Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • کراس کلچرل احترام — ضیغم قدیر

    کراس کلچرل احترام — ضیغم قدیر

    کراس کلچرل احترام دیکھنے کے لئے آپ کو ہالی وڈ کی ایک فلم سیریز دیکھنا پڑے گی جس کا نام Star Wars ہے۔ اس کے انڈر دس موویز اور چار سیزن ہیں۔

    اس سیریز میں آپ صرف مختلف کلچرز کو نہیں دیکھیں گے بلکہ یہ دیکھیں گے کہ کیسے بائیولوجیکلی مختلف سپی شیز ایک دوسرے کیساتھ امن و امان کیساتھ رہ رہی ہے۔ اور مختلف مواقعوں پہ کیسے ایک دوسرے کے کلچر کا احترام کر رہی ہیں۔

    اگر آپ کو یہ لگاتا ہے کہ آپ دنیا کی سب سے خاص قوم میں پیدا ہوئے ہیں یا آپ کا کلچر حد سے زیادہ اہم ہے یا کسی اور قوم کا آپ سے بہتر ہے اور آپ کے کلچر کا اظہار غلط ہے تو آپ کو اپنے ذہنی علاج کے لئے ایسی فکشن ضرور دیکھنی چاہیے وہیں پر اپنا کلچرل ایکسپوژر وسیع کرنا چاہیے۔

    ہندوستان یا عرب کے کلچر میں کسی بدیسی کو مکمل شارٹ لباس پہن کر نہیں گھومنا چاہیے وہیں پر یورپ میں برقعے پہن کر گھومنا بھی انکے کلچر کی خلاف ورزی ہے سو ان چیزوں کو اپنی جگہ رکھ کر ہر جگہ کے کلچر اور روایات کا احترام کرکے زندگی انجوائے کرنی چاہیے۔

    ہماری قوم سمیت پوری دنیا میں موجود وسیع آبادی کا مسئلہ یہی ہے کہ انہوں نے ایک سے دوسری سٹیٹ نہیں دیکھی 9/5 جاب کر کر کے زندگی ختم کرنیوالوں کو چھوٹی چھوٹی بات بھی چبھتی ہے۔

    حالانکہ

    قطر میں لباس پہ لگی ممانعت سمیت کسی اور ملک میں چہرہ ڈھانپنے والے حجاب پہ لگی ممانعت تک سب کچھ مقامی کلچرل ویلیوز کے لحاظ سے درست ہے اور وہاں وزٹ کے دوران انکا احترام کرنا چاہیے اور اگر اپنا کلچرل زیادہ عزیز ہے تو ایسی جگہوں کو وزٹ ہی نہیں کرنا چاہیے ۔

  • دعوت کا اسلوب — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    دعوت کا اسلوب — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    سلیمان علیہ السلام نے ھدھد کے ذریعے ملکۂ سبا کو خط بھیجا جو پیغام رسانی کے طریقوں سے بالکل ہٹ کر تھا۔

    اس کی آمد سے پہلے اسکا عظیم الشان تخت منگوا لیا۔۔۔

    اسے اپنے عظیم الشان محل کی سیر کروائی جہاں وہ شیشے کے فرش کو پانی کا حوض سمجھ بیٹھی۔۔۔

    مقصد کیا تھا؟

    یہ بتانا کہ اگر تو ملکہ ہے اور تیرے پاس دنیاوی عیش و عشرت کا سامان ہے تو ہمیں اللہ نے اس سے کئی گنا زیادہ دے رکھا ہے۔۔۔۔ لیکن یہ زندگی کا اصل مقصد نہیں اور اصل مقصد کے آگے ان چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں۔۔۔ اصل تو توحید ہے۔ لہذٰا بہتر یہی ہے کہ جس نے یہ سب عطا کیا ہے، اسے پہچان لو اور اکیلے اس ایک ہی کی عبادت کرو۔۔۔۔

    یہ دعوت کا ایک اسلوب تھا کہ ظاہری جاہ و جلال کے متوالوں کو دکھایا جائے کہ یہ چیزیں ہمارے پاس تم سے زیادہ ہیں، لیکن ہمارے نزدیک انکی کوئی اہمیت نہیں۔ اور پھر اصل اہمیت کی حامل دولت، یعنی توحید کی طرف دعوت دی جائے۔

    ظاہر ہے کہ یہ ایک اسلوب ہے، پر واحد اسلوب نہیں۔ داعی اپنے دور کے تقاضوں اور اپنی استعداد کے مطابق حکمت کے ساتھ کوئی بھی اسلوب اختیار کر سکتا ہے جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہو کہ یہ پیغام کو زیادہ مؤثر طریقے سے سامعین تک پہنچا دے گا۔

    اصحاب الاخدود والے واقعے میں اس لڑکے نے ظالم اور مشرک بادشاہ پر واضح کر دیا کہ وہ اسے نہیں مار سکتا۔ ہاں اگر اللہ کا نام لے کر تیر چلائے تو کامیاب ہو جائے گا۔ اور یوں اس نے حق کا پیغام ایسے پہنچایا کہ پوری قوم مسلمان ہو گئی۔۔۔۔ اور ایسا ایمان لائی کہ آگ کی خندقوں میں چھلانگ لگا دی پر ایمان سے دستبردار ہونا گوارا نہ کیا۔

    اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو عصا اور ید بیضاء کے معجزات خاص طور پر فرعون کو مرعوب کرنے کیلئے عطا فرمائے۔ موسی علیہ السلام نے پوری قوم کے سامنے اپنے معجزے کے اظہار کا مطالبہ کیا تاکہ (اللہ کی عطا کردہ) اپنی اس طاقت سے پوری قوم کو متاثر کریں۔ جادو گروں پر ثابت کیا کہ میرے پاس تم سے بڑی طاقت ہے، پر یہ اصل چیز نہیں۔۔۔۔ اصل تو وہ ذات ہے جس نے یہ عطا کی اور اسکا پیغام ہے جو میں لایا ہوں۔۔۔ اور ہم نے دیکھا کہ جادوگر ایسے متاثر ہوئے کہ مصلوب ہونا قبول کر لیا پر ایمان کو چھوڑنا گوارا نہ کیا۔۔۔

    ہمارے سطحی سوچ والے اس دور میں ہوتے تو کہتے کہ سلیمان علیہ السلام، موسی علیہ السلام اور وہ مومن و موحد لڑکا محض شو مار رہے ہیں۔۔۔۔ (نعوذباللہ)….

    اگر کوئی یہ بتا رہا ہے کہ میرے پاس تم سے بہتر بائیک ہے اور تم سے بہتر سٹائل ہے، لیکن یہ اصل نہیں۔ اصل وہ ہے جو میں تمہیں بتانے آیا ہوں۔۔۔۔

    لیکن:

    اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں
    غیروں نے آ کے پھر بھی اسے تھام لیا ہے ۔۔۔!!!

    یہ وہ لوگ ہیں جو دعوت کے مزاج کو سمجھ ہی نہیں پائے۔ انہیں پتہ ہی نہیں کہ آجکل کے نوجوان کے مسائل کیا ہیں اور انہیں کیسے متاثر کرنا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ نوجوان دن بدن مولوی سے متنفر ہوتا جا رہا ہے۔

    میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ ہر کوئی، ہر جگہ اور ہر وقت ایسا ہی طریقہ اختیار کرے۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ آپ جس طریقے کو مؤثر سمجھتے ہیں اور جس میں مہارت سے ابلاغ کر سکتے ہیں، اسے اختیار کریں۔۔۔۔ لیکن خدارا، پورے سیناریو کو سمجھے بغیر بلاوجہ کی تنقید سے باز آ جائیں۔ اس سے آپ جدید ذہن کو مزید اپنے سے دور ہی کریں گے اور یہ دین کی کوئی خدمت نہیں۔۔۔!!!

  • آسکر نامزد جوئے لینڈ کے خلاف شکایت کی تحقیقات؛ کمیٹی تشکیل دے  دی گئی

    آسکر نامزد جوئے لینڈ کے خلاف شکایت کی تحقیقات؛ کمیٹی تشکیل دے دی گئی

    آسکر نامزد جوئے لینڈ کے خلاف شکایت کی تحقیقات؛ کمیٹی تشکیل دے دی گئی
    وزیراعظم شہبازشریف نے آسکرکے لیے نامزد کی جانے والی فلم ’جوائے لینڈ‘ کیخلاف شکایات کی تحقیقات اورپاکستان میں نمائش پرپابندی سے متعلق مطالبے کا جائزہ لینے کیلئےاعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی۔ کمیٹی جماعت اسلامی کے سینیٹرمشتاق احمد سمیت دیگرحلقوں سے کیے جانے والے مطالبے کا جائزہ لے گی کہ آیا یہ فلم واقعی اخلاقی ومعاشرتی اقدار سے متصادم ہے یا نہیں۔

    جوائے لینڈ کو مئی 2022 میں دنیا کے سب سے بڑے فلمی میلے کانزمیں ’کانز:کوئیر پام‘ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جو بالخصوص ہم جنس پرستوں یا پھر مخنث افراد پرمبنی فلموں کو دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس فلم کی ریلیز 18 نومبرکے لیے شیڈول تھی تاہم اس سے قبل ہی جماعت اسلامی کے سنیٹر مشتاق احمد نے موضوع کی بنیاد پر فلم پرپابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے اور ایسی فلموں کے ذریعے پاکستان کے معاشرتی اقدار پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کی رہائشگاہ پر 90 لاکھ روپے کے بلٹ پروف شیشے لگائے جائیں گے
    میٹا اور ٹوئٹر کے بعد ایمازون کا اپنے10 ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا ارادہ
    چین اور ایران امریکہ میں مخالفین کی جاسوسی کرارہے ہیں، امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن


    دوسری جانب سینسربورڈ کی جانب سے فلم کو سرٹیفکیٹ جاری کردیا گیا تھا تاہم 11نومبرکو وفاقی وزارت اطلاعات نے اسے یہ کہتے ہوئے منسوخ کر دیاکہ فلممیں ’قابل اعتراض مواد‘ موجود ہے۔ اب وزیراعظم شہبازشریف کے سٹریٹیجک ریفارم یونٹ کے سربراہ سلمان صوفی نے اپنے آفیشل ٹوئٹرہینڈل پربتایا ہے کہ جوائےلینڈ کی نمائش پرپابندی کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو متعلقہ شکایات کے علاوہ پاکستان میں نمائش کے میرٹس کا بھی جائزہ لے گی۔


    وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق فلم کیخلاف شکایات موصول ہونے کے بعد وزیر قانون کی نگرانی میں 8 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب ، چیئرمین پی ٹی اے اور پیمرا، وزراء برائے کمیونیکیشن، سرمایہ کاری، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اوروزیر اعظم کے مشیربرائے امور گلگت بلتستان شامل ہوں گے۔
    https://twitter.com/sethimirajee/status/1591689511091965952
    ممکنہ طور پرکمیٹی اپنی سفارشات آج 15 نومبرکوپیش کرے گی۔ لیکن فلم کی ریلیز کی اجازت ملنے کے بعد جوائے لینڈ کے ڈائریکٹرصائم صادق وزارت اطلاعات کے اس اقدام کوغیرقانونی قراردے رہے ہیں۔ اس اقدام پرشوبزسمیت کئی معروف شخصیات نے سوشل میڈیا پرتنقید کرتے ہوئے حکومت سے فلم پرپابندی عائد نہ کیے جانے کا مطالبہ کیا۔ اداکارہ میراسیٹھی نے مریم اورنگزیب کیلئے لکھا کہ ، ’فلم پرپابندی کا کوئی جوازنہیں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ خود کوجمہوریت پسند قراردیں اورآرٹ پرپابندی عائد کردیں‘۔ علاوہ ازیں ہمایوں سعید نے کہا کہ جوائے لینڈ نےکانزمیں ایوارڈ جیت کرہمارا سر فخرسے بلند کیا، یہ ہمارے اپنے لوگوں کی کہانی ہے ، امید ہے کہ فلم دیکھنے کو ملے گی۔


    اداکارہ نادیہ جمیل نے بھی سوال اٹھایا کہ، ’اس پابندی کے پس پردہ کون سے چہرے ہیں اور وہ کس بات سےخوفزدہ ہیں، کب تک منافقین پاکستان کا گلا گھونٹتے رہیں گے جوخود مغربی دنیا کے تمام فائدے حاصل کرتے ہیں لیکن دوسروں پرزمانۂ جاہلیت کےنظریات مسلط کرتے ہیں‘۔


    خود وزیراعظم شہبازشریف کے سٹریٹیجک ریفارم یونٹ کے سربراہ سلمان صوفی نے بھی ٹویٹ میں مریم اورنگزیب سے اس پابندی پرنظرثانی کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہو تو فلم کی ٹیم سے ملاقات کرلیں۔


    یاد رہے کہ ہدایت کار صائم صادق کی اس فلم کی کاسٹ میں سرمد کھوسٹ، ثروت گیلانی، علینا خان، سہیل سمیر، سلمان پیر، ثانیہ سعید، کنول کھوسٹ، زویا احسن، ثنا جعفری اور قاسم عباس سمیت دیگر اداکار شامل ہیں۔

  • بین جوائے لینڈ مہم پر اعتراض اور جواب :از طہ منیب

    بین جوائے لینڈ مہم پر اعتراض اور جواب :از طہ منیب

    گزارش ہے کہ آج کی جدید دنیا نے شخصی و انفرادی آزادی کے نام پر خلاف فطرت و شرع معاملات جیسا کہ ہم جنس پرستی و دیگر کو نا صرف اپنے ہاں قانونی حیثیت دی ہے بلکہ ڈیجیٹل میڈیا و اینٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں باقاعدہ تمام قسم کی موویز و سیزنز میں اس ایجنڈے کی (جسے LGBTQ+ کہا جاتا ہے) ترویج سے مشروط کیا ہے کہ کچھ نا کچھ اس مسئلہ کو لازمی ہائی لائٹ کیا جائے۔ باقاعدہ طور پر بننے والا مواد اس سے ہٹ کر ہے۔ پہلے پہل مغربی سینما جو ہالی ووڈ کے نام سے جانا جاتا ہے اس نے اس گند کو پھیلانے کا کام کیا بعد ازاں بھارتی سینما بالی ووڈ اور اب یہ جرات پاکستانی فلم انڈسٹری کو بھی ہوگئی ہے۔ سرمد کھوسٹ پاکستانی سینما میں متنازعہ موویز بنانے کے حوالے سے معروف ہیں جنکی اکثر موویز سینسر بورڈ میں آکر پھنس جاتی تھیں اور اکثر نکل بھی جاتی تھیں۔ لیکن حیران کن طور جوائے لینڈ نامی مووی جو دو لڑکوں کی محبت و شادی پر مبنی سٹوری ہے یہ نا صرف بن گئی بلکہ باہر کے سینما سے متعدد ایوارڈز لینے کے بعد بغیر کسی تردد کے سینسر بورڈز سے اپروول کے بعد 18 نومبر کو پاکستانی سینماؤں میں ریلیز کیلئے تیار ہے۔

    اللہ کی بغاوت اور غیض و غضب کا شکار قوم لوط کا عمل غلیظ (جسکے مرتکب فاعل و مفعول کی سزا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حدیث کے مطابق قتل ہے) کی ترویج پر مبنی یہ مووی کی ریلیز لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے نام پر بنے ملک جسکے آئین کے دیباچہ میں قرارداد مقاصد کے مطابق اس ملک میں قرآن و سنت و آئین سے متصادم کوئی قانون نہیں بن سکتا وہاں پہلے ٹرانس جینڈر بل کے نام پر آئین و قانون میں نقب اور اب سرعام اسکی ترویج کی جرات یقینا سینسر بورڈ و حکومت اور اسکے بعد مذہبی جماعتوں کے کردار پر سوالیہ نشان ہے۔ اس فتنے کے سدباب کیلئے #BanJoyland مہم پلان کی تو الحمد اللہ پوسٹرز و ویلاگز کے ساتھ ٹویٹر پر ٹرینڈ بھی پینل ہوگیا ،کچھ نا کچھ سوشل میڈیا پر آگاہی و ٹویٹر سپیس بھی ہوگئی، یقینا یہ ناکافی ہے اسکی روک تھام کیلئے سوشل میڈیا سے بڑھ کر عدالت کے دروازے کھٹکھٹانے اور سڑکوں پر نوجوانوں کے ہمراہ احتجاج کے ذریعے اس بد فعلی کو روکنے کی پوری کوشش اسکے بین ہونے تک کی جائے گی ان شا اللہ۔

