Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • کووڈ 19 کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت تحریر  علی جویو

    کووڈ 19 کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت تحریر علی جویو

    میرا نام علی جویو ہے، میں مائیکروسافٹ پروفیشنل ہوں، اور گوگل سپورٹ سپیشلسٹ ہوں، یورپ، سوئٹزرلینڈ میں IT سروسز میں کام کرنے والا سائبر سیکیورٹی کنسلٹنٹ ہوں جو یورپی یونین میں آئی ٹی کے شعبے میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے کام کر رہا ہوں اور میں ایک پاکستانی سوئس ہوں، جس کا تعلق صوبہ سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے۔
    اس بلاگ میں COVID-19 کے بعد IT کی مجموعی اہمیت کے بارے میں لکھوں گا۔ میرا بلاگ بنیادی طور پر پاکستان میں آئی ٹی کے بارے میں آگاہی کے لیے ہے اور ممالک میں آئی ٹی سیکٹر کو فروغ دینا ہے۔
    آئیے پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر کی بات شروع کرتے ہیں!
    دنیا کی ٹاپ 100 Technology کمپنیوں کی فہرست پر جانے سے آپ کو کوئی پاکستانی Tech کمپنی نہیں ملے گی۔ جہاں امریکہ اور چین سرفہرست ہیں لیکن چند بہت چھوٹے ملک بھی اس فہرست میں شامل ہیں، جیسے کہ ناروے، آسٹریا، سنگاپور، ہانگ کانگ، سوئٹزرلینڈ، آئرلینڈ، تائیوان، یہ تمام ممالک ایک کروڑ سے بھی کم آبادی والے ہیں, جو کہ نصف بھی نہیں کراچی شہر کی آبادی کا.

    اگر میں آئی ٹی کی بات کروں اور ہندوستان کی بات نہ کروں تو یہ درست نہیں ہو گا! دنیا کی ٹاپ 100 Tech کمپنیوں میں، کم از کم دو ہندوستانی ٹیک کمپنیاں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز اور انفوسس شامل ہیں ۔
    ہندوستان میں عالمی سورسنگ مارکیٹ IT-BPM صنعت کے مقابلے میں تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے۔ ہندوستان پوری دنیا میں سورسنگ میں سرفہرست ہے، جو کہ 2019-20 میں US$200-250 بلین کے عالمی خدمات کے کاروبار کے تقریباً 55% مارکیٹ شیئر کا حصہ ہے۔
    ہندوستان کے بارے میں ایک چھوٹا سا تبصرہ۔ آج اگر ہندوستان کو دنیا بھر میں یہ مقام اور عزت حاصل ہے اور وہ Superpower دوڑ میں شامل ہونا چاہتا ہے تو یہ نریندر مودی صاحب کی وجہ سے نہیں ہے! یہ پالیسیوں میں تسلسل اور ان اعلیٰ کمپنیوں کی وجہ سے ہے، یہ CEO’s کی وجہ سے ہے، یہ ان شاندار ذہن رکھنے والے پیشہ ور افراد اور مزدوروں کی وجہ سے ہے۔ جو دنیا بھر میں کام کر رہے ہیں۔ (میں اس پر الگ بلاگ لکھوں گا)۔

    آئیے پاکستان کی بات کریں! آئی ٹی پاکستان کا سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ ہے جو پاکستان کے جی ڈی پی میں تقریباً 3.5 بلین امریکی ڈالر کا تقریباً 1% حصہ ڈالتا ہے۔یہ اچھا لگتا ہے! لیکن اگر ہم کہیں کہ یہ حکومت کی سنجیدہ کوششوں کی وجہ سے ہے? تو میں اس بات سے متفق نہیں ہوں. لیکن! اگر حکومت ایسا کر رہی ہے تو یہ اور بہتر ہو سکتا ہے۔
    پاکستان میں آئی ٹی کی وزارت کو "کھڈا لائن منسٹری” کہا جاتا ہے۔اگر آپ مجھ سے متفق نہیں ہیں! تو آئی ٹی کی وزارت سے رابطہ کریں۔ آپ کو آئی ٹی کے ایسے وزیر ملیں گے جن کا آئی ٹی سے کوئی تعلق نہیں! کوئی آئی ٹی کا پس منظرنہیں ، درحقیقت اس وزارت میں زیادہ تر وزراء سیاسی ایڈجسٹمنٹ سے ہوتے ہیں۔ مختلف سرکاری محکموں میں چیک کریں آپ کو شاید مل جائے گا: میڈیکل ڈاکٹر بطور آئی ٹی سربراہ یا شاید پلمبر، یا ڈینٹسٹ، یا بینکر، یا سول انجینئر وغیرہ۔ آپ سب میرٹ کے نظام سے بخوبی واقف ہیں۔!میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا.

    آگے بڑھتے ہوئے! میں تجویز کروں گا کہ اگر حکومت پاکستان آئی ٹی کے شعبے کو سنجیدگی سے لے تو ہم دنیا کے لیے آئی ٹی کی برآمدات، خدمات کو اتنا بڑھا سکتے ہیں جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ آئی ٹی واحد شعبہ ہے جو نہ صرف آپ کو آمدنی بلکہ دنیا بھر میں مثبت امیج، اور کام کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ آپ کو سائبر سیکیورٹی کے بارے میں نہیں بھولنا چاہئے! جتنا ہم ڈیجیٹل ہوتے جائیں گے ہمیں سائبر سیکیورٹی کے خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ سائبر سیکیورٹی بھی میرا موضوع ہے، میں اس پر بھی لکھوں گا۔
    شکریہ

  • ایک منظم زندگی کے لیے روزانہ کا معمول.تحریر :ام سلمیٰ

    ایک منظم زندگی کے لیے روزانہ کا معمول.تحریر :ام سلمیٰ

    جس تیزی سے وقت گزر رہا دن با دن ھماری معمولات بھی خراب ہوتی جہ رہی ہیں بلکہ اب شاید والدین کے پاس بھی وقت نہں رہا کے بچوں کو ضروری معمولات کی تربیت دیں بچے اسکول چلے جاتے ہیں ان کی اسکول کی تعلیم ہو رہی ہے یہ بھی کافی لگتا لیکن ان زندگی کی تیزیوں میں ہمیں اپنے سکون کو اپنی زندگی کو منتظم بنانے پر بلکل بھی توجہ نہں دے رہے اگر آپ اپنی زندگی کے معمولات کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہے تو آپ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کے کب اور کیا اہم ہے آپ کے لیے اگر وہ وقت کے ساتھ آپ اپناتے جائیں گے تو زندگی آسان ہوتی جائے گی اور آپ دماغی طور پر سکون میں آجائیں گے.تو سب سے پہلے اٹھے ہی آپ اپنی روٹین کی چیزوں کو ٹھیک کریں صبح کے آغاز پر کیا کرنا ضروری ہے تفصیل سے جانیں.

    اپنا بستر بنائیں۔
    اپنا بستر بنا کر دن کی تیاری کریں۔

    یہ ایک فوری کام ہے جو آپ کو ایک پیداواری ، منظم فریم میں ڈالے گا۔

    اگر آپ طالب علم ہیں یہ ملازمت پیشہ ہیں تو یہ اہم ہے کے آپ اپنے سامان اور کپڑے رات کو تیار کر کے رکھو.
    اگر آپ ورزش کرنا پسند کرتے ہیں تو ، صبح کرنے کا بہترین وقت ہے! یہ آپ کو توانائی سے بھرپور محسوس کرے گا اور گھر سے نکلنے سے پہلے آپ کو کامیابی کا احساس دلائے گا۔ چاہے آپ چہل قدمی کرنا پسند کریں ، جم کلاس لیں ، یا اپنے بیڈروم میں یوگا کریں ۔

    ہر چیز کو واپس رکھو جہاں سے آپ نے اٹھایا ہے.
    جب آپ اپنا ناشتہ بنا لیتے ہیں تو ، ہر چیز کو بالکل وہی جگہ رکھ دیں جہاں آپ نے انکو پہلے سے ترتیب سے رکھا ہے، کیونکہ اس سے صبح کے بعد ہر چیز آسان ہو جاتی ہے۔ اگر آپ دیکھتے ہیں کے کوئی چیز ان میں۔ ختم ہو رہی تو اس کو نوٹ بوک میں لکھ لیں تاکہ جب بھی بازار جانا ہو تو اس کی خریداری کر لی جائے ، اس فہرست میں شامل کریں جسے آپ اگلی بار گروسری سٹور سے گزرتے وقت اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔

    ضروری اشیاء کی فہرست بنایا کریں.
    گھر سے نکلنے سے پہلے ، اپنی ضروری اشیاء کی فہرست ساتھ لے لیں، جیسے آپ کا پرس ، ملازمت کا کارڈ یہ اسکول یہ یونیورسٹی کا ، پانی کی بوتل ، وغیرہ۔ ان اشیاء کی ایک فہرست اپنے سامنے والے دروازے کے قریب رکھیں تاکہ آپ اپنے روزمرہ کے معمول کے حصے کے طور پر دروازے سے باہر جانے سے پہلے اپنا پرس یا بیگ جلدی سے چیک کر سکیں۔

    اپنے کاموں کو ترجیح دیں۔
    کاموں کی ایک فہرست بنائیں اور فیصلہ کریں کہ کیا وہ اہم ، فوری ، دونوں ہیں یا نہیں۔ فوری اور اہم کاموں سے شروع کریں ، اہم اور غیر ضروری کاموں کی طرف بڑھیں ، پھر غیر اہم لیکن فوری کاموں کو سب سے پہلے کر کے ختم کریں.

