Baaghi TV

Category: مذہب

  • کیا جہاد فرضِ عین ہوچکا ہے؟  تحریر:  محمد معوّذ

    کیا جہاد فرضِ عین ہوچکا ہے؟ تحریر: محمد معوّذ

    نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ مسلمان عورت کی عزت کو خطرہ ہو یا کوئی مسلمان عورت کافروں کے قبضے میں ہو تو مشرق سے مغرب شمال سے جنوب تک کے تمام مسلمانوں پر جہاد فرض عین ہوجائے گا۔
    آج صرف ایک مسلمان عورت کی عزت کو خطرہ نہیں صرف ایک مسلمان عورت کافروں کے قبضے میں نہیں بلکہ ہزاروں مائیں، بہنیں، بیٹیاں ان کی حراست میں ہیں۔ ہزاروں باحیا باپردہ عورتوں کی عزت لوٹی گئی شیر خوار بچوں کو ماؤں کی گود میں شہید کردیا گیا نوجوانوں کو لائنوں میں کھڑا کر کے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا انہیں انٹروڈکشن سینٹروں کے اندر ٹارچر کیا گھروں کو مسمار کر دیا گیا مساجد شہید کر دی گئیں ہزاروں بہنوں کو بے ردا کیا گیا اسلام کی باحیاء اور باپردہ بیٹیوں کو سرعام چوکوں اور چوراہوں پر بےعزت و بے آبرو کیا گیا اور بندوق کینال پر رکھ کر سر عام بازاروں میں نچایا گیا اور اس کے علاوہ بچوں کو یتیم کیا گیا عورتوں کو بیوہ کیا گیا فصلیں اور باغات اجاڑ دیے گئے کتاب حق قرآن مجید کی بے حرمتی کی گئی۔
    تاریخ میں دیکھا جائے تو کفار نے اپنے ہر دور میں مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے ہیں اور تاریخ اس بات کا بھی شاہد ہے کہ کفار نے جب مسلمانوں کو روکنے کی کوشش کی تو اسلام کے ہر جیالے نے جہاد کو فرض عین سمجھ کر اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر میدان و صحراوں جنگلوں اور پہاڑوں میں اور دنیا کے کونے کونے میں نکل گئے اور یہ ثابت کرکے دکھایا کہ جب اسلام پر کفار نے چڑھائی کا فیصلہ کیا تو دین حق کے جیالوں نے کفار کے خلاف جہاد کو فرض عین سمجھ کر اپنے دین کی اور اس کے ہر جزو کی حفاظت کی ذمہ داری کو پوری دیانتداری کے ساتھ ادا کیا۔ محمد بن قاسم نے ایک بہن کی پکار پر ہندوستان کے نقشے کو بدل کر رکھ دیا طارق بن زیاد اور موسیٰ بن نصیر نے جہاد کو فرض عین سمجھ کر اسپین فرانس اور بہت سے علاقوں کو کفار کے پنجے سے چھڑایا سید سلطان صلاح الدین ایوبی نے جہاد کو فرض عین سمجھ قبلہ اول اور پورے فلسطین کو آزاد کرایا ہر دور کے مسلم حکمرانوں نے ظلم کے خلاف جہاد کو نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے مطابق فرض عین سمجھا۔
    اللّٰہ تعالی آج کے مسلمان حکمرانوں کو ہدایت دے کہ وہ جہاد کو فرض عین سمجھ اس فریضہ کو سرانجام دیں ارشاد باری تعالیٰ ہے اے ایمان والو جہاد تم پر فرض کر دیا گیا ہے خواہ تم ناگوار گزرے۔
    اس وقت قرآن و حدیث کی روشنی سے جہاد مسلمانوں پر فرض عین ہوچکا ہے اللّٰہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اس فرض کو فرضِ عین سمجھ کر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین

    @muhammadmoawaz_

  • اختلاف امت پر آخر کب تک ہم لڑتے رہینگے  تحریر : آصف شاہ خان

    اختلاف امت پر آخر کب تک ہم لڑتے رہینگے تحریر : آصف شاہ خان

    *اختلاف امت پر آخر کب تک ہم لڑتے رہینگے ؟*

    یہ کالم میری زاتی رائے اور بحثیت شریعہ کے طالب علم زاتی تجربے پر مبنی ہے۔ آپ کا متفق ہونا یا اس سے اختلاف رکھنا دونوں میرے لیے قابل قدر ہیں۔ آپ کا متفق ہونے سے میری حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور آپ کا اختلاف رکھنا میرے علم میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے ہم آخری امت کی ہدایت کے لیے رحمت العالمین حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا انتخاب کرکے بھیجا۔ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو تبلیغ دینا شروع کی تو پہلے کم لوگ تھے جو ان کے قریب تھے ایمان لائے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ بڑھتا گیا اور وہ لوگ بھی شامل ایمان ہونے لگے جو دور دراز علاقوں سے تھے۔ ان ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو زندگی میں صرف ایک بار دیکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم رحمت العالمین تھے اور وہ چاہتے تھے کہ میری امت کو اللہ کے احکام کرنے میں آسانی ہو تو اس غرض سے مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے احکام کو عملی شکل میں لایا گیا۔ وہ اصحابہ اجمعین جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر موقع پر ہوتے تھے وہ بہت کم تھے اور اس کے بجائے وہ اصحابہ اجمعین زیادہ تھے جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر موقع پر موجود نہیں ہوتے تھے۔ اس وجہ سے ان اصحابہ کرام نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ایک حکم کے مختلف طریقوں سے کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمیں دین اسلام بتدریج نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اصحابہ، اصحابہ اجمعین سے تابعین، تابعین سے تب تابعین اور پھر اس طرح ہوتے ہوتے ہم تک پہنچ گیا ہے۔ اس طرح ہمیں وہی اسلام پہنچ گیا ہے جس پر عمل کرتے ہوئے کسی صحابی نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا ہوگا۔ اور اس صحابی رسول سے ہوتے ہوتے ہم تک پہنچ گیا۔ اور اس طرح میری قریب رہنے والی فیملی کو شاید کسی اور صحابی سے بتدریج پہنچ گیا ہو ۔ اب اگر ہم دونوں کے پاس دلائل موجود ہو تو پھر ہم لڑ کیوں رہے ہیں؟ کیوں ہم امت مسلمہ کو توڑنے کا سبب بن رہے ہیں؟ کیوں ہم آندھی تقلید میں رہتے ہوئے اپنے مسلمان بھائی کے خون کے پیاسے بن رہے ہیں؟ میرا قاری سوچ رہا ہوگا کہ پھر تو سارے فرقے ٹھیک ہیں، اس کے لیے میں یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہاں سب ٹھیک ہے اس حد تک جب تک ان کے پاس قرآن اور حدیث سے دلیل ہو۔ کیوں کہ دین اسلام کے کوئی بھی فعل کے تولنے کے لیے ترازو قرآن اور حدیث ہے۔ اگر کوئی فعل اس ترازو پر تولے ٹھیک ہو تو پھر اس پر خود بھی عمل کرنا چاہیے۔ اگر آپ اس سے مطمئن نہیں ہو جو دوسرے گروہ کا ہو آپ بیشک اس سے اختلاف رکھے لیکن خدارا اپنے ان لوگوں کے جو دوسرے لوگوں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں ان کے آندھی تقلید میں اس وطن عزیز کا اور دین اسلام کا امن خراب نہ کریں۔ ہمارا اصل مسلہ علم کی کمی ہے اور ان لوگوں کی آندھی تقلید ہے جو دوسروں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں۔ میں شریعہ کا ایک معمولی طالب علم ہوں۔ ایک زمانہ تھا میں نے فقہ وغیرہ نہیں پڑھا تھا، میں سوچتا کہ میرا عقیدہ ٹھیک ہے باقی سب غلط راستے پر ہیں۔ لیکن جب تھوڑا بہت پڑھ لیا تو معلوم ہوا کہ سارے اپنی اپنی جگہ پر ٹھیک ہیں۔ ان سب کے پاس ہر حکم کیلئے دلیل ہوتی ہے۔ بغیر دلیل کے حکم لاگو نہیں کرتے ہیں۔ ہاں بعض جگہ انسان غلطی کرسکتی ہے لیکن زیادہ اختلاف کے مسائل میں سب کے پاس دلیل موجود ہے۔ میں جو دوسروں کو کافر سمجھتا تھا یہ دراصل میرا جہالت تھا۔
    اس اختلاف امت کے مسلے سے جو مسائل جنم لیتے ہیں ان کے لیے جلد از جلد حل تلاش کرنا چاہیے کیونکہ ان مسائل سے آے روز کوئی نہ کوئی لڑائی ہوتی ہے ۔ ان مسائل کی وجہ سے کچھ اندھے مقلدین اس حد تک جاتے ہیں کہ دوسرے کی زندگی تک لے لیتے ہیں۔ اس سے دشمنیاں شروع ہوتی ہیں۔ اور ملک و دین دونوں کا پر امن ماحول خراب ہوجاتا ہے۔
    اس کے حل کیلئے میری زاتی رائے یا یوں سمجھئے کہ تجویز یہ ہے کہ حکومت وقت ان علماء کو اکٹھا کرکے جن کے پاس علم ہو اور معتدل ہو اور وہ مختلف پلیٹ فارم سے عوام کو سمجھائے کہ ہم جو طریقہ اپنا رہے ہیں کسی خاص حکم میں بحثیت فلاں مکتبہ فکر تو ہمارے پاس یہ دلیل ہے لیکن یہ دوسرا مکتبہ فکر جو طریقہ اپنا لیا ہے اس کے پاس یہ دلیل ہے لہذا آپ لوگ وہی کرلے جس کی دلیل آپ لوگوں کو اچھی لگے۔ لیکن آپس میں جھگڑے کرنے کا کسی کے پاس کوئی اختیار نہیں اور نہ اس دین کی تعلیمات ہیں جس کے لیے تم آپس میں لڑ رہے ہو کہ آپس میں اختلاف کی وجہ سے لڑیں۔ اور علماء بھی کوشش کرے کہ سارے دلائل قرآن و حدیث سے پیش کریں۔ کیونکہ بحثیت مسلمان ہمارے لئے دین کے مسائل کیلئے ترازو قرآن اور حدیث ہے۔
    اللّٰہ ہمیں ان اختلافی مسائل سے پیدا ہونے والی نفرتوں سے نجات دلادے اور اللّٰہ پاکستان کو دین اور امن کا گہوارہ بنا دے۔
    (آمین)
    _________________________
    twitter.com/@IbnePakistan1

  • عقیدہ ختم نبوتﷺ    تحریر: ارم سنبل

    عقیدہ ختم نبوتﷺ تحریر: ارم سنبل

    عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی اساس ہے عقیدہ ختم نبوت دین متین دین اسلام دین حق کا بنیادی عقیدہ ہےاسلام کی عمارت عقیدہ ختم نبوت پر کھڑی ہے۔
    اس عقیدہ پر ذرا برابر شک مسلمان کو دین اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔

    عقیدہ ختم نبوت قرآن و حدیث سے ثابت ہے
    قرآن پاک میں ہے کہ

    مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۴۰)

    ترجمہ:

    محمدﷺ تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والاہے۔

    حضور ﷺ نے خود اپنے آخری نبی ہونے کی گواہی دی

    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

    وإنہ لا نبي بعدي

    اور بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (صحیح بخاری: ۳۴۵۵، صحیح مسلم: ۱۸۴۲، دارالسلام: ۴۷۷۳)

    عقیدہ ختم نبوت پر دور رسالت ﷺ سے ہی حملےہونا شروع ہو گئے تھے۔

    حدیث مبارکہ ہے کہ

    ’’میری امت میں تیس (30) جھوٹے کذاب ہوں گے ان میں سے ہر ایک کذاب دعوه کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘

     ترمذي، السنن، کتاب الفتن، باب : ماجاء لا تقوم الساعة حتی يخرج کذابون، 4 : 499، رقم : 2219.

    حضور ﷺ کی ختم نبوت پر ہر دور کے مسلمانوں نے اپنے لہو سے ختم نبوت پر پہرا دیا۔

    سن گیارہ ہجری میں سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مسیلمہ کذاب نامی لعنتی نے نبوت کا دعوہ کردیا۔اس فتنہ کو کچلنے کیلئے اپ رضی اللہ عنہ نے حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں لشکر روانہ فرمایا جو اس فتنہ کو کچلنے میں کامیاب ہوا۔

    اس جنگ میں صحابہ نے 36 ہزار منکرین ختم نبوت کو واصل جہنم کیا اور حضور ﷺ کی ختم نبوت پر پہرا دیتے ہوئے 600 سے زائد صحابہ نے جام شہادت نوش کیا اور آج تک یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ایک مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن حضور ﷺ کی ختم نبوت و ناموس رسالت ﷺ پر سمجھوتہ نہی کر سکتا.

    کیونکہ

    نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب ﷺ کی حرمت پر

    خدا شاہد ہے کامل میرا، ایماں ہو نہیں سکتا۔۔!!

