں بالخصوص دہلی، قنوج، کالنجر اور گوالیار کے حکمرانوں سے ملکر محمود غزنوی کے خلاف مشترکہ اور متحدہ حملہ کیا مگر حسب روایت اس بار بھی ہندوؤں کو شکست ہوئی.

    1021 میں انند پال کے بعد ترلوجن پال نے بھی محمود غزنوی کے خلاف جنگ کی مگر پنجاب پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا. 1025 میں محمود غزنوی نے ہندوؤں کے متبرک مندر سومنات پر حملہ کرتے ہوئے تمام بتوں کو توڑ ڈالا. بہت سارا مال غنیمت لیکر محمود غزنوی واپس غزنی روانہ ہو گئے.

    سن 1186 میں محمود غزنوی کے بعد محمد غوری نے پشاور اور لاہور فتح کر لئے. سن 1191 میں محمد غوری کو شمالی ہندوستان کے پرتھوی راج سے شکست ہوئی. بہت جلد ہی اگلے سال 1192 میں محمد غوری نے تقریباً ڈیڑھ لاکھ فوج اکٹھی کرکے ترائن کے مقام پر پرتھوی راج کو شکست دی اور اسی جنگ میں پرتھوی راج مارا گیا. 1194 میں محمد غوری نے قنوج اور بنارس کے ہندو حکمرانوں کو شکست دی.

    علاء الدین خلجی نے 1297 میں کاٹھیاواڑ بغیر لڑے فتح کیا. جب ہندو فوج کو علاء الدین کی پیش قدمی کا پتہ چلا تو وہ بھاگ گئی. 1527 میں مغل بادشاہ بابر نے میواڑ کے راجے رانا سنگرام سنگھ کو شکست دی. رانا سانگا یا سنگرام سنگھ کو بابر نے گرفتار کر کے قتل کر دیا. پھر کبھی بھی ہندوؤں کو مسلمانوں کے مقابلے میں آنے کی ہمت نہیں ہوئی.

    1542 میں شیر شاہ سوری نے مالوہ فتح کیا اور 1544 میں رائے سیس کے قلعہ پر حملہ کیا. کالنجر کے قلعے کا محاصرہ کرتے ہوئے. اسکو بھی فتح کیا گیا. یہاں شیر شاہ سوری زخمی ہو گئے اور بعد میں 22 مئی 1545 کو خالق حقیقی سے جا ملے. 1576 میں بادشاہ اکبر نے ہلدی گھاٹ کے مقام پر رانا پرتاب کو شکست دی اور رانا پہاڑوں کی طرف بھاگ گیا. 1614 میں شہزاد خرم نے میواڑ پر حملہ کر کے امر سنگھ کو شکست دی. 1676 میں اورنگ زیب کے خلاف ہندوؤں کے ایک سادھوؤں کے فرقے نے بغاوت کر دی جس کو کچل دیا گیا.

    (جاری ہے)

    @mian_ihsaan

  • فضائلِ اہل بیت تحریر : واجد خان

    جس طرح حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام کائنات میں سب سے افضل و اعلیٰ ہیں ، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس گھرانے کے افراد کا مرتبہ بھی کائنات سے بڑھ کر ہے ، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ،
    ” اے ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ) گھر والو ! اللّٰہ تعالٰی یہی چاہتا ہے کہ تم سے ( ہر طرح کی ) آلودگی دور کر دے اور تم کو خوب پاک صاف کر دے ۔
    ( سورتہ الاحزاب آیت نمبر 33)
    اس آیت مبارکہ کی تفسیر لکھتے ہوئے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے مراد بالخصوص آپ کی ازواجِ مطہرات، حضرت علی المرتضیٰ، حضرت فاطمتہ الزہرا، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین اور آپ تمام کی اولاد مراد ہے ، ان میں سے کسی کو بھی خارج نہیں کیا جاسکتا، ورنہ اہل بیت کا مفہوم پورا نہیں ہو گا ۔۔۔
    یہ وہ اہل بیت ہیں جن کی محبت میں جینا عبادت اور مرنا شہادت ہے ، جن کا احترام، تعظیم و تکریم اور محبت شعائر ایمان ہے ۔
    جن کی عزت و شان یہ ہے کہ تمام مسلمان ہر نماز میں ان پر درود و سلام کا نذرانہ بھیجتے ہیں۔
    جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس بزم عالم میں تشریف لائے اور آپ نے اپنی امت کو توحید باری تعالیٰ ، اپنی نبوت و رسالت ، جنت و دوزخ ، حساب و کتاب اور عذاب وثواب کے علاؤہ ان کو دعوت اسلام دی ، پتھر کے پجاریوں کو ایک خدا کا پرستار بنایا ، کفروشرک کے سمندر میں ڈوبنے والوں کو ایمان کی دولت عطا کر کے کنارے لگایا تو اللّٰہ کی طرف سے حکم ہوا ،
    "اے محبوب ! آپ ان سے فرما دیجئے کہ اس دعوت دین اور اس کی تبلیغ واشاعت اور تم کو دولتِ ایمان عطا کرنے کے صلے میں تم سے کوئی مال و دولت طلب نہیں کرتا البتہ میں تمہیں کلمہ طیبہ پڑھانے کا صلہ تم لوگوں سے یہ مانگتا ہوں کہ میرے اہل
    بیت اور قرابت داروں سے محبت کرو "۔
    ( سورتہ الشوریٰ : آیت نمبر 23 )
    اس آیت مقدسہ میں اللّٰہ تعالٰی نے اپنے پیارے محبوب سے یہ اعلان کروا دیا کہ میرے محبوب کے قرابت داروں سے محبت کرو ، پتہ چلا کہ جس نے اہل بیت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں سے محبت نہ کی اس نے اپنے نبی کا حق ادا نہیں کیا ہے ۔۔۔
    حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے بارگاہ رسالت مآب میں عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ آپ کے قریبی کون لوگ ہیں جن سے محبت کرنا ہم پہ واجب ہے "؟
    حضور پاک نے ارشاد فرمایا، ” علی، فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے یعنی حسن و حسین علیہم السلام ہیں ۔۔۔
    اللّٰہ پاک نے قرآن پاک کی ایک اور آیت میں اسی چیز کی طرف اشارہ کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے : ؛ بے شک تمہارا حاکم اللّٰہ ہے ؛ رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور وہ لوگ جو ایمان لائے، نماز قائم کرتے ہیں اور رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دیتے ہیں ۔”
    تمام مسلمان اس بات کو مانتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی کی شان میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے نماز کی حالت میں ایک سائل کو انگوٹھی عطا فرمائی تھی ۔
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ،
    ” میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں ” ۔
    حضرت فاطمتہ الزہرا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے چھوٹی صاحب زادی تھیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بے حد محبت تھی، جن کے بارے میں حضور کا ارشاد ہے، ” فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے”۔
    حضرت فاطمہ جب آپ کی خدمت میں تشریف لاتیں تو آپ کھڑے ہو جاتے، ان کی پیشانی چومتے اور اپنی نشست گاہ سے ہٹ کر اپنی جگہ پر بٹھاتے ۔ جب کبھی سفر فرماتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ کے پاس جاتے اور سفر سے واپس آتے تو جو شخص سب سے پہلے خدمت میں حاضر ہوتا ، وہ
    بھی حضرت فاطمہ ہی ہوتیں، آپ کی فضیلت کا اندازہ اس بات ہی لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے، ” فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ہوں گی "۔۔
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جہاں کے سردار ہیں آپ نے حسنین کریمین کو جنت کے نوجوانوں کا سردار قرار دیا ہے ، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ” بے شک حسن و حسین دنیا میں میرے دو پھول ہیں ”
    حسنین و کریمین سے بغض رکھنا حضور سے بغض رکھنے کے مترادف ہے ۔ حضرت سلمان فارسی بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
    ” حسن و حسین دونوں میرے بیٹے ہیں اور جس نے ان دونوں کو محبوب رکھا اس نے اللّٰہ تعالٰی کو محبوب رکھا اور جس نے ان دونوں کے ساتھ بعض و کینہ رکھا اس نے اللّٰہ سے بغض رکھا ، اللّٰہ تعالٰی نے اس کو جہنم میں داخل فرمایا "۔۔۔۔
    حضرت امام حسن و حسین دونوں حضور نبی کریم کے ساتھ باطنی مشابہت کے آئینہ دار تھے ۔ اس امر کی اس سے بڑی دلیل کیا ہو سکتی ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
    حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، جو حسین کو محبوب رکھتا ہے اللّٰہ تعالٰی بھی اس کو محبوب رکھتا ہے۔”
    اہل بیت کی محبت دنیا و آخرت دونوں میں بھلائی کا ذریعہ ہے ، اللّٰہ ہمیں اہل بیت سے محبت کرنے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔
    ( آمین )
    ‎@Waji_12

