Baaghi TV

Category: مذہب

  • رمضان میں خرچ کرنے کا ثواب.تحریر:نورفاطمہ

    رمضان میں خرچ کرنے کا ثواب.تحریر:نورفاطمہ

    رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کے لیے روحانی طور پر نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ مہینہ اللہ کی خاص رحمتوں، برکتوں، اور مغفرت کا ہے۔ رمضان کے دنوں میں ہر عمل کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں، جہاں روزہ رکھنا فرض ہے، وہاں ہمیں اپنی نیتوں کو صاف اور اپنے اعمال کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان میں کئے جانے والے نیک اعمال کا اجر بہت زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ اگر ہم کسی غریب، یتیم یا محتاج پر ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں، تو اللہ اس عمل کا ستّر گنا زیادہ اجر عطا فرماتا ہے۔

    رمضان میں صدقہ دینے کی اہمیت بے شمار ہے۔ قرآن میں بار بار صدقہ دینے کی ترغیب دی گئی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صدقہ دینے کو بہت بڑا عمل قرار دیا۔ رمضان کے مہینے میں صدقہ دینے سے نہ صرف ہمارے گناہ معاف ہوتے ہیں بلکہ اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جو شخص رمضان کے مہینے میں ایک روپیہ کسی غریب یا محتاج پر خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اس عمل کو ستر گنا بڑھا دیتا ہے۔” (مسلم)اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ رمضان میں کیا گیا صدقہ ایک معمولی عمل سے کہیں زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی عبادات کو قبول کرتا ہے اور ان کی نیک نیتی اور خلوص کو دیکھ کر ان کے اجر کو بڑھا دیتا ہے۔

    غریب اور محتاج لوگوں کی مدد کرنا انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہے۔ رمضان کے مہینے میں اگر ہم اپنی استطاعت کے مطابق کسی غریب کی مدد کرتے ہیں تو نہ صرف ہم اس کی زندگی میں خوشیاں لاتے ہیں بلکہ ہمیں اللہ کی رضا بھی حاصل ہوتی ہے۔ایک روپیہ بھی کسی کے لیے بہت قیمتی ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ غریب ہو۔ رمضان میں جب ہم غریبوں اور یتیموں کی مدد کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس عمل کا بے شمار ثواب عطا فرماتا ہے۔یاد رکھیں، رمضان میں کسی غریب کی مدد کرنا صرف مالی مدد نہیں بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور ان کے لیے دعائیں کرنا بھی صدقہ میں شامل ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”سب سے بہتر صدقہ وہ ہے جو کسی غریب یا محتاج کو دیا جائے۔”

    رمضان کے مہینے میں صدقہ دینے سے اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ صدقہ دینے والوں کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور ان کی زندگی میں برکتیں نازل کرتا ہے۔ کسی غریب پر خرچ کرنے سے نہ صرف وہ خوش ہوتا ہے بلکہ اس کا دل بھی سکون پاتا ہے، جس سے ہمارے دل میں بھی سکون آتا ہے۔ ہر نیک عمل کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہونا چاہیے اور رمضان میں صدقہ دینے سے ہمیں اللہ کی رضا ملتی ہے۔شریعت میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو بھی شخص اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اس عمل کا ستر گنا زیادہ اجر دیتا ہے۔اگر آپ ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں، تو اس کا ثواب ستر گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔یعنی اگر آپ کسی غریب پر ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اس ایک روپیہ کو ستر گنا بڑھا کر آپ کے نامہ اعمال میں ڈال دیتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف آپ کے دل کی سکونت کا باعث بنے گا بلکہ آپ کے روحانی درجات بھی بلند ہوں گے۔

    رمضان کا مہینہ ایک ایسا موقع ہے جب ہم اپنے دلوں کو صاف کر سکتے ہیں اور اپنے اعمال کی اصلاح کر سکتے ہیں۔ اس مہینے میں صدقہ دینے سے نہ صرف دنیا میں ہمارے رزق میں برکت آتی ہے بلکہ آخرت میں بھی ہمیں انعام ملتا ہے۔ اگر ہم رمضان میں کسی غریب پر ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس عمل کا ستر گنا زیادہ ثواب دیتا ہے، جو ہمارے لیے ایک عظیم انعام ہے۔اس لیے رمضان میں صدقہ دینے اور غریبوں کی مدد کرنے کا عمل ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اس مہینے کو بھرپور طریقے سے اللہ کی رضا کے حصول کے لیے استعمال کریں

  • جامعہ حقانیہ خود کش حملہ،دہشتگردی کی بزدلانہ کاروائی.تحریر: جان محمد رمضان

    جامعہ حقانیہ خود کش حملہ،دہشتگردی کی بزدلانہ کاروائی.تحریر: جان محمد رمضان

    دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں حالیہ خودکش حملہ ایک سنگین دہشت گردی کا واقعہ ہے جو فتنہ الخوارج اور ان کے سرپرستوں کی مذموم کارروائی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس حملے میں مولانا حامد الحق حقانی کو نشانہ بنایا گیا، جو اس وقت ایک اہم دینی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ مولانا حامد الحق حقانی نے حالیہ دنوں میں رابطہ عالم اسلامی کی ایک کانفرنس میں خواتین کی تعلیم کے بارے میں واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا تھا، جو انہیں فتنہ الخوارج کے گروہ کا نشانہ بننے کی وجہ بنا۔ مولانا حامد الحق حقانی نے خواتین کی تعلیم پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسلامی تعلیمات کے مطابق قرار دیا تھا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روکنا اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اس بیانیے کی وجہ سے انہیں فتنہ الخوارج کی جانب سے متعدد دھمکیاں بھی ملیں۔

    دارالعلوم حقانیہ میں نماز جمعہ کے بعد ہونے والے اس خودکش دھماکے نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ اس حملے کا مقصد مولانا حامد الحق حقانی کو نشانہ بنانا تھا۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ فتنہ الخوارج کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ گروہ اسی طرح کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے دینِ اسلام کے خلاف اپنی نفرت کو پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔فتنہ الخوارج کی طرف سے اس نوعیت کی دہشت گردی کے حملے نئی بات نہیں ہیں۔ اس گروہ نے ماضی میں بھی مساجد، امام بارگاہوں اور مزارات کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔ ان دہشت گردوں نے 17 مساجد، 32 امام بارگاہوں اور 21 مزارات کو بم دھماکوں کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ، کئی اہم مذہبی شخصیات جیسے مولانا حسن جان، مولانا نور محمد، علامہ ناصر عباس، اور خالد سومرو کو بھی شہید کیا گیا۔یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ فتنہ الخوارج اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے دین کا لبادہ اوڑھ کر انسانیت کے دشمن بن چکے ہیں۔

    خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کو اس دہشت گردی کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر امن دشمنوں کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔ حکومت کو اپنی سیاست کو عوامی مفادات پر ترجیح دینے کے بجائے صوبے میں امن قائم کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔ حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس حکمت عملی اپنائے اور عوام کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرے۔یہ خودکش حملہ نہ صرف ایک دہشت گردانہ کارروائی ہے بلکہ یہ ایک بار پھر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح بعض انتہاپسند گروہ دین اسلام کی اصل تعلیمات سے ہٹ کر دہشت گردی کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ ان دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کریں اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

    دارالعلوم حقانیہ میں ہونے والے اس حملے کے بعد، یہ وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر اس دہشت گردی کا مقابلہ کریں اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کو فروغ دیں تاکہ ملک میں امن قائم ہو سکے۔

