Baaghi TV

Category: مذہب

  • شہادت حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ تحریر:سید عمیر شیرازی

    شہادت حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ تحریر:سید عمیر شیرازی

    قرآن پاک میں اللہ پاک فرماتا ہے
    وہ لوگ جو میرے راستے میں قتل کر دیے جائیں انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم ان کی زندگی سمجھ نہیں سکتے دوسری جگہ اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں
    وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں قتل کر دیے گئے ہیں انہیں مردہ گمان بھی نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس سے انہیں رزق ملتا ہے،
    شہداء اپنی فانی زندگیوں کو قربان کر کے ابدی حیات پاتے ہیں حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت بہت بڑی فضیلت والی شہادت ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماہ محرم اور خصوصا "یوم عاشورہ” کو فضیلت بخشی گئی ہے۔
    اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی حضرت ادریس علیہ السلام کو بلند مرتبے پر فائز کیا
    حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ کو ٹھنڈا کیا،حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی سے اتارا،حضرت موسی علیہ السلام پر توریت نازل ہوئی،
    حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھوں کی روشنی واپس آئی،حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نکالا،حضرت یوسف علیہ السلام قید سے آزاد ہوئے۔۔
    اس حوالے سے یوم عاشوراء کی عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور اس روز کا روزہ رکھنا بڑی فضیلت کا حامل ہے
    واقعہ کربلا اسلامی تاریخ میں ایک ایسا واقعہ ہے جہاں انسان کی عقل کام کرنا چھوڑ جاتی ہے کیسے نواسہ رسولﷺ کی آل پر ظلم کیا گیا بڑے بچے بزرگوں سب کو شہید کرکے،
    حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے ہمیشہ اپنی قوم کا ساتھ نبھایا لیکن آپؓ کی صفوں میں ابن سباء لعنتی کی نسل نے گھر جمادیا اور آپؓ کو دھوکے سے میدان کربلا بلایا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ بات چیت کے لئے گئے لیکن شاید اللّه کو کچھ اور منظور تھا آپؓ کی شہادت کا وقت قریب سے قریب تر تھا آپؓ اپنے پورے خاندان کے ہمراہ سفر پر آئے اور آپؓ پر راستے میں بھی ظلم کی داستان نا ختم ہوئی لیکن اسکے باوجود حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ واپسی کے لئے نہیں پلٹے بلکے حق پر قائم رہے۔

    رجب ٦٠ ھ ہجری میں جب حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے وصال کے بعد یزید نے مدینہ منورہ کے گورنر ولید بن عتبہ لکھا کہ حسین ابن عمر اور ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ سے فوری طور پر بعیت لےلو اور جب تک وہ بعیت نہ کریں انہیں مت چھوڑو،
    حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے یزید کی بیعت سے انکار کیا اور مکہ تشریف لے گئے آپ رضی اللہ عنہ کے نزدیک یزید مسلمانوں کی امامت و سیادت کہ ہرگز لائق نہیں تھا بلکہ فاسق و فاجر،شرابی اور ظالم تھا حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو (کوفیوں) نے متعدد خطوط لکھے اور کئی قاصد بھیجے کے آپ کوفے آئیں ہمارا کوئی امام نہیں ہم آپ سے بعیت کریں گے۔
    خطوط کی تعداد اس قدر تھی کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ سمجھا کہ مجھ پر ان کی رہنمائی کے لئے اور انہیں فاسق و فاجر کی بعیت سے بچانے کے لئے جانا ضروری ہو گیا ہے،
    حالات سے آگاہی کے لیے آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالی عنہ کو کوفہ بھیجا جن کے ہاتھ پر بے شمار لوگوں نے آپ کی بیعت کرلی لیکن جب ابن زیاد نے دھمکیاں دی تو (کوفی) اپنی بعیت سے پھر گے اور مسلم بن عقیل رضی اللہ شہید کر دیئے گئے۔۔
    جب حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت اور (اہل کوفہ) کی بے وفائی کی خبر اس وقت ملی جب آپؓ مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہو چکے تھے
    مختصر یہ ہے کہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے میں بچے خواتین اور مرد ملا کر (بیاسی 82) نفوس تھے جو کہ جنگ کے ارادے سے بھی نہیں آئے تھے ان کے مقابلے کے لیے یزیدی فوج بائیس ہزار سوار پیادہ مسلح افراد پر مشتمل تھے اور اس کے باوجود ظالموں نے (اہل بیت اطہارؓ) پر دریائے فرات کا پانی بند کر دیا تین دن کے بھوکے پیاسے سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اپنے 18 اہل بیتؓ اور دیگر چون 54 جاں نثاروں کے ہمراہ دس محرم الحرام ٦١ ھ میدان کربلا میں شہید کر دیے گئے۔
    اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اہل بیت اور صحابہ کی سچی محبت کرنے والا بنا دے اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا مقصد سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا کامل ایمان والا بنا دے
    آمین ثم آمین

    @SyedUmair95

  • اسلام اور پیغامِ کربلا   تحریر: حمزہ احمدصدیقی

    اسلام اور پیغامِ کربلا تحریر: حمزہ احمدصدیقی

    دین اسلام امن و سلامتی کا علم بردار، پرامن، بقائے باہمی، سلامتی و آشتی، تحمل و رواداری ، پیار و خیرسگالی کو فروغ دینے والا مذہب ہے، جس میں ظلم و ستم اور تشدد کی مطلق گنجائش نہیں، حق تلافی، ہر قسم کی دھوکے بازی، غبن اور سود حرام ہے، خوف و دہشت کا کوئی تصور نہیں،ذات پات اور رنگ ونسل کی بنیاد پر تفریق کا بالکل جوازنہیں ہے۔

    دین اسلام امن کا درس دیتا ہے لیکن بدقسمتی ہمارے دین کو دنیا بھر میں انتہا پسندی اور دہشتگردی کی تعلیم دینے والے مذہب سے تشبہہ دی جاتی ہے۔ مغربی لوگوں نے ہمارے دین اسلام کے خلاف بھرپور پروپگینڈا مہم شروع کر رکھی ہوٸی ہے طرح طرح کی تاویلات اور غلط تشریحات سے ہمارے دین اسلام کا مبارک چہرہ مسخ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے جو اہل ایمان والوں کیلٸے لمحہ فکریہ ہے۔

