Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • دوستی، انسان سے انسان تک کا خاموش سفر.تحریر:جان محمد رمضان

    دوستی، انسان سے انسان تک کا خاموش سفر.تحریر:جان محمد رمضان

    دوستی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہوتی۔ نہ یہ چہروں کی کشش پر رکتی ہے، نہ عمروں کے فرق پر ٹھہرتی ہے، اور نہ ہی دولت و غربت کے ترازو میں تولی جا سکتی ہے۔ یہ وہ تعلق ہے جو نظر سے پہلے دل میں اترتا ہے اور لفظوں سے پہلے احساس میں بولتا ہے۔ دوستی دراصل انسان کے اندر موجود انسانیت کو پہچان لینے کا نام ہے۔اس معاشرے میں جہاں اکثر رشتے فائدے اور ضرورت کے سہارے پنپتے ہیں، وہاں دوستی ایک ایسا نازک مگر سچا جذبہ ہے جو کسی شرط کے بغیر قبول کر لیا جاتا ہے۔ یہاں نہ لباس کی قیمت پوچھی جاتی ہے، نہ گھر کی وسعت دیکھی جاتی ہے۔ بس سامنے والے کا رویہ، اس کی نیت اور اس کا اخلاق ہی سب کچھ کہہ جاتا ہے۔ شائستگی وہ پہلا دروازہ ہے جس سے گزرے بغیر کوئی بھی دوستی کے صحن میں داخل نہیں ہو سکتا۔

    دیانتداری دوستی کی وہ بنیاد ہے جو نظر نہیں آتی مگر پوری عمارت کو سنبھالے رکھتی ہے۔ جھوٹ کے سہارے قائم ہونے والا تعلق وقتی ہو سکتا ہے، مگر دیرپا نہیں۔ سچا دوست وہ ہوتا ہے جو مشکل بات بھی سچ کے ساتھ کہہ دے، مگر انداز ایسا رکھے کہ سامنے والا ٹوٹنے کے بجائے سنبھل جائے۔ یہی دیانت رشتے کو مضبوط بناتی ہے اور اعتماد کو وقت کے تھپیڑوں سے محفوظ رکھتی ہے۔خلوص دوستی کی روح ہے۔ یہ وہ خاموش کیفیت ہے جو کسی دکھاوے کی محتاج نہیں۔ خلوص نہ بلند آواز میں بولتا ہے، نہ تعریف کا طالب ہوتا ہے۔ یہ بس موجود رہتا ہے ہر حال میں، ہر موڑ پر۔ خلوص ہی وہ قوت ہے جو دو اجنبی دلوں کو آہستہ آہستہ ایک دوسرے کا مانوس بنا دیتی ہے۔ جہاں خلوص نہ ہو، وہاں قربت بھی بے معنی لگتی ہے۔باہمی احترام کے بغیر کوئی بھی تعلق زیادہ دیر سانس نہیں لے سکتا۔ احترام وہ حد ہے جو دوستی کو بگاڑ سے بچاتی ہے۔ اختلاف رائے ہو سکتا ہے، مگر لہجے کی شائستگی، سوچ کی وسعت اور دل کی نرمی رشتے کو سلامت رکھتی ہے۔ سچا دوست وہ نہیں جو ہر بات پر متفق ہو، بلکہ وہ ہے جو اختلاف کے باوجود عزت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔

    دوستی میں عمر کبھی رکاوٹ نہیں بنتی۔ کبھی کوئی ہم سے بہت بڑا ہو کر بھی ہمارے دل کی بات سمجھ لیتا ہے، اور کبھی ہم سے چھوٹا ہو کر بھی ہمیں جینے کا ہنر سکھا دیتا ہے۔ تجربہ اور معصومیت جب ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں تو دوستی کا رنگ اور گہرا ہو جاتا ہے۔ یہاں سیکھنے اور سکھانے کا سلسلہ خاموشی سے چلتا رہتا ہے۔اسی طرح دولت کی کمی یا فراوانی بھی دوستی کی راہ میں حائل نہیں ہوتی۔ امیر کا خلوص غریب کے خلوص سے کم یا زیادہ نہیں ہوتا۔ اصل فرق نیت کا ہے۔ وہ دوست جو خالی جیب کے ساتھ بھی مسکرا کر ساتھ بیٹھ جائے، اس سے قیمتی کوئی دولت نہیں۔ کیونکہ دوستی سکوں سے نہیں، سکون سے خریدی جاتی ہے۔سچی دوستی میں مقابلہ نہیں ہوتا، ساتھ چلنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ وہاں کامیابی پر حسد نہیں، بلکہ دل سے نکلنے والی خوشی ہوتی ہے۔ وہاں ناکامی پر طعنے نہیں، بلکہ سہارا ہوتا ہے۔ ایک اچھا دوست وہ سایہ ہے جو دھوپ میں لمبا اور اندھیرے میں قریب ہو جاتا ہے۔

    یہ رشتہ وقت کے ساتھ بدلتا ضرور ہے، مگر ختم نہیں ہوتا۔ کبھی باتیں کم ہو جاتی ہیں، کبھی ملاقاتیں، مگر دل کا رشتہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ خاموشی بھی اگر اعتماد سے بھری ہو تو دوستی کا حسن بڑھا دیتی ہے۔ دوستی کسی معیار، کسی شکل، کسی حیثیت کی پابند نہیں۔ یہ بس ایک احساس ہےصاف، سچا اور بے لوث۔ اگر شائستگی، دیانتداری، خلوص اور احترام موجود ہوں تو دوستی خود راستہ بنا لیتی ہے۔ کیونکہ اصل میں دوستی انسان کو انسان سے جوڑنے کا سب سے خوبصورت ذریعہ ہے۔

  • قومیں تقریروں سے نہیں ہنر مند ہاتھوں سے بنتی ہیں،تحریر:رقیہ غزل

    قومیں تقریروں سے نہیں ہنر مند ہاتھوں سے بنتی ہیں،تحریر:رقیہ غزل

    قوموں کی ترقی محض قدرتی وسائل، جغرافیائی محلِ وقوع یا آبادی کی کثرت سے مشروط نہیں ہوتی بلکہ اصل قوت انسانی سرمایہ ہوتا ہے۔ دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن ممالک نے اپنی افرادی قوت کو تعلیم، مہارت اور پیشہ ورانہ تربیت سے آراستہ کیا، وہی ترقی کی دوڑ میں آگے نکلے۔ چین، جاپان، سنگاپور اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود اپنے عوام کو ہنرمند بنا کر عالمی معیشت میں نمایاں مقام حاصل کیا۔چین کی معاشی ترقی کا آغاز اس وقت ہوا جب وہاں کی قیادت نے یہ ادراک کر لیا کہ اگر آبادی کو بوجھ بننے سے بچانا ہے تو اسے زراعت، صنعت اور ٹیکنالوجی سے جوڑنا ہوگا۔ تعلیم کو محض ڈگری تک محدود رکھنے کی بجائے فنی تربیت کو قومی ترجیح بنایا گیا۔ کرپشن کے خلاف سخت قوانین نافذ کیے گئے، بدعنوانی کو ناقابلِ معافی جرم قرار دیا گیا اور نتیجتاً عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ آج چین دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک بن چکا ہے اور عالمی معیشت میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔اسی طرح جاپان کی ترقی بھی کسی معجزے کا نتیجہ نہیں بلکہ علم و ہنر کے امتزاج کا ثمر ہے۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ جاپانی ماہرین نے صدیوں قبل چین سے فنی مہارتیں سیکھیں اور بعد ازاں مغربی ٹیکنالوجی کو اپنے ہنر سے ہم آہنگ کیا۔ یہی حکمتِ عملی جاپان کو جدید صنعتی ریاست بنانے کا سبب بنی۔بدقسمتی سے پاکستان، جسے اللہ تعالیٰ نے قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور اسٹریٹجک محلِ وقوع جیسی بے شمار نعمتوں سے نواز رکھا ہے، آج بھی معاشی بدحالی اور بیروزگاری کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ ہماری تعلیمی پالیسیاں زیادہ تر نظریاتی اور کتابی حد تک محدود ہیں، جن کا عملی زندگی سے براہِ راست تعلق کمزور ہے۔ نتیجتاً ہر سال لاکھوں نوجوان ڈگریاں حاصل کر کے روزگار کی تلاش میں در بدر پھرتے ہیں، جبکہ مارکیٹ کو درحقیقت ہنرمند افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ حکومت اتنی ملازمتیں پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی جتنے گریجویٹس تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ اس خلا کو پُر کرنے کا واحد راستہ ووکیشنل اور ٹیکنیکل ایجوکیشن ہے، جو نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت میں عملی کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی ہنر سیکھنے کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے، حالانکہ ترقی یافتہ ممالک میں فنی تعلیم کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔


    تاہم اس گھپ اندھیرے میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو شکوہ نہیں کرتے بلکہ عمل سے چراغ جلاتے ہیں۔چند روز قبل صحافیوں کے ایک وفد کو ایک ایسے آفاقی وژن کے حامل شخص کے منصوبے دیکھنے کا موقع ملا۔وفد کی قیادت صحافیوں کی ایک تنظیم(ساک)کے جنرل سیکیرٹری ضمیر آفاقی نے کی اورلیفٹیننٹ کمانڈر راشد محمود (ر)پاکستان نیوی بھی ہمارے ساتھ تھے جو کہ سوشل میڈیا انٹلیکچوئل انفلوئنسر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی تنظیم (کاسب) کے پلیٹ فارم سے ملت کے مقدر کے ستارے بھی تراش رہے ہیں کیونکہ ان کا پختہ یقین ہے کہ ہنر مند ہاتھو ں سے مقدر بدلا جا سکتا ہے درحقیقت ایسے ہی ہنر مند ہاتھوں کی جستجو اور قدر افزائی کے لیے دانشوروں کا یہ قافلہ نکلا تھا تاکہ قوم کے اصل اثاثوں کو سامنے لایا جا سکے۔

    پاک بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل (ر) محمد آصف سندیلہ نے ریٹائرمنٹ کے بعد بیرونِ ملک آرام دہ زندگی اختیار کرنے کے بجائے اپنے وطن کے پسماندہ طبقات کی خدمت کو مقصدِ حیات بنایا۔ شیخوپورہ کے نواحی علاقے مہموں والی میں دو سرکاری اسکولوں کو اڈاپٹ کر کے انہوں نے جو سفر شروع کیا، وہ آج ایک قومی ماڈل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ان اسکولوں میں نہ صرف تعلیمی معیار نمایاں طور پر بہتر ہوا بلکہ ان کے ساتھ قائم ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز نے نوجوانوں کو باعزت روزگار کے قابل بنا دیا۔

    شیخوپورہ کے ایک گاؤں سے شروع ہونے والا یہ سفرمعاون فاؤنڈیشن کے زیر انتظام آج ملک کے مختلف حصوں میں پھیل چکا ہے۔ یہاں بچے صرف کتابیں نہیں پڑھتے، بلکہ زندگی جینے کا ہنر سیکھتے ہیں۔ یہاں بچیاں صرف تعلیم حاصل نہیں کرتیں بلکہ خودمختار بننے کی تیاری کرتی ہیں۔ یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات تقریباًاسی فیصد تک نجی شعبے میں باعزت روزگارحاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ مزید برآں“اخوت”کے تعاون سے بلاسود قرضوں کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ نوجوان اپنا روزگار خود شروع کر سکیں۔وفاقی و صوبائی تعلیمی محکموں، نجی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے اشتراک سے چلنے والے یہ منصوبے اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ اگر نیت درست ہو تو پسماندگی کو شکست دی جا سکتی ہے۔یہ ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز دراصل ان نوجوانوں کے لیے نئی زندگی کا دروازہ ہیں جو حالات کے ہاتھوں تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔ سلائی مشین سے کمپیوٹر لیب تک، کلاس روم سے ورکشاپ تک ہر جگہ ایک ہی پیغام ہے کہ ہنر عزت دیتا ہے، خودداری سکھاتا ہے۔


    یہ ادارے خاص طور پر ان بچوں اور بچیوں کے لیے امید کا سہارا ہیں جو غربت، گھریلو ذمہ داریوں یا وسائل کی کمی کے باعث تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر کوجزو لازم بنایا گیا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ اس وقت اس نیٹ ورک کے تحت ملک بھر میں تقریباً تین سوسے زائد تعلیمی و ووکیشنل ادارے کام کر رہے ہیں، جہاں سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نجی شعبے میں روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ان اداروں کی ایک نمایاں خصوصیت طالبات کی بڑی تعداد ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ماحول محفوظ اور شفاف ہو تو والدین اپنی بچیوں کو تعلیم اور ہنر حاصل کرنے سے نہیں روکتے۔ مزید برآں، بلاسود قرضوں اور نجی و سرکاری اداروں کے تعاون نے اس ماڈل کو مزید مؤثر بنا دیا ہے۔یہ تمام حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کو اگر معاشی خودمختاری اور سماجی استحکام درکار ہے تو اسے تعلیم کے ساتھ پیشہ ورانہ تربیت کو قومی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔

    ایڈمرل (ر) محمد آصف سندیلہ کے منصوبے اس بات کا واضح پیغام ہیں کہ درست سمت، مخلص قیادت اور عملی اقدامات سے قومی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ان اداروں سے نکلنے والے نوجوان جب اپنے خاندان کا سہارا بنتے ہیں تو اصل ترقی کی تصویر سامنے آتی ہے۔بلاشبہ ایڈمرل (ر) محمد آصف سندیلہ کے تعلیمی و تربیتی منصوبے پاکستان کے لیے روشنی کے مینارہیں جو حکمرانوں کو واضح پیغام دے رہے ہیں کہ پیشہ ورانہ تربیت سے ہی قومی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔یہ منصوبے ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ قوموں کا مستقبل تقریروں، سوالوں اور موازنوں میں نہیں بلکہ ہنر مند ہاتھوں، باعمل ذہنوں اور مخلص قیادت میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ یہی وہ ماڈل ہے جو بتاتا ہے کہ اگر نیت درست ہو تو وسائل خود راستہ بنا لیتے ہیں۔شاید یہی وہ چراغ ہیں جن کی روشنی ایک دن پورے معاشرے کو منور کرے گی۔اب سوال یہ نہیں کہ پاکستان چین یا جاپان بن سکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کب اپنی صلاحیتوں پر یقین کر کے ہنر مند پاکستان کی بنیاد رکھیں گے۔کیونکہ قومیں تقریروں سے نہیں ہنر مند ہاتھوں سے بنتی ہیں۔

    رقیہ غزل
    رقیہ غزل
  • اب آگ گھر کے آنگن میں ہے،تحریر:رقیہ غزل

    اب آگ گھر کے آنگن میں ہے،تحریر:رقیہ غزل

    یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں ہر حادثہ اپنے ساتھ ایک اور سانحہ لاتا ہے اور وہ ذمہ داروں کی بے حسی اور انسانیت سے عاری ردعمل ہوتا ہے۔ کسی بھی سانحے کی پہلی چیخ سڑک پر گونجتی ہے۔ دوسری سوشل میڈیا پر اور تیسری کسی پریس ریلیز میں دب کر رہ جاتی ہے۔ باقی سب ایک ایسی خاموشی میں گم ہو جاتا ہے جسے ہم ’’قومی مزاج‘‘ کا نام دے کر خود کو تسلی دے دیتے ہیں۔ جیسے ہم نے اجتماعی طور پر یہ طے کر لیا ہو کہ مسئلہ حل کرنے سے بہتر ہے کہ وقت کے ڈھیر تلے دبا دیا جائے اگر بدبو اٹھے بھی تو ناک پر ہاتھ رکھ کر گزر جائیں مگر کچھ بدبوئیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف ناک نہیں، روح کو بھی جلا دیتی ہیں اورجب روح جلتی ہے تو سوال اٹھتے ہیں جس کا جواب یوں ملتا ہے کہ اب میں ڈھکن کہاں کہاں لگائوں ؟

    کراچی کے دل گلشن اقبال میں تین سالہ بچے کا کھلے گٹر میں گر جانا ایسا ہی حادثہ تھا۔ منظر کوئی ڈرامائی نہیں بلکہ روز مرہ کی حقیقت ہے۔ چیخ اٹھتی ہے، لوگ بھاگتے ہیں، کالیں کی جاتی ہیں مگر پھر شہر کی پوری انتظامی مشینری ایک اندھی تلاش میں گھومتی رہتی ہے کہ تاریک سرنگ میں ہاتھ پیر مارتے ہوئے پندرہ گھنٹے گزرنے کے بعد اس بچے کی لاش کئی سو میٹر دور ایک دوسرے کھلے مین ہول سے خاکروب نکالتا ہے جسے شاباش نہیں الٹا ہتک آمیز رویہ تحفے میں ملتا ہے جیسے کوئی گناہ کر دیا ہو۔ دکھ اپنی جگہ، ملال اپنی جگہ، مگر خوف اس بات کا ہے کہ یہ المناکیاں ہمیں اب حیران بھی نہیں کرتیں ؟ جیسے ہم نے شہر کی بدنظمی کے ساتھ ایک خاموش معاہدہ کر لیا ہو کہ ’’تم بے حس رہو، ہم صبر کرتے رہیں گے۔‘‘ریسکیو ادارے صاف کہتے ہیں کہ وہ بلائنڈ آپریشن کرتے ہیں۔ یعنی شہر کی نالیاں آج بھی کسی پراسرار غار کے نقشے کی طرح ہیں جنہیں شاید بنانے والوں نے بھی کبھی مکمل نہیں دیکھا۔ برسوں کے سیاسی جوڑ توڑ نے نالوں کا ایسا تھیلا بنا دیا ہے جسے محکمے خود کھولنے سے گھبراتے ہیں۔ اوپر سے حکم کہ رات کو سرچ کرنا ممنوع ہے۔ یعنی کہ شہر رات میں حادثے کرے مگر ادارے صبح کے سورج کے بغیر آنکھ نہیں کھول سکتے۔

