Baaghi TV

Category: مذہب

  • قربانی کی فضیلت و اہمیت.تحریر  چوہدری عطا محمد

    قربانی کی فضیلت و اہمیت.تحریر چوہدری عطا محمد

    تاریخ ِاور مذاہب کے مطالعے سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ جتنی قدیم ہے، قربانی کی تاریخ بھی تقریباً اتنی ہی قدیم ہے،

    ہم جو ہر عیدقرباں پر جانوروں کی قربانی کرتے ہیں، یہ حضرت ابراہیم و اسمٰعیل علیہما السلام کی قربانی کی یاد گار ہے۔ اسی قربانی کی یادگار میں اہلِ ایمان ہر سال جانوروں کے قربانی کرتے ہیں

    قربانی کی فضیلت و اہمیت

    حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ رسول اکر م ﷺ نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا اور ہر سال پابندی سے قربانی فرماتے تھے۔(مشکوٰۃ)

    حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے
    حضور اقدسﷺ نے فرمایا: بقرعید کے دن قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر کوئی عمل اللہ کے نزدیک محبوب نہیں ہے اور بلاشبہ قربانی کرنے ولا قیامت کے دن اپنی قربانی کے سینگوں، بالوں اور کھروں کو لے کر آئے گا (یعنی یہ حقیر اشیاء بھی اپنے وزن اور تعداد کے اعتبار سے ثواب میں اضافہ ور اضافہ کا سبب بنیں گی اور (یہ بھی) فرمایا کہ بلاشبہ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک درجہ قبولیت حاصل کرلیتا ہے ،لہٰذا خوب خوش دلی سے قربانی کرو۔ (مشکوٰۃ)

    حضرت زیدبن ارقمؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسولﷺ یہ قربانیاں کیا ہیں؟آپﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ تمہارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، صحابہؓ نے عرض کیا، ہمارے لیے اس میں کیا ثواب اور اجر ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا، اگر اون والا جانور ہو (یعنی دنبہ ہو جس کے بال بہت ہوتے ہیں) اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: اس کے بھی ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ (مشکوٰۃ)مذکورہ احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا

    عیدالاضحی کے دن قربانی کرنا، اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین عمل ہے، پس جو عمل محبوب حقیقی کو محبوب ہو، اسے کس قدر محبت اور اہتمام سے کرنا چاہیے، اس دن قربانی کرنا ہمیں اللہ سے کتنا قریب لے جائے گا اور ہم پر سے کتنی مصیبتیں ٹل جائیں گی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے،
    اگر حالات حاضرہ کا زکر کیا جاۓ یعنی موجودہ دور کی بات کی جاۓ تو اس کے بالکل بر خلاف کہنے والے یہ کہہ رہے ہیں کہ ! قربانی کیا ہے یہ قربانی (معاذ اللہ) خوا مخواہ رکھ دی گی ہے، لاکھوں روپیہ جانوروں کے خون بہانے کی شکل میں لگا دیا جاتا ہے اور بڑے بڑے جانور اونٹ بیل اور بچھڑے گھر کے دروازے کے باہر نمائش کے لئے باندھ دئیے جاتے ہیں یہ عمل معاشی اعتبار سے نقصان دہ ہے، جانوروں کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے لہٰذا قربانی کرنے کے بجائے یہ کرنا چاہیے کہ جو لوگ غربت کے ہاتھوں بھوک اور افلاس کی زندگی بسر کر رہے ہیں ہیں، قربانی کے گوشت تقسیم کرنےکے بجائے وہ روپیہ پیسہ غریب کو دیا جائے، تاکہ اس کی ضروریات پوری ہوجائیں۔ یہ پروپیگنڈا اتنی کثرت اور اس۔ طرح کی مثالیں دے کر کیا جاتا ہے کہہ کچھ لوگ اس پر سوچنے اور عمل کرنے کے لئے بھی تیار ہوجاتے ہیں اب عید قربان کے نزدیک لوگ علماء حضرات سے پوچھتے نظر آتے ہیں کہ اگر ہم قربانی نہ کریں اور وہ رقم غریبوں میں تقسیم کردیں تو اس میں کیا حرج ہے؟یہ خودساختہ فلسفہ قرآن و سنت اور اسلامی تعلیمات کے صریح خلاف ہے۔اسلامی شریعت کے مطابق جیسا کہہ اوپر حدیث مبارکہ کا بھی زکر کیا ہے کہہ قربانی کے تین دنوں میں قربانی سے بڑھ کر اللہ کے نزدیک کوئی عمل محبوب اور پسندیدہ نہیں۔

    قربانی سے ہمیں کیا درس ملتا ہے

    قربانی ہمیں صبر وتحمل، برداشت اور ایثار کا سبق دیتی ہے، ہمیں ایک دوسرے سے محبتوں کو بڑھانا چاہیے اور صبرو استقامت کے جذبے کو عام کرنا چاہیے۔ اور اپنے ہمسایوں عزیزو اقارب اور آس پاس رئنے والوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنے اور ان کے حقوق کا خیال رکھنے کا درس دیتی ہے ۔

    جو لوگ بھی صاحب استطاعت ہیں وہ اس کا خیال کریں کہ گائے اور اونٹ میں سات حصے جبکہ بکرا، دنبہ وغیرہ ایک حصہ ہے۔

    قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جائیں، ایک اپنا، ایک رشتہ داروں کا اور تیسرا غرباء اور مساکین میں تقسیم کردیں۔اور اس بات کا خوب خیال رکھا جاۓ کہہ زیادہ سے زیادہ گوشت ان گھروں تک پہنچے جن کے گھر سارا سال بہت کم گوشت پکتا ہے یا جو لوگ اپنی غربت اور مفلسی کے ہاتھوں گوشت جیسی نعمت سے اکثر اوقات محروم رئیتے ہیں۔
    قربانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہہ سال کے ایک دن نہیں ہر روز ہمیں اپنی کمائی میں سے اپنی حیثیت کے مطابق کسی مستحق کی کسی نہ کسی ضرورت کو پورا کو پورا کرتے رہنا چائیے۔

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو قربانی کے عمل سے سنت طریقہ سے گزرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    تحریر چوہدری عطا محمد

    @ChAttaMuhNatt

  • قربانی کے احکام و مسائل.تحریر: قاری محمد صدیق الازھری

    قربانی کے احکام و مسائل.تحریر: قاری محمد صدیق الازھری

    الحمد لله رب العالمين والصلاه والسلام على اشرف المرسلين وخاتم النبيين ورحمه الله للعالمين سيدنا محمد وعلى اله وصحبه اجمعين . اما بعد : فان الله تبارك وتعالى امر عباده بعبادته وحده لا شريك له قال الله في كتابه : اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ(۱)فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ(۲)اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠(۳)

    اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کی سورة الفجر آیت نمبر ۲ میں ذی الحجہ کی دس راتوں کی قسم کھائی ہے (وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ) جس سے معلوم ہوا کہ ماہ ذی الحجہ کا ابتدائی عشرہ اسلام میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ حج کا اہم رکن: وقوفِ عرفہ اسی عشرہ میں ادا کیا جاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے خاص فضل وکرم کو حاصل کرنے کا دن ہے۔ غرض رمضان کے بعد ان ایام میں اخروی کامیابی حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔ لہٰذا ان میں زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت کریں، اللہ کا ذکر کریں، روزہ رکھیں، قربانی کریں۔ اس ماہ مقدس کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں نیک عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہو۔ (صحیح بخاری ) اس ماہ مقدس میں مسلمان حج بیت الله ادا کرنے کے ساتھ ساتھ قربانی جیسے عظیم فریضے سے بھی فیضیاب ہوتے ہیں جس کے متعلق الله تعالٰی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: وَلِکِلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسِکًا لِیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَی مَا رَزَقَہُمْ مِنْ بَہِیْمَةِ الْاَنْعَامِ (سورة الحج ۳۴) ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی؛ تاکہ وہ چوپایوں کے مخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے۔ ایک اور آیت میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ ” قربانى ابراہیم عليہ السلام اور محمد ﷺ دونوں كى سنت ہے اور اللہ تعالىٰ نے قرآن ميں ان دونوں انبيا كى سنت اپنانے اور اتباع كرنے كى تلقين فرمائى ہے-(آلِ عمران:31) "۔ قربانی کا ثواب بہت بڑا ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز اﷲ تعالیٰ کو پسند نہیں، ان دنوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کر ہے اور قربانی کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پر گرتا ہے تو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی اﷲ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوجاتا ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ)

    آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’’ قربانی کے جانور کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں ، ہر ہر بال کے بدلے ایک ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔‘‘

    آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ قربانی تمہارے باپ ( ابراہیمؑ) کی سنت ہے۔ صحابیؓ نے پوچھا: ہمارے لیے اس میں کیا ثواب ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ ایک بال کے عوض ایک نیکی ہے۔ ‘‘ اُون کے متعلق فرمایا: ’’ اس کے ایک بال کے عوض بھی ایک نیکی ہے۔‘‘

    شریعت كے وہ چند مسائل جو ہمارى توجہ كسى نہ كسى تاريخى واقعہ كى طرف مبذول كرواتے ہيں ان ميں سے ايک قربانى بھى ہے- ايسے مسائل سے مقصود محض انہيں مقررہ وقت پر كر لينا ہى كافى نہيں ہے بلكہ ان تاريخى واقعات پر گہرى نگاہ ڈالتے ہوئے اس جذبہ عبادت اور قربانى كى ناقابل فراموش حقيقت كو سمجھ كر اپنانے كى كوشش كرنا بھى ضرورى ہے جس كے باعث يہ مسائل ہمارى اسلامى روايات ميں اہم حيثيت اختيار كر گئے ہیں۔ جيسا كہ حاجيوں كے ليے صفا مروہ كى سعى كرنا محض ايک دوڑ نہيں ہے بلكہ يہ اس تاريخى واقعہ كى غماز ہے جس ميں ايک طرف ننھا سا بچہ شدتِ پياس كے باعث زمين پر ايڑياں مارتا نظر آتا ہے اور دوسرى طرف حضرت ہاجِرَ عليها السلام پانى كى تلاش ميں صفا مروہ كى پہاڑيوں كے چكر لگاتى نظر آتى ہيں كہ جنہيں ابراہیم عليہ السلام اللہ تعالىٰ كے حكم پر اپنى تمام تر محبتيں قربان كر كے مكہ كى بے آب وگياہ زمين ميں تنہا چھوڑ گئے تھے۔ قربانى كا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ عيد ِقربان كے دن جانور ذبح كرنا، كچھ گوشت تقسيم كر دينا،كچھ كھا لينا اور پھر خود كو شريعت كے ہر حكم سے آزاد تصور كرنا اور قربانى كے مقصد يا غرض وغايت پر سنجيدگى سے غوروفكر نہ كرنا، كسى طور كافى نہيں ہے بلكہ يہ بھى ضرورى ہے كہ جانور قربان كرنے كے ساتھ ساتھ ابراہیم علیہ السلام كى مثالى اطاعت وفرمانبردارى اور اثر آفريں عقیدت واِردات كو بهى پيش نظر ركها جائے كہ جس كى وجہ سے انہوں نے اللہ تعالى كے حكم پر اپنا كم سن خوبصورت بيٹا بھى قربان كرنے سے دريغ نہ كيا-

    اگرچہ چھرى ذبح نہ كرسكى اور پھر حكم الٰہى كے مطابق مينڈها ذبح كر ديا گيا ليكن وہ اللہ تعالى سے كيسى محبت ہوگى اور اللہ تعالى كے ليے ہر چيز قربان كر دينے كا كيسا جذبہ ہوگا كہ جس كى بدولت وہ اس مشكل ترين عمل سے بھى پیچھے نہ ہٹے، پهر اللہ تعالى نے بهى اس محبت واطاعت كا صلہ يوں ديا كہ اس عمل كو تمام مسلمانوں كے ليے مسنون قرار دے كر قيامت تک كے ليے ابراہیم علیہ السلام كى سنت كو جارى وسارى كر ديا۔ ہم سے بھى اسلام صرف جانوروں كى قربانى نہيں چاہتا بلكہ اس جذبہ اطاعت اور خشيت ِالٰہى كو بھى اُجاگر كرنا چاہتا ہے جس كے ذريعے ہم اپنى ہر چيز بوقت ِضرورت اللہ تعالى كى خاطر قربان كردينے كے ليے تيار ہوجائيں۔ اور يقينا آج اسلام كو جانوروں كى قربانيوں سے كہيں زيادہ ہمارى محبوب ترين اشيا يعنى مال، اولاد اور جان كى قربانيوں كى ضرورت ہے۔ لہٰذا ہميں چاہيے كہ اس عمل كو محض ايک تہوار ورسم سمجهتے ہوئے تفاخر اور رياء ونمود كا ذريعہ ہى نہ بنا ڈاليں كہ جس كے باعث ہميں دنيا ميں تو اسلامى شعائر و روايات اپنانے كا اعزاز مل جائے ليكن ہمارى عقبىٰ تباہ وبرباد ہو كر رہ جائے بلكہ ہميں چاہيے كہ اس عمل كے پيچهے چھپى اُس عظيم قربانى كو مدنظر ركهتے ہوئے اپنے ايمانوں كو اس قابل بنائيں جو ہميں دنياوى لہو ولعب اور مصنوعى عيش ونشاط سے نكال كر اپنى زندگى كا ہر لمحہ اور ہر گوشہ رضاے الٰہى كى خاطر قربان كر دينے كے ليے تيار كر دے۔
    سورۂ کوثر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم دیا کہ جس طرح نماز اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کے لئے نہیں ہوسکتی اسی طرح قربانی بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کے لئے نہیں ہوسکتی ۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ:’’ آپ کہہ دیجئے! کہ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔‘‘(سورۂ انعام) ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سلم نے ارشاد فرمایا : ’’بنی آدم کا کوئی عمل بقر عید کے دن اللہ تعالیٰ کو (قربانی کا) خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ، اور بے شک (قربانی کا) خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہو جاتا ہے ۔ تو تم اپنا دل اس کے ذریعہ سے خوش کیا کرو!۔ (ترمذی و ابن ماجہ)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا : ’’یا رسول اللہؐ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ‘’ اور فرمایا: ’’استطاعت کے باوجود جو شخص قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کا رُخ بھی نہ کرے ! ان تین دنوں میں قربانی سے بڑھ کر کوئی دوسرا نیک عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ نہیں ہے‘‘۔(مسند احمد ، ابن ماجہ، الترغیب والترہیب)ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جس شخص نے دل کی خوشی اور ثواب طلب کرنے کے لئے قربانی کی تو وہ قربانی اس شخص کے واسطے دوزخ کی آگ سے آڑ ہو جائے گی‘‘۔(الترغیب والترہیب)
    قربانی کے متعلق چند احکامات جو احادیث مبارکہ میں قابل ذکر ہیں وہ درج ذیل ہیں:
    ۱-جس شخص کے پاس رہائشی مکان، کھانے پینے کا سامان، استعمال کے کپڑوں، اور روز مرہ استعمال کی دوسری چیزوں کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کا نقد روپیہ ، مالِ تجارت یا دیگر سامان ہو ، اس پر قربانی کرنا واجب ہے۔(فتاویٰ شامی: ۶/۳۱)
    ۳-جس شخص پر صدقۂ فطر واجب ہے اس پر قربانی بھی واجب ہے۔ (فتاوی عالمگیری: ۵/۲۹۲)
    ۴-اگر کسی شخص نے مرنے سے پہلے قربانی کرنے کی وصیت کی ہو اور اتنا مال چھوڑا ہو کہ اس کے تہائی مال سے قربانی کی جاسکے تو اس کی طرف سے قربانی کرنا واجب ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری: ۵/ ۲۰۶)
    جس شخص پر صدقۂ فطر واجب ہے اُس پر بقرۂ عید کے دنوں میں قربانی بھی واجب ہے۔(در مختار:۵؍۳۰۴) فقیر اورمسافر پر قربانی واجب نہیں۔(شرح البدایہ: ۴؍۴۴۳)
    قربانی کے لئے بہیمۃ الانعام یعنی اونٹ،گائے، بھیڑ، وبکری کا ہونا شرط ہے۔ قربانی کے جانوروں کے متعلق آپ مزید (سورۃالانعام:آیات:۱۴۲،۱۴۳،۱۴۴) کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح قربانی کے جانوروں کا مسنہ(یعنی دوندا) ہونا شرط ہے۔ مسنہ جانور اس کو کہتے ہیں جس کے اگلے دو (دودھ کے) دانت گرگئے ہوں اور اگر دوندے جانور دستیاب ہوں تو قربانی کیلئے دو دانتیں جانور کا انتخاب لازم ہے۔ ہاں مجبوری کی حالت میں (یعنی مسنہ جانور مارکیٹ میں نہ مل سکے یا اس کی استطاعت نہیں ہے تو) ایک سالہ دنبہ یا مینڈھا ذبح کیا جاسکتا ہے۔لیکن یاد رہے یہ صرف مجبوری کی حالت میں ہے اور اس میں بھی صرف بھیڑ کی جنس کا جزعہ قربانی میں کفایت کریگا، بکری وغیرہ کی جنس کا جزعہ کفایت نہیں کریگا۔(صحیح مسلم)

