Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟ تحریر : ریحانہ جدون

    کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟ تحریر : ریحانہ جدون

    غریبوں کے بچے خواب دیکھنے کی بجائے زندہ رہنے کے لئے مزدوری کررہے ہیں اور پیسے اور وسائل پر چند فیصد لوگ برا جمان ہیں اور اس کے برعکس غریب دیہاڑی کے لئے ترس رہا ہے
    حقیقت یہی ہے پاکستان میں سرمایہ داروں نے حکمرانوں نے جم کے ترقی کی.
    ترقی تو وہ ہوتی ہے جس میں عوام کو سہولیات میسر ہوں خواندگی کی شرح میں اضافہ ہو.
    پر
    جہاں کچرے سے کاغذ چن کے انکو بیچ کر بھوک مٹائی جائے وہاں ترقی نہیں ہوتی.
    میں روز صبح کام پر جاتے ہوئے دو معصوم بچوں کو دیکھتی ہوں جن کے نازک کندھوں پر پرانا تھیلا لٹکا ہوتا ہے
    معمول کے مطابق جب میں بس سٹاپ پر پہنچی تو پتا چلا کہ گاڑی لیٹ ہے اس لئے میں پیدل چلنے لگی تو وہی بچے میرے سامنے تھے جن کو میں روز دیکھتی تھی
    ان میں سے ایک بچہ لگ بھگ 7 سال کا تھا وہ اپنے چھوٹے بھائی کا ہاتھ تھامے کچرے کے ڈھیر سے کاغذ چن رہا تھا اور اسکا وہ معصوم چھوٹا بھائی بھی اپنے کام میں ماہر لگ رہا تھا.
    میں ان کے قریب گئی تو مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ اس معصوم کے پیروں میں جوتے تک نہیں تھے اور اس سردی میں بنا جوتوں کے وہ کچرے میں سے کاغذ اور پلاسٹک کی بوتلیں ڈھونڈ ڈھونڈ کے اپنے تھیلے میں جمع کر رہے تھے, میں نے اس چھوٹے بچے کا ہاتھ پکڑ کر سائیڈ میں لے آئی تو اس کا 7 سالہ بھائی کسی محافظ کی طرح میرے پاس آیا اپنے بھائی کا ہاتھ چھڑایا اور چل نکلا
    میں نے کہا بیٹا اس کے جوتے کہاں ہیں ؟
    تو اس نے نفی میں سر کو ہلا کے جواب دے دیا
    آپ کا نام کیا ہے پر اس نے میرے کسی سوال کا جواب نہیں دیا اور اپنے بھائی کا ہاتھ تھامے چل پڑا

    وہاں کھڑے ایک شخص سے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں تو اس نے بتایا کہ یہ لوگ ادھر پاس ہی کرائے کے مکان میں رہتے ہیں باپ دیہاڑی لگاتا ہے اور یہ بچے ہر روز کاغذ چنتے ہیں پھر کباڑ میں فروخت کرکے جو پیسے ملتے ہیں گھر لے جاتے ہیں.
    یہ سن کر میں تیز قدموں سے ان کے پاس پہنچ گئی جو سڑک کے کنارے ایک کوڑے دان کے پاس کھڑے تھے پر کوڑے دان ان کے قد سے بڑا تھا
    میں نے بڑے بچے کو پیار سے کہا بیٹا آپکے بڑے بہن بھائی ہیں تو پھر اس نے نفی میں سر ہلایا
    کتنے پیسے اس ردی کے مل جاتے ہیں میں نے اس کے تھیلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا تو اس نے معصومیت سے جواب دیا 50 روپے.
    میں نے 100 روپے کا نوٹ اس بچے کو دکھاتے ہوئے کہا یہ آپ کی کمائی, اب آپ گھر جائیں ٹھنڈ بہت ہے تو اس نے ہچکچاتے ہوئے پیسے لے لیے.

    یہ بچے جب بڑے ہونگے تو ان کو اپنا بچپن یاد ہوگا ؟
    کیا ان بچوں کی پسند نا پسند نہیں ؟
    کیا ان کے خواب نہیں ؟
    بالکل ہیں اور ہونگے کیونکہ والدین کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ ان کے بچے ایک قابل اور کامیاب انسان بنیں مگر اپنی غربت کے ہاتھوں وہ اپنے خوابوں کا گلہ گھونٹ دیتے ہیں. کئی ایک ایسے ہیں جو خود مشکل سے گزر بسر کرکے بچے کو اعلیٰ تعلیم دلواتے ہیں مگر ڈگری پاس ہونے کے باوجود اس کو کہیں اچھی نوکری نہیں ملتی.
    کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک نوجوان کی ویڈیو دیکھنے کو ملی جو ایم ایس سی ریاضی ہے پر دو وقت کی روٹی کے لئے خاکروب کی ملازمت کرنے پر مجبور ہوگیا ہے. تین سال مسلسل نوکری کی تلاش کے باوجود اسے مایوسی ہوئی اور مایوس ہونے کے بعد انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی میں خاکروب کی نوکری کرلی وہ بھی صرف ڈیلی ویجز پر.
    ملک میں اب بھی کئی لوگ جھگیوں میں رہنے پر مجبور ہیں اور دوسری طرف کئی کنال پر مشتمل محلوں میں کچھ خاندان بستے ہیں کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟؟
    معاشرے میں امیر اور غریب کا فرق مزید بڑھتا جارہا ہے مسلسل مہنگائی نے ناصرف غریب کی کمر توڑی ہے بلکہ امیر اور غریب کے اس فرق کو خطرناک حد تک پہنچا دیا ہے .
    @Rehna_7

