Baaghi TV

Category: مذہب

  • علماء کرام اپنے محراب ومنبر سے مذہبی رواداری، پیار و محبت اور قانون کی پاسداری کا درس جاری رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر

    علماء کرام اپنے محراب ومنبر سے مذہبی رواداری، پیار و محبت اور قانون کی پاسداری کا درس جاری رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر

    فیصل آباد(عثمان صادق)ضلعی مسجد کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی کمشنر علی شہزاد کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مولانا محمد یوسف انور،صاحبزادہ فیض رسول رضوی،مفتی محمد ضیاء مدنی،سیدجعفر نقوی،صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی کے علاوہ دیگر علماء کرام،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو فضل ربی چیمہ،اسسٹنٹ کمشنر سٹی صاحبزادہ محمد یوسف بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے علماء کرام کا خیر مقدم کرتے ہوئے معاشرتی امن اورمذہبی رواداری کی فضاء برقرار رکھنے کے لئے ان کی شاندارخدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے خوشی اوراطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد ضلع میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام آپس میں متحد ومتفق ہیں تاہم اس نوعیت کے اجلاس خیروبرکت اورباہمی رابطے کے استحکام کے لئے منعقد کئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ علماء کرام اپنے محراب ومنبر سے مذہبی رواداری،پیارومحبت اور قانون کی پاسداری کا درس جاری رکھیں اور خصوصی طور پر جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں کورونا ویکسین لگوانے کی ترغیب دیں تاکہ اس وباء سے محفوظ رہا جاسکے۔انہوں نے علماء کرام کی طرف سے نشاندہی کئے گئے بعض مسائل کے ترجیحی بنیادوں پر حل کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ مسجد کمیٹی کا اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیا جائے گا۔اس موقع پر علماء کرام نے امن وامان کے قیام اور رواداری کے فروغ کے لئے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔آخرمیں ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی،امن وسلامتی،اتحاد ویکجہتی اورخیروبرکت کی دعا کی گئی۔

  • قبر کی پہلی رات تحریر : ساجد علی

    قبر کی پہلی رات تحریر : ساجد علی

    حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ اے امام علی

    قبر میں انسان کی پہلی رات کیسے گزرتی ہے تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا کہ  انسان کی سب سے مشکل رات قبر کی پہلی رات ہوتی ہے ۔

    جب دوسرے انسان اس کے دوست عزیزواقارب رشتے دار اسے دفنا کے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو وہ انسان روتا رہتا ہے ہر ایک دوست کے پاس آتا ہے اور اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے کہ مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ لیکن افسوس اس کی آواز کوئی نہیں سنتا ۔

    حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگوں اپنی موت کو یاد کیا کرو ۔

    قبر ہر دن اپنے مُردوں سے اعلان کرتی ہے کہ میں غربت اور تنہائی کا گھر ہوں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں مٹی کا ڈھیر ہوں۔ 

    جب مؤمن کو دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے مرحبا کہ کر خوشخبری دیتی ہے کہ میری پشت پر چلنے والوں میں سے تو بڑا محبوب تھا آج میں تیری ہو گئی اور تو میرے پاس آ گیا آج میرا احسان دیکھ ۔

    یہ کہہ کر قبر کشادہ ہو جاتی ہے اور جنت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے جہاں سے اس کو تازی ہوا آتی ہے 

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک تھے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا آپ ایک قبر پر بیٹھ گئے اور فرمایا :

    کہ یہ قبر ہر روز با آواز بلند کہتی ہے کہ آدم کی اولاد تو کیوں مجھے بھول گیا، کیا تجھے یہ معلوم نہیں کہ میں تنہائی کا گھر غربت کا گھر وحشت کا گھر اور کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں ۔

    مگر اللہ جس کے لئے کشادگی کا حکم فرمائے گا اس کے لیے کشادہ ہو جاؤں گی ۔

    اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے قبر تو یا تو جنت کا چمن ہے یا تو پھر آگ کا ایک تندور ہے ۔

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ مردہ جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو قبر اسے کہتی ہے اے ابن آدم تو ہلاک ہو تجھے کس چیز نے مجھ سے دھوکے میں رکھا۔

     کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں تجھے کس چیز نے مجھ سے بہکا کر نڈر کر دیا اور تو میری پشت پر بہت اکڑ کر چلتا تھا ۔

    اگر وہ مردہ نیک ہوگا تو جواب دینے والے اسے جواب دیں گے ،کہ اے قبر تو دیکھ تو سہی اس کے اعمال کیسے ہیں یہ اچھائی اختیار کرتا تھا اور برائی سے دور رہتا تھا یہ سن کر قبر کہتی ہے بے شک یہ نیک تھا اب میں اس کے لئے سرسبز ہو جاتی ہوں۔

      مُردے کا جسم اس وقت منور ہو جاتا ہے اور اس کی روح اللہ تعالی کی طرف بھیج دی جاتی ہے ۔

    حضرت عبداللہ بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    کے مردہ قبر میں پیشتا ہے اور ان لوگوں کے گھروں کی آواز بھی سنتا ہے جو اس کے ساتھ جنازے میں گئے ہوں مردے سے اس کی قبر کہتی ہے کہ ابن آدم تیری ہلاکت ہو ۔

    تو نے میری تنگی بدبو اور کیڑے مکوڑوں کا خوف نہیں کیا اس لئے تو نے ان چیزوں سے بچنے کے لیے تیاری نہ کی بد اعمال مردے سے قبر کہتی ہے ،

    کہ تو نے میری تاریکی، میری وحشت، میری تنہائی اور تنگی، میرا غم تجھے یاد نہیں رہا۔

     اس کے بعد قبر اس کو جکڑ لیتی ہے  اور  فرشتے اسکو  ہتھوڑوں سے ایسے مارتے ہیں کے اس کی پسلیاں اِدھر کی اُدھر ہوجاتی ہیں   پھر دوزخ کی کھڑکی اس پر کھول دی جاتی ہے اور وہ مردہ حشر تک اس عذاب میں مبتلا رہتا ہے ۔

    مرنے کے بعد ہر مردے کو صبح اور شام  اس کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے ، فرشتے جنتی کو جنت دکھا کر خوشخبری دیتے ہیں، اور دوزخی کو دوزخ دکھا کر اس کی حسرت اڑاتے ہیں ۔