    قربانی ایک اہم عبادت اور اسلام کا شعار ہے اور یہ وہ عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے۔اسی لیے صحت مند اور بے عیب جانور کی قربانی دینی چاہیے۔اور ان عیوب کو جاننا ہمارے لیے ضروری ہے جن سے قربانی نہیں ہوتی۔
    جس طرح تقویٰ اور خالص رضائے الٰہی قربانی کی قبولیت کی اہم شرط ہے، اسی طرح جانور کا ان عیوب سے پاک ہونا بھی ضروری ہے جسے نبی کریم ﷺ نے قربانی کی قبولیت میں مانع قرار دیا ہے۔

    1) ان عیوب کی تفصیل جن کی وجہ سے قربانی درست نہیں ہوتی درج ذیل ہے:
    سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «أربع لا تجوز في الأضاحي:العوراء بين عورها، والمريضة بين مرضها، والعرجاء بين ظلعها، والكسير التي لا تنقى.»
    ‘‘چار قسم کے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے:
    1.ایسا کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو ۔
    2.ایسا بیمار جس کی بیماری واضح ہو ۔
    3.ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑاپن ظاہر ہو۔
    4.انتہائی کمزور اور لاغر جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔’’
    5. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں کی قربانی کرنے سے منع فرمایا جن کے سینگ ٹوٹے اور کان پھٹے ہوئے ہوں۔
    6. جس کا کان نصف یا نصف سے زیادہ کٹا ہوا ہو۔
    7. اندھا اور ٹانگ کٹا جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔

    ان تمام مسائل کا خاص خیال رکھیں اور اپنی عید کی خوشیوں میں غرباء و مساکین کو بھی شامل کریں۔ بارگاہ ایزدی میں دعا ہے کہ خدا تعالیٰ تمام مسلمانوں کو قربانی کی عبادت صحیح اصولوں کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

  • اسلام میں عید قربان کی اہمیت . ‏تحریر:عائشہ شاہد

    اسلام میں عید قربان کی اہمیت . ‏تحریر:عائشہ شاہد

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قربانی والے دن اللہ تعالی کے نزدیک آدمی کا کوئی بھی عمل قربانی کا خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں، قیامت کے دن قربانی کا جانوراپنے بالوں، سینگوں اور کُھروں کو لے کر آئے گا، قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے سے اللہ تعالی کے ہاں قبولیت کے مقام کو پا لیتا ہے، اس لئے تم خوشی خوشی قربانی کیا کرو۔ (سنن ترمذی)

    حضرت سیدنا علی المرتضیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے لوگو ! تم قربانی کرو،اوران قربانیوں کے خون پر اجروثواب کی امید رکھو،اس لئے کہ (ان کا ) خون اگرچہ زمین پر گرتا ہے لیکن وہ اللہ تعالی کی حفظ وامان میم چلا جاتا ہے.

    ہمیں بڑھ چڑھ کرثواب لینا چاہیے ایک قربانی کرنے سے ہزاروں لاکھوں نیکیاں مل اورکیا چاہیے. دنبے اوربھیڑکے بدن پرکتنے لاتعداد بال ہوتے ہیں؟؟

    اگر کوئی صبح سے شام تک گنتی کریں تو بھی نہ گن سکے ہمارے پندرہ بیس ہزارکے مقابلے میں کتنی بے حساب نیکیاں ملیں گی؟ ہمیں اس قدر اجروثواب کو دیکھ کر خوب بڑھ چڑھ کر قربانی کرنی چاہیئے۔واجب تو واجب ہے ہی اگروسعت ہوتو نفلی قربانی بھی کرنی چاہیئے۔ یعنی اگر اللہ جل شانہُ نے مالی فراخی عطا فرمائی ہے.

    محسن اعظم محسن انسانیت، ،نور مجسم،رحمت عالم ﷺ آقائے دو جہاں کی جانب سے اور آپ ﷺ کے اصحابؓ و اہلبیتؓ کی طرف سے بھی قربانی کیجیئے۔ صرف جانور ہی قربان نہ کریں اس عید پر اپنی ضد، انا، حسد، بدگمانی کو بھی قربان کیجیئیے، دل صاف کیجیئے تاکہ قربانیاں قبول ہوسکیں. جس طرح درخت کی قیمت اس کے پھل کے حساب سے ہوتی ہے اسی طرح انسان کی قیمت اس کے عمل اورکردار کے حساب سے ہوتی ہے. شکریہ

    @BinteChinte

  • قربانی . تحریر: صلاح الدین

    قربانی . تحریر: صلاح الدین

    عید الاضحی جذبہ قربانی اورایثارکی ایک عظیم مثال ہے کہ اسے اللہ پاک نے رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے اپنی رحمتوں کے حصول کا زریعہ بنا دیا ہے۔
    قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے جب وہ اللہ پاک کی خوشنودی کی خاطراپنے لخت جگراپنے ہردلعزیزبیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کوقربان کرنے کے لیے تیار ہوگۓ تھے۔ اللہ پاک کوانکی نیت اس قدرپسند آئی کہ انہوں نے حضرت اسماعیل کی جگہ ایک دنبے کو رکھ دیا۔
    آج تمام عالم اسلام اسی سنت ابراہیمی کو پورا کرتے ہوۓ ہر سال عیدالاضحی پر اللہ کی راہ میں جانور قربان کرتے ہیں۔

    ہمیں قربانی کرتے ہوۓ اللہ پاک کی خوشنودی کو دیکھنا چاہیے کیونکہ قربانی صرف اللہ پاک کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ عیدالاضحی پر ہمارا جانور قربان کرنا اس جذبہ ایمانی کی یاد تازہ کرتا ہے کہ ہمیں اگراللہ پاک کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کرنا آیا تو پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    قربانی کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے اندرعاجزی اورانکساری کا جذبہ ہونا چاہیے یہ دنیا کی جھوٹی شان و شوکت کچھ بھی نہیں ہے اللہ پاک کو غروروتکبرہرگزپسند نہیں ہے اللہ پاک انسان کی عاجزی کوپسند کرتا ہے جتنے عاجز ہونگے اتنے ہی اللہ پاک کے قریب ہونگے۔
    اللہ پاک کو آپ کی قربانی کا گوشت نہیں پہنچتا اللہ پاک کو صرف آپ کی نیت اوراخلاص پہنچتے ہیں۔ قربانی کرتے ہوۓ ہماری نیت صرف اللہ پاک کی رضا ہونی چاہیے کیونکہ اگر آپ نے اپنے رب کو راضی کرلیا توسمجھ لیں آپ نے دنیا اورآخرت کا سب سے بڑا خزانہ پالیا اور دنیا آخرت کی کامیابی صرف اللہ پاک کی رضا میں شامل ہے۔

    قربانی کرتے ہوۓ اپنے عزیز و اقارب اورآس پاس میں موجود لوگوں میں قربانی کا گوشت ضرورتقسیم کریں کیونکہ قربانی اللہ پاک کے لیے ہوتی ہے تو اس کے بندوں کو اگر نظراندازکریں گے تو اللہ پاک کے ہاں ایسی قربانی کسی کام کی نہیں ہے۔

    اللہ پاک اپنی بارگاہ میں ہم سب کی قربانی کوقبول فرماۓ، اللہ پاک ہمارے ملک و ملت پراپنا خصوصی کرم فرماۓ، ہمارے ملک کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرماۓ۔ آمین

    twitter id @Salahuddin_t2

  • بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کا دوسرا نکاح . تحریر: احمد لیاقت

    بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کا دوسرا نکاح . تحریر: احمد لیاقت

    مسلمانوں اورغیرمسلموں کے میل جول میں بہت سی ایسی رسمیں وجود میں آئی ہیں جن میں سے ایک رسم یہ بھی ہے کہ بیوہ عورت سے نکاح کو حقارت کی نظر سے لوگ دیکھتے ہیں ہرمسلمان اپنے آپ کو شریف اور دوسرے کو بیوقوف سمجھتا ہے جو لوگ اپنے آپ کو زیادہ شریف کہتے ہیں وہ اس بلا میں زیادہ گرفتار ہیں.
    لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیسے پہلا نکاح ویسے دوسرا نکاح
    دونوں میں فرق سمجھنا بیوقوفی اورشرمناک جہالت ہے بغض عورتیں ایسی بھی ہیں جو دوسرے نکاح کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اس کو بات بات پرطعنے دے کر ذلیل کرتے ہیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات پیدا کیا ہے دوسرا نکاح کرنے والی عورتوں کو حقیر و ذلیل سمجھنا یا برا جاننا بڑا سخت گناہ ہے
    کسی کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے ہوسکتا ہے وہ انسان اللہ کے حبیب آپ سے زیادہ افضل ہو۔ کون نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جتنی بھی بیویاں تھیں حضرت عائشہ صدیقہ رض کے سوا کوئی کنواری نہ تھیں.
    یاد رکھو عورت ایک بیٹی ، ایک بہن ، ایک ماں بھی ہے اور بیوہ عورتوں سے نکاح کرنا بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے
    حدیث شریف میں آتا ہے جو کوئی کسی چھوڑی ہوئی اورمردہ سنت کو زندہ اور جاری کرے اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملے گا ہم سب کو چاہیے جو بھی بیہودہ رسمیں ہیں ان کو ختم کرنا چاہیے اور اللہ و رسول کی خوشنودی کیلئے بیوہ عورتوں کا نکاح ضرور ضرور کرائیں تاکہ اس بیچاری اوردکھیاری اللہ کے بندوں کو بربادی سے بچا کرسو شہیدوں کا ثواب حاصل کریں.

