Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • غریب کی مجبوری پر وار  بینظیر انکم سپورٹ کی آڑ میں ابھرتا نیا مافیا ،تحریر:  آمنہ خواجہ

    غریب کی مجبوری پر وار بینظیر انکم سپورٹ کی آڑ میں ابھرتا نیا مافیا ،تحریر: آمنہ خواجہ

    یہ ملک شاید ترقی کے لیے نہیں، ہر روز ایک نیا مافیا پیدا کرنے کے لیے بنا ہے۔ کبھی آٹے کا بحران، کبھی چینی کا، کبھی پٹرول کی مصنوعی قلت، اور اب باری ہے غریب کے حق پر ڈاکا ڈالنے والوں کی وہ لوگ جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے نام پر والٹ اکاؤنٹ کھولنے کیلئے فی بندہ 1000 روپے مانگ رہے ہیں۔
    یہ دھندا اس تیزی سے پھیل رہا ہے کہ دیہات، قصبوں اور چھوٹے شہروں میں جعلی ریٹ لسٹیں جعلی دفتر، جعلی اہلکار، اور جعلی فارم تک گردش کرنے لگے ہیں۔

    یہ کالم اُن ہی غریبوں کی آواز ہے جو اپنے بچوں کے لیے سہارے تلاش کرتے ہیں، مگر ان کے نصیب میں سہارا نہیں، استحصال لکھ دیا گیا ہے۔یہ پروگرام غریب عوام کے لیے بنایا گیا تھا، ان خواتین کے لیے جن کے گھروں میں چولہا جلا رہتا ہے یا نہیں یہ حکومت کی طرف سے ایک مستحکم مدد ہے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ جیسے ہی کسی پروگرام کا نام مشہور ہو جائے، ہمارا معاشرہ اسے ثواب کی جگہ کمائی سمجھ لیتا ہے۔اب صورتحال یہ ہے کہ جعل ساز گروہ، مقامی دکاندار، ایجنٹس اور نام نہاد “رجسٹریشن سنٹر” لوگو‌ں سے کہتے ہیں “بینظیر انکم سپورٹ والٹ کھل رہا ہے 1000 روپے فیس دو، فائدہ اٹھاؤ۔حالانکہ حقیقت میں آن لائن والٹ ہو، موبائل اکاؤنٹ ہو، یا ریگولر رجسٹریشناس کی بروکری، اس کی فیس، اس کی رشوت صفر روپے ہے۔مگر جب علم کم ہو، اور ضرورت زیادہ، تو مافیا کو پنپنے میں دیر نہیں لگتی۔

    غریب عوام: امید کے نام پر دھوکہ
    دیہات کی خواتین جنہوں نے کبھی موبائل استعمال تک صحیح سے نہیں کیا، وہ جب سنتی ہیں کہ ’’1000 روپے دو، نام اپڈیٹ ہو جائے گا‘‘… تو کسی نہ کسی طرح پیسے جوڑ کر دے دیتی ہیں، اس امید کے ساتھ کہ شاید اگلے ماہ 10-12 ہزار روپے ان کے ہاتھ لگ جائیں۔یعنی ایک طرف غربت، دوسری طرف اندیشہ کہ اگر 1000 روپے نہ دیے تو شاید حکومت کی امداد ملنا ہی بند نہ ہو جائے۔یہ خوف ہی مافیا کی اصل کمائی ہے۔

    جعلی رجسٹریشن سنٹر۔ ایک نیا کاروباری ماڈل
    کئی شہروں میں لوگوں نے کرسی، ٹیبل، ایک بینر اور چند موبائل فون لگا کر جعلی BISP مراکز بنا لیے ہیں۔
    یہ لوگ نہ صرف پیسے لیتے ہیں، بلکہ غریب عورتوں کا ڈیٹا بھی چوری کرتے ہیں، جس کا آگے جا کر غلط استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔شناختی معلومات کی چوری ایک بڑا جرم ہے، مگر یہاں اسے کاروبار بنا لیا گیا ہے۔
    حکومت نے کئی بار وضاحت کی کہ رجسٹریشن مفت ہے،کوئی والٹ اکاؤنٹ فیس کے بغیر بنتا ہے،BISP کا عملہ گھر گھر جا کر پیسہ نہیں لیتا،لیکن زمین پر کیا ہو رہا ہے؟کسی ضلع میں کوئی پکڑا نہیں جاتا، اور اگر پکڑا بھی جائے تو اگلے دن پھر یہی کاروبار شروع ہو جاتا ہے۔غریب کی جیب تو خالی ہوتی ہے،مگر حکومت کی عملداری بھی شاید خالی ہے۔

    معاشرہ کیوں خاموش؟
    ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ مہنگائی، بیروزگاری، اور پریشانی نے عوام کو اتنا مصروف کر رکھا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کو ظلم سمجھتے ہی نہیں۔لوگ کہتے ہیں “چلو 1000 ہی تو ہیں، اگر نام لگ گیا تو کیا مسئلہ؟”یہ سوچ ہی مافیا کی طاقت ہے۔یہ عوامی سطح پر آگاہی کا وقت ہے، ورنہ یہ دھندا بڑھ کر ہر گھر تک پہنچ جائے گا۔ یاد رکھیں، بینظیر انکم سپورٹ کی رجسٹریشن مفت ہے۔کوئی فیس، کوئی چارج، کوئی ٹوکن کچھ نہیں۔ کوئی والٹ اکاؤنٹ، موبائل اکاؤنٹ، یا ATM سسٹم 1000 روپے نہیں لیتا۔ جعلی ایجنٹوں سے بچیں، صرف سرکاری مراکز پر جائیں۔ اپنا ڈیٹا کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

    شکایت کریں خاموشی جرم کو مضبوط کرتی ہے،اسٹیشنری دکانوں پر مافیا” کیوں پنپتا ہے؟اکثر دکاندار یہ سوچ کر یہ دھندا شروع کرتے ہیں کہ“ہم تو خدمت کر رہے ہیں، تھوڑے پیسے لے رہے ہیں تو کیا ہوا؟”مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ خدمت نہیں، استحصال کر رہے ہوتے ہیں۔اسی طرح کے غیر ذمہ دار رویوں نے ہر شعبے میں بدنیتی کو جنم دیا ہے۔یہ سچ ہے کہ ایسے فراڈ صرف کمزور معاشروں میں پنپتے ہیں، جہاں قانون سست ہو،اداروں کی آنکھ پر پٹی بندھی ہو،میڈیا سنجیدہ مسائل چھوڑ کر سیاست کے پیچھے لگا رہے،پولیس کو رشوت زیادہ اور ذمہ داری کم دکھائی دے،اگر حکومت بروقت کارروائیاں کرے، تو ایک ہفتے میں یہ پورا دھندا ختم ہو سکتا ہے۔ لیکن جب سب کی نظریں دوسری طرف ہوں، تو مافیا کو پھلنے پھولنے میں دیر نہیں لگتی۔

    یہ کالم صرف الفاظ نہیں ایک چیخ ہے۔ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم اس معاشرے کو ایسی سمت میں جانے دیں گے جہاں غریب کی بے بسی ہی اس کا جرم بن جائے؟غریبوں کو امداد نہیں چاہیے،انہیں احترام چاہیے، عزت چاہیے اور ان کا حق لوٹنے والوں سے حفاظت چاہیے۔بینظیر انکم سپورٹ کے نام پر ہو رہا یہ لوٹ مار صرف ایک دھندا نہیں ایک بدنیتی کی علامت ہے۔اور جب تک ہم اجتماعی طور پر اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے، یہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔

  • قوم کے حقیقی خدمت گار ،تحریر:چوہدری شفیق الرحمن وڑائچ

    قوم کے حقیقی خدمت گار ،تحریر:چوہدری شفیق الرحمن وڑائچ

    پانچ دسمبر کو دنیا بھر میں عالمی والنٹئیزز ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا مقصد خدمت ِ خلق اور دوسروں کی مدد کرنے کی ترغیب دینا اور یہ باور کروانا ہے کہ چھوٹے چھوٹے اعمال اور رضاکارانہ خدمات معاشرے میں مثبت تبدیلی لاسکتے ہیں۔ یہ دن لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور باہم تعاون کرنے کی طرف بھی مائل کرتا ہے۔ یہ دن 1985ء میں اقوام متحدہ نے متعارف کروایا تھا۔ لیکن اگر ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے والنٹئیر ڈے کے مقاصد کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے دین نے آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی بتا دیا تھا۔ رسول مقبول ﷺ کے سر پر اللہ نے جہاں نبوت کا تاج رکھا وہاں آپ ﷺ خدمت خلق کا اعلی ترین نمونہ بھی تھے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور اس کا ”شعبہ خدمت ِ خلق“ بھی رسول مقبول ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے خدمت ِ خلق کو حرزجان بنائے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ایک عام کارکن سے لے کر اعلیٰ عہدیدار تک سب ہی والنٹئیرز ہیں۔یہ وہ جوان ہیں جن کے قدموں میں خاکِ وطن کی مہک ہے اور دلوں میں امتِ مسلمہ کا درد ہے۔یہ کہیں بوڑھوں کے کندھوں پر مدد کا ہاتھ رکھتے ہیں، کہیں بیواؤں کے آنگن میں کھانا ہے، کہیں یتیم کے سر پر سایہ ہے اور کہیں کسی بے بس کی فریاد کے جواب میں اٹھتی ہوئی اور دوڑتی قدموں کی چاپ ہے۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے والنٹیئرز کی سب سے بڑی خوبی یہ جہاں بھی جہاں جاتے ہیں وہاں امید کے دیئے روشن ہو جاتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں اگر راشن کا بیگ ہوتا ہے تو ساتھ ہی دعاؤں کی خوشبو بھی ہوتی ہے۔ اگر یہ کسی علاقے میں میڈیکل کیمپ لگاتے ہیں تو دراصل وہ زخموں پر مرہم نہیں بلکہ دلوں پر اعتماد اور محبت کا مرہم رکھتے ہیں۔ ان کے قدموں میں تھکن تو ہوسکتی ہے مگر ارادوں میں پختگی ہے۔یہ طعنوں کی پروا نہیں کرتے، مخالفتوں سے نہیں گھبراتے کیونکہ ان کا محور رضائے الٰہی ہے۔

    ان کی خدمات کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ ان کی جدوجہد اور محنت سے سینکڑوں گھروں میں سکون، امید اور شکرگزاری کی روشنی پہنچتی ہے۔ ایک وقت آئے گا جب تاریخ یہ ضرور لکھے گی کہ اس ملک میں ایسے والنٹئیرزبھی تھے جو تقسیم اور تخریب کی سیاست نہیں، تعمیر کے سفر سے جڑے ہوئے تھے۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے والنٹیئرز نے قوم کو یہ احساس دلایا ہے کہ خدمت محض ایک لفظ نہیں یہ ایک طرزِ فکر، ایک اخلاقی فرض اور ایک روحانی نظم ہے۔ یہ لوگ ملک کے لیے وہ کام کر رہے ہیں جو بڑے بڑے ادارے بھی نہیں کر پاتے۔ یہ نعروں کے بیوپاری نہیں، عمل کے شہسوار ہیں۔ ان کے کردار سے سادگی جھلکتی ہے، مگر ان کے اثرات میں عظمت کی گھن گرج سنائی دیتی ہے۔یہ والنٹیئرز اس قوم کے اصل رہنما ہیں۔ اگرچہ ان کے پاس کوئی وزارت نہیں مگر ان کے ساتھ ہزاروں دلوں کی دعائیں ہیں۔ ان کے پاس کوئی پروٹوکول نہیں مگر آسمان کے فرشتے ان کیلئے پر بچھاتے ہیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ خدمت ِ خلق کی خدمات کی بات کی جائے تو اس کیلئے ہزاروں صفحات بھی کم ہوں گے۔ اس کی خدمات اور کام کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ہمارے ملک کو بدترین سیلاب کاسامنا کرنا پڑا۔گلگت بلتستان اور خیبر پختونخواہ میں سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ سے کئی بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں، پل ٹوٹ گئے اور راستے بند ہوگئے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ جب بھارت نے پانی چھوڑا تو ہمارے تمام دریا بپھر گئے اس سے بھی درجنوں بستیوں کا نام ونشان مٹ گیا۔ یہ تاریخ کا بدترین سیلاب تھا۔ یہی وہ لمحے تھے جب چشم فلک نے دیکھا کہ قوم کے حقیقی خدمت گار کون ہیں!۔مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے وہ کام کئے جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے۔ ایک لاکھ 71ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ 138ریسکیو کشتیاں اور 16ہزار سے زائد رضاکار بحالی مہم کا حصہ بنے۔ 25ہزار سے زائد افراد کو ٹینٹ ویلج بستیوں میں پناہ دی گئی۔چالیس لاکھ سے زائد پکے پکائے کھانے کے پیکٹ تقسیم کئے گئے۔ ایک لاکھ اٹھائیس ہزار سے زائد خشک راشن بیگز اور انیس لاکھ سے زائد پینے کے صاف پانی کی بوتلیں، متاثرین کو بستر، مچھر دانیاں اور ہزاروں افراد کو برتن سیٹ پہنچائے گئے۔ میڈیکل ریلیف کیلئے 1500سے زائد فیلڈ میڈیکل کیمپس سے سات لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔ شعبہ خدمت خلق پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی قائم کردہ کئی بستیوں میں نوزائیدہ بچوں نے جنم لیا۔ مسلم سٹوڈنٹس لیگ نے 20مددگار سکول قائم کئے۔ بچوں کے چہروں پر خوشیاں واپس لانے کیلئے گفٹ پیک، کھلونے اور دودھ کے ڈبے تقسیم کئے گئے۔

    سیلاب تو ختم ہوگیا مگر سیلاب متاثرین کے مسائل ابھی ختم نہیں ہوئے۔ ریسکیو اور ریلیف ہنگامی کام تھا اصل کام سیلاب متاثرین کی بحالی ہے۔ اس مقصد کی خاطر مرکزی مسلم لیگ شعبہ خدمت خلق کے رضاکار گھروں کی تعمیر اور کسانوں کی معاونت کاکام شروع کرچکے ہیں۔ بحالی کا یہ کام دنوں اور ہفتوں کا نہیں بلکہ مہینوں پر مشتمل ہے جس کیلئے ہمارا شعبہ خدمت ِ خلق دن رات مصروف عمل ہے

    ہمارے ملک کو تقریباََ ہر سال ہی تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وجہ یہ ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ بھی یہ بات ہمیں بار بار باور کرواچکا ہے۔ ان حالات میں مرکزی مسلم لیگ شکوہ ظلت شب کی بجائے اپنے حصے کا دیا جلانے پر یقین رکھتی ہے۔اقوام متحدہ کے ایجنڈے کے مطابق پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بچانے کیلئے ہرسال ملک میں وسیع پیمانے پر شجر کاری کی جاتی ہے۔

    شعبہ خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ قدرتی آفات، حالات اور سیلاب سے نمٹنے کیلئے کئی طرح کے اقدامات کر رہا ہے۔ ایک وہ جو ہنگامی اقدامات ہیں۔ دوسرے اقدامات وہ جو مستقل بنیادوں پر قائم ہوں گے۔ مثلاََ ملک بھر میں ضلعی سطح پر ریسکیو سنٹر بنائے جائیں گے، جن میں ہنگامی امداد، فائر اور واٹر ریسکیو سمیت میڈیکل کی تمام سہولیات میسر ہوں گی۔تمام ریسکیو سنٹرز پر ہفتے کے سات دن اور چوبیس گھنٹے تربیت یافتہ والنٹئیرز موجود ہوں گے۔ جدید اکیڈمیز بنائی جائیں گی جہاں ہزاروں نوجوانوں کو ہنگامی حالات سے نمٹنے، مشکلات میں پھنسے لوگوں کی زندگیاں بچانے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ خواتین کو باعزت روزگار کی فراہمی کیلئے خواتین ووکیشنل سنٹرز، صاف پانی کی فراہمی، فوڈ پروگرام ”کھانا سب کیلئے“ کے تحت ملک بھر میں روزانہ پبلک مقامات اور ہسپتالوں کے باہر سینکڑوں دستر خوان سجائے اور بچھائے جاتے ہیں جہاں سے لاکھوں مزدور اور محنت کش مستفید ہوتے ہیں۔رمضان المبارک میں ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں دیہاتوں میں چلنے والا پروگرام سحری سب کیلئے اپنی مثال آپ ہے۔

