Baaghi TV

Category: مذہب

  • شہادت خلیفہ دوئم، امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہہ  تحریر: احسان الحق

    شہادت خلیفہ دوئم، امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہہ تحریر: احسان الحق

    27 ذوالحج سے یکم محرم الحرام تک کے ایام خلیفہ دوئم امیرالمؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے زخمی ہونے اور شہید ہونے کے دن ہیں. امیرالمؤمنین نے مدینہ منورہ میں اجنبی غیر مسلم نوجوانوں کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی تھی. ایک دن حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے امیرالمؤمنین کی خدمت میں معروضہ پیش کیا کہ ایک کاریگر نوجوان ہے جو لوہار اور بڑھئی کے ساتھ ساتھ ماہر خطاط بھی ہے. اس کے علاوہ بھی کافی ہنر جانتا ہے. اگر اس نوجوان کو مدینے میں آنے کی اجازت عنایت فرمائیں تو لوگوں کا بہت فائدہ ہوگا.

    کاریگر نوجوان کی مدینہ آمد سے پہلے کچھ اور اہم حالات اور واقعات جان لیتے ہیں. معید بن مسیب اور حاکم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ اونٹ پر سوار ہو کر منیٰ سے نکلے اور مقام بطح پر رک گئے. سیدنا عمرؓ اپنے اونٹ کے سہارے کھڑے ہو کر آسمان کی طرف منہ کر کے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا فرمائی.
    "اے اللہ، میں کمزور ہو گیا ہوں. میری قوت جواب دے رہی ہے. میرے خیالات منتشر ہو رہے ہیں. اس سے پہلے کہ ضعف عقلی کی وجہ سے خرابی پیدا ہونے کا اندیشہ ظاہر ہو، مجھے اپنے پاس بلا لے”
    امام بخاری نے بحوالہ ابو صالح لکھا ہے کہ ایک دن حضرت کعب بن احبار نے امیرالمؤمنین سے فرمایا کہ میں نے تورات میں لکھا دیکھا ہے کہ آپ شہید کئے جائیں گے. یہ سن کر آپ امیرالمؤمنین فرماتے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جزیرۃ العرب میں رہتے ہوئے مجھے شہادت ملے.
    اسلمی کہتے ہیں کہ کعب کی بات سن کر امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ "اے اللہ مجھے شہادت کی موت نصیب عطا فرما اور میری روح مدینہ میں قبض ہو اور یہاں مجھے دفن فرما”

    حج کی غرض سے امیرالمؤمنین خلافت کے 11ویں سال بمطابق ذوالحج 23 ہجری کو مکہ مکرمہ تشریف لے گئے. اسی مہینے کے آخر میں مدینہ منورہ واپس تشریف لائے. جمعہ کا طویل خطبہ دیا اور اسی خطبہ میں لوگوں کو نصیحتیں کیں اور ایک خواب کا ذکر کیا. معدان بن ابوطلحہ کی زبانی حاکم لکھتے ہیں کہ خطبہ جمعہ میں امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ ایک مرغے نے مجھے دو ٹھونگیں ماریں. جس کا مطلب ہے کہ میری موت نزدیک ہے. آپ نے یہ فرمایا کہ لوگ اصرار کر رہے کہ میں اپنا جانشین مقرر کروں، اگر میری موت جلدی واقع ہو جائے تو ان 6 لوگوں میں سے کسی کو منتخب کر لینا جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی حیات میں راضی تھے. آپ نے خلافت کے لئے ان 6 حقداروں اور امیدواروں کا نام لیا.
    عثمان بن عفان، علی بن ابوطالب، سعد بن وقاص، عبدالرحمن بن عوف، زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہا.

    کاریگر نوجوان کا نام ابولولوء فیروز تھا جو کہ ایرانی مجوسی تھا. ابولولوء مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا. ابولولوء فیروز ایک دن امیرالمؤمنین کے دربار میں حاضر ہو کر حضرت مغیرہ بن شعبہ کی شکایت کی کہ میں جو دن بھر کماتا ہوں میرا آقا اس میں زیادہ رقم لے لیتا ہے. اس میں سے کمی کروا دیں. امیرالمؤمنین نے دریافت کیا کہ کون سا کام جانتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں لوہار بھی ہوں، بڑھئی بھی ہوں اور بیل بوٹے بنانا بھی جانتا ہوں. سیدنا عمرؓ نے پوچھا کہ تمہارا آقا روزانہ کتنی رقم لیتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ دو درہم روزانہ. امیرالمؤمنین سیدنا عمرؓ نے فرمایا کہ تم جو کام کرتے ہو اس کے لئے تو یہ رقم مناسب ہے. یہ سنتے ہی ابولولو اندر سے ناراض ہو کر چلا گیا.

    دوبارہ امیرالمؤمنین سیدنا عمرؓ نے ابولولوء کو بلایا اور فرمایا کہ تم نے کہا تھا کہ ہوا سے چلنے والی چکی بنا کر دونگا. اس پر ملعون ابولولوء نے کہا کہ ایسی چکی بنا کر دوں گا کہ تم یاد کروگے. اس کے جانے کے بعد امیرالمؤمنین سیدنا عمرؓ نے ساتھیوں سے فرمایا کہ یہ مجھے دھمکی دے کر گیا ہے اور میں اس پر گرفت نہیں کر سکتا کیوں اس کا جرم واضح یا ظاہر نہیں، اس نے ذو معنی الفاظ میں اپنا ارادہ ظاہر کر کے مجھے دھمکی دی ہے.
    اگلے دن صبح کی نماز کے وقت ملعون ابولولوء مسجد نبویؐ میں چھپ کر بیٹھ گیا. قاتل کے پاس 2 رخ والا دو دھاری خنجر تھا. جس کے درمیان میں دستہ تھا.
    امیرالمؤمنین نماز پڑھا رہے تھے اور جب سورۃ یوسف کی تلاوت شروع کی تو ملعون ابولولوء نے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امیرالمؤمنین کے کندھے اور کوکھ کے درمیان 6 وار کئے اور بھاگنے کی کوشش میں پہلی صف میں کھڑے 13 نمازیوں پر بھی پر حملہ کیا. اس حملے میں امیرالمؤمنین شدید زخمی ہو کر گر پڑے. ایک عراقی نے ابولولوء پر چادر پھینک کر پکڑنے کی کوشش کی مگر ابولولوء نے اسی خنجر سے خود پر وار کرتے ہوئے خودکشی کر لی. 13 زخمی نمازیوں میں سے 7 شہید ہو گئے.

    ادھر امیرالمؤمنین شدید زخمی ہو چکے تھے. انہوں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کو نماز مکمل کرنے کے لئے آگے کر دیا. امیرالمؤمنین نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے پوچھا کہ مجھ پر کس نے حملہ کیا. بتایا گیا کہ مغیرہ بن شعبہ کے غلام نے، یہ سنتے ہی امیرالمؤمنین نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ مجھے ایک ایسے بندے نے مارنے کی کوشش کی جس نے کبھی اللہ تعالیٰ کے آگے سجدہ نہیں کیا. میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں ہو رہی جو کلمہ گو ہو. آپ کو گھر لایا گیا. زخمی امیرالمؤمنین کو دودھ پلایا گیا تو وہ زخموں کے راستے پیٹ سے باہر نکل آیا. ایسے میں آپ امیرالمؤمنین کو اندازہ ہو گیا اب میرا زندہ رہنا بہت مشکل ہے.
    عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے پوچھا کہ میرا کتنا قرض ہے، حساب لگا کر بتایا گیا کہ چھیاسی ہزار. آپ نے اپنے بیٹے کو یہ قرض اتارنے کے ساتھ ساتھ دوسری نصیحتیں بھی کیں پھر ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا کہ جا کر امی عائشہ صدیقہ کو کہو کہ عمر سلام کہتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک پہلو میں دفن ہونے کی اجازت چاہتا ہے. امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت دے دی. امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ میرے مرنے کے بعد اور دفنانے سے پہلے میرا جنازہ امی عائشہ صدیقہ کے پاس لے جانا اور دوبارہ پوچھنا، ہو سکتا ہے ابھی انہوں نے مجھے بحیثیت خلیفہ دفن ہونے کی اجازت دی ہو.

    امیرالمؤمنین 27 ذوالحج 23 ہجری کو زخمی ہوئے اور 3 دن بعد یکم محرم 24 ہجری کو شہادت کے درجے پر فائز ہوئے. آپ کی عمر پر کچھ اختلاف ہے مگر 63 سال پر زیادہ اتفاق ہے. آپ امیرالمؤمنین کا جنازہ حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے پڑھایا. حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت سعد بن وقاص اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے امیرالمؤمنین کی میت مبارک کو قبر میں اتارا. خلیفہ دوئم امیرالمؤمنین کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امام الانبیاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلیفہ اول امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کا ساتھ نصیب ہو گیا.