    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم سب کو مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جو  مسلمان اس دنیا سے جا چکے ہیں ان کی بخشش فرمائے آمین ۔

  • جمعتہ المبارک  کی سنتیں  تحریر: محمد آصف  شفیق

    جمعتہ المبارک  کی سنتیں  تحریر: محمد آصف  شفیق

    جمعہ کا دن دین اسلام میں ایک خاص مقام رکھتا ہے اس دن کے حوالے سے رب کریم قرآن کریم میں  فرماتے ہیں

    يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۭ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ

    اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذِکر کی طرف دوڑو اور خریدو فروخت چھوڑ دو ، یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو۔(9سورۃ الجمعہ)

    اور پھر اگلی ہی آیت میں فرمایا جا رہا ہے کہ 

    فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ

    پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو ، شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہو جائے۔(10سورۃ الجمعہ )

    اس دن میں  غسل کرنا اچھی طرح تیار ہونا خوشبو لگانا سب نبی مہربان ﷺ کی سنتیں  ہیں اس  دن کی برکت کو سمجھنے  کیلئے چند احادیث مبارکہ کا  آج مطالعہ کریں گے

    حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور جس قدر ممکن ہو، پاکی حاصل کرے، یا پھر تیل لگائے یا خوشبو ملے اور مسجد میں اس طرح جائے کہ دو آدمیوں کو جدا کرکے ان کے درمیان نہ بیٹھے اور جس قدر اس کی قسمت میں تھا، نماز پڑھے، پر جب امام خطبہ کیلئے نکلے تو خاموش رہے، تو اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔

    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 874

    حضرت ابوالیمان، شعیب، زہری، طاؤس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا کہ لوگوں کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرو، اور اپنے سروں کو دھولو، اگرچہ تمہیں نہانے کی ضرورت نہ ہو، اور خوشبو لگاؤ، تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جواب دیا کہ غسل کا حکم تو صحیح ہے، لیکن خوشبو کے متعلق مجھے معلوم نہیں۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 850 )

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے جو شخص جمعہ کی نماز کیلئے آئے تو وہ غسل کر لے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 860)

    حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ مرد پر واجب ہے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 861)

    حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جمعہ کے دن سویرے نکلتے اور جمعہ کی نماز کے بعد لیٹتے تھے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 868)

    حضرت یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب روایت کرتے ہیں، کہ ان سے سائب بن یزید نے بیان کیا کہ جمعہ کے دن دوسری اذان کا حکم حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیا، جب کہ اہل مسجد کی تعداد بہت بڑھ گئی، اور جمعہ کے دن اذان اس وقت ہوتی تھی جب کہ امام (منبر پر) بیٹھ جاتا تھا۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 879)

    نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے بروقت   مسجد پہنچنے کی فضیلت اس حدیث  مبارکہ میں  یوں بیان کی گئی ہے 

    حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور سب سے پہلے اور اس کے بعد آنے والوں کے نام لکھتے ہیں اور سویرے جانے والا اس شخص کی طرح ہے جو اونٹ کی قربانی کرے پھر اس شخص کی طرح جو گائے کی قربانی کرے اس کے بعد دنبہ پھر مرغی، پھر انڈا صدقہ کرنے والے کی طرح ہے جب امام خطبہ کے لئے جاتا ہے تو وہ اپنے دفتر لپیٹ لیتے ہیں اور خطبہ کی طرف کان لگاتے ہیں۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 893)

    جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی ہے  جس میں اللہ  رب العالمین سے  جو بھی  دعا کی جائے وہ قبول ہوتی ہے  جسے اس حدیث مبارکہ میں یوں   بیان کیا گیا ہے

    حضرت  ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس دن میں ایک ساعت ایسی ہے کہ کوئی مسلمان بندہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے اور اس ساعت میں جو چیز بھی اللہ سے مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عطا کرتا ہے، اور اپنے ہاتھوں سے اس ساعت کی کمی کی طرف اشارہ کیا۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 899 )

    آپ ﷺ  جمعہ کے دن نماز فجر میں  سورۃ السجدہ اور سورۃ  دہر  کی  تلاوت فرماتے

    ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت الم تَنْزِيلُ (السَّجْدَةُ) اور هَلْ أَتَی عَلَی الْإِنْسَانِ ( سورت دہر) پڑھتے تھے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1025)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے، مگر یہ کہ اس کے ایک دن پہلے یا اس کے بعد ملا کر روزہ رکھے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1910)

    ہمیں کوشش کرنی چاہئے  کہ ہم جمعہ کے دن جلد مسجد پہنچیں  تاکہ ہمارا نام بھی  اول  وقت میں آنے والوں میں لکھا جائے

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے ہر دروازہ پر (متعین ہو کر) سب سے پہلے پھر اس کے بعد (پھر اس کے بعد اسی طرح) آنے والے کو لکھتے رہتے ہیں جب امام (خطبہ کے لئے) منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے صحیفوں کو لپیٹ لیتے ہیں اور خطبہ سننے کے لئے آجاتے ہیں۔(صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 471)

    اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں  جمعہ کی فضیلت کو سمجھنے والا اور  اس دن کے اجر وثواب کو حاصل کرنے والا بنا دے  آمین یا رب العالمین

  • اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ تحریر: علی حمزہٰ 

    اللّٰه تعالیٰ نے اس دنیا میں کم و پیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ ان میں سے کسی نا کسی پر کتاب یا صحیفے نازل فرمائے اور اپنے دین کے کام کے لیے کسی نا کسی جگہ پر اُتارا اور وہ آکر لوگوں کو اللّٰهِ تعالیٰ کی وحدانیت کا درس دیتے۔ اللّٰه تعالیٰ نے اپنے دین کی ترویج و تقسیم کا کام حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کیا جو کہ ہم سب کے باپ ہیں۔ اور یہ سلسلہ ہمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم فرما دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبيين ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ اسی طرح کلمہ طیبہ بھی اسی بات کی گواہی ہے اللّٰه تعالیٰ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔

    لَا إِلٰهَ إِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَسُولُ الله

    ترجمہ:   

