Baaghi TV

Category: مذہب

  • تیسری جنس: کچھ مزید وضاحت — ارشد خان صافی

    تیسری جنس: کچھ مزید وضاحت — ارشد خان صافی

    ٹرانسجنڈرز بل پر اپنی گزشتہ گزارشات کے تسلسل میں اور اس سلسلے سیاسی نیم ملاؤں فتویٰ بازی اور سیکولر دیسی لبرلوں کے نیم حکیمانہ نظریات کے تناظر میں مزید کچھ وضاحت پیش خدمات ہے- ٹرانسجنڈرز کے معاملے کو حسب روایت ہمارے وہ نیم حکیم اور نیم خواندہ قسم کے "سیکولر ترقی پسند” پیچیدہ بنا رہے ہیں جو الحاد اور کافرانہ لادینیت کو یا تو اپنی جہالت کی وجہ سے سیکولر ترقی پسندی کہتے اور سمجھتے ہیں یا پھر اپنے نفسیاتی مسائل کی وجہ سے ایک ایجنڈے کہ تحت مذہب بیزاری کو انسانیت دوستی کا لبادہ پہناتے ہیں باوجودیکہ اب تو ساینسدانوں میں بھی اس بات پر اجماع ہے کہ مذھب اور سانس ایک دوسرے کی زد نہیں بلکہ دو مختلف میدان ہیں- سائنس کے میدان کے صائب اہل فکر معاشرتی اقدار اور سماجی علوم کے معاملات میں سائنس کو بنیاد بنا کر فطرت کے خلاف جنگ کو کبھی ترقی پسندانہ سوچ نہیں کہتے ہیں – جو لوگ قران پر ایمان رکھتے ہیں انکےلئے تو یہ مسلہ بہت سادہ ہے کہ الله سبحانہ تعالہ فرماتے ہیں:

    وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ- (الذاريات – 49)
    اور جو چیزیں ہم نے پیدا کیں ان کے ہم نے جوڑے بنائے تاکہ تم نصیحت پکڑو!

    وَمِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً ۗ (الروم آية ۲۱)
    اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی نفس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبّت اور رحمت پیدا کر دی

    سیدھی سی بات ہے کہ سیکولر انسانی تاریخ اور تمام آسمانی کتابیں انسان میں صرف دو جنسوں یعنی مرد اور عورت کے وجود کی تصدیق کرتی ہے- انسانی اور مذہبی تاریخ میں تمام احکامات، اخلاقی ضابطے اور قوانین بھی دو جنسوں اور اصناف یعنی مرد اور عورت یا نراور مادہ کے تقسیم پر مبنی ہے- لہٰذا تیسری جنس اور صنف فطری قوانین کے مطابق بھی خلاف معمول معذوری یا بیماری کا مظہر ہے- اب یہ معذوری طبعی یا حیاتیاتی یعنی بیالوجیکل بھی ہوسکتی ہے جس میں کسی انسان کے ایکس اور وائی کروسوم یا جنسی غدود میں بے قاعدگیوں کی وجہ سے اس میں دونوں جنسوں کے اعضاء یا خصوصیات ظاہر ہوجاتی ہے اور نفسیاتی بھی جس میں کسی ایک صنف یا جینڈر میں میں پیدا ہونے والا فرد بشمول ہم جنس پرستی کے دوسرے صنف میں پیدا ہونے والے افراد کی طرح کا جنسی میلان رکھتا ہے- پہلی قسم جنکو جدید طبی اصطلاح میں ِانٹرسیکس یا بین صنفی ہجڑا اور اسلامی فق کی زبان میں خنثی کہا جاتا ہے تو ظاہر ہے کسی بھی معذور کی طرح انسانی اور اسلامی اخلاقیات کے تحت طبی علاج اور معاشرے کے سہارے کے مستحق ہوتے ہیں اور اس علاج میں جنسی اعضاء کی جراحی یا سرجری بھی شامل ہے- میڈیکل سائنس کی تاریخ میں ایک بھی ایسا کیس نہیں ہے جس میں کسی خنثی کے مردانہ اور زنانہ دونوں اعضاء موثر ہو اسلئے سرجری کے عمل سے ایسے کئی کیسز میں مریض کے موثر جنسی اعضاء رئیسہ کو بحال کرکے انکے اصلی جنس کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے- دوسری قسم جنکا مسلہ نفسیاتی اور اسلام سمیت اکثر مذہب اور روایتی اقدار کے تحت اخلاقی ہے اپنے اعلانیہ جنسی رحجانات کے لحاظ سے کئی صورتوں پر مشتمل ہے جنکیلئیے ماڈرن مغربی یا سیکولر معاشروں میں ہومو سکچول (ہم جنس پرست) ، گے، لزبین اور بائیسکچول جیسے اصطلاحات ہوتے ہیں اور جنھیں اجتماعی طور پر LGBT طبقہ کہا جاتا ہے- اسلامی فقہ میں اس طبقے کو عمومی طور پر مخنث کہا جاتا ہے اور اسلامی نظام عدل صرف انکے غیر فطری احساسات یا رحجانات کو یا محض کسی کے مخنث ہونے کو جرم قرار دیکرانکےلئے کوئی سزا تو تجویز نہیں کرتا لیکن مغربی سیکولر معاشرے کے اقدار کے برعکس اس طبقے کے جنسی ذوق کیلئے معاشرتی اقدار اور قوانین کو بدلنے کی جازت نہیں دیتا- اس میں ان طبقے کے غیر فطری شادیوں کو ناجائز قرار دینے کے ساتھ ساتھ سرجری کے ذریعے قدرتی غدود یا فطری جنسی اعضاء میں تبدیلی پر پابندی بھی شامل ہے-

