Baaghi TV

Category: مذہب

  • مسلمانوں کے خلاف بھارت اور امریکہ کی ایک زبان  :علی چاند

    مسلمانوں کے خلاف بھارت اور امریکہ کی ایک زبان :علی چاند

    امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں امریکیوں اور ہندوستانیوں سے بھرے سٹیڈیم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم مودی نے ایک دوسرے کو تھپکی دیتے ہوٸے اس بات کا عزم کیا ہے کہ وہ دونوں مل کر دنیا سے اسلامی دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے ۔ یہ بات امریکی صدر نے کہی ہے کہ
    ” ہم بےقصور شہریوں کی انتہا پسند اسلامی دہشت گردی کے خطرہ سے حفاظت کے لئے پرعزم ہیں ”

    کاش مسلمان حکمرانوں میں اتنا عقل و شعور اور سمجھ ہوتی کہ کافر ، عیساٸی اور یہودی کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے ۔ کاش مسلمان حکمرانوں میں اتنی غیرت ہوتی کہ وہ اپنے مظلوم مسلمان بہن بھاٸیوں کی جہاد کے ساتھ مدد کرتے ہمارے حکمرانوں کا یہ المیہ ہے کہ وہ صرف معیشیت کا ہی رونا روتے رہتے ہیں ۔ یہ نہیں سوچتے کہ جنگیں ہار جیت اور معشیت کے لیے نہیں بلکہ اپنے وقار کے لیے لڑی جاتی ہیں ۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی معیشیت بہتر بنانے کے چکروں اپنا وقار مٹی میں ملا دیا ہے ۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی معیشیت کی خاطر ان ہندوٶں کو اپنے اپنے ملکوں میں نہ صرف مندر تعمیر کر کے دٸیے ہیں بلکہ ان مندروں کا افتتاح بھی اپنے ہاتھوں سے کر رہے ہیں ۔ یہی مسلمان حکمران ان یہود و ہنود کو نہ صرف مندر تعمیر کر کے دے رہے ہیں بلکہ انہیں اپنے اعلی سول اعزازات سے بھی نواز رہے ہیں ۔ کسی کو پچاس لاکھ ڈالر مالیت کا سونے کا ہار پہنایا جارہا ہے اور کسی کو سول اعزاز دیا جارہا ہے ۔ اور بدلے میں کیا مل رہا ہے ان مسلمان حکمرانوں کو ۔ خود ہم پاکستانی حکمران اپنی نمک جیسی نعمت کو انہی یہود و ہنود کو کوڑیوں کے دام دے رہے ہیں ۔ بدلے میں مسلمانوں کو کیا مل رہا ہے سود در سود قرض تلے ساری قوم جھکڑی جارہی ہے ۔

    کشمیر ، فلسطین ، عراق ، برما ، وہ کون سا علاقہ ہے جہاں مسلمان محفوظ ہیں ۔ ؟ امریکہ ہو یا بھارت جیسا ملک مسلمانوں کو کہاں سکون لینے دے رہے ہیں ۔ اور مسلمان شہید ہورہے ہیں ، بچے یتیم ہورہے ہیں ، بہنوں بیٹیوں کے ساتھ جو ہو رہا اس پر تو اب تک شاید آسمان بھی پھٹ جاتا لیکن ان مسلمان بزدل حکمرانوں نے غیرت مند مسلمانوں کی بھی غیرت ڈالر اور معیشیت کے بدلے گروی رکھ دی ۔ ہر جگہ مسلمان اپنی عزتیں لٹا رہے ہیں ، جانیں دے رہے ہیں پھر بھی ملا کیا اسلامی دہشت گردی کا طعنہ ؟ بزدل حکمرانوں نے جتنا امن امن کا راگ الاپا اتنا ہی ہم دہشت گرد ٹھہرے ۔ وجہ صرف اور صرف ہمارے حکمرانوں کی بزدلی اور پھر اس بزدلی کو امن کا نام دینا ۔ محمد بن قاسم صرف ایک مسلمان بچی کی فریاد پر پورا سندھ ہلا گے ۔ نا معیشیت کا سوچا نہ امن کا سوچا ۔ ہے کسی کی جرأت کے محمد بن قاسم کو دہشت گرد لکھے ؟ محمود غزنوی جس نے ہندوستان پر سترہ حملے کیے سو منات کا مندر توڑا ، سترہ حملے کرتے وقت محمود غزنوی نے معیشیت کا سوچا ؟ سو منات کا مندر توڑتے وقت محمود غزنوی نے سوچا کہ دنیا مجھے دہشت گردکہے گی ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مسلمان بزدلی کو امن کا نام نہیں دیتے بلکہ غیرت مند ہوتے ہیں ۔ہے کسی کی جرأت کے محمود غزنوی کو دہشت گرد لکھے ؟ ٹیپو سلطان نے جنگ کی جنگ ہار گے لیکن کسی بزدل یہود وہنود کے آگے گھٹنے نہ ٹیکے ۔ ہے کسی کی جرأت کہ ٹیپو سلطان کو ہارا ہوا لکھے ۔ تاریخ ہارا ہوا اور دہشت گرد صرف اسی کو لکھتی ہے جو بزدلی کو امن کا نام دے کر گھٹنے ٹیک لے ۔

    غیرت مندوں کو ہارا ہوا اور دہشت گرد لکھنے کی جرأت کسی میں نہیں ہوتی ۔ طارق بن زیاد ، صلاح الدین ایوبی ، محمد بن قاسم ، محمود غزنوی ، ٹیپو سلطان ان سب کو کیا اسلام امن کا درس نہیں دیتا تھا ؟ کیا اسلام امن کا درس صرف آج کے ڈرپوک بزدل اور ڈالر کے غلام مسلمان حکمرانوں کو دیتا ہے ؟ مسلمان دہشت گرد نہیں ۔ نہ ہی بزدل ہوتا ہے ۔ مسلمان صرف اور صرف غیرت مند ہوتا ہے ۔

    مودی اور ٹرمپ کے بیان کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان حکمران غیرت کی گولی کھاٸیں اور ایسے غیرت اور جرأت مندانہ خطاب کریں کہ ان نمک حرام یہود و ہنود کی نیندیں حرام ہو جاٸیں ۔ اور انہیں نہ صرف مسلم مقبوضہ علاقے خالی کرنے پڑیں بلکہ اپنی معیشیت کی بھی فکر لاحق ہوجاٸے ۔ لیکن ایسا صرف تبھی ممکن ہوگا جب مسلمان حکمران غیرت مندی دیکھاٸیں گے ۔ ابھی ساری دنیا کی نظریں وزیر اعظم عمران خاں اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان پر لگی ہوٸی ہیں ۔ عرب حکمران تو ان یہود و ہنود کے ہاتھوں کٹھ پتلیاں بن کر انہیں اعلی اعزازات سے نواز رہے ہیں وہ کیا جواب دیں گے اور کیا غیرت مندی دیکھاٸیں گے ۔ یہ ہی وقت ہے جب عمران خان پوری امت کا دل جیت بھی سکتے ہیں اور پوری امت کے دل سے اتر بھی سکتے ہیں ۔ یہی وہ وقت ہے جب عمران خاں یا تو ہیرو بن جاٸے گا یا پھر زیرو ۔

    اللہ پاک مسلمان حکمرانوں کے دل سے یہود و ہنود اور ڈالر کی محبت نکال کر انہیں جرأت مندی اور غیرت کا مظاہرہ کرنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین

  • ہمیں 65 کی زبان بھی آتی ہے : علی چاند

    ہمیں 65 کی زبان بھی آتی ہے : علی چاند

    پاکستان 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا تھا ۔ پاکستان بنانے کا مقصد ایک الگ اسلامی معاشرے کی تشکیل تھا جہاں مسلمان اسلامی قوانین پر آزادی کےساتھ عمل کر سکیں ۔ لیکن بھارت کو کبھی بھی یہ بات گوارا نہیں ہوٸی کہ مسلمان پر امن طریقےسے زندگی گزاریں ۔ بھارت نے پاکستان کو ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کی الگ پہچان ختم کرنے کے لیے 6 ستمبر 1965 کو پاکستان پر حملہ کر دیا ۔ پاکستانی افواج نے اپنی غیور اور بہادر عوام کے ساتھ مل کر دشمن کے ناپاک عزاٸم کو خاک میں ملا دیا اور اپنے دشمن کو ایسی ذلت سے دوچار کیا جس کا داغ اگر دشمن دھونا بھی چاہے تو بھی صدیوں میں بھی نا دھو پاٸے گا ۔ پاکستان میں یہ دن یعنی 6 ستمبر کا دن یوم دفاع پاکستان کہلاتا ہے اور تمام پاکستانی ہر سال یوم دفاع پاکستان پورے جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں اور اس دن بھارت کو دوبارہ باور کرواتے ہیں کہ اگر تم نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم تمہارا وہی حال کریں گے جو 1965 کی جنگ میں کیا تھا ۔ پاکستانی افواج اور عوام نے 6 ستمبر 1965 کی جنگ میں ثابت کردیا کہ ہم بدر و حنین والوں کے وارث ہیں جو نہ تو ڈرتے ہیں نہ بزدلی دیکھاتے اور نہ ہی اپنے کسی دشمن سے خوف زدہ ہوتے ہیں ۔ اس جنگ میں بھی پاکستانیوں نے مسلمانوں کی تاریخ دہراتے ہوٸے دشمن کا تکبر خاک میں ملا دیا اور اپنے سے کٸی گنا بڑے دشمن کو سر اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا ۔

    اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم دشمن ہر واضع کر دیں کہ ہم اپنے دشمن کا نام و نشان مٹانا جانتے ہیں ، اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں اور اپنے وطن کی طرف میلی نگاہ ڈالنے والے کو نیست و نابود کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔ یوم دفاع پاکستان پاکستان کی غیور ، بہادر اور پر عزم افواج اور عوام کا دن ہے جس دن سب پاکستانی چاہے ان کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے وطن پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے اور پاکستان کی حفاظت میں سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے ۔ یوم دفاع پاکستان شجاعت و بہادری کا دن ہے وہ دن جس دن پاکستانی افواج نے اپنی عوام سے مل کر اپنے سے کٸی گنا دشمن کا غرور و تکبر نیست و نابود کر دیا ۔ یوم دفاع پاکستان وہ دن ہے جس دن کی ذلت کا داغ دشمن کبھی نہیں دھو سکتا ۔ یہ دن ناقابل تسخیر جذبوں کا دن ہے ، یہ دن ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کرنے کا دن ہے ، یہ دن ہماری آن ، بان ، شان اور وطن سے محبت کے ثبوت کا دن ہے ۔ یہ میرے شہیدوں غازیوں ان کے گھر والوں کے زندہ و جاوید جذبوں اور بہادری و جرات کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ مسلمان ماٸیں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو میدان جنگ میں بھیجتے ہوٸے ذرا بھی خوف نہیں کھاتیں ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ ایک بہن اپنے بھاٸی کو وطن کی محبت میں کیسے وطن پر لٹا دیتی ہے ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ ایک باپ اپنا جوان خون اور ایک بھاٸی اپنا بازو ( بھاٸی ) کیسے وطن پر قربان کرتا ہے ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ یہاں لڑکیاں جوانی میں بیوہ تو ہوسکتی ہیں لیکن کبھی شوہر کو جہاد سے غافل نہیں ہونے دیتی ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ یہاں بچے یتیم تو ہو سکتے ہیں لیکن اپنے پیارے وطن پاکستان پر کوٸی آنچ نہیں آنے دیں گے ۔ اس دن نے ثابت کیا کہ یہاں ماتم کر کے اپنے بچوں کے لاشے وصول نہیں ہوتے بلکہ ایک جوان کی شہادت باپ اور بھاٸی کا سینہ فخرسے اور بھی چوڑا کر دیتی ہے ۔ اس دن نے ثابت کیاکہ یہاں ایک جوان کی شہادت بوڑھی ماں کو جوانی کی طاقت ، اور یتیموں کو وقت سے پہلے جوان کر دیتی ہے ۔ اس دن نے ثابت کیا کہ یہاں ایک گھر میں اگر ایک جوان شہیدہو کر آٸے تو اس پر ایسا فخر ہوتا ہے کہ اسی گھر سے دو تین مرد اور رتبہ شہادت پانے کو نکلیں گے ۔ پاکستانی افواج اور عوام نے اس دن دنیا کو ثابت کر دیکھایا کہ ہاں ہم زندہ قوم ہیں ، پاٸیندہ قوم ہیں ۔

    اس دن پاکستانیوں نے ثابت کر دیا کہ دنیا کی کوٸی طاقت ہمیں ہرا نہیں سکتی ، دنیا کی کوٸی طاقت ہمیں بزدل نہیں بنا سکتی ۔

    پاکستان نے اس سال اپنایوم دفاع پاکستان اپنی شہہ رگ کشمیر کے ساتھ یوم یکجہتی کے طور پر منانے کا علان کیا ہے ۔ بھارت جب پاکستان سے منہ کی کھاتا ہے تو وہ پاکستان کا غصہ مجبور اور بے بس کشمیریوں پر نکالتا ہے ۔ نہ صرف کشمیریوں بلکہ انڈیا میں بسنے والی اقلیتوں کا بھی جینا حرام کر دیا جاتا ہے ۔ اب بھی ایک ماہ ہونے کو ہے بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگایا ہوا ہے کشمیری عوام کو بنیادی انسانی حقوق تک میسر نہیں ۔ ادویات اور غذا کی انتہاٸی شدید قلت ہے ۔ عالمی میڈیا چیخ چیخ کر مودی کی ظلم و بربریت دنیا والوں کو دیکھا رہا ہے کہ کیسے بھارتی افواج کشمیری جوانوں ، بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں ۔ پاکستان نے یوم دفاع پاکستان کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منانے کا اعلان اس وجہ سے کیا ہے تاکہ دنیا بھر کی نظریں کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کی طرف دلاٸی جاسکے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت پر یہ بھی واضح کیا جاٸے گا کہ ہم نے جس طرح تمہارا غرور 1965 میں خاک میں ملایا تھا اب بھی ہم تم سے اپنہ شہہ رگ چھڑوا کر تمہیں خاک میں ملاٸیں گے ۔ ابھی ہم پر امن اس لیے ہیں تاکہ یہ مسلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق پر امن طریقے سے حل ہوجاٸے لیکن اگر بھارت نے ہماری امن کی زبان نہ سمجھی تو پھر اسے اسی زبان میں سمجھاٸیں گے جو ہم ان 1965 کی جنگ میں استعمال کی تھی ۔

    اللہ پاک میرے وطن کے تمام شہیدوں اور ان کے گھر والوں کے درجات بلند فرماٸے ۔ ہمیں وطن پر مر مٹنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ ہمارے پیارے پاکستان کو شاد و آباد رکھے اور ہمیں ملی غیرت عطا فرماٸے ۔ کشمیر کو آزاد فضاٸیں نصیب فرماٸے ۔ آمین

  • "نشان حیدر” پانے والے گیارہ شہیدوں کی لازوال داستان: علی چاند

    "نشان حیدر” پانے والے گیارہ شہیدوں کی لازوال داستان: علی چاند

    ” نشان حیدر ” مطلب شیر کا نشان ، یہ پاکستان کا سب سے بڑا فوج اعزاز ہے جو دشمن کے مقابلے میں بہادری کے شاندار جوہر دیکھانے والے پاک فوج کے جوانوں کو ملتا ہے ۔ نشان حیدر جنگ میں دشمن سے حاصل ہونے والے اسلحے کو پگھلا کر بنایا جاتا ہے جس میں 20 فیصد سونا بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔
    اب تک نشان حیدر پانے والوں میں سے سب سے زیادہ عمر طفیل محمد شہید ہیں جنہوں نے 44 سال کی عمر میں شہادت پاٸی اور سب سے کم عمر نشان حیدر پانے والے راشد منہاس شہید ہیں جنہوں نے 20 سال 6 مہینے میں شہادت کی عمر پاٸی ۔نشان حیدر پانے والے بہادر جوانوں کے نام اور کارنامے درج ذیل ہیں

    راجہ محمد سرور شہید :
    ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ سب سے پہلے نشان حیدر پانے والے جوان ہیں ۔ 1948 میں راجہ محمد سرور شہید کو کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا ۔ 27 جولاٸی کو آپ نے اوڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر حملہ کیا تو معلوم ہوا کہ دشمن نے اپنے مورچوں کو خار دار تاروں سے محفوظ کیا ہوا ہے ۔ آپ نے اپنے 6 جوانوں کے ساتھ مل کر شدید گولیوں کی بوچھاڑ میں ان خار دار تاروں کو کاٹ دیا ۔ آپ پر بیشمار گولیاں برساٸی گٸیں جن میں سے ایک آپ کے سینے پر لگی اور آپ جام شہادت نوش کیا ۔ آپ کے جذبہ شہادت کو دیکھتے ہوٸے آپ کے جوانوں نے دشمن پر بھرپور حملہ کیا جس کی وجہ سے دشمن اپنے مورچے چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔

    میجر طفیل محمد شہید :
    آپ صوبہ پنجاب میں ہوشیار پور میں پیدا ہوٸے ۔ اگست 1958 میں آپ کو چند بھارتی مورچوں کا صفایا کرنے کا کام سونپا گیا ۔ 7 اگست کو آپ نے دشمن کے ایک مورچے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ۔ جب بھارتیوں نے اپنی مشین گن سے فاٸرنگ شروع کیا تو اس فاٸرنگ کا نشانہ بننے والے سب سے پہلے جوان طفیل محمد شہید تھے ۔ بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے آپ نے دشمن کی مشین گنوں کو مکمل خاموش کروا دیا ۔ اور شدید زخمی ہونے کے باوجود آپ اپنے جوانوں کی قیادت کرتے رہے یہاں تک کے دشمن اپنی چار لاشیں اور تین قیدی چھوڑ کر فرار ہوگے ۔ شدید زخموں کی وجہ سے آپ جام شہادت پی گے ۔

    میجر عزیز بھٹی شہید :
    6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں کمپنی کی کمان کررہے تھے ۔
    12 ستمبر کی صبح عزیز بھٹی شہید نے دیکھا کہ ہزاروں دشمن سپاہی برکی کے شمال کی طرف درختوں میں چھپے ہوٸے ہیں ۔ آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر فاٸرنگ شروع کی جس سے دشمن کے سپاہی وہیں ڈھیر ہوتے گے ۔ عزیز بھٹی دوبارہ دشمن کی نقل و حرکت کا جاٸزہ لینے لگے تو دشمن نے گولہ باری شروع کر دی ۔ایک گولہ عزیز بھٹی شہید کے سینے میں لگا جس سے آپ وہی شہید ہوگے ۔

    راشد منہاس شہید :
    آپ کراچی میں پیدا ہوٸے ۔ راشد منہاس نے اپنے ماموں سے متاثر ہو کر پاک فضاٸیہ کا انتخاب کیا ۔ 20 اگست 1971ء کو راشد کی تیسری تنہا پرواز تھی۔ وہ ٹرینر جیٹ طیارے میں سوار ہوئے ہی تھے کہ ان کا انسٹرکٹر سیفٹی فلائٹ آفیسر مطیع الرحمان خطرے کا سگنل دے کر کاک پٹ میں داخل ہو گیا ۔ وہ تیارے کو اغوا کر کے بھارت لے جانا چاہتا تھا ۔ راشد منہاس کو ماڑی پور کنٹرول ٹاور سے ہدایت دی گٸی کہ طیارے کو ہر صورت اغوا ہونے سے بچایا جاٸے ۔ جب اپنے آفیسر سے کشمکش کے درمیان راشد منہاس نے محسوس کیا کہ طیارے کو کسی محفوظ جگہ لینڈ کرنا ناممکن ہے تو راشد منہاس نے اپنے طیارے کا رخ زمین کی طرف کر دیا ۔ جس کی وجہ سے راشد منہاس نے جام شہادت نوش کیا اور نشان حیدر جیسے اعزاز کے حق دار قرار پاٸے ۔


