Baaghi TV

Category: مذہب

  • رب اشرح لی   تحریر: محمد شفیق

    رب اشرح لی تحریر: محمد شفیق

    چھوٹی بہن کی ایم ایس کی پریزنٹیشن تھی۔رات بھر جاگتی رہی ۔آنکھیں سوجی تھیں ۔پوچھا کیا ہوا۔کہنے لگی ۔کوئ دعا بتا دیں۔کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔
    میں نے کہا پڑھو تب۔
    رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي * وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي * وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي * يَفْقَهُوا قَوْلِي *

    کہنے لگی اس کا مطلب بھی بتا دیں۔ میں نے مطلب بتایا۔
    ” اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے اور میرے لیے میرا کام آسان کراور میری زبان کی گرہ کھول دے کہ وہ میری بات سمجھیں”
    وہ حیرت سے گنگ میری طرف دیکھ رہی تھی۔میں نے پوچھا کیا ہوا۔ کہنے لگی۔
    بھائ اس میں تو میرے ہر مسئلہ کا ذکر ہے۔جس کے لیے مجھے الفاظ نہیں مل رہے تھے۔اب حیران ہونے کی میری باری تھی ۔وہ گویا ہوئ۔
    رات بھر پڑھنے کے بعد مجھے لگ رہا تھا۔ جیسے میرا سینہ بند ہوگیا ہو۔اور مجھے لگتا ہے۔کہ مجھے کچھ بھی یاد نہیں ۔ذہن جیسے منتشر ہے۔خدشہ ہےمیں کچھ بول نہیں پاؤں گی۔جیسے زبان پر گرہ لگی ہو ۔اور میرے لئے کچھ کہنا مشکل ہو۔اور ایسے میں جو کہوں گی۔وہ کسی کو کہاں سمجھ آۓ گا۔
    اللہ نے یہ سورت شاید میرے لۓ ہی اتاری ہے۔میری ساری کیفیت کہ کر مجھے مانگنا سکھایا ہے۔کتنا مہربان ہے نا وہ رب۔
    اب یہ بتائیں۔یہ آیت کب اور کس پس منظر میں اتری۔ وہ اپنی ٹینشن بھول کر اس دعا کو سمجھنا چاہتی تھی ۔
    میں نےاسے بتایا۔ان الفاظ میں موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تھی ۔جب انھیں فرعون کی طرف بھیجا گیا۔ وہ سبق کی دہرائی بھول چکی تھی۔
    اس کا اگلا سوال تھا۔موسی علیہ السلام نے اللہ سے دعا میں یہ سب کیوں مانگا ۔وہ فوج طاقت اور دیگر وسائل بھی تو مانگ سکتے تھے۔ اگر میں ہوتی تو میں شاید یہ سب مانگتی۔
    میں نے اس دعا کو بارہا پڑھا تھا اور دل کی گہرائی سے۔اور اس کے اثرات بھی ہمیشہ کئی لحاظ سے محسوس کیے تھے۔ایسے وقت جبکہ کوئی حل سمجھ نہ آتا۔یہ دعا میری ڈھارس بندھاتی۔مگر اس انداز سے کبھی نہ سوچا تھا۔لہذا کچھ د ن کے غوروفکرسے چند پہلو سمجھ آۓ۔
    سوچا آپ سے بھی شئیر کرو ں۔

    ۔پغمبر کے الفاظ اللہ کی کتاب میں ۔یقینا اس میں خزانے کی کنجیاں چھپی ہیں۔اسکی کھوج لگانی پڑے گی۔

    ۔پتہ چلاکسی کام کی سب سے پہلی رکاوٹ اندر سےہوتی ہے۔آپکے اندر اعتماداور خلوص پیدا ہوجاۓ۔کسی بھی چیز کے درست ہونے کا یقین ہو جائے۔ابہام نہ رہے۔تو دلیری پیدا ہوتی ہے۔انسان بےخوف ہو جاتا ہے۔بات میں وزن پیدا ہو جاتا ہے۔بہترین مشاہدہ سوچ وفکر کے نۓ زاوۓ سجھاتا ہے۔دل میں کشادگی پیدا ہوتی ہے۔انسان کنواں کا مینڈک نہیں بنتا ۔دوسروں کے نکتہ نظر جاننا چاہتا ہے۔یہی سینے کا کھلنا ہے۔ یہ تو کامیابی کا بنیادی نکتہ ہوا یقیناً۔
    ۔مانگنے والا کسی بڑے مقصد کو پانے کے لیے اپنی طاقت اور کمزوری کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگاۓ۔اور رب سے متعین کر کے چھوٹی چھوٹی چیزیں مانگے۔ کہ بڑے مقاصد چھوٹے چھوٹے پہلوؤں پر توجہ دینے سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

    موسیٰ علیہ السلام نے سافٹ اسکلز مانگیں۔معلوم ہوا سافٹ اسکلز کسی بڑے مقصد تک پہنچنے کے لئے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
    اللہ سے چھوٹی چھوٹی چیزیں مانگیں۔اسے پسند ہے۔کہ جوتی کا تسمہ تک اس سے مانگیں۔اس کے لیۓ کچھ مشکل نہیں ۔
    بے دھڑک مانگیں۔
    ہمیشہ اللہ سے آسانی مانگیں۔آپ بس مانگنے والے ہوں۔دینے والا دینے کو تیار ہے۔

    انھوں نے زبان کی روانگی مانگی۔اس سے زبان و بیان کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ اور یہ کہ یہ صلاحیت اللہ کی بہترین عطا ہے۔
    اس دعا کے ساتھ انھوں نے مددگار کے طور پر اپنے بھائی کو مانگا۔معلوم ہوا کامیابی اور ترقی کے لئےمادی وسائل سے زیادہ انسانی وسائل کی اہمیت ہے۔ انسانی وسائل اعلیٰ درجے کے ہوں تو مادی وسائل خودبخود حاصل ہو جاتے ہیں۔

    انھوں نے بدلہ نہیں مانگا اللہ سے۔یعنی بے غرض ہونا دنیا کے عظیم انسانوں کا شیوہ ہے۔

    ۔کسی بھی فرعون سے مقابلہ کرنے کے لیے سینہ کا کھلنا ،بیان اور اظہار کا ملکہ ہونا ،مخلص ساتھیوں کا میسر ہونا بہت بڑی نعمت خداوندی ہے۔

