ویسے تو یہ دنیا انسان کی بہت سی مادی ضرورتوں پر مشتمل ہے۔ لیکن سب سے اہم ترین ضرورت جس میں دنیا آخرت کی کامیابی پوشیدہ ہے وہ ہدایت ہے۔ ہدایت سے مراد رہنمائی کرنا، سیدھا رستہ دکھانا، نفع مندی کا راستہ، انبیا کا راستہ جس کی منزل جنت ہے۔ وہ راستہ جس پر اللہ نے اپنے تمام انعام یافتہ بندوں کو چلایا۔ وہ سب اللہ کی نظر میں محبوب تھے۔ اللہ نے ان پر انعام کیا انہیں ہدایت سے نوازا۔ ان میں سارے انبیا حضرت آدم علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ہود علیہ السلام ، حضرت لوط علیہ السلام ، حضرت موسی علیہ السلام ، حضرت عیسی علیہ السلام ، اور بھی سارے انبیا شامل ہیں وہ بھی جن کا تذکرہ قرآن میں نہیں ملتا۔ وہ سب کے سب اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے۔ انہوں نے اللہ کی راہ میں کوششیں کی، دکھ رنج اور تکلیفیں سہی، انہوں نے ہجرتیں کی، اپنا گھر بار سب الل کے لئے لگا دیا، انہیں اپنے علاقوں میں نہیں رہنے دیا انہوں نے ہدایت کے سفر میں تمام تکلیفیں صبر اور اللہ کی مدد سے برداشت کی اور پھر اللہ نے ان پر انعام کیا انہیں استقامت دی انہیں جنت کی خوشخبری دی۔ یقیناً ان سب کی زندگیاں ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے نہ ہم صدقہ کرتے، نہ ہم نمازیں پڑھتے۔ بےشک وہ اللہ ہی اول و آخر ہے۔ اس کی طرف سے ہم آئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ وہ ہی تو ہے جس نے زندگی جیسی دولت بخشی، وہی تو ہر چیز کا اصل اور ہمیشگی والا ہے۔ باقی سب تو فنا ہے۔ ہدایت بھی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے ہدایت دے اور جسے چاہے گمراہ کر دے۔ انسان کے ذمے کوشش کرنا ہے۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جیسا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا:
لَیۡسَ عَلَیۡکَ ہُدٰىہُمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَلِاَنۡفُسِکُمۡ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡنَ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ اللّٰہِ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ یُّوَفَّ اِلَیۡکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۷۲﴾
ترجمہ: انہیں ہدایت پر لاکھڑا کرنا تیرے ذمّہ نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالٰی دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ سورۃ البقرہ:272
اِنۡ تَحۡرِصۡ عَلٰی ہُدٰىہُمۡ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ یُّضِلُّ وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۳۷﴾
ترجمہ: گو آپ ان کی ہدایت کے خواہشمند رہے ہیں لیکن اللہ تعالٰی اسے ہدایت نہیں دیتا جسے گمراہ کردے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوتا ہے۔
سورۃ النحل:37
اللہ کے تمام انعام یافتہ، ہدایت یافتہ بندوں نے بھی ایک ہدایت یافتہ سوسائٹی کے لئے کوششیں کی۔ انہوں نے ہمیشہ دوسروں کے لئے کوششیں کی۔ انہوں نے کبھی انفرادی طور پر زندگی بسر نہیں کی ہمیشہ انسانیت کی اصلاح کے لئے کوشش کی لیکن اللہ نے جسے چاہا ہدایت دی جسے چاہا گمراہ کردیا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کی ہدایت کے لئے بہت کوشش کی۔ ابو طالب کا آخری وقت تھا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ رہے تھے آپ کلمہ پڑھ لیں میں اللہ سے آپ کی سفارش کروں گا لیکن اردگرد بیٹھے ہوئے لوگوں نے کہا عبدالمطلب کا دین چھوڑ دو گے اپنے باپ دادا کا دین۔ تو ابو طالب نے کلمہ نہیں پڑھا اور اپنے اسی دین پر رہے حتی کہ دنیا سے چلے گئے۔ اسی حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کی ازواج وہ کافر ہی رہی۔ حالانکہ نبی کی ازواج تھیں۔ اس طرح اللہ نے انہیں ہدایت نہیں دی۔ حالانکہ نبیوں نے ان کے لئے کوششیں کی لیکن اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ نے انہیں بھی ہدایت دی جو لوگ گمراہ تھے۔ اور وہ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے۔ ہدایت دو چیزوں سے ملتی ہے۔
1۔ قرآن و سنت کا علم حاصل کرنے سے
2۔ اور ہھر اس پر قائم رہنے سے
یہ ہی ہدایت ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس پر قائم رہا وہ جنت میں داخل ہوا۔
امام ابو تیمیہ رقمطراز ہیں:
1۔ جب انسان پروردگار کے سامنے اپنی محتاجی ظاہر کرے اور اس سے دعا کرتا رہے اور اس کے ساتھ ساتھ کلام اللّٰہ، احادیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آثار صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا مسلسل مطالعہ کرتا رہے تو اس کے لیے ہدایت کا راستا کھل جائے گا۔
2۔ سچا مسلمان جب الله تعالی كی عبادت اس كی شریعت كے مطابق كرتا ہے تو الله تعالی جلد ہی اس پر ہدایت كے انوار كھول دیتا ہے۔3۔ اسلام میں صحابہ کرام ہر ایک علم ، نیکی، ہدایت اور رحمت کی اصل بنیاد ہیں۔
4۔ ہدايت كا راستہ علم كے بغير نہيں مل سكتا اور اس پر ثابت قدمى صبر كے بغير ممكن نہيں۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
کسی دوسرے کو راہ دکھلانا,علم کی بات بتانا,خیرخواہی کرنا,خود پرہدایت کادروازہ کھولنا ھے۔کیونکہ جزاء ھمیشہ عمل کے مطابق ھوتی ھے۔پس جو کسی دوسرے کو علم اور ہدایت کی راہ دکھلاتا ھےالله اسے علم اور ہدایت سے نوازتا ھے_
رسالته الى أحد اخوانه ١٠
انسان کی ذمہ داری ہے کہ معاشرتی طور پر ہدایت کے لئے کوشش کرے۔ دین کا علم حاصل کرے اور اللہ سے اس پر استقامت کے لئے مدد مانگے۔ خود ثابت قدم رہنا اور پھر دوسروں لے لئے کوشش کرنا بہت اہم اور لازمی ذمہ داری ہے جو ترک نہیں کی جا سکتی۔
اور جب انسان کوشش کرتا ہے تو اللہ ہدایت دیتا ہے، اللہ دل بدل دیتا ہے، گمراہ لوگ بھی بدل جاتے ہیں، آپ دیکھیں انبیا کے دور میں کیسے انقلاب آیا تھا۔ کیسے لوگوں نے اللہ کی مدد سے ہدایت کا سفر چنا۔ آپ بھی کوشش کریں اللہ آپ کو رسوا نہیں کرے گا۔
لیکن اگر انسان کوشش ہی نہ کرے اللہ کا دین ہی نہ سیکھے اور کہے کہ میرے نصیب میں گمراہی لکھ دی گئی ہے تو یہ گھاٹے کا سودا ہے۔
آیا تھا کیا کرنے اور کیا کر گیا؟
دیکھیں سب نگہبان ہیں اور سب سے اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا تو اللہ کے دین کو چھوڑ کر اگر آپ نگہبانی کریں گے تو کیا فلاح پائیں گے۔ میں ایسی ماؤں کو جانتی ہوں جنہوں نے اپنے بچوں کی خوب نگہبانی کی انہیں خوب وقت دیا لیکن انہیں دین نہیں سکھایا یقین کریں میں نے ان بچوں کو بے راہ روی کی راہوں میں پایا۔ تو اللہ کے دین کا علم حاصل کرنا اس پر عمل کرنا یہ ہی ہدایت ہے اور اسے آگے پہنچانے کے لئے کوشاں رہنا یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ تو آئیے ذمہ داری کو خوب پورا کیجیے اور فلاح پائیے۔
اقبال نے کیا خوب کہا تھا:
یارب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے۔
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے۔
جزاکم اللہ خیراً کثیرا
@Nusrat_writes
Category: مذہب
-

اللہ جسے ہدایت دے تحریر: نصرت پروین
