Baaghi TV

Category: مذہب

  • ‏اللّٰه تعالیٰ کا تقرب کیسے حاصل ہوتا ہے  تحریر: محمد معوّذ

    ‏اللّٰه تعالیٰ کا تقرب کیسے حاصل ہوتا ہے تحریر: محمد معوّذ

    عقل و دانش کا امتحان آپ میں سے بعض لوگ تو ایسے سیدھے سادھے ہوتے ہیں جو ہر کس و ناکس کو دوست بنا لیتے ہیں ، اور کبھی دوست بناتے وقت آدمی کو پرکھتے نہیں کہ وہ واقعہ میں دوست بنانے کے قابل بھی ہے یا نہیں ۔ ایسے لوگ دوستی میں اکثر دھوکا کھا جاتے ہیں اور بعد میں ان کو بڑی مایوسیوں کا سامنا ہوتا ہے ۔ لیکن جوعقل مند لوگ ہیں وہ جن لوگوں سے ملتے ہیں ان کو خوب پرکھ کر ہرطریقے سے جانچ پڑتال کر کے دیکھتے ہیں ، پھر جو کوئی ان میں سے سچا مخلص ، وفادار آدمی ملتا ہے صرف اسی کو دوست بناتے ہیں ، اور بے کار آدمیوں کو چھوڑ دیا کرتے ہیں ۔
    اللّه تعالی سب سے بڑھ کرحیم ودانا ہے ۔ اس سے یہ امید کیسے کی جاسکتی ہے کہ وہ ہر کس و ناکس کواپنا دوست بنا لے گا ، اپنی پارٹی میں شامل کر لے گا اور اپنے دربار میں عزت اور قربت کی جگہ دے گا ۔ جب انسانوں کی دانائی و عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ بغیر جانے اور پرکھنے کسی کو دوست نہیں بناتے تو اللّٰه ، جو ساری دانائیوں اور حکمتوں کا سرچشمہ ہے ، ناتمکن ہے کہ وہ جانچنے اور پرکھنے کے بغیر ہر ایک کو اپنی دوستی کا مرتبہ بخش دے ۔ یہ کروڑوں انسان جو زمین پر پھیلے ہوئے ہیں ، جن میں ہر قسم کے آدمی پائے جاتے ہیں ،
    اچھے اور برے ، سب کے سب اس قابل نہیں ہو سکتے کہ اللّٰه کی اس پارٹی میں ، اس حزب اللّٰه میں شامل کر لیے جائیں جیسے اللّٰه تعالیٰ دنیا میں اپنی خلافت کا مرتبہ اور آخرت میں تقرب کا مقام عطا کرنا چاہتا ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ نے کمال درجہ حکمت کے ساتھ چند امتحان ، چند آزمائشیں ، چند معیار جانچنے اور پرکھنے کے لیے مقرر کر دیے ہیں کہ انسانوں میں سے جو کوئی ان پر پورا اترے ، وہ تو اللّٰه کی پارٹی میں آجائے اور جو ان پر پورا نہ اترے خود بخود اس پارٹی سے الگ ہو کر رہ جائے ، اور وہ خود بھی جان لے کہ میں اس پارٹی میں شامل ہونے کے قابل نہیں ہوں ۔
    یہ معیار کیا ہیں ؟ اللّٰه تعالیٰ چونکہ حکیم و دانا ہے اس لیے سب سے پہلا امتحان وہ آدمی کی حکمت و دانائی کا ہی لیتا ہے ۔ یہ دیکھتا ہے کہ اس میں سمجھ بوجھ بھی ہے یا نہیں ؟ نرا احمق تونہیں ہے ؟ اس لیے کہ جاہل اور بے وقوف کبھی دانا و حکیم کا دوست نہیں بن سکتا ۔ جو شخص اللّٰه کی نشانیوں کو دیکھ کر پہچان لے کہ وہی میرا مالک اور خالق ہے ، اس کے سوا کوئی معبود،کوئی پروردگار، کوئی دعائیں سننے والا اور مدد کرنے والانہیں ہے ، اور جوشخص اللّٰه کے کلام کو سن کر جان لے کہ یہ میرے مالک ہی کا کلام ہے کسی اور کا کلام نہیں ہوسکتا ، اور جوشخص سچے نبی اور جھوٹے مدعیوں کی زندگی ، ان کے اخلاق ، ان کے معاملات ، ان کی تعلیمات ، ان کے کارناموں کے فرق کو ٹھیک ٹھیک سمجھے اور پہچان جاۓ کہ نبوت کا دعوی کرنے والوں میں سے فلاں ذات پاک تو حقیقت میں خدا کی طرف سے ہدایت بخشنے کے لیے آئی ہے ، اور فلاں دجّال ہے ، دھوکا دینے والا ہے ۔ ایسا شخص دانائی کے امتحان میں پاس ہو جاتا ہے ، اور اس کو انسانوں کی بھیڑ بھاڑ سے الگ کر کے اللّٰه تعالیٰ اپنے پارٹی کے منتخب امیدواروں میں شامل کر لیتا ہے ، باقی لوگ جو پہلے ہی امتحان میں فیل ہوجاتے ہیں ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ جدھر چاہیں بھٹکتے پھریں ۔