    اس کے لیے آپ لائف پلانر کا استعمال کرسکتے ہیں تاکہ آپ اپنے دن کو بہتر طریقے سے ترتیب دے سکیں۔ آج کے ضروری کام لسٹ میں لکھنا ہمیشہ آپ کے لیے آسانی کا سبب بنتا ہے اور آپ کو ہر چیز کنٹرول کا احساس دلاتا ہے۔

    اپنے ای میلز کو ترجیح دیں۔
    اپنا دن شروع کرنے سے پہلے جب آپ اپنے کام پے نکلنے لگے ہیں اپنے ای میلز کو ترجیح دیتے ہوئے 10 منٹ گزاریں۔ یہ فیصلہ کرنے کی عادت ڈالیں کہ کونسی چیزوں کو آپ کی فوری توجہ کی ضرورت ہے ، کون سی اہم ہیں ، کون سی ہیں اور کون سی نہیں۔

    اپنے ای میلز فون سوشل میڈیا کو ہر چند منٹ کے بجائے ہر دو گھنٹے چیک کریں کیونکہ بار بار رکاوٹیں آپ کی دن کی ہر کام میں رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں اور پیداواری صلاحیت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

    اپنے مالی معاملات کو چیک کرتے رہیں
    اپنے مالی معاملات کو روزانہ کے معمول کے حصے کے طور پر چیک رکھنے کے لیے چند منٹ نکالیں۔ اپنا بینک بیلنس چیک کریں اور یقینی بنائیں کہ آپ اپنے بجٹ پر قائم ہیں۔

    رات کے کا منصوبہ بنائیں
    کیا آپ کو گھر جاتے ہوئے گروسری اسٹور سے کچھ لینے کی ضرورت ہے؟ کیا آپ کو کوئی نسخہ دیکھنے کی ضرورت ہے؟ اس میں صرف چند منٹ لگتے ہیں ، لیکن تھوڑی سی منصوبہ بندی بعد میں بہت وقت بچا سکتی ہے۔

    دن کے آخر میں اپنا ڈیسک صاف کریں۔
    اپنے وقفے کے لیے جانے سے پہلے اپنے کام کی میز کو صاف کرنے کے لیے پانچ منٹ نکالیں۔ دوسرے دن صبح جب آپ واپس آئیں گے تو آپ کو زیادہ منظم محسوس کرنے میں مدد ملے گی۔

    ڈنر کے فورا بعد اپنا کچن صاف کریں
    بصورت دیگر ، آپ کو ٹی وی کے سامنے بیٹھنے اور مشغول ہونے کا لالچ ہوسکتا ہے۔

    سونے سے پہلے اگر آپ کے دماغ میں کوئی کام ہے تو نوٹ کریں تاکہ آپکو یاد رہے.اگلے دن آپ کو کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک بار جب آپ نے انہیں لکھ دیا ہے ، آپ یہ جان کر سو سکتے ہیں کہ جب آپ جاگتے ہیں تو آپ فہرست کا حوالہ دے سکتے ہیں۔

    بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن بہت اہم اگر ہم اپنی زندگی کو منتظم بنانے کے لیے انکو اپنا لیں تو یہ باتیں ہماری زندگی کو پرسکون کر سکتی ہیں اور ہماری زندگی سے گھر اہم چیزوں کو ختم کرتے ہوئے سکون سے نیند لینے میں مدد کر سکتی ہیں.
    Twitter handle
    @umesalma_

  • پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ؟ تحریر: نوید شیخ

    پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ؟ تحریر: نوید شیخ

    پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ؟ تحریر: نوید شیخ
    ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان سے اچھی خبریں ختم ہوگئی ہیں۔ ابھی سانحہ سیالکوٹ کی گرد نہیں بیٹھی تھی کہ فیصل آباد ، لاہور اور کراچی سے دل دہلا دینے والی خبریں سامنے آگئی ہیں ۔ ان تینوں اسٹوریز سے آپ اندازہ لگا سکیں گے کہ عمران خان کی تبدیلی نے کیسے اس ملک کو ایک جہنم بنا دیا ہے ۔ جہاں نہ کوئی قانون ہے ۔ نہ قانون کا کوئی ڈر اور خوف ۔ جس کا جو دل چاہ رہا ہے وہ کر رہا ہے ۔ سب سے پہلے ملت ٹاؤن فیصل آباد میں کاغذ چننے والی خواتین پر مشتعل افراد نے تشدد کیا اور برہنہ کرکے ویڈیوز بھی بنا ئیں۔ متاثرہ خواتین کی جانب سے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا گیا ہے کہ وہ ملت ٹاؤن کے علاقے میں کاغذ چننے کے لیے گئی تھیں جہاں چاروں خواتین پانی پینے کے لیے ایک الیکٹرک اسٹور میں داخل ہو ئیں۔

    ۔ اس کے بعد الیکٹرک اسٹور کے مالک صدام اور تین ملازمین نے انہیں چوری کے الزام میں محبوس بنا لیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بناتے رہے، اس دوران مزید افراد بھی وہاں آگئے اور تشد د کے دوران انہیں دکان سے باہر بازار میں لے گئے جہاں انہیں برہنہ کر دیا گیا اور ملزمان برہنہ حالت میں ویڈیو بناتے رہے۔ پولیس کے مطابق مقامی افراد کی جانب سے اطلاع ملنے پر کارروائی کرکے الیکٹرک اسٹور کے مالک سمیت تین ملزمان کو حراست میں لے لیا جب کہ سی پی او فیصل آباد کے حکم پر خواتین کو محبوس بنانے اور تشدد کے الزام میں چار نامزد اور 8 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آس پاس کھڑے درجنوں مردوں میں سے کوئی ایک بھی انسان نہیں تھا کہ انسانیت کی تذلیل کرنے والے ان بدمعاشوں کو روکتا ؟ اب تو لگتا ہے کہ ایسا سلسلہ چل پڑا ہے کہ ہر روز ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں کہ سرشرم سے جھک جاتا ہے ۔ پر آپ دیکھیئے گا کہ آج کل تو اس معاملے کی میڈیا کوریج کررہا ہے ۔ پر کچھ عرصے بعد آپ دیکھیں گے کہ یہ سب باعزت بری ہوجائیں گے ۔ کیونکہ ہمارا نظام انصاف ہی ایسا ہے ۔ تھکا ہوا ۔ اجڑا ہوا ۔ ظلم کا دوست ۔ مظلوم کا دشمن ۔۔۔

    ۔ ایسے واقعات کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے کہ ملک میں نظام عدل تباہ ہوچکا ہے ۔ جب آپ کو یقین ہو کہ ریاست کسی مجرم کو سزا نہیں دیتی تو آپ اپنا بدلہ خود لیتے ہیں یا خود اپنی ہی عدالت لگا کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ پھر کراچی کے اورنگی ٹاؤن میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں 14 سالہ طالب علم کو ہلاک کردیا گیا ہے ۔ مشکوک پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے طالب علم کے لواحقین کا دعویٰ ہے کہ ارسلان کے پاس سے کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا اور اسے جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی ویسٹ ناصر آفتاب نے بتایا کہ اورنگی ٹاؤن میں ہونے والے مبینہ مقابلے میں ملوث کانسٹیبل توحید کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ایس ایچ او کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی سینٹرل، ایس ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل اور ایس پی گلبرگ پر مشتمل ایک تین رکنی کمیٹی بنا دی ہے جو 24 گھنٹوں میں رپورٹ دے گی۔ مشکوک پولیس مقابلے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کراچی پولیس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور لواحقین کو انصاف دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یوں نقیب اللہ محسود کے بعد ایک اور باپ نے اپنے معصوم بچے کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں کھو دیا ہے ۔ مجھے نہیں پتہ کس کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے؟ مجھے بس یہ معلوم ہے کہ جنہوں نے قتل کیا ہے وہ آج یا کل چھوٹ ہی جائیں گے کیونکہ ہمارا نظام انصاف ہی ایسا ہے ۔ ایسے دسیوں ہزاروں کیس پہلے بھی آچکے ہیں مگر کبھی کسی کو انصاف ملتے نہیں دیکھا ۔ ملالہ یوسفزئی کے والد ضیا الدین یوسفزئی نے بھی اس معاملے پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ بارہویں جماعت کے اس نو خیز طالب علم ارسلان محسود کو آج کراچی کے پولیس اہل کاروں نے شہید کیا ہے۔ دنیا بھر کی پولیس شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرتی ہے مگر ہمارے ہاں محافظ قاتل بن گئے ہیں۔ یہ صورتِ حال انتہائی مایوس کن اور قابل مذمت ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ پنچاب پولیس پیچھے رہ جائے ۔ گزشتہ روز لاہورکی ماڈل ٹاؤن کچہری میں قیدیوں کے گروپوں میں جھگڑا ہوا جسے روکنے کیلئے پولیس نے بخشی خانےکا دروازہ کھولا تو قتل کے دو ملزمان سمیت 10 قیدی فرار ہوگئے تھے۔