    اب اس مہم پر کافی احباب کا اعتراض آیا ہے کہ آپ تو بذات خود اسکی پروموشن کا باعث بن رہے ہیں تو گزارش یہ کہ ہمارے نا کرنے سے مووی ریلیز ہو کر رہے گی اور اسکے بعد اسکی ویوورشپ یقیناً لاکھوں میں ہوگی۔ اگر اس سے قبل ہی اسکی روک تھام کر لی جاتی ہے تو یقیناً یہ فائدہ مند ہوگا۔ اس مہم سے زیادہ سے زیادہ چند سیکنڈ کے پرومو تک پہنچ ہوگی لیکن اصل گند مووی کی ریلیز سے بچا جا سکتا ہے۔ خلاف قانون و آئین و اسلام مووی کی روک تھام کی مہم کوئی پہلی مہم نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی اس طرز کی مہمات کامیاب ہوئی ہیں جن میں اعلیٰ عدلیہ کے حکم پر بھارتی و دیگر فلمز کی نمائش پر پابندی لگی۔
    باقی ہر برے کام کے بارے میں یہ سوچا جانے لگے پھر تو اچھائی کی ترویج اور برائی روک تھام ناممکن ہو جائے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یہ ہمارا مذہبی فریضہ ہے کہ برائی کو ہوتا دیکھیں تو استطاعت کے مطابق ہاتھ یا زبان سے روکیں اور اگر ممکن نہیں تو پھر کم از کم دل میں برا جانیں۔ امید ہے کچھ نا کچھ کلئر کر پایا ہوں گا۔ شکریہ

    الحمد اللہ یہ تحریر لکھنے کے دوران ہی یہ خوشخبری ملی کہ یہ فلم بین ہو چکی ہے۔ یقیناً یہ معمولی کاوش اللہ کی مدد یہ سے یہ کامیابی ملی۔ تمام احباب کا خصوصی شکریہ۔ جزاک اللہ خیر

  • "آدھا تیتر ،آدھا بٹیر ” — اعجازالحق عثمانی

    "آدھا تیتر ،آدھا بٹیر ” — اعجازالحق عثمانی

    ایک صاحب کسی ہوٹل پر تیتر کا گوشت کھانے گئے۔ کھاتے ہوئے انھے ملاوٹ کا شک ہوا تو ویٹر سے پوچھا کہ یہ خالص تیتر کا گوشت ہے؟۔ ویٹر نے کہا جی سر۔ مگر کھانے والا خود شکاری تھا اور تیتر کے گوشت سے اچھی طرح واقف تھا۔ آخر کار ویٹر نے بتا ہی دیا کہ صاحب! دیکھا دیکھی لوگ کھانے تو تیتر آتے ہیں ہمارے پاس مگر بیشتر لوگوں کو بیٹر کا ذائقہ ہی زیادہ پسند ہے ۔ سو مجبوراً مسکسینگ کرتے ہیں ۔ بات تو ٹھیک ہے ویٹر کی ہمیں مسکسینگ کی تو عادت ہو چکی ہے ۔ خالص کچھ بھی ہمیں اب اچھا نہیں لگتا۔

    ہمارے گھروں میں ڈبوں والے دودھ استعمال ہوتے ہیں کیونکہ اب خالص بھینس کے دودھ سے ہمیں بو جو آتی ہے ۔ خالص گندم کی روٹی ہمارے معدے ہضم نہیں کرتے مگر نان، پیزا تو معدے میں ڈالتے ہی ہضم ہو جاتا ہے ۔

    کوئی لیکوڈ ہمارے گلوں سے تب تک نہیں اترتا جب تک اس کا رنگ نیلا ، سبز ، کالا نہ ہو ، سفید لیکوڈ (دودھ) تو پینے کا ہم اب سوچ بھی نہیں سکتے ۔ اگر کوئی پیے بھی گا تو مسکسینگ کے ساتھ ، سپرائٹ ، سیون اپ کے تڑکے کے ساتھ ۔ (صرف) دودھ تو شاید اب پینڈو پیتے ہیں۔ ہم تو اب ماڈرن ہو چکے ہیں۔ اتنے ماڈرن کے گھر والے کے ساتھ سلام دعا کا وقت نہیں ، اور سمندر پار لوگوں سے چوبیس گھٹنے رابطوں میں ہیں۔

    اتنے ماڈرن ہوگئے ہیں کہ ہمیں اب ماں بولی پنجابی گالی لگنے لگ گئی ہے۔ ہمارے گھروں میں اب کوئی بچہ پنجابی بول کر تو دیکھائے، صرف اردو اور انگریزی۔۔۔۔۔۔ فارسی ،عربی تو ویسے ہی ہم نے مدرسے والوں کے ذمے کر رکھی ہے۔ ہمارا کیا لینا دینا، وہ پڑھیں اور ان کا کام جانے، ہمیں کیا ۔