    دین اسلام کو آج سنگین چیلنجوں اور کڑی آزمائشوں کا سامنا ہے۔ بالخصوص دہشت گردی کے حوالے سے ہمارے مذہب اسلام رسوائیوں کا سامنا ہے۔ یہ سب ہمارے قوم اور ریاست کے حکمران اور دین فروش صاحبان جو دین ملت کی مصلحت کوشی، دین سے دوری، مفاد پرستی، اقربا پروری، انا پرستی ،کند ذہنی ، جہاہلانہ سوچ، تفرقہ بازی، اور منتقمانہ مزاجی کا ثمر ہے اور اس زبوں حالی کی بنیادی وجہ اسلامی تعلیمات سے رو گردانی، خاتم النبیینﷺ کے اسوہ حسنہ اور تعليمات سے بے اعتنائی اور نواسہ رسول حضرت حسینؓ بن علیؓ کے لہو سے رقم ہونے والے پیغام واقعہ کربلا کو بھلا دینا ہے۔

      حسینؓ بن علیؓ اور شہدائے کربلا نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے نانا کے دی اسلام کی بقا اور اسکی سر بلندی کیلٸے اپنا سب کچھ راہ خدا پہ قربان کرنے کا جو درس دیا وہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جاٸے گا مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے؟ کہ دنیا بھر کے مسلمان ہر سال حسینؓ بن علیؓ اور ان کے جانثاروں کی شہادت کو جس دل سوزی کے ساتھ یاد کرتے ہیں اور ان کے غم میں اشک بار ہوتے ہیں؟ کیا واقعی اپنی عملی زندگی میں بھی اسی چاہت و محبت، عقیدت اور اخلاص نیت کے ساتھ اسوہ حسینیؓ پر عمل بھی کرتے ہیں؟

    کیا موجودہ دور کے یزیدیوں کے خلاف آج بھی مسلمانوں کے حکمراں حضرت حسینؓ بن علیؓ کی طرح صف آرا نظر آتے ہیں؟ کیامسلمانوں نے واقعہ کربلا کے حقیقی پیغام کو سمجھا اور کوئی سبق حاصل کیا؟ افسوس کہ ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔

    قارئين اکرام!! کشمیر، فلسطین، شام،اور برما کو دیکھ لیجیے کہ کیسے ان ظلم و ستم ڈھاٸے جارہے اور وقت کے یزیدوں کے سامنے ہمارے مسلم حکمراں سر جھکائے کھڑے رہتے ہیں اس وقت کی نزاکت اور حالات کی سنگینی کا تقاضہ یہ ہے کہ مسلم حکمرانوں کو کربلا میں شہادت حسینؓ بن علیؓ اور واقعہ کربلا کے پیغام کو سمجھیں اور اس سے سبق حاصل کریں۔

    اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو ،آمین ثم آمین!!