    مغربی لادین سیکولر قوانین میں اخلاقیات سے مذہبی اور فطری اقدار کی مکمل جدائی کے باعث پیدائشی صنف یا جینڈر اور اپنے ذاتی رحجان یا ذوق کے تحت اختیار کے گیے شعوری سکس یا جنس کو دو مختلف چیزیں قرار دی گئی ہے جبکہ اسلامی قوانین اور اقدار اس طرح کے کسی مصنوعی خود ساختہ شناخت کو تسلیم نہیں کرتے جسکا اثر کسی فرد کی ذاتی جنسی زندگی تک محدود نہیں رہتا بلکہ خاندان کا ادارہ اور معاشرتی اقدار کو متاثر کرتا ہے- پاکستان میں ٹراسنجینڈر بل کو ڈرافٹ کرنے والوں یا تو مسلے کو نوعیت کے متعلق اپنی کم علمی یا جہالت یا پھر کسی ایجنڈے کے تحت اس دونوں متنوع طبقات کو ٹرانسجنڈر کے عمومی اصطلاح کے تحت ایک ہی قانون میں خصوصی حقوق دیے ہیں جس سے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب کے نشان دہی پر بوجوہ شدید قسم کے اعتراضات اور رد عمل آیا ہے جس میں ظاہر ہے سینیٹر صاحب کا مواقف اصولی طور پر درست ہے- مجوزہ بل پر اعتراض کی وجوہات میں اسلامی تعلیمات اور اصولوں کی خلافورزی کے علاوہ ایک جائز اعتراض یہ بھی ہے کہ پاکستانی جیسے معاشروں مذہب کے علاوہ بھی غیر مسلم اور سخت مذہبی رحجانات نہ رکھنے والے افراد اور طبقات کے بھی کچھ حساس معاشرتی روایات ہوتے ہیں- معاشرے کے عمومی اقدار کے خلاف رحجانات یا جنسی زوق رکھنے والوں کی طرف سے بل کے تحت بنے قوانین کے غلط استعمال کے ذریعے ایسے افراد کا اپنی خود ساختہ جنسی شناخت کے تحت معاشرتی میل جول شدید قسم کی معاشرتی پیچیدگیوں اور متشدد جرائم کا باعث سکتی ہے- اسلئے سیکولر معاشروں میں بھی عمومی معاشرتی اقدار کے خلاف ایسے متنازعہ قوانین سے اجتناب کیا جاتا ہے- جہاں تک اسلامی فقہ کی بات ہے تو نیم خواندہ دیسی لبرلوں اور سرخوں کے عمومی تاثر کے برعکس باقی پوسٹ ماڈرن معاشرتی اور قانونی مسائل کی طرح اس معاملے میں بھی اسلامی تعلیمات بانجھ نہیں ہیں- رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں بھی تیسری جنس موجود تھی جنکا ذکر بخاری اور ابو داوود کے روایات میں ملتا ہے- بعض کے نام بھی ملتے تھے جیسے کہ معیت ،نافع ،ابوماریہ الجنّہ اور مابور اور یہ لوگ رسول اللہﷺ کے ساتھ شرائع اسلام ادا کرتےتھے۔ نمازیں پڑھتے ،جہاد میں شریک ہوتے، پورے شہری وں انسانی حقوق رکھتے تھے اور دیگر امور خیر بھی بجا لاتے تھے۔ ان کے کچھ طبقات کی سماجی اقدار کے خلاف حرکتوں کی وجہ سے ان کے خلاف کچھ معاشرتی پابندیاں لگا دی گئی تھی- اسی طرح روایتی اسلامی اصول قانون میں مخنث، خنثی اور ہم جنس پرست کے تین مختلف صورتوں واضح فرق اور متعلقہ احکام آج کے پوسٹ ماڈرن معاشرتی جنسی مسائل میں بھی اسلامی فقۂ کی رہنمائی کیلئے موجود ہیں– اس طرح اگر انسانی حقوق کے نام پر قانون الہی کو کسی طبقے کے ذوق یا نفسیاتی عوارض کی خاطر بدلنے کا اختیار معاشرے اور ریاست کو دے دیا جاے تو پھر تو بچوں کے جنسی زیادتی کرنیوالے اور جنسی یا نفسیاتی تسکین کیلئے کئی اور قسم کے "غیر روایتی” اعمال کو بھی جائز قرار دیکر قانونی تحفظ دیا جاسکے گا جن میں کئی سیکولر اور مکمل لادین معاشروں کے معیار پر بھی بدترین جرائم ہیں-

  • ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے، آتے ہیں جو کام دوسروں کے۔۔۔!!!

    ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے، آتے ہیں جو کام دوسروں کے۔۔۔!!!

    ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے، آتے ہیں جو کام دوسروں کے۔۔۔!!!
    تحریر: شوکت ملک
    اس نفسا نفسی، مفاد پرستی اور خود غرضی کے دور میں بھی کچھ فرشتہ صفت اللّٰہ پاک کے محبوب بندے ابھی تک دنیا میں موجود ہیں، جو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کےلیے بھی جیتے ہیں، ایسی ہی ایک خوش شکل، خوش لباس، با اخلاق، انسانی خدمت کے جذبے سے لبریز، درد دل رکھنے والی عاجزی و انکساری سے بھرپور شخصیت ملک فضل الرحمٰن کی بھی ہے، جوکہ لذیذہ مرغ پلاؤ راولپنڈی و اسلام آباد کے چیف ایگزیکٹو اور ق لیگ کی یوتھ ونگ کے سینئر عہدے دار بھی ہیں، ملک صاحب سے غیبی شناسائی ہے اور وقتاً فوقتاً بذریعہ فون کالز، میسجز ان سے بات ہوتی رہتی ہے، یہ میری بدقسمتی ہے کہ تاحال ان سے بالمشافہ ملاقات نہ ہو سکی، موجودہ دور میں پیسہ، مال و دولت تو ہر ایرے غیرے کے پاس موجود ہے مگر میں نے اپنی چند سالہ زندگی میں ملک فضل الرحمٰن جیسی غرور و تکبر سے پاک، عاجزی و انکساری سے بھرپور شخصیت نہیں دیکھی، جوکہ ہر چھوٹے، بڑے، امیر و غریب سے یکساں برتاؤ رکھتے ہوئے خصوصی شفقت فرماتے ہیں۔ ملک صاحب چاہے کورونا جیسی موذی وباء ہو، مری میں بدانتظامی کے باعث انسانی جانوں کا ضیاع ہو یا سیلاب جیسی ناگہانی آفت ہمہ وقت دکھی انسانیت کی خدمت میں پیش پیش رہتے ہیں، شاید یہی صفت ہی اصل میں ان کی کامیابی کی کنجی ہے کہ اللّٰہ تعالٰی نے ان کو دنیا کی تمام نعمتوں اور آسائشوں سے نواز رکھا ہے۔ جب بھی ملک صاحب سے کسی غریب و لاچار کی مدد کی درخواست کی انہوں نے بلاحیل و حجت دل کھول کر تعاون کیا، شاید ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حضرت علامہ اقبال اپنی نظم "ہمدردی” میں کئی سال پہلے فرما گئے تھے کہ:
    ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
    آتے ہیں جو کام دوسروں کے
    دعا ہے اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ملک صاحب کی جان، مال و اولاد، کاروبار اور زندگی میں مزید برکتیں عطاء فرمائے اور یونہی دکھی انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین

  • ٹرانس جینڈر ایکٹ کیا اور اس کی مخالفت کیوں ضروری ہے؟ — شہنیلہ بیلگم والا

    ٹرانس جینڈر ایکٹ کیا اور اس کی مخالفت کیوں ضروری ہے؟ — شہنیلہ بیلگم والا

    کوشش کر رہی ہوں کہ اس بات کو عام فہم انداز میں سمجھا سکوں.

    دنیا کا کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا. بعض کجیاں واضح ہوتی ہیں اور بعض غیر واضح. بعض ہمارے معاشرے میں بآسانی تسلیم کر لی جاتی ہیں. جیسے اپنی مثال دیتی ہوں. میری نظر آٹھ سال کی عمر میں ہی کمزور ہوگئی تھی. امی نے فوراً ہی میری آئی سائٹ چیک کروائی. ڈاکٹر سے پوچھ کر ہر وہ خوراک کھلائی جس سے نظر تیز ہو. یہ زیادہ تر گھروں میں عام رویہ ہوتا ہے. اسی طرح اگر کوئی لڑکا یا لڑکی جنس مخالف کی طرح حرکتیں کرتا/ کرتی ہے، تو گھر والوں کو اس، کا سدباب کرنا چاہیے. یہاں پہ لڑکے کی مثال اس لیے دے رہی ہوں کہ یہ مثالیں ہمارے اردگرد زیادہ ہیں. اگر کسی گھر میں بہنیں زیادہ ہیں تو اکلوتا لڑکا ہر وقت ان کے ساتھ بیٹھ بیٹھ کر لڑکیوں کی عادات و حرکات نادانستگی میں اپنا لیتا ہے اور اگر شروع میں ہی اس کا سدباب نہ کیا جائے تو عمر بڑھنے کے ساتھ یہ عادتیں پختہ ہوتی جاتی ہیں. پھر ایسے لڑکے جانِ محلہ کہلاتے ہیں. ان کو ایکسپلائٹ کرنے میں خاندان اور محلے کے اوباش اور بدفطرت لوگوں کا بہت بڑا، ہاتھ ہوتا ہے.

    یہاں بات مکمل مرد اور عورت کی ہو رہی ہے خواجہ سراؤں کی نہیں خواجہ سراؤں کی اس وقت جو حالت ہے اس کے زمہ دار ہم سب ہیں. ہم نے انہیں تفریح طبع کا سامان بنا کر رکھ دیا. ان کا پورا حق ہے کہ انہیں بھی ہر طرح کے مواقع ملیں جو کسی بھی مرد یا عورت کو ہمارے معاشرے میں حاصل ہیں. اس کے لیے ہر قسم کی قانون سازی ضروری ہے لیکن ان کی آڑ میں جو مزموم سازش رچائی جا رہی ہے اس کے لیے آواز اٹھانا انتہائی اہم ہے.

    اس قانون سے وہ لوگ فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں جو مکمل مرد اور عورت ہیں لیکن اپنی جنس سے خوش نہیں. صاف لفظوں میں بیان کیا جائے تو ان کو ہم جنس پرستی کی آزادی چاہیے. میں یہ نہیں کہتی کہ یہ ہمارے معاشرے میں نہیں ہے لیکن کیا جو گناہ اور جرم ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے اس کو قانونی جواز اور اجازت دے دیں.

    جس فعل کے بارے میں قرآن پاک میں تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے. آپ اس کو شخصی آزادی اور ترجیح کے نام پر حلال نہیں کر سکتے. ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں دین کی معمولی شد بدھ رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ یہ حرام ہے. جو کرتے ہیں وہ بھی جانتے ہیں.. اس کے باوجود یہ ہمارے معاشرے میں پنپ رہا ہے. اگر اس کو قانونی استحکام مل گیا تو سوچییے کیا حشر ہوگا. یہ لمحہ فکریہ ہے. اس پہ آواز اٹھانی ہے. یہ ہماری نسلوں کی بقا اور ہماری آخرت کا معاملہ ہے.

  • پاکستان میں بننے والے ٹرانس جینڈر ایکٹ پر تفصیلی تحریر — شہیر احمد

    پاکستان میں بننے والے ٹرانس جینڈر ایکٹ پر تفصیلی تحریر — شہیر احمد

    خواجہ سرا یا مخنث ایک قابلِ رحم اور قابلِ توجہ جنس ہے، ظاہر ہے کہ ان کی تخلیق میں ان کا اپنا کوئی کردار یا اپنی کوئی خامی نہیں، وہ بھی اللّٰہ کی مخلوق ہیں اور اس لحاظ سے بد قسمت ہیں کہ ان پر گھر والوں کی محبتوں اور توجہ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، بہن بھائیوں میں وہ اچھوت بن جاتے ہیں، باپ اور دیگر رشتہ دار ان کی وجہ سے شرمندہ سے رہتے ہیں، ایسے بچے کسی حد تک ماں کا پیار تو سمیٹتے ہیں، لیکن وہ تعلیمی اداروں میں جا سکتے ہیں نہ اپنی خاندانی تقریبات میں شامل ہوتے ہیں، گھروں میں ان کو علیحدہ رکھا جاتا ہے، بڑے ہوں تو ان پر صرف ناچ گانے یا بھیک مانگنے کا ہی راستہ کھلا رکھا جاتا ہے، ظاہر ہے کہ اس صورتحال میں ان کے انسانی حقوق کا تحفظ انتہائی ضروری ہے

    2018ء میں مسلم لیگ ن کی حکومت میں پاکستان قومی اسمبلی میں ٹرانس جینڈر ایکٹ پیش ہوا، سپیکر ایاز صادق اور صدر ممنون حسین کی منظوری سے پاس ہوا، ڈرائیونگ لائسنس بنانے اور ہراسانی سے تحفظ کی سہولت ملی اور ان سے بھیک منگوانے والے پر پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا بھی متعین کی گئی