    آج جبکہ دنیا والنٹئیرز ڈے منا رہی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ مشکلات کے اندھیروں میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ شعبہ خدمت خلق کے والنٹیئز امید کی پہلی کرن ہیں۔ ان میں سے ہر فرد عزم وہمت کی ایک مکمل داستان ہے۔ کوئی طالب علم ہے جو اپنے وقت کا کچھ حصہ خدمت کے نام کرتا ہے؛ کوئی ملازم ہے جو چھٹی کے دن غریبوں کے گھروں تک پہنچتا ہے؛ کوئی تاجر ہے جو رزق کی گردش میں دوسروں کے لیے آسانیاں تلاش کرتا ہے۔کوئی ڈاکٹر ہے جو اپنی پریکٹس اور آرام تج کرکے بیماروں کا علاج کرتا ہے۔ یہ سب اپنی خوشیاں اور آرام کو بالائے طاق رکھ کر دوسروں کیلئے آرام اور خوشی کا اہتمام کرتے ہیں۔
    میں آخر میں قوم کے نام یہ پیغام دنیا چاہوں گا
    اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
    ہم نے تو دل جلاکے سرعام رکھ دیا ہے

  • ذہنی معذور لڑکی سے زیادتی،مجرم کی گرفتاری،فیصل کامران کی فرض شناسی

    ذہنی معذور لڑکی سے زیادتی،مجرم کی گرفتاری،فیصل کامران کی فرض شناسی

    ذہنی معذور لڑکی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ، جس نے ہمیں انسانیت کے درد اور معاشرتی ذمہ داریوں کی تلخ یاد دلائی۔ مگر ایسے ہی لمحوں میں ایک روشنی بھی نمودار ہوتی ہے، انصاف کی راہ پر قدم بڑھانے والے پولیس افسران، اور وہ ادارہ جو غنڈہ گردی اور ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہوتا ہے۔ آج ہم اسی دو جہتی منظرنامے پر چراغ ڈالیں گے ایک طرف ظلم کی وحشت، دوسری طرف پولیس کی زمینی اور ضمیری کامیابی ملے گی

    بدقسمتی کی انتہا تب ہوتی ہے، جب کوئی ایسا دل زخمی ہوتا ہے جو خود اپنی پوری حفاظت کرنے سے قاصر ہو۔لاہور میں ذہنی معذور لڑکی کے ساتھ اس زیادتی کا واقعہ محض ایک جرم نہیں، بلکہ انسانی ضمیر کی دھڑکنوں میں باس مل جانے والی چوٹ ہے۔ ایک معصوم، کمزور وجود کو بہانے سے ورغلا کر، کرایہ کے کوارٹر میں زندگی کا ایک ایسا سبھا کر دینا ، یہ انسانی کمزوری کا استحصال ہے، طاقت اور اعتماد کی زیادتی ہے، اور سب سے بڑھ کر ایک معاشرتی سانحہ ہے۔یہ سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زیادتی صرف جسمانی حدوں کو عبور نہیں کرتی، بلکہ روح کو بھی زخمی کرتی ہے۔ یہ ظلم ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نہ صرف اس کی آواز سنیں، بلکہ اسے یقین دلائیں کہ انصاف ممکن ہے، اور وہ تنہا نہیں ہے۔

    اسی اندوہناک تصویر میں ایک تابناک کردار سامنے آتا ہے ، لاہور پولیس، اور خاص کر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران، ان کا فوری نوٹس لینا اور اس واقعہ پر خصوصی ٹیم تشکیل دینا، ایک عزمِ بیدار انسانیت کا مظہر ہے۔ ایسے افسران کی موجودگی بتاتی ہے کہ پولیس صرف طاقت کا زرخریدہ ہتھیار نہیں، بلکہ ایک ضمیر دار ادارہ بھی ہو سکتی ہے جو مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کی قسم کھا چکا ہے۔اس واقعہ میں، کوٹ لکھپت ٹیم کی قیادت ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نقوی نے نہ صرف پیشہ ورانہ مہارت دکھائی بلکہ ہمت اور عزم کا مظاہرہ بھی کیا۔ ملزم کی گرفتاری،جو کرایہ کے کوارٹر میں لڑکی کو ورغلانے اور زیادتی کرنے والا تھایہ بتاتی ہے کہ پولیس نے کسی قسم کی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کا استعمال، ملزم کے ہسپتال آنے اور فرار ہونے کے مناظر کی شناخت، سب کچھ اس بات کا ثبوت ہے کہ تفتیش نہ صرف سنجیدہ تھی بلکہ جدید انداز میں کی گئی۔اور پھر، ملزم کو جنڈر کرائم سیل کے حوالے کرنا یہ ایک سنجیدہ اور درست اقدام ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ پولیس محض گرفتاری پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ قانونی، ماہر اور حساس انداز سے انصاف کے راستے کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتی ہے۔


    ایسی گھمبیر اور تکلیف دہ داستانوں میں ہمیں وہ روشنی تلاش کرنی چاہیے جو ناامیدی کے اندھیرے کو چیر دے۔ پولیس کی جانب سے فوری کارروائی اور قانونی تقاضوں کا احترام کرنا، ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ معاشرتی نظام نے اپنی ذمہ داری نبھانی شروع کردی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایسے واقعات کو خاموشی سے برداشت نہیں کیا جائے گا، اور معاشرہ انہیں نظر انداز نہیں کر سکتا۔یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ ظلم کے خلاف صرف انصاف کی نہیں، بلکہ انسانی وقار کی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ جب پولیس ایک معذور لڑکی کی حفاظت میں قدم اٹھاتی ہے، تو وہ اعلان کرتی ہے کہ ہر انسان کی عزت مقدس ہے، اور کوئی جرم چھوٹے درجے کا تصور نہیں کیا جائے گا۔بچیوں اور معذور افراد پر ہونے والی زیادتی ہماری معاشرتی وجدان کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔ یہ جرم صرف ایک فرد کی بربادی نہیں، بلکہ پوری آبادی کی اخلاقی تشویش ہے ، یہ سوال ہے کہ ہم ایک ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں کمزوروں کو تحفظ ملتا ہے یا نہیں۔ ایسے میں پولیس کا ٹھوس اور بروقت کارنامہ، ہمیں بتاتا ہے کہ جرم کے خلاف ہمارا موقف کمزور نہیں، بلکہ پختہ اور پرعزم ہے۔ہمیں اپنے طور پر بھی ذمہ دار رہنا ہوگا۔ ہمیں بچوں کی حفاظت کے طور پر سبق سکھانا ہے، معذور اور کمزور افراد کے حقوق کو اجاگر کرنا ہے، اور معاشرتی شعور کو بلند کرنا ہے تاکہ ایسے جرائم پر پردہ نہ چُھپا رہے، بلکہ وہ فوری طور پر منظرِ عام پر آئیں اور ان کے مرتکب کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر پیش کیا جائے۔

    فیصل کامران جیسے افسران ہماری امید کا ستون
    انسانی داستانوں میں ایسے روشن کردار کم ہی ملتے ہیں جو انصاف کی راہوں پر نہ صرف رہنمائی کرتے ہیں بلکہ خود وہی روشنی بن جاتے ہیں۔ ڈی آئی جی فیصل کامران کا کردار اس سانحہ میں ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ پولیس صرف طاقت کا اظہار نہیں، بلکہ انصاف کی ضمانت بھی بن سکتی ہے۔ ان کی فعالیت، عزم، اور حساسیت ، یہ سب ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ صرف ایک عہدہ نہیں، بلکہ ایک ضمیری آواز ہیں۔ان کی قیادت میں بنائی گئی ٹیم نے ہمیں یہ محسوس کروایا ہے کہ انصاف ایک خواب نہیں، حقیقت ہے۔ اگر ادارے مضبوط ہوں اور پولیس افسران اپنا فرض نبھائیں، تو وہ سنگین جرائم کا سدِ باب کر سکتے ہیں اور معاشرے کو ایک بہتر سمت پر گامزن کر سکتے ہیں۔