    ‎@muhammadmoawaz_

  • مظلوم کی فریاد تحریر : بشارت حسین

    مظلوم کی فریاد تحریر : بشارت حسین

    کہا جاتا ہے کہ مظلوم کے دل سے نکلی آہ عرش کو ہلا دیتی ہے۔
    ظالم سماج ہر چہرہ دکھی ہے انسان ہی انسان کا دشمن بنا پھرتا ہے۔ دولت مند کی گردن غروروتکبر سے اکڑی ہوئی ہے سر اٹھا کر ایسے چلتے جیسے زمین پہ ہر شے انکی ماتحت ہے۔
    کہیں گاوں کا وڈیرہ سسٹم غریب کے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے تو کہیں پولیس کے بھیس میں چھپی کالی بھیڑیں انسانیت سے عاری کمزور طبقے کیلئے درد سر بنی ہوئی ہیں۔
    کسی کو کوئی خوف خدا نہیں کسی کو یہ یاد نہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے انکے مظالم کو۔ مظلوم کی فریاد کو مظلوم کے دل سے نکلے تیر کو جو کہ محو سفر ہے کب ظالم اور اسکی خوشیوں کے درمیان حائل ہو جائے معلوم نہیں۔
    سب کچھ بھولا ہوا ہے ہر سبق انسانیت کا بھولے ہوئے ہیں کچھ بھی نہیں یاد۔
    محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا انسانیت کا درس ہمارے پلے نہیں پڑا اس کو محض انکی زندگی کی خوبصورتی اور اعلی اخلاق کی تعریف تک محدود کر دیا۔
    اب کہاں جائیں وہ مظلوم؟
    کس سے اپنی فریاد کریں؟ کس کو اپنی آپ بیتی سنائیں؟ کس کو بتائیں کہ انکی بھوک کو کس طرح انکی کمزوری بنا کر ان سے نیچ کام کروائے گئے؟
    کہاں ہے وہ عدالتی نظام جس میں مظلوم کی دادرسی کی جاتی تھی۔ جہاں مظلوم کو انصاف ملتا تھا ظالم کو سزائیں دی جاتی تھیں۔ لوگ عبرت پکڑتے تھے ظالم ظلم کرنے سے ڈرتا تھا۔ اب معاشرے میں یہ خوف کہاں؟ اب تو آزادی ہے کچھ بھی کر لو سب بازار میں خرید و فروخت کی طرح بک رہا ہے انصاف بک جاتا ہے گواہ بک جاتے لوگوں کی خوشیاں، غم سب کی بولی لگ جاتی کوئی پوچھنے والا نہیں۔
    طاقتور اور دولت مند کو انصاف بھی ملتا ہے چھوٹیں بھی مل جاتی انکے قرضے بھی معاف ہو جاتے ہیں
    لیکن
    غریب کو کیا ملتا ہے تھانے کچہریوں کے چکر ؟
    پولیس کی جھڑکیں عدالتوں کے چکر لمبی تاریخیں اور آخر میں جب سب بک جاتا ہے تو عدم ثبوت کی بنا پر مجرم بری اور مظلوم کی عزت نیلام ہو جاتی ہے۔
    آخر ایسا کیوں اور کب تک؟
    والدین اپنی بچی کیلئے اچھا رشتہ تلاش کرتے ہیں بڑی چھان بین کے بعد رشتے طے ہوتے ہیں خوشیاں منائی جاتی ہیں مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔ جہیز کیلئے اپنی ساری جمع پونجی خرچ کر دی جاتی ہے بچی کو خوش دیکھنے کیلئے آنے والا وقت اس کا اچھا گزرے ہر چیز لائی جاتی ہے پیسے کم پڑ جائیں تو قرض لیا جاتا ہے حتی کہ کچھ اپنا قیمتی سرمایا مکان تک گروی رکھ دیا جاتا ہے بیچ دیا جاتا ہے۔
    لیکن جب شادی ہو جاتی ہے تو وہ لڑکی سسرال میں ایسے جاتی ہے جیسے کسی خطرناک جیل میں کوئی خطرناک قیدی پہنچ گیا ہو اسکی زندگی کو عذاب بنا دیا جاتا ہے خاموشی سے ظلم سہتی ہے والدین کو بھی پتا نہیں چلتا کہ بچی کو کس جانور سے باندھا ہے انھوں نے۔
    آنے والا کل اچھا ہو گا اس امید سے وہ اپنے دن گزارتی ہے رو لیتی ہے چھپ کر صبر کر لیتی ہے لیکن جب یہ ظلم بڑھ جاتا ہے اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے تو آخر دل سے ایک آہ ایک تیر نکلتا ہے پھر اس قید خانے کا ہر باسی ہر ظالم اپنے انجام کی طرف جاتا ہے۔
    طاقتور طاقت کے نشے سے چور اپنے ظلم کی داستانیں رقم کر رہا۔
    سیاستدانوں کی اپنی بدمعاشیاں ہیں آخر مظلوم کہاں جائے پھر کس سے انصاف مانگے؟
    ظلم کا دورانیہ لمبا ہو سکتا ہے لیکن ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا۔ ظالم کو اللہ کی طرف سے چھوٹ نہیں ہو سکتی رسی ڈھیلی ہو سکتی ہے لیکن وہ دیکھتا ہے اور جب وقت آ جاتا ہے تو کھینچ لی جاتی ہے رسی پھر سب کچھ ڈھیر ہو جاتا ۔
    کمزور اور طاقتور سب کو اللہ نے پیدا کیا اس نے یہ سب انسان کی آزمائش کیلئے رکھا کون کس طرف چلتا ہے کون اپنی طاقت کا جائز استعمال کرتا ہے اور کون ناجائز استعمال کرتا ہے۔
    آخر طاقت ختم ہو جاتی ہے جب محتاج کر دیا جاتا ہے پھر سب سمجھ آ جاتی ہے لیں وقت گزر چکا ہوتا۔
    دولت، طاقت اور عہدے سب عارضی ہیں دائمی کچھ نہیں ہمیشہ رہنے والی ذات اللہ کی ہے انصاف اس کے ہاں نہیں بکتا نہ سفارشیں کام آتی ہیں نہ خاندانی برتریاں
    وہاں انصاف ہوتا ہے مظلوم کی اپنی جاتی ہے ظالم پکڑ میں آ جاتا ہے پھر سب یاد کروایا جاتا ہے جو بھولا ہوتا ہے۔
    اولاد جب نافرمان ہو جاتی ہے جوانی میں آ کر وہ اپنے خون کی گرمی کی وجہ سے یہ بھول جاتے ہیں کہ انکے والدین کا جسم کا خون انکی زندگی بناتے بناتے ٹھنڈا ہوا ہے جب والدین کو کہتے ہیں کہ تم نے ہمارے لیے کیا کیا تو پھر
    والدین کے دل پہ کیا گزرتی ہے کیسے وہ سنبھالتے ہیں خود کو؟
    برداشت کرتے ہیں وہ بچے کے اس ظلم کو بھی کہ کہیں ہماری آہ نہ لگ جائے لیکن جب برداشت ختم ہو جاتی ہے اور ظلم بڑھ جاتا ہے بات بات پہ ان کو طعنے ملتے ہیں رسوا کیا جاتا ہے تو آخر انکے حصے میں بھی یہ عذاب لکھ دیا جاتا ہے وہ بھی اپنے کیے کو بھگتنا شروع ہو جاتے ہیں
    کیوں کہ اب انکی زندگی میں والدین کی آہ کا تیر لگ چکا ہوتا ہے انکی خوشیوں میں ایک زہر آلودہ آہ شامل پو جاتی ہے۔
    زندگی انکیلئے بوجھل ہو جاتی ہے خوشیاں روٹھ جاتی ہیں
    پھر سمجھ آتی ہے لیکن دیر ہو جاتی ہے بہت دور ہو جاتا ہے سب کچھ بہت دور۔
    اللہ نے اگر دولت دے دی طاقت دے دی عہدہ دے دیا تو یہ سب اللہ کا انعام ہے اس کا شکر ادا کرو۔
    اس کا اصل شکر یہ ہے کہ اس کو اسکی مخلوق کی بھلائی کیلئے استعمال کرو
    نہ کہ مخلوق کو بتاو کہ میں ہی سب کچھ ہوں۔
    نہیں ایسا نہیں سب کچھ اللہ کا ہے اس نے جس کو دیا آزمانے کیلئے دیا وہ لے بھی سکتا کسی اور کو بھی دے سکتا ہے
    بس جب تمہیں دیا تو پھر یاد رکھنا کہ وہ لوگوں کی آہوں کا سبب نہ ہو بلکہ دعاوں کا سبب
    Live_with_honor @

  • گناہوں پر آٹھ گواہ  تحریر: مدثر حسن

    گناہوں پر آٹھ گواہ تحریر: مدثر حسن

    آپ کو پتہ قیامت کے دن ہر انسان کے گناہوں پر آٹھ گواہ پیش ہوں گے۔ آٹھ گواہ انسان کے خلاف گواہی دے گئیں اور کہے گئیں کہ اس نے فلاں فلاں گناہ کیا ہے۔۔۔۔۔

    پہلا گواہ: جس جگہ بندے نے گناہ کیا ہو گا،وہ جگہ وہ زمین کا ٹکرا قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گا۔۔!!سورۃ الزلزال آیت نمبر(5،6)

