Baaghi TV

Category: مذہب

  • بچے، مسجد میں ۔۔۔ حافظ ابتسام الحسن

    بچے، مسجد میں ۔۔۔ حافظ ابتسام الحسن

    بچوں کی تعلیم و تربیت پر ہر قوم زور دیتی ہے، لیکن اسلام اور مسلمان اس حوالے سے بطور خاص حساس ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کی تربیت پر بہت زور دیا ہے، اور تربیت میں بھی نماز کو اولین ترجیح دی ہے کہا کہ اگر بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز سکھلاؤ اور پڑھنے کی ترغیب دلاؤ اور دس سال کے ہو جائیں تو ان پر نماز کو فرض عین کر دو، اگر نہ پڑھیں تو ان کی پٹائی کرو، غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اللہ کے رسول نے کسی اور معاملہ میں بچوں پر کبھی نہ سختی کی اور نہ کرنے کا حکم دیا، بلکہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : "دس سال رسول اللہ کی خدمت کی (آپ نے کسی موقع پر) کبھی اف تک نہ کہا ۔” ایسے حلیم الطبع اور بچوں پر مشفق نبی نماز کے مسئلہ پر اگر بچوں پر سختی کا کہہ رہے ہیں تو ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں حکمِ نماز کتنا اہم اور حساس ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بچے بڑے ذوق و شوق سے مسجد میں جایا کرتے تھے، بلکہ جناب عبداللہ بن عمر کہتے ہیں بچپنے سے لے کر کنوارے رہنے تک ہم سویا بھی مسجد میں ہی کرتے تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی چھوٹے بچوں کو مسجد میں لانے سے نہیں روکا۔ حدیث میں آتا ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "میرا دل کرتا ہے کہ میں نماز میں قرأت کو لمبا کروں، پھر میں بچوں کے رونے کی آوازوں کو پاتا ہوں تو میں قرأت کو مختصر کر دیتا ہوں۔ ” اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قرأت مختصر کردی مگر بچوں کو مسجد میں لانے سے منع نہیں کیا۔
    موجودہ دور بے راہ روی کا دور ہے، اس میں بچے تو کیا بچوں کے والدین بہت کم مسجد میں آتے ہیں۔ مسجدیں اپنے حجم کے حساب سے تقریبا ویران رہتی ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں اور ان کے والدین کو مساجد میں لا کر مساجد کی رونق کو دو بالا کیا جائے ۔اس حوالے سے ترکی نے سرکاری سطح پر ایک زبردست اقدام کیا، پہلے تو انہوں نے اپنی مساجد میں بچوں کے لیے کھیلنے کے لیے چھوٹے چھوٹے پلے گراؤنڈ بنائے، کہ سات سال سے چھوٹے بچے وہاں کھیلتے رہیں اور ان کے والدین با اطمینان نماز میں مشغول رہیں، پھر سات سال سے اوپر کے بچوں کے لیے یہ اعلان کیا کہ جو بچے چالیس دن نمازیں باجماعت ادا کریں گے انہیں بطور انعام سائیکلیں دی جائیں گی، جو کہ دی بھی گئیں ۔ان بچوں کی سائیکلوں کے ہمراہ تصاویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل بھی ہوئی تھیں ۔ترکی کے بعد پاکستان کی کئی مساجد نے اپنے طور پر اس کار خیر کو اپنایا ۔ان میں گوجرانوالہ کی ایک مسجد کا پوسٹر مجھے دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔اس کے بعد مسجد حلیمہ سعدیہ الرحمان گارڈن فیز ٹو نے یہ قدم اٹھایا، پہلے پہل تو یقین نہ آیا لیکن جب بچوں کو انعامات لیتے اور سائیکلوں کو سرپٹ دوڑاتے دیکھا، تو یقین مانیے دل کو بہت مسرت ہوئی ۔جامع مسجد حلیمہ سعدیہ الرحمان گارڈن فیز ٹو وہی مسجد ہے جہاں مجھے اس سال رمضان المبارک میں قرآن مجید سنانے کی سعادت حاصل ہوئی تھی، فللہ الحمد ۔
    اس مسجد میں رمضان المبارک سے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ جو بچے پورا رمضان مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں باجماعت مسجد حلیمہ سعدیہ میں ادا کریں گے انہیں انعام میں سائیکلیں دی جائیں گی اور دیگر قیمتی انعامات بھی دیے جائیں گے ۔اس خبر کے نشر ہوتے ہی ٹاؤن کے بچوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، وہ بڑھ چڑھ کر اپنا نام درج کروانے لگے
    پچاس بچوں نے اس میں حصہ لیا جو کہ بہت زبردست اور حوصلہ افزا تعداد تھی ، ماشاءاللہ ان پچاس بچوں کی مسجد آمد سے مسجد میں اچھی خاصی رونق ہوجاتی تھی، جس سے اس بات کی خوشی ہوتی تھی کہ ہم اپنی اگلی نسل تک دین پہنچا رہے ہیں ۔ان بچوں کی باقاعدہ حاضری لگتی تھی، جس کی ذمہ داری مسجد ہذا کے صدر ماسٹر مشتاق صاحب بڑی باقاعدگی سے نبھاتے رہے، جس پر وہ بھی اللہ کے ہاں یقینا اجر کے مستحق ہوں گے۔
    ان پچاس بچوں میں سے بیس بچے باقاعدگی سے آتے رہے اور ایک بھی نماز میں کمی نہیں کی ۔ان کی باقاعدگی کا یہ عالم تھا کہ یہ بچے اپنی نانی اماں اور دادی اماں کے ہاں افطاری پر بھی نہیں گئے، جس نے بھی دعوت دی اسے عید کے بعد کا وقت دیا، خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ بچے طاق راتوں میں بھی مسجد میں جاگتے رہے ہیں اور عبادات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ہیں ۔الحمد للہ اس وجہ سے مسجد حلیمہ سعدیہ میں پورا رمضان رونقیں لگی رہیں ۔
    بالآخر رمضان کے آخر جمعہ میں نماز کے بعد بچوں میں سائیکلوں اور دیگر انعامات کی تقسیم کے لیے ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی اور ان پابند بچوں میں نئی، اچھی اور معیاری سائیکلیں تقسیم کی گئیں، جنہیں پاکر بچوں کی خوشی دیدنی تھی اور دین پر عمل پیرا ہونے کے جذبات دوگنا ہو چکے تھے۔
    ان بیس بچوں کے علاوہ باقی تیس بچوں کو جن کی حاضری میں کچھ کمی تھی، ان میں حاضری کے بقدر انعامات بانٹے گئے جو کہ قیمتی بھی تھے اور اصلاحی بھی ۔جس میں دارالسلام کی دینی کتب، معیاری خوشبوئیں، منی فینز، گاڑیاں اور دیگر اچھی چیزیں تھیں۔
    اس کاوش میں سب سے اہم کردار اس مسجد کے خطیب پروفیسر حافظ عثمان ظہیر صدر جمیعت اساتذہ پنجاب کا ہے۔انہوں نے یہ اقدام اٹھایا اور سائیکلوں و انعامات کے لیے کافی متحرک بھی رہے ۔ماسٹر مشتاق ورک صاحب جو مسجد کے صدر ہیں، نے بڑی باقاعدگی سے تینوں اوقات میں بچوں کی حاضری لگائی۔ اسی طرح محترم حبیب کبریا صاحب برادر مکرم حافظ عبدالعظیم اسد صاحب کا کردار بھی لائق تحسین ہے جنہوں نے دارالسلام کی خوبصورت پروڈکٹس کے تحفے بچوں کے لیے عنایت کیے۔
    آخر میں پیغام ٹی وی کے زیر اہتمام تقریب نے اس پروجیکٹ کو چار چاند لگادیے ۔پیغام ٹی وی نے اس پروقار تقریب کی کوریج کی اور اسے چینل پر چلایا
    ہمیں امید ہے مسجد حلیمہ سعدیہ کا یہ منصوبہ دوسری مساجد کے منتظمین کو بھی تحرک دے گا اور وہ بھی اپنے علاقے کے بچوں کو مساجد میں لانے کے لیے ایسے ہی اقدامات کریں گے۔ اور یہ عمل نیکی کے فروغ میں مشعلِ راہ ثابت ہو گا۔