-

نبی رحمت ﷺ پر وحی کا نزول حصہ سوم تحریر محمد آصف شفیق
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول کس طرح شروع ہوا، اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم نے تم پر وحی بھیجی جس طرح حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے بعد پیغمبروں پر وحی بھیجی اور اسی طرح ہم احادیث کی روشنی میں جاننے کوشش کرتے ہیں
حضرت حسن حطان بن عبداللہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تو اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سختی ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چہرہ اقدس کا رنگ بدل جاتا۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1559
حضرت ابواسامہ ہشام سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سردی کے دنوں میں وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک پر پسینہ بہنے لگ جاتا تھا۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1557حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک جھکا لیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی اپنے سروں کو جھکا لیتے اور جب وحی ختم ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک اٹھا لیتے تھے۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1560
حضرت یوسف بن عبداللہ بن سلام اپنے والد حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گفتگو فرمانے کے لیے بیٹھتے تو دوران گفتگو اکثر آسمان کی طرف نظر اٹھاتے رہتے تھے۔(کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر وقت وحیِ الٰہی کا انتظار رہا کرتا تھا) ۔ سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1433
حضرت ابن شہاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی ہے کہ اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے لگاتار وحی نازل فرمائی یہاں تک کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس دن تو بہت ہی زیادہ مرتبہ وحی نازل ہوئی۔
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 3023حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب وحی نازل کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وجہ سے مشکل محسوس کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ اقدس متغیر ہو جاتا راوی کہتے ہیں کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل کی گئی تو اسی طرح کی کیفیت ہو گئی۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ کیفیت ختم ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا مجھ سے حاصل تحقیق عورتوں کے لیے اللہ نے راستہ نکالا ہے۔ شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت سے زنا کرے یا کنوارا مرد کنواری عورت سے زنا کرے تو (اس کی حد) سو کوڑے ہیں اور پتھروں کے ساتھ سنگسار کرنا بھی اور کنوارے مرد کو سو کوڑے مارے جائیں پھر ایک سال کے لیے ملک بدر کردیا جائے۔صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 1923حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ جبرائیل علیہ السلام کو(وحی لانے میں ) تاخیر ہوگئی (کچھ عرسہ کے لیے وحی منقطع ہوگئی) تو مشرکین نے کہا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو چھوڑ دیا گیا تو اللہ رب العزت نے یہ آیات نازل فرمائیں: وَالضُّحٰى Ǻۙ وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى Ąۙ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰى Ǽۭ "چاشت کے وقت کی قسم اور رات کے وقت کی قسم جب وہ پھیل جائے، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو آپ کے پروردگار نے نہ چھوڑا اور نہ ناراض ہوا ہے”۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 159
حضرت ابوکریب ابواسامہ ابن بشر ہشام محمد بن بشر سیدہ عائشہ رضی اللہ سے روایت ہے کہ حارث بن ہشام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کیسے آتی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر وحی کبھی تو گھنٹی کی جھنکار کی طرح آتی ہے اور وہ کیفیت مجھ پر بہت سخت ہوتی ہے پھر وہ کیفیت موقوف ہو جاتی ہے اور میں اس وحی کو محفوظ کر چکا ہوتا ہوں اور کبھی تو ایک فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے اور جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1558
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حارث بن حشام نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کس طریقہ سے نازل ہوتی ہے؟ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کبھی تو وحی اس طریقہ سے نازل ہوتی ہے جس طریقہ سے کسی گھنٹی کی جھنکار ہوتی ہے جو کہ میرے اوپر سخت گزرتی ہے پھر وہ موقوف ہوجاتی ہے۔ جس وقت اس کو یاد کرتا ہوں اور کبھی فرشتہ ایک انسان کی صورت بن کر میرے پاس آتا ہے اور وہ فرشتہ مجھ سے گفتگو کرتا ہے میں اس حکم الہی کو یاد کر لیتا ہوں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ جس وقت سخت ترین موسم سرما میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی پھر وہ وحی آنا بند ہوجاتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی سے پسینہ نکلنے لگتا وحی کی سختی کی وجہ سے اس کے زور سے۔ سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 939
اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں دین اسلام کی سمجھ عطا فرمائیں ، نبی مہربان ﷺ کے فرامین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا بنائیں ، آمین@mmasief
-

تربیت_ امت بزبان پیارے نبی حضرت محمدمصطفیٰﷺ تحریر : انجنیئیر مدثر حسین
حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس میں حیا نہیں اس میں ایمان نہیں۔
حیا کیا ہے کوئی بھی گناہ یا نا پسندیدہ کام یا بات کرنے کے خیال سے قبل دل میں جو شرم اور بے چینی پیدا ہوتی ہے اسے حیا کہتے ہیں۔ اور حیا ہی گناہوں اور برائیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہے۔ جس شخص میں جتنی زیادہ حیا ہوگی۔ اتنا ہی وہ اپنے رب سے تعلق میں مضبوط ہو گا اور گناہوں سے محفوظ رہے گا اور ہمارے پیارے نبی خاتم النبیںن حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حیا کی صفت نمایاں تھی ہمیں آج سمجھنے کی ضرورت ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچپن ہی سے اتنے احساس پسند تھے کہ آپ ﷺ کی ایک ملازمہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کبھی گھر میں کھانا مانگ کر نہ کھاتے۔ جو بھی ملتا کھا لیتے اس پر اعتراض نہ کرتے نہ ہی کھانے میں نقص نکالتے تھے یہ درس ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔
بے حیائی کا تعلق گناہ کا زکر کرنے سے بھی ہے ہمارے پیارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کوئی خطا کار اپنے گناہ بتا کر معافی بھی مانگتا تو آپ ﷺ شرم سے گردن جھکا لیتے تھے۔ آپﷺ نے گناہ میں گواہ بنانے سے سخت منع فرمایا.اچھے اخلاق کی بنیاد ادب پر ہوتی ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعلی ترین اخلاق میں بھرپور ادب نظر آتا ہے۔ حالانکہ آپ ﷺ نے اپنے والد محترم کو نہیں دیکھا تھا اور والدہ کے ساتھ بھی بچپن کا بہت کم حصہ گزار سکے مگر آپ ﷺ نے والدین کے آداب و احترام پر بڑا زور دیا ہے۔ اپنی رضاعی حضرت والدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بہت احترام فرماتے۔ میری ماں میری ماں کہہ کر کھڑے ہو جاتے اور اپنی چادر ان کے لیے بچھا دیتے ۔بوڑھوں بزرگوں کا احترام فرماتے ہمیں بھی یہ سمجھنا چاہیے اور اپنے نبیﷺ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔
مشہور کہاوت ہے کہ بے ادب بے مراد با ادب با مراد۔
ادب ایک ایسی خوبی ہے جو خدمت اور احساس جیسی اعلی عادات بھی سکھاتی ہے۔کیونکہ جو بے ادب ہو گا وہ بھلا کسی کی کیا احساس کرے گا؟
خدمت خلق اللہ تعالٰی کا یہ پسندیدہ عمل ہے۔ جس ستمے تکبر کا عنصر ختم ہوتا اور احساس کو فروغ ملتا ہے اور ہمارے پیارے نبی خاتم النبیںن صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں یہ صفت نمایاں تھی۔ آپ ﷺ اپنے پرائے مسلم اور کافر غرض ہر کسی کا چھوٹے سے چھوٹا کام بھی رب العالمین کی رضا کے لیے کر دیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ محتاجوں بیواوں یتیموں اور مسکینوں کی خدمت کے لیے ہمیشہ تیار رہتے اور ترغیب دیتے تھے۔ آج اس عمل کی اشد ضرورت ہے.ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے. پاکیزگی کے عمل پر زور دیا اور فرمایا اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔ اس سے مراد من کی خوبصورتی ہے اعمال کی پاکیزگی کی ناکہ رنگت کی. کیونکہ اللہ کریم پسندیدہ بندوں میں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل ہیں جس سے رنگ کے امتیاز کی نفی کی گئی ہے. آپﷺ نے خاص طور پر جگہ جگہ تھوکنے کو سخت نا پسند فرمایا ہے۔
ایک بار دیوار پر تھوک کے دھبوں کو کھرج کھرج کر خود صاف فرمایا۔ ایک مرتبہ ایک صحابی نماز کی امامت کر رہے تھے ۔انہوں نے حالت نماز میں تھوک دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ منع فرما دیا اور کہا شخص نماز نہ پڑھائے۔ پوچھنے پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے۔ دوسری جگہ فرمایا کہ پیشاب کے چھینٹوں سے بچو کہ قبر میں عام طور پر اسی گناہ کے باعث عذاب الہی ہوتا ہے۔ کتنی خوبصورتی سے امت کو پاکیزگی کا درس دیا گیا ہے آپ ﷺ کے بے شماد مزید فرامین موجود ہیں. جن سے مقصد زندگی اور اصول زندگی کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہےاللہ کریم ہمیں صحیح معنوں میں اصول زندگی سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
@EngrMuddsairH
-

نبی رحمت ﷺ پر وحی کا حصہ دوم تحریر:محمد آصف شفیق
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول کس طرح شروع ہوا، اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم نے تم پر وحی بھیجی جس طرح حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے بعد پیغمبروں پر وحی بھیجی اور اسی طرح ہم احادیث کی روشنی میں جاننے کوشش کرتے ہیں
حضرت عروہ، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ حارث بن ہشام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کبھی میرے پاس گھنٹے کی آواز کی طرح آتی ہے اور وہ مجھ پر بہت سخت ہوتی ہے اور جب میں اسے یاد کر لیتا ہوں جو اس نے کہا تو وہ حالت مجھ سے دور ہو جاتی ہے اور کبھی فرشتہ آدمی کی صورت میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور جو وہ کہتا ہے اسے میں یاد کر لیتا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے سخت سردی کے دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتے ہوئے دیکھا پھر جب وحی موقوف ہو جاتی تو آپ کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا۔ صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ مدینہ کے کھنڈروں میں چل رہا تھا اور آپ کھجور کی ایک چھڑی کو زمین پر ٹکا کر چلتے تھے کہ یہود کے کچھ لوگوں پر آپ گذرے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ سے روح کی بابت سوال کرو، اس پر بعض نے کہا کہ نہ پوچھو، مبادا اس میں کوئی ایسی بات نہ کہہ دیں جو تم کو بری معلوم ہو پھر ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ ہم ضرور آپ ﷺسے پوچھیں گے، چنانچہ ان میں سے ایک شخص کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ اے ابوالقاسم! روح کیا چیز ہے؟ آپ نے سکوت فرمایا (ابن مسعودؓ کہتے ہیں) میں نے اپنے دل میں کہا کہ آپﷺ پر وحی آرہی ہے، لہذا میں کھڑا ہو گیا، پھر جب وہ حالت آپﷺ سے دور ہوئی، تو آپﷺ پر یہ آیات نازل ہوئیں وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا 85 (ترجمہ یہ لوگ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو ’’یہ روح میرے رب کے حکم سے آتی ہے ، مگر تم لوگوں نے علم سے کم ہی بہرہ پایا ہے۔‘‘ (تمہیں تو تھوڑا ہی سا علم عطا ہوا ہے)(85سورۃ بنی اسرائیل )
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چالیس سال کی عمر میں وحی نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں (بعد نبوت) تیرہ سال رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم ہوا تو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور وہاں دس سال رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال ہوگیاصحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1083
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں نبوت ملی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ سال اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی ٹھہرے رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی (حالت میں) دس سال (مدینہ میں گزارے) اور تریسٹھ سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا تھا۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1136
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان کو حرکت دیتے اور سفیان نے بیان کیا کہ اس سے آپﷺ کا مقصد یہ تھا کہ آپ اس کو یاد کرلیں تو اللہ تعالیٰ نے (لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ 16ۭ) اے نبی ﷺ ! اس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو ! (16سورۃ القیٰمہ ) یہ آیات نازل فرمائیں
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کو اس کے مثل (معجزات) دیئے گئے ہیں جس قدر لوگ ان پر ایمان لائے اور مجھے جو چیز دی گئی ہے وہ وحی ہے جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف بھیجی ہے اس لئے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے سب سے زیادہ ہوں گے۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2217