    میجر شبیر شریف شہید :
    میجر شبیر شریف پنجاب کے ضلع گجرات میں ایک قصبے کنجاہ میں پیدا ہوٸے ۔ 3 دسمبر 1971 میں سلیمانکی ہیڈ ورکس پر آپ کو طعینات کیا گیا تاکہ آپ اونچی زمین پر قبضہ کر سکیں جو کہ اس وقت دشمن کے قبضے میں تھی ۔6 دسمبر کو دشمن نے شدید حملہ کر دیا جس کی وجہ سے میجر شبیر شریف شہید نے اپنی اینٹی ٹنیک گن سے دشمن پر حملہ کر دیا ۔ دشمن کی فاٸرنگ کے نتیجے میں آپ نے جام شہادت نوش کیا ۔


    سوار محمد حسین شہید :

    سوار محمد حسین 18 جون 1949 کو ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ نے بطور ڈراٸیور پاک فوج جواٸن کی اس کے باوجود جنگ میں عملی طور پر حصہ لیا ۔ آپ نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ۔ آپ نے بہادری کے عظیم جوہر دیکھاٸے ۔ دس دسمبر 1971 کی شام دشمن کی مشین گن سے نکلی گولیاں آپ کے سینے پر پیوست ہوگٸی اور آپ جام شہادت نوش فرما گٸے ۔
    میجر محمد اکرم شہید :
    آپ ضلع گجرات کے گاٶں ڈنگہ میں پیدا ہوٸے ۔ 1971 کی پاکستان اور بھارت جنگ میں ہلی کے مقام پر آپ نے اپنے جوانوں کے ساھ مل کر دشمن کا بھاری جانی اور مالی نقصان کیا اور بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے جام شہادت نوش کر لیا ۔

    لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید :
    آپ ضلع راولپنڈی کے گاٶں پنڈ ملکاں میں 25 اکتوبر 1944 میں پیدا ہوٸے ۔ 1962 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی ۔ لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ان کا یونٹ واہگہ اٹاری سیکٹر پر تعینات تھا اور بہادری و شجاعت کے عظیم جوہر دیکھاتے ہوٸے دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا ۔ آپ نے دشمن کے بنکر میں گھس کر ایک دشمن فوجی کی گردن دبوچ لی اور اسے جہنم واصل کر دیا جب کہ دوسرے دشمن فوجی نے آپ پر حملہ کرکے آپ کو شہید کر دیا ۔

    کرنل شیر خاں شہید :
    آپ ضلع صوابی کے ایک گاٶں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ کارگل تنازعہ کے دوران عظم وہمت اور شجاعت کی ایک نٸی علامت بن کر ابھرے ۔ آپ نے بہادری کی نٸی مثالیں قاٸم کیں اور دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ۔ آپ نے دشمن کی چوکیوں پر قبضہ کے دوران مشین گن کا نشانہ بم گے اور آپ نے شہادت کا رتبہ پالیا ۔

    حوالدار لالک جان شہید :
    گلگت بلتستان کی وادی یاسین میں پیدا ہوٸے ۔ 1999 میں جب کارگل تنازعہ چل رہا تھا تو لالک جان کو ایک اہم ترین چوکی پی حفاظت کا ذمہ سونپا گیا ۔ 5 اور 6 جولاٸی کی درمیانی شب دشمن نے اس چوکی پر بھرپور حملہ کیا ۔لالک جان اور ان کے جوانوں نے دشمن کا بھرپور مقابلہ کیا اور دشمن کا کافی جانی اور مالی نقصان کیا جس پر دشمن پسپا ہوکر چلا گیا ۔ اگلی رات دشمن نے پھر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں لالک جان شدید زخمی ہوگے لیکن پھر بھی علاج کروانے کی بجاٸے دشمن سے مقابلہ کرتے رہے ۔ اگلی صبح زخموں کی تاب نا لاتے ہوٸے آپ شہید ہوگے ۔

    سیف علی جنجوعہ :
    انہوں نے اپنی ایک پلاٹون کی نامکمل اور مختصر نفری سے ایک بریگیڈ فوج کا اس وقت تک مقابلہ کیا اورثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اُن کی پوسٹ پر دشمن نے ٹینکوں اورتوپخانے اور جنگی جہازوں سے حملہ کیا دشمن نے تمام حربے استعمال کیے مگر تمام بے اثر رہے دشمن نے اُن کی پوسٹ پر ہر طرف سے دباؤ ڈال دیا مگر سیف علی جنجوعہ ڈٹے رہے اس طرح انہوں نے مشین گن سے دشمن کا ایک جہاز بھی مار گرایا ۔جب تک مزید پاکستانی فوج نہیں پہنچی آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر دشمن کو ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھنے دیا ۔ بم گرنے کی وجہ سے آپ جام شہادت نوش فرما لیا ۔اس وقت پاکستان کے تمغے نہیں بنے تھے اس لئے حکومت پاکستان نے “ہلال کشمیر” اعزاز کو برطانیہ کے “وکٹوریہ کراس” کے برابر لکھا تھا ۔جب پاکستان کے تمغے بنے تو سیف علی جنجوعہ شہید کے کمپنی کمانڈ ر لیفٹیننٹ محمد ایاز خان (ستارہ سماج) صدر پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے حکومت پاکستان کو مسلسل اڑتالیس سال لکھا کہ نائیک سیف علی شہید کو نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا جائے۔ پی ایس اے کی سفارش پرچیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے6ستمبر 1999کو نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کیلئے نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا ۔

  • عالمی یوم حجاب کشمیریوں کے نام : علی چاند

    عالمی یوم حجاب کشمیریوں کے نام : علی چاند

    آج پوری دنیا میں عالمی یوم حجاب منایا جا رہا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ عورت کی عزت و عظمت کا حق اسے مکمل طور پر دیا جاٸے ۔ عورت کو محض ایک اشتہار نا سمجھا جاٸے بلکہ عورت جس کا نام ہی پردہ ہے اسے مکمل عزت س نوازا جاٸے اس کی آبرو کا خیال رکھا جاٸے ۔ عالمی یوم حجاب منانے کا مقصد یہی ہے کہ جن ممالک میں مسلمان عورتوں کے حجاب پر پابندی ہے وہاں عورت کو اس کے حجاب کا حق دیا جاٸے ۔ اور جو عورتیں پردے کو بوجھ سمجھتی ہیں ان میں یہ شعور اجاگر کیا جاٸے کہ حجاب ان پر کوٸی مصیبت نہیں بلکہ یہ اللہ کا حکم ہے اور عورت کو تحفظ فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

    پاکستانی خواتین نے یہ عالمی یوم حجاب کشمیری خواتین کے نام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ دن کشمیری خواتین کے نام کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی توجہ اس طرف دلاٸی جاٸے کہ انڈین آرمی کشمیری نے مظلوم خواتین کی عصمت دھری بند کرے اور کشمیری خواتین کے پردے کا خیال رکھا جاٸے اور ان کی عزتوں کو تحفظ فراہم کیا جاٸے ۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا کی ایک کم ظرف اور گھٹیا قوم جب دوسری کسی قوم پر قبضہ کرتی ہے تو پھر وہ دیگر لوٹ مار کے ساتھ ساتھ اس مقبوضہ قوم کی خواتین کی عزتیں لوٹنا قابل فخر کام سمجھتی ہیں ۔ ایسی کم ظرف قوموں میں سے ایک قوم بھارت بھی ہے ۔ جس نے زبردستی مسلمان کشمیریوں پر قبضہ کر کے وہاں کی مجبور و بے بس خواتین کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا رکھا ہے ۔ عالمی یوم حجاب کو کشمیریوں کے نام کرنے کا مقصد یہی ہے کہ دنیا کشمیری خواتین کو تحفظ دینے کی کوشش کرے اور بھارت پر دباٶ ڈالے کے وہ کشمیری خواتین کی عزت و آبرو کا خیال رکھیں ۔

    اس دن کامقصد یہ بھی ہے کہ کشمیر کی جو بہادر خواتین پردے میں رہتے ہوٸے اپنی آزادی کا حق لینے کے لیے دشمن کے سامنے سینہ سپر ہیں انہیں ان کا حق دیا جاٸے ۔ کشمیر کی جو خواتین بھارتی کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنے میں پیش پیش ہیں ان میں ایک اہم نام محترمہ آسیہ اندرابی ہیں ۔

    اس کے علاوہ کشمیری خواتین چاہے ان کا تعلق سٹوڈینٹس سے ہو یا عام گھریلو خواتین سے وہ اپنے پردے میں رہتے ہوٸے بھارتی ظلم و ستم کا مقابلہ کر رہی ہیں ۔ پردے میں رہتے ہوٸے انڈین فوج کی گولی کا جواب پتھر سے دے رہی ہیں ۔ یہ دن کشمیری خواتین کے نام کرنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ تمام مسلمان حکمرانوں کو جھنجھوڑا جا سکے کہ وہ اپنی مسلم بیٹیوں کے تحفظ کے لیے آگے بڑھیں اور ملی غیرت کا ثبوت دیں ۔
    اللہ پاک ہماری مسلمان بہنوں کے پردے سلامت رکھے ۔ آمین

  • غریب کی بیٹی کا دوپٹہ : علی چاند کا بلاگ

    غریب کی بیٹی کا دوپٹہ : علی چاند کا بلاگ

    مسجد میں قالین بچھانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، مسجد میں پتھر لگوانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، میلاد پر پیسہ لگانے سے بہتر ہے کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، حج پر اتنے پیسے لگانے سے بہتر ہے انسان غریب کی بیٹیوں کو چادر لے دے ، عمرہ پر جانے سے بہتر ہے کہ انسان غریب کی بیٹیوں کو کپڑے لے دے انہیں چادریں لے دے ۔