  • رٹو طوطا اور ہم ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    رٹو طوطا اور ہم ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    ایک دانا بندے نے بطور تجربہ ایک بولنے والا طوطا پالا اور روز اسے یہ الفاظ یاد کرواتا ،پنجرے سے باہر نہیں جانا درخت پر نہیں بیٹھنا، صبح و شام جب بھی اس کا ٹائم لگتا یہی الفاظ طوطے کو یاد کرواتا چند دن کی محنت سے وہ طوطا رٹے رٹائے الفاظ خوب یاد کر چکا اب وہ بندہ جب بھی طوطے کے پنجرے کے پاس آتا طوطا شروع ہو جاتا ،پنجرے سے باہر نہیں جانا درخت پر نہیں بیٹھنا سارا دن طوطا انھی الفاظ کو دہراتا رہتا اور خوب شور و غل کرتا ایک دن طوطے کے مالک نے طوطے کا امتحان لینے کا ارادہ کیا طوطے کو دانہ ڈال کر اس کے پنجرے کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا اور خود ایک طرف ہٹ کے بیٹھ گیا طوطے صاحب نے وہی الفاظ دہرانے شروع کر دیے اور جب دیکھا کہ پنجرے کا دروازہ کھلا ہے فوری اڑان بھری اور گھر کے صحن میں لگے درخت پر بیٹھ کر وہی الفاظ دہرانے شروع کر دیے ، پنجرے سے باہر نہیں جانا درخت پر نہیں بیٹھنا، وہ شخص اب درخت کے پاس آکر طوطے سے مخاطب ہوا کہ چلو پنجرے میں واپس اور اترو درخت سے نیچے جواباً طوطے نے وہی رٹے رٹائے الفاظ دہرانا شروع کر دیے ،پنجرے سے باہر نہیں جانا درخت پر نہیں بیٹھنا،
    قارئین ایسے ہی کچھ حالات ہمارے ساتھ ہیں اللہ رب العزت نے ہمیں اپنے قرآن اور نبی محمد ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم سے نوازا جو ہمیں پیدائش سے لے کر موت تک زندگی گزارنے کے ہر اصول سے روشناس کرواتے ہیں اور بطور مسلمان ہمارا اللہ کے فضل سے ایمان قرآن اور محمد ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے مگر ہم اس معاشرے میں رہتے ہوئے رسم و رواج کو برا جانتے تو ہیں مگر کرتے وہی طوطے والی بات ہیں۔
    ہم چوری چکاری کو برا تو سمجھتے ہیں مگر بات وہی طوطے والی الغرض کہ پیدا ہونے سے مرنے تک دنیا کے ہر برے کام کو برا جانتے ہیں مگر عملاً وہ رٹی رٹائی طوطے جیسی باتیں کہ جو پنجرے سے بھاگ کر بیٹھا درخت پر ہے مگر بول رہا ہے ،پنجرے سے باہر نہیں جانا درخت پر نہیں بیٹھنا۔ تو جس طرح اس طوطے کا مالک اس سے ناخوش ہو گا کہیں ہمارا مالک بھی ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔ یقیناً یہ بڑے خسارے والی بات ہو گی۔

