Baaghi TV

Category: مذہب

  • حکومت سرکاری سطح پر اجتماعی استغفار و توبہ کا پروگرام ترتیب دے،متحدہ علماء محاذ

    حکومت سرکاری سطح پر اجتماعی استغفار و توبہ کا پروگرام ترتیب دے،متحدہ علماء محاذ

    وفاقی و صوبائی حکومتیں عملی اقدامات میں مکمل طور پرناکام ہوچکی ہیں،متحدہ علماء محاذ
    مساجدکوحفاظتی تدابیر کے ساتھ پنج وقتہ اور نماز تراویح کے لیے کھولاجائے،علماء مشائخ کا مطالبہ
    زخیرہ اندوزوں،گرانفروشوں کو فوری گرفتار اور اشیائے خوردونوش میں 40فیصدکمی کا اعلان کیا جائے
    حکومت غریب عوام کی دہلیزپرراشن سمیت تمام بنیادی سہولیات کو یقینی بنائے،استقبال رمضان کی تقریب میں قرارداد

    کراچی: متحدہ علماء محاذپاکستان کے تحت مرکزی سیکریٹریٹ گلشن اقبال میں استقبال و تقدس رمضان اور کورونا وائرس سے پیدا شدہ موجودہ تشویشناک صورت حال پر اجلاس میں مختلف مکاتب فکر کے جید علماء مشائخ نے وفاقی و صوبائی حکومت کے ناقص اقدامات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں عملی اقدامات میں مکمل طور پرناکام ہوچکی ہیں ایک دوسرے پر الزامات اورباہمی توتکار سے ریاست کی جگ ہنسائی ہورہی ہے مساجدکوحفاظتی تدابیر کے ساتھ پنج وقتہ اور نماز تراویح کے لیے کھولاجائے

    مختلف شہروں میں روکے گئے تبلیغی جماعت کے افرادکو گھروں کو روانہ کیاجائے۔زخیرہ اندوزوں،گرانفروشوں کو فوری گرفتار اور اشیائے خوردونوش میں 40 فیصدکمی کا اعلان کیا جائے متحدہ علماء محاذ کے چیئرمین علامہ عبدالخالق فریدی،بانی سیکریٹری جنرل مولانامحمدامین انصاری،علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی،مولانا انتظارالحق تھانوی، علامہ یونس صدیقی سلفی،یعقوب احمد شیخ،علامہ علی کرار نقوی،علامہ مرتضی خان رحمانی،حافظ گل نواز و دیگر نے کہا کہ: قدرتی آفت کورونا کی آمد سے لیکر آج تک وفاقی اور صوبائی حکومتیں عملی اقدامات کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہیں وفاق و صوبوں کے ایک دوسروں پر الزامات اور باہمی توتکارسے عالمی سطح پر ریاست پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے،

    سرکاری سطح پر باقاعدہ علاج معالجے اور عوامی ضروریات کیلئے تاحال موثراقدامات نہیں کیے گئے،کچھ عناصر کورونا وائرس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر فرقہ ورانہ پوسٹیں شیئر کرکے ملک کو فرقہ وارانہ تعصب اور منافرت کی طرف دھکیلنے کی سازش کررہے ہیں، حکمرانوں کی خاموشی قابل مذمت ہے

    انہوں نے مطالبہ کیاکہ ملک کے مختلف شہروں میں تبلیغی جماعت کے جن افرادکو روکاگیا ہے انہیں فی الفور باحفاظت گھروں کو روانہ کیاجائے،ان کے ساتھ ظلم جبر تشدد کرنے والوں کے خلاف فوری کاروائی کی جائے،صوبائی اور مرکزی حکومتیں مل بیٹ ھ کر مسائل کو حل کریں ملک بھر کے تاجروں کو محدود وقت کیلئے معاشی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی جائے‘ آئمہ مساجد و خطباء کے خلاف قائم مقدمات ختم کئے جائیں‘

    انتظامی افسران کو سنسی خیزی پھیلانے کی بجائے حکمت عملی سے مسائل حل کرنے کا پابندکیاجائے حکومت سرکاری سطح پر اجتماعی استغفار و توبہ کا پروگرام ترتیب دے اور عوام الناس کو بتایاجائے ایسے حالات میں اللہ سے رجوع ضروری ہے اور اللہ کے حکم سے ہی اس موذی بیماری سے چھٹکارا ملے گا۔ کورونامساجد آباد کرنے سے ختم ہوگا مساجد پر پابندیاں عذاب خدا وندی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ حکومت غریب عوام کی دہلیزپرراشن سمیت تمام بنیادی سہولیات کو یقینی بنائے،راشن و امداد کے نام پر تصاویر و ویڈیوبناکر سفید پوش ضرورت مند مرد و خواتین کی تحقیر و تذلیل کے غیر شرعی عمل سے اجتناب کیا جائے

  • اور صبر و برداشت سے بڑی خیر وعطا کوئی نہیں…!!! تحریر:جویریہ چوہدری

    اور صبر و برداشت سے بڑی خیر وعطا کوئی نہیں…!!! تحریر:جویریہ چوہدری

    میں نے آٹے والی پیٹی میں سے گوندھنے کے لیئے آٹا نکالا،اور دیکھا کہ آٹا تو ختم ہونے کے قریب ہے…اور آج کل تو آٹے کی ضرورت بھی زیادہ ہے کیونکہ گھر کے سبھی افراد گھر پر ہیں اور پھر کوئی نہ کوئی مستحق بھی آ جاتا چنانچہ طبیعت کی ناسازی کے باوجود ارادہ کیا کہ چلو آج ایک بوری گندم ہی صاف کر دی جائے تاکہ چکی پر پیسنے کے لیئے بھیجی جا سکے…
    چارو نا چار گندم کی بالٹیاں بھر بھر کر صحن میں رکھنا شروع کر دیں،اور چھپی نگاہوں سے سب کو تلاشنا بھی شروع کیا کہ کوئی مدد کو آتا ہے کہ نہیں…
    لیکن ظاہر سی بات تھی سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے اور مجھ مسکین پر کسی نے نظرِ رحم نہ کی اور شاید سبھی میرے کام سے بے خبر تھے…
    مجھے دل ہی دل میں بلا کا غصہ آیا کہ بھئی کمال ہے گیمز کھیلنا بہت ضروری ہیں؟
    اندر ہی اندر قہقہے بلند ہو رہے ہیں؟؟
    ہاں فل آواز میں چولہے کی آواز آ رہی ہے ضرور کوئی ریسیپی تیار ہو رہی ہو گی محترمہ کی؟
    وہ تو بس کوکنگ سنبھال کر باہر سے بے فکر…
    یہ تو گارلک تکہ اور انڈوں کے حلوہ کی تیاریاں ہو رہی ہیں…
    اور ابھی کوکنگ کے بعد تلاوت و تفسیر کا وقت ہو جائے گا اور میری دلجوئی…؟
    اُف میں نے آج اکیلے کیا مصیبت سر ڈال لی ہے وغیرہ؟
    غرض خیالات کا سلسلہ اندر ہی اندر بہہ رہا تھا جو لبوں تک ابھی نہیں آیا تھا اور وجہ گردے میں درد تھی…
    خیر چند ہی لمحوں بعد جب سب نے میری عدم موجودگی کا نوٹس لیا تو سبھی بھاگے آئے کہ آپ کو کیا فکر پڑی تھی کل کر لیتیں،کون سا مجبوری تھی؟؟
    اب مجھے سب کے اپنے ہونے کا احساس ہونے لگا تھا…
    امی جان نے انڈا ابال کر بھیجا تھا کہ یہ اُسے دے آؤ کھالے…
    سسٹر سٹرابری دھو کر لے آئیں…
    اور بھائی گندم کی بالٹیاں بھر بھر کر مجھ تک پہنچانے لگے،اور صاف کی ہوئی الگ بوری میں ڈالنے لگے…
    چند لمحات پہلے کے خیالات ہوا ہو چکے تھے اب ایک سکون سا گھیرے ہوئے تھا…اُس وقت جو چاہا کہ ذرا چیخ کر سب کو بلاؤں کہ کہاں گئے ہو؟
    ایسا نہ کرنے پر فرحت رگوں میں اُتر رہی تھی اور میں نے انہیں یہ محسوس بھی نہ ہونے دیا کہ میں غصہ میں تھی…
    سو کام آدھے گھنٹہ میں مکمل بھی ہو چکا تھا کہ نمازِ ظہر کے لیئے اذان کی آواز بلند ہوئی تب میں نے شکر کیا کہ چلو بروقت فراغت ہوئی…اور دل میں اب پھر اک سوال اُبھرا کہ اگر میں ناراضگی کا اظہار کر ہی دیتی تو سب کے دل میں کیا بات جاتی؟
    سب کی ہنسی افسردگی میں بدل جاتی اور وہ مدد کرتے ہوئے بھی بوجھل ہو رہے ہوتے…
    حالانکہ ہر کام اور ہر لمحہ ساتھ نبھاتے ہیں…!!!