    اور اسی انگریزی کے چکر میں ہم کہیں کے نہیں رہے۔ سیکھو بھئی انٹرنیشنل زبان ہے، مگر یہ کہاں کا قاعدہ قانون ہے کہ اپنی بالکل ہی چھوڑ دو ۔ ہم نے تو صرف چھوڑی ہی نہیں دھتکاری ہے اپنی زبان ۔ جب تک ہم انگریزی کے دو چار جملے نہ بول لیں تو ہم پڑھا لکھا ہی نہیں سمجھتے خود کو۔ کل ہی ایک دوست نے بتایا کہ اس سے اپنے گاؤں کے کسی شخص نے پوچھا کہ کونسی کلاس میں پڑھ رہے ہو۔ اس کے جواب پر فوراً انگریزی کا ایک عدد غلط جملہ اس کے منہ پر دے مارا کہ اس کا ترجمہ بتاؤ ۔ یعنی تعلیم یافتہ ہونے کےلیے ، انگریزی سند ہے تو بھئی! اس آدھی تیتر آدھی بیٹر قوم کا اللہ ہی حافظ ہے ۔

  • تھوکیے مت!!! — عبدالقدیر رامے

    تھوکیے مت!!! — عبدالقدیر رامے

    یار یہ لوگوں کو پاس بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر تھوکنے کی کیا بیماری ہے؟

    چند روز قبل ایک سیفٹی سیشن کیلئے میٹنگ روم گئے.. پتہ چلا کہ ٹرینر ابھی آیا نہیں باہر بیٹھ کر ہی انتظار کرنا پڑے گا.. سب بندے درختوں کے نیچے دو دو تین تین ٹولیوں کی شکل میں بیٹھ گئے.. مجھے معلوم تھا کہ یہ یہاں بیٹھ کر اور کچھ کریں نہ کریں.. ایک سگریٹ لازمی پئیں گے جس کا دھواں مجھے تنگ کرے گا، دوسرا تمباکو اور چونے کا مکسچر لازمی رگڑیں گے جسے پھونک سے اڑا کر چھانیں گے تو سانس کے ساتھ ناک کو چڑھے گا اور تیسرا تھوک لازمی پھینکیں گے..

    یہ باتیں میری میموری میں پکی پکی فٹ ہیں.. لہٰذا میں بندوں سے زیادہ تر دور ہو کر بیٹھتا ہوں.. وجہ نفرت نہیں.. وجہ یہ ہے کہ میں ان تینوں چیزوں سے الرجک ہوں..

    لہٰذا حسبِ عادت میں ان سے قدرے فاصلے پر درخت کے نیچے بلاک رکھ کر بیٹھ گیا..

    کچھ دیر ہی گزری ہو گی.. ان دور بیٹھے ہوئے بندوں کو نادیدہ طاقت نے اکسایا اور وہ میرے پاس دائیں بائیں آ کر بیٹھ گئے.. ایک نے سگریٹ جلا لیا.. دوسرے نے تمباکو کی ڈبی نکالی، وہ تمباکو بنانے لگا تو دو دوسروں نے بھی مانگ لیا.. تینوں نے تمباکو بنا کر اس کی پھک اڑائی اور تمباکو منہ میں رکھ کر زمین کو تھوکو تھوک کرنا شروع کر دیا.. دل میں گالیاں دیتے ہوئے اٹھا اور پرے جا کر کھڑا ہو گیا..

    اب اس وقت فون کال کرنے کیلئے روم سے باہر بینچ پر بیٹھا ہوں ایک میرا رومیٹ ہی نکلا اور یہاں کھڑے ہو کر برش کرنا شروع کردیا.. تھوک پر تھوک پھینکی جا رہا ہے..

    مجبور ہو کر اسے کہا یار واش بیسن پر چلا جا.. تیری مہربانی کیوں مجھے آوا ذار کر رہا ہے…

    ریفائنری میں جاب کی جگہ پر میٹل سٹرکچر کے بنے ہوئے گیارہ فلور ہیں.. پتہ اس وقت لگتا ہے جب اوپر والے فلور کی گریٹنگز سے تھوک نیچے آ کر گرتا ہے.. کچھ بندے تو یہ حد کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی فلور پر ہیں ریلنگ پر آئیں گے وہاں سے گراؤنڈ پر تھوک پھینکیں گے اپنی طرف سے وہ اچھا کر رہے ہوتے ہیں کہ نیچے والی گریٹنگ پر کام کرنے والوں پر تھوک نہ گرے لیکن گراؤنڈ فلور والوں کا کوئی خیال نہیں.. اب گیارہویں فلور سے زمین تک تھوک پہنچنے میں جو وقت لگے گا عین ممکن ہے اس دوران کوئی گزرتا ہوا بندہ اسی جگہ پہنچ جائے اس پر گر جائے.. یا پھر ہوا سے اس کے ذرات کہاں تک جائیں کچھ معلوم نہیں..

    پاکستان میں ہم جیسا بندہ موٹر سائیکل کی سواری ہی عام طور پر کرتا ہے کاروں والے کار کا شیشہ کھول کر تھوک کی فائرنگ کر رہے ہوتے ہیں.. آگے والے موٹر سائیکل سوار پیچھے آنے والوں کا خیال کیے بغیر تھوک پھینک رہے ہوتے ہیں

    کسی بندے کے ساتھ بات کرنے کیلئے کہیں رک جائیں تو وہ پانچ منٹ کی بات کرتے ہوئے دس مرتبہ تھوک پھینکتا ہے..

