Baaghi TV

Category: مذہب

  • جب چشمِ فلک اشکبار ہوئی . تحریر ‌:  ایم ایم صدیقی صاحب

    جب چشمِ فلک اشکبار ہوئی . تحریر ‌: ایم ایم صدیقی صاحب

    ہ فاراں کی نورانی چوٹی پر کھڑے ہوئے ، قل ھواللہ احد کا سب سے پہلا باطل شکن نقارہ ، بجا کر نوع انسانی خواب کفر و ضلالت سے بیدار کیا ، اور سلسلۂ دعوت و تبلیغ میں مہر و الفت محبت ولطافت، کی گل افشانیاں کرتے ھوئے ، صرف 23 سالہ عرصۂ مختصر میں باطل خداؤں کے چراغوں کو بجھا کر توحید کا جہاں تاب دیا جلا یا، سابقہ ملل و شرائع کو منسوخ کر کے ،،،، الیوم اکملت لکم دینکم ———- کا سرمدی دستور حیات پیش کیا ،،، ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کے ہاتھوں قصرِ دین کی تکمیل ہو چکی، اور بالآخر، —— کل نفسٍ ذائقۃ الموت——— کے سرمدی اصول کےطابق ؛ محبوب یزداں ، فخرِ رسولاں ، پیغمبرِ آخر الزماں ، ملک الموت کے ذریعہ دارِ فانی سے عالم جاودانی کا سفر طے فرماکر واصلِ بحق ہوئے،،،

    تو اس وقت کے تصور سے روح کانپ جاتی ھے رگ و پے کی حرکت سلب ہوجاتی ھے، پلکوں پر آنسوں کے موتی بکھر جاتے ھیں ، عقل و خرد کے لطیف محل پر اداسیوں کے گھنے بادل سایہ فگن ہوجاتے ھیں ، غم فراق کے فرشِ حزیں پر تصورات کے تلوے زخمی ہونے لگتے ھیں ،، آرزووں کے شاداب پودوں کو سمومِ فراق کی تیزابیاں جھلسا دیتی ہیں ، ذہنی عشرت کدے کی بنیادیں متزلزل ہونے لگتی ہیں ،،،، زبانِ کائنات واحسرتا واحسرتا کا ورد کرنے لگتی ھے ،
    الحاصل،،، مرگ رسول کی منظر کشی سے زبان تھر تھراتی ہے ، قلم لڑ کھڑاتا ھے ، دامنِ صفحات سمٹتا نظر آتا ھے ،جملے مہمل ہو جانا چاہتےھے ، حروف تہجی خبر غم کی ہئیتِ ترکیبی اختیار کرنے سے گریز کرتے ھیں ، ذخیرۂ الفاظ داستان رحلت کی تعبیر سے قاصر ھے،

    الغرض ،،، نوشتۂ ازلی کے مطابق حادثۂ جانکاہ وجود پذیر ہو ہی چکا ،،،، تو بتکلف تمام دلِ احساس پر صبر و تحمل کا پتھر ور کی کشید کی ہوئی لکیر پر دست نگارش ، جبراً و کراہاً، بایں طور خامہ فرسائی ہوا،،،،،،،،،، کہ ماہ ربیع الاول ، کی بارہویں شب بدرِ منیر کی خنک شعاوں سے آنکھ مچولیاں کرتی ھوئی گیسوئے سیاہ فام کی گرہوں میں ستاروں کی ضوفگن کرنوں کو باندھتی ھوئی ، گلشنِ وجود کے پودوں کی آبیاری اور نازک گلوں کی لطیف پنکھڑیوں میں موسم بہار کی مٹھاس گھولتی ہوئی ،، صبح نو کے ساحل کی طرف آہستہ آہستہ چل رہی تھی ، چاند —— قدّرنٰاہٗ منازلَ —— کے محور پر تیز گام تھا ، تاروں کی شب تاب شمعیں مندمل ہونے لگی تھیں ، گلشنِ دنیا میں چہل پہل شروع ہوچکی تھی ، رات کی مسافت تمام ہورہی تھی ، غرض یہ کہ،،،،،،، قیامتِ کبریٰ کا منظر لئے ہوئے لرزتی کانپتی سحر طلوع ہوئی ، گھنے بادلوں کے اوٹ سے سورج رونما ہوا ، اور آناً فاناً صفحۂ دہر پر روشنی پھیل گئی ،، سورج کی جبینِ جہاں تاب پر رنج و غم کی تصویر کشید کی ہوئی تھی ، اس کی خو بار شعاؤں سے کسی سب سے بڑے المیہ کا سراغ مل رہا تھا ، اور جب وہ اپنے مقررہ مدار پر رقص کرتا ھوا وقت موعود پر ڈیرا ڈال چکا ، تو نوشتۂ ازلی کی فائل کھولی گئی ،،،،،، قضا و قدر کے قلم نے عالمِ برزخ میں داخلے کا اجازت نامہ لکھا ،——— کل من علیھا فان———– کی عدالت نے آخری فیصلہ سنایا ، اور یک لخت گردش دوراں نے انگڑائیاں لیں نظمِ کونین میں انتشار بپا ہوا، چمن مسرت پر اداسی کا بادل منڈلایا ، —–احسن تقویم —- کے نوری قالب میں دست اجل نے ڈاکہ زنی کی،،، روح پر فتوح کو قفس عنسری سے نکال کر نہایت اعزازو احترام کے ساتھ جنتی ملبوسات میں لپیٹا، اور —— الموت جسرٌ ——– کے حدِ فاصل کو پار کرکے ، —– یوصل الحبیب الی الحبیب———- کی منصبی خدمت بجا لانے کے بعد ،—— ثم دنیٰ فتدلّیٰ ——— کا قابلِ دید منظر پیش کر کے اشتیاقِ مشیت کا دیرینہ تقاضہ پورا کیا ، !!