    سافٹ اسکلز کا ہونا کسی بھی فوج اور مادی وسائل سے ذیادہ اہم ہے۔
    ایک ساتھی سے بات ہوئی کہنے لگا۔
    بعض اوقات اچھا بولنے اور قاٸل کرنے کے لۓ الفاظ اور دلاٸل کا انبار ہوتا ہے لیکن سامنے والا سمجھنے کے لۓ تیار نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔تو یہ دعا الفاظ میں وہ تاثیر عطا کرتی ہے کہ سامنے والا آپ کا مطمع نظر سمجھ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
    ایک اور پہلو ۔۔۔۔۔۔
    اس دعا کو ہم درس یا Presentation دینے سے پہلے تو پڑھتے ہی ہیں لیکن اپنی عام گھریلو روٹین میں بھول جاتے ہیں ۔
    تو اپنے روز مرہ کے معمولات میں شامل کرلیں تو اللہ جی ہمارے کام میں آسانیاں پیدا فرما دیںتے ہیں ۔۔۔۔جیسے کسی کے درمیان صلح کروانے کی کوشش کرتے وقت ۔۔۔۔۔۔۔۔کسی بڑے کو کسی بات کا اچھا پہلو بتاتے ہوۓ ۔۔۔۔۔۔اپنی کسی ساتھی ۔والدہ۔ساس۔بہو۔۔ شوہر کسی بھی تعلق میں اپنا مسٸلہ اپنی کیفیت سمجھانے کے لۓ ۔۔۔۔۔یا گھر کے کسی معاملے کسی شادی بیاہ کی رسم کے خاتمے کے لۓ ۔۔۔اپنے کسی بچے یا چھوٹے بہن بھاٸیوں کو کوٸ بات سمجھانے سے پہلے اس دعا کو اس پیراۓ میں رکھ کر رب سے مانگیں تو ان شاء اللہ اللہ ہمارے کاموں کو آسان فرما دیتے ہیں ۔
    @IK_fan01

  • عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ کیا پاکستانی عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے؟  تحریر:  سیرت فاطمہ

    عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ کیا پاکستانی عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے؟ تحریر: سیرت فاطمہ

    اسلام نے عورتوں کو حصولِ تعلیم سے لے کر پسند کی شادی تک ہر حق سے نوازہ ہے۔ عورت جب چھوٹی ہوتی ہے تو اُسے باپ کی صورت میں ایک محافظ اور ماں کی صورت میں ایک مخلص سہیلی ملتی ہے جن کی اولاد ہونے کے ناطے وہ اولاد کے حقوق کی حقدار ٹھہرتی ہے۔ جب تک باپ کے گھر میں رہتی ہے باپ اور بھائی اپنے فرائض نبھاتے ہیں۔ جب عورت بیاہ دی جاتی ہے تو وہی ذمہ داریاں شوہر کے کندھوں پر آجاتی ہیں اب شوہر کا فرض ہے کہ اپنی بیوی کی تمام ضروریات پوری کرے۔ جب عورت ماں کے درجے پر فائز ہوتی ہے تو پاؤں تلے جنت رکھ دی جاتی ہے۔ اسلام نے عورت کو مالی طور پر اتنا مستحکم کیا کہ شوہر کو حق مہر اور نان و نفقہ کا پابند بنا دیا ساتھ ہی عورت کو والدین اور شوہر کی جائیداد میں حصہ دار بھی بنا دیا گیا۔ غرض اسلام تو وہ مذہب ہے جس نے عورت کو نا صرف جینے کا حق دیا بلکہ ایک شہزادی بنا کر باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کی صورت میں اتنے محافظ بھی عطاء کر دیے۔
    اور یہ تمام حقوق عورتوں کو پاکستان کا آئین بھی دیتا ہے۔ مگر اُسی کے ساتھ یہ تلخ حقیقت بھی ہے کہ آج بھی بہت سی جگہوں پر خواتین کو وہ تمام حقوق حاصل نہیں ہیں جنکی وہ حقدار ہیں۔ اور اُن خواتین کو اُن کے حقوق ملنے چاہیے۔
    سوشل میڈیا سے لے کر زمینی حقائق تک یہ سوال مختلف طریقوں سے ہوتا رہا ہے کہ کیا عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ اُن عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے جنہیں واقعی حقوق نہیں ملتے؟
    اور اکثریتِ رائے کے ساتھ اِس کا جواب ہمیشہ ایک ہی رہا کہ۔۔۔ نہیں!
    عورت مارچ بہت سالوں سے منعقد ہو رہا ہے مگر ہر بار وہاں متنازع بینرز، متنازع نعروں اور ڈانس کے سوا کچھ دیکھنے کو نہیں ملتا۔ عورت مارچ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ مارچ بیرون ملک سے لی گئی فنڈنگز پر چلتی ہے اور ہم جنس پرستی کو پروموٹ کرنے کے مشن پر گامزن ہے ایسا تب کہا گیا جب سوشل میڈیا پر عورت آزادی مارچ کی ایسی ویڈیوز وائرل ہوئیں جس میں کچھ لوگ ہم جنس پرستی کو کھلم کھلا سپورٹ کرتے پائے گئے۔ اِس کے علاوہ ایسی ویڈیوز بھی دیکھنے کو ملیں جن میں اخلاقی دائرے سے یکسر باہر نکل کر نعرے بازی کی گئی مثلاً چیخ چیخ کر "والد سے لیں گے آزادی” جیسے نعرے لگائے گئے۔ "میرا جسم میری مرضی” اور اِس جیسے دوسرے متنازع بینرز تو خیر ہمیشہ سے ہی عورت آزادی مارچ کی ذینت ہیں اور اِس موضوع پر میڈیا میں آواز بھی بلند ہوتی رہی ہے۔
    عام مشاہدہ یہ بھی ہے کہ عورت مارچ میں کبھی وزیرستان، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور اندونِ سندھ جیسے پسماندہ ترین علاقوں میں رہنے والی خواتین کے مسائل کی نا تو کبھی بات ہوئی اور نا نشاندھی۔ وہ مزدور خواتین جن کی دیہاڑی اتنی بھی نہیں کہ وہ دو وقت کی روٹی کھا سکیں، وہ خواتین جو تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں مگر مختلف معاشی اور معاشرتی مسائل کا شکار ہیں، وہ خواتیں جنہیں فرسودہ رسومات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے، وہ خواتین جن پر واقعی ظلم ہوتا ہے اور وراثت کے حصے سے محروم رکھا جاتا ہے اُن کے حقوق کے لیے آواز تو عورت آزادی مارچ میں کہیں دور دور تک سنائی نہیں دیتی۔
    اب سوال یہ ہے کہ جب عورت آزادی مارچ میں پاکستانی عورتوں کے مسائل پر بات نہیں ہوتی، وہاں آنے والوں کا لباس، گفتگو، نعرے اور بینرز بھی اسلام اور پاکستانی ثقافت سے کوسوں دور ہوتے ہیں تو یہ مارچ بھلا کس طرح پاکستانی خواتین کی نمائندگی کر سکتی ہے؟
    کیا پاکستانی خواتین والد سے آزادی مانگ رہیں ہیں؟ کیا پاکستانی خواتین مغربی لباس پہنے کی آزادی مانگ رہی ہیں؟ کیا پاکستانی خواتین کو گھریلو کام کاج سے مسئلہ ہے؟
    کیا عوت آزادی مارچ نے اُن خواتین کو اُنکے حقوق دلوانے میں کوئی کردار ادا کیا جنہیں واقعی حقوق کی ضرورت ہے؟
    کیا مسائل کا حل مردوں کو برا بھلا کہنے سے ممکن ہے؟
    ان تمام سوالات کا ہمیشہ "نہیں” میں رہا۔
    عورت آزادی مارچ میں آنے والی خواتین کے پاس تو ہر حق، ہر آسائش اور ہر آزادی موجود ہے جن کے پاس کھلم کھلا ڈانس کرنے کی آزادی ہے، جینر اور سلیو لیس شرٹس پہن کر گھومنے کی آزادی ہے، چیخ چیخ کر متنازع نعرے لگانے کی آزادی ہے، ڈیفینس، اسلام آباد، کلفٹن، لاہور کی سڑکوں پر گھومنے کی آزادی ہے اُنھیں مذید کس چیز کی آزادی چاہیے؟
    جس آزادی کی بات عورت آزادی مارچ میں کی جاتی ہے ایسی آزادی مغربی معاشرے کی زینت ہے۔ اسلامی و پاکستانی معاشرہ بلکل الگ طرز پر قائم ہے یہاں عورت خود کو اپنے خاندان کی عزت سمجھتی ہے۔ باپ، بھائی، شوہر، بیٹے اُس کا فخر ہوتے ہیں۔ عام پاکستانی خواتین تو عورت مارچ میں پیش کردہ لبرل خیالات رکھتی بھی نہیں۔
    اگر واقعی پاکستانی خواتین کی نمائندگی کرنی ہو تو اُن کے حقوق کی بات ہونی چاہیے، جن معاشی مسائل کا خواتین کو سامنا ہے اُن مسائل کی آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے، خواتین کو اُن کے حقوق کی اگاہی ملنی چاہیے، ڈومیسٹک وائلنس اور زیادتی کے خلاف مضبوط قوانین اور اُن کی بالادستی کا مطالبہ ہونا چاہیے، خواتین کے لیے تعلیمی اداروں کی تعمیر پر زور دیا جانا چاہیے، خواتین کے لیے فلاحی ادارے اور صحت کے مراکز بنانے چاہیے۔
    یہاں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معاشروں میں فرق ہوتا ہے۔ اسلامی یا پاکستانی معاشرے کے مسائل کا حل اسلامی حدود و دائرہ کار میں رہ کر ممکن ہے کیونکہ ایسے حل کو لوگ قبول اور سپورٹ بھی کرتے ہیں مگر اگر ایک مسلم معاشرے میں موجود مسائل کا حل مغربی معاشرے کے طرز پر نکالنے کی کوشش کی جائے تو حل تو دور کی بات ہے اُلٹا لوگ مخالفت کرتے ہیں اور یوں نئے مسائل جنم لیتے ہیں۔