    یہ ہیں وہ چند جملے جو آٸے دن ہمیں سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ یہ ہیں وہ چند جملے جن کا پرچار کچھ نام نہاد مسلمان کرتے نظر آتے ہیں ۔ میں ان لوگوں کو پوچھنا چاہوں گا کہ آخر تکلیف مسجد ، عمرہ ، میلاد اور حج کی ہے یا پھر واقعی غریب کی بیٹی کا درد ہے دل میں ۔ اگر تو درد ان لوگوں کو مسجد ، منبر ، محراب ، حج اور عمرے کا ہے تو میں ایسے لوگوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ کسی عالم دین کی صحبت میں بیٹھیں ، اللہ کے احکامات پڑھیں ، دین سیکھیں تاکہ ان لوگوں کو پتہ چلے کہ جب حکم خدا ماننا ہوتا ہے تو پھر آدم کو سجدہ بھی کرنا پڑتا ہے ورنہ انکار پر سب سے بڑا عبادت گزار بھی مردود کہلاتا ہے ۔ جہاں حکم ربی آجاتا ہے وہاں یہ نہیں دیکھنا ہوتا کہ اس کی بجاٸے یہ کر لیں یا اس کی بجاٸے وہ کر لیں ۔ پھر صرف اور صرف اللہ کا حکم ماننا ہوتا ہے ۔

    رہی بات غریب کی بیٹی کے دوپٹے اور چادر کی تو اللہ پاک ان غریبوں کی بیٹیوں کی عزتیں سلامت رکھے ۔ جو یہ بھی اچھی طرح جانتی ہیں کہ پھٹی ہوٸی چادر سے سر کیسے ڈھانپنا ہے اور یہ بھی جانتی ہے کہ اسے نامحرم مردوں سے اپنی عزت کو کیسے بچانا ہے ۔ یہ جو لوگ ایسی باتیں کر کے اپنی دانشوری کے جوہر دیکھاتے ہیں کہ غریب کی بیٹی کے سر پر چادر دو ، عمرہ چھوڑو ، حج چھوڑو ، میلاد چھوڑو ، مسجد چھوڑو ، مسجد کا خیال نہ کرو صرف اور صرف غریب کی بیٹی کی چادر کا سوچو تو میں ایسے دانشوروں سے کہنا چاہوں گا کہ اپنی آنکھوں اور عقل پر بندھی پٹی کو کھول کر دیکھو کسی غریب کی بیٹی بغیر چادر کے نظر آگٸی تو کہنا ، کسی غریب کی بیٹی پھٹی ہوٸی جینز میں نظر آگٸی تو کہنا ، کسی غریب کی بیٹی بغیر دوپٹے کے نظر آگٸی تو کہنا ، اگر غریب کی بیٹی اپنی عزت کا سودا کرتی نظر آگٸی تو کہنا ، غریب کی بیٹی اگر کسی سے محبت بھی کرے گی ، اسے ٹوٹ کر چاہے گی بھی تو بھی کبھی بھی اس کے سامنے بغیر دوپٹے پھٹی ہوٸی جینز اور عریاں لباس پہن کر نہیں جاٸے گی ۔ خدارا بند کرو یہ تماشا غریب کی بیٹی ، غریب کی بیٹی ، غیب کی بیٹی ، خدا کے لیے مت بناو تماشا غریب کی بیٹی کے دوپٹے کا کیونکہ غریب ہے تو کیا ہوا اس کے پاس غیرت مند باپ ، عزت دار بھاٸی ، عزت دار شوہر موجود ہے اس کی فکر کرنے کے لیے جو اس کےسر پر سے کبھی چادر اترنے نہیں دیتے ، غریب کی بیٹی کے پاس چار محافظ موجود ہیں جو اس کی عزت کے رکھوالے ہیں ۔

    غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والے دانشوروں فکر کرنی ہے تو آٶ فکر کرتے ہیں ، اس بیچاری غریب لڑکی کا جس کے پاس نا تو غیرت مند باپ ہے نا عزت دار بھاٸی اور شوہر ، آٶ فکر کریں اس بیچاری عورت کی جسے روز نیم عریاں لباس پہن کر ، کبھی چند روپے کے شیمپو اور صابن کے لیے ٹی وی پر آ کر نہانا پڑتا ہے سب کے سامنے ، کبھی اسے چند منٹ کے ڈرامے کے لیے کسی نامحرم کے بستر پر اس کے ساتھ لیٹنا پڑتا ہے ، کبھی اسے عریاں لباس پہن کر ایوارڈ شو میں نامحرم کی بانہوں میں ناچنا پڑتا ہے ، تاکہ اس بیچاری کے باپ ، بھاٸی ، شوہر کو اس کا بوجھ نا اٹھانا پڑے بلکہ یہ خود کما کر انہیں کھلاٸیں ۔ غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والو ! ان امیروں کی بیٹیوں کے دکھ سمجھو ، انہیں اپنی زکوة ، خیرات اور صدقات میں سے حصہ دیں تاکہ یہ بیچاریاں پھٹی ہوٸی جینز ، عریاں لباس اور بغیر دوپٹے کے گھومنے کی بجاٸے با پردہ اور پورا لباس خرید کر پہن سکیں ۔ غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والے مفکرو ! آٶ امیر کی بیٹی کا درد سمجھیں تاکہ اسے دو دو ٹکے کے نامحرم لوگوں کے ساتھ ناجاٸز ڈرامے اور اشتہار نا کرنے پڑیں ، آٶ بنو سہارا ان امیروں کی بیٹیوں کا جن کے تم دیوانے ہو ، جن کے تم فین ہو ، جن کی ذات سے تم متاثر ہو کر ان کی Ids کو فالو کرتے ہو ، ان کی فضول پوسٹس پر پاگلوں کی طرح کمنٹ کرتے ہو تاکہ وہ کسی طرح تم لوگوں کو رپلاٸے دیں ۔ پھر اگر کوٸی رپلاٸے دے دے تو کمنٹ کو سیو کر کے اسے پوسٹ کر کے اپنے چھوٹے پن کاثبوت دیتے ہو ، اور ایسا کرنے سے پہلے یہ بھی نہیں سوچتے کہ یہی ہیں وہ عورتیں جو تماری نسلوں میں بے حیاٸی پھیلا رہی ہیں ، یہی ہیں وہ عورتیں جن کی وجہ سے غریب کی بیٹی کی زندگی عذاب ہورہی ہے ، یہی ہیں وہ عورتیں جن کی وجہ سے غریب کی بیٹی کے باپ کو جہیز کے لیے لمبی لمبی لسٹیں ملتی ہیں ۔ خدارا غریب کی بیٹی کا تماشا نا بناٸیں ،
    ، غریب کی بیٹی اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ وہ نا صرف اپنا سر ڈھانپنا جانتی ہے بلکہ اپنی ، اپنے باپ ، اپنے بھاٸی ، اپنے شوہر اور اپنے بیٹے کی عزت کی حفاظت کرنا بھی جانتی ہے ۔

    اللہ پاک نام نہاد امیروں کی بیٹیوں کو ہدایت عطا فرماٸے اور سب بیٹیوں کی عزت و آبرو کی حفاظت فرماٸے ۔ آمین

  • فلاح کی راہیں۔۔۔۔۔ !!!!!!    جویریہ چوہدری

    فلاح کی راہیں۔۔۔۔۔ !!!!!! جویریہ چوہدری

    قرآن ہدایت و نور ہے۔۔۔
    سیدھی۔۔۔۔بلکہ بہت ہی سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرنے والی کتاب ہے۔۔۔۔۔
    ارشاد ربانی ہے:
    "بے شک یہ قرآن بہت ہی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔۔۔۔”
    (سورۂ بنی اسرائیل)

    یہ دنیا انسان کے لیئے آخرت کے امتحان کی تیاری کا ایک موقع ہے۔۔۔۔۔
    اور دنیا اور آخرت کی فلاح پانے کے لیئے اللّٰہ تعالٰی نے انسانوں کو وہ راستے بتائے ہیں۔۔۔۔جن پر چل کر۔۔۔۔ان احکامات کو مان کر۔۔۔۔۔اپنی زندگی میں عملی طور پر اپنا کر۔۔۔۔ ہم مفلحین میں شامل ہو سکتے ہیں۔۔۔ !!!!!
    اللّٰہ تعالی واضح تعلیم کے ذریعے ہمیں کامیاب لوگ دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔۔
    اور چاہتے ہیں کہ اس کے بندے دنیا و آخرت میں کامیاب ہوں۔۔۔
    بامقصد زندگی گزاریں۔۔۔۔اور میری بخشش کے مستحق بن جائیں۔۔۔۔
    مفلح وہ ہوتا ہے جو صعوبتوں اور نافرمانی کے کاموں کو قطع کرتے ہوئے اپنے مطلوب یعنی اللّٰہ کی رضا تک پہنچتا ہے۔۔۔
    کامیابی کا Straight wayاس کے لیئے کھل جاتا ہے۔۔۔۔اور وہ اپنے رب کے فرمانبردار اور کامیاب لوگوں میں شامل ہو جاتا ہے۔۔۔۔ !!!!!

    آئیے!
    قرآن میں فلاح کی طرف دعوت کے کچھ مقامات پر نگاہ ڈالتے ہیں۔۔۔۔کہ کامیابی کی راہیں کون سی ہیں۔۔۔۔!!!!!!

    وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔۔۔
    اللّٰہ کے احکامات پر اسے بن دیکھے ایمان لاتے اور عمل کرتے ہیں۔۔۔جو کتابیں اس کی طرف سے نازل ہوئی ہیں۔۔۔۔ان پر یقین رکھتے۔۔۔۔
    نمازیں قائم کرتے اور اپنے مال میں سے اللّٰہ کی رضا کی خاطر خرچ کرتے ہیں۔۔۔۔یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں۔۔۔۔ !!!!!
    (سورۃ البقرۃ: 5_2)

    "اے لوگو!
    جو ایمان لائے ہو۔۔۔شراب،اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے تیر۔۔۔یہ سب گندی باتیں ہیں،شیطانی کام ہیں۔۔۔ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو۔۔۔”(المائدہ:90)

    یعنی اپنے دامن ان گندی چیزوں سے آلودہ نہیں کرنے۔۔۔۔اگر ایسا کرو گے تو کامیاب لوگوں میں نہ رہو گے۔۔۔ !!!!