    ۔ ٹیوب لائٹ اور لاٹھی اٹھائے ملزمان اسلحہ تھامے اہلکاروں پر حاوی نظر آئے جبکہ قیدیوں کے حملے میں 2 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ جو اس حوالے سے ویڈیو وائرل ہوئی ہے اس نے تو کلی کھول کر رکھ دی ہے ۔ کہ ہماری پولیس کتنی جوگی ہے ۔ یہ صرف مظلموں اور کمزوروں پر ہی ظلم کر سکتی ہے ۔ جب ایسے سماج دشمن عناصر سامنے ہوں تو پھر یہ دم دبا کر بھاگ جاتے ہیں ۔ اب ان تمام اسٹوریز کے بعد یہ سوال اُٹھایا جانے لگا ہے کہ ہمارا معاشرے کس جانب گامزن ہے ۔ پھر حکومت کہاں ہے ۔ عملاً تو سب ہی جانتے ہیں کہ یہ حکومت کہیں نہیں ہے ۔ پورے ملک میں لاقانونیت کا ایک دور دورہ ہے ۔ یوں لگ رہا ہے کہ ملک میں جنگل کے قانون سے بھی برا حال ہوچکا ہے ۔ کیونکہ جنگل میں بھی کوئی قانون ہوتا ہے ۔ مگر اس وقت پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ، کرسی کا نشہ اور نااہلی کا دور ہے ۔ یہ اتنی لمبی تمہید میں نے اس لیے باندھی ہے کہ جو کچھ فیصل آباد میں ہوا ہے جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں ۔ اس کے بعد میں سوچنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ کیا واقعی ہی ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں ۔ جس کے حکمران اس ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار ہیں ۔ یہ تینوں ایسی اسٹوریز ہیں جو صرف پاکستان کے اندر ہی وائرل یا بہت زیادہ چل نہیں رہی ہیں بلکہ پاکستان سے باہر بین الاقوامی میڈیا بھی اس کو خوب کوریج دے رہا ہے ۔ اب اس کے بعد آپ جتنا مرضی دنیا کو کہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں ۔ ہم بڑے مہمان نواز ہیں ۔ ہم امن پسند ہیں ۔ پر جو جو یہ خبریں پڑھے گا یا دیکھے وہ پاکستان آنے بارے دس بار سوچے گا ضرور۔۔۔ ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں نماز کے وقت، مسجدیں بھر جاتی ہیں، ہر گلی میں مدرسہ بنتا جا رہا ہے۔ روزانہ لاکھوں قرآن ختم ہو رہے ہیں، ہر بچے کو قرآنی تعلیم لازمی دی جاتی ہے، اس کے علاوہ، لاکھوں کی تعداد میں ہر سال ڈاکٹر، انجنیئر، گریجوئیٹ بن رہے ہیں، مگر انسان کوئی نہیں بن رہا ہے۔ سوچنے کی بات ہے ۔

  • ” مجھے ڈر لگتا ہے ” .تحریر : زیاد علی شاہ

    ” مجھے ڈر لگتا ہے ” .تحریر : زیاد علی شاہ

    تمباکو کی پیداوار میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے کسان اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح یہ پیداوار بڑھائے اور منافع زیادہ سے زیادہ حاصل کریں کسان بیچارہ کیا کریں ان کی دو وقت کی روٹی اسی سے ہی پیدا ہوتی ہے لیکن ان کی کمائی کیلئے متبادل طریقے بھی موجود ہیں ایک دن میں ایک ریسرچ کے مطابق بارہ سو بچے سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں اور خاطر حواہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ایک سروے کے مطابق پختونخوا میں پچاس فیصد تمباکو پیدا ہوتی ہے یعنی سب سے زیادہ وہاں ہوتی ہے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کے مطابق روزانہ چار سو پچاس لوگ سگریٹ کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں اتنی تمہید باندھنے کی ضرورت اسلئے پڑ گئی کہ "مجھے ڈر لگ گیا” کہ پاکستان کی آدھی آبادی تو سگریٹ کی وجہ سے متاثر ہو جائیگی پھر میں اسی کوشش میں تھا کہ سگریٹ کو ختم کرنے کیلئے کوئی عملی اقدام کئے جائے صحافت کے طالب علم ہونے کی وجہ سے گھومتا پھرتا ہوں ادھر ادھر دیکھتا ہوں مشاہدہ کرتا ہوں کہ اس کی اصل جڑ کیا ہے ؟ پھر معلوم ہوتا ہے کہ اس کی اصل تو ہم ہی ہے میں ایک نوجوان ہو کر اس میں اپنا کردار کیسے ادا کرسکتا ہوں ؟

    آج اللہ نے موقع دیا کرومیٹک کے زیر انتظام تمباکو کو روکنے کیلئے کانفرنس میں مدعو کیا گیا وہ لوگ اس پر بہت کام کر رہے ہیں مختلف ریسرچ کرتے ہیں یوتھ کو اپنے ساتھ اینگیج رکھتے ہیں اب یوتھ کیا کر سکتی ہے ؟ مختلف یونیورسٹیوں میں طلباء سگریٹ کو سٹائل کے طور پر پیتے ہیں بلکہ فخر کرتے ہیں پھر یہی طلباء پاکستانی ڈراموں کو دیکھتے ہیں تو ڈراموں میں بھی سگریٹ نوشی سٹائل کیلئے پیتے ہیں جو کہ طلباء پر برا اثر پڑتا ہے آج کل ” ہم نیوز ” پر ایک ڈرامہ نشر ہو رہا ہے اس کا نام ہے ” پری زاد ” اس میں مرکزی کردار سگریٹ نوشی محض ٹینشن کو دور کرنے کیلئے کرتا ہے تو نوجوان اس چیز کو کافی کرتی ہے اس پر حکومت بھی غیر سنجیدہ بلکہ خوش تماشائی بن کے بیٹھے ہیں اب اس یوتھ کو سگریٹ روکنے کیلئے بھی ہم استعمال کر سکتے ہیں نوجوان پاکستان کی طاقت ہے اور سوشل میڈیا کا پاکستانیوں پر بہت اثر ہوتا ہے اگر پاکستانی یوتھ نشے کے خلاف نکلے اور اس کا نام جہاد ہوگا کیونکہ سگریٹ (تمباکو) سے انسانوں کا قتل عام ہو رہا ہے ہم اس سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں ایک آواز بننا بہت ضروری ہے

    کانفرنس میں مختلف بلاگرز نے اس کو روکنے کیلئے مختلف تجاویز دئے کہ کیسے اس کو روکا جا سکتا ہے لیکن میں اپنی بات کرونگا میں نے کچھ تجاویز پیش کی کہ طلباء کو اٹھا لینگے کہ سگریٹ روکنے کیلئے کردار ادا کریں قیامت کے دن ہم سے یہی پوچھا جائیگا کہ دنیا میں جو کر سکتے تھے وہ کیوں نہیں کیا دوسری تجویز یہی تھی کہ پختونخوا میں تمباکو کثیر مقدار میں پیدا ہوتے ہیں تو میں بذات خود گھر گھر گلی گلی جاؤنگا اس کو روکنے کیلئے بلکہ اپنے گھر سے شروع کرونگا تیسری تجویز یہی تھی کہ ہماری یوتھ کی آواز بہت توانا ہے اور اتنی طاقتور ہے کہ وہ چاہے کچھ بھی کرسکتے ہیں کیوں نہ ہم اس پر کمپینز کریں اور لوگوں کو اس بات پر یقین دلائے کہ یہ ایک خاص پلان کے تحت ہو رہا ہے اور اس میں ہمارے دشمن بڑھ چھڑ کر حصہ لے رہے ہیں اور ہم پاکستانی اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں ہم اپنا آواز خود ہی بلند کرینگے

    سگریٹ کا مسلہ صرف یونیورسٹیوں تک محدود نہیں بلکہ فیکٹریوں میں بھی بہت کثیر تعداد میں مزدور سگریٹ نوشی کرتے ہیں یوتھ جا کر اگر ان شہریوں کو ان کی نقصانات گننا شروع کرینگے اور ان کو اس بات کی یقین دلائنگے کہ یہ ہمارے ملک و صحت دونوں کیلئے نقصان دہ ہے شاید وہ ہمارے بات کا یقین کر لیں بد قسمتی سے یہاں حکومت کچھ مافیاز کے سامنے جھک جاتی ہے گھٹنے ٹیک دیتی ہے محض کچھ مفادات کی خاطر اور انہی سگریٹ انڈسٹریز کے جانب سے ان کو ڈونیشن کی شکل میں رشوت ملتی ہے تاکہ ان کے کاروبار پر کوئی اثر نہ پڑ جائے ہر چیز پر اس حکومت نے ٹیکس بڑھائی لیکن سگریٹ پر نہیں

    نوجوان اس ملک کا اثاثہ ہے اگر چاہے تو سگریٹ کا صفایا بھی اس ملک سے کر سکتی ہے ایک شاعر بہت خوب فرماتے ہیں

    بخت کے تخت سے یکلخت اتارا ہوا شخص
    آپ نے دیکھا ہے کھبی جیت کے ہارا ہوا شخص

    نوجوان اس ملک میں ان مافیاز کی جیت کو ہار میں بدل سکتی ہے اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو

  • ظلم رہے اور امن بھی ہو تحریر سیدہ اُمِ حبیبہ

    قائین محترم جہالت کی ضد علم ہے 

    تاریکی روشنی کو مات دیتی ہے

    صبح و شام ایک ساتھ ضم نہیں ہو سکتے.