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آپﷺ کی وفات سے پہلے متواتر وحی بھیجی یہاں تک کہ آپ کی آخری عمر میں پہلے کے اعتبار سے وحی کثرت سے آنے لگی پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا ۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2218
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک بار لوگ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے، کہ اتنے میں ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا کہ آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوئی، اور حکم دیا گیا کہ کعبہ کی طرف رخ کریں، اس لئے تم لوگ کعبہ کی طرف منہ پھیر لو، اس وقت ان لوگوں کا رخ شام کی طرف تھا، چنانچہ لوگ کعبہ کی طرف گھوم گئے۔ صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2157
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کو ایسے معجزے عطا کئے گئے ہیں جو اسی جیسے دوسرے انبیاء علیہم السلام کو بھی عطا کئے گئے اور لوگ ان پر ایمان لائے اور مجھے جو معجزہ عطا کیا گیا وہ وحی الہی یعنی قرآن مجید ہے کہ اور کوئی نبی اس معجزہ میں میرا شریک نہیں کہ اس جیسا معجزہ اسے ملا ہو اور مجھے امید ہے کہ میری پیروی کرنے والوں کی تعداد دوسرے انیباء علیہم السلام کی پیروی کرنے والوں کی تعداد سے قیامت کے دن زیادہ ہوگی۔ صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 385
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ سے سوموار کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسی دن میں مجھے پیدا کیا گیا اور اس دن میں مجھ پر وحی نازل کی گئی۔ صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 256
اے رب کریم ہمیں نبی مہربانﷺ پر اترنے والے آپ کے پیغامات کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا بنا دے
آمین یا رب العالمین@mmasief
-

(حسینی شعور) دیتی رہے گی درس شہادت حسین قیامت تک : تحریر محمد جاوید
یہاں مراد وہ حق ہے جیس کو نقصان پہنچنے سے تمام افراد معاشرہ کے حقوق کو نقصان پہنچتا ہے اور جیس کے محفوظ رہنے سے تمام حقوق کے محفوظ رہنے کا راستہ نکلتا ہے ۔ یہ حق ملت اسلامیہ کی سر براہی کا حق حکمرانی کا قیادت کی legitimacy کا پرابلم ہے ۔ حکمرانی اور قیادت کے پرابلم پر امت مسلمہ آج سے چودہ سو سال پہلے جیس انتشار کا شکار ہوئی اس کو آج تک سمیٹ نہیں سکی ۔ امام حسین کے بعد ملوكيت، بادشاہت اور بعد ازآں غلامی کے شکنجے میں جکڑے ہوۓ حلانکہ امام حسین کی قربانیوں کا مقصد امت کی اصلاح اور انسانوں کے حقوق کی حفاظت تھا۔
امام امربالمعروف اور نہی عن المنکر اور اپنے اپنے اباؤ اجداد کی پیروی ہے۔”
جیسا کہ crisis of legitimacy کا مسلہ ابھی بھی پاکستان کے علاوہ کافی مسلم ممالک میں پایا جاتا ہے یعنی عوام کے مرضی کے بنا کسی بھی بہانے یا حربے سے اقتدار پہ قبضہ کرنا اور اسی بحران کا سامنا امام حسین کو بھی کرنا پڑاتھا ۔
شہادت حسين اثبات حق اور باطل کی داستان ہے اور یہ سادہ و رنگین داستان صرف اہل اسلام کی نہیں پوری انسانیت کی جنگ بن چکی ہے اور حق و باطل کی کشمکش میں ایک بین الااقوامی علامت بن چکی ہے۔
اس علامت کو کہیں شاعری میں استعمال کیا گیا اور کہیں ڈرامہ اور دوسرے ثقافتی و تہذیبی مظاہروں میں ۔آپ نے عزاداروں کے محفلوں میں اور ماتم گساروں کے جلوسوں میں خطیبوں کے وعظوں اور شاعروں کے مرثیوں میں اس علامت کو بڑے موثر طور پر استعمال ہوتے دیکھا اور سنا ہوگا۔
امام حسین کا نام ہر مسلمان کے لئے قابل احترام ہے لیکن طاقت اور جبر کے اشتراک واتحاد کی بنیاد پر حکومت کرنے والے مسلمان ہونے کے باوجود حسینی شعور سے وابستہ علامتوں کو گوارہ نہیں کر سکتے اور تاریخ شاہد ہے کہ حسینی شعور یعنی انقلابی شعور بیدار ہو جائے تو پھر اسے اپنی جنگ خود لڑنی پڑتی ہے ۔ کسی سہارے یا سہارے کے وعدے کے بغیر۔ حسینی شعور کسی مادی وسيلے یا اعانت کا منتظر نہیں رہتا۔ وہ خود ہی بھڑکتا اور ارد گرد کے سارے ماحول کو اپنی روشنی اور تپش سے زندگی اور حرارت بخشتا ہے۔ وہ اپنی بشارت آپ ہے اور یقین کیجے پاکستان کے مسلمانوں کی رگ وپے میں خون کی طرح گردش کرنے والے حسینی شعور کو اب ہمہ وقت بیدار اور نگران رہنے کی ضرورت ہے۔
بے خبری میں ان کے حقوق پر کئی شب خون مارے جا چکے ہیں اور مزید کا بھی خطرہ ہے استعماری طاقتوں کے گدھ ہمارے منڈیروں پر بیٹھے اپنے پر پھڑپھڑاتے رہتے ہیں ۔ امام حسین حرمت ضمیر کے محافظ اور انسانی حقوق کے چمپین تھا اور یہ چمپین انسانیت کی جنگ لڑتے لڑتے شہید ضمیر ہو کر امر ہو گئے۔
یزید دولت شہرت اور ٹھاٹھ باٹھ کا خواہش مند تھا اور اپنی اس خواہش تکمیل کے لئے اسے ظالموں کی ہوائے نفسانی کے بند مزاروں میں محبوس ہو جانا پڑا۔
امام حسین رضی اللہ عنہ کو کربلا میں شہید ہوئے جب وہ کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ تھا جس نے ایک لازوال اثر چھوڑا۔
شہادت حسین تو انسان کو یہ سیکھاتی ہے کہ ماضی کے گہوارے، حال کے دائرے اور وقت کے جالے کو توڑ کر نئی منزلوں اور نئے جہانوں کی طرف کیونکر بڑھا جاسکتا ہے ۔ آج امام حسین واقعتا” وقت کے پیمانوں یعنی ماضی وحال کے تمام جال توڑ کر دائمی اور لازوال عظمتوں سے ہمکنار ہو چکا ہے اور ہر عہد کے اجتمائی ضمیر اور شعور کا امین اور رفیق بن چکا ہے۔
امام حسین خون میں دوڑنے والی ایک غیرت ہے۔ ایک ادارہ ہے۔ امام حسین جانتے تھے کہ مجھے شہید ہونا ہے۔ امام اس لئے گئے تاکہ حق کا علم بلند ہو۔ حسینؓ وہ مینار ہے جو اتنی بلندی پر قائم ہے کہ قیامت تک امت کے لئے روشنی دیتا رہے گا۔ حق و باطل کی جنگ ہمیشہ جاری رہی ہے اور آج بھی جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گی۔ غدار ہر جگہ ہیں، شام اور کوفہ ہر جگہ ہیں۔
حضرت امام حسینؓ نے کربلا کے میدان میں حق و صداقت کی جہاں ایک تاریخ رقم کی وہاں انہوں نے اسلام کی بقا کی ضمانت بھی اپنے لہو سے دی۔ ہم نے جس نظریے کے تحت پاکستان بنایا ، اس نظریے کو زندہ کرنا ہے اور نوجوان نسل کو اس نظریے سے اچھی طرح آگاہ کرنا ہے اور اس کی اصلیت کا یقین دلانا بھی ہماری ذمداری ہے اگر اسا کرتے ہیں تو تو یقیناً ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ان اشعار پر بات ختم کرتا ہوںدیتی رہے گی درس شہادت حسینؓ کی ۔۔۔ آزادیِ حیات کا یہ سرمدی اصول
کٹ جائے چڑھ کے سر ترا نیزے کی نوک پر ۔۔۔ لیکن یزیدیوں کی اطاعت نہ کر قبول
امام حسین کی شہادت تاقیامت تک یاد رکھاجائے گا اور بحثیت مسلمان ہماری کمیابی کی ضمانت بھی فلسفہ حسینیت میں ہمارے اندر حسینی شعور کا ہونا بہت ضروری ہے پھر ہم عدل وانصاف حق وہ باطل کو پرکھنے کے قابل ہو جائینگے۔
امام کو پتا تھا اسے شہید کر دیا جائے گا مگر وہ پیچھے نہیں ہٹے کیوں کہ عدل وانصاف اور اسلام کی سر بلندی بہت ضروری تھی تبھی امام حسین نے اپنی جان کی پروا نہیں کیا اور اتنی بڑی قربانی دے دی جو قیامت تک یاد رکھا جاے گا۔
آسان نہیں ہے معرفت راز کربلا
دل حق شناس دیدہ بیدار چائے
@I_MJawed -

واقعہ مینار پاکستان