    "آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کہہ دیجیئے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں۔۔۔گو آپ کو ناپاک کی کثرت بھلی لگتی ہو۔۔۔۔تو اللّٰہ تعالی سے ڈرتے رہو۔۔۔اے عقلمندو۔۔۔۔تاکہ تم کامیاب ہو۔۔۔”
    (المائدہ:100)

    ہم لوگ اپنی زندگی میں اکثر یہ جملہ بولتے ہیں ہیں کہ جو کام ساری دنیا کر رہی ہے۔۔۔وہ سب غلط ہیں کیا ؟
    چاہے وہ رسوم و رواج ہوں۔۔۔۔
    یا بے پردگی و بے ہودہ فیشنز۔۔۔
    ہم کثرت کے عمل سے impressed ہو جاتے ہیں۔۔۔۔ !!!!!
    حالانکہ یہ سب شیطانی چالیں اور جال ہوتے ہیں کہ اس نے جو عزم کیا تھا:
    "اس نے کہا بسبب اس کے کہ آپ نے مجھے گمراہ کیا ہے۔۔۔میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کے لیئے آپ کی سیدھی راہ پر بیٹھوں گا۔۔۔۔
    پھر ان پر حملہ کروں گا ،ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے
    اور ان کے دائیں جانب سے
    اور ان کے بائیں جانب سے بھی اور آپ ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائیں گے۔۔۔۔
    اللّٰہ تعالی نے فرمایا:
    یہاں سے ذلیل و خوار ہو کر نکل جا۔۔۔۔”(الاعراف:18_16)۔

    یعنی قرآن ہمیں بتا رہا ہے۔۔۔۔کہ غلط چیز غلط ہی رہتی ہے چاہے کثرت میں ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔
    کسی بھی عملِ صالح کا معیار یہ نہیں ہوتا کہ اسے بجا لانے والے زیادہ ہی ہوں۔۔۔۔۔
    بلکہ اللّٰہ نے ایمان۔۔شکر۔۔۔تدبر کرنے والوں کے لیئے "قلیل” کا لفظ استعمال فرمایا کہ ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں۔۔۔۔ !!!

    "اے ایمان والو!!!
    اللّٰہ سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب تلاش کرو،اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔۔۔۔”
    (المائدہ:35)

    یعنی اللّٰہ کے قرب کا سبب بننے والے اعمال اختیار کرو۔۔۔
    امام شوکانی فرماتے ہیں:
    "وسیلہ جو قربت کے معنی میں ہی۔۔۔۔تقویٰ اور دیگر خصال خیر پر صادق آتا ہے۔۔۔۔جن کے ذریعے بندے اپنے رب کا قرب حاصل کرتے ہیں۔۔۔۔”

    "اے ایمان والو!
    ثابت قدم رہو،اور ایک دوسرے کو تھامے رہو اور رباط کے لیئے تیار رہو،،اور اللّٰہ تعالی سے ڈرتے رہو تاکہ مراد کو پہنچو۔۔۔”
    (آل عمران)۔۔۔۔

    صبر کرو یعنی طاعات کے اختیار کرنے اور شہوات و لذت کے ترک کرنے میں اپنے نفس کو مضبوط اور ثابت قدم رکھو۔۔۔
    جنگ کی شدت میں دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہو۔۔۔۔
    اسے مرابطہ کہا جاتا ہے۔۔۔!!!

    "اے ایمان والو!
    جب تم کسی مخالف قوت سے بھڑ جاؤ تو ثابت قدم رہو اور بکثرت اللّٰہ کو یاد کرو۔۔۔تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔۔۔”

    (الانفال)

    "اے لوگو جو ایمان لائے ہو!
    رکوع اور سجدہ کرتے رہو،اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو۔۔۔۔اور نیک کام کرو تاکہ فلاح پاؤ۔۔۔۔”(الحج:77)

    "یقیناً ایمان والے فلاح پا گئے۔۔۔
    جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔۔۔
    اور جو لغویات سے منہ موڑ لیتے ہیں۔۔۔”
    (المؤمنون 3_1)۔

    "اے مسلمانو!
    تم سب کے سب اللّٰہ کی طرف توبہ کرو،تاکہ فلاح پاؤ۔۔۔”
    (النور:31)

    اپنی سابقہ غلطیوں پر سچے دل سے معافی مانگتے رہنا۔۔۔۔توبہ کرتے رہنا۔۔۔۔مغفرت طلب کرتے رہنا۔۔۔۔
    کامیاب لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے۔۔۔ !!!!

    "جب تم نماز پڑھ چکو،تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللّٰہ کا فضل تلاش کرو،اور کثرت سے اللّٰہ کا ذکر کرو تاکہ فلاح پاؤ۔۔۔”
    (الجمعہ:10)
    اللّٰہ کے ذکر۔۔۔۔اذکار،تسبیحات،قرآن کی تلاوت۔۔۔۔وغیرہ سے اپنی زرہ بکتر کو۔۔۔۔حفاظت کے حصار کو اور مضبوط کرتے رہو۔۔۔۔۔۔!!!!!!!
    اور اسی سے روزی طلب کرتے رہو۔۔۔اطاعت کے ذریعے اسی کی طرف وسیلہ پکڑو۔۔۔۔کیونکہ اسی کی احکامات کی اطاعت اور اسی کی طرف انابت بابرکت اور کشادہ روزی کا بہت بڑا سبب ہے۔۔۔۔ !!!!!

    "اور جہاں تک ہوسکے اللّٰہ سے ڈرتے رہو اور سنتے اور مانتے چلے جاؤ۔۔۔اور اللّٰہ کی راہ میں خیرات کرتے رہو ، جو تمہارے لیئے بہتر ہے اور جو شخص اپنے نفس کی حرص سے محفوظ رکھا جائے،وہی کامیاب لوگوں میں ہے۔۔۔۔”
    (التغابن:16)
    یعنی اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی باتیں سنتے جاؤ۔۔۔۔مانتے جاؤ۔۔۔۔عمل کی راہ سے گزرتے چلے جاؤ۔۔۔۔یہی اصل فلاح ہے۔۔۔۔
    یہ نہیں کہ سن تو لیا مگر عمل۔۔۔۔۔؟؟؟

    "یقیناً فلاح پا گیا،جس نے اپنے(نفس)کا تزکیہ کر لیا۔۔۔۔”
    (الاعلیٰ:14)۔
    کیونکہ
    شریعت کی نظر میں کامیاب وہ ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے اپنے رب کو راضی کر لے،اور اس کے بدلے میں آخرت میں اللّٰہ کی رحمت و مغفرت کا مستحق قرار پا جائے۔۔۔۔ !!!!

    الٰہی۔۔۔ !!!
    ہمیں فلاح کی راہوں پہ چلا کر فلاح یاب لوگوں میں شامل کر دے۔۔۔۔آمین۔۔۔ !!!
    کہ جو تیرے بتائے ہوئے فلاح کے راستوں پر چل گئے وہی حقیقی کامیاب ہیں۔۔۔۔جو اس یقین کی راہ پر چل پڑیں،
    باعث فخر منزلیں ان سے ہمکنار ہو جاتی ہیں۔۔۔ !!!!!
    جبکہ اس دنیا میں کامیابی کو ماپنے کے پیمانے اور معیار تو مختلف رکھے جاتے ہیں ناں۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

  • ” روح کی غذا۔۔۔۔”    جویریہ چوہدری

    ” روح کی غذا۔۔۔۔” جویریہ چوہدری

    جس طرح ایک جسم کو صحتمند رکھنے کے لیئے اچھی اور معیاری خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔
    اسی طرح روح کی قوت اور توانائی کے لیئے بھی معیاری اعمال کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔ !!!!!

    جب ہم اپنے دل کی دنیا میں بغاوت،نافرمانی اور اللّٰہ تعالی کی ناراضگی والے کاموں کی تخم ریزی شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔
    تو آہستہ آہستہ یہ بد عملی سیاہی بن کر ہمارے دل کو ڈھانپ لیتی ہے۔۔۔۔
    اس روح کی تسکین کا پہلا مرحلہ تو اپنے خالق کی صحیح معنوں میں پہچان ہے۔۔۔۔
    اس کی توحید ربوبیت،الوہیت،اور اسما وصفات پر صحیح معنوں میں ایمان ہے۔۔۔
    جب ہم اس چیز کو سمجھ کر اپنا لیتے ہیں۔۔۔۔تو پھر ہمارے قدم ٹیڑھے نہیں ہو سکتے۔۔۔۔
    ہماری روح سرشار رہتی ہے۔۔۔۔۔
    تنگ نہیں ہوتی۔۔۔۔فرمانبرداری ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن جاتی ہے۔۔۔۔
    روح کے کمزور ہونے کی وجہ قضا و قدر پر راضی نہ ہونا ہے۔۔۔۔
    یعنی جب ہم اللّٰہ تعالی کی حکمت،فیصلوں پر کھلے دل سے اطمینان ظاہر نہیں کرتے۔۔۔۔
    شکوہ و شکایت زبان پر لاتے ہیں۔۔۔
    مقدر کو کوستے ہیں۔۔۔تو پھر یہ روح توانا نہیں رہتی۔۔۔۔۔قوتِ ایمانی کمزور پڑ جاتی ہے۔۔۔۔
    اور انسان رفعتوں سےگہرائی کی طرف سفر کرنے لگتا ہے۔۔۔۔ !!!!!

    یہ دنیا چند دنوں کی ہے۔۔۔یہاں ملنے والی کوئی چیز،اور نعمت بھی پائدار نہیں ہے۔۔۔۔
    ہر شئے کا یہاں خاصہ جدائی ہے۔۔۔۔!!!!!!
    تو پھر ہم کیوں اس تھوڑے سے وقت کے لیئے نہ ختم ہونے والے وقت کو برباد کر دیں۔۔۔۔!!!!!!!!