  • عالمی تحفظ ختم نبوت  کانفرنس پچنند .تحریر:فیصل رمضان اعوان

    عالمی تحفظ ختم نبوت کانفرنس پچنند .تحریر:فیصل رمضان اعوان

    الحمداللہ اس بار عالمی تحفظ ختم نبوت کانفرنس پچنند ضلع تلہ گنگ کی تیرہویں سالانہ کانفرنس میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی قصبہ پچنند ایک پسماندہ اور دور افتادہ علاقہ ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے لگ بھگ دوسو کلومیٹرز دور مغربی سمت میں واقع اس علاقے میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس کے اغراض ومقاصد کا علم ہونا ضروری تھا بچپن سے یہ تو سن رکھا تھا کہ یہاں قادیانی فتنہ کا وجود بھی ہے لیکن اس فتنہ کے دجل وفریب کی داستان کا علم ہرگز نہیں تھا یہاں لوگوں کی زندگیاں اسی غفلت میں ہی گزر رہی تھیں اورقریب ہی ایمان فروشی جیسا گھٹیا ترین عمل جاری تھا اور مسلسل پھیل رہا تھا سادگی اور آگہی نہ ہونے کی وجہ سے یہ غلاظت تعفن پھیلانے کا سبب بنتی رہی برطانوی راج کے دوران چالاک انگریز نے مرزا قادیانی کو اپنا شر پھیلانے میں کھلی چھوٹ دے رکھی تھی اس دوران بہت سے مسلمان مرتد ہوئے اور ہمارے سچے مذہب اسلام کو نقصان پہنچایا گیا.

    پچنند میں قادیانی فتنہ کا آغاز یہاں کے مقامی ایک شخص محمدخان سے ہوا جو برطانوی فوج کا ملازم تھا یہ 1914ء میں قادیانی ہوا انگریز سرکار کی طرف سے اسے نوازا گیا اور اس نے پچنند میں باقاعدہ اپنی چوہدراہٹ قائم کرلی تب انتظامی امور انگریز کے ہاتھ میں تھے جس کی وجہ سے یہاں قادیانیت کے شر کو پھیلانے میں آسانی تھی اس دوران بیس کے قریب مسلمان قادیانی ہوئے جن کی اولادیں اکثریت میں آج بھی اسی فتنہ کی پیروکار ہیں پچنند کے سرکاری سکولوں میں قادیانی ٹیچرز بھرتی کئے گئے سادہ لوح لوگوں کو بھٹکانے کے لئے مختلف طریقے استعمال کئے گئے مالی طورپر مستحکم ہونے اور بااثر ہونے کی وجہ سے ایک وقت میں پچنند کا نمبردار بھی قادیانی تھا یعنی قادیانیت اپنے عروج پر تھی اور یہ چالاکی اور بدمعاشی سے اپنا مکروہ دھندہ جاری رکھے ہوئے تھے 97 سال بعد اس دھرتی پر اللہ رب العزت نے کرم کیا عالمی تحفظ ختم نبوت تلہ گنگ کے امیر حضرت مولانا عبیدالرحمن انور اور بزم شیخ الہند کے جید علمائے کرام نے اس فتنہ کی روک تھام کے 2011ء میں اپنا عملی کردار ادا کرنا شروع کیا اس دجل وفریب اور ان کفریہ عقائد سے ایمان بچانے کے لئے ان علمائے کرام کا اس سر زمین پر ایک بہت بڑا احسان ہے میں نے کانفرنس سے پہلے جماعت کے ضلعی امیرمولانا عبیدالرحمن انور سے مقامی سطح پر سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کانفرنسز پر بات کی کہ یہاں سادگی اور شعور کی کمی کی وجہ سے رسول اللہ کی زندگی جو ایک عملی نمونہ ہے اس بارے لوگوں کے اندر شعور پیدا کیا جائے لیکن چونکہ مجھے تحفظ ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کی بنیادی ضرورت کا علم نہیں تھا جو بعد ازاں انہی علمائے کرام کی محنت سے میرے علم میں لایا گیا میں نے محسوس کیا کہ بلاشبہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق ہی تو یہ بنیادی درس ہے جو اسی کانفرنس میں لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے اسی فتنہ کے خاتمے کے لئے جب اتنا بڑا کام کیا جارہا ہے تو یقیننا عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شعور ہی تو پیدا ہورہا ہے مجھ جیسے بہت سے سادہ لوح شاید اس کام کو چھوٹا سمجھیں لیکن ختم نبوت پر ایمان ہی اصل ایمان ہے اوریہی وہ بنیادی عقیدہ ہے جس کا تحفظ ہم مسلمانوں پر فرض ہے آج عالمی تحفظ ختم نبوت اور بزم شیخ الہند کے علمائے کرام کی محنت سے یہ فتنہ مقامی سطح پر زوال کا شکار ہے اور انشااللہ یہ جلدہی اپنے بھیانک انجام کی طرف چلاجائے گا اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے صرف علمائے کرام یا مولوی حضرات کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر کلمہ گو مسلمان خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عقیدے کا محافظ ہے اور اس کے لئے عملی کردارادا کرنا بھی ضروری ہے.

    پچنند کے مقام پر اس تئیس کنال رقبے پر محیط پنڈال میں لوگوں کی ہزاروں کی تعداد میں عشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سپاہی ہونے کا عملی مظاہرہ دیکھ کر دلی خوشی ہوئی اللہ رب ذوالجلال کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اے باری تعالی تو اس علاقے سے ان کفریہ عقائد کے پیروکاروں کو جلد ہدایت دے دے پچنند کی سر زمین پر اور پوری دنیا میں اس فتنہ کا نام ونشان مٹا دے آمین ثم آمین

  • تبصرہ کتب، مسنون حج و عمرہ

    تبصرہ کتب، مسنون حج و عمرہ

    نام کتاب : مسنون حج وعمرہ
    مصنف : حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم
    قیمت : بڑا سائز 1000روپے ، درمیانہ سائز 425روپے ، چھوٹا سائز 200روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ 042-37324034
    اِسلامی عبادات میں حج کی ایک خاص اہمیت وفضیلت ہے۔ اِسے اِسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں شمار کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں حج کو استطاعت کے ساتھ فرض قرار دیا گیا ہے۔ حج کی درست اور مسنون ادائیگی کو گناہوں کا کفارہ قرار دیا گیا ہے۔ حدیث میںحج مبرور کی جزا اور صلے میں جنت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اِسی طرح عمرے کی مسنون ادائیگی پر اس کی فضیلت کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔ حرمِ کعبہ میں ایک مقبول نماز کا اجر دوسرے مقام کی لاکھ نمازوں سے افضل ہے۔ اسی طرح حرمِ نبوی کی ایک مقبول نماز کا اجر دوسرے مقام کی ہزار نمازوں سے افضل بتایا گیا ہے۔ حج وعمرے کی یہ اہمیت وفضیلت اور اس کے دوران میں اذکار و عبادات کی یہ قدر و منزلت صرف اِسی صورت میں ممکن ہے کہ مناسک حج کو مسنون طریق پر نبوی منہج کے عین مطابق ادا کیا جائے۔ حج کااجروثواب بے مثال ہے بیت اللہ کی زیارت اورحج وعمرہ کرنے کاارمان ہرصاحب ایمان کے دل میں انگڑائیاں لیتاہے۔دنیا کے مختلف اطراف واکناف سے لاکھوں مسلمان ہر سال حج اور عمرے کی سعادت کے لیے بھاری رقوم خرچ کر کے اپنے گھروں سے نکلتے ہیں۔جبکہ لاکھوں مسلمان ایسے ہیں کہ جوزندگی میں ایک دوبارہی اس سعادت سے مستفیدہوپاتے ہیں۔اسی مناسبت سے سبھی کی آرزوہوتی ہے کہ یہ مقدس فرض قرآن سنت کی تعلیمات کے مطابق اداہوجائے تاکہ عبادات کے بجالانے میں کوئی کمی بیشی نہ رہ جائے۔اس مقصد کے لئے ہرشخص کوایسی رہنماکتاب کی اشد ضرورت ہوتی ہے جس میں حج وعمرہ کے احکام ومسائل آسان زبان میں قرآن وحدیث سے بتائے گئے ہوں۔خاص طورپرمحترم خواتین ایسی کتاب کی جستجومیں رہتی ہیں جس میں حج وعمرہ کے دوران ان کے مخصوص مسائل کادینی حل پیش کیاگیاہو۔ ان حجاج کرام اور عمرہ ادا کرنے والے معتمرین کی ایک کثیر تعداد صرف اْردو زبان کے حوالے سے اِسلامی تعلیمات کو سیکھ سکتی ہے۔

