Baaghi TV

Category: مذہب

  • معیارزندگی تحریر: تیمور خان

    معیارزندگی تحریر: تیمور خان

    معیارزندگی  کیا ہے ؟ اس کی کوئی ایک تعریف نہیں ہے جس پہ تمام لوگوں کو جمع کیا جاسکے۔ ہر جگہ ہرسماج اور ہربرادری میں اس تعریف الگ الگ ہے۔

     انسان اپنے معیار پہ زندہ رہنے کی کوشش کرے یہ کوئی بری بات بھی نہیں ہے مگر جب انسان اپنے قائم کردہ معیار کو اپنے لئے لازم اور فرض ٹھہرالیتا ہے یا پھر دوسروں کے معیار زندگی کو اپنانے میں سماجی براربری یا برتری سمجھنے لگتا ہے تو یہ چیز کبھی کبھی جان لیوا بھی ہوجاتی ہے۔

    سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھی اس مسئلہ کا شافی حل رکھتی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت سادگی کی زندگی بسر کیا کرتے تھے، اپنے احباب اور دوستوں کے ساتھ اس طرح گھل مل کر بیٹھا کرتے تھے کہ آنے والا شخص کنفیوژ ہوکر پوچھتا تھا کہ تم میں محمد کون ہے؟ کھانا پینا، پہننا اوڑھنا، اٹھنا بیٹھنا ،سونا جاگنا سارا کچھ سادگی سے بھرا تھا اور بے جا تکلف سے پاک و صاف تھا۔آپ ص کی پسند بھی ایسی نہ تھی کہ جسے عام آدمی اگر اپنانا چاہے تو نہ اپنا سکے۔

    اہل مدینہ کو گوہ یعنی سانڈا پسند تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان کھایا بھی گیا مگر آپ کو پسند نہ آیا تو آپ نے کبھی نہیں کھایا،مگر کسی کو منع بھی نہیں کیا۔

    من تشبہ بقوم فھو منھم (جو کوئی کسی قوم کی نقالی کرے وہ اسی میں سے ہے) میں ایک نحیف اشارہ یہ ہیکہ مذہبی طور پہ کوئی مسلمان کسی کی نقالی نہ کرے۔ مسلمانوں کو محسوس ہونا چاہیے کہ اس کا کلچر سارے عالم میں بہترین کلچرہے۔

    کبھی کبھار جب باہر سے کوئی امیر ملنے آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یمنی جبہ زیب تن فرماتے اور ملنے جاتے اور اس کا جواب یہ دیتے کہ انہیں ایسا نہ لگے کہ مسلمانوں کا امیر بالکل ہی کنگال ہے۔

    صحابہ کرام کوطواف کعبہ  کے پہلے تین چکر میں دلکی چال چلنے کو کہا تاکہ اہل مکہ کو یہ باور کرایا جائے کہ ایمان لانے کے بعد مسلمان لاغر نہیں ہوئے۔

    انسان اپنے لئے کوئی معیار اور اسٹنڈرڈ نہ بنائے کہ اس کے بغیر وہ جی نہیں سکتا مثلا ہفتہ میں ایک دن یا دو دن گوشت کھانا،بغیر جوتے کے باہر نہ نکلنا ،تہبند پہن کر باہر جانے کو معیوب سمجھنا،بغیر گوشت کے دعوت نہ کرنا،ادھار کی چیز پہ مہمانوں کی ضیافت کرنا،اپنے مسائل کو بلاوجہ چھپانے کی کوشش کرنا،لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کرنا کہ وہ بڑا امیر انسان ہے جبکہ قرضوں میں مبتلا ہونا۔بغیر تحفہ و تحائف کے کسی کے گھر ملنے نہ جانا۔لوگوں کو قیمتی گفٹ دینا۔شان وشوکت کی مہمان نوازی کرنا۔۔۔۔۔۔

    المھم پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ان عیوب سے بالکل پاک تھی لہذا انہیں کوئی فکر اور ٹینشن نہیں تھا۔اپنے لئے چونکے سوچنے کی ضرورت ہی نہیں تھی لہذا ہمیشہ اوروں کیلئے سوچتے تھے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پہ پھٹے کپڑے ہوتے تھے جسےسب دیکھتے تھے،فاقہ سے پیٹ پہ پتھر بندھے تھے اسے سبھوں نے دیکھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقروض تھے سب کو پتہ تھا،اپنی پیاری بیٹی کو باندی نہ دی اور نصیحت کی کہ بیٹا تسبیح پڑھ لیا کرو اس سے تمہاری تکان دور ہوجایا کرے گی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اتنی دولت نہ تھی کہ وہ کبھی زکوٰۃ ادا کرپاتے،سونے کیلئے نرم بستر بھی میسرنہ تھا پیٹھ پہ چٹائی کا نشان دیکھ کرحضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے۔

    دراصل ہماری شان شوکت ہماری ایمانداری ، امانت داری اورعدہ پورا کرنے ،قرض سے دور بھاگنے اور اچھے معاملات برتنے میں ہے جسے ہم نے یکسر نظر انداز کردیا ہے اور اس کی جگہ ہم نے مصنوعی چیزوں کو اپنی پہچان بنانا شروع کر دیا ہے ۔

    یاد رکھیں کہ پیتل پہ سونے کی پرت خواہ کتنی بھی کم کیوں نہ ہو مگر قیمتی سونا ہی ہوتا ہے پیتل نہیں ۔

    اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسر 

    آرام سے وہ ہیں جو تکلف نہیں کرتے.

    ‎@ImTaimurKhan

  • دین کی روشنی میں قل، چالیسواں اور دیگر رسومات۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    دین کی روشنی میں قل، چالیسواں اور دیگر رسومات۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    اس دنیا میں ہر ایک کے لیے زندگی اور موت کا کارخانہ چل رہا ہے۔ موت و حیات کا یہ کارخانہ بنایا ہی اسی لیے گیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزما سکیں ۔جس وقت کوئی عزیر دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو انسان کو صدمہ پہنچتا ہے، یہ صدمہ پہنچنا بھی فطری عمل ہے اس لیے فطری اظہار پر دین میں کوئی پابندی نہیں، لیکن اس کو حدود میں رہنا چاہیے۔ وہ حدود آپﷺ نے مختلف موقعوں پر واضح فرما دیے ہیں۔ نوحہ نہ کیا جائے، چیخ وپکار نہ کی جائے اور اس طرح کی آوازیں بلند نہ کی جائیں جس سے اللہ تعالیٰ کی ناشکری کا اظہار ہو۔

    اس موقعے پر اللہ تعالیٰ سے تعلق کا اظہار کرنا چاہیے، خود موت کو یاد کرنا چاہیے، اگر انسان صدمے کی کیفیت میں ہو تو خاموشی کو ترجیح دیں، اللہ کی کتاب کی طرف رجوع کریں، نیکی اور خیر کی باتیں کریں اور سنیں۔انسان کو ان چیزوں کا اہتمام کرنا چاہیے، لیکن صدمہ پہنچا ہے تو فطری طور پر کچھ وقت لگتا ہے جس کے بعد انسان سنبھلنا شروع ہو جاتا ہے، اس میں بھی آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ تین دن بہت ہیں۔ یعنی اگر آپ تین دن لوگوں کے لیے تعزیت کے لیے بیٹھ گئے ہو، اپنا کام کاج چھوڑا ہوا ہے یا اس صدمے کی کیفیت میں بسر کر رہے ہیں تو بس یہ تین دن بہت ہیں۔ اس کے بعد خود کو اس کیفیت سے نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    یہ دنیا کیوں کہ دارالعمل ہے تو آپ موت ہی کے ساتھ وابستہ ہو کر تو نہیں رہ سکتے۔ لوگ اس دنیا میں آ رہے ہیں اور بہت سے لوگ اس دنیا سے رخصت بھی ہو رہے ہیں۔ ہمارے بہت سے عزیز دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، اولاد سے بڑھ کر کیا چیز ہوتی ہے۔۔۔لیکن آپﷺ کو اپنے آغوش میں بیٹھے ہوئے بچوں کو رخصت کرنا پڑا ہے۔ اس میں نہ پیغمبروں کو استثناء حاصل ہے نہ ہی بڑے اور نیک لوگوں کو استثناء ہے۔ اس کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کر کے ہی زندگی بسر کی جا سکتی ہے۔

    ہمارے دین نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ایسے موقعوں پر صبر کیا جائے۔ صبر کی اللہ تعالیٰ نے بہت غیر معمولی جزا بیان کی ہے۔ یعنی وہ صبر ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کی خوشنودگی حاصل ہوتی ہے، صبر ہے کہ جس کے نتیجے میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ملتی ہیں، اور صبر ہی ہے جس کا صلح اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ جنت ہے۔

    جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے تعزیت کے لیے تین دن بہت ہیں، اسکے بعد آپ دنیا کے معاملات میں مصروف ہو جائیے۔ اگر آپ دنیا کے معاملات میں مصروف ہوں گے تو صدمے کی کیفیت میں بھی کمی ہو گی، آدمی کا دماغ پلٹتا ہے، خیالات میں تبدیلی آتی ہے ورنہ تو ظاہر ہے کہ اگر آپ صدمہ کی کیفیت میں بیٹھے رہیں گے تو وہ چیز زیادہ اثر انداز ہو گی۔ بعض لوگ زیادہ حساس بھی ہوتے ہیں، تو کوشش کرنی چاہیے کہ جتنی جلدی ممکن ہو اس سے نکل جانا چاہیے۔

    میت کے لیے ایصالِ ثواب تو  ہر وقت، ہر موقعہ پر کرنا جائز ہے اور اس کے لیے گھر میں ہی جو افراد جمع ہوں اور دعوت کے بغیر ہی اپنی خوشی سے کچھ پڑھ لیں اور قرآن پڑھنے کے عوض اجرت کا لین دین نہ ہو تو اس کی دین میں اجازت ہے۔ اس کے بعد یہ جو رسومات ہمارے ہاں بنا لی گئی ہیں مثال کے طور پر قل، چالیسواں، جمعرات، برسی وغیرہ یہ ہندوستان کی چیزیں ہیں ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اگر ان میں کوئی دینی چیز شامل کی جائے گی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اسے بدعت قرار دیا جائے گا۔ اور بدعت سے ہر حال میں خود کو محفوظ رکھنا چاہیے۔ 

    اللہ تعالی ہم سب کو دین اور شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین

    @iamAsadLal

    twitter.com/iamAsadLal

  • توبہ کا قانون (قسط دوم) تحریر: محمد اسعد لعل

    توبہ کا قانون (قسط دوم) تحریر: محمد اسعد لعل

    توبہ کے قانون میں ہے کہ جب آپ سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس کے فوراً بعد توبہ کر لیں، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اللہ سے اپنے گناہ کی معافی طلب کریں۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے خود پر لازم کر رکھا ہے کہ وہ اپنے بندے کے اس رجوع کو قبول کر لے گا۔
    بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ جس میں کوئی دوسرا بندہ بھی متاثر ہوتا ہے، ایسی صورتحال میں صرف زبان کی حد تک یا ارادے کی حد تک توبہ کر نا کافی نہیں ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس کی تلافی کریں اور اس شخص سے معافی مانگیں۔ اگر آپ نے اس کا کوئی حق مار لیا ہے تو اس کو ادا کرنا ہو گا۔ اسی کو قرآن مجید اصلاح کرنے سے تعبیر کرتا ہے۔
    اصلاح کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ آئندہ کے لیے آپ وہ کام نہیں کریں گے اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو آپ نے غلطی کی ہے اس کی تلافی کریں گے۔ مثال کے طور پر کسی شخص نے کسی خاتون کے مکان پر قبضہ کر لیا ہے، اب وہ شخص سوچتا ہے کہ اس نے یہ غلط کیا ہے اور وہ اپنے اس گناہ پر توبہ کر لیتا ہے لیکن مکان نہیں چھوڑتا۔۔۔۔ تو یہ توبہ نہیں ہوئی۔اُسے چاہیے کہ وہ توبہ کے ساتھ ساتھ مکان بھی خاتون کے حوالے کر کے اپنے گناہ کی تلافی کرے۔
    بعض ناقابلِ تلافی گناہ ہوتے ہیں جس میں سنگین صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ ناقابلِ تلافی گناہ کی ایک صورت یہ ہے کہ کسی کو قتل کر دیا، وہ آدمی تو اب دنیا میں موجود نہیں رہا۔ اب اس سے جو کچھ معاملہ ہونا ہے وہ آخرت میں جا کر ہو گا۔ اس صورتحال میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ آخرت میں معاف کرتا بھی ہے یا نہیں۔۔۔ اُس وقت تو آپ کے پاس لینے اور دینے کے لیے بھی کچھ نہیں ہو گا، تو اس کا ازالہ کیسے ہو گا؟
    اس چیز کو حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ پھر اُس کے کہنے پر آپ کو اپنی نیکیاں اس کے حصہ میں ڈالنی ہوں گی اور اس کی بُرائیاں اپنے کھاتے ہیں لینی پڑیں گی۔
    اسی طریقے سے اگر آپ دنیا میں کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کرتے ہیں، کوئی ظلم کرتے ہیں اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب ازالے کی کوئی صورت موجود نہیں رہی ہے تو پھر آپ اس کے لیے استغفار کریں، اس کے اہل و عیال، اس کے رشتے دار اگر دنیا میں موجود ہیں تو ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کریں۔ یعنی ازالے کی کوئی نہ کوئی صورت آپ کو اختیار کرنی ہے۔ اگر اس کا بھی موقع نہ ملا تو یہ طے ہے کہ آخرت میں ہر حال میں اس شخص کے ساتھ آپ کا معاملہ پڑے گا۔
    گناہوں کی دونوں صورتوں میں، ایک وہ جو خدا کی بارگاہ میں ہم سے سرزد ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو بندوں کے حقوق سے متعلق ہیں، تو خدا کی بارگاہ میں ہونے والے گناہوں سے بھی ہمیں ڈرنا چاہیے اس لیے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو پھر بھی غفور و رحیم ہے پر بندوں کے معاملے میں آپ کیا توقع کر سکتے ہیں؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کا رویہ وہاں کیا ہو گا، اس لیے اس معاملے میں اور بھی زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔
    کوئی شخص اگر بددیانتی کرتا ہے، خیانت کرتا ہے، کم تولتا ہے یا ملاوٹ کرتا ہے تو وہ اصل میں حقوق العباد کے متعلق گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہ خدا کا بھی مجرم ہے اور اس بندے کا بھی مجرم ہے۔ ایک وہ خیانتیں ہیں جو فرد کی حیثیت سے ہوتی ہیں اور ایک وہ ہیں جو ریاست کی سطح پر ہوتی ہیں تو اس صورتحال میں خیانت کرنے والا پوری قوم کا مجرم بن جاتا ہے۔ اگر کسی نے قومی خزانے میں خیانت کی تو وہ پوری قوم کا جوابدہ ہو گا، پوری کی پوری قوم قیامت کے دن اس سے حساب لینے کا حق رکھتی ہے۔ اس وجہ سے حقوق العباد کا معاملہ بہت سخت ہے۔ اس میں توبہ بھی کرنی ہو گی، گناہ کو چھوڑنا بھی ہو گا اور اس کی تلافی بھی کرنی ہو گی۔
    آپﷺ نے صحابہ کرام کو ایک روایت سنائی تھی، جس میں ایک شخص نے سو قتل کر دیے تھے۔ ظاہر ہے وہ جو سو مقتولین تھے ان سے اُس نے معافی نہیں مانگی تھی لیکن  اس نے اللہ سے سچے دل سے معافی مانگی تواللہ نے اسے معاف کر دیا تھا۔
    اس روایت میں بھی خدا کی معافی کی بات کی گئی ہے، یہ یاد رہے کہ بندے کی طرف سے خدا کسی صورت معاف نہیں کرے گا۔ قتل کا جرم ایک ایسا جرم ہے جس میں انسان خدا کا بھی مجرم ٹھہرتا ہے، معاشرے کا بھی اور مقتول کا بھی مجرم ہوتا ہے۔ یہ معمولی جرم نہیں ہے اس لیے اس پر ابدی جہنم کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس کو ایک آسان سی چیز سمجھ لیا گیا ہے۔ہمارے معاشرے میں قتل اتنا عام ہو گیا ہے کہ نہ مرنے والے کو پتا ہے کہ کیوں مر رہا ہے اور نہ مارنے والے کو پتا ہے کہ وہ کیوں مار رہا ہے۔
    یہ بالکل وہی صورتحال ہے جو ایک حدیث میں بیان کی گئی ہے کہ آخری زمانے میں ایک فتنہ پیدا ہو جائے گا  تو صحابہ کرام نے پوچھا وہ کیا ہے تو آپﷺ نے فرمایا کہ اس طرح کا قتل جس میں نہ مارنے والے کو پتا ہو گا اور نہ مرنے والے کو پتا ہو گا۔
    ہمیں اب معلوم ہے کہ اگر ہم سے کوئی گناہ ہو جاتا ہے تو ہمیں  توبہ کرنی چاہیے، اس بارے میں ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا توبہ کرنے کے لیے بھی کوئی مہلت دی گئی ہے؟
    اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہیں اور اللہ نے اپنے بندوں کو موت تک کی مہلت دی ہے کہ آپ کسی بھی وقت اپنے گناہوں کی بخشش کی دعا کر سکتے ہیں، لیکن اگر فوراً آپ نے اپنے گناہ کی توبہ کر لی ہے، اپنی اصلاح کا فیصلہ کر لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر یہ ذمہ داری لی ہے کہ وہ آپ کی توبہ قبول کر لے گا، اور اگر آپ نے توبہ کرنے میں تاخیر کی ہے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔اُسی آیات میں آگے فرمایا ہے کہ اگر موت تک موخر کر دیا ہے تو پھر اللہ توبہ قبول نہیں کریں گے۔ یعنی سقراطِ موت طاری ہو گئی ہے، آپ کو معلوم ہو گیا ہے کہ اب دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں، اس وقت اگر توبہ توبہ کا ورد شروع کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ میں یہ توبہ قبول نہیں کروں گا۔
    اس کا مطلب یہ ہے کہ جو درمیان کا عرصہ ہے، یعنی  فوراً توبہ بھی نہیں کی اور موت تک بھی موخر نہیں کیا، لیکن درمیان میں کسی وقت اللہ نے توفیق دی اور رجوع کر لیا تو اس میں خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔ یہ خاموشی خوف بھی پیدا کرتی ہے اور یہ خاموشی امید بھی پیدا کرتی ہے۔
    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری توبہ قبول فرمائیں اور تمام صغیرہ و کبیرہ گناہ معاف کریں۔آمین
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • امت محمدی ﷺپانچ نمازیں تحریر:محمد آصف شفیق