    @mian_ihsaan

  • عمرؓ بن خطابؓ ایک عظیم حکمران  تحریر حمزہ احمد صدیقی

    عمرؓ بن خطابؓ ایک عظیم حکمران تحریر حمزہ احمد صدیقی

    امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ ایک عظیم حکمران تھے ،ایک ایسے حکمران جو صدیوں بعد قیامت تک نہیں آسکتی ایسی حکمران جس کے خلق کی کرنیں گھٹا ٹوپ اندھیروں کو اجالوں میں تبدیل کر دیا کرتی ہیں،ایسی عظیم حکمران تھے، انکی زندگی سادگی کا مجسمہ تھی
    ۔آپ ؓ نے عدل و انصاف، مساوات ،سادگی ، امانت و دیانت، شجاعت ،صداقت کا وہ درس دیا جس کی وجہ سے امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ کو تمام حکومت کرنے والوں پر برتری حاصل ہے ۔ آئیے ان کی خوبصورت دور حکومت پر روشنی ڈالتے ہیں۔

    امیرالمومنین حضرت عمرؓ بن خطاب ؓ نے ٢٣ جمادی الثانی کو منصب خلافت سنبھالا اس وقت آپؓ کی عمر تقریباََ باون برس تھی۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے وفات سے قبل آپؓ کا نام خلافت کے لئے تجویز کر دیا تھا اور بعض صحابہ کرام ؓ سے مشورہ کیا تو انہوں نے اس تجویز کو بے حد پسند کیا البتہ بعض صحابہ کرام ؓ نے حضرت عمرؓ کی سخت طبیعت کی طرف اشارہ کیا تو خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا کہ جب خلافت کا بوجھ آئے گا تو آپؓ خود نرم ہو جائیں گے

    امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ ہر لحاظ اور ہر پہلو سے سادہ رہائش تھے، سادہ خوراک کھانے کے عادی تھے ، سادہ لباس زیب تن کرتے تھے اور آپ ؓ کا رہن سہن بھی سادگی کی اپنی مثال تھا، گویا امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ سادگی کا ایک مرقع بھی تھے ۔

    امیرالمومنین کے پاس صبح و شام قیصر و کسریٰ کے درباروں سے سفیر چلے آتے تھے اور نصف جہاں پر انکی بھیجی ہوئی افواج حملہ کر رہی تھیں عظیم عظیم فاتح امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ کے زیر کمان سرگرم عمل تھے اور آپ ؓ ایسے حکمران تھے، جس کے بدن پر کئی کئی پیوند لگا کرتہ پہنا ہوتا تھا ، آپؓ سر پر معمولی عمامہ اور ہاتھ میں کوڑا تھامے جنگل میں بیت المال کے گم شدہ اونٹ کی تلاش میں سرگرداں تھے ، کبھی کاندھے پر مشک لٹکائے تیزی سے بیوہ کے گھر کی جانب رواں دواں ہوتے تھے ۔

    امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ ایسے حکمران تھے ،جن میں غرور و تکبر کا نام و نشان تک نہ تھا ، آپؓ جیسا حکمران بھلا کس طرح متکبر ہو سکتا ہے، جس کے لباس پر ایک نہیں سترہ پیوند لگے ہوں، علامہ شبلی نعمانی ؒ امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ عمرؓ بن خطابؓ کی سوانح عمری الفاروقؓ میں رقم طراز ہیں کہ! تمام دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا عظیم حکمران دکھا سکتے ہو؟ جس کی سادگی یہ ہو کہ قمیص میں سترہ سترہ پیوند لگے ہوں۔

    امیرالمومنین عمرؓ بھی خطاب ؓ اپنی عوام کی فلاح و بہبود اور اپنی رعایا کے خدمت و آرام کا خاص خیال رکھتے تھے۔ آپ ؓ عوامی شکایات کو ہر ممکن دور کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ آپؓ کا یہ معمول تھا کہ ہر فرض نماز کے بعد مسجد نبوی ﷺ کے صحن میں بیٹھ جاتے اور قوم کے لوگوں کی شکایات سنتے ہوئے اسی موقع پر احکامات جاری کرتے۔ آپ ؓ راتوں کو گشت کرتے اور راہ چلتے لوگوں سے مسائل و حالات پوچھتے تھے ۔ آپ ؓ دوردراز علاقوں کے لوگ وفود کی صورت میں حاضر ہوکر اپنے مسائل وغیرہ سے آگاہ کرتے تھے اور بعض دفعہ آپؓ مختلف علاقوں کا خود دورہ فرماتے تھے اور لوگوں کی شکایات کا ازالہ فرماتے تھے ۔

    امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ اپنے کاندھے پر مشک رکھ کر غریب و لاچار عورتوں کے ہاں پانی بھر آتے تھے، آپ ؓفرش خاک پر سو جاتے تھے، آپؓ بازاروں میں گشت لگے تھے اور ضرورت مندوں کی مدد فرماتے تھے ، آپؓ جہاں جاتے تھے وہاں جریدہ و تنہا جاتے تھے ، آپؓ اونٹوں کے بدن پر اپنے ہاتھ سے تیل ملتے تھے ، آپؓ دور دربار، نقیب و چاؤش، حشم وخدم کے نام سے آشنا نہ ہوتے ، اور پھر یہ رعب و ادب ہو کہ عرب و عجم آپ کے نام سے لرزتے تھا اور جس طرف آپؓ رخ کرتے ہتھے زمین دہل جاتی تھی ، سکندر و تیمور تیس تیس ہزار فوج کا لشکر رکاب میں لے کر نکلتے تھے جب آپؓ کا رعب و دہشت قائم ہوتا تھا۔

    امیرالمومنین بہت عظیم شجاع تھے، جب اسلام لائے تو قریش قبلیہ سے لڑے یہاں تک کہ بیت اللہ میں نماز پڑھی آپؓ کی بہادری نے یہ گوارہ نہ کیا کہ چھپ کر بیٹھا جائے ،امیرالمومنین نے اعلانیہ دین اسلام ظاہر کیا اور کفار مکہ سے ڈٹ کر مقابلہ کیا، مگر آپؓ کا یہ وصف بہت وسیع تھا کہ آپؓ نے اپنے دامن شجاعت میں کمزور مسلمانوں اور کفار کو پناہ دی اسی طرح مدینہ کے ہو نہار اور دلفگار تلامذہ میں آپؓ کو بہت بلند مقام حاصل تھا وہ اس نورانی مکتب عشق کے قابل فخر ارادت مند تھے ۔

    ۔امیرالمومنین حضرت عمرؓ بن خطانؓ نے ١٣٠٩٥٠١ مربع میل علاقہ اپنے دور خلافت میں فتح کیا، آپ ؓ کا مدت خلافت چونکہ تقریبا ساڑھے دس سال تھی ،اس مدت خلافت پر رقبہ کو جب تقسیم کیا گیا تو حیرت کی انتہا نہ رہی، ایک دن کا مفتوحہ علاقہ تقریباََ ٣٥١ مربع میل نکلا، آپؓ نے ٣٦٠٠ علاقے فتح کیا ، آپ کے دور خلافت نو سو جامع مسجدیں اور چار ہزار عام مساجد تعمیر کی گئیں ،آپؓ نے ملک کو آٹھ صوبوں میں تقسیم کیا بعض مورخین حضرات نے سات صوبے بھی لکھے ہیں ،امیرالمومنین عمرؓ بھی خطابؓ کی سلطنت کی وسعتوں کا اندازہ سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ صرف مفتوحہ علاقے سینکڑوں اضلاع پر مشتمل تھے ، آپ ؓ نے صرف مصر میں٤٣ اور فارس میں ٤٥ اضلاع تھے ۔

    23 لاکھ مربع میل کے علاقے پر حکومت کرنے والا عظیم حکمران حضرت عمر ؓ بن خطاب جس کا دل خوف خدا ۔ سے سرشار تھا ایسا حکمران جو عادل و انصاف کا پیکر تھا ایسا عظیم رہنما جس کے خزانہ میں سونے، چاندی، ہیرے موتی، جواہرات اور ریشم کے انبار تھے۔ مگر اس عظیم حکمران کے پاس نہ کچھ پہننے کے لئے نہ کھانے کے لئے..

    اس عظیم حکمران عمرؓ بن خطابؓ کا دور خلافت تاریخ کا درخشندہ اور بے مثال دور ہے۔ ان کے دور خلافت کی کہانیاں تمام مذاہب میں ضرب المثل بن گئی ہیں۔

    اللہ پاکﷻ ہمیں عمرؓ بھی خطاب ؓجیسی صفات والا حکمران عطا فرماٸے، آمین!