    وہ زمین کا ٹکڑا یہ گواہی دے گا اے اللہ پاک یہ بندہ مجھ پر اکڑ کر چلتا تھا غرور اور تکبر کیساتھ اپنی گردن اونچی کر کے مہرے اوپر چلتا تھا حالانکہ تکبر تو اللہ پاک کی چادر ہے باقی مخلوق میں اگر ذرا برابر بھی تکبر ا گیا تو ارشاد ہے کہ اسکو جنت کی خوشبو تک نصیب نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ انسان زمین کے جس جس حصے پر گناہ کرتا ہے وہی حصہ قیامت والے دن بولے گا کہ الہیٰ اس نے میرے اوپر گناہ کیے ۔ ہر زمین کا حصہ بولے گا گواہی دے گا چاہے آپ نے نیکی کی ہو اس خطے کے اوپر یا برائی۔۔۔

    دوسرا گواہ: وہ دن بھی گواہی دے گا جس دن بندے نے گناہ کیا ہو گا۔(سورۃالبروج آیت نمبر 3)

    اس کے علاوہ انسان کا وہ دن جس دن اس نے برائی کی جس دن اس نے کسی مظلوم کے ساتھ زیادتی کی کسی یتیم کا حق کھایا انسانیت کی تضحیک کی وہ دن بھی گواہی دے کہ مولا اس نے اس دن گناہ کیے تھے۔ اور اس نے اس دن مقررہ وقت پر اچھائی کی تھی۔۔۔

    تیسرا گواہ: قیامت کے دن ان کی زبان بھی ان کے خلاف گواہی دے گی ۔(سورۃ النور آیت نمبر 24)

    انسان کی اپنی زبان بھی اس دن گواہی دے گی وہ بول پڑے گی کہ آیا کہ یہ ساری زندگی گالیاں بکتا رہا یا نیکی پھیلاتا رہا۔ اگر زبان گواہی دے گی کہ اس نے تیری اور تیرے محبوب کی تعریف کرتا رہا ساری زندگی تو پھر تو جنت نصیب ہو جائے گی اور بخشش بھی ہو جائے اگر اس نے بول دیا کہ یہ تمام عمر گالیاں اور فضول باتیں کرتا رہا تو اس کے لیے پھر عذاب ہوگا۔۔

    چوتھا گواہ: انسان کے جسم کے باقی اعضاء ہاتھ پاؤں یہ بھی گواہی دیں گے ان کے خلاف ۔(سورۃ یٰسین آیت نمبر 25)

    انسان کا ہر کر اعضا اس دن بول پڑے گا کہ آیا اس نے اچھائی کی جا برائی۔ آج جو انسان چوری کرتا ہے یا ہاتھ سے جو بھی گناہ کرتا ہے وہ ہاتھ اس دن بول پڑی گے اور گواہی دینگے۔ اگر انہیں ہاتھوں کیساتھ آسانیاں بانٹیں ہونگی خدا کی مخلوق میں تو بخشش ہو جائے گی وگرنہ عذاب تو بھگتنا پڑے گا۔۔۔

    پانچواں گواہ: دو فرشتے جو تم پر نگران مقرر ہیں ،لکھنے والے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتے ہیں وہ بھی گواہی دے گئیں تمہارے خلاف ۔(سورۃ الانفطار آیت نمبر12)

    اللہ تعالیٰ نے ہمارے کاندھے کے اوپر دو فرشتوں کی ڈیوٹی مقرر رکھی ہے ایک فرشتہ اچھائی والا ہے دوسرا برائی والا ہے۔ اچھائی والا فرشتہ اچھائی نوٹ کرتا ہے اور برائی والا برائی۔ جب قیامت کا دن ہوگا میدان حشر لگا ہوگا تو یہ کاندھے پہ بیٹھے دو فرشتے اس دن انسان کا نامہ اعمال جو انہوں نے اسکی زندگی میں لکھا ہوگا پیش کر دینگے۔۔۔ اور سزا و جزا کا فیصلہ اسکی بنیاد پر کیا جائیگا۔۔

    چھٹا گواہ: وہ نامہ اعمال جو فرشتے لکھ رہے ہیں تو زبان بھی گواہی دے گی اور نامہ اعمال بھی دیکھائے جائیں گے قیامت کے دن ۔(سورۃ الکہف :آیت نمبر 49)

    ساتواں گواہ: آپ ﷺ بھی گواہ ہوں گے، اللہ رب العزت آپ ﷺ سے بھی گواہی مانگیں گے اور اس وقت رسول ﷺ بھی گواہی دیں گئیں۔(سورۃ النساء آیت نمبر 41)

    اس دن ہم خود بھی بول پڑینگے کیونکہ اس دن اللہ کی مرضی ہی ہوگی بس وہ حکم دے گا اور ہم بولنا شروع کرینگے اس کے علاوہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات جو کہ ہماری جانوں سے بھی زیادہ قریب ہیں اور سب کچھ جانتے ہیں وہ بھی گواہی دینگے۔ اگر ہم نے عمل انکی زندگی پر کیا ہوگا تو آپ شفاعت بھی فرمائینگے اور اللہ پاک سے بخشش کی دعا بھی کریںگے۔۔

    آٹھواں گواہ: اللہ رب العزت قرآن میں فرماتے ہیں،جو تم گناہ کرتے ہو،ہم قیامت کے دن اس پر گواہ ہوں گے اور سب سے بڑھ کر اللہ گواہی دے گا اور کہے گا تم نے یہ گناہ کیا ہے ۔(سورۃ یونس آیت نمبر 61)

    ہمارے گناہوں پر اللہ خود گواہ ہوگا (اللہ اللہ) کیا عالم ہوگا، کبھی سوچا ہے آپ نے کیا جواب دیں گے اس وقت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو

    یا اللہ ہمارے صغیرہ کبیرہ گناہوں کو بخش دے اور ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطافرما آمين

