Baaghi TV

Category: مذہب

  • پاسبانِ ناموس رسالت غازی علم دین شہید–از… صالح عبداللہ جتوئی

    میں اپنی بات کا آغاز شاعر رسول صل اللہ علیہ و سلم حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ کی نعت سے کروں گا جس میں انہوں نے کیا خوب انداز میں آمنہ کے لال کی شان بیان کی ہے اور گستاخان کو سختی سے تنبیہ کی ہے۔ اسکا اردو ترجمہ یہ ہے.

    "نبی کی شان اقدس پہ زبانیں جو نکالیں گے
    خدا کے حکم سے ایسی زبانیں کھینچ ڈالیں گے”
    اللہ کے نبی صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے۔
    "کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ مجھے اپنے مال جان اور اولاد سے زیادہ محبوب نہ جان لے.”

    اس فرمان کے مطابق ہم پہ یہ لازم ہے کہ ہم محسن انسانیت صل اللہ علیہ وسلم کی حرمت کے پاسبان بنیں اور اسی میں ہماری اخروی کامیابی کا راز پنہاں ہے۔ ہر دور میں گستاخ رسول پیدا ہوۓ ہیں اور ہر دور میں وہ ذلیل وخوار ہو کے عبرت کا نشان بنے ہیں اور میرے آقا صل اللہ علیہ وسلم نے بھی گستاخان کا سر قلم کرنے کا حکم دیا ہے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے گستاخان ملعون ہیں، جہاں بھی پائے جائیں، پکڑ لئے جائیں اور بُرے طریقے کے ساتھ ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں۔” اور آیت نمبر 62 میں پھر اسے اللہ کی سنت اور قانون قرار دیا گیا ہے یعنی توہین رسالت کے بارے قانونِ الہٰی یہی ہے کہ ایسے ناپاک ملعون لوگ بُری سزا کے حقدار اور واجب القتل ہیں۔ سورۃ الاحزاب کی آیت 56 سے لے کر آیات 62 تک کا مفہوم ومراد یہی ہے. ”کعب بن اشرف کو اس لئے قتل کیا کہ اس نے نبی کریمﷺ کے عہد کو توڑا۔ آپ ﷺ کی توہین کی اور آپ کو گالی دی اور اس کا یہ معاہدہ تھا کہ وہ آپﷺ کے خلاف کسی کی مدد نہیں کرے گا پھر وہ آپﷺ کے خلاف اہل حرب کا معاون بن گیا۔”

    محمد بن مسلمہ وغیرہ کو جب کعب کے قتل کے لئے روانہ فرمایا تو آپﷺ ان کے ہمراہ بقیع غرقد تک خود تشریف لے گئے اور اللہ کے نام پر اُنہیں روانہ کیا اور ان کے حق میں اللہ تعالیٰ سے مدد کی دعا فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنا چاند پہ تھوکنے کے مترادف ہے اور یہ گٹر کے کیڑے جب گستاخی کرتے ہیں تو خوف کے مارے مسلمانوں سے چھپتے پھرتے ہیں اور زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہو جاتے ہیں.

    کیونکہ مسلمان اپنی توہین تو برداشت کر سکتے ہیں لیکن نبی کی حرمت پہ آنچ نہیں آنے دیتے صحابہ کے بعد قربان ہونیوالی شخصیت غازی علم دین ہیں جنہوں نے ہر کسی کے دل میں گھر کیا غازی علم دین 4 دسمبر 1908 میں پیدا ہوۓ ان کا تعلق ایک غریب ترکھان خاندان سے تھا اور وہ ایک دیہاڑی دار ترکھان تھے جو ہر روز اوزار لے کر کام کے لیے جاتے تھے اس دور میں ایک شخص مہاشے راجپال انڈین نے 1927 میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی اور اس نے ایک کتاب لکھی جس کا نام رنگیلا رسول تھا

    جس سے وہاں کے مسلمان بہت زیادہ مشتعل ہو گئے اور جلسے جلوس کی صورت میں باہر نکل آۓ اور ان کو کنٹرول کرنے کے لیے راج پال کو گرفتار کر لیا گیا لیکن لاہور ہائیکورٹ کے ایک جج نے راج پال کو قانونی سقم کو بنیاد بنا کر رہا کر دیا اور مسلمانوں میں محشر برپا ہو گیا اور بھاری تعداد میں مسلمان سڑکوں پہ آ گئے اور دفعہ 144 کے باوجود ایک جلسہ عام کیا جس میں اس دور کے بہت بڑے خطیب عطاء اللہ شاہ بخاری نے بہت زبردست خطاب کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب شان بیان کی جس نے مسلمانوں کے دل میں جوش و ولولہ پیدا کر دیا ایک دن معمول کے مطابق غازی علم دین 6 ستمبر 1929 جو کام پہ جا رہا تھا تو راستے میں اس نے عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا ظفر علی خان کی حرمت رسول پہ دل کو گرما دینے والی تقاریر سنی اور سَکتے میں آگئے اور اسی وقت انہوں نے دکان سے ایک چاقو خریدا۔

    وہ جلد سے جلد شاتم رسول کو جہنم کی طرف عازم سفر کرنا چاہتے تھے۔ اتنے میں راج پال دفتر پہنچ گیا اور اپنی سیٹ پر بیٹھنے ہی لگا کہ غازی علم الدین نے پتلون میں چھپا خنجر نکالا اور پلک جھپکنے سے پہلے علم الدین راج پال پر جھپٹ پڑے اور اسکے سینے پر بیٹھ کر پے درپے اس پر خنجروں کے وار کر دیے۔ اتنا عظیم معرکہ انجام دینے کے بعد علم الدین نے بھاگنے کی بالکل کوشش نہیں کی بلکہ خود کو ملازموں کے حوالے کر دیا اور ملازموں نے پولیس کو بلایا تو پولیس علم الدین کو گرفتار کر کے لے گئی اور اس وقت کئی لوگوں نے اس پہ طرح طرح کی باتیں کیں اور غازی علم دین کو غلط ثابت کرنے کی کوششیں کی گئی کبھی کہا جاتا کہ قانون ہاتھ میں لیا گیا ہے اور کبھی یہ کہا گیا کہ یہ کیسا نبی ہے جس کی حرمت کے تقدس میں اپنے ہاتھ خون آلود کیے جائیں لیکن غازی علم دین کا یہ اقدام اس لیے تھا کیونکہ وہاں پہ ناموس رسالت کا کوئی قانون نہیں تھا

    سو وہ اس جاہلانہ مہم میں ناکام ہو گئے اور اس میں قادیانیوں نے بھرپور حصہ لیا تھا جو اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں. محب رسول میں گرفتار غازی علم دین شہید کو 31 اکتوبر کو میانوالی جیل میں پھانسی دے دے گئی اور پھانسی کے وقت انہوں نے رسے کو بوسہ دیا اور مسکرا رہے تھے کیونکہ وہ مر کے امر ہونے والے تھے اور جنتوں کے مہمان بننے والے تھے اللہ نے انہیں سرخرو فرمایا اور ان کا جنازہ لاہور کی تاریخ میں سب سے بڑا جنازہ تھا جس میں 6 لاکھ افراد نے شرکت کی اور جنازہ کا جلوس پانچ میل لمبا تھا ان کا جنازہ پڑھانے کا شرف قاری شمس الدین کو ہوا جو مسجد وزیر خان کے خطیب تھے علامہ اقبال جیسی مفکر شخصیت بھی ان کی قسمت پہ رشک کر رہے تھے اور خود انہوں نے غازی علم دین کو لحد میں اتارا اور ساتھ یہ کہا
    "آج لوہاروں کا لڑکا ہم جیسے پڑھے لکھے لوگوں سے بازی لے گیا.”

    مناسب قانون کے نہ ہونے سے گٹر کے کیڑے نکلتے رہتے ہیں اور انکا بھرپور جواب دینے کے لئے اللہ نے غازی علم دین جیسے ہیرے بھی پیدا کیے ہیں جو ان شاتموں کا کام تمام کرنے کے لیے کافی ہیں.
    اسی طرح جب ناموس کے قانون سزا دینے سے قاصر ہو گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے شاتم رسول کا کام تمام کرنے کے لیے علم دین کو چن لیا اور اس نے ثابت کر دیا کہ ہر دور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کے پاسبان موجود ہیں جو کٹ تو سکتے ہیں لیکن یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کے نبی کی شان میں کوئی گستاخی کرے.
    اللہ سے دعا ہے اللہ ہمیں حرمت رسول صل اللہ علیہ و سلم کا محافظ بناۓ اور انکی سنتوں پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین ثمہ آمین..
    گستاخ رسول کی سزا
    سر تن سے جدا
    حرمت رسول پہ جان بھی قربان ہے

    پاسبانِ ناموس رسالت غازی علم دین شہید–از… صالح عبداللہ جتوئی

  • "ربیع الاول ماہ مبارک ولادت مصطفیٰ کا آغاز اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم” تحریر: محمد عبداللہ

