Baaghi TV

Category: مذہب

  • بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    گو کہ یہ عنوان بھی آپکو پہلی نظر میں بکواس لگا ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نہایت حکیمانہ مقولہ ہے۔ کیونکہ آپ لاکھ خود کو پڑھے لکھے، مہذب اور سمجھدار سمجھتے ہوں، لیکن اگر آپ بغیر سوچے سمجھے کچھ بھی بول دیتے ہیں تو آپ بہرحال بکواس ہی فرمارہے ہیں۔

    آپ زبان سے وہی بات کہیں جس کے بارے میں آپکو یقین ہو کہ یہ بات سچی ہے،جھوٹ نہیں ہے۔ اچھی ہے، بری نہیں۔ مفید ہے، غیر مفید نہیں ہے۔ کسی کا دل خوش کرنے کیلئے ہے، کسی کی دل آزاری کیلئے نہیں ہے۔اگر آپ ہر دفعہ بولنے سے پہلے ان باتوں کو سوچ کر اچھی گفتگو کرتے ہیں تو مبارک ہو۔

    آپ مہذب، سلجھے ہوئے، بہترین انسان ہیں، بشرطیکہ آپ نہ صرف گفتار کے، کردار کے بھی غازی ہوں۔ یعنی نہ صرف آپ اچھا بولتے ہوں، اس پر عمل بھی کرتے ہوں، یا کم از کم عمل کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ کیونکہ

    عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ نوری

    بہرحال کچھ بھی بولنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں کہ کل کسی عدالت میں مجھ سے میرے کہے ہوئے ایک ایک لفظ کا حساب لیا جائیگا۔ اگر بات اچھی ہوئ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    وَالْـکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ صَدَقَۃٌ ’’

    اوراچھی بات بھی صدقہ ہے‘‘ (صحیح بخاری)

    اور صدقہ بڑی عظیم عبادت ہے۔ اور اگر خدانخوستہ آپکی کہی ہوئ بات بری ہوئ تو یہ بڑے خطرے کی بات ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    ما يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْہِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
    ( پارہ:26،سورۃ:ق، آیات:17،18)
    ترجمہ: ۔ تم جو بات بھی نکالتے ہو، اس پر نگران موجود ہے

    لہذا آپ کی ایک ہی بری،جھوٹی، غیبت، چغلی یا طنز پر مبنی بات اللہ کی ناراضگی کا سبب بن سکتی ہے۔ حدیث مبارک پڑھیئے:
    حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں، وہ ارشاد فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور ارشاد فرمایا:

    ’’کُفَّ عَلَیْکَ ہٰذَا‘‘۔۔۔۔۔ ’’اس کو روکو۔‘‘ یعنی زبان کو قابو میں رکھو، یہ چلنے میں بے احتیاط اور بے باک نہ ہو۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ’’وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُوْنَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِہٖ‘‘۔۔۔۔۔’’ہم جو باتیں کرتے ہیں کیا ان پر بھی ہم سے مواخذہ ہوگا؟‘‘ باز پُرس کی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ یَا مُعَاذُ!‘‘ ۔۔۔۔۔’’اے معاذ!تجھے تیری ماں روئے۔‘‘(عربی زبان کے محاورہ میں یہ کلمہ یہاں پیار ومحبت کے لیے ہے) ’’وَہَلْ یَکُبُّ النَّاسَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ إِلاَّ حَصَائِدُ أَلْسِنَتِہِمْ‘‘ لوگوں کو دوزخ میں ان کے منہ کے بل زیادہ تر ان کی زبانوں کی بے باکانہ باتیں ہی ڈلوائیں گی،یعنی آدمی جہنم میں اوندھے منہ زیادہ تر زبان کی بے احتیاطیوں کی وجہ سے ہی ڈالے جائیں گے۔( ترمذی)

    زبان کی لغزشوں سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان خاموشی کی عادت اپنالے۔ دیکھئے حدیث
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( مَنْ صَمَتَ نَجَا ) .روى الترمذي (2501)

    ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو خاموش رہا وہ نجات پاگیا (ترمذی)
    پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ بھی یہی تھی کہ آپ بکثرت خاموش رہا کرتے تھے۔سماک کہتے ہیں: میں سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عرض کیا: کیا آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی محفل میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوتا رہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ زیادہ تر خاموش رہنے والے اور کم ہنسنے والے تھے(مسند احمد)

    لہذا اگر ہم اس نیت سے خاموش اختیار کریں کہ یہ میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے تو دو فائدے ہونگے۔ ایک تو فضول گوئی سے بچیں گے۔ دوسرا یہ کہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے وجہ سے ہماری ساری خاموشی عبادت میں لکھی جائیگی۔

    مگر اس تمام مضمون سے یہ نتیجہ نکالنا بھی ہرگز درست نہیں کہ ہم "صم بکم” ( گونگے بہرے) رہیں۔ دین بہرحال اعتدال کا نام ہے۔ اور اس باب میں اعتدال یہ ہے کہ ہم فضول گوئی سے اجتناب کرتے ہوئے خاموش تو رہیں۔ مگر جب بولنے کا موقعہ ہوتو ضرور بولیں۔ اچھا بولیں۔

    صاف بولیں ۔ برمحل بولیں۔ خاموشی اور کلام میں اعتدال لانے کیلئے بشر بن حارث رحمہ اللہ کا یہ قول مفید ثابت ہوگا۔ آپ فرماتے ہیں
    إِذَا أَعْجَبَكَ الْكَلَامُ فَاصْمُتْ وَإِذَا أَعْجَبَكَ الصَّمْتُ فَتَكَلَّمْ

    "اگر تمہیں بولنا پسند ہو تو خاموش رہا کرو اور اگر تمہیں خاموش رہنا پسند ہو تو بولا کرو۔”
    [حلية الأولياء وطبقات الأصفياء – ط السعادة، جلد ۸، صفحہ نمبر ۳۴۷]

  • آئیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سیکھتے ہیں — نعمان علی ہاشم

    آئیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سیکھتے ہیں — نعمان علی ہاشم

    فضائل اور مناقب بیان کرنا بہت اچھی بات ہے. مگر کسی ہستی کے فضائل اور مناقب کے بیان پر ہی اکتفا کر جانا ہرگز کافی نہیں.
    کسی ہستی کے فضائل اور مناقب کا بیان کار ثواب بھی ہو سکتا ہے. مگر آپ اس ہستی کی سیرت سے کچھ سیکھنے سے عاری ہیں تو یقیناً آپ اچھے کردار کے حامل نہیں ہو سکتے.

    ہمارے ہاں سیرت النبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کا بیان تو ہوتا ہے مگر عمومی رویوں سے اس کا اظہار کرنے سے ہم بطور معاشرہ قاصر ہیں.
    وہ تمام شخصیات جن کو اللہ تعالی نے دنیا میں کوئی نہ کوئی مقام عطا کیا، جن کے فضائل ومناقب آج ہم بیان کرتے ہیں، ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ مقام و مرتبہ کیسے عطا کیا؟
    .
    یکم محرم الحرام قریب ہے اور ہر طرف سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل و مناقب کا تذکرہ ہے. بلاشبہ ان کا ذکر کرنا اور اچھی نیت کے ساتھ اچھے انداز کے ساتھ ان کا ذکر کرنا باعث اجر و تسکین ہے.