    ‎@HamxaSiddiqi ۔

  • یوم شہادت عمرؓ بھی خطابؓ تحریر : جہانتاب احمد صدیقی

    یوم شہادت عمرؓ بھی خطابؓ تحریر : جہانتاب احمد صدیقی

    عمرؓ بھی خطابؓ وہ شخصیت ہیں، جن کی آمد پر حضرت مُحَمَّد ﷺ نے مرحبا کی آواز بلند فرمائی اور مسلمانوں کو خانہ کعبہ میں کھل کر اللہ ﷻ کی عبادت کرنا اور باجماعت نماز ادا کرنا نصیب ہوئی۔

    خاتم النیین حضرت مُحَمَّد ﷺ ؐنے اپنی دعاؤں میں رو رو کرمانگا کہ یا اللہﷻ دین اسلام کی سربلندی کے لیے مجھے عمرؓ بن خطابؓ یا عمر بن ہشام دے دے تو اللہ تعالیٰﷻ نے حضرت مُحَمَّد ﷺ کی دعا کو قبول فرمایا اور حضرت عمؓر بن خطابؓ کو اسلام کی دولت سے نوازا۔

    حضرت عمرؓ بن خطابؓ کی پیداٸش سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں واقعہ فیل سے تیرہ سال بعد قبیلہ بنو عدی خطاب بن نفیل کے گھر پیدا ہوئے، آپؓ کا نام عمر بن خطابؓ تھا ، آپؓ کا لقب فاروقؓ تھا، آپؓ کے والد کا نام حضرت خطابؓ تھا، آپؓ کی والدہ کا نام حضرت ختمہؓ تھا، آپؓ کا سلسلہ نسب آٹھویں پشت پر خاتم النبیین ﷺسے ملتا ہے، آپؓ کا ددھیال ننھیال قریش کے معزز خاندانوں میں سے تھا، اور قبیلہ کے اہم مناصب انہیں کے حوالے تھے.

    خاتم النبیینؓ حضرت مُحَمَّد مصطفیٰﷺ کی جانب سے نبوت کے اعلان کے چھٹے سال حضرت عمرؓ بن خطاب ؓ نے 35 برس کی عمر میں اسلام قبول کیا جس کے بعد حضرت محمدﷺ کے شانہ بشانہ رہے۔

    عمرؓ بن خطابؓ سسر رسولﷺ تھے ، آپ ؓ داماد علیؓ اور مراد نبیﷺ تھے ، آپؓ فاتح قبلہ اوّل اور تھے،آپؓ پیکر عدل وشجاع اور شہید مسجد نبویﷺ تھے ، آپؓ خلیفہ راشد اور خلیفہ دوم تھے ۔ حضرت عمرؓ بھی خطابؓ نے دو بڑی طاقتوں ایران اور روم کو شکست دی تھی ، آپؓ نے بیت المال کا شعبہ فعال کیا، آپؓ نے اسلامی مملکت کو صوبوں اور اضلاع میں تقسیم کیا، آپؓ نے عشرہ خراج کا نظام نافذ کیا اور آپؓ نے پولیس کا محکمہ قائم کیا۔

    حضرت عمرؓ بن خطابؓ کا زمانہ خلافت اسلامی فتوحات کا دور تھا ، حضرت عمرؓ بن خطابؓ نے اپنی ١٠ سالہ دور خلافت میں ٢٢ لاکھ مربع میل پر اسلامی حکومت قائم کی اور قیصر و کسری کی دونوں سلطنت کا خاتمہ کیا، آپ ؓ نے اپنی رعایا پر عدل و انصاف قائم کیا اور دشمنان اسلام کے تمام دین اسلام مخالف منصوبوں و فتنوں کو خاک میں ملایا۔

    حضرت عمرؓ بن خطاب ؓ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے بعد تمام غزوات میں شرکت کیں ۔ حضرت عمرؓ بن خطابؓ کی خدمات، جرات و بہادری، فتوحات، شان دار کردار اور کارناموں سے دین اسلام کا چہرہ روشن ہے۔حضرت عمر ؓ بن خطابؓ کی اشاعت دین اسلام کے لیے بے مثال جدوجہد اور لازوال قربانیوں کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائیگا۔

    عمرؓ بھی خطاب ؓ کو ستاٸیس ذوالججہ کو نماز فجر کی امامت کے دوران ابو لولو فیروز نامی معلون مجوسی نے خنجر کے وار سے زخمی کر دیا تھا جس کے تین دن بعد آپ ؓ یکم محرم الحرام چوبیس ہجری کو جام شہادت نوش فرمایا۔ آپؓ روضہ رسولﷺ کے پہلو مبارک میں مدفن ہیں۔

    اللہ حضرت بن خطاب کے درجات بلند فرماٸے، آمین یارب العالمین!

    ‎@JahantabSiddiqi

  • امام عدل و حریت، خلیفہ دوم، امیرالمؤمنین، حضرت سیّدنا عمر فاروق اعظمؓ تحریر: حیدرعلی صدّیقی

    امام عدل و حریت، خلیفہ دوم، امیرالمؤمنین، حضرت سیّدنا عمر فاروق اعظمؓ تحریر: حیدرعلی صدّیقی

    نام: عمر
    کنیت: ابوحفص
    القاب: فاروق اعظم، شھید منبر و محراب، مراد نبیﷺ، سسرمصطفیٰﷺ، امیرالمؤمنین وغیرہ۔۔۔
    والد: خطاب
    والدہ: حنتمہ بنت ھاشم،
    ولادت: واقعہ فیل کے 13 برس بعد،
    قبول اسلام: نبوّت کے چھٹے سال 33 برس کی عمر میں اسلام لائے،
    وجاہت: رنگ سفید مائل بہ سرخی، رخساروں پر گوشت کم، قد مبارک دراز تھا،

    ٭سلسلہ نسب:٭
    عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لؤی بن فھر بن مالک،
    ۔۔۔۔ عَدی کی دوسرے بھائی مُرّہ تھے جو حضوراکرمﷺ کے اجداد میں سے ہیں، اس لحاظ سے حضرت عمرؓ کا سلسلہ نسب آٹھویں پشت میں رسول اکرمﷺ سے جا کر مل جاتا ہے،

    ٭قبول اسلام:٭
    اسلام لانے سے قبل عمر اور ابوجھل نبی کریمﷺ اور مسلمانوں کی دشمنی میں سب سے زیادہ سرگرم تھے، اسلئے آپﷺ نے خصوصیت کے ساتھ ان ہی دونوں کیلئے اسلام کی دعا فرمائی، ”اَللّٰھمَّ اَعِزَّالاِسلاَمَ بَاَحدِ الرَّجُلَینِ اَمَّابْن ھِشامٍ امَّا عُمرَ بْن الْخَطاؓبٍ“ یعنی اے اللہﷻ اسلام کو ابوجھل یا عمر بن خطابؓ سے معزز کر،  اور ایک روایت میں تو آپﷺ نے صرف عمرؓ کا نام ہی لیا ہے کہ اللہﷻ اسلام کو عمرؓ کی ذریعے سے معزز فرما چنانچہ اس وجہ سے آپؓ کو  ”مراد نبی“ کہا جاتا ہے، آپؓ کے اسلام لانے سے قبل بہت سے مرد اور عورت ایمان لاچکے تھے، آپؓ کے اسلام لانے کی نمبر میں اختلاف ہے کوئی 41 واں، کوئی 40 واں، بعض 45 واں بتاتے ہیں، حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ” رسول اللہﷺ پر 39 مرد و عورت ایمان لاچکے تھے پھر عمرؓ اسلام لے آئے تو 40 ہوگئے، پس جبرئیل علیہ السلام آسمان سے اترے اور اللہﷻ کی طرف سے یہ آیت مبارک لے آئے ” يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ حَسۡبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِینَ۞
    ترجمہ:
    اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! خدا تم کو اور مومنوں کو جو تمہارے پیرو ہیں کافی ہے۔(سورہ انفال آیت نمبر64)۔

    ۔۔۔۔۔ آپؓ کی اسلام لانے کی بعد اسلام کا بول بالا ہوگیا اور مکہ میں اسلام ظاہر ہوگیا،

    ٭ھجرت مدینہ:٭
    سیّدنا عمرفاروقؓ کا شمار بھی مھاجرین صحابہؓ میں ہے، آپؓ نے کھلم کھلا مدینے کی طرف ھجرت فرمائی۔ سیّدنا علیؓ سے ایک روایت کا مفھوم ہے، کہ ” میں نہیں جانتا کہ مھاجرین میں سے کسی نے کھلم کھلا ھجرت کی ہو سوائے عمرؓ کے، آپؓ نے جب ھجرت کا ارادہ کیا تو مسلح ہوکر مشرکین مکہ کے مجمعوں سے گزرتے ہوئے خانہ کعبہ پہنچے، اطمنان کی ساتھ طواف کیا نماز پڑھی، پھر مشرکین کی طرف مخاطب ہوکر اعلان کرنے لگا کہ اگر کوئی اپنی ماں کو رلانا، اپنی بچوں کو یتیم اور بیوی کو بیوہ کرنا چاہتا ہے تو وہ میرے پیچھے آکے مجھے روک لیں، علیؓ فرماتے ہے کہ کسی نے ان کا پیچھا نہیں کیا“

    ٭جنگ بدر وغیرہ میں شرکت:٭
    سیّدنا عمرفاروقؓ حضوراکرمﷺ کی معیت میں جنگ بدر، اُحُد، خَندق، بیعة الرضوان، غزوہ خَیبَر، فتح مکہ، جنگ حُنَین، وغیرہ سب محاذوں پر شریک تھے، اور آپؓ کفار پر بہت زیادہ سخت تھے، رسول اللہﷺ نے صلح حدیبیہ کے دن ارادہ کیا تھا کہ عمرؓ کو اہل مکہ بھیج دے لیکن عمرؓ نے کہا کہ یارسول اللہﷺ! مشرکین قریش میری ان سے سخت عداوت کو جان چکے ہیں، اسلئے اگر ان کو موقعہ ہاتھ آئے تو وہ مجھے قتل کرینگے، تو رسول اللہﷺ نے عمرؓ کو روکا اور حضرت عثمانؓ کو اہل مکہ بھیج دیا،