    اللّٰه کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

     اسی طرح تمام انبیاء کی سابقہ شریعتوں و طریقوں پر عمل کرنے کا انکار ہے (اس لئے کہ تمام شریعتیں شریعت محمدی  صلی اللہ علیہ وسلم میں سموگئی ہیں) اور صرف اسوئہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر چلنے کا اقرار ہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ کو آخری نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ سلسلہٴ نبوت و رسالت کو آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم پر ختم کر دیا گیا۔ اب آپ کے بعد کوئی رسول یا نبی نہیں آئیگا۔ قرآن کی طرح آپ کی رسالت و نبوت بھی آفاقی و عالمگیر ہے جس طرح تعلیمات قرآنی پر عمل پیرا ہونا فرض ہے اسی طرح تعلیمات نبوی صلی اللّٰه علیہ وسلم پر عمل کرنا فرض ہے۔ آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم کی دعوت تمام جن و انس کیلئے عام ہے دنیا کی ساری قومیں اور نسلیں آپ کی مدعو ہیں تمام انبیاء کرام میں رسالت کی بین الاقوامی خصوصیت اور نبوت کی ہمیشگی کا امتیاز صرف آنحضرت صلی اللّٰه علیہ وسلم کو حاصل ہے۔ آنحضرت صلی اللّٰه علیہ وسلم گروہ انبیاء کرام کے آخری فرد ہیں اور سلسلہٴ نبوت و رسالت کی آخری کڑی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلاصہ انسانیت ہیں۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کی گواہی قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔

    چنانچہ اس آیت میں اس کی پوری وضاحت اور ہرطرح کی صراحت موجود ہے "مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِن رَّسُولَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلَیْمًا”

     نہیں ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن اللّٰه کے رسول اور تمام انبیاء کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں اور اللّٰه ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

    اس آیت میں اللّٰه تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی کہہ کر نبوت کا سلسلہ ہی ختم کر دیا ہے۔ اس کے بعد اب کوئی گنجائش ہی نہیں بچتی کوئی قیامت تک نبی آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بہت سے لوگوں نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا لیکن سب جہنم واصل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانے بنا کوئی دائرہ اسلام میں داخل ہی نہیں ہو سکتا۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نا مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا۔

    اَنَا خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِيَ بَعْدِيْ.

    ”میں خاتم النبیّین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔”

    پس سلسلہ نبوت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہو چکا ہے اس لیے جو شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کو نبی مانے یا جائز جانے یا نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔

    امام ابوحنیفہ رح کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کے علامات پیش کروں اس پر امام اعظم نے فرمایا کہ جو شخص اس سے نبوت کی کوئی علامت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہوجائے گا کیونکہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم فرماچکے ہیں کہ "لاَنَبِیَّ بَعْدِیْ”  غرض یہ کہ شروع سے اب تک تمام اسلامی عدالتوں اور درباروں کا یہی فیصلہ رہا ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرنے والے اور اسے ماننے والے کافر مرتد اور واجب القتل ہیں۔

    اللّٰه تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ اللّٰه تعالیٰ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سچی اور پکی محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    Twitter Handle: @AliHamz21

  • کشف الاسرار تحریر کاشف علی

    1400 سو سال پہلے آج ہی کے دن یعنی 12 ربیع الاول کو12 ربیع الاول سن 11 ھجری سوموار کا دن اور زوال سے پہلے کا وقت ہے۔ سورج کی زرد کرنیں زمین سے ٹکرا رہی ہیں ۔نبی کریم رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کیساتھ ٹیک لگائے ہوئے ہیں۔ پانی کا پیالہ پاس رکھا ہوا ہے۔ اس میں ہاتھ ڈالتے اور چہرہ انور پر پھرا لیتے ہیں۔ روئے اقدس کبھی سرخ اور کبھی زرد پڑ جاتا ہے۔ زبان مبارک آہستہ آہستہ حرکت میں ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور موت تکلیف کیساتھ ہے۔ یہ الفاظ ورد زبان ہیں۔حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنھما ایک تازہ مسواک لیے سامنے آتے ہیں۔آپ کی نظر مسواک پر جم جاتی ہے۔ ادھر اماں عائشہؓ سمجھ جاتی ہیں کہ آپﷺ مسواک فرمانا چاہتے ہیں۔ ام المؤمنین نے مسواک اپنے دانتوں میں نرم کرکے پیش کی اور آپﷺ نے بالکل تندرستوں کی طرح مسواک استعمال کی اور ہھاتھ اونچا فرمایا گویا کہ کہیں تشریف لے جا رہے ہیں اور زبان اقدس سے فرمایا۔ بل الرفیق الاعلی۔اب کوئی اور نہیں صرف اسی کی رفاقت منظور ہے۔ بل الرفیق الاعلی ، بل الرفیق الاعلی۔ تیسری آواز پر ہاتھ نیچے کو لٹک آئے ،آنکھ کی پتلی اوپر کو اٹھ گئیاور روح مبارک عالم قدس کو ہمیشہ کیلئے رخصت ہو گئی۔اللھم صل علی محمد و علٰی آل محمد و بارک وسلم۔ عمر مبارک قمری حساب سے63 سال4 دن ہے ۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اس غم ہائے بیکراں اور حادثہ دلفگار (دل کو چیر دینے والا حادثہ) کی خبر فوراً مدینہ میں پھیل گئی تب عمرؓ کھڑے ہوے تلوار نکالی اور کہا جس نے کہا رسول اللہؐ فوت ہوگئے ہیں میں اس کی گردن اڑا دوں گا یہ عالم جذبات تھا عمرؓ شدت جذبات سے تقریر کر رہے تبھی ابوبکرؓ آئے نبیؐ کا دیدار کیا چہرہ اقدس سے کپڑا اٹھا کر پیشانی مبارک پر بوسہ دیا پھر چادر واپس ڈال دی اور روتے ہوئے فرمایا، حضورﷺ پر میرے ماں باپ قربان آپﷺ کی زندگی بھی پاک تھی اور آپﷺ کی موت بھی پاک ہے، واللہ اب آپﷺ پردوموتیں وارد نہیں ہوں گی، اللہ نے جو موت لکھ رکھی تھی۔ آج آپﷺ نے اسکا ذائقہ چکھ لیا ہے اور اب اسکے بعد ابد تک موت آپﷺ کا دامن نہیں چھو سکے گی۔. اور باہر تشریف کائے اور عمرؓ جوش میں تقریر کر رہے تھے کہ خبردار نبیؐ فوت نہیں ہوے بلکہ حضرت موسیٰؑ کی طرح 40 دن کے لیے گئے ہیں وغیرہ اس دوران ابو بکرؓ نے عمرؓ سے فرمایا عمر رکو میری بات سنو مگر عمرؓ جوش سے تقریر کر رہے تھے تب ابوبکر ؓ نے لوگوں اپنی طرف بلایا لوگ عمرؓ کو چھوڑ کر ابوبکرؓ کی طرف آئے حمد و ثناء کے بعد فرمایا جو جو محمدؐ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے( ان محمد قد مات )تحقیق بے شک محمدؐ وفات پاچکے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ اللہ حی القیوم ہے اور یہ آیات پڑھیں
    وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ‌ؕ اَفَا۟ٮِٕنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ‌ؕ وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡـــًٔا‌ ؕ وَسَيَجۡزِى اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ
    ترجمہ:

    اور محمد (خدا نہیں ہیں) صرف رسول ہیں ‘ ان سے پہلے اور رسول گزر چکے ہیں اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے تو جو اپنی ایڑیوں پر پھرجائے گا سو وہ اللہ کا کچھ نقصان نہی کرے گا اور عنقریب اللہ کا شکر کرنے والوں کو جزا دے گا

    یہ آیت سن کر صحابہ کو لگا کہ جیسے یہ آیت آج ہی اتری ہے تب یہی12 ربیع الاول کا دن تھا عمرؓ فرماتے ہیں کہ ابوبکرؓ سے یہ آیت سن کر میرے پاؤں ٹوٹ گئے اور کھڑے رہنے کی قوت باقی نہیں رہی تھی، میں زمین پر گر پڑا اور مجھ کو یقین ہوگیا کہ واقعی محمدؐ رحلت فرما گئے ہیں۔صحابہ کلیجہ تھام تھام کر رو رہے کچھ سمجھ نہیں جو بیٹھے تھے شدت غم سے کھڑا نا ہوا جارہاتھاکئی صحابہ حیران وسرگردان ہو کر آبادیوں سے نکل گئے۔ کوئی جنگل کی طرف بھاگ گیا۔ جو بیٹھا تھا بیٹھا رہ گیا، جو کھڑا تھا اس کو بیٹھ جانے کا یارانہ ہوا۔ مسجد نبوی قیامت سے پہلے قیامت کا نمونہ پیش کر رہی تھی . مدینہ فضا سوگوار تھی صحابہ زارو زار آنسو بہا رہے دنیا سے بہت بڑی رحمت رخصت ہو چکی تھی انکے محبوبؐ ان سے جدا ہو چکے شدت غم سے کلیجے پھٹے جارہے تھے یقینًا 12 ربیع الاول کا دن تھا آنکھوں سے آنسووں کی لڑیاں ذباں سے درود سلام یقینًا یہ صدمہ اولاد اور مال و جان سے بڑھ کر تھا کیوں کہ وہ حقیقی طور نبیؐ سے اپنی مال و جان اولاد سے بڑھ کر محبت رکھتے تھے بھلا کسی کا ایسا رحیم نبی اور ایساکریم سردار ہوسکتا ہے
    فضاء اداس اور ملول ہے دنیا کی تاریخ کا سب بہترین اور رحمت بھرا دور اختتام پذیر ہو رہا تھا آج کا سورج افسردہ تھا 12 ربیع الاول مدینے کی یہ شام غمگین اور افسردہ تھی آنسووں سے فضاء نمناک تھی اگرچہ انسانوں اور فرشتوں کے جھنڈ کے جھنڈ آرہے تھے مگر اتنے رش کے باوجود مدینہ ویران ویران لگ رہاتھا جس کے سبب اس عالم پر اک خصوصی رحمت تھی آہ! کہ آج اسی وجود سرمدی سے ہماری دنیا خالی ہے۔
    اس سوگوار اور نمناک فضاء میں اک دلدوز غم سے بھری آنسووں سے لبریز صدا بلند ہوتی تھی ۔آہ! وہ کون ہے جو جبرائیل امیں کو اس حادثۂ غم کی اطلاع کر دے۔الٰہی! فاطمہؓ کی روح کو محمدؐ کی روح کے پاس پہنچا دے۔ الٰہی! مجھے دیدار رسول کی مسرت عطا فرما دے۔
    حضرت فاطمہؓ کی آنکھ سے آنسو نا رکتے تھے آج فاطمہؓ کے بابا ان سے بچھڑ گئے تھے کیا فاطمہؓ کے بابا جیسا کوئی بابا ہوسکتا ہے وہ جو پتھر کھا کر دعا کرے وہ جو دو جہانوں کے لیے رحمت تھا آج کا12 ربیع الاول کا دن تھا فاطمہؓ کا پیارا بابا ان سے جدا ہوگیا تھا
    حضرت عائشہؓ اور تمام ازواج مطہرات شدت غم سے نڈھال ہیں بھلا ایسا محبوب وعظیم شوہر دنیا میں جس کی مثال نہیں آج عائشہؓ کے سر کے تاج رخصت ہوچکے ہیں سرکار دو عالمؐ رحمةللعالمین رخصت ہوے
    بلالؓ ہائے بلالؓ پر غم کے پہاڑ ٹوٹ گئے ان کے آقاؓ ان سے بچھڑ گئے ہیں بلالؓ شدت غم سے نڈھال ہیں صدمہ اسقدر زیادہ ہے کہ بلالؓ نے اس کے بعد ازان نہیں کہی اور گلیوں میں لوگوں سے کہتے تھے لوگو تم نے رسول اللہؐ کو دیکھا ہے تو مجھے بھی دکھا دو حتیٰ کہ مدینہ چھوڑ دیاکافی عرصہ بعد واپس آئے تو سیدنا حسنین کریمین سے سفارش کروائی گئی جب آپ نے آزان دی جب آپ رضی اللہ عنہ نے (بآوازِ بلند) اﷲ اکبر اﷲ اکبر کہا، مدینہ منورہ گونج اٹھا (آپ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے جذبات میں اضافہ ہوتا چلا گیا)، جب أشهد أن لا إلٰه إلا اﷲ کے کلمات ادا کئے گونج میں مزید اضافہ ہو گیا، جب أشهد أنّ محمداً رسول اﷲ کے کے کلمات پر پہنچے تو تمام لوگ حتی کہ پردہ نشین خواتین بھی گھروں سے باہر نکل آئیں (رقت و گریہ زاری کا عجیب منظر تھا) لوگوں نے کہا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد مدینہ منورہ میں اس دن سے زیادہ رونے والے مرد و زن نہیں دیکھے گئے۔