  • 24واں تھیٹر فیسٹیول ٗ الحمراء کا عظیم کارنامہ ثابت ہوا!: تحریر:صبح صادق

    24واں تھیٹر فیسٹیول ٗ الحمراء کا عظیم کارنامہ ثابت ہوا!: تحریر:صبح صادق

    الحمراء کے 24واں سات روز تھیٹر فیسٹیول ٗڈرامہ کی روایت کو تقویت ملی ہے۔
    تھیٹر فیسٹیول ٗوزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی کلچر دوست پالیسیوں کا عکا س تھا۔ سربراہ الحمراء
    محکمہ اطلاعات وثقافت کی مکمل سرپرستی میں اپنے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
    صوبائی وزیر ثقافت خیال احمد کاسترو ٗ سیکرٹری اطلاعات راجہ جہانگیر انور کی خصوصی توجہ حوصلہ کا باعث ہے۔ذوالفقار علی زلفی
    الحمراء ہی وہ جگہ ہے جہاں تھیٹر کی روایت کو تقویت مل سکتی ہے۔عالمی شہرہ آفاق آرٹسٹ قوی خان
    الحمراء کے بھاگ دوڑ ایک ایسے افسر کے ہاتھ میں ہے جو خود ایک آرٹسٹ ہے۔قوی خان
    پاکستان میں آرٹ کا روح رواں الحمراء ہے۔ ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی
    24ویں سات روزالحمراء تھیٹر فیسٹیول کو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ذوالفقار علی زلفی
    دنیا بھر میں الحمراء،اس کے پروگرامز کو چاہنے اور پسند کرنے والوں،اپنی ٹیم اور دیگر سٹیک ہولڈر کا مشکور ہوں۔
    فیسٹیول میں ٗجنون،داستان حضرت انسان، میڈاعشق وی تو، ہور دا ہور،سانوری،لپڑا۔مریا ہوا کتا،دیوانہ بکار خیش ہشیار پیش کئے گئے،درجنو ں نوجوان آرٹسٹوں کی اداکاری دیکھنے کو ملی۔
    فیسٹیول کے آغاز پر ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے اپنی تقریر میں کہا کہ الحمراء معاشرہ کی خوبصورتی کاعمل جاری رکھے ہوئے ہے،تھیٹر فیسٹیول سماجی اقدار کا عکاس ہے،الحمراء کو اپنی سماجی خدمت کا وقار حاصل ہے،نوجوانوں کو اپنی اعلی روایات سے جوڑا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔

    الحمراء ایک آرٹ لونگ کمپلیکس ہے۔آپ جب بھی الحمراء آئیں جہاں آپ کو عوام اور آرٹ ”گیٹ ٹو گیڈر “(GETTOGETHER)نظر آئیں گے۔نئے سال کی آمد پر یہاں ادبی وثقافتی سرگرمیاں روز پڑگئیں۔فروری کا مہینہ تھیٹر کی روایت کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوا۔جب لاہور آرٹس کونسل نے 24واں سات روز الحمراء تھیٹر فیسٹیول سجایا۔اس فیسٹیول کو ہزاروں کی تعدا د میں لوگوں نے دیکھا بلکہ الحمراء کی سوشل میڈیا حکمت عملی کے باعث تو یہ تعدار لاکھوں میں پہنچ گئی۔پاکستان بھر کے میڈیا نے اس فیسٹیول کو کامیاب بنانے کے لئے الحمراء کا بھرپور ساتھ نبھایا۔شام 6بجتے ہی لوگ الحمراء ہال نمبر دو کے باہر اکٹھے ہونا شروع ہو جاتے۔کوویڈ نے انسانی معاشرہ کو تھوڈا زیادہ ہی DISCIPLINED بنا دیا ہے۔داخلی دروازے پر لوگ قطار در قطار کھڑے اپنا کوویڈ ویکیسی نیشن کارڈ دیکھاتے،اور ایک سیٹ چھوڑ کر اپنی اپنی جگہوں پر اطمینا ن سے بیٹھ جاتے۔
    الحمراء کے اس فیسٹیول سے تھیٹر کی روایت پھر توانائی پکڑ گئی ہے، اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ اس فیسٹیول کو سجانے کے پس پردہ محنت اور لگن کاایک طویل عمل پنہاں ہے۔ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقارعلی زلفی نے اپنا تجرنہ بھرپور انداز میں استعمال کیا۔اسے تھیٹر گروپس کو اس فیسٹیول میں شامل کیا گیا جن کے پاس بامعنی کہانیاں اور با صلاحیت ادارکار تھے۔اس فیسٹیول کی اختتامی تقریب میں دُنیا کے نامور اداکار قوی خان مہمان خصوصی تھے۔انھوں نے اپنے خیالات کو اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الحمراء ہی وہ جگہ ہے جہاں تھیٹر کی روایت کو تقویت مل سکتی ہے، انھوں نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ الحمراء کے بھاگ دوڑ ایک ایسے افسر کے ہاتھ میں ہے جو خود ایک آرٹسٹ ہے۔قوی خان کے یہ جملے الحمراء انتظامیہ کے لئے حوصلہ کا باعث ہیں۔ الحمراء کے تمام پروگرامز کوحکومت پنجاب کا مکمل تعاو ن حاصل ہوتا ہے،وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی ثقافت دوست پالیسوں کی بدولت صوبہ پنجاب کی اقدار کو احسن انداز میں اجاگر کیا جا رہا ہے۔صوبائی وزیر ثقافت خیال احمد کاسترو،سیکرٹری اطلاعات وثقافت راجہ جہانگیر انور کی خصوصی دل چسپی الحمراء کی انتظامیہ کے لئے حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے۔وگ الحمراء آنا کیوں پسند کرتے ہیں۔جس جگہ پر انسان کو عزت دی جائے انسان وہی پر ہی تو جانا پسند کرتا ہے۔ سو الحمراء لوگوں کو بہت عزت دیتا ہے، انھیں اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہے،یہاں ان کے ساتھ عزت و احترام پیش آیا جاتا ہے۔یہی وجہ رہی کے فیسٹیول کے ساتوں روز الحمراء کا ہال نمبر دو لوگوں سے بھرا رہا۔گزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی تو اپنی ہر گفتگو میں برملا اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ الحمراء آپ سب کا ہے،جس کسی کے پاس بھی ٹیلنٹ ہے وہ آئے اور اس عظیم پلیٹ فارم کا حصہ بنے۔بلاشبہ مواقعے فراہم کرنے میں الحمراء کا کردار قابل تقلیدہے۔مستنداور معتبر آرٹسٹ کا اپنی نظر سے آرٹسٹوں کا کام دیکھانا اور اسے پسند کرنا حقیقت میں ایک بڑا کارنامہ ہے۔الحمراء کے 24ویں سات روز تھیٹر فیسٹیول کو پاکستان کے آرٹسٹوں نے خود آکر دیکھا اور الحمراء کے پلیٹ فارم کی تعریف کی۔

