Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • مانگنے کی نفسیات!!! — محمود فیاض

    مانگنے کی نفسیات!!! — محمود فیاض

    مانگنے کی نفسیات ۔ ۔ ۔ بھکاری یا بادشاہ ۔ ۔ چوائس آپ کی اپنی ہے؟

    میں نے جب کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز ڈگری کے لیے کالج جوائن کیا تو شائد کلاس کا سب سے غریب لڑکا ہونگا۔ ۔ کالج میں متمول گھرانوں کے لڑکوں سے دوستی ہو گئی ۔ ۔ ۔ جن کا کام تھا کہ ہر بریک میں کسی ایک کی گاڑی میں بیٹھ کر قریبی ریسٹورنٹ چلے جانا اور من مرضی کے اسنیکس کھانا۔ ۔ ۔ آئس کریم ، کافی، ڈرنکس وغیرہ ۔ ۔

    ان چار سالوں میں میں نے کیسے گزارا کیا، یہ اپنے ایک دوست کی زبانی بتاتا ہوں، جو کالج گریجوئشن کے بعد ایک روز ملنے گھر چلا آیا۔ ۔ یہ ان دوستوں میں سے ایک تھا جو انیس سو بانوے (ورلڈ کپ والا 🙂 ) میں گاڑی پر کالج آتے تھے ( اب تو نو دولتیے بہت ہو گئے ہیں) ۔ ۔ ۔ اس دوست نے جب میرا گھر دیکھا تو دوستوں والی بےتکلفی سے بولا، اوئے محمود تم نے کبھی بتایا ہی نہیں کہ تم اس قدر غریب ہو ۔ ۔ ۔ میں نے شرمیلی ہنسی ہنسی ۔ ۔ بس یار ۔۔۔ یہی سب ہے جو تمہارے سامنے ہے ۔۔۔

    (دھیان کیجیے، میں نے شرمیلی ہنسی کہا شرمندگی والی نہیں۔ ۔ کیونکہ ان چار سالوں میں نہ کبھی اپنی حیثیت چھپانے کی کوشش کی اور نہ بڑھا کر بتانے کی۔ یعنی نہ امیروں جیسا دکھنے کی جھوٹی کوشش کی، ۔ ۔ اور نہ اپنی غربت کو اشتہار بنایا۔ ۔ بس دوستوں کے ساتھ دوستی ہی نباہی۔ )

    دوست نے کہا، ۔ ۔ ۔ مگر ان تمام سالوں میں تم نے کبھی احساس نہیں ہونے دیا۔ ۔ کہ تمہاری جیب میں پیسے نہیں رہے۔ تم اپنے پیسے خود دیتے تھے۔ ۔ اگر کبھی ہماری ٹریٹ ہوتی تھی، تو کبھی تمہاری ٹریٹ ہوتی تھی۔ ۔ ہمیں لگا ہی نہیں کبھی کوئی فرق۔ ۔

    دوستو، فرق تھا۔ ۔ ۔ بہت بڑا فرق تھا۔ ۔ انکے کپڑے جوتے ہر سیزن بدل۔جاتے تھے۔ فیشن کے مطابق ہوتے تھے۔ ۔ میرے کپڑے جوتے صاف تو ہوتے تھے مگر پرانے تھے۔ ۔ جوتا اوپر سے پالش ہوتا تھا مگر اسکا تلا اتنا پتلا تھا کہ گرمی میں سڑک کی گرمی اور سردی میں کنکریٹ کی ٹھنڈک پاؤں تک آتی تھی۔ ۔ ۔

    دوسرا فرق یہ تھا کہ جس روز میری جیب میں اپنے ڈرنک کافی کے پیسے نہیں ہوتے تھے، میں خاموشی سے کسی اسائنمنٹ کو پورا کرنے کے بہانے آئی ٹی لیب میں گھس جاتا تھا، ۔ ۔ اور وقت گزر جاتا تھا۔

    جانے یہ ہماری جنریشن تک تھا یا اب نوجوانوں میں بھی کچھ ایسے ہی خوددار نوجوان ہونگے جو جیب میں اپنے پیسوں کے علاوہ کسی سے امید یا لالچ نہیں رکھتے۔ ۔ ۔ کیونکہ میں مسلسل مشاہدہ کرتا ہوں کہ سوشل میڈیا پر بھی اور عام میل جول میں بھی اکثر ایسے لوگ سامنے آتے ہیں جو دعوت دینے سے زیادہ دعوت کھانے کی خواہش کرتے نظر آتے ہیں۔ ۔ ۔ تحفہ دینے کی بجائے مانگنے کا رواج چل پڑا ہے شائد۔ ۔ ۔ کالج گوئنگ کی اکثر بات چیت میں دوسرے سے پارٹی چھیننے کی پلاننگ ہوتی ہے، ۔ ۔

    اس سے زیادہ شرمندگی والا رویہ آنلائن سیلز کے اشتہار میں ہوتا ہے، جہاں لوگ ڈھٹائی سے مفت مانگنے کا کام کرتے ہیں۔ کتاب کے اشتہار یا ریویو پر کتاب مفت مانگنے والوں کی قطار لگ جاتی ہے۔ ۔ اور کوئی پوچھے تو اپنی تہی دستی، تنگ دامنی، غربت کا رونا رویا جاتا ہے۔

    مجھے لگتا ہے کہ بھکاری نفسیات ہماری اگلی جنریشنز میں بڑھتی جا رہی ہے، اور خود داری اور مہمانداری پرانے قصے ہوتے جا رہے ہیں۔ مادیت پرستی ہے، کردار و تربیت کی کمی ہے، یا گھٹیا تربیت جو کچھ قبائل سے اب مین اسٹریم میں داخل ہو رہی ہے، ۔ ۔ جو بھی ہے، اس سے ایسی سماجی روایت بن رہی ہے جس میں مفت بری کوئی عیب نہیں ہے۔

    دوسری جانب، اللہ کی نعمتوں کا کفران ہے جب آپ ٹھیک ٹھاک ہوتے ہوئے محض ایک پیزے، ایک برگر، ایک بریانی، یا ایک کتاب کی خاطر اپنی جیب خالی ہونے کا رونا روتے ہو۔ ۔ ۔ خدا شکر کرنے والوں کو نوازتا ہے اور ناشکری والوں کو ناپسند کرتا ہے۔ انکا رزق یقینا سکڑ جاتا ہے۔