    مگر سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ عمر کیسے بنتے ہیں؟

    آج ہم اخلاق و کردار یا اوصاف کے اندر ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے مگر ان کی تقلید ضرور کر سکتے.
    .
    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف و کردار میں جو سب سے بنیادی چیز ہے وہ ڈٹ جانا ہے. آپ کے کردار کے اندر جھول یا نرمی کا کوئی عنصر نہیں. اسلام سے قبل اپنے قبیلے اور علاقے کے تمام تر مفادات کا تحفظ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے علم، حکمت کے ساتھ ساتھ اپنی تلوار کے ذریعے کیا.
    .
    دین اسلام کی حقانیت آشکار ہونے کے بعد سیدنا عمر فاروق نے اسی جاہ و جلال، بہادری و استقلال کے ساتھ اسلام اور اہل اسلام کے تمام تر حقوق کا تحفظ کیا.

    اسلام تو دنیا میں غالب ہونے کے لیے آیا ہے مگر کردار عمر سے یہ بات عیاں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسلام کو غالب کرنے کے لیے آئے تھے.
    .
    آپ اسلام کے آنے سے پہلے بھی اپنے قول و اقرار پر پہرہ دیتے تھے. اور اسلام لانے کے بعد بھی آپ کبھی اپنی بات سے منحرف نہیں ہوئے. دنیا کا مفاد لالچ اور خوف آپ کو کبھی زیر نہیں کر سکا.
    .
    آپ نے اللہ کی عطا کردہ فطرت سلیم کی حفاظت اس قدر عمدہ انداز سے کی کہ آپ کے دماغ کے اندر پیدا ہونے والے خیالات اللہ تعالی نے قرآن بنا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیے.
    .
    جدید فلسفہ میں اقبال جس خودی کی بات کرتے ہیں سیدناعمرفاروق میں وہ خودی بدرجہ اتم موجود تھی.
    .
    تاریخ کا مطالعہ کرنے والے احباب یہ بات جانتے ہیں کہ اقتدار میں آنے سے قبل اور اقتدار میں آنے کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے طرز زندگی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی.
    .
    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ کی برکت ہے کہ آج عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو انصاف کا معیار مقرر کیا گیا ہے.
    .
    تاریخ انسانی میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے قبل کوئی ایسا حکمران نہیں تھا جس کی سلطنت کے اندر تعلیم، صحت تعمیرات، افوج اور انصاف کے باقاعدہ فعال شعبے موجود ہوں.
    .
    یہ آپ کے کردار کا ہی خاصہ تھا کہ نئے آنے والے مذہب اور تہذیب کو 22 سے 25 سال کے اندر 22 لاکھ مربع میل سے بھی زائد رقبے پر متعارف کروایا.
    .
    سچائی، دیانت، جرات، انصاف، تقویٰ، دردانسانیت اور محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم و دین محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت جیسے اوصاف کے بغیر یہ سب ممکن نہیں تھا.

    ہمیں مناقب بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان تمام چیزوں پر غور کرنا چاہیے جو عمر ابن خطاب کو عظیم مصلح و حکمران عمر فاروق اعظم بناتی ہیں.

    محض قصے بیان کرنے سے بات نہیں بنے گی. وہ تمام اوصاف جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت میں موجود تھے ان کی تقلید سے ہی بات بنے گی.

    محض غلبے کی باتیں اسلام کو دنیا میں غالب نہیں کریں گی. اسے غالب کرنے کے لیے عمر فاروق کے نقش قدم پر چلنا ہوگا.

    اگر سیرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو عملی شکل دینے کے بجائے محض ثواب کی نیت سے بیان کرتے رہیں گے تو یقین کیجئے حالات نہیں بدلیں گے.

  • وہ تو امیر عمر تھے. رضی اللہ عنہ — عاشق علی بخاری

    وہ تو امیر عمر تھے. رضی اللہ عنہ — عاشق علی بخاری

    دنیا عظیم لوگوں سے بھری ہوئی ہے. اور کچھ شخصیات ایسی تھی جو منفی کاموں کی وجہ سے مشہور ہوئیں، ظلم و جبر، فساد فی الارض کی جو نشانی تھیں، وہ صفحہ دنیا پہ آئے لیکن اس زمین پر ایک کلنک کی نشانی بن کر رہ گئے. البتہ بہت ساری شخصیات دنیا اور لوگوں کے لیے سراپا خیر تھے اور دنیا کے نظام کے آئیڈیل کی حیثیت بن گئے. لوگ ان کے دشمن ہونے کے باوجود ان کے دیے ہوئے نظام کے معترف ہی نہیں بلکہ اپنے ملک میں اس کا نفاذ بھی کرتے ہیں.

    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثِ مبارکہ بھی ہے. جو زمانہ جاہلیت میں اچھا تھا وہ اسلام میں بھی اچھا ہوگا. (الحدیث)

    دیکھیے تو کون آرہا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مکمل تیاری حالت میں آجاتے ہیں کہ کہہں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان نہ پہنچا دیں. فرمایا آنے دو.

    اور پھر ان کا آنا مظلوموں کے لیے سہارا بنے، اسلام کے لیے قوت اور ظالموں کے سامنے مضبوط قلعہ بن گئے. یہ تو وہی عمر ہیں جن کے لیے دعائیں مانگی جارہی تھیں.

    اللھم اھد عمرین، اے اللہ ان دونوں (ابوجہل و عمر رضی اللہ عنہ) میں سے جو محبوب ہے اس کے ذریعے عزت عطا فرما.

    اور پھر جب آئے تو کیا ہی کمال شخصیت بنے. رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھتے ہیں: فرمایا عمر کی قمیض اتنی لمبی ہے کہ وہ کھینچ رہے ہیں. تعبیر یہ کی کہ یہ دین میں زیادہ ہونگے.

    رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم دوسرا خواب دیکھتے ہیں: فرمایا میں دودھ پیتا ہوں اور دودھ کی تری مجھے ناخنوں میں نظر آنے لگتی اور پھر عمر کو دیتا ہوں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تعبیر پوچھتے ہیں فرمایا اس سے مراد علم ہے.

    ان کا آنا یقیناً خیر ہی تھا کیونکہ وہ دین کا قلعہ تھے، وہ علم کے مینار تھے. وہ ایمان و اسلام کے لیے عزت کا سبب تھے اور ہیں. یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہترین کارنامے سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائی.

    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ بہترین مشیر ثابت ہوئے. حتی کہ آپ کے ذہن کی باتیں یا مشورے قرآن بن کر نازل ہوئے. آپ اپنی جان مال کے ذریعے سے دین کے لیے قوت بنے. اس کے بعد خلیفہ اول کے دور میں بھی آپ ان کی ہر طرح مدد و تعاون کرتے رہے. صفاتِ باکمال کا نتیجہ ہی تھا کہ آپ خلافتِ راشدہ کے دورے امیر کے طور پر منتخب کیے گئے.

    یہیں سے آپ کا جوہر کمال کی حد کو پہنچنے لگا، اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے کارنامے سرانجام دلوائے کہ دنیا میں آنے والے بے شمار بادشاہ آپ کے عشرِ عشیر کو بھی نہیں پہنچتے.

    آپ کے کارناموں کی فہرست خاصی دلچسپ اور دنیا کے ٹھیکیداروں کو چونکا دینے والی بھی ہے.

    آپ نے وہ کام اس وقت سرانجام دیے جب اس کا بڑی بڑی سلطنتوں میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا. آپ نے فوجی و پولیس کا نظام دیا، مجاہدین کے وظائف مقرر کیے، دودھ پیتے بچوں کے لیے وظیفہ مقرر کیا. اسلامی سرحدات کو توسیع دی. احتساب کا کڑا نظام قائم کیا. اہم چیزوں میں سے ایک "انصاف کی فراہمی” کو یقینی بنایا. چاہے وہ کسی سرکاری شخص سے ہی متعلق کیوں نہ ہو.