    اْردو خواں طبقے کی اِسی ضرورت کے پیش نظر دار السلام نے مسلسل محنت اور تحقیق کے بعد حج وعمرہ کے تمام ضروری، ضمنی اور ذیلی مسائل کے موضوع پر مستند مواد کے حوالے سے ’’مسنون حج وعمرہ … فضیلت واہمیت احکام ومسائل ‘‘ کے عنوان سے تین مختصر مگر جامع کتب تیار کی ہیں۔ان کتب میں حج وعمرہ کے تمام احکام و مسائل قرآن وسنت کی روشنی میں جزئیات سمیت بہ تمام وکمال بتائے گئے ہیں۔حج وعمرہ کے دوران پڑھی جانے والی اورروزمرہ کی دیگردعائیں بھی درج کردی گئی ہیں۔مزیدبراں تمام مقدس مقامات کونہایت ہی خوبصورت تصویروں اورنقشوں کے ذریعے بخوبی اجاگرکیاگیاہے۔ان کتابوں کی خصوصیات یہ ہیں کہ ان کے تمام مندرجات صرف کتاب وسنت سے ماخوذ ہیں۔کتابوں میں بفضل اللہ تعالیٰ کسی ایک موضوع یا ضعیف حدیث کا حوالہ نہیں ملے گا، نیز تمام احادیث کی مکمل تخریج بھی کر دی گئی ہے۔ حج اور عمرے کے دوران میں پیش آنے والے تمام مسائل کی اصطلاحات کو حج وعمرے کے مناسک کی ترتیب سے پیش کیا گیا ہے۔ حج وعمرہ کی ادائیگی کے دوران پیش آمدہ مسائل کو مرحلہ وار لکھا گیا ہے۔ان کتب میں خصوصیت کے ساتھ حج و عمرہ کے دوران پیش آنے والے خواتین کے مخصوص مسائل بھی درج کردیے گئے ہیں۔حج وعمرہ کے مختلف مناسک کے دوران پڑھی جانے والی مسنون دعائوں اور اذکار کو آسان اْردو ترجمے کے ساتھ پیش کر دیا گیا ہے۔کمسنون دعائیں بھی پیش کی گئی ہیں تاکہ حرمین میں ہمارے شب و روز مسنون دعائوں اور اذکار سے مزین ہو سکیں۔یہ مستند کتب مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف اور دیگر علمائے کرام عمار فاروق سعیدی ، مولانا عبدالصمدرفیقی مرحوم ،مولاناعبدالجبار اورحافظ عبدالخالق جیسے ممتاز محققین نے ترتیب دی ہیں۔یہ کتب تین سائز میں دستیاب ہیں۔۔۔ تینوں کتابوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے اور حجم کے اعتبار سے ان میں مسائل بیان کئے گئے ہیں۔دارالسلام ریسرچ سنٹر کی یہ کتب خودبھی پڑھئے اورعزیزواقارب کوبھی پیش کیجیے تاکہ ہرمسلمان حج وعمرہ کے فرائض مسنون طورپرآسانی اورسہولت سے اداکرسکے اورحج وعمرہ کی عبادات کے ضائع ہونے کاذرہ بھی احتمال نہ رہے۔

  • محمد الرسول اللہ ﷺ ،غیر مسلموں کی نظر میں ، تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    محمد الرسول اللہ ﷺ ،غیر مسلموں کی نظر میں ، تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    محمد الرسول اللہ ﷺ ۔۔۔۔تاریخ عالم کی ۔۔۔۔۔وہ باکمال اور لاجواب ہستی ہیں جن کی تعریف وتوصیف صرف زمین والے ہی نہیں آسمان والے بھی کرتے ہیں، مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی کرتے ہیں ۔ اسلئے کہ نبی ﷺ خالق کائنات کا انتخاب ہیں اور انتخاب ِ لاجواب ہیں ۔سمندروں کی سیاہیاں ختم ہوسکتی ہیں ، قلم ٹوٹ سکتے ہیں اور الفاظ ختم ہوسکتے ہیں لیکن نبیﷺ کی شان ، مقام اور احترام کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔ ہمارے نبی ﷺ کا مقام واحترام تو وہ ہے کہ جہاں مسلم ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہیں ۔ کفارِ مکہ سے لے کر آج تک بے شمار غیر مسلموں نے بھی اپنے اپنے انداز میں نبی ﷺ کی صداقت ، دیانت ، شرافت ، عظمت ، شجاعت اور سخاوت کو تسلیم کیا ہے۔ ایک غیر مسلم نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ” فقط مسلم کا محمد ﷺ پہ اجارہ تو نہیں “ ۔مطلب یہ ہے محمد ﷺ صرف مسلمانوں کے ہی نہیں تمام انسانوں کے ہیں اسی لئے تو قرآن مجید میں رسالت ماٰب ﷺ کو رحمة العالمین کہا گیا ہے ۔ بارگاہ ِ نبوت میں گلہائے عقیدت پیش کرنے کا جو سلسلہ کوہ فاران سے شروع ہوا تھا وہ آج تک جاری ہے اور قیامت کی دیواروں تک جاری رہے گا ۔ اسے کہتے ہیں ” فضلیت ، عظمت اور بڑائی وہ ہے جسے دشمن بھی تسلیم کریں “ ۔
    ہر دور میں اور چہار وانگ عالم میں بڑے بڑے محقق اور مفکرین اپنی تحریروں میں سرورِ کائنات ﷺ کو گلہائے عقیدت پیش کرتے رہے ہیں۔۔۔۔۔ ان میں سے کچھ تروتازہ اور ایمان افروز پھول نذر قارئین ہیں مقصد یہ ہے کہ ہمارے ایمان ، محبت اور عقیدت میں اضافہ ہو ۔