    میں نے اپنے دوست کو اپنے دادا جی کی نصیحت سنائی، جو وہ مجھے ہمیشہ کرتے تھے۔ کہ انسان اپنی جیب سے نہیں اپنے دل سے امیر ہوتا ہے۔ دل امیر ہو تو جیب میں چند روپے بھی پادشاہئ ہے، اور دل غریب ہے تو ایک وسیع سلطنت کا بادشاہ بھی غریب ہے۔ ۔ ۔

    بس میں نے کالج کے ان سالوں میں دادا جی کی اس نصیحت پر عمل کیا اور کچھ نہیں۔ ۔ ۔ بادشاہ پیاسا بھی ہو تو وہ کتے کی مانند جوہڑ پر منہ نہیں جھکاتا۔ ۔

    اللہ ہمیں بھکاری نفسیات سے بچائے اور ہمارے بچوں کو بادشاہوں جیسا جینا سکھائے۔ آمین۔

  • دنیا سے بے رغبتی دین اسلام نہیں سکھاتا!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    دنیا سے بے رغبتی دین اسلام نہیں سکھاتا!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    پاکستان میں اس وقت ایک لاکھ کے قریب دینی مدارس ہیں جس میں لاکھوں طلباء زیر تعلیم ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر یتیم، مسکین اور غریب طلباء ہیں جو مدارس میں ہی رہائش پذیر ہوتے ہیں یعنی ان کے چوبیس گھنٹے مدرسے میں ہی گزرتے ہیں۔ کئی کئی سالوں کی تعلیم کے بعد جب طالب علم باہر نکلتے ہیں تو بڑی مشکل سے انھیں کوئی نوکری ملتی ہے۔

    مل بھی جائے تو زیادہ تر کیسز میں کسی مسجد کے خادم، مؤذن، امام مسجد یا پھر کسی مدرس میں قاری ، عالم وغیرہ کے طور پر ہوتی ہے۔ اس میں تنخواہ بہت ہی تھوڑی ہوتی ہے جو کے سات سے پندرہ ہزار تک ہوتی ہے۔ یعنی اتنے سال مدرسے میں لگانے کے باوجود جیسے غریب مسکین پہلے ہوتے ہیں ویسے ہی رہتے ہیں۔

    دینی تعلیم کوئی اتنی مشکل بھی نہیں کہ اس کے ساتھ کوئی دوسری تعلیم یا ہنر کے لیے کچھ وقت نہ نکالا جا سکے۔

    مدارس اگر دن میں صرف ایک یا دو گھنٹے کسی ہنر کے سکھانے کے لیے مختص کر دیں یا پھر ہفتے میں کوئی ایک دن اس کام کے لیے مختص کر دیں تو یہی طالب علم کوئی نہ کوئی ہنر سیکھ کر باعزت روزی بھی کما سکیں گے اور یہ اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ان میں سے اکثریت امامت وغیرہ کے فرائض مفت میں ہی انجام دینے کو راضی ہوجائے گی۔

    پھر اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ابھی انھیں اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ ان کی کوئی بات مسجد کمیٹی کو بری نہ لگ جائے اس لیے بہت سے موضوعات پر بالکل ہی خاموش رہتے ہیں جس پر جمعہ کے خطبے میں بات کرنی چاہیے، جب یہ مسجد کے تنخواہ دار نہیں ہونگے تو بلاجھجھک حق بات کہہ سکیں گے۔

    کورسزاور سکلز میں آنلائن سکلز بھی ہوسکتی ہیں جس میں بنیادی انگریزی تعلیم کے ساتھ آنلائن قرآن کی تعلیم تاکہ باہر سے زرمبادلہ پاکستان لا سکیں۔ اس طرح صرف آدھا گھنٹہ باہر کے کسی ملک میں پڑھا کر امام مسجد کی تنخواہ سے بھی زیادہ پیسے کما سکتے ہیں۔
    ایسے ہی باقی بھی بہت سی آنلائن سکلز جیسے گرافک ڈیزائننگ، ٹائپنگ، کانٹینٹ رائٹنگ، وغیرہ جیسی کئی ہیں۔

    آنلائن کے علاوہ کئی آف لائن کام بھی سکھائے جاسکتے ہیں جیسے درزی، پلمبر، الیکٹریشن، اے سی سروس، واشنگ مشین سروس، گیس کا کام، فریجوں کا کام، گاڑیوں کا میکنک ، یو پی ایس ٹھیک کرنے والے، وغیرہ وغیرہ جیسی بڑی لمبی لسٹ ہے۔

    امام مسجد کے لیے فجر کی نماز سے ظہر کی نماز تک کم سے کم بھی چھ سے سات گھنٹے کا وقت ہوتا ہے۔ باقی وقت نہ بھی دے ، صرف اسی میں کام کر لے تو اچھی خاص کمائی کی جاسکتی ہے۔ اگر باہر پڑھانا ہے تو اس وقت سو لیا جائے اور رات کو عشاء سے فجر کے درمیان بھی کئی گھنٹوں کا وقت ہوتا ہے۔

    کوئی رول ماڈل مدرسہ اس طرز پر شروع ہونا چاہیے تاکہ وہاں سے صرف عالم دین نہ نکلیں بلکہ اچھے ٹیکنیشن بھی ہوں ۔ یہ لوگ اپنے بہترین طرز عمل سے اسلام کے بہترین داعی بھی ہو سکتے ہیں۔ روزی روٹی کے ساتھ مختلف لوگوں کو دینی مسائل کے بارے بتانا اور دین کی تبلیغ بھی زیادہ لوگوں کو ہو سکتی ہے۔

    دنیا سے بے رغبتی دین اسلام نہیں سکھاتا بلکہ دنیا میں رہ کر دین و دنیا دونوں کو ساتھ ساتھ لے کر چلنا ہی اصل کامیابی ہے۔ جب آپ کے پاس پیسہ ہوتا ہے تو دنیا والے آپ کی دین سے متعلق بات بھی غور سے سنتے ہیں۔

    اگر کوئی ایسا مدرسہ آپ کی نظر میں ہے تو اس کا بتائیں تاکہ لوگ وہاں اپنے بچوں کو بھیجیں اور اگر کوئی نہیں ہے تو کوئی ایسا دوست ہے جو اس کی بنیاد رکھ سکے؟