    بالفرض کھل بھی گئی تو بیانات کا سیلاب اور عمل کی قحط سالی کے سواکچھ نہیں ملتا۔ یہ درد کے لمحے پہلے ہی طویل تھے ہی کہ ایک اور دلخراش واقعے نے کہانی کا رخ موڑ دیا جب اسلام آباد کی ایک سجی ہوئی سڑک پر، ایک جج صاحب کا سولہ سالہ شہزادہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ گاڑی میں مستیاں کرتے ہوئے دو نوجوان لڑکیوں کو سکوٹی سمیت کچل گیا۔ ایک لمحہ، ذرا سی بے احتیاطی اور دو گھر ہمیشہ کے لیے لاوارث ہوگئے۔ مگر ہمارے پاس پھر وہی روایتی ہلچل، وہی کاغذی کارروائیاں، سیاسی اور قانونی بحثیں اور پھر وہی سوال جو ہر شہری کی آنکھ میں ٹھہر گیا ہے کہ اس بار بھی انصاف طاقتور کے جوتے کے نیچے دب جائے گا؟ کیونکہ یہاں جرم کا تعین عدالت نہیں بلکہ جیب اور عہدہ کرتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ہاں گٹر کا ڈھانچہ ضروری نہیں رہابلکہ پورا نظام اب اصلاح چاہتا ہے تاکہ طاقتوروں کی غلطیاں واقعات اور کمزوروں کی لغزشیں جرائم نہ کہلائیں۔

    ایسے کڑے حالات میں ریاستی ترجیحات مزید سوالات کو جنم دیتی ہیں کہ عوام کا ذکر روزمرہ ایجنڈے میں تو دور کی بات کسی ضمنی خانے میں بھی نہیں ملتا۔ ہر روز کوئی نئی خبر ملتی ہے کہ فلاں سیاسی رہنما کا سیل بدل دیا گیا، فلاں کے بیان کو مبینہ طور پر اے آئی کے ذریعے مسخ کر کے پھیلایا گیا، فلاں کی بہنوں کے بیانات کو ریاستی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ جیسے پوری قوم صرف تین چار شخصیات کے آس پاس گھومتی ہو، اور باقی کروڑوں لوگ کسی اور کائنات کی مخلوق ہوں جن کا وجود صرف بل اور ٹیکس کی حد تک مانا جاتا ہے حالانکہ آئی ایم ایف کی رپورٹ ایک واضح تنبیہ ہے کہ سنبھل جانے کا وقت ابھی ہے! درحقیقت معیشت کا حال بھی کسی سے نہیں چھپا کہ بازاروں میں قیمتیں دیکھ کر بھی انسان سوچتا ہے کہ شاید ٹیگ غلط لگ گیا ہو، مگر پھر معلوم ہوتا ہے کہ غلطی ٹیگ کی نہیں، امید کی تھی۔ تنخواہیں دھوپ میں رکھے پانی کی طرح اڑ رہی ہیں، ٹیکسوں کی یلغار کسی موسم کی طرح نہیں رکتی، ٹریفک چالان آندھی کی طرح آتے ہیں اور پٹرول کی قیمتیں یوں اچھلتی ہیں جیسے رسّی تڑوا کر بھاگا ہوا گھوڑا کسی کو روندتا ہوا آگے نکل جائے۔ بجلی کے بل عوام کی جیب میں نہیں، دل میں بجلی گراتے ہیں۔ مگر۔۔ریاست اپنی دنیا میں گم کہ نوٹیفکیشن آیا یا نہیں اور اگلی باری کس کی؟ گویا ملک کے تمام مسائل حل ہوچکے !جس میں ذاتی مفاد مقدم ہو، زمینی حقائق کی پرواہ نہ کی جائے جس میں ملکیت و قومی مفادات کو ذاتی خواہشات کے سامنے قربان کیا جائے دراصل یہی رویہ کہ پہلے ہم، بعد میں عوام اصل’’ کھلا گٹر ‘‘ہے اورگٹر تو ایک جان لیتا ہے مگر بے حسی پوری قوم کی امید کا جنازہ اٹھا دیتی ہے۔ فیصلے طاقت کے کمروں میں تیار ہوتے ہیں، سیاست سکرینوں پر کھیلی جاتی ہے اور عوام کے لیے کوئی راستہ نہیں چھوڑا جاتا، سوائے اس کے کہ وہ اندھیری سرنگ میں چلتے رہیں، اس امید پر کہ شاید کبھی روشنی نظر آ جائے جبکہ نہ رہنمائی ہے، نہ نقشہ، نہ کوئی سمت۔ بس تجربے پر تجربہ، جیسے ملک نہیں کوئی لیبارٹری ہو جس میں ہر روز ایک نیا تجربہ ہوتا ہے۔ کبھی سیاسی انجینئرنگ، کبھی انتظامی اکھاڑ پچھاڑ، کبھی معاشی نسخے جنہیں آزماتے آزماتے عوام کی کمر ٹوٹی جا رہی ہے لیکن ناکامیوں پر عوام ہنس بھی نہیں سکتے، کیونکہ ہنسی بھی مہنگی پڑتی ہے کہ ناکامی کا پھندا گلے میں ڈال کر کہا جاتا ہے کہ۔۔گھبرائیں نہیں، یہ سب آپ کی بہتری کے لیے ہے۔۔مگر عوام اب اس جملے پر ایمان نہیں رکھتے اوروہ جانتے ہیں کہ آگ اب صرف گلی کے گٹر تک محدود نہیں رہی، بجلی کے بلوں میں جھلستی ہے، بچوں کی فیسوں میں روتی ہے، دکانوں کی مہنگی روشنیوں میں تڑپتی ہے، گیس، پیٹرول، پانی، روزگا رسب اس آگ کا ایندھن بن چکے ہیں۔ آگ اب دہلیز پر نہیں، گھر کے آنگن میں دہک رہی ہے۔بہر حال اگر ہم آج بھی نہ جاگے تو کل اخبار میں یہ نہیں لکھا جائے گا کہ ’’ایک بچہ گٹر میں گر کر جاں بحق ہوا‘‘ ممکن ہے یہ لکھا جائے کہ یہ قوم بہت پہلے اپنے اجتماعی گٹر میں گر چکی تھی، فرق صرف اتنا ہے کہ اسے گرنے کا احساس ہی نہ تھاکیونکہ وہ تماشے دیکھنے میں مصروف تھی اور جب قومیں تماشوں میں گم ہو جائیں ،خوف آخرت سے خالی ہوں، وہ خود اپنی بربادی لکھتی ہیں۔ لہذااب سوال یہ نہیں رہاکہ جگر گوشے کیوں نہ بچ سکے بلکہ سوال تو یہ ہے کہ کیا ہم اپنا باقی بچا ہوا شعور، بچی ہوئی غیرت اوربچا ہوا ملک‘ بچا سکیں گے یا نہیں؟

  • غریب کی مجبوری پر وار  بینظیر انکم سپورٹ کی آڑ میں ابھرتا نیا مافیا ،تحریر:  آمنہ خواجہ

    غریب کی مجبوری پر وار بینظیر انکم سپورٹ کی آڑ میں ابھرتا نیا مافیا ،تحریر: آمنہ خواجہ

    یہ ملک شاید ترقی کے لیے نہیں، ہر روز ایک نیا مافیا پیدا کرنے کے لیے بنا ہے۔ کبھی آٹے کا بحران، کبھی چینی کا، کبھی پٹرول کی مصنوعی قلت، اور اب باری ہے غریب کے حق پر ڈاکا ڈالنے والوں کی وہ لوگ جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے نام پر والٹ اکاؤنٹ کھولنے کیلئے فی بندہ 1000 روپے مانگ رہے ہیں۔
    یہ دھندا اس تیزی سے پھیل رہا ہے کہ دیہات، قصبوں اور چھوٹے شہروں میں جعلی ریٹ لسٹیں جعلی دفتر، جعلی اہلکار، اور جعلی فارم تک گردش کرنے لگے ہیں۔