    خاص طور پر کراچی والوں نے حد ہی کی ہوئی ہے.. کراچی میں کیا اردو سپیکنگ، کیا مہاجر، کیا پنجابی، کیا کشمیری، بلوچی، پٹھان، سندھی یا ہزارہ وال، کیا مرد اور کیا عورتیں .. کوئی بھی گٹکے سے محفوظ نہیں، بس میں بیٹھیں گے تو شیشے والی سائیڈ گٹکا مین کی ہی ہو گی.. اور اس نے وہیں سے باہر والوں کو منور کرتے رہنا ہے.. پھر اچھی اچھی صاف ستھری عمارتوں میں جگہ جگہ دیواروں پر لال رنگ کا گند ہی گند نظر آتا ہے..

    پچھلے سال کراچی میں ایک مارکیٹ میں گیا.. نیا رنگ و روغن بتا رہا تھا کہ مالک نے اچھا خاصا خرچہ کیا ہے.. وہاں سیڑھیوں میں اوپر نیچے تک گٹکے اور پان کے انتخابی نشانات لگے ہوئے تھے..

    پوچھنا یہ ہے کہ یہ بیماریاں عربوں، انڈونیشین، چائنیز، جرمنز، فلپینی، کورینز اور برطانوی باشندوں میں نہیں دیکھی، ان سب کے ساتھ کام کیا ہے ان میں ایسی کوئی معیوب حرکت یا بیماری نہیں دیکھی ..پاکستانیوں اور انڈینز میں یہ حرکات اور بیماریاں کیوں ہیں؟

  • دنیا بھر سے میل ملن کی منفرد رسومات!!! — ستونت کور

    دنیا بھر سے میل ملن کی منفرد رسومات!!! — ستونت کور

    عام طور پر ملاقات کے وقت سلام دعا ، مصافحہ یا معانقہ کرنا میل ملن کا مروج دستور ہے ۔۔۔ تاہم دنیا بھر کے مختلف ممالک اور اقوام میں ملتے وقت کچھ الگ اور عجیب و غریب رسومات بھی موجود ہیں :

    1- تبت میں ملاقات کے وقت اپنی زبان باہر نکالنا احترام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    2- کینیاء کے معروف "مسائی” قبیلے کے لوگ ملاقات کے وقت ایک دوسرے کے منہ پر تھوک کر جذبہ خیر سگالی کا اظہار کرتے ہیں۔

    3- ننیدرلینڈز کے "ماؤری” قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ ملاقات کے وقت اپنی ناک، دوسرے کی ناک سے رگڑ کر نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں ۔

    4- لائبیریا اور بینن کے قبائلی لوگ آپس میں ملتے وقت اپنی انگلیوں سے چٹکی بجا کر سلام دعا کرتے ہیں ۔

    5- فلپائن میں لوگ عمر میں خود سے بڑے احباب سے ملتے وقت ان کا ہاتھ تھام کر ان کے ہاتھ کی پشت کو اپنے ماتھے سے مَس کرتے ہیں ۔

    6- ٹریڈشنل عرب کلچر میں ملاقات کے وقت دوسرے کے ہاتھ یا گال پر بوسہ دینا مروج ہے۔

    7- موزمبیق میں مقامی قبائلی ملاقات کے وقت تین مرتبہ تالی بجا کر گرمجوشی کا ثبوت دیتے ہیں۔

    8- ہندوستان میں لوگ عمر یا مرتبے میں خود سے بڑے احباب سے ملتے وقت چرن سپرش کرتے ہیں یعنی ان کے پیر چھوتے ہیں۔

    9- جاپان میں ملاقات کا دستور یہ ہے کہ دونوں افراد ایک دوسرے کے سامنے جھک کر احترام پیش کرتے ہیں۔

    10- ملائشیا میں لوگ ملاقات کے وقت مصافحہ کرنے کے بعد ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر الفت کا اظہار کرتے ہیں ۔۔۔ یہ رسم کچھ حد تک ہندوستان میں بھی مروج ہے مسلمانوں میں ۔

  • مغرب میں ہارمون تھیراپی اور بلوغت بلاک کرنے والی سرجریز کا ٹرینڈ — ضیغم قدیر

    مغرب میں ہارمون تھیراپی اور بلوغت بلاک کرنے والی سرجریز کا ٹرینڈ — ضیغم قدیر

    اس وقت مغرب میں ہارمون تھیراپی اور بلوغت بلاک کرنے والی سرجریز بہت ٹرینڈنگ ہیں جس میں ان بچوں کو جو اپنی بائیولوجیکل جنس سے ہم آہنگ نہیں ہیں انہیں سرجری سے گزارا جاتا ہے یا ہارمون بلاکر لگائے جاتے ہیں۔

    مطلب؟

    مطلب یہ کہ نو عمر بچے جو شروع سے ٹی وی پہ بار بار lgbtq+ چیزیں دیکھ رہے ہیں مطلب انہیں بچپن سے سکھایا جا رہا ہے کہ مرد کا مرد ہونا اسکے لئے جرم ہے عورت کا عورت ہونا، تو وہ اس بات کو سیریس لے کر اپنی بلوغت سے پہلے اپنے جسمانی جنسی اعضا کی نمو روکنے کے لئے ہارمون بلاکر لیتے ہیں۔ مطلب یہ کہ پہلے بچوں کو برین واش کیا جاتا ہے اور پھر پراڈکٹ بیچی جا رہی ہے۔ اور اس پر میڈیکل ایتھکس بھی اپلائی نہیں کی جا رہیں اور جو اس پر بات کرتا ہے اس کو خاموش کروا دیا جاتا ہے۔