    ہماری قوم کی یاداشت کمزور ہے یا ہماری جمہوریت کے پیچھے متحرک قوتیں ملک کے وسیع تر مفادات میں قوم کو ذہنی ہیجان سے گزارنے میں اور یاداشت کو مسخ کرنے میں ماہر ہیں.

    اور ہم بھی ایسی قوم ہیں کہ یہ کہہ کر بھول جاتے ہیں کہ

    چلو اچھا ہوا ہم بھول گئے

    ہماری قوم جابجا یہ بھی کہتی دکھائی دیتی ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے.

    ہم نے بہت قربانیاں دیں ہیں .

    مگر ساتھ ہی یہ بھی کیا کہ ان ہی دہشت گردوں کی عام معافی کے اعلانات کیے جائیں؟ کس سے پوچھ کر ؟

    کیا اس ماں سے پوچھا گیا جسکا نازوں سے پالا نوخیز جوان ذبح کر کے اس کے سر سے فُٹ بال کھیلا گیا؟

    اس بہن سے پوچھا جسکا اکلوتا بھائی سہرا سجانے اے چند دن پہلے وردی میں ہی دفنانا پڑ جائے؟

    اس قوم سے پوچھا جس نے دہشت گردی کے لیبل کے ساتھ گلی گلی اور ملکوں ملکوں رسوائی برداشت کی پابندیاں برداشت کیں؟

    ملک کا ایسا کونسا مفاد ہے کہ اے پی ایس کے شہداء کے قاتل ہنس ہنس کر آپ کے ٹی وی چینل پہ بیٹھے ہوں اور شہیدوں کی مائیں اپنے بچوں کے ہنستے قاتل کو دیکھ کر خون رو رہی ہوں.

    کل نیوزی لینڈ کی ٹیم میچ سے عین پہلے دورہ ختم کر کے نکل جاتی ہے. قوم تڑپ اٹھتی ہے کہ 18 سال بعد کرکٹ کے رنگ وطن لوٹے ہی تھے کہ سب ایکا ایکی ختم ہو گیا.

    تمام تبصرے قابلِ بحث نہیں ..کچھ آستین کے سانپ زہر اگلتے رہے اور کچھ نمک حلال اپنے نہ ہو کر بھی ہمت بنے رہے.

    مدعے کے بات یہ تھی کہ دورے کی منسوخی میں کہیں نہ کہیں طالبان کی حمایت وجہ بن رہی تھی اور سر دھنیے افغان طالبان نہیں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی حمایت اور وہ بھی عام معافی جیسی بات وہ بھی ان درندوں کے لیے جن کے سر پہ ستر ہزار پاکستانیوں کا بے گناہ خون ہو.

    دشمن وار جانے نہیں دیتا مگر ان کا کیا کریں جو دارالحکومت کے دامن میں دہشتگردی کی دکان سجائے بیٹھے ہیں.اور آج اسلام آباد کی پولیس کو لیکچر دیتا مہتمم کہتا ہے 

    "پاکستانی طالبان آئیں گے تمہارا حشر نشر کریں گے”

    ریاستی ادارے کو دہشتگردوں کی دھمکی پہ وزیرِ داخلہ خاموش وزیرِ دفاع ناپید ؟ 

    ہمارے وطن کے کرتا دھرتا یہ سمجھتے ہیں ناں کہ مقتولین کے حق میں بھی نغمات جاری کر لیں اور قاتلوں کو بھی معافی دے کر قومی دھارے میں شامل کر لیں تو ان اے کہدیجیے…

    ظلم رہے اور امن بھی ہو 

    کیا ممکن ہے تم ہی کہو

    اپنے ہونٹ سیے تم نے 

    میری زباں کو مت روکو 

    تم کو اگر توفیق نہیں 

    مجھکو ہی سچ کہنے دو 

    ظلم رہے اور امن بھی ہو…

    @hsbuddy18

  • لاوارث ضلع (چنیوٹ ) تحریر : مہر توقیر منظور گھگھ

     

    کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کہاں سے شروع کیا جائے اور کہاں پر ختم۔ہم ایسے بے حس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں رہنماؤں کی بے حیائی اور بدعنوانیاں منظر عام پر آنے کے بعد بھی انہیں معتبر سمجھتے ہیں کیا ہم بھی اس جرم کے طرف دار ہیں ۔

    لاوارث ضلع چنیوٹ پہلے ضلع جھنگ کا حصہ تھا تقریبا 2008 میں اسے علیحدہ ضلع کا درجہ دے دیا گیا ۔ضلع چنیوٹ 2020 تک تو صرف فرنیچر کی وجہ سے مشہور تھا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ ضلع چنیوٹ انتظامیہ کی ناقص کارکردگی اور افسران بالا کی لاپرواہی کی وجہ سے اجتماعی زیادتی اور درندگی میں پہلے نمبر پر آنے والے ضلع کے طور پر جانا جائے گا ۔بچے تو بچے ٹھہرے یہاں تو اب نوجوان اور بوڑھے بھی غیر محفوظ ہیں ۔کچھ دن پہلے بھوانہ کا واقعہ سن کر اوسان خطا ہو گئے جہاں پر ننھی کلی اقصیٰ کو جسمانی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا ۔قتل کے بعد جب نعش ملی تو ایس ایچ او بھوانہ اور ڈی ایس پی بھوانہ موقع پر پہنچ گئے ۔اپنے انداز میں حسب ضابطہ کارروائی میں مصروف ہوگئے ۔ٹیسٹ کروائے گئے سیمپلز لیے گئے۔اور ادھر کئی ٹی وی چینلز اور اخبارات میں خبریں نشر ہونے لگی ۔ہمارے معزز وزیراعلی صاحب نے نوٹس بھی لیا ۔اے آر وائی کے مشہور پروگرام criminal most wanted کی ٹیموں نے آکر پروگرام بھی کیے ۔لیکن آخر کیا ہوا ؟؟ چند دن گزرنے کے بعد تھانہ چناب نگر کی حدود میں حاملہ عورت سے زیادتی کی گئی مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس ملزمان سے ساز باز رہیں اور کوئی گرفتاری عمل میں نہ لائی جاسکی ۔

    اب بات کرتے ہیں لاوارث ضلع کے لاوارث تھانہ کانڈیوال کی ۔تھانہ کانڈیوال کی حدود موضع کلور شریف جو کہ صرف نام کی شرافت تک محدود رہ چکا ہے جنسی درندگی میں نمبر ون بن گیا ۔12 سالہ بچے سے زیادتی کی گئی ۔ملزمان اور پولیس آپس میں بھائی چارہ نبھانے لگے اور مقدمہ درج نہ ہونے کی وجہ سے مدعیان نے مجبورا صلح کرلی۔بعد میں زیادتی کی پوری ویڈیو وائرل کردی گئی ۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملزمان سے بڑھ کر تو پولیس ملزم ہے لیکن کون پوچھے گا۔۔دو دن بعد کلور شریف میں عورت سے زیادتی کا واقعہ جس کا ڈراپ سین بھی کچھ اسی طرح ہوا کہ مدعی کو انصاف نہ ملنے پر مجبورأ صلح کرنی پڑی۔اس کہانی کا اختتام ابھی نہیں ہوا تھا کہ موضع کلور شریف کے تین اوباش لڑکوں نے مل کر ایک اور حوا کی بیٹی کی زندگی برباد کر دی ۔اس مقدمہ نے تو افسران کی فرض شناسی اور کالے کرتوتوں پر سے پردہ اٹھا دیا جہاں پر زیادتی ایک بھائ نے کی اور پولیس نے اپنی جیب گرم کرکے ایف آئی آر میں دوسرے بھائی کا نام لکھ کر پورے مقدمے پر پانی پھیر دیا ۔جبکہ لڑکی کے گھر والے ابھی تک انصاف کی فراہمی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔

    اب تو چنیوٹ ٹرینی ضلع کے نام سے مشہور ہو چکا ہے جہاں پر افسران اور ملازمین کو ٹریننگ کے لئے ایس ایچ او لگا دیا جاتا ہے ۔تو کہیں ہیڈ کانسٹیبل کو سی ائی اے سٹاپ کا انچارج لگا دیا جاتا ہے۔اور پھر بعد میں ان کی شراب نوشی کی ویڈیوز پر انہیں معطل کر دیا جاتا ہے۔یہاں پر سی آئی اے سٹاف بھوانہ کے انچارج کی شراب نوشی کی وائرل ویڈیو پر اسے معطل کیا گیا حالانکہ اسے نوکری سے فارغ کر دینا چاہیے تھا ۔

    آج صبح کا سورج ایک اور ظلم اور بربریت کی داستان لے کر ابھرا ۔ایسی داستان جو سننے پر انسانی روح کانپ اٹھی . جسم لرزا گیا ۔جو واقعہ سن کر انسانیت بھی شرما گئی ۔لاوارث ضلع چنیوٹ کی تحصیل بھوانہ کے علاقہ محمد شاہ میں اقبال باٹا نامی شخص نے پچاس 50 سالہ ذہنی معذور محمد عارف کو دو ساتھیوں سے ملکر جنسی درندگی کا نشانہ بناڈالا اور ویڈیو بنا کر وائرل کردی عارف کے بھائی کی مدعیت میں درخواست دائر کر دی گئی ۔بھوانہ پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہے مگر کوئی ان صاحبان سے پوچھنے والا ہی نہیں کہ ٹیم کس لیے تشکیل دی آپ نے کوئی لادی گینگ یا چھوٹو گینگ پکڑنا ہے۔

    اگر لکھنا شروع کیا جائے تو کتاب بھر جائیں مگر لاوارث ضلع کی داستان ختم نہ ہوں ۔ڈی پی او چنیوٹ آر پی او فیصل آباد اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی جاتی ہے کہ خدارا کچھ نظر کرم اس لاوارث ضلع پر بھی ڈال دیں ۔تحریر : مہر توقیر منظور گھگھ 

    لاوارث ضلع (چنیوٹ)

    کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کہاں سے شروع کیا جائے اور کہاں پر ختم۔ہم ایسے بے حس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں رہنماؤں کی بے حیائی اور بدعنوانیاں منظر عام پر آنے کے بعد بھی انہیں معتبر سمجھتے ہیں کیا ہم بھی اس جرم کے طرف دار ہیں ۔

    لاوارث ضلع چنیوٹ پہلے ضلع جھنگ کا حصہ تھا تقریبا 2008 میں اسے علیحدہ ضلع کا درجہ دے دیا گیا ۔ضلع چنیوٹ 2020 تک تو صرف فرنیچر کی وجہ سے مشہور تھا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ ضلع چنیوٹ انتظامیہ کی ناقص کارکردگی اور افسران بالا کی لاپرواہی کی وجہ سے اجتماعی زیادتی اور درندگی میں پہلے نمبر پر آنے والے ضلع کے طور پر جانا جائے گا ۔بچے تو بچے ٹھہرے یہاں تو اب نوجوان اور بوڑھے بھی غیر محفوظ ہیں ۔کچھ دن پہلے بھوانہ کا واقعہ سن کر اوسان خطا ہو گئے جہاں پر ننھی کلی اقصیٰ کو جسمانی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا ۔قتل کے بعد جب نعش ملی تو ایس ایچ او بھوانہ اور ڈی ایس پی بھوانہ موقع پر پہنچ گئے ۔اپنے انداز میں حسب ضابطہ کارروائی میں مصروف ہوگئے ۔ٹیسٹ کروائے گئے سیمپلز لیے گئے۔اور ادھر کئی ٹی وی چینلز اور اخبارات میں خبریں نشر ہونے لگی ۔ہمارے معزز وزیراعلی صاحب نے نوٹس بھی لیا ۔اے آر وائی کے مشہور پروگرام criminal most wanted کی ٹیموں نے آکر پروگرام بھی کیے ۔لیکن آخر کیا ہوا ؟؟ چند دن گزرنے کے بعد تھانہ چناب نگر کی حدود میں حاملہ عورت سے زیادتی کی گئی مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس ملزمان سے ساز باز رہیں اور کوئی گرفتاری عمل میں نہ لائی جاسکی ۔

    اب بات کرتے ہیں لاوارث ضلع کے لاوارث تھانہ کانڈیوال کی ۔تھانہ کانڈیوال کی حدود موضع کلور شریف جو کہ صرف نام کی شرافت تک محدود رہ چکا ہے جنسی درندگی میں نمبر ون بن گیا ۔12 سالہ بچے سے زیادتی کی گئی ۔ملزمان اور پولیس آپس میں بھائی چارہ نبھانے لگے اور مقدمہ درج نہ ہونے کی وجہ سے مدعیان نے مجبورا صلح کرلی۔بعد میں زیادتی کی پوری ویڈیو وائرل کردی گئی ۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملزمان سے بڑھ کر تو پولیس ملزم ہے لیکن کون پوچھے گا۔۔دو دن بعد کلور شریف میں عورت سے زیادتی کا واقعہ جس کا ڈراپ سین بھی کچھ اسی طرح ہوا کہ مدعی کو انصاف نہ ملنے پر مجبورأ صلح کرنی پڑی۔اس کہانی کا اختتام ابھی نہیں ہوا تھا کہ موضع کلور شریف کے تین اوباش لڑکوں نے مل کر ایک اور حوا کی بیٹی کی زندگی برباد کر دی ۔اس مقدمہ نے تو افسران کی فرض شناسی اور کالے کرتوتوں پر سے پردہ اٹھا دیا جہاں پر زیادتی ایک بھائ نے کی اور پولیس نے اپنی جیب گرم کرکے ایف آئی آر میں دوسرے بھائی کا نام لکھ کر پورے مقدمے پر پانی پھیر دیا ۔جبکہ لڑکی کے گھر والے ابھی تک انصاف کی فراہمی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔

    اب تو چنیوٹ ٹرینی ضلع کے نام سے مشہور ہو چکا ہے جہاں پر افسران اور ملازمین کو ٹریننگ کے لئے ایس ایچ او لگا دیا جاتا ہے ۔تو کہیں ہیڈ کانسٹیبل کو سی ائی اے سٹاپ کا انچارج لگا دیا جاتا ہے۔اور پھر بعد میں ان کی شراب نوشی کی ویڈیوز پر انہیں معطل کر دیا جاتا ہے۔یہاں پر سی آئی اے سٹاف بھوانہ کے انچارج کی شراب نوشی کی وائرل ویڈیو پر اسے معطل کیا گیا حالانکہ اسے نوکری سے فارغ کر دینا چاہیے تھا ۔

    آج صبح کا سورج ایک اور ظلم اور بربریت کی داستان لے کر ابھرا ۔ایسی داستان جو سننے پر انسانی روح کانپ اٹھی . جسم لرزا گیا ۔جو واقعہ سن کر انسانیت بھی شرما گئی ۔لاوارث ضلع چنیوٹ کی تحصیل بھوانہ کے علاقہ محمد شاہ میں اقبال باٹا نامی شخص نے پچاس 50 سالہ ذہنی معذور محمد عارف کو دو ساتھیوں سے ملکر جنسی درندگی کا نشانہ بناڈالا اور ویڈیو بنا کر وائرل کردی عارف کے بھائی کی مدعیت میں درخواست دائر کر دی گئی ۔بھوانہ پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہے مگر کوئی ان صاحبان سے پوچھنے والا ہی نہیں کہ ٹیم کس لیے تشکیل دی آپ نے کوئی لادی گینگ یا چھوٹو گینگ پکڑنا ہے۔

    اگر لکھنا شروع کیا جائے تو کتاب بھر جائیں مگر لاوارث ضلع کی داستان ختم نہ ہوں ۔ڈی پی او چنیوٹ آر پی او فیصل آباد اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی جاتی ہے کہ خدارا کچھ نظر کرم اس لاوارث ضلع پر بھی ڈال دیں

  • میڈیا کی بے لگام آزادی،تحریر: ارم شہزادی

    میڈیا کی بے لگام آزادی،تحریر: ارم شہزادی

    میڈیا کی بے لگام آزادی،تحریر: ارم شہزادی

    بین الاقوامی انسانی حقوق کے آرٹیکل نمبر 10 کے تحت ہر کسی کو بولنے اور آواز بلند کرنے کا حق ہے اور ہر ملک کے آئین میں اس بات کو شامل کیا گیا ہے کہ بنا کسی فرق کے ہر فرد کے پاس تنقید یا تعریف کا حق موجود ہے
    لیکن
    یہاں پھر کچھ باتیں ایسی جنم لیتی ہیں جن سے اس حق کا غلط استعمال ہوتا دیکھا جاتا ہے۔