    علامہ اقبال رحمۃ اﷲ علیہ اذانِ بلال رضی اللہ عنہ کو ترانۂ عشق قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

    اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
    نماز اُس کے نظارے کا اک بہانہ بنی
    12 ربیع الاول کے دن اس ذمین کا سب بہترین وقت اختتام پذیر کیونکہ نبیؐ نے فرمایا
    سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب میں بہترین زمانہ میرا ہے۔ پھر جو ان سے نزدیک ہیں، پھر جو ان سے نزدیک ہیں پھر جو ان سے نزدیک ہیں۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ٹھیک سے نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زمانہ کے بعد دو کا ذکر فرمایا یا تین کا ذکر فرمایا۔ پھر ان کے بعد وہ لوگ پیدا ہوں گے جو گواہی کے مطالبہ کے بغیر گواہی دیں گے، خائن ہوں گے اور امانتداری نہ کریں گے، نذر مانیں گے لیکن پوری نہ کریں گے اور ان میں موٹاپا پھیل جائے گا۔

  • رحمت للعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم  تحریر: خوشنود

    رحمت للعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم  تحریر: خوشنود

           جب سے یہ کائنات ظہور میں آئی ہے اللّٰہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی، اپنے بندوں کی اصلاح اور انہیں سیدھی راہ پر چلانے کے لئے مختلف ادوار میں کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کو بھیجا۔ نبوت کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر آکے ختم ہوا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللّٰہ عزوجل کے تمام انبیاء مرسلین رحمت تھے مگر رحمت للعالمین نہیں تھے۔ اُنکی نبوت اپنی قوم، اپنے دور اور اپنے زمانے تک محدود تھی جبکہ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت و شفقت ہر عہد، ہر زمانے، ہر قوم اور تمام جہانوں کے لئے ہے۔ سرکارِ دو عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو اللّٰہ تعالیٰ نے رحمت للعالمین بنا کر بھیجا۔ جہاں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنا تعارف رب العالمین کروایا ہے وہاں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمت للعالمین کے لقب سے نوازا۔یہ لقب اور شرف ایسا ہے جو کسی اور کے لئے استعمال نہیں کیا گیا۔

    قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: 

    وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین

    "اور (اے پیغمبر) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔”

    اس آیتِ کریمہ پر توجہ کی جائے تو معلوم ہوتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صرف عرب کے لئے رحمت بنا کر نہیں بھیجا گیا تھا۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم صرف اُمتِ مسلمہ کے لئے رحمت نہیں، تمام نبیوں، رسولوں اور فرشتوں کے لئے بھی رحمت ہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تمام چرند پرند، حیوانات و نباتات کے لئے بھی سراپا رحمت بن کر آئے۔ غرض عالم میں جتنی چیزیں ہیں سید المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سب کے لئے رحمت ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ جو تمام عالموں کا مالک و مختار ہے اُس نے اِن عالموں کے لئے رحمت کا اہتمام اپنے آخری نبی محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت میں کر دیا۔ 

    چھٹی صدی عیسوی کا زمانہ جو بعثت نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل کا زمانہ ہے اُس زمانے میں نہ صرف سر زمین عرب بلکہ پوری دنیا جہالت و گمراہی کا شکار تھی۔ پورا معاشرہ پستیوں کی گہری دلدل میں ڈوبا ہوا تھا۔ ذات پات کا ایسا خوفناک نظام رائج تھا کہ انسانیت پناہ مانگتی تھی۔

    حیوان تو حیوان آپس میں انسانوں کے ساتھ بھی جانوروں سے بدتر سلوک کیا جاتا تھا۔ انسان انسان کا دشمن اور بھائی بھائی کے لہو کا پیاسا تھا۔ یتیموں کا مال ہڑپ کر لیا جاتا تھا اور بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ کفر و شرک، ظلم و بربریت، قتل و غارت، چوری، ڈاکہ زنی، شراب نوشی نیز ہر قسم کا گناہ عام تھا۔ ان سب حالات اور گھٹا ٹوپ اندھیرے کو دور کرنے کے لئے عرب کی سر زمین سے وہ آفتابِ ہدایت طلوع ہو جسکی چکا چوند کر دینے والی روشنی نے جہالت کی تمام تاریکیوں کو ختم کر دیا۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی۔ جس معاشرے میں غلام اور عورت کی کوئی عزت نہیں تھی آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس معاشرے میں غلاموں کو بھی عزت دلوائی عورت کو بحیثیت ماں، بہن، بیٹی، بیوی ہر روپ میں بلند مقام بخشا۔ اللّٰہ تعالیٰ کے تمام احکامات کی صرف تبلیغ نہیں کی بلکہ اپنی زندگی میں عملی طور پہ کر کے بھی دکھایا۔ وہ معاشرہ جو اپنے افعال و اعمال اور اخلاق و کردار کے لحاظ سے حیوانوں سے بھی بدتر تھا آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہو کر فرشتوں سے بھی افضل گردانا گیا۔ الغرض تاریخِ انسانی میں حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ایک ایسا اعلیٰ و ارفع مقام رکھتی ہے جسکی کوئی مثال نہیں۔ 

    وہ دانائے سبل ختمُ الرسل مولائے کُل جس نے 

    غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادی سینا 

    نگاہِ عشق ومستی میں وہی اول، وہی آخر

    وہی قرآں،وہی فرقان، وہی یٰسین، وہی طہٰ

    آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم محسنِ انسانیت ہیں، انسان کامل ہیں اور ہر لحاظ سے قابلِ تقلید ہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی قیامت تک کے انسانوں کے لئے بہترین نمونہ ہے۔ بطور مسلمان ہمیں ہر وقت اللّٰہ کریم کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے کہ اُس نے ہمیں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا اُمتی بنایا۔ جو شخص دنیا میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے گا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و پیروی کرے گا اُسے دونوں جہانوں میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت سے حصہ ملے گا۔ ہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم سیرتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا مطالعہ کریں اور اپنی زندگی کے ہر پہلو میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو اپنے لئے مشعلِ راہ بنائیں تا کہ ہماری دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں۔