    بلاشبہ اس کائنات کی سب سے بڑی خوشی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بطور ایک پیغمبر اور نبی کے آمد کی ہے اور اللہ کے کرم کی انتہا کے اللہ نے ہم ایسے گناہگاروں کو شرف امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بحشا ہے. تو آئیے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی تاریخوں پر جھگڑنے اور فتوؤں کی پٹاریاں کھولنے کی بجائے "لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ” مالک ارض و سماء کے اس احسان عظیم کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں اور بعثت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم مقصد "ھُوَالَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ” کی تکمیل میں جت جائیے.خود ساختہ عقائد و نظریات اور اعمال اور ان کی بنیاد پر اس بابرکت ماہ میں دنگا و فساد کی بجائے حقیقی سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا بھی ہوا جائے اور اسی کا پرچار بھی کیا جائے کیونکہ وہی اسوہ تو کامیابی کی کنجی ہے کہ "لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا”.
    بعثت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی شان مقصد کو سمجھا اور سمجھایا جائے اور قیامت کے دن اور مابعد قیامت کی زندگی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کو پانے کی تگ و دو کی جائے کہ دنیا وما فیھا کا سب سے بڑا غم بھی رحلت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تھا کہ صحابہ و اہل بیت کے دل پھٹے جاتے تھے یہ خبر نہیں تھی بلکہ اک قیامت تھی جو نہ صرف مدینہ بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر ٹوٹی تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، فاروق اعظم صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے تلوار نکالے کھڑے تھے جو کہے گا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرما گئے ہیں میں اس کا سر قلم کردوں گا. اس سانحہ جانکاہ کے بعد نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوانوں کے آنسو خشک نہ ہوتے تھے اور کوئی بھی اس خبر کو ماننے کو تیار نہیں تھا یہاں تک کہ صدیق اعظم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یار غار ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور لوگوں سے اس انداز میں مخاطب ہوئے میں "جو بھی محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ آپ ﷺ اس دنیا فانی سے رخصت ہوچکے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو (اس کا معبود) اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اور اس کو کبھی موت نہیں آئے گی اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے "وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ”
    "اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف رسول ہیں ‘ ان سے پہلے اور رسول گزر چکے ہیں اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے تو جو اپنی ایڑیوں پر پھرجائے گا سو وہ اللہ کا کچھ نقصان نہی کرے گا اور عنقریب اللہ کا شکر کرنے والوں کو جزا دے گا”
    .ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا "اللہ کی قسم ! ایسا محسوس ہوا کہ جیسے پہلے سے لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ہے اور جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تلاوت کی تو سب نے ان سے یہ آیت سیکھی اب یہ حال تھا کہ جو بھی سنتا تھا وہی اس کی تلاوت کرنے لگ جاتا تھا”
    ہائے کاش اس امت محمد میں آج کوئی فقیہ،کوئی مفتی، کوئی عالم، کوئی حاکم، کوئی استاد کردار صدیقی ادا کرنے والا ہو اس پور پور بکھری امت کو مجتمع کردے اور راہ مستقیم سے بھٹکی امت کو راہ جنت پر گامزن کردے کہ ربیع الاول کے مہینے میں یہ امت نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پاسعادت کی تاریخوں پر باہم دست و گریباں ہونے اور پیدائش و بعثت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی منانے اور غم آقائے دو جہاں پر کفر و اسلام کے فتوے بانٹنے والی اس امت کو یکجان کرکے مقصد بعثت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکمیل میں مصروف عمل کرا دے.
    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • "عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کا اک انتہائی اہم پہلو” !!! تحریر محمد عبداللہ

    گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران عمران خان کی تقریر کو لے کر دنیا بھر میں بحث جاری ہے. کوئی اس کو امت مسلمہ کے ویژنری رہنما کی حیثیت سے دیکھ رہا ہے تو کوئی بھارت کی دہشت گردیوں اور کشمیر چیرہ دستیوں کو بہترین انداز میں اقوام عالم کے سامنے واضح کردینے پر عمران خان کو خراج تحسین پیش کر رہا ہے.بلاشبہ پاکستان جیسے ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے یہ ایک بہت بڑی اور تاریخی گفتگو تھی جو عمران خان نے اقوام متحدہ کے فورم سے دنیا سے مخاطب ہوکر کی گئی.

    کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    عمران خان کی تقریر میں سے کچھ بہت اہم نکات اسلام کا بیانیہ، اسلامو فوبیا، توہین رسالت، اسلام پر لگنے والا دہشت گردی کا الزام بھی تھے. ان پر بات کرنے سے قبل میں قارئین کو یاد دلاتا چلوں کہ نائن الیون کے ایشو پر جب فوری اسلام کو مورد الزام ٹھہرایا گیا اور امریکی صدر بش نے اسلام کے خلاف باقاعدہ صلیبی جنگوں کے آغاز کا اعلان کیا اور اس کے نتیجے میں افغانستان اور بعد ازاں عراق میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کرکے ان ملکوں کو کھنڈرات میں بدل دیا گیا. جیسے ہی نائن الیون کا حادثہ پیش آیا اور اسلام و مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا تو مغرب میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں نے اسلام اور قران کا مطالعہ شروع کیا کہ یہ کونسا مذہب ہے اور اس کی تعلیمات کیا ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مغرب میں بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کردیا، ان دنوں میں سب سے زیادہ رکھا جانے والا نام "محمد” تھا، سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اور تخائف کی صورت میں دی جانے والی کتاب قران مجید تھی. مغرب میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کردیا کہ وہاں کے تھنک ٹینکس اور پالیسی ساز اداروں نے اپنی حکومتوں کو خبردار کرنا شروع کردیا کہ اگر صورتحال کو کنٹرول نہ کیا گیا تو اگلے کچھ سالوں میں اسلام مغرب کا سب سے بڑا مذہب ہوگا. اس ساری صورتحال میں باقاعدہ پراپیگنڈے کی فیکٹریز قائم ہوئیں اور اسلامو فوبیا کا اک منظم سلسلہ شروع ہوا جس کے تحت مسلمانوں پر حملے اور باقاعدہ منصوبہ بندی سے توہین رسالت کا مکروہ فعل مغربی حکومتوں کی سرپرستی میں بار بار سرانجام دیا گیا جو تاحال جاری ہے.

    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    اقوام متحدہ جیسے بڑے فورم پر گزشتہ شب کی جانے والی تقریر میں جہاں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے جہاں مسئلہ کشمیر، بھارتی دہشت گردی، موسمی تغیرات وغیرہ پر بات کی وہیں عمران خان کی تقریر کا بہت بڑا حصہ اسلام کے پر امن بیانیے کے فروغ، توہین رسالت اور اسلامو فوبیا کو کاؤنٹر کرنے پر مشتمل تھا. عمران خان نے بلاشبہ اسلام کے پرامن بیانیے کو بہترین انداز میں اقوام متحدہ جیسے فورم پر پیش کیا اور دنیا کو دعوت دی کہ وہ اسلام کو اسٹڈی کریں. اسی توہین رسالت اور اس پر مسلمانوں کے غم و غصے اور جذبات کو بھی بالدلیل مغرب سے سامنے رکھا. اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے والوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور واضح کیا کہ اسلام پر امن دین ہے جو دہشت گردی کے مخالف تعلیمات دیتا ہے. آزادی اظہار رائے کو بنیاد بنا کر شعائر اسلامی کو ہدف بنانے پر بھی زبردست انداز میں دفاع کیا. اقوام متحدہ کے اسٹیج پر کھڑے ہوکر لاالہ الا اللہ کا نعرہ مستانہ بلند کیا.

    عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ
    عمران خان کے اس تاریخی خطاب کے بعد پوری دنیا میں اس پر تبصرے شروع ہوگئے. سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ملین سے زائد ٹویٹس کے ساتھ عمران خان ورلڈ وائڈ پینل پر سرفہرست رہے. امریکہ و یورپ سمیت دنیا بھر سے لوگوں نے اسلام، پاکستان اور عمران خان کو گوگل پر سرچ کرنا اور سماجی ویب سائٹس پر ان کے متعلق تبصرے کرنا شروع کیے.یہ بڑی خوش آئند صورتحال ہے اور یہ قوی امید کی جا رہی ہے کہ جس طرح نائن الیون میں اسلام کو مورد الزام ٹھہرانے کے بعد مغرب میں لوگ اسلام کی طرف راغب ہوئے تھے اور بہت بڑی تعداد میں اسلام قبول کیا تھا ان شاءاللہ بعینہ عمران خان کے خطاب میں اسلام اور اسلامو فوبیا پر مفصل بیان کے بعد مغرب میں لوگ پہلے سے زیادہ اسلام کو اسٹڈی کریں گے اور اسلام کی طرف راغب ہوں گے ان شاءاللہ.