    یہ ہارمون بلاکر کیا کرتے ہیں؟

    یہ ہارمون بلاکر بچیوں میں انکی چھاتیوں کو بڑھنے سے روکتے ہیں، بچوں میں ان کے مردانہ خصائص کے اظہار کو روکتے ہیں۔

    اور اس بارے میں حد سے زیادہ تنگ نظری پائی جا رہی ہے اگر آپ اس عمل کو غلط مانتے ہیں تو آپ ٹرانس فوبک کہلوائے جاتے ہیں، آپ کو نوکری سے نکال دیا جائے گا، باہر کے ملک سے آئے ہیں تو امیگریشن کینسل کرکے ملک سے بیدخل کر دیا جائے گا۔ چاہے آپ ڈاکٹر ہیں، سائنسدان ہیں یا صحافی، بلاتفریق اس پر زبان بندی کروا دی جاتی ہے۔

    اور واقعی میں ایسا ہو رہا ہے۔

    حالانکہ میڈیکل سائنس میں کسی قسم کے بھی جسمانی آرگن کو ٹرانسپلانٹ تک کرنے کے سخت سے سخت قانون ہیں مگر آپ ہارمون بلاکرز اور بریسٹ ریموول سرجری کے لئے ایک اپائنٹمنٹ لیکر سب کچھ کروا سکتے ہیں۔ اور سب سے زیادہ زور اس بات پہ دیا جاتا ہے کہ کم عمری میں ہی لڑکے اپنی ویسکٹومی کروا لیں مطلب خود کو ناکارہ کروائیں۔

    ہمارے ملک میں ٹرانسجینڈر بل امریکہ اور مغربی ممالک کا لال منہ دیکھ کر اپنا منہ لال کرنے کی طرف ایک قدم تو ہے ہی وہیں اسکے کلچرلی بہت بھیانک نتائج ہونگے۔

    کیوں؟

    کیونکہ ہمارے ہاں پہلے ہی مخلوط تعلیم اور رہن سہن پر پابندی ہے ایسے میں جب کم عمر ذہنوں کو بار بار بتایا جائے گا کہ ایک ہی جنس میں کشش محسوس کرنا اور اپنی جنس کو مخالف سمجھنا نارمل ہے تو یہ تباہی مغرب سے زیادہ بھیانک ہوگی۔

    ٹرانسجینڈر ایکٹ جس دن پاس ہوا تھا اس دن اس پہلو پہ بات کرتے ہوئے ہمارے کان لال ہو گئے تھے مگر کچھ سال بعد ان لوگوں کے لال ہونگے جو ابھی خاموش ہیں مگر انکا بیٹا جب صائم سے صائمہ بنے گا اور اپنی اصل بائیولوجیکل جنس قبول کرنے سے انکاری ہو جائے گا۔

    ہمارے ہاں ٹرانسجینڈ ایکٹ کے اثرات مغرب سے برے ہونگے اور آپ یہ بات نوٹ کر سکتے ہیں۔ یاد رہے یہ پوسٹ ٹرانس فوبک ہرگز نہیں بلکہ کلچرل اور میڈیکل پہلوؤں کو بتا رہی ہے۔

  • خانقاہ ڈوگراں:انسانیت کی خدمت شیوہ پیغمبری ہے – مولانا محمد نور المجتبے

    خانقاہ ڈوگراں:انسانیت کی خدمت شیوہ پیغمبری ہے – مولانا محمد نور المجتبے

    باغی ٹی وی ،خانقاہ ڈوگراں (علی رضا رانجھا) انسانیت کی خدمت شیوہ پیغمبری ہے ، گلشن شیخ الحدیث خانقاہ ڈوگراں میں بزم چشتیہ رضویہ کے زیر اہتمام ہر ماہ ابو الفیض فری میڈیکل کیمپ کا دو بار انعقاد کیا جاتا ہے ،گلشن شیخ الحدیث کے مہتمم حضرت مولانا محمد نور المجتبے چشتی نے بتایا کہ ہر ماہ مستحق اور نادار مریضوں کے علاج کے لئے ملک کے ماہر سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی ٹیم آ کر سینکڑوں مریضوں کو چیک کرکے مفت ادویات دی جاتی ہیں ، جس سے انسانیت کی خدمت کر کے روحانی سکون حاصل ہوتا ہے ، آج موہروں اور پٹھوں کے ڈاکٹر حامد ناصر کمبوہ نے سینکڑوں مریضوں کو چیک کرکے مفت ادویات دیں اور انشاء اللہ یہ سلسلہ ہر ماہ جاری رہے گا،ڈاکٹر حامد ناصر نے ابو الفیض فری میڈیکل کیمپ کے بارے میں اپنے بیان میں کہا کہ یہاں پر مریضوں کو چیک کرنے سے جو تسکین ملی ہے وہ تسکین مجھے اپنے کلینک میں نہیں ملی میرے لئے گلشن شیخ الحدیث میں خدمت کرنا بہت بڑا اعزاز اور ثواب کا عمل ہے ، اللّٰہ پاک اس ادارے کے وسیلے سے اپنی شفا کا فیض جاری رکھے