    اپنے وقت کا عظیم جرنیل اور مدبر نپولین بوناپارٹ نبی ﷺ کی بارگاہ میں ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتا ہے”محمدﷺ سالارِ اعظم اور محبت ِ فاتح ِ عالم تھے۔ آ پ ﷺ نے اہلِ عرب کو محبت اور اتحاد کا درس دیا ، بکھرے ہوﺅں کو جوڑا ۔ ان کے آ پس کے تنازعات ، اختلافات اور مناقشات اس طرح سے ختم کیے کہ تھوڑی ہی مدت میں آ پ ﷺ کی امت نے نصف دنیا کو فتح کر لیا۔جب نبی ﷺ دنیا میں تشریف لائے اس وقت عرب خانہ جنگی میں مبتلا تھے اور یہ خانہ جنگی سینکڑوں سال سے چلی آرہی تھی ۔ دنیا کی اسٹیج پر دیگر قوموں نے جو عظمت و شہرت حاصل کی اہل ِ عرب نے بھی اسی طرح ابتلاءو مصائب کے دور سے گزر کر عظمت حاصل کی، اپنی روح اور نفس کو تمام آلائشوں سے پاک کر کے تقدس و پاکیزگی کا جوہر حاصل کیا اور دنیا کو اتحاد واتفاق کا درس دیا “ ۔یورپ کا مشہور عالم فلسفی ، ریاضی دان ، معلم ، مترجم ، مورخ تھامس کارلائل نبی ﷺ کی صداقت وعظمت کا اظہار ان الفاظ میں کرتا ہے۔”صحرائے عرب کی یہ عظیم شخصیت جنہیں دنیا ”محمد“ کے نام سے جانتی ہے پاکیزہ روح، شفاف قلب و بلند نظری اور مقدس خیالات رکھتا تھا۔ جن کو خدا ہی نے حق و صداقت کی اشاعت کے لیے پیدا کیا“ ۔موھن چند کرم داس گاندھی کہتے ہیں”نبی ﷺ وہ ہستی ہیں جنھوں نے تمام دنیا سے خراج تحسین وصول کیا ہے ۔ جب مغرب پر تاریکی اور جہالت کی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں اس وقت مشرق سے ایک ستارہ نمودار ہوا۔ ایک روشن ستارہ جس کی روشنی سے ظلمت کدے منور ہو گئے۔ اسلام دین باطل نہیں ہے، ہندوﺅں کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ بھی میری طرح اس کی تعظیم کرنا سیکھ جائیں۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ اسلام نے بزورِ شمشیر سرفرازی اور سربلندی حاصل نہیں کی بلکہ اس کی بنیادنبی کا خلوص، وعدوں کا پاس، غلاموں ، دوستوں اور احباب سے یکساں محبت ہے ۔ آ پ ﷺ کی جرات و بے خوفی ، اللہ اور خود پر یقین جیسے اوصاف ِ حمیدہ دنیا کو گرویدہ کرلیا ۔ لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔ اس کی فتوحات میں یہی اوصاف حمیدہ شامل ہیں اور یہی وہ اوصاف ہیں جن کی مدد سے مسلمان تمام پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود پیش قدمی کرتے چلے گئے“۔عالمی شہرت یافتہ روسی ادیب کاﺅنٹ لیوٹالسٹائی کہتا ہے”محمد ﷺ عظیم الشان مصلح ہیں، جنہوں نے اتحاد امت کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔ ان کے فخر کے لیے یہی کافی ہے کہ انہوں نے وحشی انسانوں کو نورِ حق کی جانب ہدایت کی اور ان کو اتحاد، صلح پسندی اور پرہیز گاری کی زندگی بسر کرنے والا بنا دیا اور ان کے لیے ترقی و تہذیب کے راستے کھول دیئے ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنا بڑا کام صرف ایک فرد واحد کی ذات سے ظہور پذیر ہوا“مشہور مستشرق سر ولیم میور اپنی کتاب لائف آ ف محمد ﷺ میں لکھتے ہیں ”ہمیں بلا تکلف اس حقیقت کا اعتراف کر لینا چاہیے کہ تعلیم نبوی ﷺ نے ان تاریک توہمات کو ہمیشہ کے لیے جزیرہ نمائے عرب سے باہر نکال دیا جو صدیوں سے اس ملک پر چھائے ہوئے تھے، ب±ت پرستی نابود ہو گئی، توحید اوراللہ کی بے پناہ رحمت کا تصور محمد ﷺ کے متبعین کے دلوں میں جاگزیں ہو گیا ، معاشرتی اصلاحات کی گئیں ۔ ایمان کے دائرہ میں برادرانہ محبت، یتیموں کی پرورش، غلاموں سے احسان و مروت جیسے جوہر نمودار ہو گئے۔ امتناع شراب میں جو کامیابی اسلام نے حاصل کی کسی دوسرے مذہب کو نصیب نہیں ہوئی“۔بھارت کے بانی وزیر اعظم جواہر لال نہرو کہتے ہیں”سچی توحید نے مسلمانوں کے اندر خوف ، جرات، بے باکی ، شجاعت و بسالت پیدا کر دی اور عزم و ارادوں میں اس درجہ پختگی پیدا کردی کہ پہاڑوں کو اپنی بلندی اور مضبوطی ان کے سامنے ہیچ نظر آنے لگی اور ان کے مقابل سمندروں کا جوش ٹھنڈا ہو گیا۔ توحید کی ایسی تعلیم آ پ ﷺ نے مسلمانوں کو دی کہ جس سے ہر قسم کے توہمات کی جڑیں کھوکھلی ہو گئیں۔ ہر قسم کا خوف دلوں سے نکل گیا۔ یہ سب اس ہستی کے سبب تھا جس کو مسلمانوں نے نبی آخر الزماں کہا اور دوسروں نے اس کو بنی نوع انسان کا ایک عظیم رہنما جانا“۔مشہور فرانسیسی مورخ موسیو سیدیو نبی کریم ﷺ کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں”محمد ﷺ یوں تو محض امی تھے۔ مگر عقل و رائے میں یگانہ روزگار تھے۔ ہمیشہ خندہ پیشانی سے پیشانی ملتے ۔ مساکین کو دوست رکھتے۔ کبھی فقیر کو فقر کے سبب حقیر نہ جانتے اور نہ کسی بادشاہ سے اس کی بادشاہی کے سبب سے خوف کھاتے تھے“۔

    بیسویں صدی کا مشہور مفکر اور دانشور جارج برناڈ شالکھتا ہے”میں نے رسول اکرم ﷺ کے دین کو ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ یہ الزام بے بنیاد ہے کہ آ پ ﷺ عیسائیوں کے دشمن تھے۔ میں نے اس حیرت انگیز شخصیت کی سوانح مبارک کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ میری رائے میں نبی ﷺ نوع انسان کے محافظ تھے “۔مسٹر ایڈورڈ مونٹے کہتے ہیں”آ پ ﷺ نے سوسائٹی کے تزکیہ اور اعمال کی تطہیر کے لیے جو اسوہ حسنہ پیش کیا ہے وہ آپ کو انسانیت کا محسن اوّل قرار دیتا ہے“۔ڈاکٹر جی ویل نے حضور اکرم ﷺ کی ان الفاظ میں تعریف کی ہے ’ ’بے شک حضرت محمد ﷺ نے گمراہوں کے لیے ایک بہترین راہ ہدایت قائم کی اور یقینا آ پ ﷺ کی زندگی نہایت پاک صاف تھی۔ آ پ ﷺ کا لباس اور غذا بہت سادہ تھی۔ مزاج میں تمکنت نہ تھی یہاں تک کہ وہ اپنے متبعین کو تعظیم و تکریم کے رسمی آ داب سے بھی منع فرماتے تھے۔ اپنے غلام سے کبھی وہ خدمت نہ لی جس کو آپ خود کر سکتے تھے۔ بازار جا کر خود ضرورت کی چیزیں خریدتے، اپنے کپڑوں میں پیوند لگاتے، خود بکریوں کا دودھ دوہتے اور ہر وقت ہر شخص سے ملنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ بیماروں کی عیادت کرتے تھے ، ہر شخص سے مہربانی کا برتاﺅ فرماتے تھے۔ “اب تاریخ کے صفحات سے ایک اورگواہی ملاحظہ فرمائیں ۔ یہ مشہور امریکی تاریخ دان ، ماہر فلکیات ڈاکٹر مائیکل ایچ ہارٹ ہیں جو کہ مذہباََ یہودی ہیں اور دنیا بھر میں اپنی کتاب
    The 100 A Ranking Of The Most Influential Persons History
    ” تاریخ کی سو انتہائی متاثر کن شخصیات “ کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب میں سو ایسی عظیم شخصیات کا تذکرہ کیا ہے جنھوں نے تاریخ عالم پر گہرے اور انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اس کتاب انھوں نے نبی ﷺ کا تذکرہ سب سے پہلے کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ” میں نے اپنی کتاب میں ان سو آدمیوں کا تذکرہ کیا جنہوں نے تاریخ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ان میں سب سے پہلے محمد ﷺ کا تذکرہ کیا ہے۔ اس سے بعض لوگ حیران ہوں گے کہ میں نے ایسا کیوں کیا ہے ۔۔۔۔؟ ایسا کرنے کی میرے پاس ایک ٹھوس دلیل موجود ہے وہ یہ کہ کائنات میں جتنی بھی ہستیاں آئیں جب ہم ان کے حالات پڑھتے ہیں تو وہ ہمیں اپنے بچپن سے لڑکپن میں کسی نہ کسی استاد کے سامنے بیٹھے تعلیم پاتے نظر آ تے ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان تمام ہستیوں نے پہلے مروجہ تعلیم حاصل کی پھر اس کو بنیاد بنا کر انہوں نے زندگیوں میں کچھ اچھے کام کر دکھائے لیکن دنیا میں فقط ایک ہستی ایسی نظر آ تی ہے کہ جس کی زندگی کی تفصیلات کو دیکھا جائے تو پوری زندگی کسی کے سامنے شاگرد بن کر بیٹھی نظر نہیں آ تی۔ وہ ہستی ہیں محمدﷺ ۔ یہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے دنیا سے علم نہیں پایا بلکہ دنیا کو ایسا علم دیا کہ اس جیسا علم نہ پہلے کسی نے دیا اور نہ بعد میں کوئی دے گا۔ لہٰذا اس بات پر میرے دل نے چاہا کہ جس شخصیت نے ایسی علمی خدمات سرانجام دی ہوں میں غیر مذہب کا آدمی ہونے کے باوجود ان کو تاریخ کی سب سے اعلیٰ شخصیات میں پہلا درجہ دینے پر خود کو مجبور پاتا ہوں۔ریمنڈ لیروگ نبی ﷺ کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتا ہے”نبی عربی ﷺ اس معاشرتی اور بین الاقوامی انقلاب کے بانی ہیں جس کا سراغ اس سے قبل تاریخ میں نہیں ملتا۔ انہوں نے ایک ایسی حکومت کی بنیاد رکھی جسے تمام کرہ ارض پر پھیلنا تھا اور جس میں سوائے عدل اور احسان کے اور کسی قانون کو نہیں ہونا تھا۔ ان کی تعلیم تمام انسانوں کی مساوات، باہمی تعاون اور عالمگیر اخوت تھی“۔