    @_Khushnood_

  • رسول ﷺ سے محبت تحریر : محمد عدنان شاہد

    اگر حب رسول ﷺ کی بات کی جائے تو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔ رسول اکرم کی محبت دین اسلام کی اصل بنیاد میں ہے۔ ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ اللہ کو معبود ماننے کے بعد نبی کو اس کا رسول بھی مانتا ہے درحقیقت نبی اکرم اس سے آپ سے محبت شرط جس نے میری محبت کا دعوی کیا اسے چاہئے کہ وہ آپ ﷺ کی پیروی کرے” اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی اکرم نے ارشادفر مایا، ” تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والدین ، اس کی اولا داور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں”( صحیح بخاری)

    حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کے دل میں آپ ﷺ کے لئے محبت تمام قریبی رشتوں سے زیادہ ہو۔ اس سے مراد وہ جذباتی محبت نہیں جو انسان کو اپنی بیوی یا اولاد سے ہوتی ہے کیونکہ جذبات اللہ تعالی کے بناۓ ہوۓ ہیں ، اس سے ہٹ کر یہاں اختیاری محبت ہے۔ یہ سب سے زیادہ نبی اکرم ﷺ سے ہونی چاہئے ۔ اس محبت کا معیار قرآن وحدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر آدمی کے سامنے کوئی ایسا موڑ آ جائے جہاں اس کو یہ فیصلہ کرنا ہو کہ بیوی بچوں کی محبت میں میں کام کر دوں یا نبی ﷺ کا حکم مانوں کیونکہ آپ ﷺ نے اس کو کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ اگر انسان اس جگہ اس چیز کو اختیار کر لے جو نبی ﷺ سے محبت رکھتا ہے۔اور جس کے آپ کی محبت نہیں وہ عذاب الہی کو دعوت دیتا ہے۔ ” نبی کا تعلق مومنوں کے ساتھ اس ۔ ہے جتنا ان لوگوں کا اپنے آپ سے ہے”. (الاحزاب)

    حب رسول کا اصل تقاضا ہے "اتباع رسول . ” اللہ پاک قرآن پاک میں ارشادفرماتے ہیں: "اے نبی!(اہل ایمان سے کہہ دیجئے کہ اگرتم اللہ سے محبت رکھتے ہوتو میرا اتباع کرو(می عمران آیت 31)

    اتباع کا مفہوم ہے ” محبت کے جذبے سے سرشار ہوکر پیروی کرنا” اتباع کا تقاضا یہ ہے کہ نہ صرف حضرت محمد ﷺ کے قول پرعمل کیا جائے بلکہ ان کے فعل کی بھی پیروی کی جاۓ۔ حب رسول ﷺ کا اصل تقاضا ہی یہ ہے کہ ہماری زندگیاں احکام نبی ﷺ کے تابع ہو جائیں۔ہماری زندگی نبی اکرم ﷺ کے اسوہ حسنہ کے سانچے میں ڈھل جاۓ ۔ ہماری زندگیاں اس راستے کی طرف چل
    پڑیں جس کے لئے نبی اکرم ﷺ مبعوث ہوۓ۔ جس کے لئے صحابہ کرام نے مصائب و مظالم برداشت
    کئے ۔اسے ملک نصر اللہ عزیز مرحوم نے ایک بڑے سادے انداز میں بیان کیا ہے
    مری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
    (الحشر )

    میں اس لیے مسلماں میں اسی لیے نمازی اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کا تقاضا امر بمعروف و نہی عن المنکر ہے۔
    اللّه پاک ہم سب کو سچا عاشق رسول ﷺ بننے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے بتاے ہوے اصولوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
    اے ہمارے رب! ہم کو اپنے رسول ﷺ کی محبت نصیب فرما جو آپ کو پسند ہو۔(آمین

    @RealPahore

  • یوم ولادت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشیاں اور مرجھائے چہرے تحریر:ناصر بٹ