    آپ رضی اللہ عنہ گو نا گو خصوصیات کی حامل شخصیت تھیں، جن سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے دین متین کا کام لیا اور پھر ان کی وہ دعا بھی قبول ہوئی.

    اے اللہ مجھے شہرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں شہادت عطا کرنا.

    اللّھم إني أسألك شھادة في سبيلك. آمين

  • بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں  مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بدقسمتی سے اس وقت بھارت میں جہاں ایک طرف ہندتوا نظریات کا پرچار زد عام ہے وہیں دوسری طرف اسلاموفوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر بھی تشویش ناک ہے- بھارت میں مقدس گائے،حجاب، لو جہاد اور گھر واپسی کے نام پر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے-

    موجودہ بھارت میں عوامی سطح پر مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی پر مبنی گفتگو کو فروغ دیا جا رہا ہے- مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا، غلط معلومات اور فیک نیوز کی بنیاد پر ہتھیاروں سے لیس جتھوں کو مسلمانوں پر تشدد اور قتل عام کیلئے اکسایا جاتا ہے- عام سیاسی اور مذہبی اجتماعات کے علاوہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسا کہ وٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ پر ویڈیوز اور میسیجز کی صورت میں نفرت انگیز مواد کی بھر مار ہے-

    نفرت انگیز تقاریر اور گفتگو کی سب سے بڑی حالیہ مثال 17 تا 19 دسمبر 2021ء کو ہونے والے ہری دوار شہر میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک اجتماع دھرم سنسد میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام پر ابھارنے کی ہے-

    بلکہ ایک انتہا پسند ہندو خاتون رہنما نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم دشمنی اور مذہبی منافرت و تعصب کا ثبوت دیتے ہوئے یہاں تک کہا کہ:

    ’’چندسو ہندو اگر مذہب کے سپاہی بن کر 20 کروڑ مسلمانوں کو ہلاک کر دیں تو وہ فاتح بن کر ابھریں گے- اس خاتون رہنما نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ ایسا کرنے سے ہندو مت کی اصل شکل ’’سناتن دھرم‘‘ کو تحفظ حاصل ہو گا‘‘-

    مزید تقاریر میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر 20لاکھ مسلمانوں کا قتل عام کردیا جائے تو بقیہ مسلمان بے چوں و چرا ’ہندو راشٹر‘ تسلیم کر لیں گے- مسلسل 3 دن اس اجتماع میں کھلے عام مسلمانوں کے قتل عام کیلئے تقاریر کی جاتی رہیں لیکن کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہندتوا سرکار کی مرضی سے ہورہا تھا-

    ان اعلانات کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد اور انتہا پسندی نے مزید شدت اختیار کی جس کی سب سے خوفناک مثال جہانگیرپوری میں ہنومان جینتی کے دن پرتشدد ہجوم کو ان جگہوں سے گزرنے دیا گیا جہاں زیادہ تر مسلمان رہتے ہیں- ہاتھوں میں تلوار، دیگر تیز دھار دار ہتھیاروں، پستول لہراتے ہوئے اور مسلمانوں کو گالی دیتے ہوئے اس پرتشدد ہجوم نے نماز کے وقت مسجد کے سامنے ہنگامہ برپا کیا-

    یہ بات دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں کہ 2014 ءکے بعد جب سے بی جے پی برسرِ اقتدار آئی ہے تب سے مسلم مخالف جذبات میں بھی شدت دیکھنے کو ملی ہے-

    2014ء کے بعد 2019ء میں دوبارہ نریندر مودی کا وزیر اعظم منتخب ہونا اور اسی طرح 2017ء کے بعد 2022ء میں بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ہندو انتہا پسند اور کٹر مسلم مخالف یوگی آدتیہ ناتھ

    (جس کو مرکز میں مودی کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے)

    کے دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے سے واضح ہوتا ہے بھارت مکمل طور ہندو راشٹر بننے کی جانب گامزن ہے- حالیہ 5 میں سے 4 ریاستوں اترپردیش، اتراکھنڈ، منی پور اور گوا میں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں واپس آگئی ہے- عام طور پر یہی تاثر اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس فتح سے مسلمانوں کے حالات مزید بدتر ہونگے-

    بھارت میں ریاستی انتخابات سے قبل یہ تاثر زد عام تھا کہ اگر مخصوص قسم کا زعفرانی رنگ کا لباس پہننے والے یوگی آدتیہ ناتھ خصوصاً اتر پردیش میں دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف مبینہ ظلم و تشدد کا سلسلہ تیز ہو جائے گا- اگر ان کے پچھلے پانچ سالہ مسلم مخالف اقدامات کا ذکر کریں تو ان میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی، لو جہاد، گھر واپسی اور بین المذاہب شادیوں پر پابندی نمایاں ہے- ان کے 5 سالہ دورِ اقتدار میں مسلمانوں پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں تشدد اور ان کے خلاف نفرت بھری تقاریر سر عام ہوتی رہی ہیں- مغل دور کا تعمیر شدہ تاج محل اور بابری مسجد سے نفرت یوگی آدتیہ ناتھ کی مسلم مخالف جذبات کی ایک چھوٹی سی مثال ہے-

    نریندرا مودی کی مرکزی حکومت کے مسلم مخالف سینکڑوں واقعات میڈیا میں رپورٹ ہو چکے ہیں- جن میں نمایاں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد غیر قانونی اور غیر انسانی کرفیو کا نفاذ اور شہریت ترمیمی قانون کے تحت 30 لاکھ مسلمانوں کی بے دخلی کی راہیں ہموار کرنا شامل ہیں-

    یہ حقیقت ہے کہ آج نفرت اور انتہا پسندانہ سوچ کی وجہ سے بھارتی معاشرہ تقسیم ہوچکا ہے- سخت گیر ہندو آئے روز عوامی جلسوں میں مسلمانوں کا سیاسی، سماجی، معاشرتی اور معاشی سطح پر بائیکاٹ کا اعلان کر رہے ہیں-سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں واضح طور پر سنا جا سکتا ہے کہ ایک مجمع عام سے عہد لیا جا رہا ہے کہ :

    ’’ہم آج سے عہد کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی دکانوں سے کسی قسم کا کپڑا، جوتا اور دیگر سامان نہیں خریدیں گے اور نہ ہی انہیں کسی قسم کا سامان فروخت کریں گے‘‘-

    بھارت میں سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک بیانیہ ’’ہندو خطرے میں ہیں‘‘ کو فروغ دے کر مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا ہے- اس بیانیے پر کئی سوالات اٹھتے ہیں جن میں ایک سوال یہ قابل غور ہے کہ 15 فیصد والی اقلیت سے اکثریت کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟ اسی بیانیہ کو فروغ دے کر بھارت میں اسلاموفوبیا کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں- حالیہ دنوں میں بھارت کی 9 ریاستوں میں مسلم مخالف تشدد کے واقعات میں تیزی آئی ہے-یہ ریاستیں مدھیہ پردیش، گجرات، نئی دہلی، گوا، راجستھان، جھارکھنڈ، کرناٹک، مغربی بنگال، مہاراشٹر اور بہار ہیں- حال ہی میں ریاست کرناٹک کے سکولوں میں حجاب پہننے کو ایک سنگین مسئلے کے طور پر سامنے لایا گیا ہے-سکولوں میں حجاب کے مد مقابل ہندو طلبہ نے گلے میں کیسرانی رومال ڈالے ہوئے تھے-