    ‎@MudasirWrittes

  • قصہ سلیمان علیہ السلام تحریر:شاندانہ فریدون

    قصہ سلیمان علیہ السلام تحریر:شاندانہ فریدون

    "اے چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاو ! ایسا نہ ہو کہ سلیمان علیہ السلام کا لشکر تمہیں روند ڈالے۔ اور ان کو خبر تک نہ ہو” ایک ننھی چیونٹی نے اپنی ساتھیوں سے کہا یہ مدھم آواز خضرت سلیمان علیہ السلام نے سنی اور مسکرا دئیے اور اللہ کا شکر ادا کیا حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے عظیم الشان لشکر کے ساتھ وہاں سے گزر رہے تھے اللہ تعالٰی نے انہیں نہایت وسیع و عریض سلطنت کا بادشاہ بنایا تھا اور نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں، پرندوں، جنات اور ہوا تک کو ان کا تابع کر دیا تھا ۔ اللہ نے انہیں اتنی عظیم سلطنت بخشنے کے ساتھ اور حکمت اور غیر معمولی قوت فیصلہ بھی عطا فرمائی تھی
    حضرت سلیمان علیہ السلام ،حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے تھے اور 992 قبل مسیح میں پیدا ہوئے (قبل مسیح کا مطلب ہے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش سے 992 سال پہلے) وہ حضرت داؤد علیہ السلام کے بعد تحت پر بیٹھے ۔ شروع کے تین سال مشکلات کے تھے۔جس میں مختلف معرکے پیش آئے ۔ بالآخر آپ نے سب مخالفین پر قابو پایا اور ایک نہایت مستحکم اور وسیع حکومت قائم کی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو تعمیرات کا بہت شوق تھا ۔انھوں نے ہیکل سلیمانی اور بہت سے نئے شہر تعمیر کروائے
    ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام کا دربار لگا ہوا تھا۔ سوائے ہد ہد کے سب حاضر تھے۔ ” ہد ہد کہاں ہے؟” حضرت سلیمان علیہ السلام نے ناراضگی سے دریافت فرمایا، "وہ آکر غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بیان کرے ورنہ اسے سخت سزا دوں گا” کچھ ہی دیر میں ہد ہد آگیا ۔ اور اس نے یوں گفتگو شروع کی۔ "میں ابھی بھی ملک یمن سے آرہا ہوں ۔ وہاں میں نے ایک قوم دیکھی جو بہت خوشحال ہے۔ اس کی حکمران ایک عورت ہے۔ یہ قوم گمراہ اور مشرک ہے۔ کیونکہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں”
    حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ حال سن کر ہد ہد کے ذریعے وہاں کی ملکہ کو خط بھیجا۔ اس خط کا آغاز بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے کیا گیا تھا۔ اور اس میں ملکہ اور اس کی قوم کو سیدھے راستے پہ آنے کی دعوت دی گئی تھی ۔ یمن کی ملکہ کا نام ” بلقیس” تھا اور اس ملک میں جو قوم آباد تھی۔ وہ "سبا” کہلاتی تھی ۔ ملکہ کو جب یہ خط ملا تو اس نے اپنے درباریوں سے اس خط کے بارے میں رائے طلب کی۔ سب نے ایک زبان ہوکر یہی مشورہ دیا کہ ہمیں اس بادشاہ سے جنگ کرنی چاہیے۔ ہم سب بہادر بھی ہیں۔ اور ہمارے پاس بہت سا سامان جنگ بھی ہے
    ملکہ ذہین اور دانا تھی۔ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی عظیم سلطنت کے بارے میں پہلے سن چکی تھی۔ اس نے اپنے درباریوں کو سمجھایا کہ جلدی کرنا درست نہیں۔ جنگ کوئی بھی جیت سکتا ہے۔ اور جو جیت جاتا ہے وہ بستیوں کو تباہ اور عزت دار لوگوں کو ذلیل کر دیتا ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو کچھ تحائف بھیجے جائیں۔ ہو سکتا ہے کہ بات یہیں ختم ہو جائے
    یوں ایک وفد پیش قیمت تحائف لے کر حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا” اللہ تعالٰی نے دین و دنیا کی جو نعمتیں مجھے عطا فرمائی ہیں وہ تمہارے تحائف سے بہت بہتر ہے۔ مجھے ان کی ضرورت نہیں، تم ان کو واپس لے جاو۔ اور اپنی ملکہ سے کہہ دینا کہ اس نے شرک اور گمراہی کا راستہ نہ چھوڑا اور اللہ کا دین قبول نہ کیا تو ہم ایسے لشکروں سے حملہ کریں گے جن کے مقابلے کی تم میں طاقت نہ ہو گی”
    ملکہ سمجھ گئی کہ یہ معاملہ دنیاوی مال و دولت کی حرص کا نہیں ہے۔ چنانچہ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام سے ملنے کیلئے خود روانہ ہو گئی۔ جب وہ پروشم کے قریب پہنچی تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے سوچا کہ اس کو اپنے پیغمبر ہونے کی نشانی دکھائی جائے تاکہ اس کو سچائی قبول کرنے میں آسانی ہو۔ آپ علیہ السلام نے دربار کے حاضرین سے پوچھا کہ کوئی ہے جو ملکہ کے یہاں پہنچے سے پہلے اس کا تحت یہاں لے آئے۔ ایک جن نے کہا کہ وہ دربار برخاست ہونے سے پہلے تحت لے آئے گا۔ ایک شخص نے، جو کتاب کا علم رکھتا تھا، کہا کہ میں پلک جھپکنے میں تحت یہاں لا سکتا ہوں۔ اور اگلے لمحے تحت وہاں موجود تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ اور اپنے درباریوں سے فرمایا کہ اس میں تھوڑی تبدیلی کر دو تاکہ ہم آزمائیں کہ ملکہ کتنی ذہین ہے۔ جب ملکہ پہنچی تو اپنا تحت دیکھ کر کہنے لگی۔” یہ تو میرا تحت معلوم ہوتا ہے۔ میں آپ کی عظمت پہلے ہی پہچان گئی تھی۔ ہم نے آپ کی اطاعت قبول کر لی ہے”
    ملکہ نے ظاہری اور دنیاوی اعتبار سے تو اطاعت قبول کر لی تھی۔ لیکن اس کی سوچ میں ابھی گہرائی پیدا نہ ہوئی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کو سمجھانے کے لیے ایک اور طریقہ اختیار کر لیا۔ ان کے محل کا فرش شیشے کا تھا۔ جس کے نیچے نہر بہہ رہی تھی
    اوپر سے دیکھنے پر شیشہ نظر آتا تھا۔ صرف پانی ہی بہتا نظر آتا تھا۔حضرت سلیمان علیہ السلام ملکہ کو اپنے محل لے گئے۔ ملکہ نے نیچے دیکھا تو اس نے فورا اپنے پائنچے اٹھا لیے۔ وہ سمجھی کہ نیچے پانی بہہ رہا ہے۔ کہیں میرے کپڑے بھیگ نہ جائیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا۔” تم دھوکے میں ہو یہ پانی نہیں شیشہ ہے”۔ ملکہ نے ان کی اس جملے پر غور کیا۔ تو اس کا ذہین روشن ہو گیا۔ وہ سمجھ گئی کہ سورج کو سجدہ کرنا بھی ایک دھوکہ ہے۔ وہ ہستی ہی سجدے کے لائق ہے ۔ جس نے اس سورج اور تمام کائنات کو بنایا ہے۔ اور یوں وہ ایمان لے آئی۔
    حضرت سلیمان علیہ السلام اکتالیس سال حکومت کرنے کے بعد 924 قبل مسیح میں وفات پاگئے۔ وفات کا واقعہ بھی بہت عجیب ہے۔ آپ علیہ السلام نے جنوں کو ایک نیا شہر تعمیر کرنے کے کام پر مامور کیا تھا۔ یہ کام ابھی نامکمل تھا ۔ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا آخری وقت آگیا۔ آپ علیہ السلام اپنے عصا کا سہارا لیے ہوئے تھے۔ اور اسی حالت میں آپ علیہ السلام کی وفات ہو گئی۔ سب سمجھتے رہے کہ آپ علیہ السلام کام کی نگرانی فرما رہے ہیں ۔عصا میں آہستہ آہستہ گھن لگ رہا تھا۔ایک دن عصا گھن کی وجہ سے ٹوٹ گیا۔ تب جنوں اور تمام مخلوقات کو معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام کا انتقال ہو گیا ہے۔

    @Shandana_Twitts

  • حضرت عمر فاروق رض تحریر:  محمد طلحہ رفاقت

    حضرت عمر فاروق رض تحریر: محمد طلحہ رفاقت

    خلیفہ دوم امیر المومنین حضرت عمر فاروق رض عنہا کمال رعب و جلال اور دبدبہ رکھنے والے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خاص صحابی تھے
    تاریخ نے ہزاروں جرنیل اور بڑے بڑے سپہ سالار پیدا کیے لیکن دنیا جہاں کے فاتحین، دنیا جہاں ہے سپہ سالار حضرت عمر فاروق رض کے سامنے طِفلِ مکتب لگتے ہیں