    @Chem_786

  • اسلام کیسے پھیلا ؟  تحریر ۔ ڈاکٹر زونیرا

    اسلام کیسے پھیلا ؟ تحریر ۔ ڈاکٹر زونیرا

    اسلام تلوار کے زور پر پھیلا یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے ۔ لیکن یہ سچ ہے کہ اسلام کی شروعات کئی جنگوں سے ہوئی جن میں سب سے مشہور جنگ ہے جنگ بدر یا غزوہ بدر ۔
    بدر کی اس لڑائی میں 313 مسلمانوں کا مقابلہ ایک 1000 کی فوج سے تھا ۔ اور اس لڑائی میں مسلمانوں کی جیت ہوئی ۔ ابو جہل کی قیادت میں ایک 1000 کی فوج کا مقابلہ 313 مسلمانوں سے تھا ۔ اور پھر بھی مسلمانوں کی جیت ہوئی کیونکہ اللّه نے اپنے نبی کے لئے اس جنگ میں آسمان سے 1000 فرشتوں کی فوج اتار دی تھی ۔ کیا سچ میں اللّه نے بدر کی جنگ میں اپنے نبی اور امّت کا ساتھ دیا تھا ؟ کیا بدر کی جنگ میں مسلمانوں کی طرف سے واقعی 1000 فرشتے بھی کفار کے ساتھ لڑے تھے ۔ اس پوسٹ میں ہم اسی بات پر غور کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
    تاریخ میں ایسی بوہت سی جنگیں ہو چکیں ہیں جن میں کم تعداد والی فوج نے اپنی بہادری سے اپنے سے بڑی تعداد والی فوج کو ہرایا ہو ۔ چمکور کی جنگ کو ہی دیکھ لیں محض چالیس بہادر سکھوں نے لاکھوں کی مغل فوج کو دھول چٹا دی تھی جن لوگوں کو اس جنگ بارے نہیں پتا وہ گوگل کی مدد حاصل کر لیں ۔پتا بھی کیسے ہو کیوں کہ ہمارے ہاں تو صرف مسلمان فاتحین کے ہی قصے سنائے جاتے ہیں ۔ مٹھی بھر انگریزوں نے اپنی حکمت عملی سے کروڑوں ہندوستانیوں کو اپنا غلام بنا لیا تھا یا آج کے دور کو ہی دیکھ لیں لاکھوں یہودی کروڑوں مسلمانوں پر بھاری پڑ رہے ہیں ۔ کوئی بھی فوج جیت کے لئے اپنی تعداد پے کم اور بہتر قیادت بہتر حکمت عملی بہتر ہتھیار اور اپنے حریف فوج کی جنگی چالوں کے بارے پہلے سے معلومات پر زیادہ منحصر ہوتی ہے ۔ جو کہ اپنے جاسوس بھیج کر حاصل کیں جاتیں تھیں ۔ بدر کی جنگ بھی کچھ اسی طرح کی تھی ۔ 313 مسلمانوں کا مقابلہ مکہ کی بڑی فوج سے تھا اور آخر مسلمانوں کی جیت بھی ہوئی ۔ اس جیت کو اللّه کی طرف سے بھیجے گئے 1000 فرشتوں کی مدد سے جوڑ کر میدان جنگ میں لڑنے والے بہادر 313 مسلمانوں کی بہادی کی دھجیاں اڑا دی گیں ہیں ۔ کیا سچ میں غزوہ بدر میں اللّه نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کی مدد کے لئے 1000 فرشتوں کی فوج اتاری تھی ؟ اس کہانی کو اگر زمینی حقائق کی مدد سے جاننے کی کوشش کریں تو معلوم ہوتا ہے یہ کہانی بلکل جھوٹ پر مبنی ہے ۔ ایک من گھڑت کہانی ہے ۔ ایک فرضی کہانی ہے ۔ کیسے ؟ آیئں جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر غزوہ بدر میں اللّه کی طرف سے بھیجی گئی 1000 فرشتوں کی فوج والی بات کو سچ مان لیا جاۓ تو پھر مسلمان فوج کی تعداد محض 313 نہیں بلکہ بڑھ کر 1313 ہو جاتی ہے ۔ اور دوسری طرف 1000 کی فوج ۔ یعنی 1000 کی فوج کا مقابلہ 1313 کی فوج سے تھا ۔ مسلمانوں کی طرف سے 313 عام انسان اور 1000 فرشتے ۔ اور دوسری طرف صرف 1000 عام انسان ۔ اگر یہ بات سچ ہے تو جنگ یقیناً یک طرفہ ہی ہونی چاہیے تھی ۔ کیوں کہ ایک طرف عام انسان اور دوسری طرف اللّه کے فرشتے تھے جنھیں لڑنے کا طریقہ بھی اللّه نے بتایا تھا کہ تمہاری تلوار کا وار ان کی گردن پر ہونا چاہیے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان فرشتوں کے پاس کوئی جادوئی طاقت ہوتی ۔ اور وہ ایک ہی پل میں دشمن فوج کی دھجیاں اڑا دیتے ۔ دشمن فوج کا ایک بھی سپاہی زندہ نہ بچتا ۔ لیکن ایسا ہوا نہیں ۔
    گھنٹوں چلنے والی اس جنگ میں دشمن فوج کے صرف 70 سپاہی مارے گئے ۔ اور میدان جنگ میں اللّه کے فرشتے موجود ہونے کے باوجود 14 مسلمان بھی مارے گئے ۔ وہ فرشتے جنھیں اللّه نے خود لڑنے کا طریقہ بھی سمجھایا تھا کہ دشمن کو کیسے مارنا ہے ۔ پھر بھی فرشتے اس جنگ میں بلکل خاموش رہے ۔ یہاں ایک بات اور سمجھ سے باہر ہے ۔ کہ قرآن میں ایک طرف تو اللّه خود کو سب سے بڑا کہتا ہے اور جو وہ صرف کہہ دیتا ہے وہ ہو جاتا ہے ۔ اگر ایسی ہی بات تھی تو بیچارے فرشتوں کو کیوں پریشان کیا ۔ آسمان سے اتر کر انھیں عرب کے تپتے ریگستانوں کی خاک چھاننا پڑی ۔ اللّه صرف کہہ دیتے اے دشمن برباد ہو جا وہ ویسے ہی برباد ہو جاتے ۔ لیکن ایسا کوئی معجزہ نہ اللّه نے دکھایا اور نہ ہی اس کے فرشتوں نے ۔ اگر ہم اپنی آنکھوں پر بندھی عقیدت کی پٹی اتار کر دیکھیں تو بدر کی جنگ دوسری جنگوں کی طرح ایک عام جنگ تھی ۔ اس جنگ میں اللّه کے فرشتوں کی شمولیت والی بات ایک من گھڑت کہانی کے سوا کچھ نہیں ۔ ایسی سبھی کہانیاں جنھیں معجزات سے جوڑا گیا ہے ۔ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ۔ صرف ضرورت ہے تو ہمیں انھیں اپنی آنکھوں پر بندھی عقیدت کی پٹی اتار کر پڑھنے کی ۔ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا ۔