    پھر کیا تھا افرا تفری کا عالم بپا ہوا، چشم فلک اشک بار ہوگئی ، سینۂ گیتی کا دل دہل گیا ، عرش اعظم کے ستون ہل گئے، قصر نیلگوں کی جبینِ پُر شکوہ پَر شکن ابھر آئی، انسانیت یتیم ہوگئی،، روحیں غمگساری کے لئے زمین پر اتر نے لگیں ، روئے ایام نے تابِ ضبط نہ لاکر شب تاریک کا لبادہ اوڑھ لیا،،،،،،،،
    اور ادھر رفیق اعلی کاشوق —- اُدُنُ مِنیّ —— لبریز ہورہا تھا ، بامِ عرش سے ——– اِ ئتُونی بہ استخلصہُ لنفسی——— کی صدائیں باز گشت گونج رہی تھی،، خالق سلسبیل ، —- شراباً طہورا——– کا دور چلانے والا تھا ، ، روح الامین کو ثرو تسنیم کے ساغر ومینا لئے کھڑے تھے،، حوریں جنتی بالاخانوں میں ——- الانتظار اشد من الموت ——— کا وظیفہ دہرا رہی تھی ،،،، رضوانِ جنت نوری تنوں کے ہمراہ نوشہِ جنت کے استقبال کے لئے فرش راہ بنے ہوئے تھے ، فردوس اعلی کی ثمر افشاں ڈالیاں شیریں مزاج و خوشگوار تحفے لئے بوجھل ہورھی تھیں،،،، عروس جنت شبِ کن فکاں کے دولھا کو اپنی باہوں میں لے کر خفیف لوریاں دینا چاہتی تھیں ،،،،
    حجرۂ عائشہ تماشہ گہِ عالم بنا ہو اتھا،، در یثرب پر فرشتوں کا ازدحام تھا،، خاکِ لحد کے زرات جلوۂ کہکشاں کا منظر پیش کررھے تھے ، جسد رسول کے انعکاسی شرارے سورج کی شعاعوں کو شرمارہے تھے،، کفن کے زر نگار ٹکڑے ردائے کبریائی سے اقتباسِ فیض کررھے تھے ،،،، مہاجرین و انصار نے —– رحماء بینھم ——– کا عملی نمونہ پیش کردکھا یا تھا ، تاآنکہ،،،،،، الائمۃ من القریش—— کے بمصداق؛؛؛؛ ثانی اثنین اذھما فی الغار ——– خلیفہ اول منتخب ہوچکے تھے ،،،

    آخراً،،، جب جاں نثار صحابہ لرزتے کانپتے ہونٹوں سے نعشِ مبارک کو غسل دے کر ، زر نگارملبوسات میں بصد اعزاز و احترام مستور کرکے اشکبار آنکھوں سے جمال انوری کا آخری دیدار کرچکے،، تو یکا یک ، مشیت کانپی،، بجلی کڑکی، دھرتی کا

    اپنے پرائے کے لئے یکساں تھا مہرباں
    افسوس ایسا رہبرِ فرزانہ کھو گیا

    @soxcn

  • دین اسلام ، پاکستان اور ہم لوگ تحریر : سیف اللہ عمران

    دین اسلام ، پاکستان اور ہم لوگ تحریر : سیف اللہ عمران

    پاکستان بننے کا مقصد مسلمانوں کے لئے الگ ریاست قائم کرنا تھا جہاں مسلمان اپنے رب سے رشتہ قائم کرسکتے ہیں اور ملک میں اسلامی قوانین نافذ کرسکتے ہیں اور ہم ایک ایسا اسلامی معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جو دنیا کے لئے ایک مثال ہو۔

    بانی پاکستان کو آزادی کے بعد اس ضمن میں کچھ قانون سازی کرنے کے لئے اتنا وقت نہیں ملا۔ ابتدائی طور پر ، اس ملک کا قانون انگریزوں سے لیا گیا ایک قانون تھا۔ انگریزوں نے اس میں بہت سی تبدیلیاں کیں ، لیکن ہمارے پاس یہ اثاثہ ویسے ہی اب بھی موجود ہے مجھے اب بھی سمجھ نہیں آرہی ہے کہ ہمیں انگریزوں سے آزادی ملی ہے یا انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا ہے۔

    تاہم، فرض کریں کہ ابتدائی چند برسوں میں ، ملک کی سالمیت کے ساتھ بہت سے دوسرے معاملات تھے جن پر توجہ نہیں دی گئی ہو گی ۔ لیکن پھر سال گزر گئے اور ہم اس ملک میں اسلامی قانون یا شریعت نافذ نہیں کرسکے۔ لیکن ہم نے اسلام کو تنہا نہیں چھوڑا ، بلکہ اسے اپنے فائدے کے لئے استعمال کرنے کا فن سیکھا.
    جی ہاں! آج ، لوگوں کو ہمارے ساتھ کھڑا کرنے اور ہماری مقبولیت حاصل کرنے کے لئے ، اسلام ہمارے لئے سب سے بڑا ہتھیار ہے۔اس ملک کے فراموش لوگوں کے لئے اسلام کی محبت اس قدر شدید ہے کہ اسلامی نعرہ انہیں سڑکوں پر لے جاسکتا ہے اور آواز بلند کرسکتا ہے۔
    لیکن عملی طور پر ہم سب انگریزوں کے بنائے ہوئے قواعد کو دھیان میں رکھتے ہیں ، چاہے ہم ان کو دس لاکھ برے الفاظ بھی کہتے رہیں , اس کا مطلب یہ ہے کہ انگریزوں کی مکمل پیروی کرنے کے بعد بھی ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں۔

    ہماری قومی زبان اردو ہے لیکن سرکاری زبان انگریزی ہے۔ ہم مسلمان ہیں لیکن ہم انگریزوں کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔ ہمارا قومی ترانہ فارسی میں ہے اور مذہب عربی میں ہے ، لیکن ہم دونوں زبانوں سے لاعلم ہیں اور ان کو سیکھنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رہے ہیں، ہاں، انگریزی سیکھتے ہیں کہ دنیا جو کمانی ہے۔ اس کے لیے انگریزی زبان بہت ضروری ہے.