    ٭علم مبارک:٭
    آپؓ عدالت، شجاعت، اور بھادری کی ساتھ میدان علم کی بھی شہسوار تھے، حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ” اگر عمرؓ کا علم ترازو کی ایک پلٹرے میں رکھا جائے اور سارے لوگوں کا علم دوسرے پلٹرے میں رکھا جائے تو عمرؓ کا علم زیادہ بھاری اور راجح ہوگا،

    ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ” میں دیکھتا ہوں کہ گویا مجھے دودھ کا ایک پیالہ تناول کیا گیا میں نے اس سے پیا اور باقی ماندہ دودھ میں نے عمرؓ کو دیا، صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یارسول اللّہﷺ! آپ اس کی کیا تاویل کرتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا ”علم سے،
    (یعنی اس دودھ سے مراد علم ہے،)
    اور بھی بہت سے احادیث مبارکہ ہیں جس سے آپؓ کا علم و حکمت میں اعلی مقام کا ثبوت ملتا ہے،

    ٭تواضع اور زھد:٭
    آپؓ جس طرح سخت تھے اتنا نرم مزاجی، عاجزی و انکساری، اور زھد آپکا شیوۂ خاص تھا، طلحہ بن عبیداللہ فرماتے ہیں کہ ” عمر بن خطابؓ ہم سے اسلام لانے اور ھجرت کرنے میں پہلے نہیں تھے لیکن وہ ہم میں سب سے زیادہ دنیا کی معاملے میں بے رغبت اور زاھد تھے، اور آخرت کی معاملے میں ہم سب میں سے زیادہ رغبت کرنے والے تھے،

    ۔۔۔۔۔ حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ ” کہ میں نے عمرؓ کو دیکھا کہ آپؓ کے دونوں کندھوں کے درمیان قمیص میں چار پیوند لگے ہوئے تھے،

    آپؓ پر موت کا ڈر اتنا غالب تھا کہ ہر وقت موت کو یاد رکھتے تھے، آپؓ کی انگوٹھی پر بھی لکھا تھا کہ ”کَفیٰ بِالْمَوْتِ وَاعِظاً یَاعُمرْ“ یعنی اے عمر نصیحت کیلئے موت ہی کافی ہے،

    ٭فضائل اور کمالات:٭
    آپؓ کے بہت سے فضائل اور کمالات ہیں جو قرآن و احادیث مبارکہ میں وارد ہوئے ہیں، قرآن کریم کے بائیس (22) آیات ایسے ہیں جو عمرؓ کی رائی کی مطابق نازل ہوئے ہیں، اور وہ بائیس آیات گوشۂ علم میں ”موافَقاتِ عمرؓ“ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں، اس عنوان پر الگ رسالے اور کتابیں بھی لکھی گئے ہیں، تفصیل کیلئے وہاں رجوع کریں، یہاں صرف اشارةً چند مقامات ملاحظہ فرمائیں۔
    ①…مقام مقام ابراھیمؑ میں نماز کا حکم بھی آپؓ کے رائی پر تھا،
    ②…آپ کی خواہش تھی کہ پردہ ہو چنانچہ آیت حجاب نازل ہوئی،
    ③…جنگ بدر میں مشرکین قیدیوں کے بارے میں آپؓ کی رائی تھی کہ ان کو قتل کیا جائے اور آپؓ کی علاوہ سب کی رائی تھی کہ ان سے فدیہ وصول کرکے ان کو چھوڑا جائے، چنانچہ فدیہ والے رائی پر عمل ہوگیا اور بعد میں اللہ تعالی نے سورة انفال کی آیت مبارک نمبر 68 نازل فرمائی اور ظاہر کیا کہ صحیح رائی عمرؓ کی تھی، یہ چند مقامات بطور مثال ہیں ان تمام موافقات کیلئے مولانا حافظ لیاقت علی شاہ نقشبندی کی رسالہ ”موافقاتِ سیّدنا عمرؓ“ ملاحظہ فرمائیں،

    آپؓ کے احادیث میں بھی بہت فضائل مروی ہیں،
    ①…حضرت ابوھریرہؓ سے روایت ہے کہ ” ہم حضورﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ ” کہ میں سو گیا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا پس اچانک ایک عورت ایک بنگلہ کی قریب وضو کر رہی تھی میں نے پوچھا کہ یہ کس کا بنگلہ ہے؟ تو اس عورت نے کہا یہ عمرؓ کا ہے، (حضورﷺ فرماتے ہیں کہ شاید میں بھی بنگلہ کو دیکھ لے تھا لیکن) مجھے عمرؓ کا غیرت یاد آیا اور میں واپس لوٹا، عمرؓ نے جب یہ بات سنا تو روئے اور فرمانے لگے ”أَعَلیْكَ أغَارُ یَارَسولَ اللہِ؟! کہ یارسول اللہﷺ کیا میں آپ پر بھی غیرت کرونگا،
    (مطلب یہ ہے کہ کیا میں آپ کو اپنے گھر دیکھنے سے منع کرونگا؟)
    ②…حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا” اہل آسمان میں سے میرے دو وزیر جبرئیلؑ اور میکائیلؑ ہیں، اور اہل زمین میں سے میرے دو وزیر ابوبکرؓ و عمرؓ ہیں،
    ③…ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ”اللہﷻ نے عمرؓ کے زبان اور دل پر حق کو جاری فرمایا ہے،
    ④…عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتا، (لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں)،
    ⑤… ام المؤمنین سیّدہ حضرت امی عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا، ”پہلے امتوں میں ایسے لوگ ہوتے تھے جن کو من جانب اللہ الھام ہوا کرتا تھا اگر میرے امت میں ایسا کوئی شخص ہے تو وہ عمر بن خطاب ہوگا،،،

    آپؓ کے اور بھی بہت فضائل ہیں لیکن خوف طوالت کی وجہ سے ان کو متروک کیا ہے،

    ٭خلافت:٭
    آپؓ سیّدنا خلیفة النبیﷺ، امیرالمؤمنین، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد مسندِ آرائے خلافت ہوئے، آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے دس سال چھ ماہ دس دن تک 22 لاکھ مربع میل پر اسلامی خلافت قائم کی، آپؓ کے دور میں 3600 علاقے فتح ہوئے، آپؓ کے دور میں 900 جامع مسجد اور 4000 عام مسجدیں تعمیر ہوئیں، قیصر و کسریٰ دنیا کی دو بڑی سلطنتوں کا خاتمہ آپ ہی کی دور میں ہوا، آپؓ کے عہد خلافت میں عدالت کے ایسے بے مثال فیصلے چشم فلک نے دیکھے جن کا چرچا چاردانگ عالم پھیل گیا، فتوحات میں عراق، ایران، روم، ترکستان، شام، مصر، آذربائیجان، جزیرہ، خوزستان، قادسیہ اور دیگر بلاد عجم پر اسلامی عدل کا پرچم لہرانا سیّدنا عمرفاروق اعظمؓ کا بے مثال کارنامہ ہے، حضرت عمرؓ کے زریں اور درخشندہ عہد پر کئی غیرمسلم بھی آپؓ کی تعریف کئے بغیر رہ نہ سکے، حقیقیت میں آنحضرتﷺ کے آفاقی دین کی تعمیر و ترقی کے اوج ثریا پر پہنچانے اور دنیا بھر میں اسلام کی سطوت و شوکت کا سکہ بٹھانے کا سہرا حضرت عمر فاروقؓ کے سر ہے،
    ٭شھادت:٭
    حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے ایک فارسی غلام فیروز نامی نے جس کی کنیت ابولؤلؤ تھی، حضرت عمرؓ سے اپنے آقا کے بھاری محصول مقرر کرنے کی شکایت کی اس کی شکایت بےجا تھی اسلئے حضرت عمرؓ نے توجہ نہ کی، اس پر وہ اتنا ناراض ہوا کہ چھپ کے حضرت عمرؓ کی قتل کا منصوبہ بنایا اور صبح کی نماز سے پہلے خنجر لے کر مسجد کی محراب میں چھپ گیا اور جب حضرت سیّدنا عمرفاروقؓ نے امامت شروع کی تو ابولؤلؤفیروزہ نے اچانک حملہ کردیا اور متواتر چھ وار کیے، حضرت عمرؓ گہرے زخم کے صدمہ سے گر پڑے تو حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ نے نماز پڑھائی، یہ ایسا کاری زخم تھا کہ اس سے آپ جانبر نہ ہوسکے لوگوں کے اصرار سے آپؓ نے چھ شخصوں کو منصب خلافت کیلئے نامزد کیا کہ ان میں سے کسی ایک کو جس پر باقی پانچوں کا اتفاق ہوجائے اس منصب کیلئے منتخب کرلیا جائے، ان لوگوں کے نام یہ ہیں، علیؓ، عثمانؓ، زبیرؓ، طلحہؓ، سعد بن ابی وقاصؓ، اور عبدالرحمان بن عوفؓ،۔۔۔
    اس مرحلہ سے فارغ ہونے کے بعد آپؓ نے حضرت عائشہؓ سے رسول اللہﷺ کے پہلو میں دفن ہونے کی اجازت لی،
    ۔۔۔ وہ جگہ حضرت عائشہؓ نے اپنے لی منتخب کی تھی، لیکن اس موقع پر امی عائشہؓ نے ارشاد فرمایا کہ میں عمرؓ کو اپنے پر فضلیت دیتا ہوں یہ جگہ ان کے دفن کیلئے ہوگا،
    اس کے بعد آپؓ نے مھاجرین، انصار، اعراب اور اہل ذمہ کے حقوق کی طرف توجہ دلائی اور اپنے صاحبزادہ حضرت عبداللہؓ کو وصیت کی کہ مجھ پر جس قدر قرض ہے اگر وہ میرے متروکہ مال سے ادا ہوسکے تو بہتر ہے، ورنہ خاندان عدی سے درخواست کرنا اور اگر ان سے ادا نہ ہوسکے تو کل قریش سے، لیکن قریش کے سوا اور کسی کو تکلیف نہ دینا، غرض اسلام کا سب سے ”بڑا ہیرو“ ہر قسم کی ضروری وصیتوں کے بعد تین دن بیمار رہ کر محرم کی پہلی تاریخ ہفتہ کے دن 24 ھجری میں واصل بحق ہوا اور اپنے محبوب آقاﷺ کے پہلو میں ہمیشہ کیلئے میٹھی نیند سو رہا، آپؓ کے نمازِ جنازہ سیّدنا حضرت صہیب رومیؓ نے پڑھائی،
    *اِنّا لِلهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنْ۔* 