    انکا شمار خلفاء راشدین اور عشرہ مبشرہ میں سے ہوتا ہے آپ خلفاء راشدین میں سے دوسرے نمبر پر ہیں
    حضرت عمر فاروق رض وہ صحابی ہیں جنہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی خاص دعاؤں میں گڑ گڑا کر اللہ رب العزت سے مانگا اور اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی دعا کو قبول کرتے ہوئے حضرت عمر فاروق رض کی صورت میں ہیرا صحابی میسر کیا
    حضرت عمر فاروق رض واہ واحد صحابی ہیں جن کو آتا دیکھ کر شیطان مردود اپنا راستہ تبدیل کرلیتا تھا
    مسلمان تو یقیناً حضرت عمر فاروق رض کی شخصیت سے بے حد متاثر ہیں جبکہ بیسوں غیر مسلم حضرت عمر فاروق رض کی شخصیت سے بھی متاثر ہیں جب حضرت عمر فاروق نے اسلام قبول کیا اسلام کو ترقی کی جانب جو پروان ملی وہ تاریخ کے اوراق میں سنہری حروفوں میں درج ہے

    حضرت عمر فاروق رض نے اپنے دورِ حکومت میں اسلام کو پوری دنیا کے کونے کونے میں پہنچا کر اپنی سر توڑ کوشش کی اور کوششیں بجا لاتی ہوئی مقصد میں کامیابی ملی آج انہی کی ہی مرہونِ منت ہمارے پاس اسلام کی صورت میں خوبصورت ترین دین ہے
    یقیناً حضرت عمر فاروق رض اور ہزاروں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قربانیوں کی بدولت ہمارے پاس خوبصورت ترین دین میسر ہوا

    ایک عالم دین نے کیا خوب کہا کہ حضرت عمر فاروق رض عطاء اے خداوندی ہیں جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اللہ ربّ العزت سے حیران کن طور پر یہ دعا مانگی کہ اے اللّٰهُ عمرو بن ہشام یا پھر حضرت عمر بن خطاب میں سے کسی ایک کو اسلام کی زینت بنا تو اللہ ربّ العزت نے عمر فاروق رض کی صورت میں دین اسلام کو رونق بخشی

    شہادت کے وقت آپ رض کی عمر تریسٹھ برس تھی حضرت صہیب رض نے آپ رض کی نماز جنازہ پڑھائی روضہ نبوی میں حضرت ابو بکر صدیق رض کے پہلو میں آپ کی قبر مبارک بنائی گئی۔ رض

    خادمِ نورالہدی بے شک ہیں وہ تنویر پھول
    نکہتِ باغ نبوت حضرت فاروق ہیں

    @Talha0fficial1

  • حضرت خالد بن ولید تحریر : سیف اللہ عمران

    حضرت خالد بن ولید تحریر : سیف اللہ عمران

    حضور کے عظیم ساتھی حضرت خالد بن ولید ایک عظیم جرنیل اور ایک عظیم فاتح تھے۔
    میدان جنگ میں آپ کی مہارت حیران کن تھی۔ اپ کی کنیت ابو سلیمان اور ابو ولیدہ تھی اور آپ کا لقب سیف اللہ تھا (اللہ کی تلوار)
    اپ کا نسب ساتویں پشت میں حضرت ابوبکر صدیق سے ملتا ہے عباس کی والدہ لباب الکبرا کی بہن تھیں۔
    آپ کے والد ، قریش کے سرداروں میں سے تھے اور مکہ کے امیر ترین افراد میں سے تھے۔
    حضرت خالد بن ولید شروع سے ہی ایک بہادر ، محنتی اور سخت آدمی تھے۔ آپ نے یہ آرام چھوڑ دیا اور اپنے ہاتھوں سے محنت کے بل بوتے پر کام کیا۔
    جب اسلام کا ظہور ہوا تو آپ قریش قبیلے کے لوگوں میں سے تھے جنہوں نے پیغمبر اسلام اور اہل اسلام کی سخت مخالفت کی تھی۔
    آپ حدیبیہ کے امن تک اہل اسلام کے خلاف کفار کی طرف سے لڑی جانے والی تمام جنگوں میں بھی شریک تھے۔
    جنگ احد میں آپ مکہ کے قریشی گھڑسواروں کی قیادت کر رہے تھے۔ جب اپ نے پہاڑی راستے میں ایک اہم مقام چھوڑا اور پیچھے سے ائے اور لشکر اسلام پر حملہ کیا ، جس نے جنگ کا رخ موڑ دیا۔
    حضور کے فوجی نظم و ضبط اور سوچ سے آپ اس قدر متاثر ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور پیار ان کے دل میں ا گئی جس نے بعد میں ان کے لیے اسلام کے جھنڈے تلے آنا آسان بنا دیا۔
    حضرت الولید نے اپنے بھائی کو اسلام کی دعوت دی۔
    آپ کے بھائی نے کہا کہ وہ اپنے ساتھیوں سے مشورہ کریں گے تو انھوں نے اپنے ایک ساتھی حضرت عثمان بن طلحہ سے مشورہ کیا اور دونوں حق کی تلاش میں مکہ سے مدینہ روانہ ہوئے۔
    حضرت عمر بن العاص اور حبشیہ کے نجاشی شاہ سے اسلام کی صداقت پر یقین کرنے کے بعد ، وہ راستے میں حضرت خالد اور حضرت عثمان سے ملے اور اپ تینوں اپنے پیروکاروں کے ساتھ مل کر خدمت مصطفیٰ پہنچے۔
    جب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ تینوں کو دیکھا تو وہ بہت خوش ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا: اہل مکہ نے اپنے جگر آپ پر پھینکے ہیں۔
    حضرت خالد بن ولید نے پہلے ان سے اور پھر دوسروں سے بیعت کی۔ اور تینوں اسلام کی عظیم فوج میں شامل ہو گئے۔
    اسلام قبول کرنے کے بعد ، حضرت خالد بن ولید نے نبوت کے زمانے ، حق اور حضرت عمر فاروق دور میں مختلف لڑائیوں میں لشکر اسلام کی قیادت کی۔
    آپ نے جمادی الاولیا ہجری میں موطا کی جنگ میں بھی حصہ لیا تین دیگر جرنیلوں حضرت زید بن حارثہ ، حضرت عبداللہ بن رواحہ اور حضرت جعفر طیار کی شہادت کے بعد انہوں نے لشکر اسلام کی قیادت سنبھالی۔
    آپ کہتے تھے کہ ایک جنگ میں میرے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹ گئیں اور آخر میں صرف ایک یمنی تلوار باقی رہ گئی۔
    حضرت ابوبکر صدیق کے زمانے میں اندرونی اور بیرونی محاذوں پر حضرت خالد بن ولید کی عظیم خدمات اسلامی تاریخ کا ایک سنہری باب ہیں۔
    حضرت ابوبکر صدیق نے مرتدین کے خلاف لشکر روانہ کیا اور ایک لشکر کی قیادت آپ کے حوالے کی۔
    اپ نے مسلمان کو جھوٹوں کے خلاف لڑنے کے لیے بھیجا۔ ایک سخت لڑائی کے بعد ، مسلمہ مارا گیا اور اس کے لوگ اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے۔
    اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے رومیوں کے خلاف شام اور عراق میں فوجیں بھیجیں لیکن حضرت خالد بن ولید کا رخ نے ایرانیوں کی طرف کیا ۔
    پہلی لڑائی ایرانی افواج اور مجاہدین اسلامیہ کے درمیان البلات میں حضرت خالد بن ولید کی قیادت میں لڑی گئی جس میں رب کائنات نے لشکر اسلام کو فتح عطا کی۔
    حضرت خالد بن ولید ایک سال اور دو ماہ تک عراق میں رہے اور 15 جنگیں لڑیں ، ان میں سے سب جیتے ، پھر یہاں سے انہیں یرموک پہنچنے کا حکم دیا گیا۔
    حضرت خالد بن ولید مارشل آرٹس می رول ماڈل ان کے عظیم کارنامے اب بھی تاریخ کے انمٹ نقوش میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
    ان کی وفات 5 ہجری میں ہوئی جب وہ ساٹھ برس کے تھے۔ بعض روایات کے مطابق ان کی وفات حمص میں ہوئی اور بعض کے مطابق مدینہ منورہ میں۔
    اپنی موت کے وقت ، آپ نے کہا: "میں نے تقریبا تین سو لڑائیاں لڑی ہیں۔ میں اپنے جسم کے ہر حصے میں تلوار ، نیزہ اور تیر سے زخمی ہوا ہوں لیکن میں شہادت سے محروم رہا ہوں اور میں آج بستر پر مر رہا ہوں۔ اللہ تعالی بزدلوں کو امن نہ دے۔ ”
    آپ نے وصیت کی تھی کہ میرے بازو اور گھوڑے کو اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کے لیے وقف کیا جائے اور اپ کے تمام اثاثے ایک غلام ، گھوڑا تھا۔
    حضرت خالد بن ولید کو اللہ کے رسول سے بے پناہ محبت تھی۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے بارے میں فرمایا: "خالد کو نقصان نہ پہنچاؤ کیونکہ وہ اللہ تعالی کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جو اس نے کفار کے خلاف کھینچی ہے۔ ”