    عالمی سطح پر، کسی بھی ملک کی ترقی و خوش حالی کا انحصار اس ملک کی اسٹیبلشمن- پر ہوتا ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کے چار جزو سیاست، فوج، بیورو کریسی اورعدلیہ ہیں ۔ جو صرف اس صورت میں ترقی کر سکتے ہیں جب وہ مل کر کام کریں۔ اور اگر ان میں سے ہر ایک صرف اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر ملک کا نظام انتشار کا شکار ہوجائے گا / جاتا ہے اور یہ ہمارے ملک پاکستان کی صورتحال ہے۔ ہمارے سیاستدان چاہتے ہیں کہ وہ ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنیں اور ان کے پاس جوابدہ رہنے کے لئے کوئی نہ ہو۔ اسی طرح باقی ادارے بھی اپنی خودمختاری اور آزادی کے نعرے کے ساتھ منظرعام پر آتے ہیں اور پھر معاملہ اور بھی آگے بڑھ جاتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی یہ ماننے کو تیار نہیں ہوتا کہ مالک اور خود مختار وہی ہے جس نے اس مقدس سرزمین کی برکتوں کو ہم جیسے بیکار کے حوالے کردیا۔ تو پھر کیوں اس کے قانون کو نافذ نہیں کیا جا رہا ہے؟

    ایسی بات کہنے یا نعرہ لگانے کی حد تک تو ٹھیک ہے ، لیکن عملی طور پر یہ بہت مشکل ہے۔
    کیونکہ اگر اسلامی نظام نافذ کیا گیا تو بدعنوانی ختم ہوجائے گی۔ پھر ہم کیسے اپنے پیٹ کو جہنم کی آگ سے بھر سکیں گے ؟
    اگر اسلامی نظام نافذ کیا گیا تو سودی نظام کو روکنا پڑے گا۔ پھر ہمارے بینک کیسے چلیں گے؟ اور ہم ان کے ذریعہ کس طرح قرض لیں گے؟
    اگر اسلامی نظام نافذ کیا جاتا ہے تو ، ہماری سیاست کیسے چلے گی ، جو جھوٹ اور منافقت پر مبنی ہے۔ ہم نے اسے ایک نیا نام دیا ہوا کیونکہ یہ ایک "سیاسی بیان” تھا
    اگر اسلامی نظام نافذ کیا گیا تو مولوی مسجد سے باہر آجائیں گے ، پھر اس پر قابو کیسے رکھیں گے؟ مساجد پر پابندی عائد ، وہ خود اپنے فتوے کیسے حاصل کریں گے؟
    اگر اسلامی قانون نافذ کیا جاتا ہے تو پھر عورت کو عزت اور وقار کا اعلٰی مقام ملے گا ، پھر ہم ان آدھ خواتین کی لاش کو کیسے دیکھ سکتے ہیں جو ہر سال سڑکوں پر نکل کر اپنے حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں۔

    ان جیسے اور بھی بہت سارے سوالات ہیں اور جب تک ان کا جواب نہیں مل جاتا ہم مسلمان ہی رہیں گے لیکن ہم اسلام کو ہماری زندگیوں میں مداخلت نہیں کرنے دیں گے۔ بلکہ ہم خود اسلام میں مداخلت کریں گے اور اسے اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارا بھلا ہے اور ہمیں ملک کی بھلائی یا اسلام کی بھلائی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

    ہم دوسروں کو کافر ثابت کرنے کے لئے اسلام کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہے ، جس پر ہم غداری کا فتویٰ جاری کرتے ہے اور خود کو اسلام کا ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ہم مسلمان بننا پسند نہیں کرتے ، ہمیں مسلمان دیکھنا پسند ہے اور وہ بھی عملی طور پر نہیں بلکہ زبانی

    Twitter @Patriot_Mani

  • حضرت امام شاہ ولی اللہ کا ایک مختصر تبصرہ ۔ تحریر :‌ روشن دین دیامری

    حضرت امام شاہ ولی اللہ کا ایک مختصر تبصرہ ۔ تحریر :‌ روشن دین دیامری

    حضرت امام شاہ ولی ولی رح (1703 میں پیدا ہوے اور 1763 میں وفات پاگے ہیں ۔اج ہم شاہ صاحب کے ایک مختصر سا تعارف اپ کو کرواتے ہیں جو شاہ صاحب کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں بہت کم سننے کو ملتا ہے۔ شاہ صاحب نے اپنا فلسفہ تب دیا جب یورپ اپنے جدید دور سے ابھی کئی دہائیاں دور تھا اور مارکس کے فلسفے سے تقریبا ایک صدی پہلے۔ ، شاہ ولی اللہ ہندوستانی معاشرے ، اس کی سیاست اور معیشت کے حوالے سے پیشن گوئی کے نظریات پیش کررہے تھے۔ اس کے خیالات بڑے پیمانے پر انسانیت کے لئے امید کی کرن ہیں۔

    دورحاضر کے ذہنوں کو اسلام کے بنیادی خطوط بیان کرنے کے لئے شاہ ولی اللہ نے اپنی شاہکار کتاب حجت اللہ البلغا لکھا جس میں شاہ صاحب نے اسلامی نظام کے حوالے سے ایک بہترین نظریہ دیا۔ انہوں نے اپنے قلم کی طاقت کو مذہبی ، سیاسی اور معاشی امور کے بارے میں لکھنے کے لئے استعمال کیا۔ ایک طرف انہوں نے نظام حکومت کو صیح طور پہ نہ چلانے پر ہندوستانی حکمران کو تنقید کا نشانہ بنایا تو دوسری طرف انہوں نے تعلیم یافتہ طبقہ کو سیاسی اور معاشی میدان میں اصلاح کے مطالبے پر دھیان دینے پر راضی کیا۔ انہوں نے بادشاہت کے خاتمے کی حمایت کی اور اس کی جگہ ایک نئے سیاسی نظام لانے کی بات کی۔ جس کو ٹیکنوکریسی یا اداراجاتی نظام کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ مطلب اب جو دور دور اے گا اس میں شخصی ویلو نہی بلکہ ادارے فیصلہ کرینگے۔ ہر فیلڈ کا ماہرین کا ایک گروپ ہوگا کو مشاورت سے کام کرینگے۔

    شاہ ولی اللہ کے معاشی خیالات انسانیت پسند تھے۔ اپ نے کام کاج کے اوقات کار چھے گھنٹے مختص کے تھے تاکہ انسان اپنے اولاد کو تربیت بھی دے سکے۔
    فلسفیانہ دائرے میں شاہ ولی اللہ نے ایک ایسا نظریہ پیش کیے جو دنیا کے تمام مذاہب کو قریب لاسکتے ہیں۔ انہوں نے چار بنیادی خصوصیات پر روشنی ڈالی جو تمام مذاہب میں موجود تھیں: آخبات طہارت ، ، سماحت اور عدالت۔ مختلف مذاہب کی پیروی کرنے والے معاشروں کو شاہ ولی اللہ کے افکار پر مبنی نظام کے ضریعے آج بھی قریب لایا جاسکتا ہے۔شاہ صاحب اسلام معاشی سیاسی اور عدلتی نظام پہ مکل بحث کرتے ہیں ۔معاشی نظام کے حوالے سے وہ فرماتے ہیں ۔کسی معاشرے میں دولت چند سرمایہ داروں کے ہاتھ میں نہی بلکہ معاشرے میں سرکولیٹ ہونا چاے۔ تاکہ ہر انسان کے مسلہ حل ہوجاے۔ دولت کی تقسیم جو محاذ محنت کے بنیار پر یا پیسوں کے بنیاد پہ تقسیم نا کی جاے بلکہ ضرورت کو مد نظر رکھا جاے۔ انشااللہ ہم شاہ صاحب کو جو معاشی فلسفہ ہے اس پے اگے لکھتا رہونگا۔