    ٭ آپؓ ہمیشہ یہ دعا کرتے تھے” اَللّٰھُمَّ رْزُقْنِیْ شَھَادَةً فِیْ سَـبِیْـلِـكَ وَاجْعَـلْ مَـوْتِیْ فِـیْ بَلَـدِ رَسُـوْلِـكَ“ یعنی اے اللہﷻ مجھے اپنے راہ میں شھادت نصیب فرما اور اپنے محبوبﷺ کے شہر میں مجھے موت نصیب فرما،
    اس دعا کی قبولیت تھی کہ آپؓ کو نبیﷺ کے مسجد، نبیﷺ کے مصلیّٰ، نبیﷺ کے محراب میں شھادت کا جام نصیب ہوا، اور حضوراکرمﷺ کے پہلو میں دفن ہونا بھی۔

    ٭ازواج و اولاد:٭
    حضرت عمرؓ نے مختلف اوقات میں متعدد نکاح کیے، ان کی بیویوں کی تفصیل یہ ہے:
    ①حضرت زینبؓ:…ہمشیرہ عثمان بن مظعونؓ۔ مکہ میں مسلمان ہوکر فوت ہوئیں،
    ②قریبہ بنت امیة المخزومی:… مشرکہ ہونے کے باعث طلاق دے دی تھی،
    ③ملیکہ بنت جرول:… مشرکہ ہونے کے باعث ان کو بھی طلاق دے دی،
    ④عاتکہ بنت زید:… ان کا نکاح پہلے حضرت عبداللہ بن ابی بکرؓ سے ہوا تھا پھر عمرؓ کے نکاح میں آئیں۔
    ⑤حضرت ام کلثومؓ:… رسول اللہﷺ کی نواسی اور حضرت فاطمہؓ کی نوردیدہ تھیں، حضرت عمرؓ نے خاندان نبوّت سے تعلق پیدا کرنے کیلئے 17 ھجری میں چالیس ہزار (40000) مہر پر ان سے نکاح کیا۔
    حضرت عمرؓ کی اولاد میں ام المؤمنین حضرت حفصہؓ اس لحاظ سے سب سے ممتاز ہیں کہ وہ رسول اللہﷺ کی ازواج مطھرات میں داخل تھیں- حضرت عمرؓ نے اپنی کنیت ابوحفص بھی ان ہی کے نام پر رکھی تھی، باقی اولاد کے نام یہ ہیں: حضرت عبداللہؓ، عاصم، ابوثحمہ، عبدالرحمان، زید، مجیر، ان سب میں حضرت عبداللہؓ، حضرت عبیداللہ اور حضرت عاصم اپنے علم و فضل اور مخصوص اوصاف کے لحاظ سے نہایت مشہور ہیں،

    آپؓ نے یکم محرم الحرام سن 24 ھجری میں امت مسلمہ کو ہمیشہ کیلئے یتیم چھوڑ کر اس فانی دنیا سے کوچ کیا،      
                        🔵فَرَضِیَ اللہ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ🔵

    Follow On Twitter:

  • زکوۃ اسلام کا ستون اور انسانی معاشرہ  تحریر: عتیق الرحمن

    زکوۃ اسلام کا ستون اور انسانی معاشرہ تحریر: عتیق الرحمن

    انسانی معاشرے مختلف لوگوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ کچھ جسمانی طور پر مضبوط ہیں جبکہ دیگر کمزور ہیں۔ کچھ دانشورانہ طور پر برتر ہیں جبکہ دوسرے کم سمجھے جاتے ہیں پر ہوتے نہیں ہیں۔ سب سے اہم فرق مال و دولت سے متعلق ہے۔ مسلمان کی دولت پر واجب الادا سالانہ ٹیکس ہے۔ یہ اسلام کے پانچ بنیادی ستونوں میں سے ایک اہم ستون ہے جس پر عمل کیے بغیر اسلام مکمل نہیں ہوتا۔
    یہ اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ جو اپنے منہ میں چاندی کا چمچ لے کر پیدا ہوتا ہے جبکہ دوسرا مالی مشکلات کا شکار ہوتا ہے تو ان حالات میں زکوۃ کے ستون پر عمل کرنا اسلامی فریضوں میں شامل ہوتا ہے۔ تمام معاشروں میں معاشی طور پر کمزور اکثریت میں ہوتے ہیں اور قدرتی اور غیر قدرتی آفات سے شدید متاثر بھی۔ اسی طرح ، موجودہ کوویڈ 19 وبائی بیماری نے معاشرے کے تمام طبقات کو دھچکا پہنچایا ہے لیکن سب سے زیادہ متاثرہ درمیانے اور نچلے طبقے کو نقصان پہنچا ہے۔ وبائی امراض نے امیر اور غریب کے درمیان فرق کو بڑھا دیا ہے اور سماجی اقتصادی کمزوریوں میں ایک نئی پرت کا اضافہ کیا ہے۔ سماجی یکجہتی کے بہت سے مجموعی نظام غیر رسمی اور غیر رسمی کاروباری شعبوں میں مصروف دیگر مزدوروں نے شہروں میں طویل لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنی روزی روٹی کھو دی ہے۔ وہ غربت کے جال میں پھنس چکے ہیں اور زیادہ پسماندہ ہو چکے ہیں ، اس لیے انہیں بارش کی ضرورت ہے جو کہ مٹی تک پہنچتی ہے ، ترقی یافتہ ممالک میں حکومت کی طرف سے اور فلاح یافتہ لوگوں کی طرف سے فوری امداد اور مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اسلام نے صدقہ دینے کے تصور پر زور دیا ہے۔ خیرات کو توہین آمیز طریقے سے نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اس طرح دیا جانا چاہیے کہ ضرورت مندوں کو پسماندگی کا احساس نہ ہو۔ ان کی عزت نفس مجروح نہیں ہونی چاہیے جبکہ آہستہ آہستہ انہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل بنانا چاہیے۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ صدقہ مستحق افراد کو باوقار طریقے سے دینا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں چند پیسے وصول کرنے کے لیے کھلے آسمان کے نیچے لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے جہاں انہیں ہر آنے جانے والے کی سوالیہ نظروں کا سامنا کرنا پڑے۔ اسلام صدقہ وصول کرنے والوں کی عزت نفس کے بارے میں بہت خاص احکامات دیتا ہے صدقہ و زکوۃ سخاوت کام ہے- قرآن مومنوں کو حکم دیتا ہے کہ "اپنے خیراتی کاموں کو یاد دہانیوں اور تکلیف دہ الفاظ سے منسوخ نہ کریں”۔ اسلام لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ مومن اپنی دولت اور وسائل ضرورت مندوں کے ساتھ بانٹیں۔ جو لوگ بہت زیادہ دولت اور وسائل کے ساتھ معاشی طور پر مضبوط ہیں ان کو اضافی ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اپنی دولت کو کئی گنا زیادہ کے ساتھ بانٹیں۔ صدقہ دینے کا تصور اسلامی معاشی نظام کے لیے بنیادی ہے۔ اس کا مقصد غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہے۔ یہ سماجی یکجہتی کو ایک آئیڈیل کے طور پر زور دیتا ہے جو انصاف اور سخاوت دونوں کا حکم دیتا ہے جبکہ دولت کے ذخیرہ اندوزوں کی مذمت کرتا ہے۔ صدقہ دینے کی ضرورت اور قدر قرآن میں بڑی تعداد میں بیان کی گئی ہے۔ ان شرائط کے معنی ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں اور یہ اکثر ایک دوسرے کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو شخص زکوٰۃ ادا کرتا ہے وہ نہ صرف اپنی دولت اور جائیداد کو پاک کرتا ہے بلکہ معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ قرآن پاک نے زکوٰۃ دینے سے روح کی زرخیزی کو تقویت بخشی ہے ، پیداوار میں مزید اضافہ کیا ہے۔
    یہ ایک مومن کے لیے ایک امتحان ہے کہ وہ اپنے جائز وصیت میں سے اپنے خالق کو زکوٰۃ ادا کرے جس نے اسے اس کے لیے دولت کمانے اور جمع کرنے کے قابل بنایا اپنی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لیے بھی۔ دوسرے لفظوں میں ، کسی کو اپنی صلاحیت کے مطابق دینا ہے اور خاندان کے ساتھ ساتھ ذاتی ضروریات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ قرض حسنہ بھی صدقہ دینے کی ایک شکل ہے ، جو اللّہ کی طرف سے انعام کے ساتھ منسلک ہے۔ قرآن پاک لوگوں کو تلقین کرتا ہے کہ وہ اللہ کو "ایک خوبصورت قرض” پیش کریں ، جو اللہ کے فضل سے ہو گا، چونکہ قرض حسنہ اللہ کو آخری دینے والا سمجھا جاتا ہے ، اس طرح کی پیشکشوں کو محض اللہ کی طرف لوٹنے کے عمل سے تعبیر کیا جاتا ہے جو اس کی سخاوت کی وجہ سے ہے۔ . اسی طرح کی دیگر اصطلاحات جیسے خیرات بھی دوسروں کی ضرورت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ صدقہ دینے کے تصور کو لاگو کرنا حکومتی ذمہ داری تو ہے ہی لیکن بطور مسلمان ہماری دینی فریضہ بھی ہے اور اللّہ کی خوشنودی کے لئے ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اسلام کے پانچوں ستونوں میں سے ایک زکوۃ دینے پر عمل کرے اور امید ہے کہ یہ کوویڈ 19 کے منفی اثرات کو کم کرے گا اور اس کے نتیجے میں معاشرے میں پرامن بقائے باہمی ہوگی۔ قرآن کے الفاظ میں جو لوگ اپنے وسائل سے ضرورت مندوں کی مدد کے لیے خرچ کرتے ہیں وہ واقعی نیک ہیں۔