    ان واقعات کا مقصد مذہبی منافرت کو فروغ دینا تھا جو اسلاموفوبیا کا منہ بولتا ثبوت ہے-اس کے علاوہ بی بی سی کی ایک ویڈیو رپورٹ میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس مسلمانوں کی حفاظت کی بجائے انتہا پسندوں کا ساتھ دیتے ہوئے حملے کر رہی ہے-

    بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور شعائر کی سرِ عام بے حرمتی کی جاتی ہے-اس کے علاوہ بھارت میں مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹھہرانا بھی اسلاموفوبیا کے مکروہ رجحان کی عکاسی کرتا ہے-بھارت میں بڑھتا ہوا اسلاموفوبیا اور نفرت انگیزی مسلمانوں کی نسل کشی کی مترادف ہے- پاکستان نے ہمیشہ اس بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے- حالیہ اسلام آباد اعلامیہ میں او آئی سی نے بھی بھارت کے ان اسلامو فوبک اقدامات کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ:

    ’’ہم بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور عدم برداشت کی منظم اور وسیع پالیسی کی مذمت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ سیاسی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا شکار ہوئے ہیں- ہم حجاب کو نشانہ بنانے والے امتیازی قوانین اور پالیسیوں سے ظاہر ہونے والے ہندوستان میں مسلم تشخص پر سب سے زیادہ نقصان دہ حملوں سے بہت پریشان ہیں-ہم ہندوستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے امتیازی قوانین کو فوری طور پر منسوخ کرے، ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق کو یقینی بنائے اور ان کی مذہبی آزادیوں کا تحفظ کرے‘‘-

    حالیہ کچھ دنوں میں سیکولر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک نئی لہر دیکھنے کو ملی ہے- مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور آثارِ قدیمہ کو گرانے کے بعد ان کے کاروباروں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ تجاوزات کے نام پر بلڈوزر سیاست کے ذریعے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے-

    یہ بات عیاں ہے کہ متنازع شہریت کے ان قوانین سے نہ صرف مسلمانوں میں خوف بڑھا ہے بلکہ اس کے عملی اقدامات بھی سامنے آئے ہیں- مثلاً سرکاری حکام کا شہریت ثابت کرنے کے لئے مسلمانوں کو تنگ کرنا، غیر قانونی گرفتاریاں، پر تشدد واقعات میں اضافہ اور گھروں کو مسمار کرنا شامل ہے-

    5 اگست 2019ء کو ظالم بھارتی سرکار نے عالمی قوانین، دو طرفہ معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برعکس غیر قانونی اقدامات کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے ساتھ کشمیریوں پر غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے شدید لاک ڈاؤن لگا کر انہیں کھلی جیل میں بند کر دیا-اس کے علاوہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لئے 30 سے 40 لاکھ غیر کشمیریوں کو وادی کا ڈومیسائل جاری کردیا گیا – اس دوران کرونا وائرس کی عالمی وبا کی مشکلات میں بھی بھارت نے کشمیریوں کو جیلوں میں بند کرنے، انٹرنیٹ بند کرنا، جعلی اِنکاونٹر، عورتوں اور بچوں پر ظلم و تشدد ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہوا ہے- 10 لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں کشمیریوں پریہ غیر انسانی محاصرہ 1000 دنوں سے تجاوز کر چکا ہے-

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق سال 2021ء میں قابض بھارتی فوج نے 210 کشمیریوں کو شہید کیا جن میں 65 افراد کو جعلی ان کاؤنٹر میں شہید کیا گیا- اس دوران 44 معصوم بچے یتیم اور 16 خواتین بیوہ ہوئیں اور بھارتی فوج نے 67 عمارتوں کو مسمار بھی کیا- اس عرصے میں بھارتی فوج نے 2716 کشمیریوں کو گرفتار اور 487 افراد کو زخمی کیا- رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے صرف دسمبر 2021ء میں 31 افراد کو شہید کیا-

    کچھ عرصہ قبل کشمیری حریت لیڈر سید علی گیلانی کی وفات پر بھارت نے غیر انسانی رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے ان کی تدفین سخت سیکورٹی حصار میں کی گئی اور اہل خانہ کو جنازے میں بھی شامل نہیں ہونے دیا گیا- ماہِ رمضان المبارک میں بھی بھارتی فوج کے کشمیریوں پر مظالم جاری رہے حتیٰ کہ عید الفطر کے موقع پر مسلمانوں کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی-

    بی جے پی اور آر ایس ایس کے اقتدار میں آئے روز مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کو لکھنے کیلئے الفاظ کم پڑ جائیں، اس تحریر میں اس بات کا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح بھارت میں مختلف غیر انسانی اقدامات سے 220 ملین مسلم آبادی کا نسلی صفایا اور قتلِ عام کیا جارہا ہے-یہ عمل صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ہندو راشٹر کے قیام کےلئے دیگر اقلیتیں بھی ہندتوا سوچ اور مذموم عزائم کے نشانے پر ہیں جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ بھارت تاریخ میں انسانیت کے سب سے بڑے دشمن کے طور پر یادرکھا جائے گا-

    پوری دنیا خاص کر بھارت میں اسلاموفوبیا خوفناک شکل اختیار کرچکا ہے جس کی ہر قیمت پر روک تھام کیلئے عالمی برادری کو اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے- ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خصوصاً اقوام متحدہ اور انصاف کے عالمی اداروں نے اگر بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے تیزی سے بڑھتے ہوئے واقعات سے مزید غفلت برتی اور بھارت کے ظالمانہ اقدامات کا ایکشن نہ لیا تو اس ظلم کے نتائج پوری انسانیت کو بھگتنا پڑیں گے-

  • ختم نبوت, مہر نبوت اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت!!! — بلال شوکت آزاد

    ختم نبوت, مہر نبوت اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت!!! — بلال شوکت آزاد

    میرا مشاہدہ اور قیاس ہے کہ جیسی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت آنحضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کو میسر تھی اس کا چوتھا حصہ بھی اگر حضرت عیسی علیہ السلام کو میسر ہوتا تو شاید وہ ہی آخری نبی ہوتے۔

    لیکن ان کو محض چند ہی صحابی میسر ہوئے جو کافی کمزور اور بے بس بھی تھے اسی لیے حضرت عیسی علیہ السلام پر نبوت ختم نہ ہوئی جبکہ بہت سی آفاقی و الہامی باتوں و پیش گوئیوں کے ساتھ ساتھ حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایسی جماعت میسر ہونا جو ان کی زندگی اور بعد از زندگی اسلام کی ترویج, ترغیب اور تبلیغ کے ساتھ ساتھ اسلام کی حفاظت کا ذمہ بھرپور انداز میں لے سکیں, بھی ختم نبوت کی ایک بڑی اور عظیم نشانی ہے۔ ۔ ۔

    مزید یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسی علیہ السلام تک کسی نبی کو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسی جماعت میسر نا ہونا بھی مشیت ایزدی اور نبی حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی ختم نبوت کی عظیم نشانی اور گواہی ہے۔

    ایک اور بات کہ چلو بہت بڑی جماعت نہ بھی میسر ہوتی چلو عشرہ مبشرہ جیسے صحابی رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی میسر ہوتے یا یہ بھی نہ صحیح تو چلو خلفائے راشدین سے چار صحابی رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی میسر ہوتے تو منظر قدرے مختلف ہوتا حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت, شریعت اور امت کا۔

    لیکن اللہ نے جو جو اور جیسا جیسا لکھا تھا ویسا ہی ہونا تھا سو ہوا اور دنیا کو حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم تو ملے ہی ملے لیکن ان کے ساتھ بونس میں صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین بلخصوص حصرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی ملے اور یہ سلسلہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت عمیر بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت زید ابن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمرو ابن عاس رض اللہ تعالی عنہ وغیرہ سے دراز اور چمکدار ہوگیا۔

    صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل بزبان نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم اور مہر بجانب اللہ کہ

    "میں ان سے راضی ہوگیا”,

    میری بات یا قیاس کو تقویت دیتے ہیں کہ بیشک صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ختم نبوت, مہر نبوت اور دین محمدی کی تکمیل کا ایک اہم اور لازمی جزو اور باب ہیں۔

    یعنی قصہ مختصر یہ کہ میرے نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کا ہر صحابی رضی اللہ تعالی عنہ دراصل ختم نبوت پر مہر تصدیق اور قیامت تک پہریدار ہے۔

  • سراپا عدل رضی اللہ عنہ (حیات، فضائل اور شہادت) — حافظ گلزارعالم

    سراپا عدل رضی اللہ عنہ (حیات، فضائل اور شہادت) — حافظ گلزارعالم

    کیا آپ کو معلوم ہے؟

    وہ کون شخصیت ہیں جو انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں۔ جن کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا۔ جنھیں سروردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے مانگا تھا۔ جو اپنی رائے دیتے اور اللہ اسی رائے کے موافق قرآن کی آیات نازل فرماتے۔ جو محبوب رب العالمین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سسر ہیں ، جو ہجری تقویم کے بانی ہیں۔جن کے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے اور اس کا رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزار اور تیس (22,51,030) مربع میل پر پھیل گیا۔ جن کے دور خلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آ گیا۔ جنھوں نےاپنی مہارت، شجاعت اور عسکری صلاحیت سے ساسانی سلطنت کی مکمل شہنشاہیت کو دو سال سے بھی کم عرصہ میں زیر کر لیا، نیز اپنی سلطنت و حدود سلطنت کا انتظام، رعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت اور دیگر امور سلطنت کمال خوش اسلوبی اور مہارت و ذمہ داری کے ساتھ نبھایا، جو خلیفہ وقت ہونے کے باوجود روکھی سوکھی کھایا کرتے، کپڑوں پر پیوند لگے ہوتے، زمین پر استراحت فرماتے مگر رعب و دبدبہ اتنا کہ قیصر و کسری پر آپ کا نام سن کر ہی کپکپی طاری ہوجاتی، جو جس راستے سے جاتے شیطان اس رستے کے قریب بھی نہ پھٹکتا ۔ جن کے بارے میں خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرے بعد اگر کوئ نبی ہوتا تو یہ ہوہوتے۔ یہ ہیں سیدنا ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی رضی اللہ عنہ۔

    آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں، عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، آپ کا شمار علماء و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ آپ کا عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔

    آپ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ آپکی ہر صفت بے مثال تھی۔ اسلام لانے سے قبل پڑھے لکھے عظیم سرداروں میں اور بہادر ترین افراد میں آپکا شمار ہوتا تھا۔ اور اسلام لانے کے بعد اپنی ساری سرداری، بہادری، عدالت، ذکاوت ، سخاوت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے قدموں پر قرباں کردی۔

    نام و نسب
    سلسلہ نسب یہ ہے: عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزی بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن زراع بن عدی بن کعب بن لوی بن فہر بن مالک آپ کا لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و کنیت دونوں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملتا ہے

    پیدائش
    امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ آپ کی ولادت شریف عام الفیل کے تیرہ سال بعد ہوئی ۔ (تاریخ الخلفاء :ج1،ص43)
    مشہور روایت کے مطابق آپ ہجرت سے چالیس برس قبل پیدا ہوئے۔ آپ کے بچپن کے حالات نا معلوم ہیں۔ کسے معلوم تھا کہ آج کا یہ بچہ کل بائیس لاکھ مربع میل پر حاکم ہوگا، اور شرق و غرب میں اسکے نام کا ڈنکا بجے گا۔

    تعلیم
    عرب میں نسب دانی،سپہ گری،پہلوانی اور مقرری کا نہ صرف رواج تھا بلکہ یہ امور باعث شرافت سمجھےجاتے تھے۔ چنانچہ آپ کے باپ دادا نامور نساب تھے، آپ نے اپنے والد سے نسب دانی سیکھی۔ پہلوانی اور کشتی میں بھی کمال حاصل کیا، یہانتک کہ عکاظ کے دنگل میں آپ اپنی پہلوانی کے جوہر دکھاتے۔ عکاظ جبل عرفات کے قریب ایک مقام تھا جہاں ہر سال اہل فن اپنے کمالات کا اظہار کرتے تھے۔ آپ بہترین مقرر اور اعلی شاعر بھی تھے۔ اور آپ کا شمار ان سترہ افراد میں ہوتا ہے جو بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔

    قبول اسلام
    ابتداء اسلام میں آپ اسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید ترین مخالفین میں سے تھے۔ یہانتک کہ اپنی کنیز لبینہ کے اسلام لانے پر انکو سخت ترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ مگر

    اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
    اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دباؤگے

    مشرکین مکہ نے اسلام کو روکنے کی جتنی تدبیریں اختیار کیں، اسلام اتنا ہی پھیلنے لگا ۔ یہ صورتحال دیکھ کر مکہ کے مشرک سرداروں نے فیصلہ کیا کہ کہ معاذاللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا جائے،جسکے لئے کوئ تیار نہ ہوا۔ مگر عمر رضی اللہ عنہ اس پر آمادہ ہوئے، اور تلوار لے کر نکل پڑے۔ رستے میں آپ کے بدلے تیور دیکھ کر نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہاں جارہے ہیں، آپ نے کہا محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو قتل کرنے( معاذاللہ)،یہ سن کر نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا پہلے اپنے گھر کی تو خبر لیجئے آپکی بہن فاطمہ اور بہنوئ سعید بن زید رضی اللہ عنھما بھی اسلام قبول کرچکے ہیں۔ یہ سن کر آپ کے غصے کی انتہا نہ رہی، شدید غصے کی حالت میں گھر گئے، دیکھا کہ آپکی بہن قرآن کریم کے اجزاء لیکر تلاوت کرہی ہیں۔ انہوں نے آپکو دیکھتے ہی وہ اجزاء چھپائے،مگر آپ نے آواز سن لی تھی، آپ نے کہا مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم دونوں مرتد ہوگئے ہو، یہ کہہ کر اپنے بہنوئ سعید سے دست وگریباں ہوئے،بہن فاطمہ رضی اللہ عنھا بچانے آئ تو انہیں بھی اتنا مارا کہ لہولہان کردیا۔ بہن نے کہا جو کرسکتے ہو کرلو،ہم دین اسلام نہیں چھوڑ سکتے۔ ان الفاظ نے آپ کے دل پر گہرا اثر کیا۔ اور بہن کا خون آلود بدن دیکھ کر مزید دل نرم ہوا۔ فرمایا: لاؤ، مجھے دکھاؤ تم کیا پڑھ رہے تھے۔ فاطمہ رضی اللہ عنھا نے قرآن کریم کے اجزاء سامنے رکھے، جن پر یہ آیات تھیں:

    سبح لله ما فی السموت والأرض وھو العزیز الحکیم
    ( جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے)
    ایک ایک لفظ پر ان کا دل اسلام کی طرف مائل ہوتا گیا۔ اور جب اس آیت پر پہنچے:
    آمنوا باللہ ورسولہ
    ( اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آؤ)
    تو بے اختیار زبان پر کلمہ جاری ہوا:
    اشھد أن لا الہ الا اللہ وأشھد أن محمداً رسول اللہ
    آپ کے اسلام کا سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نعرۂ تکبیر بلند کیا، آپ کے ساتھ سب صحابہ نے بھی خوشی سے اللہ اکبر کہا۔
    آپ کے اسلام لانے سے تاریخ اسلام کا نیا دور شروع ہوا،مسلمانوں کو حوصلہ ملا، اسلام کو قوت ملی۔ عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں
    "فلما أسلم عمر قاتل قریشا حتی صلی عند الکعبۃ وصلینا معہ”
    ” جب عمر رضی اللہ عنہ اسلام لاۓ تو قریش کا مقابلہ کیا یہانتک کہ ببانگ دہل کعبۃ اللہ میں نماز پڑھی، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔

    سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے اسلام لا نے کے بعد6 نبوی میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کیا ،اس وقت آپ کی عمر مبارک ستائیس 27 سال تھی ۔ (تاریخ الخلفاء :ج1،ص:43۔ الاکمال فی اسماء الرجال)

    فضائل
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر آپکے وہ فضائل بیان فرماۓ،جو آپ ہی کا خاصہ ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:

    1-میرے بعد جو دو(خلفاء )ہیں، ان کی اقتداء کرو یعنی ابوبکر اورعمر رضی اللہ عنہما ۔ (جامع الترمذی)
    2-بے شک اللہ تعالی نے عمررضی اللہ عنہ کی زبان اور قلب پر حق کو جاری فرمادیا ہے ۔ (جامع الترمذی)
    3-عمر! شیطان تم کو دیکھتے ہی راستہ کاٹ جاتا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح المسلم)
    4-میری امت میں اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے سخت عمر ہیں۔( جامع الترمذی )
    5-حضرت علی رضی الللہ عنہ سے روایت ہے ، فرمایا:” بے شک عمر فاروق جب کوئی بات کہتے یں تو قرآن اُن کی بات کی تصدیق کے لیے نازل ہوتا ہے ۔”
    6-حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: ’’ یا رب ! اسلام کو خاص عمر بن خطاب ؓ کے ذریعے غلبہ وقوت عطا فرما۔‘‘ (المستدرک حاکم)

    شہادت
    مدینہ منورہ میں ایک پارسی غلام تھا،جس کا نام ابو لؤلؤ فیروز تھا۔ اس نے آپ سے شکایت کی کہ میرے آقا مغیرہ بن شعبہ نے مجھ پر بڑا بھاری محصول مقرر کیا ہے۔ آپ نے پوچھا کتنا؟ اس نے کہا روزانہ دو درہم۔ آپ نے کہا کیا کام کرتے ہو؟ اس نے کہا بڑھئ، رنگسازی اور لوہار کا کام۔ آپ نے کہا تین پیشوں کے حساب سے یہ محصول تو مناسب ہے۔ وہ غلام آپکے اس فیصلے پر سخت ناراض ہوا۔

    ایک دن فجر کی نماز کی امامت کے لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بڑھے، جونہی نماز شروع کی۔ فیروزنے اچانک گھات سے نکل کر آپ پر چھ وار کئے، ایک وار آپکےناف کے نیچے لگا۔ حضرت عمر نے فورا حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کو ہاتھ سے پکڑ کر آگے کیا، انہوں نے نماز مکمل کی۔ اور آپ اس دوران لہولہان حالت میں تڑپتے رہے۔

    فیروز کو اس دوران پکڑنے کی کوشش کی، مگر اس نےاس خنجر سے اور افراد کو بھی زخمی کیا، اور جب پکڑا گیا تو اس نے خودکشی کی اور جہنم واصل ہوا۔
    سب سے پہلے آپنے پوچھا کہ میرا قاتل کون ہے؟ آپکو بتایا گیا کہ فیروز نظامی پارسی غلام۔ آپ نے الحمدللہ کہا، کہ شکر ہے کوئ اسلام کا دعویدار میرا قاتل نہیں۔

    ایک طبیب بلایا گیا جس نے آپکو نبیذ اور دودھ دیا، دونوں چیزیں زخم کی راہ سے باہر نکل آئیں۔ آپ کو یقین ہوگیا کہ اب آپ جانبر نہیں ہوسکتے، لہذاحضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے اجازت چاہی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جگہ عنایت کردیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے روتے ہوۓ کہا کہ یہ جگہ میں نے اپنے لئے رکھی تھی۔ مگر میں آج آپکو خود پر ترجیح دیتی ہوں۔

    آپ نے فرمایا: "یہی میری سب سے بڑی آرزو تھی”

    تین دن بعد آپکا انتقال ہوا۔
    انا لله وانا الیہ راجعون

    مشہور تاریخی روایات سے یہی بات ثابت ہے کہ 23 ہجری 26 یا27 ذوالحجہ کو نماز فجر میں سیدنا فاروق اعظمؓ پر ابولؤلؤ فیرزو مجوسی ملعون نے حملہ کیا اور تین دن کے بعد یکم محرم الحرام کو امیرالمومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے جام شہادت نوش فرمایا۔صحیح قول کے مطابق بوقت شھادت انکی عمر مبارک 63 سال تھی ۔ آپؓ کی مدتِ خلافت دس سال،چھ ماہ تین دن پر محیط ہےیکم محرم الحرام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کئے گئے۔

    حضرت علی رضی اللہ عنہ آپکے جنازے پر آئے اور فرمایا: دنیا میں مجھے سب سے محبوب وہ شخص تھا جو اس کپڑے میں لپٹا ہوا ہے۔

    حضرت ام ایمن رضی اللہ عنھا نے کہا: اب اسلام کمزور ہوگیا۔

    سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اب میں اسلام پرروتا ہوں۔ آپکی موت سے اسلام میں وہ دراڑ آئ جو کبھی بھری نہیں جاسکتی۔
    اللہ ہمیں آپکے نقش قدم پر چلائے۔ آمین

    آپ کی مرقد پر بے شمار رحمتیں ہوں ۔ آمین

  • اسلام اچھا ہے لیکن مسلمان اچھے نہیں ہیں — نعمان سلطان

    اسلام اچھا ہے لیکن مسلمان اچھے نہیں ہیں — نعمان سلطان

    اللہ پاک اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب بھی ذکر آیا ہے رب العالمین اور رحمت العالمین آیا ہے. یعنی رب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہانوں کے لئے ہیں.

    کسی جگہ بھی صرف مسلمانوں کا رب یا صرف مسلمانوں کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذکر نہیں آیا لیکن ہم لوگ اسلام کے خودساختہ ٹھیکیدار بن گئے.

    اگر اللہ پاک اپنی تمام تر نافرمانیوں کے باوجود لوگوں کو بشمول مسلمان رزق دے رہا ہے ان پر اپنی عنایات کی بارش کر رہا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں کسی پر تنقید کرنے والے اور اس کے ایمان کا فیصلہ کرنے والے.

    لیکن اس کے برعکس ہم نے لوگوں کے افعال کی بنیاد پر ان کے ایمان کا فیصلہ کر کے موقع پر ان کے ساتھ فوری انصاف کر کے دنیا میں اسلام کے بارے میں منفی تاثر کو اجاگر کیا.

    جب بھی کہیں بھی شدت پسندی کا ذکر آتا ہے تو توجہ بےاختیار مسلمانوں کی طرف چلی جاتی ہے اس کی وجہ دنیا بھر میں بننے والا ہمارا تنگ نظری اور شدت پسندی کا امیج ہے.