    امت محمدی ﷺپانچ نمازیں تحریر:محمد آصف شفیق

    امت محمدی ﷺپانچ نمازیں  اجرثواب پچاس نمازوں کا
    نبی کریم ﷺ کو اللہ رب العالمین کی طرف سے پانچ نمازوں کا تحفہ  ملا  ، جو ہیں تو پانچ مگرثواب  میں  پچاس کے برابر ہیں اسی حوالے سے  صحیح احادیث  کی روشنی میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں  
    یحیی بن بکیر، لیث، یونس، ابن شہاب، انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شب میرے گھر کی چھت پھٹ گئی اور میں مکہ میں تھا، پھر جبرائیل علیہ السلام  اترے اور انہوں نے میرے سینہ کو چاک کیا، پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا، پھر ایک طشت سونے کا حکمت وایمان سے بھرا ہوا لائے اور اسے میرے سینہ میں ڈال دیا، پھر سینہ کو بند کر دیا، اس کے بعد میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے آسمان پر چڑھا لے گئے، جب میں دنیا کے آسمان پر پہنچا، تو جبرائیل علیہ السلام  نے آسمان کے داروغہ سے کہا کہ (دروازہ) کھول دے، اس نے کہا کون ہے؟ وہ بولے جبرائیل علیہ السلام  ہے، پھر اس نے کہا، کیا تمہارے ساتھ کوئی (اور بھی) ہے، جبرائیل علیہ السلام  نے کہا ہاں! میرے ہمراہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس نے کہا وہ بلائے گئے تھے؟ جبرائیل علیہ السلام  علیہ السلام نے کہا ہاں! جب دروازہ کھول دیا گیا، تو ہم آسمان دنیا کے اوپر چڑھے، یکایک ایک ایسے شخص پر نظر پڑی، جو بیٹھا ہوا تھا، اس کی داہنی جانب کچھ لوگ تھے، اور اس کی بائیں جانب (بھی) کچھ لوگ تھے، جب وہ اپنے داہنی جانب دیکھتے تو ہنس دیتے اور جب بائیں جانب دیکھتے تو رو دیتے، انہوں نے (مجھے دیکھ کر) کہا کہ مرحبا بالنبی الصالح والابن الصالح میں نے جبرائیل علیہ السلام  سے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے یہ آدم ہیں، اور یہ لوگ ان کے دائیں اور بائیں ان کی اولاد کی روحیں ہیں، دائیں جانب جنت والے ہیں اور بائیں جانب دوزخ والے، اسی لئے جب وہ اپنی داہنی جانب نظر کرتے ہیں، تو ہنس دیتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں، تو رونے لگتے ہیں، یہاں تک کہ مجھے دوسرے آسمان تک لے گئے، اور اس کے داروغہ سے کہا کہ (دروازے) کھول دے، تو ان سے داروغہ نے اسی قسم کی گفتگو کی، جیسے پہلے نے کی تھی، پھر (دروازہ) کھول دیا گیا، انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، پھر ابوذر نے ذکر کیا کہ آپﷺ نے آسمانوں میں آدم علیہ السلام، ادریس علیہ السلام، موسٰی علیہ السلام عیسیٰ علیہ السلام اور ابراہیم (علیہ السلام) سے ملاقات کی، اور یہ نہیں بیان کیا کہ ان کے مدارج کس طرح ہیں، سوا اس کے کہ انہوں نے ذکر کیا ہے کہ آدم علیہ السلام کو آسمان دنیا میں، اور ابراہیم علیہ السلام  سے چھٹے آسمان میں پایا، انس کہتے ہیں پھر جب جبرائیل علیہ السلام  نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر حضرت ادریس علیہ السلام  کے پاس سے گذرے تو انہوں نے کہامَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ (آپ فرماتے ہیں) میں نے جبرائیل علیہ السلام  سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام  نے کہا یہ ادریس علیہ السلام  ہیں، پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا، تو انہوں نے مجھے دیکھ کر کہا مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ میں نے (جبریل سے) پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام  نے کہا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام  ہیں، پھر میں عیسیٰ علیہ السلام  کے پاس سے گذرا تو انہوں نے کہا مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ جبرائیل علیہ السلام  نے کہا یہ عیسیٰ علیہ السلام  ہیں، پھر میں ابراہیم علیہ السلام  کے پاس سے گذرا تو انہوں نے کہا مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ جبرائیل علیہ السلام  نے کہا، یہ ابراہیم علیہ السلام  ہیں، ابن شہاب کہتے ہیں مجھے ابن حزم نے خبر دی کہ ابن عباس اور ابوحبہ انصاری کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے چڑھا لے گئے، یہاں تک کہ میں ایک ایسے بلند مقام میں پہنچا، جہاں (فرشتوں کے) قلموں کی کشش کی آواز میں نے سنی، ابن حزم اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، جب میں یہ فریضہ لے کر لوٹا، تو موسیٰ علیہ السلام پر گذرا، موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اللہ نے آپﷺ کے لئے آپ کی امت پر کیا فرض کیا؟ میں نے کہا کہ پچاس نمازیں فرض کی ہیں، انہوں نے (یہ سن کر) کہا کہ اپنے اللہ کے پاس لوٹ جائیے، اس لئے کہ آپﷺ کی امت (اس قدر عبادت کی) طاقت نہیں رکھتی، تب میں لوٹ گیا، تو اللہ نے اس کا ایک حصہ معاف کردیا، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس لوٹ کر آیا، اور کہا کہ اللہ نے اس کا ایک حصہ معاف کردیا ہے ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر وہی کہا کہ اپنے پروردگار سے رجوع کیجئے، کیونکہ آپ ﷺکی امت (اس کی بھی) طاقت نہیں رکھتی، پھر میں نے رجوع کیا تو اللہ نے ایک حصہ اس کا (اور) معاف کر دیا، پھر میں ان کے پاس لوٹ کر آیا اور بیان کیا تو وہ بولے کہ آپﷺ اپنے پروردگار کے پاس لوٹ جائیں، کیونکہ آپﷺ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی، چنانچہ پھر میں نے اللہ سے رجوع کیا تو اللہ نے فرمایا کہ اچھا (اب) یہ پانچ (رکھی) جاتی ہیں اور یہ (در حقیقت با اعتبار ثواب کے) پچاس ہیں، میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی، پھر میں موسیٰ کے پاس لوٹ کر آیا، انہوں نے کہا پھر اپنے پرودگار سے رجوع کیجئے، میں نے کہا (اب) مجھے اپنے پروردگار سے باربار کہتے ہوئے شرم آتی ہے، پھر مجھے روانہ کیا گیا، یہاں تک کہ میں سدرۃ المنتہی پہنچایا گیا اور اس پر بہت سے رنگ چھا رہے تھے، میں نہ سمجھا کہ یہ کیا ہیں؟ پھر میں جنت میں داخل کیا گیا (تو کیا دیکھتا ہوں) کہ اس میں موتی کی لڑیاں ہیں اور ان کی مٹی مشک ہے۔
    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 346           