    مصنف کا تعارف اور دیگر مضامین پڑھیں

     

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • مسلمانوں کے خلاف بھارت اور امریکہ کی ایک زبان  :علی چاند

    مسلمانوں کے خلاف بھارت اور امریکہ کی ایک زبان :علی چاند

    امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں امریکیوں اور ہندوستانیوں سے بھرے سٹیڈیم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم مودی نے ایک دوسرے کو تھپکی دیتے ہوٸے اس بات کا عزم کیا ہے کہ وہ دونوں مل کر دنیا سے اسلامی دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے ۔ یہ بات امریکی صدر نے کہی ہے کہ
    ” ہم بےقصور شہریوں کی انتہا پسند اسلامی دہشت گردی کے خطرہ سے حفاظت کے لئے پرعزم ہیں ”

    کاش مسلمان حکمرانوں میں اتنا عقل و شعور اور سمجھ ہوتی کہ کافر ، عیساٸی اور یہودی کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے ۔ کاش مسلمان حکمرانوں میں اتنی غیرت ہوتی کہ وہ اپنے مظلوم مسلمان بہن بھاٸیوں کی جہاد کے ساتھ مدد کرتے ہمارے حکمرانوں کا یہ المیہ ہے کہ وہ صرف معیشیت کا ہی رونا روتے رہتے ہیں ۔ یہ نہیں سوچتے کہ جنگیں ہار جیت اور معشیت کے لیے نہیں بلکہ اپنے وقار کے لیے لڑی جاتی ہیں ۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی معیشیت بہتر بنانے کے چکروں اپنا وقار مٹی میں ملا دیا ہے ۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی معیشیت کی خاطر ان ہندوٶں کو اپنے اپنے ملکوں میں نہ صرف مندر تعمیر کر کے دٸیے ہیں بلکہ ان مندروں کا افتتاح بھی اپنے ہاتھوں سے کر رہے ہیں ۔ یہی مسلمان حکمران ان یہود و ہنود کو نہ صرف مندر تعمیر کر کے دے رہے ہیں بلکہ انہیں اپنے اعلی سول اعزازات سے بھی نواز رہے ہیں ۔ کسی کو پچاس لاکھ ڈالر مالیت کا سونے کا ہار پہنایا جارہا ہے اور کسی کو سول اعزاز دیا جارہا ہے ۔ اور بدلے میں کیا مل رہا ہے ان مسلمان حکمرانوں کو ۔ خود ہم پاکستانی حکمران اپنی نمک جیسی نعمت کو انہی یہود و ہنود کو کوڑیوں کے دام دے رہے ہیں ۔ بدلے میں مسلمانوں کو کیا مل رہا ہے سود در سود قرض تلے ساری قوم جھکڑی جارہی ہے ۔

    کشمیر ، فلسطین ، عراق ، برما ، وہ کون سا علاقہ ہے جہاں مسلمان محفوظ ہیں ۔ ؟ امریکہ ہو یا بھارت جیسا ملک مسلمانوں کو کہاں سکون لینے دے رہے ہیں ۔ اور مسلمان شہید ہورہے ہیں ، بچے یتیم ہورہے ہیں ، بہنوں بیٹیوں کے ساتھ جو ہو رہا اس پر تو اب تک شاید آسمان بھی پھٹ جاتا لیکن ان مسلمان بزدل حکمرانوں نے غیرت مند مسلمانوں کی بھی غیرت ڈالر اور معیشیت کے بدلے گروی رکھ دی ۔ ہر جگہ مسلمان اپنی عزتیں لٹا رہے ہیں ، جانیں دے رہے ہیں پھر بھی ملا کیا اسلامی دہشت گردی کا طعنہ ؟ بزدل حکمرانوں نے جتنا امن امن کا راگ الاپا اتنا ہی ہم دہشت گرد ٹھہرے ۔ وجہ صرف اور صرف ہمارے حکمرانوں کی بزدلی اور پھر اس بزدلی کو امن کا نام دینا ۔ محمد بن قاسم صرف ایک مسلمان بچی کی فریاد پر پورا سندھ ہلا گے ۔ نا معیشیت کا سوچا نہ امن کا سوچا ۔ ہے کسی کی جرأت کے محمد بن قاسم کو دہشت گرد لکھے ؟ محمود غزنوی جس نے ہندوستان پر سترہ حملے کیے سو منات کا مندر توڑا ، سترہ حملے کرتے وقت محمود غزنوی نے معیشیت کا سوچا ؟ سو منات کا مندر توڑتے وقت محمود غزنوی نے سوچا کہ دنیا مجھے دہشت گردکہے گی ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مسلمان بزدلی کو امن کا نام نہیں دیتے بلکہ غیرت مند ہوتے ہیں ۔ہے کسی کی جرأت کے محمود غزنوی کو دہشت گرد لکھے ؟ ٹیپو سلطان نے جنگ کی جنگ ہار گے لیکن کسی بزدل یہود وہنود کے آگے گھٹنے نہ ٹیکے ۔ ہے کسی کی جرأت کہ ٹیپو سلطان کو ہارا ہوا لکھے ۔ تاریخ ہارا ہوا اور دہشت گرد صرف اسی کو لکھتی ہے جو بزدلی کو امن کا نام دے کر گھٹنے ٹیک لے ۔

    غیرت مندوں کو ہارا ہوا اور دہشت گرد لکھنے کی جرأت کسی میں نہیں ہوتی ۔ طارق بن زیاد ، صلاح الدین ایوبی ، محمد بن قاسم ، محمود غزنوی ، ٹیپو سلطان ان سب کو کیا اسلام امن کا درس نہیں دیتا تھا ؟ کیا اسلام امن کا درس صرف آج کے ڈرپوک بزدل اور ڈالر کے غلام مسلمان حکمرانوں کو دیتا ہے ؟ مسلمان دہشت گرد نہیں ۔ نہ ہی بزدل ہوتا ہے ۔ مسلمان صرف اور صرف غیرت مند ہوتا ہے ۔

    مودی اور ٹرمپ کے بیان کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان حکمران غیرت کی گولی کھاٸیں اور ایسے غیرت اور جرأت مندانہ خطاب کریں کہ ان نمک حرام یہود و ہنود کی نیندیں حرام ہو جاٸیں ۔ اور انہیں نہ صرف مسلم مقبوضہ علاقے خالی کرنے پڑیں بلکہ اپنی معیشیت کی بھی فکر لاحق ہوجاٸے ۔ لیکن ایسا صرف تبھی ممکن ہوگا جب مسلمان حکمران غیرت مندی دیکھاٸیں گے ۔ ابھی ساری دنیا کی نظریں وزیر اعظم عمران خاں اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان پر لگی ہوٸی ہیں ۔ عرب حکمران تو ان یہود و ہنود کے ہاتھوں کٹھ پتلیاں بن کر انہیں اعلی اعزازات سے نواز رہے ہیں وہ کیا جواب دیں گے اور کیا غیرت مندی دیکھاٸیں گے ۔ یہ ہی وقت ہے جب عمران خان پوری امت کا دل جیت بھی سکتے ہیں اور پوری امت کے دل سے اتر بھی سکتے ہیں ۔ یہی وہ وقت ہے جب عمران خاں یا تو ہیرو بن جاٸے گا یا پھر زیرو ۔

    اللہ پاک مسلمان حکمرانوں کے دل سے یہود و ہنود اور ڈالر کی محبت نکال کر انہیں جرأت مندی اور غیرت کا مظاہرہ کرنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین

  • ہمیں 65 کی زبان بھی آتی ہے : علی چاند

    ہمیں 65 کی زبان بھی آتی ہے : علی چاند

    پاکستان 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا تھا ۔ پاکستان بنانے کا مقصد ایک الگ اسلامی معاشرے کی تشکیل تھا جہاں مسلمان اسلامی قوانین پر آزادی کےساتھ عمل کر سکیں ۔ لیکن بھارت کو کبھی بھی یہ بات گوارا نہیں ہوٸی کہ مسلمان پر امن طریقےسے زندگی گزاریں ۔ بھارت نے پاکستان کو ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کی الگ پہچان ختم کرنے کے لیے 6 ستمبر 1965 کو پاکستان پر حملہ کر دیا ۔ پاکستانی افواج نے اپنی غیور اور بہادر عوام کے ساتھ مل کر دشمن کے ناپاک عزاٸم کو خاک میں ملا دیا اور اپنے دشمن کو ایسی ذلت سے دوچار کیا جس کا داغ اگر دشمن دھونا بھی چاہے تو بھی صدیوں میں بھی نا دھو پاٸے گا ۔ پاکستان میں یہ دن یعنی 6 ستمبر کا دن یوم دفاع پاکستان کہلاتا ہے اور تمام پاکستانی ہر سال یوم دفاع پاکستان پورے جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں اور اس دن بھارت کو دوبارہ باور کرواتے ہیں کہ اگر تم نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم تمہارا وہی حال کریں گے جو 1965 کی جنگ میں کیا تھا ۔ پاکستانی افواج اور عوام نے 6 ستمبر 1965 کی جنگ میں ثابت کردیا کہ ہم بدر و حنین والوں کے وارث ہیں جو نہ تو ڈرتے ہیں نہ بزدلی دیکھاتے اور نہ ہی اپنے کسی دشمن سے خوف زدہ ہوتے ہیں ۔ اس جنگ میں بھی پاکستانیوں نے مسلمانوں کی تاریخ دہراتے ہوٸے دشمن کا تکبر خاک میں ملا دیا اور اپنے سے کٸی گنا بڑے دشمن کو سر اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا ۔

    اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم دشمن ہر واضع کر دیں کہ ہم اپنے دشمن کا نام و نشان مٹانا جانتے ہیں ، اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں اور اپنے وطن کی طرف میلی نگاہ ڈالنے والے کو نیست و نابود کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔ یوم دفاع پاکستان پاکستان کی غیور ، بہادر اور پر عزم افواج اور عوام کا دن ہے جس دن سب پاکستانی چاہے ان کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے وطن پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے اور پاکستان کی حفاظت میں سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے ۔ یوم دفاع پاکستان شجاعت و بہادری کا دن ہے وہ دن جس دن پاکستانی افواج نے اپنی عوام سے مل کر اپنے سے کٸی گنا دشمن کا غرور و تکبر نیست و نابود کر دیا ۔ یوم دفاع پاکستان وہ دن ہے جس دن کی ذلت کا داغ دشمن کبھی نہیں دھو سکتا ۔ یہ دن ناقابل تسخیر جذبوں کا دن ہے ، یہ دن ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کرنے کا دن ہے ، یہ دن ہماری آن ، بان ، شان اور وطن سے محبت کے ثبوت کا دن ہے ۔ یہ میرے شہیدوں غازیوں ان کے گھر والوں کے زندہ و جاوید جذبوں اور بہادری و جرات کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ مسلمان ماٸیں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو میدان جنگ میں بھیجتے ہوٸے ذرا بھی خوف نہیں کھاتیں ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ ایک بہن اپنے بھاٸی کو وطن کی محبت میں کیسے وطن پر لٹا دیتی ہے ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ ایک باپ اپنا جوان خون اور ایک بھاٸی اپنا بازو ( بھاٸی ) کیسے وطن پر قربان کرتا ہے ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ یہاں لڑکیاں جوانی میں بیوہ تو ہوسکتی ہیں لیکن کبھی شوہر کو جہاد سے غافل نہیں ہونے دیتی ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ یہاں بچے یتیم تو ہو سکتے ہیں لیکن اپنے پیارے وطن پاکستان پر کوٸی آنچ نہیں آنے دیں گے ۔ اس دن نے ثابت کیا کہ یہاں ماتم کر کے اپنے بچوں کے لاشے وصول نہیں ہوتے بلکہ ایک جوان کی شہادت باپ اور بھاٸی کا سینہ فخرسے اور بھی چوڑا کر دیتی ہے ۔ اس دن نے ثابت کیاکہ یہاں ایک جوان کی شہادت بوڑھی ماں کو جوانی کی طاقت ، اور یتیموں کو وقت سے پہلے جوان کر دیتی ہے ۔ اس دن نے ثابت کیا کہ یہاں ایک گھر میں اگر ایک جوان شہیدہو کر آٸے تو اس پر ایسا فخر ہوتا ہے کہ اسی گھر سے دو تین مرد اور رتبہ شہادت پانے کو نکلیں گے ۔ پاکستانی افواج اور عوام نے اس دن دنیا کو ثابت کر دیکھایا کہ ہاں ہم زندہ قوم ہیں ، پاٸیندہ قوم ہیں ۔

    اس دن پاکستانیوں نے ثابت کر دیا کہ دنیا کی کوٸی طاقت ہمیں ہرا نہیں سکتی ، دنیا کی کوٸی طاقت ہمیں بزدل نہیں بنا سکتی ۔

    پاکستان نے اس سال اپنایوم دفاع پاکستان اپنی شہہ رگ کشمیر کے ساتھ یوم یکجہتی کے طور پر منانے کا علان کیا ہے ۔ بھارت جب پاکستان سے منہ کی کھاتا ہے تو وہ پاکستان کا غصہ مجبور اور بے بس کشمیریوں پر نکالتا ہے ۔ نہ صرف کشمیریوں بلکہ انڈیا میں بسنے والی اقلیتوں کا بھی جینا حرام کر دیا جاتا ہے ۔ اب بھی ایک ماہ ہونے کو ہے بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگایا ہوا ہے کشمیری عوام کو بنیادی انسانی حقوق تک میسر نہیں ۔ ادویات اور غذا کی انتہاٸی شدید قلت ہے ۔ عالمی میڈیا چیخ چیخ کر مودی کی ظلم و بربریت دنیا والوں کو دیکھا رہا ہے کہ کیسے بھارتی افواج کشمیری جوانوں ، بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں ۔ پاکستان نے یوم دفاع پاکستان کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منانے کا اعلان اس وجہ سے کیا ہے تاکہ دنیا بھر کی نظریں کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کی طرف دلاٸی جاسکے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت پر یہ بھی واضح کیا جاٸے گا کہ ہم نے جس طرح تمہارا غرور 1965 میں خاک میں ملایا تھا اب بھی ہم تم سے اپنہ شہہ رگ چھڑوا کر تمہیں خاک میں ملاٸیں گے ۔ ابھی ہم پر امن اس لیے ہیں تاکہ یہ مسلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق پر امن طریقے سے حل ہوجاٸے لیکن اگر بھارت نے ہماری امن کی زبان نہ سمجھی تو پھر اسے اسی زبان میں سمجھاٸیں گے جو ہم ان 1965 کی جنگ میں استعمال کی تھی ۔

    اللہ پاک میرے وطن کے تمام شہیدوں اور ان کے گھر والوں کے درجات بلند فرماٸے ۔ ہمیں وطن پر مر مٹنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ ہمارے پیارے پاکستان کو شاد و آباد رکھے اور ہمیں ملی غیرت عطا فرماٸے ۔ کشمیر کو آزاد فضاٸیں نصیب فرماٸے ۔ آمین

  • "نشان حیدر” پانے والے گیارہ شہیدوں کی لازوال داستان: علی چاند

    "نشان حیدر” پانے والے گیارہ شہیدوں کی لازوال داستان: علی چاند

    ” نشان حیدر ” مطلب شیر کا نشان ، یہ پاکستان کا سب سے بڑا فوج اعزاز ہے جو دشمن کے مقابلے میں بہادری کے شاندار جوہر دیکھانے والے پاک فوج کے جوانوں کو ملتا ہے ۔ نشان حیدر جنگ میں دشمن سے حاصل ہونے والے اسلحے کو پگھلا کر بنایا جاتا ہے جس میں 20 فیصد سونا بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔
    اب تک نشان حیدر پانے والوں میں سے سب سے زیادہ عمر طفیل محمد شہید ہیں جنہوں نے 44 سال کی عمر میں شہادت پاٸی اور سب سے کم عمر نشان حیدر پانے والے راشد منہاس شہید ہیں جنہوں نے 20 سال 6 مہینے میں شہادت کی عمر پاٸی ۔نشان حیدر پانے والے بہادر جوانوں کے نام اور کارنامے درج ذیل ہیں

    راجہ محمد سرور شہید :
    ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ سب سے پہلے نشان حیدر پانے والے جوان ہیں ۔ 1948 میں راجہ محمد سرور شہید کو کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا ۔ 27 جولاٸی کو آپ نے اوڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر حملہ کیا تو معلوم ہوا کہ دشمن نے اپنے مورچوں کو خار دار تاروں سے محفوظ کیا ہوا ہے ۔ آپ نے اپنے 6 جوانوں کے ساتھ مل کر شدید گولیوں کی بوچھاڑ میں ان خار دار تاروں کو کاٹ دیا ۔ آپ پر بیشمار گولیاں برساٸی گٸیں جن میں سے ایک آپ کے سینے پر لگی اور آپ جام شہادت نوش کیا ۔ آپ کے جذبہ شہادت کو دیکھتے ہوٸے آپ کے جوانوں نے دشمن پر بھرپور حملہ کیا جس کی وجہ سے دشمن اپنے مورچے چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔

    میجر طفیل محمد شہید :
    آپ صوبہ پنجاب میں ہوشیار پور میں پیدا ہوٸے ۔ اگست 1958 میں آپ کو چند بھارتی مورچوں کا صفایا کرنے کا کام سونپا گیا ۔ 7 اگست کو آپ نے دشمن کے ایک مورچے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ۔ جب بھارتیوں نے اپنی مشین گن سے فاٸرنگ شروع کیا تو اس فاٸرنگ کا نشانہ بننے والے سب سے پہلے جوان طفیل محمد شہید تھے ۔ بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے آپ نے دشمن کی مشین گنوں کو مکمل خاموش کروا دیا ۔ اور شدید زخمی ہونے کے باوجود آپ اپنے جوانوں کی قیادت کرتے رہے یہاں تک کے دشمن اپنی چار لاشیں اور تین قیدی چھوڑ کر فرار ہوگے ۔ شدید زخموں کی وجہ سے آپ جام شہادت پی گے ۔

    میجر عزیز بھٹی شہید :
    6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں کمپنی کی کمان کررہے تھے ۔
    12 ستمبر کی صبح عزیز بھٹی شہید نے دیکھا کہ ہزاروں دشمن سپاہی برکی کے شمال کی طرف درختوں میں چھپے ہوٸے ہیں ۔ آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر فاٸرنگ شروع کی جس سے دشمن کے سپاہی وہیں ڈھیر ہوتے گے ۔ عزیز بھٹی دوبارہ دشمن کی نقل و حرکت کا جاٸزہ لینے لگے تو دشمن نے گولہ باری شروع کر دی ۔ایک گولہ عزیز بھٹی شہید کے سینے میں لگا جس سے آپ وہی شہید ہوگے ۔

    راشد منہاس شہید :
    آپ کراچی میں پیدا ہوٸے ۔ راشد منہاس نے اپنے ماموں سے متاثر ہو کر پاک فضاٸیہ کا انتخاب کیا ۔ 20 اگست 1971ء کو راشد کی تیسری تنہا پرواز تھی۔ وہ ٹرینر جیٹ طیارے میں سوار ہوئے ہی تھے کہ ان کا انسٹرکٹر سیفٹی فلائٹ آفیسر مطیع الرحمان خطرے کا سگنل دے کر کاک پٹ میں داخل ہو گیا ۔ وہ تیارے کو اغوا کر کے بھارت لے جانا چاہتا تھا ۔ راشد منہاس کو ماڑی پور کنٹرول ٹاور سے ہدایت دی گٸی کہ طیارے کو ہر صورت اغوا ہونے سے بچایا جاٸے ۔ جب اپنے آفیسر سے کشمکش کے درمیان راشد منہاس نے محسوس کیا کہ طیارے کو کسی محفوظ جگہ لینڈ کرنا ناممکن ہے تو راشد منہاس نے اپنے طیارے کا رخ زمین کی طرف کر دیا ۔ جس کی وجہ سے راشد منہاس نے جام شہادت نوش کیا اور نشان حیدر جیسے اعزاز کے حق دار قرار پاٸے ۔