    دین اسلام میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کو وضاحت سے بیان کیا گیا.. ساتھ ہی حقوق اللہ پر یہ کہہ کر حقوق العباد کو فوقیت دی گئی کہ روزمحشر اللہ پاک حقوق اللہ کی ادائیگی میں کوتاہی کو تو اپنی رحمت سے درگزر کر دے گا.

    لیکن اگر کسی نے حقوق العباد کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی کی تو جب تک وہ شخص جس کا مذکورہ شخص نے حق غضب کیا اسے معاف نہیں کرے گا اللہ پاک بھی اس شخص کو معاف نہیں کرے گا.

    یہ بات تمام مسلمانوں کی تربیت کے لئے اللہ پاک نے تاکید سے بیان کی کیونکہ دنیا میں دین پھیلانے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے قول و فعل سے دوسرے لوگوں کو متاثر کریں.

    لوگ آپ کی شخصیت دیکھ کر سوچیں کہ اگر یہ شخص اتنا اچھا ہے تو اس شخص کا دین کتنا اچھا ہو گا اور اس تجسس کی بنیاد پر وہ شخص دین کا مطالعہ شروع کرے اور آخرکار اسلام کی حقانیت کا قائل ہو جائے.

    لیکن ہم لوگوں نے اس کے بالکل برعکس طرزِ عمل شروع کر دیا.. ہماری ابتدا فرقہ ورانہ اختلافات سے شروع ہو کر اب اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ ہم کسی دوسرے شخص کا اپنے سے معمولی اختلاف رائے بھی برداشت نہیں کر سکتے.

    وہ دین جو ہمیں عفو درگزر کی تعلیم دیتا تھا اب ہم اس کے برعکس فوری بدلہ لینے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور کچھ وقت گزرنے کے بعد اپنے طرز عمل پر پچھتاتے ہیں کہ ہم نے جذبات میں آکر غلط قدم اٹھا لیا.

    جذبات میں آکر فوری ردعمل دے کر ہم اپنا اور دوسروں کا گھر خراب کرتے ہیں.. پہلے چند مخصوص موضوعات یا افعال ایسے ہوتے تھے جن پر لوگ فوری ردعمل دیتے تھے اور عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے تھے لیکن اب تو لوگوں کو عدم برداشت اور ردعمل دینے کے لئے بہانہ درکار ہوتا ہے.

    ہم میں عدم برداشت پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے موقف کو سنتے، سمجھتے اور برداشت نہیں کرتے ہیں.ہم لوگوں کے بارے میں ایک مخصوص سوچ قائم کر لیتے ہیں اور ان کے ہر عمل کو اسی سوچ کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور اس پر ردعمل دیتے ہیں.

    ہم یہ نہیں سمجھتے کہ اگر کوئی بندہ دس باتیں غلط یا اختلافی کرتا ہے تو وہ ایک بات یا عمل ایسا کر دیتا ہے جو اس کے گزشتہ اعمال یا باتوں کا مداوا ہوتا ہے. ہم اس شخص سے اس کی دس غلط باتوں پر تنقید کے لئے نہیں ملتے بلکہ اس سے ایک صحیح بات حاصل کرنے کے لئے ملتے ہیں.

    ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ہمارے عدم برداشت کے رویے کی وجہ سے دنیا میں ہمارا منفی امیج بن گیا ہے اور ہمیں خود میں برداشت پیدا کر کے اپنا امیج منفی سے مثبت کرنا ہے.

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر بات پر ردعمل دینا ضروری نہیں ہوتا اگر آپ کو کوئی بات ناگوار یا اپنے عقائد کے خلاف محسوس ہوتی ہے تو آپ ایسی محفلوں میں جانے سے اجتناب کریں.

    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے نظریے یا عقائد کے خلاف کوئی بات نہ ہو تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے ہم خیال لوگوں کی محفل اختیار کریں اور مزے کریں.

    اگر آپ علم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے ہم خیال لوگوں کی محفل سے باہر نکلنا پڑے گا اور خود میں تنقید سننے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا پڑے گا کیونکہ علم دنیا میں موتیوں کی طرح بکھرا ہوا ہے اور اسے ہر جگہ گھوم پھر کے حاصل کرنا پڑتا ہے.

    اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہمارے نظریے کی ترویج ہو تو اس کے لئے ہمیں پہلے خود کو دنیا کے لئے قابل قبول بنانا پڑے گا اور اس کے بعد اپنے طرزِ عمل سے دوسروں کو متاثر کر کے انہیں اپنے نظریے کی طرف راغب کرنا پڑے گا اور یہ سب اس وقت ممکن ہو گا جب ہم میں برداشت پیدا ہو گی. نہیں تو لوگ یہ کہہ کر ہمارے نظریے سے دور ہوتے جائیں گے کہ اسلام تو اچھا ہے لیکن مسلمان اچھے نہیں ہیں.

  • "وقت” —- عبدالحفیظ چنیوٹی

    "وقت” —- عبدالحفیظ چنیوٹی

    گزرا ہوا کل محض آج کی یاد ہے۔ اور آنے والا کل آج کا خواب۔

    آج ہم اپنے وقت کی قدر وقیمت پر بات کریں گے،

    ہمارا اکثر وقت فضولیات کے کاموں میں گزرتا ہے، جس سے نا ہمیں، ناہم سے جڑے افراد کو اور نا ہی ملک و ملت کو کوئی فائدہ ہوتا ہے،

    اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ زندگی میں، ساعتیں، لمحے، گھڑیاں، دن، ماہ و سال اور صدیاں وقت کے تابع ہیں کہ جوں جوں وقت گزرتا ہے… تو گزرنے کے اِس عمل سے دن، ہفتے، ماہ و سال اور صدیاں جنم لیتی ہیں۔ ماہ و سال اور صدیاں تو ختم ہوجاتی ہیں، مگر وقت گزرتا ہی چلا جاتا ہے۔ کیوں کہ وقت کبھی ختم نہ ہونے والے ایسے سفر کا نام ہے کہ جس کی کوئی منزل نہیں۔

    مگر ہاں! انسان اگر چاہے تو اپنے نیک مقاصد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنی منزل کا تعین کرسکتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ انسان بے اختیار ہے، مگر اتنا بھی نہیں کہ وہ اپنے وقت کو اپنی مرضی سے مصرف میں نہ لاسکے۔ لیکن یہ اُس وقت ممکن ہوتا ہے کہ جب انسان وقت کی قدر و اہمیت سے شناسائی رکھتا ہو۔

    پروردگارِ عالم نے کئی مقامات پر مختلف اوقات کی قسم کھائی ہے۔

    سورۃ الفجر میں، وقتِ فجر اور عشرہ ذوالحجہ کی قسم کھائی ہے،

    ترجمہ: ’’ فجر کے وقت کی قسم (جس سے ظلمتِ شب چھٹ گئی) اور دس (مبارک) راتوں کی قسم۔‘‘

    پھر ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کی قسم بھی کھائی،

    ترجمہ:’’رات کی قسم جب وہ چھا جائے ( اور ہر چیز کو اپنی تاریکی میں چھپالے ) اور دن کی قسم جب وہ چمک اُٹھے۔‘‘

    اسی طرح سورۃ الضحیٰ میں تمام جہانوں کے مالک نے وقت چاشت کی قسم کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا،

    ترجمہ: ’’ قسم ہے وقتِ چاشت کی (جب آفتاب بلند ہوکر اپنا نور پھیلاتا ہے ) اور قسم ہے رات کے وقت کی جب وہ چھا جائے۔‘‘

    پھر ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ العصر میں زمانے کی قسم کھائی ہے۔