    تحریر سیرت فاطمہ
    @FatimaSPak

  • اسلام اور لبرلزم تحریر : پیرزادہ عبدالاحد خان

    اسلام اور لبرلزم تحریر : پیرزادہ عبدالاحد خان

    ہم ایک ایسے معاشرے میں پلے بڑھے کے آجکل کے جو نئے مسلمان متعارف کروائے جارہے ہمیں لگتا جیسے ہم تو اسلام ہی نہیں جب کے حیرت کی بات یہ ہے کبھی کبھی مجھے خود پر شک ہونے لگتا کے کیا میں ایک سچا مسلمان ہوں جب جب ان نئے متعارف ہونے والے مسلمانوں کو دیکھتا ہوں تو اپنی پانچ وقت کی ادا کی گئی نمازوں پر شک ہونے لگتا کہ کیا میں نے جو نمازیں پڑھی میں نے ادا کی وہ غلط تھیں یا صحیح ۔
    ہمارے ماں باپ نے ہماری تربیت کچھ ایسے انداز میں کی کہ ہمیں اللہ کے بعد اپنے ماں باپ کا پھر انکے بعد اپنے مسلمان بھائی کا پھر اپنے ملک کا درد محسوس کرنا سیکھایا ۔
    یہ ہمارا کلچر کہیں یا ہمارا رہن سہن کہیں ہم تو بھئی اسی میں خوش رہنے والی قوم ہیں ۔
    ماں باپ سے سیکھا کے عورت کے ساتھ حس سلوک سے رہنا چاہیے ماں ہے تو احترام کی ہر حدیں پار کردو بیوی ہے تو "عزت ‘ محبت ” میں کوئی نہیں رہنی چاہیے اور بہن ہے تو اسکی حفاظت میں چاہیے جان بھی گنوانا پڑے تو ایک پل میں سوچے سمجھے بغیر گنوا دو ۔
    یہ سب ہمارے کلچر ہماری تہذیب اور ہماری روایات میں شامل کردیا جاتا ہے ۔
    یہ جو نیا اسلام ہمیں اور ہمارے معاشرے کو سیکھانے کی کوشش کی جا رہی وہ اسلام نہیں اسے ہم لبرلزم کہیں گے تو برا نہ ہوگا ۔عورت کو معاشرے میں کونسے ایسے حقوق دلوانے کے لئے یہ خواتین سڑکوں پر اپنے جسموں کی نمائش کرتے ہوئے یہ کہتی پھرتی کہ "میرا جسم میری مرضی” نظریں تیری گندی پردہ میں کروں ” لو بیٹھ گئی ” لو بتاو کہاں بیٹھ گئیں یہ محترمہ ؟ اور جب تنگ لباس پہنے دوپٹے بنا چھوٹی شرٹیں پہنے یہ سب نعرے لگاو گی تو ہر دیکھنے والے نے تم سب کو دیکھنا بھی ہے اور باتیں بھی کرنی ہے ۔اسلام ایسا تو نہیں اسلام میں عورت کا مقام ہی بہت اونچا ہے
    اللہ "سورہ نور ” کی آیت نمبر 31 مین اللہ تعالی فرماتا ہے ” اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومن عورتوں کو کہہ دیجئے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں ۔سوائے اس کے جو ظاہر ہے ۔اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں "۔
    جب اللہ نے یہ فرمان اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچایا تو یہ سب کون ہیں جو ہمارے اسلام کو غلط رنگ میں ڈھال رہے ۔
    ہم ایسے معاشرے میں بڑھے اور جوان ہوئے اور آنے والی اپنی نسلوں کو بھی یہی نصیحت کریں گے کے اپنی بیوی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا اگر وہ کام کرکے تھک جائے تو میں کام کرلوں تو اس سے کیا میں اپنی بیوی کا نوکر ہوگیا؟ نہیں اس رشتے کو پیار احساس اور عزت کا نام دیتے ہیں ۔
    یہ ہے میرا اسلام میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ سنت اور ہم ان کی سنت پر عمل کرکے چلتے ہیں ۔اسلام میں عورت کا مقام اللہ نے بہت اونچا رکھا ۔ یہ لوگ خالی اپنی آزادی چاہتیں ہیں اور ان جیسی عورتوں کا ٹھکانہ جہنم ہے