  • عید  کا  پیغام، پروفیسر زید حارث

    عید کا پیغام، پروفیسر زید حارث

    اللہ تعالی کے بندوں کو ایک پر مشقت عبادت کے بعد خوشی کا ایک دن میسر کیا گیا تا کہ وہ اللہ کا شکر ادا کریں اور اللہ کی تعریف کریں ۔ ولتكبروا الله على ما هداكم ولعلكم تشكرون: اللہ کی تعریف کہ اس نے ہم کو یہ مشقت و تعب والی عبادت کی توفیق دی اور اس بات پہ شکر کہ اس نے اہل اسلام کو کھلے میدانوں میں جمع ہونے کا حکم دے کر ہمیں محبت ومودت کی خوبصورت لڑی میں پرو دیا۔عید کا دن پیغام ہے ہر اس روزے دار کے لئے جس کے لئے کہ یہ دن واقعی جہنم سے آزادی کا دن قرار پا گیا ۔جس روزہ دار نے اپنے گناہ معاف کروا لئے۔جو اللہ کا ویسا بندہ بن گیا جیسا رمضان بنانا چاہتا تھا ۔جس کو رمضان نے حلیم و بردباری، عفو ودرگزر، تواضع و عاجزی اورعبادت و ریاضت کا پابند بنا دیا۔ جس روزہ دار کے دن اطاعت و فرمانبرداری سے اور راتیں قیام سے مزین ہو گئیں اور جو یہ سب نہ کما سکا وہ اپنا محاسبہ کر لے ۔ ابھی زندگی کی رونق باقی ہے۔ابھی سانس چل رہے ہیں ۔ ابھی تبدیلی کا امکان باقی ہے۔ صرف نئے کپڑے پہن کر عید کی خوشیوں میں شریک ہونے والا مسلمان یاد رکھے کہ حقیقی خوشی تو اس کی ہے جس کا دل اللہ کی محبت سے بھر چکا ہے جس کے دل میں گناہ سے نفرت کا مضبوط بیج بویا جا چکا ہے۔ عید کا دن مساکین وفقراء کے لئے خیر کاپیغام لے کر آیا ہے۔ہر روزے دار اپنے روزے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ایک ایسا کام کرے گا کہ اس کے روزے کی کمی بھی پوری ہو جائے اور مسلمانوں کے معاشرے کا ہر فرد اس خوشی میں بھی شریک ہو جائے۔

    وہ فطرانہ ادا کرے گا جس کا ایک بنیادی مقصد حدیث میں کچھ یوں بیان کیا گیا کہ (طعمة المساكين) مساكین کے لئے کھانا بن جائے۔معزز مائیں اور بہنیں یاد رکھیں کہ یہ عید کا دن صرف میرے اور آپ کی تزیین وزیبائش کے لئے نہیں ہے ، ہم ایسے دین کے ماننے والے ہیں جو ہمیں اپنی ذات سے زیادہ دوسرے کی خواہش کے احترام کی تربیت دیتا ہے۔وہ مسکین جو آپ کے نئے کپڑے اور خوبصورت حالت وہیئت کو دیکھ کر آپ سے حسد شروع کر دیتا ہے خدارا اس کی مدد کر کے، اس کو اپنی خوشی میں شریک کر کے اس کو حسد سے محفوظ کیجئے اور اس کی دعاؤں کے مستحق بن جائیے جو کہیں بھی آپ کے لئے ایک مضبوط قلعہ ثابت ہو سکتی ہیں ۔عید کا پیغام ہے کہ ہم نے جس طرح رمضان میں اللہ کے حکم پہ حلال چیزوں کو اپنے لئے حرام کیے رکھا ،اب سرکش شیطانوں کے کھل جانے پہ کہیں ہم اپنے لئے حرام کو بھی حلال نہ کر لیں ۔عید کے تین دنوں میں رشتہ دار و اقارب کی دعوتوں پہ اسراف سے اجتناب کیجئے ۔ سارا مہینہ تو ہم اس بات پہ خوش رہے کہ شیطانوں کو جکڑ دیا گیا ہے لیکن ان تین دن کی دعوتوں کہیں ہم اس آیت کا مصداق تو نہیں بن جاتے "إن المبذرين كانوا إخوان الشياطين” یقینا فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں ۔رمضان نے شیطان سے نفرت کا جو جذبہ پیدا کیا تھا۔ اپنے عمل اور کردار سے اس نفرت کا ثبوت دیجئے۔ دعوت ضرور کیجئے لیکن اعتدال اور میانہ روی کا دامن نہ چھوٹنے پائے اور اپنے دستر خوانوں پہ مساکین کی جگہ ضرور رکھئے ۔اللہ ان میں برکتیں ڈال دے گا۔عید الفطر کا ایک اہم پیغام کہ تمام مسلمانوں کو ایک میدان میں جمع کر کے،عورتوں کو بھی نماز عید میں شامل ہونے کا حکم دے کر، نماز نہ پڑھنے والی عورتوں کو بھی مسلمانوں کی عید گاہ میں پہنچنے کا حکم دے کر اتفاق واتحاد کو عملی جامہ پہنانا ہے ۔اتفاق واتحاد کی ایک اعلی مثا ل پیدا کرنی ہے۔باہمی کدورتیں اور نفرتیں، قبائلی و علاقائی تعصبات، مسلکی وسیاسی تفریقات اور افتراقات کو بھلا کر ایک میدان میں اکٹھے ہو کر اہل اسلام کی یگانگت کا عملی مظاہرہ کیا جائے ۔اس قدر خوبصورت معاشرتی اقدار رکھنے والے دین کے پیروکار عید کے اس پر مسرت موقع پہ لسانیت و قومیت کا گھناؤنا کھیل کھیل کر ایک اسلامی ملک کے تشخص کو مسخ کرنا چاہتے ہیں یا اپنے کامل دین اسلام کی خوبصورت تصویر کو دنیا میں بدنما کرنا چاہتے ہیں یا ملک و ملت کے دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں؟ آئیے رمضان کے آخر میں عید کے پر مسرت موقع پہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر کے اپنی قوم کے سر کو فخر سے بلند کیجیے۔