    میجر شبیر شریف شہید :
    میجر شبیر شریف پنجاب کے ضلع گجرات میں ایک قصبے کنجاہ میں پیدا ہوٸے ۔ 3 دسمبر 1971 میں سلیمانکی ہیڈ ورکس پر آپ کو طعینات کیا گیا تاکہ آپ اونچی زمین پر قبضہ کر سکیں جو کہ اس وقت دشمن کے قبضے میں تھی ۔6 دسمبر کو دشمن نے شدید حملہ کر دیا جس کی وجہ سے میجر شبیر شریف شہید نے اپنی اینٹی ٹنیک گن سے دشمن پر حملہ کر دیا ۔ دشمن کی فاٸرنگ کے نتیجے میں آپ نے جام شہادت نوش کیا ۔


    سوار محمد حسین شہید :

    سوار محمد حسین 18 جون 1949 کو ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ نے بطور ڈراٸیور پاک فوج جواٸن کی اس کے باوجود جنگ میں عملی طور پر حصہ لیا ۔ آپ نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ۔ آپ نے بہادری کے عظیم جوہر دیکھاٸے ۔ دس دسمبر 1971 کی شام دشمن کی مشین گن سے نکلی گولیاں آپ کے سینے پر پیوست ہوگٸی اور آپ جام شہادت نوش فرما گٸے ۔
    میجر محمد اکرم شہید :
    آپ ضلع گجرات کے گاٶں ڈنگہ میں پیدا ہوٸے ۔ 1971 کی پاکستان اور بھارت جنگ میں ہلی کے مقام پر آپ نے اپنے جوانوں کے ساھ مل کر دشمن کا بھاری جانی اور مالی نقصان کیا اور بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے جام شہادت نوش کر لیا ۔

    لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید :
    آپ ضلع راولپنڈی کے گاٶں پنڈ ملکاں میں 25 اکتوبر 1944 میں پیدا ہوٸے ۔ 1962 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی ۔ لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ان کا یونٹ واہگہ اٹاری سیکٹر پر تعینات تھا اور بہادری و شجاعت کے عظیم جوہر دیکھاتے ہوٸے دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا ۔ آپ نے دشمن کے بنکر میں گھس کر ایک دشمن فوجی کی گردن دبوچ لی اور اسے جہنم واصل کر دیا جب کہ دوسرے دشمن فوجی نے آپ پر حملہ کرکے آپ کو شہید کر دیا ۔

    کرنل شیر خاں شہید :
    آپ ضلع صوابی کے ایک گاٶں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ کارگل تنازعہ کے دوران عظم وہمت اور شجاعت کی ایک نٸی علامت بن کر ابھرے ۔ آپ نے بہادری کی نٸی مثالیں قاٸم کیں اور دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ۔ آپ نے دشمن کی چوکیوں پر قبضہ کے دوران مشین گن کا نشانہ بم گے اور آپ نے شہادت کا رتبہ پالیا ۔

    حوالدار لالک جان شہید :
    گلگت بلتستان کی وادی یاسین میں پیدا ہوٸے ۔ 1999 میں جب کارگل تنازعہ چل رہا تھا تو لالک جان کو ایک اہم ترین چوکی پی حفاظت کا ذمہ سونپا گیا ۔ 5 اور 6 جولاٸی کی درمیانی شب دشمن نے اس چوکی پر بھرپور حملہ کیا ۔لالک جان اور ان کے جوانوں نے دشمن کا بھرپور مقابلہ کیا اور دشمن کا کافی جانی اور مالی نقصان کیا جس پر دشمن پسپا ہوکر چلا گیا ۔ اگلی رات دشمن نے پھر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں لالک جان شدید زخمی ہوگے لیکن پھر بھی علاج کروانے کی بجاٸے دشمن سے مقابلہ کرتے رہے ۔ اگلی صبح زخموں کی تاب نا لاتے ہوٸے آپ شہید ہوگے ۔

    سیف علی جنجوعہ :
    انہوں نے اپنی ایک پلاٹون کی نامکمل اور مختصر نفری سے ایک بریگیڈ فوج کا اس وقت تک مقابلہ کیا اورثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اُن کی پوسٹ پر دشمن نے ٹینکوں اورتوپخانے اور جنگی جہازوں سے حملہ کیا دشمن نے تمام حربے استعمال کیے مگر تمام بے اثر رہے دشمن نے اُن کی پوسٹ پر ہر طرف سے دباؤ ڈال دیا مگر سیف علی جنجوعہ ڈٹے رہے اس طرح انہوں نے مشین گن سے دشمن کا ایک جہاز بھی مار گرایا ۔جب تک مزید پاکستانی فوج نہیں پہنچی آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر دشمن کو ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھنے دیا ۔ بم گرنے کی وجہ سے آپ جام شہادت نوش فرما لیا ۔اس وقت پاکستان کے تمغے نہیں بنے تھے اس لئے حکومت پاکستان نے “ہلال کشمیر” اعزاز کو برطانیہ کے “وکٹوریہ کراس” کے برابر لکھا تھا ۔جب پاکستان کے تمغے بنے تو سیف علی جنجوعہ شہید کے کمپنی کمانڈ ر لیفٹیننٹ محمد ایاز خان (ستارہ سماج) صدر پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے حکومت پاکستان کو مسلسل اڑتالیس سال لکھا کہ نائیک سیف علی شہید کو نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا جائے۔ پی ایس اے کی سفارش پرچیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے6ستمبر 1999کو نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کیلئے نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا ۔

  • عالمی یوم حجاب کشمیریوں کے نام : علی چاند

    عالمی یوم حجاب کشمیریوں کے نام : علی چاند

    آج پوری دنیا میں عالمی یوم حجاب منایا جا رہا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ عورت کی عزت و عظمت کا حق اسے مکمل طور پر دیا جاٸے ۔ عورت کو محض ایک اشتہار نا سمجھا جاٸے بلکہ عورت جس کا نام ہی پردہ ہے اسے مکمل عزت س نوازا جاٸے اس کی آبرو کا خیال رکھا جاٸے ۔ عالمی یوم حجاب منانے کا مقصد یہی ہے کہ جن ممالک میں مسلمان عورتوں کے حجاب پر پابندی ہے وہاں عورت کو اس کے حجاب کا حق دیا جاٸے ۔ اور جو عورتیں پردے کو بوجھ سمجھتی ہیں ان میں یہ شعور اجاگر کیا جاٸے کہ حجاب ان پر کوٸی مصیبت نہیں بلکہ یہ اللہ کا حکم ہے اور عورت کو تحفظ فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

    پاکستانی خواتین نے یہ عالمی یوم حجاب کشمیری خواتین کے نام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ دن کشمیری خواتین کے نام کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی توجہ اس طرف دلاٸی جاٸے کہ انڈین آرمی کشمیری نے مظلوم خواتین کی عصمت دھری بند کرے اور کشمیری خواتین کے پردے کا خیال رکھا جاٸے اور ان کی عزتوں کو تحفظ فراہم کیا جاٸے ۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا کی ایک کم ظرف اور گھٹیا قوم جب دوسری کسی قوم پر قبضہ کرتی ہے تو پھر وہ دیگر لوٹ مار کے ساتھ ساتھ اس مقبوضہ قوم کی خواتین کی عزتیں لوٹنا قابل فخر کام سمجھتی ہیں ۔ ایسی کم ظرف قوموں میں سے ایک قوم بھارت بھی ہے ۔ جس نے زبردستی مسلمان کشمیریوں پر قبضہ کر کے وہاں کی مجبور و بے بس خواتین کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا رکھا ہے ۔ عالمی یوم حجاب کو کشمیریوں کے نام کرنے کا مقصد یہی ہے کہ دنیا کشمیری خواتین کو تحفظ دینے کی کوشش کرے اور بھارت پر دباٶ ڈالے کے وہ کشمیری خواتین کی عزت و آبرو کا خیال رکھیں ۔

    اس دن کامقصد یہ بھی ہے کہ کشمیر کی جو بہادر خواتین پردے میں رہتے ہوٸے اپنی آزادی کا حق لینے کے لیے دشمن کے سامنے سینہ سپر ہیں انہیں ان کا حق دیا جاٸے ۔ کشمیر کی جو خواتین بھارتی کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنے میں پیش پیش ہیں ان میں ایک اہم نام محترمہ آسیہ اندرابی ہیں ۔

    اس کے علاوہ کشمیری خواتین چاہے ان کا تعلق سٹوڈینٹس سے ہو یا عام گھریلو خواتین سے وہ اپنے پردے میں رہتے ہوٸے بھارتی ظلم و ستم کا مقابلہ کر رہی ہیں ۔ پردے میں رہتے ہوٸے انڈین فوج کی گولی کا جواب پتھر سے دے رہی ہیں ۔ یہ دن کشمیری خواتین کے نام کرنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ تمام مسلمان حکمرانوں کو جھنجھوڑا جا سکے کہ وہ اپنی مسلم بیٹیوں کے تحفظ کے لیے آگے بڑھیں اور ملی غیرت کا ثبوت دیں ۔
    اللہ پاک ہماری مسلمان بہنوں کے پردے سلامت رکھے ۔ آمین