    ‎@HamxaSiddiqi

  • نماز معراجِ مومن ہے. تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    نماز معراجِ مومن ہے. تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    معراج ایک ایسی خصوصیت ہے جس میں رب تعالیٰ سے ملاقات کا شرف انسان کو ملتا ہے. کیسی شان کریمی ہے رب العالمین کی اور تربیت رسول ختم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم دیکھیے جس نے جس طرح اس تحفہ کا حق ادا کر کے دکھایا اس کی نثال نہیں ملتی.کیسی کمال بات ہے کہ جس سر کو اونچا رکھنے کے لیے انسان زمانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے دکھائی دیتا ہے اس سر کو رب تعالیٰ کے سامنے زمین پر رکھ کہ اسکی بڑائی بیان کرتا ہے. یہ عبادت کا حسن یقیناً اللہ کی شکر گزاری کے لیے دئیے کسی تحفے سے کم نہیں ہے.
    معراج کو معراج کے درجے تک لیجانا اب انسان کا کام ہے. جسے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ سے سمجھا جا سکتا ہے. انسان جب اپنے رب کے رو برو وضو اور نیت کرنے کے بعد جب کھڑا ہوتا ہے تو کم از کم یہ احساس ضرور دل میں ہو کہ رب کریم کے سامنے کھڑا ہوں. دنیا کے کسی باس کے سامنے اچھے کپڑوں اعلی جوتے نایاب خوشبو کا استعمال کرنے والے اے انسان اس رب کریم جو کہ اس تیرے باس کا بھی رب ہے جو اس اسے بھی رزق اور عزت دیتا ہے کے سامنے جاتے وقت کم از کم اسی طرح کا اہتمام کیا تو کیا کرو. بارگاہ خالق دوجہاں ہے بارگاہ رب العالمین ہے کوئی مزاق تو نہیںجو اہتمام نا کیا جاے. یہ احساس تو کم از کم ہو کہ میں دو جہان کے خالق و مالک کے سامنے کھڑا ہوں. اس سے اعلی درجہ اس بات کا تصور اور احساس کا ہونا ہے کہ جس کے لیے فرشتوں کی صفیں رکوع و سجود میں مشغول رہتی ہیں وہ رب کریم میری نماز کو بھی دیکھ رہا ہے. جیسے جیسے انسان رب کریم کے پاس ہوتا چلا جاتا ہے اللہ رب العالمین اس پر عنایتیں بڑھاتا چلا جاتا ہے.
    بندگی کا اس سے اعلیٰ مقام یہ ہے کہ انسان جو بول رہا ہو اس چیز کی گواہی زبان سے اور دل سے بھی اس کی شہادت دے. جب زبان الحمد للہ رب العالمین بولے تو دل رب العالمین کی اس رب ہونے کی شان کو پورے وثوق سے تسلیم کرتا دکھائی دےاور اس کی تاثیر روح میں اتارے. دل اتنا موم ہو جاے جیسے روئی کا کوئی گالہ ہو. روح رب العالمین کے سامنے اقرار بندگی کرنے لگے. جسم رب کی اس شان کے اقرار میں اللہ جل شانہ کا طائب نظر آے.
    سوچئے تو سہی ابھی تو یہ احساس ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا اور سن رہا ہے. اور میرا جسم روح زبان دل سب اسی کی بندگی میں لگ چکے. بتائیں تو زرا دنیا تو کہیں دور رہ گئ. یہ تب ہی ہوگا جب آپ پہلی منزل کو بخوبی سر کریں گے کہ میں رب کے سامنے کھڑا ہوں. جس کے سامنے حشر میں پیش کیا جانا ہے. جس نے سارا کاشانہ_جہاں بسا اور چلا رکھا ہے.
    اس سے آگے معراج کی کامل منزل کا آغاز ہوتا ہے. جس میں یہ احساس ہوتا ہے. میں رب سے ملاقات میں ہوں میرے منہ سے الفاظ نکلتے ہی رب العالمین کے سامنے عاجزی پیش کر رہے ہیں. فاصلے بلکل ختم ہو چکے گویا رب العالمین کو اپنے سامنے اور خود کو دیکھتا ہو امحسوس کر رہا ہوں. بات آمنے سامنے تک آ پہنچی صاحب. احساس کی کامل انتہا ہے. بندہ رب العالمین سے محو گفتگو اور سامنے حاضر ہے عبادت کا عالم کہ دنیا کہیں دور چھوڑ آیا اس کے خیالات ختم ہو چکے بس وہ اور رب العالمین کے سامنے عاجز جسم عاجز روح تعبیدار دل لیے رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کی سدا بلند کرتے جھک جاتا ہے. تو دل گواہی دے پاک ہے میرا پروردگار عظمتوں والا. سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہْ پکارتا کھڑا ہوتا ہے. تو دل تلملا اٹھے میرے اللہ تعالیٰ نے اس بندے کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی. زبان اور دل کا یہ تال میل دنیا اور اس میں موجود ہر چیز سے زیادہ سکون روح کو مہیا کر جاتا ہے. کیا ہی خوبصورت احساس کہ رب العالمین سے باتیں کر رہا. پھر جب دنیا کی ساری عزتیں سٹیٹس رتبے بھول کر سر پروردگار کے سامنے لا رکھتا ہے اور اپنے رب کو پکارتے ہوے کہتا ہے. سُبْحَانَ رَبِّیَ الاَعْلٰی پاک ہے میرا رب جو بلند ترہے. تو دنیا اس کے سامنے زیر ہو جاتی. دنیا کی حیثیت ختم ہو جاتی ہے. اور ہر جگہ ایک کی ہستی کا ساتھ دکھائی دیتا ہے. پھر جب دل اس پر شہادت کی مہر ثبت کرتا ہے تو روح اپنی حقیقی مٹھاس کو حاصل کر لیتی ہے بندے کو اپنا من ہلکا ہلکا لگنے لگتا ہے. پھر تشہد میں رب سے مکالمے کا سلسلہ اس کے نکھار کو اور بڑھاتا چلا جاتا ہے. دل میں کیے اعمال کی ندامت لیے برستی آنکھوں سے با آسرا دنیا سے بےگانہ آئندہ فرمانبرداری کا عزم لیے. رب العالمین کے سامنے اسی کو کل عالم کا مختار سچے دل سے ثابت کرنے کے بعد جب تشہد میں انسان اب رب کے سامنے بخشش مانگتا ہے. میرا رب بڑا ہی کریم ہے غفور الرحيم ہے بخشش بھی دیتا ہے پھر سے اپنے روبرو آنے کی توفیق بھی دیتا ہے اور یہ احساس بھی کہ تو جس کے سامنے بیٹھ گیا وہ کبھی نا مراد نہیں لوٹاتا. بہتر نہ بھی ہو تو بہتر کر کے عطا دیتا ہے. میرے عزیز بہنو بھائیو عبادت _ الہی کا تقاضے کو سمجھیے بندے کی معراج کی اس حقیقت کو سمجھیے اپنی عبادت کو خود کامل بنائیے. اللہ رب العزت نے اپنے نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سامنے بٹھا کر معراج کرائی یہ ان پر عطا رب العالمین ہے لیکن بندے پر احسان ہے کہ وہی احساس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو عطا کر دیا ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سر کی آنکھوں سے ظاہری بدن سے معراج کرائی گئی یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان نبوت ہے. امت کو وہی مکالمہ تحفہ میں نماز میں دیا گیا جو معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں رب العالمین جلالہ اور رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہوا. عبادت کے تقاضوں کو سمجھیے. عبادت کو کامل بنائیے. رب العالمین سے تعلق ایسا بنائیے کہ کل بروز قیامت جب ملاقات ہو اور اللہ کریم کے سامنے کھڑے کئے جائیں تو شوق دیدار سے آنکھ چھلکنے لگے. کہ واہ آج اس رب العالمین کی دید ہو گی جسکے سامنے ہونے کا احساس لیے رکوع و سجود سے روح کو سکون دیتے رہے.

    @EngrMuddsairH

  • رزق کی قدر کریں کھانا ضائع نہ کریں   تحریر ام سلمیٰ

    رزق کی قدر کریں کھانا ضائع نہ کریں تحریر ام سلمیٰ

    شادیوں میں دعوتوں میں اکثر آپ نے دیکھا ہوگا بہت سے لوگ بے جا اپنی پلیٹ بھر لیتے ہیں جو کے اِنکی ضرورت سے انتہائی زیادہ ہوتی ہے اور پیٹ میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے اسے پلیٹ میں ہی چھوڑ دیتے ہیں.اور وہ کھانا آخر میں ضائع کیا جاتا ہے.
    پاکستان میں ایسی بہت کم تنظیمیں کام کر رہی ہے جو بچے ہوئے کھانے کو ضرورت مند تک پنہچا رہی ہیں.
    ہمیں کھانے کی ضائع ہونے سے روکنے کی ضرورت کیوں ہے؟
    یہ ایک بہت اہم اور بڑا مسئلہ ہے ، اور یہ ہم سب کو متاثر کرتا ہے۔ نہ صرف ہمیں بلکے ہمارے ماحول کو بھی متاثر کرتا ہے.

    میری یہ تحریر کھانے کے ضائع ہونے سے اس کے ماحول پر پڑنے والے شدید اثرات سے لے کر یہ کہ یہ کس طرح ہماری جیبوں میں سوراخ کو گہرا کر سکتا ہے اس پر ہے ، کھانے کا فضلہ بھی ایک بڑا کا مسئلہ ہے۔

    یہ تین وجوہات دیکھیں کہ ہمیں کھانے کا ضیاع روکنے کی ضرورت کیوں ہے۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں بہت سے لوگوں کے پاس کھانے کے لیے کھانا نہیں ہے۔
    دنیا بھر میں لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہیں ، یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے پاس موجود خوراک کا صحیح استعمال کریں۔ یورپ اور شمالی امریکہ میں ہر شخص اپنے جسمانی وزن سے زیادہ خوراک کو ہر سال ضائع کرتا ہے ، جو صرف ظاہر کرتا ہے کہ یہ واقعی کتنا بڑا مسئلہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں خوراک کا ضیاع ترقی پذیر ممالک کی طرف سے پیدا ہونے والے تمام کھانے کے برابر ہے۔ صرف یورپ میں ضائع ہونے والا کھانا 200 ملین بھوکے لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیے کافی ہوگا۔تو اس سے اندازہ لگائیں کہ دنیا میں کھانے کہ ضائع ہونا کس قدر زیادہ ہے.