  • روزہ صبر، ایثاراور نادار لوگوں سے اخوت و ہمدردی کا درس دیتا ہے،برہان حیدر نقوی

    حافظ آباد(نمائندہ باغی ٹی وی)جماعت اہل سنت کے مرکزی رہنما سید برہان حیدر نقوی نے کہا ہے کہ رمضان نزول قر آن کا مہینہ ہے جس میں اُمت مسلمہ کے ہر فرد کو کرپشن، نا انصافی، ملاوٹ و گراں فروشی جیسی سماجی برائیوں سے پاک ماحول پیدا کرکے رمضان اور قر آن سے سچی وابستگی کا ثبوت دینا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار وہ رمضان المبارک کے سلسلہ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ روزہ صبر، ایثاراور نادار لوگوں سے اخوت و ہمدردی کا درس دیتا ہے جس کے نتیجہ میں صدقات خیرات میں فراخدلانہ رویہ کے علاوہ سرکاری دفاتر میں رشوت اور منڈی بازار میں مصنوعی گرانی کا سد باب ناگزیر ہے۔ اُنہوں نے عامۃ المسلمین سے اپیل کی کہ خدا ترسی، بھائی چارہ اور امانت و دیانت کے انقلابی پروگرام پر مسلسل ایک ماہ تک عمل کرکے اسلامی فلاحی معاشرہ کی راہ ہموار کی جائے۔

  • ماہ رمضان کے تقاضے، تحریر: پروفیسر زید حارث

    ماہ رمضان کے تقاضے، تحریر: پروفیسر زید حارث

    رمضان مسلمانوں کی جسمانی و روحانی تربیت کا مہینہ ہے۔ اس مبارک اور مقدس مہینے کا ایک اہم تربیتی پہلو یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے مخلص کرے اور یہ اخلاص اس کے دل میں موجود ہو۔

    محترم قارئین: ہم درج ذیل سطور میں ان احادیث کا جائزہ لیتے ہیں جو اس پہلو کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے ساتھ کوئی جھگڑا کرے تو کہہ دو کہ "میں روزے سے ہوں "۔ ایک مسلمان روزے کی حالت میں اپنے آپ کو اس قدر متواضع بنا لے اور دوسرے انسان کے حق میں ایسا نرم ہو۔

    اور حدیث مبارکہ میں یہ ذکر نہیں کہ کوئی مسلمان گالی دے بلکہ فرمایا; فإن شتمه أحد ” اگر اس کو کوئی بھی گالی دے تو وہ کہے : میں روزہ دار ہوں۔ بلکہ بعض روایات میں فرمایا کہ ” اگر اس سے کوئی لڑائی بھی کرے یعنی معاشرے میں رہنے والا ہر فرد صرف اس کی برائی اور زیادتی سے محفوظ ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ زیادتی کرنے والے کو بھی جواب مسکراہٹ میں ملے گا۔ایک انسانی معاشرے کو ایسا شاندار حسن فراہم کرنے والی عبادت روزہ ہے کہ روزہ رکھنے والا پورا مہینہ اس بات پہ اپنی تربیت کرے کہ زیادتی گالی کا جواب پتھر سے نہیں بلکہ اخلاق کی اعلی اقدار کا مظاہرہ کرکے دیا جائے۔دنیا میں اس کردار سے بڑھ کر اعلی کردار کیا ہو سکتا ہے؟ لیکن افسوس کہ زندگی کے کئی رمضان گزارنے کے باوجود ہم اس کردار سے عاری اور ہمارا معاشرہ ان اقدار سے محروم نظر آتا ہے۔ دوسری حدیث میں تو روزہ ایک مسلمان کی زندگی کو صداقت و اخلاص کے اعلی معیار پہ لے جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة أن يدع طعامه و شرابه ".