    فیسٹیول کے پہلے روز عکس تھیٹر نے اپنا ڈرامہ جنون پیش کیا،ڈرامہ افضال نبی نے تحریر کیا جس میں کوویڈ کا شکار بیوی سے شوہر کی لازوال محبت کو شائقین فن کے سامنے پیش کیا گیا۔ڈرامہ میں افضال نبی،سفیرہ راجپوت،ظہیر تاج،محمد اعظم،ندا منیر،کرن منیز،رائے علی،رضا اور محمد نظام نے اپنا کردار نبھایا۔ڈرامہ کی حاض بات افضال نبی کا شوہر کا رول تھا جس میں انھوں نے اپنی اداکاری سے ہال میں بیٹھے سینکڑوں حاضرین کو اپنے سحر میں باندھے رکھا۔فیسٹیول کے آغاز پر ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے اپنی تقریر میں کہا کہ الحمراء معاشرہ کی خوبصورتی کاعمل جاری رکھے ہوئے ہے،تھیٹر فیسٹیول سماجی اقدار کا عکاس ہے،الحمراء کو اپنی سماجی خدمت کا وقار حاصل ہے،نوجوانوں کو اپنی اعلی روایات سے جوڑا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔فیسٹیول کے دوسرے روز غیور تھیٹر نے اپنا ڈرامہ ”داستان حضرت انسان“ پیش کیا۔ڈرامے کے نہایت شاندار تھے،ڈرامہ میں اپنی احسن روایات سے دور ہوتے انسان کو دیکھایا گیا،لالچ،فریب،جھوٹی شان و شوکت کے لئے تگ ودو کرنے کی دوڑ میں انسان کو اپنے رنگ روپ چھوڑ کر انسانیت سے گرتے دیکھایا گیا۔جودیکھنے والوں کے لئے سبق آموز بھی تھی اور توجہ طلب تھی۔ ڈرامہ ہلکے پھلکے کامیڈی کے انداز میں سماجی رویوں کا عکاس تھا، اداکاروں کے زبردست اداکاری متاثر کن تھی۔ڈرامہ کو عارف متین نے تحریر کیا جبکہ حمزہ غیور اختر کی ہدایات تھیں۔نوجوان آرٹسٹوں مرزا عمیراور حمزہ غیور ڈرامہ کے اداکار تھے۔ذوالفقارعلی زلفی نے اپنے پیغام میں کہاکہ فیسٹیو ل دیکھنے والے معاشرتی بہتری میں اپنا فعال کردار ادا کریں،تھیٹر کی روایت الحمراء کی کاوشوں کی بدولت زندہ ہے،فیسٹیول دیکھنے والوں کو تادیر یاد رہے گا۔اس فیسٹیول کے بعد الحمراء نے یہ بات ثابت کی دی ہے کہ ہمارے ہاں اچھا ڈرامہ آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا، اچھی کہانی لکھنے والے بھی موجو د ہیں اور اس کہانی پر پرفارم کرنے کا ہنر جاننے والے بھی۔لاہور آرٹس کونسل الحمراء نہ صرف ڈرامہ بلکہ فنون لطیفہ کی تمام اصنا ف میں پینری فراہم کرنے والا ادارہ بن چکا ہے۔آج ہمیں جو ہر سو فن و ثقافت کے شعبے میں ترو تازگی نظر آتی ہے اس میں کسی نہ کسی صورت الحمراء کا رول ضرور ہے۔ الحمراء تھیٹر فیسٹیول کے تیسرے روز سلامت پروڈکشن کا پنجابی ڈرامہ ”ہور دا ہور“ پیش کیا گیا۔یہ ڈرامہ سعادت حسن منٹو کے ریڈیائی ڈرامہ ”تلون“ سے ماخوذ تھا۔جسے تنویر حسن نے تحریر کیا۔ڈرامہ کی کہانی تین رومانیوں کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔دیکھنے والا ڈرامہ کا اثر لیے بغیر نہیں رہ سکتا یہی ڈرامہ کا اصل ہوتا ہے۔مزیدکہا جائے تو یہ ڈرامہ عشق کی راہ و رسم اور اس راہ میں دی جانے والی قربانیوں سے عبارت تھا،کہانی دل چسپ مراحل سے گزرتی ہوئی اختتام پذیر ہوتی ہے۔ڈرامہ دیکھنے والے ہر داد ٗ دینے والے سین پر بڑھ چڑ ھ کر داد دیتے رہے۔کہانی میں انسانی جذبات نمایاں تھے۔نامور آرٹسٹوں ذیشان حیدر،عثمان چوہدری،شیزاخان نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

    ہر گزرتے دن کے ساتھ لوگوں کی تھیٹر فیسٹیول میں توجہ بڑھ رہی تھی۔اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ تھیٹر فیسٹیول کے تمام ڈرامے کہانی میں معتبر،زبان وبیاں میں معیاری اور عمدہ اسلوب کے حامل تھے۔فیسٹیول دیکھنے والے شائقین بہت باذوق تھے جب بھی کسی بھی ڈرامہ کا کلائمکس آتا،شائقین اپنی سیٹوں سے کھڑے ہوکر داد دیتے رہے جس سے اداکاروں کو حوصلہ ملتا۔یہ فیسٹیول زبان و ادب کی خدمات میں بھی اہم پیش رفت تھا،آج کی نوجوان نسل کو اپنی زبان سے قربت پیدا کا ذریعہ بھی۔ فیسٹیول کے چوتھے روز کریٹو پروڈکشن نے عظیم صوفی شاعر خواجہ فرید کی کافی ”میڈا عشق وی تو“ پرمبنی اپنا ڈرامہ پیش کیا۔ڈرامہ رفقہ کاشف نے تحریر کیا تھا۔جبکہ زوہیب حیدر نے ڈائریکٹر کیا۔شاندار کہانی اور اداکاری کے سبب ڈرامہ دیکھنے والوں کو مدتوں یاد رہے گا۔نامور آرٹسٹوں اقرا پریت،عثمان ریحان،عمر قریشی،انیق احمد،بلال احمد، اویس، ڈاکٹر تبسم،علی حید ر،عمران ارمانی،عابد علی نے ڈرامہ کے کردار تھے۔