  • غریب کی بیٹی کا دوپٹہ : علی چاند کا بلاگ

    غریب کی بیٹی کا دوپٹہ : علی چاند کا بلاگ

    مسجد میں قالین بچھانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، مسجد میں پتھر لگوانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، میلاد پر پیسہ لگانے سے بہتر ہے کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، حج پر اتنے پیسے لگانے سے بہتر ہے انسان غریب کی بیٹیوں کو چادر لے دے ، عمرہ پر جانے سے بہتر ہے کہ انسان غریب کی بیٹیوں کو کپڑے لے دے انہیں چادریں لے دے ۔

    یہ ہیں وہ چند جملے جو آٸے دن ہمیں سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ یہ ہیں وہ چند جملے جن کا پرچار کچھ نام نہاد مسلمان کرتے نظر آتے ہیں ۔ میں ان لوگوں کو پوچھنا چاہوں گا کہ آخر تکلیف مسجد ، عمرہ ، میلاد اور حج کی ہے یا پھر واقعی غریب کی بیٹی کا درد ہے دل میں ۔ اگر تو درد ان لوگوں کو مسجد ، منبر ، محراب ، حج اور عمرے کا ہے تو میں ایسے لوگوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ کسی عالم دین کی صحبت میں بیٹھیں ، اللہ کے احکامات پڑھیں ، دین سیکھیں تاکہ ان لوگوں کو پتہ چلے کہ جب حکم خدا ماننا ہوتا ہے تو پھر آدم کو سجدہ بھی کرنا پڑتا ہے ورنہ انکار پر سب سے بڑا عبادت گزار بھی مردود کہلاتا ہے ۔ جہاں حکم ربی آجاتا ہے وہاں یہ نہیں دیکھنا ہوتا کہ اس کی بجاٸے یہ کر لیں یا اس کی بجاٸے وہ کر لیں ۔ پھر صرف اور صرف اللہ کا حکم ماننا ہوتا ہے ۔

    رہی بات غریب کی بیٹی کے دوپٹے اور چادر کی تو اللہ پاک ان غریبوں کی بیٹیوں کی عزتیں سلامت رکھے ۔ جو یہ بھی اچھی طرح جانتی ہیں کہ پھٹی ہوٸی چادر سے سر کیسے ڈھانپنا ہے اور یہ بھی جانتی ہے کہ اسے نامحرم مردوں سے اپنی عزت کو کیسے بچانا ہے ۔ یہ جو لوگ ایسی باتیں کر کے اپنی دانشوری کے جوہر دیکھاتے ہیں کہ غریب کی بیٹی کے سر پر چادر دو ، عمرہ چھوڑو ، حج چھوڑو ، میلاد چھوڑو ، مسجد چھوڑو ، مسجد کا خیال نہ کرو صرف اور صرف غریب کی بیٹی کی چادر کا سوچو تو میں ایسے دانشوروں سے کہنا چاہوں گا کہ اپنی آنکھوں اور عقل پر بندھی پٹی کو کھول کر دیکھو کسی غریب کی بیٹی بغیر چادر کے نظر آگٸی تو کہنا ، کسی غریب کی بیٹی پھٹی ہوٸی جینز میں نظر آگٸی تو کہنا ، کسی غریب کی بیٹی بغیر دوپٹے کے نظر آگٸی تو کہنا ، اگر غریب کی بیٹی اپنی عزت کا سودا کرتی نظر آگٸی تو کہنا ، غریب کی بیٹی اگر کسی سے محبت بھی کرے گی ، اسے ٹوٹ کر چاہے گی بھی تو بھی کبھی بھی اس کے سامنے بغیر دوپٹے پھٹی ہوٸی جینز اور عریاں لباس پہن کر نہیں جاٸے گی ۔ خدارا بند کرو یہ تماشا غریب کی بیٹی ، غریب کی بیٹی ، غیب کی بیٹی ، خدا کے لیے مت بناو تماشا غریب کی بیٹی کے دوپٹے کا کیونکہ غریب ہے تو کیا ہوا اس کے پاس غیرت مند باپ ، عزت دار بھاٸی ، عزت دار شوہر موجود ہے اس کی فکر کرنے کے لیے جو اس کےسر پر سے کبھی چادر اترنے نہیں دیتے ، غریب کی بیٹی کے پاس چار محافظ موجود ہیں جو اس کی عزت کے رکھوالے ہیں ۔

    غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والے دانشوروں فکر کرنی ہے تو آٶ فکر کرتے ہیں ، اس بیچاری غریب لڑکی کا جس کے پاس نا تو غیرت مند باپ ہے نا عزت دار بھاٸی اور شوہر ، آٶ فکر کریں اس بیچاری عورت کی جسے روز نیم عریاں لباس پہن کر ، کبھی چند روپے کے شیمپو اور صابن کے لیے ٹی وی پر آ کر نہانا پڑتا ہے سب کے سامنے ، کبھی اسے چند منٹ کے ڈرامے کے لیے کسی نامحرم کے بستر پر اس کے ساتھ لیٹنا پڑتا ہے ، کبھی اسے عریاں لباس پہن کر ایوارڈ شو میں نامحرم کی بانہوں میں ناچنا پڑتا ہے ، تاکہ اس بیچاری کے باپ ، بھاٸی ، شوہر کو اس کا بوجھ نا اٹھانا پڑے بلکہ یہ خود کما کر انہیں کھلاٸیں ۔ غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والو ! ان امیروں کی بیٹیوں کے دکھ سمجھو ، انہیں اپنی زکوة ، خیرات اور صدقات میں سے حصہ دیں تاکہ یہ بیچاریاں پھٹی ہوٸی جینز ، عریاں لباس اور بغیر دوپٹے کے گھومنے کی بجاٸے با پردہ اور پورا لباس خرید کر پہن سکیں ۔ غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والے مفکرو ! آٶ امیر کی بیٹی کا درد سمجھیں تاکہ اسے دو دو ٹکے کے نامحرم لوگوں کے ساتھ ناجاٸز ڈرامے اور اشتہار نا کرنے پڑیں ، آٶ بنو سہارا ان امیروں کی بیٹیوں کا جن کے تم دیوانے ہو ، جن کے تم فین ہو ، جن کی ذات سے تم متاثر ہو کر ان کی Ids کو فالو کرتے ہو ، ان کی فضول پوسٹس پر پاگلوں کی طرح کمنٹ کرتے ہو تاکہ وہ کسی طرح تم لوگوں کو رپلاٸے دیں ۔ پھر اگر کوٸی رپلاٸے دے دے تو کمنٹ کو سیو کر کے اسے پوسٹ کر کے اپنے چھوٹے پن کاثبوت دیتے ہو ، اور ایسا کرنے سے پہلے یہ بھی نہیں سوچتے کہ یہی ہیں وہ عورتیں جو تماری نسلوں میں بے حیاٸی پھیلا رہی ہیں ، یہی ہیں وہ عورتیں جن کی وجہ سے غریب کی بیٹی کی زندگی عذاب ہورہی ہے ، یہی ہیں وہ عورتیں جن کی وجہ سے غریب کی بیٹی کے باپ کو جہیز کے لیے لمبی لمبی لسٹیں ملتی ہیں ۔ خدارا غریب کی بیٹی کا تماشا نا بناٸیں ،
    ، غریب کی بیٹی اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ وہ نا صرف اپنا سر ڈھانپنا جانتی ہے بلکہ اپنی ، اپنے باپ ، اپنے بھاٸی ، اپنے شوہر اور اپنے بیٹے کی عزت کی حفاظت کرنا بھی جانتی ہے ۔

    اللہ پاک نام نہاد امیروں کی بیٹیوں کو ہدایت عطا فرماٸے اور سب بیٹیوں کی عزت و آبرو کی حفاظت فرماٸے ۔ آمین

  • فلاح کی راہیں۔۔۔۔۔ !!!!!!    جویریہ چوہدری

    فلاح کی راہیں۔۔۔۔۔ !!!!!! جویریہ چوہدری

    قرآن ہدایت و نور ہے۔۔۔
    سیدھی۔۔۔۔بلکہ بہت ہی سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرنے والی کتاب ہے۔۔۔۔۔
    ارشاد ربانی ہے:
    "بے شک یہ قرآن بہت ہی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔۔۔۔”
    (سورۂ بنی اسرائیل)

    یہ دنیا انسان کے لیئے آخرت کے امتحان کی تیاری کا ایک موقع ہے۔۔۔۔۔
    اور دنیا اور آخرت کی فلاح پانے کے لیئے اللّٰہ تعالٰی نے انسانوں کو وہ راستے بتائے ہیں۔۔۔۔جن پر چل کر۔۔۔۔ان احکامات کو مان کر۔۔۔۔۔اپنی زندگی میں عملی طور پر اپنا کر۔۔۔۔ ہم مفلحین میں شامل ہو سکتے ہیں۔۔۔ !!!!!
    اللّٰہ تعالی واضح تعلیم کے ذریعے ہمیں کامیاب لوگ دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔۔
    اور چاہتے ہیں کہ اس کے بندے دنیا و آخرت میں کامیاب ہوں۔۔۔
    بامقصد زندگی گزاریں۔۔۔۔اور میری بخشش کے مستحق بن جائیں۔۔۔۔
    مفلح وہ ہوتا ہے جو صعوبتوں اور نافرمانی کے کاموں کو قطع کرتے ہوئے اپنے مطلوب یعنی اللّٰہ کی رضا تک پہنچتا ہے۔۔۔
    کامیابی کا Straight wayاس کے لیئے کھل جاتا ہے۔۔۔۔اور وہ اپنے رب کے فرمانبردار اور کامیاب لوگوں میں شامل ہو جاتا ہے۔۔۔۔ !!!!!