    @Patriot_Mani

  • پاکستان میں دہشت گردی تحریر: سید عمیر شیرازی

    پاکستان میں دہشت گردی تحریر: سید عمیر شیرازی

    دہشت گردی افراد، گروہوں اور گورنمنٹ کے خلاف سیاسی یا دوسرے مقاصد کے حصول کیلئے طاقت اور دھمکیوں کا استعمال ہے دہشتگردی کشت و خون کا کھیل ہے جس میں دھماکوں اور قتل و غارت کے ذریعے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلایا جاتا ہے اور عوام کو خوفزدہ کیا جاتا ہے دہشت گردی میں جدید سے جدید اسلحہ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی اور مالی نقصان اور ملک میں بھیانک صورت حال پیدا ہو جائے۔
    موجودہ دور میں دہشت گردی اور دھماکے کے ایک منظم عمل بن چکے ہیں آج کل دنیا میں کوئی ملک بھی ایسا نہیں جہاں دہشت گرد تنظیمیں نہ ہوں،
    ایشیائی ممالک میں ان تنظیموں کی بھرمار ہے ہمارے ملک میں بھی ان تنظیموں کا سلسلہ بہت وسیع ہے دنیا کے مختلف دہشت گرد تنظیمیں "را”
    کے جی بی، سی آئی اے اور موساد ہیں۔
    پاکستان تو ان کا خاص نشانہ ہے اپریل انیس سو اٹھاسی میں ان تنظیموں نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں راکٹ برسائے جن سے سیکڑوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے،لاکھوں روپے کی املاک کا نقصان ہوا عمارتیں زمین بوس ہو گئی سڑکوں پر چلتی ہوئی گاڑیوں پر مزائل گرنے سے بے شمار لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے اور اجڑی کیمپ کے نام سے مشہور فوجی ڈپو میں دھماکے ہوئے جن سے ڈپو میں موجود اسلحہ برباد ہوگیا۔۔۔
    دہشت گرد تنظیمیں بڑی مضبوط اور طاقتور ہوتی ہیں بعض اوقات ان تنظیموں کو غیرملکی حکومتیں بھی امداد فراہم کرتی ہیں انہیں خطیر رقم اور جدید ترین اسلحہ دیتی ہیں بعض اوقات دہشتگرد ڈاکو اور جرائم پیشہ لوگوں کے روپ میں اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے بھی دھماکے اور دہشت گردی کرتے ہیں،
    دہشتگردی کا مقصد عوام کو حکومت کے خلاف بھڑکانا ہوتا ہے تاکہ ملک میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوں پاکستان میں تو یہ لعنت وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے یہاں تو آئے دن دہشتگردی اور دھماکے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں جن میں ہمارا نا قابل تلافی نقصان ہوتا رہتا ہے اس دہشت گرد نے تو وزیر اعظم لیاقت علی خان سے لے کر صدر ضیاءالحق تک اور دوسرے ایک کئی علماء،وکلاء،ججوں اور سیاستدانوں کو بھی نہ چھوڑا۔
    قومی اور بین الاقوامی سطح پر دہشت گردوں کا ایک جال پھیلا ہوا ہے جن کو کام ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کرنا اور اہم ا امیر شخصیات کو اغوا کرنا ہے اس قسم کے دہشتگرد تاوان کے طور پر بھاری رقوم کا مطالبہ کرتے ہیں اگر یہ تعاون ادا نہ کیا جائے تو یہ اغوا کیے ہوئے افراد کو قتل کر دیتے ہیں،
    دہشت گردی کو بہت ہی محتاط انداز میں چیک کرنا چاہیے حکومت کا فرض ہے کہ ملک میں غیر قانونی طور پر رہنے والے غیر ملکی لوگوں کو بزور طاقت پر ملک چھوڑنے پر مجبور کرے دہشت گردی کے سلسلے میں حکومت کا یہ بھی فرض ہے کہ ملک میں آئے ہوئے مہاجرین کو ان کے کیمپوں میں میں محصور رکھیں تاکہ وہ ملک میں کسی قسم کی گڑ بڑ نہ کر سکیں،
    نیز حکومت کے پاس ایسی پوشیدہ سروس ہونی چاہیے جو ہر قسم کے دہشت گردوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتی رہے علاوہ ازیں حکومت کو پولیس، فوج، رینجرز اور دیگر رضاکار تنظیموں کا تعاون حاصل کرنے کے لئے بھی عمدہ قسم کے اقدامات کرنے چاہیے۔
    اب پہلے سے کہی گناہ زیادہ پاکستان کی انٹیلی جنٹس الرٹ ہیں کوئی میلی آنکھ سے پاکستان کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتا اور اگر کوئی ایسی جرات کر بھی لے تو اسکا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے
    پاکستان میں الحمد اللہ دہشت گردی تقریبا ختم ہو چکی ہے اس امن کے حصول کیلئے ہر ادارے نے اپنا نمایاں کردار ادا کیا،
    اللّه پاک اس ملک خداداد کی حفاظت فرمائے تا قیامت اور ملک میں اندرونی اور بیرونی دشمن عناصر قوتوں کو تباہ و برباد کریں۔