    چونکہ ایسے قوانین کے پیچھے بیرونی عطیات پر چلنے والی این جی اوز ہوتی ہیں اور وہ غیر ملکی ایجنڈے لے کر چل رہی ہوتی ہیں، اس لئے بظاہر خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کے اس ایکٹ کی آڑ میں دو ایسی کلاز رکھی گئیں جس سے اس قانون کے اصل مقاصد پس منظر میں چلے گئے اور خواجہ سراؤں کے بجائے یہ قانون ہم جنس پرستوں کے تحفظ کا قانون بن گیا

    ٹرانس جینڈر ایک مغربی اصطلاح ہے اور یہ ایک پوری تہذیب کی نمائندگی کرتی ہے، اس تہذیب کا نام ہے +LGBTQ یعنی لزبین، گے، بائی سیکسوئیلی اور ٹرانس جینڈر۔ یہ ایک کمیونٹی ہے، ایک منفی کلچر ہے، ایک بد تہذیبی ہے۔ مکمل جنسی آوارگی اور بے راہ روی کے شکار اور دلدادہ اس کلچر کو خواجہ سراؤں سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ وہ انہیں بھی ایک سیکس گروپ کے طور پر لیتے ہیں

    چنانچہ 2018ء کے ایکٹ کی ایک شق میں جنس کے تعین یا جنس کی تبدیلی کا اختیار خود فرد کو دے دیا گیا ہے، اس میں خواجہ سرا کی قید بھی نہیں، یعنی کوئی بھی مرد نادرا کو درخواست دے کر اپنی جنس عورت کروا سکتا ہے اور کوئی سی عورت مرد بن کر اپنا نادرا کارڈ بنوا سکتی ہے، ہم جنس پرستی اور ایک ہی جنس کے افراد کی باہمی شادی کا قانونی راستہ کھول دیا گیا ہے، اب قانون کوئی گرفت نہیں کر سکتا، کوئی بھی مرد عورت کا قومی شناختی کارڈ بنوا کر عورتوں کی سیٹ پر ملازمت حاصل کر سکتا ہے، خواتین کے تعلیمی اداروں میں ٹیچر لگ سکتا ہے، لیڈیز واش روم استعمال کر سکتا ہے، خواتین کی مجالس میں جا سکتا ہے، اور کوئی بھی عورت مرد بن کر وراثت میں اپنا حصہ بھائیوں یا بیٹوں کے برابر لے سکتی ہے

    اب یہ پارلیمنٹ کی دیگر مذہبی جماعتوں کے ممبران، مذہبی تنظیموں، سماجی و تعلیمی اداروں کے سربراہوں، وارثانِ منبر و محراب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ایکٹ میں ترمیم کو منظور کرنے اور نادرا کے ڈیٹا میں خواجہ سرا کی جنس لکھنے سے پہلے طبی معائنے کو لازمی کرنے کیلئے حکومت، ممبرانِ پارلیمینٹ اور سیاسی جماعتوں پر زور دیں کہ اس تہذیبی شب خون کا راستہ روکیں۔ حکومت اور پارلیمنٹ پہلے مرحلے میں اسے اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھیجنے کا فیصلہ کرے کہ وہ بہرحال ایک آئینی ادارہ ہے

    اور یہ محض خدشات نہیں ہیں بلکہ 2018ء کے بعد سے تین سال میں نادرا کو جنس تبدیلی کی تقریباً 29 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، ان میں سے 16530 مردوں نے اپنی جنس عورت میں تبدیل کروائی جبکہ 15154 عورتوں نے اپنی جنس مرد میں تبدیل کروائی، خواجہ سراؤں کی کل 30 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 21 نے مرد کے طور پر اور 9 نے عورت کے طور پر اندراج کی درخواست کی

    سینیٹر مشتاق احمد خان کے پیش کئے گئے ترمیمی بل میں مطالبہ ہے کہ خواجہ سراؤں کی جنس کے تعین کو میڈیکل ٹیسٹ کے ساتھ مشروط کیا جائے۔ یعنی مرد سرجن، لیڈی سرجن اور ماہرِ نفسیات پر مشتمل بورڈ یہ فیصلہ کرے کہ یہ مخنث ہے اور اس کا اندراج کس طرف ہونا چاہیے۔ خنثی مرد، خنثی عورت اور خنثی مشکل فقہی اصطلاحات ہیں اور اس کے باقاعدہ شرعی اصول و ضوابط ہیں

    خود برطانیہ میں 2004ء کے جنسی تعین کے ایکٹ میں طبی معائنے اور طبی سرٹیفکیٹ کو لازم قرار دیا گیا تھا، جبکہ پاکستان ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018ء کے لحاظ سے کسی میڈیکل بورڈ کی رائے کے بغیر اپنی صوابدید پر مرد سے عورت یا عورت سے مرد بننے اور تبدیلی جنس کا آپریشن کروانے کی کھلی چھٹی ہے اور اس کے نقصانات واضح ہیں

    (یہ تحریر لائرز آف پاکستان کی مدد اور نادرا کی تصدیق کے ساتھ لکھی گئی ہے)

  • اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) — ضیغم قدیر

    اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) — ضیغم قدیر

    اگر مجھے یہ پوچھا جائے کہ ضیغم قرآن پاک میں سے تمہاری پسندیدہ آیت کونسی ہے تو میں لا محالہ آنکھیں بند کئے پڑھ دونگا کہ

    اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲)

    کیونکہ قرآن پاک میں میری موسٹ فیورٹ آیت یہی ہے۔ میرے نزدیک یہ آیت آیت نہیں ایک فلسفہ حیات ہے۔

    وہ فلسفہ حیات جسے سمجھتے ہوئے ہم اکثر عمریں بیتا دیتے ہیں۔ لیکن ہم وہ باتیں سمجھ نہیں پاتیں۔ لیکن اکثر لوگوں کیساتھ یہ ہوتا ہے کہ ان کو کچھ بتانے والے بتا جاتے ہیں اور وہ جہاں عمر بھر کی محنت کرنے سے بچ کر ایک چیز سیکھ جاتے ہیں تو وہیں ان کو بہت سی ایسی غلطیوں سے بچنے کا موقعہ مل جاتا ہے۔