    صبح ناشتے کا پراٹھا،انڈا اور چائے کا کپ اُٹھا کر اپنے کمرے میں پہنچی،والدہ محترمہ بہت زبردست پراٹھا بناتی ہیں اور سبھی خاندان والے امی کے پراٹھے یاد کرتے ہیں…لیکن تین دن سے مجھے تو بالکل بھی پسند نہیں آ رہا تھا درمیان سے موٹا اور سائیڈ سے پتلا پراٹھا بھلا یہ کیا اصول ہوا؟
    آج تو جا کر امی جان سے شکایت کرتی ہوں کہ جیسے بھی ہو میں ناشتے میں خامی نہیں برداشت کر سکتی…
    چنگیر اُٹھا کر کچن میں پہنچی،دل تھا کہ آج تو چنگیر زور سے پٹخ دوں اور ساتھ ہی ایک مرحوم پڑوسی بابا جی بھی یاد آئے جن کو بہو کھانا دے کر آتی تھیں تو وہ اچھی طرح کھانا کھا کر پلیٹ صاف کر کے خالی چنگیر اور پلیٹ دور سے ہی پھینک دیتے جو بعض اوقات کام میں مگن بہو کی پیٹھ پہ آ لگتی وہ بہو اب بھی کبھی ملیں تو یہ دلچسپ آپ بیتیاں سناتی ہیں…
    خیر اسی خیال کے آتے ہی چنگیر تو آرام سے شیڈ پر رکھ دی اور ناراضگی میں باہر جانے لگی تو امی جان جو پیڑھی پر بیٹھی تھیں سمجھ کر کہنے لگیں،بچے آج تمہاری روٹی موٹی ہو گئی تھی…پتہ نہیں آٹا ٹھنڈا تھا کہ کیا میں نے تو روٹی بہت دقت سے بنائی ہے…
    ہاں جی امی وہ میں فریج میں آٹا رکھ کر نکالنا ہی بھول گئی تھی تو بہت سخت ہوگیا ہوگا معذرت امی جی…
    نہیں ذرا دھیان سے نکال دیا کرو کیونکہ صبح تو سردی سے میرے ہاتھ ٹھنڈے برف بنے ہوتے ہیں…
    جی ضرور امی…
    غلطی تو میری تھی اور میں ہی غصہ سے چنگیر پہ بھی غصہ نکالنا چاہ رہی تھی؟
    ،نگاہیں ندامت سے جھکنے لگیں…
    قارئین !!!
    یہ تو محض دو واقعات تحریر کیئے ہیں لیکن یہ سچ ہے کہ اکثر غلطی ہماری اپنی ہوتی ہے…
    ہم بات سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہوتے…
    کسی کی بات کا مقصد نظر انداز کر دیتے ہیں…
    اور محض بدگمانی اور عدم برداشت کی وجہ سے پھٹ پڑتے ہیں…
    جس کا نقصان بھی ہمیں ہی برداشت کرنا پڑتا ہے…
    سو زندگی میں مثبت بھی سوچتے رہنا چاہیئے…کبھی کسی کی چھوٹی موٹی غلطی کو نظر انداز بھی کر دینا چاہیئے…
    ہاں جہاں واضح غلطی کی اصلاح کی ضرورت محسوس ہو رہی ہو وہاں خاموش رہنا بھی غلط ہے…
    لیکن کسی کو محض وہم و گمان سے نشانے کی زد پر نہیں رکھنا چاہیئے…
    تھوڑی سی برداشت،صبر تحمل،بردباری بسا اوقات بڑے نقصانات سے بچا لیتے ہیں اور کبھی انہی کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے شرمندگی و نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے…
    ہر بات کو جوش کے آئینہ میں ہی دیکھنے کی بجائے کبھی ہوش کا آئینہ بھی سامنے رکھنا چاہیئے…
    مجھے یاد آیا کہ پچھلے دنوں میں نے کسی گروپ میں ایک پوسٹ فارورڈ کر دی جس میں مردوں کی گھریلو مصروفیات کا مزاحیہ جائزہ تھا… جو کہ ہمارے مردوں کی اکثریت کا رویہ بھی ہے…نظر سے گزری تو دلچسپ لگی۔۔۔ جبکہ میرا اصول زیادہ تر صرف اپنی تحریر ہی فارورڈ کرنا ہے تو ایک گروپ ممبر نے(نامعلوم بہن ہیں کہ بھائی؟) نے کمنٹ کیا کہ آپ لوگوں کو صرف ایکٹروں کے انداز ہی گروپ میں بھیجنا پسند ہیں کچھ تو…… کرو وغیرہ۔
    اب اگر میں چاہتی تو اس بلینک کو پُر کر سکتی تھی کہ شرم کرو،حیا کرو یا خیال کرو وغیرہ
    یعنی ان کا مطلب کیا تھا؟
    تو بات طول پکڑ لیتی،بحث لمبی ہو جاتی…حالانکہ اُس تحریر میں نہ تو ایکٹرز کا تذکرہ تھا اور نہ ہی میرا مدعا…
    جبکہ بعض اوقات گروپ میں کچھ چیزیں بالخصوص وڈیوز وغیرہ ناگوار بھی گزرتی ہیں لیکن گروپ میں موجود سبھی قابلِ احترام ممبرز کی رائے اور فکر یا پیغام کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے…یہ بات تو سردست یاد آ گئی تو وضاحت کر دی ہے…
    بات ہم اپنے رویوّں میں تبدیلی کی کر رہے ہیں کہ جب تک ہم خود کو نہیں بدلتے…
    اَنا کو کم نہیں کرتے…
    کسی کی سوچ اور رائے کا احترام نہیں سیکھتے…
    اور محض بدگمانی اور تنقید کے تیروں کی برسات جاری رکھتے ہیں تو کسی بھی سفر کا مزہ ادھورہ رہ جاتا ہے…
    ہم اس کی لذت و چاشنی سے محروم رہ جاتے ہیں…
    محدود نظریات کے حامل بن جاتے ہیں
    چاہے وہ گھر ہو یا دفتر…
    فورمز ہوں یا ایوان…
    ہم تنہائی کا شکار ہونے لگتے ہیں کیونکہ ہم سب کو اپنی شخصیت اور سوچ کے آئینہ میں نہیں ڈھال سکتے ہمارے ذمہ بہترین نصیحت حکمت کے ساتھ پہنچا دینا ہے…!!!
    کبھی کچھ برداشت کر جانا…
    صبر کا گھونٹ پی جانا…
    بے پرواہ بن جانا بھی اس زندگی کے حُسن کو مذید چار چاند لگا دیتا ہے…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جو کوئی صبر کی عادت ڈالے اللّٰہ تعالٰی اسے صبر دے دیتا ہے اور کوئی عطا صبر سے زیادہ بہتر اور کشادگی والی نہیں…”
    (صحیح مسلم)۔
    جب ہم صبر و برداشت کا دامن تھام لیتے ہیں تو لاریب ہمارا ذہن وسیع،ظرف بلند اور دل کشادہ ہو جاتے ہیں…!!!!!

  • مودی جی اگر ننگا ہونے کا بھی کہ دیں تو لوگ خوشی خوشی عمل کریں گے—از—عزیز احمد نئی دہلی

    مودی جی اگر ننگا ہونے کا بھی کہ دیں تو لوگ خوشی خوشی عمل کریں گے—از—عزیز احمد نئی دہلی

    شہر کا شہر پاگل نہیں ہوا ہے, بیوقوف ہم لوگ ہیں جو حالات کی سنگینی کو سمجھ نہیں پارہے ہیں, تالی, تھالی, اور پھر دِیا جلانے کا حکم, اور اس پر اکثریت کا نہ صرف خوشی خوشی عمل کرنا, بلکہ پٹاخوں کے ذریعہ "کرونا وائرس” کو دیوالی کا تیوہار بنا دینا,

    صرف سطر نہیں بین السطور بھی پڑھنے کی کوشش کریں, اس وقت مودی جی کی ہندوستان میں مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اگر وہ کپڑا اتار شہر میں لوگوں کو ننگا چلنے کا بھی ٹاسک دے دیں, تو لوگ خوشی خوشی عمل کردیں, بلا مبالغہ وہ اس وقت ہندوستان کے بغیر تاج کے راجا ہیں, جن کا ہر قول ان کے ماننے والوں کے لئے آسمانی حکم کا درجہ رکھتا ہے, اور اس کی تعمیل میں وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں,

    لوگوں کی یہی ذہنیت میرے یقین کو تقویت پہونچائے جارہی ہے کہ کل کو اگر سمودھان کو تبدیل کرنے کی بات کی جاتی ہے تو مخالف میں اٹھنے والی آوازیں بس مسلمانوں کی ہوں گی, یا پھر چند وہ آوازیں جنہیں انگلیوں پر گنا جا سکے گا, جاہلوں سے زیادہ اس وقت پڑھے لکھے, اور خود کو Elite سمجھنے والے اسلاموفوبیا کے شکار ہیں, بھکتی دل و دماغ ہر حاوی ہوچکی ہے,

    مسلمانوں سے نفرت نیو نارمل بن چکا ہے, اچھے خاصے پڑھے لکھے, اور تو اور ڈاکٹر انجینئر بن کر عرب ملکوں میں پیسہ کمانے والے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعہ ہندوستان میں مسلمانوں کی نسل کشی کی بات کرتے ہیں, مودی جی مستقبل میں ہاریں یا جیتیں, لیکن جو کھائی وہ کھود چکے ہیں, اسے بھرنے میں یقینیا سالوں لگ جائیں گے, بلکہ شاید بھرا بھی نہ جا سکے, اور سچویشن مستقبل میں مزید خراب ہوتا چلا جائے.

  • "کرونا” شیعہ یا تبلیغی—–از—عاشق علی بخاری

    "کرونا” شیعہ یا تبلیغی—–از—عاشق علی بخاری

    کرونا اس وقت جدید دنیا کے لیے بہت بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، جس نے تمام بڑی طاقتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے، حقیقتاً یہ کیا ہے؟
    اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا، لیکن اس کے متعلق ہر دو قسم کی آراء موجود ہیں، جن کے اپنے اپنے دلائل ہیں. اس وقت دنیا کے دو سو ممالک اس وبا کا شکار ہیں، وہ یا تو مکمل یا پھر جزوی طور پر بند ہیں، حکومتیں اپنی جگہ اور عوام گھروں میں الگ پریشان ہیں. ٹی وی چینلز نے الگ اودھم مچا رکھی ہے، جنہیں دیکھ دیکھ کر عوام نفسیاتی مریض بن رہے ہیں.