  • تقسیم کرنے والا!!! — انیس الرحمن باغی

    تقسیم کرنے والا!!! — انیس الرحمن باغی

    اٹک میں موجود ختم نبوت ہوٹل اکثر ہماری چائے کی بیٹھک کی جگہ ہوتی ہے کہ یہاں کی چائے بہت معیاری ہوتی ہے اور دوسرا یہاں کا کھلا ماحول آپ کی طبیعیت کی بیزاری کو دور کرنے میں معاون ہوتا ہے۔

    آج بھی ہم نے چائے پینے کا ارادہ بنایا تو ختم نبوت ہوٹل کو ہی چل دیئے چائے ابھی پہنچی نہیں تھی ہم گپ شپ میں مصروف تھے کہ میرے بائیں بیٹھے بھائی نے مجھے متوجہ کر کے کہا کہ یہ ساتھ تیسرے ٹیبل پر بزرگ بیٹھے ہیں ان کے پاس کھانے کیلئے پیسے نہیں ہیں ویٹر کو کہہ رہے تھے کہ میرے پاس 40 روپے میں مجھے روٹی کھلا دو تو ویٹر نے کہا کہ بابا جی 40 روپے میں تو چائے نہیں آتی کھانا کیسے آپ کو کھلاؤں؟؟؟ یہ سب گفتگو میرے ساتھ بیٹھے بھائی نے سنی تو مجھے کہا کہ جا کر کاؤنٹر پر بتا دو کہ ان بابا جی کو کھانا کھلا دیں رقم کی ادائیگی ہم کریں گے۔ ان شاءاللہ

    کاؤنٹر پر جا کر میں انہیں کہہ کر آیا کہ بابا جی کو کھانا دیا جائے، ساتھ ہی چائے پلانے کا بھی کہہ دیا واپس آکر کہا کہ بابا جی یہ چالیس روپے جیب میں ڈالیں روٹی آپ کو دے دیتے ہیں بابا جی منہ سے کلمہ شکر نکلا اور برکت کی دعا دی لیکن آنکھوں سے یاسیت کی کیفیت نہ گئی اور کہنے لگے میں تو کھا لونگا لیکن میرے بچے جو کل سے بھوکے ہیں وہ کیا کریں گیں؟ ایڈریس کی بابت پوچھا تو کہنے لگے کہ حاجی شاہ رہتا ہوں کل کسی سیاسی شخصیت کا نام لیکر کہتے ان کے پاس گیا کہ کچھ کھانے کیلئے دے دو تو مجھے کہا گیا کہ صاحب موجود نہیں بعد میں آنا کا کہہ کر ٹال دیا گیا۔

    ساتھ موجود دوسرے بھائی نے 300 روپے بابا جی کو کرایہ کی مد میں پیسے دیئے اور کہا کہ آپ رکشہ میں بیٹھ کر مرکز مصعب بن عمیر پیپلز کالونی پہنچیں ہم آپ کے بچوں کیلئے راشن کا بندو بست کرتے ہیں۔ مقامی بھائی نے مدرسہ میں فون کر کے ایک راشن پیک تیار کرنے کو کہا جو کہ مدرسہ کے بچوں کے راشن سے ہی بننا تھا۔ میں نے بابا جی کو مرکز کا ایڈریس سمجھایا اور اپنا نمبر انہیں دیا کہ وہاں پہنچ کر مجھے فون کریں۔

    ہمارے چائے پینے کے بعد مرکز پہنچنے کے کچھ دیر بعد ہی مجھے ایک غیر مانوس نمبر سے کال آئی میں نے السلام علیکم کہا تو وہی مانوس سی نحیف آواز سنائی دی
    "پتر میں اوہ بابا بول رہیا آں جسان تساں روٹی کھوائی اے میں ماشاءاللہ سی این جی ت بیٹھا آں”
    میں نے بابا جی کو کہا کہ بابا جی آپ وہیں بیٹھیں میں آیا میں نے راشن اٹھایا اور ایک بھائی کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر ماشاءاللہ CNG پر پہنچا ان باباجی کو سامان دیا اور ان کو دعاؤں میں یاد رکھنے کا کہا تو بابا جی نے فقط نم آنکھوں کو چھلکنے سے روکا ورنہ وہ چھلکنے کو بے تاب تھیں۔ کہنے لگے مستریوں کے ساتھ کام کرتا ہوں بازو کمزور ہوگئے کہ اب مزدوری نہیں کر سکتا تین بچیاں اور ایک چھوٹا بچہ ہے۔

    ہم نے بابا جی کو نماز پڑھنے اور رب سے دعا کرنے اور محتاجی دور کرنے کی دعا مانگنے کی تلقین کی اور سب کیلئے دعا کی تلقین کی اور کہا کہ بابا جی پوری کوشش ہوگی کہ آپ کو ماہانہ معقول راشن پہنچایا جا سکے، اور جلدی موٹرسائیکل کو واپس موڑا کہ کہیں بابا جی کی آنکھیں چھلک نہ پڑیں۔ اور واپسی پر سوچ رہا تھا کہ دنیا میں کیسے کیسے مجبور لوگ ہیں اور سفید پوش لوگ ہیں جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے اور ان کا حق پیشہ ور مانگنے والے دست سوال دراز کر کے کھا جاتے ہیں۔ اور ساتھ ہی رب تعالیٰ کا شکر بھی ادا کیا کہ اس نے دینے والا اور تقسیم کرنے والا بنایا کہ اس نے اپنے علاؤہ کسی کا محتاج نہیں بننے دیا۔

  • LGBTQ+ ایمبریلا سے آبادی کا بڑھنا رک سکتا ہے؟ — بلال شوکت آزاد

    LGBTQ+ ایمبریلا سے آبادی کا بڑھنا رک سکتا ہے؟ — بلال شوکت آزاد

    نیو ورلڈ آرڈر کے تحت ایجنڈا 2030 میں سر فہرست تین مسائل ہیں جس کا تعلق دنیا کی کل آبادی کے اندھا دھند پھیلاؤ سے ہے۔