    روزہ ایک مسلمان کی زندگی کے قول و فعل میں صداقت و سچائی پیدا کر دیتا ہے اور اگر ایک روزے دار اپنے اقوال یا اعمال میں سچائی کا رنگ پیدا نہیں کرتا تو اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔کیا ہم اپنے اقوال میں ہمیشہ سچ بولتے ہیں؟

    ہم تکلفا کہہ دیتے ہیں کہ نہیں جی مجھے بھوک نہیں میں نے کھانا کھا لیا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہم مشورہ دینے میں بھی بہت زیادہ جھوٹ کا استعمال کر جاتے ہیں۔ بالخصوص دفاتر میں یا آفس میں افسر اور ذمہ دار کو مشورہ دینے کا وقت ہو تو ہم اپنا قیمتی اور خیرخواہی کا مشورہ نہیں بلکہ اس کے مزاج اور اس کی پسند کا خیال کرتے ہوئے اس کی رائے کا موافقت کرتے رہتے ہیں حالانکہ ہم جانتے بوجھتے ہوئے ایسا کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح عدالتوں کے دروازے اور کچہریوں کے ٹیبل گواہوں سے بھرے ہوئے ہیں ۔ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ہماری گواہی کا اثر کیا ہو گا۔ ہمیں صرف پیسہ کمانے سے غرض ہے۔

    اس طرح کی کئی ایک مثالیں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔ ہمیں رمضان کی ابتدا ہی سے اپنے نفس کی تربیت پہ محنت کرنا ہو گی تاکہ رمضان کے آخر میں عبادات میں واضح تبدیلی کے ساتھ ساتھ حقوق العباد میں بھی تبدیلی کا واضح اثر ہمارے تعاملات اور سلوک میں موجود ہو۔ رمضان کا مقدس مہینہ حقوق العباد کی ادائیگی پہ ترغیب دیتے ہوئے ہمیں اس بات کا بھی درس دیتا ہے کہ ہم اپنے ارد گرد غرباء اور فقراء مساکین کا مالی تعاون کریں ۔صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں تیز آندھی سے بھی زیادہ رفتار سے سخاوت کرتے تھے۔

    تو اس سخاوت سے مراد ہر گز یہ نہیں کہ بہت زیادہ مال ودولت کی ملکیت کے بعد ہی اس پہ عمل ہو سکتا ہے۔

    بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کی حالت تو واضح ہے کہ بہت زیادہ وافر غذا یا مال میسر نہیں تھا ۔ اس کے باوجود جو کچھ موجود ہو اس میں سے اللہ کے رستے میں دیتے رہنا اور اپنے مال کو پاک کرنا اور اللہ کے بندوں کی پریشانی کو خوشی اور مسرت میں بدل دینا رمضان کا شعار ہے۔اسی طرح روزے دار کو افطاری کروانا بھی ایک روزے دار کے اجر کی مقدار کے برابر ہے۔

    اس میں بھی اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ ان لوگوں کو افطاری کروائی جائے جو مستحق ہیں۔ اس طرح رمضان کے مقدس مہینے میں ہم لوگوں کی بھوک دور کر کے اس معاشرے میں عدل اور اخوت کا ایک خوبصورت منظر پیش کر سکتے ہیں ۔ یہ مہینہ حقوق اللہ میں مسابقت اور حقوق العباد کی ادائیگی میں اپنی کمی و کوتاہی کو دور کرنے کا ایک سنہری موقع ہے۔

  • رمضان، ماہ قرآن ۔۔۔ حافظ ابتسام الحسن

    رمضان، ماہ قرآن ۔۔۔ حافظ ابتسام الحسن

    رمضان المبارک کے بے شمار فضائل و مناقب ہیں، ہزاروں فضیلتیں اور کئی بڑی بڑی عبادتیں اس سے منسلک ہیں، اس کے اعزازات میں سرکش شیاطین و مردود جنات کا جکڑ دیا جانا، ہولناک جہنم کے دروازوں کا بند ہونا اور نعمتوں سے بھرپور جنت کے ابواب کا کھل جانا بھی شامل ہے۔ اس ماہ مقدس میں گناہوں کی قلت اور نیکیوں کی کثرت ہوجاتی ہے، پھر نیکیوں کے اجر میں دس گنا سے سات سو گنا اور سات سو سے آگے جتنا اللہ چاہے اضافہ کرتا ہے۔ ہر دن اور رات میں کثیر تعداد میں لوگوں کو جہنم سے آزادیاں ملتی ہیں، جنت کے پروانے ملتے ہیں اور ان سب سے بڑھ کر رضائے الہی کا حصول ہوتا ہے ۔
    ان تمام کبار اعزازات کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک کا ایک جداگانہ اعزاز یہ ہے کہ اس میں قرآن مجید و فرقان حمید ایسی لاریب کتاب کا نزول ہوا ہے ۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ رمضان کا اعزاز قرآن ہے اور قرآن کا اعزاز رمضان ہے۔ قرآن معجزہ ہے اور یہ معجزہ رمضان المبارک ایسے بابرکت اور پر رحمت مہینے اور مہینے کی بھی سب سے مقدس اور فضائل کے لحاظ سے سب سے افضل رات "لیلۃ القدر” جس کی عبادت کا ثواب ہزار مہینوں سے زیادہ ہے، میں رونما ہوا ۔اس کا خصوصی تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی سورۃ البقرۃ میں بھی کیا ہے ۔”ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق و باطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں۔”