    بہرحال یہ ایک الگ موضوع ہے، اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف پاکستان بھی ان ممالک میں سے ایک ہے، جہاں اس عالمی وبا نے اپنے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں. الحمدللہ پاکستان نے بہتر اور مؤثر انتظامات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں زیادہ تر مریض صحت یاب ہوکر اپنے گھروں کو روانہ ہورہے ہیں،
    لیکن جو سب سے زیادہ پریشان کن اور مزید خوف کی فضا ہموار کرنے کا باعث بن رہا ہے، وہ کچھ اور ہے.

    دیکھیے چینی اس وبا کا شکار ہوئے، وہاں کرونا بدھ مت نہیں تھا، یورپین اس کا شکار ہوئے وہاں بھی یہ ایک وبا ہی تھی،یہ نہ عیسائی ہے اور نہ یہودی. حتی کہ یہ ان عیسائی فرقوں سے بھی تعلق نہیں رکھتا جو ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں. لیکن جب یہ پاکستان آیا تو سب سے پہلے یہ شیعہ بنا، کیونکہ یہ ایک پڑوسی ملک میں جانے والوں کے ذریعے آیا.

    یہاں ٹھہر کر ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ انہیں روکنا، چیک اپ کرنا اور اثر زدہ لوگوں کو آئسوليشن پہنچانا حکومتی ذمے داری تھی، جس میں حکومت ناکام ہوئی. اب دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ لوگ کیوں گئے، کس لیے گئے اور کن کن سرگرمیوں میں ملوث رہے یہ بھی حکومتی ذمے داری ہے کہ ان کا سراغ لگایا جائے.سوچیں جب دو نگرانوں والا گھر نہیں چل سکتا تو ملک کیسے چلے گا؟ ہمیں نگران نہیں عوام بننا ہے. اب آئیے تصویر کے دوسرے رخ کی طرف، حالیہ دنوں جناب کرونا اہلیان پاکستان کے ایک بہت بڑے طبقے کے ساتھ چمٹ گیا یا پھر چمٹایا گیا ہے، کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا، دوسرے لفظوں میں کرونا صاحب آج کل تبلیغی بنا ہوا ہے.

    کہا جاتا ہے کہ ہر ایکشن کا ری ایکشن ہوتا ہے، تو یہاں بھی وہی ہوا ہے. پریشان یا افسردہ ہونے کی ضرورت نہیں، اختلافات، نظریات کا الگ ہونا کیا انسانیت کے منافی ہے؟ لیکن اگر ہم نے ان آنے والوں کے بہتر علاج کی طرف توجہ دی ہوتی اور ایک قوم ہوکر فی الحال ان کے ساتھ کھڑے ہوتے تو امید ہے ہمیں آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے، ان کی صحت یابی کے بعد حکومت سے مطالبہ کیا جاتا کہ جو لوگ ملکی سالمیت کے خلاف کام کرتے رہے ہیں، ان کا ٹرائل کیا جائے، انہیں کٹہرے میں لایا جائے،

    پہلے ٹرینڈ چلائے گئے، ٹی وی چینلز نے ہاہا کار مچائی، معاملہ سپریم کورٹ پہنچا. اور پوری قوم جو اس وقت گھروں میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی ہے، انہیں مثبت سوچ دینے کے بجائے. اس کے برعکس مخالفانہ فضا بنائی گئی، جس کا دوسرا دکھ بھرا پہلو آج ہمارے سامنے ہے.
    آئیے ذرا ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی سنت بھی دیکھیں.

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلتا ہے کہ مدینہ میں ایک یہودی بچہ بیمار ہوگیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً اس کی عیادت کے لیے پہنچ جاتے،
    ایک بڑھیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچرا پھینکتی ہے، جب کچرا نہیں آیا تو اس کی عیادت کو چلے جاتے ہیں، یہودن کھانے کی دعوت کرتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی دعوت کو قبول کرتے ہیں.
    آپ کا اعتراض اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ یہ وبا وہا‍ سے آئی، حکومت نے انہیں روکا کیوں نہیں؟

    میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں، کیا ہم نے بھی عقلمندی کا ثبوت دیا تھا؟
    کیا بہت سارے لوگ پتہ چلتے ہی سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ فضا بنانا شروع نہیں ہوگئے تھے؟
    کیا ہم نے انہیں روکنے یا مثبت رویہ رکھنے کا کہا تھا؟

    اگر یورپ کا کرونا عیسائی، چین کا بدھ مت, اسرائیل میں یہودی اور انڈیا میں ہندو یا مسلمان نہیں ہےتو خدرا خوف و ہراس کی آگ میں مزید ایندھن نہ ڈالیں، وبا کا خوف، کاروبار کا خوف، اشیاء کی قلت کا خوف کیا کم ہے کہ فرقہ واریت کا کاروبار کیا جارہا ہے. وہ ایام جن میں پوری امت مسلمہ ہی نہیں بلکہ ساری دنیا پریشان، خوف زدہ ہے، کہ نجانے کیا ہوگا، اور کب تک ہوگا. ہم توبہ، رجوع الی اللہ کے بجائے کن چکروں میں پڑے ہوئے ہیں،
    تھوڑا نہیں پوراسوچیے.!!!

    عاشق علی بخاری
    قلمکار: عاشق علی بخاری

  • قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ ،امام مہدی،اور فتنۂ دجال_!!![قسط:1]—–از—جویریہ چوہدری

    قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ ،امام مہدی،اور فتنۂ دجال_!!![قسط:1]—–از—جویریہ چوہدری

    قیامت کا آنا ایک یقینی امر ہے اور ہم مسلمان اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ یہ کائنات اللّٰہ تعالٰی نے خاص مقصد کے لیئے بنائی ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا تاکہ وہ اچھے اعمال بجا لائے…
    یہ بعض سائنسی نظریات کے مطابق یونہی اور اتفاق سے وجود میں نہیں آ گئی۔

    پھر ان اچھے اعمال کی جزا کے لیئے یا برے اعمال کی سزا کے لیئے ایک یومِ حساب ہونا بھی لازم تھا۔
    کیا انسانوں کو اس دنیا میں بھیج دیا جاتا اور وہ نیک اعمال کرتے،اور جو دل کھول کر نافرمانی کرتے انہیں ان کی جزا و سزا سے محروم کر دیا جائے؟
    یقیناً نہیں اور اللّٰہ تعالٰی کی صفت عادل و مقسط کے خلاف بات ہے۔
    اور چونکہ یہ دنیا امتحان گاہ بنائی گئی اس میں یہ بھی ممکن نہیں کہ رزلٹ کا اعلان کمرۂ امتحان میں ہی کر دیا جائے…!!!

    چنانچہ اسی یومِ حساب کے وقوع کے لیئے قیامت قائم ہونا بھی ایک یقینی بات اور اللّٰہ تعالٰی کا امر و فیصلہ ہے جو اپنے وقت پر وقوع پزیر ہو گا۔۔۔
    قرآن حکیم میں جا بجا اللّٰہ تعالٰی نے قیامت کے مناظر کا ذکر فرمایا ہے اور قیامت کے دن کی ہولناکی اور زمین پر موجود ہر اک شئے کے ختم اور صاف چٹیل میدان ہو جانے کا ذکر کیا ہے…:
    "روئے زمین پر جو کچھ ہے،ہم نے اسے زمین کی رونق کا باعث بنایا ہے کہ ہم انہیں آزما لیں کہ ان میں سے کون نیک اعمال والا ہے؟

    اس پر جو کچھ ہے ہم اسے ایک ہموار صاف میدان کر ڈالنے والے ہیں۔”
    (الکہف 7,8)۔
    "جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گا۔”(الانشقاق)۔
    "جب سورج لپیٹ لیا جائے گا اور جب تارے بے نور ہو جائیں گے۔”(التکویر)۔
    "میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی__”(القیٰمہ)۔
    یہ تمام اور انہی جیسی بے شمار آیات بینات قیامت کے وقوع کے یقینی ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔

    ایسا نہیں ہے کہ انسان اس دنیا میں آیا ہے،بس من مانیاں کرے اور ختم…کوئی باز پرس نہ ہو …نہیں… بلکہ ایسی احمقانہ بات مشرکینِ مکہ بھی کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم مٹی اور ہڈیاں ہو کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا کیئے جائیں گے؟
    اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا ہاں خواہ پتھر یا لکڑی یا تمہارے خیال میں اس سے بھی کوئی سخت چیز ہو جاؤ…(سورۂ بنی اسرائیل)۔

    قرآن کریم اور نبی محترم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمیں قیامت،اس کی علاماتِ صغریٰ و کبریٰ،اور دیگر فتنوں سے آگاہ کیا ہے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "میں اور قیامت ایسے بھیجے گئے،جتنا شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی ایک دوسرے کے قریب ہیں۔”(صحیح بخاری)
    یعنی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں،مسلمان آخری امت ہیں اور اس کے بعد قیامت کا وقت قریب ہی قریب ہے:
    "لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا ہے اور وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں_”(الانبیآء)۔