    آئیے!
    قرآن میں فلاح کی طرف دعوت کے کچھ مقامات پر نگاہ ڈالتے ہیں۔۔۔۔کہ کامیابی کی راہیں کون سی ہیں۔۔۔۔!!!!!!

    وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔۔۔
    اللّٰہ کے احکامات پر اسے بن دیکھے ایمان لاتے اور عمل کرتے ہیں۔۔۔جو کتابیں اس کی طرف سے نازل ہوئی ہیں۔۔۔۔ان پر یقین رکھتے۔۔۔۔
    نمازیں قائم کرتے اور اپنے مال میں سے اللّٰہ کی رضا کی خاطر خرچ کرتے ہیں۔۔۔۔یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں۔۔۔۔ !!!!!
    (سورۃ البقرۃ: 5_2)

    "اے لوگو!
    جو ایمان لائے ہو۔۔۔شراب،اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے تیر۔۔۔یہ سب گندی باتیں ہیں،شیطانی کام ہیں۔۔۔ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو۔۔۔”(المائدہ:90)

    یعنی اپنے دامن ان گندی چیزوں سے آلودہ نہیں کرنے۔۔۔۔اگر ایسا کرو گے تو کامیاب لوگوں میں نہ رہو گے۔۔۔ !!!!

    "آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کہہ دیجیئے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں۔۔۔گو آپ کو ناپاک کی کثرت بھلی لگتی ہو۔۔۔۔تو اللّٰہ تعالی سے ڈرتے رہو۔۔۔اے عقلمندو۔۔۔۔تاکہ تم کامیاب ہو۔۔۔”
    (المائدہ:100)

    ہم لوگ اپنی زندگی میں اکثر یہ جملہ بولتے ہیں ہیں کہ جو کام ساری دنیا کر رہی ہے۔۔۔وہ سب غلط ہیں کیا ؟
    چاہے وہ رسوم و رواج ہوں۔۔۔۔
    یا بے پردگی و بے ہودہ فیشنز۔۔۔
    ہم کثرت کے عمل سے impressed ہو جاتے ہیں۔۔۔۔ !!!!!
    حالانکہ یہ سب شیطانی چالیں اور جال ہوتے ہیں کہ اس نے جو عزم کیا تھا:
    "اس نے کہا بسبب اس کے کہ آپ نے مجھے گمراہ کیا ہے۔۔۔میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کے لیئے آپ کی سیدھی راہ پر بیٹھوں گا۔۔۔۔
    پھر ان پر حملہ کروں گا ،ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے
    اور ان کے دائیں جانب سے
    اور ان کے بائیں جانب سے بھی اور آپ ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائیں گے۔۔۔۔
    اللّٰہ تعالی نے فرمایا:
    یہاں سے ذلیل و خوار ہو کر نکل جا۔۔۔۔”(الاعراف:18_16)۔

    یعنی قرآن ہمیں بتا رہا ہے۔۔۔۔کہ غلط چیز غلط ہی رہتی ہے چاہے کثرت میں ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔
    کسی بھی عملِ صالح کا معیار یہ نہیں ہوتا کہ اسے بجا لانے والے زیادہ ہی ہوں۔۔۔۔۔
    بلکہ اللّٰہ نے ایمان۔۔شکر۔۔۔تدبر کرنے والوں کے لیئے "قلیل” کا لفظ استعمال فرمایا کہ ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں۔۔۔۔ !!!

    "اے ایمان والو!!!
    اللّٰہ سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب تلاش کرو،اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔۔۔۔”
    (المائدہ:35)

    یعنی اللّٰہ کے قرب کا سبب بننے والے اعمال اختیار کرو۔۔۔
    امام شوکانی فرماتے ہیں:
    "وسیلہ جو قربت کے معنی میں ہی۔۔۔۔تقویٰ اور دیگر خصال خیر پر صادق آتا ہے۔۔۔۔جن کے ذریعے بندے اپنے رب کا قرب حاصل کرتے ہیں۔۔۔۔”

    "اے ایمان والو!
    ثابت قدم رہو،اور ایک دوسرے کو تھامے رہو اور رباط کے لیئے تیار رہو،،اور اللّٰہ تعالی سے ڈرتے رہو تاکہ مراد کو پہنچو۔۔۔”
    (آل عمران)۔۔۔۔

    صبر کرو یعنی طاعات کے اختیار کرنے اور شہوات و لذت کے ترک کرنے میں اپنے نفس کو مضبوط اور ثابت قدم رکھو۔۔۔
    جنگ کی شدت میں دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہو۔۔۔۔
    اسے مرابطہ کہا جاتا ہے۔۔۔!!!

    "اے ایمان والو!
    جب تم کسی مخالف قوت سے بھڑ جاؤ تو ثابت قدم رہو اور بکثرت اللّٰہ کو یاد کرو۔۔۔تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔۔۔”

    (الانفال)

    "اے لوگو جو ایمان لائے ہو!
    رکوع اور سجدہ کرتے رہو،اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو۔۔۔۔اور نیک کام کرو تاکہ فلاح پاؤ۔۔۔۔”(الحج:77)

    "یقیناً ایمان والے فلاح پا گئے۔۔۔
    جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔۔۔
    اور جو لغویات سے منہ موڑ لیتے ہیں۔۔۔”
    (المؤمنون 3_1)۔

    "اے مسلمانو!
    تم سب کے سب اللّٰہ کی طرف توبہ کرو،تاکہ فلاح پاؤ۔۔۔”
    (النور:31)

    اپنی سابقہ غلطیوں پر سچے دل سے معافی مانگتے رہنا۔۔۔۔توبہ کرتے رہنا۔۔۔۔مغفرت طلب کرتے رہنا۔۔۔۔
    کامیاب لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے۔۔۔ !!!!

    "جب تم نماز پڑھ چکو،تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللّٰہ کا فضل تلاش کرو،اور کثرت سے اللّٰہ کا ذکر کرو تاکہ فلاح پاؤ۔۔۔”
    (الجمعہ:10)
    اللّٰہ کے ذکر۔۔۔۔اذکار،تسبیحات،قرآن کی تلاوت۔۔۔۔وغیرہ سے اپنی زرہ بکتر کو۔۔۔۔حفاظت کے حصار کو اور مضبوط کرتے رہو۔۔۔۔۔۔!!!!!!!
    اور اسی سے روزی طلب کرتے رہو۔۔۔اطاعت کے ذریعے اسی کی طرف وسیلہ پکڑو۔۔۔۔کیونکہ اسی کی احکامات کی اطاعت اور اسی کی طرف انابت بابرکت اور کشادہ روزی کا بہت بڑا سبب ہے۔۔۔۔ !!!!!

    "اور جہاں تک ہوسکے اللّٰہ سے ڈرتے رہو اور سنتے اور مانتے چلے جاؤ۔۔۔اور اللّٰہ کی راہ میں خیرات کرتے رہو ، جو تمہارے لیئے بہتر ہے اور جو شخص اپنے نفس کی حرص سے محفوظ رکھا جائے،وہی کامیاب لوگوں میں ہے۔۔۔۔”
    (التغابن:16)
    یعنی اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی باتیں سنتے جاؤ۔۔۔۔مانتے جاؤ۔۔۔۔عمل کی راہ سے گزرتے چلے جاؤ۔۔۔۔یہی اصل فلاح ہے۔۔۔۔
    یہ نہیں کہ سن تو لیا مگر عمل۔۔۔۔۔؟؟؟

    "یقیناً فلاح پا گیا،جس نے اپنے(نفس)کا تزکیہ کر لیا۔۔۔۔”
    (الاعلیٰ:14)۔
    کیونکہ
    شریعت کی نظر میں کامیاب وہ ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے اپنے رب کو راضی کر لے،اور اس کے بدلے میں آخرت میں اللّٰہ کی رحمت و مغفرت کا مستحق قرار پا جائے۔۔۔۔ !!!!

    الٰہی۔۔۔ !!!
    ہمیں فلاح کی راہوں پہ چلا کر فلاح یاب لوگوں میں شامل کر دے۔۔۔۔آمین۔۔۔ !!!
    کہ جو تیرے بتائے ہوئے فلاح کے راستوں پر چل گئے وہی حقیقی کامیاب ہیں۔۔۔۔جو اس یقین کی راہ پر چل پڑیں،
    باعث فخر منزلیں ان سے ہمکنار ہو جاتی ہیں۔۔۔ !!!!!
    جبکہ اس دنیا میں کامیابی کو ماپنے کے پیمانے اور معیار تو مختلف رکھے جاتے ہیں ناں۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

  • ” روح کی غذا۔۔۔۔”    جویریہ چوہدری

    ” روح کی غذا۔۔۔۔” جویریہ چوہدری

    جس طرح ایک جسم کو صحتمند رکھنے کے لیئے اچھی اور معیاری خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔
    اسی طرح روح کی قوت اور توانائی کے لیئے بھی معیاری اعمال کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔ !!!!!