    @mmasief

  • 7ستمبر یوم الفتح، یوم تحفظ ختم نبوت  تحریر : احسان اللہ خان

    7ستمبر یوم الفتح، یوم تحفظ ختم نبوت تحریر : احسان اللہ خان

    جب قومی اسمبلی میں فیصلہ ہوا کہ قادیانیت کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنا موقف اور دلائل دینے قومی اسمبلی میں آئیں تو۔۔۔

    مرزا ناصر قادیانی سفید شلوار کرتے میں ملبوس طرے دار پگڑی باندھ کر آیا۔متشرع سفید داڑهی۔قرآن کی آیتیں بهی پڑھ رہے تهے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا اسم مبارک زبان پر لاتے تو پورے ادب کے ساتھ درودشریف بهی پڑہتے۔ مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایسے میں ارکان اسمبلی کہ ذہنوں کو تبدیل کرنا کوئی آسان کام نہیں تها۔ماہ نامہ "الحق اکوڑہ خٹک” کے شمارہ جنوری 1975 کے صفحہ نمبر 41 پر بیان فرماتے ہیں۔۔۔ 

    "یہ مسلہ بہت بڑا اور مشکل تها” 

    اللہ کی شان کہ پورے ایوان کی طرف سے مفتی محمود صاحب کو ایوان کی ترجمانی کا شرف ملا اور مفتی صاحب نے راتوں کو جاگ جاگ کر مرزا غلام قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کیا۔حوالے نوٹ کیئے۔سوالات ترتیب دیئے۔ اسی کا نتیجہ تها کہ مرزا طاہرقادیانی کے طویل بیان کے بعد جرح کا جب آغاز ہوا تو اسی "الحق رسالے” میں مفتی محمود صاحب فرماتے ہیں کہ 

    "ہمارا کام پہلے ہی دن بن گیا”

    اب سوالات مفتی صاحب کی طرف سے اور جوابات مرزا طاہر قادیانی کی طرف سے آپ کی خدمت میں۔۔۔

    سوال۔مرزا غلام احمد کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟

    جواب۔وہ امتی نبی تهے۔امتی نبی کا معنی یہ ہے کہ امت محمدیہ کا فرد جو آپ کے کامل اتباع کی وجہ سے نبوت کا مقام حاصل کر لے۔

    سوال۔اس پر وحی آتی تهی؟

    جواب۔آتی تهی۔

    سوال۔ (اس میں) خطا کا کوئی احتمال؟

    جواب۔بالکل نہیں۔

    سوال۔مرزا قادیانی نے لکها ہے جو شخص مجھ پر ایمان نہیں لاتا” خواہ اس کو میرا نام نہ پہنچا ہو (وہ) کافر ہے۔پکا کافر۔دائرہ اسلام سے خارج ہے۔اس عبارت سے تو ستر کروڑ مسلمان سب کافر ہیں؟

    جواب ۔کافر تو ہیں۔لیکن چهوٹے کافر ہیں”جیسا کہ امام بخاری نے اپنے صحیح میں "کفردون کفر” کی روایت درج کی ہے۔

    سوال۔آگے مرزا نے لکها ہے۔پکا کافر؟

    جواب۔اس کا مطلب ہے اپنے کفر میں پکے ہیں۔

    سوال۔آگے لکها ہے دائرہ اسلام سے خارج ہے۔حالانکہ چهوٹا کفر ملت سے خارج ہونے کا سبب نہیں بنتا ہے؟

    جواب۔دراصل دائرہ اسلام کے کئیں کٹیگیریاں ہیں۔اگر بعض سے نکلا ہے تو بعض سے نہیں نکلا ہے۔

    سوال ایک جگہ اس نے لکها ہے کہ جہنمی بهی ہیں؟

    (یہاں مفتی صاحب فرماتے ہیں جب قوی اسمبلی کے ممبران نے جب یہ سنا تو سب کے کان کهڑے ہوگئے کہ اچها ہم جہنمی ہیں اس سے ممبروں کو دهچکا لگا)

    اسی موقع پر دوسرا سوال کیا کہ مرزا قادیانی سے پہلے کوئی نبی آیا ہے جو امتی نبی ہو؟ کیا صدیق اکبر ؓ یا حضرت عمر فاروق ؓ امتی نبی تهے؟

    جواب۔ نہیں تھے۔

    اس جواب پر مفتی صاحب نے کہا پهرتو مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد آپ کا ہمارا عقیدہ ایک ہوگیا۔بس فرق یہ ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد نبوت ختم سمجهتے ہیں۔تم مرزا غلام قادیانی کے بعد نبوت ختم سمجهتے ہو۔تو گویا تمہارا خاتم النبیین مرزا غلام قادیانی ہے۔اور ہمارے خاتم النبیین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

    جواب۔وہ فنا فی الرسول تهے۔یہ ان کا اپنا کمال تها۔وہ عین محمد ہوگئے تهے (معاذ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی اس سے زیادہ توہین کیا ہوسکتی تهی )

    سوال۔مرزا غلام قادیانی نے اپنے کتابوں کے بارے میں لکها ہے۔اسے ہر مسلم محبت و مودت کی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے۔اور ان کے معارف سے نفع اٹهاتا ہے۔ مجهے قبول کرتا ہے۔اور(میرے) دعوے کی تصدیق کرتا ہے۔مگر (ذزیتہ البغایا ) بدکار عورتوں کی اولاد وہ لوگ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا رکهی ہے۔وہ مجهے قبول نہیں کرتے۔؟

    جواب۔بغایا کہ معنی سرکشوں کے ہیں۔

    سوال۔بغایا کا لفظ قرآن پاک میں آیا ہے” و ما کانت امک بغیا” سورہ مریم ) ترجمہ ہے تیری ماں بدکارہ نہ تهی”

    جواب۔قرآن میں بغیا ہے۔بغایا نہیں۔

    اس جواب پر مفتی صاحب نے فرمایا کہ صرف مفرد اور جمع کا فرق ہے۔نیز جامع ترمذی شریف میں اس مفہوم میں لفظ بغایا بهی مذکور ہے یعنی "البغایا للاتی ینکحن انفسهن بغیر بینه” )پھر جوش سےکہا) میں تمہیں چیلنج کرتا ہوں کہ تم اس لفظ بغیه کا استعمال اس معنی (بدکارہ) کے علاوہ کسی دوسرے معنی میں ہر گز نہیں کر کے دکها سکتے۔!!!

    (اور مرزا طاہر لاجواب ہوا یہاں )

    13 دن کے سوال جواب کے بعد جب فیصلہ کی گهڑی آئی تو 22 اگست1974 کو اپوزیشن کی طرف سے 6 افراد پرمشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی۔جن میں مفتی محمود صاحب، مولانا شاہ احمدنورانی صاحب، پروفیسر غفور احمد صاحب، چودہری ظہور الہی صاحب، مسٹر غلام فاروق صاحب”سردار مولا بخش سومرو صاحب اور حکومت کی طرف سے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب تهے۔ان کے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ یہ آئینی و قانون طور پر اس کا حل نکالیں۔تاکہ آئین پاکستان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کے کفر کو درج کردیا جائے۔لیکن اس موقع پر ایک اور مناظرہ منتظر تها۔۔۔

    کفرِ قادیانیت و لاہوری گروپ پر قومی اسمبلی میں جرح تیرہ روز تک جاری رہی۔گیارہ دن ربوہ گروپ پر اور دو دن لاہوری گروپ پر۔ہرروز آٹھ گھنٹے جرح ہوئی۔اس طویل جرح و تنقید نے قادیانیت کے بھیانک چہرے کو بےنقاب کر کے رکھ دیا۔ اس کے بعد ایک اور مناظرہ ذولفقار علی بھٹو کی حکومت سے شروع ہوا کہ آئین پاکستان میں اس مقدمہ کا "حاصل مغز "کیسے لکھا جائے۔؟