    غیر مسلم مورخین کے ان گلہائے عقیدت سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ رسالت ماٰ ب ﷺ کی محبت وعقیدت ان کے دلوں میں بھی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان بھی دل وجان سے رسول مقبول ﷺ کے اقوال ، افعال اور احوال کو حرز جان بنائیں اور ان پر عمل کریں اسی میں ہماری دین ودنیا کی کامیابی اور کامرانی ہے ۔

  • نام کتاب : قرآن مجید دا پنجابی ترجمہ ،مترجم : پروفیسر روشن خان کاکڑ

    نام کتاب : قرآن مجید دا پنجابی ترجمہ ،مترجم : پروفیسر روشن خان کاکڑ

    نام کتاب : قرآن مجید دا پنجابی ترجمہ ،مترجم : پروفیسر روشن خان کاکڑ
    صفحات : 623
    ناشر : دارالسلام لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    ہدیہ : 1750روپے
    اس وقت دنیا میں بہت سی الہامی کتابیں موجود ہیں جیسا کہ توارات انجیل ، زبوراور بائبل وغیرہ ۔ یہ ساری کتابیں تحریف شدہ ہیں اس کے باوجود ان کتابوں کے پیروکار دنیا کی تقریباََ ہر زبان میں ان کے تراجم شائع کرکے ہر خطے میں پہنچا رہے ہیں ۔ جبکہ قرآن مجید اللہ کی سچی کتاب ہے ، اپنی اصل شکل وحالت میں موجود ہے ۔ یہ تمام بنی نوع انسان کیلئے کتاب ہدایت ہے۔یہ دنیا کی واحد مقدس کتاب ہے جس میں قیامت اور اس کے بعد بھی پیش آمدہ حالات ومعاملات کے بارے میں رہنمائی کی گئی ہے ۔ جس قوم نے بھی قرآن مجید کو پڑھا سمجھا اور اس پر عمل کیا وہ دنیا میں بھی کامیاب وکامران ٹھہری اور آخرت میں بھی کامیابی ان کا مقدر بنی ہے۔ قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لیا ہوا ہے مگر اللہ نے ہم مسلمانوں کی بھی یہ ذمہ داری لگائی ہے کہ ہم قرآن مجید پڑھیں ، سمجھیں یاد کریں ، اس کی تبلیغ کریں، دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے تراجم شائع کرکے ہر خطے میں پہنچائیں تاکہ اللہ کا پیغام عام ہو اور قرآن مجید کی تعلیمات کو فروغ ملے ۔ اس میں شک نہیں کہ اس وقت دنیا میں ہزاروں زبانیں لکھی اور بولی جارہی ہیں جبکہ اربوں کی تعداد میں مسلمان بستے ہیں لیکن یہ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ اب تک قرآن مجید کے تراجم تقریباََ110زبانوں میں ہی ہوئے ہیں۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کی ہر زبان میں قرآن مجید کے تراجم شائع کیے جائیں اور دنیا کے ہر خطے میں پہنچائے جائیں۔ کنگ فہد ہولی قرآن کمپلیکس ( سعودی عرب ) کے بعد سب سے زیادہ تراجم شائع کرنے کااعزاز دارالسلام کو حاصل ہے ۔ پنجابی بھی ایک بڑی زبان ہے ۔پاکستان میں ساٹھ فیصد لوگ پنجابی زبان سمجھتے اور بولتے ہیں ۔ اس کے علاوہ پنجابی پوری اسلامی دنیا میں تیسری ، برصغیر کے مسلمانوں میں دوسری اور دنیا میں نویں بڑی زبان کا درجہ رکھتی ہے ۔ اب اللہ نے دارالسلام کو پنجابی زبان میں بھی قرآن مجید کا ترجمہ شائع کرنے کااعزاز بخشا ہے ۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ دارالسلام نے پنجابی زبان میں پہلا پنجابی ترجمہ ہے بلاشبہ اس سے قبل بھی پنجابی زبان میں قرآن مجید کے بہت سے تراجم شائع ہوچکے ہیں ۔

    تاہم تحقیق ،معیار اور عمدہ طباعت دارالسلام کا طرہ امتیاز ہے اسلئے بہر حال یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ دارالسلام نے پنجابی زبان میں قرآن مجید کے ترجمہ کی اشاعت میں تحقیق ،معیار اور عمدہ طباعت کو قائم رکھا ہے ۔زیر نظر قرآن مجید دا پنجابی ترجمہ پروفیسر روشن خان کاکڑ نے کیا ہے ۔ روشن خان کیمسٹری کے پروفیسر رہے ہیں ۔ وہ انگلش ، اردو کے علاوہ پنجابی ادب میں بھی اچھی مہارت رکھتے ہیں ۔ سونے پر سوہاگہ یہ ہے کہ وہ عربی میں بھی کافی حد سوجھ بوجھ رکھتے ہیں ۔ان کی ایک کتاب پنجابی کے اقوال زریں پر ’’ سوہتھہ رسہ سرے تے گنڈھ ‘‘ کے نام شائع ہوکر پنجابی دان طبقہ سے داد تحسین پاچکی ہے ۔دارالسلام نے آج تک جتنے بھی قرآن مجید کے تراجم شائع کیے ہیں ہر ترجمے میں اس بات کا بہت اہتمام کیا گیا ہے کہ مترجم اپنی مادری زبان کے علاوہ عربی زبان میں بھی مہارت رکھتا ہو اس لئے کہ اس کے بغیر قرآن مجید کے ترجمے کاحق ادا نہیں کیا جاسکتا ۔پروفیسر روشن خان کاکڑ ان دونوں خوبیوں سے متصف ہیں ۔ پنجابی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ ان کا دیرینہ شوق تھا انھوں نے اس پر طویل عرصہ تک کام کیاہے ۔اس ترجمہ پر نظر ثانی قاری طارق جاوید عارفی نے کی ہے جو کہ د ارالسلام کے سینئر ریسرچ سکالر ہیں ۔ پروف ریڈنگ دارالسلام سنٹر کے سکالر مختار احمد ضیا نے کی ہے ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد دارالسلام نے نہایت ہی عمدہ پیپر اور مضبوط جلدبندی کے ساتھ اسے شائع کیا ہے ۔ دارالسلام کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں کہ پنجابی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ شائع کرنا ہمارے لئے اعزاز ہے ۔ یہ قرآن مجید پنجابی دان طبقہ کیلئے ایک ہدیہ ہے ۔ ہماری عرصہ دراز سے پنجابی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ شائع کرنے کی خواہش تھی جوکہ الحمدللہ پوری ہوچکی ہے پنجابی زبان میں قرآن مجید کے ترجمہ کی اشاعت کے بعد دارالسلام کو30زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم شائع کرنے کااعزاز حاصل ہوچکا ہے جس پر ہم اللہ کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہیں ۔ پنجابی بولنے اور سمجھنے والوں کے لئے قرآن کا پنجابی ترجمہ یقینا فروغ پائے گا اور پنجابی سے لگائو رکھنے والے اس سے مستفید ہوں گے ۔قرآن مجید دے پنجابی ترجمہ دا ہدیہ 1750روپے ہے ۔ یہ قرآن مجید دارالسلام لوئرمال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور دستیاب ہے یا قرآن مجید براہ راست حاصل کرنے کیلئے درج ذیل فون نمبر1042-37324034 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