    @rohshan_din

  • اسلام اورعقل . تحریر: فرید خان

    اسلام اورعقل . تحریر: فرید خان

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلام میں موجودایک ایک حرف پتھر کی لکیر ہے۔ رسول اللہ ص کی زندگی ایک نمونہ ہے۔ اسلام کی ظہور اس وقت ہوا جب دنیا زمانہ جہالت میں تھا۔ اسلام کی ظہور اس وقت ہوا جب دنیا جہالت دیکھ چکی تھی ہر قسم کے رسم و رواج سے گزر چکی تھی۔ اللہ ج نے تمام انسانوں کو ایک راہ دیکھائی جسے صراط مستقیم کہتے ہیں۔ فرمایا جو لوگ اس پہ چلیں گے وہ فلاح پائیں گے۔ یہ وہ راستہ ہے جو اللہ نے منتخب کیا ہمارے لیے۔ یہ وہ راستہ ہے جس کو سمجھنے کے لیے عقل قاصر ہے یہ دین نقل کی گئی ہے اور اس پر یقین ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔ اوپر ذکر شدہ باتیں وہ باتیں ہیں جو ہم بار بار سن چکے ہیں اور سنتے رہیں گے۔ یہ باتیں میں نے اپ کی نظر اس لیے کی کیونکہ میں دوبارہ یقین دہانی کی کوشش کررہا کہ ہم اس راستے سے انحراف کررہے ہیں جو اللہ نے ہمارے لیے منتخب کیا ہے۔ اس سے انحراف کا نقصان واضح ہے قومیں پستی کی طرف جا رہے ہیں اور بدقسمتی سے ہمارے بائیں بازو کی سیاست ان اصولوں کے انحراف کی وجہ سے مسلسل ناکامی کا شکار ہیں۔ ہمارے سیاسی تربیت میں اب باقائدہ طور پر ان اصولوں سے انحراف کا درس دیا جاتا ہے ۔ ہماری سیاسی تربیت میں اب مذہب اور دین اسلام پر تنقید سکھاتا ہے، ہماری سیاسی تربیت میں اب ایسے اصول بتایا جاتا جو محض عقل پر مبنی ہے ۔ جب سوال کیا جاتا کہ اپ اسلام کی بنیادی اصولوں سے انحراف کررہے تو کہتے ہیں اب وقت بدل چکازمانہ بدل چکا اب لوگوں میں عقل ایا ہے شعور ایا ہے ۔ جبکہ اللہ نے چودہ سو سال پہلے قران میں فرمایا ہے سورہ رحمن انسان اور اس دنیا کی تخلیق کے ورد سے بھرا ہے۔ اللہ نے انسان کو عقل پہلے سے دی ہے اور اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے لیکن اس کا مطلب تو یہ تھوڑی ہوا کہ اپ اس رب کے بتائے گئے اصولوں سے منکر ہو جاو جس نے اپ کو عقل دی ہیں ۔

    بے شک اپ عقل سے کام لے لیکن اسلام کے اصول اس کے تعلیمات اور مسائل پر عقلی بنیاد پر دلائل دینا ہماری پستی کا سبب ہے ۔ ہم مانتے ہیں کہ دنیا جدید ہوگئی اس وقت سائنس و ٹیکنالوجی کا دور ہے لیکن یہ دور کبھی اپ کو اتنا عقل نہیں دے سکتا کہ اپ خود سے دلائل بنائے اور لوگوں کو اپنی عقلی دلائل پر راغب کریں جو اسلامی تعلیمات کے حولے سے ہو ۔ ایسی سوچ و فکر جسے ہم جدید دور کہتے یہ کوئی جدید سوچ نہیں پرانے زمانے میں بھی ایسی سوچ والے طبقے گزرے ہیں تابعین کے دور میں بھی ایسا ایک فرقہ گزرا تھا جسے مقتدلہ کہا جاتا تھا ۔ یہ لوگ عقل سے کام لیتے تھیں۔ یہ اللہ کے معجزوں سے انکاری تھے۔ یہ عیب سے انکاری تھے یہ صرف ان چیزوں پر یقین رکھتے تھے جو ان کے سامنے ہو اور کوئی ثبوت موجود ہو ۔ جسے اج کل کے دور میں سائنسی تحقیق کہتے کہ اگر کوئی بات سائنسی طور پر ثابت نہ ہو جائے تو اس پہ یقین نہیں کیا جاتا جبکہ اسلام یقین پر مشتمل ہے ۔ اللہ اور اس کے رسول کے بتاے ہوئے تعلیمات پر یقین ایمان کا حصہ ہے ۔ اللہ تعالی سورہ بقرہ کے شروع میں فرماتا ہے "وہ لوگ جو غیب پر ایمان لائے”  وہ متقین ہے اب غیب کیا ہے؟ جس پر یقین ایمان ہے، غیب وہ چیز ہے جسے نہ انسان سن سکتا نہ دیکھ سکتا نہ محسوس کرسکتا حتی کہ غیب عقل سے بھی اوپر کی چیز ہے جسے صرف اور صرف اللہ سمجھ سکتا ہے اور ہمیں اس پر یقین کی تلقین کی گئیں ہیں ۔ غیب انسان کی عقل سے کیوں اوپر ہے اس پر کئی مثالیں لکھی گئیں ہیں۔ حضرت موسی ع کے وقعے میں جس میں جادوگروں کا ذکر ہے لکھا جاتا کہ جب جادوگروں نے سانپ پینکے ہر طرف تو موسی ع کے ساتھ ایک لاٹھی تھی ۔ اب انسان کا عقل کیا کہتا کہ جب سانپ ہو ہر طرف اپ کے ہاتھ میں لاٹھی ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ انسان اپنے عقل کے مطابق اس لاٹھی سے ان سانپوں پر حملہ اور ہوگا لیکن غیب نے کیا کہا کہ اے موسی ع اپ یہ لاٹھی ذمین پر پینکے اور جب موسی ع نے وہ لاٹھی پینکی تو وہ ہوا جو انسان کی عقل سے دور ہے اود ایک بڑا ازدہا بنا جو ان سانپوں پے حملہ اور ہوا ۔ انسان کے عقل کے مطابق ہاتھ کی انگلیاں وہ تخلیق ہے جس سے اپ کھانا کھا سکتے کوئی کام کر سکتے اور کسی چیز کو پکر سکتے لیکن اس کے برعکس نبی ع اور صحابہ  جب کسی سفر میں تھے تو پانی کی ضرورت ائی پیاس کی وجہ سے لیکن پانی کا کوئی نام و نشان نہیں تھا پھر نبی ع کے انگلیوں سے غیب نے پانی بہائے تھےجو کہ انسان کی عقل سے بہت دور ہے ۔ ان دو مثالوں کو بیان کرنے کا مقصد عیب اور اللہ کے بتائے گئے اصول کو عقل سے نہ پرکھا جائے ۔ ‏اللہ تعالی سورت اعراف کے ایت نمبر تین میں فرماتے ہیں.          