    سورہ نورمیں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ
    اورنکاح کردو اپنوں میں انکا جو بے نکاح ہوں اوراپنے لائق غلاموں اور کنیزوں کا۔

    دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اجاکر کرنے کی ہمت عطا فرماۓ. آمین.
    @JingoAlpha

  • قربانی اوراس کی اہمیت. تحریر: موسی حبیب راجہ

    قربانی اوراس کی اہمیت. تحریر: موسی حبیب راجہ

    حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دکھایا گیا کہ وہ اپنے بیٹے (اسماعیل علیہ السلام )کو ذبح کررہے ہیں۔ نبی کا خواب سچا ہوا کرتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام فلسطین سے مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ جب باپ نے بیٹے کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہیں ذبح کرنے کا حکم دیا ہے تو فرمانبردار بیٹے اسماعیل علیہ السلام کا جواب تھا
    ابا جان! جو کچھ آپ کو حکم دیا جارہا ہے، اسے کرڈالئے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔
    (سورۂ الصٰفٰت ۱۰۲)

    صحیح بخاری میں ایک بڑا دلچسپ واقعہ منقول ھے.
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے. ایک عورت آئی اور اس نے اپنا نفس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سپرد کر دیا کہ اس کی جہاں چاہیں شادی کر دیں. ایک غریب کنوارے صحابی وہاں موجود تھے. انھوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! اس کی شادی آپ مجھ سے کر دیجیئے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا : "تمھارے پاس اسے حق مہر دینے کے لیے کچھ ہے؟ ” اس نے کہا کہ میرے پاس کچھ نہیں ھے.

    آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جاؤ اگر لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے تو لے آنا ھم وہی حق مہر بنا کر اس کا نکاح تجھ سے کر دیں گے. وہ صحابی اپنے گھر گیا مگر غربت کا عالم یہ تھا کہ گھر سے لوھے کی ایک انگوٹھی بھی نہ ملی. اس نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! میرے پاس ایک چادر ھے. اس میں سے آدھی میں حق مہر میں اسے دے دیتا ھوں اور آدھی خود رکھ لیتا ھوں.

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :”وہ آدھی نہ آپ کے کسی کام آئے گی اور نہ اس کے کام آئے گی.”
    وہ خاموشی سے ایک طرف ہو کربیٹھ گیا. تھوڑی دیر بیٹھا رہا مگر اٹھ کر جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے بلایا اور پوچھا:”تمھیں قرآن میں سے کچھ یاد ھے؟” اس نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں.
    آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے ان سورتوں کے عوض تمھارا نکاح اس سے کر دیا ہے( یعنی وہ سورتیں تم اسے یاد کروا دینا )”
    ( صحیح البخاری :5121)

    اس حدیث سے اندازہ لگایا جاسکتا ھے کہ دور نبوت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی غربت کا کیا عالم تھا. ایک صحابی کے پاس حق مہر دینے کے لیے جو کہ فرض تھا، ایک لوھے کی انگوٹھی بھی نہیں تھی چاندی اور سونا تو دور رہا.
    کتب احادیث میں ایسی غربت کے بیشمارواقعات ملتے ہیں.

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ میں دس سال گزارے اورہرسال آپ نے قربانی کی حتی کہ ایک سال سو اونٹ نحر کیئے. آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان دس سالوں میں کبھی یہ نہیں کہا کہ اس سال ھم قربانیاں نہیں کریں گے بلکہ قربانی کا پیسہ نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کی شادی پرخرچ کریں گے.

    اگرقربانی کے جانورذبح کرنے کی بجائے نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کی شادی پر پیسہ خرچ کرنا قربانی سے افضل ھوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ضرور اس کا حکم دیتے مگر آپ نے تو شادی کی استطاعت نہ رکھنے والوں سے فرمایا :

    "اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی استطاعت رکھتا ھے وہ شادی کر لے اور جو استطاعت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے، اس لیئے کہ یہ روزہ اس کے لیئے( گناہ سے بچنے کی )ڈھال ثابت ھو گا.”
    ( صحیح البخاری :5066)

    جوں جوں قربانی کے ایام قریب آئیں گے، غریبوں کے بہت سے خیرخواہ ( لبرل ) اپنی بلوں سے نکلنا شروع ھو جائیں گے. ان کا مقصد غریبوں کی حمایت نہیں بلکہ شعائر اسلام کی تحقیر ھوتا ھے. ان کے دلوں میں شعائر اسلام کا بغض اور نفرت کوٹ کوٹ کر بھرا ھوتا ھے.

    قربانی ایک عظیم عمل ھے جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ھے. شکوک و شبہات سے بچیئے اور اللہ کے دیئے ھوئے مال میں سے اللہ کی راہ میں جانور ذبح کیجیئے. اسی میں خیر اور بھلائی ھے

    حضرت عبداللہ ابن عمرسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ دس سال مدینہ میں مقیم رہے اور ہرسال قربانی فرماتے تھے۔ (سنن ترمذی )

    حضور نبی کریم ﷺ کا ہر سال قربانی کرنا قربانی کی اہمیت ، فضیلت اور تاکید کیلئے کافی ہے۔۔

    حضرت انس سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ سیاہ اور سفید رنگت والے اور بڑے سینگوں والے دو مینڈھوں کی قربانی فرما کرتے تھے،اور اپنے پاؤں کو انکی گردن کے پاس رکھ لیا کرتے تھے اور اپنے دستِ مبارک سے ذبح فرماتے تھے
    (صحیح بخاری )
    Writer Details


    Musa Habib Raja is a Social Media Activist, Freelance Journalist Content Writer and Blogger. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes on political, international as well as social issues To find out more about him please visit his Twitter

     

    The rest of Musa Habib Raja Articles and Twitter Timeline


     

  • روح _قربانی. تحریر:تحریر : چوہدری عطا محمد

    روح _قربانی. تحریر:تحریر : چوہدری عطا محمد

    عید _ قربان کا موسم ہے ہر طرف قربانی کے جانوروں کے رنگ دکھائی دیتے ہیں تو کہیں بکروں کا جھرمٹ تو کہیں بچھڑوں کے ڈیرے ہیں. رنگا رنگ اور دیدا زیب جانوروں سے سڑکیں اور ویران جگہیں رونقیں بکھیر رہی ہیں. لوگ جوق در جوق منڈیوں کا رخ کرتے دکھائی دیتے ہیں. کچھ کامیاب لوٹتے تو کچھ اپنی تلاش کے سلسلے کو بڑھانے کی ٹھان واپس لوٹ جاتے ہیں. درس و تدریس کے عمل میں بھی موسم _ قربان کا رنگ دکھائی دینے لگا ہے اور جمعہ کے خطبات اور دیگر محافل میں اس کے تذکرہ جاری و ساری ہے. ہر شخص اس موضوع کو اپنے انداز و زاویے سے اپنی گفتگو کا حصہ بناے ہوئے ہے. سوال تو ہی ہے کہ اس قربانی کی ضرورت کیوں؟
    اس میں امت کیلئے کیا سبق ہے؟
    ایک بات تو یہ کہ اس قربانی کے زریعے سمجھایا گیا کہ رب العالمین جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے آزمائش دیتا ہے. پھر اس آزمائش میں جو جتنا بہتر صبر و برداشت سے پورا اترتا ہے اتنا ہی اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے. انبیاء کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مال و اولاد کا امتحان کا سلسلہ ہوا.
    سمجھنے کے لیے موضوع کے قریب قریب مثال عرض کرتا چلوں.