    اللّٰہ کے ذکر اور یاد سے اعراض بھی ہماری روح کو کمزور کر دیتا ہے۔۔۔۔۔رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "اس شخص کی مثال جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے،اور اس شخص کی مثال جو اپنے رب کا ذکر نہیں کرتا۔۔۔۔زندہ اور مردہ شخص کی طرح ہے۔۔۔”
    (صحیح بخاری)۔

    یعنی ہماری روحانی طاقت کے لیئے اللّٰہ کا ذکر کتنی اہمیت رکھتا ہے کہ اسے زندہ اور مردہ سے تشبیہہ دی گئی ہے۔۔۔۔

    ارشاد ربانی ہے:
    "اور(ہاں)جو میری یاد سے روگردانی کرے گا،اس کی زندگی تنگ رہے گی اور روز قیامت ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔۔۔”
    (طٰہٰ:124)

    پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو حکم ملا:
    اپنے پروردگار کی تعریف اور تسبیح بیان کرتا رہ۔۔۔۔سورج نکلنے سے پہلے،اور اس کے ڈوبنے سے پہلے،رات کے مختلف وقتوں میں بھی اور دن کے حصوں میں بھی تسبیح کرتا رہ۔۔۔۔بہت ممکن ہے کہ تو راضی ہو جائے۔۔۔”
    (طٰہٰ:130)۔

    اس اتنے اوقات کی تسبیح و تحمید میں نماز،تلاوت،ذکر واذکار،دعا و مناجات،نوافل وغیرہ سب شامل ہیں۔۔۔۔!!!!!!!

    مگر ہمارے پاس دن بھر سوشل میڈیا پر انگلیاں چلانے کا وقت تو بہت۔۔۔۔لیکن نماز کے اوقات کھو جانے کا ذرا غم نہیں ہوتا۔۔۔
    ٹیلی ویژن کی سکرین۔۔۔۔فلموں کی لذت۔۔۔۔لہو الحدیث میں مبتلا ہو کر۔۔۔۔حی علی الفلاح کی صدا پر نرم و ملائم بستر میں گھسے رہ کر۔۔۔
    دل میں ندامت کروٹ نہیں لیتی اور نماز اور دیگر فرائض کی فکر اور ضرورت سے لا تعلق رہ جاتے ہیں۔۔۔۔
    پھر روحانی بالیدگی کے اثرات ایسے شخص پر کیسے نمودار ہو سکتے ہیں۔۔۔؟؟؟؟
    ہماری روح تسکین کی دولت سے مالا مال کیسے ہو۔۔۔۔؟؟؟
    اللّٰہ کی رضا کی متلاشی اطمینان پانے والی روح بے مقصد زندگی نہیں گزارتی۔۔۔۔
    زندگی کے سفر میں گناہ سرزد ہو بھی جائیں تو سچے دل سے رجوع الی اللہ اور توبہ کرتی ہے۔۔۔۔

    توبہ کی امید پر گناہ نہیں۔۔۔کیونکہ ایمان والوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
    "ان سے جب کوئی ناشائستہ کام ہو جائے،یا کوئی گناہ کر بیٹھیں تو فوراً اللّٰہ کا ذکر اور اپنے گناہوں کے لیئے استغفار کرتے ہیں۔۔۔
    فی الواقع اللّٰہ کے سوا اور کون گناہوں کو بخش سکتا ہے؟
    اور وہ لوگ باوجود علم کےکسی برے کام پر اَڑ نہیں جاتے۔۔۔”
    (آل عمران:135)۔
    سچی توبہ کر لینے والی کی روح شاد باد ہو جاتی۔۔۔۔یہ اللّٰہ کا وعدہ ہے کہ گناہوں کا اعادہ نہ کرنے والے سے پچھلے گناہوں کی بازپرس نہیں ہو گی۔۔۔۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "گناہ سے(سچی)توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے،گویا اس کے ذمہ کوئی گناہ ہی نہیں۔۔۔”
    (ابن ماجہ_کتاب الزہد)۔

    مگر جو سود کو حرام سمجھتے ہوئے بھی اسی میں دھنسا جا رہا ہو۔۔۔۔
    جو شراب سے توبہ کر کے پھر پی رہا ہو۔۔۔۔
    جو فحاشی و بدکرداری کو گناہ سمجھتے ہوئے بھی اعادہ کرتا اور ترویج و اشاعت کرتا جا رہا ہو۔۔۔۔
    توبہ کر کے پھر توبہ کی امید پر گناہ کرتا چلا جائے۔۔۔
    تو اس کے پاس کیا گارنٹی ہو گی کہ وہ مرنے سے پہلے ضرور ہی توبہ کر لے گا۔۔۔۔؟؟؟؟
    موت کا شکنجہ اسے سنبھلنے بھی دے گا کہ نہیں۔۔۔۔۔؟؟؟؟
    دنیا کی لذتوں کی خاطر اپنے نفس کا تزکیہ نہ کرنا بہت بڑی محرومی ہے۔۔۔
    ارشاد ربانی ہے:
    "بے شک اس نے فلاح پا لی جو پاک ہو گیا۔۔۔جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔۔۔
    لیکن تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔۔۔اور آخرت بہت بہتر اور بقا والی ہے۔۔۔”
    (الاعلیٰ:14_17)۔
    اپنے دل کو شرک کی آلودگی،نافرمانی کے کاموں۔۔۔حسد،بغض،برائی،قطع رحمی،والدین سے بد سلوکی، ظلم و زیادتی اورحرام مال کی محبت سے پاک صاف کر لینے۔۔۔۔
    اپنے دل کی دنیا میں ایمان،توحید،اطاعتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم،عملِ صالح،صلہ رحمی،تقویٰ اور قضا و قدر پر راضی برضا رہنے۔۔۔۔۔
    والوں کی روحیں اطمینان کے گھر میں داخل ہوں گی۔۔۔۔جسے علیین کہا گیا ہے کہ:
    یہ علو (بلندی)سے ہے جس میں نیک لوگوں کے نامۂ اعمال،اور روحیں رکھی جاتی ہیں۔۔۔جس کے پاس مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں۔۔۔۔
    جبکہ بدکرداروں کے نامۂ اعمال اور روحیں سجین میں رکھے جائیں گے۔۔۔۔
    سِجِّینِِ۔۔۔۔سجن سے ہے۔۔۔تنگ و تاریک مقام۔۔۔۔گھٹن والا ماحول۔۔۔قید خانہ نما۔۔۔۔۔ !!!!!!
    اطمینان والی روح۔۔۔۔۔ایمانی قوت سے آراستہ ہو کر جب پرواز بھرتی ہے تو اعلان ہوگا:
    "اے اطمینان والی روح !!!!
    تو اپنے رب کی طرف چل،اس طرح کہ تو اس سے راضی۔۔۔۔وہ تجھ سے خوش۔۔۔۔
    پس میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا۔۔۔۔اور میری جنت میں چلی جا۔۔۔۔۔”
    (الفجر:27_30)۔
    اللھم اجعلنا منھم۔۔۔۔آمین ثم آمین۔۔۔!!!!!!!
    حافظ ابن کثیر نے ابن عساکر کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا:
    (اللھم انی اسأَلک نفساً،بک مطمئنۃً،تُؤمِنُ بلقآئک،و ترضیٰ بقضآئک،و تقنع بعطآئک)۔۔۔(ابن کثیر)۔۔۔۔ !!!!!
    اللّٰہ ہمیں جسمانی و روحانی طور پر طاقتور بنا دے۔۔۔۔
    کہ جس سے ٹکرا کر ہر شر پاش پاش ہو جائے۔۔۔۔آمین
    اور ہمیں اپنے مقربین میں سے کرنا۔۔۔۔۔ہماری روحیں اعلیٰ علیین میں جگہ پا سکیں۔۔۔۔آمین ثم آمین۔۔۔۔۔ !!!!!!!

  • مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن اور کشمیر و فلسطین — بلال شوکت آزاد

    مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن اور کشمیر و فلسطین — بلال شوکت آزاد

    آج دنیا بھر میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن ہے۔ سچ پوچھیں تو یہ دن مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسندوں اور تشدد پسندوں پر اجتماعی لعنتیں بھیجنے کے دن کے طور منایا جانا چاہیئے۔

    میرے علم کے مطابق اللہ نے آسمان سے کوئی مذہب اور عقیدہ آدم علیہ سے لیکر حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم تک ایسا نہیں اتارا جو بندوں کو انتہا پسندی اور تشدد پر آمادہ کرے یا انہیں اس کا راستہ دکھائے البتہ بندوں نے حسب منشاء اور اپنی انتہا پسندانہ سوچ کی پرورش کی خاطر مذاہب اور عقائد سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے کھلواڑ کیا۔

    اگر آپ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر شکار انسانوں کی یاد منانا ہی چاہتے ہیں تو پھر انصاف کے ساتھ حضرت آدم و حوا علیہ اسلام کو بھی یاد کرلیجیئے گا کہ وہ اپنے وقت میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر وقت کے عظیم عابد و زاہد کی مذہبی انتہا پسندی اور روحانی و نفسانی تشدد کا شکار ہوئے تاآنکہ اللہ نے ان علیہ اسلام کو جنت سے نکال کر زمین پر بھیج دیا اور پھر یہ سلسلہ رکا ہی نہیں شیطان اور اسکی ذریت کی وجہ سے۔

    اگر آپ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر شکار انسانوں کی یاد منانا ہی چاہتے ہیں تو پھر انصاف کے ساتھ حضرت موسی علیہ اسلام اور ان کی قوم کو بھی یاد کرلیجیئے گا کہ وہ اپنے وقت میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر وقت کے ظالم بادشاہ فرعون اور اسکی قوم کی انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوئے تاآنکہ اللہ نے انہیں اس عذاب مسلسل سے نکالا۔

    اگر آپ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر شکار انسانوں کی یاد منانا ہی چاہتے ہیں تو پھر انصاف کے ساتھ حضرت عیسی علیہ اسلام کو بھی یاد کرلیجیئے گا کہ وہ اپنے وقت میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر وقت کے ظالم بادشاہ اور اسکی قوم کی انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوئے تاآنکہ اللہ نے انہیں اس عذاب مسلسل سے نکالا۔