    @AtiqPTI_1

  • خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تحریر : مریم صدیقہ

    خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تحریر : مریم صدیقہ


    وہ جس کے انصاف کی گواہی آج بھی دنیا دیتی ہے،وہ جس نے آدھی دنیا میں اسلام کا پرچم لہرایا تھا،وہ جس کو دیکھ کے شیطان بھی راستہ بدل لیتا تھا، وہ جس کے خوف سے دشمن کانپ اٹھتا تھا، وہ جس کے اسلام قبول کرنے کی دعائیں میرے نبی محمد ﷺ نے مانگی تھی، وہی ہستی جس کا آج یوم شہادت ہےاور کوئی عام نہیں بلکہ خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺنے فرمایا : "اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔” وہ جس کے اسلام قبول کرنے پہ میرے نبیﷺ نے کہا کہ اٹھو بلال! آج اذان چھپ کر نہیں بلکہ کعبہ کی چھت پر جا کر دو تاکہ کفار کو پتہ چلے عمر اسلام قبول کر چکا ہے، وہ جس کی شہادت پہ یہودی کہنے پہ مجبور تھے کہ اگر عمر دس سال زندہ رہ جاتے تو مشرق سے مغرب تک ایک یہودی بھی نہ بچتا اور پوری دنیا میں اسلام کا بول بالا ہوتا۔
    دنیانے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعدایسا حکمران نہ دیکھا جس نے 22 لاکھ مربع میل کے علاقے کو فتح کر کےاس پہ حکومت کی لیکن ایک دن زار و قطار روتے دیکھائی دیے رونے کی وجہ پوچھی گئی تو کہا کہ نہر کے پل سے بھیڑ بکریوں کا ریوڑ گزر رہا تھا اور پل میں ایک سوراخ تھا ، اس سے ایک بکری کی ٹانگ ٹوٹ گئی میں اس لیے رو رہا ہوں کہ کل میں خدا کے ہاں جوابدہ ہوں گا کہ تر ی حکومت میں بکری کی ٹانگ ٹوٹی تو کیوں ٹوٹی ہے تو اس پل کو مرمت نہیں کروا سکتا تھا۔اتنا خوف خداوندی تھا کہ کہتے تھے کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مرگیا تو عمر کو اللہ کے ہاں جواب دینا ہوگا۔بہادری اس قدر تھی کہ ہجرت کا وقت تھا تمام لوگ کفار کے ڈر سے رات کے اندھیرے میں مکہ سے مدینہ جا رہے تھے تو ایسے میں عمر فاروق اپنی تلوار لہراتے مکے کی گلیوں میں یہ کہہ رہے تھے کہ جس نے اپنے بچوں کو یتیم کروانا ہے اور بیویوں کو بیوہ کروانا ہے تو وہ آئے عمر کا راستہ روک کے دیکھائے کیوں کہ عمر آج ہجرت کر رہا ہے۔عوام کا احساس اس حد تک تھا کہ راتوں کو گلیوں میں بھیس بدل کے پہرہ دیتے تھے کہ کوئی بھوکا تو نہیں ہے ان کی سلطنت میں۔
    محمدؐ کے صحابی کا وہ زمانہ یاد آتا ہے۔
    بدل کر بھیس گلیوں میں وہ جانا یاد آتا ہے۔
    احتساب، برابری اور انصاف کا یہ عالم تھا کہ ہمیشہ سب سے پہلے خود کو اس کے لیے پیش کیا ایک مرتبہ ابی بن کعب اور آپ کے درمیان اختلاف ہوگئے اور یہ معاملہ قاضی زید بن ثابت کو پیش کیا گیا جب معاملہ شروع ہوا تو امیرالمومنین کا لحاظ کرتے ہوئے قاضی نے آپ کا احترام کرنا چاہا توآپ نے روک دیا اور فرمایا یہ تمہاری پہلی ناانصافی ہے یہ کہہ کر ابی بن کعب کے برابر بیٹھ گئے جب گواہ طلب کیے گئےتو آپ کا کوئی گواہ موجود نہ تھا لہذا آپ کو مدعی علیہ کے طور پر قسم کھانی تھی قاضی نے پھر سفارش کی کہ امیر المومنین کو قسم کھانے سے معاف کر دیا جائے ۔آپ رضی اللہ عنہ ناراض ہوگئے فرمایا یہ تمہارا دوسرا ظلم ہے پھر معاہدے کے مطابق قسم کھائی اور فرمایا "اے قاضی انصاف کرتے وقت جب تک امیر اور فقیر اور ایک عام آدمی تمہارے نزدیک برابر نہ ہو تم قاضی کے عہدے کے قابل نہیں سمجھے جاسکتے ۔”
    خلیفہ دوم نے حکومت چلانے کےوہ طریقے بتائے جن پر آج تک عمل ہو رہا ہے سلطنت کو صوبوں میں تقسیم کیا اور انکے عہدداروں کو نصحیت کی کہ رعایا کے لیے ان کے دروازے ہر وقت کھلے رہنے چاہیےپھر پولیس کا محکمہ قائم ہوا اور افسران کو حکم دیا کہ امن کے ساتھ ساتھ لوگوں کی دیکھ بھال بھی کرتے رہے ایسے ہی عدالتی نظام بھی انہیں کے دورخلاقت میں رائج ہوا اور ججز کو اختیار حاصل تھا کہ قرآن و سنت کے مطابق فیصلے کرے۔
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان رہبروں میں سےہیں جنہوں نے آنے والی نسلوں تک کے لیے زندگی کی اصول واضح کیے جن سے آج بھی دنیا استفادہ حاصل کرتی ہے۔اگر آج اسلامی دنیا پھر سے عروج اور دنیا پہ اپنی حکمرانی چاہتی ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا جائزہ لے اور اسے اپنی مشعل راہ بنائیں ۔ قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر قربان نہ کرے اور اگر واقعی کامیابی چاہتے ہیں تو اسلام کی ایسی تعلیمات کو ہرگز فراموش نہ کریں۔
    تقاضا ہے کہ پھر دنیا میں شان حق ہویدا ہو
    عرب کے ریگزاروں سے کوئی فاروق پیدا ہو
    بڑا غوغا ہے پھر قصر جہاں میں اہل باطل کا
    کوئی فاروق پھر اٹھے تو حق کا بول بالا ہو