    یہ واقعہ ایک زخم ہے جو ہماری انسانیّت پر گرا ہے، مگر پولیس کی کارکردگی نے وہ مرہم فراہم کیا ہے جو دل کو کچھ سکون دے سکتا ہے۔ ہمیں اس سکون کو صرف محسوس نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے ایک تحریک میں بدلنا چاہیے۔ ہمیں چاہیئے
    آگاہی بڑھائیں ، معذور افراد کی حفاظت اور ان کے حقوق کے بارے میں شعور پھیلائیں۔شکایات کی راہ ہموار کریں ، ایسے واقعات کی اطلاع دینے والے ہر فرد کو یہ یقین دلائیں کہ انصاف ممکن ہے۔ ان افسران کی حوصلہ افزائی کریں جو ضمیری اور پیشہ ورانہ طور پر انصاف کی راہ پر چلتے ہیں، جیسے فیصل کامران اور ان کی ٹیم، ہر گھر، ہر سکول، اور ہر محلہ ایک ایسا کلچر بنائے جہاں کمزوروں کا تحفظ اولین ترجیح ہو۔

  • سوشل میڈیا، دوستی اور عورت کا وقار ،تحریر:نور فاطمہ

    سوشل میڈیا، دوستی اور عورت کا وقار ،تحریر:نور فاطمہ

    جدید دور میں سوشل میڈیا ایک ایسا جہان بن چکا ہے جہاں چند لمحوں میں ہزاروں میلوں کا فاصلہ مٹ جاتا ہے۔ ایک کلک سے دوستی، گفتگو، تصویریں، احساسات اور خواب ، سب کچھ شیئر کیا جا سکتا ہے۔ مگر اسی آسانی میں ایک خطرہ بھی چھپا ہے، وہ خطرہ جو ہمارے معاشرے کی معصوم، کم عمر لڑکیوں کو شکار بنا رہا ہے، اور ان کی عزت و وقار کو نگل جاتا ہے۔آج کی پاکستانی لڑکی، چاہے وہ کسی اسکول کی طالبہ ہو یا کسی چھوٹے شہر کی رہائشی، اپنے موبائل فون کے ذریعے دنیا سے جڑنے کی خواہش رکھتی ہے۔ مگر اکثر یہ جڑاؤ “اعتماد کے جال” میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ نام نہاد دوست، جعلی پروفائلز، اور دل فریب گفتگو کے پیچھے چھپی بھیڑیائی فطرت، یہی وہ اندھیرا ہے جو روشنی کے پردے میں چھپ کر عزتیں نوچتا ہے۔

    ابتدا اکثر بے ضرر باتوں سے ہوتی ہے “تم بہت خوبصورت لگتی ہو”، “میں تمہیں عزت دیتا ہوں”، “تم مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہو” ، اور یہی بھروسہ ایک دن تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔ کئی لڑکیاں نہ صرف جذباتی بلکہ جسمانی استحصال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ کچھ کیسز منظر عام پر آتے ہیں، مگر بیشتر کہانیاں خوف، شرمندگی اور سماجی دباؤ کے باعث ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتی ہیں۔سوال یہ ہے کہ قصوروار کون ہے؟کیا وہ لڑکیاں جو اعتماد کر بیٹھتی ہیں؟ یا وہ درندے جو محبت کے نام پر دھوکہ دیتے ہیں؟ دراصل قصور پورے نظام کا ہے ، وہ نظام جو لڑکیوں کو سکھاتا تو ہے کہ “چپ رہنا بہتر ہے”، مگر یہ نہیں سکھاتا کہ “خود کا تحفظ کیسے کیا جائے”۔

    ہمیں اپنی بچیوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ سوشل میڈیا کی دنیا “اصلی دنیا” نہیں ہوتی۔کسی نامعلوم شخص سے دوستی ہمیشہ خطرے کا باعث ہو سکتی ہے۔اپنی ذاتی تصاویر، ویڈیوز یا معلومات کبھی کسی پر بھروسہ کر کے شیئر نہ کریں۔اگر کوئی شخص دباؤ ڈالے یا بلیک میل کرے تو فوراً والدین، استاد یا قانون سے مدد لیں، خاموشی ظالم کو طاقت دیتی ہے۔خواتین کے لیے سب سے بڑا ہتھیار ان کی آگاہی ہے۔یہ تحریر کسی کو ڈرانے کے لیے نہیں، بلکہ جگانے کے لیے ہے۔ عورت کی عزت صرف اس کے وجود میں نہیں، بلکہ اس کے شعور میں ہے۔ اگر ہم نے اپنی بچیوں کو تعلیم اور ڈیجیٹل شعور دے دیا، تو سوشل میڈیا بھی ان کا دشمن نہیں، بلکہ ایک مضبوط ساتھی بن سکتا ہے۔یاد رکھیں، عزت کی حفاظت صرف گھر کی چار دیواری میں نہیں، بلکہ دل و دماغ کے اندر ہونی چاہیے۔سوشل میڈیا پر ہر “دوست” دوست نہیں ہوتا، اور ہر “لائک” محبت نہیں۔وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو اعتماد، آگاہی اور تحفظ کے ہتھیار سے لیس کریں ،تاکہ وہ دوستی کے فریب میں نہیں، شعور کے نور میں زندگی گزار سکیں۔

  • کم عمری کی شادی کے نقصانات

    کم عمری کی شادی کے نقصانات

    پاکستان میں شادی بیاہ کے سماجی و قانونی ڈھانچے میں، دوسری شادی (تعددِ ازواج) اور کم عمری کی شادی ایسے اہم معاملات ہیں جو نہ صرف خاندانوں کی ساخت بلکہ خاص طور پر خواتین کے بنیادی حقوق اور ان کی زندگی کے امکانات کو گہرے طور پر متاثر کرتے ہیں۔ یہ دونوں رجحانات روایت، مذہب اور قانون کی ایک پیچیدہ آمیزش میں جکڑے ہوئے ہیں، اور حقوقِ نسواں کے تناظر میں شدید تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔

    کم عمری کی شادی، جسے بعض علاقوں میں ’بچپن کی شادی‘ بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کے کئی دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ایک تشویشناک حقیقت ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں ایک بڑی تعداد میں لڑکیوں کی شادی 18 سال کی قانونی عمر سے پہلے کر دی جاتی ہے۔ حالانکہ سندھ جیسے صوبوں نے لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کر دی ہے، اور وفاقی سطح پر بھی اس کے خلاف سخت قوانین اور سزائیں موجود ہیں، مگر یہ رواج اپنی جڑیں گہری رکھتا ہے۔ چھوٹی عمر میں شادی کا سب سے پہلا وار تعلیم پر ہوتا ہے۔ کم عمری میں رشتہ ازدواج میں بندھنے والی بچیاں اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری نہیں رکھ پاتیں، جس سے ان کی صلاحیتوں کا غیر ارتقائی اختتام ہو جاتا ہے۔ نوعمری میں حمل اور زچگی کے دوران پیچیدگیاں لڑکیوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن جاتی ہیں۔ پاکستان میں زچگی کے دوران ہونے والی اموات میں ایک بڑا حصہ کم عمر ماؤں کا ہوتا ہے۔ نابالغ لڑکی، جو جذباتی اور ذہنی طور پر ازدواجی ذمہ داریوں کے لیے تیار نہیں ہوتی، اکثر گھریلو تشدد، زبردستی اور جذباتی استحصال کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہ شادی اس کا بچپن، بے فکری اور خود مختاری چھین لیتی ہے۔ چونکہ یہ شادیاں اکثر والدین یا خاندان کے فیصلے پر ہوتی ہیں، لڑکی سے اس کے زندگی کے سب سے اہم فیصلے یعنی شریک حیات کے انتخاب کا حق سلب کر لیا جاتا ہے۔