    اگر آپ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر شکار انسانوں کی یاد منانا ہی چاہتے ہیں تو پھر انصاف کے ساتھ حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کو بھی یاد کرلیجیئے گا کہ وہ اپنے وقت میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر وقت کے ظالم سرداروں اور انکی قوم کی انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوئے تاآنکہ اللہ نے انہیں اس عذاب مسلسل سے نکالا۔

    کس کس کا نام لوں اور کتنوں کو یاد کروں کہ ادھر تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں ایسے انسانوں کے ناموں سے جو اپنے اپنے وقت میں اپنی جان, مال اور عزت سے گئے کہ ان کے مذاہب اور عقائد یکساں اور متفقہ نہیں تھے ان انتہا پسندوں کے مذاہب اور عقائد کے ساتھ جنہوں نے ان کا جینے کا حق چھین لیا۔

    حالیہ دنوں میں مذہبی اور عقیدہ جاتی انتہا پسندی کی عظیم الشان مثالیں اگر دیکھنی ہوں تو بھارت اور اسرائیل سے بہتر مجھے اور مثال نہیں ملتی کہ ان دو ممالک کے کیا خواص اور کیا عوام؟ دونوں طبقوں میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسندی اور تشدد پسندی اپنے عروج پر ہے اور ان کا شکار مسلمان ہیں, نہتے مسلمان, مظلوم و مقہور مسلمان, زبردستی کے غلام مسلمان قصہ المختصر کشمیر اور فلسطین کے مسلمان کہ وہ سب ان من حیث القوم مذہبی انتہا پسندوں کے مذاہب اور عقائد کی بنیاد پر انکی انتہا پسندی اور تشدد کا شدید شکار ہیں جبکہ دنیا بھر میں معروف امن کی فاختہ اور کبوتر, عالمی عدالت انصاف کی اندھی دیوی اور اقوام متحدہ جو کہ دراصل اقوام شرمندہ کا عالمی ادارہ ہے بھنگ پی کر سوئے ہوئے ہیں اور راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔

    ایک کڑوی ترین حقیقت سے پردہ اٹھا دوں کہ نام نہاد انسانیت و انصاف اور رواداری کے علمبرداروں کی جانب سے اعلان کردہ "مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کے دن” کی مروجہ و نافذالعمل تعریف پر دنیا کا ہر قدیم اور جدید مذہب, عقیدہ, نظریہ اور فرقہ پورا اترتا ہے اور شامل ہے سوائے اسلام اور مسلمانوں کے, نہیں یقین تو ذرا ضمیر کو جھنجھوڑ کر "گلوبل ویلیج” اور "انسانیت ایک مذہب” جیسے کھوکھلے نعروں سے باہر نکل کر نظر دوڑالیں تو آپ کو ایسے ایسے کڑوے سچ سننے پڑھنے اور دیکھنے کو ملیں گے جس کے بعد آپ خود پر خودکشی کو حلال اور فرض کرلیں گے۔

    کیا پاکستان کا قیام اور وجود "مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن” کی واضح اور روشن مثال نہیں کہ جب برصغیر پاک و ہند کی ایک مذہبی اکثریت مذہب و عقیدہ کی بنیاد پر انتہا پسند اور تشدد پسند قوم میں بدلی تو اس قوم کی شکار ایک دوسرے مذہب کی اقلیت ہوئی تو پھر جنم لیا "دو قومی نظریہ” اور "تحریک آزادی” پاکستان نے اور بالآخر پاکستان نقشے پر ابھر کر آیا۔

    اپنے پڑوسی ملک بھارت کی ہی بات کریں کوئی بھی غیر جانبدار انسان, ادارہ, سیاسی پارٹی اور تتظیم چھٹتے ہی بھارت کو مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسند اور پر تشدد ملک قرار دیدے گا کہ کشمیر میں ہر منٹ پر یہ سوکالڈ سیکیولر جمہوریت مذہب کارڈ کی بنیاد پر قتل عام, ظلم, زیادتی, جبری گمشدگیوں, جنسی زیادتیوں اور تمام بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں میں پیش پیش اور سر فہرست ہے۔

    جس کسی انسانیت کے چیمپئن نے یہ دن "مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن” تفویض کیا ہے دنیا کو وہ کوئی مہا منافق ماں باپ کی منافق اولاد ہے کہ جو مرگئے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوکر اسے ان کی یاد تو رہ گئی (جو کہ اچھی بات ہے) پر جو ہر منٹ پر کشمیر, فلسطین, شام اور اراکلن میں مر رہے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوکر اسے ان کی یاد نہیں آئی؟

    یہ "انسانیت عظیم مذہب اور عقیدہ” کے سطحی سوچ والے سوکالڈ پیروکار سارے ہی منافق ہوتے ہیں اور شومئی قسمت "انسانیت عظیم مذہب اور عقیدہ” میں جتنی انتہا پسندی اور تشدد پسندی پائی جاتی ہے شاید ہی کسی الہامی و انسانی ساختہ مذہب یا عقیدے میں اس کا اتنا وجود ہو؟

    میں ایسے دنوں کو متاثرین کے جلے پر نمک چھڑکنے کے مترادف سمجھتا ہوں کہ جو مرگئے انہیں ہماری دعائیں ہی کافی ہیں جبکہ جو زندہ ہیں پر مرنے کی کگار پر ہیں ہماری سوکالڈ انسانیت اور حکمت و مصلحت کی بھینٹ چڑھ کر ان کا کون پرسان حال ہے زمین پر اللہ کے بعد؟

    میں تو اس دن کی مناسبت سے بس یہی کہوں گا کہ جو لوگ اس دنیا سے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کا شکار ہوکر چلے گئے اللہ ان کے ساتھ انصاف پر مبنی معاملہ فرمائے پر جو لوگ اس دنیا میں ابھی بھی مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کا شکار ہو رہے ہیں اور حالت نزع میں ہیں اللہ ہمیں انہ سب کو اس ظلم سے نجات دلانے کی توفیق, ہمت اور ہدایت نصیب فرمائے۔

  • عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت    واحکام ومسائل ۔۔۔ حافظ عبدالرحمٰن منہاس

    عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت واحکام ومسائل ۔۔۔ حافظ عبدالرحمٰن منہاس

    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَالْفَجْرِ وَ لَیَالٍ عَشْرٍ یعنی مجھے فجر اور دس راتوں کی قسم ہے۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ بحوالہ بخاری فرماتے ہیں: ’’اس سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں‘‘۔

    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ان دس دنوں میں اللہ تعالیٰ کو عمل صالح بہت پسند ہے‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ کیا جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی زیادہ یہ دن پسند ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ہاں! یہ دن جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی بہتر ہیں سوائے اس شخص کے جو اپنے مال اور جان کو لے کر نکلے اور کسی چیز کو واپس لے کر نہ آئے‘‘ (صحیح البخاری)۔

    سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ان دس دنوں سے بڑھ کر اور سب سے زیادہ محبوب اللہ تعالیٰ کو کوئی اور دن نہیں ہیں لہٰذا تم ان دنوں میں کثرت سے تسبیح، تحمید اور تہلیل کیا کرو‘‘۔ ( طبرانی)۔

    سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان ایام عشرہ میں سخت ترین محنت سے عمل صالح فرماتے تھے۔ ( دارمی)۔ امام ابن حجر رحمہ اللہ کے مطابق اس عمل صالح کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ان دنوں میں حج کا اجتماع منعقد ہوتا ہے اور حج اسلام کے اراکین میں شامل ہے۔

    مستحب اعمال

    کثرت سے نوافل ادا کرنا۔ نمازوں میں مکمل پابندی کرنا، کثرت سجود سے قربِ الٰہی کا حاصل کرنا۔ (صحیح مسلم)۔

    نفل روزے کا اہتمام کریں۔ کیونکہ اعمال صالحہ میں روزے شامل ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ذی الحجہ کی تاریخ کو روزے رکھتے تھے یوم عاشور، محرم اور ہر مہینے تین روزے رکھنا بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا معمول تھا۔ ( ابوداؤد، مسند احمد)۔
    کثرت سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنا بھی ان ایام کا ایک معروف فعل ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کے مطابق سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہم بازاروں میں جاتے تھے، خود بھی تکبیرات کہتے اور لوگ بھی تکبیریں بلند آواز سے پڑھتے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے خیمے میں بلند آواز سے تکبیریں کہتے تو اہل مسجد اس کو سن کر جواباً تکبیریں کہتے تھے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نمازوں کے بعد، گھر میں، آتے جاتے، پیدل چلتے ہوئے تکبیریں کہتے تھے۔ افسوس صد افسوس کہ ان ایام میں یہ عظیم سنت ختم ہو گئی ہےتکبیر ان الفاظ سے کہی جاتی تھی:

    اَﷲُ اَکْبَر اَﷲُ اَکْبَراَﷲُ اَکْبَرکَبِیْرًا

    اور

    اَﷲُ اَکْبَراَﷲُ اَکْبَرلَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَ اﷲُ اَکْبَراَﷲُ اَکْبَر وَ ِﷲِ الْحَمْدُ

    یومِ عرفہ کا روزہ رکھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’میں اُمید کرتا ہوں کہ یومِ عرفہ کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے‘‘ (صحیح مسلم) لیکن یہ روزہ حاجیوں کے لئے نہیں ہے۔

    قربانی کا دن مسلمانوں کی عظیم الشان قربانی اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان کی نشاندہی کرتا ہے۔ تمام علماء کے مطابق سال کا افضل ترین دن قربانی کا دن ہے۔ سنن ابوداؤد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا اِرشاد ہے کہ ’’قربانی کا دن افضل ترین دن ہے‘‘۔

    احکام ومسائل قربانی

    قربانی کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربانی کیا کرتے تھے۔ قربانی زندہ افراد کرتے ہیں۔ اگر کوئی اپنے فوت شدگان کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ (لیکن درج ذیل شرطوں کے ساتھ):
    قربانی اصل میں زندوں کی طرف سے ہوتی ہے، ان کے ضمن میں فوت شدگان کا نام بھی لیا جا سکتا ہے۔