    @SyedUmair95

  • ‏انسان کی عظمت سے متعلق قرآنی تعلیمات   تحریر: محمد بلال

    ‏انسان کی عظمت سے متعلق قرآنی تعلیمات تحریر: محمد بلال

    قرآن انسانوں کی عظمت پر بہت زور دیتا ہے چاہے ان کی جنس یا نسل ہو یا حیثیت۔قرآن پاک میں فرمانِ مبارکہ ہے کہ: ”ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی ہے، انہیں خشکی اور سمندر میں نقل و حمل کی سہولت دی ہے، انہیں اچھی اور پاک چیزوں کی فراہمی کے لیے دی ہے، اور ان کو ہماری تخلیق کے ایک بڑے حصے کے اوپر خاص احسانات سے نوازا ہے۔” (قرآن 17:70) وقار حقوق اور فرائض پر مشتمل ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام انسان ایک خالق کے ذریعہ برابر بنائے گئے ہیں، اور کوئی بھی اپنی پیدائش یا خاندان یا قبیلے کی بنیاد پر دوسرے سے برتر نہیں ہے۔ یہ صرف الہی ہے جو صرف یہ فیصلہ کرنے والا ہے کہ دوسرے کے وقار کو قبول کرتے ہوئے اس کی باوقار حیثیت پر کس نے عمل کیا۔وقار کا یہ بھی مطلب ہے کہ انسان کو زندگی کا حق ہے، مذہب کی آزادی کا حق، طرز زندگی کی آزادی کا حق، مزدوری کا حق، تحفظ کا حق اور خاندان کا حق محفوظ ہے.قرآن پاک میں اس چیز کی ممانعت کی گئی ہے کہ لوگ دوسروں کو ان کے رنگ، جنس یا مذہب کی وجہ سے ان حقوق سے محروم رکھیں۔ قرآن پاک ایک پر دوسرے کو ترجیح نہیں دیتا۔قرآن کریم یہ نہیں کہتا کہ صرف مسلمان یا جو خدا پر ایمان رکھتے ہیں وہ عزت یا حقوق کے مستحق ہیں جو وقار سے وابستہ ہیں۔ یہ ایک وسیع اصطلاح میں بات کرتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ انسانوں کو ان کے وقار سے انکار کرے جو خدا کا دیا ہوا حق ہے۔کچھ عرصہ پہلے، دنیا کو اس قرآنی پیغام کی صداقت کو سمجھنے میں دشواری تھی۔ لوگوں کو ان کی نسل یا جنس یا حیثیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا گیا اور مذہبی اسکالر اور سیاسی ماہرین ان امتیازی سلوک کا جواز فراہم کر رہے تھے۔وقار کے اس انکار کا ایک کلاسک معاملہ ہندوستان میں پایا جا سکتا ہے جہاں مذہبی صحیفے کے مطابق لوگوں کے ایک گروہ کو ایک خاص سماجی گروہ میں ان کی پیدائش کی وجہ سے کم ذات یا اچھوت کے طور پر درجہ بندی کیا گیا تھا۔اگرچہ، بھارت نے اس پر پابندی عائد کر دی ہے کہ اس کے آئین میں اور قانونی طور پر اس طرح کا امتیازی سلوک قابل سزا ہے، پھر بھی یہ ملک میں بڑے پیمانے پر رائج ہے۔ آج دنیا میں کوئی بھی نسل، مذہب، جنس وغیرہ کی بنیاد پر علیحدگی اور امتیازی سلوک کی دلیل نہیں دے سکتا۔دنیا نے انسانیت کے وقار کے قرآنی پیغام کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔یہ پیغام آج کے دور جدید میں پہلے سے کہیں زیادہ ذیرِبحث ہے، قطع نظر اس کے کہ مسلمان اس پر عمل کریں یا نہ کریں کیونکہ یہ یقینی طور پر تمام عقیدے کے لوگوں کو سب کے انسانی وقار کے دفاع میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ تیسرا قرآنی پیغام جو بڑے پیمانے پر انسانیت سے متعلق ہے، اس کا قدرتی وسائل کی آفاقی پر زور ہے۔ زمین، سمندر، آسمان کا پانی اور ہوا سب کے فائدے کے لیے ہیں۔ کوئی بھی ان کے خصوصی استعمال کے لیے ان کی اجارہ داری نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی ان وسائل تک ان کی رسائی کو دوسروں کو دیے گئے حقوق سے انکار کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔اس طرح قرآن کہتا ہے، ”وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا جو کچھ زمین میں ہے۔ پھر آسمان کی طرف استوا (قصد) فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے وہ سب کچھ جانتا ہے” (قرآن 2:29) مندجہ بالا مختصر مطالعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہمیں بطور مسلمان ہر انسان کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آنا چاہیے
    ‎@Bilal_1947