    جب ہم اپنے دل کی دنیا میں بغاوت،نافرمانی اور اللّٰہ تعالی کی ناراضگی والے کاموں کی تخم ریزی شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔
    تو آہستہ آہستہ یہ بد عملی سیاہی بن کر ہمارے دل کو ڈھانپ لیتی ہے۔۔۔۔
    اس روح کی تسکین کا پہلا مرحلہ تو اپنے خالق کی صحیح معنوں میں پہچان ہے۔۔۔۔
    اس کی توحید ربوبیت،الوہیت،اور اسما وصفات پر صحیح معنوں میں ایمان ہے۔۔۔
    جب ہم اس چیز کو سمجھ کر اپنا لیتے ہیں۔۔۔۔تو پھر ہمارے قدم ٹیڑھے نہیں ہو سکتے۔۔۔۔
    ہماری روح سرشار رہتی ہے۔۔۔۔۔
    تنگ نہیں ہوتی۔۔۔۔فرمانبرداری ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن جاتی ہے۔۔۔۔
    روح کے کمزور ہونے کی وجہ قضا و قدر پر راضی نہ ہونا ہے۔۔۔۔
    یعنی جب ہم اللّٰہ تعالی کی حکمت،فیصلوں پر کھلے دل سے اطمینان ظاہر نہیں کرتے۔۔۔۔
    شکوہ و شکایت زبان پر لاتے ہیں۔۔۔
    مقدر کو کوستے ہیں۔۔۔تو پھر یہ روح توانا نہیں رہتی۔۔۔۔۔قوتِ ایمانی کمزور پڑ جاتی ہے۔۔۔۔
    اور انسان رفعتوں سےگہرائی کی طرف سفر کرنے لگتا ہے۔۔۔۔ !!!!!

    یہ دنیا چند دنوں کی ہے۔۔۔یہاں ملنے والی کوئی چیز،اور نعمت بھی پائدار نہیں ہے۔۔۔۔
    ہر شئے کا یہاں خاصہ جدائی ہے۔۔۔۔!!!!!!
    تو پھر ہم کیوں اس تھوڑے سے وقت کے لیئے نہ ختم ہونے والے وقت کو برباد کر دیں۔۔۔۔!!!!!!!!

    اللّٰہ کے ذکر اور یاد سے اعراض بھی ہماری روح کو کمزور کر دیتا ہے۔۔۔۔۔رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "اس شخص کی مثال جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے،اور اس شخص کی مثال جو اپنے رب کا ذکر نہیں کرتا۔۔۔۔زندہ اور مردہ شخص کی طرح ہے۔۔۔”
    (صحیح بخاری)۔

    یعنی ہماری روحانی طاقت کے لیئے اللّٰہ کا ذکر کتنی اہمیت رکھتا ہے کہ اسے زندہ اور مردہ سے تشبیہہ دی گئی ہے۔۔۔۔

    ارشاد ربانی ہے:
    "اور(ہاں)جو میری یاد سے روگردانی کرے گا،اس کی زندگی تنگ رہے گی اور روز قیامت ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔۔۔”
    (طٰہٰ:124)

    پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو حکم ملا:
    اپنے پروردگار کی تعریف اور تسبیح بیان کرتا رہ۔۔۔۔سورج نکلنے سے پہلے،اور اس کے ڈوبنے سے پہلے،رات کے مختلف وقتوں میں بھی اور دن کے حصوں میں بھی تسبیح کرتا رہ۔۔۔۔بہت ممکن ہے کہ تو راضی ہو جائے۔۔۔”
    (طٰہٰ:130)۔

    اس اتنے اوقات کی تسبیح و تحمید میں نماز،تلاوت،ذکر واذکار،دعا و مناجات،نوافل وغیرہ سب شامل ہیں۔۔۔۔!!!!!!!

    مگر ہمارے پاس دن بھر سوشل میڈیا پر انگلیاں چلانے کا وقت تو بہت۔۔۔۔لیکن نماز کے اوقات کھو جانے کا ذرا غم نہیں ہوتا۔۔۔
    ٹیلی ویژن کی سکرین۔۔۔۔فلموں کی لذت۔۔۔۔لہو الحدیث میں مبتلا ہو کر۔۔۔۔حی علی الفلاح کی صدا پر نرم و ملائم بستر میں گھسے رہ کر۔۔۔
    دل میں ندامت کروٹ نہیں لیتی اور نماز اور دیگر فرائض کی فکر اور ضرورت سے لا تعلق رہ جاتے ہیں۔۔۔۔
    پھر روحانی بالیدگی کے اثرات ایسے شخص پر کیسے نمودار ہو سکتے ہیں۔۔۔؟؟؟؟
    ہماری روح تسکین کی دولت سے مالا مال کیسے ہو۔۔۔۔؟؟؟
    اللّٰہ کی رضا کی متلاشی اطمینان پانے والی روح بے مقصد زندگی نہیں گزارتی۔۔۔۔
    زندگی کے سفر میں گناہ سرزد ہو بھی جائیں تو سچے دل سے رجوع الی اللہ اور توبہ کرتی ہے۔۔۔۔

    توبہ کی امید پر گناہ نہیں۔۔۔کیونکہ ایمان والوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
    "ان سے جب کوئی ناشائستہ کام ہو جائے،یا کوئی گناہ کر بیٹھیں تو فوراً اللّٰہ کا ذکر اور اپنے گناہوں کے لیئے استغفار کرتے ہیں۔۔۔
    فی الواقع اللّٰہ کے سوا اور کون گناہوں کو بخش سکتا ہے؟
    اور وہ لوگ باوجود علم کےکسی برے کام پر اَڑ نہیں جاتے۔۔۔”
    (آل عمران:135)۔
    سچی توبہ کر لینے والی کی روح شاد باد ہو جاتی۔۔۔۔یہ اللّٰہ کا وعدہ ہے کہ گناہوں کا اعادہ نہ کرنے والے سے پچھلے گناہوں کی بازپرس نہیں ہو گی۔۔۔۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "گناہ سے(سچی)توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے،گویا اس کے ذمہ کوئی گناہ ہی نہیں۔۔۔”
    (ابن ماجہ_کتاب الزہد)۔

    مگر جو سود کو حرام سمجھتے ہوئے بھی اسی میں دھنسا جا رہا ہو۔۔۔۔
    جو شراب سے توبہ کر کے پھر پی رہا ہو۔۔۔۔
    جو فحاشی و بدکرداری کو گناہ سمجھتے ہوئے بھی اعادہ کرتا اور ترویج و اشاعت کرتا جا رہا ہو۔۔۔۔
    توبہ کر کے پھر توبہ کی امید پر گناہ کرتا چلا جائے۔۔۔
    تو اس کے پاس کیا گارنٹی ہو گی کہ وہ مرنے سے پہلے ضرور ہی توبہ کر لے گا۔۔۔۔؟؟؟؟
    موت کا شکنجہ اسے سنبھلنے بھی دے گا کہ نہیں۔۔۔۔۔؟؟؟؟
    دنیا کی لذتوں کی خاطر اپنے نفس کا تزکیہ نہ کرنا بہت بڑی محرومی ہے۔۔۔
    ارشاد ربانی ہے:
    "بے شک اس نے فلاح پا لی جو پاک ہو گیا۔۔۔جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔۔۔
    لیکن تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔۔۔اور آخرت بہت بہتر اور بقا والی ہے۔۔۔”
    (الاعلیٰ:14_17)۔
    اپنے دل کو شرک کی آلودگی،نافرمانی کے کاموں۔۔۔حسد،بغض،برائی،قطع رحمی،والدین سے بد سلوکی، ظلم و زیادتی اورحرام مال کی محبت سے پاک صاف کر لینے۔۔۔۔
    اپنے دل کی دنیا میں ایمان،توحید،اطاعتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم،عملِ صالح،صلہ رحمی،تقویٰ اور قضا و قدر پر راضی برضا رہنے۔۔۔۔۔
    والوں کی روحیں اطمینان کے گھر میں داخل ہوں گی۔۔۔۔جسے علیین کہا گیا ہے کہ:
    یہ علو (بلندی)سے ہے جس میں نیک لوگوں کے نامۂ اعمال،اور روحیں رکھی جاتی ہیں۔۔۔جس کے پاس مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں۔۔۔۔
    جبکہ بدکرداروں کے نامۂ اعمال اور روحیں سجین میں رکھے جائیں گے۔۔۔۔
    سِجِّینِِ۔۔۔۔سجن سے ہے۔۔۔تنگ و تاریک مقام۔۔۔۔گھٹن والا ماحول۔۔۔قید خانہ نما۔۔۔۔۔ !!!!!!
    اطمینان والی روح۔۔۔۔۔ایمانی قوت سے آراستہ ہو کر جب پرواز بھرتی ہے تو اعلان ہوگا:
    "اے اطمینان والی روح !!!!
    تو اپنے رب کی طرف چل،اس طرح کہ تو اس سے راضی۔۔۔۔وہ تجھ سے خوش۔۔۔۔
    پس میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا۔۔۔۔اور میری جنت میں چلی جا۔۔۔۔۔”
    (الفجر:27_30)۔
    اللھم اجعلنا منھم۔۔۔۔آمین ثم آمین۔۔۔!!!!!!!
    حافظ ابن کثیر نے ابن عساکر کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا:
    (اللھم انی اسأَلک نفساً،بک مطمئنۃً،تُؤمِنُ بلقآئک،و ترضیٰ بقضآئک،و تقنع بعطآئک)۔۔۔(ابن کثیر)۔۔۔۔ !!!!!
    اللّٰہ ہمیں جسمانی و روحانی طور پر طاقتور بنا دے۔۔۔۔
    کہ جس سے ٹکرا کر ہر شر پاش پاش ہو جائے۔۔۔۔آمین
    اور ہمیں اپنے مقربین میں سے کرنا۔۔۔۔۔ہماری روحیں اعلیٰ علیین میں جگہ پا سکیں۔۔۔۔آمین ثم آمین۔۔۔۔۔ !!!!!!!