    تحریر : پیرزادہ عبدالاحد خان

    ‎@Aahadpirzada

  • ہوس کے بارے اللہ رب العزت کے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات  تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    ہوس کے بارے اللہ رب العزت کے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    ہر وہ چیز جو انسان کی طلب سے بڑھ جاے اور اچھائی اور برائی کا فرق ختم کر ڈالے ہوس کہلاتی ہے. خواہ دولت کی ہو، شہرت کی ہو، عزت کی یا سٹیٹس کی.
    اللہ کریم نے خود بھی قرآن کریم میں بیان کیا ہے۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ(۱)حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ(۲)
    ترجمہ: زیادہ مال زخیرہ کرنے کی طلب نے تمہیں غافل کردیا ۔ یہاں تک کہ تم قبروں تک جا پہنچے۔
    اس سے علم ہوا کہ کثرتِ مال کی حرص، اور فخر کا اظہار کرنا مذموم ہے اور اس میں مبتلا ہو کر آدمی اُخروی سعادتوں سے محروم کو کر رہ جاتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ قرآن کریم میں سورہ الحدید کی آیت نمبر 20 میں ارشاد فرماتا ہے.
    ترجمۂ : جان لو کہ دنیا کی زندگی تو محض کھیل کود، زینت اور آپس میں فخر اور غرور کرنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر برتری چاہنا ہے ۔ دنیا کی زندگی بلکل ایسے ہی ہے جیسے وہ بارش جس کا اُگایا ہوا سبزہ کسانوں کواچھا لگے پھر وہ سبزہ سوکھ جاتے تو تم اسے زرد دیکھتے ہو پھر وہ پامال کیا ہوا (جیسے بے کار) ہوجاتا ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللّٰہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا( بھی ہے ) اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کاسامان ہے۔
    اور قرآن کریم لیں ارشاد فرمایا
    ’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ سورۃ منافقون کی آیت نمبر 9 میں ارشاد فرمایا.
    ترجمۂ : اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللّٰہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کرے گا تو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔
    اور پھر سورۃ التغابن کی آہت نمبر ۱۴-۱۶ میں ارشاد فرمایا

    ترجمۂ : اے ایمان والو! بیشک تمہاری بیویاں اور تمہاری اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں تو ان سے احتیاط رکھو اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کر دو اور بخش دو تو بیشک اللّٰہ بڑا بخشنے والا، بہت مہربان ہے ۔تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک (تمہارے لیے) آزمائش ہی ہیں اور اللّٰہ کے پاس بہت بڑا ثواب ہے۔ تو جہاں تک تم سے ہوسکے اللّٰہ سے ڈرو اور سنو اور حکم مانو اور راہِ خدا میں خرچ کرو یہ تمہاری جانوں کے لیے بہتر ہوگا اور جسے اس کے نفس کے لالچی پن سے بچا لیا گیا تو وہی فلاح پانے والے ہیں۔
    احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کو مزید واضح کر دیا گیا.
    حضرت مُطْرَف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوا،اس وقت آپ سورہ التَّكَاثُرُ‘‘ کی تلاوت فرما رہے تھے،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے فرمایا: ’’ابنِ آدم کہتا ہے کہ میرا مال،میرا مال،اے ابنِ آدم:تیرا مال وہی ہے جو تو نے کھا کر فنا کر دیا، یا پہن کر بوسیدہ کر دیا، یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔
    ایک اور روایت جو حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، اس میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بندہ کہتا ہے کہ میرا مال،میرا مال، ا س کے لئے تو اس کے مال سے صرف تین چیزیں ہیں ایک جو ا س نے کھا کر فنا کر دیا۔دوسری جو اس نے پہن کر بوسیدہ کر دیا۔تیسری جو کسی کو دے کر(آخرت کے لئے) ذخیرہ کر لیا۔اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ جانے والا ہے اور وہ اس کو لوگوں کے لئے چھوڑنے والا ہے

    مزید حضرت عمرو بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ خدا کی قسم !مجھے تمہارے غریب ہو جانے کا ڈر نہیں ہے، مجھے تو اس بات کا ڈر ہے کہ دنیا تم پر کشادہ نہ ہو جائے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر ہوئی تھی،پھر تم اس میں رغبت کر جاؤ جیسے وہ لوگ رغبت کر گئے اور یہ تمہیں ہلاک کر دے جیسے انہیں ہلاک کر دیا۔
    مزید حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہی روایت ہے، سرکارِ دو عالَم محمدمصطفیٰ رہبردوجہاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: مال و اَسباب کی کثرت سے مالداری نہیں ہوتی بلکہ اصل مالداری تو دل کا غنی ہونا ہے، خدا کی قسم!مجھے تمہارے بارے میں محتاجی کا خوف نہیں ہے لیکن مجھے تمہارے بارے اس بات کا خوف ہے کہ تم کثرت ِمال کی ہوس میں مبتلا ہو جاؤ گے

    ایک روایت حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے، حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا دو بھوکے بھیڑیئے جو بکریوں میں چھوڑ دیئے جائیں وہ ان بکریوں کو اس سے زیادہ خراب نہیں کرتے جتنا مال اور عزت کی حرص انسان کے دین کو خراب کر دیتی ہے۔
    ان ارشادات و فرامین سے بھرپور آگہی ملتی ہے کہ اپنی طلب کو کنٹرول کرنا کتنا ضروری ہے۔
    نفس اور شیطان کے خلاف علم جہاد بلند کیجئیے۔ زندگی کے اصل مقصد کو سمجھئے. ہوس سے بچییے اور اللاہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی روشنی میں حتی الامکان کوشش کریں کی شیطان کی چالوں سے اپنے نفس کی حفاظت کی جاے اور اپنی طلب کو طلب کے درجے سے بڑھنے سے بچایا جائے
    تا کہ جب رب العالمین کی رحمت اپنے بندے کو پکارے تو بندے کو اس کی پکار سنائی دے۔ جب رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی صدا بلند ہو تو بندے کا نفس اسے سن کر اپنا قبلہ درست کر سکے۔ اپنے آپ کو رحمان کے اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر قائم رکھنے اور اپنے اندر کے منصف کو زندہ رکھنے کے لیے
    نفس کے خلاف جہاد اتنا ہی ضروری ہے جتنا شیطان کے خلاف ضروری ہے۔ یاد رکھیں جس طرح شیطان سے جہاد، رحمن کا راستہ سمجھنے کے لئے ضروری ہے اسی طرح نفس سے جہاد، رحمن کے راستے پر قائم رہنے کے لیے ضروری ہے محفوظ رہیں ہر طلب کو ہوس میں بدلنے سے۔ فیصلہ آپکا