     (اے لوگو!) تم صرف اُس (وحی) کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی جانب سے تمہاری طرف اتاری گئی ہے اور اس کے سوا (اپنے بنائے ہوئے) دوستوں کے پیچھے مت چلو۔ تم بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو”  اللہ فرماتا ہے اپ صرف میرے بتائے گئے اصولوں کی پیروی کریں اور ان لوگوں کے پیچے نہ چلو جو اپنی پیٹ سے باتیں بناتے اور ان لوگوں کے پیچھے بھی نہ چلو جنہوں نے عقل کی بنیاد پر خود اپنی طرف سے راستے بنائے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں اپنی راہ پر چلنے کی توفیق دیں اور ان لوگوں سے دور رکھیں جو لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ امین ۔

    twitter @Faridkhhn

  • سنت نبویؐ کی پیروی حقیقی کامیابی  تحریر : زوہیب زاہد خان

    سنت نبویؐ کی پیروی حقیقی کامیابی تحریر : زوہیب زاہد خان

    آج کے دور میں ہم مسلمان دنیا کی رنگینیوں میں کھوگئے ہیں۔ آج ہم دین اسلام کی تعلیمات سے دور ہوچکے ہیں جسکی وجہ سے ہماری زندگیوں سے برکت اٹھی چکی ہے۔ ہمیں کہیں طرح کے مسائل نے گھیر لیا ہے۔ ہم الجھنوں کے دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔ ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ہمارے دل مردہ اور بے ضمیر ہوچکے ہیں. مجموعی طور پر ہمیں زوال کا سامنا ہے۔

    ناکامی کی بنیادی وجہ :
    مسلمانوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ الله پاک اور الله کے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق زندگی نہ گرازنا ہے۔ کیونکہ اصل کامیابی الله اور رسول الله کی اطاعت اور فرماں برداری میں ہے۔ یہ ہی مسلمانوں کی دنیا و آخرت میں کامیابی کا اصل ذریعہ ہے۔

    سنت نبویؐ :
    ہر وہ ایسا عمل جو ہمارے پیارے رسولؐ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عملی طور پر کرکے دکھایا ہو اور امت کو اسکا حکم دیا ہو اس عمل کو ہم سنت کہتے ہیں۔ ہمارے پیارے نبی کریم کی پوری زندگی ہمارے لیئے عملی نمونہ ہے. پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے محبت ہمارے ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔ پیارے نبی کی سنت سے محبت نبی سے محبت کی عظیم ترین مثال ہے۔

    الله رب العالمین نے ہمارے نبی کریم کی سیرت طیبہ کو قیامت تک کے مسلمانوں کیلئے رہنمائی کا ذریعہ بنادیا ہے۔ مسلمان زندگی کے ہر امور میں آپ کی سیاست طیبہ کو پڑھ کر رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ نبی کریم کی زندگی ہر مسلمان کیلئے بہترین اسوہ حسنہ ہے۔

    قران و سنت :
    آج کے مشکل ترین دور میں الله اور رسول اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنا ہماری دنیا و آخرت میں حقیقی کامیابی ہے۔

    قران مجید میں الله نے مسلمانوں کیلئے واضح احکامات بیان فرما دیئے ہیں۔اسکے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بتائی ہوئی احادیث مبارکہ کے مطابق زندگی گزارنا ہماری حقیقی کامیابی ہوگی۔

    الله پاک مجھ سمیت ہر مسلمان کو الله اور الله کے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت طیبہ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

    @ZohIbZahidKhan

  • جنّت کو جنّت کیوں کہتے ہیں   تحریر: محمد وقاص عمر

    جنّت کو جنّت کیوں کہتے ہیں تحریر: محمد وقاص عمر

    جنت ایک مقام ہے جس کو اللہ تعالی ٰ نے ایمان پر قائم رہنے والے لوگوں کے لیے بنایا۔رب لعالمین نے اس میں بے شمار رحمتیں رکھ دیں جس کھبی کسی آنکھ نے نہ دیکھا اور نہ کسی کان نے اس کے بارے میں آج تک سنا۔جو لوگ صراط مسقیم یعنی کے ایمان کی راہ پر چلے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک ٹھکانہ بنایا جس کو جنت کہتے ہیں۔اس عارضی دنیا کی کسی بھی چیز کا موازنہ ہم کسی بھی جنت کی چیز سے نہیں کر سکتے۔

    جنت ایک عربی کا لفظ ہے۔عربی میں جنت کا معنی گھنے باغ کے ہیں جس میں درختوں نے زمین کو چھپایا ہوا ہو۔مسلمانوں کو بروزِآخرت ملنے والے گھر کو جنّت کہتے ہیں جس کے مختلف پہلو ہیں۔

    1۔یہ دنیا کی نگاہوں سے چھپی ہوئی ہے۔
    2۔جنت میں باغات ہیں۔
    3۔عالم غیب میں ہے۔