  • مطالعہ سیرت کی ضرورت و اہمیت | تحریر :عدنان یوسفزئی

    مطالعہ سیرت کی ضرورت و اہمیت | تحریر :عدنان یوسفزئی

     سیرت کے لغوی معنی طریقہ کار یا چلنے کی رفتار اور انداز کے ہیں۔

    مسلم و غیر مسلم ہر اس شخص کے لیے سیرت نبوی کا مطالعہ از حد ضروری ہے جو دین اسلام کو جاننے، سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا خواہش مند ہے۔

    ہمارا ایمان ہے، کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک آنے والوں کے نبی ہیں۔قیامت تک پیدا ہونے والے لوگوں کے مسائل،معاملات مختلف ہیں۔

    کبھی لوگ امن کی حالت میں ہوتے ہیں تو کبھی جنگ کی حالت میں ہوتے ہیں۔لوگوں کی ضروریات اور خواہشات مختلف ہیں۔یہ ضرورت اور خواہش روحانی بھی ہوتی ہیں،جسمانی بھی ہوتی ہیں اور نفسانی بھی ہوتی ہے۔

    ان مسائل کے حل کیلئے ایسے شخصیت کی ضرورت ہے جو ہم میں سے ہو اور وہ ایسا نظام دے جو قیامت تک کیلئے اور ہر ایک کیلئے ہو۔

    اس مقصد کیلئے سیرت طیبہ کا مطالعہ ناگزیر ہو جاتا ہے کیونکہ حضور اکرم کے ذریعے اللہ تعالی نے قیامت تک کے آنے والے مسائل کا حل دیا ہے۔

    چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے "اور تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ کی زندگی بہترین نمونہ ہے”.

    اللہ تعالٰیٰ نے قرآن کریم میں اتباع رسول اور اطاعت رسول کو لازم اور فرض قرار دیا ہے۔ اس لحاظ سے سیرت نبوی کا مطالعہ از حد ضروری ہے تاکہ آنحضرت کے احکامات اور دیگر اوامر و نواہی کے ساتھ ساتھ آپ کی پسند و ناپسند کا علم بھی ہو سکے۔

    دین اسلام کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے حوالے سے سیرت کا مطالعہ ناگزیر ہے تاکہ ایک تو ہر مبلغ تبلیغ کے اس مسنون طریقہ کار سے آگاہ ہو جس پر عمل پیرا ہو کر آنحضرت ﷺ نے عرب کی کایا پلٹ دی اور دوسرا اس مطالعہ کے ذریعے مخاطب کو آنحضرت کے اسوہ حسنہ سے متعارف کروا کر اور موقع بہ موقع سیرت کے واقعات سُنا کر اسے متاثر کیا جا سکے۔

    سیرت طیبہ زندگی کےہر شعبہ میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ امن ہو یا جنگ،سفر ہو یا حضر،انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی،مسجد کا ماحول ہو یا بازار کا ماحول،گھریلو زندگی ہو یا باہر کی زندگی،تجارت ہو یا ملازمت،عبادات ہوں یا معاملات،خوشی ہو یا غمی، شادی ہو یا کوئی فوتیدگی ،معیشت ہو یا معاشرت غرض کوئی ایسی چیز نہیں جہاں سیرت پاک سے رہنمائی نہ ملتی ہو۔

    ہر باطل نظام کے خلاف سیرت طیبہ نے متبادل بہتر نظام پیش کیا ہے۔سود کے مقابلہ میں تجارت،کنونشنل بینکنگ کے مقابلہ میں اسلامی بینکنگ اس کی بہترین مثال ہے۔

    سیرت طیبہ ایک ایک مرحلہ پہ رہنمائی کرتی ہے۔ل مثال کے طور پہ جنگ کب کرنی ہے،کس سے کرنی ہے،جنگ سے پہلے کیا کرنا ہے،جنگ میں کیا کرنا ہے،جنگ بعد کیا کرنا ہے۔

    امن کہ حالات میں کیا کرنا ہے،امن کیلئے کس حد تک جایا جا سکتا ہے،

    سیرت کا مطالعہ محض ایک علمی مشغلہ ہی نہیں بلکہ اہم دینی ضرورت ہے۔ غیر مسلم کا سیرت کے مطالعے کا مقصد ان حالات اور اسباب سے آگاہی ہوسکتی ہے جس کے ماتحت آنحضرت نے تئیس سال کے قلیل عرصے میں دنیا میں ایک ایسا انقلاب برپا کردیا اور عرب کی جاہل اور اجڈ قوم سے ایک ایسی امت تیار کردی جس کے کارنامے انتہائی دلچسپ اور موجب صد حیرت ہیں۔و غیر مسلم جو اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف بغض و عناد رکھتے ہیں۔

    ان کے مطالعہ سیرت کا مقصد اصل حقائق سے آگاہی حاصل کرکے انھی واقعات کو توڑ مروڑکر پیش کرنا اور حقیقت کے برعکس ان واقعات کو اپنے رنگ میں پیش کرکے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرنا بھی ہوسکتا ہے۔

    جمع و تدوین سیرت کی مختصر تاریخ:

    محمد ﷺ کی ذات، آپ کی تعلیمات اور آپ کی حیات طیبہ کی جملہ معلومات آپ کے اصحاب، آپ کی ازواج اور دیگر اہل بیت کے پاس منتشر صورت میں موجود تھیں۔ چونکہ آپ بطور رسول اللہ ان سب کی توجہ کا مرکز تھے اس لیے یہ تمام اصحاب باہمی میل ملاپ اور گفت و شنید سے محمد ﷺ کی ذات گرامی سے متعلقہ مختلف قسم کی معلومات کا تبادلہ بھی کرتے جیسے کسی تازہ ترین وحی، کسی واقعہ یا کسی فرمان کا باہمی تبادلہ وغیرہ۔

    عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے دور میں سیرت لکھنے کا کام شروع ہوا۔

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مارگولیوتھ نے 1905ء میں آنحضور ﷺ کے حالات پر مبنی ایک کتاب Muhammad and the First Rise of Islam میں اعتراف کیا کہ ”حضرت محمدؐ کے سیرت نگاروں کا ایک طویل سلسلہ ہے جس کو ختم کرنا ناممکن ہے لیکن اس میں جگہ پانا باعث شرف ہے۔”

    اقوام متحدہ کے ثقافت و تہذیب اور تعلیم و تمدن سے متعلق ایک ذیلی ادارے یونیسکو کے چند سال پہلے کی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق:”جس قدر کتب نبی اسلام کے بارے میں لکھی گئی ہیں اس کا عشر عشیر بھی کسی ایک شخصیت کے بارے میں نہیں لکھا گیا۔”