    فوت شدگان کی قربانی ان کی وصیت کو پورا کرتے ہوئے کی جا سکتی ہے۔

    تخصیص کرتے ہوئے صرف فوت شدہ افراد کی طرف سے قربانی کرنا سنت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی فوت شدہ صحابی یا اپنے رشتہ دار کی طرف سے قربانی نہیں کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ محترمہ اُمّ المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ، تین بیٹیاں اور سید الشہداء حمزہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی میں انتقال فرما گئے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی بھی ان کی طرف سے قربانی نہیں کی۔

    قربانی کرنے والا ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں تک اپنے بدن کے بال نہ کاٹے۔ اُمّ المؤمنین سیدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جب عشرئہ ذوالحجہ شروع ہو جائے اور کوئی قربانی کا ارادہ کر لے تو اس کو چاہیئے کہ وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے‘‘ (صحیح مسلم) اس عمل کی حکمت یہ ہے کہ قربانی کرنے والا حج کے اعمال میں شریک ہو جاتا ہے۔

    عیدالاضحی کے آداب

    قارئین کرام! ہم تمہیں عیدالاضحی کی مبارک باد دیتے ہیں۔ تمام قسم کی بھلائیاں اتباع سنت اور پیروئ رسول صلی اللہ علیہ و سلم میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے رسول نے ہمیں یومِ عید اور ایام تشریق میں چند اُمور کا حکم دیا ہے:

    بلند آواز میں تکبیریں کہنا، یوم عرفہ سے لے کر، ایام تشریق کے آخری دن عصر تک اور یاد رہے کہ آخری دن ویں ذوالحجہ کو ہوتا ہے۔ بازاروں، گھروں اور مساجد میں تکبیر کا ورد جاری رکھیں۔

    قربانی، نماز عید کے بعد کی جاتی ہے۔ پہلے کرنا منع ہے۔ ـ (صحیح مسلم)۔ قربانی کے چار دن ہوتے ہیں۔ ایک یومِ نحر اور تین ایام تشریق (بروایت سلسلہ الصحیحہ:)۔
    خوشبو لگائیں۔ غسل کریں۔ اچھے لباس پہنے لیکن اسراف اور نمود و نمائش سے پرہیز کرے۔ خواتین بھی عیدگاہ میں جا کر نمازِ عید پڑھیں۔ عید کی مبارک باد دینا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فعل سے ثابت ہے۔

    عید کے دن کھیل تماشے، محفل موسیقی، رقص و سرود شراب نوشی کی محفلیں سجاتے نہ گزاریں۔ فضول خرچی اور فخر و رِیا کرنا منع ہے۔ گوشت سارا خود نہ کھائیں بلکہ غرباء کو بھی دیں۔

    ایام ذوالحجہ کی ایک اہم عبادت حج، عمرہ اور مکہ و مدینہ کے مقدس مقامات کی زیارت ہے۔ ہم حج پر تفصیل سے نہیں لکھ رہے کیونکہ حج کے ارکان اور دیگر مسائل پر آج کل بیشمار چھوٹے رسائل میں موجود ہیں۔ لوگ وہاں رجوع بھی کر سکتے ہے۔

  • اپنے اعمال کو ضائع ہونے سے بچائیے ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    اپنے اعمال کو ضائع ہونے سے بچائیے ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    بدعت کا لفظ بدع سے لیا گیا ہے
    جس کا معنی ہے کسی چیز کا ایسے طریقہ پر ایجاد کرنا جس کی پہلی مثال نہ ہو۔

    اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (البقرہ ١١٧)
    وہ آسمانوں اور زمین کو نئے سرے سے پیدا کرنے والا ہے

    ابن حجر عسقلانی نے فرمایا:
    بدعت کی اصل یہ ہے کہ اسے بغیر کسی سابقہ نمونہ کے ایجاد کیا گیا ہو۔

    شرعی اصطلاح میں بدعت کا حکم ہر اس اس فعل یا مفعول کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کا وجود خود قرآن و سنت کی نص سے ثابت نہ ہو اور وہ قرآن و سنت کے بعد ظاہر ہو۔
    بدعت کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے کہ
    "وہ چیز جو دین میں سے نہ ہو،اس کو دین میں شامل کردینا”
    الجرجانی کہتے ہیں:
    کسی چیز کو اس طرح ایجاد کرنا کے اس سے پہلے نہ اس کا مادہ ہو نہ زمانہ ہو اور بدعت ہر وہ وہ کام ہے جو سنت کے مخالف ہو۔

    الراغب کہتے ہیں:
    ایساقول لانا جس کا کہنے والا اور کرنے والا اس کام میں صاحب شریعت کی پیروی نہیں کرتا یعنی صاحب شریعت کی سنت اختیار نہیں کرتا اور پہلی مثالوں اور مضبوط اصولوں کا طریقہ اختیار نہیں کرتا۔
    اس کا خلاصہ یہ ہے کہ
    "دین میں ایجاد کردہ نیا طریقہ جس پر عمل کرنے سے اجر و ثواب اور اللہ کا قرب حاصل کرنا مقصود ہو بدعت کہلاتا ہے”
    دین میں ہر بدعت حرام اور باعث گمراہی ہے۔
    بدعت کی دو اقسام ہیں
    1۔عقیدے میں بدعت مثلا جہمیہ ، معتزلہ ، رافضہ اور دیگر فرقوں کے باطل عقائد۔
    2۔ عبادات میں بدعت خود ساختہ اور غیر شرعی طریقوں سے اللہ کی عبادت کرنا مثلا نفس عبادت ہی بدعت ہو یعنی کوئی ایسی عبادت ایجاد کر لی جاۓ جس کی شریعت میں اصل نہ ہو مثلاً غیر شرعی نماز ، خود ساختہ روزہ وغیرہ۔

    شریعت کی مقرر کردہ عبادات میں زیادتی ہو جیسے ظہر یا عصر کی نماز میں پانچویں رکعت بڑھا دینا اپنے آپ میں اتنی سختی کرنا کہ وہ سنتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے تجاوز کر جاۓ مثلاً ہمیشہ روزہ رکھنا ، نکاح نہ کرنا پوری رات قیام کرنا وغیرہ۔
    وہ عبادت جسے شریعت نے کسی وقت کے ساتھ خاص نہ کیا ہو جیسے مسنون اذکار اور دعاؤں کو غیر ثابت شدہ طریقہ پر ادا کرنا۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
    میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ غلام ہو ، پس تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا تو تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو پکڑ لینا لازم ہے اور سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنا بلکہ داڑھوں سے پکڑے رہنا اور (دین میں) نئی پیدا کی ہوئی چیزوں سے بچو کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

    عرباض رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "بدعات سے بچو”

    ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
    ہر بدعت گمراہی ہے اگرچہ لوگ اسے نیکی سمجھیں۔

    بدعت سے بچنے کا طریقہ:
    کتاب وسنت پر مضبوطی سے جمے رہنے ہی سے بدعت و گمراہی میں پڑنے سے بچا جا سکتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
    اور یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس اسی کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو جو تمہیں اس کے راستے سے جدا کردیں۔
    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ روایت میں ہے:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا یہ اللہ کا راستہ ہے پھر اس کے دائیں اور بائیں لکیریں کھینچیں اور فرمایا یہ بہت سارے راستے ہیں ان میں سے ہر ایک راستے پر شیطان ہے جو اپنی جانب بلا رہا ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:
    (ترجمہ) اور یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس اسی کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو جو تمہیں اس کے راستے سے جدا کردیں۔
    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
    سنت میں درمیانی چال ، بدعت میں کوشش کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔

    بدعت کے نقصانات
    حسّان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جو قوم اپنے دین میں نئی بدعت ایجاد کرتی ہے اللہ تعالی ان میں سے اس بدعت جیسی سنت کو اٹھا لیتا ہے اور پھر اسے دوبارہ ان لوگوں کے پاس قیامت تک نہیں لوٹاتا۔
    بدعت ہلاکت کا باعث ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ہر عمل میں ایک تیزی ہوتی ہے اور ہر تیزی کے بعد ایک وقفہ ہوتا ہے جس کا وقفہ اسے سنت کی طرف لے گیا تو وہ کامیاب ہوگیا اور جس کا وقفہ اسے کسی اور چیز کی طرف لے گیا تو وہ ہلاک ہو گیا۔

    بدعت حوضِ کوثر سے محرومی کا سبب ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    بیشک میں تمہارے لئےحوض ِکوثر پر پیش خیمہ ہوں گا اور تم اس بات سے بچنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی میری طرف آئے اور پھر وہاں سے ہٹا دیا جائے جیسا کہ گم شدہ اونٹ ہٹا دیا جاتا ہے تو میں کہوں گا ایسا کیوں ہے تو کہا جائے گا کہ بے شک آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے جانے کے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔
    تو میں کہوں گا دور ہو جاؤ۔

    بدعت سے توبہ کی توفیق نہیں ملتی
    انس رضی اللہ عنہ سے مرفوع نقل کیا گیا ہے:
    بے شک اللہ تعالی نے توبہ کو ہر بدعتی سے پردے میں رکھا ہے۔

    سفیان ثوری کہتے ہیں:
    بلاشبہ ابلیس کو گناہ سے زیادہ بدعت پسند ہے کیونکہ بدعت کے بعد توبہ نہیں کی جاتی جبکہ گناہ سے توبہ کی جاتی ہے۔

    بدعتیوں کی تردید ان کی نکیر اور ان کو مسلسل اس عمل سے منع کرتے رہنا ہی مطلوب ہے اس کی مثال صحابہ اور سلف صالحین کے طرز عمل سے ملتی ہے۔

    مزکورہ روایات واضح دلیل پیش کرتی ہیں کہ دین میں بدعت کی کوئی گنجائش موجود نہیں اور بدعت سراسر گمراہی کیطرف لے جاتی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے کا سبب بنتی ہے۔

    اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں بدعت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    وماعلینا الا البلاغ المبین۔