    جنت ایک حقیقت ہے جس کا زکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں بار بار کیا ہے۔جنت کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کر دیا ہے۔یہ نہیں کہ جنت کو آخرت کے دن پیدا کیا جائے گا۔ (منح الروض الازہر، ص284 ماخوذاً)۔
    جنتیوں کو سب سے بڑی نعمت دیدارِ خداوندی حاصل ہوگی حدیثِ پاک میں ہے: اللہ کریم اپنا پرد اُٹھا دے گا اور انہیں کوئی چیز دیدارِ خداوندی سے زیادہ محبوب نہ دی گئی ہوگی۔ (ترمذی،ج4،ص248،حدیث:2561)اللہ پاک کے نزدیک عزت و اکرام والا وہ ہوگا جو صبح و شام زیارتِ خداوندی سے مشرف ہوگا۔(ترمذی،ج 4،ص249، حدیث:2562) ۔

    جنت کے سردار محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا جنت کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی۔اس کی مٹی میں خالص مشک شامل ہے۔اس کی مٹی زعفران ہے۔ایک بار جو جنت میں داخل ہو جائے گا وہ ہمشہ خوش رہے گا غم اس کے پاس سے بھی نہ گزرے گا۔ہمشہ رہے گا موت کو اس پر حرام کر دیا جائے گا۔ہمشہ جوان رہے گا بڑھاپے اس پر طاری نہ ہوگا۔(ترمذی،ج 4،ص236، حدیث: 2534)۔جنت کی چوڑائی ایسی ہے کہ ساتوں زمین اور ساتوں آسمان کو اگر باہم ملا دیا جائے تو جتنے وہ ہوں گے جنت کی چوڑائی اتنی ہے۔(تفسیر خزائن العرفان، پ 27، الحدید، تحت الآیۃ:21، ص 997 ملخصاً) ۔جنتی دروازوں میں سے دو دروازوں کا درمیانی فاصلہ چالیس سال کی راہ ہے۔(مسلم، ص1213، حدیث:7435)۔

    نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا نیند موت کی ایک قسم ہے لہذا جب جنت میں موت نہ ہو گی تو نیند بھی نہ ہو گی۔جنت میں عربی زبان بولی جائے گی۔جنت میں ریشم کا درخت ہو گا جس سے تمام جنتیوں کے لباس تیار کیے جائیں گے۔جب انسان کسی کھانے کی دل میں خواہش کرے گا اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ چیز انسان کے سامنے حاضر ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ہم سب کو نیک کام کرنے اور ایمان پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما ۔(آمین)۔
    witter Id :- @WaqasUmerPk

  • ہمارا دین اسلام . تحریر: عامر سہیل

    ہمارا دین اسلام . تحریر: عامر سہیل

    ہمارے دین اسلام نے ہمیں بہت کچھ سکھایا اور اس کے ساتھ اسلام نے کچھ حدود لگائی ہیں جن کو ہم بالکل بھی عبور نہیں کر سکتے۔ اسلام ہمیں صحیح اور غلط کی تمیز سکھاتا ہے دورِ جاہلیت میں انسان کی اہمیت جانوروں سے بھی بدتر تھی۔ اس کے ساتھ ہم پر بہت سے فرض ہیں جو ہم نے ادا کرنے ہوتے ہیں۔ اور ان کے ساتھ سنتیں بھی ہوتی ہیں ان سنتوں میں سے ایک سنت یے سنتِ ابراہیمی جس میں جانور ذبح کرتے ہیں جو کہ حکم ہے کہ جو صاحبِ حیثیت ہو وہ لازمی قربانی کرے۔

    اس کے مطلق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے
    آپ نے فرمایا :
    (جس کے پاس استطاعت بھی ہو اور پھر بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے)
    ابن ماجہ (3123)
    عید الاضحٰی پر لوگ قربانی کرتے ہیں اور گوشت کو غریب غربا، عزیزو اقارب میں تقسیم کرتے ہیں

    میں آج دیکھ رہا تھا سوشل میڈیا پر  کچھ لوگ جو اپنے آپ کو سول سوسائٹی یا لبرلز کا نام دیتے ہیں اس طرح کی مہم چلا رہے ہیں کہ جانوروں کے حقوق کا تحفظ نہیں ہو رہا  اور جانوروں کو ضرورت سے زیادہ ذبح کیا جاتا ہے یہی لبرلز میکڈونلڈ، کے-ایف-سی میں جا کر برگر، پیزا وغیرہ کھا رہے ہوتے ہیں تو تب بھی تو جانور ذبح کئیے جاتے ہیں۔ غرباءمسکین کی مالی امداد کے لئے اسلام میں تو معاشرتی توازن کے لیے زکوۃ ایک بنیادی جزو کے طور پر شامل ہے۔  اور قربانی وہی لوگ دیتے ہیں جو استطاعت رکھتے ہیں۔ لبرل کو جانوروں کے حقوق یاد آجاتے ہیں یہ سارا سال کہاں ہوتے ہیں؟ دنیا میں بہت سی جگہ پر انسانوں کو ضروریات زندگی میسر نہیں تب یہ کہاں ہوتے؟
      جموں کشمیر میں مہینوں کے حساب سے لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں تب ان کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔ اسرائیل میں نہتے فلسطینیوں پر ظلم ڈھایا جاتا تب کہاں ہوتے؟
    قربانی کا حکم اللہ پاک اور اُسے کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے جو ہم ادا کرتے رہے گے اگر کسی کو زیادہ تکلیف ہے چلا جائے اپنے آقاؤں کے پاس۔پاکستان ایک اسلامی ریاست رہے اور یہاں پر مسلمان آزادی سے اپنی عبادت کرنے کے لئے بنایا گیا ہے
    @iAmir29

  • مومن کی سزا . تحریر : محمد خبیب حسن

    مومن کی سزا . تحریر : محمد خبیب حسن

    اللّٰه نے فرمایا ، "اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں ضرور تمہیں زیادہ دوں گا ، اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا”
    عذاب سخت ہے۔”

    اللہ نے جزا اور سزا کی حدود طے کردی ہیں اور اللہ اپنے بندوں کو بلاوجہ کبھی سزا نہیں دیتا ہے

    فرعون اللہ کا دشمن تھا اور بنی اسرائیل مومن تھا لیکن اللہ نے فرعون کو طاقت دی اور بنی اسرائیل کو مغلوب کردیا کیونکہ انہوں نے اللہ کی نافرمانی شروع کردی تھی اور پھر اللہ نے انہیں فرعون سے سزا دی۔ اور جب انہوں نے حضرت موسیؑ کی پیروی کرنا شروع کی تو اللہ ان پر رحم فرمایا