    اس آیت سے معلوم ہوا کہ ماہ رمضان کا قرآن مجید کے ساتھ خاص تعلق ہے، اسی وجہ سے صاحب القرآن والشریعہ جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے میں قرآن کی تلاوت بکثرت کیا کرتے تھے، بلکہ فرشتوں کے سردار جبریل امین سے مل کر قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے۔صحیح بخاری میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر کے سب سے زیادہ کام رمضان المبارک میں کیا کرتے تھے، اور رمضان المبارک کی ہر رات آپ کو جبریل امین ملتے تھے، اور جب بھی جبریل امین آپ کو ملتے آپ انہیں قرآن سناتے تھے۔”
    قرآن اور رمضان کا تعلق صرف دنیا میں ہی نہیں یوم آخرت میں بھی ہوگا ۔روزہ اور قرآن مجید دونوں مل کر بندوں کی سفارشیں کریں گے ۔مسند احمد میں روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "روزہ اور قرآن دونوں بندے کے حق میں بروز قیامت شفاعت کریں گے ۔روزہ کہے گا! اے میرے رب! میں نے اس بندے کو کھانے پینے اور جائز ضروریات سے روکے رکھا ۔اے میرے رب اس کو بخش دے ۔پھر قرآن کہے گا! اے میرے رب! میں نے اسے رات کو سونے اور آرام سے روکے رکھا ۔اے میرے رب اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما اور اسے بخش دے ۔اللہ تعالیٰ دونوں کی شفاعت قبول کرتے ہوئے بندے کو بخش دیں گے اور بندہ جنت میں چلا جائے گا ۔”مذکورہ حدیث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ رمضان المبارک میں قائم الیل و صائم النھار شخص یوم قیامت روزے اور قرآن کے ذریعے باآسانی خلاصی پا جائے گا ۔
    آج کے دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ قرآن سے دور ہوتے جارہے ہیں، اس کا اس طرح سے حق ادا نہیں کر رہے جس طرح کہ کرنا چاہیے ۔اکثریت اس معاملے میں خاصی کمزور اور سست دکھائی دیتی ہے ۔جب کہ اسلاف کا معاملہ رمضان المبارک میں قرآن کے حوالے سے خاصا مضبوط بھی تھا اور مربوط بھی۔وہ قرآن کی تلاوت کو پوری باقاعدگی ،دلجمعی اور خوش الحانی سے کیا کرتے تھے ۔ذیل میں کچھ حوالے درج کیے جا رہے ہیں جس سے ہمیں اندازہ ہوگا کہ اسلاف رمضان میں قرآن مجید کی تلاوت کے لیے کس کس انداز میں کوشاں تھے اور اس کے بغیر رمضان کی عبادات کو نامکمل سمجھتے تھے ۔
    جلیل القدر صحابی سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ رمضان میں تین دنوں میں قرآن ختم کرتے تھے ۔ [سنن سعید بن منصور 150] تابعی امام علقمہؒ پانچ دنوں میں قرآن مجید مکمل کرتے تھے۔[ابن ابی شیبہ 8667]
    تابعی امام قتادہؒ عام دنوں میں سات ایام میں قرآن ختم کرتے تھے،جب رمضان آتا تو تین راتوں میں پورا قرآن پڑھ لیتے اور جب آخری عشرے میں داخل ہوتے تو ہر شب پورے قرآن کی قراَت کرتے۔ [حلیۃ الاولیاء]
    امام ابراہیم نخعیؒ رمضان میں تین دنوں میں قرآن ختم کر لیتے تھے لیکن آخری عشرے میں دو راتوں میں مکمل کرتے تھے۔ [مصنف عبدارزاق 5955]
    تابعی امام اسود بن یزیدؒ رمضان میں دو راتوں میں مکمل قرآن کی تلاوت فرماتےاور مغرب و عشاء کے مابین آرام کرتے تھے، جب کہ عام دنوں میں وہ چھ دنوں میں ایک قرآن ختم کرتے تھے ۔ [ابن ابی شیبہ 8667]
    امام زہریؒ فرماتے تھے رمضان قراَت قرآن اور کھانا کھلانے کا مہینا ہے۔
    امام مالکؒ رمضان کے آتے ہی طلباء کو پڑھانا بلکہ حدیث کی مجلس ہی چھوڑ دیتے تھے اور صرف قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے تھے اور فرماتے تھے یہ مہینا تو قرآن کا مہینا ہے ،اس میں تو ہم بس قرآن کی طرف ہی رجوع کریں گے ۔امام سفیان ثوریؒ رمضان میں تمام عبادات چھوڑ کر صرف قراَت قرآن میں مشغول رہتے ۔ امام احمد ابن حنبلؒ تمام کتابیں بند کر دیتے اور فرماتے کہ یہ قرآن کا مہینا ہے ۔ امام وکیع بن جراحؒ ہر شب میں مکمل قرآن اور مزید دس پاروں کی تلاوت کرتے۔
    تین دن سے کم میں ختم قرآن کی ممانعت کے حوالے سے امام ابن رجب حنبلیؒ نے یہ توجیہ کی ہے کہ یہ ممانعت عام دنوں کے دائمی معمول کے متعلق ہے لیکن زمان و مکان کی فضیلت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس سے کم میں بھی قرآن مکمل کیا جا سکتا ہے-امام احمد ، امام اسحاق اور دیگر متعدد ائمہ کا یہی موقف تھا اور اسی پر ان کا عمل بھی تھا ۔ [لطائف المعارف 183]
    قارئین کرام! مذکورہ آیات و احادیث اور عمل ائمہ و تابعین سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ رمضان کا مہینا فی الحقیقت کا قرآن کا مہینا ہے ۔جو لوگ قرآن کے بنا ہی رمضان کو گزارتے ہیں وہ صحیح معنوں میں حق رمضان نہیں ادا کرتے ۔رمضان کی رحمتوں اور برکتوں سے تبھی مستفید ہوسکتے ہیں جب اس میں قرآن کی تلاوت کا ایک بڑا حصہ شامل ہو ۔کوشش کریں کہ رمضان میں کم از کم ایک قرآن مجید لازمی ختم کیا جائے ۔