    یہ کالم اُن ہی غریبوں کی آواز ہے جو اپنے بچوں کے لیے سہارے تلاش کرتے ہیں، مگر ان کے نصیب میں سہارا نہیں، استحصال لکھ دیا گیا ہے۔یہ پروگرام غریب عوام کے لیے بنایا گیا تھا، ان خواتین کے لیے جن کے گھروں میں چولہا جلا رہتا ہے یا نہیں یہ حکومت کی طرف سے ایک مستحکم مدد ہے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ جیسے ہی کسی پروگرام کا نام مشہور ہو جائے، ہمارا معاشرہ اسے ثواب کی جگہ کمائی سمجھ لیتا ہے۔اب صورتحال یہ ہے کہ جعل ساز گروہ، مقامی دکاندار، ایجنٹس اور نام نہاد “رجسٹریشن سنٹر” لوگو‌ں سے کہتے ہیں “بینظیر انکم سپورٹ والٹ کھل رہا ہے 1000 روپے فیس دو، فائدہ اٹھاؤ۔حالانکہ حقیقت میں آن لائن والٹ ہو، موبائل اکاؤنٹ ہو، یا ریگولر رجسٹریشناس کی بروکری، اس کی فیس، اس کی رشوت صفر روپے ہے۔مگر جب علم کم ہو، اور ضرورت زیادہ، تو مافیا کو پنپنے میں دیر نہیں لگتی۔

    غریب عوام: امید کے نام پر دھوکہ
    دیہات کی خواتین جنہوں نے کبھی موبائل استعمال تک صحیح سے نہیں کیا، وہ جب سنتی ہیں کہ ’’1000 روپے دو، نام اپڈیٹ ہو جائے گا‘‘… تو کسی نہ کسی طرح پیسے جوڑ کر دے دیتی ہیں، اس امید کے ساتھ کہ شاید اگلے ماہ 10-12 ہزار روپے ان کے ہاتھ لگ جائیں۔یعنی ایک طرف غربت، دوسری طرف اندیشہ کہ اگر 1000 روپے نہ دیے تو شاید حکومت کی امداد ملنا ہی بند نہ ہو جائے۔یہ خوف ہی مافیا کی اصل کمائی ہے۔

    جعلی رجسٹریشن سنٹر۔ ایک نیا کاروباری ماڈل
    کئی شہروں میں لوگوں نے کرسی، ٹیبل، ایک بینر اور چند موبائل فون لگا کر جعلی BISP مراکز بنا لیے ہیں۔
    یہ لوگ نہ صرف پیسے لیتے ہیں، بلکہ غریب عورتوں کا ڈیٹا بھی چوری کرتے ہیں، جس کا آگے جا کر غلط استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔شناختی معلومات کی چوری ایک بڑا جرم ہے، مگر یہاں اسے کاروبار بنا لیا گیا ہے۔
    حکومت نے کئی بار وضاحت کی کہ رجسٹریشن مفت ہے،کوئی والٹ اکاؤنٹ فیس کے بغیر بنتا ہے،BISP کا عملہ گھر گھر جا کر پیسہ نہیں لیتا،لیکن زمین پر کیا ہو رہا ہے؟کسی ضلع میں کوئی پکڑا نہیں جاتا، اور اگر پکڑا بھی جائے تو اگلے دن پھر یہی کاروبار شروع ہو جاتا ہے۔غریب کی جیب تو خالی ہوتی ہے،مگر حکومت کی عملداری بھی شاید خالی ہے۔

    معاشرہ کیوں خاموش؟
    ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ مہنگائی، بیروزگاری، اور پریشانی نے عوام کو اتنا مصروف کر رکھا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کو ظلم سمجھتے ہی نہیں۔لوگ کہتے ہیں “چلو 1000 ہی تو ہیں، اگر نام لگ گیا تو کیا مسئلہ؟”یہ سوچ ہی مافیا کی طاقت ہے۔یہ عوامی سطح پر آگاہی کا وقت ہے، ورنہ یہ دھندا بڑھ کر ہر گھر تک پہنچ جائے گا۔ یاد رکھیں، بینظیر انکم سپورٹ کی رجسٹریشن مفت ہے۔کوئی فیس، کوئی چارج، کوئی ٹوکن کچھ نہیں۔ کوئی والٹ اکاؤنٹ، موبائل اکاؤنٹ، یا ATM سسٹم 1000 روپے نہیں لیتا۔ جعلی ایجنٹوں سے بچیں، صرف سرکاری مراکز پر جائیں۔ اپنا ڈیٹا کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

    شکایت کریں خاموشی جرم کو مضبوط کرتی ہے،اسٹیشنری دکانوں پر مافیا” کیوں پنپتا ہے؟اکثر دکاندار یہ سوچ کر یہ دھندا شروع کرتے ہیں کہ“ہم تو خدمت کر رہے ہیں، تھوڑے پیسے لے رہے ہیں تو کیا ہوا؟”مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ خدمت نہیں، استحصال کر رہے ہوتے ہیں۔اسی طرح کے غیر ذمہ دار رویوں نے ہر شعبے میں بدنیتی کو جنم دیا ہے۔یہ سچ ہے کہ ایسے فراڈ صرف کمزور معاشروں میں پنپتے ہیں، جہاں قانون سست ہو،اداروں کی آنکھ پر پٹی بندھی ہو،میڈیا سنجیدہ مسائل چھوڑ کر سیاست کے پیچھے لگا رہے،پولیس کو رشوت زیادہ اور ذمہ داری کم دکھائی دے،اگر حکومت بروقت کارروائیاں کرے، تو ایک ہفتے میں یہ پورا دھندا ختم ہو سکتا ہے۔ لیکن جب سب کی نظریں دوسری طرف ہوں، تو مافیا کو پھلنے پھولنے میں دیر نہیں لگتی۔

    یہ کالم صرف الفاظ نہیں ایک چیخ ہے۔ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم اس معاشرے کو ایسی سمت میں جانے دیں گے جہاں غریب کی بے بسی ہی اس کا جرم بن جائے؟غریبوں کو امداد نہیں چاہیے،انہیں احترام چاہیے، عزت چاہیے اور ان کا حق لوٹنے والوں سے حفاظت چاہیے۔بینظیر انکم سپورٹ کے نام پر ہو رہا یہ لوٹ مار صرف ایک دھندا نہیں ایک بدنیتی کی علامت ہے۔اور جب تک ہم اجتماعی طور پر اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے، یہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔

  • قوم کے حقیقی خدمت گار ،تحریر:چوہدری شفیق الرحمن وڑائچ

    قوم کے حقیقی خدمت گار ،تحریر:چوہدری شفیق الرحمن وڑائچ

    پانچ دسمبر کو دنیا بھر میں عالمی والنٹئیزز ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا مقصد خدمت ِ خلق اور دوسروں کی مدد کرنے کی ترغیب دینا اور یہ باور کروانا ہے کہ چھوٹے چھوٹے اعمال اور رضاکارانہ خدمات معاشرے میں مثبت تبدیلی لاسکتے ہیں۔ یہ دن لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور باہم تعاون کرنے کی طرف بھی مائل کرتا ہے۔ یہ دن 1985ء میں اقوام متحدہ نے متعارف کروایا تھا۔ لیکن اگر ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے والنٹئیر ڈے کے مقاصد کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے دین نے آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی بتا دیا تھا۔ رسول مقبول ﷺ کے سر پر اللہ نے جہاں نبوت کا تاج رکھا وہاں آپ ﷺ خدمت خلق کا اعلی ترین نمونہ بھی تھے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور اس کا ”شعبہ خدمت ِ خلق“ بھی رسول مقبول ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے خدمت ِ خلق کو حرزجان بنائے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ایک عام کارکن سے لے کر اعلیٰ عہدیدار تک سب ہی والنٹئیرز ہیں۔یہ وہ جوان ہیں جن کے قدموں میں خاکِ وطن کی مہک ہے اور دلوں میں امتِ مسلمہ کا درد ہے۔یہ کہیں بوڑھوں کے کندھوں پر مدد کا ہاتھ رکھتے ہیں، کہیں بیواؤں کے آنگن میں کھانا ہے، کہیں یتیم کے سر پر سایہ ہے اور کہیں کسی بے بس کی فریاد کے جواب میں اٹھتی ہوئی اور دوڑتی قدموں کی چاپ ہے۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے والنٹیئرز کی سب سے بڑی خوبی یہ جہاں بھی جہاں جاتے ہیں وہاں امید کے دیئے روشن ہو جاتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں اگر راشن کا بیگ ہوتا ہے تو ساتھ ہی دعاؤں کی خوشبو بھی ہوتی ہے۔ اگر یہ کسی علاقے میں میڈیکل کیمپ لگاتے ہیں تو دراصل وہ زخموں پر مرہم نہیں بلکہ دلوں پر اعتماد اور محبت کا مرہم رکھتے ہیں۔ ان کے قدموں میں تھکن تو ہوسکتی ہے مگر ارادوں میں پختگی ہے۔یہ طعنوں کی پروا نہیں کرتے، مخالفتوں سے نہیں گھبراتے کیونکہ ان کا محور رضائے الٰہی ہے۔