    اسلام میں تعددِ ازواج کی مشروط اجازت ہے، لیکن پاکستان میں مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت مرد کو دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی سے تحریری اجازت اور یونین کونسل سے اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس قانون کا مقصد خواتین کے حقوق کا تحفظ اور مردوں کے صوابدیدی اختیار پر قدغن لگانا تھا۔ اگرچہ قانون میں پہلی بیوی کی اجازت لازمی ہے، لیکن کئی واقعات میں مرد حضرات یونین کونسل سے رجوع کیے بغیر یا پہلی بیوی پر دباؤ ڈال کر دوسری شادی کر لیتے ہیں۔ اس صورت میں پہلی بیوی اور اس کے بچوں کے حقوقِ کفالت، مساوات اور جذباتی استحکام شدید خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ دوسری بیوی کو لانے سے اکثر پہلی بیوی اور بچوں کو مالی اور جذباتی طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ تعددِ ازواج میں تمام بیویوں کے ساتھ مکمل اور برابر کا سلوک، جو کہ مذہبی حکم بھی ہے، عملی طور پر ایک نازک توازن بن جاتا ہے جسے برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔قانون موجود ہونے کے باوجود، دیہی اور دور دراز علاقوں میں اس کی کمزور عملداری اور کم آگاہی کی وجہ سے خواتین اپنے قانونی حقوق سے واقف نہیں ہوتیں اور انہیں استعمال کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔

    یہ دونوں سماجی و قانونی چیلنجز خواتین کی حیثیت اور ان کے وقار کے خلاف ہیں۔ حقوقِ نسواں کی حقیقی پاسداری کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں ، کم عمری کی شادی اور غیر قانونی تعددِ ازواج کے خلاف قوانین کو پورے ملک میں بلا امتیاز مذہب و علاقے سختی سے نافذ کیا جائے۔ لڑکیوں کی تعلیم کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے تاکہ وہ شعور اور معاشی خودمختاری حاصل کر سکیں اور اپنے شادی کے فیصلے خود کر سکیں۔ مذہبی رہنماؤں، اساتذہ اور میڈیا کے ذریعے ان سماجی برائیوں کے خلاف مہم چلائی جائے اور اسلام میں خواتین کو دیے گئے حقوقِ مساوات و عدل کی صحیح تفہیم کو فروغ دیا جائے۔تمام صوبوں میں لڑکی کی شادی کی کم از کم عمر کو 18 سال پر لانا اور اس کی خلاف ورزی پر سزاؤں کو سخت کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    پاکستان میں خواتین کی مکمل خودمختاری کا سفر تب تک ادھورا رہے گا جب تک کم عمری کی شادی اور تعددِ ازواج جیسے مسائل پر تحقیقاتی، تنقیدی اور اصلاحی نظر نہیں ڈالی جاتی۔ خواتین کو صرف خاندان کی زینت نہیں، بلکہ ایک آزاد، باشعور اور بااختیار شہری تسلیم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ نہ صرف اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکیں بلکہ ایک مستحکم معاشرے کی تشکیل میں اپنا پورا کردار ادا کر سکیں۔

  • نام نہاد ڈپریشن  : تحریر۔ عائشہ اسحاق

    نام نہاد ڈپریشن : تحریر۔ عائشہ اسحاق

    گزشتہ سالوں میں کتنے ہی سول سروس کے آفیسر اس نام نہاد ڈپریشن کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔
    عام عوام کی یہ غلط فہمی ہے کہ ہر خودکشی کرنے والا ظالم اور حرام خوری کی وجہ سے ڈپریشن میں مبتلا ہو گا جبکہ اکثر اوقات حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے ۔
    کون نہیں جانتا کہ ملک عظیم پر اشرافیہ کا ایک ٹولہ قابض ہے ۔
    سیاست سے بیورو کریسی تک ہر جگہ انہی کا قبضہ ہے ۔ یہ ٹولہ عوام کے سامنے جو مرضی نورا کشتی کر لیں لیکن حقیقت میں تو یہ ایک کلٹ کا ہی حصہ ہیں جن کے مفادات مشترک ہیں تو ایسے میں آگر کوئی بھی قسمت سے اس ایلیٹ کلب میں اپنی محنت کے بل بوتے پر چلا بھی جائے تو اس کے لیے دو ہی راستے ہیں پہلا کہ ان کے ساتھ مل جائے اور فائدے میں رہے دوسرا اگر ایمانداری کے اصولوں پر چلے تو پھر ڈپریشن کے لیے تیار رہے اب یہ اشرافیہ کا کلٹ اس آفیسر کو زچ کرنے کے لیے ہر حربہ اپنائے گا اس کی پرموشن روک دی جائے گی اسے محکمے میں سائیڈ لائن کر دیا جائے گا ۔۔

    آگر یہ خودکشی کرنے والے آفیسرز ڈپریشن میں اس وجہ سے تھے جیسا عام عوام کی رائے بتاتی ہے مطلب عوامی حقوق کی پامالیاں اور مالی بے ضابطگی ۔۔تو پھر یہ بڑے بڑے مگر مچھ جو ملک لوٹ کھا گئے … یہ ڈپریشن میں جا کر خود کشی کیوں نہیں کرتے ؟..
    آخر ہر بار کم رینک کا آفسر ہی اوپر والوں کے دباؤ کی وجہ سے خودکشی کیوں کرتے ہیں ؟…
    آخر حکومت پر قابض مافیا ان سے ایسا کونسا مطالبہ کرتا ہے جسے کرنے کی بجائے یہ لوگ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ؟..
    کوئی خود کشی کرنے والا افسر انتہائی غریب گھرانے سے آ کر آفسر بنا تو کسی کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے کیا انسان خود اندر سے اتنا کمزور ہو سکتا ہے کہ ان حالات کے باوجود اپنی جان لے لے؟…

  • بیوروکریسی کے پارٹی گروپ .تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریسی کے پارٹی گروپ .تحریر:ملک سلمان

    سرکاری افسران اور بیوروکریسی میں مذہبی رسم و رواج کو زور و شور سے منانے اور ہر وقت مذہبی گفتگو کا منجن بیچنے والوں میں اکثریت اپنی کرپشن اور نااہلی کو چھپانے کیلئے مذہبی ٹچ کو ”فیس سیونگ ٹول“ استعمال کرتے ہیں۔چاہے کوئی بھی فرقہ ہو، مذہبی ٹچ ہر طرح کی کمیونٹی میں بکتا ہے اس لیے سب سے کارآمد طریقہ واردات کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

    مذہبی ٹچ کی جعل سازیاں، مذہب اور فرقوں کا پرچار کرنا قابلیت نہیں بلکہ اس حلف کی خلاف ورزی ہے جس میں یہ عہد کیا گیا تھا کہ سرکاری فرائض میں مذہب، فرقہ اور رشتہ داری کو ترجیح نہیں دینی بلکہ میرٹ اور انصاف کرنا ہے۔
    اصل گیم تو پارٹی گروپ کی ہے۔ جہاں ساری طبقاتی تقسیم ختم ہے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان، پی ایم ایس اور دیگر سروس گروپ کی باہمی عداوت کی بجائے اس بزم(پارٹی گروپ) میں برابری اور بھائی چارے کا عظیم مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ سخت گیر اور معزز افسران کی کہانی لاہور، کراچی اور اسلام آباد کی رقاصاؤں کی زلفوں اور قدموں کی چھنکارکے گرد گھومتی ہے، حسین زلفوں کے اسیر ہونے والے بڑے ناموں کے چھوٹے کرتوت سن کر یہ چکڑ چوہدری نما مخلوق انتہائی حقیر لگنے لگتی ہے۔

    منشیات کے استعمال اور دیگر حرکات پر”اہم ادارے“سے نکالا گیا بچہ بھی صوبائی سول سروس میں آچکا ہے اور ناصرف خود منہ کالا کرتا پھرتا ہے بلکہ دیگر افسران کا سہولت کار بھی بنا ہوا ہے۔ مذہبی ٹچ والے اور پارٹی گروپ جو بھی کرتے ہیں یہ انکا ذاتی معاملہ ہے جو مرضی کریں لیکن ذاتی اس لیے نہیں رہتا کہ اسی گروپنگ کی بنیاد پر اپنے مذہبی ٹچ اور پارٹی گروپ کو اہم سیٹوں اورعہدوں پر نوازا جاتا ہے۔ گندہ ہے پر دھندہ ہے۔ پولیس اور بیوروکریسی کے کم از کم ایک تہائی افسران شراب نوشی اور منشیات کے عادی ہیں جبکہ دو تہائی یعنی ڈبل تعداد شیشہ، سگریٹ نوشی اور مجرہ پارٹیوں کے رسیا ہیں۔