    ہر ڈرامہ تھیٹر فیسٹیول کے وقار میں اضافہ کا باعث تھا۔اس حوالے سے تمام تھیٹر گروپس بلاشبہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔الحمراء آرٹس کونسل ڈرامہ دیکھنے والوں کو ایسا موقع باربار فراہم کرتا رہے گا۔الحمرا کے پروگرامز کی کامیابی یہاں کی تجربہ کار ٹیم کے سر جاتی ہے۔فیسٹیول کے پانچویں روز نورتن کا ڈرامہ سانور ی پیش کیا گیا۔ٹھنڈے پانیوں کے دیس کے سب ٹائٹل کے ساتھ ڈرامہ سانوری کے لکھاری اور ڈائریکٹر شاہد پاشا تھے۔نامور آرٹسٹوں سہیل طارق،سمیرا سہیل،فرح فاروقی،جاوید حسین،منصور بھٹی،شاہ رلعلی،ارسلان لوہار،راؤ محسن کریم،عدیل جاوید،ماروی،عمران ساحل اور نشا ملک ڈرامے کے اہم کردار تھے۔کہانی میں چولستان کے لوگوں کو مختلف مسائل کا دلیری سے مقابلہ کرتے دیکھایا گیا ہے۔فیسٹیول کے چھٹے روز اجوکاء تھیٹر نے اپنا ڈرامہ لپڑا۔مریا ہوا کتا پیش کیا۔جبکہ فیسٹیول کے آخری روز آزادتھیٹر نے اپنا ڈرامہ دیوانہ بکار خیش ہشیار پیش کیا۔ ایگزیکٹوڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے اپنی اختتامی تقریر میں نوجوان آرٹسٹوں کی اداکار کو سراہا اور کہا کہ ہمارا نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کا مالک ہے،الحمرا ء انکے ٹیلنٹ کو جلا بخش رہا ہے۔ذوالفقار علی زلفی نے کہا کہ تھیٹر کی روایت کو تقویت دینا ہماری ذمہ داری تھی جو پوری کی،پورے تھیٹر فیسٹیول میں سماجی مسائل اور انکے معاشرتی حل کو موضو ع بنایا گیا جو خدمت کے درجے میں آتا ہے۔ذوالفقار علی زلفی نے کہا کہ میں دنیا بھر میں الحمراء،اس کے پروگرامز کو چاہنے اور پسند کرنے والوں،اپنی ٹیم اور دیگر سٹیک ہولڈر کا مشکور ہوں۔فیسٹیول کو الحمراء سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا کے لاکھوں لوگوں نے دیکھا اور پسند کیا۔یہ الحمراء انتظامیہ کا اثاثہ ہے۔الحمراء جلد تازہ جذبوں کے ساتھ مزید پروگرام پیش کرئے گا۔

  • منشیات اورہمارے رویئے، تحریر:صدیقہ افتخار

    منشیات اورہمارے رویئے، تحریر:صدیقہ افتخار

    منشیات وہ مادے ہیں جو کسی شخص کی ذہنی یا جسمانی حالت کو بدل دیتے ہیں۔ وہ ہمارے دماغ کے کام کرنے کے طریقے، ہم کیسے محسوس کرتے ہیں اور برتاؤ کرتے ہیں، ہماری سمجھ اور ہمارے حواس کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یہ انہیں غیر متوقع اور خطرناک بناتا ہے، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے۔

    منشیات کا استعمال:
    کوئی بھی مادہ یا منشیات جب مطلوبہ مقدار سے زیادہ لی جائے تو اسے منشیات کے استعمال میں شمار کیا جاتا ہے۔ منشیات کا استعمال اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص قانونی یا غیر قانونی مادوں کا استعمال ان طریقوں سے کرتا ہے جو آپ کو نہیں کرنا چاہیے۔ ایسا کرنے کا مقصد یا تو اچھا محسوس کرنا، تناؤ کو کم کرنا یا حقیقت سے بچنا ہے۔ آخر کار ان منشیات کا عادی ہو جاتا ہے، جو منشیات کی لت کا باعث بنتا ہے۔

    عام ادویات:
    پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے منشیات یہ ہیں:
    • حشیش (بھنگ) سب سے زیادہ استعمال ہونے والا مادہ ہے۔
    • سکون آور اور سکون آور ادویات
    • ہیروئن
    • افیون
    • انجیکشن لگانا منشیات کا استعمال
    • ایکسٹیسی
    • سٹریٹ چلڈرن کے درمیان سالوینٹ کی زیادتی

    ہمارے ملک میں بہت سی غیر منافع بخش تنظیموں نے بحالی کے مراکز بنائے ہیں اور وہ تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 500 سے زائد مراکز کام کر رہے ہیں جن میں سے کچھ مشہور ہیں:
    • AASRecovery سینٹر
    Ibtida rehabilitation centr
    • نیا افق کیئر سنٹر
    • جینیئس بحالی مرکز
    • وعدہ بحالی مرکز
    ایمن کلینک
    • عقیدت بحالی مرکز
    • نشان بحالی پاک
    عام زندگی میں تحمل کا ارتکاب کرنے میں بہت سی چیزوں کو تبدیل کرنا شامل ہے، بشمول:
    • جس طرح سے آپ تناؤ سے نمٹتے ہیں۔
    •کیسےلوگوں کو آپ اپنی زندگی میں اجازت دیتے ہیں۔
    • آپ اپنے فارغ وقت میں کیا کرتے ہیں۔
    • آپ اپنے بارے میں کیسا سوچتے ہیں۔
    • نسخہ اور اوور دی کاؤنٹر ادویات جو آپ لیتے ہیں۔
    بحالی کا آغاز آپ کے جسم کو منشیات سے پاک کرنا اور واپسی کی علامات کو منظم کرنا ہے۔ پھر مشاورت آتی ہے۔ مشاورت میں انفرادی، گروپ، اور/یا خاندان شامل ہیں آپ کو آپ کے منشیات کے استعمال کی بنیادی وجوہات کی نشاندہی کرنے، اپنے تعلقات کو ٹھیک کرنے، اور صحت مند مقابلہ کرنے کی مہارتیں سیکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ صحت یابی کی طرف تیسرا قدم دوا لینا ہے۔ اور، ایک طویل مدتی فالو اپ کی ضرورت ہے۔

    میں خود کسی بھی شکل اور قسم کی منشیات سے پرہیز کرتا ہوں۔ یہ ایک قسم کا عہد ہے جو میں نے اپنے ساتھ لیا ہے کہ میں ایسا کبھی نہیں کروں گا۔ منشیات بذات خود ایک زیادتی ہے۔ میں جب بھی باہر جاتا ہوں تو بہت سے نشے کے عادی افراد کو دیکھتا ہوں جنہوں نے صرف اپنی اس بری عادت کی وجہ سے اپنی زندگی برباد کر رکھی ہے۔ میں ایسے لوگوں کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں جب میرے پاس کافی طاقت ہو تو میں اس کے پھیلاؤ کو روکنے، نشے کے عادی افراد کی مدد اور اس حوالے سے بیداری بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کروں گا۔ ابھی میں اپنی حیثیت میں رہ کر اپنا کردار ادا کر رہا ہوں۔
    میں نوجوانوں اور بزرگوں میں اسی طرح شعور بیدار کرنے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔ اگر کوئی عادی ہے تو پورے خاندان کو مشاورت کی ضرورت ہےآگاہی اولین ترجیح ہے تاکہ لوگ اس زیادتی سے دور رہیں۔ اسے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ ہماری صحت کو ذہنی اور جسمانی دونوں طرح سے کیسے نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ ہماری سماجی زندگی کو تباہ کر دیتا ہے۔ ہمارا معاشرہ نشےکےعادی کو قبول نہیں کرتا۔ ہمیں اس کے طویل مدتی اثرات کے بارے میں اچھی طرح سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔

    تمام تر آگاہی کے باوجود اگر کوئی منشیات اور چیزیں لیتا ہے تو اس شخص کو سنجیدہ مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے جو وہ چاہے اور جو چاہے تجربہ کرے۔ ابتدائی مرحلے میں رکنا اتنا مشکل نہیں ہے لیکن اگر کوئی شخص خود کو اس پہلو میں مزید گہرائی میں لے جائے تو اس سے پیچھے ہٹنا ناقابل تصور حد تک مشکل ہے۔ ہمارے معاشرے میں منشیات کو ایک لعنت سمجھا جاتا ہے۔ اگر والدین کو پتہ چلتا ہے کہ ان کا بچہ پہلے منشیات کرتا ہے تو وہ اس کی توہین کرتے ہیں۔ اس توہین پر قابو پانے کے لیے وہ بچہ اس سے بھی زیادہ منشیات لیتا ہے جو کہ منشیات کی سب سے بنیادی شکل ہے، تمباکو(سگریٹ) جو قانونی طور پر دستیاب ہے، شروعات ہے۔ تمباکو نوشی اتنی نقصان دہ ہے کہ یہ اس کے ڈبے پر بھی کہتا ہے پھر بھی ہم تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ یہ صرف انسانی فطرت ہے خاص کر جب ہم جوان ہوتے ہیں۔ اگر یہ سرزنش کام نہیں کرتی ہے تو گھر والے اسے باہر نکال دیتے ہیں۔ اور یہ دل دہلا دینے والا ہے۔ اسے باہر کیوں پھینکو؟ اس سے انکار کیوں؟ وہ تمہارا خون تمہارا بیٹا ہے۔ میں نے معروف اور خوشحال گھرانوں کے بچوں کو سڑکوں پر بھیک مانگتے، پلوں کے نیچے سوتے، پہلے سے استعمال شدہ سرنجوں سے انجکشن لگاتے دیکھا ہے۔ کیوں؟

    اس سلسلے میں والدین کو سنجیدہ مشاورت کی ضرورت ہے۔ وہ اپنی عزت، جو نام انہوں نے کمایا ہے اسے بچانے کے لیے انہیں باہر نکال دیتے ہیں۔ یہ کوئی صحیح حل نہیں ہے۔ ان سے کہا جائے کہ انہیں بحالی مرکز لے جائیں، صحت یاب کرائیں۔ ان کی پریشانی کو سمجھنا ضروری ہے کہ ان کی وجہ کیا ہے اس کا ازالہ کیا جائے۔

    ہماری ذہنی صحت اس بات پر اثر انداز ہوتی ہے کہ ہم زندگی سے نمٹنے کے دوران کیسے محسوس کرتے ہیں، سوچتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔ یہ زندگی کے ہر مرحلے میں اہم ہے۔ اس تیزی سے بڑھتی ہوئی دنیا میں، بہت چھوٹی عمر میں ہمیں اپنے مستقبل، تعلیم اور پیشے کے لیے سنجیدہ ہونے کے لیے کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی تھوڑا سا بھی پیچھے رہ جائے تو یہ دنیا اسے پیچھے پھینک دیتی ہے اور اسے تکلیف ہوتی ہے۔ یہ ساری بڑھتی ہوئی بے چینی اور گھبراہٹ بے پناہ درد کی طرف لے جاتی ہے۔ ڈپریشن پوری دنیا میں ایک بہت عام مسئلہ بن چکا ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب تکلیف برداشت کرنے والا مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ وہ چاہتا ہے کہ یہ تمام دکھ اور تکلیف دور ہو جائے۔ اس کے نقطہ نظر میں اس کا سب سے آسان طریقہ بلاشبہ منشیات لینا ہے۔ وہ ہمارے دماغ کو بے حس کر دیتے ہیں اور آخر کار ہم اس درد سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں اپنی زندگی میں اس مسلسل تناؤ پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ واحد راستہ خوش رہنا ہے۔ اس عطا کردہ زندگی کے ہر ایک حصے سے لطف اٹھائیں۔ اس لیے میں ڈپریشن اور اضطراب میں مبتلا لوگوں کی مدد کرنے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔ میں ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کرتا ہوں۔ ان کو خوش کرنے کے لیے چھوٹی چھوٹی یادیں دوں جب وہ میرے ساتھ نہ ہوں۔ اگر ہر کوئی یہ پہل کرے تو یقین کریں یہ دنیا بہت بہتر ہو جائے گی۔

    . مجھے پختہ یقین ہے کہ ہم مل کر اسے شکست دے سکتے ہیں اور اس لعنت کو اپنی قوم، اپنے ملک پاکستان سے مٹا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں اگر ہم اپنے آپ سے جنگ شروع کر دیں تو آسانی سے جیت سکتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ مستقبل میں ہماری مشترکہ کوششوں سے یہ براءی ہمارے درمیان نہیں رہے گی۔ انشاء اللہ.

  • ہماری نوجوان نسلوں کا مستقبل !تحریر: علی مجاہد

    ہماری نوجوان نسلوں کا مستقبل !تحریر: علی مجاہد

    ہفتہ کی رات تھی اور ایک بہت بہترین پروگرام کا انعقاد کیا گیا (کراچی میڈیا کلب) کی جانب سے انہوں نے اس پروگرام کو نام دیا (Digital Media Summit 2022)
    اب دیکھا جائے تو یہ ایک بہت اہم ٹاپک ہے اس وقت ڈسکس کرنے کےلئے کیوں کہ اس وقت ہر کسی کہ ہاتھ میں سمارٹ موبائل فون آگئے ہیں پر ہمیں اس کا استعمال ٹھیک سے نہیں آیا اسی پروگرام میں ایک پینل اسپیکر نے موبائل کو Gun کا نام دیا پر میں کہتا ہوں یہ Gun سے زیادہ خطرناک ہے آپ اپنے فون کا کیمرہ آن کریں کسی کی بھی ویڈیو یا تصویر بنائے اور پوسٹ کر دیں کہ اس نے گستاخی کی آپ دیکھیں کتنے لوگ قتل ہو جائیں گی اس کو کہا جاتا ہے Fifth war Generation اب آپ کو پستول نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی بس آپکی ایک پوسٹ جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔ میں نے جس پروگرام کا زکر کیا اس کا مقصد ہی یہی تھا کہ ہمارے پاس موبائل فونز تو آگئے پر ہم انکا صحیح استعمال کیسے کریں؟