    رب العالمین نے قرآن کریم میں کس شان سے زکر کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دیکھیں
    مقصد رضا الہی ہونا چاہیئے
    پھر جب آگ میں پھینکے جانے کی آزمائش سے گزرے تو اولاد کی دعا کی

    رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۱۰۰)فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ(۱۰۱)

    ترجمۂ کنز العرفان

    اے میرے رب! مجھے نیک اولاد عطا فرما۔ تو ہم نے اسے ایک بردبار لڑکے کی خوشخبری سنائی۔

    تفسیر صراط الجنان

    حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا وصف:
    اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حلیم اور بُردبار لڑکے کی بشارت دی اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خود بھی حلیم تھے،جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

    ’’اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ‘‘(توبہ:۱۱۴)

    ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ابراہیم بہت آہ و زاری کرنے والا، بہت برداشت کرنے والا تھا۔

    اورارشاد فرمایا: ’’اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ‘‘(ہود:۷۵)

    ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ابراہیم بڑے تحمل والا ،بہت آہیں بھرنے والا، رجوع کرنے والا ہے۔

    اولاد بھی مانگی تو مقصد رب العالمین کا فرمانبرداری اور اسی کی رضا ہی تھی.
    پھر اسی بیٹے کے زریعے آزمائش کا سلسلہ شروع ہوا.
    فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰىؕ-قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ٘-سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۰۲)

    ترجمۂ کنز العرفان

    پھر جب وہ اس کے ساتھ کوشش کرنے کے قابل عمر کو پہنچ گیا توابراہیم نے کہا: اے میرے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں ۔اب تو دیکھ کہ تیری کیا رائے ہے ؟بیٹے نے کہا: اے میرے باپ! آپ وہی کریں جس کا آپ کو حکم دیاجارہا ہے۔ اِنْ شَاءَاللہ عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔

    یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

    سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی
    آج کی ماں ہوتی تو بیٹا باپ کی جدائی کے بعد انتقام لینے باپ کے سامنے کھڑا ہوتا قربان جائیں اس ماں سلام اللہ علیہا کی تربیت پر جب حکم خدا ہو تو کیا اولاد اور کیا گھر بار دنیا کی محبت. سب کی حیثیت بعد میں پہلے بات اللہ کی رضا.
    پھرجب آزمائش کا وقت آیا اور

    فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ(۱۰۳)

    ترجمۂ کنز العرفان

    تو جب ان دونوں نے (ہمارے حکم پر) گردن جھکادی اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹایا (اس وقت کا حال نہ پوچھ)۔

    تفسیر صراط الجنان

    {فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا: تو جب ان دونوں نے (ہمارے حکم پر) گردن جھکادی۔} جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے فرزند نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سر ِتسلیم خم کر دیا اور جب حضرت ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے فرزند کو ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا تو ان کے فرزند نے عرض کی’’اے والد ِمحترم ! اگر آپ نے مجھے ذبح کرنے کا ارادہ کر لیا ہے تو پہلے مجھے رسیوں کے ساتھ مضبوطی سے باندھ لیں تاکہ میں تڑپ نہ سکوں اور اپنے کپڑے بھی سمیٹ لیں تاکہ میرے خون کے چھینٹے آپ پر نہ پڑیں اور میرا اجر کم نہ ہو کیونکہ موت بہت سخت ہوتی ہے اور اپنی چھری کو اچھی طرح تیز کر لیں تا کہ وہ مجھ پر آسانی سے چل جائے اور جب آپ مجھے ذبح کرنے کے لئے لٹائیں تو پہلو کے بل لٹانے کی بجائے پیشانی کے بل لٹائیں کیونکہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ جب آپ کی نظر میرے چہرے پر پڑے گی تو ا س وقت آپ کے دل میں رقت پیدا ہو گی اور وہ رقت اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور آپ کے درمیان حائل ہو سکتی ہے اور اگر آپ مناسب سمجھیں تو میری قمیص میری ماں کو دیدیں تاکہ انہیں تسلی ہو اور انہیں مجھ پر صبر آ جائے ۔حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ’’ اے میرے بیٹے! تم اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے میں میرے کتنے اچھے مددگار ثابت ہو رہے ہو۔ اس کے بعد فرزند کی خواہش کے مطابق پہلے اسے اچھی طرح باندھ دیا، پھر اپنی چھری کو تیز کیا اوراپنے فرزند کومنہ کے بل لٹا کر ان کے چہرے سے نظر ہٹا لی، پھر ان کے حَلق پر چھری چلادی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں چھری کو پلٹ دیا،اس وقت انہیں ایک ندا کی گئی ’’اے ابراہیم ! تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا اور اپنے فرزند کو ذبح کے لئے بے دریغ پیش کر کے اطاعت وفرمانبرداری کمال کو پہنچادی، بس اب اتنا کافی ہے،یہ ذبیحہ تمہارے بیٹے کی طرف سے فدیہ ہے اسے ذبح کر دو۔ یہ واقعہ منیٰ میں واقع ہوا۔( بغوی، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۴ / ۲۸-۲۹، مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ص۱۰۰۶، ملتقطاً)

    جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے فرزند کو ذبح کرنے کیلئے چلے تو شیطان ایک مرد کی صورت میں حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس آیا اور کہنے لگا’’کیا آپ جانتی ہیں کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آپ کے صاحبزادے کو لے کر کہاں گئے ہیں ؟ وہ تو آپ کے بیٹے کو ذبح کرنے کیلئے لے گئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا حکم دیا ہے۔حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: ’’اگر انہیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو پھر اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے رب تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ یہاں سے نامراد ہو کر شیطان حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس پہنچا اور ان سے کہا ’’اے لڑکے!کیا تم جانتے ہو کہ آپ کے والد آپ کو کہاں لے کر جا رہے ہیں ؟ ’’خدا کی قسم! وہ آپ کو ذبح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا’’پھر تو انہیں اپنے رب تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنا چاہئے، مجھے بسر و چشم یہ حکم قبول ہے۔ جب شیطان نے یہاں سے بھی منہ کی کھائی تو وہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس پہنچا اور کہنے لگے’’اے شیخ! آپ کہاں جا رہے ہیں ؟حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ’’اس گھاٹی میں اپنے کسی کام سے جارہا ہوں ۔ شیطان نے کہا’’اللہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ شیطان آپ کے خواب میں آیا اور ا س نے آپ کو اپنا فرزند ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔اس کی بات سن کر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اسے پہچان لیا اور فرمایا’’اے دشمنِ خدا! مجھ سے دور ہٹ جا ،خدا کی قسم ! میں اپنے رب تعالیٰ کے حکم کو ضرور پورا کروں گا۔یہاں سے بھی شیطان ناکام و نامراد ہی لوٹا۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۴ / ۲۳)

    غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم

    نہایت اس کی حُسین ابتدا ہے اسماعیل
    پھر اگلی آیت میں رب العالمین کی جانب سے کامیابی کی بشارت ملی اور مقام کو مزید عروج دیا گیا.
    وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ(۱۰۴)قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَاۚ-اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ(۱۰۵)اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ(۱۰۶)وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ(۱۰۷)وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ(۱۰۸)سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ(۱۰۹)كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ(۱۱۰)اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ(۱۱۱)

    ترجمۂ کنز العرفان

    اور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم!۔ بیشک تو نے خواب سچ کردکھایاہم نیکی کرنے والوں کوایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔ بیشک یہ ضرور کھلی آزمائش تھی۔ اور ہم نے اسماعیل کے فدیے میں ایک بڑا ذبیحہ دیدیا ۔ اور ہم نے بعد والوں میں اس کی تعریف باقی رکھی۔ ابراہیم پرسلام ہو۔ ہم نیکی کرنے والوں کوایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔ بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل ایمان والے بندوں میں سے ہیں ۔

    {وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ: اور ہم نے اسماعیل کے فدیے میں ایک بڑا ذبیحہ دیدیا۔} علامہ بیضاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں اس ذبیحہ کی شان بہت بلند ہونے کی وجہ سے اسے بڑا فرمایا گیا کیونکہ یہ اس نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا فدیہ بنا جن کی نسل سے سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں ۔ (بیضاوی، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۵ / ۲۲)
    بات عشق کی تھی صاحب.
    عشق تو قربانی مانگتا ہے.
    سیرت رسول کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اہل بیت سے واقعہ کربلا سمیت بے شمار واقعات ملتے ہیں. جہاں عشق حقیقی اپنی تکمیل کے لیے پیاروں کے پیار کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے. لیکن بات بہت دور نکل جائے گی. اور سیرت رسول کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع میں اس پر بات ہو گی.