    چند سال قبل کی بات ہے کہ اس وقت کے اے ڈی سی آر لاہور کے سٹاف آفیسرکی لیٹ نائٹ کال آئی سر معذرت آپ کو ڈسٹرب کر رہا ہوں۔۔۔۔صاحب نے زیادہ پی لی ہے۔ اور اپنے کپڑے پھاڑ کر عجیب حرکتیں کر رہے ہیں ایسی حالت میں انکو گھر کیسے لیکر جاؤں۔ میں نے اس سے لوکیشن پوچھی اور وہاں پہنچا تو موصوف اپنے کپڑے پھاڑ اور اتار کر دوسرے افسران کو کہہ رہا تھا کہ مجھے اپنی گود میں بیٹھاؤ، خیر اسے بامشکل گاڑی میں بیٹھایا اور رات گئے وہاں سے ریسکیو کیا۔ جب اسے ریسکیو کرنے گیا تو اس محفل میں بیوروکریسی کے افسران ہول سیل میں موجود تھے۔ پولیس افسران، بیوروکریسی اور سیاستدان ریگولر بنیادوں پر ایسی پارٹیوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں جہاں شراب و شباب اور ہر طرح کا نشہ کرتے ہیں، لائنیں کھینچتے ہیں۔

    سرکاری افسران اور سیاستدانوں میں پارٹی گروپ جوائن کرنا کامیابی کی سیڑھی سمجھا جاتا ہے۔ بیوروکریسی میں پارٹی گروپ کی گیم بہت بلند ہے، ”پاور کاریڈور“ میں داخل ہونے کا ”شارٹ کٹ“ لگانے والے افسران فوری ”کی پوسٹ“ پر ہوتے ہیں۔انتہائی دکھ اور شرم کا مقام ہے کہ اسی دیکھا دیکھی میں کچھ خواتین افسران بھی پارٹی گروپ کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ سنئیر افسر، تگڑے سیاستدان کی گرل فرینڈ کی دعویدار خواتین افسران محکمے میں سیاہ و سفید کی مالک ہوتی ہیں۔ کچھ سرکاری جوڑوں کی ماضی میں ویڈیوز بھی لیک ہوچکی ہیں۔

    بیوروکریسی شدید زوال کا شکار ہے جہاں نئے افسران کی اکثریت شدید کرپٹ اور بدنسلی ہیں وہیں یہ نئے بچے کہیں بلیک میلر اور کہیں سپلائر کا کردار ادا کررہے ہیں۔لاہور کے چند نوجوان افسران نے گینگ بنا رکھا ہے جو اپنے سنئیر افسران کی مخصوص لڑکیوں سے دوستیاں کرواتے ہیں اور بعد میں انکے زیعے اہم پوسٹنگ لیتے اور اپنے کام نکلواتے ہیں۔ انہی محرکات اور”سپلائی چین“ والے خفیہ تعلقات کی وجہ سے نئے افسران کی اکثریت ناصرف عام عوام کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں بلکہ اپنے سنئیر افسران کو بھی "فار گرانٹڈ” لیتے ہیں۔ اہم سیٹوں پر تعیناتی والے ان کماؤ اور پلاؤ پتر بچوں نے ابھی وقت کا پہیہ گھومتا نہیں دیکھا، وقت بدلتے ہی جب یہ او ایس ڈی ہوں گے تو اوقات میں آجائیں گے اور بندہ شناسی کا ہنر بھی جان جائیں گے۔

    پرتگالی گروپ سمیت دیگر ممالک میں ”سیٹنگ“ والے افسران بھی ٹولیوں کی صورت میں بیرون ملک جاتے ہیں اور اپنی آل اولاد کی نیشنیلٹی کرواتے ہیں۔
    ملک سلمان

  • جرائم کی تشہیر کے سائے ،تحریر:یوسف صدیقی

    جرائم کی تشہیر کے سائے ،تحریر:یوسف صدیقی

    گزشتہ چند برسوں میں ہمارے معاشرے میں یہ رجحان شدت سے بڑھا ہے کہ جیسے ہی کوئی بڑا جرم رونما ہوتا ہے، میڈیا اور سوشل میڈیا اسے اپنی اولین ترجیح بنا لیتے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر بریکنگ نیوز کے طوفان برپا ہو جاتے ہیں، اخبارات کی سرخیاں سنسنی خیز انداز میں لکھی جاتی ہیں اور سوشل میڈیا پر لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹس کے ساتھ تصویریں اور ویڈیوز شیئر کی جاتی ہیں۔ بظاہر یہ اطلاع رسانی کا عمل ہے مگر اصل میں یہ ایک ایسا طرزِ عمل ہے جو معاشرتی اقدار، نفسیات اور قانون پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

    جب کسی شہر یا علاقے میں جرم ہوتا ہے اور اسے بار بار نشر یا شیئر کیا جاتا ہے تو عوام میں غیر یقینی اور خوف کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ عام آدمی یہ سمجھنے لگتا ہے کہ جرم ہر جگہ ہے اور وہ کسی وقت بھی نشانہ بن سکتا ہے۔ یہ کیفیت نہ صرف ذہنی دباؤ کو بڑھاتی ہے بلکہ اجتماعی طور پر معاشرے کو غیر محفوظ بنا کر پیش کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور بڑا نقصان یہ ہے کہ میڈیا اکثر مجرم کے نام، تصویر اور تفصیلات ایسے انداز میں پیش کرتا ہے جیسے وہ کوئی غیر معمولی شخصیت ہو۔ اس عمل سے نادانستہ طور پر مجرم کو شہرت ملتی ہے۔ بعض اوقات لوگ جرم سے زیادہ مجرم کی جرأت یا "کارنامے” کو یاد رکھنے لگتے ہیں۔ اس طرح کے تاثر سے دوسرے افراد کو بھی یہ ترغیب ملتی ہے کہ وہ اسی راستے پر چلیں تاکہ انہیں بھی پہچان مل سکے۔

    جرائم کی خبر دیتے ہوئے بعض اوقات میڈیا اس حد تک تفصیل بیان کرتا ہے کہ مجرم کے طریقۂ واردات کی مکمل کہانی سامنے آ جاتی ہے۔ اس سے وہ افراد جو جرم کی طرف میلان رکھتے ہیں، انہیں عملی "رہنمائی” مل جاتی ہے۔ یہ رجحان بالخصوص بینک ڈکیتی، اغوا یا انٹرنیٹ فراڈ جیسے جرائم میں زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ اس سب کے ساتھ ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ جرائم کی مسلسل تشہیر نوجوان نسل پر نہایت برا اثر ڈالتی ہے۔ جب وہ روزانہ قتل، چوری، ڈاکہ یا زیادتی جیسے واقعات دیکھتے اور سنتے ہیں تو ان کے ذہنوں میں یہ تاثر بیٹھنے لگتا ہے کہ یہ سب "عام” باتیں ہیں۔ یوں جرائم کے خلاف حساسیت کمزور پڑ جاتی ہے اور برائی کے خلاف اجتماعی ردِ عمل دھندلا جاتا ہے۔

    میڈیا کا کام حقیقت بیان کرنا ہے، لیکن خبر کو اس انداز میں پیش کرنا کہ وہ خوف و ہراس یا سنسنی پھیلائے، صحافتی اصولوں کے خلاف ہے۔ ایک ذمہ دار میڈیا کو چاہیے کہ وہ جرم کی اطلاع دے مگر اس کو تفریح یا ڈرامے کا رنگ نہ دے۔ بدقسمتی سے آج زیادہ تر میڈیا ہاؤسز اور سوشل میڈیا چینلز ریٹنگ اور ویوز کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خبر کو زیادہ دلچسپ بنانے کے لیے غیر ضروری تفصیلات اور جذباتی تجزیے شامل کیے جاتے ہیں۔ اس دوڑ میں صحافتی اخلاقیات اور معاشرتی ذمہ داری پسِ پشت ڈال دی جاتی ہیں۔ میڈیا کو اپنی زبان، الفاظ اور انداز پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ سخت الفاظ، ڈرامائی بیانات اور خوفناک تصاویر استعمال کرنے سے خبر ایک "تفریحی پیکیج” بن جاتی ہے۔ صحافتی اصول یہ کہتے ہیں کہ جرم کی خبر سادہ، مؤثر اور غیر جانبدار انداز میں دی جائے۔

