Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ڈر —- بلال شوکت آزاد

    ڈر —- بلال شوکت آزاد

    دنیا میں سب سے بڑا منافع بخش کاروبار ڈر کا ہے اور دنیا کی ہر پراڈکٹ خواہ اس کا تعلق انسانی زندگی کی ضروریات سے ہو یا نفسیات سے, ان کے فیچرز اینڈ بینفٹس میں ڈر ایک ایسا جزو ہے جو مشترک عنصر ہے۔

    مذاق نہیں آپ اسلحے سے لیکر ادویات تک کا موازنہ کریں, لباس سے لیکر خوراک تک کا موازنہ کرلیں, سیاست سے لیکر نظریات تک کا موازنہ کرلیں اور مذاہب سے لیکر عقائد تک کا موازنہ کرلیں۔ ۔ ۔ آپ کو ان سب کے موازنے میں جو چیز سب سے زیادہ ملے گی وہ ڈر ہوگی۔

    مطلب دنیا کو پہلے ڈرایا جاتا ہے, بار بار بتا کر ڈر کا ماحول اور نفسیات تیار کی جاتی ہے اور پھر اپنی پراڈکٹ تھما دی جاتی ہے کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں آپ یہ لیں اور ڈر کو بھول جائیں۔

    آپ جانتے ہیں ڈر سے سب سے زیادہ فائدہ دنیا بھر کے کون سے عناصر اٹھارہے ہیں؟

    ہر ملک کی افواج اور ایجنسیاں, سیاسی پارٹیز, بیوروکریسی, عدلیہ اور ماس میڈیا۔ ۔ ۔ ان کے بعد سرمایہ دار ذاتی حیثیت میں فائدہ اٹھا رہے ہیں کیونکہ اجتماعی حیثیت میں وہ پہلے مذکورہ کیٹیگریز میں فال کرچکے ہیں اور پھر ان کے بعد باقی ساری دنیا کے وہ افراد اور ادارے ہیں جن کی طاقت نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔

    انسان کو ڈر نے ایک نادیدہ دائرے میں مقید کردیا ہے اور جب آپ دائروں میں مقید ہوجاتے ہیں تب آپ کی دیکھنے, سوچنے, سمجھنے اور مشاہدہ کرنے کی طاقت سلب ہوجاتی ہے۔ ۔ ۔ آپ پھر وہی دیکھتے, سوچتے, سمجھتے اور مشاہدہ کرتے ہیں جو آپ کو ڈرانے والے آپ کے دائرے میں بٹھا کر دکھاتے اور سمجھاتے ہیں۔

    اس سے زیادہ کھل کر بھی میں بیان کرسکتا ہوں اور مثال بھی دے سکتا ہوں لیکن وہ پھر بہت سے نامی گرامی ہستیوں کو گراں گزرنے کا اندیشہ ہے لہذا میرے لیے اب یہی سدرہ المنتہی ہے کہ اس سے آگے میرے پر جلنے کا شدید اندیشہ ہے لہذا تھوڑے لکھے کو ہی بہت جانو۔

  • علماء کرام پر اعتراض، حقیقت کیا؟؟؟  — نعمان سلطان

    علماء کرام پر اعتراض، حقیقت کیا؟؟؟ — نعمان سلطان

    اعتراض :–کیا علماء کرام قدامت پرست ہیں. اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں.

    جواب :–اس اعتراض کے دو حصے ہیں.

    پہلا حصہ ہم علماء کرام کو قدامت پرست کیوں کہتے ہیں.

    دین اسلام آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت ہم تک پہنچا. کیوں کہ یہ دین اللہ پاک کا آخری اور مکمل دین ہے. اس لئے ہم نے دنیا میں زندگی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزارنی ہے.

    اس لئے ہمیں جب بھی کسی شرعی حکم کے بارے میں جاننا ہوتا ہے تو ہم قرآن، حدیث اور اجماع امت کو دیکھتے ہیں. اگر وہاں سے راہنمائی ملے تو ٹھیک ہے ورنہ پھر علماء امت قیاس کرتے ہیں اور اس کے مطابق وقت کے علماء متفقہ طور پر شرعی مسئلے کا حل بتاتے ہیں.

    یہ یاد رکھیں کہ دین کے اصول اور حکم اٹل ہیں ہم ان میں کمی بیشی نہیں کر سکتے ہیں. اور جب ہم اپنے شرعی معاملات کے حل کی راہنمائی کے لئے چودہ سو سال پیچھے دیکھتے ہیں تو یہ قدامت پرستی نہیں بلکہ اسلام کی حقانیت اور جامعیت کا ثبوت ہے.

    اعتراض کا دوسرا اور اہم حصہ کہ علماء جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں؟؟؟؟

    جدید دور کے تقاضوں سے ہم عموماً مراد کپڑوں میں شلوار قمیض کے بجائے پینٹ شرٹ، زبان میں اردو اور عربی کے بجائے انگریزی، مدرسے سے فارغ التحصیل ہونے کے بجائے کسی یونیورسٹی کی ڈگری، اس کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیاں جیسے ہوٹلنگ، کوئی گیم(کھیل ) یا کوئی سیمینار وغیرہ اور اس کے علاوہ روشن خیالی (اس کی تعریف لوگوں کی نظر میں مختلف ہے اور لوگوں کا سب سے زیادہ زور بھی اسی پر ہوتا ہے ) شامل ہیں.

    ابھی ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنا پڑے گا کہ مدارس میں اکثریت غریب گھرانوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں. اور روشن خیالی کے علاوہ جتنی بھی چیزیں اوپر گنوائی گئی وہ غریب گھرانوں کے بچے دوران تعلیم اور کسی مسجد یا مدرسے میں نوکری ملنے کے بعد بھی افورڈ ہی نہیں کر سکتے. تو وہ انہیں اختیار کیسے کریں گے.

    اب جہاں تک بات روشن خیالی کی ہے. اگر وہ ممنوعات دین کے بارے میں ہے. تو جو دین کے اصول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے طے ہو گئے ان میں ہم تبدیلی نہیں کر سکتے.

    لیکن بعض مقامات پر جہاں شریعت میں گنجائش یا ابہام ہے وہاں پر بعض علماء ضد میں آ کر انہیں بھی ممنوع کے درجے میں لے جاتے ہیں..اور اسی وجہ سے لوگ علماء سے متنفر ہوتے ہیں.

    ان مسائل کا حل:

    ابھی ضرورت اس امر کی ہے کہ جیسے سکولوں میں اسلامیات اور قرآن کی تعلیم لازمی ہے ایسے ہی مدرسوں میں بھی انگریزی سمیت جدید علوم کی تعلیم لازمی قرار دی جائے.ہمیں چاہیے ہم علماء کو صرف شادی بیاہ، جنازوں اور نمازیں پڑھانے تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں اپنی سوشل تقریبات کا لازمی جز بنائیں تاکہ وہ بھی ہمارے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں اور علماء اور نوجوان نسل کے درمیان فاصلے کم ہو سکیں.

    پہلے وقتوں میں امیرالمومنین مرکزی مسجد میں خود نمازیں پڑھاتے تھے خطبے دیتے اور اہم اعلانات (جیسے اعلان جنگ وغیرہ) کرتے تھے. وہ اپنے وقت کے دین کے عالم بھی ہوتے تھے اور وہ اپنے طرز عمل سے ثابت کرتے تھے کہ علماء کرام کا کام صرف امامت کرنا نہیں بلکہ امت کی اصلاح اور قیادت کرنا ہے.

    اس کے علاوہ مفتی حضرات کے لئے ماہرین کی مدد سے دو سال کا فزکس، بائیو اور کیمسٹری کا سپیشل کورس مرتب کیا جائے. جس میں ارتقاء، بگ بینگ اور ان سے متعلقہ نظریات اور جدید تحقیق کے بارے میں آسان اور عام فہم زبان میں انہیں بتایا جائے.