    یہ آیت کیا ہے؟

    یہ آیت دراصل ایک درس ہے۔ زندگی جینے کا درس، اس کا سادہ ترجمہ یہی ہے کہ انہیں نا خوف ہوتا ہے نا وہ غمگین ہوتے ہیں مطلب انہیں کوئی غم یا اندیشہ نہیں ہوتا ہے۔

    لیکن یہاں خوف کس کا ہوتا ہے اور اندیشہ کیونکر لاحق ہو جاتا ہے یہ جاننا بہتر ہے اور یہ دو سال پہلے ایک کال ڈسکشن پہ جاننے کی کوشش ہوئی۔

    بتانے والے نے بتایا کہ غم ہمیشہ ماضی کا ہوتا ہے۔ وہ غم جو ہمیں ڈراتا ہے، ماضی کی باتوں سے، ان لمحوں سے جو ناپسندیدہ ہوں، جو ہماری چاہ سے ہٹ کر گزرے ہوں یا وہ امکانات جو ہماری دسترس میں نا آسکے ان کا پچھتاوا ہوتا ہے۔ یہ غم ہمیں ساری زندگی ایک پنجرے میں مقید کئے رکھتا ہے۔

    بہتے ایسے ہوتے ہیں جو اپنے ماضی سے نہیں نکل سکتے ان کو انکا ماضی اپنے سحر میں جکڑے ڈستا ہے بالکل ویسے ہی جیسے کہانیوں میں آپ نے سنا ہوگا کہ کوبرا آپ کو ہپناٹائز کرکے ڈستا ہے۔ یہ ماضی بھی آپ کو ہپناٹائز کرتا ہے اور پھر تب تک ڈستا ہے جب تک موت نہیں آ جاتی۔ آپ کا ہر لمحہ تکلیف میں گزرتا ہے ہر سیکنڈ کرب میں گزرا سیکنڈ ہوتا ہے۔

    وہیں جن میں یہ غم نہیں ہوتا ان میں خوف ہوتا ہے۔ خوف کس چیز کا ہو سکتا ہے؟ اور مستقبل ہی کیوں اس خوف کی بہترین تفسیر ہو سکتا ہے؟ اس لئے کہ یہ بھی ساحر ہے، غم سے بڑا ساحر، جو آپ کو مقید کئے رکھتا ہے ان اندیشوں میں جو نا ہوئے واقعات کو اپنی لپیٹ میں لیکر آپ کی سانس تنگ کر رہے ہوتے ہیں ان لمحات کے اندیشے جو کبھی ہو ہی نہیں سکتے، یہ اگر مگر کیسے کی سوچ ہے جو ان اندیشوں کی بنیاد رکھتی ہے۔

    اب یہاں وہ لوگ کون ہیں جو یہ خوف نہیں رکھتے، یہ غم نہیں رکھتے؟ یہ لوگ دراصل خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں۔ وہ لوگ جنہیں قرب خداوندی حاصل ہے وہ ماضی کے خوف سے مبرا اور مستقبل کے اندیشوں سے خالی ہو کر جیتے ہیں۔

    انہیں غم نہیں ہوتا کہ ماضی کیا گزرا ہے اور خوف نہیں ہوتا کہ مستقبل کیسا ہووے گا۔ وہ اس غم سے نکل چکتے ہیں کہ کاش ایسا کیا ہوتا تو ایسا ہو جاتا اور وہ اس اندیشے سے چھٹکارہ پا چکے ہوتے ہیں کہ اگر یوں ہو جائے تو۔ وہ بس حال میں جیتے ہیں وہ حال جو ماضی کے پچھتاوں اور مستقبل کے اندیشوں سے پاک ہو۔ وہ ایک پرسکون حال میں جیتے ہیں جس میں مستقبل کی تیاری تو ہوتی ہے مگر خوف نہیں ہوتا۔ وہ ایک پرسکون زندگی جی رہے ہوتے ہیں۔

    مجھے نہیں معلوم کون کتنا خدا کے قریب ہے اور کون نہیں نا ہی مجھے یہ جاننے کی تمنا ہے مگر مجھے اتنا علم ضرور ہے کہ یہ آیت ایک گتھی سلجھا چکی تھی وہ گتھی جو زندگی کی ڈوروں نے الجھا کے رکھی ہوئی تھی۔ مستقبل یا ماضی کے اندیشوں اور خوف سے آزاد ہو کر جینا ہی اصل جینا ہے۔

  • ابدی خدائی اصول — عمر یوسف

    ابدی خدائی اصول — عمر یوسف

    میری بیٹی اب باتیں کرنا شروع ہوگئی ہے ۔ ابتدائی مراحل میں وہ کئی الفاظ ایسے مبہم انداز میں بولتی ہے کہ بالکل سمجھ ہی نہیں آتی ۔ میری اہلیہ بہر حال سمجھ جاتی ہیں اور مجھے بتا دیتی ہے ۔ کچھ الفاظ ایسے ہیں جو دیگر احباب کو سمجھ نہیں آتے لیکن مجھے آجاتے ہیں اور میں ان کو وضاحت کردیتا ہوں ۔

    چونکہ اہلیہ محترمہ کا سارا وقت بیٹی کے ساتھ گزرتا ہے تو وہ سب کچھ سمجھ لیتی ہیں ۔ میرا وقت گزارنے کا تناسب کم ہے تو مجھے اس کی کم باتیں سمجھ آتی ہیں ۔ اور جو ایسے ہیں کہ بالکل ہی تھوڑا وقت گزارتے ہیں ان کو بالکل تھوڑی باتیں سمجھ آتی ہیں ۔
    اس سادہ سی بات میں زندگی کا سادہ مگر اہم اصول چھپا ہے ۔

    انسان شعبہ ہائے زندگی کے جس شعبہ پر اپنی انرجی اور وقت زیادہ صرف کرتا ہے وہ اس میں مہارت تامہ حاصل کرلیتا ہے ۔

    انسان کسی ماہر کو دیکھ کر احساس کمتری کا شکار ہونے کی بجائے اس حقیقت کو جان لے کہ وہ ماہر زندگی کا ایک حصہ صرف کرکے یہ مہارت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ۔ کوئی بھی یہ مہارت حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ وہ زندگی کا ایک خاطر خواہ حصہ اس حصول پر لگائے ۔