    جنتی بڑی مقدار کے ضائع ہونے کی ہم بات کر رہے ہیں اگر یہ ملک ہوتا تو ضائع شدہ خوراک کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تیسرا سب سے بڑا پروڈیوسر ہوگا۔ 3.3 بلین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کی پیداوار کے ساتھ ، خوراک کا فضلہ عالمی آب و ہوا پر بڑا اثر ڈالتا ہے۔ زیادہ خوراک ضائع ہونے کے ساتھ ، لینڈ فلز اونچائی سے اونچی ہوتی چلی جاتی ہے ، جو ہر قسم کی جنگلی حیات مکھیاں اور کیڑے ان سب کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور نازک ماحولیاتی نظام کو توازن سے باہر رکھتی ہے۔ سمندری غذا کے فضلے کو دوبارہ سمندر میں پھینکا جانا بھی سمندری زندگی اور ان کے قدرتی توازن پر نقصان دہ اثر ڈال رہا ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی صرف سیارے کے لیے بری نہیں ہے۔ 2050 تک اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 84 فیصد تک اضافے کی توقع ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی پیداوار کو کیسے متاثر کرے گی۔ یہ پہلے ہی ضائع ہونے والی رقم کی ایک بڑی مقدار کا باعث بن رہا ہے ،

    لہذا اگلی بار جب آپ اپنی پلیٹ میں کھانا ڈالتے ہو ضرور سوچیں کے جیتنا آپ کھا سکتے ہیں اتنا ہی پلیٹ میں نکالیں تاکہ کھانے کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے یہ ہی ہماری دینی تعلیم بھی ہی کیوں بچایا ہوا کھانا پھینکا جانا ہے تو ان حقائق اور کھانے کے ضائع ہونے کے نقصانات کو ذہن میں رکھیں۔ بچایا ہوا ہر تھوڑا سا کھانا مدد کرتا ہے ، اور یہ آپ کے خیال سے کہیں زیادہ فرق ڈال سکتا ہے۔

    @salmabhatti111

  • غریب کیا مانگے دو وقت کی روٹی  تحریر  : انجینیئر مدثر حسین

    غریب کیا مانگے دو وقت کی روٹی تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    مشکل اور مشکلات کا دوسرا نام زندگی ہے۔ ہم نے تو ہی سنا ہے۔ اس مختصر سی زندگی کو جینے کے لئے مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں شاید اتنی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا اگر ہم انسانیت کا درس دیتے اور عملی طور پر انسانیت کے لئے کچھ کرتے تو اس دنیا میں بے بس اور مجبور انسان بھوک سے نہ مر رہے ہوتے۔

    آج ہم اپنے معاشرے میں نظر دوڑائیں تو ہمارے ہاں مذہبی رجحان سب سے زیادہ پایا جاتا ہے ہمارے مذہبی علما منبر پر بیٹھ کر سادگی اور انسانیت کے ساتھ بھلائی کا درس دیتے نظر آتے ہیں لیکن صرف الفاظ کی حد تک عملی طور پر ہمیشہ وہ فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی میں متحرک نظر آتے ہیں۔ کروڑوں روپے کی گاڑی سے اتر کر بہترین اور مہنگی خوشبوئیں لگا کر پیر صاحب عالم صاحب مولانا صاحب مریدین کے گھیرے میں آتے ہیں۔

    یہاں کوئی ہاتھ چوم رہا تو کسی نے قدموں کا بوسہ لیا لاکھوں روپے خرچ کر کے محفل سجتی ہے کھانے بنتے ہیں نذرانے پیش کیئے جاتے ہیں۔ دوسری طرف ایک غریب کا بچہ کسی اشارے پر کھڑے گاڑیوں کو صاف کر رہا ہوتا یا کسی پارک میں پھول بیچتا نظر آتا ہے۔
    میرے خیال میں پھول کے ہاتھوں سے پھول خریدتے وقت زندہ ضمیر ضرور سوچتے ہوں گے ان میں انسانیت کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہو گا مگر کروڑوں میں کوئی ایک ہی عبدالستار ایدھی بنتا ہے۔ہمارے حکمران سینکڑوں کی تعداد میں سکیورٹی کے نام پر خرچ کرتا ہے

    وہیں یہ سب کچھ دیکھ کر غریب کا بچہ ڈر رہا ہوتا ہے جو احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے صاحب اسے تو دو وقت کی روٹی چاہیئے وہ اپنی ماں کا لاڈلا اپنی بہنوں کا ویر عمر میں جتنا بھی چھوٹا ہو اپنے گھر کا بڑا ہوتا ہے۔ حالات اور مشکلات کے مارے زندگی کے ستائے یہ غریب لوگ روز قیامت اپنے خدا سے سوال ضرور کریں گے۔ وہ اس تقسیم پر اپنے اللہ تعالٰی سے ضرور پوچھیں گے۔ پھر اس کا جواب اس کا ذمہ دار ہر وہ صاحب استطاعت شخص ہو گا ہر وہ عالم ہو گا ہر بادشاہ ہو گا جو اپنی زندگی میں مگن رہا جس نے اپنے علم کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا خدارا آپ اپنے اندر رحم پیدا کریں۔

    ان پارکوں میں کھڑے بچے بازاروں ، گلی ، محلوں میں ریڑھی لگائے معذور اور کم سن کسی سڑک کے کنارے کچھ بیچتے ہوئے بوڑھے۔
    میری بہنوں اور بھائیوں اس وطن کے باشعور شہریوں یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے دلوں میں نہ محلات بنانے کی کوئی خواہش ہوتی ہے نہ ہی حکمرانی کرنے کی وہ صرف دو وقت کی روٹی کے لئے زندگی کی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں او آج عہد کریں ہم اپنے اندر احساس پیدا کریں گے۔ہمیں خود کو بدلنا ہو گا خود کو تبدیل کرنا ہو گا کوئی حاکم ہمیں نہیں بدلے گا۔