    اور انہیں پابند کیا جائے جب تک آپ یہ کورس نہیں کرتے آپ صرف عالم دین ہوں گے. دینی معاملات میں فتویٰ نہیں دے سکیں گے. اور حکومت وقت کی طرف سے مساجد کے لئے چار یا پانچ درجے بنائے جائیں.

    مسجد کے خادم، خطیب، قاری اور مفتی صاحب کو اچھے گریڈ میں اچھی سے اچھی تنخواہ دی جائے تا کہ وہ فکر معاش سے بے فکر ہو کر دین کی خدمت کر سکیں.

    مساجد اور مدارس جب تک زکوٰۃ خیرات کے پیسے پر چلتے رہیں گے وہاں سے فرقہ واریت ختم نہیں ہو گی.. حکومت کو تمام دینی مدارس اور مساجد کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہیے. اور مدارس میں علماء کے ساتھ ساتھ متعلقہ مضامین کے ماہر اساتذہ کو بھی طلباء کی تعلیم و تربیت کے لئے مستقل بنیادوں پر بھرتی کرنا چاہیے.ان تمام اور ان جیسے دیگر اقدامات سے جو مدارس سے علماء کی کھیپ تیار ہو گی وہ لازمی پراعتماد اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو گی.

  • نفرتوں کوگڈبائےکہیں — اسامہ منور

    نفرتوں کوگڈبائےکہیں — اسامہ منور

    یہ بات صد فیصد درست ہے کہ اس نیلے آسمان تلے آپ سب کو خوش نہیں رکھ سکتے. اور نا ہی سب کی توقعات پر پورا اتر سکتے ہیں لیکن سب کو مطمئن تو کیا جا سکتا ہے.

    اپنے اچھے اخلاق، عمدہ زبان اور میٹھے بول سے. ہر شخص غصے سے بھرا ہے. ہر ایک جانی انجانی. آفات میں گھرا ہوا ہے. ہر کوئی اپنے اندر ایک لاحاصل جنگ لڑ رہا ہے.

    تو ایسی صورتحال میں ضرورت ہے. زخموں پر مرہم رکھنے کی نا کہ نمک چھڑکنے کی. دنیا پیار محبت کی بھوکی ہے. ہر ایک عزت پانا چاہتا ہے… ہر ایک کی خواہش ہے کہ اس کا احترام کیا جائے.

    تو اگر ہمارے میٹھا بولنے سے. یا گالی سن کر مسکرانے سے. یا لڑائی میں حق پر ہوتے ہوئے بھی پیچھے ہٹ جانے سے. یا کھیل میں جیت کر ہارنے والے کو گلے لگانے سے یا ناراض رشتہ دار کو منانے سے. بہت بڑے فساد سے بچا جا سکتا ہے.

    یا اگر آپ کی ہار سے کوئی جیت جاتا ہے . تو ایسا کر لینے میں کوئی حرج نہیں. یقین کیجئے ایسا کرنے کے بعد بھی آپ مرد ہی رہیں گے. آپ کی مردانگی میں کوئی فرق نہیں آئے گا.

    ہاں اپنے اس فعل سے آپ اپنے مقابل کا دل ضرور جیت لیں گے. اپنے اندر صبر و تحمل اور برداشت کو جگہ دیجئیے. یہ تینوں مل کر آپ کے اخلاق کو سنواریں گی اور اچھے اخلاق سے آپ دنیا کی کوئی بھی جنگ بغیر لڑائی کیے جیت سکتے ہیں.

    جھگڑے کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوتے اور نا ہی ضد کبھی جیتتی ہے. پھل پانا چاہتے ہیں تو ہلکا سا جھک جائیں. اور فراخدلی کے ساتھ . دلوں کو جیتنا سیکھیں.. آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے.

    لوگ نجانے نفرتوں کے لیے کہاں سے وقت نکال لیتے ہیں جب کہ محبتوں اور چاہتوں کے لیے تو یہ زندگی بہت چھوٹی ہے.

  • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تاریخی خوبصورت شہر چنیوٹ کا مختصر تعارف — عبدالحفیظ چنیوٹی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تاریخی خوبصورت شہر چنیوٹ کا مختصر تعارف — عبدالحفیظ چنیوٹی

    جغرافیہ:

    چنیوٹ سرگودھا اور فیصل آباد کے درمیان میں واقع ہے۔ لاہور جھنگ روڈ بھی چنیوٹ میں سے گزرتی ہے۔ یہ لاہور سے 158 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ شہر کا کل رقبہ 10 مربع کلومیٹر ہے اور یہ سطح سمندر سے 179 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ چنیوٹ کا ہمسایہ شہر چناب نگر ہے جو دریائے چناب کے دوسری جانب واقع ہے۔ چنیوٹ شہر میں مساجد کی تعداد بہت زیادہ ہے، ہر دوسری سے تیسری گلی میں مساجد ہیں، یہاں حفاظ قرآن کریم کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

    چنیوٹ کے مشہور مقامات:

    یوں تو چنیوٹ میں کئی مذہبی، ثقافتی، اورتاریخی مقامات ہیں لیکن بادشاہی مسجد چنیوٹ، عمر حیات کا محل، دریائے چناب کا پل ہے۔

    بادشاہی مسجد چنیوٹ:

    بادشاہی مسجد چنیوٹ جو بادشاہی مسجد لاہور کی طرز پر بنائی گئی ہے چنیوٹ کی خوبصورت اور قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے. اسے پانچویں مغل بادشاه شاہ جہاں کے وزیر سعدالله خان نے سترہویں صدی عیسوی میں تعمیر کروایا مسجد مکمل طورپر پتھر کی بنی ہوئی ہے۔ اس کے تمام دروازے لکڑی کے بنے ہوئے ہیں اور آج تک اس کے دروازے بغیر ٹوٹ پھوٹ کے اپنی جگہ قائم ہیں۔ بادشاہی مسجد لاہور کا فرش سفید سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے۔ مسجد کے صحن کا فرش سنگ مرمر سے بنا تھا۔ اسے 2013ء میں سنگ مرمر سے اینٹوں کے فرش میں تبدیل کر دیا گیا۔ تاہم مسجد کا اندرونی فرش ابھی تک سنگ مرمر کاہی ہے۔ مسجد کے سامنے موجود شاہی باغ مسجد کے حسن میں اضافہ کر دیتا ہے۔

    عمر حیات محل:

    آپ کبھی جب شہر چنیوٹ آئیں تو کسی سے وہاں کے ’’تاج محل‘‘ کے بارے میں ضرور پوچھنا، یہ عمارت اپنے طرزِ تعمیر میں منفرد
    اور آرائش کے اعتبار سے نہایت خوب صورت تھی۔ کلکتہ کے ایک کام یاب تاجر شیخ عمر حیات نے ہجرت کے بعد اسے اپنے بیٹے کے لیے تعمیر کروایا تھا۔ اس کا نام گلزار حیات تھا۔ اسی لئے یہ عمارت گلزار منزل بھی کہلاتی ہے۔ کہتے ہیں 1935 میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی۔ چودہ مرلے پر محیط یہ محل تہ خانوں سمیت پانچ منزلوں پر مشتمل تھا۔

    محل کی انفرادیت اور خاص بات اس میں لکڑی کا کام تھا۔ یہ سارا کام اس زمانے کے مشہور کاری گر استاد الٰہی بخش پرجھا اور رحیم بخش پرجھا نے انجام دیا تھا۔ لکڑی اور کندہ کاری کے کام کے حوالے سے ان کا چرچا انگلستان تک ہوتا تھا۔

    مرکزی گلی سے محل کے احاطے میں داخل ہوں گے تو آپ کی نظر سامنے کی انتہائی خوب صورت دیواروں پر پڑے گی۔ داخلی دروازے کے ساتھ نصب دو میں سے ایک تختی پر استاد الٰہی بخش پرجھا سمیت ساتھی مستریوں اور کاری گروں کے نام درج ہیں جب کہ دوسری تختی پر ان حضرات کے نام کندہ ہیں جنہوں نے مرمت کے ذریعے اسے تباہی سے بچایا۔ خم دار لکڑی سے بنے دروازوں، کھڑکیوں اور جھروکوں کی دل کشی منفرد ہے۔