  • عبادت _ الہی کے تقاضے  تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    عبادت _ الہی کے تقاضے تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    انسان اللہ کریم کی بنائی ہوئی ایک اعلی تخلیق ہے.
    پھر اچھے برے کا شعور دیا. اللہ کریم نے خود قرآن مجید میں ارشاد فرمایا. کہ ہم نے انسان کو بڑی خوبصورت شکل میں پیدا کیا.
    پھر اسی انسان کو اللہ نے فرشتوں پر فضیلت عطا کی. انسان کو علم سکھایا اور فرشتوں سے سجدہ کروایا.
    یہ سب کیوں کیا گیا؟
    قرآن کریم میں اللہ کریم نے
    ارشاد فرمایا.
    اور میں نے جن اور انسان اسی لئے پیدا کیے ہیں کہ وہ میری عبادت کریں۔سورۃ الذاریات، آیت56.
    اگر رب کریم کی عطائیں اور نعمتیں شمار کی جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا وجود انگنت عجوبوں کو سمیٹ کر بنایا گیا ہے. منہ کہ اندر رکھی زبان کی ہی بات کی جائے تو گرم اور ٹھنڈک کا احساس لیے یہ زبان مختلف زائقوں کی الگ الگ پہچان رکھتی ہے. اگر حرکت کرے تو الفاظ کا تسلسل اسے دوسرے انسانوں سے گفتگو کا شرف بھی بخشتی ہے. جب پیٹ کی بھوک مٹانی ہو یہی زبان دانتوں کی مشینری میں گاہے بگاہے خوراک فیڈ کرتی اور اسے پیسنے میں مدد کرتی دکھائی دیتی ہے. حیرت کی بات ہے صرف ایک گوشت کا ٹکڑا ہے اتنی صلاحیتوں سے بھرپور میرے رب کے عطا کیے ہوے کسی عجوبے سے کم نہیں. انسان کا ہر عضو اس طرح کے بے مثال عجوبوں کا مجموعہ ہے.
    اس سب کی شکر گزاری کے لیے اللہ رب العزت مختلف ادوار میں انبیاء کرام علیہم السلام کے زریعے مختلف تحائف _عبادت عطا کیے تو اس امت کو نماز جیسا تحفہ عطا فرمایا.
    ارشادات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تحفہ کی اہمیت میں اور اضافہ فرمایا.
    جیسا کہ
    1. نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے.
    2. جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی اس نے کفر کیا
    3. مومن اور کافر میں فرق نماز کا چھوڑ دینا ہے
    4. نماز مومن کی معراج ہے.
    معراج ایک ایسی خصوصیت ہے جس میں رب سے ملاقات کا شرف کا شرف انسان کو ملتا ہے. کیسی شان کریمی رب العالمین کی اور تربیت رسول ختم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح اس تحفہ کا حق ادا کر کے دکھایا لا جواب ہے. جس سر کو اونچا رکھنے کے لیے انسان زمانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے دکھتا ہے رب کریم کے سامنے زمین پر رکھ کہ اسکی بڑائی بیان کرتا ہے. یہ حسن عبادت یقیناً اللہ کی شکر گزاری کے لیے دئیے کسی تحفے سے کم نہیں.
    معراج کو معراج کے درجے تک لیجانا انسان کا کام ہے. کم از کم یہ احساس ضرور دل میں ہو کہ رب کریم کے سامنے کھڑا ہوں. دنیا کے صاحب کے سامنے اچھے کپڑوں اعلی جوتے نایاب خوشبو کا استعمال کرنے والے اس رب کریم جو کہ اس صاحب کا بھی رب ہے جو اس بھی رزق اور عزت دیتا ہے کے سامنے جاتے وقت کم از کم اسی طرح کا اہتمام کیا کریں. بارگاہ رب العالمین ہے مزاق تو نہیں. یہ احساس تو کم از کم ہو کہ میں دو جہان کے رب کے سامنے کھڑا ہوں. اس سے اعلی درجہ ہے اس چیز کا احساس کہ جس کے لیے فرشتوں کی صفیں رکوع و سجود میں مشغول وہ میری نماز کو بھی دیکھ رہا ہے. جیسے جیسے انسان رب کریم کے پاس ہوتا چلا جاتا ہے رب العالمین اس پر عنایتیں بڑھاتا چلا جاتا ہے.
    اس سے اعلیٰ مقام ہے انسان جو بول رہا ہو جس چیز کی گواہی زبان دے دل بھی اس کی شہادت دے رہا ہو. زبان بولے
    الحمد للہ رب العالمین تو دل رب العالمین کی اس رب ہونے کی شان کو پورے وثوق سے تسلیم کرتا دکھائی دے. دل اتنا موم ہو جاے جیسے روئی کا گالہ. روح رب کے سامنے اقرار بندگی کرنے لگے. جسم رب کی اس شان کے اقرار میں طائب نظر آے.
    سوچئے ابھی تو یہ احساس ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا اور سن رہا ہے. اور میرا جسم روح زبان دل سب اسی کی بندگی میں لگ گئے. بتائیں دنیا تو کہیں دور رہ گئ. یہ تب ہی ہوگا جب آپ پہلی منزل سر کریں گے کہ میں رب کے سامنے کھڑا ہوں. جس کے سامنے حشر میں کھڑا ہونا ہے. جس نے سارا کاشانہ_جہاں چلا رکھا ہے.
    اس سے آگے معراج کی کامل منزل شروع ہوتی ہے. جس میں یہ احساس ہوتا ہے. میں رب سے ملاقات میں ہوں میرے منہ سے الفاظ نکلتے ہی رب العالمین کے سامنے عاجزی پیش کر رہے ہیں. فاصلے بلکل ختم. بات آمنے سامنے تک آ پہنچی. احساس کی انتہا ہے. بندہ رب العالمین سے محو گفتگو سامنے حاضر ہے عبادت کا عالم کہ دنیا چھوڑ آیا کہیں دور اس کے خیالات ختم بس وہ اور رب العالمین کے سامنے عاجز جسم عاجز روح تعبیدار دل لیے رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کی سدا بلند کرتے جھک جاتا ہے. تو دل گواہی دے پاک ہے میرا پروردگار عظمت والا. سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہْ پکارتا ہے. دل تلملا اٹھے میرے اللہ تعالیٰ نے اس بندے کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی. زبان اور دل کا یہ تال میل دنیا اور اس میں موجود ہر چیز سے زیادہ سکون روح کو مہیا کر جاتا ہے. پھر جب دنیا کی ساری عزتیں سٹیٹس رتبے بھول کر سر رب کے سامنے لا رکھتا ہے اور اپنے رب کو پکارتے ہوے کہتا ہے. سُبْحَانَ رَبِّیَ الاَعْلٰی پاک ہے میرا رب جو بلند ترہے. تو دنیا اس کے سامنے زیر ہو جاتی اور ہر جگہ ایک کی ہستی کا ساتھ دکھتا ہے. پھر جب دل اس پر شہادت کی ضرب ثبت کرتا ہے تو روح اپنی حقیقی مٹھاس کو حاصل کرتی بندے کو اپنا من ہلکا لگنے لگتا ہے. پھر تشہد میں رب سے مکالمے کا سلسلہ اس کے نکھار کو بڑھاتا چلا جاتا ہے. دل میں کیے اعمال کی ندامت آنکھوں سے بہتا آئندہ فرمانبرداری کا عزم. رب العالمین کے سامنے اسی کو کل عالم کا مختار سچے دل سے ثابت کرنے کے بعد جب تشہد میں انسان اب رب کے سامنے بخشش مانگتا ہے. میرا رب بڑا کریم ہے بخشش بھی دیتا ہے پھر سے آنے کی توفیق بھی دیتا ہے اور یہ احساس بھی کہ تو جس کے سامنے بیٹھ گیا ہو نا مراد نہیں لوٹاتا. بہتر نہ ہو بہتر کر کے دیتا ہے. بہنو بھائیو عبادت _ الہی کا تقاضہ سمجھیے اپنی عبادت کو کامل بنائیے. اللہ رب العزت نے اپنے نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سامنے بٹھا کر معراج کرائی یہ وہی احساس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو دیا ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سر کی آنکھوں سے ظاہری بدن سے معراج کرایا گیا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان نبوت ہے. امت کو وہی مکالمہ تحفہ میں دیا گیا جو معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں رب العالمین جلالہ اور رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہوا. عبادت کے تقاضوں کو سمجھیے. عبادت کو کامل بنائیے. رب العالمین سے تعلق ایسا بنائیے کہ کل بروز قیامت جب ملاقات ہو رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں تو شوق دیدار سے آنکھ چھلکے. آج اس رب العالمین کی دید ہو گی جسکے سامنے ہونے کا احساس لیے رکوع و سجود سے روح کو سکون دیتے رہے.

    @EngrMuddsairH

  • ہمارے نبی ﷺ کائنات کے قائد ورہنما   تحریر  : راجہ ارشد

    ہمارے نبی ﷺ کائنات کے قائد ورہنما تحریر : راجہ ارشد

    اللہ تعالٰی نے کائنات میں جتنی مخلوق پیدا کی ہے ان میں سب سے بہترین تخلیق ہمارے نبیﷺ ہیں۔ اللہ تعالٰی نے سب سے پہلے آپﷺ کا نور پیدا کیا اسی لیے آپﷺ کو نور اول بھی کہا جاتا ہے۔جس طرح اللہ تعالٰی رب العالمین ہے اسی طرح ہمارے نبی رحمت للعالمین ہیں۔یعنی تمام مخلوقات کے لیے رحمت اور محبت لے کر آنے والے۔

    قائد اور رہنما کے معنی ہیں سیدھا راستہ دکھانے اور ہدایت کی طرف بلانے والا چونکہ آپ ﷺ تمام نبیوں سے افضل ہیں اس لیے آپﷺ کائنات کے قائد ورہنما بھی ہیں۔اور کوئی مخلوق بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت سے محروم نہیں۔

    قارئین جانتے ہیں کہ پچھلے مذاہب کی تعلیمات خاص زمانے کے لیے تھیں مگر آپ ﷺ کی تعلیمات ان کے مقابلے میں زیادہ مکمل ہیں اور قیامت تک ہر آنے والے دور میں ان پر عمل کرنا انسان کے لیے بہت آسان ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی وہ واحد پیغمبر ہیں جن کی قیادت ورہنمائی کی پوری انسانیت محتاج ہے۔ زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رہنمائی اور ہدایت نہ ملتی ہو۔اس رہنمائی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت اور شفقت اس حد تک شامل تھی کہ توحید کا پیغام پھیلانے میں جس قدر زیادہ زہنی اور جسمانی ازیتیں اٹھانی پڑیں وہ آپ ﷺ نے بڑے صبر اور حوصلے سے برداشت کیں اور کبھی کسی کو بد دعا نہ دی۔پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے بد دعا دینے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔

    @RajaArshad56