    "وہ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں…آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کہہ دیجیئے کہ اس کا علم اللّٰہ ہی کو ہے اور آپ کو کیا خبر ممکن ہے کہ وہ بہت ہی قریب ہو__!!!”(الاحزاب)
    لیکن قیامت سے پہلے ان نشانیوں اور علامات کے ظہور ہونے میں کچھ شک نہیں ہے جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی مبارک زبان سے ہمیں بتائی ہیں۔
    اور یہی وجہ ہے کہ ان علامات میں سے کئی علاماتِ صغریٰ ظاہر بھی ہو چکی ہیں۔

    فتنوں کا ظہور:
    قیامت کے قریب فتنوں کا ظہور ہو گا اور اس شدت سے فتنے نمودار ہوں گے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مدینہ کے محلوں میں سے ایک محل پر چڑھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ سے پوچھا جو میں دیکھتا ہوں وہ تم دیکھتے ہو؟
    انہوں نے کہا نہیں یا رسول اللّٰہ !
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا میں فتنوں کو دیکھ رہا ہوں وہ بارش کے قطروں کی طرح ٹپک رہے ہیں۔”

    (صحیح بخاری_کتاب الفتن)۔
    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "ان فتنوں سے پہلے جلدی جلدی نیک کام کر لو جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے،آدمی صبح مومن ہو گا اور شام میں کافر یا شام مومن ہو گا اور صبح میں کافر اور انسان دنیاوی ساز و سامان کے بدلے میں اپنا دین فروخت کر دے گا۔”

    (صحیح مسلم_کتاب الایمان)۔
    یہ بات آج ظاہر ہے کہ لوگ دنیاوی مال و متاع کے پیچھے ہر بات لٹا دینے کو تیار ہیں۔
    اور ان کے ہر کام کا محور و مرکز دنیوی ساز و سامان ہی ہوتا ہے۔۔۔جس معاملے میں بھی دیکھ لیا جائے،اکثریت کا یہی حال ہے…

    رشتے و تعلق داریاں ہوں،مال و زر کے حصول کے لیئے اوپر سے اوپر اور آگے سے آگے ہی نظر جاتی ہے،رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "ہر امت کے لیئے ایک فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے”

    (رواہ الترمذی)۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "اگر ابنِ آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کا خواہش مند ہو گا……(صحیح بخاری)۔
    اسی طرح عالمی سطح پر بھی دیکھا جائے تو وہاں بھی مختلف قوموں اور ملکوں کے درمیان معاشی کشمکش ہی جاری رہتی ہے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور نقصان پہنچانے کی سازشیں کی جاتی ہیں…!!!

    (جاری ہے)
    =============================

    قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ ،امام مہدی،اور فتنۂ دجال_!!![قسط:1]
    (تحریر✍🏻:جویریہ چوہدری)۔

  • ویلینٹائن ڈے اور اسلام    تحریر : انس عبدالباسط

    ویلینٹائن ڈے اور اسلام تحریر : انس عبدالباسط

    ویلینٹائن ڈے دو وجہ سے غلط ہے. ایک تو یہ ہے کہ یہ یوم رومانیت ہے یہ Romance Day ہے. اور رومانیت کا تصور اگر  اسلام میں کہیں موجود ہے تو وہ صرف شوہر اور بیوی کے درمیان موجود ہے اس کے علاوہ اور کسی رشتہ میں رومانیت کا اسلام میں کوئی تصور موجود نہیں ہے. آزاد رومانیت لڑکے لڑکی کا آپس میں ملنا تحفہ تحائف دینا، ان کے درمیان نہ جائز تعلقات کا ہونا اس کا اسلامی تہذیب و تمدن میں دور دور تک کا  بھی کوئی تصور نہیں ہے. ایک تو اس میں یہ کباہت والی بات ہے.
    اور دوسری اس میں کباہت والی بات یہ ہے کہ ویلینٹائن ڈے صرف سماجی رسم نہیں بلکہ یہ ایک مزہبی رسم بھی ہے. اور Catholic Church  کے مطابق اور Arthur’s Dog Church کے مطابق پوری دنیا میں *14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہے* . گویا کہ ایک تیر سے دو شکار کیے جاتے ہیں. ایک تو مسلمانوں کو تہذیبی اعتبار سے گمراہ کیا جاتا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ جیسے کہ کرسمس (Christmas) کا تہوار ہوتا ہے اسی طرح ہے مسلمان نوجوانوں کو اپنے تہذیبی تہوار میں جزب(Absorb) کرنے کی کوشش کی جاتی ہے.
    کوئی بھی غیرت مند مسلمان حضرت محمدٌ کی اس حدیث کے اوپر عمل کرتے ہوئے کبھی بھی غیر مسلموں کے کسی بھی تہوار کو قبول نہیں کرسکتا.
    *آپٌ نے فرمایا : جو کسی قوم کی مشاہبت کو اختیار کرتا ہے وہ ان ہی میں سے ہے.* ہمارے مزہب میں جبر نہیں ہے، ظلم نہیں ہے، دباؤ نہیں ہے. ہم عیسائیوں کو ان کے عبادت گھروں میں جانے سے، ان کو اپنے مزہبی تہواروں کو منانے سے نہیں روکتے، ہم ان کو انجیل پڑھنے سے نہیں روکتے، ہم ان کو جبرًا اپنے مزہب میں داخل کرنے کی جستجو نہیں کرتے لیکن ہمارے مزہب کا یہ رویہ بلکل واضع ہے کہ کرسمس (Christmas) تمہارا تہوار ہے ہمارا نہیں، ہولی(Holli) تمہارا تہوار ہے ہمارا نہیں، تمہارے تہوار اپنے ہیں ہمارے تہوار اپنے ہیں. کیا تم نے کسی عیسائی کو عیدالاضحیٰ کے دن قربانی کرتے ہوئے دیکھا ہے..؟ کیا آپ نے رمضان المبارک میں کسی یہودی یا ہندو کو روزہ رکھتے ہوئے دیکھا ہے..؟؟ کیا آپ نے کسی غیر مسلم کو یوم عرفات کے دن روزہ رکھتے ہقئے دیکھا ہے..؟؟ اگر کوئی غیر مسلم آپ کا تہوار نہیں مناتا اسے پتہ ہے کہ یہ مسلمانوں کا تہوار ہے اور میں غیر مسلم ہوں. تو مسلمانوں تمہاری عقل کو کیا ہو گیا ہے تم عیسائیوں، یہودیوں اور ہندوں کے تہوار کو کیوں مناتے ہو.. کرسمس ان کا تہوار ہے. ہولی ان کا تہوار ہے یہ سارے کہ سارے تہوار ان کے ہیں. ویلینٹائن ڈے ان کا تہوار ہے. ہمارے ان تہواروں سے کوئی تعلق نہیں.تم اتنے لبرل کیوں بنتے ہو کبھی بھی غیر مسلم نے تمہارے تہواروں پر اپنی مہر لگانے کی جستجو نہیں کی تو تم کیوں ان کے تہواروں کو اپنے تہوار بنانے کی کوشش کرتے ہو.آپٌ کا امتی اٹھتا ہے جو اپنے آپ کو آزادی خیالی اور لبرلازم کا علم بردار بن کر میدان عمل میں آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں بھی کرسمس کا کیک کاٹوں کا میں بھی ہولی کا تہوار منائوں کا اور مین بھی ویلنٹائن ڈے جیسے تہواروں کو منائوں گا..مسلمان تجھے کیا ہو گیا ہے ان کے تہوار اپنے ہیں تیرے تہوار اپنے ہیں. ان کی زندگی اپنی ہے تیری اپنے ہے ان کے زندگی گزارنے کے طریقے اپنے ہیں تیرے اپنے ہیں.اسلامی جمہوریہ پاکستان یا کسی بھی اسلامی ریاست میں عیسائیوں، یہودیوں اور ہندوں کو زندہ رہنے کا حق ہے. اسی طرح ان کے تہواروں کو منانے کا حق ان کا ہے، انجیل پڑھنے کا حق ان کو ہے تجھ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ تو قرآن کے ہوتے ہوئے انجیل پڑھنا شروع کر دے..

  • *سمجھنا تصوف کو *—از— فلک شیر

    *سمجھنا تصوف کو *—از— فلک شیر

    *سمجھنا تصوف کو *

    وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب کے تصوف کے حوالے سے بیان کے بعد سوشل میڈیا پہ ایک بحث شروع ہو گئی ہے…. کتابیں پوچھی جا رہی ہیں…. تقاریر ڈھونڈی جا رہی ہیں…. موافق مخالف…. متقدمین متاخرین اور "متاثرین”؛ ہر کسی کو دوسرے کی جگہ رکھ کر پورے وثوق سے رائے قائم کی جا رہی ہے.

    یونانی، ہندی اور فار ایسٹ تک کے طریقت کے پیٹرنز سے "قربت” اور سنت و قرون اولی سے بعد کی بحث بھی جاری ہے…. سنجیدہ بحث بھی کہیں کہیں ہے…. البتہ زیادہ تر کسی ایک پہلو کو پکڑ کر” جامع اور حتمی” فیصلہ سنایا جاتا ہے….. مجھے اس پوسٹ کے ذریعے صرف یہ عرض کرنا ہے…. کہ جو لوگ خود کچھ پڑھ یا سن کر فیصلہ کرنا چاہتے ہوں…. یا کم از کم معاملے کی اکثر سطحوں کا تجزیہ کرنے کے لیے درکار بنیادی معلومات تک رسائی چاہتے ہیں…. وہ مندرجہ ذیل کتب پڑھ لیں…..
    ١) تاریخ تصوف….. یوسف سلیم چشتی
    ٢) شریعت و طریقت…. عبدالرحمان کیلانی
    ٣) شریعت و طریقت….. اشرف علی تھانوی
    ٤) تزکیہ نفس….. امین احسن اصلاحی

    مندرجہ بالا کتب مختلف مکتبہ ہائے فکر کی نمائندگی کرتے ہیں…. اگر کوئی تصوف کے اصل ابتدائی انتہائی متون پڑھ کر اور اس کے تدریجی سفر پہ رائے قائم کرنا چاہتے ہیں… تو وہ رستہ الگ ہے….. البتہ اس سلسلے میں ایک صاحب علم ۔جس کی قدیم و جدید پہ نظر ہے…. فلسفہ اور شعر کو بھی سمجھتا ہے…. خود پریکٹسنگ صوفی ہے.