  • اسلامی یورپ کا خوف  تحریر: محمد ذیشان

    اسلامی یورپ کا خوف تحریر: محمد ذیشان

    مغرب اسلام سے خوفزدہ ہے۔ اس خوف کے دو رخ ہیں۔ ایک پہلو مسلمانوں کی نسلی خودکشی اور یوروپی اقوام کی نسلی خودکشی ہے۔ دوسرا پہلو اسلام کا نظریاتی غلبہ ہے۔ خوف کے دونوں رنگ مغرب کے چہرے پر صاف نظر آتے ہیں.
    معروف اسرائیلی اخبار اروت شیوا کے ایک اطالوی کالم نویس گلیئو میوٹی نے ایک تفصیل میں اسلام کو خوفزدہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: "مسلمان اور اسلام پسند ایک ایسے براعظم پر جمع ہورہے ہیں جس کی مقامی آبادی اور تہذیب ختم ہو رہا ہے۔ یوروپ کو ہتھیار ڈالنا نہیں چاہئے ، ورنہ طویل عرصے تک یورپ میں اسلامی خلافت کا بنیادی خواب پورا ہوگا۔ یورپ میں صدیوں سے تعمیر ہونے والی تہذیب سیکولرائزیشن کے ہاتھوں گرتی جارہی ہے۔ گرجا گھر ویران ہیں ، برسلز ، میلان ، لندن ، ایمسٹرڈم ، اسٹاک ہوم اور برلن سبھی متاثر ہیں۔ یہاں تک کہ پوپ فرانسس نے یوروپ کے بارے میں بات کرنے سے انکار کردیا ہے ، گویا وہ یورپ سے مایوس ہے۔ لوگوں کو جنسی خوشی ، جسمانی نگہداشت اور مادی آسائشوں کے لئے افیون دی گئی ہے۔ 2015 تک عرب دنیا میں مسلم آبادی 37.8 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ صرف افریقہ میں ، مسلمان سن 2050 تک 95 ملین کو عبور کر لیں گے۔ یورپ میں پیدائش پر قابو پانے اور قدرتی آفات سے آبادی کو دسیوں لاکھوں کی کمی واقع ہوگی۔ بحیرہ روم کے اطراف ، یوروپ کو پھر سے للکار رہے ہیں۔ ہم اسلام کے خلاف سنجیدہ جنگ نہیں لڑ رہے ، ہم اپنے لوگوں کو اس بات پر راضی کر رہے ہیں کہ وہ دہشت گردی (اسلام) کے ساتھ رہنا سیکھیں۔ یقینا. ، یورپ اسلام سے خوفزدہ ہے ، اور اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہا ہے۔ ”

    اقتباس لمبا ہے ، لیکن بہت اہم ہے۔ اسلامی مفکر سید مودودی نے اپنی بے مثال ریسرچ ‘اسلام اینڈ برتھ کنٹرول’ میں ، اس وقت مغرب کے مستقبل کا ایک معنی خیز مشاہدہ کیا تھا جب یوروپ عروج پر تھا۔ سید صاحب یقین کے ساتھ کہہ رہے تھے کہ پیدائشی کنٹرول خاموشی سے مغربی تہذیب کی جڑیں کاٹ رہا ہے۔ مندرجہ بالا حوالہ صورتحال کی وضاحت کرتا ہے۔ مذہب اور فطرت نے وقت کے ساتھ ہی یورپ کو واپس لایا ہے۔

    ایک اور مثال خوف کا دوسرا رنگ ہے۔ "یہ الفاظ کا بہت محتاط انتخاب تھا ،” مشہور جرمن اخبار ڈائی ویلٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے ، ریاستہائے متحدہ امریکہ کے نیشنل ریویو کے ایک پالیسی سینئر ، اینڈریو میککارتی نے کہا۔ اس کے بارے میں سوچو ، لوئیس نے یہ نہیں کہا کہ یورپ میں مسلمانوں کی آبادی سب سے زیادہ ہوگی۔ نہیں ، پروفیسر لیوس نے کہا کہ یورپ اسلامی ہو جائے گا۔ ہم یہاں مسلمانوں کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں ، ہم اسلام کی بات کر رہے ہیں۔ انفرادی سطح پر ، بہت سارے مسلمان امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن اسلام کامل تسلط چاہتا ہے … لہذا ، اب جب ایک اور جہادی کا قتل کیا گیا ہے تو ، لندن اس کا نشانہ بن گیا ہے۔ خالد مسعود ، جو واضح آسمانی احکامات پر غیر مسلموں سے لڑ رہا تھا ، ویسٹ منسٹر پل میں راہگیروں کی طرف سے گزر رہی تیز رفتار کار میں چلا گیا۔ تقریبا پچاس افراد زخمی ہوئے ، چار ہلاک ہوگئے۔ باسٹھ سالہ ویٹ لفٹر مسعود کا مجرمانہ ریکارڈ تھا اور اسے خنجر کے کئی حملوں میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ مسعود برمنگھم میں ایک طویل عرصے سے مقیم ہے ، یہ شہر جہاں اسلامی قانون بہت سے علاقوں کو تیزی سے گھیر رہا ہے ، جو غیر مسلموں کے لئے نو گو زون بن چکے ہیں۔ جب ہم اسلام کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ، یہ صرف مذہبی رسومات کا نظام نہیں ہے۔ اسلام ایک مکمل تہذیب ہے ، جو اسلام کی آفاقی شناخت سے وابستہ ہے۔ اس کی اپنی ایک تاریخ ، قواعد ، اقدار اور قوانین ہیں۔ یہ غیر مغربی نہیں بلکہ مغرب مخالف ہے۔ منہاج الاسلام ، بطور اخوان المسلمون کے بانی ، حسن البنا ، کہا کرتے تھے ، وہ سیاسی اور ثقافتی اعتبار سے غالب ہے۔ مغرب (اسلامی تسلط) کے سیاسی اور اشرافیہ حقیقت پر نگاہ ڈالتے رہے۔ ان کے ذہن میں ، مسلم سماجی گروہ دوسرے سماجی گروہوں کی طرح ہیں۔ نہیں ، اسلام مکمل خودمختاری چاہتا ہے۔ یہ آج کے معاشروں میں شریعت نافذ کرتا ہے ، اور کل کے جہادی پیدا کرتا ہے۔ اس کی ایک مہم جوئی ویسٹ منسٹر برج پر دیکھنے کو ملی۔ "(لندن میں اسلام اور جہاد از اینڈریو سی میکارتھی)۔ یہ بیان خوف کا ایک اور رنگ ہے۔ اس ریاست کی حالت ارتقائی ہے ، اسے ترقی یافتہ نہیں کہا جانا چاہئے۔ یہ روایتی طور پر جوش و خروش کا ایک مرکب ہے۔
    معروف مورخ برنارڈ لیوس کا قول 100٪ درست ہے ، لیکن یہ خیال کوئی نیا نہیں ہے۔ مشہور یوروپی مصنف جارج برنارڈ شا نے سن 1936 میں اسلامی یورپ کی پیش گوئی کی تھی۔اس سے پہلے ہی علامہ محمد اقبال اور سید ابواللہ مودودی مغرب میں اسلام کے طلوع ہوتے سورج کو دیکھ رہے تھے۔ یورپ کا اسلامی تسلط نظریاتی ، ثقافتی ، سائنسی ، نظریاتی اور نفسیاتی نوعیت کا ہے۔ یورپ میں سائنس کی پہلی عظیم پیشرفت کے پیچھے بھی اسلام ایک محرک قوت رہا ہے۔
    تو ، یہ سچ ہے۔ یورپ اسلام سے خوفزدہ ہے۔ یہ خوف بلا وجہ نہیں ہے۔بہت سارا دین فطرت کا تقاضا ہے۔