    یہاں پر پروگرام کے مینجمنٹ نے ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے مختلف اسپیکر بلائے جن میں صحافی، پروگرامر، مشہور یوٹیوبر اور اسلام 360 کے Founder بھی موجود تھے تو وہاں ایک بات جو سب سے زیادہ ہوئی وہ یہ تھی کہ ہماری نوجوان نسل میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کسی مشہور اچھے یوٹیوبر کو دیکھ لیا وہ اپنی روز مرہ کی زندگی کی ویڈیوز بناتا ہے اور اپلوڈ کرتا ہے تو اچھے کما بھی لیتا ہے چلو اب ہم کہتے ہیں کہ میں اس کی طرح کی ویڈیوز بنائوں پھر آپ کوئی اور یوٹیوب چینل دیکھتے ہیں یا پھر کسی Web Developer کو دیکھتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ ہم بھی کورس کریں اور پیسہ کمائیں ہمارے اسٹوڈنٹس پڑھائی کر رہے ہوتے ہیں کامرس میں ڈپلومہ کر رہے ہوتے ہیں (Graphic Design) کا مطلب پڑھائی وہ کرتا اکائونٹن کی اور پھر مارکیٹ میں بیٹھ کر ڈیزائننگ کر رہے ہوتے ہیں ہم اپنا ٹارگٹ کلیئر نہیں کرتے ڈگری ہماری کچھ اور کام کچھ اور، زائد چھیپا بانی Islam360 انہوں نے وہاں موجود اسٹوڈنٹس سے کہا کہ پروگرامنگ کریں بہت بڑا اسکوپ ہے آپ کو کسی کہ پاس جانے کی ضرورت نہیں لوگ آئیں گے آپکے پاس آپکی (CV) لینے۔

    اگر آپ آج عام زندگی میں دیکھیں تو ہماری نوجوان نسل بربادی کی جانب بڑھ رہی ہے، کوئی نشے کی لت میں کوئی لڑکیوں کے چکر میں اپنی زندگی میں آگے جاکر کیا کرنا ہے کیا نہیں اسکی کوئی پرواہ نہیں بس ایک بات آپ انکے منہ سے زیادہ سنیں گے اور وہ ہوگی یار کوئی اچھی نوکری مل جائے اچھی تنخواہ ہو یہ ہو وہ ہو۔ اب جب وقت ہے کچھ بننے کا کچھ کرنے کا تو ہماری آدھی سے زیادہ نوجوان نسل پیار میں ہیں کچھ محبت میں ہارے ہوئے نشے کی جانب بڑھتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور جو کچھ بچے کچے ہیں وہ پب جی، ٹک ٹاک وغیرہ وغیرہ میں اپنا وقت اور اپنی صلاحیت دونوں برباد کر رہے ہیں، اب اگر ہم بات کریں کہ ہماری نسلیں اس طرف اتنی تیزی سے کیوں جا رہی ہے تو اس میں سب سے بڑی وجہ میں کہتا ہوں وہ ہمارے اسکول سسٹم کی ہے، ہمارا تعلیمی نظام ایسا ہے کہ میٹرک پاس لڑکے آج آپکو مختلف سکولوں کے پرنسپل نظر آئیں گے، پھر ان سکولوں میں تعلیم کے نام پر ایک بہت بڑا بزنس چل رہا ہوتا ہے، آپ کسی بھی یونیورسٹی میں چلے جائیں وہاں آپکو ایسا ماحول ملے گا آپ تصور نہیں کر سکتے کہ آپ کسی اسلامی جمہوریہ یا ایسے ملک کی یونیورسٹی میں جو بنا ہی لا اللّٰہ اللہ محمد رسول کی بنیاد پر ہے۔

  • موبائل فون کے استعمال سے کتنا نقصان ہو رہا ہے” تحریر: احمد محمود

    موبائل فون کے استعمال سے کتنا نقصان ہو رہا ہے” تحریر: احمد محمود

    تیزی سے ترقی کرتی دنیا میں اہم کردار ٹکنالوجی کا ہے خاص کر موبائل فون،
    جتنی اس موبائل فون کے آنے سے سہولیات مہیا ہوئی اتنا ہی اس کے آنے سے معاشرہ میں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا،
    جب موبائل فون ایجاد کیا گیا تھا تو اس وقت اٹھارہ گھنٹے چارجنگ لگانے کے بعد صرف دو گھنٹے استعمال کر سکتے تھے، اور آج دو گھنٹے چارجنگ لگانے کے بعد اٹھارہ
    گھنٹے استعمال کرتے ہیں، اس وقت لوگ ضرورت کے وقت ہی استعمال کیا کرتے تھے،

    اب جبکہ موبائل فون ہماری مجبوری بن چکا ہے دن ہو یا رات صبح ہو یا شام جیسے انسانوں کو زندہ رہنے کے لیے کھانے پینے کی ضرورت ہوتی ہے اب اس میں اس موبائل کو بھی ساتھ ملا لیں اس کے بغیر زندگی گزارنا تقریبا ناممکن ہوچکا ہے، اگر چوبیس گھنٹے میں موبائل فون استعمال نہ کریں تو جیسے ویٹامن کی کمی محسوس ہونے لگتی ہے، اس موبائل فون کی وجہ سے کتنے اہم رشتے اپنائیت دینے والے بزرگوں اور نایاب دوستوں کو بچھڑتے دیکھا، یہ سوشل میڈیا یہ دوستوں کے ساتھ رابطے میں رہنے والے اصل رشتے بھول بیٹھے ہیں، افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اگر کوئی بندہ ہمارے پاس بیٹھ کر باتیں کر رہا ہے تو ہماری نوجوان نسل کے پاس اتنا ٹائم نہیں ہوتا کہ دو گھڑی توجہ دیں اور انکے ساتھ باتیں کر لیں یہ سوشل میڈیا کا پیار سب فراڈ ہے اصل محبت اور خلوص اس شخص کا ہے جو آپ کے پاس بیٹھا ہوتا ہے،

    پہلے جب کوئی خوشی کا موقع اتا تھا شادی بیاہ یا عیدین کے موقع پر ہم اپنے اپنے پیاروں کو ملنے انکے گھر جایا کرتے تھے صرف وہ ہی ایک موقع ہوتا تھا جب سب خاندان والے ایک ساتھ ایک جگہ موجود ہوتے تھے لیکن اس ایک موقع کو بھی اس موبائل فون نے چھین لیا کیونکہ آج کل لوگ صرف ایک میسج کر دیتے ہیں،