    1- آبادی
    2-خوراک
    3-ماحولیات

    اب آبادی کے مزید پھیلاؤ کے لیے مختلف طریقے, نظام, تحاریک اور معاشرتی ڈھانچے تشکیل دیئے گئے, تشکسل دیئے جارہے ہیں اور مزید تشکیل دیئے جائیں گے جس سے بغیر کسی زیادہ خون خرابے کے قدرتی طور پر نسل انسانی کی بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول حاصل کیا جائے گا۔

    بحث اور تفصیل کافی طویل ہے, مختصراً یہ کہ LGBTQ+ ایمبریلا سے آبادی کا بڑھنا رک سکتا ہے اور پہلے سے بڑھی ہوئی آبادی میں کمی واقع ہوسکتی ہے اور جب آبادی کم ہوگی اور مزید نہیں پھیلے گی تو فی کس خوراک کا تخمینہ گھٹے گا اور ماحولیاتی آلودگی بھی کم ہوسکے گی کہ کم آبادی میں انڈسٹریل کمپلیکسز کی پروڈکشن کا پیک لیول کم ہوگا۔

    وہ کیسے؟

    وہ ایسے کہ اول غیر فطری جنسی رشتوں سے عمل تولید کا قدرتی سائیکل ٹوٹ جائے گا جس سے ایک تو نئی پیدائش رک جائے گی اور دوم غیر فطری جنسی رشتوں سے جان لیوا وائرسز اور بیکٹریا کی منتقلی کی بدولت لاعلاج بیماریاں عام ہوجائیں گی جس سے پہلے سے موجود آبادی کا خطیر حصہ قبروں کی جانب رواں دواں ہوگا۔

    جب ایسا ہوگا تو یقینا بڑھی ہوئی یا بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے جو خوراک اور ماحولیات متاثر تھے یا ہورہے تھے وہ مزید متاثر ہونے سے بچ جائیں گے۔

    مزید یہ کہ جن معاشروں میں خاندان نامی انسٹیٹیوٹ کا وجود عنقا ہورہا ہے یا ہوچکا ہے وہاں تو خاموش تباہی کی شروعات ہوچکی لیکن اب نیو ورلڈ آرڈر کے تحت ایجنڈا 2030 کے کرتا دھرتاؤں کا بنیادی ہدف تیسری دنیا ہے جہاں پوری دنیا کی آبادی کا 60 سے 70 فیصد آباد ہے اور جو دنیا کی خوراک اور ماحول پر زیادہ اثر انداز ہورہے ہیں۔

    اور ہاں عورت کی آزادی بھی اس ایجنڈے کا ایک بنیادی جزو ہے کہ جب ” عورت میرا جسم میری مرضی ” کا نعرہ بلند کرکے مرد کو ٹھینگا دکھا کر راستہ ناپے گی تو پھر بھی بچی کچھی صورتحال جس میں پیدائش کا امکان رہتا ہے وہ بھی ختم یا کم ہوجائے گی۔

    لبرل, سیکیولر, ترقی پسند اور ملحدین آپ کو یہ باتیں کرنے پر جہالت, قدامت پسند اور سازشی تھیوریز کے پروردہ کہہ کر اپنا رانجھا راضی کرنے کی کوشش کریں گے لیکن یاد رکھنا ہم جوابدہ اللہ کو ہیں تھڑے باز تھرڈ کلاس لبرل, سیکیولر, ترقی پسند اور ملحدین مخلوق کو نہیں اور یہ سب بتانا اور آگاہ کرنا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں آتا ہے لہذا اس فتنہ عظیم سے بچیں۔

  • ہمارا نظام افرنگ سے فرق — ابو الوفا محمد حماد اثری

    ہمارا نظام افرنگ سے فرق — ابو الوفا محمد حماد اثری

    ہاسپٹل کے ماحول میں رہنا ایک ہولناک تجربہ رہا ہے۔ کوئی ایکسیڈنٹ کا مارا آرہا ہے، کسی بزرگ کو تکلیف نے ادھ موا کر چھوڑا ہے اور کئی کم نصیب تکلیف سے بے ہوش ہیں سرہانے کھڑے ہو کر دعائیں مانگنے والا کوئی نہیں اور کسی کے مر جانے پر رونے والا بھی کوئی نہیں۔

    ہمت ہے ڈاکٹر لوگوں کی، وہاں کی فضا میں دن رات کاٹ لیتے ہیں، ہمیں تو جب بھی جانا ہوا وحشت لے کر لوٹے۔

    جن دنوں ہم چچا کو لے ہاسپٹل میں تھے تو ساتھ والے بیڈ پر ایک بزرگ بے ہوش پڑے تھے۔ ان کے بیٹے دن رات ان کی کئیر میں لگے رہتے، مجال ہے جو ایک لمحے کے لئے بھی جدا ہوتے ہوں، لیکن بزرگ ان سے جدا ہوگئے۔

    اور ایک بزرگ کے بیٹے نے باہر سے ہی پیسے بھیج دئیے تھے کہ ابے کو ٹھیک کروا لو، میرے پاس واپس آنے کا ٹائم نہیں۔ مادیت کی ہوس نے بھی ہم پر عجیب عذاب مسلط کئے ہیں، کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو پالتا ہے، پوستا ہے، جوان کرتا ہے، اور پھر مادیت کے ہرکارے اس بچے کو پڑھانے آجاتے ہیں کہ تیرا والد تیری ترقی میں رکاوٹ بن کے کھڑا ہے۔ زندگی کے سرد و گرم سے بے نیاز ہو کر بیٹے کو پالنے والا، اپنے بیٹے کے گرمجوشی والے استقبال سے محروم محض کر دیا جاتا ہے۔

    یہ خداوندان نظام افرنگ، جب کہیں طاقت میں آجائیں تو بوڑھوں کو اولڈ ہاوسز میں منتقل کر دیتے ہیں، کیوں کہ ان کے اپنے ہی بیٹوں کے لئے باپ کی نسبت نوکری بہر حال اہم ہوچکی ہے اور دل ان کا اس پر مطمئن ہے کہ اولڈ ہاوس میں باپ محفوظ رہتا ہے۔