مینار پاکستان کا واقعہ ہمارے لیے بھی افسوس اورشرم کا باعث ہے یہ واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے بہت کم ہے ہے کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ ہر مرد کو یہ سوچنا چاہیے کہ یہ تمہاری وجہ سے کسی کی ماں بہن کو راستہ تبدیل کرنا پڑے تو تم میں اورکتے میں کیا فرق ہے
اس واقعے سے نہ صرف پاکستان بلکہ اسلام کی بھی کافی بدنامی ہوئی ہے اور انڈیا کے میڈیا میں اس کو خوب اچھالا گیا ہے ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں ہماری مائیں بہنیں نہیں ہیں جو کسی کی ماں بہن پر نظر ڈالتے ہیں
ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اگر آج ہم کسی کی ماں بہن کی عزت نہیں کریں گے تو کل کوئی ہماری بھی ماں اور بہن کی کوئی نہیں کرے گا
اور یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا مکافات عمل ہے ایک نہ ایک دن جیسا
کروگے ویسا ہی بھرو گےمیرے خیال میں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کی کمی ہے اور لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ ہم نے کیا اور ہم کہاں جا رہے ہیں تعلیم ایک زیور ہے تعلیم حاصل کرنے سے ہمیں پتہ چل جاتا ہے کہ ہمارے حدوں کیا ہیں
اور اسلام سے دوری بھی اس کی ایک اہم وجہ ہے اسلام امن کا درس دیتا ہے اور عورت کی تکریم اسلام سے کم ہی کسی نے کی ہے
ہمارے معاشرے میں اسلام کے بنیادی اصول صرف ایک اپنانا لے تو میرا خیال نہیں اگلی دفعہ مینار پاکستان جیسا واقعہ نہیں ہوگا اور وہ اصول یہی ہے کہ
مرد نیچی نظریں کرکے گزرے اور عورت ضروری پردہ اور اختیار کریں
تصویر کی دوسری طرف دیکھیں تو مشہورٹک ٹوکر کے لچھلن اچھے نہیں دکھائی دے رہے ہیںجناب تاریخ 14 اگست کا واقع ہے اور پندرہ کو تو اس نے اپنے انسٹاگرام پر پر فوٹو اپ ڈیٹ کی ہے اور اس وقت تک کوئی افسوس نہیں اور کوئی صدمہ نہیں تھا
گھر کا غلط ایڈریس دےکر آنا اور پولیس والوں سے آگے کاروائی نہ کرنا اس معاملے کو مشکوک بنا رہا ہے
تو اچانک ایسا کیا ہواکہ صدمہ بھی ہو کیا اور اقرار اور شامی وہاں پہنچ بھی گئے ہیں
دیکھنے میں تو یہ بھی آیا ہے کہ جہاں وہ بیٹھے ہیں یہی اقرار کے مطابق یہ ان کے گھر گئے ہیں لیکن دوسری تصویروں کے مطابق میں یہ گھر شامی صاحب کا ہے
ابھی تک صحیح تحقیقات ہو رہی ہیں نہیں ابھی تک کچھ پتہ نہیں ہے اصل معاملات کیا تھے سو کو گرفتارکرلیاگیا ہے میرا خیال ہے اس میں ایک کریکٹر بہت اہم ہے اس کا نام ریمبو ہے اس بندے سے بھی مکمل تفتیش ہونی چاہیے اور مجھے امید ہے کہ تمام معاملہ کا پتہ لگ جائے گا ۔بہت سے لوگوں اس کو پبلسٹی سٹنٹ بھی کہتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ بات بھی ہو ہمارے ملک میں مشہور ہونے کے لیے اس سے بہتر طریقہ کوئی نہیں ہے اور ریٹنگ حاصل کرنے کا ایک طریقہ بھی ہو سکتا ہے
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مسلسل تین دنوں سے ٹیلی ویژن پر نشریات جارہی ہیں ٹیوٹر پر مسلسل ٹرینڈ میں جا رہا ہے
یہ ہمارے صحافیوں سے بھی گزارش ہے کہ برائے مہربانی کسی واقعہ کو بھی بیان کرنے سے پہلے تھوڑی سی تحقیقات لینی چاہیے کہ پاکستان اور اسلام کا نام خراب نہ ہو
حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیات کرکے عوام کے سامنے رکھے اور اس میں جو بھی قصور وار ہے اس کو سزا دینی چاہیے@sikander037 #sikander037
-

پاکستان میں شرعی نظام کیوں نہیں ؟؟ تحریر : محسنؔ خان
جیسا کہ ہم جانتے ہیں گزشتہ دِنوں میں طالبان نے افغانستان پہ مکمل قبضہ کر لیا ہے جہاں پہ وہ اسلامی قوانین لانا چاہتے ہیں اور ہم پاکستانی عوام اسلامی قانون کی مکمل حمایت کر رہی ہے کیونکہ وہ افغانستان میں جو نافذ کیا جا رہا ہے
شریعت کا نفاذ افغانستان میں ہی کیوں کیا جائے وہاں بھی جمہوری نظام ہی رہے تو ٹھیک ہے ہم پاکستان خود کیوں شریعت کے نفاذ سے ڈر رہے ہیں ؟؟
اس سوال کا جواب ہر ایک پاکستان کا خود کا ضمیر دے گا کہ ہم جمہوری نظام کے حق میں کیوں ہیں کیونکہ یہاں سب کچھ اپنی مرضی سے کیا جا سکتا ہے اگر یہاں پر اسلامی شرعی اصول نافذ ہو گئے تو تمام ہیرا پھیریاں اور بے ایمانیاں ختم ہو جائیں گی ہر پاکستانی خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی بے ایمانی میں ملوث ہے.
ہماری عدلیہ کا نظام سب سے گندا ہے جہاں ایک فیصلہ کیلیے سالوں سال تھانے اور کچہری کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں پولیس تھانوں میں بیٹھی الگ سے لُوٹ رہی ہے اور وکلاء اور جج الگ سے غریب طبقہ اپنے حق کے حصول کیلیے قبر تک پہنچ جاتا ہے اور اسے حق نہیں ملتا.اگر کوئی ہسپتال ہے تو اس میں ڈاکٹروں کو ہوش نہیں یے کہ کوئی مریض مر رہا ہے وہ صرف پیسے کیلیے کام کر رہے ہوتے ہیں
یہی حال ہمارے سکولوں اور کالجوں کا ہے ہمارے تعلیمی اداروں میں رشوت اور بے حیائی عام ہے
مخلوط تعلیم کے زیر تربیت طالبعلم تعلیمی اداروں میں بے حیائی کا مظاہرہ کر رہے ہیں عورت کو پردے کی فکر نہیں نیم برہنہ کپڑے تعلیمی اداروں میں پہنے اور بازاروں میں بیچے جا رہے ہیں
ہم جمہوریت کے اس لیے حامی ہیں کہ یہاں پہ پیسے اور سفارش سے جان چھوٹ جاتی یے لیکن شریعت میں ایسا نہیں ہے حقدار کو حق ملتا ہے خواہ وہ جزا ہو یا پھر سزا
ہم جمہوریت کے اس لیے حامی ہیں کہ ہم رشوت اور لوٹ مار کے خاتمے کی وجہ سے ڈرتے ہیں اگر رشوت ستانی اور لوٹ مار ختم ہو گئی تو مالی نقصان ہوگا لیکن ہمیں دینی و روحانی نقصان کی زرا پرواہ نہیں ہے.
طالبان حکومت کے خلاف بہت سے گروہ مہم جوئی میں مصروف ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف دین اسلام کو (نعوزباللّہ) بدترین دین قرار دینا ہے اور اس مہم میں ہمارے کچھ اپنے ایمان فروش لوگ بھی شامل ہیں یہ لوگ طالبانوں کو ظالم اور مسلمانوں کے مذہب اسلام کو ظالم و بربریت کا دین قرار دینے پر تُلے ہوئے ہیں.شریعت نافذ ہونے سے یہ فائدہ ہوگا کہ کوئی شخص چوری نہیں کرے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اسلام میں اس کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے لیکن ہم چوری نہیں چھوڑنا چاہتے اسی لیے جمہوریت کو ترجیح دیتے ہیں
کوئی شخص کسی کے مال پہ غاصبانہ قبضہ نہیں کرے گا کیونکہ اسلام میں دو ٹوک فیصلے کا حُکم ہے اس لیے مافیہ کا گروہ شریعت کے خلاف ہے اگر جمہوریت رہی تو جیبیں بھری رہیں گی
سب لوگ صوم و صلوٰۃ کے پابند ہوں گے جیسے جنرل ضیاء کے دور میں صلوٰۃ کمیٹی نے کافی کامیابی سمیٹی لیکن ہم یہاں بھی ایمان کے کچے ہیں حالانکہ نماز کا حکم دیا گیا ہے مگر ہم لوگ نماز نہیں پڑھنا چاہتے ہمارا نظریہ اتنا بگڑ چکا ہے کہ ہم قرآن سے زیادہ تعویز دھاگوں کو ترجیح دیتے ہیں
کوئی عورت باپردہ نہیں ہوگی عورت کو اسلامی قوانین کے مطابق عزت اور آزادی حاصل ہوگی اور اسی بات پہ لبرل طبقہ اسلام کو عورت کیلیے غیر محفوظ قرار دیتا ہے اور اس کی تشہیر کیلیے عورت مارچ جیسے شیطانی مارچ کرتا یے
اگر شریعت نافذ ہوتی ہے تو جرائم کی کمی ہو گی چھوٹی بچیوں سے زیادتی کو لگام پڑے گی کیونکہ ہمارے لوگ اس کی عبرتناک موت سے ڈرتے ہیں.