    یہاں ایک بات کی وضاحت کر دینا چاہتے ہیں کہ اکثر ہمارے احباب نادانی اور کم علمی کی وجہ سے زمانے کو بُرا کہتے ہیں، تو یہ سخت گناہ ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ زمانہ میں خود ہوں۔

    العصر میں ارشاد ہوتا ہے، ترجمہ: ’’ زمانے کی قسم، بے شک انسان خسارے میں ہے۔‘‘

    نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،

    ترجمہ : ’’صحت اور فراغت اللہ کی طرف یہ دو ایسی نعمتیں ہیں کہ جس کے بارے میں لوگ اکثر خسارے میں رہتے ہیں۔‘‘

    اللہ تعالیٰ انسان کو جسمانی صحت اور فراغتِ اوقات کی انمول نعمتوں سے نوازتا ہے، تو اکثر نادان انسان یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ یہ نعمتیں ہمیشہ ساتھ رہیں گی اور انہیں کبھی زوال نہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے یہ صرف شیطانی چال اور وسوسہ ہوتا ہے، جس کی بِنا پر انسان اِدھر اُدھر کے فضول اور بے سود کاموں میں اپنے آپ کو مصروف کر بیٹھتا ہے۔ جس کا نہ کوئی دنیا میں فائدہ اور نہ آخرت کا سامان۔

    نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ ہے،

    ” ترجمہ”

    ’’ قیامت کے دن بندہ اُس وقت تک

    (اللہ تعالی کے سامنے)

    کھڑا رہے گا کہ جب تک اس سے چار چیزوں کے متعلق پوچھ نہ لیا جائے گا۔

    زندگی کیسے گزاری۔

    جو علم حاصل کیا اس پر کتنا عمل کیا۔

    مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔

    جسم کو کس کام میں کھپائے رکھا۔‘‘

    اسی طرح کا ایک حدیث نبویؐ ہے

    جس کے راوی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں،

    ترجمہ: ’’ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو،

    بڑھاپے سے پہلے جوانی کو۔

    بیماری سے پہلے صحت کو۔

    محتاجی سے پہلے تونگری کو۔

    مصروفیت سے پہلے فراغت کو۔

    اور موت سے پہلے زندگی کو۔‘‘

    اگر ہم اپنی زندگی کے گزرنے والے دنوں کو دیکھیں تو کیا ہم خود کو مطمئن پائیں گے؟ یقینا نہیں! ہم تو اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اور لمحات، کھانے پینے، گھومنے پھرنے، سیر و سیاحت کرنے، ہوٹلنگ کا مزہ چکھنے، فضول گپ شپ کرنے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے دل دکھانے میں صرف کر دیتے ہیں۔

    اس لئے سب خصوصاً نوجوانوں کو دعوت ہے کہ اپنے وقت کو بامقصد اور اچھے کاموں، لوگوں کی مدد، خود کو وقت دینا، اور اپنے ہر گزرتے لمحے کو دین اسلام، اپنے سے جڑے افراد کی بہتری و پاکستان کی ترقی کیلئے استعمال میں لائیں۔

  • ڈیرہ ڈویژن میں عید الاضحی مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جاری ہے

    ڈیرہ ڈویژن میں عید الاضحی مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جاری ہے

    ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں عید الاضحی مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جاری ہے، مسلمان سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ کے حضور جانوروں کی قربانی پیش کر رہے ہیں
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ملک بھر کی طرح آج ڈیرہ ڈویژن میں عید الاضحی مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جاری ہے اور مسلمان سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ کے حضور جانوروں کی قربانی پیش کر رہے ہیں۔ عیدگاہوں میں عید الاضحی کی نماز ادا کرنے کے بعد سارے گلے شکوے اور شکایات بھلا کر سب ایک دوسرے کو گلے لگا کر عید ملتے رہے ہیں ،عیدنمازکے بعد حسبِ توفیق سنتِ حضرت ابراہیم کی پیروی کرتے ہوئے جانوروں کی قربانیاں کر رہے ہیں ،مساجد اورعیدگاہوں میں خطبہ کے بعد ملک اور قوم کی خوشحالی اور استحکام پاکستان کیلئے اللہ تعالیٰ سے خصوصی دعائیں مانگیں گئی۔

    کشمیراورفلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے علاوہ بھارت میں مظالم کے شکارمسلمانوں اور میانمارکے روہینگیاکیلئے بھی دعائیں کی گئیں۔


    ادھرکمشنر محمد عثمان انور نے ڈیرہ غازی خان شہر کا دورہ کرتے ہوئے عید کے ایام میں مثالی صفائی کے احکامات جاری کئے۔کمشنر نے کہا کہ فیلڈ کیمپس کو عید کے تینوں ایام میں فنکشنل رکھا جائے پلاسٹک بیگز تقسیم کرنے کے ساتھ شہریوں کو صفائی کی بھی ترغیب دی جائے۔کمشنر عثمان انور نے شہریوں سے بھی ملاقاتیں کیں اور محکموں کی طرف سے کئے گئے انتظامات سے متعلق معلومات حاصل کیں۔

    شہریوں نے عید کے حوالے سے ابتک کے کئے گئے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار ،چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈی جی خان سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی طاہر جاوید انصاری نے بتایا کہ کمپنی کی طرف سے شہر کی 17 یونین کونسلوں میں 17 فیلڈ کیمپس قائم کردئیے گئے ہیں شہریوں میں دس ہزار سے زائد پلاسٹک بیگز تقسیم کئے جائیں گے۔آلائشوں کی بروقت تلفی کیلئے تمام ممکنہ انتظامات کرلیے گئے ہیں۔ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قربانی کے بعد آلائشوں کو ٹھیک طریقے سے ٹھکانے لگائیں تاکہ علاقے میں تعفن نہ پھیلے اور یہ آلائشیں بیماریوں کی وجہ نہ بنیں۔

  • مسلم، ہندو اور عیسائیوں کامشترکہ قبرستان

    مسلم، ہندو اور عیسائیوں کامشترکہ قبرستان

    صوبہ خیبر پختونخواہ کا ضلع ڈیرہ اسماعیل خان جو ماضی میں  کئی بار  دہشتگردوں کے نشانہ پر رہا اور یہاں شدت پسندی کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں وہاں مسلم، ہندو اور عیساؤں کا مشترکہ قبرستان مذہبی ہم آہنگی کی ایک منفرد مثال ہے۔

     ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک قبرستان میں مسلمانوں کے ہمراہ  ہندوؤں عسائیوں کی تدفین بھی کی گئی ہے اور صدیوں بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

      چاہ سید منور نامی اس  قبرستان میں مسلمانوں کی قبروں پر مقدس  قرآنی آیات، عیسائیوں کی قبروں پر صلیب کا نشان جبکہ ہندوؤں کی قبروں کے رنگ گلابی اور انکے مذہبی کلمات لکھے ہوئے ہیں۔
     
    ماضی میں یہاں ایک شمشان گھاٹ تھا جہاں ہندو برادری اپنے مُردوں کی آخری رسومات ادا کرتی تھی لیکن پاکستان بننے کے بعد یہ شمشان گھاٹ پر محمکہ اوقاف کی ملکیت بن گیا۔ تاہم اب ہندو مذہب کے پیروکار اپنے مُردے جلاتے نہیں بلکہ انھیں مجبوراً چاہ سید منور قبرستان میں دفنا دیتے ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق مسلمانوں کی بڑی آبادی کے علاوہ  ہندو برادری کے سیکنڑوں جبکہ کرسچن برادری کے ہزاروں گھر ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں موجود ہیں اور  انھیں اپنی دیگر مذہبی رسومات ادا کرنے میں بھی کوئی مشکلات پیش نہیں آتیں ماسوئے مردہ کو جلانے کے۔