    دوسری طرف بالکونی، چھتیوں، ٹیرس اور سیڑھیوں پر لکڑی کے کام نے اسے وہ خوب صورتی بخشی ہے جو شاید ہی کسی اور فنِ تعمیر کو نصیب ہوئی ہو۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ شیخ عمر حیات محل کی 1937 میں تعمیر مکمل ہونے سے دو سال قبل ہی انتقال کر گئے تھے، لیکن تعمیر مکمل ہونے کے بعد تو گویا یہ محل مقبرہ ہی بن گیا۔

    شیخ عمر حیات تو دنیا میں نہیں رہے تھے، مگر ان کا خاندان یہاں آبسا تھا۔ گل زار کی والدہ فاطمہ بی بی نے اپنے بیٹے کی شادی بڑی شان و شوکت کے ساتھ کی، مگر شادی کی اگلی ہی صبح بیٹا دنیا سے کوچ کر گیا۔ یہ ایک پُراسرار واقعہ تھا۔ ماں نے اپنے بیٹے کو محل کے صحن میں دفن کروایا اور خود بھی دنیا سے رخصت ہو گئی۔

    وصیت کے مطابق انھیں بھی بیٹے کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ یوں یہ محل اپنے ہی مکینوں کا مقبرہ بن گیا۔ اس کے بعد ان کے ورثا نے محل کو منحوس تصور کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا لیکن گل زار اپنی ماں کے ساتھ آج بھی اسی محل میں آسودۂ خاک ہے۔
    عمر حیات کے ورثا کے محل چھوڑنے کے بعد اگلے چند سال تک اس خاندان کے نوکر یہاں کے مکین رہے۔ بعد ازاں اس عمارت کو یتیم خانے میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہاں کے ایک ہال کو لائبریری میں بھی تبدیل کیا گیا مگر مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے عمارت زبوں حالی کا شکار ہوگئی۔

    چنیوٹ کا پل:

    چنیوٹ کا پل (یا چناب نگر کا پل) کنکریٹ (concrete) سے بنا ایک پل ہے۔ جو چنیوٹ میں دریائے چناب پر واقع ہے۔ یہ 520 میٹر لمبا ہے جبکہ 17۔8 میٹر چوڑا ہے۔ یہ ختم نبوت چوک سے 4.6 کلو میٹر اور چنیوٹ ریلوے سٹیشن سے 3.3 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    چنیوٹ کا مندر:

    چنیوٹ کے محلہ لاہوری گیٹ میں واقع گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول محکمہ اوقاف کی ملکیت ایک پرانے مندر میں قائم ہے۔یہ مندر قیام پاکستان سے قبل 1930ء کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا جسے کرتاری لال یا کلاں مندر کہا جاتا ہے جبکہ یہاں سے گزرنے والی سڑک کو بھی مندر روڈ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مندر کی عمارت تین منزلوں پر مشتمل ہے جس میں سب سے نیچے والی منزل میں سکول جبکہ بیرونی طرف 11 دکانیں اور ایک گودام موجود ہے جبکہ دوسری منزل کو خستہ حالی کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔

    اس عمارت کی چھت پر خستہ حال مندر کے کلس اور چوبرجیوں کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ 1947ء میں جب ہندوستان اور پاکستان کے نام سے دو نئے ملک وجود میں آئے تو یہ مندر تعمیر کے آخری مراحل میں تھا تاہم ہندو آبادی کی بڑی تعداد ہجرت کر کے بھارت چلی گئی جس پر اسے محکمہ اوقاف کی تحویل میں دے دیا گیا۔قیام پاکستان کے بعد کبھی کبھار چنیوٹ کے قدیم ہندو باشندے اس کی زیارت کرنے کے لیے یہاں آ جاتے تھے لیکن دسمبر 1992ء میں جب بھارت میں بابری مسجد کو شہید کیا گیا تو اس کے بعد ہندو زائرین کی آمد کا سلسلہ بند ہوگیا۔

    اس موقع پر یہاں بھی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے مندر کو مسمار کرنے کی کوشش کی جو انتظامیہ کی مداخلت کے باعث کامیاب نہ ہو سکی۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے اس عمارت میں سکول اور پھر خواتین کو ہنرمند بنانے والا ادارہ کام کرتا رہا جبکہ 1997ء میں میونسپل کارپوریشن نے اس جگہ باقاعدہ طور پر پرائمری سکول قائم کر دیا۔

  • کورونا سے پہلے — اسامہ منور

    کورونا سے پہلے — اسامہ منور

    ہم سب اپنی روز مزہ کی مصروفیات میں اس قدر گم تھے کہ ہم اپنے گھر والوں کو، دوست احباب کو، رشتہ داروں کو حتیٰ کہ اپنے آپ کو بھی وقت نہیں دے پا رہے تھے. ہم نے اپنی زندگی کو اتنا شدید مصروف کر لیا تھا کہ زندگی خود ہم پر ہنستی تھی اور قہقہے لگا کر ہمارا مذاق اڑاتی تھی. ہمیں کسی چیز کا ہوش ہی نہیں تھا. ہم اتنے مادہ پرست ہو چکے تھے کہ ہم نے ہر وہ چیز، ہر وہ رشتہ، ہر وہ احساس اور ہر وہ بندھن جو ہمیں تقویت دیتا، ہمیں سکون فراہم کرتا اور ہمیں روحانی طور پر مضبوط بناتا، بھلا دیا.ہم صبح سے شام تک بس اسی تگ و دو میں لگے رہتے کہ کسی طرح ہم اتنی دولت اکٹھی کر لیں جو ہمیں دوسروں کے معاملے میں ممتاز بنا دے اور معاشرے میں ہمارا رتبہ دوسروں سے بلند ہو جائے پھر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہمارا کردار کیسا ہے اور ہم اخلاقی طور پر کیسے ہیں.

    ہم نے اپنا نام بنانے کے لیے ہر وہ کام کرنے کی کوشش کی جو ہمیں نہیں کرنا چاہیے تھا. ہم نے ہر وہ راہ اپنائی جس سے ہمیں احتراز برتنا چاہیے تھا. ہم نے ایسا کوئی بھی فعل نہیں چھوڑا جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہو اور ہم نے ہر وہ حد پار کی جس سے ہمیں روکا گیا تھا. ہم نے ہمیشہ اپنے آپ کو دیکھا، ہمیشہ دوسروں پر خود کو فوقیت دی. ہم نے اپنی جھوٹی، ادا اور کھوکھلی میں سے ہمیشہ دوسروں کو تکلیف پہنچائی. زندگی گزر رہی تھی. اس نے گزر ہی جانا تھا.

    ہمارے چاہنے یا نہ چاہنے سے کیا فرق پڑنا تھا لیکن ہم نے اس بات کی بھی پروا نہیں کی کہ ہم اس فانی دنیا میں ہمیشہ نہیں رہ سکتے تھے. ہمیں اس چیز کو سمجھنا تھا، ہمیں اپنے آپ کو سمجھانا تھا، ہمیں دل اور دماغ کے مابین چھڑی ان دیکھی جنگ کو افہام و تفہیم سے ختم کرنا تھا. ہمیں دوسروں کے کام آنا تھا کہ زندگی کا بنیادی مقصد ہی یہی تھا. ہمیں مشکل میں اوروں کی مدد کرنی تھی کہ جینے کا حسن اسی میں تھا. ہمیں دوسروں کو خود پر فوقیت دینی تھی کہ اسی کا نام زندگی تھا.