    ریاست پر لازم ہے کہ وہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے لیے ایک واضح ضابطۂ اخلاق مرتب کرے۔ ایسا ضابطہ جو بتائے کہ کون سی معلومات عوام تک پہنچانی ضروری ہیں اور کون سی معلومات جرم کو بڑھا سکتی ہیں۔ صرف ضابطہ بنا دینا کافی نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ اداروں کو سختی کے ساتھ نگرانی کرنی ہوگی تاکہ میڈیا ریٹنگ کی خاطر قانون کی خلاف ورزی نہ کرے۔ اگر کوئی چینل یا پلیٹ فارم جرم کی غیر ضروری تشہیر کرے تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

    اگر جرم کی خبر دینی ہی ہے تو اسے اس طرح پیش کیا جائے کہ عوام کو اس سے سبق ملے۔ مثال کے طور پر اگر کسی علاقے میں ڈکیتی ہوئی ہے تو اس کے ساتھ عوام کو حفاظتی تدابیر سے بھی آگاہ کیا جائے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ جرم کے طریقۂ واردات پر نہیں بلکہ اس کے اسباب پر بات کرے۔ مثلاً بے روزگاری، غربت، منشیات یا سماجی ناانصافی جیسے عوامل پر روشنی ڈالی جائے تاکہ اصل بیماری کا علاج ہو سکے۔ جرائم کی خبر کے ساتھ عوامی شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو بتائے کہ جرم سے کیسے بچا جا سکتا ہے اور اگر جرم ہو جائے تو کس طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا جائے۔

    آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جرم کی خبر دینا ایک صحافتی ضرورت ہے، مگر اس خبر کو اس انداز میں پھیلانا کہ معاشرہ خوف زدہ ہو یا مجرم ہیرو بن جائے، نہایت خطرناک ہے۔ خبر کا مقصد عوامی شعور بیدار کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ریٹنگ بڑھانا یا سنسنی خیزی پھیلانا۔ اگر میڈیا اور ریاست دونوں اپنی ذمہ داری پوری کریں تو جرائم کی تشہیر کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور خبر کو معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔

  • پاک فوج: قوم کی مضبوطی کی ضامن،تحریر:یوسف صدیقی

    پاک فوج: قوم کی مضبوطی کی ضامن،تحریر:یوسف صدیقی

    پاکستان ایک ایسا انمول تحفہ ہے، جو لاکھوں جانوں کی قربانیوں، بے شمار جدوجہد اور ایمان کی طاقت کے بعد ہمیں نصیب ہوا۔ یہ وطن صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں شہداء کے خوابوں، درد اور امیدوں کا مجموعہ ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے اتحاد، ایمان اور لازوال قربانیوں کے ذریعے یہ عظیم وطن حاصل کیا۔ آزادی کا حصول ایک لمحے کی خوشی تھی، لیکن اصل فریضہ اس کی حفاظت، ترقی اور بقاء تھا۔ یہ بھاری ذمہ داری بانیانِ پاکستان کے بعد پاک فوج کے سپرد ہوئی، جس نے ہر دور میں یہ ثابت کیا کہ پاکستان کی سلامتی اور امن کے لیے قربانی سب سے عظیم عبادت ہے۔ آج بھی پاک فوج نہ صرف وطن کی ڈھال ہے بلکہ قوم کی امید، عوام کا اعتماد اور ہر مشکل وقت میں سہارا ہے۔

    قیامِ پاکستان کے بعد سے خطے کے حالات کبھی آسان نہیں رہے۔ بھارت کی جارحیت، داخلی سازشیں اور بیرونی دباؤ ہمیشہ پاکستان کے لیے چیلنج رہے ہیں۔ 1948 میں کشمیر کے محاذ پر قربانیاں ہوں، 1965 کی جنگ میں دشمن کو ناکامی کا سامنا، 1971 کے سانحات یا کارگل کی برفانی چوٹیوں پر جانوں کی قربانیاں—ہر موقع پر پاک فوج کے جوانوں نے اپنے خون سے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کی حفاظت ان کے ایمان اور غیرت کا حصہ ہے۔ ان معرکوں نے دنیا کو یہ سکھایا کہ ایک چھوٹا سا ملک بھی مضبوط عزم، بلند حوصلے اور غیرت مند فوج کے ذریعے بڑے دشمن کو ناکام بنا سکتا ہے۔

    گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی نے پاکستان کی جان کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔ ہزاروں معصوم شہری شہید ہوئے، مساجد، بازار، اسکول اور عوامی مقامات دہشت گردی کا شکار بنے۔ لیکن ان نازک حالات میں پاک فوج نے آپریشن راہِ راست، ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے تاریخی اقدامات کیے۔ ان آپریشنز میں فوج نے اپنی جانیں قربان کیں، خون دیا، لیکن کبھی ہمت نہ ہاری۔ آج پاکستان میں قائم امن انہی قربانیوں کی مرہونِ منت ہے۔ یہ وہ قربانیاں ہیں جن کے بغیر نہ تو امن قائم رہ سکتا ہے اور نہ ہی قوم ترقی کر سکتی ہے۔

    پاک فوج صرف سرحدوں کی محافظ نہیں بلکہ عوام کی خدمت میں بھی ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔ 2005 کے زلزلے میں فوج کے جوان سب سے پہلے ملبے تلے دبے انسانوں کو نکالنے پہنچے، سیلابوں کے دوران لاکھوں متاثرین کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، ریلیف کیمپ قائم کیے اور بنیادی سہولیات فراہم کیں۔ کورونا وبا کے دوران بھی فوج نے عوام کی رہنمائی کی، ویکسینیشن مراکز قائم کیے اور طبی سہولیات فراہم کر کے عوام کا سہارا بنی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام پاک فوج کو صرف ایک عسکری ادارہ نہیں بلکہ اپنی زندگیوں کا محافظ، اپنا سہارا اور اپنا رہنما سمجھتی ہے۔

    پاکستان آرمی نے ملکی ترقی اور قومی یکجہتی کے منصوبوں میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ فوجی اسکول، کالجز، میڈیکل ہسپتال، سڑکیں، پل اور دور دراز علاقوں میں ترقیاتی منصوبے—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاک فوج دفاع تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی اور اقتصادی استحکام میں بھی شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ فاٹا، بلوچستان اور دیگر محروم علاقوں میں فوج نے تعلیمی ادارے قائم کیے، روزگار کے مواقع پیدا کیے اور ترقی کی راہیں کھولی ہیں۔ ان اقدامات نے نہ صرف عوام کی محرومیاں کم کیں بلکہ قومی یکجہتی کو بھی مضبوط کیا۔

    پاک فوج کی اصل طاقت جدید اسلحہ یا ٹیکنالوجی نہیں بلکہ وہ ایمان، قربانی اور جذبۂ ایثار ہے جو ہر فوجی کے دل میں رچا بسا ہے۔ یہی جذبہ ایک فوجی کو سرد ترین چوٹیوں پر راتیں گزارنے، ریگستانی سرحدوں پر دشمن کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر کھڑا رہنے، اور اپنی جان وطن کی خاطر قربان کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ شہید کی ماں کی آنکھوں میں درد اور فخر، زخمی فوجی کا حوصلہ اور وطن کے لیے جان دینے کا جذبہ—یہ سب پاک فوج کو دنیا کی بہترین افواج میں شامل کرتے ہیں۔