جہاں اسلام ایک مکمل دین ہے وہیں اسلام میں قوانین کے خلاف ورزی پہ سخت سزائیں ہیں ہم جمہوری نظام کو ہی رکھنا چاہیں گے کیونکہ ہم معاشرے سے گناہ کی گندگی ختم نہیں کرنا چاہتے رشوت, چور بازاری, زنا, جھوٹ, دھوکہ, فریب اور متعدد گندی بیماریوں میں اُلجھا ہوا یہ معاشرہ صرف افغانستان میں ہی شریعت کا نفاذ چاہتا ہے نا کہ پاکستان میں کیونکہ ہم اسلام سے ڈرتے ہیں اسلامی قوانین سے ڈرتے ہیں ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم منافقت کے کس درجے پہ کھڑے ہیں.
ہم سب کو اپنے ضمیر میں جھانکنا چاہیے کہ کیا ہم مسلمان ہیں؟ اگر ہیں تو اسلام سے کیوں ڈرتے ہیں عمران خان صاحب نے ریاستِ مدینہ کی بات کی تھی لیکن اس پہ عمل طالبان کر کے بازی کے گئے.
اللّہ عالم اسلام کو تمام عالم پہ غالب کرے اور ہم مسلمانوں کو حقیقی مسلمان بننے کی توفیق دے آمین ثم آمین
-
اللہ کی خاطر محبت، فوائد و نشانیاں تحریر: رمیز راجہ
"ایمان کی سر بلندی یہ ہے کہ الله کے لئے دوستی ہو اور الله کے لئے دشمنی ہو، الله کے لئے محبت اور الله کے لئے نفرت ہو۔”
سب سے پہلا سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی خاطر یا اس کی رضا کے لیے محبت کرنے سے کیا مراد ہے، اُس کی صِفات کیا ہیں ؟ جن کی موجودگی میں اُس کی پہچان ہو تی ہے ؟ اِن شاء اللہ آج ہم اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ اور اُس کے رسول کریم مُحمدؐ کے فرامین مُبارکہ میں اِن سوالات کے جوابات کا مطالعہ کریں گے ۔
اجمالی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اللہ کی خاطر مُحبت وہ ہے جِس میں کوئی مُحب کسی کو صِرف اللہ کی رضا کے حصول کے لیے اپنا مَحبُوب رکھے اور پھر وہ مُحب اپنے مَحبُوب کو اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کی طرف بلاتا رہے اور اس میں اس کا مددگار رہے ، اور نافرمانی سے روکتا رہے اور نافرمانی سے رُکے رہنے میں اُس کا مددگار رہے ، اُسے کفار و مشرکین اور اہل بدعت سے محفوظ رہنے میں اُس کا مددگار رہے ۔ عموما ً لفظ مُحبت سن کر اُن جذبات کا خیال آتا جو دو متضاد جنسوں میں ایک دوسرے کے لیےپائی جانے والی رغبت کی وجہ سے ظاہر ہوتے ہیں ، جبکہ مُحبت صِرف اُنہی جذبات کا نام نہیں بلکہ مُحبت انسانوں میں تو کیا بعض جانوروں کے درمیان پائے جانے والے رشتوں اور تعلقات میں تقریباً ہر رشتے اور تعلق میں موجود ہوسکتی ہے ۔ مُحبت انسانی جذبات میں سے سب سے زیادہ نازک ، لیکن مضبوط اور تُند و تیز جذبہ ہے ، اور اگر یہ جذبہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دِیا جائے تو اِس جذبے کی کیفیت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔
اللہ کی خاطر مُحبت کی وجہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے محبوب رسول کریمؐ کی اُمت کو جو نعمتیں عطاء فرماتا ہے، اور اس مُحبت کے جو عظیم فوائد ہیں اُن سب کی بہت سی خبریں ہمیں دی گئی ہیں ، اور انہی خبروں میں اللہ کی خاطر ایک دوسرےسے مُحبت کرنے والوں کی ، اور محبت کی نشانیاں بھی بتائی گئی ہیں ، ان خبروں کا بغور مطالعہ ہمارے لیے اُن سوالات کے جوابات مہیا کرنے والا ہے جو میں نے اپنی بات کے آغاز میں پیش کیے تھے، آئیے اُن خبروں میں سے کچھ کا مطالعہ کرتے ہیں۔
اللہ کی خاطر محبت کرنے کےفوائد:
1۔ تکمیل اِیمان کے اسباب میں سے ہے۔
ابی اُمامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐنے اِرشاد فرمایا،” جِس نے اللہ کی خاطر مُحبت کی ، اور اللہ کی خاطر نفرت کی، اور اللہ کی خاطرہی (کسی کو کچھ) دِیا ، اور اللہ ہی کی خاطر(کسی کو کچھ)دینے سے رُکا رہا ، تو یقیناً اُس نے اپنا اِیمان مکمل کر لیا” (سنن ابو داؤد)
2۔ ایمان کی مضبوطی کے اسباب میں سے ہے۔
رسول اللہ ؐ نے ابو ذر الغِفاری سے فرمایا، ” اے ابو ذر کیا تُم جانتے ہو کہ اِیمان کی سب سے زیادہ مضبوط گرہ کونسی ہے؟”۔ ابو ذر نے عرض کیا، ” اللہ اور اس کے رسول ہی سب سے زیادہ عِلم رکھتے ہیں”۔ تو رسول اللہ ؐ نے اِرشاد فرمایا، ” اللہ کے لیے دوستی رکھنا ، اور اللہ کے لیے دُشمنی رکھنا ، اور اللہ کے لیے مُحبت کرنا ، اور اللہ کے لیے نفرت کرنا”۔
3۔ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی مُحبت پانے کے اسباب میں سے ہے۔
مُعاذ ابن جبل کا کہنا ہے کہ میں نے رسول اللہؐ کو اِرشاد فرماتے ہوئے سُنا کہ، "اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمانا ہے کہ میرے لیے آپس میں مُحبت کرنے والوں، ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے والوں ، اور ایک دوسرے کو جا کر ملنے والوں ، اور (ایک دوسرے کی خیر کے لیے) اپنی قوتیں صرف کرنے والوں کے لیے میری مُحبت واجب ہوگئی”۔
4۔ قیامت والے دِن بھی یہ مُحبتیں قائم رہیں گی۔
"اُس دِن سب ہی دوست دُشمن بن جائیں گے سوائے تقویٰ والوں کے "۔سُورت الزُخرف (43)/آیت67
5۔ انبیاء اور شہداء کے لیے بھی پسندیدہ درجہ حاصل ہونےکے اسباب میں سے ہے۔
رسول اللہ ؐکے دوسرے بلا فصل خلیفہ امیر المؤمنین عُمر الفارق کا فرمان ہے کہ رسول اللہ ؐنے اِرشاد فرمایا، "بے شک اللہ کے بندوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے،جو انبیاء میں سے نہیں اور نہ ہی شہیدوں میں سے ہوں گےلیکن قیامت والے دِن اللہ کے پاس اُن کی رتبے کی انبیاء اور شہید بھی تعریف کریں گے "۔ صحابہ نے عرض کیا، ” اے اللہ کے رسول ہمیں بتایے کہ وہ لوگ کون ہیں ؟ "۔ تو اِرشاد فرمایا، ” وہ(صِرف )اللہ کی خاطر مُحبت کرنے والے لوگ ہوں گے ، (کیونکہ ) اُن کے درمیان نہ تو (اِیمان کے عِلاوہ)کوئی رشتہ داری ہو گی اور نہ ہی کوئی مال لینے دینے کا معاملہ ، پس اللہ کی قَسم اُن کے چہرے روشنی ہی روشنی ہوں گے اور وہ روشنی پر ہوں گے ، جب (قیامت والے دِن) لوگ ڈر رہے ہوں گے اور غم زدہ ہوں گے تو وہ نہیں ڈریں گے ، اور نہ ہی غم زدہ ہوں گے "۔اللہ کی خاطر مُحبت کرنے والوں کی نشانیاں:
1۔ ایک دوسرے کو نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے باز رہنے کی تلقین کرنا اور ان دونوں ہی کاموں کی تکمیل میں ایک دوسرے کی مدد کرنا۔
2۔ ایک دوسرے کے دُکھ درد کو بالکل اپنے دُکھ درد کی طرح محسوس کرنا ، اور ایک دوسرے پر رحم و شفقت کرنا اور مددگار رہنا۔
3۔ ایک دوسرے کو برائی سے روکنا اور ظلم سے بچانا۔