    ان کی خدمات کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ ان کی جدوجہد اور محنت سے سینکڑوں گھروں میں سکون، امید اور شکرگزاری کی روشنی پہنچتی ہے۔ ایک وقت آئے گا جب تاریخ یہ ضرور لکھے گی کہ اس ملک میں ایسے والنٹئیرزبھی تھے جو تقسیم اور تخریب کی سیاست نہیں، تعمیر کے سفر سے جڑے ہوئے تھے۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے والنٹیئرز نے قوم کو یہ احساس دلایا ہے کہ خدمت محض ایک لفظ نہیں یہ ایک طرزِ فکر، ایک اخلاقی فرض اور ایک روحانی نظم ہے۔ یہ لوگ ملک کے لیے وہ کام کر رہے ہیں جو بڑے بڑے ادارے بھی نہیں کر پاتے۔ یہ نعروں کے بیوپاری نہیں، عمل کے شہسوار ہیں۔ ان کے کردار سے سادگی جھلکتی ہے، مگر ان کے اثرات میں عظمت کی گھن گرج سنائی دیتی ہے۔یہ والنٹیئرز اس قوم کے اصل رہنما ہیں۔ اگرچہ ان کے پاس کوئی وزارت نہیں مگر ان کے ساتھ ہزاروں دلوں کی دعائیں ہیں۔ ان کے پاس کوئی پروٹوکول نہیں مگر آسمان کے فرشتے ان کیلئے پر بچھاتے ہیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ خدمت ِ خلق کی خدمات کی بات کی جائے تو اس کیلئے ہزاروں صفحات بھی کم ہوں گے۔ اس کی خدمات اور کام کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ہمارے ملک کو بدترین سیلاب کاسامنا کرنا پڑا۔گلگت بلتستان اور خیبر پختونخواہ میں سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ سے کئی بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں، پل ٹوٹ گئے اور راستے بند ہوگئے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ جب بھارت نے پانی چھوڑا تو ہمارے تمام دریا بپھر گئے اس سے بھی درجنوں بستیوں کا نام ونشان مٹ گیا۔ یہ تاریخ کا بدترین سیلاب تھا۔ یہی وہ لمحے تھے جب چشم فلک نے دیکھا کہ قوم کے حقیقی خدمت گار کون ہیں!۔مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے وہ کام کئے جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے۔ ایک لاکھ 71ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ 138ریسکیو کشتیاں اور 16ہزار سے زائد رضاکار بحالی مہم کا حصہ بنے۔ 25ہزار سے زائد افراد کو ٹینٹ ویلج بستیوں میں پناہ دی گئی۔چالیس لاکھ سے زائد پکے پکائے کھانے کے پیکٹ تقسیم کئے گئے۔ ایک لاکھ اٹھائیس ہزار سے زائد خشک راشن بیگز اور انیس لاکھ سے زائد پینے کے صاف پانی کی بوتلیں، متاثرین کو بستر، مچھر دانیاں اور ہزاروں افراد کو برتن سیٹ پہنچائے گئے۔ میڈیکل ریلیف کیلئے 1500سے زائد فیلڈ میڈیکل کیمپس سے سات لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔ شعبہ خدمت خلق پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی قائم کردہ کئی بستیوں میں نوزائیدہ بچوں نے جنم لیا۔ مسلم سٹوڈنٹس لیگ نے 20مددگار سکول قائم کئے۔ بچوں کے چہروں پر خوشیاں واپس لانے کیلئے گفٹ پیک، کھلونے اور دودھ کے ڈبے تقسیم کئے گئے۔

    سیلاب تو ختم ہوگیا مگر سیلاب متاثرین کے مسائل ابھی ختم نہیں ہوئے۔ ریسکیو اور ریلیف ہنگامی کام تھا اصل کام سیلاب متاثرین کی بحالی ہے۔ اس مقصد کی خاطر مرکزی مسلم لیگ شعبہ خدمت خلق کے رضاکار گھروں کی تعمیر اور کسانوں کی معاونت کاکام شروع کرچکے ہیں۔ بحالی کا یہ کام دنوں اور ہفتوں کا نہیں بلکہ مہینوں پر مشتمل ہے جس کیلئے ہمارا شعبہ خدمت ِ خلق دن رات مصروف عمل ہے

    ہمارے ملک کو تقریباََ ہر سال ہی تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وجہ یہ ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ بھی یہ بات ہمیں بار بار باور کرواچکا ہے۔ ان حالات میں مرکزی مسلم لیگ شکوہ ظلت شب کی بجائے اپنے حصے کا دیا جلانے پر یقین رکھتی ہے۔اقوام متحدہ کے ایجنڈے کے مطابق پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بچانے کیلئے ہرسال ملک میں وسیع پیمانے پر شجر کاری کی جاتی ہے۔

    شعبہ خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ قدرتی آفات، حالات اور سیلاب سے نمٹنے کیلئے کئی طرح کے اقدامات کر رہا ہے۔ ایک وہ جو ہنگامی اقدامات ہیں۔ دوسرے اقدامات وہ جو مستقل بنیادوں پر قائم ہوں گے۔ مثلاََ ملک بھر میں ضلعی سطح پر ریسکیو سنٹر بنائے جائیں گے، جن میں ہنگامی امداد، فائر اور واٹر ریسکیو سمیت میڈیکل کی تمام سہولیات میسر ہوں گی۔تمام ریسکیو سنٹرز پر ہفتے کے سات دن اور چوبیس گھنٹے تربیت یافتہ والنٹئیرز موجود ہوں گے۔ جدید اکیڈمیز بنائی جائیں گی جہاں ہزاروں نوجوانوں کو ہنگامی حالات سے نمٹنے، مشکلات میں پھنسے لوگوں کی زندگیاں بچانے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ خواتین کو باعزت روزگار کی فراہمی کیلئے خواتین ووکیشنل سنٹرز، صاف پانی کی فراہمی، فوڈ پروگرام ”کھانا سب کیلئے“ کے تحت ملک بھر میں روزانہ پبلک مقامات اور ہسپتالوں کے باہر سینکڑوں دستر خوان سجائے اور بچھائے جاتے ہیں جہاں سے لاکھوں مزدور اور محنت کش مستفید ہوتے ہیں۔رمضان المبارک میں ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں دیہاتوں میں چلنے والا پروگرام سحری سب کیلئے اپنی مثال آپ ہے۔

    آج جبکہ دنیا والنٹئیرز ڈے منا رہی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ مشکلات کے اندھیروں میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ شعبہ خدمت خلق کے والنٹیئز امید کی پہلی کرن ہیں۔ ان میں سے ہر فرد عزم وہمت کی ایک مکمل داستان ہے۔ کوئی طالب علم ہے جو اپنے وقت کا کچھ حصہ خدمت کے نام کرتا ہے؛ کوئی ملازم ہے جو چھٹی کے دن غریبوں کے گھروں تک پہنچتا ہے؛ کوئی تاجر ہے جو رزق کی گردش میں دوسروں کے لیے آسانیاں تلاش کرتا ہے۔کوئی ڈاکٹر ہے جو اپنی پریکٹس اور آرام تج کرکے بیماروں کا علاج کرتا ہے۔ یہ سب اپنی خوشیاں اور آرام کو بالائے طاق رکھ کر دوسروں کیلئے آرام اور خوشی کا اہتمام کرتے ہیں۔
    میں آخر میں قوم کے نام یہ پیغام دنیا چاہوں گا
    اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
    ہم نے تو دل جلاکے سرعام رکھ دیا ہے

  • ذہنی معذور لڑکی سے زیادتی،مجرم کی گرفتاری،فیصل کامران کی فرض شناسی

    ذہنی معذور لڑکی سے زیادتی،مجرم کی گرفتاری،فیصل کامران کی فرض شناسی

    ذہنی معذور لڑکی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ، جس نے ہمیں انسانیت کے درد اور معاشرتی ذمہ داریوں کی تلخ یاد دلائی۔ مگر ایسے ہی لمحوں میں ایک روشنی بھی نمودار ہوتی ہے، انصاف کی راہ پر قدم بڑھانے والے پولیس افسران، اور وہ ادارہ جو غنڈہ گردی اور ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہوتا ہے۔ آج ہم اسی دو جہتی منظرنامے پر چراغ ڈالیں گے ایک طرف ظلم کی وحشت، دوسری طرف پولیس کی زمینی اور ضمیری کامیابی ملے گی