    کتب سیرت کی کثرت:1963ء میں اسلامیہ کالج لاہور میں کتب سیرت کی ایک نمائش منعقد ہوئی جس میں پیش کردہ کتب کی فہرست کالج نے شایع کی تھی۔ اس میں دنیا کی گیارہ زبانوں کی آٹھ سو سے زائد کتابیں مذکور ہیں۔

    سال 1975-1974ء میں حکومت پاکستان نے اسلام آباد میں سیرت کانفرنس کے موقع پر ایک نمائش کتب سیرت منعقد کرائی جس میں موجود کتابوں کی تعداد تین ہزار سے متجاوز تھی۔

    ایک اور بین الاقوامی نمائش کتب سیرت میں صرف چودہویں صدی ہجری میں لکھی جانے والی کتب سیرت رکھی گئی تھیں جن کی تعداد چار ہزار سے متجاوز تھی۔

    بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان نے ارمغان حق کے نام سے دو جلدوں میں کتب سیرت کی ایک فہرست شایع کی تھی جس میں پندرہ زبانوں کی دو ہزار سے زائد کتابیں مذکورہ ہیں۔

    سیرت پر ہونے والا یہ کام نظم اور نثر دونوں میں دستیاب ہے۔ اگرچہ زیادہ کتب سیرت نثر میں ہی ہیں، تاہم مختلف زبانوں میں منظوم کتب سیرت بھی اچھی خاصی تعداد میں موجود ہیں اور اگر صرف نعت کی کتابوں کو ہی لیا جائے تو ان کی فہرست پر بھی ایک رسالہ یا کتابچہ تیار ہوسکتا ہے۔

    سیرتِ نبویؐ کا مطالعہ کرنے والے پر یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل میں یکجائی تھی، آپؐ کا ہر عمل آپؐ کے قول کے مطابق ہوتا تھا، یہ نہیں تھا کہ آپؐ لوگوں کو نیکی اور بھلائی کا حکم فرماتے اور خود اس سے تہی دامن رہتے، بلکہ سب سے پہلے آپؐ ہی اس پر عمل پیرا ہوتے۔

    علامہ ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ اس حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ میں غور و فکر کرنے والا لامحالہ اس کی تصدیق کرے گا کہ آپؐ کا ہر عمل آپؐ کے قول کے مطابق ہوتا تھا، اور وہ یقیناًیہ گواہی دے گا کہ آپؐ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں، اگر آپؐ کوئی معجزہ لے کر نہ آتے تب بھی آپؐ کی سیرتِ طیبہ آپؐ کی صداقت کے لیے کافی تھی۔ (ابن حزم۔ الممل و النحل:ج2، ص90)۔

    لہذا اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہیے کہ سیرت طیبہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ کافروں کیلئے بھی مشعل راہ ہے۔

    ان سب مقاصد کے حصول کیلئے 

    مطالعہ سیرت نہایت ضروری ہے۔

    Twitter

    | @AdnaniYousafzai

  • اہلبیتؓ سے محبت تحریر:سید عمیر شیرازی 

    اہلبیتؓ سے محبت تحریر:سید عمیر شیرازی 

    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "اللہ تبارک و تعالی سے محبت کرو ان کی نعمتوں کی وجہ سے جو اس نے تمہیں عطا کیں اور مجھ سے اللہ تبارک وتعالی کی محبت کے سبب محبت کرو اور میرے اہل بیت سے میری محبت کی خاطر محبت کرو۔”

    (بحوالہ جامع ترمذی حدیث نمبر 3789)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیتؓ سے محبت کے بارے میں امت کو واضح پیغام دیا ہے کہ اہل بیتؓ سے محبت ہم مسلمانوں کے ایمان کا لازمی جزو ہے

    حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں میرے بعد جب تک تم انہیں پکڑے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہوگے،ایک ان میں دوسری سے عظیم تر ہے وہ ایک تو اللّه کی کتاب ہے اور اللہ تعالی کی آسمان سے زمین کی طرف پھیلی ہوئی رسی ہے، اور دوسری میری اولاد میرے گھر والے ہیں اور وہ الگ الگ نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر وہ میرے پاس آپہنچں گے پس تم لوگ سوچ لو کہ تم میرے بعد ان سے کیا معاملہ کرتے ہو اور کیسے پیش آتے ہو۔

    (حوالہ حدیث کی کتاب ترمذی)

    اس حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ یعنی قرآن مجید کی طرف اپنی امت کو توجہ دلائی ہے اور اپنے 

     اہل کے حقوق بھی یاد دلائے ہیں اور اہل بیت کی فضیلت و عظمت بیان فرمادی ہے کہ تم لوگ میری نسبت کے خیال سے ان کے حقوق کی ادائیگی میں جتنا زیادہ سرگرم رہو گے اور ان کی ہر طرح خبر گیری میں جتنا حصہ لوگے تو اتنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہوگا اور تمھیں دنیا و آخرت میں خیر و عافیت نصیب ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ایسے ہی ہے جیسے کوئی شفیق باپ دم رخصت پر اپنی اولاد کے بارے میں وصیحت کرتا ہے کہ یہ میں اپنی اولاد کو چھوڑ کر جا رہا ہوں تم ان کی دیکھ بھال کرنا اور ان کے حقوق و مفادات کا تحفظ کرنا،

    اور یہ دونوں الگ الگ نہیں ہوگی یعنی قیامت کے تمام مراحل پر ان دونوں یعنی کتاب اللہ اور اہل بیت صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ رہے گا کہیں بھی یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گی یہاں تک کہ یہ دونوں مل کر میرے پاس حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گی اور دنیا میں جس جس نے ان دونوں کے حقوق کو اچھی طرح ادا کیے ہوں گے اس اس کا نام لے کر میرے سامنے شکریہ کرے گی اور پھر میں بدلہ میں ان سب کے ساتھ نہایت اچھا سلوک اور احسان کروں گا اور اللہ تعالی بھی ان سب کو کامل جزا اور انعام عطا فرمائیں گے اور جن لوگوں نے دنیا میں ان دونوں کے حق تلافی کی ہوگی ان دونوں کے ساتھ کفران نعمت کیا ہوگا ان کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہوگا۔

    پس تم سوچ لو یعنی میں نے ان دونوں کی حیثیت واہمیت تمہارے سامنے واضح کر دی ہے اب تمھیں خود احتساب کرنا ہے کہ ان دونوں یعنی کتاب اللہ اور میرے اہل بیت کے ساتھ تم کیا معاملہ کرتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا ایک تقاضا ہے کہ اہل بیت سے محبت ہو جیسا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اللہ کی محبت کے بنا پر مجھ سے محبت کرو اور میری محبت کی بنا پر میرے اہل بیت یعنی میرے گھرانے کے افراد سے محبت کرو (بحوالہ ترمذی) اور اہل بیت بھی وہ کہ جن کے متعلق اللہ تعالی صحیفہ آخر میں ان کی طہارت و پاکیزگی کا اس طرح اعلان فرماتا ہے:

    "اے پیغمبر کے گھر والو! اللہ تو بس یہی منظور ہے تم سے ہر طرح کی گندگی کو دور کردے اور تمہیں ایسا پاک صاف کردے جیسا کہ پاک صاف کرنے کا حق ہوتا ہے۔” (الاحزاب 33) 

    وہ اہل بیت جن کی فضیلت کعبے کا دروازہ تھام کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا:

    دیکھو! میرے اہل بیت کی مثال تم میں کشتی نوح کی سی ہے جو اس میں سوار ہوا وہ بچ گیا اور جو شخص اس کشتی میں سوار ہونے سے رہ گیا وہ ہلاک ہوا (بحوالہ مسند احمد)