    ہر کسی کے پاس بولنے کا حق موجود ہے لیکن کیا کسی کی ذاتی زندگی پر بنا ثبوت کے کیچڑ اچھالنے کا حق بھی ہے؟ کیا قومی حساس معاملات پر ان لوگوں کا بولنا بھی حق ہے ہے جو اسکا بلکل بھی ادراک نہیں رکھتے یا پھر جھوٹی خبر یا جھوٹ پر مبنی بنائی گئی کہانی گھڑنا بھی آزادی اظہار رائے میں آتا ہے؟تو جواب ہے بلکل نہیں۔ ہر بات اور ہر لفظ کا ذمہ دار اسکا بولنے والا استعمال کرنے والا ہوتا ہے اور ان الفاظ سے پیدا ہونیوالے اثرات کا بھی وہی ذمہ دار ہوتا ہےفرض کریں ایک شخص مزہبی منافرت کو ہوا دے رہا ہو جس سے فسادات برپا ہونے کا خدشہ ہو تو کیا اس فرد کو اس لئے بولنے دینا چاہیے کہ اسے انسانی حقوق نے یہ حق دیا ہے؟ آزادی اظہار رائے کا مطلب یہ ہے کہ ان معاملات میں بولنا چاہیے جو آپکا سرکل ہے۔ اپنے دائرہ کار سے باہر نکل کر کسی دوسرے کے دائرے میں بولنا دوسرے کی ناصرف حق تلفی ہے بلکہ ایک سوچ کی خرابی کو جنم لیتا ہے جسے کہتے ہیں ڈس انفارمیشن۔ تعلیم اور پیشہ ور معاملات کی ہی مثال لے لیجئے کہ ایک استاد جسکا پیشہ اور تعلیم ایک مخصوص شعبے کو پڑھانا ہے وہ کسی دوسرے شعبے کو نہیں پڑھا سکتا تو کیسے وہ اس پر رائے دینے کا بھی حقدار ہوگا؟

    اسی طرح کچھ میڈیا ہؤسسز ہیں جو اس آرٹیکل کو اپنی جھوٹی من گھڑت اور غلط معلومات پر منحصر خبریں نشر کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں اور اگر انہیں کوئی اس بات سے روکے تو میڈیا کی آزادی پر قدغن قرار دی جاتی پے۔ پاکستان بھی آجکل انہی حالات سے گزر رہا ہے۔ ٹالک شوز میں معیشیت پر اینکرز حضرات اپنا تجزیہ دے رہے ہوتے ہیں جنکی نہ تو تعلیم معیشیت پر ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی ایسا تجربہ۔ کورٹ روم کے باہر اگر دس سال کوئی کیمرہ مین کوریج کرتا رہا ہے تو اسے قانونی امور پر تجزیے کے لئے بٹھا لیا جاتا ہے۔ اسی طرح ملک کے دفاعی اور حساس معاملات پر ایسے عجیب و غریب تجزئیے پیش کیے جاتے ہیں جیسے کل ہی دشمن ہمارے ملک پر قبضہ کرلے گا اگر ان جناب کا تجزیہ نہ مانا تو۔

    اصل میں پاکستان کا میڈیا خود کو بے لگام گھوڑا بنانا چاہتا ہے اور جھوٹی خبر اپنا حق سمجھنے لگا ہے۔ کچھ دن پہلے فیک نیوز پر قانون سازی کے کچھ پیپر ورک ہوا حکومت کیطرف اور میڈیا یونینز سے انکے نمائندے پیش کرنے کے لئے کہا گیا کہ اس قانون کے نکات پر اپنی رائے دیں تاکہ مزید بہتری آسکے۔ وہ سب بجائے ان نکات کو پڑھتے ان پر کام کرتے وہ سب دھرنےپر بیٹھ گئے کہ جھوٹی خبر دینا تو ہمارا حق ہے اور لوگوں میں افراتفری پھیلانا بھی۔ اس سے پاکستان کا امیج دُنیا میں ایک میڈیا پر پابند سلاسل لگانے والا ملک شو کیا گیا حالانکہ وہ قانون صرف اور صرف جھوٹی خبر پھیلانے والے کے خلاف تھا۔ مطلب میڈیا کو اس قدر آزادی چاہیے کہ اگر وہ جھوٹ بولیں تو ان پر کوئی قدغن نہ لگے اور نہ ہی ان سے کوئی پوچھنے والا ہو۔ سبھی ترقی یافتہ ممالک میں یہ قانون موجود ہے اور کڑھے جرمانے رکھے گئے ہیں جھوٹی خبروں پر۔ پاکستانی میڈیا ناصرف ملک کے اندرونی معاملات ہر جھوٹ پر مبنی خبریں پھیلانے میں ملوث ہے بلکہ خارجہ پالیسی جیسے حساس معاملات پر بھی کچھ صحافی جھوٹ بولنے میں پیش پیش ہیں

    پچھلے سال اقوام متحدہ کے ڈس انفارمیشن سیل نے اس بات کو واضح کیا کہ کس طرح بھارتی میڈیا کی جانب سے غلط انفارمیشن پھیلائی گئی پاکستان کے متعلق اور ان جھوٹی معلومات پر پاکستانی صحافیوں نے تجزئیے بھی پیش کیے ان سبھی معاملات کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ میڈیا کی بے لگام آزادی کسی بھی ملک کے لئے مفاد میں نہیں ہے کیونکہ ہر بات اگر نشر ہونے لگی تو حساس قومی معاملات کو نقصان پہنچے گا۔ آج کی ففتھ جنریشن وار میں سب سے بڑا ہتھیار میڈیا کا غلط استعمال کروانا ہے اور بدقسمتی سے پاکستان میں کچھ نام نہاد صحافی انہیں ایجنڈوں پر کام کررہے ہیں۔ دنیا میں مختلف وارداتوں کے علاوہ بچوں کے ریپ ہوں یا قتل میڈیا حکومت کی اجازت کے بغیر خبر نشر نہیں کرسکتا ہے۔ لیکن یہاں پولیس بعد میں پہنچتی ہے اور میڈیا تک خبر پہلے جاتی ہے جس کا، نقصان یہ ہوتا ہے کہ جب تک حقائق پتہ چلتے ہیں تب میڈیا کی وجہ سے ایک ایسی رائے عامہ تیار ہوچکی ہوتی ہے کہ پھر اسے کنٹرول کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے، اس کی ایک مثال یہ بھی ہے "‏فرانس کمیشن مطابق وہاں چرچ 50 سالوں میں ساڑھے تین لاکھ بچوں ساتھ ریپ ہوئے جو سالانہ قریبا 5000 کیسز ماہانہ 400 روزانہ قریبا 14 child abuse کیس بنتے ھیں” اب یہی کیس اگر پاکستان میں ہو تو پوری دنیا میں پاکستان بدنام ہوجائے گا میڈیا کی بےلگامی کی وجہ سے، لیکن فرانس میں اسے میڈیا، پر اسے زیر بحث لانے کی اجازت ہی نہیں ہے۔ اگر پاکستان میں بھی ملک کو نیشنل اور انٹرنیشنل پر بدنامی سے بچانا ہے تو میڈیا کو ریگولیٹ کرنا ہوگا۔کچھ پابندیاں لگانا ہونگی خاص طور پر ملکی مفاد کے خلاف کوئی بات زیربحث نہیں لائی جاسکتی۔۔
    تحریر ارم شہزادی
    @irumrae

  • زندگی جہد مسلسل تحریر فروا منیر

    زندگی جہد مسلسل تحریر فروا منیر

    ت

    ایک آدمی غروب آفتاب کے وقت درختوں کے سامنے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے” آپ کا خیال حقیقت کے بارے میں آپ کے نقطہ نظر کو رنگ دیتا ہے۔ "سب سے خوبصورت لوگ جن کو میں جانتا ہوں وہ وہ ہیں جنہوں نے آزمائشوں کو جانا ہے، جدوجہد کو جانا ہے، نقصان کو جانا ہے، اور گہرائیوں سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا ہے۔” — الزبتھ کیبلر-راس

    ہم جدوجہد کرتے ہیں۔ ہم کوشش کرتے ہیں۔ ہم ایک بہتر زندگی کی خواہش رکھتے ہیں۔ زندگی ایک خوبصورت جدوجہد ہے یا کچھ بھی نہیں۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ زندگی چیلنجوں یا ناکامیوں کے بغیر ہو؟ اگر ایسا ہوتا تو آپ بغیر جدوجہد کے اپنی صلاحیت کو کیسے محسوس کریں گے؟ نشوونما کے بغیر زندگی ادھوری اور خوفناک ہے۔ ہم کوشش کرتے ہیں اور جدوجہد کرتے ہیں تاکہ ہم اس پر قابو پا سکیں، کیونکہ غالب آنے میں ہم اپنی عظمت کو محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے پاس بڑھنے اور پھلنے پھولنے کی اندرونی دعوت ہے۔ یہ ہمارے وراثت میں شامل ہے تاکہ ہم اپنے آپ کے بہتری کی جانب لائیں۔

    جیسے جیسے آپ مزید بننے کے لیے پہنچتے ہیں، آپ اپنی لامحدود صلاحیت کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم جسمانی کائنات میں رونما ہونے والے واقعات کے بڑے آرکیسٹریشن میں ایک چھوٹا سا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کوئی اہم کردار ادا نہیں کرتے، بلکہ آج جو فیصلے ہم کرتے ہیں اس کا ہماری زندگیوں اور دوسروں کی زندگیوں پر اثر پڑتا ہے۔ ہم سب شعور کے ذریعے گہری سطح پر جڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے عقائد ہمارے خیالات کو مرتب کرتے ہیں۔ ہمارا خیال حقیقت کے بارے میں ہمارے نقطہ نظر کو رنگ دیتا ہے، لہذا ہم جس چیز کی توقع کرتے ہیں وہی ہمیں ملتا ہے۔ یہ ایک جاری بحث ہے کہ زندگی ایک کے بعد ایک جدوجہد ہے۔ پھر بھی ضروری نہیں کہ ایسا ہو۔