    مسلسل بحث مباحثہ کے بعد۔۔۔

    22 اگست سے 5 ستمبر 1974 کی شام تک اس کمیٹی کے بہت سے اجلاس ہوئے۔مگر متفقہ حل کی صورت گری ممکن نہ ہوسکی۔سب سے زیادہ جهگڑا دفعہ 106 میں ترمیم کے مسلے پر ہوا۔حکومت چاہتی تھی اس میں ترمیم نہ ہو۔اس دفعہ 106 کے تحت صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی تهی۔ ایک بلوچستان میں۔ایک سرحد میں۔ایک دو سندھ میں اور پنجاب میں تین سیٹیں اور کچھ 6 اقلیتوں کے نام بهی لکهے ہیں۔عیسائی۔ہندو پارسی۔بدھ اور شیڈول کاسٹ یعنی اچهوت۔

    مفتی محمود صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان یہ چاہتے تهے کہ ان 6 کی قطار میں قادیانیوں کو بهی شامل کیا جائے۔تاکہ کوئی "شبہ” باقی نہ رہے۔

    اس کے لیے بهٹو حکومت تیار نہ تهی۔وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا اس بات کو رہنے دو۔

    مفتی محمود صاحب نے کہا جب اور اقلیتوں اور فرقوں کے نام فہرست میں شامل ہیں تو ان کا نام بهی لکھ دیں۔

    پیرزادہ نے جواب دیا کہ ان اقلیتوں کا خود کا مطالبہ تها کہ ہمارا نام لکھا جائے۔ جب کہ مرزائیوں کی یہ ڈیمانڈ نہیں ہے۔

    مفتی صاحب نے کہا کہ یہ تو تمہاری تنگ نظری اور ہماری فراخ دلی کا ثبوت ہے کہ ہم ان مرزائیوں کو بغیر ان کی ڈیمانڈ کے انہیں دے رہے ہیں (کمال کا جواب )

    اس بحث مباحثہ کا 5 ستمبر کی شام تک کمیٹی کوئی فیصلہ ہی نہ کرسکی۔چنانچہ 6 ستمبر کو وزیراعظم بهٹو نے مفتی محمود سمیت پوری کمیٹی کے ارکان کو پرائم منسٹر ہاوس بلایا۔لیکن یہاں بهی بحث و مباحثہ کا نتیجہ صفر نکلا۔حکومت کی کوشش تهی کہ دفعہ 106 میں ترمیم کا مسلہ رہنے دیا جائے۔

    جب کہ مفتی محمود صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان سمجهتے تهے کہ اس کے بغیر حل ادهورا رہے گا۔

    بڑے بحث و مباحثہ کے بعد بهٹو صاحب نے کہا کہ میں سوچوں گا۔

    عصر کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے مفتی صاحب اور دیگر کمیٹی ارکان کو اسپیکر کے کمرے میں بلایا۔ مفتی محمود صاحب اور کمیٹی نے وہاں بهی اپنے اسی موقف کو دهرایا کہ دفعہ 106 میں دیگر اقلیتوں کے ساتھ مرزائیوں کا نام لکها اور اس کی تصریح کی جائے۔

    اور بریکٹ میں قادیانی اور لاہوری گروپ لکها جائے۔

    پیرزادہ صاحب نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو مرزائی نہیں کہتے، احمدی کہتے ہیں۔

    مفتی محمود صاحب نے کہا کہ احمدی تو ہم ہیں۔ہم ان کو احمدی تسلیم نہیں کرتے۔پهر کہا کہ چلو مرزا غلام احمد کے پیرو کار لکھ دو۔

    وزیرقانون نے نکتہ اٹهایا کہ آئین میں کسی شخص کا نام نہیں ہوتا (حالانکہ محمد علی جناح کا نام آئین میں موجود ہے ) اور پهر سوچ کر بولے کہ مفتی صاحب مرزا کا نام ڈال کر کیوں آئین کو پلید کرتے ہو؟۔وزیر قانون کا خیال تها شاید مفتی محمود صاحب اس حیلے سے ٹل جائیں گے۔ (لیکن مفتی تو پهر مفتی صاحب تهے )

    مفتی صاحب نے جواب دیا کہ شیطان۔ابلیس۔خنزیر اور فرعون کے نام تو قرآن پاک میں موجود ہیں۔کیا ان ناموں سے نعوذ باللہ قرآن پاک کی صداقت و تقدس پر کوئی اثر پڑا ہے۔؟ 

    اس موقع پر وزیر قانون پیرزادہ صاحب لاجواب ہو کر کہنے لگے۔

    چلو ایسا لکھ دو جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں۔

    مفتی صاحب نے کہا بریکٹ بند ثانوی درجہ کی حیثیت رکهتا ہے۔صرف وضاحت کے لیے ہوتا ہے۔لہذا یوں لکھ دو قادیانی گروپ۔لاہوری گروپ جو اپنے کو احمدی کہلاتے ہیں۔اور پهر الحمدللہ اس پر فیصلہ ہوگیا۔

    تاریخی فیصلہ۔۔۔

    7 ستمبر 1974 ہمارے ملک پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا وہ یادگار دن تها جب 1953 اور 74 کے شہیدانِ ختم نبوت کا خون رنگ لایا۔اور ہماری قومی اسمبلی نے ملی امنگوں کی ترجمانی کی اور عقیدہ ختم نبوت کو آئینی تحفظ دے کر قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا۔

    دستور کی دفعہ 260 میں اس تاریخی شق کا اضافہ یوں ہوا ہے۔

    "جو شخص خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ختم نبوت پر مکمل اور غیرمشروط ایمان نہ رکهتا ہو۔اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کسی بهی معنی و مطلب یا کسی بهی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرنے والے کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو۔وہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں۔

    اور دفعہ 106 کی نئی شکل کچھ یوں بنی۔۔۔۔۔

    بلوچستان پنجاب سرحد اور سندھ کے صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں میں ایسے افراد کے لیے مخصوص نشستیں ہوں گی جو عیسائی۔ہندو سکھ۔بدھ اور پارسی فرقوں اور قادیانیوں گروہ یا لاہوری افراد( جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں ) یا شیڈول کاسٹس سے تعلق رکهتے ہیں۔ (ان کی) بلوچستان میں ایک۔سرحد میں ایک۔پنجاب میں تین۔اور سندھ میں دو سیٹیں ہوں گی، یہ بات اسمبلی کے ریکارڈ پر ہے۔کہ اس ترمیم کے حق میں 130 ووٹ آئے اور مخالفت میں ایک بهی ووٹ نہیں آیا ۔( آجاتا اگر غامدی صاحب اس وقت موجود ہوتے ) اس موقع پر اس مقدمہ کے قائد مفتی محمود رحمہ اللہ نے فرمایا۔۔۔۔

    اس فیصلے پر پوری قوم مبارک باد کی مستحق ہے اس پر نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام میں اطمینان کا اظہار کیا جائے گا۔میرے خیال میں مرزائیوں کو بهی اس فیصلہ کو خوش دلی سے قبول کرنا چاہیئے۔کیونکہ اب انہیں غیر مسلم کے جائز حقوق ملیں گے۔