اللہ تبارک و تعالی ٰ ہم سب کو اور ہر ایک کلمہ گو ایک دوسرے سے صرف اور صرف اللہ کے لیے مُحبت کی توفیق عطاء فرمائے اور ہمارے اختلافات کو ہماری مُحبت کے خاتمےکا سبب نہ بننے دے ، بلکہ اُسی مُحبت میں ایک دوسرے کی اصلاح کی نیک کوششوں کی ہمت دے ۔ آمین! -

لونڈیوں کا اسلام میں تصور تحریر: محمد اسعد لعل
لونڈیاں اور غلام اسلام یا اسلام کی تعلیمات کا کوئی حصہ نہیں ہیں۔ یہ دنیا میں ایک مصیبت موجود تھی اور صدیوں تک موجود رہی۔ یہ کیسے پیدا ہوئی اس کو سمجھنا ضروری ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ دنیا تین بڑے ادوار سے گزری ہے۔ پہلے قبیلوں کی صورت میں لوگ منظم ہوئے اُس کے بعد پھر جاگیردرانہ تمدن پیدا ہوا بڑی بڑی ذمہ داریاں آ گئیں اور ایک زراعی زندگی پیدا ہوئی، اور اس کے بعد انڈسٹریل ریوولوشن ہوا اور آہستہ آہستہ دنیا کے اندر ایک تیسرا دور شروع ہو گیا۔ اب ٹیکنالوجی اور خاص کر انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ایک چوتھے دور کی ابتدا کر دی ہے۔
جب قبائلی زمانہ تھا اس میں ایک قبیلہ دوسرے قبیلے پر چراگاہیں حاصل کرنے کے لیے،نخلستان حاصل کرنے کے لیے ، یہاں تک کے پانی ختم ہو جاتا تو حملہ کر دیتا تھا۔ جب کوئی کسی دوسرے قبیلے پر حملہ کر دیتا تو حملہ آور کو اگر شکست ہو جاتی تو جنگی جرم میں اس کے تمام مردوں اور عورتوں کو غلام بنا لیا جاتا تھا۔ یعنی غلامی کی ابتدا یہاں سے ہوئی۔ اس کو کسی پیغمبر نے آ کر شروع نہیں کیا۔ لوگوں نے اپنی لڑائیوں میں جارحیت کرنے والے کوسزا دینے کا یہ طریقہ استعمال کیا کہ اگر تمہارا قبیلہ ہم پر حملہ آور ہوا تو ہم تمہارے تمام مردوں اور عورتوں کو غلام بنا لیں گے۔
جس وقت آپﷺ کی آمد ہوئی اس وقت عرب کی پوری معیشت غلاموں پر منحصر تھی۔ یعنی جو صورت اِس وقت سود کی ہے، آپ دیکھیں تو اس وقت سارا بینکاری اور انشورنس کا نظام سود پر کھڑا ہے۔ اگر میں یا آپ کوئی آدمی یہ کہے کہ سود بُری چیز ہے، ظالمانہ چیز ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہیے تو لوگ فوراً کہتے ہیں کہ اس کا کوئی متبادل لائیں پھر ہی اس کا خاتمہ ہو گا ورنہ تو معیشت ختم ہو جائے گی، دوسرے دن سارا سسٹم درہم برہم ہو جائے گا۔ تو جو اِس وقت بینکاری کے نظام کا معاملہ ہے گلی گلی بینک قائم ہیں بالکل یہی صورتحال آپﷺ کے دور میں غلامی کی تھی۔ ہر گھر میں غلام تھے ،وہی گھروں کے کام کرتے تھے، وہی کھیتوں میں کام کرتے تھے، وہی تجارت کے قافلے لےکر جاتے تھے۔ یہ برسوں سے لوگوں کے پاس تھے اور اُن کو بیچ بھی دیا جاتا تھا۔
قرآن مجید نے اس کو دو طرف سے ختم کرنے کا آغاز کیا۔ کسی بھی چیز کو ختم کرنےکے دو ہی طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ چیز جہاں سے پیدا ہو رہی ہے اس کو بند کیا جائے، دوسری یہ کہ جتنی پیدا ہو چکی ہے اس سے نمٹا جائے۔ اور پھر ایسا ہی کیا گیا۔
سورۃ محمد کو نکال کے دیکھیں، جتنے بھی غلام بنتے تھے جنگ میں بنتے تھے۔ یعنی جنگ ہوتی، قیدی پکڑے جاتے، عورتیں اور مرد غلام بنا لیے جاتے۔
پہلی جنگ جب مسلمانوں کو پیش آنے والی تھی تو بدر سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بتایا کہ یہ جنگ پیش آنے والی ہے اور اس جنگ کے بعد جب قیدی پکڑ لیے جائیں گے تو ان کے معاملے میں غلامی کا کوئی تصور نہیں ہو گا۔ اس کے بعد دو ہی طریقے جائز رہے، ایک یہ ہے کہ آپ فدیہ لے کے اُن کو آزاد کر دیں، دوسرا یہ کہ احسان کے طور پر چھوڑ دیں۔ اس طرح سے غلامی کے پیدا ہونے کا دروازہ بند کر دیا گیا۔
اب صرف وہ غلام بچے جو پہلے سے غلام تھے، لوگ ان کو پہلے ہی خرید چکے تھے اور وہ ان کے گھروں میں برسوں سے تھے۔ ان کے بارے میں اگر یہ کہا جاتا کہ آج کے بعد سب آزاد ہیں، تو آپ جانتے ہیں اس کا کیا نتیجہ نکلتا؟ غلام عورتیں اور مرد بے گھر ہو جاتے، کسی کے پاس چھت نہ رہتی، کسی کے پاس کھانے کے لیے روٹی نہ رہتی کیوں کہ ان کی ساری زندگی کا انحصار اُن کے مالکوں کے اوپر تھا۔ عورتیں جسم فروشی پر مجبور ہو جاتیں اور مرد بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتے۔
تو اس کے لیے اسلام میں کیا طریقہ استعمال کیا گیا؟
قرآن مجید میں بتایا گیا کہ سب سے بڑی نیکی غلاموں کو آزاد کرنا ہے۔ تاکہ لوگ اس کو نیکی سمجھ کر غلاموں کو آزاد کر دیں ۔ اور ایسا ہی ہوا لوگ غلام آزاد کرنے لگے یہاں تک کہ زیادہ نیکی حاصل کرنے کے لیے غلام خرید کر آزاد کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ گویا جو موجودہ غلام تھے ان کی آزادی کی ایک تحریک چل پڑی۔
اس کے بعد قرآن مجید نے ایک دوسرا حکم دیا اور آپﷺ نے اس کو نافذ کیا۔ وہ حکم یہ تھا کہ نفسیات کو بدلا جائےاور یہ کہا گیا کہ اب غلام اور لونڈی کا لفظ استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اس کی جگہ مرد اور عورت کے الفاظ استعمال کیے گئے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا جتنے بھی ذی صلاحیت غلام ہیں ان کی شادیاں کروائی جائیں۔ تاکہ ان کے گھر آباد ہوں اور وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے کوئی راستہ نکالیں۔
پھر مذہبی لحاظ سے لوگوں سے جتنے گناہ ہو جاتے تھے ان کے کفارے کے طور پر غلاموں کو آزاد کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر وہ وقت آ گیا جب یہ حکم دے دیا گیا کہ جو خود کھاؤ گے ان کو کھلاؤ گے اور جو خود پہنو گے وہ ان کو پہناؤ گے۔مقصد یہ تھا کہ لوگ یہ نہیں کر سکیں گے تو غلام آزاد کر دیں گے تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے چلے جائیں۔
اس کے بعد لوگوں کو ترغیب دی گئی کہ جن لونڈیوں کی اخلاقی حالت اچھی ہے اور وہ شادی کرنا چاہتی ہیں تو ان سے شادی کر لیں۔قرآن مجید میں سورۃالنساء میں اس کو بیان کیا گیا ہے۔
اس طرح کی اور بہت سی اصطلاحات کرنے کے بعد آخر میں سورۃالنور میں یہ حکم دے دیا گیا کہ اب ہر لونڈی اور غلام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مالک سے یہ درخواست کرے کہ مجھے ایک سال یا چھ مہینے، جتنا وہ مناسب سمجھیں اس کی مہلت دے دی جائے، تاکہ اس عرصے میں وہ کما کر اپنی قیمت ادا کر دیں۔