    یہ چراغ ہم خود ہی روشن کرنا ہوگا اپنے حصے کی شمع خود روشن کرنی ہو گی ۔
    اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @EngrMuddsairH

  • اسلامی معاشرے میں عورت کامقام و مرتبہ اور تاریخ اسلام میں عورت کی خدمات تحریر:شمسہ بتول

    اسلامی معاشرے میں عورت کامقام و مرتبہ اور تاریخ اسلام میں عورت کی خدمات تحریر:شمسہ بتول

    اگر ہم اسلام سے قبل عورت کی تاریخ پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ عورت کو کس قدر حقیر اور کمتر جانا جاتا تھا ۔ عورت کو آزادٸ راۓ کا کوٸ حق حاصل نہ تھا نہ ہی اس کی کوٸی عزت اور مقام تھا۔ بیٹی کی پیداٸش کو شرمندگی کا باعث سمجھا جاتا تھا اور اسے زندہ گاڑ دیا جاتا تھا۔ مگر پھر عرب میں ایک چاند نمودار ہوا جسے دنیا محمد صلى الله عليه واله وسلم کے نام سے جانتی ہے اس ہستی کی آمد تھی کہ جہالت کے ساۓ جھٹنے لگے اور انسانیت کی راہیں ہموار ہونے لگیں۔ ممحمد صلى الله عليه واله وسلم نے لوگوں کو بتایا کہ بیٹی بوجھ نہیں بلکہ رحمت ہے۔ انہوں نے اسلامی قوانین کے نفاز کو یقینی بنایا اور اسلام میں خواتین کو جو حقوق حاصل تھے دنیا کو اس سے روشناس کروایا۔
    اسلام نے تعلیم، وراثت اور پسند نا پسند اور نکاح میں بھی حق دیا کہ اگر وہ چاہے تو ہاں کرے اور اگر اس کی مرضی شامل نہ ہو تو زبرددستی نکاح نہیں کرو غرض یہ کہ زندگی کے ہر شعبے سے متعلق تمام حقوق دیے ہیں ۔ کسی بھی مرد کو عورت کی تزلیل کا حق حاصل نہیں ۔ اسلام نے اسے عملی طور پر ثابت کیا اور بتایا کہ عورت جس بھی روپ میں ہو وہ معاشرے کے لیے قابل احترام ہے اسے وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو ایک مرد کو ۔ عورت ماں ہے تو اسکے قدموں تلے جنت رکھ دی اور اگر بیٹی ہے تو فرمایا کہ یہ باعث رحمت ہے اور اگر بہن ہے تو وفا کا پیکر ہے اور اگر بیوی ہے تو تمہارا ایمان
    مکمل کرتی ہے. اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمانوں کی تہذیب جیسی جیسے پروان چڑھی۔
    عورتوں نے زندگی کے ہر شعبے میں کارہاۓ نمایاں سرانجام دیے۔
    حضرت خدیجہؓ اپنے وقت کی مشہور کاروباری خاتون تھیں اور عاٸشہؓ وہ روشن مثال ہیں جن کے زریعے امت تک احادیث کا بہت بڑا ذخیرہ پہنچا اور اسی طرح میڈیکل ساٸنسز اور علم جراحی اور سرجری میں حضرت رفیدہؓ کا نام معتبر ہے اور دستکاری اور صنعت و حرفت کے شعبے میں حضرت زینبؓ بنت حجش کا نام شامل ہے غرض یہ کہ خواتین نے ہر شعبہ میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور ان فنون کے ساتھ ساتھ بہت سی خواتین ایڈمنسٹریشن کے مناصب پر بھی فاٸز رہیں۔ خواتین انتظامی عہدوں پر بھی فاٸز ہو سکتی ہیں اسلامی تاریخ میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ سلطان صلاح الدین کی بھتیجی سیدہ حنیفہ حلب کی والیہ رہیں اور شریفہ فاطمہ یمن صنعا اور نجران کی والیہ رہیں اور اس کے علاوہ جنگی محاز پر بھی خواتین نے فراٸض سرانجام دیے ۔ عزرہ بنت حارث نے اہل بیسان سے لڑاٸی میں لشکر کی قیادت کی اور ام عطیہؓ نے محمد صلى الله عليه واله وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی ام حرام بنت ملحان پہلی بحری مجاہدہ تھیں ۔ ان تمام کارناموں سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اسلام نے زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کے کردار ان
    کے علم و ہنر کی قدر کی اور اسے سراہا۔ حضرت عمرؓ کی مجلس شوریٰ میں خواتین کو بھی نماٸندگی حاصل تھی۔ اور انہیں آزادی راۓ کا حق دیا گیا تھا کہ وہ بلا خوف خطر اپنی راۓ دے سکتی اور اپنا حق لے سکتی ہیں اس کی بہت عمدہ مثال ہے کہ جب حضرت عمرؓ نے عورتوں کے حق مہر کی تعداد متعین کرنے پر راۓ لی تو مجلس شوریٰ میں ایک عورت اُٹھ کھڑی ہوٸی اورکہا کہ آپ کو یہ اختیار نہیں کہ آپ مہر کی مقدار متعین کریں جبکہ قرآن میں ہمیں یہ حق دیا گیا ہے تو عمرؓ نے فرمایا کہ یہ عورت ٹھیک کہتی ہے ۔
    برطانیہ نے 1918 میں عورت کو ووٹ کا حق دیا ۔ امریکہ نے 1920 کے بعد انیسویں آٸینی ترمیم میں عورت کو ووٹ کا حق دیا اور نیوزی لینڈ میں 1893 میں عورتوں کو ووٹ کا حق دیا گیا جبکہ اسلام نے ان سب سے پہلے عورت کو راۓدہی کا حق دیا۔
    نوع انسانی میں اسلام نے سب سے پہلے خواتین کے حقوق متعارف کرواۓ اور کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی طاقت کے زور سے کسی کی حق تلفی کرے۔ہمیں ایک دوسرے کے حقوق سلب کرنے کی بجاۓ ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا ہو گا۔ اسلام نے جو حقوق اور حدود مقرر کی ہیں ہمیں عملی زندگی میں ان کا نفاذ کرنا ہو گا تا کہ حقیقی معنوں میں ایک ترقی یافتہ معاشرے کا قیام عمل میں آسکے 😇