    کبھی سوچتا ہوں کہ خدا ایسی شدید تنہائی ہمیں نا دکھائے تو اچھا، جہاں انسان رشتوں کے احساس سے محروم ہو کر کسی مشینی زندگی کا آلہ بن کر رہ جائے۔ جہاں باپ بیٹے پر حاکم ہونے کی بجائے، کسی اولڈ ہاوس میں بیٹھ کر اس کی راہ تک رہا ہو، جہاں حاکمیت کے احساسات اچانک غلامی میں بدل جاتے ہیں، جہاں کاندھوں پہ کھیلنے والا لاڈلہ والد کا بوجھ کاندھوں سے اتار پھینکتا ہے۔ خدا نا دکھائے، مگر معاشرہ اسی گھٹن کا شکار ہونے جا رہا ہے۔

    پھر کملی والا یاد آجاتا ہے، میں قربان آقا کی ذات پر، کہ باپ اپنی پوری حاکمیت کے ساتھ گھر کے سربراہ کے طور پر بیٹھا ہے۔ بیٹے کو والد کا فیصلہ غلط بھی لگتا ہے تو اپنی رائے دینے کے لئے کئی کئی دن لفظ ڈھونڈنے میں لگا دے، مبادا میرا والد ناراض نا ہوجائے۔ اور یہی ایک فرق ہمارا نظام افرنگ سے ہے، کہ یہاں بیٹا باپ سے بات کرتے ہوئے ڈرتا ہے اور وہاں باپ ہزاروں باتیں اس لئے بھی نہیں کر پاتا کہ بیٹا کہیں ناراض نا ہوجائے۔

  • میراثیت کی لت — عثمان ای ایم

    میراثیت کی لت — عثمان ای ایم

    جنگل میں ایک بندر چیخا "اُووہ اُووہ ہا اُووہ۔۔۔۔ ”
    دیگر سب بندر بھی شروع "اُووہ اُووہ ہا اُووہ۔۔۔۔ ”
    بہت شور مچا، لیکن دو چار منٹ میں سب خاموش ہو گئے۔

    پھر کسی گدھے نے پکارا۔۔۔ "ڈھچوں ڈھچوں ۔۔۔ پاوا۔۔۔۔ لاوا۔۔۔۔”
    دیگر لاکھوں گدھے بھی شروع ” ڈھچوں ڈھچوں پاوا۔۔۔۔۔ لاوا۔۔۔۔ پاوا۔۔۔ لاوا۔۔۔۔”
    اڑتالیس گھنٹے سے زیادہ ہونے کو آ گئے ہیں، یہ سب گدھے ابھی تک ڈھچوں ڈھچوں کر رہے ہیں۔

    عمومی جانور اپنی حیوانی جبلت سے مجبور ہوتے ہیں، ان کو شعور نہیں ہوتا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کو چھوڑ کر کچھ مفید اور تعمیری کام کر لیں۔ اس کے باوجود وہ بھی کچھ دیر چوں چوں کر کے، غرا کر ، بھونک بھونک کر آخر چپ ہو جاتے ہیں۔

    لیکن ان حیوانوں کا کیا کیا جائے جن کے ہاتھوں میں کی بورڈز آ گئے ہیں اور ان کی ڈھچوں ڈھچوں بند نہیں ہو رہی۔ پھر کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ فلاں فلاں میراثی، بھانڈ اور چوڑے چمار یا فلاں فاحشہ کو فلاں ندا یاسر نامی میڈیا طوائف نے اپنے پروگرام میں کیوں بلا لیا۔ تو یہی "پاوا لاوا” بیضہ نامطلوب اچانک ہاں ہاں کرتے ہوئے "اخلاقیات بریگیڈ” کے پیادے بن جاتے ہیں۔

    اللہ کی مار ہو گھٹیا اندھے بہرے حکمرانوں پر، فحش میڈیا پر، اور ان انتہائی گھٹیا اور بداخلاق پنجابی تھیٹر والوں پر، جنہوں نے کروڑوں لوگوں کو بھانڈ اور میراثی بنانے اور ذومعنی اور فحش باتیں سکھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

    ان کو میراثیت کی ایسی لت لگی ہے کہ ان کا حال اس میراثی سے بھی بدتر ہو گیا ہے جو اپنے باپ کی فوتگی پر بھی پولی پولی ڈھولکی بجا کر اپنی لت پوری کرنے کے چکر میں تھا۔

  • بس بات میری سمجھ میں آ گئی — ہمایوں تارڑ

    بس بات میری سمجھ میں آ گئی — ہمایوں تارڑ

    میں نے دیکھا ۔۔۔ کہ ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے کچھ بونس پوائنٹس یا coins وغیرہ کی آفر ملتی ہے۔ اُنہیں پاکٹ کر لینے سے آپ کی قوت و طاقت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اِس اضافی قوت کے استعمال سے آپ کوئی بڑی گھاٹی، بڑی رکاوٹ زیادہ بڑا جمپ لے کر عبور کر جاتے ہیں۔

    پرسوں رات کیا ہوا؟ ۔۔۔ میرے بڑے بھائی لاہور سے اسلام آباد سفر کے دوران ایک جان لیوا حادثے میں بال بال بچ گئے۔

    یہاں پی ڈبلیو ڈی سوسائٹی کے آس پاس والے علاقے میں ایک جگہ سڑک زیرِ تعمیر ہے۔ ایک جگہ road divider کا کچھ حصہ ایسی ایبنارمل حالت میں پڑا ہے کہ وہاں ہر روز ایک نیا حادثہ جنم لیتا ہے۔

    اندھیرے میں میرے بھائی کی گاڑی کا ٹائر بھی ذرا سا سلِپ ہو کر اوپر چڑھا تو گاڑی بے قابو ہو کر ڈِیوائیڈر پر چڑھ دوڑی۔ اب قریب تھا کہ گاڑی وَن وے سڑک کے دوسری جانب اتر کر فاسٹ ٹریک پر چڑھ جاتی اور بیسیوں تیز رفتار گاڑیاں اُس کا کچومر بنا دیتیں، گاڑی یکلخت رُک گئی۔ رکتے ہی، حیرت انگیز طور، کوئی پانچ درجن افراد نے گاڑی کو گھیر لیا۔ یعنی مدد اور حال احوال پوچھنے کی غرض سے۔