  • گھریلو تشدد ،تحریر: ندرت حامد

    گھریلو تشدد ،تحریر: ندرت حامد

    تعلیم کی کمی یا تربیت کا فقدان ۔ دین سے دوری یا غلط صحبت کا شکار ہمارا معاشرہ ظلم و بربریت کی جیتی جاگتی مثال بنتا جا رہا ہے۔ اور اس ظلم و جبر کا نشانہ ہمیشہ عورت ہی بنی ۔ مرد اپنی ہر بات، لین دین کاغصہ بیچاری اس عورت پہ نکالتا ہے جو اس کے گھر میں بیٹھی ہوتی ہے ۔اسلامی معاشرہ نے، دین اسلام نے عورت کو عزت دی ۔ اس کا مقام بلند کیا ۔ماں کا روپ دیا اور قدموں میں جنت رکھ دی ۔ بیٹی کا درجہ دیا اور رحمت بنا ڈالا ،بہن کا درجہ دیا تو محبت کا گہوارہ بنا دیا ۔بیوی کا درجہ دیا گھر کے مرد کے دل کا سکون بنا دیا ۔ مگر یہی مرد جب عورت پہ مار پیٹ ظلم وجبر اور تشدد کی انتہا تک چلا جاتا ہے یہ بھی بھول جاتا ہے کہ وہ بھی انسان ہے اس کے اندر بھی روح ہے ۔

    ہمارے معاشرے عورت کو ہمیشہ چپ کا سبق دیا جاتا ہے ۔رخصت کرتے وقت یہ تلقین کی جاتی ہے کہ اب یہی تمہارا گھر ہے ۔ جو بھی ہو واپسی کا سوچنا بھی مت ۔ اب اس گھر سے صرف تمہارا جنازہ ہی نکلے گا ۔ کبھی سننے میں آتا ہے شوہر نے جھگڑے کے دوران مار پیٹ کی اور بیوی کا بازو ٹوٹ گیا ۔کبھی جھگڑے میں سر پھوڑ دیا جاتا ہے تو کبھی جسم میں لال نیلے نشان پڑ جاتے ہیں ۔

    ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے کئے گئے سروے میں بتایا گیا پاکستان میں 10سے 20 فیصد عورتیں کسی نا کسی ظلم و زیادتی کا شکار ہیں ۔ پاکستان میں ہر دن 19 سے 20 گھریلو تشدد کے واقعات رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور بہت سے تشدد کے واقعات ایسے ہیں جو رجسٹرڈ ہی نہیں ہوتے ۔ پاکستان میں ہر سال 5000 عورتیں گھریلو تشدد میں قتل کی جاتی ہیں ۔ یہی نہیں آئے روز سوشل میڈیا پہ نت نئی گھریلو تشدد کی ویڈیوز سامنے اتی رہتی ہیں جہاں کبھی شوہر بیوی پہ بہمانہ تشدد کر رہا ہوتا ہے تو کہیں بھائی وراثت میں حصہ مانگنے پر طاقت کے بل پر بہن کا منہ بند کرتا نظر آتا ہے ۔ہر روز ایک ٹرینڈ چل رہا ہوتا ہے جسٹس فار قرات العین ۔جسٹس فار صائمہ جسٹس فار بشری فلاں فلاں ۔جو ہمارے معاشرے کی بے حصی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ گھریلو تشدد میں عورتیں مختلف نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہیں ۔ اور یوں وہ خود کیلئے بھی دوسروں کی محتاج ہو جاتی ہیں ۔

    گھریلو تشدد میں عورتیں ڈیریشن اضطرابی کیفیات سے دو چارنظر آتی ہیں۔گھریلو تشدد کا اثر بچوں کی صحت پہ بھی پڑتا ہے وہ زندگی کے کی میدان میں باقیوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں تعلیمی لحاظ سے بھی کمزور ہوتے ہیں ۔خدارا عورتوں پہ ظلم و زیادتی کی انتہا کی بجائے انہیں وہ درجہ دیں جو انکا حق ہے جو اسلام نے انکو دیا۔ بحیثیت خاندان پر امن قوم بنیں اور پر امن زندگی گزاریں ۔ گھریلو تشدد جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہمارے معاشرے کی اسلامی اصولوں کے مطابق تربیت کی ضرورت پر زور دیا جانا چاہیے پاکستانی معاشرے کی اصلاح صرف اسلامی قوانین کو نافذ العمل کرنے سے ہی ممکن ہے نہ کہ مغرب کی تقلید کرنے سے .مرد حضرات کو چاہئے کہ ہر بات کا غصہ بیوی پر نکالنے کی بجائے اپنے گریبان میں بھی جھانک لیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ عورت کو بھی انسان سمجھا جائے .دین اسلام کی تعلیمات کو خود بھی اپنی زندگی میں نافذ کرکے اپنے گھر کو ایک مثالی خاندان بنایا جائے اس کے بغیر ہم مضبوط، پرسکون اور جنت نظیر خاندان اور گھر کا تصور نہیں کرسکتے،یہی آخری آپشن ہے

    کرونا کے مریض صحتیاب ہونے کے بعد کب تک کریں جسمانی تعلقات قائم کرنے سے پرہیز؟

    کرونا کا خوف،60 سالہ مریض کو 4 گھنٹے میں 3 ہسپتالوں میں کیا گیا ریفر،پھر ہوئی ایمبولینس میں موت

    کرونا کے بہانے بھارت میں مسلمان نشانہ،بیان دینے پر مودی نے ہندو تنظیم کے سربراہ کو جیل بھجوا دیا

    مودی کے گجرات میں کرونا کے بہانے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی

    لاہور کے علاقے سے کٹی ہوئی دو ٹانگیں کچرا کنڈی سے برآمد

    گائے ذبیحہ کے نام پر بھارت میں مسلمانوں کو ہزاروں افراد کی موجودگی میں زنجیرمیں جکڑ کر زندہ جلا دیا گیا