    بدقسمتی کی انتہا تب ہوتی ہے، جب کوئی ایسا دل زخمی ہوتا ہے جو خود اپنی پوری حفاظت کرنے سے قاصر ہو۔لاہور میں ذہنی معذور لڑکی کے ساتھ اس زیادتی کا واقعہ محض ایک جرم نہیں، بلکہ انسانی ضمیر کی دھڑکنوں میں باس مل جانے والی چوٹ ہے۔ ایک معصوم، کمزور وجود کو بہانے سے ورغلا کر، کرایہ کے کوارٹر میں زندگی کا ایک ایسا سبھا کر دینا ، یہ انسانی کمزوری کا استحصال ہے، طاقت اور اعتماد کی زیادتی ہے، اور سب سے بڑھ کر ایک معاشرتی سانحہ ہے۔یہ سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زیادتی صرف جسمانی حدوں کو عبور نہیں کرتی، بلکہ روح کو بھی زخمی کرتی ہے۔ یہ ظلم ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نہ صرف اس کی آواز سنیں، بلکہ اسے یقین دلائیں کہ انصاف ممکن ہے، اور وہ تنہا نہیں ہے۔

    اسی اندوہناک تصویر میں ایک تابناک کردار سامنے آتا ہے ، لاہور پولیس، اور خاص کر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران، ان کا فوری نوٹس لینا اور اس واقعہ پر خصوصی ٹیم تشکیل دینا، ایک عزمِ بیدار انسانیت کا مظہر ہے۔ ایسے افسران کی موجودگی بتاتی ہے کہ پولیس صرف طاقت کا زرخریدہ ہتھیار نہیں، بلکہ ایک ضمیر دار ادارہ بھی ہو سکتی ہے جو مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کی قسم کھا چکا ہے۔اس واقعہ میں، کوٹ لکھپت ٹیم کی قیادت ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نقوی نے نہ صرف پیشہ ورانہ مہارت دکھائی بلکہ ہمت اور عزم کا مظاہرہ بھی کیا۔ ملزم کی گرفتاری،جو کرایہ کے کوارٹر میں لڑکی کو ورغلانے اور زیادتی کرنے والا تھایہ بتاتی ہے کہ پولیس نے کسی قسم کی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کا استعمال، ملزم کے ہسپتال آنے اور فرار ہونے کے مناظر کی شناخت، سب کچھ اس بات کا ثبوت ہے کہ تفتیش نہ صرف سنجیدہ تھی بلکہ جدید انداز میں کی گئی۔اور پھر، ملزم کو جنڈر کرائم سیل کے حوالے کرنا یہ ایک سنجیدہ اور درست اقدام ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ پولیس محض گرفتاری پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ قانونی، ماہر اور حساس انداز سے انصاف کے راستے کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتی ہے۔


    ایسی گھمبیر اور تکلیف دہ داستانوں میں ہمیں وہ روشنی تلاش کرنی چاہیے جو ناامیدی کے اندھیرے کو چیر دے۔ پولیس کی جانب سے فوری کارروائی اور قانونی تقاضوں کا احترام کرنا، ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ معاشرتی نظام نے اپنی ذمہ داری نبھانی شروع کردی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایسے واقعات کو خاموشی سے برداشت نہیں کیا جائے گا، اور معاشرہ انہیں نظر انداز نہیں کر سکتا۔یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ ظلم کے خلاف صرف انصاف کی نہیں، بلکہ انسانی وقار کی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ جب پولیس ایک معذور لڑکی کی حفاظت میں قدم اٹھاتی ہے، تو وہ اعلان کرتی ہے کہ ہر انسان کی عزت مقدس ہے، اور کوئی جرم چھوٹے درجے کا تصور نہیں کیا جائے گا۔بچیوں اور معذور افراد پر ہونے والی زیادتی ہماری معاشرتی وجدان کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔ یہ جرم صرف ایک فرد کی بربادی نہیں، بلکہ پوری آبادی کی اخلاقی تشویش ہے ، یہ سوال ہے کہ ہم ایک ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں کمزوروں کو تحفظ ملتا ہے یا نہیں۔ ایسے میں پولیس کا ٹھوس اور بروقت کارنامہ، ہمیں بتاتا ہے کہ جرم کے خلاف ہمارا موقف کمزور نہیں، بلکہ پختہ اور پرعزم ہے۔ہمیں اپنے طور پر بھی ذمہ دار رہنا ہوگا۔ ہمیں بچوں کی حفاظت کے طور پر سبق سکھانا ہے، معذور اور کمزور افراد کے حقوق کو اجاگر کرنا ہے، اور معاشرتی شعور کو بلند کرنا ہے تاکہ ایسے جرائم پر پردہ نہ چُھپا رہے، بلکہ وہ فوری طور پر منظرِ عام پر آئیں اور ان کے مرتکب کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر پیش کیا جائے۔

    فیصل کامران جیسے افسران ہماری امید کا ستون
    انسانی داستانوں میں ایسے روشن کردار کم ہی ملتے ہیں جو انصاف کی راہوں پر نہ صرف رہنمائی کرتے ہیں بلکہ خود وہی روشنی بن جاتے ہیں۔ ڈی آئی جی فیصل کامران کا کردار اس سانحہ میں ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ پولیس صرف طاقت کا اظہار نہیں، بلکہ انصاف کی ضمانت بھی بن سکتی ہے۔ ان کی فعالیت، عزم، اور حساسیت ، یہ سب ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ صرف ایک عہدہ نہیں، بلکہ ایک ضمیری آواز ہیں۔ان کی قیادت میں بنائی گئی ٹیم نے ہمیں یہ محسوس کروایا ہے کہ انصاف ایک خواب نہیں، حقیقت ہے۔ اگر ادارے مضبوط ہوں اور پولیس افسران اپنا فرض نبھائیں، تو وہ سنگین جرائم کا سدِ باب کر سکتے ہیں اور معاشرے کو ایک بہتر سمت پر گامزن کر سکتے ہیں۔


    یہ واقعہ ایک زخم ہے جو ہماری انسانیّت پر گرا ہے، مگر پولیس کی کارکردگی نے وہ مرہم فراہم کیا ہے جو دل کو کچھ سکون دے سکتا ہے۔ ہمیں اس سکون کو صرف محسوس نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے ایک تحریک میں بدلنا چاہیے۔ ہمیں چاہیئے
    آگاہی بڑھائیں ، معذور افراد کی حفاظت اور ان کے حقوق کے بارے میں شعور پھیلائیں۔شکایات کی راہ ہموار کریں ، ایسے واقعات کی اطلاع دینے والے ہر فرد کو یہ یقین دلائیں کہ انصاف ممکن ہے۔ ان افسران کی حوصلہ افزائی کریں جو ضمیری اور پیشہ ورانہ طور پر انصاف کی راہ پر چلتے ہیں، جیسے فیصل کامران اور ان کی ٹیم، ہر گھر، ہر سکول، اور ہر محلہ ایک ایسا کلچر بنائے جہاں کمزوروں کا تحفظ اولین ترجیح ہو۔

  • سوشل میڈیا، دوستی اور عورت کا وقار ،تحریر:نور فاطمہ

    سوشل میڈیا، دوستی اور عورت کا وقار ،تحریر:نور فاطمہ

    جدید دور میں سوشل میڈیا ایک ایسا جہان بن چکا ہے جہاں چند لمحوں میں ہزاروں میلوں کا فاصلہ مٹ جاتا ہے۔ ایک کلک سے دوستی، گفتگو، تصویریں، احساسات اور خواب ، سب کچھ شیئر کیا جا سکتا ہے۔ مگر اسی آسانی میں ایک خطرہ بھی چھپا ہے، وہ خطرہ جو ہمارے معاشرے کی معصوم، کم عمر لڑکیوں کو شکار بنا رہا ہے، اور ان کی عزت و وقار کو نگل جاتا ہے۔آج کی پاکستانی لڑکی، چاہے وہ کسی اسکول کی طالبہ ہو یا کسی چھوٹے شہر کی رہائشی، اپنے موبائل فون کے ذریعے دنیا سے جڑنے کی خواہش رکھتی ہے۔ مگر اکثر یہ جڑاؤ “اعتماد کے جال” میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ نام نہاد دوست، جعلی پروفائلز، اور دل فریب گفتگو کے پیچھے چھپی بھیڑیائی فطرت، یہی وہ اندھیرا ہے جو روشنی کے پردے میں چھپ کر عزتیں نوچتا ہے۔