  • مسجد اللہ کا گھر ہے اور اس پر بچوں کا بھی حق ہے!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مسجد اللہ کا گھر ہے اور اس پر بچوں کا بھی حق ہے!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    عشاء کی نماز میں جیسے ہی امام صاحب نے سلام پھیرا، ایک بزرگ میرے ساتھ بیٹھے شخص کے ساتھ شروع ہو گئے کہ چھوٹے بچے کو مسجد میں کیوں لائے ہیں۔ نابالغ بچوں کو مسجد میں نہ لایا کریں۔ وہ شخص تو خاموش رہا لیکن میں نے اس بزرگ سے کہا کہ بقیہ نماز کے بعد اس کا جواب آپ کو میں دیتا ہوں، ابھی آپ خاموش ہو جائیں پلیز۔

    باقی نماز مکمل کرنے کے بعد میں ادھر ہی بیٹھ گیا۔ اس بزرگ نے نماز مکمل کی تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے کتنے بیٹے ہیں؟
    انھوں نے جواب دیا ماشاءاللہ تین ہیں اور ادھر ہی سب کے گھر ساتھ ساتھ ہی ہیں۔

    میں نے پھر پوچھا کہ پوتے کتنے ہیں؟

    کہنے لگے، ماشاءاللہ تینوں بیٹے صاحبِ اولاد ہیں۔ تینوں سے پانچ پوتے ہیں۔

    میں نے پوچھا کہ ابھی عشاء کی نماز پر آپ کے بیٹوں اور پوتوں میں سے کوئی آیا تھا؟

    انھوں نے نفی میں سر ہلا دیا۔

    میں نے انھیں کہا کہ بزرگو! اگر بچپن سے ہی بچوں کو مسجد میں ساتھ لانے کی عادت ڈالی ہوتی تو ابھی آپ کے بیٹوں اور پوتوں میں سے بھی یہاں مسجد میں موجود ہوتے۔ جب بچے چھوٹے ہوتے ہیں تو وہ مسجد آنے کی ضد کرتے ہیں تب ہم انھیں منع کر دیتے ہیں، وہ روتے ہیں، ضد کرتے ہیں لیکن انھیں روتا چھوڑ کر آجاتے ہیں۔ بعد میں بڑے ہو جاتے تو آپ کہتے ہیں تو وہ نہیں آتے۔ بچپن سے ہی عادت بنانی پڑتی ہے۔

    بات تھوڑی سی انھیں سمجھ آئی ، مگر کہنے لگے کہ ٹھیک ہے لیکن نابالغ بچوں کو نہیں لانا چاہیے، وہ دوسروں کی نماز خراب کرتے ہیں۔
    میں نے کہا کہ بزرگو!بچوں کو سات سال میں ہی نماز پڑھانے کا حکم ہے اور دس سال تک نہ پڑھیں تو سختی کا حکم ہے۔ اب سات سال کا کونسا بچہ بالغ ہو جاتا ہے؟

    کیا آپ نے احادیث شریف میں پڑھا ہے کہ سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر مبارک پر چڑھ جاتے تھے اور انھیں سجدہ بھی لمبا کرنا پڑ جاتا تھا۔ پھر خطبہ جمعہ کے دوران بھی جب یہ دونوں آتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اٹھا کر پاس ممبر پر بٹھا لیتے تھے۔ اور بھی کئی بچوں کا ذکر ملتا ہے۔ تو کیا یہ بچے چھوٹے نہیں تھے؟

    اور نماز کیسے خراب ہوتی؟بچوں کے شور سے؟ تو باہر گلی سے شور نہیں آ رہا کیا؟

    آگے گزرنے سے؟ تو آگے سے بچے گزر جائیں، انھیں کوئی گناہ نہیں کیونکہ وہ چھوٹے ہیں۔

    کوئی بھی بچہ چند دن بھی مسجد آجائے تو اسے سارے ادب و آداب کو پتہ چل جاتا ہے۔

    پھر میں نے پچھلی صف کی طرف اشارہ کیا کہ وہ دو بچے بیٹھے ہیں، دونوں میرے بیٹے ہیں۔ ایک دس سال کا اور دوسرا چار سال کا۔ بڑا خود شوق سے آیا ہے کہ اسے پتہ ہے اب اس پر نماز فرض ہے اور چھوٹا خود ضد کر کے آیا ہے۔ میں نے کہا بھی تھا کہ ابھی بہت سردی ہے، آج نہ آؤ لیکن اس نے جرسی کوٹ پہنا، بوٹ پہنے اور آگیا۔ ابھی دیکھیں سکون سے بیٹھے ہیں۔ دونوں کو مسجد کے آداب کا پتہ ہے۔
    میرے والد صاحب مجھے چھوٹے ہوتے سے ہی مسجد ساتھ لے کر جاتے تھے۔ اس کے بعد اللہ کے کرم سے ایسی عادت بنی کہ کسی وجہ سے جماعت رہ جائے تو بے چینی لگی رہتی ہے ۔

    فرانس میں دیکھا کہ وہاں بسنے والے عربوں اور ترکوں میں نماز کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ اس کی باقی کے ساتھ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو چھوٹے وقت سے ہی مسجد میں ساتھ لاتے ہیں۔ جبکہ یہاں برصغیر پاک و ہند میں کوئی بچہ مسجد آجائے تو اسے ڈانٹا جاتا ہے، کئی مساجد میں شور کرنے یا شرارتیں کرنے پر مارا جاتا ہے ، اور یوں اسے شروع سے ہی مساجد سے متنفر کر دیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے وہ مسجد جو جمعہ کی نماز پر بھری ہوتی ہے، اسی میں باقی نماز کے اوقات میں پانچ دس فیصد سے زیادہ نمازی نہیں ہوتے۔

    مسجد اللہ کا گھر ہے۔ اس پر بچوں کا بھی اتنا حق ہے جتنا بڑوں کا۔ جو بچے آئیں انھیں پیار دیں اور پیار سے سمجھائیں۔ جو بچوں کا ساتھ لائے اسے ایسے نہ گھوریں کہ جیسے اس نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے۔ وہ پیار سے سمجھاتا ہے بچوں کا، اسے سمجھانے دیں۔

    میں نے ادب سے انھیں سلام کیا اور آگیا۔

    اگلے دن اس بزرگ کے ساتھ اس کے دو پوتوں کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔

  • پاکستان میں بے نمازی کیوں زیادہ ہیں؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    پاکستان میں بے نمازی کیوں زیادہ ہیں؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    پاکستان میں بے نمازی کیوں زیادہ ہیں؟ بے نمازیوں کو نماز کی طرف راغب کیسے کر سکتے ہیں؟

    برصغیر کے علاوہ آپ کہیں بھی چلے جائیں ایک واضح فرق یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ وہاں مسلمان تعداد میں کم ہونے کے باوجود بھی مساجد بھری ہوئی ملتی ہیں۔ جبکہ یہاں پاکستان میں حال یہ ہے کہ جمعہ کی نماز پر کسی بھی مسجد میں جگہ نہیں ملتی جب کہ کسی بھی دوسری نماز پر ایک بھی صف پوری نہیں ہوتی۔ اس کی وجوہات اور ان کے حل پر لکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم زیادہ لوگوں کو نماز کی طرف راغب کر سکیں۔

    اس کی وجوہات جو مجھے سمجھ آتی ہیں ان میں یہ تین بہت اہم ہیں۔

    1۔ نماز کی قدرو منزلت واہمیت۔۔۔ نہ پڑھنے کی وعید

    کسی بھی کام کے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بندے کو اس کی قدرو منزلت واہمیت کا ادراک ہو۔ وہ کام دین سے متعلق ہو تو اس کے کرنے کی صورت میں اجروثواب اور نہ کرنے کا گناہ وعذاب کے بارے معلوم ہو۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اب بہت کم لوگ دین سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لوگوں کے دین سیکھنے کا واحد ذریعہ یا تو عصری کتب میں موجود چند ایک اسلامی مضامین ہیں یا جمعہ کہ خطبات۔ عصری تعلیم میں چند ایک واجبی سی باتوں کے علاوہ کچھ بھی ایسا نہیں ہے جو دین کی صحیح تعلیم دے سکے۔ جمعہ کے خطبات میں مولویوں کو مسلکی لڑائیوں سے ہی فرصت ہی نہیں ہے۔ قرآن مجید ہی کوئی نہیں کھولتا تو احادیث کی کتب کا مطالعہ کون کرے گا۔

    کسی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ قرآن پاک اور سنت میں سب سے زیادہ تاکید اور حکم نماز کے بارے ہی ہے اور اس کو کسی بھی حالت میں نہیں چھوڑ سکتے۔ یہاں تک کہ بیمار ، معذور، لاغر حتیٰ کہ موت کے منہ میں پہنچے ہوئے کو بھی نماز معاف نہیں ہے۔ سب سے پہلے اسی کے بارے ہی سوال ہونا ہے۔ خدانخواستہ ہم پہلے ہی سوال میں فیل ہو گئے تو پھر کیسے کامیابی ملے گی؟

    2۔ فرض نماز کتنی ہے؟فرض نماز پر کتنا وقت لگتا ہے؟ کوئی سنت نماز نہ پڑھے تو گناہ ہو گا؟

    دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو فرض، سنت ، نفل کا فرق معلوم نہیں ہے اور اکثریت کے نزدیک عشاء کی سترہ اور ظہر کی بارہ رکعت پڑھنی لازم ہیں۔ فرانس میں عربیوں کا دیکھتا تھا کہ سخت سردی میں بھی جماعت کے لیے لازمی مسجد آتے تھے لیکن فرض پڑھتے ہی نکل کر کام میں لگ جاتے تھے۔ تب بڑا غصہ آتا تھا کہ سنت پڑھتے ہی نہیں۔ شروع میں مساجد سے آئمہ کرام سے اس بابت پوچھا تو جواب ملا کہ سنت چھوڑنے پر گناہ ہو گا۔ جب خود مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ سنت نماز دراصل نوافل ہیں ، کچھ وہ (سنت مؤکدہ )جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لازمی پڑھتے تھے اور کچھ وہ جو کبھی پڑھ لیتے تھے کبھی نہیں۔ ان سب کی تاکید تو کی ہے اور بہت زیادہ ثواب بھی بتایا ہے لیکن حکم نہیں ہے۔ یعنی پڑھیں تو بہت ہی زیادہ اجروثواب ہے لیکن کوئی نہ پڑھے تو گناہ نہیں ہے۔ بعد میں علماء کرام سے پوچھا تو دیوبندی اور اہل حدیث علماء کرام نے اس کی تصدیق کی کہ کوئی سنت مؤکدہ بغیر کسی وجہ کے بھی نہ پڑھے تو گناہ نہیں ہوگا۔ اور نوافل تو پتہ نہیں کس نے شامل کر دیے ہیں جن کی کوئی اصل نہیں ہے۔ اکثر دیکھتا ہوں کہ یہ فرق معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ جلدی جلدی پڑھنے لگے ہوتے ہیں حالانکہ وقت کی کمی ہے تو صرف فرض پڑھ لیں لیکن سکون سے پڑھیں۔ گھر میں اکثر خواتین کو خشوع وخضوع کی بجائے بس جلدی جلدی ختم کرتے دیکھتا ہوں۔

    بے نمازیوں کو اگر یہ بتا دیا جائے کہ صرف پانچوں فرض نمازوں کی سترہ فرض کی رکعتیں ہیں جن کی باز پرس ہونی ہے اور وہ لازمی پڑھنی ہیں اور باقی پڑھو یا نہ پڑھو تو ان کی اکثریت جماعت کے ساتھ نماز کا اہتمام کر لے گی۔ سنت ونوافل کی اہمیت بہت ہے اور اس کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ جو کمی کوتاہی ہماری نماز میں رہ گئی ہو اس کے لیے ہمارے سنت ونوافل کام آجائیں لیکن کبھی وقت کی کمی ہو یا جلدی ہو تو صرف فرض پڑھ لیں۔

    اور بے نمازی لوگ پہلے صرف فرضوں کا اہتمام کر لیں پھر جب نماز کی عادت پختہ ہو جائے تو سنت ونوافل کے اہتمام کی کوشش کر لیں۔ یاد رہے کہ فرض نماز کا جہاں بھی قرآن وسنت میں تذکرہ ملے گا تو واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ پڑھنے پر کیا اجروثواب ہے اور نہ پڑھنے پر کیا عذاب و وعید۔ لیکن سنت ونوافل کی بات جہاں بھی کی گئی ہے صرف اور صرف اجروثواب کا ذکرہے، کہیں بھی اشارے کنایوں میں بھی گناہ یا وعید کا تذکرہ بھی نہیں ہے۔

    3۔شفاعت کا غلط تصور

    برصغیر کے لوگوں کا اپنا من پسند اسلام ہے۔اکثریت کی سوچ یہ ہے کہ ہم کچھ بھی کرتے رہیں، چاہے دین کے کسی بھی حکم پر عمل نہ کریں پھر بھی ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہو جائے گی اور ہمیں تو جنت سب سے پہلے ملنی ہے۔ پھر اس پر مستہزاد یہ کہ پیروں فقیروں سے امیدیں کہ وہ بخشش کروا دیں گے۔ اس کے لیے یہ بھی نہیں سوچتے کہ جس رب کی وہ دن میں پانچ بار نافرمانی کررہے ہیں اور حکم عدولی کر رہے ہیں اس رب کے سامنے کوئی ان کی شفاعت کیونکر کر سکے گا؟

    شفاعت اس کی تو ہو سکتی ہے جس سےجانے انجانے یا بشری کمزوریوں کی وجہ سےگناہ ہو گئے ہوں لیکن ایک عادی نافرمان اور جانتے بوجھنے حکم عدولی کرنے والا خود کو اس کا مستحق کیسے سمجھ سکتا ہے۔