    یوم ولادت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشیاں اور مرجھائے چہرے تحریر:ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    تاریخ میں پہلی دفعہ حکومتی سطح پر بارہ ربی الاول کو مذہبی جوش و جذبے اور انتہائی عقیدت کے ساتھ منایا جارہا ہے، ملک بھر کی صوبائی حکومتیں یکطرف لیکن دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ جہاں وزیراعظم عمران خان براہ راست مانیٹرنگ کی کرسی پر براجمان ہیں شہر اقتدار کو کل شام سے ہی دلہن کی مانند سجانے کی تیاری کا آغاز کر دیا گیا دو محافل سماع کا بھی اہتمام کروایا گیا جبکہ گھروں کو سجانے کے حوالے سے مقابلوں کا بھی اعلان بھی کیا گیا جس میں سب سے خوبصورت گھر سجانے والے کو عمرے کے ٹکٹ سے نوازا جائے گا، ملک بھر میں گلیوں، بازاروں اور سڑکوں پر بارہ ربیع الاول کے جلوس اور گھروں و مساجد میں خصوصی محافل کا اہتمام جاری ہے لیکن ایک طرف نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت کی خوشی میں ہر چہرہ جیسے دھمک اٹھا ہو لیکن دوسری جانب سے پرمسرت موقع پر کچھ چہرے سکوں کی تلاش میں پنجاب بورڈز کی ویب سائٹس کو کھنگالتے نظر آتے ہیں کہ کہیں کسی لنک پر پنجاب ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا کوئی حکم کوئی پروانہ یا کوئی ہدایات نامہ ہی مل جائے اور واضع گائیڈ لائنز کے بعد سپیشل یا امپروومنٹ امتحانات کی تیاری کا آغاز کیا جاسکے لیکن مجال ہے کہ حکومتی سطح پر قوم کے مستقبل یعنی سٹوڈنٹس کے دلوں میں بڑھتی بے چینی کا غم محسوس کیا جاسکے اور دو لب ہلا کر کچھ فرما ہی دیا جائے، رزلٹ کے بعد پیدا ہونے والی اس گھمبیر صورتحال میں حکومت کی طرف سے سٹوڈنٹس کے مسائل سننے اور معاملات سلجھانے کے لیے بنائے گئے صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں صاحب بیرون ملک ہیں خیر سچ تو یہ ہے کہ جب وہ ملک میں بھی تھے تو ان سے رابطہ کرنا ایسا ہی تھا جیسا جبرائیل سے رابطہ کرنا یعنی ناممکن ہی سمجھیں، اب صورتحال کچھ یوں بن چکی ہے حکومت کے دو الفاظ کے منتظر ان لاکھوں بچوں کو گھروں میں بنے مزیدار پکوان بھی بے ذائقہ لگ رہے اور پرنور محافل میں بھی ان کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہی سمجھیں، بطور صحافی میرا ایمان ہے کہ لوگوں کو جاننے کا حق بروقت میسر آنا چاہیے کیونکہ معلومات کی رسائی کا عمل کسی صورت نہیں رکنا چاہیے جوں ہی یہ عمل مستند حلقوں کی جانب سے رکا فیک نیوز کی ابھرتی مارکیٹ میں بیٹھے جعلی دکاندار اپنی من گھڑت خبروں کی دکان فی الفور سجا لیتے ہیں جس سے بھولے بھالے سوشل میڈیا صارفین خود تو نشانہ تو بنتے ہی ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ دوستوں کے ساتھ بھی شئیرنگ کا عمل شروع کر دیتے ہیں جس کے بعد سوشل میڈیا پر جانے انجانے میں تمام صارفین بھی اس فیک نیوز منڈی کے دکانداروں میں شامل ہوکر گمراہ کن جھوٹ کی فروخت میں ملوث ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے اب تک 3 جانیں تو چلی گئی چوتھی ایک اور طالبہ نے کل گوجرانوالہ میں اپنی جان لینے کی کوشش کی، کاش کہ حکومت ان تین کو بھی سمجھا پاتی کاش کہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ان کے خدشات کو دور کر پاتا، کاش کے وزارت تعلیم ان کے سوالات کے جواب دے پاتی تو آج وہ ہم میں ہوتے، آج وہ بھی شائد امپروومنٹ یا سپیشل امتحانات کی تیاری میں مشغول ہوتے لیکن حکومتی خاموشی نے تین جانیں خاموش کر دیں، اس مبارک دن میں جہاں ایک طرف نبی آخر زمان صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت و محبت کا اظہار جلوسوں اور محافل کی صورت میں کیا جارہا وہاں ہم نے ان کی تعلیمات کو بھی اپنی زندگی کا شعار بنانا ہے تاکہ فیک نیوز پھیلانے اور معصوم زندگیوں سے کھیلنے کا مکروہ دھندہ بند ہوسکے اور حکومتی وزرا و افسران اپنے آپ کو شہریوں کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہوئے ان کے تمام مسائل کو بروقت نہ صرف سنیں بلکہ ان کے حل کے لیے تدارک بھی کریں کیونکہ کوئی انگریز دانشور کہہ گیا کہ "انصاف میں تاخیر ناانصافی ہی کی ایک شکل کے مانند ہے”

  • قرآن مجید اور ہم لوگ تحریر:بابر شہزاد

    ‏دنیا کی کوئی ایسی ایک کتاب بتا دیں سوائے قرآن مجید کے کہ جس کے پڑھنے والے کو اس کی زبان نہ آتی ہو لیکن پھر بھی وہ اسے پڑھتا جائے؟ 

    جواب ملے گا ایک بھی ایسی کتاب نہیں ہے اور اگر کوئی ہے بھی تو اس کتاب کا قاری ایک دو صفحے پڑھنے کے بعد چھوڑ دے گا کہ اسے سمجھ نہیں آ رہی ہو گی.

    ‏یا اگر کتاب کی عبارت مشکل ہو تو بھی پڑھنے والا بوریت محسوس کر کے یا سمجھ نہ آنے کی وجہ سے پڑھنا چھوڑ دے گا لیکن ہمیں نیکیوں کے چکر میں ڈال کر ایسے گمراہ کیا گیا کہ ہم بغیر سمجھ کے قرآن کو پڑھتے ہی جا رہے ہیں۔

    بھائی قرآن کو نیکیاں کمانے کے لیے تھوڑا ہی اتارا گیا ہے!!!

    ‏نیکیاں کمانے کے لیے تو اللہ پاک نے اور بہت سی عبادات رکھی ہیں جیسے کہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، درود شریف پڑھنا، دوسروں سے اچھا سلوک، صلہ رحمی، ماں باپ سے پیار، بڑوں کا احترام، چھوٹوں سے شفقت حتیٰ کہ رستے سے پتھر ہٹا دینا بھی عبادت ہے تو  قرآن کو بغیر سمجھ کے پڑھنے سے زیادہ نیکیاں ‏مل جانی ہیں کیا؟؟؟

    قرآن کو ہدایت کے لیے اتارا گیا ہے اور ہدایت صرف اسی صورت ملے گی جب اسکو سمجھ کر پڑھا جائے گا۔ یقین کریں اس کتاب نور کو ثواب کے لیے بالکل بھی نہیں نازل فرمایا گیا بلکہ ہدایت اور راہنمائی کے لیے اتارا گیا کہ ہم اس سے سبق سیکھ سکیں لیکن ہم نے اس کتاب کو ‏خالصتاً ثواب حاصل کرنے لیے وقف کر دیا ہے جو کہ اس کے کے نزول کے مقصد کو فوت کر رہا ہے۔

    بیشک کتاب ہدایت کو پڑھنے سے ثواب ملتا ہے لیکن اس کا مقصد ثواب کمانا بلکل بھی نہیں تھا۔

    اور ستم ظریفی اور بدقسمتی کچھ یوں ہے کہ ہمارے علما نے آج تک اس نازک پہلو کے اوپر کبھی روشنی ہی نہیں ‏ڈالی کہ عام لوگوں کو اس کتاب کا حقیقی مقصد سمجھایا جا سکے۔

    بدقسمتی سے حکومتی سطح پر بھی اس مسئلے کا کوئی تدارک نہیں کیا گیا کہ چاہیے تو یوں تھا کہ جیسے اردو اور انگریزی زبان ہمارے نصاب کا حصہ ہیں بلکل اسی طرح عربی زبان بھی ہمارے درسی نصاب میں شامل ہونی چاہیے کہ ہر ایک طالب علم ‏عربی بولنا نہ سہی کم سے کم لکھی ہوئی عربی کو پڑھ کر سمجھ سکے۔