    اللہ اپنے دشمن کو بااختیار بناتا ہے جب اس کے ماننے والے اس کی نافرمانی کرنا شروع کرتے ہیں اور اپنے مومنین کو اس کے دشمنوں سے سزا دیتا ہے

    اب ہم کیوں رو رہے ہیں؟ جب ہم اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں۔ اللہ نے امت کی قرآن ، حدیث اور تاریخ میں مثالوں کا ذکر کیا ہے تو ہمیں لازمی طور پر رونا چھوڑنا چاہئے ،اور ہمیں اپنے آپ کو درست کرنا ہوگا ، ورنہ اللہ کفر کو زیادہ سے زیادہ طاقت بخشے گا اور پھر کفار ہم پر (مسلم) مزید ظلم کریں گے اور یہ ہماری نافرمانی کی سزا ہے

    اب ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

    آئیے توحید کے ساتھ آغاز کریں ، ختم نبوت پر پختہ یقین کریں ، قرآن ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سنت خلفائے راشدین ، ​​صحابہ کے اعمال و اجماع امت اور ریاست میں خلفائے راشدین کا نظام قائم کریں

    اللّٰه اپنے بندوں کو اسی وقت سزا سے دوچار کرتا ہے جب وہ راہ سے بھٹک جائیں اس لیے اج بلکہ ابھی خود کو بدلیں آپ پر آئی ہر مصیبت ٹل جائے گی

    @undefined0d0

  • ‏ہو دین جدا سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‏ . .تحریر: محمّد وقاص

    ‏ہو دین جدا سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‏ . .تحریر: محمّد وقاص

    غریدہ فاروقی کو عیدِ قربان پہ جانوروں سے پیار جاگا ہے اور جانوروں کی قربانی سے انہیں تکلیف ہو رہی یے حالانکہ مرغی کا کاروبار انکے خاصم خاص شہباز شریف کے بیٹے حمزہ کا تھا اس وقت مرغی پہ ظلم نظر نہیں تھا آتا آپکو؟ تب تو چکن بریانی کے اسٹیٹس لگائے جاتے تھے۔

    خیر غریدہ صاحبہ آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات اور بھی آپکو بتاتا چلوں کہ جانوروں سے محبت اور انکا احساس قابلِ تعریف عمل ہے لیکن جو آپ نے اپنی ایک مظلوم اور معصوم ملازمہ بچی کے ساتھ کیا تھا وہ ظلم نہیں تھا؟ خیر بات کرتے جانوروں کی میں آج آپکو کچھ حیرت انگیز حقائق بتاوں گا، مجھے یقین ہے کہ قربانی کے علاوہ آپ نے کبھی کسی لبرل کو ان جانوروں کی محبت میں ہلکان ہوتے نہیں دیکھا ہوگا، نہ ہی کبھی انہوں نے جانوروں کے حوالے سے کبھی بات کی ہوگی۔

    گوشت کے حصول کے لیے پوری دنیا میں کل ملا کر ہر روز 200 ملین سے ذیادہ جانور ذبح کیے جاتے ہیں جن میں گائے، چکن، بطخ، بیل، بھیڑ، غیرمسلم ممالک میں خنزیر وغیرہ شامل ہیں، اگر ان میں جنگلی جانوروں، پرندوں اور سمندری مخلوق جیسا کہ مچھلی، جھینگے وغیرہ بھی شامل کر لیے جائیں تو انکی تعداد قریباً 3 ارب ایک دن کی بنتی ہے سالانہ کا حساب خود کر لیں۔

    میں باقی دنیا کی بات نہیں کرتا، صرف لبرل بریگیڈ،امریکہ کی بات کرتا ہوں کہ امریکہ میں ہر دو منٹ میں قریب ایک لاکھ جانور ذبح ہوتے ہیں،اس وقت جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں اس وقت یکم جنوری 2021 سے 21 جولائی 2021 شام 6:30 تک صرف امریکہ میں ہر قسم کے 30,647,010,072 جاندار ذبح ہوچکے ہیں اور یہ تعداد ہر دو منٹ میں ایک لاکھ کے حساب سے بڑھ رہی ہے جبکہ یہاں لبرل ٹولے کو بقرہ عید پہ قربانی پہ اعتراض ہے، وہ قربانی جس کا بہت بڑا حصہ غرباء و فقراء کو جاتا ہے۔
    گزشتہ سال 2020 امریکہ میں ہر قسم کے تقریباً 55 ارب سے زائد جاندار خوراک کی نذر ہو گئے تھے، ان جانوروں کے گوشت کو خود امریکیوں نے مختلف مصنوعات اور خوراکوں کا حصہ بنا کر کھایا جبکہ بڑی مقدار میں دوسرے ممالک کو ایکسپورٹ کیا گیا اور بھاری زرِمبادلہ کمایا گیا اور یہی گوشت لبرل بریگیڈ مہنگے داموں میں کے ایف سی جیسے مقامات پر جا کر کھاتے ہیں۔

    سال 2020 میں امریکہ میں خوراک کی نذر ہونے والے کل جاندار:

    پورا سال: 55,429,141,000
    ہر روز: 151,888,000
    ہر گھنٹہ: 6,328,000
    ہر منٹ: 105,480
    ہر سکینڈ: 1,758

    چلیں اب بات کرتے ہیں گائے، بیل کی قربانی کی میں نے بہت کوشش کی موجودہ کوئی روپوٹ ملے لیکن سال 2020 میں شائع ہونے والی 2018 کی ایک رپورٹ ہے کہ دنیا بھر میں ایک سال میں سب سے ذیادہ گائے یا بیل ذبح کرنے والے پہلے پانچ ممالک میں باوجود عیدِ قربان پہ لاکھوں جانور ذبح کرنے کے ایک بھی مسلمان ملک شامل نہیں ہے۔
    سرفہرست ممالک میں:

    برازیل میں: 39,602,000
    چین میں: 39,577,320
    امریکہ: 33,703,400
    ارجنٹائن: 13,452,831
    انڈیا: 9,202,631

    برازیل پہلے، چین دوسرے، امریکہ تیسرے، ارجنٹائن چوتھے اور بھارت پانچویں نمبر پہ براجمان ہے یعنی 2018 میں ان 5 ممالک میں مذکورہ تعداد میں گائے اور بیل ذبح ہوئے اور اب 2021 میں یہ تعداد اس سے کہیں ذیادہ ہوچکی ہے۔اس گوشت کو نہ صرف یہ ممالک خود کھاتے ہیں بلکہ دوسرے ملکوں کو بیچ کر کثیر زرمبادلہ بھی کماتے ہیں، اگر ان میں دیگر جانوروں اور سمندری مخلوق کی تعداد بھی شامل کر لی جائے تو پوری دنیا میں خوراک کے لیے مارے جانے والے جانداروں کی تعداد کھربوں تک جا پہنچتی ہے.