    ابتدا اکثر بے ضرر باتوں سے ہوتی ہے “تم بہت خوبصورت لگتی ہو”، “میں تمہیں عزت دیتا ہوں”، “تم مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہو” ، اور یہی بھروسہ ایک دن تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔ کئی لڑکیاں نہ صرف جذباتی بلکہ جسمانی استحصال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ کچھ کیسز منظر عام پر آتے ہیں، مگر بیشتر کہانیاں خوف، شرمندگی اور سماجی دباؤ کے باعث ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتی ہیں۔سوال یہ ہے کہ قصوروار کون ہے؟کیا وہ لڑکیاں جو اعتماد کر بیٹھتی ہیں؟ یا وہ درندے جو محبت کے نام پر دھوکہ دیتے ہیں؟ دراصل قصور پورے نظام کا ہے ، وہ نظام جو لڑکیوں کو سکھاتا تو ہے کہ “چپ رہنا بہتر ہے”، مگر یہ نہیں سکھاتا کہ “خود کا تحفظ کیسے کیا جائے”۔

    ہمیں اپنی بچیوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ سوشل میڈیا کی دنیا “اصلی دنیا” نہیں ہوتی۔کسی نامعلوم شخص سے دوستی ہمیشہ خطرے کا باعث ہو سکتی ہے۔اپنی ذاتی تصاویر، ویڈیوز یا معلومات کبھی کسی پر بھروسہ کر کے شیئر نہ کریں۔اگر کوئی شخص دباؤ ڈالے یا بلیک میل کرے تو فوراً والدین، استاد یا قانون سے مدد لیں، خاموشی ظالم کو طاقت دیتی ہے۔خواتین کے لیے سب سے بڑا ہتھیار ان کی آگاہی ہے۔یہ تحریر کسی کو ڈرانے کے لیے نہیں، بلکہ جگانے کے لیے ہے۔ عورت کی عزت صرف اس کے وجود میں نہیں، بلکہ اس کے شعور میں ہے۔ اگر ہم نے اپنی بچیوں کو تعلیم اور ڈیجیٹل شعور دے دیا، تو سوشل میڈیا بھی ان کا دشمن نہیں، بلکہ ایک مضبوط ساتھی بن سکتا ہے۔یاد رکھیں، عزت کی حفاظت صرف گھر کی چار دیواری میں نہیں، بلکہ دل و دماغ کے اندر ہونی چاہیے۔سوشل میڈیا پر ہر “دوست” دوست نہیں ہوتا، اور ہر “لائک” محبت نہیں۔وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو اعتماد، آگاہی اور تحفظ کے ہتھیار سے لیس کریں ،تاکہ وہ دوستی کے فریب میں نہیں، شعور کے نور میں زندگی گزار سکیں۔

  • کم عمری کی شادی کے نقصانات

    کم عمری کی شادی کے نقصانات

    پاکستان میں شادی بیاہ کے سماجی و قانونی ڈھانچے میں، دوسری شادی (تعددِ ازواج) اور کم عمری کی شادی ایسے اہم معاملات ہیں جو نہ صرف خاندانوں کی ساخت بلکہ خاص طور پر خواتین کے بنیادی حقوق اور ان کی زندگی کے امکانات کو گہرے طور پر متاثر کرتے ہیں۔ یہ دونوں رجحانات روایت، مذہب اور قانون کی ایک پیچیدہ آمیزش میں جکڑے ہوئے ہیں، اور حقوقِ نسواں کے تناظر میں شدید تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔

    کم عمری کی شادی، جسے بعض علاقوں میں ’بچپن کی شادی‘ بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کے کئی دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ایک تشویشناک حقیقت ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں ایک بڑی تعداد میں لڑکیوں کی شادی 18 سال کی قانونی عمر سے پہلے کر دی جاتی ہے۔ حالانکہ سندھ جیسے صوبوں نے لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کر دی ہے، اور وفاقی سطح پر بھی اس کے خلاف سخت قوانین اور سزائیں موجود ہیں، مگر یہ رواج اپنی جڑیں گہری رکھتا ہے۔ چھوٹی عمر میں شادی کا سب سے پہلا وار تعلیم پر ہوتا ہے۔ کم عمری میں رشتہ ازدواج میں بندھنے والی بچیاں اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری نہیں رکھ پاتیں، جس سے ان کی صلاحیتوں کا غیر ارتقائی اختتام ہو جاتا ہے۔ نوعمری میں حمل اور زچگی کے دوران پیچیدگیاں لڑکیوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن جاتی ہیں۔ پاکستان میں زچگی کے دوران ہونے والی اموات میں ایک بڑا حصہ کم عمر ماؤں کا ہوتا ہے۔ نابالغ لڑکی، جو جذباتی اور ذہنی طور پر ازدواجی ذمہ داریوں کے لیے تیار نہیں ہوتی، اکثر گھریلو تشدد، زبردستی اور جذباتی استحصال کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہ شادی اس کا بچپن، بے فکری اور خود مختاری چھین لیتی ہے۔ چونکہ یہ شادیاں اکثر والدین یا خاندان کے فیصلے پر ہوتی ہیں، لڑکی سے اس کے زندگی کے سب سے اہم فیصلے یعنی شریک حیات کے انتخاب کا حق سلب کر لیا جاتا ہے۔

    اسلام میں تعددِ ازواج کی مشروط اجازت ہے، لیکن پاکستان میں مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت مرد کو دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی سے تحریری اجازت اور یونین کونسل سے اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس قانون کا مقصد خواتین کے حقوق کا تحفظ اور مردوں کے صوابدیدی اختیار پر قدغن لگانا تھا۔ اگرچہ قانون میں پہلی بیوی کی اجازت لازمی ہے، لیکن کئی واقعات میں مرد حضرات یونین کونسل سے رجوع کیے بغیر یا پہلی بیوی پر دباؤ ڈال کر دوسری شادی کر لیتے ہیں۔ اس صورت میں پہلی بیوی اور اس کے بچوں کے حقوقِ کفالت، مساوات اور جذباتی استحکام شدید خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ دوسری بیوی کو لانے سے اکثر پہلی بیوی اور بچوں کو مالی اور جذباتی طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ تعددِ ازواج میں تمام بیویوں کے ساتھ مکمل اور برابر کا سلوک، جو کہ مذہبی حکم بھی ہے، عملی طور پر ایک نازک توازن بن جاتا ہے جسے برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔قانون موجود ہونے کے باوجود، دیہی اور دور دراز علاقوں میں اس کی کمزور عملداری اور کم آگاہی کی وجہ سے خواتین اپنے قانونی حقوق سے واقف نہیں ہوتیں اور انہیں استعمال کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔

    یہ دونوں سماجی و قانونی چیلنجز خواتین کی حیثیت اور ان کے وقار کے خلاف ہیں۔ حقوقِ نسواں کی حقیقی پاسداری کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں ، کم عمری کی شادی اور غیر قانونی تعددِ ازواج کے خلاف قوانین کو پورے ملک میں بلا امتیاز مذہب و علاقے سختی سے نافذ کیا جائے۔ لڑکیوں کی تعلیم کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے تاکہ وہ شعور اور معاشی خودمختاری حاصل کر سکیں اور اپنے شادی کے فیصلے خود کر سکیں۔ مذہبی رہنماؤں، اساتذہ اور میڈیا کے ذریعے ان سماجی برائیوں کے خلاف مہم چلائی جائے اور اسلام میں خواتین کو دیے گئے حقوقِ مساوات و عدل کی صحیح تفہیم کو فروغ دیا جائے۔تمام صوبوں میں لڑکی کی شادی کی کم از کم عمر کو 18 سال پر لانا اور اس کی خلاف ورزی پر سزاؤں کو سخت کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    پاکستان میں خواتین کی مکمل خودمختاری کا سفر تب تک ادھورا رہے گا جب تک کم عمری کی شادی اور تعددِ ازواج جیسے مسائل پر تحقیقاتی، تنقیدی اور اصلاحی نظر نہیں ڈالی جاتی۔ خواتین کو صرف خاندان کی زینت نہیں، بلکہ ایک آزاد، باشعور اور بااختیار شہری تسلیم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ نہ صرف اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکیں بلکہ ایک مستحکم معاشرے کی تشکیل میں اپنا پورا کردار ادا کر سکیں۔