    اللہ پاک ہم سب مسلمانوں کو اس کشتی میں سوار فرما دے جو کہ ہماری فلاح و بقا کا ذریعہ ہے اور یا اللہ ہمیں ہلاکت سے محفوظ فرما دے اور اہلبیتؓ کی ہمارے دلوں میں صحیح عقیدت و احترام نصیب عطا فرمائے آمین۔

    @SyedUmair95

  • اللہ کے”شکر”کی کمی  تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    اللہ کے”شکر”کی کمی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    میں نےجب پہلی کار خریدی تو آنکھوں میں آنسو آگئے بیگم پوچھنے لگیں کیا ہو گیا کیوں رو رہے ہیں۔میں نے جواب دیا کہ ابا جی کی یاد آگئ ساری عمرانہوں نے بس میں ہی سفر کیا اور آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو دل کرتا ہے کہ خوشی کے اس لمحے میں وہ میرے ساتھ میری نئ کار میں میرےبرابر میں بیٹھے ہوتے کاش میں ان کو ان کی زندگی میں ہی کچھ آسودگی دے سکتا۔۔۔
    دوستوں یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے بزرگ رتبے اور مرتبے میں ہم سے کہیں آگے تھے۔۔۔ لیکن ان کی زندگی میں کوئ خاطر خواہ آسائشیں نہی تھیں۔۔ میرے والد مرحوم جب ہجرت کر کےپاکستان آئےتو کلیم آفس میں کلیدی عہدے پر فائز ہوئے لیکن جلد ہی رشوت زدہ ماحول دیکھتے ہوئے انہیں نوکری چھوڑنی پڑی اور بعدازاں وکالت شروع کر دی۔۔۔گو کہ والد مرحوم شہر کراچی کی جانی پہچانی پڑھی لکھی سیاسی اور سماجی شخصیت اور نامور وکیل تھے لیکن نا جانے کیوں انہیں پیسوں سے سے کوئ شغف نہ تھا بلکہ ایسا لگتا تھا وہ پیسے سے نفرت کرتے ہیں۔ کہتے تھے "پیسہ ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے” بیٹا جی "گھر میں اتنے کمرے نہیں ہونے چاہئے کہ سب ایکدوسرے کی شکل کو ترسیں”۔۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو آسائشوں بھری زندگی سے دور رکھا مجھ سے اکثر کہتے تھے کہ بیٹا میں مرنے کے بعد کچھ چھوڑ کے ہی نہیں جاونگا کہ تم بہن بھائ آپس میں لڑو اور ایسا ہی ہوا۔۔۔ اللہ کا بہت شکر ہے اس موضوع پر آج تک ہم بہن بھائیوں میں کوئ اختلاف نہیں ہوا اور انکو گزرےاکیس برس ہو چکے ہم بہن بھائیوں کی محبت وہسے ہی قائم ہے جیسے پہلے تھی۔انکی زندگی میں ہی میری شادی ہوئ اورانہیں اللہ تعالی نے اتنی سعادت مند بہو دی جس نے انکی بیماری کے زمانے میں انکی اتنی خدمت کی جس کی مثال نہیں ملتی۔۔وہ بہت خوددار انسان تھے ہمیشہ اپنا کام خود کیا کرتے تھے۔۔ میں چونکہ چار بہنوں کا اکلوتا بھائ تھا اور بہنوں کے لاڈ کی وجہ سے کوئ کام نہیں کرتا تھا ۔۔۔اکثر مجھے ڈانٹتے ہوئے کہتے تھے کہ بیٹا دنیا کا گھٹیا ترین شخص وہ ہے جو اپنا کام دوسروں سے کرائے۔۔
    کیا وقت تھا نہ گاڑی نہ موٹر سائیکل لیکن سارے خاندان کی تقاریب میں بھی پیش پیش ہوتے تھے۔۔۔گھومتے پھرتے بھی تھے بلکہ جب مضافاتی علاقوں کے رشتہ داروں کے گھر جاتے تو رک بھی جاتے تھے، دوسرے دن واپسی ہوتی تھی۔۔ ایک اور بڑی دلچسپ بات تھی نہ کوئ موبائل اور نہ کوئ گوگل میپ لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نئ جگہ نہ پہنچ پائے ہوں اور ہم کہیں گئے ہوں اور ویاں تالا لگا ہو۔۔
    ویسے دوستوں غور کریں ۔۔ہم میں سے تقریبا نوے فیصد لوگ اپنے گزرے کل سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں، میں خوداگر اپنا چائزہ لوں تو یہ بات غلط نہی ہوگی کہ میں اپنےوالد سے بہتر زندگی گزار رہا ہوں۔ آپ بھی کسی دن تحقیق کر لیں آپ کو ملک کے بھکاری بھی اپنے والدین سے بہتر زندگی گزارتے ملیں گے‘ ان کے والدین سارا شہر مانگ کر صرف دس بیس روپے گھر لاتے تھے جب کہ کراچی اور لاہور کے بھکاری آج چھ سات ہزار روپے روزانہ کماتے ہیں۔
    ہمارے گھر میں بچپن میں صرف پنکھے ہوتے تھے ائر کنڈیشن کاتو تصور بھی نہ تھا سارا بچپن چاچا برف والے سے برف خرید کر لاتے رہے ریفریجریٹر تو بہت بعد میں آیا۔۔۔ ریفریجریٹر آنے کے بعد فریزر میں برف زیادہ جمائ جاتی تھی کیونکہ ہمسائیوں کو بھی دی جاتی تھی۔۔۔۔ اچھا ایک بات اور تھی کہ ہمسایوں سے سالن مانگ لینا، شادی بیاہ کے لیے کپڑے اور جوتے ادھار لینا، پرانی کتابیں لے لینا معیوب نا تھا۔۔ہمارے تقریب اور گھرکے لیے جوتے اور کپڑے الگ رکھے ہوتے تھے۔۔۔دستر خوان پر دوسرا سالن عیاشی ہوتا تھا۔۔ سویٹ ڈش میں صرف زردہ اور شاہی ٹکڑے ہی بنتے تھے۔۔۔مرغی تو صرف بیماری کی حالت میں پکائی جاتی تھی وہ بھی لوکی ڈال کے اور بیمار بے چارے کوتو صرف اس کا شوربہ ہی مل پاتا تھا۔۔۔ہمارے پورے محلے میں ایک فون ہوتا تھا اور سب لوگوں نے اپنے رشتے داروں کو وہی نمبر دے رکھا تھا تھوڑی تھوڑی دیر بعد ان کا بچہ بلانے آتا رہتا تھا کہ آپ کا فون آیا ہے۔۔۔ہمارے گھر جب ٹیلی ویژن آیا تو اجتماعی طورپر دیکھا جاتا تھا اور محلے کہ "مستقل ناظرین” بچوں کے لئے ابا جی نے دری کا بھی اہتمام کروا دیا تھا۔۔۔ ہم سب کو نئے کپڑے اور نئے جوتے صرف عید پر ہی ملتے تھے۔۔۔مجھے یاد ہے کہ ابا جی نے ایک کباڑی سے پرانی تین پہئے والی سائیکل ٹھیک کروا کےدلادی تھی ہم اسے بھی روز چمکا کر بڑی حفاظت اور احتیاط سے رکھتے تھے۔۔پورے گھر میں ایک غسل خانہ اور ایک ہی ٹوائلٹ تھا اور اس کا دروازہ ہر وقت باہر سے بجتا رہتا تھا۔۔۔سردیوں میں پتیلے میں پانی گرم ہوتا تھا کوئ گیزر کا تصور نہیں تھا۔۔اسکول جاتے ہوئے باورچی خانے میں ہی بیٹھ کرامی جان کے ہاتھ کے دو کرکرے پراٹھےچائے سے کھاتے۔۔ کوئ مارجرین اور بریڈ نہیں تھی۔۔ کیا سادہ اور مطمئن خوش باش زندگی تھی ۔۔اب اتنی ترقی‘ اتنی خوش حالی اور رہن سہن میں اتنی تبدیلی کے باوجود ہم لوگ خوش کیوں نہیں ہیں؟
    صرف اور صرف "ناشکری”۔۔ ہم بحیثیت قوم ہی "ناشکرے” ہو چکے ہیں۔۔۔ انسان جب شکر چھوڑ دیتا ہے تو پھر یہ ” بے اطمنانی” میں مبتلا ہو جاتا ہے اورپھر یہ بیماری مریض کا وہی حشر کرتی ہے جو اس وقت ہم سب کا ہو رہا ہے۔
    یاد رکھیں ہم سب اپنے والدین اور اپنے بچپن سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘ ہم پانچ سو روپے سے پچاس لاکھ اور کروڑ تک پہنچ چکے ہیں لیکن خوش پھر بھی نہیں ہیں۔۔ اپنے حال کا ماضی سے موازنہ کرتے جائیں اپنے آج کے اثاثے اور زندگی کی نعمتیں شمار کریں اور پھر اللہ کا شکر ادا کریں ۔۔۔بار بار کریں۔۔ یقین جانیں ہمارا” شکر” ہماری زندگی بدل کے رکھ دے گا نہیں تو ہم ایک ادھوری، غیر مطمئن اور تسکین سے محروم زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔

    @Azizsiddiqui100

  • ‏شبِ قدر کی فضیلت  تحریر: محمد اسعد لعل

    ‏شبِ قدر کی فضیلت تحریر: محمد اسعد لعل

    شبِ قدر کے بارے میں فرمایا جاتا ہے کہ شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ قرآنِ مجید کی سورۃ القدر میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ قرآن ایک غیر معمولی اور فیصلوں کی رات میں نازل کیا گیا۔ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے۔)
    اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب، وہ کتاب جس نے قیامت تک لوگوں کو خبردار کرنا ہے, جب نازل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ اس کے لیے میں نے رمضان کے مہینے کا انتخاب کیا۔ اور یہ رمضان کا مہینہ ہے جس میں وہ رات آئی، جس کو قرآنِ مجید نے "لیلۃالقدر”سے تعبیر کیا، ایک اور جگہ سورۃ الدخان میں” لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ”(برکت والی رات) سے تعبیر کیا۔ اور بتایا کہ تم اس کی عظمت کا اندازہ نہیں کرسکتے۔
    وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ۔ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ
    یہ ہزار مہینے سے اللہ کے ہاں بہتر رات ہے، بلکہ مزید اللہ تعالیٰ نے اس کی تشریح کی ہے کہ اس میں ملائکہ اور روح الامین اترتے ہیں۔ اور جب یہ رات آتی ہے تو صبح تک سلامتی ہی سلامتی ہوتی ہے۔ یہ اس رات کی فضیلت ہے۔
    جس طریقے سے اس دنیا کے ساتھ معاملے کے لیے اللہ نے فرشتوں کو ذمہ داریاں دے رکھی ہیں بالکل اسی طرح کائنات کے بعض معاملات کے لیےخاص خاص دن بھی مقرر کر رکھے ہیں۔
    قرآنِ مجید کے نزول کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ بھی اسی طرح کی ایک رات میں نازل ہو گا، یعنی وہ رات جو اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے فیصلوں کے لیے مقرر کر رکھی ہے جس میں فرشتے اور روح الامین وہ فیصلے لے کر زمین پر آتے ہیں، جس کو اللہ تعالیٰ سلامتی کی رات بنا دیتے ہیں۔
    حضرت محمدﷺ کو بعد میں یہ بتایا گیا کہ قرآن مجید رمضان میں نازل کیا گیا تھا۔ سورۃ القدر قرآن کی پہلی سورت نہیں ہے، یہ کافی بعد میں نازل ہوئی تھی۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ "ہم نے اس کو اُس فیصلوں والی رات میں نازل کیا تھا جو بڑی عظیم رات ہے۔”
    ظاہر ہے یہ جو اس رات کی غیر معمولی حیثیت بتائی گئی ہے تو آپﷺ کے دل میں بھی یہ چیز پیدا ہوئی کہ ایک بندہ مومن کی حیثیت سے میں یہ تلاش کروں کہ وہ رحمت، برکت اور فیصلوں کی رات کب آتی ہے۔ اللہ نے بتا دیا کہ وہ رات رمضان میں آئی تھی، یہ بھی بتا دیا کہ اس میں قرآن نازل ہوا تھا۔ چنانچہ آپﷺ پر قرآن مجید نازل ہوا، ظاہر ہے کچھ نہ کچھ تو یاد رہ جاتا ہے۔ ایک وہ وقت ہوتا ہے جب آپ کو متنبہ کر دیا جائے تو وہ چیز ہمیشہ کے لیے یاد رہتی ہے لیکن کچھ عرصے بعد کسی بات کے بارے میں بتایا جائے تو آدمی پلٹ کے پیچھے دیکھتا ہے اور یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ کب کی بات ہے، تو اس کے بارے میں آپ ﷺ کو یہ خیال ہوا کہ غالباً رمضان کے آخری عشرے کی کوئی طاق رات تھی۔
    اگر آپ کو معلوم ہو کہ ایسی رات جس میں کائنات کے پروردگار کی عنایت ہو گی، جس میں فیصلے ہوتے ہیں، جس کی اتنی بڑی عظمت ہے تو ایک بندہ مومن کی حیثیت سے آپ اس رات کو تلاش کریں گے۔ تلاش کرنے کا مطلب ہے کہ آپ یہ کوشش کریں گے کہ جب وہ رات آئے، جب وہ رحمت کی گھڑی آئے تو آپ جاگ رہے ہوں، آپ خدا کو یاد کر رہے ہوں، آپ خدا کی عنایتوں کے طلب گار ہوں اور آپ اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے ہوں۔ یہ فطری خواہش ہے، چنانچہ آپﷺ کے دل میں بھی یہ پیدا ہوئی اور آپﷺ عام طور پر اس کا اہتمام کرتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آپﷺ نے رمضان کے اس عشرے کو اپنے لیے اعتکاف کے لیے مقرر کیا۔
    یہ رات دعا کی قبولیت کی رات ہے، اپنے لئے، دوست و احباب کے لئے اور والدین کے لئے دعا مغفرت کرنی چاہیے، اس رات میں دعا میں مشغول ہونا سب سے بہتر ہے اور دعاؤں میں سب سے بہتر وہ دعا ہے جو حضرت عائشہؓ سے منقول ہے۔
    اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ
    اے اللہ! بے شک تو معاف فرمانے والا، کرم کرنے والا ہے، تو معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے تو میرے گناہوں کو بھی معاف فرما دے۔
    https://t.co/mBQmJwgVeU‎
    ‎@iamAsadLal

  • اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے تحریر: عاصمہ قریشی

    ‏”
    جب آپ مصیبت کے چہرے میں ہمت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو، آپ اپنی زندگی اور دوسروں کو تبدیل کرتے ہیں۔
    دنیا میں سب سے زیادہ اشتعال انگیز لوگ وہی ہیں جو اوسط کے لئے حل نہیں کریں گے اور مصیبت کے ذریعے کامیابی حاصل کی ہے. ہم سب سے زیادہ ان لوگوں کی طرف سے حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جنہوں نے مشکل کا سامنا کیا ہے اور، کبھی حوصلہ نہیں چھوڑتے ہیں.