    Twitter | @IhsanMarwat_786

  • گلگت بلتستان میں بدھ مت کی تاریخ۔  تحریر زولفقار علی۔

    گلگت بلتستان میں بدھ مت کی تاریخ۔ تحریر زولفقار علی۔

    بدھ مت نے ہندو مذہب سے جنم لیا اور ہندوستان نے دنیا کو یہ مذہب دیا۔ سال 563 قبل مسیح میں سدھودنا سے پیدا ہونے والا بیٹا۔ اس کا نام سدھارتھا تھا اور بعد میں اسے گوتم بدھ کہا جانے لگا۔ اسوکا جس نے برصغیر پر C 268 سے 232 قبل مسیح تک حکومت کی بدھ مت قبول کیا اور ایک پرجوش بدھسٹ بن گیا۔ اس کی تبدیلی کے بعد اس نے بدھ مت کو سرکاری مذہب کے طور پر اپنا لیا۔ اس نے پڑوسی ممالک میں مشنری بھیجے اور یہ اشوک (269-232 بی سی) کے زمانے میں تھا جب خانقاہوں اور ستوپوں جیسی عمارتیں کھڑی کی گئیں اور پتھروں پر بدھ کی تصاویر بھی بنائی گئیں۔ اشوک کے زمانے میں جس نے گلگت اور کشمیر کے درمیان راستہ کھولا اور گلگت بدھ مت اور بدھ بھکشوؤں کا مرکز بن گیا۔.یہ شاہراہ ریشم تھی جو بدھ مت کو ہندوستان سے چین لے گئی۔ بدھ مت پہلی صدی عیسوی میں چین پہنچا۔ شہنشاہ منگ تی کے زمانے میں مختلف ایلچی بھارت بھیجے گئے تھے تاکہ بدھ مت سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔ اس وقت کے دوران حجاج چین سے اپنے اصل ماخذ ، صحیفوں اور مقدس مقامات کی تلاش میں ہندوستان جانے لگے اور شاہراہ ریشم کے ذریعے مغرب کی طرف روانہ ہوئے۔ انہوں نے قراقرم کو عبور کیا اور پامیر گندھارا سے گزرتا ہے کیونکہ یہ بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے دوسری مقدس سرزمین تھی۔گندھارا بدھ مت سیکھنے کی جگہ بن گیا۔ گندھارا اور کشمیر سے بدھ مت گلگت اور سکردو میں داخل ہوا۔ بدھ مت تقریبا 200 C اور 100AD یا C150BC کے درمیان گلگت آیا۔ جان بڈلوفا کے مطابق بدھ مت کے نروان کے بعد تقریبا 150bc قبل مسیح یا تین سو سال بعد اس خطے میں آیا۔ کچھ مشہور چینی زائرین/راہبوں کے بارے میں جانا جاتا ہے کہ انہوں نے گلگت کے ذریعے اڈیان (سوات) کا دورہ کیا ہے۔
    یہ شاہراہ ریشم تھی جو بدھ مت کو ہندوستان سے چین لے گئی۔ بدھ مت پہلی صدی عیسوی میں چین پہنچا۔ شہنشاہ منگ تی کے زمانے میں مختلف ایلچی بھارت بھیجے گئے تھے تاکہ بدھ مت سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔ اس وقت کے دوران زائرین نے اپنے اصل ماخذ ، صحیفوں اور مقدس مقامات کی تلاش میں چین سے ہندوستان کا سفر شروع کیا اور شاہراہ ریشم کے ذریعے مغرب کی طرف روانہ ہوئے۔فا ہین نے اپنا سفر 400 عیسوی کو شروع کیا اور گلگت کے راستے ٹولی (چلاس کی وادی دریل) سے اڈیان (سوات) میں داخل ہوا۔ اس نے گلگت اور آس پاس کے علاقوں میں بدھ مت کو پھلتا پھولتا پایا۔ سانگ یون تاشکورگن سے مسگر گاؤں میں داخل ہوا (ہنزہ) اڈیان (سوات) اور گندھارا گیا۔ ایک اور چینی مسافر اور راہب چی مونگ نے پامیر پار کیا گلگت کا سفر کیا اور برزیل پاس سے کشمیر میں داخل ہوا۔ ایک اور چینی راہب فو ینگ نے پامیر سے یہی راستہ اختیار کیا۔ آٹھویں صدی کے آخر میں حاجی ایلچی وو کانگ نے یاسین اور گلگت کے راستے پر چل کر انڈس اور اڈان تک رسائی حاصل کی۔ گلگت روٹ برصغیر اور چین کے درمیان ایک اہم رابطہ تھا۔ منٹاکا ، کلک ، قراقرم ، درکوٹ ، بروگھیل اور پامیر پاس برصغیر کے داخلی راستوں پر تھے۔ چٹان کندہ کاری اور نقش و نگار شاہراہ قراقرم کے ساتھ شتیال (کوہستان ، کے پی کے) سے چلاس (گلگت بلتستان) تک پھر گلگت اور ہنزہ ندیوں کے سنگم پر مرکوز ہیں۔ کچھ نقش و نگار جدید زمانے تک پہلی صدی قبل مسیح سے تعلق رکھتے ہیں۔
    جاری ہے

  • انسان کا  اللہ سے رشتہ تحریر : اسامہ خان

    انسان کا  اللہ سے رشتہ تحریر : اسامہ خان

    دنیا میں آنے سے پہلے انسان جنت میں اپنی مرضی کی زندگی گزارتا تھا اس کو نہ تو وہاں کوئی کمانے کی ٹینشن ہوتی تھی اور نہ ہی کسی اور مسئلے کی۔ لیکن انسان نے اللہ کا حکم نہ مانا اور وہ کام کر بیٹھا جو اللہ نے روکا تھا اور بے شک انسان خطا کا پتلا۔ اللہ تعالی نے اسی بات سے ناراض ہو کر انسان کو دنیا پر بھیج دیا کہ جاؤ کماؤ اور کھاؤ انسان دنیا پر آیا محنت مزدوری شروع کی تاکہ کھا سکے تاکہ اپنے جسم کو ڈھانپ سکے۔ تاکہ اپنی زندگی کو آسان بنا سکے تاکہ اللہ کی بتائی ہوئی عبادات کو پورا کر سکے اور اللہ کے حکم کو پورا کر سکے۔ بے شک اللہ تعالیٰ انسان کو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے لیکن کبھی کبھی ماں بھی ناراض ہو جاتی ہے کہ میری اولاد میری بات نہیں مانتی اس لیے کہتے ہیں اللہ تعالی سے معافی مانگتے رہنا چاہیے اور اچھے کی دعا کرتے رہنا چاہیے بے شک اللہ تعالی معاف کرنے والا ہے۔ اللہ تعالی کو انسان سے اتنی محبت تھی کہ جب اس نے دیکھا کہ میرے بندے بھٹک رہے ہیں تو اللہ تعالی نے نبیوں کا سلسلہ شروع کر دیا اللہ تعالی نے ہر دور میں نبی بھیجا تاکہ اپنی مخلوق کو اپنے اصل خالق حقیقی کے بارے میں آگاہ کر سکیں اور ساتھ ساتھ اللہ تعالی جب ان سے ناراض ہوا تو ان پر عذاب نازل کیا لیکن جب حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا پر آئے تو رحمت کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب نبی ہونے کا دعوی کیا تو اپنے یہ رشتے دار مخالف ہوگئے لیکن حضور پاک نے سچ کا راستہ نہ چھوڑا تکلیفیں برداشت کی لیکن اپنی امت کے لئے ہمیشہ دعا مانگتے رہے اللہ تعالی کو بھی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم بہت پیارے ہیں جس کی وجہ سے وہ ان کی بات نہیں ٹالتے۔ آج ہم مسلمانوں پر اگر عذاب نازل نہیں ہوتا تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے ہے ہمیں ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہنا چاہیے اور اللہ سے معافی مانگتے رہنا چاہیے اور بے شک اللہ نے فرمایا ہے کہ تمہارے رزق میرے ذمہ ہے اس بات پر یقین کرتے ہوئے ہمیشہ حلال رزق کی کوشش کرنی چاہیے اور اللہ سے برے کاموں کی پناہ مانگنی چاہیے بے شک وہ رحیم و کریم ہے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی جنگیں لڑیں آپ وہ  پہلے نبی تھے جس سے حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی پوچھ کر گھر کے اندر داخل ہوتے تھے اللہ تعالی نے حضور صل وسلم کو بہت سے معجزے عطا کیے ان میں سے ایک معجزہ چاند کو دو ٹکڑوں میں کرنا تھا۔ حضور پاک صلی اللہ وسلم جیسا صادق اور امین انسان آج تک پوری دنیا میں نہیں آیا ہوگا۔ ہم مسلمانوں کو چاہیئے حضور صل وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلے تاکہ اللہ تعالی کی رضا حاصل کرسکیں جب حضور پاک صل وسلم نے اسلام کی تبلیغ شروع کی اور بہت سے لوگ مسلمان ہوئے تو اس وقت کوئی فرقہ واریت نہیں تھی سب خدا کو ماننے والے تھے اور اس کے آخری نبی کو ماننے والے تھے اور سب ایک ہی کلمہ پڑھتے تھے جو کہ حضور پاک صل وسلم کا ہے اور اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے تھے لیکن آج انسان اللہ کی رضا تو چاہتا ہے لیکن فرقہ واریت سے باہر نکلنا چاہتا اس اسلام پر نہیں چلنا چاہتا جو حضور پاک صل وسلم لے کر آئے دنیا میں۔ حضور پاک صل وسلم نے کبھی فرقہ واریت کا حکم نہیں دیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا کہ میں اللہ کا آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا یہ اللہ کا دین ہے اسلام اس پر چلو تاکہ حق پر چل سکو۔ لیکن افسوس آج مسلمان فرقہ واریت میں پڑگئے اور ایک دوسرے کو ہی کافر کہنے لگ گئے اور آخر میں ہم سب مسلمان پھر جاتے ہیں اللہ کی بارگاہ پر اور اس سے معافی کے طلب گار ہوتے ہیں اللہ پاک ہمیں سیدھے راستے پر چلنے چلنے کی توفیق عطا فرمائے امین 