    @EngrMuddsairH

  • عظمتِ فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ تحریر: عقیلہ رضا

    عظمتِ فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ تحریر: عقیلہ رضا

    وزیرِ رسالت ِ مآبﷺ ،جانشینِ مصطفیﷺ ، نظامِ عدل کے آفتاب، دُعاۓ مصطفیﷺ ، عاشقِ مصطفیﷺ، آسمانِ رفعت کے دَرَخشاں ماہتاب، خلیفہ دوئم امیر المؤمنین حضرتِ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ وہ ہستی جن کی تعریف و کمالات کا احاطہ کسی طور ممکن ہی نہیں۔
    آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا نام: عمر
    کنیت: ابو حفص
    لقب: فاروقِ اعظم
    39 مَردوں کے بعد رسولِ کریمﷺ کی دعا سے اعلانِ نبوت کے چھٹے سال 27 برس کی عمر میں ایمان لاۓ۔
    حضرتِ ابنِ مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ:
    "حضرتِ عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا مسلمان ہونا اسلام کی فتح تھی ، اُن کی ہجرت نصرِ الہی تھی اور اُن کی خلافت رحمتِ خداوندی تھی، ہم میں سے کسی کی یہ ہمت و طاقت نہیں تھی کہ ہم بیتُ اللہ شریف کے پاس نماز پڑھ سکیں مگر حضرتِ عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام لانے کے بعد مشرکین سے اس قدر جنگ و جدال کیا کہ انھوں نے عاجز آکر مسلمانوں کا پیچھا چھوڑ دیا تو ہم بیتُ اللہ شریف کے پاس اطمينان سے اعلانیہ نماز پڑھنے لگے۔
    حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے سب سے پہلے اپنا اسلام علی الاعلان ظاہر کیا وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی ہیں۔
    حضرتِ علی کرم اللہ وجھہُ الکریم فرماتے ہیں کہ:
    "عمر(رضی اللہ تعالی عنہ) کے علاوہ ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے اعلانیہ ہجرت کی ہو۔
    امیر المؤمنین حضرتِ فاروقِ اعظم کی شان و فضيلت کا اندازہ رسولِ کریمﷺ کے اس فرمان سے لگا سکتے ہیں کہ ترمذی شریف کی روایت ہے کہ:
    رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    لَو کَانَ بَعدِی نَبِیُّ لَکَانَ عُمَرَ بنَ الخَطَّابِِ۔
    یعنی اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے۔
    حضرتِ ابنِ عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ:
    اللہﷻ نے عمر کی زبان اور قلب پر حق کو جاری فرما دیا ہے۔
    طبرانی اوسط میں حضرتِ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ کریمﷺ نے فرمایا:
    مَن اَبغَضَ عُمَرَ فَقَد اَبغَضَنِی
    یعنی جس نے عمر سے دشمنی رکھی اس نے مجھ سے دشمنی رکھی۔
    اور جس نے عمر سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔
    حضرتِ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ زہد و ورع اور تواضع و حلم کی بہترین مثال تھے۔
    حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ روزانہ گیارہ لقمے سے زیادہ طعام ملاحظہ نہ فرماتے۔
    جمادی الاخریٰ 13 ھجری کو آپ رضی اللہ تعالی عنہ مسندِ خلافت پر جلوہ افروز ہوۓ، آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا دورِ خلافت 10 سال اور چند ماہ پر محیط رہا۔ آپ نے اپنے دس سالہ دورِ خلافت میں بے شمار کارنامے سر انجام دیے، زمین عدل و داد سے بھر گئی، دنیا میں راستی و دیانت داری کا سکہ رائج ہوا، مخلوقِ خدا کے دلوں میں حق پرستی و پاکبازی کا جذبہ پیدا ہوا، فتوحات اس کثرت سے ہوئیں کہ آج تک ملک و سلطنت کے والی و سپاہ و لشکر کے مالک ورطہ حیرت میں ہیں۔
    ابنِ عساکر نے اسماعیل بن زیاد سے روایت کی کہ حضرتِ علی کرم اللہ وجھہُ الکریم کا گزر مسجدوں کے پاس سے ہوا جن میں قندیلیں روشن تھیں ، انھیں دیکھ کر فرمایا کہ اللہﷻ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر کو روشن فرماۓ جنہوں نے ہماری مسجدوں کو منور کردیا۔
    آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے مکمل فضائل بیان کرنا ناممکن ہے۔
    نمازِ فجر میں ایک بد بخت ابولولو فیروز نامی(مجوسی یعنی آگ پوجنے والے) کافر نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ پر خنجر سے وار کیا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوۓ تیسرے دن شرفِ شہادت سے مشرف ہوگۓ۔ بوقتِ شہادت عمر شریف 63 برس تھی۔
    حضرتِ سیدنا صھیب رضی اللہ تعالی عنہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور روضہ مبارکہ کے اندر حضرتِ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پہلوۓ انور میں مدفون ہوۓ۔
    اللہﷻ کی ان پر بے شمار رحمتیں نازل ہوں اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔
    آمین۔

    اسلام آباد
    @aqeela_raza

  • بھیک مانگنا ایک گناہ ہے  تحریر: اعجاز احمد پاکستانی

    بھیک مانگنا ایک گناہ ہے تحریر: اعجاز احمد پاکستانی

    ایک دفعہ ایک غریب و مفلس شخص حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی حالتِ زار بیان کرتے ہوئے مدد طلب کی. حضور اکرم ﷺ اگر چاہتے تو اسکی مدد کرسکتے تھے خود یا پھر کسی صحابیؓ سے کہہ دیتے مدد کرنے کو. اگر پیغمبرِ اسلام ﷺ ایسا کرتے تو انکی وقتی مدد تو ہوجاتی لیکن دوسرے دن پھر اسکو ضرورت ہوتی اور انکو مانگنے کی عادت پڑ جاتی اس لئے ایسا کرنے کے بجائے پیغمبرِ اقدس ﷺ نے اس کے جسم پر لپٹے کمبل کے بارے میں سوال کیا کہ کیا یہ تمہارا اپنا ہے؟ اس نے جواب ہاں میں دیا. حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اس سے وہ کمبل لیا اور بازار جا کر وہ بیچ دیا. اس سے جو رقم حاصل ہوا اس سے ایک کلہاڑی اور رسی خریدی اور جو تھوڑے بہت پیسے بچے وہ اس کے ہاتھ میں دئے اور فرمایا یہ کلہاڑی اور رسی لو اور جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لایا کرو اور وہ لکڑیاں بیچ کر اپنا کام چلایا کرو اللہ تعالیٰ اس میں برکت دیگا.
    اسی طرح کی ایک مثال چینی زبان کا بھی ہے کہ اگر تمہارے پاس کوئی آئے اور ایک وقت کا کھانا مانگے تو اس کو ایک وقت کھانے کیلئے ایک مچھلی نہ دے بلکہ اسے ایک جال دو مچھلیاں پکڑنے کیلئے تا کہ وہ مچھلیاں پکڑے اور اپنی روزی روٹی کا بندوبست خود کرے.
    کتنی تعجب کی بات ہے چینیوں نے تو اس کہاوت پر عمل درآمد کرکے خود کو بامِ عروج پر پہنچا دیا اور دوسری طرف ہم اپنے پیغمبرِ اکرم ﷺ کی منشاء کے خلاف چندوں، بھیک اور مانگنے کے خوگر ہوگئے. بھیک مانگنا باقاعدہ ایک کاروبار بن گیا ہے نہ کہ ایک مجبوری اور اس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جو کہ انتہائی تشویش کی بات ہے. لیکن کیا کرے ہم تو 10، 20، 50، 100 پکڑا کر جان چھڑا لیتے ہیں جو کہ دراصل یہ ہماری طرف سے اس کو پروان چڑھانے میں ہمارا کردار ہوتا ہے لیکن ہم اس پہلو کو سوچتے ہی نہیں.
    اور یہ کوئی شاذ و نادر نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ صرف عوامی سطح سے ممکن ہوتا ہے بلکہ ہماری حکومتیں بھی لوگوں کو عارضی امداد دے کر بھکاری بنا دیتی ہیں. ہماری پچھلی سے پچھلی حکومت نے تو اس کام کو اتنا بامِ عروج پر پہنچادیا تھا کہ سیدھے سیدھے اپنے کام کرنے والے اپنے ہاتھوں سے رزق حلال کمانے کا تصور ہی ختم ہوگیا تھا. اس حکومت نے اس رقم میں اور بھی اضافہ کر دیا. یہ اچھا اقدام بھی ہے کہ یتیموں اور بیواؤں کی مدد ہوگی اور وہ رزق کی تنگی سے بچینگے اس حد تک تو یہ درست ہے لیکن اس آڑ میں یہ پیسے 40 فیصد غیر مستحق لوگوں کی جیبوں میں جاتے ہیں جبکہ بعض جگہوں میں تو ایک ہی گھر کے دو دو، تین تین بندوں کو ملتے ہیں جو درحقیقت مستحقین کی حق تلفی کا باعث بنتا ہیں.
    اس سے اگر ایک طرف بے روزگاری، بے ہنری اور مانگنے کا رجحان بڑھا ہے تو دوسری جانب ایک اور خطرناک صورتحال بھی پیدا ہوئی ہے. کچھ عرصے تک مفت کی کھانے والوں کو اس کی عادت پڑ جاتی ہے. پھر وہ کام کرنے کے بجائے تاک میں رہتے ہیں کہ کہاں سے کچھ ہاتھ آسکتا ہے اور جب ہاتھ کچھ نہیں آتا تو ہیرا پھیری، چوری چکاری اور جرائم کی راہ پر نکل جاتے ہیں اور پورا معاشرہ اس کے جرائم کا شکار بن جاتا ہے.
    لیکن کیا کیجئے کہ ہمارے معاشرے میں مفت کھانے اور مفت کھلانے کا یہ رجحان اتنا گہرا ہوگیا ہے کہ اس کو عیب کی بجائے ایک ہنر کا درجہ حاصل ہوگیا ہے. ہماری تباہی اور زوال کا باعث ہی یہ رجحان ہے.
    ہمیں اس کے تمام پہلوؤں پر غور کرنا ہوگا تا کہ آگے بڑھ کر اس کا سدباب کیا جاسکے. . ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو اس لت سے بچانا ہوگا تب ہی ہمارا معاشرہ اور ملک ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہوگا. وگرنہ ہم ایسے ہی بھکاری رہینگے اور یہ لت نسل در نسل، پشت در پشت ہم میں منتقل ہوتی رہیگی. اور اقوام عالم میں ہماری کوئی عزت نہیں ہوگی. بلکہ ہماری پہچان ایک بھکاری قوم سے ہوگی.
    اللہ تعالیٰ پاکستان پر اپنا خصوصی فضل و کرم فرمائے کہ پاکستان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے اور دنیا میں ایک ممتاز مقام حاصل کرے.
    آمین
    *پاکستان زندہ باد*