    By.
    Muhammad Zeeshan
    @Zeeshanvfp

  • بیٹی کے گھر کے آداب تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    بیٹی اللہ کی دی ہوئی ایسی رحمت ہے جس کی چہچہاہٹ سے گھر کے آنگن میں رونق رہتی ہے. خود سے پیار لیتی اور بھرپور لاڈلی اور محبتوں کے حصار میں رہتی ہے. ایک باپ کے ساتھ اپنی بیٹی کی محبت دنیا کی تمام چیزوں سے انمول ہوتی ہے. لہجہ بھلے سخت ہی لیکن بیٹی کے لیے دل ہمیشہ موم کی طرح نم ہوتا ہے. بیٹی کے بچپن کے لاڈ، پھر تعلیم و تربیت بھر بلوغت کے ساتھ ساتھ اس کی شادی کی فکر باپ کی تگ و دو میں اضافہ کرتی چلی جاتی ہے.
    الغرض ایک باپ اپنی ہمت اور جوانی بیچ کر اپنی زاتی خواہشات کو ختم کر کے اپنے بچوں کا مستقبل خریدتا ہے. لیکن اس سب کے باوجود کائنات کی ہر چیز بھی بیچ ڈالے بیٹی کا نصیب اپنی مرضی کا نہیں خرید سکتا. بیٹی شادی کے ساتھ ہی باپ کی محبتیں اپنے دامن میں لئے اپنے شوہر کے گھر روانہ ہو جاتی ہے. ماں تو آہ و بقا کر لیتی ہے. باپ چپکے چپکے محبت کے آنسو اپنے دامن سے پونچتا ماں کو حوصلہ دیتا دکھائی دیتا ہے. دنیا اس باپ کا مضبوط اور حوصلہ مند کندھا تو دیکھتا ہے اس کے اندر بہتا جدائی کا سمندر کوئی نہیں دیکھ پاتا. اس کے آنگن کی چہچہاہٹ اس کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کسی اور کے آنگن میں مسکراہٹ بکھیرنے چل پڑتی ہے. یہ دنیا کا دستور اور قانون قدرت ہے. اپنے چگر کا ٹکڑا کسی کے حوالے کرن؛ اور کسی کے جگر کے ٹکڑے کو اپنے گھر کی عزت بنانا ازل سے چلا آ ریا قانون قدرت ہے اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے.
    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس نے زندگی کے ہر شعبے سے متعلق رہنمائی فرمائی وہاں ہر رشتے کے آداب بھی سکھاے. بیٹی کے گھر کے آداب بھی سکھاے. نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی جنہیں جنتی عورتوں کی سردار کا درجہ دیا گیا کیسے ان کے ساتھ پیش آتے اس حوالے سے دو واقعات اپنی تحریر کا حصہ بنانا چاہتا ہوں تاکہ ہماری رہنمائی ہو سکے.
    صحیح بخاری میں روایت موجود ہے جس کا مفہوم ہے. ایک بار حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں فرمانے لگیں بابا جان (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے ہاتھ میں چکی چلا چلا کر چھالے پڑ گئے ہیں ابھی مال غنیمت میں کچھ لونڈیاں اور غلام آئے ہیں ان میں سے ایک مجھے دے دیں. آپ (رضی اللہ عنہا) نے جب ہاتھ بڑھایا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں چھالے دیکھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خاموشی سے دامن میں آنسو سمیٹے اور بیٹی کو تسبیح فاطمہ کا تحفہ دیا اور ساری دنیا کو پیغام دے دیا کہ بیٹی کے معاملات میں صبر سے کام لیا جاتا ہے. اور سمجھا دیا کہ بیٹا چکی پھر بھی تم نے پیسنی بچے پھر بھی تم نے ہی پالنے اور شوہر کی خدمت الغرض گھر کے سارے معاملات تم نے ہی دیکھنے ہیں.
    *یہ تو ہے تربیت اہلیبیت بزبان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم*
    کہ بیٹی کے گھر کے معاملات میں کوئی کسی قسم کی بھی دخل اندازی نہیں کی. چاہتے تو ایک لونڈی یا غلام دءلے سکتے تھے لیکن ساری دنیا کو ایک پیغام دے دیا کہ بیٹی کے معاملے میں صبر اور برداشست سے کام لیا جائے اور اسے اپنے گھر کو خود سمبھالنے کا موقع دیا جاے اور حالات سے خود نمٹنے کا موقع دیا جاے.
    ایک جانب تو ہی پیغام تو دوسری جانب گھر کے آداب دیکھیں.

    مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ فاصلے پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گھر مبارک ہے جس کے کچھ فاصلے پر ایک مسجد منارتین واقع ہے. جو لوگ عمرہ اور حج کے لیے سفر کرتے ہیں اس جگہ سے تقریباً آگاہ ہیں. ہے ترک میوزیم (جو کسی دور میں ترک سٹیشن ہوا کرتا تھا) سے تھوڑا فاصلے پر اسی سڑک کے کنارے واقع ہے. حضور کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی بیٹی خاتون جنت سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے ملنے جاتے تو پہلے مسجد میں قیام کرتے اور گھر پیغام بھجواتے جب گھر سے واپس قاصد لوٹتا اجازت مل جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے. تو اس سے دو باتیں واضح ہوئیں.
    *1. بیٹی کے گھر کے راز کسے بھی صورت آپ پر عیاں نا ہو سکیں اسی لیے جب بھی جاؤ اجازت لے کر جاؤ. تاکہ وہ اپنے معاملات کو حل کر سکیں اور بیٹی کا شوہر کا مقام کسی صورت مجروح نہ ہو سکے.*
    *2. بالفرض کسی وجہ سے گھر میں آپسی ناراضگی والا معاملہ بھی ہو تو اس کو دور کرنے کا موقع مل سکے کیونکہ آپسی ناراضگی آپسی سمجھوتے سے ہی حل ہوتی ہے بیرونی مداخلت سے معاملات بگڑ جاتے ہیں*
    کتنی خوبصورتی سے دین نے ہر معاملے کے آداب بتا رکھے ہیں ان دو واقعات سے ہمیں کھلی آگہی ملتی ہے بیٹی کے گھر سے متعلق معاملات میں رہنمائی ملتی ہے.
    اللہ کریم ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے
    آمین