    روح قربانی کیا ہوئی؟
    1. کوئی بھی عمل کیجئے اس کی کامل مقبولیت رضا الہی کی نیت سے مشروت ہے
    انبیاء کرام کی زندگیوں میں اس کی ڈھیروں مثالیں موجود ہیں اور ہم نے اوپر قرآن اور احادیث بھی سے یہی سیکھا ہے.
    2. رب کریم جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسکی آزمائش میں اسکی مدد کرتا ہے اور اسے کامل بنا دیتا ہے اس لئیے صبر اور تحمل سے اس کے فیصلے کا انتظار کیجئے
    ہم نے اوپر قرآن سے یہی سیکھا
    3. قربانی سب سے پیاری چیز کی ہوتی ہم نے اوپر قرآن سے یہی سیکھا
    اس لیے اللہ کی بارگاہ میں خرچ کرتے وقت عمدہ اور بہترین کا انتخاب کیجئے. تاکہ جب وہ اللہ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے تو آپ کے اندر اس کی محبت بھی ہو اور اس پر رب العالمین کی راہ میں دینے والا جزبہ بھی کہ میں اپنی قیمتی چیز جس سے مجھے محبت ہے اپنے رب کی راہ میں اس کے حکم سے اپنی محبت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دیتا ہوں.
    یہی روح_قربانی ہے کہ رب کا حکم نفس کی خواہش پر ہر طرح سے غالب رہے
    والسلام
    تحریر : چوہدری عطا محمد

  • میں قربانی کیوں کروں؟ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    میں قربانی کیوں کروں؟ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    ذی الحج کا چاند نظر آتے ہی جہاں لوگ سنت ابراہیمی کو ادا کرنے کے لیے قُربانی کی تیاریوں کا آغاز کر دیتے ہیں وہیں کچھ مذہب بیزار قسم کے لوگ اس فریضے سے اپنی بیزاری کا اظہار بھی کرتے ہیں، یہ انسانیت کے نام نہاد علمبردار انتہائی جذباتی انداز میں پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ حج و قربانی پر اربوں روپے ضائع کرنے کی بجائے غریبوں کی مدد کی جائے۔

    یہ نام نہاد سکالرز سوشل میڈیا پر طرح طرح کی تاویلیں پیش کرتے ہیں جن میں سے چند ایک آپکی خدمت میں حاضر ہیں۔
    ایک بھائی صاحب کی پوسٹ دیکھی، جس میں وہ فرما رہے تھے کہ اس بار وہ قربانی نہیں کریں گے بلکہ اُنہی پیسوں سے اُنہوں نے ایک واٹر کولر لگوا دیا ہے۔

    کوئی یہ رونا رو رہا تھا کہ غریب ہمسائے کی لڑکی کی شادی کے لئے مدد نہ دینے والے حاجی صاحب دو لاکھ کا بکرا لے آئے ہیں۔ اور ساتھ یہ عزم بھی کیا کہ وہ حاجی صاحب کی طرح قُربانی نہیں کریں گے بلکہ کسی غریب لڑکی کی شادی کروائیں گے۔

    ایک اور صاحب نے لکھا کہ اس بار وہ عید پر قربانی نہیں کریں گے، کیوں کہ انہیں جانور ذبح ہوتے دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے، مزید کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اتنی خوبصورت تخلیق کو کیوں مارا جاتا ہے۔

    ایک بھائی نے لکھا کہ مجھے کافر کہہ لو لیکن مجھے یہ نہیں پسند کہ 72 گھنٹوں میں کئی لاکھ پیارے پیارے اور معصوم جانوروں کا سرِ عام اتنے بڑے پیمانے پر قتلِ عام ہو۔ لیکن ساتھ اس بات پر بھی افسردہ تھے کہ اب کُچھ دن کے لیے انہیں سبزیوں پر گزارہ کرنا پڑے گا۔

    ایک مشہور شخصیت نے پوسٹ کی کہ لوگوں کو عید الاضحی پر لاکھوں جانوروں کو قربان / ذبح کرنے کی بجائے اپنے آئی فون توڑ (قربان کر) دینے چاہیے۔ مزید یہ بھی کہا کہ یہ افسوس ناک ہے کہ ہر سال کروڑوں جانوروں کو قربانی کے نام پر ذبح کر دیا جاتا ہے اور وہ بھی بچوں کے سامنے۔

    جانوروں کے حقوق کی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ اُسے عید الاضحی پر کروڑوں جانوروں کے قتلِ عام پر تشویش ہے، قُربانی کے نام پر بڑے پیمانے پر جانوروں کی نسل کشی کی جاتی ہے، اس سے بہت سارے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جانوروں کی باقیات سے نہ صرف ماحول آلودہ ہوتا ہے بلکہ قربانی کے دوران پانی کے استعمال سے پانی بھی ضائع ہوتا ہے۔

    ایک شخص نے لکھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ایسے لوگ مسلمانوں کے لیڈر بن چُکے ہیں جو قُربانی کی حمایت کرتے ہیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ بجائے قربانی کرنے کے وہی رقم کسی غریب کو عطیہ کر دیں، اور ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہمیں انسانیت کے نام پر پُر امن رہنا چاہئے، اور قربانی کے نام پر نمود و نمائش کی بجائے دوسروں کی مدد کرنی چاہیے۔

    بدقسمتی سے یہ چند بیان کیے گئے نظریات کچھ نام نہاد دیسی لبرل مسلمانوں کے ہیں۔ ایک طرف تو یہ لوگ آزادئ اظہار رائے کا پرچار کرتے ہیں لیکن دوسری طرف یہ دوسروں کے عقائد پر تنقید کرتے ہیں۔ اگر کوئی قربانی نہیں کرنا چاہتا تو نہ کرے لیکن اُسے دین کا مذاق بنانے یا اپنے عقائد اور مذہب پر عمل کرنے کی وجہ سے دوسروں پر تنقید کا کوئی حق نہیں۔

    سوال یہ ہے کہ انسانیت کے ان ہمدردوں کو غریبوں کی مدد کے لئے صرف حج و قربانی ہی کیوں نظر آتی ہے؟

    اپنی بڑی بڑی گاڑیاں، 24 گھنٹے اے سی چلتے کمرے، محل جیسے پرتعیش گھر، ہر رات آباد ہوتے مہنگے ترین ہوٹل، ہزاروں روپوں کا میک اپ، لاکھوں i جیولری اور کاسمیٹیکس، لاکھوں کی مالیت کے موبائل فون کیوں نظر نہیں آتے؟ ان نام نہاد لوگوں کے لیے یہ سب جائز ہے، لیکن سال بھر میں ایک بار قربانی کرنا غلط؟

    قربانی ایک اہم مالی عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے۔ اس عمل کو بڑی فضیلت اور اہمیت حاصل ہےبارگاہ الہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے چلا آ رہا ہے۔

    سورت الحج آیت نمبر 34 میں اللّٰہ نے فرمایا ہے کہ (ترجمہ !) "اور ہم نے ہر اُمت کیلئے قربانی اس غرض کیلئے مقرر کی ہے کہ وہ مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللّٰہ نے اُنہیں عطا فرمائے ہیں”۔

    قربانی کی ایک عظیم الشان صورت اللّٰہ تعالی نے امت محمدیہ ﷺ کو عیدالاضحٰی کی قربانی کی صورت میں عطا فرمائی ہے جو کہ حضرت سیدنا ابراھیم علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے، عید الاضحی پر ایک خاص جانور کو اللّٰہ تعالیٰ کی رضا اور تقرب کی نیت سے سے ذبح کیا جاتا ہے۔

    دین درحقیقت اتباع کا نام ہے اور اصل مقصد اللّٰہ تعالی کے حکم کی بجا آوری ہے، قرآن مجید میں سورت الحج کی آیت نمبر 37 میں بیان کیا گیا ہے کہ ترجمہ ! "اللّٰہ کو ہرگز نہ اُن کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کے خون اور لیکن اُسے تمہاری طرف سے تقوی پہنچے گا۔اسی لئے اس نے اُنہیں تمہارے لئے مسخر کر دیا،تاکہ تم اُس پر اللّٰہ کی بڑائی بیان کرو ،کہ اُس نےتمہیں ہدایت دی اور نیکی کرنے والے کو خوشخبری سنا دیجیئے”۔

    سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کو وسعت ہو (صاحب نصاب ہو) اس کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ (سنن ابن ماجہ )

    جو لوگ مالی وسعت یعنی قربانی کی استطاعت رکھتے ہوئے بھی قربانی ادا نہیں کرتے وہ آنکھیں کھولیں!اور اپنے ایمان کی خیر منائیں، عیدگاہیں اور مساجد اللّٰہ تعالی کی محبوب جگہیں ہیں، جہاں جمع ہونے والوں پر بارگاہ الہی سے رحمت کی برستی ہے، یہاں کی حاضری سے کسی بدنصیب کو ہی روکا جا سکتا ہے۔

    سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو بڑے موٹے تازے سینگوں والے سیاہ و سفید رنگت والے دو خصی مینڈے خریدتے، اُن میں سے ایک اپنے اُن امتیوں کیطرف سے قربان کرتے جنھوں نے اللّٰہ کی توحید اور آپ کی تبلیغ کی گواہی دی،اور دوسرا اپنی اور اپنے اہل وعیال کیطرف سے قربان کرتے ۔

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قربانی کیا کرو اور خوش دلی سے کیا کرو کیوں کہ جب مسلمان اپنی قربانی کا رُخ قبلے کی طرف کرتا ہے تو اس کا خون،گوبر اور اُون قیامت کے دن میزان میں نیکیوں کی صورت میں حاضر کیے جائیں گے۔