    دنیا آج ہائبرڈ وار، سائبر حملوں، جعلی پروپیگنڈے اور نئی جنگی سازشوں کا سامنا کر رہی ہے اور پاکستان بھی ان خطرات سے محفوظ نہیں۔ مگر پاک فوج اپنی اعلیٰ تربیت، جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور شاندار حکمت عملی کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کر رہی ہے۔ نیا عسکری سازوسامان، مضبوط انٹیلی جنس نیٹ ورک، سائبر سیکیورٹی اقدامات اور خطے میں اسٹریٹجک حکمت عملی اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ہر ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

    فوج اور عوام کا تعلق ایک جسم اور روح کی مانند ہے۔ فوج عوام کے اعتماد کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی اور عوام فوج کے بغیر محفوظ نہیں رہ سکتے۔ جب جوان دشمن کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو ان کے پیچھے کروڑوں عوام کی دعائیں، محبت اور امیدیں ہوتی ہیں۔ یہی رشتہ پاکستان کو ناقابلِ شکست بناتا ہے اور ہر بحران میں اسے سہارا دیتا ہے۔

    پاک فوج کی قربانیاں، ایمان اور خدمات صرف فوجی تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے دل میں رہنے والے جذبے کا نام ہیں۔ ہر شہید، ہر زخمی، ہر جوان جس نے سرحدوں پر دن رات محنت کی، قوم کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی قربانی دی—یہ سب ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ وطن کی محبت اور خدمت سب سے بڑی عبادت ہے۔

    پاکستان کی بقا، ترقی اور امن کا راز پاک فوج کی مضبوطی اور عوامی یکجہتی میں پوشیدہ ہے۔ یہ ادارہ ہر لمحہ چوکس، قربانی کے لیے تیار اور خدمتِ خلق میں سرگرم ہے۔ پاک فوج کے جوانوں کا ایثار، بہادری اور ایمان ایک روشن مثال ہے کہ وطن کی حفاظت سب سے مقدس فریضہ ہے۔ جب تک پاک فوج ہے، پاکستان محفوظ ہے اور ان شاء اللہ تا قیامت قائم و دائم رہے گا۔

  • بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عام آدمی کی زندگی ،تحریر:یوسف صدیقی

    بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عام آدمی کی زندگی ،تحریر:یوسف صدیقی

    مہنگائی اور غربت پاکستان کے عام آدمی کے لیے نئی بات نہیں رہی، مگر حالیہ برسوں میں اس کی شدت نے زندگی کو ایک مسلسل امتحان میں ڈال دیا ہے۔ گھر چلانا، بچوں کی تعلیم اور صحت کے اخراجات پورے کرنا، حتیٰ کہ دو وقت کی روٹی کا بندوبست بھی کروڑوں خاندانوں کے لیے ایک مشکل جدوجہد بن چکا ہے۔ پہلے ہی معاشی حالات نازک تھے، مگر حالیہ سیلاب نے معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ زرعی زمینیں ڈوب گئیں، فصلیں تباہ ہو گئیں، مویشی بہہ گئے اور دیہی معیشت کا ڈھانچہ ہل کر رہ گیا۔ چونکہ پاکستان کی معیشت زیادہ تر زراعت پر منحصر ہے، اس تباہی کا اثر شہروں تک بھی براہِ راست پہنچا، جہاں مہنگائی کی نئی لہر نے عوام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

    گھریلو معیشت کو سب سے بڑا جھٹکا اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے لگا ہے۔ آٹا، چینی، دالیں، سبزیاں، دودھ اور گوشت — سب کچھ عوام کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ جس کھانے کو کبھی عام گھرانوں کی میز پر لازمی سمجھا جاتا تھا، وہ آج کئی گھروں کے لیے خواب بن چکا ہے۔ بجلی اور گیس کے بل پہلے ہی لوگوں کو دبا رہے ہیں، اور پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہر شے کی قیمت کو بڑھا دیتا ہے۔ یوں غریب آدمی کے پاس جو چند سو روپے بچتے ہیں، وہ بھی چند دن سے زیادہ برقرار نہیں رہ پاتے۔

    سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے صرف دیہی علاقوں کو متاثر نہیں کیا بلکہ شہروں میں روزگار کے مواقع کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کئی چھوٹی صنعتیں اور کارخانے بند ہوگئے، جن میں مزدور اور ہنرمند اپنے روزگار سے محروم ہوگئے۔ مارکیٹوں میں خریدار نہ ہونے کے برابر ہیں، اور دکاندار مال رکھ کر بھی پریشان ہیں کیونکہ خریدار کے پاس قوتِ خرید باقی نہیں رہی۔ اس کمی نے اجرتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ جہاں پہلے ایک مزدور دن بھر محنت کے بعد گزارے لائق کما لیتا تھا، آج اسے آدھی اجرت پر کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

    غربت صرف پیٹ کی بھوک کا نام نہیں، بلکہ یہ عزت نفس اور وقار پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کو کھانے کے لیے روٹی نہ دے سکے، جب ایک ماں اپنے بیمار بچے کو دوا نہ دلا سکے، تو یہ صرف مادی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ جذباتی اور نفسیاتی بوجھ بھی بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں ناامیدی بڑھ رہی ہے، جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، اور لوگ اپنی محرومیوں کا اظہار کبھی احتجاج، کبھی جرم اور کبھی مایوسی کے ذریعے کر رہے ہیں۔

    مہنگائی اور بے روزگاری کا یہ گٹھ جوڑ معاشرتی ڈھانچے کو بھی کمزور کر رہا ہے۔ متوسط طبقہ، جو کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے، تیزی سے غریبوں کی صف میں شامل ہو رہا ہے۔ تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات عام لوگوں کے لیے شجرِ ممنوعہ بنتی جا رہی ہیں۔ دیہی علاقوں کے لوگ بہتر روزگار کی تلاش میں شہروں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں، لیکن شہر پہلے ہی بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اس ہجرت نے شہروں میں غربت، بے روزگاری اور جرائم کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

    مزید برآں، مہنگائی اور غربت خواتین اور بچوں کو بھی براہِ راست متاثر کر رہی ہیں۔ خواتین گھریلو بجٹ کا بوجھ اٹھاتے ہوئے کم خوراک، صحت کی سہولیات کی کمی اور بچوں کی تعلیم کے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ بچوں میں غذائی قلت اور تعلیم میں کمی مستقبل کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ یہ نسل کمزور جسمانی اور ذہنی صلاحیت کے ساتھ بڑے ہوں گی۔

    سیلاب اور مہنگائی نے کسانوں کی آمدنی بھی بری طرح متاثر کی ہے۔ زرعی پیداوار کی کمی اور مارکیٹ میں بڑھتی قیمتیں ایک ساتھ عوام کے لیے عذاب بن گئی ہیں۔ کسان جس زمین پر اپنی محنت کرتے ہیں، وہ تباہ ہونے کے بعد دوبارہ کھڑی کرنے میں سالوں لگ سکتے ہیں۔ اس کے اثرات صرف دیہات تک محدود نہیں ہیں، بلکہ شہروں میں مہنگائی اور روزگار کی کمی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ سیلاب نے صرف کھیتوں کو نہیں ڈبویا بلکہ معیشت کی سانسیں بھی روک دی ہیں۔ حکومت کے فوری اقدامات کے بغیر یہ بحران مزید گہرا ہوگا۔ سب سے پہلے زرعی شعبے کی بحالی پر توجہ دینا ہوگی تاکہ کسان دوبارہ کھڑا ہو سکے اور غذائی اشیاء کی پیداوار میں اضافہ ہو۔ شہروں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سہولتیں دے کر روزگار کے مواقع بڑھانے ہوں گے۔ مزدوروں اور تنخواہ دار طبقے کی اجرتوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو معاشی اور سماجی بحران مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔

    آخر میں سوال یہ ہے کہ جب گھریلو معیشت ہی سانس نہیں لے پا رہی تو ملک کی بڑی معیشت کس طرح صحت مند رہ سکتی ہے؟ اگر عام آدمی کا چولہا بجھ گیا تو ملک کی ترقی کے تمام خواب محض نعرے رہ جائیں گے۔ مہنگائی اور غربت کے اس گرداب سے نکلنے کے لیے ریاست، حکومت اور معاشرہ سب کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔ ورنہ یہ مسائل آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑیں گے، اور ملک کی ترقی صرف خواب ہی رہ جائے گی۔