    زندگی میں اس کے بارے میں ہمارے تاثرات سے زیادہ ہے۔ غور کریں کہ میں نے تاثر کا لفظ استعمال کیا ہے، کیونکہ جس طرح سے ہم دنیا کو دیکھتے ہیں وہ ہمارے مشاہدے سے واضح ہے۔ زندگی کو لامتناہی جدوجہد، بلوں کی ادائیگی اور کسی کے کام سے مطمئن ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیا اپنی زندگی کو کسی مختلف فلٹر سے دیکھنا آپ کے لیے معنی خیز ہے؟ کیا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایسا کرنے سے آپ کو دنیا کو مختلف طریقے سے دیکھنے کی صلاحیت کیسے ملتی ہے؟

    ۔ جب ہم محبت میں ہوتے ہیں اور دوسروں کی خدمت کے لیے پرعزم ہوتے ہیں تو ہماری جدوجہد بے معنی نہیں ہوتی۔ زندگی کو سفر کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ وہ تجربات ہیں جن پر ہم سفر کرتے ہیں جو ہماری زندگیوں پر دیرپا اثر ڈالتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی عروج و پستی کا سلسلہ ہے۔ خوشی کے لمحات یا اذیت کی اقساط تجربہ ہونے کے کافی عرصے بعد ایک فوکل پوائنٹ ہیں۔ ہمیں یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ زندگی ٹوپی کے قطرے پر ہماری خواہشات کے مطابق ہو جائے گی، بلکہ ہمیں زندگی کو بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے اندر سے گزرنے دینا چاہیے۔

    ہم ایسا کرتے ہیں جو ظاہر ہوتا ہے اسے قبول کرتے ہوئے، چاہے ہم دوسری صورت میں یقین رکھتے ہوں۔ اس مضمون کا عنوان زندگی کی تفریق کو واضح کرتا ہے۔ جدوجہد کے بغیر، زندگی ہمارے ذاتی ارتقاء میں کوئی کردار ادا نہیں کرتی۔ زندگی کا مقصد ہر لمحہ خود کو نئے سرے سے تخلیق کرنا ہے۔ افراتفری کے ذریعے زندگی جنم لیتی ہے، جو اس کے تخلیقی اظہار کے لیے تحریک کا کام کرتی ہے۔ ہم اس ایپلی کیشن کو فطرت میں دیکھتے ہیں۔ ہیرے شدید دباؤ، گرمی اور تحریک کے تحت بنتے ہیں۔ موسم بہار اور خزاں کے مہینوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے ہنگامہ خیز موسم کے نمونے کم ہو جاتے ہیں۔

    ہم ان موسموں کو معمولی سمجھنے کے بجائے ان کا انتظار کرتے ہیں۔ تصور کریں کہ کیا ہمارے پاس سال کے بارہ مہینوں میں ایک ہی موسم ہوتا؟ متضاد موسمی تبدیلیوں کی جتنی تعریف کی جائے کم ہوگی۔ تضاد فطرت میں ابھرتا ہے لہذا ہم مختلف حقائق کا تجربہ کرسکتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے، میں آپ کو مدعو کرتی ہوں کہ آپ اپنے چیلنجوں کو موسمی تبدیلیوں کے مطابق بنائیں۔ کچھ بھی مستقل نہیں ہے۔ تکلیف دہ تجربات آتے اور جاتے ہیں اگر ہم انہیں اپنے ذریعے سے گزرنے دیتے ہیں۔ زندگی کو لامتناہی جدوجہد کے سلسلے کے طور پر دیکھنے کے بجائے، اس بات پر بھروسہ کریں کہ آپ کی ذاتی لڑائیاں آپ کو اپنی گہری حکمت کے ادراک کی طرف لے جا رہی ہیں۔ یہ حکمت آپ کو اسی ذہانت سے جوڑتی ہے جو ہر لمحہ آپ کی خدمت کرتی ہے۔ یہ آپ کی توقع کے مطابق ظاہر نہیں ہوسکتا ہے، پھر بھی یہ ہمیشہ پردے کے پیچھے کام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی خوبصورت جدوجہد کا ایک سلسلہ ہو سکتی ہے یا کچھ بھی نہیں۔

  • قسمت، محنت اور دعا تحریر: فضل عباس

    قسمت، محنت اور دعا تحریر: فضل عباس

    قسمت نام ہے تقدیر کا جس کے ذریعے اللّہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کرتا ہے قسمت مقدر کا دوسرا نام ہے مقدر میں خوشیاں بھی شامل ہوتی ہیں غم بھی آتے ہیں آزمائش بھی مقدر کا حصہ ہوتی انعام بھی قسمت کا حصہ ہوتا ہے لیکن کیا قسمت بدلی جا سکتی ہے؟ قسمت میں جو لکھ دیا جاۓ وہ بدلا جا سکتا ہے؟ جی بالکل اگر اللّہ چاہے تو قسمت بھی بدل سکتی ہے آج ہم اس پر بات کریں گے کہ انسان قسمت کیسے بدل سکتا ہے
    قسمت بدلنے کے دو طریقے ہیں ایک محنت دوسرا دعا
    محنت کرنے والے لوگ اللّہ تعالیٰ کو پسند ہوتے ہیں ایسے لوگوں کو اللّہ تعالیٰ ان کی محنت کا اجر دیتا ہے اگر لوگ محنت کرتے رہیں تو ان کی قسمت میں آئیں مشکلات راہ سے ہٹ جاتی ہیں یہ ان کی محنت کا ثمر ہوتا ہے لیکن جہاں تک میرا خیال ہے کہ محنت سے آپ قسمت میں ایک حد تک تبدیلی لا سکتے ہیں آپ محنت کر کے چیزیں حاصل کر سکتے ہیں وہ چیزیں جو آپ کی قسمت میں نہیں تھی لیکن آپ نے محنت کی اور اللّہ تعالیٰ نے آپ کی محنت کا ثمر دیا اور وہ چیزیں آپ کو مل گئیں لیکن کیا محنت کرنے سے آپ کو وہ لوگ بھی مل سکتے ہیں جو آپ سے کھو گئے ہیں؟ جو آپ کو دکھ دے کر ایک طرف ہو گئے ہیں؟ کیا وہ لوگ آپ کے بھی ہو سکتے ہیں جو آپ کو نظر انداز کر کے آپ کے مخالف کی طرف کھڑے ہو گئے تھے؟ شاید نہیں
    اگر آپ اپنی قسمت میں لوگوں کو شامل نہیں کر سکتے تو محنت کا کیا فائدہ؟ یہ سوال یقیناً ہر ایک شخص کے ذہن میں آتا ہے اس کا جواب اس طرح دیا جا سکتا ہے کہ ہر چیز کی مختص طاقت ہوتی ہے محنت کی اتنی ہی طاقت ہوتی ہے کہ یہ آپ کو چیزیں دلا سکتی ہیں لوگ نہیں اگر آپ لوگ کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس سے ایک قدم آگے بڑھنا ہو گا اس منزل پر پہنچ کر آپ وہ حاصل کر سکتے ہیں جو آپ کی قسمت میں بھی نہیں ہے جی یہ منزل ہے دعا!!!

    اب آتے ہیں دعا کیا ہوتی ہے اور دعا قسمت کیسے بدل سکتی ہے دعا ایک مقدس جذبہ ہے جو آپ کا تعلق اللّہ تعالیٰ سے جوڑتا ہے اس تعلق میں وسیلہ نہایت اہم ہوتا ہے وسیلہ پاک ہستییاں ہوتی ہیں وہ ہستیاں جو اللّہ تعالیٰ کے نزدیک فضیلت والی ہوتی ہیں اس طرح دعا آپ کا تعلق پاک ہستیوں کے ذریعے اللّہ تعالیٰ سے جوڑتی ہے اور یہی تعلق انسان کے لیے بہت زیادہ طاقت والا ہوتا ہے

    دعا ایک طاقت ہوتی ہے وہ طاقت جو مایوسی کو امید اور امید کو یقین میں بدلنے کا فن جانتی ہے یہ طاقت مایوسی ختم کرنے کا ہنر جانتی ہے مایوسی کا ختم ہونا انسان کی سب سے بڑی جیت ہوتی ہے