    ‎@b786_s

  • اسلام کے دشمن ___تاریخ کے جھروکوں سےتحریر: حادیہ سرور


    ظلم کر رہے ہیں وہ اور مجرم ہیں وہ جو پاکستان کی نٸی نسل کو شیواجی کے بارے میں نہیں بتاتے ۔۔۔۔
    ماضی میں ممبٸ میں جو کچھ ہوا, اسکی ذمہ داری بغیر کسی ثبوت کے بلکہ بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر ڈالنا کوٸی نٸ بات نہیں لیکن افسوس! اگر نوے فیصد طالبعلم ان سکولوں میں ہونگے جن میں چھتیں ہیں نہ استاد اور دس فیصد طالبعلم ان سکولوں میں پڑھیں گے جنکے نصاب کیمرج اور آکسفورڈ میں تیار کیے جاتے ہیں تو ہندو کی نفسیات سے کون آگاہ ہو گا!!!
    ممبٸی سے ایک سو کلو میٹر مشرق کی طرف شیوناری کے مقام پر شیواجی1627 میں پیداہوا۔ اسکے باپ شاہ جی نے ایک نوجوان لڑکی توکاباٸی سے شادی کرکے پہلی بیوی جیحاباٸی سے علیحدگی اختیارکر لی۔ شیواجی, جیحاباٸی کے پاس ہی رہا۔ اسکی پرورش کی ذمہ داری اسکے باپ نے ایک کٹڑ ہندو سردار داداجی پر ڈالی جس نے شیوا جی کو بھیس بدلنے سے لیکر شب خون مارنے تک ہر فریب دہی سکھاٸی اور مسلم دشمنی اسکی رگ رگ میں بیٹھا دی۔ سولہ سال کی عمر میں شیواجی نے ڈاکوں کے جتھوں میں شرکت کی اور مار دھاڑ سے ہوتا ہوا قلعوں کو فتح کرنے لگا۔ بیجاپور کے سلطان عادل شاہ کو اس نے لکھا کہ جہاں پناہ! یہ سب کچھ میں آپ کے غلام کی حثیت سے کررہا ہوں اور باج گزار ہوں لیکن ساتھ ہی شیواجی نے اپنی مہر بطور حاکم استعمال کرنا شروع کی۔پھر ایک وقت آیا شیواجی نے مغل علاقوں پر حملے شروع کر دیے۔ شہزادہ اورنگزیب دکن کا گورنر تھا مغل فوجیں اسکو ختم کرنے کے قریب تھیں کہ اس نے پینترا بدلا اور شہزادے کی خدمت میں ایلچی بھیج کر اپنی غلامی کا یقین دلایا۔ اورنگزیب تخت نشینی کی جنگ میں پھنسا ہوا تھا اس نے اسے معاف کیا لیکن جانتا تھا کہ یہ بد خصلت قابل اعتبار نہیں ہے۔ ایک موقع پر اورنگزیب نے اسکے بارے میں کہا
    ”یہ پہاڑی چوہا مغل سلطنت کے کناروں پر منہ مارتا رہے گا یہ سگ زادہ انتظار کرہا ہے“ سگ زادہ انتظار کرتا رہا پھر ایک ریاست قاٸم کر لی۔ اب بیجاپور کے سلطان عادل شاہ کو احساس ہوا کہ پانی سر سے گزر چکا ہےتو اس نے اپنے نامور جرنیل افضل خان کو اسکی سرکوبی کے لیے بھیجا۔ افضل خان نے اسکی فوج اور نومولود ریاست کے پرخچے اڑا دیےاورشیوا جی پر تاب گڑھ کے قلعے کی طرف پسپا ہو گیا۔ یہاں سے اس نے افضل خان کو پیغام بھیجا کہ افضل خان جیسے جرنیل کے سامنے آخر اسکی حیثیت کیا ہے وہ ہتھیار ڈالنا چاہتا ہے لیکن اسے یقین دلایا جاٸے کہ اسے معاف کردیا جاٸے گا۔افضل خان اسکی عاجزی کے جال میں آگیا۔

    یہ وہ نکتہ ہے جو پاکستان کی نٸی نسل کے لیے سمجھنا لازم ہے اگر وہ یہ نہ سمجھ پاٸے ہندو مکار ہے اگر انہیں یہ نہیں معلوم کہ بغل میں چھری منہ میں رام رام کا محاورہ بنانے والے الو نہیں تھے تو یہ ہمیشہ ہندوٶں کے فریب میں آتے رہیں گے۔ مسلمان دھوکہ نہیں دیتا لیکن دھوکہ کھانا بھی تو نہیں چاہٸے
    افضل خان کی خوش نیتی دیکھیے کہ شیوا جی کو معاف کیا اور اپنا ایلچی گوپی ناتھ نامی برہمن کو بھیجا جسے شیوا جی نے یقین دلایا کہ وہ یہ سب کچھ ھندودھرم کے لیے کر رہا ہے اور اسے تحاٸف سے نوازا۔ دونوں نے دیوی کی قسم کھاٸی ۔ واپس جاکر گوپی ناتھ نے بتایا شیواجی تو خوف کے مارے کانپ رہا ہے اسے ملاقات کا شرف بخشا جاٸے ۔ ملاقات میں شیواجی نے زہرآلود خنجر سے وار کرکے جان لے لی۔
    پاکستان افضل خان ہے شیوا جی بھارت ہے آپ ایٹمی ہتھیاروں سے ہلاک کریں گے لیکن ہندو تو خوف کے مارے تھر تھر کانپتا ہے,آپ کے گھٹنوں کو چھوتا ہے, پاٶں کے تلوے چاٹتا ہے, پھر جب آپ کو اونگھ آجاتی ہے تو آستین سے خنجر نکالتا ہے پھر وہ سفارتکاری کے میدان میں اتنی چابک دستی دکھاتا ہے یوں سسکارے بھرتا ہے کہ دنیا اسے مظلوم اور آپ کو ظالم سمجھتی ہے لیکن تب تک چڑیاں کھیت چگ چکی ہوتی ہیں اور کشمیر میں ظلم و ستم شروع ہو چکا ہوتا ہے ۔ ضمیر جعفری نے اسے یوں بیان کیا!
    سچ کہتا تھا افضل خان
    تری پورہ تا راجستان
    مر گیا ہندو میں انسان