    بھائی کہتے ہیں، پہلے تو میں یہ دیکھ کر حیران کہ رات گئے اتنے لوگ ! ۔۔۔ وہ بھی ایکدم سے!! ۔۔۔ اور دردمندی کا ایسا اظہار، اور پھر گاڑی نکال لے جانے میں مدد۔۔!! ۔۔۔ بتایا گیا، "آپ سے پہلے ہم دو ڈَیڈ باڈیز اٹھا چکے ہیں۔ اُن دونوں حضرات کی گاڑیاں بھی مکمل تباہ ہو گئی تھیں۔ حیرت ہے آپ کو خراش تک نہیں آئی، اور آپکی گاڑی بھی صحیح سلامت۔ ورنہ اِس صورتحال میں بچت کا امکان تقریباً صفر برابر ہے۔”

    میں نے بھائی سے پوچھا آپ یہاں اسلام آباد وارد ہونے سے قبل لاہور کیا لینے گئے تھے، کس کام سے؟

    جواب ملا، ماموں کے جس بیمار بیٹے کا لاہور سے علاج کروایا تھا، لاہور میں ہی اس کی جاب کروا دی تھی۔ اب مہینہ بھر گذر چکا تو اُسے گھر والوں سے ملوانے خود لاہور سے لا کر گاؤں میں ڈراپ کیا تھا۔ ساتھ میں اُن کے گھر تیس چالیس ہزار روپے کا راشن بھی ڈال آیا کہ مہنگائی بہت ہے ۔۔۔

    بس بات میری سمجھ میں آ گئی۔

    کتابِ تقدیر میں درج شیڈول کے مطابق قضا نے اپنا پنجہ مار کر بھائی کو اُچک لینا چاہا تھا۔ مگر "ویڈیو گیم پلیئر” نے راستے میں میسر آئے کچھ بیش قیمت coins پاکٹ کر رکھے تھے۔ چنانچہ گیم پلئیر اپنی اضافی قوت سے تقدیر کی بچھائی اِس موت کی گھاٹی کو بڑا جمپ لے کر عبور کر گیا تھا۔

    ایک بار پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب کی زبان سے سنا کہ تقدیر کوئی اتنی بھی اٹل شے نہیں ہے۔ شطرنج کی بساط کی طرح اِدھر سے اُدھر ہو جانے والے راستے موجود ہیں۔ اِن کے واضح اشارات قرآن و حدیث میں ہمیں مل جاتے ہیں۔ جیسے ایک حدیثِ رسولؐ کے مطابق اگر کسی شخص کی رخصتی کا وقت قریب آن پہنچا ہے مگر اُس کی زندگی کے حق میں ڈھیر سارے لوگ مل کر دُعا کر دیں تو ایسی دُعا کو honour کیا جاتا ہے۔ اُس شخص کے حق میں ایکسٹینشن دے دی جاتی ہے ۔۔۔ تو گویا یہ بھی coins مل جانے والا معاملہ ہوا۔

    بنی اسرائیل کی اُس فاحشہ عورت نے کنویں کنارے پیاس سے ہانپتے کتے کو پانی پلایا تھا۔ اپنے جوتے کو ڈول بنا کر کنویں میں اتارا، پانی بھر کر باہر لائی، پانی پلایا ۔۔۔ اس کے عوض اُسے بہشت والی گاڑی کا ٹکٹ تھما کر بہشتی گاڑی میں بٹھا دیا گیا ۔۔۔۔ تو گویا یہ بھی coins مل جانے والا معاملہ ہوا۔

    بس نظر رکھیں، ایسے coins ہمارے گردوپیش میں بکھرے پڑے ہیں۔ یہ کبھی ہمارے دروازے پر براہ راست دستک دیتے ہیں، تو کبھی راستے میں پڑے ملیں گے ۔۔۔ گاہے فون پر کوئی اطلاع ملنے کی صورت ۔۔۔ کمفرٹ زون سے قدرے باہر آ کر اِنہیں اُچک لینا ضروری ہے۔

  • سندھ کے سکولوں میں کلچرل ڈے منیایاگیا،رنگارنگ پروگرام منعقد کئے گئے

    سندھ کے سکولوں میں کلچرل ڈے منیایاگیا،رنگارنگ پروگرام منعقد کئے گئے

    سندھ کے سکولوں میں کلچرل ڈے منیایاگیا،رنگارنگ پروگرام منعقد کئے گئے
    کندھ کوٹ سے مختیار اعوان کی رپورٹ کے مطابق کندھ کوٹ کے علاقے غوث پور کے پرائمری اسکول میں سندھی کلچر ڈے پروگرام منعقد کیا گیا پروگرام میں اساتذہ طلبہ وہ طالبات کے ساتھ دیگر لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ثقافتی پروگرام میں ٹوپی اور اجرک پہن کر طلبہ اور طالبات نے سندھی گیتوں پر رقص کیا ثقافتی تقریب میں آئے ہوئے مہمانوں کو سندھ کی ثقافت ٹوپی اور اجرک کے تحفے دیئے گئے اس موقع پر تقریب کے شریک لوگوں کا کہنا تھا کہ سندھ کی ثقافت ٹوپی اور اجرک پانچ ہزار سال پرانی تہذيب ہے سندھی قوم اپنے روایات برقرار رکھی ہوئی ہے اور ہمیشہ کے لیے یہ کلچرل ڈے کو عید کی طرح منایا جاتا ہے، سندھ کی ثقافت ٹوپی اور اجرک سندھی لوگوں کی پھچان ہے ہم سندھی قوم اپنی پھچان دنیا کو بتاتے ہوئے آئے ہیں۔

    ٹھٹھہ سے نامہ نگار راجہ قریشی کی رپورٹ کے مطابق گورنمنٹ بوائز ہائی سکول اگھیمانی سے ثقافتی دن کی ریلی نکالی گئی، ریلی میں ڈیسنٹ پبلک ھائی سکول داتار نگر پیر جو گوٹھ ۔گورمنٹ بوائز ہائی سکول اگھیمانی ۔گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول محمد جمن ولھاری کے اساتذہ اور طلباہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس کے علاوہ بگھاڑموری کے عوام نے بہی ریلی میں شرکت کی، ریلی ہائی سکول سے نکالی گئی اور بگھاڑ اسٹاپ پر اختتام پزیر ہوئی، ریلی میں سکول کے طلباہ اور اساتذہ نے سندھ کی ثقافت کو اجاگر کرنےکے لئے تقریریں کی گئیں،مختلف اسکولوں کے اساتذہ ۔امیر محمد ولھاری۔محمد الیاس میمن۔ یار محمد ملاح۔ جمال ناصر میمن۔ نیاز احمد میمن۔ جمیل میمن۔شھزاد میمن۔ عبدالرحمان عباسی۔ انور میمن ۔طفیل میمن۔عبدالرحمن شورو۔ منیر ولھاری ۔حسن علی شورو اور سماجی دوست غلام نبی چوہان ۔غلام میرانخور۔منیر میرانخور ۔سینئر صحافی ملک منظور خاصخیلی سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی.