    وعظ و اصلاح کی مجالس منعقد کرتا ہے…. اور بالعموم اسے اہل السنہ کے تمام مکتبہ ہائے فکر میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے… یعنی احمد جاوید صاحب…. کے لکچرز کی سیریز ہے… جو کسی حد تک تصوف کی اصل، جائز جگہ اور فی زمانہ اس کی revival کی سپرٹ سے متفق ہیں…. یعنی ہمدرد ہیں.

    دوسری جانب وہ اس کے "prevailing model” کے شدید ترین ناقد بھی ہیں…. اور انہیں اس بات کی فکر سب سے زیادہ ہے کہ کلام و فقہ کے میدان میں جب جب امت نے زوال اور خطا پائی ہے، تو ان دونوں شعبوں نے اندر ہی سے اپنی اصلاح کا حوصلہ کیا….. لیکن تصوف ایسا نہیں کر پا رہا آج…..ان کے لکچرز میں سے ایک کا ربط نیچے پہلے کمنٹ میں دیا جا رہا ہے…باقی اسی یوٹیوب چینل پر میسر ہوں گے….
    بہر حال زہد، تصوف یا ان کے نام پہ پیش کردہ "مال” پہ ہر ایک کی رائے ہونا یا نہ ہونا بھی ایک مسئلہ ہے .

    میں تو ظفر اقبال کا ایک شعر کو بصورت نثر پیش کر کے اجازت چاہوں گا… وہ کچھ یوں ہے کہ میں اپنے گھر میں گائے نہیں رکھتا ہوں…. پھر بھی اس کے بارے میں ایک رائے ضرور رکھتا ہوں…. 🙂

    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب….

    فلک شیر
    پس نوشت : پوسٹ پڑھ کر جو احباب اس سلسلے میں مزید بنیادی متون / دروس تجویز فرمائیں…. اس سے یہ فہرست مزید جامع اور معتبر ہو سکتی ہے.

  • ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور عمران خان کے الفاظ!!! تحریر: نعمان علی ہاشم

    ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور عمران خان کے الفاظ!!! تحریر: نعمان علی ہاشم

    بارگاہِ رسالت مآب صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنی مقدس و مکرم ہے اس کا اندازہ شاید ہی ایک دنیادار کو کبھی ہو سکے،
    اس دنیا کا سب سے زیادہ مہذب، باشعور، باادب اور بااخلاق شخص بھی شاید سید عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادب کا حق ادا نہ کر سکے.
    میر تقی میر کا ایک مصرعہ ہے کہ
    "لے سانس بھی آہستہ کے نازک ہے بہت کام”
    سیاسی وابستگی اور نظریے سے قطع نظر اس بات کا حد درجہ خیال رکھیں کہ آپ کس کا ذکر کر رہے ہیں، اور جب آپ عالم کے سب سے زیادہ حسین، اکمل و کامل انسان کا تذکرہ کر رہے ہوں، جو نہ صرف سب سے عظیم انسان ہوں بلکہ صاحب شریعت ہوں. اللہ کے آخری نبی ہی نہیں بلکہ سیدالانبیاء ہوں. جن کے متعلق اللہ نے ادب کا حکم دیا ہو تو پھر اس وقت تک کچھ نہ کہیں جب دل، دماغ، زبان، جسم اور روح ایک پیج پر نہ ہوں.
    جب آپ ہر طرح کی احتیاط کو ملحوظ رکھیں گے تو غلطی کا امکان بہت کم ہے. میں سمجھتا ہوں اس معاملے میں بداحتیاطی بھی جرم ہے. اور ایسے عادی مجرم کو اس کی سزا ملنی چاہیے. اب اس کی سزا امت کے مجتہدین ہی طے کر سکتے ہیں. ہم تو عام سے لوگ ہیں.
    مگر جب آپکو علم ہو کہ یہ بد احتیاطی کرنے والے کی نیت توہین و گستاخی کی نہیں تو پھر کافر و گستاخ کے فتوے لگانا بھی مناسب نہیں. بلکہ علماء کو چاہیے کہ ایسے بندے کو پیار سے سمجھائیں کہ یہ معاملہ کتنا حساس ہے. اگر بارہا سمجھانے پر بھی وہ شخص نہیں سمجھ پاتا تو اس کے لیے سزا ضرور ہونی چاہیے.
    کل سے سوشل میڈیا پر وزیر اعظم عمران خان کے منہ سے رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق انتہائی نازیبا جملہ نکلا. وزیر اعظم صاحب سیدالانبیاء سید البشر صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدوجہد کا تذکرہ کر رہے تھے. اور اس راہ میں آنے والی پریشانیوں کو معاذ اللہ ذلالت کہہ دیا. جو کہ سراسر بے ادبی ہے. اس پر خان صاحب کو اللہ سے معافی بھی مانگنی چاہیے. اور آئندہ کے لیے احتیاط بھی کرنی چاہیے. اور وسائل ہوں تو اس اچھا سا عالم دین بھی رکھ لیں جو انہیں سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب سکھائے.
    البتہ اس ایک کلپ کی بنیاد پر گستاخ و کافر کہنا قطعاً درست نہیں. لہٰذا تنقید کے گھوڑے دوڑانے کے بجائے اور شدت کی فضاء قائم کرنے کے بجائے اصلاح کے راستے کو اپنائیں. اور ایسے کلپ کو ایسے شئیر کر کے اپنا مذاق نہ بنوائیں. آپ کی شئیرنگ پر ملحدین قہقہے لگاتے ہیں. اور سوچیں کے مذمت کے نام پر ہم جو کر رہے ہیں وہ بھی کہیں اسی زمرے میں تو نہیں آتا.

  • حجر اسود تاریخ اور اہمیت—از…غلام زادہ نعمان صابری

    حجر اسود تاریخ اور اہمیت—از…غلام زادہ نعمان صابری

    حجر اسود
    پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے خانہ کعبہ بتوں کا مسکن تھا جو پتھروں کے بنے ہوئے تھے جنہیں مشرکین مکہ پوجتے تھے اور جنہیں وہ اپنا خدا مانتے تھے۔لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا اور سب کو اسلام کی دعوت دی اورپتھروں کی عبادت سے منع فرما کر ایک معبود حقیقی کی عبادت کرنے کا حکم صادر فرمایا۔
    لیکن خانہ کعبہ کی دیوار میں ایک ایسا پتھر بھی چن دیا جس کی عبادت لازم قرار دی،اس مبارک پتھر کا نام حجر اسود ہے۔

    حجر اسود عربی زبان کے دو الفاظ کا مجموعہ ہے۔ حجر عربی میں پتھر اور اسود، سیاہ اور کالے رنگ کو کہتے ہیں۔ حجر اسود وہ کالے رنگ کا پتھر ہے جو کعبہ کی جنوب مشرقی دیوار میں نصب ہے۔ اس وقت یہ تین بڑے اور مختلف شکلوں کے کئی چھوٹے ٹکڑوں پرمشتمل ہے۔ یہ ٹکڑے اندازاً ڈھائی فٹ قطر کے دائرے میں جڑے ہوئے ہیں جن کے گرد چاندی کا گول دائرہ بنا ہوا ہے۔ جو مسلمان حج یاعمرہ کرنےجاتے ہیں ان کے لیے لازم ہے کہ وہ طواف کرتے ہوئے ہر بار حجراسود کو بوسہ دیں۔ اگر ہجوم زیادہ ہو تو ہاتھ کے اشارے سے بھی بوسہ دیا جاسکتا ہے۔ جس کو استلام کہتے ہیں۔ اس کے بارے میں احادیث میں لکھا ہے کہ یہ پتھر جب جنت سے اتارا گیا تھا تو اس وقت بالکل سفید تھا۔ اور اسکا نام حجرِ ابید تھا یعنی سفید پتھر تھا۔ جو بعد میں حوادثِ زمانہ اور بنی آدم کے گناہوں کی وجہ سے سیاہ ہوگیا۔

    تاریخ اسلامی میں کچھ ایسے واقعات ملتے ہیں جن میں یہ تذکرہ ہے کہ حجر اسود کو چوری کیا گیا اور اس کو توڑنے کی کوشش کی گئی۔اسلامی روایات کے مطابق جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے۔ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ پتھر جنت سے لا کر دیا جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دست مبارک سے دیوار کعبہ میں نصب کیا۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلے قبیلہ بنی جرہم کے متعلق ملتا ہے کہ ان لوگوں نے حجر اسود کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی۔تاریخ میں ہے کہ جب بنو بکر بن عبد مناہ نے قبیلہ ”بنی جرہم ” کو مکّہ سے نکلنے پر مجبور کیا تو انہوں نے مکّہ سے بے دخل ہوتے ہوئےکعبہ میں رکھے دو سونے کے بنے ہرنوں کے ساتھ ” حجر اسود ” کو کعبہ کی دیوار سے نکال کر زم زم کے کنویں میں دفن کر دیا اور مجبوراً یمن کی جانب کوچ کر گئے– اللہ تعالیٰ کی حکمت دیکھئے کہ یہ پتھر زیادہ عرصہ زم زم کے کنویں میں نہیں رہا – جس وقت بنو جرہم کے لوگ حجر اسود کو زم زم کے کنویں میں چھپا رہے تھے ایک عورت نے انھیں ایسا کرتے دیکھ لیا تھا – اس عورت کی نشان دہی پر حجر اسود کو زم زم کےکنویں سے نکال لیا گیا ۔