    حضرت زید بن ارقمؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! یہ قربانی کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ تمہارے باپ حضرت سیدنا ابراھیم علیہ السلام کی سنت ہے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! اس میں ہمارا کیا فائدہ ہے ؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا (تمہارا فائدہ یہ ہے کہ تمہارے قربانی کے جانور کے)ہر بال کےبدلےمیں ایک نیکی ملے گی ۔ صحابہؓ نے پھر عرض کیا یارسول اللہﷺ !(جن جانوروں کے بدن پر اُون ہے اُس) اُون کا کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اُون کے ہر بال کے عوض میں بھی نیکی ملے گی۔

    ہماری بد قسمتی ہے کہ یہاں ہر دوسرا بندہ دین اور مذہبی معاملات پر بغیر کسی تحقیق رائے دینا اپنا حق سمجھتا ہے۔ آج پاکستانی معاشرے کو ایسے خود کو عقل کل سمجھنے والے نام نہاد سکالرز کا سامنا ہے جو مغربی سوچ سے اس قدر متاثر ہو چکے ہیں کہ یہ ہر چیز کو سیکولرازم کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ انہیں مذہب سے متعلق سب کچھ ہی برا لگتا ہے، انکا حجاب میں دم گھٹتا ہے، ہر داڑھی والا دہشت گرد نظر آتا ہے، مدارس تمام مسائل کی جڑ لگتے ہیں اور قربانی کے وقت انہیں غریب غربا یاد آ جاتے ہیں۔

    ہر سال شادیوں کے نام پر لاکھوں کا خرچہ کرتے وقت ان لوگوں کو غریب کی بیٹی یاد نہیں آتی۔ لاکھوں روپے مالیت کے موبائیل سے غریبوں سے ہمدردی کا ڈھنڈورا پیٹتے انہیں واٹر کولر لگوانا اچھا نہیں لگتا۔ ان کے میک اپ، پرفیوم اور کاسمیٹکس کے لاکھوں کے خرچے سے کئی گھروں کے چولہے جل سکتے ہیں، لیکن اس وقت غریب کا احساس ضروری نہیں ہوتا۔

    عید پر انہیں غریب کی بیٹی کی شادی کی فکر ضرور ستاتی ہے لیکن سارا سال اِن کے بوتیک سے کوئی غریب اپنی بیٹی کی شادی کا جوڑا نہیں خرید سکتا۔ عید پر جانوروں کے ذبح ہونے پر انہیں ظلم ضرور یاد آتا ہے لیکن سارا سال جب یہ گوشت کھاتے ہیں اُس وقت یہ ظلم نہیں ہوتا۔ انہیں قربانی کے وقت پانی کا استعمال ضیاع لگتا ہے لیکن سال بھر اِنکے سوئمنگ پولز میں پانی کا استعمال نظر نہیں آتا، اور انکی مہنگی گاڑیاں ہوا سے دھوئی جاتی ہیں۔

    یہ لوگ فضول خرچی روکنے کے لئے سمارٹ فونز کی خریدو وفروخت پر پابندی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟ بیوٹی پارلرز اور لاکھوں کا ایک ایک جوڑا فروخت کرنیوالے بوتیکوں پر اخراجات کی بجائے غریب بچیوں کے گھر بسانے کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟ پارٹیوں پر لاکھوں خرچ کرنے کی بجائے غریبوں کی مدد کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟

    قربانی کو متنازعہ بنانے والے یہ سیکولر زکوۃ کی ادائیگی کیوں نہیں شروع کرتے؟ دراصل مسئلہ غریبوں کی حمایت کا نہیں ہے، بلکہ ان کو تکلیف صرف سنت نبویﷺ پر عمل کی ہے۔ یہ لوگ سنت نبویﷺ کو بزور طاقت تو نہیں روک سکتے اور نہ ہی براہ راست تنقید کر سکتے ہیں اس لیے یہ لوگ ایک جذباتی ماحول بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بیچارے مغرب کی تقلید میں ان سے بھی بڑھ کر روشن خیال بننے کی کوشش کرتے ہیں۔

    عیدِ قربان نہ صرف ایک مذہبی تہوار ہے بلکہ ایک بڑی معاشی اور فلاحی سرگرمی کا دن بھی ہے۔ عید الاضحٰی کے لیے قربانی کے جانوروں کو بڑے پیمانے پر ملک کے دیہی علاقوں سے ملک کے دیگر بڑے شہروں میں لایا جاتا ہے اور بڑے پیمانے پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ اس طرح اربوں روپے کا سرمایہ شہروں سے دیہی اور زرعی معاشرے میں منتقل ہوجاتا ہے۔

    ہر سال عید الاضحیٰ پر 200 سے 300 ارب روپے تک کی رقم ہر شہری علاقوں سے دیہی علاقوں کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ قربانی کی وجہ سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں عارضی نوکریاں پیدا ہوتی ہیں۔ جانوروں کو منڈیوں اور گھروں میں پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ کے استعمال سے لے کر انہیں چارے کی فراہمی اور قصابوں تک، لاکھوں لوگ اس معاشی سرگرمی کا حصہ بنتے ہیں۔

    مُلک میں چمڑے کی کل ضروریات کا تقریباً 40 فیصد قربانی کے تین دنوں میں پورا ہو جاتا ہے۔عیدِ قرباں پر بیرون ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں بھی اضافہ ہوتا ہے کیونکہ امریکہ اور یورپ سمیت مشرق وسطیٰ میں رہائش پذیر پاکستانی اپنی قربانی کی رقومات پاکستان بھیجتے ہیں تاکہ قربانی کا فائدہ ملک کے پسماندہ طبقات کو ہو۔

    دیکھا جائے تو قربانی دراصل غریبوں کے لئے ہی روزگار پیدا کرتی ہے، بُہت سے لوگ جو گوشت افورڈ نہیں کر سکتے اُنہیں ہر سال عید الاضحی پر کھانے کے لیے گوشت ضرور ملتا ہے، قُربانی کی کھالوں سے ایسے فلاحی ادارے چلتے ہیں جو غریبوں کے بچوں کو پڑھاتے ہیں یا پھر ہسپتالوں میں غریبوں کا مفت علاج کرواتے ہیں۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالی مسلمانانِ عالم کو سنت ابراھیمی ( علیہ السلام) اور سنت رسولﷺ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور قربانی کے مبارک عمل کو بارگاہ جلیلہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے۔

  • حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہ.تحریر: مزمل مسعود دیو

    حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہ.تحریر: مزمل مسعود دیو

    بلال تجھ پر نثار جاؤں کہ خود نبی نے تجھے خریدا
    نصیب ھو تونصیب ایسا غلام ھو تو غلا م ایسا

    آپ کا پیدائشی نام بلال، کنیت ابوعبداللہ تھی۔ والد کا نام رباح اوروالدہ کانام حمامہ تھا، آپ حبشی نژاد غلام تھے اور آپ کی پیدائش مکہ ہی میں پیدا ہوئے، بنی جمح کے غلام تھے۔ آپ کا قد نہایت طویل، جسم چست، رنگ نہایت گندم گوں بلکہ سیاہی مائل، سر کے بال نہایت گھنے خمدار اور اکثر سفید تھے۔

    حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے اس وقت اسلام قبول کیا جب صرف سات آدمیوں کو اس کے اعلان کی توفیق ہوئی تھی جس کی وجہ سے طرح طرح کے مظالم سے ان کے استقلال واستقامت کی آزمائش ہوئی، کبھی تپتی ہوئی ریت پر ننگے بدن لٹایا گیا تو کبھی جلتے ہوئے سنگریزوں اوردہکتے ہوئے انگاروں پر لٹائے گئے۔ ابوجہل ان کو منہ کے بل سنگریزوں پر لٹا کر اوپر سے پتھر کی چکی رکھ دیتا اورجب آفتاب کی تمازت بیقرار کردیتی تو کہتا، بلال اب بھی محمد ﷺ کے خدا سے بازآجا لیکن اس وقت بھی دہن مبارک سے یہی کلمہ احد احد نکلتا۔

    ایک دن بلال کو ایسی ہی اذیتیں دی جا رہی تھیں کہ ادھر سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گذر ہوااور حضرت بلال کی قسمت کا ستارہ چمک گیا۔ آپ سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ پر یہ ظلم برداشت نہ کرسکے۔ لہذا سیدنا ابوبکر سے کہا کہ وہ بلال کو اس مصیبت سے نجات دلائیں۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر نے امیہ بن خلف کو بلال کی منہ مانگی قیمت ادا کرکے خریدا، پھر آزاد کر دیا۔ ایک روایت کے مطابق یہ قیمت ایک کلو سے زائد چاندی تھی۔اس آزادی کے بعد پھر حضرت بلال نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے در کی غلامی کرلی اور اتنا اعلی مقام پایا کہ اللہ کے حبیب نے کہا کہ جب میں معراج پر گیا تو میں نے بلال کے قدموں کی آہٹ جنت میں سنی۔جب ہجرت ہوئی تو مکہ سے نبی پاک کے ساتھ مدینہ چلے گئے۔

    حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ تمام مشہور غزوات میں شریک تھے، غزوۂ بدر میں انہوں نے امیہ کو تہِہ تیغ کیا جو اسلام کا بہت بڑا دشمن تھا اورخود ان کی ایذارسانی میں بھی اس کا ہاتھ سب سے پیش پیش تھا۔

    اسلام کے پہلے مُؤذن کا اعزاز بھی حضرت بلال کے پاس ہے۔حضرت بلال سب سے پہلے شخص ہیں جو اذان دینے پر مامور ہوئے۔سفر میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کھانے پینے کا انتظام بلال کے سپرد ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ایک بار حضرت عمر کے اصرار پر جب بیت المقدس فتح کیا تو اذان کہی۔ اس روز اذان میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام آیا تو غش کھا کر گر پڑے۔ حضرت بلال کی آواز نہایت بلند وبالا ودلکش تھی، ان کی ایک صدا توحید کے متوالوں تک پہنچتی، مرد اپنا کاروبار، اوربچے کھیل کود چھوڑ کرمسجد میں جمع ہوجاتے تو نہایت ادب کے ساتھ آستانہ نبوت پر کھڑے ہوکر کہتے یارسول اللہ نماز تیار ہے، غرض آپ تشریف لاتے اوربلال اقامت کہتے اہل ایمان سربسجود ہونے کے لیے صف بصف کھڑے ہو جاتے۔
    فتح مکہ کے دن نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال سے کہا کہ کعبہ کی چھت پر کھڑے ہوکر اذان پڑھو۔ حضرت بلال نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منہ کس طرف کروں تو
    نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جدھر جدھر میں جاؤں تم بھی اسی طرف گھوم جانا اس طرح اذان مکمل کی۔

    نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پردہ پوشی کے بعد شام کے شہر حلب چلے گئے، کہتے تھے اب مدینہ میں دل نہیں لگتا۔ ایک رات خواب میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی اور آپ نے فرمایا بلال ایسی بھی کیا بے رخی ہمیں ملنے کیوں نہیں آتے۔ صبح ہوتے ہی شہر نبی کی جانب روانہ ہو گئے جونہی حضرت بلال کی اونٹنی مدینہ شریف داخل ہوئی شہر بھر میں شور مچ گیا مؤذن رسول آگئے۔ آپ سیدھے قبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گئے لپٹ کر زارو قطار روئے اور کہنے لگے یارسول اللہ میں آگیا۔
    نماز کاوقت ہوا تو صحابہ نے اصرار کیا کہ اذان دیں تو آپ نے منع کردیا آخرکار حسنین کریمین کے اصرار پر راضی ہوئے اور اذان شروع کی۔ حضرت بلال نے اللہ اکبر کہا تو مدینہ شریف میں کہرام مچ گیا لوگ گلیوں میں روتے ہوئے مسجد نبوی کی جانب چلنے لگے۔ جب اشہد ان محمد رسول اللہ کہا تو منبر رسول کی جانب نگاہ کی ۔ منبر رسول خالی دیکھا تو غش کھا کر گر گئے۔ یہ حضرت بلال کی زندگی کی آخری اذان تھی۔

    کہتے ہیں کہ جب آپکے وصال کا وقت قریب آیا تو نئے کپڑے سلوائے اور سرمہ لگایا۔ لوگوں نے پوچھا آج کیا بات ہے تو کہنے لگے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کا وقت جو آگیا ہے۔ 20 محرم سن 20 ہجری کو یہ ماہتاب عشق نبوی غروب ہوگیا۔دمشق کے محلہ باب الصغیر میں آپ ؓ نے وفات پائی، اس وقت عمر تقریبا تریسٹھ برس تھی۔ آپ کا مزار دمشق میں ہے۔

  • سنہرا پیکج.. تحریر:خنیس الرحمٰن

    سنہرا پیکج.. تحریر:خنیس الرحمٰن

    اللہ رب العزت اپنے بندے سے بہت محبت کرتا ہے. اللہ اپنے بندے کو اپنے قریب کرنے کے مواقع فراہم کرتا رہتا ہے. دوماہ قبل رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہمیں عطاء کیا. کمال کا لازوال پیکج تھا. ہم نے رب کو منایا, مناجات کیں, نیک و صالح اعمال کئے لیکن اللہ کہتا ہے میرے بندے بس تو اتنے میں ہی راضی ہوگیا .نہیں بلکہ دس دن کا تجھے مزید پیکج دے رہا ہوں . تو جی ہاں ذی الحجہ کا بابرکت مہینہ آن پہنچا ہے. کل ذی الحجہ کا پہلا دن ہوگا. لیکن سنئے تو سہی انعامات کون سے ہیں.. پیکج میں کیا کیا اللہ نے ہمیں دیا ہے. سب سے پہلے تو اللہ رب العزت ان ایام کی قسمیں کھاتا ہے. اللہ رب العزت سورۃ فجر میں قسم کی دس راتوں کی قسم کھاتے ہیں. تفسیر طبری میں لکھا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جن دس راتوں کی قسم کھائی ہے ,یہ ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں. پھر ان ایام میں نیک اعمال کرنے والے کے لیے بڑے بڑے انعامات ہیں. ان ایام میں ہر عمل کا دہرا اجر ہے. صحیح بخاری کی حدیث ہے, حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں کیے گئے اعمالِ صالحہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام ایام میں کیے گئے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہیں۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! اگر ان دس دنوں کے علاوہ اللہ کی راہ میں جہاد کرے تب بھی؟ آپ ﷺنے فرمایا: ہاں! تب بھی اِن ہی اَیام کا عمل زیادہ محبوب ہے، البتہ اگر کوئی شخص اپنی جان و مال دونوں چیزیں لے کر جہاد میں نکلا اور ان میں سے کسی چیز کے ساتھ بھی واپس نہ ہوا (یعنی شہید ہوگیاتو یہ افضل ہے)۔اسی طرح اس بابرکت مہینے میں عرفات کا دن بھی اہمیت کا حامل ہے. عرفہ کے دن کی بھی اللہ نے قسم اٹھائی .عرفہ کے دن کے روزے کی بھی بہت اہمیت ہے. حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:”مجھے اللہ تعالی کی ذات سے امید ہے کہ وہ یوم عرفہ کے روزے رکھنے کی صورت میں گزشتہ سال اور اگلے سال کے گناہ بخش دے گا۔اسی مہینے میں سب سے بڑا عمل حج ہے. لیکن کورونا کی عالمی وباء کی وجہ سے کروڑوں مسلمان اس عمل سے محروم ہیں, اللہ رب العزت حالات کو صحیح کرے تاکہ ایک بار پھر حرم کی رونقیں بحال ہوں.

    اسی ماہ مقدس میں سب اہم فریضہ اسوہ ابراہیمی پر عمل پیرا ہونا ہے. قربانی کا وہ عظیم دن ہے جس دن سب جانوروں کی گردنوں پر چھری پھیر کر اپنی انا کو قربان کرتے ہیں. اسماعیل علیہ السلام کی یادگار اطاعت و فرمانبرداری کی سنت کو دہراتے ہیں.
    باقی اس ماہ مقدس میں زیادہ سے زیادہ ذکر و اذکار کو ترجیح دیں.تکبیرات پڑھیں .ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما عشرہ ذوالحجہ میں بازار جا کر تکبیرات کہتے، تو لوگ بھی انکی تکبیروں کے ساتھ تکبیرات کہتے۔ عمر بن خطاب، آپکے صاحبزادے، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما منی کے دنوں میں مسجد، اور خیمہ ہر جگہ بلند آواز سے تکبیرات کہتے، حتی کہ پورا منی تکبیروں سے گونج اٹھتا۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ ساتھ متعدد صحابہ کرام سے مروی ہے کہ وہ عرفہ کے دن [9 ذوالحجہ]کی نماز فجر سے لیکر 13 ذوالحجہ کی عصر تک پانچوں نمازوں کے بعد تکبیرات کہتے تھے، یہ عمل ان لوگوں کیلئے ہے جو حج نہیں کر رہے.

    قارئین! ایک ڈائری یا نوٹ بک لے لیجئے اور ایک ترتیب سے لکھ لیجئے کہ ہم نے اپنے ان دس ایام کو کس طرح سے بہتر بنانا ہے. اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے دے کہ ہم اپنے ان ایام کو بابرکت بناسکیں اور ہمارا یہ پیکج بھی رمضان کے پیکج کی طرح مقبول پیکج ثابت ہو.