    ‎@MS_14_1

  • بادشاہ است حسین  تحریر: مدثر حسن

    بادشاہ است حسین تحریر: مدثر حسن

    جیسا کہ سب کو پتہ ہے وہ مہینہ آرہا ہے جس میں جنت کے سردار نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین کی شہادت ہوئی ۔ امام حسین کون تھے ؟
    امام حسین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بیٹے تھے اور حضرت امام حسن کے بھائی تھے ۔۔۔۔
    امام حسین کی پیدائش پر رسول ﷺ بہت خوش ہوئے فرمایا کہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام دونوں نوجوان جنت کے سردار ہیں۔
    امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس کی سواری وجہ تخلیق کائنات رسول ﷺ خود تھے ۔امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس کے رونے پر رسول ﷺ کو بے چینی ہوتی تھی۔
    امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس کے لیے اللہ کے رسول ﷺ نے نماز کا سجدہ لمبا کر دیا۔
    امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس کے رونے پر رسول ﷺ نے حضرت فاطمتہ الزہرا سے فرمایا بیٹی میرے حسین علیہ السلام کو رونے نہ دیا کرو مجھ سے رہا نہیں جاتا اور اس کا رونا مجھ سے دیکھاجاتا نہیں۔
    امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس کے لیے سرورکائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا: ”حسین منی وانامن الحسین“حسین مجھ سے ہے اورمیں حسین سے ہوں ۔ خدا اسے دوست رکھے جوحسین کودوست رکھے ۔۔۔۔

    امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس نے نانا کے دین کی لاج رکھی۔امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جو خود جان قربان کرگئے لیکن یزید کی بیعت نہیں کی ۔
    اما حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جو باطل سے لڑ گئے اور باطل کے سامنے ڈٹ گئے ۔۔۔۔

    قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

    دین کی پناہ ہے حسین علیہ السلام میرا بادشاہ است حسین ہے
    اگر اہلبیت سے محبت کرنا شیعہ کہلاتی ہے تو سب سن لو میں شیعہ ہوں۔ امام حسین سے نفرت کرنے والا یزید پلید ہے۔۔۔

    امام حسین سے محبت ہماری زندگی کا کل اثاثہ ہے ۔۔۔۔

    اللہ ہمیں امام حسین علیہ السلام کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔۔۔۔

    MudasirWrittes

  • ہمارے پیارے نبی ﷺ کا بچپن اور حسنہ سلوک   تحریر  : راجہ ارشد

    ہمارے پیارے نبی ﷺ کا بچپن اور حسنہ سلوک تحریر : راجہ ارشد

    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت اور والدین کے بارے میں تو آپ جانتے ہیں کہ آپ ﷺ پیدائشی یتیم تھے۔ حضرت بی بی آمنہ کی وفات کی بعد آپ ﷺ کی پرورش آپﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے بڑی محبت اور دل داری سے کی ۔اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے پوتے تھے مگر وہ خصوصا

    حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے پاکیزہ اخلاق و عادت کی وجہ سے ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ بیت اللہ کی مسند پر ان کے علاوہ کوئی اور نہیں بیٹھ سکتا تھا مگر انہوں نے آپﷺ کو اس پر بیٹھنے سے کبھی منع نہیں کیا بلکہ ایک موقع پر فرمایا: میرے اس بیٹے کو چھوڑ دو۔ خدا کی قسم اس کی شان کچھ اور ہی ہے۔ وہ آپﷺ کو کندھے پر بٹھا کر بیت اللہ کا طواف کیا کرتے تھے۔

    حضرت عبدالمطلب نے اپنی بیماری کے دوران ہی حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو پرورش کے لیے اپنے باقی بیٹوں کے بجائے حضرت ابو طالب کے حوالے کر دیا جو خود بھی اپنی عظمت اور سخاوت کی وجہ سے قوم کے سردار مانے جاتے تھے۔وہی آپﷺ کی صحیح طور پر حمایت اور نگرانی کر سکتے تھے۔

    اس وقت مکہ کے اجڈ اور غیرمہزب ماحول میں خود کو برائیوں سے بچا کر پاک صاف زندگی گزارنا صرف نبی ہی کا کام ہو سکتا تھا کیونکہ نبی کی حفاظت اور تربیت اللّٰہ تعالٰی خود فرماتا ہے۔اس لیے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچپن ہی سے شریف، سنجیدہ، فرماں بردار، حیادار، راست گو،بلندہمت اور باادب تھے۔

    بچپن کی عمر کھیل کود اور بے فکری کی ہوتی ہے۔ مگر آپ ﷺ کا بچپن بالکل محنتلف اور مثالی ہے۔آپ ﷺ ہمیشہ مناظر قدرت پر غور و فکر کرنے ، خالق کائنات کی عظمت اور اس کے عجائبات پر سوچ بچار کرنے میں سکون محسوس کرتے۔ حضرت ابو طالب آپ ﷺ کے بچپن کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی بچپن میں آپ ﷺ کو جھوٹ بولتے ، ہنسی مذاق کرتے ،نہ ہی کبھی کوئی جاہلانہ بات کرتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ کی کبھی بازاری اور آوارہ لڑکوں سے دوستی نہ رہی

    قارئین ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ حسنہ سلوک میں بھی اپنی مثال آپ ہیں
    ایک مشہور وقع ہے کہ ایک بوڑھی عورت مکہ میں رہتی تھی ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی اس کے گھر کے سامنے سے گزرتے وہ آپ ﷺ پر کوڈا پھینک دیتی۔ کبھی پتھر اور کبھی کانٹے آپ ﷺ کے راستے میں بچھاتی۔آپ ﷺ کو بہت تکلیف ہوتی لیکن آپﷺ اسے کچھ نہ کہتے تھے۔

    ای دن ہمارے پیارے نبی ﷺ اسی راستے سے گزرے تو کسی نے ان کے اوپر کوڈا نہیں پھینکا۔ دوسرے دن بھی ایسا ہی ہوا۔ آپ ﷺ اس عورت کے گھر گئے ۔ وہ بہت بیمار تھی ۔ آپ ﷺ نے اسے کھانا کھلایا۔ جب تک وہ ٹھیک نہیں ہوئی اس کا خیال رکھا ۔ رسول اللہ ﷺ کے اس سلوک کی وجہ سے وہ عورت مسلمان ہو گئی۔

    اللہ پاک ہمیں بھی اپنے پیارے نبیﷺ کی طرح سب سے آچھا سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • ‏فرقہ ورایت کی وجہ  تحریر: صالح ساحل

    ‏فرقہ ورایت کی وجہ تحریر: صالح ساحل

    ہمارے ہاں آپ نے اکثر سنا ہو گا کے اتحاد امت کانفرنس اور فرقہ ورایت سے پاک پاکستان کے نعرے لگائے جاتے ہیں مگر آج ہم کوشش کرتے ہیں کے فرقہ ورایت کی اصل وجہ کیا ہے جس نے مسلمانوں کو تقسیم در تقسیم کر دیا تو میں دین کا ایک ادنی سا طالب ہونے کی حیثیت سے جب اس پر غور کرتا ہوں تو مجھے پتہ چلتا ہے کے فراہ ورایت کی یہ لعنت صرف مسلمانوں کے ہاں نہیں بلکہ اس سے پہلے عیسائیوں اور دیگر مذہب کے درمیان بھی موجود تھی اور میری علمی تحقیق اور سوچ کے مطابق اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے جہالت کیونکہ کے جب کسی معاشرے میں علمی روایت برقرار رہے گی تو وہاں فرقہ واریت جنم نہیں لے گی ان کے ہاں علمی بحثیں ہوں گی علمی اختلاف ہو گا کئی بار یہ اختلاف بڑھ جائے گا مگر یہ شدت پسندی نہیں ہو گی وہ اس اختلاف پر اپنا اپنا نقط نظر بیان کریں گے لیکن اگر آپ کسی معاشرے میں علم کی روایت کو بند کر دیں اور جہاں خدا کی کتاب کو صرف ثواب کی حیثیت سے پڑھا جائے پڑھنے والے کو اس سے غرض نہ ہو کے میرا رب کیا کہہ رہا بلکہ کے وہ صرف مولوی کی بات کو خدا کی بات سمجھ لے تو جب اس سے کوئ اختلاف کرے گا تو علمی جواب نہ ہونے کی وجہ سے وہ شدت پسندی کا راستہ اختیار کرے گا اگر ہم آج پوری امانت داری کے ساتھ یہ تحریک شروع کر دیں کے ہر آدمی کو سادہ ترجمہ کے ساتھ زندگی میں اللہ کی کتاب قرآن مجید ایک دفعہ سمجھ کر پڑھنی ہے تو بہت سے فرقے خود بخود ختم ہو جائے گے مگر ہم صرف قرآن کو ثواب کی کتاب سمجھ کر پڑھتے ہیں حالانکہ کے جگہ جگہ اللہ یہ کہتا ہے کے یہ ہدایت کی کتاب ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اقبال نے بھی کہا تھا اے مسلمان تم نے جس کتاب کو مردے بخشوانے کے لیے اور جب روح اٹک جائے تو سورہ یسین کی تلاوت کے لیے رکھا ہے اگر تم سمجھ کے زندگی میں پڑھ لے تو تمہارا مردہ وجود اور ضیمر زندہ ہو جائے اس لیے ہم کو چاہیے قرآن سے تعلق کو جوڑئیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر اسرار صاحب جب یہ آیات پڑھتے تھے
    Surat No 3 : سورة آل عمران – Ayat No 67 68