    اگر کوئی ایسا ہے کہ وقت لگانے کے باوجود کم سمجھ رہا ہے تو اس کا مطلب وہ وقت کا کم تناسب اس شعبہ میں لگارہا ہے ۔ اور جسے بالکل ہی کسی شعبہ کے متعلق سمجھ بوجھ نہیں تو اس کا مطلب یہ ایسا شخص ہے جس نے حصول کی ذرا برابر بھی زحمت نہیں کی ۔ یہ دنیا give اور take کے اصولوں پر کارفرما ہے یہاں جو کوئی جتنا حصہ ڈالتا ہے اسی کے بقدر وصول کرتا ہے ۔ ثمرات و فوائد آسمان سے کسی کی جھولی میں نازل نہیں ہوتے ۔ یہ میسر ضرور ہوتے ہیں لیکن انہیں کو جو اس کو پانے کی سعی و کوشش کرتا ہے ۔

    انسان اگر کائنات کے خدائی اصولوں کو سمجھ لے تو وہ زندگی کے بہت سارے معاملات میں پریشان و حیران ہونے سے بچ سکتا ہے ۔
    کیونکہ جب اصول سمجھ آجاتے ہیں پھر حیرت و پریشانی کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور انسان اقدام کی درست سمت کو جان لیتا ہے ۔

  • احسان — عبداللہ سیال

    احسان — عبداللہ سیال

    احسان کو اگر بطور ہم قافیہ انسان کے دیکھا جائے تو اس کا مفہوم واضح ہونے میں تمام تر مشکلات زائل ہوجاتی ہیں. یعنی انسان وہ ہے جو احسان کرتا ہے. بالکل اسی طرح احسان کو بطور ہم قافیہ حیوان کے دیکھا جائے تو اس کا مفہوم مزید واضح ہو جاتا ہے. یعنی جو احسان نہیں کرتا، وہ حیوان ہے.

    لفظ احسان کو توڑ کر تفصیل نچوڑی جائے تو اس لفظ کے ہر حرف نے اپنے اندر ایک وسیع معنی سما رکھا ہے.

    ا سے انسانیت
    ح سے حاصل
    س سے سویرا
    ا سے اندھیرا
    ن سے نزول

    تشریح اس کی یوں کرتا ہوں کہ احسان، ایک ایسا عمل جس کی بدولت معاشرے میں ہر انسان کو دوسرے انسان سے سویرے و اندھیرے انسانیت حاصل ہوتی رہے، یوں کہ جیسے صبح و شام معاشرے پر انسانیت کا نزول ہو رہا ہو. انسانیت سے لبریز، اخلاقی اقدار سے بھرپور ایک معاشرہ جہاں انگلی کا زخم پورے جسم کو تھکا دے اور جہاں دل کا گھاؤ آنکھوں کو رلا دے، احسان اور احسان مندی سے ہی وجود میں آسکتا ہے.

    یہی وجہ ہے کہ آفاقی ذریعۂ ہدایت، جو تاقیامت انسانوں کیلئے مشعلِ راہ ہے، میں خالقِ انسان، انسان کو مخاطب کرکے احسان کی تلقین کرتا ہے اور پھر وہ جو محسن ہوں، ان  کو پسندیدگی کی سند بھی تھما دیتا ہے کہ

    "ان اللہ یحب المحسنین.”

    اب جس کو رب العزت کی پسندیدگی چاہیے تو اسے چاہیے کہ احسان کرے اور جو اس پسندیدگی کا پاس رکھنا چاہے، اسے چاہیے کہ مزید احسان کرے اور امر ہوجائے.

    خود رب العالمین نے احسان کیا جو ڈوبتی کشتئ انسانیت کو پار لگانے کے واسطے اپنے محبوب کو ناخدا بنا کر بھیج دیا.

    اسی مسیحا کے ذریعے انسان کو نیکی کا حکم دیا گیا. بہت سی نیکیوں میں احسان کو سب سے بڑی نیکی مانتا ہوں. اس لیے کہ یہ وہ نیکی ہے جو فرض نہیں تھی. فرض تو فرض ہوتا ہے، فرض ادا کیا تو کیا احسان کیا؟ لیکن اگر بغیر کہے، بنا پوچھے کسی پر احسان کر دیا تو یہ اصل نیکی ہے جو کیے جانے والے شخص کو ہمیشہ اپنے محسن کو یاد رکھنے پر مجبور کردیتی ہے.

    روئے حدیث سے اس بات پر مہر ثبت ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے. چنانچہ توفیق خداوندی سے احسان کرنے والا ہمیشہ ایک درجہ اوپر رہتا ہے اور جس پر احسان کیا جائے، وہ مغلوب ہوتا ہے. یہ امر بھی واقعی ہے کہ مغلوب جو ہوتا ہے، اس کو رہ رہ کر غالب اور کارہائے غالب، جو غالب نے مغلوب کی مدد کیلئے کیے ہوں، یاد آتے ہیں.

    چنانچہ وہ جو احسان کرتے ہیں، اپنے احسانات سمیت ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں اور صفحۂ ہستی پر ان کے ان مٹ نقوش رہ جاتے ہیں.
    لب لباب یہ کہ انسان کو چاہیے حتیٰ المقدور احسان کرتا جائے. نہ احسان کے بدلے احسان قبول کرے نہ احسان کے انکار پر آگ بگولہ ہو، کیونکہ دونوں صورتوں میں وہ درجۂ احسان سے گر جاتا ہے اور کبھی یاد نہیں کیا جاتا.