    میری حکومت وقت سے اپیل ہے اس مسئلے کی جانب غور کیا جائے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اس کتاب نور سے نیکیوں کے ساتھ ساتھ ہدایت بھی حاصل کریں۔

    شکریہ اور اگر کوئی لفظ تحریر میں کڑوا لگے تو میں معافی کا طلبگار ہوں 🙏

    Twitter handle: @babarshahzad32 

  • رحمۃ اللعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تحریر:رضوان۔

    رحمۃ اللعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تحریر:رضوان۔

    المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے اس فرمان میں ہے،قرآن آپ کا اخلاق ہے۔یعنی قرآن اور آپؐ کی زندگی ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ جس طرح قرآن پاک اپنی تعلیم میں اور پیغام کے لحاظ سے درخشاں ہے، اسی طرح آپؐ کا عمل بھی اور درخشاں ہے۔ اگر ہم قرآن پاک کو عملی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو حضور اکرمؐ کو دیکھ لیں”۔ جو بات اس میں مذکور ہے۔ ”آپؐ کی زندگی کا معمول تھی۔ جس معاشرے میں آپؐ نے زندگی بسر کی اور جن لوگوں کو آپؐ نے اسلام کی دعوت دی خود ان میں آپؐ صادق اور امین کے لقب سے مشہور تھے۔ قرآن کریم کی آیات مبارکہ 

     الفاتحہ-1: 1-3۔

     جس نے زمین کو تمہارا پلنگ بنایا اور آسمانوں کو تمہاری چھتری۔  اور آسمان سے بارش برسائی  اور اس سے تمہارے رزق کے لیے پھل لائے  پھر جب تم (حقیقت) جانتے ہو تو اللہ کے لیے اپنا حریف نہ بناؤ۔

     البقرہ – 2:22۔

     کیا تم نہیں جانتے کہ یہ اللہ ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔  اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست یا مددگار نہیں ہے؟

     البقرہ – 2: 107۔

     آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا!  جب وہ کسی چیز کا فیصلہ کرتا ہے تو اس سے صرف کہتا ہے: ہو جا!  اور یہ ہے.

     البقرہ – 2: 117۔

     اور تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے۔  کوئی معبود نہیں مگر وہ بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

     البقرہ – 2: 163۔

     اللہ!  اس کے سوا کوئی معبود نہیں – زندہ ، خود قائم رہنے والا ، ابدی۔  کوئی نیند اسے نہیں پکڑ سکتی اور نہ ہی سو سکتی ہے۔  آسمانوں اور زمین کی تمام چیزیں اسی کی ہیں۔  کون ہے جو اس کی موجودگی میں سفارش کر سکے سوائے اس کے کہ وہ اجازت دے۔  وہ جانتا ہے کہ (اپنی مخلوق کے سامنے) ان کے پہلے یا بعد میں یا ان کے پیچھے۔  اور نہ ہی وہ اس کے علم کا کچھ احاطہ کریں گے سوائے اس کے کہ وہ چاہے۔  اس کا عرش آسمانوں اور زمین پر پھیلا ہوا ہے ، اور وہ ان کی حفاظت اور حفاظت میں کوئی تھکاوٹ محسوس نہیں کرتا۔  کیونکہ وہ سب سے اعلیٰ ، عظمت والا ہے۔

     البقرہ – 2: 255۔

     کیا آپ نے اپنے خیال کو اس شخص کی طرف نہیں موڑا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا کیونکہ اللہ نے اسے اختیار دیا تھا؟  ابراہیم نے کہا: میرا رب وہ ہے جو زندگی اور موت دیتا ہے۔  اس نے کہا: میں زندگی اور موت دیتا ہوں۔  ابراہیم نے کہا: "لیکن اللہ ہی ہے جو سورج کو مشرق سے طلوع کرتا ہے ، تو کیا تم اسے مغرب سے طلوع کرواتے ہو؟”  اس طرح وہ الجھا ہوا تھا جس نے (تکبر میں) ایمان کو رد کیا۔  اور اللہ کسی ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔

     البقرہ – 2: 258۔

     کہو: "اے اللہ! طاقت کے مالک (اور حکمرانی) ، جسے تو چاہتا ہے طاقت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے ، جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے پست کرتا ہے  سب کچھ اچھا ، بے شک ، ہر چیز پر تجھے طاقت ہے۔

     "تم رات کو دن کو حاصل کرتے ہو ، اور دن کو رات کو حاصل کرتے ہو ، تم زندہ کو مردہ سے نکالتے ہو ، اور تم مردہ کو زندہ سے نکالتے ہو ، اور جس کو چاہو رزق دیتے ہو۔  پیمائش. ”

     آل عمران-3: 26-27۔

     جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے۔  وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے۔  اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

     آل عمران-3: 129۔

     اگر اللہ آپ کی مدد کرتا ہے تو کوئی بھی آپ پر غالب نہیں آ سکتا: اگر وہ آپ کو چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو آپ کی مدد کر سکے؟  اللہ پر تو ایمان والوں کو بھروسہ رکھنا چاہیے۔

     آل عمران-3: 160

     آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ کی ہے۔  اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

     آل عمران-3: 189

     اے بنی نوع انسان!  اپنے سرپرست رب کی تعظیم کریں جس نے آپ کو ایک ہی شخص سے پیدا کیا ، فطرت کی طرح پیدا کیا ، اس کا ساتھی اور ان میں سے بیشمار مرد اور عورتیں بکھرے ہوئے (بیجوں کی طرح)؛  اللہ سے ڈرو ، جس سے تم اپنے باہمی حقوق مانگتے ہو اور (رحم کرو) رحموں سے (جو تمہیں جنم دیتا ہے) کیونکہ اللہ تم پر نگاہ رکھتا ہے۔

     النساء – 4: 1۔

     اللہ ان لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے جو برائی کرتے ہیں ، نادانی میں اور جلد ہی توبہ کرتے ہیں۔  ان پر ، اللہ رحم کرے گا  کیونکہ اللہ علم اور حکمت سے بھرا ہوا ہے۔

     النساء – 4:17۔

     اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے۔  اللہ دوست کے طور پر کافی ہے اور اللہ مددگار کے طور پر کافی ہے۔

     النساء – 4:45۔

     کیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے؟  وہ جس کو چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

    Twitter

    @RizwanANA97