    ہمیں حلال کھانا تھا اور اپنی نسلوں کو پاکیزہ بنانا تھا، ہمیں حرام سے بچنا تھا اور اپنی نسلوں کو پاگل ہونے سے بچانا تھا، ہمیں دوسروں کے کام آنا تھا، ہمیں ہمیشہ نیکی کی تلقین کرنی تھی اور برائی سے روکنا تھا کہ یہی ہمارا شیوہ تھا. ہمیں علم حاصل کرنے کے بعد اسے جتانا نہیں تھا، لوگوں کو بتانا نہیں تھا، علم پر اترانا نہیں تھا بلکہ کچھ کر کے دکھانا تھا اور علم کی عملی تصویر بن کر اندھیری دنیا میں روشنی کی شمعیں روشن کرنی تھی.

    ہمیں پیشوا بننا تھا، ہمیں رہبر و راہنما بننا تھا. ہمیں مفلسوں اور ناداروں کا ہمنوا بننا تھا ہمیں اشرف المخلوق ہونے کا حق ادا کرنا تھا ہائے ہائے مگر افسوس……. ہم کن کاموں میں پڑ گئے، ہم کن چکروں میں چکرا گئے، ہم کس جالے میں پھس گئے، ہم کس سحر میں جکڑے گئے. ہم سب کچھ ہی بھول چکے تھے، اخلاقیات بھی تباہ، معاملات بھی تباہ، عبادات بھی تباہ، رسومات بھی تباہ، زیارات بھی تباہ، احکامات بھی تباہ، سب کچھ ہی تو ہم نے تباہ کر دیا وہ بھی اس فانی دنیا کے لئے. اور پھر کورونا آیا… اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ، ہم نے پھر بھی تمسخر اڑایا، اپنے آپ کو سدھارنے کی کوشش تک نہیں کی، اپنے گریبان میں نہیں جھانکا، پھر بھی قصور وار دوسروں کو ہی ٹھہرایا.

    ہماری دھرتی پر اس کا راج ہونے لگا مگر ہمیں پھر بھی سمجھ نہیں آیا. پھر کورونا کی ہولناکیاں آہستہ آہستہ ہمارے گھروں تک پہنچ گئیں ہم پھر بھی نہیں سدھرے. کورونا کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ ہم اس کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ اس ان دیکھے جییو نے سب کچھ بدل ڈالا. ہمارے معاملات ہماری عبادات ہمارا رہن سہن ہمارے طور طریقے اور کسی حد تک ہماری جھوٹی نکمی دو ٹکے کی انا کو بھی.

    ہم پھر سے اپنوں کو وقت دینے لگے، ہم پھر سے اپنے آپ کو وقت دینے لگے، ہم پھر سے اندر ہی اندر ہی ڈرنے بھی لگے اور اپنی گزشتہ زندگی میں کئے گئے بلنڈروں کو یاد کر کے پیدا کرنے والے سے معافی بھی طلب کرنے لگے. ہمارے میناروں سے راتوں کو اذانیں بھی بلند ہونے لگیں اور مندروں، گرجاگھروں سے حق حق کی صدائیں بھی بلند ہونے لگیں.

    قصہ مختصر ہم لوگ کسی حد تک سدھرنے لگے. یہ وبا زیادہ دیر نہیں چلے گی کیونکہ اس سے بیشتر بھی بیسیوں وبائیں آ کر جا چکی ہیں مگر ہمیں اس وبا سے حاصل کرنا ان تمام اسباق کو تامرگ دم یاد رکھنا ہے جنھوں نے ہم میں سے کسی ایک کی زندگی کو بھی بدل ڈالا ہے.

    ہمیں کورونا کے بعد کورونا سے پہلی والی زندگی کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دینا ہے اور جیون کی ابتدا ماں کے پیٹ سے کرنی ہے کہ ہم انسان ہیں، اور انسان انسانیت میں ہی اچھے لگتے ہیں.

  • حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ اور ریاست مدینہ — حافظ شاہد محمود

    حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ اور ریاست مدینہ — حافظ شاہد محمود

    رسول اللہ ﷺ کےصحابی خلیفۂ دوم امیرالمؤمنین فاروقِ اعظم حضرت عمربن الخطاب کاتعلق قبیلۂ قریش کے خاندان بنوعدی سے تھا جوکہ مکہ کے محلہ شُبیکہ میں آباد تھا۔

    بچپن میں تعلیم حاصل کی جس کی بنا پر شجاعت وبہادری کے ساتھ ساتھ معاملہ فہمی نیز فنِ تقریر وخطابت کوٹ کوٹ کر بھری تھی…اسی لیے قریشِ مکہ نے اپنا سفیر اور امور خارجہ کا مستقل نگران مقرر کیا تھا.

    جب آپ جوان ہووے تو قبیلۂ قریش کے دیگر افراد کی مانند تجارت کو اپنا مشغلہ بنایا فنونِ سپہ گری ، شمشیرزنی ، نیزہ بازی ، تیراندازی ، گھڑسواری ، پہلوانی اورکشتی کے فن میں کمال مہارت حاصل تھی ۔مکہ کے قریب ہرسال عُکاظ کا تاریخی میلے میں قوت بازو کاخوب مظاہرہ کیاکرتے تھے۔

    حضرت عمربن خطاب نے ابتدائی دورمیں دینِ اسلام قبول کیا اور عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں.

    آپ رسول اللہ ﷺ کے سسربھی تھے،ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہاآپ ہی کی صاحبزادی تھیں.

    قبول اسلام پر بہت سی باتیں مشہور ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں جو چیز سب سے زیادہ قبولیت اسلام کا سبب بنی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نام لے کر خصوصی دعا ہی تھی.

    (اَللّھُمَّ أَعِزَّ الاِسلَامَ بِعُمَر بن الخَطَّاب أو بِعَمرو بن ھِشَام) یعنی’’اے اللہ!تودینِ اسلام کوقوت عطاء فرما عمربن خطاب ٗیاعمروبن ہشام کے ذریعے)
    تاریخ گواہ ہے کہ اُس ابتدائی دور میں مکہ میں مٹھی بھر مسلمانوں کو مشرکین مکہ کے ہاتھوں جن پریشانیوں کا سامنا تھا جناب عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کی وجہ کافی حد کم ہوئیں تھی اور مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی تھی جس سے نہتے مسلمانوں نہال نظر آرہے تھے کیونکہ وہ بیت اللہ میں سرعام عبادت بھی کرنے لگے تھے.

    مکہ میں اسی طرح وقت گذرتا رہ حتیٰ کہ جب ہجرت کا حکم نازل ہوا توکیفیت یہ تھی کہ تمام مسلمانوں نے خفیہ طور پر مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کی،جبکہ حضرت عمر نے جب ہجرت کا ارادہ فرمایا تو واحد شخص تھے جنہوں نے علی الاعلان بیت اللہ کا طواف کیا اور کہا جنہوں نے بچے یتم ، بیویوں کو بیوہ اور والدین کو رولانا ہے تو میرا راستہ روکے کیونکہ میں مدینہ جارہا ہوں سبحان اللہ.

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محبت رکھتے تھے آپ نے ہر موقع پر جناب عمر بن خطاب کو یاد رکھتے کتب احادیث اس بات کی بخوبی گواہ ہیں چنانچہ چند احادیث مناقب حضرت عمر کو دیکھتے ہیں تاکہ ایمان تازہ ہوجائے.