    Twitter ID:
    @IjazPakistani

  • شیطان کے بہکاوے رمضان میں بھی کیوں  تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    شیطان کے بہکاوے رمضان میں بھی کیوں تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    یہ سوال ہر سمجھدار شخص کے گمان کو متاثر کرتا ہو گا. احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور رب العالمین کے قرآن سے جو اسباق اور رمضان کی برکتیں اور انعامات کا جہاں زکر کیا گیا وہیں یہ انعام بھی دیا گیا کہ انسان کو برائی میں مبتلا کرنے والا اس کا سب سے بڑا دشمن جو کہ شیطان ہے کو رمضان جکڑ دیا جاتا ہے اس کے باوجود انسان گناہ سے کیوں بچ نہیں پاتا؟
    دراصل وجہ یہ ہے کہ جب انسان طلب جنون کے درجے کو عبور کرتے اور بڑھتے بڑھتے ہوس کے درجے پر پہنچ جاتی ہے تو اس کی نظر میں حال و حرام کا فرق مٹ جاتا ہے۔ اور یہ کام انسان کے اندر موجود اسکا نفس کرتا ہے وہ شیطان کی ہدایات پر عمل کر کے اس کام کو بخوبی انجام دیتا ہے
    طریقہ واردات یہ ہے کہ جب
    انسان کسی چیز کو حاصل کرنے کی طلب رکھتا ہے اور وہ طلب کی حد اور طلب کے درجے تک رہتی ہے تب تک معاملات ٹھیک رہتے ہیں۔ پھر شیطان اپنا کام دکھاتا ہے اور انسان کے نفس کو بہکاتا ہے جس سے اس کی سوچ میں حسد کی فضا قائم ہونے لگتی ہے اور وہ اس کی طلب کی اس حد کو نیا رنگ دینے لگتی ہے۔ بربادی کا سفر تب شروع ہو جاتا ہے اور انسان اچھائی کا راستہ بھولنے لگتا ہے اور طلب کے ہر ممکن حصول کے لیے شیطانی سمجھاے گئے راستوں سے اپنےحسد کی آگ بجھانے میں لگ جاتا ہے اور طلب کی تکمیل کے لئے ہر اچھا برا عمل کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ جب حسد کی آگ مزید عروج پکڑتی ہے تو نفس اسی طلب کو ہوس میں بدل دیتا ہے اور اسطرح انسان الله کی رحمت سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔اور شیطان کی مسلسل دی جانے والی وسوسوں پر عمل کرتے کرتے جھوٹ، دھوکہ دہی، حق تلفی، ظلم، زیادتی، ملاوٹ جیسی بے پناہ لعنتوں کو اپناتے ہوئے خون ریزی تک کرنے سے گریز نہیں کرتا. اس وجہ سے رمضان میں شیطان تو جکڑا ہوتا ہے لیکن انسان کے اندر موجود شیطان کا تربیت کردہ نفس انسان کے اندر رہتے ہوئے شیطان کے بتائے ہوئے طریقوں وسوسوں اور تدبیروں پر عمل احسن طریقے سے جاری رکھتا ہے۔ زرہ سوچئے غلطی کس جگہ ہوئی؟ انسان اللہ کہ رحمت سے دور کب اور کیسے ہو گیا؟
    جب شیطان نے انسان کی جائز خواہش اور ضرورت کی طلب میں اضافہ کیا۔ نتیجتاً اب شیطان کی غیر موجودگی میں بھی انسان گناہ میں مبتلا ہے۔ شیطان انسان کی طلب بڑھاتے بڑھاتے اسے ہوس کے درجے تک لے آیا اور انسان نے اپنے نفس کو شیطان کے رحم کرم پر چھوڑے رکھا. خدارا شیطان کی پہلی چال کو سمجھیں اور اسے ناکام بنائیں اپنے نفس کو شیطان کے چنگل میں پھنسنے سے بچائیں.
    اس کے بہت سے طریقے اور بھی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے ہیں جن میں الله کی راہ میں خرچ کرنا اول درجہ کی نیکیوں میں سے نیکی ہے۔ جب انسان اپنی طلب پر کسی کی ضرورت کو فوقیت دیتا ہے تو انسان کی طلب میں کمی آتی ہے اور سخاوت کا پہلو عروج پر آتا ہے۔ یہ ایسا عمل ہے جو انسان کو بخیل اور کنجوس ہونے سے روکے رکھتا ہے۔ دولت طاقت شہرت اور ہوس جیسے نشے کو حاوی ہونے سے روکے رکھتا ہے۔ اور یہ اعمال الله کریم کے پسندیدہ کاموں میں سے ہیں۔ اللہ کی زات بہت کریم ہے اور اپنی مخلوق کے ساتھ احساس والا معاملہ کرنے والے کو پسند فرماتا ہے۔ دوسروں کے احساس کرنے والا یہ عمل شیطان اور نفس کے خلاف بھرپور جہاد کا کام کرتا ہے۔ جس سے انسان اللہ کی رحمت کے حصار میں رہتا ہے۔
    خدارا شیطانی کاموں اور تدبیروں سے اجتناب کریں اپنی طلب کو ہوس بننے سے بچائیں یہی کامیابی کی کنجی ہے