    Twitter : @usamajahnzaib

  • کرومائیٹ اور تحصیل مسلم باغ پارٹ : سوئم تحریر : اے ار کے

    مسلم باغ میں کرومائیٹ کی روایتی کانکنی صرف اندازوں کے بل بوتے پر کیا جاتا ہے۔ جس سے پیداواری لاگت زیادہ اتی ہے۔
    جدید مشینوں و اوزاروں کا مسلم باغ میں کوئی تصور ہی نہیں انسانی جسم کو  بطور مشین استعمال میں لایا جاتا ہے۔
    کرومائٹ کی پرسنٹیج معلوم کرنے کے لیے کوئی سسٹم موجود نہیں۔کرومائیٹ پرسنٹیج معلوم کرنے کیلیے مسلم باغ میں سائنسی لیبارٹری کا قیام لازمی ہے۔
    اب بھی بیوپاری کرومائیٹ جانچنے کیلیے ایس جی ایس لیبارٹری کراچی کا رخ کرتے ہیں۔ جس سے وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ تاجروں کو یہ سودے کئی گناہ مہنگا پڑتے ہیں۔ 

    حکومتی سطح پر کوئی بھی ایسا طریقۂ کار موجود نہیں کہ کانکنی کے احاطوں کا تعین ہو یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ یہاں ہر وقت مسائل پیداہوتے ہیں۔
    کرومائٹ کے کانوں میں کسی ایمرجینسی یا پھر خدانخواستہ کسی کان کے منہدم ہونے کی صورت میں ریسکیو کا کوئی ذریعہ موجود نہیں۔
    مسلم باغ کے سنگلاخ پہاڑوں کا سینہ چھیر کرکرومائٹ کے کانوں میں کام کرنے اور کرومائیٹ نکالنے والے لیبر کے بھی کچھ  بنیادی حقوق ہوتے  ہیں
    یہاں لیبر کی نہ کوئی رجسٹریشن ہے اور نہ ہی اسی حوالے سے کوئی متبادل  نظام موجود ہے۔کانوں سے کرومائیٹ کو نکالنے کیلیے جیالوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے  وضع کر دہ مخصوص یونیفارم اور سیفٹی کے آلات ، جو محنت کشوں  کے بنیادی حقوق کے زمرے میں اتے ہیں ،مائن مالکان کانکنی کے ان اصولوں سے خود کو بری الذمہ تصور کرتے ہیں ۔ان اصولوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔
    کرومائیٹ کانکنی کے لئے بارودی مواد کا استعمال کیا جاتا ہے اور کسی قسم کے حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث محنت کش ہمہ وقت حادثات کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔
    کرومائیٹ کانکنی  انتہائی کٹھن، مشکل اور جان لیوا ہوتا ہے مگر محنت کشوں کو اپنے چولہے جلائے  رکھنے کیلئے انتہائی کم اجرتوں اور غیر ضروری و غیر قانونی طریقے سے  بغیر حفاظتی سامان کے ، ان کانوں میں کام کرنا پڑتا ہے۔ کرومائیٹ کی کانوں میں کام کرنے والے یہ محنت کش بارہ گھنٹے کے طویل اور غیر قانونی اوقات کار کے مطابق کام کرتے ہیں۔ محکمہ محنت اور افرادی قوت کے اہلکاران سالوں سال یہاں وزٹ نہیں کرتے جو قابلِ تشویش امر ہے ۔
    سائینٹیفک اصولوں اور جدید دور کے تقاضوں کو مد نظر رکھا جائے تو یہاں پر بڑی بڑی مشینوں کو استعمال میں لایا جانا چاہیے تھا۔
    جدید مشینری کو اس علاقے میں لانے سے کرومائٹ کی یہ تجارت کافی تیزہوسکتی ہے، جس کی وجہ سے یہاں زندگی کا ہر شعبہ ترقی پاسکتا ہے۔ کرومائیٹ ٹرانسپورٹیشن کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں
    کانکنی کے لیے بجلی،اور بارود کی عدمِ دست یابی ،انٹرنیشنل مارکیٹ تک رسائی جو اس وقت ہر لحاظ سے کافی کٹھن ہے
    کرومائٹ کو صاف کرنے کے لیے جدید مشینری اور پانی کی شدید قلت ہے۔
    مسلم باغ کے کرومائیٹ کی صنعت ملکی معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر حکومت درجہ بالا مسائل حل کرنے میں مقامی تاجروں کی مدد کرتی ہے۔
    لہٰذا صوبائی اور وفاقی حکومت اپنی ترجیحات میں مسلم باغ کو شامل کر لیں اور اگر تاجر برادری کے ساتھ تعاون شروع کر دیں تو بے شک یہ علاقہ  معیشت و مجموعی ملکی ترقی میں اہم کردار ادا  کرسکتا ہے اور ملک کے ہزاروں بے روزگار افراد کو روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرسکتی ہیں۔
    اتنے وسیع پیمانے پر ہونے والی تجارت کے علاقے میں امن وامان کی صورت حال انتہائی مخدوش ہے۔ تاجر برادری اس حوالے سے بہت پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ انھیں ہر لمحہ اپنے جان و مال کی فکر رہتی ہے۔
    امن و امان کی صورت حال کے حوالے سے حکومتی اداروں کا کردار سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔یہاں اغواہ برائے تاوان کے کہیں گروہ منظم ہیں  کہیں لوگوں کو اغواہ کرنے کے بعد کروڑوں روپے تاوان کی مد میں مغویان سے وصول کر کے مغویان کو چھوڑ دیا جاتا  ہے کہیں جرائم پیشہ اور اغواہ کار گروہ مسلم باغ میں سر گرم عمل ہیں۔ عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ حکومت نے انھیں کبھی بھی کوئی اہمیت نہیں دی ہے،اور نہ ہی ان کے جان و مال کے تحفظ کو  یقینی بنایا ہے۔

    ٹویٹر ہینڈل :@chalakiyan

  • حضور اکرم ﷺ بحیثیت شوہر | تحریر : عدنان یوسفزئی 

    حضور اکرم ﷺ بحیثیت شوہر | تحریر : عدنان یوسفزئی 

    اسلام نے نکاح کو مرد و عورت کے لیے خیر و برکت کا سبب قرار دیا ہے۔ 

    اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ” تم میں سے جن (مردوں یا عورتوں ) کا اس وقت نکاح نہ ہو، ان کا بھی نکاح کراو اور تمہارے غلاموں اور باندیوں میں سے جو نکاح کے قابل ہوں ان کا بھی ۔ 

    اگر وہ تنگ دست ہوں تو اللہ تعالی اپنے فضل سے انہیں بے نیاز کردے گا اور اللہ بہت وسعت والا ہے ، سب کچھ جانتا ہے۔”

    نکاح کو خیر و برکت کا سبب قرار دینے کے ساتھ ساتھ، شخصی مسرت کی تکمیل میں کسی رفیق حیات کی رفاقت، میاں بیوی کی باہمی موافقت اور میل جول کو اسلام نے بہت اہمیت دی ہے۔ میاں بیوی کی باہمی محبت ورحمت کو اپنی نشانیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ سورہ روم میں ارشاد باری تعالی ہے: ” اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت و رحمت کے جذبات رکھ دئیے ، یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں ۔” اور ان لوگوں کی سخت برائی کی ہے جو شوہر اور بیوی کے باہمی میل جول، محبت و اخلاص میں تفرقہ ڈالیں۔ 

    سورہ بقرہ میں ارشاد ربانی ہے: پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیزیں سیکھتے تھے جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی پیدا کردیں۔ ویسے یہ واضح رہے کہ وہ اس کے ذریعے کسی کو اللہ کی مشیت کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے ۔ مگر  وہ ایسی باتیں سیکھتے تھے جو ان کے لیے نقصان دہ تھیں اور فائدہ مند نہ تھیں اور وہ یہ بھی خوب جانتے تھے کہ جو شخص ان چیزوں کا خریدار بنے گا آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔” 

    میاں بیوی کی باہمی میل جول، آپس کی محبت والفت کس طرح قائم رہ سکتا ہے؟ ازدواجی زندگی پر لطف اور خوشگوار کیسے بنتی ہے؟ اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کو پڑھنا، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہوگا۔ بیوی کو شوہر کی فرمانبرداری اور شوہر کو بیوی کی دلجوئی کرنا ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی و عملی زندگی کو اپنے لیے نمونہ بنانا ہوگی۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل سے ازدواجی زندگی کے بارے میں ہمیں جو تعلیمات ملتی ہیں ذیل میں چند ذکر کیے جاتے ہیں: گھر والوں کے ساتھ بہترین سلوک کے حوالے سے ارشاد فرمایا: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیویوں کے لیے سب سے بہتر ہے”۔ 