  • نبوی نظام تعلیم کا موجودہ تعلیم سے تقابل — عمر یوسف

    نبوی نظام تعلیم کا موجودہ تعلیم سے تقابل — عمر یوسف

    نبی کریم ص کی نبوی زندگی مبارکہ کے دو حصے ہیں ایک مکی اور دوسرا مدنی دور ۔۔۔

    مکی زندگی میں نظام تعلیم اتنے موثر انداز میں نہیں تھا تاہم درسگاہ ابی بکر ، درس گاہ فاطمہ ، درسگاہ دار ارقم اور شعب ابی طالب میں آپ ص نے اپنے اصحاب اور دیگر لوگوں کی تربیت کا خوب اہتمام فرمایا ۔ ہجرت کے بعد آپ ص نے جب مسجد نبوی کی تعمیر فرمائی تو ایک حصہ ایسے لوگوں کے لیے مختص کیا گیا جو بے گھر مسلمان تھے ۔ یہی وہ مقام تھا جہاں نہ صرف بے گھروں کو گھر میسر آیا بلکہ اصحاب صفہ کی تربیت کا بھی اہتمام کیا گیا ۔

    چنانچہ اصحاب صفہ کی تعمیر کے ساتھ ہی منظم تعلیم و تربیت کا آغاز ہوا ۔اور یہ وہ تربیت تھی جس کے ایسے شاندار اثرات نمایاں ہوئے کہ لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب آگیا ۔

    ایسے عظیم لوگوں کی جماعت قائم ہوئی جن کی نظیر زمانے میں ملنا مشکل ہے ۔ ان کے دور کو سنہرا دور کہا جاتا ہے اور آج کا عقل و شعور رکھنے والا انسان دنگ رہ جاتا یے کہ ایسے زمانے اور حالات میں اس طرح کی قوم کا منصہ شہود پر آنا کسی معجزے سے کم نہیں ۔
    اور یہ حیرت انگیز کام نبوی نظام تعلیم کی بدولت ممکن ہوا ۔

    یہ وہی تربیت ہے جس نے کہیں عمر رض جیسے عادل کہیں ابو طلحہ انصاری جیسے ایثار پسند کہیں مال و دولت کو راہ خدا میں لٹانے والے عثمان غنی کہیں بہادری و شجاعت کے علمبردار حضرت علی اور جری و مجاہد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنھم پیدا کیے ۔

    اس کے برعکس موجودہ نظام تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو کھوکھلی عمارت نظر آتی ہے ۔ کہیں الحاد کے شاخسانے کہیں بے حیائی کے فسانے کہیں لبرل ازم کے افکار کہیں سیکولرازم کے انظار کہیں احساس کمتری کے شکار اور کہیں بے دینی کے مینار نظر آئیں گے ۔

    دن بدن بڑھتی ہوئی نشہ آوری کہیں چوٹی پر چڑھتی ہوئی بے حیائی اور کہیں خودکشیوں کے گھناونے ارتکاب کرتے ہوئے طلباء موجودہ نظام تعلیم کے کھوکھلے پن کو ثابت کرتے ہوئے دکھائی دیں گے ۔

    ڈگریوں کو لیے دربدر تلاش نوکری کے ستائے لوگ مایوسیوں کی وادی میں نظر آئیں گے ۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ علم علم نہیں بلکہ معلومات ہے یہ تربیت نہیں بلکہ پیسے کمانے کے بہانے ہیں ۔

    جب نظام تعلیم نبوی اصولوں پر مبنی نہیں ہوگا تو اس معاشرہ فلاح و بہبود کی طرف جانے کی بجائے ہلاکت و تباہی کے طرف جائے گا۔

    موجودہ معاشرے میں نظام تعلیم اسی صورت موثر ہوسکتا ہے جب نسل کے اذہان و قلوب میں ایمان کے چراغ اللہ کا خوف و تقوی اور اسلام کی بالادستی کو راسخ کیا جائے گا ۔

  • شریعتِ محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی خوبصورتی اور حقانیت کی بنیاد — بلال شوکت آزاد

    شریعتِ محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی خوبصورتی اور حقانیت کی بنیاد — بلال شوکت آزاد

    شریعتِ محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی خوبصورتی اور حقانیت کی بنیاد جانتے ہیں کیا ہے؟

    اس کا ہماری خواہشات و توقعات کے تابع نہ ہونا اور ہماری فطرت اور جبلت کے عین مطابق ہونا ہے۔

    لچک اور حجت اس دین کا خاصہ ہے جبکہ چمک اور شدت کا اس سے دور کا بھی رشتہ نہیں۔

    اب ذرا غور کریں کہ ہم اس وقت جس اسلام (کہنا تو مسلک, فرقہ اور جماعت چاہیے پر چلو۔ ۔) پر کاربند ہیں کیا وہ ہماری فطرت اور جبلت کے مطابق ہے اور اس پر ہماری خواہشات اور توقعات اثر انداز نہیں؟

    کیا اس میں لچک اور حجت غالب ہے یا چمک اور شدت سے لبریز اسلام ہے ہمارے پاس؟

    اسلام کوئی راکٹ سائنس نہیں یہ بات ازحد ضروری ہے سمجھنے اور ماننے کے لیے لیکن ایسا تب تک ممکن نہیں جب تک ہمارا اسلام (درحقیقت مسالک وغیرہ یا مبینہ اسلام) اس کسوٹی پر پورا نہ اترے کہ فطرت اور جبلت کے مطابق ہے اور ہماری خواہشات و توقعات کے تابع نہیں بلکہ ہماری خواہشات و توقعات اس کے تابع ہیں۔

    اسلام جذبات کی نمائش کا دین نہیں تھا لیکن ہماری صورتحال یہ واضح کرتی ہے کہ یہ ایک جذباتی دین ہے جو کہ سراسر غلط اور تعمیر شدہ تصویر ہے۔

    ہمارے متشدد جذبات و احساسات کا غلبہ ہمارے دین اور امت کی حالت زار کا اصل ذمہ دار ہے۔

    اسلام نے کسی عمل کو شدت سے جوڑنے اور اس پر فخر کا حکم یا مشورہ نہیں دیا لیکن ہم ہیں کہ ہماری ہر بات ہی کاٹنے پیٹنے اور مار ڈالنے سے شروع ہوتی ہے تو اختتام کیسے اچھا اور خوشنما ہو؟

    بہرحال موحودہ دور میں اسلام سے اسلام کے نام پر مخصوص طبقے کا کھلواڑ جاری ہے جو اسلام کو بطور اوزار اور ہتھیار ذاتی مفادات کی جنگ جیتنے کا ذریعہ بنا کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم نہ ہوئے تو اسلام عنقاء ہوجائے گا جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

    اسلام کے تابع ہونا تھا نا کہ اس کو اپنے تابع کرنا تھا, یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو ہم جان بوجھ کر سمجھنا اور ماننا نہیں چاہ رہے۔

  • صدقۂ جاریہ اور اس کے فوائد —ام عفاف

    صدقۂ جاریہ اور اس کے فوائد —ام عفاف

    ہر انسان کو اس دنیا سے رخصت ہونا ہے، ہر شے کو فنا ہونے والی ہے لیکن جب انسان اس دنیا سے کوچ کرتا ہے تو خالی ہاتھ ہوتا ہے اس کے اپنے کئے ہوئے اعمال ہی اس کا سہارا بنتے ہیں. اچھے اور برے اعمال کا دارومدار بھی اس انسان پر ہی ہے کہ اگر نیک اعمال ہونگے تو اس بندے کے لیے نجات کا ذریعہ بن جائیں گے اگر برے ہونگے تو اس کے لیے بربادی ہے.