کوئی غلام اپنی کمائی کا مالک نہیں ہوتا تھا لیکن پھر بھی گویا ان کی آزادی کا پروانہ ان کے ہاتھوں میں پکڑا دیا گیا کہ اپنی تقدیر کے پروانے پر خود دستخط کر لو۔ اس عمل کا مقصد یہ تھا کہ اس مہلت میں پتا چل جائے کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں یا نہیں۔
یہ طریقہ اسلام نے اختیار کیا یعنی ایک طرف غلام بنانے پر پابندی لگا دی اور دوسری طرف آزادی کی راہ اس طرح کھول دی۔ کیااس سے بہتر کوئی طریقہ بُرائی کو ختم کرنے کا ہو سکتا ہے؟ اس لیے ہمیں فخر کے ساتھ اس کو بیان کرنا چاہیے۔twitter.com/iamasadlal
@iamAsadLal -

نبی رحمت ﷺ پر وحی کا نزول حصہ اول تحریر محمد آصف شفیق
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول کس طرح شروع ہوا، اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم نے تم پر وحی بھیجی جس طرح حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے بعد پیغمبروں پر وحی بھیجینبی رحمت ﷺ پر وحی کے نزول کے حوالے سے ہم احادیث کی روشنی میں جاننے کی کوشش کریں گے
حضرت عروہ بن زبیر ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ سب سے پہلی وحی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اترنی شروع ہوئی وہ اچھے خواب تھے، جو بحالت نیند آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھتے تھے، چنانچہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواب دیکھتے تو وہ صبح کی روشنی کی طرح ظاہر ہوجاتا، پھر تنہائی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محبت ہونے لگی اور غار حرا میں تنہا رہنے لگے اور قبل اس کے کہ گھر والوں کے پاس آنے کا شوق ہو وہاں تحنث کیا کرتے، تحنث سے مراد کئی راتیں عبادت کرنا ہے اور اس کے لئے توشہ ساتھ لے جاتے پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس واپس آتے اور اسی طرح توشہ لے جاتے، یہاں تک کہ جب وہ غار حرا میں تھے، حق آیا، چنانچہ ان کے پاس فرشتہ آیا اور کہا پڑھ، آپ نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرتے ہیں کہ مجھے فرشتے نے پکڑ کر زور سے دبایا، یہاں تک کہ مجھے تکلیف محسوس ہوئی، پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھ! میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، پھر دوسری بار مجھے پکڑا اور زور سے دبایا، یہاں تک کہ میری طاقت جواب دینے لگی پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھ! میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ تیسری بار پکڑ کر مجھے زور سے دبایا پھر چھوڑ دیا اور کہا پڑھ! اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا، پڑھ اور تیرا رب سب سے بزرگ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دہرایا اس حال میں کہ آپ کا دل کانپ رہا تھا چنانچہ آپ حضرت خدیجؓہ بنت خویلد کے پاس آئے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے کمبل اڑھا دو، تو لوگوں نے کمبل اڑھا دیا، یہاں تک کہ آپ کا ڈر جاتا رہا، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ا سے سارا واقعہ بیان کر کے فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہرگز نہیں، اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صلہ رحمی کرتے ہیں، ناتوانوں کا بوجھ اپنے اوپر لیتے ہیں، محتاجوں کے لئے کماتے ہیں، مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی راہ میں مصیبتیں اٹھاتے ہیں، پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر ورقہ بن نوفل بن اسید بن عبدالعزی کے پاس گئیں جو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے چچا زاد بھائی تھے، زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہوگئے تھے اور عبرانی کتاب لکھا کرتے تھےچنانچہ انجیل کو عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے، جس قدر اللہ چاہتا، نابینا اور بوڑھے ہوگئے تھے، ان سے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ا نے کہا اے میرے چچا زاد بھائی اپنے بھتیجے کی بات سنو آپ سے ورقہ نے کہا اے میرے بھتیجے تم کیا دیکھتے ہو؟ تو جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا تھا، بیان کر دیا، ورقہ نے آپﷺ سے کہا کہ یہی وہ ناموس ہے، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا، کاش میں نوجوان ہوتا، کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا، جب تمہاری قوم تمہیں نکال دے گی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے جواب دیا، ہاں! جو چیز تو لے کر آیا ہے اس طرح کی چیز جو بھی لے کر آیا اس سے دشمنی کی گئی، اگر میں تیرا زمانہ پاؤں تو میں تیری پوری مدد کروں گا، پھر زیادہ زمانہ نہیں گذرا کہ ورقہ کا انتقال ہوگیا، اور وحی کا آنا کچھ دنوں کے لئے بند ہوگیا، ابن شہاب نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے بیان کیا کہ جابر بن عبداللہ انصاری وحی کے رکنے کی حدیث بیان کر رہے تھے، تو اس حدیث میں بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان فرما رہے تھے کہ ایک بار میں جا رہا تھا تو آسمان سے ایک آواز سنی، نظر اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ تھا، جو میرے پاس حرا میں آیا تھا ، آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا، مجھ پر رعب طاری ہوگیا اور واپس لوٹ کر میں نے کہا مجھے کمبل اڑھا دو مجھے کمبل اڑھا دو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، (يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ Ǻۙ قُمْ فَاَنْذِرْ Ą۽ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ Ǽ۽ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ Ć۽ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ Ĉ۽) اے (محمد ﷺ) اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے ، اٹھیے اور خبردار کیجئے ۔ (لوگوں کو ڈرائیے) ، اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو اور اپنے کپڑے پاک رکھو ،پھر وحی کا سلسلہ گرم ہوگیا اور لگاتار آنے لگی۔ عبداللہ بن یوسف اور ابو صالح نے اس کے متابع حدیث بیان کی ہے اور ہلال بن رواد نے زہری سے متابعت کی ہے، یونس اور معمر نے فوادہ کی جگہ بوادرہ بیان کیا۔ صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 3@mmasief