    ٭…اِنَّ اللّہَ تَعَالَیٰ جَعَلَ الحَقَّ عَلَیٰ لِسَانِ عُمَرَ وَقَلبِہٖ
    ترجمہ:(بے شک اللہ تعالیٰ نے ’’حق ‘‘ کوعمرکی زبان پراوران کے دل میں رکھ دیاہے)

    ٭…لَو کَانَ نَبِيٌّ بَعدِي لَکَانَ عُمَرَ بن الخَطّاب
    ترجمہ:(میرے بعداگرکوئی نبی ہوتا تویقیناوہ عمربن خطاب ہی ہوتے)

    ٭…لَقَد کَانَ فِیمَا قَبلَکُم مِنَ الأُمَمِ ٌ مُحَدَّثُونَ مِن غَیرِ أن یَکُونُوا أنبِیَائَ فَاِن یَکُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَاِنَّہٗ عُمَرُ
    ترجمہ:(تم سے پہلی امتوں میں کچھ ایسے لوگ ہواکرتے تھے جواگرچہ نبی تونہیں تھے البتہ ان کے قلب میں [من جانب اللہ] القاء کیاجاتاتھا ، میری امت میں بھی اگرکوئی ایساانسان ہو تو یقینا وہ عمر ہی ہوسکتے ہیں )

    ٭…یَا ابنَ الخَطّابِ! وَالَّذِي نَفسِي بِیَدِہٖ مَا لَقِیَکَ الشَّیطَانُ سَالِکاً فَجّاً اِلَّاسَلَکَ فَجّاً غَیرَکَ
    ترجمہ:(اے ابنِ خطاب! قسم اس اللہ کی جس کے قبضے میں میری جان ہے،جب کبھی شیطان تمہیں کسی راستے پرچلتاہوا دیکھتا ہے تووہ فوراً [وہ راستہ چھوڑکر]دوسرے راستے پرچلنے لگتاہے)

    رسول اللہ ﷺ کے نزدیک اپنے جلیل القدرصحابی حضرت عمربن الخطاب کیلئے جومقام ومرتبہ تھا اس کا اندازہ مذکورہ بالا احادیث سے بخوبی کیاجاسکتا ہے۔

    حضرت عمربن خطاب ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت اورصحبت ومعیت جو مقام حاصل ہوا وہ اپنی مثال آپ تھا.

    آپ ﷺ کے بعدخلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق کے دورِخلافت میں حضرت عمربن خطاب کو انتہائی قریبی اورقابلِ اعتمادساتھی اورخصوصی مشیرکی حیثیت حاصل رہی،حضرت ابوبکرصدیق کوحضرت عمربن خطاب کے مشورے فہم وفراست اور دوراندیشی پرہمیشہ مکمل بھروسہ اوراطمینان رہا۔

    چنانچہ حضرت ابوبکرصدیق نے اپنے انتقال سے چند روز قبل مہاجرین وانصار میں سے ایک مجلس میں عمر بن خطاب کو خلیفہ نامزد کر دیا ۔ اس پر بعض افراد نے ان کی سختی پر بات کی تو حضرت ابوبکرصدیق نے جواب دیا کہ خلافت کی سختی کی وجہ وہ نرم ہو جائیں گے اس کے بعدمزید فرمایا: اگراللہ نے پوچھا تو یہ جواب دوں گاکہ اپنے بعد ایسے شخص کومسلمانوں کا فرمانروا بنا کر آیا ہوں جو تیرے بندوں میں سب سے بہتر ہے‘‘ ۔

    جس روز حضرت ابوبکرصدیق ؓ کا انتقال ہوا،اسی روزیعنی ۲۲/جمادیٰ الثانیہ سن ۱۳ہجری بروز پیر مدینہ میں تمام مسلمانوں نے حضرت عمر بن خطاب کے ہاتھ پربیعت کی۔

    خلافت سنبھالتے ہی حضرت عمربن خطاب نے لوگوں کے سامنے اپنے مختصرخطاب میں کہا:

    ’’لوگو!تمہارے معاملات میرے سپرد ہیں،اس لئے میری تمام سختی اب نرمی میں بدل چکی ہے،جو کوئی امن وامان اور سلامتی کے ساتھ رہنا چاہے،میں اس کیلئے انتہائی نرم ہوں ،البتہ جو لوگ دوسروں پر ظلم وزیادتی کرتے ہیں ، میری سختی ان کیلئے بدستور قائم رہے گی،اگر کوئی کسی کے ساتھ ظلم وزیادتی کرے گا تومیں اسے اُس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک اُس کا ایک رخسار زمین پر ٹکا کر اور دوسرے رخسار پر پاؤں رکھ کر اُس سے مظلوم کاحق وصول نہ کرلوں …اللہ کے بندو!اللہ سے ڈرو، مجھ سے درگذر کر کے میرا ہاتھ بٹاؤ،نیکی کو پھیلانے اور برائی کاراستہ روکنے میں میری مدد کرو، تمہاری جو خدمات اللہ نے میرے سپرد کی ہیں ان کے متعلق مجھے نصیحت کرو،میں تم سے یہ بات کہہ رہا ہوں ، اور تمہارے لئے اللہ سے مغفرت طلب کر رہا ہوں.‘‘

    یہ ہے اصلی ریاست مدینہ کے حکمران کا قوم سے پہلا خطاب سبحان اللہ.

    حضرت عمر بن الخطاب کا دورِ خلافت دس سال چھ مہینے اور پانچ دن رہا، اس مختصر عرصے میں اسلامی حکومت اقوام عالم تک پھیل چکی تھی…’’قادسیہ ‘‘اور’’یرموک‘‘جیسی تاریخی جنگوں اور قیصر و کسریٰ کی شکست نے تو دنیا کا جغرافیہ ہی بدل کر رکھ دیا تھا۔ حضرت عمربن خطاب نے جو علاقے فتح کئے ان کارقبہ ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل سے کچھ زیادہ تھا…ایک لاکھ چھتیس ہزار شہر فتح ہوئے ،جن میں چار ہزار مساجد تعمیر کی گئیں ۔ یوں اہلِ ایمان کوایسی بے مثال اوریادگارعظمت ورِفعت نصیب ہوئی…جس کی نظیر دنیا میں کہیں نہیں ملتی ۔

    آج کسی حکمران کو اس کے نام نہیں بلکہ کام کی وجہ سے ہی دوام حاصل ہوتا ہے ہم یہاں ان کاموں کا ذکر کریں گے جو ریاست مدینہ کا وصف تھے جن کی وجہ ریاست مدینہ قائم ہوئی تھی ہمیں بھی ایسی ہی ریاست چاہیے جو امیرالمؤمنین حضرت عمربن الخطاب نے قائم کی تھی ریاست مدینہ جن چیزوں پر قائم تھی جو تاریخ میں پہلی دفعہ دیکھنے کو ملے مثلاً:

    1… ہجری اسلامی کیلنڈر کا آغاز۔
    2…سرکاری عہدے داروں کاہمیشہ سختی کے ساتھ کڑا محاسبہ۔
    3…بہت سے نئے شہروں کی تعمیر۔
    4…متعدد نئی فوجی چھاؤنیاں تعمیر کی گئیں۔
    5… دفاع کومضبوط ومؤثربنانے کی غرض سے متعدد نئے قلعے تعمیرکروائے۔
    6…پہلی بار باقاعدہ فوج اور پولیس کا محکمہ قائم کیا گیا۔
    7…سرحدی علاقوں میں گشت کی غرض سے مستقل سرحدی حفاظتی فوج تشکیل دی گئی۔
    8…مستقل فوج تشکیل دی گئی جس میں تیس ہزارگھوڑے تھے۔
    9…فوجیوں کیلئے باقاعدہ وظیفہ اورتنخواہیں مقررکی گئیں ۔
    10…ہرفوجی کیلئے ہرچھ ماہ بعدباقاعدہ چھٹی کی سہولت۔
    11…باقاعدہ بہترین عدالتی نظام۔
    12…بیت المال کا قیام۔
    13…رقبوں اور سڑکوں کی پیمائش۔
    14…مردم شماری کا نظام۔
    15…کاشتکاری کا باقاعدہ نظام قائم کیا گیا۔
    16…چار ہزار نئی مساجد کی تعمیر ۔
    17…مساجدمیں روشنی کا انتظام کیا گیا۔
    18…اماموں ، مؤذنوں اورخطیبوں کیلئے باقاعدہ وظائف مقرر کئے گئے۔
    19…معلمین اورمدرسین کیلئے باقاعدہ وظائف مقرر کئے گئے۔
    20…نظامِ وقف قائم کیا گیا۔
    21…غلہ واناج ودیگرغذائی اجناس کی حفاظت کی غرض سے بڑے بڑے گودام تیار کئے گئے۔
    22…اسلامی ریاست کا باقاعدہ سکہ جاری کیاگیا۔
    23…انصاف و قانون کا ایسا بول بالا جس کی مثالیں دنیا آج بھی دیتی ہے۔

    یہ تھی مسلمانوں کی ریاست مدینہ.

    اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے نقش قدم چلنا چاہیے اسی میں عزت و وقار اور دوام حاصل ہوتا ہے.

    اللہ تعالیٰ توفیق سے نوازے کہ ہم وطن عزیز پاکستان جو مدینہ ثانی ہے کو ریاست مدینہ بنتا دیکھ سکیں آمین یارب العالمین

  • بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    گو کہ یہ عنوان بھی آپکو پہلی نظر میں بکواس لگا ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نہایت حکیمانہ مقولہ ہے۔ کیونکہ آپ لاکھ خود کو پڑھے لکھے، مہذب اور سمجھدار سمجھتے ہوں، لیکن اگر آپ بغیر سوچے سمجھے کچھ بھی بول دیتے ہیں تو آپ بہرحال بکواس ہی فرمارہے ہیں۔

    آپ زبان سے وہی بات کہیں جس کے بارے میں آپکو یقین ہو کہ یہ بات سچی ہے،جھوٹ نہیں ہے۔ اچھی ہے، بری نہیں۔ مفید ہے، غیر مفید نہیں ہے۔ کسی کا دل خوش کرنے کیلئے ہے، کسی کی دل آزاری کیلئے نہیں ہے۔اگر آپ ہر دفعہ بولنے سے پہلے ان باتوں کو سوچ کر اچھی گفتگو کرتے ہیں تو مبارک ہو۔

    آپ مہذب، سلجھے ہوئے، بہترین انسان ہیں، بشرطیکہ آپ نہ صرف گفتار کے، کردار کے بھی غازی ہوں۔ یعنی نہ صرف آپ اچھا بولتے ہوں، اس پر عمل بھی کرتے ہوں، یا کم از کم عمل کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ کیونکہ

    عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ نوری

    بہرحال کچھ بھی بولنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں کہ کل کسی عدالت میں مجھ سے میرے کہے ہوئے ایک ایک لفظ کا حساب لیا جائیگا۔ اگر بات اچھی ہوئ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    وَالْـکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ صَدَقَۃٌ ’’

    اوراچھی بات بھی صدقہ ہے‘‘ (صحیح بخاری)

    اور صدقہ بڑی عظیم عبادت ہے۔ اور اگر خدانخوستہ آپکی کہی ہوئ بات بری ہوئ تو یہ بڑے خطرے کی بات ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    ما يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْہِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
    ( پارہ:26،سورۃ:ق، آیات:17،18)
    ترجمہ: ۔ تم جو بات بھی نکالتے ہو، اس پر نگران موجود ہے

    لہذا آپ کی ایک ہی بری،جھوٹی، غیبت، چغلی یا طنز پر مبنی بات اللہ کی ناراضگی کا سبب بن سکتی ہے۔ حدیث مبارک پڑھیئے:
    حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں، وہ ارشاد فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور ارشاد فرمایا:

    ’’کُفَّ عَلَیْکَ ہٰذَا‘‘۔۔۔۔۔ ’’اس کو روکو۔‘‘ یعنی زبان کو قابو میں رکھو، یہ چلنے میں بے احتیاط اور بے باک نہ ہو۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ’’وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُوْنَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِہٖ‘‘۔۔۔۔۔’’ہم جو باتیں کرتے ہیں کیا ان پر بھی ہم سے مواخذہ ہوگا؟‘‘ باز پُرس کی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ یَا مُعَاذُ!‘‘ ۔۔۔۔۔’’اے معاذ!تجھے تیری ماں روئے۔‘‘(عربی زبان کے محاورہ میں یہ کلمہ یہاں پیار ومحبت کے لیے ہے) ’’وَہَلْ یَکُبُّ النَّاسَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ إِلاَّ حَصَائِدُ أَلْسِنَتِہِمْ‘‘ لوگوں کو دوزخ میں ان کے منہ کے بل زیادہ تر ان کی زبانوں کی بے باکانہ باتیں ہی ڈلوائیں گی،یعنی آدمی جہنم میں اوندھے منہ زیادہ تر زبان کی بے احتیاطیوں کی وجہ سے ہی ڈالے جائیں گے۔( ترمذی)

    زبان کی لغزشوں سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان خاموشی کی عادت اپنالے۔ دیکھئے حدیث
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( مَنْ صَمَتَ نَجَا ) .روى الترمذي (2501)

    ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو خاموش رہا وہ نجات پاگیا (ترمذی)
    پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ بھی یہی تھی کہ آپ بکثرت خاموش رہا کرتے تھے۔سماک کہتے ہیں: میں سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عرض کیا: کیا آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی محفل میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوتا رہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ زیادہ تر خاموش رہنے والے اور کم ہنسنے والے تھے(مسند احمد)

    لہذا اگر ہم اس نیت سے خاموش اختیار کریں کہ یہ میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے تو دو فائدے ہونگے۔ ایک تو فضول گوئی سے بچیں گے۔ دوسرا یہ کہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے وجہ سے ہماری ساری خاموشی عبادت میں لکھی جائیگی۔

    مگر اس تمام مضمون سے یہ نتیجہ نکالنا بھی ہرگز درست نہیں کہ ہم "صم بکم” ( گونگے بہرے) رہیں۔ دین بہرحال اعتدال کا نام ہے۔ اور اس باب میں اعتدال یہ ہے کہ ہم فضول گوئی سے اجتناب کرتے ہوئے خاموش تو رہیں۔ مگر جب بولنے کا موقعہ ہوتو ضرور بولیں۔ اچھا بولیں۔

    صاف بولیں ۔ برمحل بولیں۔ خاموشی اور کلام میں اعتدال لانے کیلئے بشر بن حارث رحمہ اللہ کا یہ قول مفید ثابت ہوگا۔ آپ فرماتے ہیں
    إِذَا أَعْجَبَكَ الْكَلَامُ فَاصْمُتْ وَإِذَا أَعْجَبَكَ الصَّمْتُ فَتَكَلَّمْ

    "اگر تمہیں بولنا پسند ہو تو خاموش رہا کرو اور اگر تمہیں خاموش رہنا پسند ہو تو بولا کرو۔”
    [حلية الأولياء وطبقات الأصفياء – ط السعادة، جلد ۸، صفحہ نمبر ۳۴۷]

  • آئیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سیکھتے ہیں — نعمان علی ہاشم

    آئیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سیکھتے ہیں — نعمان علی ہاشم

    فضائل اور مناقب بیان کرنا بہت اچھی بات ہے. مگر کسی ہستی کے فضائل اور مناقب کے بیان پر ہی اکتفا کر جانا ہرگز کافی نہیں.
    کسی ہستی کے فضائل اور مناقب کا بیان کار ثواب بھی ہو سکتا ہے. مگر آپ اس ہستی کی سیرت سے کچھ سیکھنے سے عاری ہیں تو یقیناً آپ اچھے کردار کے حامل نہیں ہو سکتے.

    ہمارے ہاں سیرت النبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کا بیان تو ہوتا ہے مگر عمومی رویوں سے اس کا اظہار کرنے سے ہم بطور معاشرہ قاصر ہیں.
    وہ تمام شخصیات جن کو اللہ تعالی نے دنیا میں کوئی نہ کوئی مقام عطا کیا، جن کے فضائل ومناقب آج ہم بیان کرتے ہیں، ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ مقام و مرتبہ کیسے عطا کیا؟
    .
    یکم محرم الحرام قریب ہے اور ہر طرف سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل و مناقب کا تذکرہ ہے. بلاشبہ ان کا ذکر کرنا اور اچھی نیت کے ساتھ اچھے انداز کے ساتھ ان کا ذکر کرنا باعث اجر و تسکین ہے.