    مَا کَانَ اِبۡرٰہِیۡمُ یَہُوۡدِیًّا وَّ لَا نَصۡرَانِیًّا وَّ لٰکِنۡ کَانَ حَنِیۡفًا مُّسۡلِمًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۶۷﴾

    ابراہیم تو نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ وہ تو یک طرفہ ( خالص ) مسلمان تھے وہ مشرک نہ تھے ۔

    تو کہہ کرتے تھے کے اس آیات کو اپنے اوپر فٹ کر لو کے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ شیعہ تھے نہ سنی نہ بریلوی نہ دیوبندی بلکہ کے وہ صرف مسلم تھے
    ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو

    ہو تو سبھی کچھ بتاؤ کے مسلمان بھی ہو
    ‎@painandsmile334

  • اولیاء کی شان (تیسری قسط) تحریر یاسمین ارشد

    اولیاء کی شان (تیسری قسط) تحریر یاسمین ارشد

    جن کے اندر اللہ پاک نے ولیوں کا تذکرہ فرمایا مالک کائنات نے ولیوں کی صفتیں بیان کی مالک کائنات نے فرمایا وَاللّهُ وَلِىُّ الْمُؤْمِنِيْنَ (آیات نمبر 68 ) سورہ آل عمران )
    جن کے اندر ایمان ہے وہ اللہ کے ولی ہیں دوسرے مقام پر اللہ پاک فرماتا ہے (قد افلح المؤمنون)تیسرے مقام پر اللہ پاک فرماتا ہے (سورہ الجاثیہ میں ) آیات نمبر 19) وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ صاحب تقوی بندے جو صاحب تقوی بندے ہیں جن کے دل کے اندر اللہ کا ڈر ہے وہ اللہ کے ولی ہیں اور مقام پر اللہ پاک نے فرمایا:( اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَآئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِىْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ  ( آیت نمبر 30 سورہ حم)
    نَحْنُ اَوْلِيَآؤُكُمْ فِى الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِى الْاٰخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِىٓ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ (آیات نمبر 31 )سورہ حم)
    اللہ پاک نے فرمایا میرے جو ولی ہوتے ہیں صرف دنیا کے ولی نہیں بلکہ آخرت میں بھی میرے ولی ہوں گے جس ٹائم آخرت کے اندر آئے ہوئے ہوں گے یہ دنیا کے اندر زندگی کیسے گزار کے آئے جیسے میں اللہ کریم کہتا رہا یہ ویسے کرتے رہے اپنی منشا اور چاہت قربان کر دی ہے میں اللہ کریم کی چاہت کے سامنے جس ٹائم میرے پاس آئے ہوئے ہوں گے۔ میں کہوں گا (وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِىٓ) اے میرے ولیوں جیسے میں کہتا تھا ویسے کرتے تھے آج میں جلال کی قسم ہے جیسے تم چاہو گے میں اللہ ویسے ہی کروں گا (،،وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ) جس چیز کا کہو گے میں اللہ اس کو پورا کروں گا (نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ (سورہ فصلت آیات نمبر 32)یہ میرے اللہ کی طرف سے مہمان نوازی ہے اے لوگو دوسرا مقام قرآن کا اللہ پاک فرماتا ہے وَعِبَادُ الرَّحْـمٰنِ الَّـذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَاِذَا خَاطَبَهُـمُ الْجَاهِلُوْنَ قَالُوْا سَلَامًا (آیات نمبر 62 سورہ الفرقان) میں اللہ رحمنٰ کے بندے وہ ہیں جو زمین پردبے پاؤں چلتے ہیں اورجب ان سے بے سمجھ لوگ بات کریں تو کہتے ہیں سلام ہے(سورہ المائدہ آیا نمبر 55 اور 56) میں اللہ پاک نے فرمایا جو ولی ہیں وہ ایسے سمجھو اللہ کی جماعت ہے جو اللہ والے ہیں۔ اے لوگو جیسے تمہارے بڑے سردار لوگ تم کو منع نہیں کر سکتے تو میں اللہ پاک اپنی جماعت کے لوگوں کو کیسے رسوا کر سکتا ہے اللہ ولیوں کی ولایت برحق۔ اللہ پاک نے (سورۃ انفال آیات نمبر 2 ) میں فرمایا جو ایمان دار ہیں وہ ولی ہیں ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو وہ ڈر جاتے ہیں اگر ان لوگوں کے سامنے قرآن پڑھا جائے تو ان لوگوں کے دل کے اندر ایمان ہوتا ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے اللہ فرماتا ہے ولی اللہ کی ذات پر بھروسا کرتے ہیں لوگوں کے پیسوں پر بھروسہ نہیں کرتے لوگوں کے تبصروں پر بھروسہ نہیں کرتے لوگوں کی عقیدت پر بھروسا نہیں کرتے دوکانداریاں کھول کے لوگوں کے رزق پر بھروسہ نہیں کرتے اے میرے رب کریم پھر تیرے ولی کہاں بھروسہ کرتے ہیں اللہ پاک فرماتا ہے میں رازق ہوں رزق والی نعمت پر بھروسا کرتے ہیں میں پالنے والا ہوں میرے رب ہونے پر بھروسا کرتے ہیں میں مشکل کشا ہوں میں اللہ کی ذات پر بھروسا کرتے ہیں جو اللہ پر بھروسہ کرے وہ اللہ کا ولی ہے اللہ پاک نے (سورہ یونس آیات نمبر 62) میں ولیوں کی عظمت بیان فرمائیں اللہ پاک نے فرمایا خبردار جو اللہ کا ولی ہے ان لوگوں کو کوئی ڈر نہیں ہوتا اور اللہ کے ولیوں کو کوئی غم نہیں ہوتا کوئی پریشان نہیں ہوتے اللہ پاک کی ان لوگوں پر کرم نوازی ہوتی ہے اللہ پاک کا ان کے ساتھ پیار ہوتا ہے یہ وہ ولی ہیں جن کے دل میں ایمان ہے۔ داڑھی کو کاٹ کے نالیوں میں ڈالنے والا وہ ولی کبھی نہیں ہو سکتا جس کے دل میں ایمان ہے وہ ہمارے پیغمبر کی سنت کا قاتل کبھی نہیں بن سکتا جو سنت کا قاتل ہے وہ اللہ کا ولی کبھی نہیں بن سکتا ولی وہ ہوتا ہے جن کی دل میں جن کی آنکھ میں جن کے کان میں جن کی زبان میں ایمان موجود ہو سچا ولی ہوتا ہے سچا ولی کہتا ہے میں قرآن پاک کی سورتیں تمہارے اوپر دم کیا ایسا نہ سمجھنا کہ یہ میرے الفاظ ہیں شفا اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے یہ میرا عقیدہ ہے ولی کی کرامت بر حق ہے جس ولی کے ہاتھ میں کوئی انوکھا ایسا واقعہ پیش آیا ہو جس کی عقل نہ مانے جن کو کرامت کہتے ہیں یہ قرآن کہتا ہے ولی کا کمال نہیں ہوتا میں اللہ پاک کی شان کا کمال ہوتا ہے اللہ پاک کہتا ہے کسی ولی کے ہاتھ پر کوئی کرامت پیش کروں یہ میری مرضی ہے اگر یہ کسی بندے کی مرضی ہوتی تو کسی ٹائم بھی وہ اپنی مرضی کرلیتے سورۃ انعام آیات نمبر 109 میں اللہ پاک نے ایک ولیت کا ذکر کیا جس کا نام ہے بی بی سیدہ مریم معصوم مریم ہے اللہ پاک فرماتا ہے معصوم مریم میری ولیا ہے ایک کمرے میں بند ہے اس کمرے کو کوئی روشندان نہیں تھا اللہ کے نبی حضرت زکریا علیہ السلام نے جس ٹائم اللہ کی سچی ولیا مریم بی بی کے بند کمرے کا دروازہ کھولا تو اندر وہ کیا دیکھتا ہے معصوم مریم اللہ کی سچی ولیا بیٹھی ہے اس کے چاروں طرف میواجات موجود ہیں موسمیات بھی اور غیر موسمیات بھی ایسے بیٹھی ہے جیسے تاروں کے درمیان چاند چمکتا ہو معصوم مریم کے دائیں بائیں کڑا بنا ہوا ہے چاروں طرف پھل ہیں اللہ کے نبی حضرت زکریا علیہ السلام نے بی بی معصوم مریم سے سوال کیا اے مریم یہ پھل میوہ جات کون دے کے گیا ہے تم کو، تمہاری کفالت تو میرے ذمے ہے تمہاری تو سرپرستی میرے ذمے ہے میں نے تمہارے کھانے کی خبر کرنی ہے یہ تم کو کس نے دیا مریم بی بی نے جواب دیا اے بابا زکریا بند کمرے کہ اندر مجھے وہ روزی دینے والا ہے جو ماں کے بند پیٹ میں روزی دیتا ہے جو پتھر کے اندر کیڑے کو روزی دیتا ہے جو بند زمین کے اندر ہر مخلوق کو روزی دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے نیکسٹ قسط پبلش کی جائے گی ان شاءاللہ

    @IamYasminArshad
    twitter.com/IamYasminArshad