  • کیا خوشی ہے کہ رمضان آگیا ہے،وہ رمضان کہ جس کی برکتیں اور رحمیتں سیل رواں کی طرح بے قابو ہوتی ہیں ،اس سیل رواں سے نہ تو بچا جاتا ہے اور نہ اس کی لہروں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ اس میں غوطہ زن ہوا جاتا ہے اور رحمتوں کہ لہروں کے بہاؤ کے ساتھ بہنے کے لیے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا جاتا ہے، رحمتوں اور برکتوں کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ جیسے ہی یہ ماہ مقدس شروع ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، آسمان کے دروازے سے مراد برکت کے دروازوں کا کھلنا ہے، اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ رمضان شروع ہوتے ہی ہر طرف اشیاء خوردونوش کی فروانی ہو جاتی ہے، موسمی پھلوں کی بہتات ہوتی ہے، کھجور جو پورا سال پتہ نہیں کہاں غائب ہوتی ہے رمضان میں جگہ جگہ میسر ہوتی ہے،دودھ دہی کی جتنی بکری اس ماہ میں ہوتی ہے کسی اور ماہ میں نہیں ہوتی، کپڑے اور جوتے کا کاروبار سب سے زیادہ اسی مہینے میں ہوتا ہے، غریب، امیر ہر گھر میں خوشحالی آتی ہے، اسی طرح تقریبا ہر چیز دوگنی ہوجاتی ہے مزید یہ کہ ہر شخص کی آمدنی دوگنی ہوجاتی ہے، ان سب سے رمضان کی برکتیں روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہیں ۔
    حدیث کے اگلے الفاظ یہ ہیں کہ "جنت کے سارے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور پورا مہینا ان میں سے ایک بھی بند نہیں رکھا جاتا ” ان الفاظ میں یہ واضح پیغام ہے کہ یہ مہینا جنت کمانے کا ہے، وہ جنت جو مسلمانوں کی منزل مراد اور ابدی قرار گاہ ہے، جس کے حصول کے لیے تمام عبادات کو بنیاد بنایا گیا ہے، جو نعمتوں سے بھرپور ہے، جس میں فواکہ، حور و غلمان اور سلسبیل و زنجبیل ہے، جس کا عرض دنیا وما فیہا سے زیادہ ہے، جس میں باغات ہیں اور ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، دودھ کی نہریں، شراب اور شہد کی نہریں ۔جس کا ایک ایک خیمہ ساٹھ ساٹھ میل لمبا ہے، جس کا لالچ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جگہ جگہ دیا ہے، وہ جنت جس کا سب سے اونچا مقام "محمود ” ہے، جو کہ کائنات کی اعلی ترین ہستی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جائے گا ۔اس جنت کے دروازے رمضان میں فقط اس لیے کھولے جاتے ہیں کہ مسلمانوں کو بتا دیا جائے کہ ان کا ٹھکانہ یہی اور بس یہی ہے، اس کے سوا اور کہیں نہیں جانا ہے، لہذا اس ماہ مقدس میں مسلمان اس جنت کے حصول کے لیے تگ و دو کریں، دعائیں کریں، جدوجہد کریں بلکہ قرآن مجید میں تو اللہ تعالیٰ کہتے ہیں ” دوڑو، بھاگو، لپکو اس جنت کی جانب ۔ایک مقام میں ہے "کہ اس جنت کے حصول کے لیے آپس میں مسابقہ کرو، ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو، چنانچہ پورا رمضان اس جنت کے حصول کے لیے کوشاں رہنے کا نام ہی رمضان ہے،اور اس میں جنت کے دروازوں کا کھلنا رمضان کی برکت اور رحمت ہے ۔