    مرنے کے بعد صرف تین چیزیں ہیں جو اس کے لیے نجات کا ذریعہ بنتی ہیں.

    1: دعا
    2: اس کی اولاد جو بھی نیک اعمال کرتی ہے اس کا اجر اس مرنے والے کو ملتا ہے.
    3: صدقہ

    جب تک انسان زندہ ہوتا ہے وہ اچھے اور برے اعمال کرتا ہے. اس کے مرنے کے ساتھ ہی اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے. جب تک اس کے اہل وعیال رشتہ دار زندہ رہتے ہیں وہ دعا کرتے رہتے ہیں لیکن ان کے مرنے کے بعد یہ سلسلہ بھی ختم ہوجاتا ہے. لیکن جو تیسری چیز انسان کر جاتا ہے وہ صدقہ جاریہ ہے. جو ہمیشہ باقی رہتا ہے اور جو انسان کے لیے نجات کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے. اس کی کئی صورتیں ہیں.

    1: علم: جو انسان علم حاصل کرکے دوسروں تک پہنچاتا ہے وہ علم آگے بڑھتا رہتا ہے تو مرنے کے بعد اس عالم کو اس کا اجر ملتا رہتا ہے.

    2: وہ کام جو انسان کسی تعمیر کی صورت میں کرے. جس میں سرفہرست مسجد بنوا دینا، جب تک نمازی نماز پڑھیں گے اس انسان کو مرنے کے بعد بھی اس کا اجر ملتا رہے گا. کوئی فاونڈیشن یا اسپتال بنوادینا جس سے اس بندے کے اجر میں اضافہ ہوتا رہے گا.

    معزز قارئین. لوگ صدقے کو ایک ادنیٰ سی چیز تصور کرتے ہیں. حالانکہ اللہ تعالیٰ نے صدقے کو بہت بڑی نیکی قرار دیا ہے. حدیث شریف میں ہے کہ جب بندہ صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس صدقے کو اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اس کی ایسی پرورش کرتا ہے جیسے ایک انسان اپنے گھوڑ یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے.

    بہت سارے لوگ صرف ڈونیشن کرنے کو ہی صدقہ سمجھتے ہیں. حالانکہ انسانیت کی خدمت بھی ایک بہت بڑا صدقہ جاریہ ہے اگر آپ کی وجہ سے کسی انسان کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو یہ سب سے بڑا صدقہ ہے.

    بہت سارے رہنما اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں انسانیت کے لئے وقف کردیں ہیں. ان میں سے آپ قائد اعظم محمد علی جناح کی ہی مثال لے لیں. ان کی انتھک محنت اور کوشش کے بعد ملک پاکستان وجود میں آیا. انہوں نے ہی نہیں ان کے ساتھ مل کر کئی لوگوں نے کام کیا کتنے ہی لوگوں نے اپنی زندگیاں گنوائیں اور ہمیں آزاد ملک دے دیا.

    رہتی دنیا تک لوگ ان سب کو دعائیں دیتے رہیں گے لیکن آج بھی ہمارے ملک کو ایسے ہی جانثار لوگوں کی ضرورت ہے. آج ہمارے ملک پاکستان میں جو حالات چل رہے ہیں اس میں کتنے انسان خطرے میں ہیں.

    حالیہ بارشوں کی وجہ سے لوگوں کا کتنا نقصان ہوا ہے، کتنے لوگ ہیں جو بےآسرا کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں اور کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے. اگر ایک فرد بھی کسی انسان کی مدد کرتا ہے تو کتنے ہی افراد مل کر لوگوں کی نجات کا ذریعہ بن سکتے ہیں.

    خدمت انسانیت ہی ہے جو ایک انسان کو تمام لوگوں میں مقبول بنادیتی ہے. بعض اوقات انسان کے پاس ایسا کوئی موقعہ نہیں ہوتا ہے یا انسان کے پاس کوئی ذرائع نہیں ہوتے ہیں کہ انسان کوئی خدمت کا کام سرانجام دے سکے. اسلام میں بھی سب سے زیادہ حقوق العباد کا ذکر ہے. اس لئے اگر وہ کچھ نہیں کرسکتے تو اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرسکتے ہیں. اچھا سلوک بھی خدمت انسانیت کے زمرے میں آتا ہے. کسی انسان کے برے وقت میں اس کے ساتھ مسکراہٹ کے ساتھ ملنا بھی صدقہ ہے.

    خدمت انسانیت ہی ایسا جذبہ ہے جس سے ایک انسان کی اچھائی اور برائی کا پتہ چلتا ہے اسی جذبے کے تحت اگر انسان اگر کوئی عمل کرتا ہے تو وہ اس کے لیے آخرت اور دنیا دونوں سنوار دیتا ہے. اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم سب اکٹھے ہوں اور بارشوں اور سیلاب سے متاثر اور تباہ حال لوگوں کے لیے سہارا بنیں. ہم اپنے راشن رقم بستر وغیرہ دے کر ان کی مدد کرسکتے ہیں.

    ذرا ٹھہر کر سوچیں کہ یہ وقت ہم پر بھی آسکتا ہے. یہ صرف ایک نشانی ہے جو اللہ نے ہمیں دکھائی ہے اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے کتنی ہی بڑی عمارتیں اور شہر ہیں جو ایک لمحے میں نیست و نابود ہوسکتے ہیں. لیکن اللہ بہت رحیم ہے ہمیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ ہم سدھر سکیں.

    اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کو درست کریں اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور ڈوبتے لوگوں کا سہارا بنیں. کیا پتہ اس کارخیر سے اللہ تعالیٰ ہمیں بخش دے اور ان آفتوں کو ٹال دے.