    قسمت بہت اچھی ہے، لیکن زندگی کے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ بعض اوقات کشیدگی سے باہر کا واحد راستہ اس کے ذریعے ہے۔ زندگی میں چیلنجوں پر قابو پانے کے لئے جدوجہد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں سبق سکھانے میں مدد کے لئے کئی بار جدوجہد ہوتی ہے۔ ہم یا تو اس سبق سے سیکھ سکتے ہیں یا اس سے انکار کرسکتے ہیں۔
    ایک ارتقائی نقطہ نظر سے انسانی ذہن کا بنیادی مقصد آپ کو محفوظ رکھنا ہے۔ کبھی کبھی یہ خود کو سبوتاژ کرنے کی طرف جاتا ہے کیونکہ آپ کے آرام کے زون میں رہنا اور خطرے سے بچنا آسان ہے۔ تاہم، بڑے بڑے کام کبھی ماداوکراٹی سے آتے ہیں۔ اوسط کے لئے حل کرنا چھوڑ دیں اور غیر معمولی کے لئے کوشش کریں۔
    ذیل میں وہ الفاظ ہیں جو میں نے طاقتور زندہ بچ جانے والوں سے متاثر ہوکر لکھے ہیں۔ ایک محرک اسپیکر کی حیثیت سے، میں بہت سے ایسے لوگوں سے ملتا ہوں جو بدقسمتی سے بچ گئے ہیں اور بھگت رہے ہیں۔ کشیدگی میں طاقت تلاش کرنے، خوف کو فتح کرنے اور اپنے خوابوں کو زندہ کرنے کے لئے ایک حوصلہ افزائی تقریر کے لئے مندرجہ ذیل نقطہ نظر ہے.
    حوصلہ افزائی تقریر ٹیمپلیٹ، کبھی بھی اپنے خوابوں کو ترک نہ کریں۔
    دلیری کے ساتھ آپ کے خواب کی سمت میں جاتے ہیں۔

    قد کھڑے ہیں اور دنیا کو دکھائیں جو آپ بنا رہے ہیں. جب دنیا آپ کو ہرا دیا، واپس دوبارہ حاصل کرنے کے لئے ایک وجہ تلاش کریں۔ کبھی کامیابی پر ہاریں۔
    کوشش کریں، کوشش کریں، کوشش کریں اور دوبارہ کوشش کریں۔ کامیابی کے اپنے دماغ کے خیالات کو کھانا کھلانا، ناکامی نہیں.
    یاد رکھیں، اگر آپ کو چھوڑ دو تو آپ ناکام ہوسکتے ہیں. جب بھی آپ ناکام ہوجاتے ہیں، آپ کامیابی کے ایک قدم قریب آجاتے ہیں۔
    آپ خوفزدہ نہیں ہیں۔ آپ باہمت ہیں۔ آپ کمزور نہیں ہیں۔ آپ طاقتور ہیں۔ آپ عام نہیں ہیں، آپ قابل ذکر ہیں.
    پیچھے نہ ہٹیں، ہار نہ مانیں۔
    جب آپ اپنی زندگی پر نظر آتے ہیں، تو افسوس نہیں ہے. اپنے آپ پر یقین کریں، اپنے مستقبل پر یقین کریں، آپ کو اپنا راستہ مل جائے گا۔

    آپ کے اندر ایک آگ جل رہا ہے جو بہت طاقتور ہے ؛ یہ روشن جلانے کے لئے انتظار کر رہا ہے. آپ بڑے بڑے کام کرنے کے لئے کیا مراد ہیں۔
    آپ کے خواب کے بعد خوفناک اور دلچسپ دونوں ہو سکتے ہیں۔
    ہمت کو خوف کا سامنا ہے۔ ناکامی کا خوف زیادہ تر لوگوں کو پیچھے رکھتا ہے۔ آپ زیادہ تر لوگ نہیں ہیں۔
    دوسروں کو اپنے منصوبوں کے بارے میں برقرار رکھیں اور قائل کریں، کیونکہ وہ حقیقی ہیں۔ کوئی بھی ایسا نہیں کر سکتا لیکن آپ. ہمارے خوابوں کی راہ میں کوئی نہیں ملے گا۔

    زیادہ تر لوگ واضح مالک ہیں; آپ ایسی چیز بنا رہے ہیں جو پہلے نہیں تھا. یہ جلی ہے، یہ خوبصورت ہے اور یہ آپ ہے۔
    اسے اپنی پوری کوشش کرو، اور آپ کے خواب زندگی میں آئیں گے۔ کامیابی آپ کا ہے۔
    آپ کے خواب کے لئے جانا۔ یہ آپ کی باری ہے۔

    ٹویٹر اکاؤنٹ:
    ‎@AQsmt2

  • مدینہ کی ریاست کی چاہت۔ تحریر ہما عظیم

    مدینہ کی ریاست کی چاہت۔ تحریر ہما عظیم


    مدینہ کی ریاست۔۔۔نام لیتے ساتھ ہی ایک احترام ایک سرور سا اترتا ہے دل میں۔۔پاک ریاست پاک لوگ۔۔۔پاک زندگیاں۔۔۔
    ہمارا نعرہ مدینہ کی ریاست ہماری چاہت مدینہ کی ریاست۔۔۔ہماری مانگ آج ہی پوری ہو ۔۔۔کیسے ہو۔۔۔کیسے ہو۔۔۔
    ہم کتنے قابل ہیں اس ریاست کے۔۔مدینہ کی ریاست مدینے ولوں نے بناٸی اپنی پاک بازی سے۔اپنی سچاٸی سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر بھوکے رہ کر فاقے کر کے بنا کسی کو الزام لگاۓ اپنےبل بوتے پر اپنی سود، ذخیرہ اندوزی، جھوٹ، نفا ق سے پاک تجار ت ایک دوسرے کادرد محسوس کر کے۔۔ صبح خالی پیٹ گھر سے نکلنا شان کو واپسی پر کچھ کھانے کو نہ ملنے پرایک کجھور پانی کے ساتھ کھا کر صبر شکر کر کے سونا ۔۔۔اللہ پر توکل۔۔ نہ گالی نہ گلوچ۔۔اخلاق اتنے کہ کوٸی پتھر مار دے تو دعا دینا۔۔۔
    ہم مانگ رہے مدینہ کی ریاست
    کون ہیں ہم
    دسترخوان پہ پیٹ بھر کھانا ہے مگر ایکسٹرا بریانی کی چاہت ہے نہیں کھا سکتے گنجاٸش نہیں دو حکومت کو گالیاں اسی دکھ میں باہر نکلے کسی سے منہ ماری ہو گٸی دو اسے ماں بہن کی گالیاں۔۔۔
    کام پہ گۓ۔۔سو جھوٹ سو چالبازیاں منافقت سے بھری خوشامدوں کے بعد گھر واپسی تھکے ہوۓ آۓ ہیں بیوی بچوں پہ غصہ۔۔ماں سے بدتمیزی ۔۔۔
    پھر ا س سب کے بعد جب اپنے کرتوتوں سے رزق میں کمی حالات خراب ہوں تو اپنے سے اونچوں سے حسد شروع۔۔۔
    معاشرتی طور پر اتنا بگاڑ پیدا کر رکھا ہے۔۔
    ٹک ٹاک پہ منہ بنا بنا کے ایک آنکھ بند کر کر کے ویڈیوز دیکھتے ہیں۔۔استغفار کرتے جاتے ہیں آنکھوں کا زنا ہاتھوں کا زنا باتوں زنا کرتے جاتے ہیں
    جہاں زلیخا دیکھی یوسف کو بھول کر اس کی اداٶں پر مرمٹنے کو تیار ہو جاتے ہیں
    نہ عورت فاطمہ ؓ جیسی بننے کو تیار ہیں
    نہ مرد یوسف بننے پر راضی ہے
    اور تو اور یہ عالم ہے
    ہمارے ہاں عورت برقع میں ہو نظروں سے پھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں

    کیا ہم بنا پاٸیں گے ریاست مدینہ۔۔۔
    ہم سے ایک دن تیل کے بغیر شوربے والی ہانڈی نہ کھاٸی جاۓ۔۔مبادا کہ پیٹ پہ پتھر باندھنا
    ہم اپنے آگے کسی کی بات برداشت نہیں کرتے مبادا کہ پتھر کھا کہ دعا دینا
    ہم بغیر جھوٹ کے اپنا مال نہیں بیچ سکتے
    زخیرہ اندوزی کے بغیر ہم اپنے عید تہوار پر سسستاسامان نہیں بیچ سکتے
    ہم کیسے بنا پاٸیں گے ریاست مدینہ
    مدینہ کی ریاست میں حکم ربی اترتا تھا سب گردن جھکا کر لبیک کہتے تھے۔۔
    آج ہم مدینے کی ریاست میں چودہ سو سال پہلے اترے حکم ربی میں حجتیں کرتے ہیں دلیلیں گھڑتے ہیں۔پتلی گلی سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔

    دسروں کو حکم ربی سنا کرخود فادغ ہو جاتے ہیں
    کون ہیں ہم۔۔۔
    کیا چاہتے ہیں ہم
    مدینے کے اسلام میں اور ہمارے آج کے اسلام میں ہم نے وہ فرق ڈال دیا ہے۔کہ آج مدینے والے پلٹیں تو ہمیں کسی اور نٸے مذہب پہ پاٸیں
    خدارا پہلے خود کو اس قابل بناٸیں کہ
    آپ کے ارگرد خود آپ کو مدینے کا حساس ہو
    پہلے اپنے اندر احساس پیدا کریں
    مدینہ میں پہلے حکم جاری ہوۓ تھے۔۔سزاٸیں بعد میں اتری تھیں۔حکم ماننے والوں نے سزاٸیں اترنے کا انتظار نہیں کیا تھا۔۔سزاٸیں تو نافرمانوں کے لٸیے اتری تیں۔۔تم فرمابردار کیوں نہیں بنتے۔۔؟
    کیوں نافرمان ہو کر انتظار کرتے ہو کہ سزاوٶ ں کی بات ہو پھر ہی سدھرو گے۔۔معاشرہ بناٶ تم بناٶ
    مدینہ بناٶ تم بناٶ۔۔۔خود کو پہلے سے فرمانبردار بناٶ
    لبیک کہو۔۔
    کسی کو کہنے روکنے ٹوکنے سے کچھ نہیں ہوگا
    پہلے اپنا دل مدینہ بناٶ
    مدینہ پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ ہے
    پہلے پاک ہو جاٶ
    پہلے پاک ہو جاٶ
    تحریر ہما عظیم
    ‎@DimpleGirl_PTi

  • لشکرِ سلیمانی ،، دنیا کا عجیب و غریب لشکر اور ہدہد کی غیر حاضری  تحریر اکرام اللہ نسیم

    لشکرِ سلیمانی ،، دنیا کا عجیب و غریب لشکر اور ہدہد کی غیر حاضری تحریر اکرام اللہ نسیم

    تاریخ بتاتی ہے کہ دور قدیم میں لشکر سلیمانی جیسا لشکر اللہ رب عزت نے کسی کو عطا نہیں کیا تھا اس تاریخی لشکر سے اللہ رب عزت نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو مالا مال کیا دور جدید میں لشکر سلیمانی جیسے لشکر کا تصور ہی انسان کرسکتا ہے رہتی د نیا تک لشکرسلیمانی جیسا شاندار اور منظم لشکر کوئی نہیں بنا سکتا کیونکہ اللہ رب العزت نے یہ صفت حضرت سلیمان علیہ السلام کو عطا کی تھی کہ وہ پرندوں کی بولی بولتے تھے جنات اسکے ماتحت تھے پرندے بھی اسکے ماتحت بلکہ ساری مخلوق اسکے ماتحت تھی
    لشکرِ سلیمانی یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر تین قسم کے اجناس پر مشتمل تھا
    انسانوں کا ،، پرندوں کا ،،جنّون کا ،، اسکا ذکر قرآن مجید میں ان الفاظ سے ہوا ہے قال اللہ تعالیٰ فی القرآن المجید { وَحُشِرَ لِسُلَيْمَان جُنُوده مِنْ الْجِنّ وَالْإِنْس وَالطَّيْر فَهُمْ يُوزَعُونَ } ترجمہ : اور سلیمان کے لئے اسکے لشکر جنات من سے اور انسانوں میں سے اور پرندوں میں سے جمع کئے گئے اور وہ مرتب کرنے کی غرض سے روکے جاتے تھے
    حضرت سلیمان علیہ السلام جب سفر کرتے تو آپ علیہ السلام کے لشکر سلیمانی میں انسان جنات اور پرندے شامل ہوتے تھے
    سفر کے روانگی سے قبل لشکر سلیمانی کو ترتیب و تنظیم کے لئے روکا جاتا تھا کیونکہ یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر سلیمانی کا اہم اصول تھا نظم و ضبط اکا انتہائی خیال رکھا جاتا تھا روانگی میں اس چیز کا بھی خصوصی خیال کیا جاتا تھا کہ آگے صف والے پیچھے نہ رہ جائیں اور پیچھے صف والے آگے نہ رہ جائیں اسی طرح میمنہ اور میسرہ کا اختلاط نہ ہو یعنی دائیں جانب والے بائیں جانب نہ نکل جائیں اسی طرح بائیں جانب والے دائیں جانب نہ نکل جائیں
    جیسا کہ دور جدید میں تمام منظم ممالک کے حکومت کے افواج چلنا پھرنا ٹہرنا دائیں جانب مڑنا بائیں جانب مڑنا جو انکے قواعد و ضوابط کے مطابق ہو ویسا کرنا چونکہ دور جدید میں صرف انسانوں کی منظم و مربوط فوجیں ہوتی ہے
    حضرت سلیمان علیہ السلام کی لشکر سلیمانی اسی وجہ سے سے عجیب و غریب تھی کہ وہ تین قسم کے افواج پر مشتمل تھی پرندوں کی الگ فوج جنات کی الگ فوج اور انسانوں کی الگ فوج
    پھر ان میں سے ہر فوج کی اپنی الگ الگ زمہ داریاں ہوتی تھی
    جیسا کہ پرندوں میں ایک پرندہ نامی ہدہد ہے یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی فوج میں مہندس کا کام کرتا تھا یہ بتلاتا تھا کہ پانی کہاں ہے اور کہاں نہیں ، زمین کے اندر کا پانی ااسے اسطرح دکھائی دیتا تھا جیسے زمین کے اوپر درخت پھل پھول پہاڑ پرندے اور دیگر اشیاء جب حضرت سلیمان علیہ السلام کسی جنگل میں ہوتے تو ہدہد کو بلاتے وہ حاضر ہوتا حضرت سلیمان علیہ السلام اس سے پوچھتے کہ پانی کہاں کہاں ہے ہدہد جگہوں کی نشان دہی کرتا
    حضرت سلیمان علیہ السلام جنات کی ڈیوٹی لگاتے اسی جگہ کنواں کھود لیا جاتا
    ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام جنگل میں تھے پرندوں کی تفتیش ہوئی تاکہ پانی کی تلاش کا حکم کیا جائے ، اتفاق سے ہدہد غیر حاضر تھا اس پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا آج ہدہد نظر نہیں آرہا کیا پرندوں میں چھپ گیا ہے یا حقیقتاً غیر حاضر ہے
    جیسا کہ قرآن مجید میں ہے
    وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ ﳲ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآىٕبِیْنَ لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ
    ترجمہ:
    اور سلیمان نے پرندوں کا جائزہ لیا توفرمایا:مجھے کیا ہوا کہ میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا یا وہ واقعی غیر حاضروں میں سے ہے۔ میں ضرور ضروراسے سخت سزا دوں گایا اسے ذبح کردوں گا یا وہ میرے رو برو کوئی معقول دلیل پیش کرے
    حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا اگر کو معقول دلیل پیش کی تو خیر ورنہ اسکو میں سخت سزا دونگا اتنے میں ہدہد آگیا دیگر پرندوں نے ہدہد سے کہا آج آپکی خیر نہیں بادشاہ سلامت نے تیری سزا کا عہد کرچکے ہیں ہدہد نے کہا بادشاہ سلامت کے الفاظ کیا تھے انہوں نے بیان کئے ہدہد خوش ہوا اور کہا میں بچ جاؤں گا
    چنانچہ ہدہد حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں حاضر ہوا کہنے لگا کہ اے اللہ کے بنی میں آپ کے پاس ایسی خبر لیکر آیا ہوں جو آپکے پاس نہیں۔ میں سبا سے آرہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں اسکی بادشاہی کرتے ہوئے میں نے ایک عورت کو پایا اس کے وزیر اور مشیر تین سو بار 312 شخص ہیں چھ سو عورتیں اسکی خدمت میں ہر وقت کمربستہ رہتی ہے اور وہ سب لوگ آفتاب پرست ہیں اس ملکہ کا نام بلقیس بنت شراحیل ہے ہدہد کی خبر سنتے ہی حضرت سلیمان نے تحقیقات شروع کی
    تحقیقات پوری ہونے کے بعد ہدہد کو معاف کیا کیونکہ ہدہد نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو سب سچ بتایا تھا