    @EngrMuddsairH

  • بیٹے کی قربانی تحریر: محمد زمان

    آٹھویں ذی الحجہ کی رات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں یہ دیکھا کہ ایک فرشتہ اللہ کا حکم سنا رہا ہے کہ ابراہیم قربانی دو آپ نے صبع کو اٹھ کر ایک سو اونٹوں کی قربانی دی مگر دوسری رات بھی یہی خواب نظر آیا تو آپ نے علی الصباح دو سو اونٹوں کی قربانی دیں مگر تیسری رات بھی یہی خواب دیکھا تو آپ نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میں کیا چیز تیری راہ میں قربان کروں اس وقت خداوند کریم نے ارشاد فرمایا کہ ابراہیم تم میری راہ میں اس چیز کو قربان کرو جو دنیا میں تم کو سب سے زیادہ پیاری ہے آپ سمجھ گئے یہ میرے فرزند حضرت اسماعیل کی قربانی کا حکم ہے پھر آپ نہ گھبرائے نہ فکرمند ہوئے بلکہ میدان تسلیم و رضا کے شہسوار بن کر بیٹے کی قربانی کے لیے تیار ہوگئے اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر سات برس یا تیرہ برس کی تھی
    اور آپ بہت ہونہار اور صاحب حسن و جمال تھے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی بیوی حضرت ہاجرہ سے فرمایا کہ ایک نیک بخت بیوی آج تمہارے نور نظر کی ایک بہت بڑے بادشاہ کے دربار میں دعوت ہے یہ سن کر پیکر محبت ماں فرط مسرت سے جھوم اٹھیں اور اپنے لخت جگر کو نہلایا بھلا کر آنا اور نفیس پوشاک پہنا کر آنکھوں میں سرما بالوں میں کنگھی کر کے اپنے لال کو دولہا بنا کر باپ کے ساتھ میں بیٹے کی انگلی پکڑا دی حضرت خلیل اللہ اپنی آستین میں رسی اور چوری چھپے ہوئے ذوالحجہ کی دس تاریخ کو مکہ مکرمہ سے منیٰ کی گھاٹی کی طرف روانہ ہو گیے اور جب وادی منی میں پہنچے تو اپنے فرزند سے فرمایا کہ اے میرے پیارے بیٹے مجھے اللہ تعالی کا یہ حکم ہوا ہے کہ میں تم کو اس کی راہ میں ذبح کر دوں تو اے بیٹا تمہاری کیا رائے ہے مہربان باپ کی تقریر سن کر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے مقدس باپ ضرور خدا کے حکم پر عمل کریں ابا جان آپ اطمینان رکھیں کہ میں نہ روں گا نہ چلاوں گا اور نہ فریاد کروں گا بلکہ ان شاء اللہ تعالی میں صبر و استقامت کا پہاڑ بن کر خدا کی راہ میں قربان ہو جاؤں گا اور خدا بندے سبحان کے رضوان و زعفران کی سربلندیوں سے سرفراز ہو جاؤں گا ابا جان اس سے بڑھ کر بھلا میری خواہش نصیبی اور کیا ہوگی کہ میرے سر کی قربانی خدا کی راہ میں قبول ہو جائے

    پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام عرض کرنے لگے کہ ابا جان میری تین وصیتوں پر دھیان رکھیے گا سب سے پہلے وصیت تو یہ ہے کہ آپ قربانی کے وقت میرے ہاتھ پاؤں کو خوب جکڑ کر کر رسی سے باندھ دیں تاکہ بوقت ذبح میرا تڑپنا دیکھ کر آپ کو کہیں رحم نہ آ جائے

    دوسری وصیت یہ ہے کہ آپ مجھ کو منہ کے بل لٹائیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے سینے میں دل دھڑک جائے اور آپ کا ہاتھ جنبیش کر کے رک جائے تیسری وصیت یہ ہے کہ میرے ذبع ہونے کی خبر میری ماں کو نہ دیجیے گا ورنہ ممتا کے ماری میری دکھیاری ماں میرے غم کو برداشت نہ کر سکیں گی
    اور شدت غم سے اس کے سینے میں شیشہ دل پاش پاش ہو جائے گا اس گفتگو کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ہاتھ پاؤں کو رسی سے باندھ کر انہوں نے ایک پتھر کی چٹان پر لٹایا اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اپنے نورِ نظر کو حلقوم پر چھری چلا دی لیکن شان خداوندی کا کرشمہ دیکھئے کہ چھری تیز حضرت اسماعیل کی گردن کو نہیں کاٹ سکیں

    اس مرحلہ پر باپ کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب امنڈ پڑا اور روتے ہوئے بارگاہ کبریا میں عرض کرنے لگے کہ اے الہی تیرے خلیل سے کون سی ایسی تقصیر ہوئی جو قربانی قبول نہیں ہو رہی ہے اور چھری کے نیچے لیٹے ہوئے حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی رو رو کر کہنے لگے کہ کہ خداوند مجھ سے کون سا ایسا قصور ہو گیا جو میرے سر کی قربانی بارگاہ کرم میں قبولیت سے سرفراز نہیں ہو رہی ہے

    پھر حضرت خلیل خوف خداوندی سے لرزتے ہوے چھری کو پتھر پر تیز کرنے لگے اور دوبارہ پوری قوت سے زبع کرنا چاہا مگر پھر بھی چھری نے کام نہیں کیا تو آپ نے جوش و غضب میں چھری کو زمین پر پٹک دیا اس وقت چھری زبان حال سے عرض کرنے لگی کہ اے ابراھیم آپ مجھ پہخفا ہو رہے ہیں میں کیا کروں ایک مرتبہ مجھ سے خدا کا خلیل کہتا ہے کہ کاٹ اور ستر مرتبہ رب جلیل فرماتا ہے کہ مت کاٹ
    تو اے خلیل اللہ اللہ آپ ہی بتا دیجئے کہ میں خلیل کا کہنا مانو یا رب جلیل کی فرمانبرداری کروں

    مسلمانوں یہ وہ منظر تھا کہ اللہ کے فرشتے بھی حضرت خلیل اللہ کے جذبہ وفاداری اور جوش فدا کاری پہ تسکین اور آفرین کا نعرہ بلند کرنے لگے اور رب العالمین نے فرمایا کہ اے فرشتو دیکھ لو بلاشبہ ابراہیم میرا خلیل ہے دیکھ لو کس طرح میرا خلیل میری راہ میں اپنے محبوب فرزند کو اپنے ہاتھ سے ذبح کر کے اعلان کر رہا ہے کہ ابراہیم کے قلب میں خدا کے سوا کسی کی محبت کی گنجائش نہیں ہے

    بالآخر حضرت خلیل اللہ کے اس فدا کارانہ جذبہ خلوص اور ایثار پر رحمت پروردگار کو ایسا پیارا گیا کہ جناب جبرائیل امین کو یہ حکم دیا کہ اے جبرائیل جنت سے ایک دونبہ کر حضرت اسماعیل کی جگہ لٹا دو چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ایک بہشتی دونبہ لا کر لٹا دیا اور خداوندے کریم میں حکم دیا کہ اے ابراہیم اب چھری چلاؤ چنانچہ اب کی مرتبہ جو حضرت خلیل نے ذبح کیا تو چھری چل گئی
    اور قربانی ہوگی مگر جب آنکھ کی پٹی کھول کر دیکھا تو یہ منظر نظر آیا کہ ایک دونبہ زبع ہوا پڑا ہے اور حضرت اسماعیل ایک طرف کھڑے مسکرا رہے ہیں