    موبائل فون استعمال کرنے کی ہر کسی کی اپنی وجہ ہے کوئی ٹائم پاس کرتا ہے تو کوئی سوشل میڈیا،اور ان سب میں سے ایک نشہ اور بھی ہے اور وہ گیمز کھیلنے کا ہے حال ہی میں ایک گیم متعارف کروائی گئی ہے جس گیم کا نام پب جی ہے جو اس نشے میں آگیا ہے اسے دنیا جہان کی کوئی خبر نہیں سیکڑوں کی تعداد میں نوجوانوں کی زندگیاں نگل گئی یہ یم،المختصر اس موبائل فون نے ہماری نسلوں کو تباہی کے راستے پر لگا دیا،لیکن اس کی ایک خاص بات ہے کہ اس موبائل فون نے جتنی بھی ترقی کر لی لیکن اپنا بنیادی مقصد نہیں بھولا،پہلے ون جی یعنی صرف کال کرنے کی سہولت،پھر ٹو جی یعنی میسج کرنے کی سہولت،

    پھر تھری جی یعنی فوٹو بھیجنے اور دیکھنے کی سہولت، پھر فور جی یعنی ویڈیو کال کرنے کی سہولت اور پوری دنیا کو آپ گھر بیٹھے انٹرنیٹ سے دیکھنے کی سہولت، اب ماہرین ٹکنالوجی فائیو جی کے تجربات کر رہے ہیں، چاہے جتنی بھی ترقی کر لی اس موبائل نے لیکن اپنا اصل کام نہیں بھولا آپ نے دیکھا ہوگا کہ چاہے جتنا بھی ضروری کام کر رہےہیں موبائل پر لیکن جب کال آتی ہے تو موبائل فوراً سب ہٹا کر پہلے کہتا ہے کہ کال سنو، افسوس کہ موبائل اپنے کام نہیں بھولا لیکن انسان بھول بیٹھے ہیں کیونکہ انسان کو بھی دن میں پانچ بار کال آتی ہے اللہ کی طرف سے لیکن ہم لوگ جاننے کے باوجود بھی انجان بن جاتے ہیں،
    اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور راہِ حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے،
    اللہ ہو آپ سب کا حامی و ناصر پاکستان ذندہ باد

  • نشہ ایک لعنت ہے . تحریر:حنا سرور

    نشہ ایک لعنت ہے . تحریر:حنا سرور

    نشہ ایک بیماری ہے جس کا علاج انتہائ ضروری ہے ۔نشہ موت ہے زندگی انمول ہے ہر گلی محلے میں چرس آئس وغیرہ کی فروخت سرے عام ہے جس کی وجہ سے نوجوان نسل بربادی کی طرف گامزن ہے

    منشیات اور ہماری نوجوان نسل خاص کر طالبعلم طبقہ منشیات چرس،ایس،افیوم وغیره وغیره اگر ہم تھوڑا سوچ لے تو منشیات یا نشے کے جو عادی زیادہ تر ہمارے سٹوڈنٹس ہے وہ اس بیہودہ عمل میں مبتلا ہے.یہ زہر اج کل ہمارے طالب علموں میں اگ کی طرح پھیل رہا ہے.زیادہ تر لوگ اس سوچ میں پڑے ہیں کہ اس وبا کو اس اگ کو ختم کرنے والے کچھ سپیشل فورسیز ہے.پر میں ان لوگوں سے یہ سوال کرنا چاہتی ہوں کہ اگر اس کی روک تھام کےلے کچھ کچھ سپیشل departments ہے تو اس وقت کہا رہتی ہے جب ہمارے طالب علموں کے ہاسٹلوں تک یہ زہر پہنچایا جاتا ہے ؟اس وقت وہ افیسرز کہا رہتے ہے جب ھمارے جوان بھای ریل کی پٹریوں پر بیٹھ کر افیوم پیتے ہے.؟وہ ادارہ کہا ہے جو کہتے ھیں کہ ھم اس کو روکینگے. اپ کے آفسز کے کے قریب اس کی جو فکٹریاں ہے جہاں یہ زہر تیار ھوتا ہے اس وقت اپ کے فورس کہا رہتی ہے؟کیا اپ لوگ ساری عمر خرام کی کماٸ کھاے گے .کیا ساری عمر اپ کو لوگ خبر دیتے رہیں گے؟خود بھی کچھ انویسٹیگیشن کرے گے یا نہیں؟اس باتوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس اگ اس زھر کو پھیلانے میں اور جوان نسل کو برباد کرنے میں اس ڈیپارٹمنٹس کے خود اپنے لوگ ہے