    مگر سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ عمر کیسے بنتے ہیں؟

    آج ہم اخلاق و کردار یا اوصاف کے اندر ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے مگر ان کی تقلید ضرور کر سکتے.
    .
    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف و کردار میں جو سب سے بنیادی چیز ہے وہ ڈٹ جانا ہے. آپ کے کردار کے اندر جھول یا نرمی کا کوئی عنصر نہیں. اسلام سے قبل اپنے قبیلے اور علاقے کے تمام تر مفادات کا تحفظ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے علم، حکمت کے ساتھ ساتھ اپنی تلوار کے ذریعے کیا.
    .
    دین اسلام کی حقانیت آشکار ہونے کے بعد سیدنا عمر فاروق نے اسی جاہ و جلال، بہادری و استقلال کے ساتھ اسلام اور اہل اسلام کے تمام تر حقوق کا تحفظ کیا.

    اسلام تو دنیا میں غالب ہونے کے لیے آیا ہے مگر کردار عمر سے یہ بات عیاں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسلام کو غالب کرنے کے لیے آئے تھے.
    .
    آپ اسلام کے آنے سے پہلے بھی اپنے قول و اقرار پر پہرہ دیتے تھے. اور اسلام لانے کے بعد بھی آپ کبھی اپنی بات سے منحرف نہیں ہوئے. دنیا کا مفاد لالچ اور خوف آپ کو کبھی زیر نہیں کر سکا.
    .
    آپ نے اللہ کی عطا کردہ فطرت سلیم کی حفاظت اس قدر عمدہ انداز سے کی کہ آپ کے دماغ کے اندر پیدا ہونے والے خیالات اللہ تعالی نے قرآن بنا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیے.
    .
    جدید فلسفہ میں اقبال جس خودی کی بات کرتے ہیں سیدناعمرفاروق میں وہ خودی بدرجہ اتم موجود تھی.
    .
    تاریخ کا مطالعہ کرنے والے احباب یہ بات جانتے ہیں کہ اقتدار میں آنے سے قبل اور اقتدار میں آنے کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے طرز زندگی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی.
    .
    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ کی برکت ہے کہ آج عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو انصاف کا معیار مقرر کیا گیا ہے.
    .
    تاریخ انسانی میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے قبل کوئی ایسا حکمران نہیں تھا جس کی سلطنت کے اندر تعلیم، صحت تعمیرات، افوج اور انصاف کے باقاعدہ فعال شعبے موجود ہوں.
    .
    یہ آپ کے کردار کا ہی خاصہ تھا کہ نئے آنے والے مذہب اور تہذیب کو 22 سے 25 سال کے اندر 22 لاکھ مربع میل سے بھی زائد رقبے پر متعارف کروایا.
    .
    سچائی، دیانت، جرات، انصاف، تقویٰ، دردانسانیت اور محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم و دین محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت جیسے اوصاف کے بغیر یہ سب ممکن نہیں تھا.

    ہمیں مناقب بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان تمام چیزوں پر غور کرنا چاہیے جو عمر ابن خطاب کو عظیم مصلح و حکمران عمر فاروق اعظم بناتی ہیں.

    محض قصے بیان کرنے سے بات نہیں بنے گی. وہ تمام اوصاف جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت میں موجود تھے ان کی تقلید سے ہی بات بنے گی.

    محض غلبے کی باتیں اسلام کو دنیا میں غالب نہیں کریں گی. اسے غالب کرنے کے لیے عمر فاروق کے نقش قدم پر چلنا ہوگا.

    اگر سیرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو عملی شکل دینے کے بجائے محض ثواب کی نیت سے بیان کرتے رہیں گے تو یقین کیجئے حالات نہیں بدلیں گے.

  • پاکستان براستہ سری لنکا  — محمد خضر بھٹہ

    پاکستان براستہ سری لنکا — محمد خضر بھٹہ

    اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک آزاد ریاست 14 اگست 1947 پوری قوم شکرانے کے نفل ادا کر رہی تو کوئی اپنے بچھڑے والے پیاروں کو یاد کر کے زاروقطار رو رہے اور یہ آزادی ایک عظیم لیڈر کی دن رات محنت سے ملی ایک دن بعد بھارت آزاد ہوا اور دل میں پاکستانی کی قیامت تک دشمن رہنے کی قسم کھائی.

    پاکستان کا سفر شروع ہوا تو اس وقت ہر کسی نے فرض سمجھ کہ پاکستان کو دنیا کا ترقیافتہ ملک بنانے کے لیے محنت شروع کر دی 1971 سے پہلے نشیب و فراز اس کی تاریخ کا حصہ رہے ہیں پاکستان کو شروع دن سے اقتدار کی حوس کے لیے استعمال کیا جاتا رہا اس اقتدار کی جنگ نے 1971 کو دو حصوں میں بدل دیا اور اس وقت کے دو کردار آج ذولفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کے نام سے تاریخ کے لیڈر ثابت ہوے دور بدلتے رہے اور پاکستان بھی حالات کی کشمکش میں رہا.

    اللہ نے اس ملک کو بہت نعمتوں سے نوازا ہے جس کے کسان ایک ریڑھ کی ہڈی ہیں مزدور اس کا حسن ہیں پہاڑ،دریا،ندی نالے جھیل اس کا سنگھار ہیں جنگل سکون ہے اس ملک میں رہنے والا ہر وہ شخص اپنے پاکستان کی ترقی میں لگا ہے جو آج کا غریب ہے جس کو کرسی کی حوس نہیں اقتدار نے اسے ظالم نہیں بنایا اور اس کا دوسرا رخ بہت افسوس زدہ ہے کہ ہمارے ملک کے سیاست دان سے لیکر جرنیلوں تک جرنیلوں سے لےکر کلرک تک جس کو دیکھو اپنی جیب بھر رہا ہے آج ہر نوجوان اپنی پسند کی جماعت کے نعروں میں مصروف ہے اور ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں کیا یہ آزاد ریاست ہے کہ موروثی سیاست کی غلامی کرو اور نعرہ لگاتے ہو پاکستان زندہ باد.

    آج کسی کو یاد نہیں جس پاکستان کی ترقی کے لیے دن رات محنت کی خون بہا آج اس ہی پاکستان کی عزت لوٹ کہ دنیا کو بتا رہے ہو کہ ہم مفاد پرست غلام ابن غلام قوم ہیں آج میں اور آپ نہیں پاکستان بھیک مانگنے پہ آچکا ہے اور اس کے ذمے دار جتنے سیاست دان ہیں اتنا آپ اور میں ہیں آج کسی کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ ہم دیوالیہ ہونے جا رہے ہیں؟ نہیں ہمیں بس عمران خان زندہ باد،نواز شریف زندہ باد،زرداری زندہ باد کا پتہ ہے.

    ہم اپنی اس عقل سے آنے والی نسلوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں یہ وہی پاکستان ہے جو گندم دوسرے ممالک کو دیتاہ تھا آج لینے پہ مجبور ہے کیوں؟گھی،دال،چینی آئل نہانے کا صابن تک باہر سے آتا ہے ہم ایک سوئی تک باہر سے لیتے ہیں اور بولتے ہیں کہ ہم غریب ملک ہیں خدا کا خوف کرو ہم غریب نہیں ہمارے حکمران چور ہیں.

    آج سری لنکا ہر ملک کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے کہ ہمیں بچا لو ہم دیوالیہ ہو چکے ہیں سری لنکا کی سوئی ہوئی عوام جو نعروں کے مزے لے رہی تھی آج انہیں نعرے لگوانے والوں کے ایوانوں صدارتی محل میں گھس کہ ازالہ کر رہے ہیں چین سری لنکا میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک ہے جیسے کہ پاکستان میں کر رہا ہے آج سری لنکا اگر بھیک مانگنے پہ مجبور ہے تو اس کی وجہ موروثی سیاست اور غلام ذہنوں کی وجہ ہے یہی لوگ کل ان کو کاندھوں پہ اٹھاتے تھے اور آج گریبان پر پڑتے ہیں سری لنکا کی حکومت نے اپنے رشتہ داروں کو وزارتیں دی کہ اقتدار کے مزے لو بندر کے ہاتھ میں ماچس آنے والا کام ہوا اور پورے رشتہ داروں نے سری لنکا کو دیوالیہ کر دیا.