    بیوی کے حقوق کے سلسلے میں ایک عابد و زاہد صحابی کو بلوا کر فرمایا: ” اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے "۔ حجة الوداع کے موقع پر فرمایا: "عورتوں کے بارے میں خدا سے ڈرو”۔ 

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عملی زندگی میں اپنی ازدواج مطہرات کے ساتھ محبت فرماتے تھے، چنانچہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”یارسول اللہ! آپ کو سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟ فرمایا:

    عائشہؓ ۔ انہوں نے عرض کیا: ”مردوں میں کون پسند ہے۔ فرمایا: ”عائشہؓ کا والد”۔ اظہار محبت کرتےاورخوبصورت نام سے بلاتے تھے۔

     ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پیالے میں پانی پی رہیں تھیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا:حمیرہ! میرے لیے بھی پانی بچا لینا، چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پانی بچایا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا: عائشہ! تم نے کہاں پر لب لگا کے پیا؟ امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے جگہ بتائی کہ یہاں سے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے کا رخ پھیرا اور جہاں سے زوجہ محترمہ نے پانی پیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے لب مبارک اسی جگہ لگا کے پانی نوش فرمایا۔”

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم امہات المومینین کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرتے، ان کی دلجوئی فرماتے اور خوش طبعی کرتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں زیادہ ہنسنے والے، تبسم فرمانے والے تھے۔ 

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر والوں کی سیر و تفریح کا خیال رکھتے تھے۔ ایک سفر میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا کہ تم آگے چلو، اور خود اپنی زوجہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ پیچھے رہ گئے اور ان سے فرمایا:

    ”اے عائشہ! کیا میرے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کروگی؟” انہوں نے کہا: ”ہاں”۔ چونکہ اُس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر کم تھی اور جسم ہلکا تھا تو مقابلہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جیت لیا۔ 

    کچھ عرصے بعد جب کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا جسم بھاری تھا ان کے درمیان پھر دوڑ کا مقابلہ ہوا اس دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیت گئے اور فرمایا: ”اے عائشہ یہ اُس پہلے مقابلے کا بدلہ ہے”۔ 

    گھر والوں کے ساتھ وفاداری کا یہ عالم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں کوئی دوسرا نکاح نہیں کیا، اور ان کو ہمیشہ یاد رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی سہیلیوں کا خیال رکھتے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے کام کاج میں ازواج مطہرات کا ہاتھ بٹاتے تھے،کپڑے پر پیوند لگا لیتے، جوتے کی اصلاح فرما دیتے، پھٹا ہوا ڈول مرمت فرما لیتے تھے۔حضرت اسود کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے اندر کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ:آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کام کاج کرتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو آپ مسجد تشریف لے جاتے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر والوں کی عزت واحترام کرتے۔ایک سفر میں اپنی اہلیہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے اونٹ کے قریب بیٹھے اور اپنا گھٹنا مبارک یوں رکھا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اس پر پاؤں رکھ کر اونٹ پر سوار ہوں۔ سو آپ ﷺ کی اہلیہ امی صفیہ رضی اللہ عنہا نے مبارک زینے پر پاؤں رکھا اور اونٹ پر سوار ہوگئیں۔ 

    اپنی بیوی کے ساتھ محبت، نرمی کا برتاؤ، خوش طبعی، بے تکلفی، اس کی دلجوئی اور حقوق کی ادائیگی گھر کو جنت بنا سکتا ہے۔ اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی و عملی تعلیمات پر عمل کرنا اور سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لیے مشعل راہ بنانا ضروری ہے ، اسی سے ازدواجی زندگی خوشگوار اور پر لطف ہوسکتی ہے ۔

    Twitter

    | @AdnaniYousafzai

  • اللہ سبحانہ وتعالی کا شکر ادا کریں تحریر: خالد عمران خان

    عام زندگی میں جب ہمیں کوئی چیز ملتی ہے یہ کوئی شخص ہم کچھ دیتا ہے تو ہم اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ، اور ان چیزوں کو ہم چیزوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لیکن اکثر اوقات ہم جس مالک نے ہمیں اتنے نعمتیں عطا کی اس کا شکر ادا نہں کرتے جب کے یہ سب سے اہم ہمیں ہمیشہ اللہ پاک کی طرف سے ملنے والی روزانہ کی نعمتوں کا شکر گزار رہنا چاہیے۔ بحیثیت مسلمان ، ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہماری زندگی میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ پاک کی طرف سے ایک تحفہ ہے اور اس کے بدلے میں ہم اس کے شکر گزار رہیں۔ ہزاروں نعمتوں میں سے سات یہ ہیں کہ ہمیں اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

    1. ہر چیز کا خالق۔

    ہمیں اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہمیں بطور انسان اور اس وسیع کائنات کی دیگر تمام چیزوں کو انسانیت کی خدمت کے لیے پیدا کیا ، کیونکہ اللہ پاک نے جو کچھ بنایا ہے وہ اچھا اور منصفانہ ہے اور کسی بھی چیز کو رد نہیں کیا جا سکتا.اور اس کی دی گئی ہر نعمت کو ہمیں شکریہ کے ساتھ وصول کرنا چاہیے۔

    2. ہمیں معاف کرنا۔

    زندگی میں ہم سے اتنے گناہ ہوتے ہیں اگر اللہ پاک نے ہمارے گناہوں کو معاف نہیں کیا تو وہ ہماری زندگی کے بہت سے پہلوؤں کو متاثر کریں گے اور ہماری خوشیاں چھین لیں گے۔ ہمیں معافی کے تحفے کے لیے شکر گزار ہونا چاہیے کہ اللہ پاک ہمیں عطا کرتا ہے جب ہم جرم محسوس کرتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں۔

    3. ہمیں آفت سے نجات دلانا۔

    مایوسی ہر کسی کی زندگی میں ہوتی ہے۔ لیکن ہم مطمئن ہو سکتے ہیں کہ ہمارے پاس اللہ پاک ہے جو ہمیں آفات ، آزمائشوں اور خطرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ اللہ پاک کے لیے کوئی بڑی آفت ایسی نہیں جو اسے حل نہ کر سکے۔ کوئی پہاڑ بہت اونچا نہیں ہے وہ اسے حرکت نہیں دے سکتا۔ کوئی طوفان بہت طاقتور نہیں ہے اللہ پاک اسے پرسکون نہ کر سکے.

    4. وفادار ، یہاں تک کہ جب ہم منہ پھیر لیں۔

    وفاداری اللہ پاک کی ذات ہے۔ کوئی دن ، منٹ یا سیکنڈ ایسا نہیں ہوتا کہ اللہ پاک وفادار نہ ہو۔ وہ وفادار ہے یہاں تک کہ جب ہم بے وفا ہیں وہ وفادار ہے یہاں تک کہ جب ہم اس سے روگردانی کرتے ہیں۔ ہم ہمیشہ اس پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔

    5. وعدے نہیں توڑتا۔

    اللہ پاک اپنے وعدوں کو کبھی نہیں توڑے گا۔ انسان اپنے ذہن بدلتے ہیں ، اور اپنے الفاظ کو توڑ دیتے ہیں۔ لیکن اللہ کبھی اپنا ارادہ نہیں بدلتا ، اور اسی لیے وہ اپنے وعدوں کو کبھی نہیں توڑتا۔

    6. نافرمان کے ساتھ صبر کرنا۔

    اللہ پاک کسی نافرمان انسان کو غلطی کرتے ہی سزا نہیں دیتا۔ وہ وقت دیتا ہے اور انتظار کرتا ہے کہ ہم توبہ کریں اور اسی کی طرف رجوع کریں۔ اگر اللہ پاک ہر کسی کو اس کی نافرمانی کی سزا دیتا ہے تو اس زمین پر ایک بھی جان باقی نہیں رہے پائی گی تو ہمیں اس مالک کا شکر گزار ہونا چائیے۔

    7. محمد پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارے لیے بھیجا۔

    اللہ پاک نے اپنے پیارے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو ہماری رہنمائی کے لیے بھیج کر ہم پر رحم کرنے کا وعدہ پورا کیا۔ یہ ایک بہترین چیز ہے جس کے لیے ہمیں اللہ پاک کا شکر گزار ہونا چاہیے۔
    شکر ادا کریں اللہ پاک کی دی ہوئی سینکڑوں نعمتوں کا.

    Twitter handle
    ‎@KhalidImranK