    اس کے بعد ابو طاہر نامی شخص کی قیادت میں ” قرا ما تین "نے 317 ہجری میں مکّہ مکرمہ کا محاصرہ کرلیا اور مسجد الحرام جیسے مقدس مقام پر تقریبا” سات سو انسانوں کو قتل کیا اور زم زم کے کنویں اور مسجد الحرام کے احاطے کو انسانی لاشوں اور خون سے بھر دیا اسکے بعد اس نے مکّہ کے لوگوں کی قیمتی اشیاء کو اور کعبہ مکرمہ میں رکھے جواہرات کو قبضے میں لے لیا – اس نے کعبہ مکرمہ کے غلاف کو چیر پھاڑ کر اپنے پیروکاروں میں تقسیم کر دیا – کعبہ مکرمہ کے دروازے اور اسکے سنہری پر نالے کو اکھاڑ ڈالا – اور پھر بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ 7 ذوالحجہ317 ہجری کو ابو طاہر نے حجر اسود کو کعبہ مکرمہ کی دیوار سے الگ کردیا اور اس کی جگہ کو خالی چھوڑ دیا اور اس کو موجودہ دور میں جو علاقہ ” بحرین ” کہلاتا ہے وہاں منتقل کر دیا – یہ حجر اسود کا ایک نہات تکلیف دہ دور تھا – تقریبا 22 سال حجر اسود کعبہ مکرمہ کی دیوار سے جدا رہا –

    اس دور میں کعبہ مکرمہ کا طواف کرنے والے صرف اس کی خالی جگہ کو چومتے یا اس کا استلام کر تے تھے – پھر اللہ تعالیٰ کی مشیت دیکھئے کہ 22 سال بعد 10 ذوالحجہ 339 ہجری کو” سنبر بن حسن ” جس کا تعلق بھی قراماتین قبیلے سے ہی تھا ، اس نے حجر اسود کو آزاد کرا یا اور واپس حجر اسود کے اصل مقام پر پیوست کروا دیا – اس وقت ایک مسئلہ پیش آیا کہ کیا واقعی یہ اصلی حجر اسود ہی ہے یا نہیں تو اس وقت مسلمانوں کے ایک دانشور نے کہا وہ اس کو ٹیسٹ کر کے بتا دیگا کہ یہی اصل حجر اسود ہے یا نہیں کیوں کہ اس نے اس کے بارے میں احادیث کا مطا لعہ کر رکھا ہے .- اس نے حجر اسود پر آگ لگائی تو حجر اسود کو آگ نہیں لگی اور نہ ہی وہ گرم ہوا – پھر اس نے اس کو پانی میں ڈبویا تو یہ پتھر ہونے کے باوجود اپنی خصلت کے بر خلاف پانی میں ڈوبا نہیں بلکہ سطح آب پر ہی تیرتا رہا اس سے ظاہر ہو گیا کہ یہ اصل جنت کا پتھر ہی ہے کیوں کہ جنت کا پتھر کا آگ سے اور غرق یابی سے بھلا کیا تعلق ہو سکتا ہے –

    پھرسن 363 ہجری میں ایک رومی شخص نے اپنے کلہاڑے سے حجر اسود پر کاری ضرب لگائی جس سے اس پرایک واضح نشان پڑ گیا – اس نے دوسری شدید ضرب لگانے کے لیے جیسے ہی اپنے کلہاڑے کو اٹھایا . اللہ تعالیٰ کی مدد آن پہنچی اور قریب ہی موجود ایک یمنی شخص نے جو اس کی یہ گھناونی کاروائی دیکھ رہا تھا ، چشم زدن میں اس نے اسے قتل کر ڈالا اور اس کی حجر اسود پر دوسری ضرب لگانے کی خواہش دل ہی میں رہ گئی –

    اس کے بعدسن 413 ہجری میں فاطمید نے اپنے 6 پیروکاروں کو مکّہ بھیجا جس میں سے ایک ” الحاکم العبیدی ” تھا جو ایک مضبوط جسم کا مالک سنہرے بالوں والا طویل قد و قامت والا انسان تھا – وہ اپنے ساتھ ایک تلوار اور ایک لوہے کی سلاخ لایا تھا – اپنے ساتھیوں کے اکسانے پر اس نے دیوانگی کے عالم میں تابڑ توڑ تین ضربیں ”حجر اسود ” پر لگا ڈالیں جس سے اس کی کرچیاں اڑ گئیں – وہ ہزیانی کیفیت میں اول فول بکتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ ( معاذ الله ) جب تک وہ اسے پورا نہ اکھاڑ پھینکے گا تب تک سکوں سے نہ بیٹھے گا – بس اس موقع پر ایک مرتبہ پھر اللہ تعالیٰ کی مدد آن پہنچی اور گھڑ سواروں کے ایک دستے نے ان سب افراد کو گھیر لیا اور ان سب کو پکڑ کر قتل کردیا اور بعد میں ان کی لاشوں کو بھی جلا ڈالا۔
    پھراسی طرح کا ایک واقعہ سن 990 ہجری میں بھی ہوا جب ایک غیر عرب باشندہ اپنے ہتھیا ر کے ساتھ مطاف میں آیا اور اس نے حجر اسود کو ایک ضرب لگا دی – اس وقت کا ایک شہزادہ ” شہزادہ نصیر ” مطاف میں موجود تھا جس نے اسے فوری طور سے موت کے گھاٹ اتار دیا –
    سن 1351 ہجری کے محرم کے مہینے میں ایک افغانی باشندہ مطاف میں آیا اور اس نے حجرہ اسود کا ایک ٹکڑا توڑ کر باہر نکال دیا اور کعبہ کے غلاف کا ایک ٹکڑا چوری کر ڈالا -ا س نے کعبہ کی سیڑھیوں کو بھی نقصان پہنچایا – کعبہ مکرمہ کے اردگرد کھڑے محافظوں نے اسے پکڑ لیا – اور پھر اسے مناسب کارروائی کے بعد موت کی سزا دے دی گئی – اس کے بعد 28 ربیع الاول سن 1351 ہجری کو شاہ عبد العزیز نے حجر اسود کو دوبارہ کعبہ مکرمہ کی دیوار میں نصب کیا جو اس فاطر العقل افغانی نے نکال باہر کیا تھا – حجر اسود اس وقت ایک مکمل پتھر کی صورت میں نہیں ہے جیسا کہ یہ جنت سے اتارا گیا تھا بلکہ حوا د ث زمانہ نے اس متبرک پتھر کو جس کو بوسہ دینے کے لیے اہل ایمان کے دل ہر وقت بےچین رہتے ہیں آٹھ ٹکڑوں میں تبدیل کردیا ہے ۔

    606ء میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی عمر مبارک35 سال تھی ، سیلاب نے کعبے کی عمارت کو سخت نقصان پہنچایا اور قریش نے اس کی دوبارہ تعمیر کی لیکن جب حجر اسود رکھنے کا مسئلہ آیا تو قبائل میں جھگڑا ہوگیا۔ ہر قبیلے کی یہ خواہش تھی کہ یہ سعادت اسے ہی نصیب ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے اس جھگڑے کو طے کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ حجر اسود کو ایک چادر میں رکھا اور تمام سرداران قبائل سے فرمایا کہ وہ چادر کے کونے پکڑ کر اٹھائیں۔ چنانچہ سب نے مل کر چادر کو اٹھایا اور جب چادر اس مقام پر پہنچی جہاں اس کو رکھا جانا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اس کو دیوار کعبہ میں نصب فرما دیا۔ سب پہلے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی ﷲ عنہ نے حجر اسود پر چاندی چڑھوائی ۔ 1268ء میں سلطان عبدالحمید نے حجراسود کو سونے میں جڑوادیا ۔ 1281ء میں سلطان عبدالعزیز نے اسے چاندی جڑوادیا

    696ء میں جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی ﷲ عنہ خانہ کعبہ میں پناہ گزین ہوئے تو حجاج بن یوسف کی فوج نے کعبے پر منجنیقوں سے پتھر برسائے اور پھر آگ لگا دی۔ جس سے حجر اسود کے تین ٹکڑے ہو گئے۔ عباسی خلیفہ الراضی باللہ کے عہد میں ایک قرامطی سردار ابوطاہر حجر اسود اٹھا کر لے گیا اور کافی عرصے بعد اس واپس کیا۔

    اس پتھر کے بہت سے فضائل ہیں جیسا کہ
    حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا : "بلاشبہ حجر اسود اورمقام ابراھیم جنت کے یاقوتوں میں سے یاقوت ہيں اللہ تعالٰی نے ان کے نوراورروشنی کوختم کردیا ہے اگراللہ تعالٰی اس روشنی کوختم نہ کرتا تو مشرق ومغرب کا درمیانی حصہ روشن ہوجاتا ۔” سنن ترمذی حدیث نمبر ( 804 ) ۔

    حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا :
    حجراسود جنت سے آیا تودودھ سے بھی زیادہ سفید تھا اوراسے بنی آدم کے گناہوں نے سیاہ کردیاہے ۔سنن ترمذی حدیث نمبر ( 877 )

    حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے حجراسود کے بارے میں فرمایا : اللہ کی قسم اللہ تعالٰی اسے قیامت کولاۓ گا تواس کی دوآنکھیں ہوں گی جن سے یہ دیکھے گا اورزبان ہوگی جس سے بولے گا اور ہراس شخص کی گواہی دے گا جس نے اس کا حقیقی استلام کیا ہو گا۔

    حضرت ابن عمررضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا : اس کو چھونا گناہوں کا کفارہ ہے ۔ سنن ترمذی حدیث نمبر ( 959 )
    یوں توحجر اسود ایک پتھر ہے مگر جس کی تعظیم و تکریم کا حکم نازل ہو جائے وہ عبادت بن جاتی ہے

  • ایں چہ بوالعجبی است ….از سید زید زمان حامد

    ایں چہ بوالعجبی است

    تحریر: سید زید زمان حامد

    کیا اس شخص سے زیادہ کوئی بدنصیب اور ظالم ہوسکتا ہے کہ سیدی رسول اللہﷺ ہجرت فرمانا چاہیں اور وہ سیدیﷺ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالے، اور لوگوں کو سیدیﷺ کے ساتھ ہجرت سے روکے اور یہ کہے کہ مشرکوں اور مسلمانوں کو مکے میں ہی اکٹھے رہنا چاہیے؟

    کیا اس شخص سے زیادہ کوئی بدنصیب، گستاخ اور کافر ہوسکتا ہے کہ جو غزوئہ بدر کے موقع پر ابوجہل کے ساتھ کھڑا ہو اور سیدی رسول اللہﷺ کے لشکر اور مدینہ منورہ کی ریاست کے خلاف جنگ کرے؟

    اب ذرا دل تھام کر سنیں۔۔۔

    اوپر بیان کردہ دونوں ظلم عظیم اور گنائہ کبیرہ ہندوستان میں حسین احمد مدنی اور دارالعلوم دیوبند نے کیے اور کررہے ہیں۔ جب سیدی رسول اللہﷺ نے یہ فیصلہ فرمالیا کہ مدینہءثانی پاکستان نے قائم ہونا ہے اور مسلمانوں کو اس کی جانب ہجرت کرنی ہے تو سیدی رسول اللہﷺ کے حکم کو جاننے کے باوجو د حسین احمد مدنی اور دیوبند نے مشرکوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، مسلمانوں کو ہجرت سے روکا، اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ مشرکوں کے ساتھ متحدہ ہندوستان میں رہیں،اور پھر اس دن لیکر آج تک مدینہءثانی پاکستان کے خلاف تلواریں نکال کر جنگ آزما ہیں۔

    ذرا ایک لمحے کیلئے رک کر سوچیں کوئی تو وجہ تھی کہ درویش وقت اور موذن امت حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے حسین احمد مدنی اور دیوبند کو ”ابو لہب“ کہا تھا۔

    عجم ہنوز نداد رموزِِ دیں ورنہ
    ز دیوبند حسین احمد! ایں چہ بو العجبی است
    سرود برسر منبر کہ ملت از وطن است
    چہ بے خبر ز مقام محمد عربی است
    بمصطفیٰ برساں خویش راہ کہ دیں ہمہ اوست
    اگر بہ او نرسیدی، تمام بو لہبی است

    ایک اور مقام پر علامہ اقبالؒ نے بہت واضح طور پر فرمایا کہ اپنی اسلام دشمنی میں دیوبند وہی کردار ادا کررہے ہیں کہ جو قادیانی امت رسولﷺ کے خلاف ادا کررہے ہیں۔

    ”قادیان اور دیوبند اگرچہ ایک دوسرے کی ضد ہیں، لیکن دونوں کا سرچشمہ ایک ہے، اور دونوں اس تحریک کی پیدوار ہیں جسے عرف عام میں وہابیت کہا جاتا ہے“۔ علامہ اقبال۔ ( کتاب: اقبال کے حضور از سید نذیر نیازی)

    جب بھی ہم دیوبند کی پاکستان دشمنی اور مشرک دوستی کی بات کرتے ہیں تو فوراً ہی اندھے گونگے اور بہرے ہم پر فرقہ واریت پھیلانے کا الزام لگانے لگتے ہیں۔ کچھ باتیں ذرا اچھی طرح سمجھ لیں۔

    -1 دیوبند اور بریلی ہندوستان میں قائم دو مدرسوں کے نام ہیں۔

    -2 دیوبند کسی مسلک یا فرقے کا نام نہیں بلکہ سنی حنفی مسلک کے ایک مدرسے کا نام ہے۔

    -3 بریلوی بھی مسلک کے اعتبار سے سنی حنفی ہیں۔ بلکہ پاکستان کی زیادہ تر اکثریت سنی اور حنفی ہے۔

    -4 ہم صرف دیوبند کی سیاسی اور عسکری پالیسیوں کے خلاف بیان دے رہے ہیں۔ ہم نے کبھی ان کے مسلک سنی حنفی یا عقیدے کے خلاف کبھی بات نہیں کی۔

    -5 دیوبندیوں کے سیاسی جرائم کو بیان کرنے کو فرقہ واریت کہنا ایسی ہی جہالت اور بے شرمی ہے کہ جیسے ایم کیو ایم کے جرائم کو بیان کرنے کو لسانیت کہا جائے۔

    -6 جب ہم مدرسہءدیوبند کی اسلام دشمنی بیان کرتے ہیں تو جاہلوں کی طرف سے فوراً ہی یہ اعتراض بھی ہوتا ہے کہ مولانا اشرف علی تھانوی ، علامہ شبیر احمد عثمانی بھی تو دیوبندی تھے اور انہوں نے قائداعظم کا ساتھ دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں مولانا اشرف علی تھانوی اور علامہ شبیر احمد عثمانی نے مدرسہءدیوبند سے مکمل طور پر استعفیٰ دے کر اپنے آپ کو الگ کرلیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ان دونوں حضرات کو حسین احمد مدنی اور دیوبند کی جانب سے شدید مزاحمت اور ذلت و رسوائی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

    علامہ شبیر احمد عثمانی نے دیوبند کی سیاسی تنظیم ”جمعیت علمائے ہند“ کے مقابلے میں اپنی ایک نئی مذہبی سیاسی جماعت ”جمعیت علمائے اسلام“ بنائی، اور پھر اس نئی جماعت کے ساتھ قائداعظم کی حمایت میں کھڑے ہوگئے۔ علامہ شبیر احمد عثمانی کو دیوبندی کہنا اتنا ہی شرمناک بات ہے کہ جیسے کوئی قائداعظم کو کانگریسی کہے، کہ قائداعظم تقریباً سولہ برس تک کانگریس کے رکن بھی رہے تھے۔ لہذا یہ بالکل واضح کرلیں کہ جب پاکستان کے معاملے پر دیوبند میں اختلاف ہوا تو مولانا اشرف علی تھانوی اور علامہ شبیر احمد عثمانی دونوں ہی دیوبند سے الگ ہو کر تحریک پاکستان میں شامل ہوگئے تھے۔ دیوبند اس وقت بھی پاکستان کا مخالف تھا اور آج بھی مخالف ہے۔ پاکستان بننے کے بعد علامہ شبیر احمد عثمانی کی جماعت جمعیت علمائے اسلام کو مفتی محمود جیسے کانگریسی مولویوں نے اغواءکرلیا تھا۔ اور آج تک یہی صورتحال ہے۔

    مفتی محمود پہلے جمعیت علمائے ہند کے کارکن تھے اور پھر انہوں نے جمعیت علمائے اسلام پر قبضہ کرلیا۔ سرحدی گاندھی عبدالغفار خان کے ساتھ ملکر تحریک پاکستان کے خلاف زور لگایا۔ سرحد ریفرنڈم میں بھی اس شخص نے پاکستان کے خلاف جدوجہد کی۔ لیکن جب خان عبدالقیوم خان سرحد کے وزیراعلی بنےٰ تو مفتی محمود سرحد سے بھاگ کر ملتان آگئے۔ ان کے اس معروف فتوے سے آپ ان کی نیت کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں جو انہوں نے 1944 ءمیں دیا تھا: ”دنیا کی تمام قوموں سے رشتے ناطے جائز ہیں، لیکن کسی مسلم لیگی کو لڑکی دینا ناجائز ہے“۔ (اخبار آزاد، 5 اگست 1944)۔

    اسی مفتی محمود نے پاکستان کی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ ”شکر ہے کہ ہم پاکستان کے بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے“۔ آج علامہ شبیر احمد عثمانی کی جمعیت علمائے اسلام کانگریسی ملاﺅں کے قبضے میں ہے کہ جس کی سربراہی آج مفتی محمود کا بیٹا فضل الرحمن کررہا ہے۔ پاکستان کے دیوبندیوں کی سیاسی قیادت، کہ جو آج پاکستان دشمن ہے، انہی ناپاک وجودوں کے ہاتھ میں ہے۔ علامہ شبیر احمد عثمانی اور ان کے طالب علم آنے والے وقتوں میں سیاست سے کنارہ کش ہو کر صرف دینی کاموں میں ہی مشغول ہوگئے۔ لہذا اب یہ بات بالکل واضح ہوجانی چاہیے کہ دیوبند کا پاکستان بنانے میں کردار تو دور کی بات، یہ تو بابا اقبالؒ کی زبان کے وقت کے ”ابولہب“ ہیں۔