    @EngrMuddsairH

  • وزیز اعظم پاکستان کا خواب ریاست مدینہ اور ہمارا رویہ  تحریر چوہدری عطا محمد

    وزیز اعظم پاکستان کا خواب ریاست مدینہ اور ہمارا رویہ تحریر چوہدری عطا محمد

    جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے تمام لیڈران اور ان کی پارٹی کسی کے منشور میں بھی ریاست مدینہ کا زکر نہیں کیا گیا پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین اور اسلامی جہموریہ پاکستان کے وزیز اعظم جناب عمران خان نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے وہ اپنے ہر خطاب انٹرویو میں ہر جگہ ریاست مدینہ کی بات کرتے نظر آتے ہیں ریاست مدینہ ہے کیا ہمارے آقا دوجہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاریخِ انسانیت کی 23سالہ قلیل ترین مدت میں جو عظیم الشان انقلاب برپا کیا وہ اپنی نوعیت ، کیفیت، جدوجہد اور نتائج کے اعتبار سے اتنا حیران کن ہے کہ اس کی نظیر اقوام عالم میں کہیں موجود نہیں ہے۔ جب ہم ریاست مدینہ کے مختلف پہلوؤں پر غور کرتے ہیں تو ہمیں وہ معاشرہ جس میں خدا ترسی، ہمدردی، اخوت، مساوات، بھائی چارہ آخرت پر ایمان کی جواب دہی، نیکی اور خیرخواہی کا جزبہ پیدا ہو جائیں۔ ظالم اور جابر حکام کی بجائے خدا ترس اور نیک سچا ایماندار محب وطن اور اپنے لوگوں سے پیار کرنے والا حاکم میسر آجائے اور جانب غریب کے لئے ایک قانون اور غریب کے لئے علیحدہ قانون نہ ہو بلکہ انسانیت کے لئے انصاف پر مبنی غیر جانب دار قوانین کا رائج ہو تو پھر اسی راستہ پر چلنے کو حقیقی طور پر ریاست مدینہ کے نقشہ قدم پر چلنا کہا جا سکتا ہے جہاں تک ہمارے معاشرہ کی بات کی جاۓ تو زرا ہمیں خود کا بھی جائزہ لینا ہوگا
    ہمارے کچھ لوگ ریاست مدینہ کی بات پر وزیز اعظم پر تنز کے نشتر بھی برساتے ہیں اگر ہم بحیثیت قوم اپنی بات کریں تو رشوت ،ملاوٹ ،ظلم وجبر ،زنا ،بے حیائی جھوٹ اور منافقت ،ناپ تول میں کمی ،والدین سے گستاخی کے عوامل ہم سب میں عام پاۓ جاتے ہیں لیکن وزیز اعظم سے ہم ریاست مدینہ کی امید لگاۓ بیٹھے ہیں کیا ہمارے یہ جو عمال اوپر بتاۓ ہیں جن کو ہم سر عام کرتے نظر آتے ہیں اپنے ان عوامل کے ساتھ چپکے کریں اور خود کو نہ بدلیں تو کسی بھی حکمران کی موجودگی اور ریاستی قوانین کی موجودگی میں ریاست مدینہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے ۔۔؟تو اسکا جواب ہے بلکل بھی نہیں ریاست مدینہ کے لئے جہاں حکمران کی سوچ ریاست مدینہ والی ہونی چاہئے وہاں پر ہمیں ایک قوم کی حثیت سے بھی خوداپنی سوچ اور اپنے عمل بدلنے ہوں ہماری سوچ ریاست مدینہ کے لئے کیسی ہونی چائیے وہ ان شاءاللہ نیکسٹ پارٹ میں اس کا زکر کریں گے
    اللہ پاک ہم سب کو ریاست مدینہ کو صیح سمجھنے اور ریاست مدینہ کی سوچ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ
    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • ذکر الہی ٰکی فضیلت تحریر: محمد آصف شفیق

    ذکر الہی ٰکی فضیلت تحریر: محمد آصف شفیق

    دین اسلام میں ذکر الٰہی کی بہت فضیلت ہے نبی مہربان ﷺ نے ہمیں ذکر الٰہی پر اللہ رب العالمین کی طرف سے بے شمار انعامات اور درجات کی بلندی کا وعدہ کیا ہے نبی کریم ﷺ ذکرالٰہی کرنے والوں کے درجات جہاد کرنے والوں سے بھی زیادہ بتائے ہیں اور ذکر الٰہی کو گناہوں کو مٹانے والا کہا ہے نبی مہربان ﷺ کثرت کلام سے منع فرمایا ہے اور ہر وقت ذکر الہی میں مشغول رہنے کا حکم دیا ہے
    حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتاؤں جو تمہارے مالک (یعنی اللہ) کے نزدیک اچھا اور پاکیزہ ہے اور تمہارے درجات میں سب سے بلند اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے تمہارے کفار کی گردنیں مارنے اور ان کے تمہاری گردنیں مارنے سے بھی افضل ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے عذاب سے بچانے والی ذکر الہی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1329
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہلکے پھلکے لوگ آگے نکل گئے، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ذکر الہی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ذکر ان پر سے گناہوں کے بوجھ اتار دیتا ہے۔ لہذا وہ قیامت کے دن ہلکے پھلکے ہو کر حاضر ہوں گے۔جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1553
    حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نامہ اعمال لکھنے والوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو زمین پر پھرتے ہیں، جب وہ کسی جماعت کو ذکر الہی میں مشغول دیکھتے ہیں تو آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہیں کہ اپنے مقصود کی طرف آجاؤ۔ چنانچہ وہ آتے ہیںاور انہیں دنیا کے آسمان تک ڈھانپ لیتے ہیں۔ اللہ رب العالمین پوچھتے ہیں کہ تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا۔ فرشتے کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں آپ کی تعریف اور بزرگی بیان کرتے اور آپ کا ذکر کرتے چھوڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں نہیں۔ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ لوگ مجھے دیکھ لیں تو ان کا کیا حال ہو؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ شدت سے تحمید وبزرگی بیان کرنے اور اس سے زیادہ شدت سے ذکر کرنے لگیں۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ عرض کرتے ہیں کہ تیری جنت کے طلبگار ہیں، اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں کہ کیا انہوں نے جنت دیکھی ہے؟ عرض کرتے ہیں نہیں، اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ جنت دیکھ لیں تو ان کا کیا حال ہو؟ عرض کرتےہیں کہ اگر وہ دیکھ لیں تو اور زیادہ شدت سے حرص سے مانگنے لگیں۔ پھر اللہ پوچھتے ہیں کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں۔ عرض کرتے ہیں کہ دوزخ سے۔ اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں کہ کیا انہوں نے دوزخ دیکھی ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں نہیں۔ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ دوزخ دیکھ لیں تو ان کا کیا حال ہو؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اس سے بھی زیادہ بھاگیں، زیادہ دوڑیں اور پہلے سے بھی زیادہ پناہ مانگیں۔جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1557

    حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو دیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان میں سے ایک نے پوچھا اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل اچھا ہو، دوسرے نے کہا کہ احکام اسلام تو بہت زیادہ ہیں ، کوئی ایسی جامع بات بتا دیجئے جسے ہم مضبوطی سے تھام لیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری زبان ہر وقت ذکر الٰہی سے تر رہے۔مسند احمد:جلد ہفتم:حدیث نمبر 812
    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ذکر الہی کے علاوہ کثرت کلام سے پرہیز کرو کیونکہ اس سے دل سخت ہو جاتا ہے اور سخت دل والا اللہ تعالیٰ سے بہت دور رہتا ہے
    جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 305
    جو بندہ اپنے رب کو یاد کرتا ہے رب کریم بھی اسے یاد کرتے ہیں قرآن کریم میں فرمان الہیٰ ہے
    فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوْا لِيْ وَلَا تَكْفُرُوْنِ ١٥٢؁ۧ
    لہٰذا تم مجھے یاد رکھو ، میں تمہیں یاد رکھوں گا ، اور میرا شکر ادا کرو ، کفرانِ نعمت نہ کرو ۔ (سورۃ البقرہ 152)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جو میرے متعلق وہ رکھتا ہے اور میں اس کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرے اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر مجھے جماعت میں یاد کرے تو میں بھی اسے جماعت میں یاد کرتا ہوں اگر وہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہو تو میں ایک گز اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک گز قریب ہوتا ہے تو میں اس سے دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ کے برابر قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آئے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2303
    ہم اپنے رب کریم سے دعا گو ہیں کہ ہمیں کم گو اور حق گو بننے کی توفیق دیں اور ہم اپنے زیادہ وقت کو رب کریم کے ذکر میں گزار سکیں جو کہ کل یوم قیامت ہمارے کام آسکے ۔ آمین یا رب العالمین

    @mmasief

  • شیخ محمد یونس رحمۃ اللہ علیہ ایک موہوب شخصیت قسط (1)  تحریر: محمد صابر مسعود

    شیخ محمد یونس رحمۃ اللہ علیہ ایک موہوب شخصیت قسط (1) تحریر: محمد صابر مسعود

    ١٤٣٨ کیا آیا غضب ہو گیا، محرم سے شوال تک علماء کی ایک لمبی قطار رخصت ہوگئی، پہلے حضرت مولانا عبد الحق صاحب شیخ الحدیث دارالعلوم دیو بند نے رخت سفر باندھا پھر حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب، شیخ عبدالحفیظ مکی صاحب، حضرت مولانا ریاست علی بجنوری صاحب اور حضرت مولاناسلیم احمد غازی مظاہری جیسے ہند و پاک کے تقریبا ۲۹ چراغ یکے بعد دیگر ے گل ہوگئے اور "ختٰمه مسک” سال رواں نے جاتے جاتے پھر ایسا چیرا لگایا کہ پوری ہی امت تڑپ اٹھی، حضرت
    مولانامحمد یونس صاحب جونپوری شیخ الحدیث مظاہرعلوم ایک بلند مقام محدث تھے جنکی وفات کا غم عجم تو کیا عربوں کوبھی رلا گیا اور ایران و افریقہ تک اس سے متاثر نظر آئے، کچھ ایسی ہی صورتحال بیس سال قبل ١٤١٧ھ میں بھی پیش آئی تھی، جب شیخ عبد الفتاح ابو غدہ حلبی، مولانا محمد منظور نعمانی، مفتی محمود الحسن گنگوہی، مولانا انعام الحسن کاندھلوی اور شیخ بن باز جیسی عظیم المرتبت شخصیات نے ہمیں داغِ مفارقت دیا تھا، یوں تو علم و فضل کے جامع ایک عالم کی موت بھی پورے عالم کی موت ہے لیکن جب وہ پے در پے رخصت ہونے لگیں تو خاصانِ امت کا دل سہم جاتا ہے کہ کہیں یہی تو وہ دور نہیں جس کی بابت رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا ” یقبض العلم بقبض العلماء اوریذهب الصالحون الأول فالأول لقل الحلم”…

    حضرت مولانا محمد یونس جونپوری رحمۃ اللہ علیہ کو علمی حلقوں میں امیر المومنین فی الحدیث کہا جاتا تھا وہ علم و فضل میں گزشتہ صدیوں کے علماء کی مثال تھے اور انہیں دیکھ کر امام نووی، ابن دقيق العيد، حافظ ابن حجر عسقلانی، ملاعلی قاری، شیخ علی متقی اور علامہ انور شاہ کشمیری رحمہم اللہ علیھم اجمعین جیسے بلند مقام محدثین کی یاد آتی تھی ،راقم نے ان کی سب سے پہلی زیارت دیوبند میں کی جب کہ دارالعلوم دیوبند کا طالب علم تھا اور شیخ مرحوم کسی خصوصی مناسبت پر وہاں تشریف لائے تھے، انہیں دیکھتے ہی مدنی گیٹ پر طلبہ کی بھیڑ لگ گئی، ہر ایک ان سے مصافحہ کا خواہشمند تھا لیکن موصوف نے صحتی عوارض کی بناء پر گاڑی سے اترنا مناسب نہ سمجھا اور بیٹھے بیٹھے بڑی قیمتی نصائح فرمائیں، ان کا قد میانہ جسم سڈول، رنگ صاف، پیشانی تابناک، چہرہ روشن، دل خشیت الہی سے لبریز، آنکھیں اشکوں سے نہائ ہوئ، نگاہیں وقار و تمکنت سے معمور، خوبصورت آواز اور دھیمی دھیمی گفتگو ان کا سراپا واقعی
    متاثر کر دینے والا تھا، پھر خوش پوشاکی اور سفید رومال نے کشش میں مزید اضافہ کردیا تھا، بے ساختہ دل کے گوشے سے صدا آئی کہ

    اس شان عظمت پر کون نہ مر جائے اے خدا

    یہ تھی مرحوم سے پہلی ملاقات جس نے ان کی عقیدت و محبت میں مزید اضافہ کر دیا اور وقت کی رفتار کے ساتھ پھر یہ اتنی بڑھی کہ راقم نے بالقصد سفر کر کے ان سے کئی بار ملاقات کی اور اسے ہر مرتبہ ایک نئے سرور کا احساس ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نبوی جلال، حدیث کے مطابق بہت دور تک پہنچتا تھا اور دوسرے خطوں کے لوگ گھر بیٹھے اس کے اثرات محسوس کرتے تھے، شیخ مرحوم چونکہ حدیث کے شارح، سیرت کے ترجمان اور نبی کے سچے عاشق تھے اسلئے باری تعالیٰ نے انہیں خاتم الانبیاء کی یہ میراث بھی عطا کی تھی، چنانچہ جن واردین و صادرین کو مرحوم کی خدمت میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا وہ یقیناً اس بات کی گواہی دینگے کہ شیخ کی خدمت میں حاضری کے وقت واقعتاً دل دھڑکتا تھا، قدم لرزتے تھے اور بہت ہمت جٹانے کے بعد ہی ملاقات کا حوصلہ ہوتا تھا ۔۔۔۔۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    @sabirmasood_