    اس وقت حضرت جبرائیل نے اللہ اکبر اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا
    اور حضرت اسماعیل نے لا الہ الا اللہ واللہ اکبر پڑا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان پر وللہ الحمد کا کلمہ جاری ہوگیا

  • اپنا قیمتی اثاثہ بچا لیجئے۔ تحریر: نصرت پروین

    اپنا قیمتی اثاثہ بچا لیجئے۔ تحریر: نصرت پروین

    نوجوان نسل کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ملک و ملت کی ترقی یا تنزلی کا انحصار انہی پر ہوتا ہے۔ نوجوان مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ نوجوان اپنی ہمت، حوصلہ، صلاحیتوں، رجحانات، لگن، امنگ، محنت، جوش اور ولولہ کی وجہ سے کسی بھی قوم کا قیمتی فعال طبقہ سھمجے جاتے ہیں۔ انہی خوبیوں کی وجہ سے شاعر مشرق علامہ اقبال کی بہت سی توقعات نوجوان نسل سے وابستہ تھی۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جتنی بھی اقوام نے ترقی کی اپنی نوجوان نسل کی بہترین تعلیم و تربیت کی بدولت ہی کی۔ "شیخ عبدالعزیز بن باز لکھتے ہیں کہ کسی بھی قوم کے نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں جو اپنی قوم میں نئی زندگی اور انقلاب کی روح پھونکنے کا کام کرتے ہیں وہ ثمر آور تونائی، تازہ دم اور خداداد صلاحیتوں سے مسلح ہوتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ بیشتر قوموں کی بیداری اور انکے انقلاب کا سہرا نوجوانوں کے سر ہی جاتا ہے” دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اگر کسی قوم کو تباہ کرنا ہے تو اسکی نوجوان نسل کو انحرافی راہوں پر چلادیں اسطرح وہ قوم راہِ راست، مقصدِ حیات ،فلاح و کامرانی سے ہٹ کر تباہی کے راستے پہ چل پڑتی ہے۔
    پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوان نسل پر مشمتل ہے تعلیم و تربیت کسی بھی قوم کی روحانی خوراک سھمجی جاتی ہے۔ آج کے مسلم نوجوان کو دیکھیں تو اسکے پاس ڈگری ہے لیکن تعلیم وتربیت نہیں ہے، اسلام نہیں ہے۔ آج کا نوجوان اسلام، روایات، معمولات، اور اقدار سے عاری ہے وہ اپنے دین، روایات، معمولات، اقدار کا محافظ نہیں المیہ یہ ہے کہ وہ خدا کی واحدانیت، رب کی ربوبیت اور اسکی قہاریت و جباریت کا قائل نہیں۔ آج کا نوجوان اپنے دن کا بیشتر حصہ فضول ترین مشاغل اور فتنوں سے سرشار سرگرمیوں میں گزارتا ہے
    رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال قبل فرمایا "میں فتنوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ بارش کے قطروں کی طرح تمہارے گھروں میں داخل ہورہے ہیں۔ (بخاری:7060)”
    تو یہ فتنے کیا ہیں؟ تمام لہو و لعب، فحش اور منفی سرگرمیاں جنکی نذر آج ہمارا نوجوان ہے۔ تعلیم و تربیت کی بات کریں تو اسے تعلیم ناپسند اور خشک لگتی ہے تربیت پر وہ توجہ نہیں دیتا دین، علم و ادب سے دوری اسکے ذہنی بگاڑ کی بڑی وجہ ہےاور کامیابی کے لئے ناجائز حربے استعمال کرتا ہے اسطرح وہ علمی و ادبی میدان میں اپنے آپ کے ساتھ خود ہی خیانت کرتا ہےآج کا نوجوان مستقل مزاجی سے عاری ہے۔ اسکے پاس کوئی رول ماڈل نہیں۔ آج کا نوجوان مذہبی اقدار و معمولات کا قائل نہیں اسطرح ہمارا قیمتی اثاثہ مذہبی و ثقافتی اقدار کو پسِ پشت ڈال کر ایسی راہ پر چل پڑا ہے جسکی منزل پستی، ناکامی اور ذلت کے سوا کچھ نہیں۔ اخلاقی پستی کیا یہ عالم لمحہ فکریہ ہونے کے ساتھ ساتھ تشویشناک بھی ہے۔
    ہماری نوجوان نسل کے پاس بے شمار صلاحیتیں ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان صلاحیتوں کو نکھار کر انہیں صلاحیتوں کا بہترین استعمال سکھایا جائے۔ اس سلسلے میں والدین اور اساتذہ کا کردار بہت اہم ہے تاریخ میں جتنے بھی عظیم اور کامیاب لوگ گزرے ہیں انکی تعلیم و تربیت میں والدین اور اساتذہ نے بہترین خدمات انجام دی۔ والدین اور اساتذہ دونوں کو چائیے کہ اپنی زمہ داریوں کو سھمجیں اور نوجوانوں کی بہترین تعلیم و تربیت کریں انہیں زندگی کے اعلی و ارفع مقاصد کے تعین اور حصول کے لئے سرگرمِ عمل بنائیں۔
    والدین اور اساتذہ کیلئے اشد ضروری ہے کہ اپنا قیمتی سرمایہ بچانے کے لئے مربوط لائحہ عمل اپنائیں جس سے نوجوان نسل کی ذہنی و فکری نشوونما ہو اور پستی کا خاتمہ ہوسکے ایسی جدوجہد کی جائے کہ یہ بنجر زمین زرخیز ہو سکے۔
    نہیں ہے نو امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
    @Nusrat_186

  • ہمارا مقصدِ حیات  تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    ہمارا مقصدِ حیات تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    دنیا ایک امتحان گاہ ہے جس میں اللّٰه نے ہمیں آخرت میں ہونے والے امتحان میں تیاری کے لیے پیدا فرمایا ہے تا کہ بروزِ قیامت یہ معلوم ہو سکے کون اطاعتِ خداوندی کا پیکر بنا رہا اور کون نافرمانوں کی فہرست میں رہا

    ہمیں اس امتحان کی تیاری کے لیے پیدائش سے لے کر موت تک کا جو مخصوص وقت دیا گیا ہے اس دورانیے میں اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی اللّٰه اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی پاسداری کرتے ہوئے بسر کرنی ہے اور یہی ہمارا "مقصدِ حیات” ہے

    آتے ہوئے اذان اور جاتے ہوئے نماز
    قلیل وقت میں آئے اور چلے دیئے

    اللّٰه نے ہمیں عبادت و اطاعت کے ذریعے اپنی رضا حاصل کرنے کے لیے زندگی کی انمول نعمت سے نوازا ہے پس جس شخص کی زندگی میں بندگی نہ ہو بھلا وہ بھی بندہ ہے؟؟ کیونکہ بے بندگی رضائے خداوندی کے حصول میں سوائے شرمندگی کے کچھ حاصل نہ ہوگا