    ”انگریز دشمنی سے یہ کہاں لازم ہے آتا ہے کہ ہم اسلام دشمنی اختیار کرلیں۔ یہ کیا انگریز دشمنی ہے جس سے اسلام کو ضعف پہنچے۔ ارباب دیوبند کو سمجھنا چاہیے کہ اس دشمنی میں وہ نادانستہ اس راستے پر چل رہے ہیں جو انگریزوں کا تجویز کردہ ہے۔“ علامہ اقبال ۔(کتاب: اقبال کے حضور از سید نذیر نیازی)

    -7 دیوبندی حضرات یہ بات بھی کرتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ ہم نے پاکستان بننے کی مخالفت کی کہ اس بات پر اختلاف ہوسکتا ہے کہ مسجد بنائی جائے یا نہیں، لیکن اگر ایک دفعہ مسجد بن جائے تو پھر اختلاف ختم ہوجاتا ہے اور پھر سب ملکر اس میں نماز پڑھتے ہیں۔ دیوبندی علماءکا یہ اعتراض بھی صرف جھوٹ اور خرافات پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندو مشرکوں کی طرح دیوبند نے بھی آج تک پاکستان کو قبول نہیں کیا، ہندو مشرکوں کے ساتھ ملکر پاکستان کو تباہ کرنے کیلئے باقاعدہ جنگ کررہے ہیں، اور ان کی بدنصیبی کہ آج کے دور کے خوارج بھی انہی کی صفوں سے برآمدہوئے ہیں۔

    دیوبند کی پاکستان میں نمائندگی جمعیت علمائے اسلام اور فضل الرحمن کرتا ہے۔ یہی دیوبند کے اصل نمائندہ ہیں اور انہی کا عمل دیوبند کی نیتوں اور اعمال پر حجت سمجھا جائے گا۔ فضل الرحمن کا پاکستان کو تباہ کرنے میں جو کردار ہے اور جہاد کشمیر کو فروخت کرنے میں جو اس کا ہاتھ ہے، اس کا بڑا تعلق اس کی اپنی ذلالت سے بھی ہے مگر اس کی اصل وجہ وہ حسین احمد مدنی کی ”ابولہبی“ سوچ ہے کہ جس سے متاثر ہو کر فضل الرحمن کے باپ نے یہ کہا تھا کہ شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے۔

    -8 آج پاکستان کی ریاست کے خلاف جو سب سے خوفناک مذہبی جنگ لڑی جارہی ہے وہ دیوبندی سوچ اور اس کے خوارج کی جانب سے ہے۔ نہ اس بات سے انکار ممکن ہے نہ مزید کسی ثبوت کی ضرورت، صرف جہالت، بے شرمی اور ڈھٹائی چاہیے اس حقیقت سے انکار کرنے کیلئے۔

    -9 برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں، تحریک پاکستان میں، اور اب پاکستان کو نقصان پہنچانے میں دارالعلوم دیوبند اور حسین احمد مدنی کی سوچ کا وہی کردار ہے کہ جو کسی ایسے بدنصیب بے غیرت کا ہو کہ جو سیدی رسول اللہﷺ کو ہجرت سے روکے اور غزوئہ بدر میں ابوجہل کے ساتھ کھڑا ہو۔ اگر دارالعلوم دیوبند پاکستان کی مخالفت نہ کرتا تو مزید لاکھوں مسلمانوں ہجرت کرکے پاکستان کی محفوظ پناہ میں پہنچ جاتے۔

    آج ہندوستان میں پندرہ کروڑ مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ ان کی روزانہ کی آمدنی 20 روپے روز سے بھی کم ہے۔ مسلمانوں حال کا دلتوں اور شودروں سے زیادہ ذلیل ہوچکا ہے۔ بالکل کیڑے مکوڑوں کی طرح غلاظتوں کے ڈھیروں میں مسلمان اپنی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں اور یہ سب کچھ ان کے ساتھ اس لیے ہورہا ہے کہ حسین احمد مدنی نے عین ہجرت کے موقع پر، عین میدان جنگ میں، امت رسولﷺ کے ساتھ ایسی خیانت کی کہ تاریخ اب اس کا نام میر جعفر اور میر صادق کے ساتھ نفرت کے ساتھ لیتی رہے گی۔

    یہ بات کتابوں سے ثابت شدہ ہے کہ علامہ شبیر احمد عثمانی کو سیدی رسول اللہﷺ کی زیارت نصیب ہوئی تھی اور اس کے بعد ہی علامہ عثمانی دیوبند سے مستعفی ہو کر قائد کے خادم بن گئے تھے۔ یہ بات بھی تاریخ سے ثابت شدہ ہے کہ حسین احمد مدنی کو روحانی طور پر یہ بات بتا دی گئی تھی کہ پاکستان کے قیام کا فیصلہ سیدی رسول اللہﷺ فرماچکے ہیں، مگر اس کے باوجود بھی اس بدنصیب و بدبخت نے سیدی رسول اللہﷺ کے فیصلے کے خلاف کھڑے ہو کر جنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    ”حسین احمد مدنی نے قیام پاکستان سے قبل ایک رات دو بجے مولانا رشید احمد صدیقی اور انسپکٹر مدارس چوہدری محمد مصطفی کو طلب فرمایا۔ دونوں فوراً حاضر ہوئے تو ارشاد فرمایا کہ بھائی اصحاب باطنی نے ہندوستان کی تقسیم کا فیصلہ کردیا ہے اور پنجاب اور بنگال کو بھی تقسیم کردیا گیا ہے۔ ان دونوں نے سن کر کہا کہ ہم جو تقسیم کے مخالف ہیں اب کیا کریں۔ اس پر حضرت مدنی نے فرمایا کہ یہ فیصلہ تقدیر کا ہے جب کہ ہم جس بات کو حق سمجھتے ہیں اس کی تدبیر میں لگے رہیں گے۔“( کتاب: سیرت النبی بعد از وصال النبی،از عبدالمجید صدیقی، حصہ چہارم، صفحہ 298-299 )

    یہ ایسا گناہ ہے کہ جس کا کوئی کفارہ نہیں ہے، کوئی توبہ نہیں ہے، کوئی امید نہیں ہے کہ سیدی رسول اللہﷺ کی سفارش نصیب ہوسکے۔ عین میدان جنگ میں کہ جب امت رسول ﷺ اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ لڑ کر، سب سے زیادہ قربانیاں دے کر، مدینہءثانی کو قائم کررہی تھی، عین اس وقت دیوبند اور اس کے بڑوں نے امت رسولﷺ کی پشت میں خنجر گھونپ کر مشرکین کا ساتھ دیا۔ اب یہ جتنی مرضی توبہ کرنے کا دعویٰ کرتے رہیں، توبہ کے دروازے ان پر بند ہیں۔

    ان کی بدنصیبی تو یہ ہے کہ آج مدینہءثانی پاکستان بننے کے ستر سال بعد بھی یہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ کسی بھی جماعت یا مسلک کی نمائندگی ان کے علماءکرتے ہیں اور دیوبند کی جمعیت علمائے اسلام کا پاکستان دشمنی میں، بھارت کی حمایت میں، اور خوارج کی پشت پناہی میں کیا کردار ہے اور اس کو اب مزید بیان کرنے کی حاجت نہیں ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔

    آخر میں پاکستان میں ان مسلمان نوجونوں کو ایک اہم نصیحت کرتے چلیں۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ دیوبند اور بریلوی دونوں ہی سنی حنفی مدارس ہیں، دونوں ہی ایک جیسی کتابیں پڑھاتے ہیں۔ دیوبندی یا بریلوی مدرسے میں سنی حنفی مکتبہءفکر کی تعلیم حاصل کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ دیوبند کی سیاسی اور عسکری پالیسی کو بھی اختیار کرلیں۔ پاکستان میں آج کسی بھی دینی طالب علم میں نہ دیوبند دیکھا ہے نہ بریلی۔ اپنے آپ کو دیوبندی اور بریلوی کہنا اتنا ہی احمقانہ ہے کہ جیسے ایم کیو ایم کے پاکستان میں پیدا ہوئے لڑکے اپنے آپ کو مہاجر کہلائیں۔ مہاجر وہ ہوتا ہے کہ جس نے ہجرت کی ہو۔ اصل میں دیوبندی وہ ہوگا کہ جو دیوبند میں پڑھا ہوگا اور اسکے سیاسی و عسکری نظریات سے متفق ہوگا۔

    پاکستان میں پڑھنے والے تمام طالب علم سنی اور حنفی ہیں اور ان کو ہر حال میں دیوبند کی سیاسی اور عسکری دہشت گردی سے اپنے آپ کو دور رکھنا ہوگا، ورنہ وہ اسی صف میں کھڑے ہونگے کہ جہاں حسین احمد مدنی جیسے علمائے سُو کھڑے ہیں، دنیا میں بھی جن کا نام کانگریسی مولوی اور آخرت میں بھی یہ نہرو اور گاندھی کے ساتھ ہی اٹھائے جائیں گے۔

    اللہ ہمیں ایسے دردناک انجام سے محفوظ رکھے۔ اللہ پاک سرزمین کی حفاظت فرمائے، اللہ پاکستان کو فتنہءخوارج سے بچائے، اللہ ہمیں غزوئہ ہند کا مجاہد بنائے، اللہ پاک فوج کی حفاظت فرمائے اور سبز ہلالی پرچم کی آبرو محفوظ رکھے۔

    لبیک یا سیدی یا رسول اللہ
    لبیک غزﺅہ ہند

    ایں چہ بوالعجبی است ….از سید زید زمان حامد