    دل تو میرا بڑا چاہ رہا ہے کہ انہیں ساری دنیا کا حساب نکال کے دوں لیکن تحریر سے کتاب بن جائے گی۔ بھارت اور امریکہ میں سب سے ذیادہ جانور ذبح ہونے کے باوجود بھی لبرلز کو اس بات کی تکلیف ہے کہ عید قربان پہ جانوروں کی ذبح کیوں کیا جاتا ہے، اسکے علاوہ کبھی پڑھا کسی لبرل کا ٹویٹ؟

    ان لبرلز کو لگتا ہے کہ شاید اس طرح یہ خود کو ذیادہ مغرب زدہ ظاہر کر پائیں گے لیکن درحقیقت اللّه انکی بدنیتی پر مبنی قربانی چاہتا ہی نہیں، سنتِ ابراہیمی سے انکار کے سبب اللّه پاک نے ان مردودوں سے قربانی کی توفیق ہی چھین لی ہے اور اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی کہ اللہ پاک ایک اہم فریضے کو سرانجام دینے کی توفیق ہی چھین لے.
    اللّه پاک انکو ہدایت دے اور مسلمانوں کو سنت ابراہیمی پر عمل کرنے پر دین اور دنیا میں آسانیاں پیدا فرمائے آمین.

    @M_Waqas_786

  • ‏حالات حاضرہ میں مسلمانوں کی پستی کا واحد علاج . تحریر : محمد صابر مسعود

    ‏حالات حاضرہ میں مسلمانوں کی پستی کا واحد علاج . تحریر : محمد صابر مسعود

    ایک وقت تھا کہ چہار دانگ عالم میں اسلام کی گونج تھی، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیواؤں کا ڈنکا تھا، یہود و ہنود انکے سامنے بندر، بندریوں کی طرح ایک ہی حکم کے منتظر ہوتے تھے لیکن آج وہی مسلمان سوائے معدود چند کے ہر طرف ظلم و ستم کی چکی میں پستا ہوا نظر آ رہا ہے خواہ وہ ہندوستان کے مظلوم مسلمان ہوں یا فلسطین و شام و سیریا کے بے کس و بے بس مسلمان، کبھی تو انکو سرپسند تنظیموں کے ہاتھوں مآب لنچنگ کے ذریعہ شہید کیا جا رہا ہے تو کبھی ان پر بمباری کرکے ملبے کے ڈھیروں تلے دفن کیا جا رہا ہے۔ الغرض آج مسلمان ہرطرف ظلم و زیادتی اور نفرت بھری نگاہوں کا شکار ہیں تو اسکی کیا وجہ ہے؟ اور ہمیں اسکے لئے کیا لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے ؟

    اسکا سادا سا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عالم ناسور میں حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرما کر خلافت ارضی انکو عطا فرمائ اور انکی ذریت میں کم و بیش سوا لاکھ انبیاء کرام مبعوث فرمائے جن سے اس عالم فانی میں خیر کے سلسلے مسلسل جاری و ساری ہیں لیکن اسکے برخلاف لعین و مردود شیطان کو پیدا فرمایا جس نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا ہے کہ میں تیرے بندوں کو جہنم کا ایندھن بناؤنگا اور اسکی ذریت میں بہت سے خلفاء فرعون، ہامان، شداد، نمرود، بخت نصر، بلعم باعورا، مسیلمہ کذاب، ابو جہل، عبداللہ بن ابی اور غلام قادیانی جیسے بے شمار جن و انس ہیں خصوصاً یہود و ہنود جو ہمہ وقت اسلام کو نقصان پہنچانے کی تاک میں ہیں اور شیطان مردود کے اللہ تعالیٰ سے کئے گئے وعدے کو پورا کرنے کے لئے رات دن ایک کئے ہوئے ہیں کہ کیسے امت مسلمہ کو دوزخ کی طرف دھکیل کر، شیطان لعین کے کئے گئے وعدے کو پورا کرکے اپنے جھوٹے معبودوں کی خوشی تلاش کی جائے تو ایسے وقت میں ہمیں یہود و ہنود کے شرور و فتن سے اور آپسی اختلافات سے بچنے کے لئے قرآن و سنت پر کاربند ہونا ہوگا اور اپنے ان اکابرین کی قیادت کرنا ہوگی جنکا ایک بھی عمل قرآن و سنت کے خلاف نہیں جاتا کیونکہ قرآن کریم کا ارشاد پاک ہے ” وَلَا تَهِنُوا۟ وَلَا تَحۡزَنُوا۟ وَأَنتُمُ ٱلۡأَعۡلَوۡنَ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِینَ ” تمھیں غمگین و افسردہ ہونے کی ضرورت ہے اور نا ہی مایوس ہونے کی اگر تم ایمان پر مکمل طور پر کار بند رہو۔ لہذا معلوم ہوا کہ ہمارے اوپر جو مصائب و پریشانیاں آ رہی ہیں انکی اصل وجہ ہماری بزدلی، کمزوری، رات دن کے گناہ اور یہود و ہنود کی پیروی ہے اسلئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس مسلم نسل نو کو ایمانی حلاوت سے محظوظ فرمائے آمین یا ربّ العالمین.

    رہی بات یہ کہ ہم مختلف فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کو کچوکے لگانے میں مصروف ہیں اور ابھی تک اس بات کو نہیں سمجھ پائے کہ کونسا مسلک و مشرب راہ راست پر ہے تو ایسے وقت میں ہم کس مسلک و مشرب کو اختیار کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہوں تو اسکا صاف جواب یہ ہے کہ جو بھی مسلک آپ کو ” ما انا علیه و اصحابی ” کی روشنی میں چلتا ہوا نظر آئے اندھ بھکتی سے بچتے ہوئے اسی کو اختیار کرلیں ان شاءاللہ کامیابی و کامرانی ہمارے قدم چومے گی۔۔۔ اللہ تعالیٰ مجھے لکھنے سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین یا رب العالمین.

    ‎@sabirmasood_