    ‎@iitx_Hadii

  • امن اور ترقی میں مذہب کا کردار تحریر: احسان اللہ خان

    امن اور ترقی میں مذہب کا کردار تحریر: احسان اللہ خان

    اللہ تعالیٰ نے کرۂ ارض کی اس وسیع وعریض، خوبصورت اور ہر طرح کی نعمت سے مالا مال ہستی کو انسانیت کے لئے بنایا ہے، اس کائنات اور اس سے متعلق تمام چیز میں ہمہ وقت انسانیت کی خدمت میں مشغول ہیں، سورج اس کے لئے ہر دن روشنی کا انتظام کرتا ہے، زمین اس کے قدموں میں بچھی ہوئی ہے اور اس کی غذائی ضرورت کے لئے بار بار اپنے سینے کا چاک ہونا اور پامال کیا جانا قبول کرتی ہے۔ درختوں کا کام یہ ہے کہ مزے دار پھل اور عطر بار پھول مہیا کرنے کے علاوہ آلودہ ہواؤں کو اس کے لئے صاف کریں، تا کہ اسے آکسیجن کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے، بادل سمندر سے کھارے پانی کا ڈول بھربھر کر اسے صاف اور شیریں بناتا ہے اور کھیتوں اور آبادیوں تک باران رحمت پہنچاتا ہے، سمندر کی متلاطم موجیں نہ جانے کتنی ساری آلودگیوں کو ختم کرتی ہیں اور ان کی زہرا کی سے انسان کو خوظ رکھتی ہیں، ہوا میں ہر وقت اس کے مفاد کے لئے دوڑ بھاگ میں لگی ہوئی ہے اور دنیا میں جتنے جاندار ہیں، وہ سب کسی نہ کسی پہلو سے اس کی خدمت میں مصروف ہیں، یہاں تک کہ جن جانوروں کی درندگی انسان کولرزاں وترساں رکھتی ہیں، ان کا وجود بھی کسی نہ کسی پہلو سے انسان کے لئے فائدہ مند نفع بخش ہی ہے۔
    غرض کہ پوری کائنات انسان کی خدمت اور اس کے لئے عیش وراحت کی فراہمی میں مشغول ہے۔ اسی لئے قرآن کا تصور یہ ہے کہ کائنات انسان کا معبودنہیں ہے ، بلکہ اس کی خادم ہے : ( الجاثية : ۳ ) لیکن دو چیزیں ایسی ہیں جو انسان کے لئے بے حد ضروری ہیں عیش وعشرت کے جتنے بھی وسائل حاصل ہو جائیں، اگر یہ دو چیزیں اسے میسر نہ ہوں تو اس کی زندگی بے سکون اور اس کی آرزوئیں ناتمام رہتی ہیں۔
    امن اور ترقی اسی لئے اللہ تعالی نے اہل مکہ پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تمہیں اس لئے بھی رب کعبہ کی عبادت کرنی چاہئے کہ اس نے عرب کے صحرا میں غذائی ضرورت اور کسی حکومت اور لا اینڈ آرڈر کا انتظام نہ ہونے کے باوجود ان کا انتظام فرمایا ہے۔ خوف و دہشت سے حفاظت کا تعلق امن سے اور غذائی اشیاء کی فراہمی کا تعلق ترقی سے ہے، زندگی کے لئے مطلوب ساری سہولتیں اللہ تعالی کا خصوصی عطیہ ہیں مگر یہ دونوں نعمتیں وہ ہیں، جن کو اللہ تعالی نے انسان کے ارادہ اور کوششوں سے تعلق رکھا ہے اور انسان کو اسی بصیرت اور صلاحیت عطا کی گئی ہے کہ اگر اس کی کوشش صحیح سمت میں ہو تو ان کو حاصل کر سکتا ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ ان کے قائم ہونے کا تعلق قیام عدل سے ہے، عدل کی تفصیل یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے تین طریقے ہو سکتے ہیں ، جن کا قرآن مجید نے ذکر کیا ہے۔ عدل، احسان اورظلم، عدل کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے کو اس کا پورا پورا دے دیا جائے اور خود اپنے حق سے زیادہ ن لیا جائے ، احسان یہ ہے کہ دوسرے کو اس کا حق اس کے حصہ سے بڑھ کر دیا جائے اور خود اپنے حصہ سے کم کیا جائے یا اپنا حصہ نہیں لیا جائے قرآن مجید نے ان ہی دونوں طریقہ کار کو درست اور قابل قبول قرار دیا ہے لیکن آئیڈ یل طریقہ یہ ہے کہ انسان ’احسان‘ سے کام لے، جس کو بندے کے حقوق کے معاملہ میں ایثار کے لفظ سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے، چنانچہ قرآن مجید میں جگہ جگہ احسان کی تعریف کی گئی ہے، فرمایا گیا : اللہ احسان کرنے والے لوگوں کو پسند فرماتے ہیں۔ یہ بھی فرمایا گیا کہ جولوگ احسان کا رویہ اختیارکریں۔ اللہ تعالی ان کو بہتر بدلہ اور انعام سے محروم نہیں کریں گے۔ اس کے بالمقابل ظلم اسلام کی نظر میں بدترین گناہ اور اللہ تعالی کی نافرمانی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ ظالم کامیاب نہیں ہوسکتا، ناکامی و نامرادی ہی اس کا حصہ ہے۔ ظالموں کا انجام ہلاکت و بربادی ہے اور اللہ تعالی ظالموں کو پسند نہیں فرماتے۔ قرآن پاک میں دو سو سے زائد مقامات پر تلف جہتوں سے ظلم کی اور ظالموں کی مذمت فرمائی گئی ہے اور بہت زیادہ مقامات پر عدل کا اور احسان کا حکم دیا گیا ہے یا اس کی تحسین کی گئی ہے۔ جب معاشرہ میں عدل قائم ہوگا ، لوگوں میں احسان کا جذبہ پیدا ہوگا اور ظلم کرنے والے ہاتھ تھام لئے جائیں گے تو یقینا وہ معاشرہ ان کی دولت سے بہرہ ور ہوگا۔
    Twitter | @IhsanMarwat_786