    اب پاکستان بھی نا چاہتے ہوئے اسی ہی راستے پر ہے اقتدار دیکھو تو بس مفاد کے لیے سیاست دیکھو تو خاندانی اعلی افسران دیکھو تو کرپشن اور غریب دیکھو تو ہسپتال میں ہے آج پاکستان کا کسان بھی پورا سال بچوں کی طرح فصل تیار کرتا ہے فرٹیلائزر استعمال کرتاہے تو گھر کے زیور بیچ کہ اور جب منڈی پہنچتا ہے تو ٹکے کے حساب سے دے کہ آتا ہے آج نوجوان بھی لکیر کا فقیر ہو چکا ہے اگر اس پاکستان کو سری لنکا نہیں بنانا تو پھر نعرے چھوڑ کہ حق کی آواز لگانی پڑے گی خاندانی سیاست کو دفن کرنا پڑے گا کرپشن کرنے والوں کو اس ملک سے نکالنا پڑے گا اعلی اداروں کو اپنا فرض جہاد سمجھ کہ ایمانداری سے چلنا پڑے گا اور غریب کا احساس اور خدا کا ڈر پیدا کرنا پڑے گا اپنے ذہن سے غلامی کا پردہ ہٹانا پڑے گا، پھر جا کہ قائم رہے گا پاکستان زندہ باد پاکستان پایندہ باد.

    اس ملک کو نوجوان نسل کی ضرورت ہے ہمیں جسمانی آزادی تو ہے مگر ذہنی نہیں ہمیں اپنا ایک مقصد لے کے چلنا پڑے گا حق کے ساتھ کھڑے ہونگے تو ہمارا مستقبل اور آنے والی نسلوں کا مستقبل سنبھل جائے گا خدا کے لیے اس عظیم وطن عزیز کو اس موڑ نا جانے دیں جہاں سے واپس آنا نا ممکن ہو یہ ملک ایک امانت ہے ان شہیدوں کی جنہوں نے اپنا خون دے کر اس کو پاکستان کا نام دیا چلیں ایک قوم بن کر ۔۔۔پاکستان کی خاطر!

  • یادوں کے سپنے — اسامہ منور

    یادوں کے سپنے — اسامہ منور

    بعض اوقات زندگی اتنی تلخ ہو جاتی ہے کہ شیریں چیزیں بھی کڑوی لگنے لگتی ہیں اور دھیرے دھیرے حیات اپنی معنویت کھو دیتی ہے. ہم دن رات انھیں دکھوں اور تکلیفوں میں گزار کر ذہنی و جسمانی طور پر ڈھیٹ ہو جاتے ہیں اور پھر ہمیں ان کی عادت پڑھ جاتی ہے. ہم درد سہتے ہوئے ہس بھی لیتے ہیں اور رو بھی لیتے ہیں. کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اپنا دُکھڑا کسی کو سنا لیتے ہیں لیکن اکثر اوقات اپنی بپتا اپنی یادوں میں دفن کرتے جاتے ہیں. خوشی اور غمی، شاید اسی کا نام حیاتی ہے.

    اگرچہ زندگی کی تلخیوں کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں مگر ان کو ساتھ لے کر جینا بھی ناممکن ہے. قدم قدم پر غم بکھرے پڑے ہیں تو کونوں کُھدروں میں کرب رینگ رہے ہیں. خوشیاں کہیں اوٹ میں چھپی کن اکھیوں سے دیکھ رہی ہیں کہ کب درد موقع دیں اور ہم اگرچہ کچھ لمحوں کے لیے ہی مگر بشر کو راحت و سکون مہیا کر سکیں.

    ماضی ہمیں جینے نہیں دیتا، حال ہمیں ہنسنے نہیں دیتا اور مستقبل کی لامحدود خواہشات ہمیں مرنے نہیں دیتیں. ہم اسی کشمکش میں زندگی کی گاڑی کو آس و یاس کے دھکے لگا کر آگے کو دھکیلتے رہتے ہیں اور ہر دن اسی امید کے ساتھ دل کو دیمک زدہ لکڑی کی طرح کھوکھلی تسلیاں دیتے رہتے ہیں کہ

    "کوئی بات نہیں، پریشان نہیں ہونا، دل چھوٹا نہیں کرنا، اداس نہیں ہونا، مایوس نہیں ہونا، اچھا وقت بس قریب ہے”.

    اور پھر ہم انہی ٹمٹماتی امیدوں پر اپنی پوری حیاتی گزار کر گزر جاتے ہیں. ہمارے بعد ہمارے بچے اور پھر ان کے بعد ان کے بچے یہی سب کچھ دہراتے ہیں، اسی کیفیات سے گزرتے ہیں.

    ہم زندگی کی تلخیوں کو نظر انداز کرنا چاہتے ہیں مگر کر نہیں پاتے، ہم خوش رہنا چاہتے ہیں مگر نہیں رہ سکتے کیونکہ ہم دوسروں سے بہت سی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں.

    ہمارے پاس ہماری زندگی میں اگر کوئی اثاثہ ہے تو وہ ہماری گزری ہوئی یادیں ہیں، پھر چاہے وہ اچھی ہوں یا بری. ہم ایک ایک یاد کو بیسیوں بار یاد کرتے ہیں اور ہمارے سپنے بھی ہماری یادوں سے بھرے پڑے ہیں. ہم اپنی پوری زندگی تعلق بناتے اور نبھاتے مر جاتے ہیں. پھر ان تعلقات کو اپنی یادوں کی لڑی میں پرو کر یا تو کھل کر ہنس لیتے ہیں یا پھر بلک بلک کر رو دیتے ہیں. یادیں ایک ہی وقت میں ہمیں نئے زخم دیتی ہیں، پرانے زخموں کو تازہ کرتی ہیں اور پھر ان زخموں پر لگانے کے لیے مرہم بھی فراہم کرتی ہیں.

    سچ تو یہ ہے کہ یادیں بعض اوقات ہمیں ماضی کے ان جھروکوں میں لے جاتے ہیں جہاں کچھ پل کے لیے ہی سہی مگر ہمیں سکون میسر آ جاتا ہے. یہ یادیں ہی ہوتی ہیں جو ہمہ وقت ماضی اور حال کو جوڑے رکھتی ہیں. جوانی میں بچپن کے قصے کہانیاں، شرارتیں اور پھر بزرگوں کی جھڑکیاں، بڑھاپے میں جوانی کی پرجوش زندگی اور بعض الٹی حرکتیں اور قباحتیں،اپنی مرضی کے فیصلے لینا اور خود کو سب سے بڑا توپ مار سمجھنا، ہماری یادوں کے وہ سنہری ابواب ہیں جو ہماری حیاتی کو آگے دھکیلنے میں مد و معاون ثابت ہوتے ہیں.

    جو بھی ہے ہم زندگی کو امید اور آس سے زیادہ یادوں کے سہارے جیتے ہیں اور یہی ہماری سب سے بڑی بے وقوفی ہے کیونکہ یادیں ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتیں بلکہ اپاہج بنا کر رکھ دیتی ہیں جبکہ آس اور امید ہمیں ہر ہر موڑ پر ایک اندرونی تقویت مہیا کرتی ہیں جو ہمارے لیے بہت ضروری ہے. زندگی کو حقیقت سمجھ کر گزاریں. سپنوں اور یادوں کو اتنی ہی جگہ دیں جتنی کے وہ قابل ہیں تبھی عمر کٹ پائے گی.