  • متحدہ عرب امارات کا قومی دن مبارک ہو!!! — بلال شوکت آزاد

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن مبارک ہو!!! — بلال شوکت آزاد

    2 دسمبر کو ہم متحدہ عرب امارات کا قومی دن منانے کے لیے تیار ہیں! اس سال۔ آئیے اس اہم دن کی تاریخی نسبت کو یاد کریں اور ان لوگوں کا احترام کریں جو متحدہ عرب امارات کی تشکیل کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ آئیے اس دن کی تاریخی اہمیت پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کے قومی دن کی تاریخ:
    متحدہ عرب امارات ہمیشہ اتنا طاقتور ملک نہیں تھا جتنا آج ہے۔ درحقیقت یہ ملک مختلف قبائل کے جھگڑوں کی بدولت مختلف ریاستوں میں تقسیم اور بکھرا ہوا تھا۔ 1820 میں، برطانیہ اس ملک کے تاریخی منظر میں داخل ہوا اور تحفظ دینے کے وعدے پر اس سر زمین کا کچھ کنٹرول مانگا۔ امن کے لیے بے چین، متعدد قبائل نے اس پیشکش کو قبول کر لیا اور برطانیہ کو اپنے تنازعات کو حل کرنے کا ذمہ دار بنا دیا۔ لیکن 1968 میں، برطانیہ نے جنگ عظیم اول اور دوم کے بعد ہوئے مالی نقصانات کا سامنا کرنے کے بعد خود کو اس ملک کے منظر سے ہٹا دیا۔

    منظر نامے سے برطانیہ کے نکلنے کے بعد ابوظہبی، دبئی، عجمان، العین، شارجہ اور ام القوین کے حکمرانوں نے متحد ہونے کا فیصلہ کیا۔ 2 دسمبر 1971 کو امارات نے برطانیہ سے اپنی آزادی کا اعلان کیا اور متحدہ عرب امارات (UAE) بن گیا۔ بعد میں، راس الخیمہ ساتویں امارت نے بھی اس یونین میں شمولیت اختیار کی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ بہترین حصہ کیا ہے؟ یہ انضمام اور نوآبادیاتی راج سے ان کی آزادی بغیر کسی تشدد کے حاصل کی گئی تھی!

    سات امارات کے اتحاد اور متحدہ عرب امارات کے اعلان کو نشان زد کرنے کے لیے، متحدہ عرب امارات کا جھنڈا جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ آج بلند کیا گیا، اور متحدہ عرب امارات کے پہلے صدر کا انتخاب کیا گیا — شیخ زید بن سلطان النہیان, شیخ زید ابوظہبی کے امیر تھے اور سات امارات میں سب سے امیر تھے۔ آج، متحدہ عرب امارات کو ایک درمیانی طاقت اور ایک بااثر قوم کے طور پر پہچانا جاتا ہے جس کی ترقی کرتی ہوئی معیشت، تیل کے ذخائر، دنیا بھر سے سیاحوں کی آمد اور دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں سے کچھ اس کی پہچان ہے۔ تاہم، متحدہ عرب امارات کے تمام شہری تسلیم کرتے ہیں کہ آج جو طاقت ان کے پاس ہے وہ صرف اس وجہ سے موجود ہے کہ ساتوں امارات نے 1971 میں متحد ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن ایک تاریخی موقع ہے جو اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی تشکیل کیسے ہوئی۔ اس دن کو منانا ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو اس قوم کی تاریخ یاد دلائی جائے جس میں وہ رہتے ہیں۔ ماضی کو یاد کرنے سے اکثر نوجوانوں کے دلوں میں وطن کے لیے محبت پیدا ہوتی ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے قومی دن کی تاریخ میں پیش آنے والے واقعات اس بات کی مثال ہیں کہ تشدد اور جنگ کے بغیر آزادی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ دن سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لیے اور ترقی پسند بات چیت کا انتخاب کرنے کے لیے ایک تحریک کا کام بھی کرتا ہے۔آپ نے ‘تقسیم اور فتح’ کے بارے میں سنا ہے۔ ٹھیک ہے، متحدہ عرب امارات کی تشکیل بالکل ظاہر کرتی ہے کہ مخالف میں کتنی ہی طاقت ہو لیکن ایک دن اپنی جگہ چھوڑ کر آگے بڑھنا پڑتا ہے اور اتحاد سے بڑی طاقت نہیں جو مخالف کو چاروں شانے چت کردے, لہذا ہر سال یو اے ای کا قومی دن منانا اسی طاقت کی یاد دہانی ہے۔

    متحدہ عرب امارات آج امن،ترقی اوربہترین حکمرانی کی پہچان کے طورپراقوام عالم میں فخرکے ساتھ کھڑاہے۔ متحدہ عرب امارات نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں فقیدالمثال پیش رفت کی ہے جوکہ ملک کوایک جدید ریاست اورترقی کرتی ہوئی معیشت میں تبدیل کرنے کیلئے متحدہ عرب امارات کی قیادت کے نظریہ اورعزم کامنہ بولتا ثبوت ہے متحدہ عرب امارات نے تجارت، مالیاتی خدمات،سیاحت،ٹرانزٹ اور ٹرانسپورٹ کیلئے عالمی معیارکے مرکزکے طورپر ابھرنے کیلئے شاندار پیش رفت کی ہے۔ یہ متاثرکن ترقی رواداری،جامع اقتصادی ترقی اور اختراع کوفروغ دینے سے ممکن ہوئی پاکستان اورمتحدہ عرب امارات کی موجودہ دوراندیش قیادت میں ہمارے دوطرفہ تعلقات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں نے دونوں ممالک کے مابین بھائی چارے کومضبوط بنانے میں کئی دہائیوں کے دوران نمایاں کردارادا کیا ہے۔

    پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ اور دائمی ہیں، 1971 میں متحدہ عرب امارات کے قیام کے بعد پاکستان دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے اسے آگے بڑھ کر نہایت پرجوش انداز میں نہ صرف تسلیم کیا تھا بلکہ اس کی جانب دست تعاون بھی دراز کیا تھا اس وقت سے لے کر آج تک پاکستان نے دوستی کے اس رشتے کو نہ صرف برقرار رکھا ہے بلکہ اسے وسیع سے وسیع تر کرنے کی کوشش کی ہے پاکستانی کمیونٹی تب سے لے کر آج تک یو اے ای کی ترقی اور تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ دونوں ممالک میں تاریخی، ثقافتی اور معاشی رشتے قائم ہیں

    باغی ٹی وی انتظامیہ اپنے مسلم برادر ملک متحدہ عرب امارات کے قومی دن پر اس برادر ملک کو قیام کی 51 ویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتی ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ اس ملک کو اس ملک کے باسیوں کو ہمیشہ متحد رکھے اور یہ سرزمین دنیا بھر میں امن وبھائی چارہ کا باعث بنے ، کل 2 دسمبرکی مبارک تاریخ کو ریاست ہائے متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے موقع پر باغی ٹی وی انتظامیہ بھی یہ دن منائے گی اور متحدہ عرب امارات کے لیے کامیابیوں کے لیے دعا گو بھی ہوگی ،

  • ہمارا سوشل فیبرک اور "سازشی” تھیوریاں — اشرف حماد

    ہمارا سوشل فیبرک اور "سازشی” تھیوریاں — اشرف حماد

    اپنے یہاں اگر کسی کو زُکام ہوجائے تو وہ ایک ہی سانس میں "انکشاف” کرتا ہے کہ یہ ایک "بین الاقوامی سازش” ہے۔ اِسی طرح اگر اپنی ہی لاپرواہی سے کسی کی گائے گُم ہوجائے تو وہ اس کو فوری طور "خطرناک سازش” قرار دیتا ہے۔ سازشی مسئلہ(Conspiracy Theory) گھڑ لینے میں ہم بڑے ماہر واقع ہوئے ہیں۔ کوئی عام سا پرابلم بھی ہو جب تک نہ ہم اسے "گہری سازش” قرار دیں تب تک ہمارا کھانا ہضم نہیں ہوتا ہے۔

    ہمارے سماجی پیرہن کو اتنے داغ لگ چُکے ہیں کہ اس کی ہیئت(Shape) مسخ ہونے کا خدشہ نظر آتا ہے۔ جی ہاں مُنشیات کے داغ، ڈرگ ٹریفک کے داغ، چرس، گانجا، افیون، ہیروین اور مےخواری کے داغ، خودکُشی، خود سوزی اور بہوؤں کو زندہ نذر آتش کرنے کے داغ، شادیوں پر بے پناہ اسراف کے داغ، چوری و سرقہ بازی کے داغ، بےحسی، بددیانتی اور رشوت خوری کے داغ وغیرہ، وغیرہ۔ یہ داغ ہمارے سوشل فِیبرِک پر اتنے سخت گہرے ہوچکے ہیں کہ اس پیرہن میں اب ان کی وجہ سے بڑے بڑے چھید ہونے لگے ہیں۔ اگر معاشرتی برائیوں کا یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا تو ہمارا سماجی پیرہن ایک چیتتھڑا بن کر رہ جائے گا۔

    ایک دل خراش خبر کے مطابق جُمعہ کو حکام نے بتایا کہ بڈگام ضلع میں پولیس نے دو خواتین سمیت تین افراد کو گرفتار کرکے بُردہ فروشی گینگ کا پردہ فاش کیا ہے۔ پولیس ترجمان کا کہنا تھا 14 مظلوم خواتین کو بچا لیا گیا جبکہ اور مزید گرفتاریاں ہوسکتی ہیں۔

    ضلع میں خواتین اغوا کاری کے مذموم فعل کی اطلاع پر بروقت اور قابلِ تحسین کارروائی کرتے ہوئے، بڈگام پولیس کی فعال ٹیم نے موضع ڈلی پورہ میں ایک مخصوص جگہ پر چھاپہ مار کر شمیم ​​احمد بٹ کے گھر سے 14 بے بس خواتین (جن میں کئی نابالغ بچیاں بھی تھیں) کو محفوظ بنا لیا۔ ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا کہ گرفتار ملزمان بشری اغوا کاری میں ملوث تھے اور اس کے ذریعے خواتین کو مختلف جگہوں سے اغوا کرکے ضلع بڈگام اور وادی کی دوسری جگہوں میں ان کا جنسی استحصال کیا جاتا تھا۔

    سماجی اعتبار سے یہ ایک باعث شرم اور سنگین نوعیت کا جرم ہے۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن اس انسانی سمگلنگ میں جو ملوث افراد ہیں وہ بڈگام ضلع کے مقامی باشندے ہیں۔ نہ وہ غیر ریاستی ہیں اور نہ ہی غیر ملکی ہیں۔ لہٰذا اس قبیح فعل کو ہم کیسے کوئی "خطرناک سازش” قرار دے سکتے ہیں(جو کہ ہماری عادت ثانیہ بن چکی ہے)۔

    اصل معاملہ یہ ہے کہ کشمیر میں اب زیادہ تر لوگوں کو راتوں رات امیر بننے کا آسیب سوار ہو گیا ہے۔ ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ وہ ہر جائز اور ناجائز طریقے سے دولت سمیٹے۔ اس میں اگر کسی کا حق مارا جائے، کسی کا گلا کاٹنا پڑے، کسی کو لوٹنا پڑے اور کسی کے یہاں ڈاکہ ڈالنا پڑے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

    وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سماجی بدعات، معاشرتی برائیوں، جہیز، اسراف، حق ماری، استحصال، بلیک میلنگ، منشیات سمگلنگ، ڈرگ ایڈکٹنگ اور اس نوعیت کی قبیح برائیوں سے باز آجائیں۔ اس کے لیے ہمیں دوسروں کے نقائص نکالنے کے بجائے خود احتسابی کا عمل شروع کرنا چاہیے۔ ورنہ سازشی تھیوریاں تخلیق کرنے سے ہمارا معاشرہ صحیح ڈگر پر کبھی نہیں آسکتا ہے۔