  • کیا واقعی پردہ دل کا ہوتا ہے؟؟

    کیا واقعی پردہ دل کا ہوتا ہے؟؟

    چھوٹے ہوتے ہوئے بزرگوں سے یہی کہانیاں سنتے آئے ہیں کہ ہمارے دور میں ہم عورتیں اور مرد بڑے بڑے ہو کر بھی اکٹھے کھیلتے ہوتے تھے، کسی کے ذہن میں بے حیائی کا نام تک نہیں آتا تھا۔ وہ اچھے وقت ہوا کرتے تھے، آنکھوں کا نہیں دل کا پردہ ہوتا تھا۔ زنا اور زیادتی کے وقعات نہ ہونے کے برابر ہوتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ مگر آج کل کی جنریشن پتا نہیں کیا کھا کے پیدا ہوئی ہے کہ سنبھالی ہی نہیں جا رہی۔ کوئی شرم و حیا نہیں رہ گئی کوئی ادب اور سلیقہ نہیں ہے۔
    یہ وہ باتیں ہیں جو آج بھی پرانے بابے بزرگ ہمیں فخر سے سناتے ہیں لیکن وہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کی سچائی کو سمجھنے کے لئے بالکل تیار نہیں۔ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ ان کے زمانے میں گھر کے سربراہ کا اتنا دبدبہ ہوا کرتا تھا کہ اس کی موجودگی میں اس کے خوف سے کوئی اونچی آواز میں بات نہیں کر سکتا تھا۔ اس کا فیصلہ حکم آخر تصور ہوتا تھا جس کے خلاف نہیں جایا جا سکتا تھا۔ اس وقت گھر گھر میں یہ ٹی وی اور ٹک ٹاک، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ اور یوٹیوب جیسے فتنے نہیں آئے تھے۔ بیٹیاں کتابوں کے اندر اپنے آشناؤں کی تصاویر نہیں چھپایا کرتی تھیں۔ کتاب کے اندر جاسوسی اور رومانی ناول نہیں رکھ کے پڑھے جاتے تھے۔ مرد و زن کا اختلاط نہیں ہوا کرتا تھا۔ گھر کے مرد بازار سے ساری شاپنگز کر کے لے آتے تھے اور وہ سارا سامان خواتین کا پسندیدہ ہوا کرتا تھا۔ خواتین بلا وجہ گھر سے باہر نکلا عیب سمجھا کرتی تھیں۔ مردوں کی غیر موجودگی میں دروازے پہ ہونے والی دستک کا جواب تک نہیں دیا جاتا تھا۔ اور سب سے بہترین عمل جو اس وقت کیا جاتا تھا وہ یہ تھا کہ بلوغت کی عمر کو پہنچتے ہیں بچوں کی شادیاں کر دی جاتی تھیں۔
    موجودہ دور اس دور سے بالکل مختلف ہے۔ بچوں کو سکولوں میں بھی یہی پڑھایا جانے لگا ہے کہ آپ مادر پدر آزاد ہیں، آپ کا استاد آپ کو ڈانٹے تو پولیس میں رپورٹ کر کے اسے گرفتار کروا دیں۔ اگر باپ اصلاح کے لئے ڈانٹ دے تو اسے بھی اندر کروا دیں۔ مرد و زن کا اختلاط روشن خیالی تصور ہونے لگا ہے۔ موبائل فون نہ خرید کر دینے پہ نوجوان اولادیں والدین کو خود کشی کی دھمکیاں دینے لگی ہیں پھر بچے بچیاں موبائلوں پہ کیا کر رہے ہیں والدین کو پوچھنے تک کا اختیار نہیں۔ اعلی تعلیم کے لئے یونیورسٹیوں میں پڑھنے کے لئے آنے والے بچے کیمپسز میں ایک دوسرے کو پروپوز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہاسٹلز میں گناہ ہوتے پائے جاتے ہیں۔ گناہ اس حد تک معاشرے میں سرائیت کر چکا ہے کہ معیوب بھی نہیں سمجھا جا رہا۔
    بات یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ مسلمان کے گھر میں پیدا ہونے والی اولادیں قرآن و حدیث کو، جو ان کے لئے اور ہم سب کے لئے مشعل راہ اور زندگی گزارنے کا طریقہ ہے، اپنی آزادی کا دشمن تصور کر کے اس سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ جب انہیں قرآن کی کوئی آیت سنائی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو پتھر کے زمانے کے لوگوں کی باتیں، ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں تو اس کے مطابق چلیں گے۔ ذرا سوچیئے! جب اللہ کے پیارے نبی ﷺ مشرکین مکہ کو قرآن سناتے تھے تو کیا وہ بھی یہی بات نہیں کہتے تھے کہ یہ قرآن تو صرف پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں؟
    اس سب سے بڑھ کر جو لوگ کہتے ہیں پردہ دل کا ہونا چاہیئے تو کیا وہ یہ بتانا پسند کریں گے کہ کیا ان کے دل ازواج مطہرات اور صحابیات ؓ سے زیادہ پاک تھے؟ پھر اللہ نے کیوں نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومنین کرام کی بیویوں کو پردہ کروایا جائے؟ کیوں صحابیات کو اونچی آواز میں قرآن پاک کی تلاوت کی جازت بھی نہیں دی گئی؟ کیوں کہا گیا کہ جب مرد اور عورت کہیں اکیلے ہوتے ہیں تو تیسرا ان کے درمیان شیطان ہوتا ہے؟ کیوں کہا کہ قیامت کے قریب آنے والے فتنوں میں سب سے خطرناک فتنہ عورتوں کا فتنہ ہے؟
    اگر پردہ صرف دل کا ہی ہے تو ایک نابینا صحابی (ابن ام مکتوم ؓ ) کے آنے پر نبی ﷺ نے وہاں بیٹھی خواتین کو پردہ کرنے کا حکم کیوں دیا؟
    راستوں پہ بیٹھنے والے صحابہ کرام ؓ کو آنکھیں نیچی رکھنے کا حکم کیوں دیا گیا۔

    اس ساری بحث کا مدعا یہ ہے کہ یا تو آپ خود کو مسلمان کہلواتے ہوئے قرآن و سنت پہ بنا کسی شد و مد کے عمل کریں یا پھر مسلمان ہونے کا دعوٰی چھوڑ کر جو دل میں آتا ہے کرتے پھریں۔

    @Being_Faani