    ہزاروں مصروفیات کے باوجود دنیا کے لیے جیسے بھی ممکن ہو ہم وقت نکال ہی لیتے ہیں تو کیا جس مقصد کے لیے ہمیں پیدا کیا گیا ہے اس کے لیے تھوڑا سا وقت بھی نہیں نکال سکتے؟ اس سلسلے میں ہمارا طرزِعمل کیسا ہے اس پر خود ہی غور فرما لیجیے کیونکہ ہمارا مقصدِ حیات تو رضائے خداوندی کا حصول ہے

    مگر افسوس! صد افسوس! ہم اس سب سے غافل ہو کر دنیا کی ترجیحات میں مگن ہو چکے ہیں۔

    ہمارے مذہب کا نام اسلام ہے اور ہم مسلمان ہیں اگر ان الفاظ کے معانی پر غور کر لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہمیں تو احکامِ اللّٰه کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے کا حکم ہے مگر شاید ہم دَھن کی دُھن میں نہ صرف اپنے مقصدِ حیات کو بھول کر رحمتِ خداوندی سے دور ہو چکے ہیں بلکہ خود اپنے آپ سے بھی غافل ہو چکے ہیں

    حیرت شیخ ابوطالب فرماتے ہیں کہ اللّٰه نے اہلِ سلامتی و نجات کے دو گروہ بنائے ہیں جن میں سے کچھ، کچھ سے افضل ہیں جبکہ ہلاکت و بربادی والے افراد کا صرف ایک ہی درجہ ہے ان میں سے کچھ، کچھ سے پستی میں ہیں۔ لہٰذا بروزِ قیامت جن لوگوں کے بائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال ہوگا وہ ان کا دل اس حسرت میں مبتلا ہو گا کہ وہ دائیں ہاتھ والوں میں کیونکر نہ ہوئے۔ اور دائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال دیئے جانے والے اس حسرت میں مبتلا ہوں گے کہ وہ مقربین میں کیونکر نہیں اور مقربین اس حسرت میں مبتلا ہوں گے کہ وہ شہدا میں کیوں شامل نہیں اور شہدا چاہتے ہوں گے کہ وہ مقامِ صدیقین پر فائز ہوتے

    الغرض یہ دن حسرت کا ہوگا جس سے غافلین کو ڈرایا گیا ہے پس جو لوگ آج یہاں مردہ ہیں کل وہاں ان کی حالت کیسی ہوگی؟ کیونکہ ان کے پاس تو کوئی نیکی نہ ہو گی۔

    اپنے مقصدِ حیات کو پہچانیے اور اللّٰه کی رضا و عبادت میں خود کو پا لیں اور زندگی کو حقیقت معنوں میں جیئیں۔ ہماری زندگی کا حقیقی مقصد یہی تو ہے

    اور بے شک دونوں جہانوں میں اللّٰه کی رضا اور خوشنودی کا کوئی نعم البدل نہیں
    اور اللّٰه کی خوشنودی پانے کا بہترین ذریعہ اس کے رسولؐ کی سنت و احکام پر عمل کرنا ہے۔ اللّٰه اور اس کے رسول کی پیروی ہم سب پر واجب ہے

    اپنی سانس کی مالا کے ٹوٹنے سے خود کے آنے کا مقصد پہچانیے اسی میں بھلائی و بہتری ہے آج کی بھی اور آنے والے کل کی بھی اور اس کے بعد روزِ محشر میں بھی یہی ہماری مددگار بھی ہوگی

    وتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ

    @H___Malik

  • بےروز گاری، مواقع کی کمی یا سستی اورکاہلی . تحریر: وقاس محمد

    بےروز گاری، مواقع کی کمی یا سستی اورکاہلی . تحریر: وقاس محمد

    بیروزگارافراد سے پوچھیں تو آدھے افراد اس لئے فارغ ہیں کہ کوئی ڈھنگ کی نوکری نہیں مل رہی اور چاہتے ہیں کہ کوئی عالی شان جاب تھالی میں سجا کر انہیں پیش کی جائے اور وہ بس کرسی پر بیٹھ کر دستخط کر کے احسان کر دیں اور ہر ماہ ان کے اکاؤنٹ میں بھاری رقم آ جائے اور آدھے لوگ اس لئے بیروز گار ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی تھالی میں سجا کر چلتا پھرتا کاروبار ان کو پیش کرے اور وہ کلف لگا سوٹ پہن کر کرسی پر بیٹھ کر سیٹھ بن کر بیٹھے رہیں.

    ایسا کیسے ممکن ہے اور دنیا میں کہاں ہوتا ہے ایسے، دنیا کے کامیاب افراد کو دیکھیں آپ کو سمجھ آئے گی کہ انہوں نے کس طرح صفر سے شروع کیا اور پھر محنت سے لگن سے اپنا مقام بناتے ہوئے آگے بڑھتے جاتے ہیں.

    پھر ہمارے یہاں یہ بہت بری روایت کہہ لیں یا عادت کہہ لیں کہ ہم آگے بڑھنے کا سوچتے ہی نہیں ایک انسان جس ملازمت سے زندگی شروع کرتا ہے اسی پر ہی ساری زندگی گزار دیتا ہے ڈرائیونگ سے کیریئر شروع کرنے والا ساری زندگی ڈرائیور بن کر ہی گزار دیتا ہے اس سے آگے سوچتا ہی نہیں، اسی طرح ہم دیکھیں تو ہمارے آس پاس نظر آئے گا چاچا منظور 20 سال سے دوکان ہی چلا رہا ہے، لالہ ارشد 25 سال سے حجامت کرتا نظر آتا ہے، ارشد مکینک آپکو ساری زندگی سے بجلی کے سوئچ لگاتا نظر آتا ہے، ماسی رشیداں گھروں میں کام ہی کرتی رہی اب اسکی بیٹی بھی اسکے ساتھ وہی کام کرتی ہے، چاچا غلام رسول جوتے ہی سلائی کرتا نظر آتا ہے اسی طرح ملازمت کرنے والے افراد اسی فیکٹری اسی کارخانہ اسی دفتر میں ساری زندگی کام کرتے رہتے ہیں وہ آگے بڑھنے اپنی زندگی بہتر بنانے کیلئے کچھ کرتے ہی نہیں اور پھر حکومت یا نصیب کو کوستے نظر آتے ہیں.

    ہمیں یہ عادت چھوڑنا ہوں گی نوکری جو بھی ملے ﷲ کا نام لیکر شروع کریں اور آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہیں اسی طرح جو بھی کاروبار یا کام آپ کرتے ہیں اس میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہیں حالات اور وقت کے حساب سے چلیں، اپنی محنت کرتے رہیں اپنا سو فیصد دیں، بیروزگاری کچھ بھی نہیں بس ہماری کام چوری اور کاہلی کا دوسرا نام ہے جس دن ہم نے یہ عادت بدل ڈالی اس دن ہمیں نا تو کوئی فارغ نظر آئے گا اور نا ہی کوئی حالات اور ملازمت کا رونا روتے ہوئے.

    @WailaHu