    اگر خدانخواستہ آپ نماز کی پابندی نہیں کرتے تو آج سے ہی اس کا اہتمام کیجیے۔ ابھی صرف فرض اور وترنماز پڑھنا شروع کردیں۔ پھر سنتوں کا اہتمام کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ ضرور دے گا انشاءاللہ۔

  • گھر سے باہر نکلنے پر کیا خواتین سے نماز ساقط ہو جاتی ہے؟ —  ڈاکٹرعدنان نیازی

    گھر سے باہر نکلنے پر کیا خواتین سے نماز ساقط ہو جاتی ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    گھر سے باہر نکلنے پر کیا خواتین سے نماز ساقط ہو جاتی ہے؟ یا پاکستان میں نمازی خواتین گھر سے باہر نکلتی ہی نہیں ہے؟
    اگر یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں تو پھر خواتین کے لیے نماز کی جگہ کیوں نہیں بنائی جاتی؟

    یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس پر شاید ہی کسی نے بات کی ہو لیکن ہر روز لاکھوں خواتین کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موٹروے کے علاوہ آپ پاکستان کی کسی بھی سڑک پر کسی بھی علاقے میں سفر کر لیں یا پاکستان کے کسی بھی بازار میں چلے جائیں، یا کسی پارک یا ٹورسٹک پوائنٹ پر چلے جائیں، ہر جگہ آپ کو مردوں کے لیے جا بجا مساجد نظر آتی ہیں لیکن ان میں شاید ہی کوئی ایسی مسجد ملے جس میں خواتین کے لیے بھی مخصوص جگہ ہو جہاں وہ نماز پڑھ سکیں۔ ہاں جو غیر ملکیوں نے بنائی ہو گی جیسے موٹروے، کوئی ملٹی نیشنل پلازہ یا شاپنگ مال، یا غیر ملکی بڑا پٹرول پمپ، وہاں ایسی مساجد بھی مل جائیں گی۔

    حالانکہ نماز کے لیے جتنی فرضیت مسلمان مردوں پر ہے اتنی ہی خواتین پر ہے۔ خواتین کے لیے گھر میں پڑھنا افضل ہے لیکن یہ کیوں فرض کر لیا گیا ہے کہ خواتین جہاں بھی ہوں ، نماز کا وقت ہوتے ہی فوراً سے گھر پہنچیں اور پھر نماز ادا کریں؟

    اگر کسی مسجد میں کچھ حصہ پردے وغیرہ لگا کر خواتین کے لیے مختص کر دیا جائے جیسا یورپ میں عام طور پر ہوتا ہے یا پھر مسجد کا ایک مکمل الگ حصہ بنا دیا جائے جیسا کہ موٹروے پر آپ دیکھ سکتے ہیں تو اس سے لاکھوں خواتین کی نماز قضاء ہونے سے رہ جائے گی۔ اور اکثر دیکھتا ہوں کہ جب اس طرح خواتین کی کچھ نمازیں قضاء ہونا شروع ہوتی ہیں تو رفتہ رفتہ وہ سستی کی وجہ سے وہ نمازیں بھی ترک کرنا شروع کر دیتی ہیں جو وہ پڑھ سکتی ہیں کیونکہ وہ جو نماز چھوڑنے پر گناہ کا اور ندامت کا احساس ہوتا ہے وہ آہستہ آہستہ کم ہو کر ختم ہو جاتا ہے کیونکہ یہ نمازیں ان کی نہیں بلکہ معاشرے کی غلطی کی وجہ سے قضاء ہو رہی ہوتی ہیں۔

    نمازی خواتین کی جو اس طرح نمازیں قضاء ہوتی ہیں اس پر انھیں تو شاید اللہ تعالیٰ معاف کر دے گالیکن ہم سب اس میں قصوروار ضرور ہونگے اور اس میں ہمارا دینی طبقہ اور علماء کرام خاص طور پر پکڑے جائیں گے جو ہر گلی میں ہر مسلک کی الگ الگ مسجد تو بنا دیتے ہیں لیکن ایسا کبھی نہیں کرتے کہ ان میں سے کسی مسجد کا تھوڑا سا حصہ خواتین کے لیے مختص کر دیں۔

    احباب سے گزارش کروں گا کہ اس پر آواز بھی اٹھائیں، اور جب بھی کسی مسجد کو چندہ دیں تو وہاں بھی یہ بات ضرور کریں۔ یہ خواتین کا دینی حق ہے کہ وہ مجبوری کی حالت میں گھر سے باہر بآسانی نماز پڑھ سکیں۔ خواتین کے حقوق کی بات کرنے والے اس پر کبھی بات نہیں کریں گے، ہمیں ہی اس پر بات کرنی ہے۔

  • مال خرچ کرنے کی توفیق!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مال خرچ کرنے کی توفیق!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مال وزر کمانے کی توفیق جیسے سب کو برابر نہیں ملتی ایسے ہی مال خرچ کرنے کی توفیق بھی ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔ اللہ ہر کسی کو مال و زر کی محبت سے بچائے رکھے کیونکہ جو مال و زر کی محبت میں مبتلا ہو جائے اس کا دھیان ہر وقت مال کمانے میں لگا رہتا ہے اور مال خرچ کرتے ہوئے اسے موت پڑتی ہے۔

    آپ جو بھی کما رہے ہوں، اس کو ہمیشہ دو حصوں میں تقسیم کریں، ایک حصہ آج کے لیے اور دوسرا حصہ کل کے لیے۔ جو حصہ آج کے لیے ہے اس کے مزید دو حصے ہونگے، ایک حصہ اپنے اوپر خرچ کریں اور دوسرا حصہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کریں ۔ اسی طرح جو حصہ کل کے لیے ہے اس کے بھی مزید دو حصے ہونگے، ایک حصہ اس دنیا میں اپنے کل کے لیے بچائیں اور دوسرا حصہ آخرت میں اپنے کل کے لیے غریبوں مسکینوں پر خرچ کریں۔

    اگر آپ کی آمدن کم ہے تو جو حصہ غریبوں مسکینوں پر خرچ کرنا ہے وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کریں تو اس کے ثواب کے بھی مستحق ٹھہریں گے اور جو حصہ اس دنیا میں اپنے لیے بچا رہے وہ بھی اسی لیے ہے کہ جب ضرورت ہو اس میں سے خرچ کر لیاجائے۔

    اکثر لوگ ان میں سے کوئی نہ کوئی بے اعتدالیاں کرتے ہیں۔ جیسے کچھ لوگ سب کچھ ہی اپنے اہل و عیال پر خرچ کر دیتے ہیں لیکن خود پر کچھ خرچ نہیں کرتے۔ یہ درست رویہ نہیں ہے، جو کما رہے ہیں اس میں سے خود پر بھی خرچ کرنا سیکھیں۔ ایسے ہی کچھ لوگ کل کے لیے ہی بچا کر رکھنا چاہتے ہیں اور حد درجہ کنجوسی کرتے ہیں۔ ایک چوتھائی سے زیادہ اگر آپ بچا رہے ہیں تو کنجوسی کے زمرے میں ہی آئے گا کیونکہ آپ کی آمدن کے لحاظ سے آپ کا آج بہتر ہونا ضروری ہے، پہلے آج ہے اور بعد میں کل۔

    ایسے ہی ضرورت کے تحت صدقہ والا حصہ بھی اہل و عیال پر خرچ کیا جا سکتا ہے لیکن اس میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ضرورت ہے یا فضول خرچی۔ ضرورت ہو تو یہ خرچ بھی باعث ثواب ہو گا اور فضول خرچی ہوئی تو وبال کا باعث۔

    صدقے والے حصہ میں یہ یاد رکھیں کہ سب سے زیادہ حق آپ کے غریب رشتہ داروں کا ہے، اس کے بعد محلے والوں کا اور اس کے بعد کسی اور کا۔

    اللہ ہمیں اپنے دیے ہوئے مال میں سے صحیح طریقے سے خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