  • نام نہاد ڈپریشن  : تحریر۔ عائشہ اسحاق

    نام نہاد ڈپریشن : تحریر۔ عائشہ اسحاق

    گزشتہ سالوں میں کتنے ہی سول سروس کے آفیسر اس نام نہاد ڈپریشن کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔
    عام عوام کی یہ غلط فہمی ہے کہ ہر خودکشی کرنے والا ظالم اور حرام خوری کی وجہ سے ڈپریشن میں مبتلا ہو گا جبکہ اکثر اوقات حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے ۔
    کون نہیں جانتا کہ ملک عظیم پر اشرافیہ کا ایک ٹولہ قابض ہے ۔
    سیاست سے بیورو کریسی تک ہر جگہ انہی کا قبضہ ہے ۔ یہ ٹولہ عوام کے سامنے جو مرضی نورا کشتی کر لیں لیکن حقیقت میں تو یہ ایک کلٹ کا ہی حصہ ہیں جن کے مفادات مشترک ہیں تو ایسے میں آگر کوئی بھی قسمت سے اس ایلیٹ کلب میں اپنی محنت کے بل بوتے پر چلا بھی جائے تو اس کے لیے دو ہی راستے ہیں پہلا کہ ان کے ساتھ مل جائے اور فائدے میں رہے دوسرا اگر ایمانداری کے اصولوں پر چلے تو پھر ڈپریشن کے لیے تیار رہے اب یہ اشرافیہ کا کلٹ اس آفیسر کو زچ کرنے کے لیے ہر حربہ اپنائے گا اس کی پرموشن روک دی جائے گی اسے محکمے میں سائیڈ لائن کر دیا جائے گا ۔۔

    آگر یہ خودکشی کرنے والے آفیسرز ڈپریشن میں اس وجہ سے تھے جیسا عام عوام کی رائے بتاتی ہے مطلب عوامی حقوق کی پامالیاں اور مالی بے ضابطگی ۔۔تو پھر یہ بڑے بڑے مگر مچھ جو ملک لوٹ کھا گئے … یہ ڈپریشن میں جا کر خود کشی کیوں نہیں کرتے ؟..
    آخر ہر بار کم رینک کا آفسر ہی اوپر والوں کے دباؤ کی وجہ سے خودکشی کیوں کرتے ہیں ؟…
    آخر حکومت پر قابض مافیا ان سے ایسا کونسا مطالبہ کرتا ہے جسے کرنے کی بجائے یہ لوگ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ؟..
    کوئی خود کشی کرنے والا افسر انتہائی غریب گھرانے سے آ کر آفسر بنا تو کسی کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے کیا انسان خود اندر سے اتنا کمزور ہو سکتا ہے کہ ان حالات کے باوجود اپنی جان لے لے؟…

  • بیوروکریسی کے پارٹی گروپ .تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریسی کے پارٹی گروپ .تحریر:ملک سلمان

    سرکاری افسران اور بیوروکریسی میں مذہبی رسم و رواج کو زور و شور سے منانے اور ہر وقت مذہبی گفتگو کا منجن بیچنے والوں میں اکثریت اپنی کرپشن اور نااہلی کو چھپانے کیلئے مذہبی ٹچ کو ”فیس سیونگ ٹول“ استعمال کرتے ہیں۔چاہے کوئی بھی فرقہ ہو، مذہبی ٹچ ہر طرح کی کمیونٹی میں بکتا ہے اس لیے سب سے کارآمد طریقہ واردات کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

    مذہبی ٹچ کی جعل سازیاں، مذہب اور فرقوں کا پرچار کرنا قابلیت نہیں بلکہ اس حلف کی خلاف ورزی ہے جس میں یہ عہد کیا گیا تھا کہ سرکاری فرائض میں مذہب، فرقہ اور رشتہ داری کو ترجیح نہیں دینی بلکہ میرٹ اور انصاف کرنا ہے۔
    اصل گیم تو پارٹی گروپ کی ہے۔ جہاں ساری طبقاتی تقسیم ختم ہے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان، پی ایم ایس اور دیگر سروس گروپ کی باہمی عداوت کی بجائے اس بزم(پارٹی گروپ) میں برابری اور بھائی چارے کا عظیم مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ سخت گیر اور معزز افسران کی کہانی لاہور، کراچی اور اسلام آباد کی رقاصاؤں کی زلفوں اور قدموں کی چھنکارکے گرد گھومتی ہے، حسین زلفوں کے اسیر ہونے والے بڑے ناموں کے چھوٹے کرتوت سن کر یہ چکڑ چوہدری نما مخلوق انتہائی حقیر لگنے لگتی ہے۔

    منشیات کے استعمال اور دیگر حرکات پر”اہم ادارے“سے نکالا گیا بچہ بھی صوبائی سول سروس میں آچکا ہے اور ناصرف خود منہ کالا کرتا پھرتا ہے بلکہ دیگر افسران کا سہولت کار بھی بنا ہوا ہے۔ مذہبی ٹچ والے اور پارٹی گروپ جو بھی کرتے ہیں یہ انکا ذاتی معاملہ ہے جو مرضی کریں لیکن ذاتی اس لیے نہیں رہتا کہ اسی گروپنگ کی بنیاد پر اپنے مذہبی ٹچ اور پارٹی گروپ کو اہم سیٹوں اورعہدوں پر نوازا جاتا ہے۔ گندہ ہے پر دھندہ ہے۔ پولیس اور بیوروکریسی کے کم از کم ایک تہائی افسران شراب نوشی اور منشیات کے عادی ہیں جبکہ دو تہائی یعنی ڈبل تعداد شیشہ، سگریٹ نوشی اور مجرہ پارٹیوں کے رسیا ہیں۔

    چند سال قبل کی بات ہے کہ اس وقت کے اے ڈی سی آر لاہور کے سٹاف آفیسرکی لیٹ نائٹ کال آئی سر معذرت آپ کو ڈسٹرب کر رہا ہوں۔۔۔۔صاحب نے زیادہ پی لی ہے۔ اور اپنے کپڑے پھاڑ کر عجیب حرکتیں کر رہے ہیں ایسی حالت میں انکو گھر کیسے لیکر جاؤں۔ میں نے اس سے لوکیشن پوچھی اور وہاں پہنچا تو موصوف اپنے کپڑے پھاڑ اور اتار کر دوسرے افسران کو کہہ رہا تھا کہ مجھے اپنی گود میں بیٹھاؤ، خیر اسے بامشکل گاڑی میں بیٹھایا اور رات گئے وہاں سے ریسکیو کیا۔ جب اسے ریسکیو کرنے گیا تو اس محفل میں بیوروکریسی کے افسران ہول سیل میں موجود تھے۔ پولیس افسران، بیوروکریسی اور سیاستدان ریگولر بنیادوں پر ایسی پارٹیوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں جہاں شراب و شباب اور ہر طرح کا نشہ کرتے ہیں، لائنیں کھینچتے ہیں۔

    سرکاری افسران اور سیاستدانوں میں پارٹی گروپ جوائن کرنا کامیابی کی سیڑھی سمجھا جاتا ہے۔ بیوروکریسی میں پارٹی گروپ کی گیم بہت بلند ہے، ”پاور کاریڈور“ میں داخل ہونے کا ”شارٹ کٹ“ لگانے والے افسران فوری ”کی پوسٹ“ پر ہوتے ہیں۔انتہائی دکھ اور شرم کا مقام ہے کہ اسی دیکھا دیکھی میں کچھ خواتین افسران بھی پارٹی گروپ کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ سنئیر افسر، تگڑے سیاستدان کی گرل فرینڈ کی دعویدار خواتین افسران محکمے میں سیاہ و سفید کی مالک ہوتی ہیں۔ کچھ سرکاری جوڑوں کی ماضی میں ویڈیوز بھی لیک ہوچکی ہیں۔

    بیوروکریسی شدید زوال کا شکار ہے جہاں نئے افسران کی اکثریت شدید کرپٹ اور بدنسلی ہیں وہیں یہ نئے بچے کہیں بلیک میلر اور کہیں سپلائر کا کردار ادا کررہے ہیں۔لاہور کے چند نوجوان افسران نے گینگ بنا رکھا ہے جو اپنے سنئیر افسران کی مخصوص لڑکیوں سے دوستیاں کرواتے ہیں اور بعد میں انکے زیعے اہم پوسٹنگ لیتے اور اپنے کام نکلواتے ہیں۔ انہی محرکات اور”سپلائی چین“ والے خفیہ تعلقات کی وجہ سے نئے افسران کی اکثریت ناصرف عام عوام کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں بلکہ اپنے سنئیر افسران کو بھی "فار گرانٹڈ” لیتے ہیں۔ اہم سیٹوں پر تعیناتی والے ان کماؤ اور پلاؤ پتر بچوں نے ابھی وقت کا پہیہ گھومتا نہیں دیکھا، وقت بدلتے ہی جب یہ او ایس ڈی ہوں گے تو اوقات میں آجائیں گے اور بندہ شناسی کا ہنر بھی جان جائیں گے۔

    پرتگالی گروپ سمیت دیگر ممالک میں ”سیٹنگ“ والے افسران بھی ٹولیوں کی صورت میں بیرون ملک جاتے ہیں اور اپنی آل اولاد کی نیشنیلٹی کرواتے ہیں۔
    ملک سلمان