    حدیث کے اگلے الفاظ یہ ہیں کہ” جہنم کے سارے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور ان میں سے ایک بھی کھلا نہیں رکھا جاتا "اس میں بھی رمضان کے توسط سے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ اب تمہاری زندگی میں رمضان آگیا ہے، اب تم جہنم میں نہیں جا سکتے، جہنم کے دروازے بند کرنے کا پہلا اور آخری مقصد یہی ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ کسی شخص کی زندگی میں رمضان آجائے اور اس کے باوجود وہ جہنم میں چلا جائے ۔وہ جہنم جس کی ہولناکی اور ہیبت ناکی کی مثل اور کوئی شے نہیں ہے، وہ جہنم جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے، مطلب جتنے انسان اس میں ڈالتے جائیں گے اس کی آگ اتنی بھڑکتی جائے گی، وہ جہنم جس کی آگ دنیا کی آگ سے انہتر گنا زیادہ تیز ہے، وہ جہنم جس کا بعض بعض کو کھا رہا ہے، وہ جہنم جس کی آگ کے نام سقر، ھاویہ، سعیر ہے اور جو چمڑوں کو جلا دینے اور دلوں تک پہنچنے والی ہے، وہ جہنم جو رہنے کا سب سے برا ٹھکانہ ہے، وہ جہنم جو سانس باہر پھینکتی ہے تو دنیا گرمی سے جھلسنے لگ پڑتی ہے اور سانس اندر کھینچتی ہے تو دنیا سردی سے ٹھٹھرنے لگ پڑتی ہے، وہ جہنم جس کی گہرائی ستر سال کی مسافت جتنی ہے اور طول و عرض کا تو حساب ہی نہیں ۔ایسی ہولناک جہنم کے دروازے بند ہوتے ہیں تو فقط رمضان المبارک کی بدولت، یہ رمضان کی برکتیں اور رحمتیں ہی تو ہیں ۔
    حدیث کے اگلے الفاظ یہ ہیں کہ” ہر سرکش شیطان اور شریر جن کو قید کردیا جاتا ہے”ایسا کر کے بھی مسلمانوں کو یہ واضح پیغام دیا جاتا ہے کہ تمہارا ازلی وابدی دشمن سرکش شیطان زنجیروں میں جکڑ دیا گیا، لہذا اب تم نیکیاں کرنے کے لیے مکمل آزاد اور خود مختار ہو، تمہارے رستے کا سب سے بڑا کانٹا نکال دیا گیا ہے اور اٹکن ہٹا دی گئی ہے، اب تم شیطان کے وسوسوں، اس کی پھونکوں، بہکاووں اور تحریض سے پرے اور محفوظ ہو ،چنانچہ نیکیاں کرو، نمازیں پڑھو، دن کا صیام اور رات کا قیام کرو، صدقہ خیرات کرو، زکوہ ادا کرو، جہاد فی سبیل اللہ میں شریک ہو، غرض ہر طرح کی نیکی کرو اور ہر طرح کے گناہ سے بچو، کیونکہ شیطان جکڑ دیا گیا ہے، اور تمہارے پاس نیکی نہ کرنے اور گناہ سے نہ بچنے کا کوئی عذر اور جواز نہیں ہے، حیرت ہے اس شخص پر شیطان باندھ دیا گیا ہو، جہنم کے دروازے بند کردیے گئے ہوں اور جنت کے دروازے کھول دیے گئے ہوں اور وہ اس کے باوجود نیکی نہ کرے، تو سوائے محرومی کے اس شخص کے مقدر میں کچھ نہیں ۔
    قارئین کرام! حدیث کے اگلے الفاظ یہ ہیں کہ رمضان شروع ہوتے ہی ایک منادی لگانے والا یہ منادی لگاتا ہے، اے نیکیاں اور خیر چاہنے والے! آگے بڑھ، کر ہر وہ نیکی جو تجھے پسند ہے، کیونکہ رمضان آیا ہی نیکیوں کے لیے ہے، پھر وہ منادی اگلی منادی یہ کرتا ہے کہ اے گناہ کرنے اور شر چاہنے والے رک جا! بس کر جا، بہت گناہ کر لیے، اور کتنے کرے گا، اس غلاظت میں اور کتنا گندا ہوگا، اس گناہ کی بستی میں اور کتنا رسوا ہوگا، دیکھ رمضان آگیا ہے، نیکیوں کا موسم بہار آگیا ہے، اب گناہ ترک کر. معصیت چھوڑ، رسوائیوں والے اعمال کو ٹھوکر مار اور رشدو ہدایت، ایمان، اعمال صالحہ اور تقوی کی طرف آجا۔منادی کرنے والے کی روز کی یہ منادی بھی رمضان کی رحمتوں برکتوں میں شامل ہے

    قارئین کرام! رمضان المبارک وہ ماہ مقدس ہے جس کا انتظار اسلاف صلحاءکو سال بھر رہتا ہے ،جس کو پانے کی وہ اللہ سے دعائیں و التجائیں کرتے رہتے تھے، پھر جب رمضان کو پالیتے تو اس میں عبادات اتنی شدت سے کرتے کہ رمضان کا کما حقہ حق ادا کر دیتے تھے، آج وہ رمضان میری اور آپ کی زندگی میں آیا ہے، دیکھیے، شیاطین باندھ دیے گئے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیے ہیں اور جنت کے دروازے کھول دیے گئے ہیں ۔آگے بڑھیے! بذریعہ رمضان جنت کمالیجیے اور جہنم سے آزاد ہو جائیے۔