  • فضیلت رکھنے والی کتاب قرآن مجید تحریر  : راجہ ارشد

    فضیلت رکھنے والی کتاب قرآن مجید تحریر : راجہ ارشد

    استاد کا ادب و احترام بھی اس طرح لازم ہے جس طرح بزرگوں اور والدین کا ادب کرنا فرض ہے۔ معلم استاد کو کہتے ہیں۔ اور ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو معلم انسانیت بنا کر بھیجا گیا تھا اور علماء آپ ﷺ کے وارث ہیں یعنی علم کو آئندہ آنے والی نسلوں تک پہنچاتے ہیں۔اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ استاد روحانی باپ ہوتا ہے جو بچے کی ایسی تربیت کرتا ہے ۔ جو والدین اپنی مصروفیت اور بچے سے لاڈ پیار کی وجہ سے نہیں کر سکتے۔

    آپ اکثر اپنے سکول یا گھر کے مالی کو پودوں کی دیکھ بھال اور کانٹ چھانٹ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ وہ پودوں کو کتنی مہارت سے تراشتا ہے۔ارد گرد سے گھاس پھونس اور کانٹے دار کانٹے دار جھاڑیوں کو صاف کرتا ہے۔جس سے ایک تو پودوں کی نشوونما بہتر طریقے سے ہوتی ہے۔دوسرے وہ اپنی ترتیب کی وجہ سے خوبصورت اور نمایاں نظر آتے ہیں۔بالکل اسی طرح استاد بھی بچے کو اپنی محبت، شفقت، علم اور اعلی کردار جیسی خوبیاں منتقل کرتا ہے۔دنیا میں جتنے بھی بڑے لوگ گزرے ہیں اپنے اساتذہ کا عکس ہوتے ہیں۔استاد ہی نیکی بدی کی پہچان سکھا کر آدمی کو آچھا انسان بناتا ہے۔

    استاد ہمیں دنیاوی علم دیتا ۔علم کے معنی ہیں چیزوں کی حقیقت کو جاننا۔علم ایک ایسا راستہ ہے ۔ جس کے ذریعے آدمی انسانیت کے درجے پر پہنچ جاتا ہے۔ یعنی اس میں آچھائی اور برائی میں فرق کرنے کی عادت پیدا ہو جاتی ہے ۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے جو پہلی وحی آئی وہ بھی علم کے بارے میں تھی ۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر مسلمان پر طلب علم فرض ہے۔

    علم کیا ہے ؟ اس کی اہمیت یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے انسان کو تمام مخلوقات فرشتوں ، جنات وغیرہ پر فضیلت اس علم کی وجہ سے دی ہے ۔ ورنہ کھانے پینے سونے جاگنے میں تو جانور اور انسان سب برابر ہیں۔ آپ ﷺ کے فرمان کے مطابق جو شخص علم کے راستے پر چلتا ہے ۔تو فرشتے اس کے راستے میں اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے۔ اللہ نے ہمیں علم عطا کیا اور دنیاداروں کو دولت کہ علم آدمی کی حفاظت کرتا ہے۔ اور آدمی دولت کی علم کا ذکر کتابوں کے ذکر کے بغیر ناممکن ہے۔کیونکہ حکمت و دانائی کی تمام باتیں کتابوں میں محفوظ ہیں۔ بالکل اس طرح جیسے بینکوں میں دولت۔ کتابیں علم کا خزانہ ہیں اور خزانوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔مگر کتابوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان کا احترام کرنا بھی ضروری ہے ۔اب آپ سوچیں گے کہ کتابوں کا احترام کیسے کیا جاتا ہے۔وہ ہے ان کا مطالعہ اور عمل ۔ عالم کی فضیلت تمام لوگ پر ایسی ہے جیسی تمام راتوں میں چودھویں کے چاند کی اسی طرح تمام کتابوں پر فضیلت رکھنے والی کتاب قران مجید ہے۔

    @RajaArshad56

  • "کوئی ہے جو محرم الحرام میں یہ کام کرے” تحریر: محمد عبداللہ

    "کوئی ہے جو محرم الحرام میں یہ کام کرے” تحریر: محمد عبداللہ

    حسن و حسین رضی اللہ عنھما کی سیرت اور شب و روز پر اردو میں کوئی مستند کتاب جس کو پڑھا جا سکے یا پھر ہم نے فقط شہداء کی شہادتوں کے دنوں پر قصے کہانیوں سے سے ہی عوام کو بےوقوف بنا کر لڑوانا ہے؟
    شہداء کی شہادتوں پر ماتم نہیں کیے جاتے ان کی سیرت کو اپنایا جاتا ہے، ان کے چنے ہوئے راستے پر چلا جاتا ہے.اسلام کے عظیم شہداء کے نام پر اسپیکرز پھاڑ کر دیہاڑی لگا انہی کے محبوب لوگوں پر طعنہ زنی کرکے لوگوں کو باہم دست و گریبان کروا کر آرام سے اپنے عشرت کدوں کی طرف چل دینا اسلام اور اہل بیت کی کوئی خدمت نہیں ہے.
    دوسری طرف محرم الحرام کے مقدس اور شہادتوں کے مہینے میں کہ جس کی ابتداء ہی عمر ابن الخطاب کی شہادت سے ہوتی ہے اس مقدس مہینے میں اسپیکرز پر للکارے مارنے اور کتے و کافر کے نعرے مارنے سے بھی کوئی اسلام و صحابہ کرام کی خدمت نہیں ہوتی ہے.
    اگر اسلام اور اسکو ہم تک پہنچانے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھرانے کی واقعی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو پھر ان سب کی سیرت پر کام کیجیئے. عوام کو بتائیے کہ ابوبکر و عمر کا اخلاق و کردار کیسا تھا. عثمان و علی کا سخاوت و انصاف کیسا تھا. نبی کے گھرانے سے صحابہ کرام کا تعلق کیسا تھا. حسن و حسین سرداران نوجوانان جنت کے شب و روز کیسے اور کہاں گزرتے تھے. ان کا بچپن و جوانی کیسی تھی، کردار کیسا تھا، لوگوں کے ساتھ معاملات کیسے تھے.
    کوئی ہے جو ان سادہ لوح مسلمانوں کو بےوقوف بنانے سے باز آئے اور من گھڑت قصے کہانیوں سے نکل کر اہل بیت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی سیرت کی سچے اور سچے واقعات لوگوں کو پڑھائے اور پھر ان پر عمل پیرا ہوا جائے…..
    "اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ ”
    Muhammad Abdullah