    اب آتے ہیں اس بات پر کہ دعا انسان کی قسمت کو کیسے بدلتی ہے انسان جب خالق کائنات کے سامنے اپنی بات دعا کی صورت یقین کے ساتھ رکھ دیتا ہے تو خالق کائنات اس دعا کو قبول کرتا ہے چاہے انسان کی قسمت میں پہلے سے نہ لکھا ہو کیوں کہ ہوتا وہی ہے جو اللّہ چاہے قسمت بھی اللّہ تعالیٰ لکھتا ہے تو اللّہ تعالیٰ سے دعا کرو گے تو اللّہ تعالیٰ آپ کی قسمت بدل دے گا اللّہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے اللّہ تعالیٰ معاف کر دینے والا ہے اللّہ تعالیٰ انسان سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے تو دعا کی قبولیت میں شک بنتا ہی نہیں کیوں کہ جب ایک ماں اپنے بچے کی خواہش پوری کرنے کے لیے سب کچھ کر گزرتی ہے تو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا انسان کا خالق جس کی قدرت میں سب کچھ ہے وہ انسان کی دعا کو رد کر ہی نہیں سکتا

    اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان کی زندگی میں قسمت کا عمل دخل ہوتا ہے قسمت انسان کی زندگی میں ایک واضح مقام رکھتی ہے لیکن قسمت بدلی بھی جا سکتی ہے قسمت اتنی سخت نہیں ہوتی کہ بدلی نہ جا سکے قسمت بدلتے دیر نہیں لگتی بس آپ محنت جاری رکھو جو چیز محنت سے بھی نہ ملے اسے دعا میں مانگو چاہے وہ کچھ بھی ہو اگر آپ کے لیے وہ چیز، وہ لوگ اچھے ہوں گے تو اللّہ تعالیٰ آپ کو لازمی وہ دے گا اگر آپ کی دعا قبول نہیں ہوتی تو دوبارہ دعا کرو اللّہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کی دعا سنے گا اور جو آپ کے لیے بہتر ہو گا وہ آپ کی قسمت میں لکھ دے گا

  • اولاد کی تربیت کیسے کریں   تحریر: فضیلت اجالہ 

    اولاد کی تربیت کیسے کریں  تحریر: فضیلت اجالہ 

    آپ میں سے اکثر لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ابابیل (پرندہ) کنویں میں اپنا گھونسلہ بناتی ہے ،بچوں کو اڑان کی تربیت دینے کے لیے نا تو اس کے پاس وسیع احاطہ میسر ہوتا ہے اور نا ہی وہ اپنے بچوں کو نا کافی تربیت کے ساتھ اڑنے کی اجازت دے سکتی ہے ،کیونکہ وہ جانتی ہے کہ دوسرے پرندوں کی طرح اس کے بچوں کو گر کے سنبھلنے اور دوبارہ اڑان بھرنے کا موقع نہیں ملے گا، بلکہ اگر پہلی اڑان نا کام ہوئ تو اسکا نتیجہ موت ہوگا۔ بچوں کو اس درد ناک موت سے بچانے کے لیئے ابابیل تربیت کی یہ مشقیں بھی اپنی زات پہ کرتی ہے ،بچوں کی ولادت سے پہلے جو ابابیل دن میں 25 اڑانیں بھرتی تھی بچوں کی ولادت کے بعد وہ اپنی اڑانوں کی تعداد تین گنا بڑھا کر 75 کر دیتی ہے ،اور یوں ایک مکمل دن میں دونوں والدین 150 اڑانیں بھرتیں ہیں جس سے بچوں کے دل میں یہ عقیدہ راسخ ہو جاتا ہے کہ یہاں سے اڑ کہ سیدھا باہر جانا ہے کیونکہ بچے انسان کے ہو یا حیوان کہ وہ وہی عادات و انداز اپناتے ہیں جو والدین کو کرتے دیکھتے ہیں ۔اسی طرح ہمارے بچے بھی کل کو وہی کریں گے جو آج ہم انہیں اپنے عمل سے سکھائیں گے ۔

    اچھی اولاد صدقہ جاریہ ہوتی ہے اور اچھی اولاد اچھی تربیت سے بنتی ہے،

    بچے کی تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے کیونکہ ماں کی گود بچے کے لیئے پہلی درسگاہ ہوتی ہے ،بچوں کو اسکول ،کالج یا مدرسہ بھیج کر آپ اسکی تربیت سے بری الزماں نہیں ہو سکتے ،اسے نمازی،پرہیزگار ،سچا اور اچھا انسان نہیں بنا سکتے۔

    اگر ہمیں اپنے بچوں کو نمازی بنانا ہے تو اسکے لیئے سختی کرنا یا زبردستی مسجد بھیجنا کافی نہیں ہے بلکہ ہمیں انہیں نماز پڑھ کے دکھانا ہے انکے لیئے ایک مثال بننا ہے کہ نماز ہر کام سے ضروری ہے ۔

    بچوں کے سامنے چھوٹے چھوٹے سچ بولنے کی پریکٹس کریں ۔

    بچوں کے دل میں اللہ کا ڈر نہیں بلکہ اللہ سے محبت پیدا کریں ،انہیں بتائیں کہ اللہ آپ سے بہت محبت کرتے ہیں لیکن جس طرح کوئ بھی غلط کام کرنے پر ہم آپ سے ناراض ہو سکتے ہیں بلکل اسی طرح اللہ تعالی بھی ناراض ہو جاتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتائیں کہ اللہ پاک انتہائ رحیم و کریم ہیں اگر تم ان کے سامنے سچ بولو گے اپنے گناہ پہ شرمسار ہو گے تو وہ آپ کو معاف کر دیں گے، یقین کیجیئے آپکا بچہ سچ بولنے کا عادی ہوتا جائے گا ۔

    سارے دن کے بعد رات سونے سے پہلے کچھ وقت بچوں کے ساتھ گزاریں ان سے دن بھر ہونے والے واقعات کے متعلق پوچھیں اس سے آپ کافی حد تک اپنے بچے کی سر گرمیںوں سے آگاہ رہیں گے ،بچوں سے تمام دن میں ملنے والی کوئ سی تین نعمتوں کے باریں میں پوچھیں تاکہ ان میں اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کے متعلق احساس شکر گزاری پیدا ہو۔

    بچوں کو ڈائری لکھنے کی عادت ڈالیں جس میں وہ دن بھر ہونے والے اچھے اور غلط کام لکھیں ،اس سے ان میں اپنی کوتاہیوں کو قبول کرنے کا اور انہیں سدھارنے کا وصف پیدا ہوگا ۔

    بچوں کو زرا زرا سی بات پر روک ٹوک نا کریں ،دینی یا دنیاوی جو بھی معاملات ہوں کبھی بھی بچوں سے بہت زیادہ پرفیکشن کا مطالبہ نہ کریں،خاص کر عبادات کے سلسلے میں بہت زیادہ حدود و قیود نا لگائیں کیونکہ یہ باتیں اسے دین سے متنفر کر دیں گی ،پہلے بچے کو اس کام کا یا عبادت کا عادی بنائیں ،جب اس کی عادت پختہ ہو جائے گی ِتو وہ اپنا تجزیہ خود کرے گا۔جب سکول میں تمام سلیبس ایک ساتھ نہیں پڑھایا جاتا تو ہم سارا دین ،سارے ادب و آداب اسے ایک ساتھ کیسے پڑھا سکتے ہیں ۔

    آج کے فتنہ پرور دور میں جب قدم قدم پہ بہکنے کا سامان موجود ہے تو بحیثیت والدین آپ کی ڈیوٹی مزید سخت ہو جاتی ہے ،آپ انہیں برائ سے دور نہیں رکھ سکتے لیکن برائ اختیار کرنے سے روک سکتے ہیں ،لیپ ٹاپ ،موبائل نا دینا مسلے کا حل نہیں ہے آج کے دور میں ان چیزوں تک رسائ مشکل نہیں،آپکا کام ان کے دل میں حرام اور حلال کا فرق واضح کر دینا ہے ،ان کہ اندر جواب دہی کا احساس پیدا کرنا ہے پھر وہ خود ان چیزوں سے دوری اختیار کریں گے جن کی اسلام میں ممانعت ہے ۔

    بچے میں یہ احساس پیدا کیجیئے کہ اس کا ہر عمل اللہ اور اس کے درمیان ہے اور وہ ہر عمل کے لیئے خالص اللہ کے آگے جواب دہ ہیں ،جب وہ اس بات کو سمجھ لے گا تو پھر دنیا کہ ڈر سے کوئ کام چھپ کر نہیں کرے گا بلکہ وہ اللہ کے ڈر سے کوئ غلط کام کرے گا ہی نہیں ۔

    یاد رکھیئے قانون قدرت ہے کہ ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے ،اس کےقلب میں اللہ سے لگاؤ کا شعلہ ٹمٹا رہا ہوتا ہے 

    ہمیں اس شعلے کو جلا دے کر مشعل بنانے کی ضرورت ہے ۔چھوٹے بچے کی پرورش کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ کہ نرم و نازک پودے کی کانٹ چھانٹ کرنا ،معاشرے میں نمو پاتی مزہب سے دوری اور نسل نوجواں کو بے راہ روی کی تاریکیوں سے نکالنے کے لیئے دیا بننے کی کوشش کیجیئے اپنی اور دوسروں کی اولاد کے لیئے صراط مستقیم کی دعا ضرور کیجیئے ۔

    @_Ujala_R