    اہم بات کی طرف آتے ہیں ۔جو لوگ نشہ بیچتے ہیں ان کو یہ احساس نہیں کہ اس سے لوگوں پر کیا اثر پڑتا ہے ۔نوجوان نسل میں بڑھتے ہووے منشیات کے استعمال کی وجہ سے ملک بھر میں ایسے سینٹر ہسپتال بن چکے ہیں جہاں نشہ کے عادی لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے ۔ان کو واپس زندگی کی طرف لایا جاتا ہے۔۔آپ نے ہزاروں ایسے لوگوں سے رابطہ کیا ہوگا ۔جو نشے کے عادی ہوتے ہیں اور اگر ان سے یہ سوال کیا جاے ۔کہ تم نشہ کیوں کرتے ہو ۔تمھاری فیملی خاندان بچے لاوارثوں کی سی زندگی جی رہے ہیں کیا تمھیں ان پر ترس نہیں آتا ۔۔تو وہ ایک ہی جواب دے گا ۔۔کہ جی دوست نے نشہ پر لگا دیا تھا ۔۔یا کسی رشتہ دار نے ۔۔لیکن جب آپ پوچھو گے کہ تم نے اس سے کبھی چھٹکارہ پانا چاہا ۔۔تو اس کے پاس کوی جواب نہیں ہوگا ۔۔یاد رکھیے نشہ کے عادی انسان کا علاج تب تک ممکن نہیں جب تک وہ خود نشہ کو نہیں چھوڑنا چاہتا ۔ورنہ جو اس کی زندگی بچانے کی خطیر رقم اور کوشش کرتے ہیں ان کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ جب وہ صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ نشہ کرنا شروع کر دیتا ہے آپ نے اکثر نشئ لوگوں کو گند کہ ڈھیڑ پر کچڑے پر ہی بیٹھے دیکھا ہوگا ۔۔ایسی جگہوں پر ایک عام انسان کا کچھ لمحے رکنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن نشہ کہ عادی لوگ ہمیشہ ایسی ہی جگہوں پر بیٹھے ہوتے ہیں کیونکہ گند پیتے گند کھاتے ان کی رگوں میں بھی وہی گند سراہیت کر جاتا ہے کہ ان کو گٹر پاس بیٹھ کر بھی بدبو محسوس نہیں ہوتی ۔۔ بدبو میں رہنے والے ایک انسان کی سوچ نارمل کیسے ہو سکتی ہے نشہ انسان کو انسان سے حیوان بنا دیتا ہے ۔وہ بچوں کو بیچتے مارتے بیوی کو پیٹتے بھی درد محسوس نہیں کرے گا اکثر ایسے لوگ اپنی ماوں تک بھی کو نہیں چھوڑتے ۔لیکن ایک بات سمجھنے والی ہے ۔کہ نشہ ڈھونڈنے والا سترہ سال کا لڑکا زمین کی تہ سے بھی نشہ ڈھونڈ لیتا ہے جبکہ پولیس نشہ سپلائ کرنے والوں کو نہیں ڈھونڈ پاتی ۔۔کیسے نشہ سپلائ والا جیلوں تک ہسپتالوں تک بھی پہنچ جاتا ہے ۔۔کیسے صحت مند ہووے نشے کے عادی لوگ پھر سے نشے پر لگ جاتے ہیں ۔۔بظاہر دیکھنے سننے میں یہ عام سا لفظ ہے ڈائیلاگ مکالمہ ہے کہ منشیات کے خلاف جنگ کیسے ۔آپکو شاید یاد ہو کہ منشیات کے خلاف جنگ لڑتے لڑتے کتنے ایسے انسان قتل ہو چکے اس مافیا کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے کئ ایسے لوگ لاپتہ ہو گے ۔۔آخر کیوں کیا یہ مافیا ہماری حکومت کی پہنچ سے دور ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت ہمارے ملک میں کم از کم 67 لاکھ لوگ نشے کے عادی ہیں۔۔کہتے ہیں ہمارے ملک میں منشیات پر قانون بہت سخت ہے ۔۔حیرت ہے اتنے سخت قانون کے باوجود لاکھوں لوگ نشہ کررہے ہیں اور قانون دیکھ کر ان دیکھی کررہا ہے ۔۔

    ایک بات ماہرین کا خیال ہے کہ انسان پہلے پہل نشے کو بطور تفریح یا موج مستی استعمال کرتا ہے، جو رفتہ رفتہ اس کی عادت بن جاتی ہے۔ کینیڈا کی مک گیل یونیورسٹی کے ماہرین نے اسی سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے رضاکاروں کی مدد سے انسانی دماغ کا تجزیہ کیا۔‏رسرچ جرنل میں شائع رپورٹ کےمطابق ماہرین نےرضاکاروں کو اپنےان دوستوں کےساتھ کوکین استعمال کرنے کے لیے کہا جو پہلےسےہی کوکین استعمال کرتےتھے۔ماہرین نے اس عمل کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی،جس کے بعد ان رضاکاروں کے دماغ کا پی ای ٹی اسکین کیا گیا،جنہیں کوکین استعمال کرنےکے لیے کہا گیا۔ ‏اسکین کے وقت ان رضاکاروں کو دوستوں کی وہ ویڈیو بھی دکھائی گئی، جس میں وہ دوستوں کے ساتھ کوکین استعمال کر رہے تھے۔ ماہرین نے اس دوران رضاکاروں کے دماغ کی حرکت کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ انکے دماغ کے وہ حصے جو کسی بھی چیز کی خواہش کرنےکے لیے استعمال ہوتے ہیں، وہ متحرک ہو گئے۔‏ماہرین نے بتایا کہ ہر انسان کے دماغ میں نیورو ٹرانسمیٹر ہوتا ہے، جو انسان کی خواہش اور اس کی تکمیل سے متعلق نظام کا کام کرتا ہے، یہ سسٹم اس وقت متحرک ہو جاتا ہے، جب کسی بھی کام کو پہلے پہل تفریح کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ‏ماہرین کے مطابق کئی لوگ کوکین کو پہلے بطور تفریح یا موج مستی کے لیے استعمال کرتے ہیں، مگر وہ اپنے دوستوں یا ارد گرد کے ماحول میں اس کا بار بار استعمال دیکھتے ہیں تو ان کے دماغ کا نیوروٹرانسمیٹر متحرک ہو جاتا ہے، جس کے بعد یہ عمل ان کی عادت بن جاتا ہے۔۔۔اس کے علاوہ بہت سے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ایڈز پھیلنے کی سب سے بڑی بیماری نشہ کرنے والے افراد کا سرنجوں کا غلط استعمال ہے ۔خیال رہے ایڈز کا مرض ایک وائرس کے زریعے پھیلتا ہے جو انسانی مدافعتی نظام کو تباہ کر دیتا ہے۔ایسی حالت میں کوی بھی بیماری جسم میں داخل ہوتی ہے تو مہلک صورت اختیار کر لیتی ہے

    آج کل ہمارے ڈراموں میں فلموں میں چینلوں میں شراب اور سگریٹ کو واضع دکھایا جاتا ہے اور اوپر لکھا ہوتا ہے شراب حرام ہے ۔سگریٹ نوشی حرام ہے ۔سمجھ سے باہر ہے نہ ۔کہ جب شراب سگریٹ حرام ہے تو آپ چینلوں پر لوگوں کو پلاتے دکھا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہو آپ خود لوگوں کو اس پر لگا رہے ہو ۔کم عمر بچے بچیاں وہ جو دیکھیں گی وہی سیکھیں گے ۔۔پھر جب کہا جاتا ہے کہ نوجوان ڈراموں فلموں سے غلط چیزیں سیکھ رہی ہیں تو ہمارے کچھ مہان لوگوں کا کہنا ہوتا ہے کہ نہیں جی ۔ تربیت تو والدین دیتے اب چینلوں کا کیا قصور ۔۔شاید آپ بھول گے ہیں کہ ایک تربیت معاشرہ بھی دیتا ہے ۔انسان اپنے آس پاس رہنے والوں سے جو دیکھتا ہے وہی سیکھتا ہے وہی کرتا ہے ۔۔۔آپ اپنی ریٹنگ کے لیے اس حد تک گر گے ہو کہ آپ اداکاروں کو ڈراموں میں شراب تک پلاتے ہو ۔۔کہنے کو یہ میرا اسلامی جہموریہ پاکستان ہے اور کرنے کو ہم نے ہر وہ کام کرنا ہے جو اسلام کے خلاف ہو جس سے اسلام نے منع کیا ہو ۔۔۔یا حرام اور ناجائز کہا ہو ۔۔

    نشہ کے عادی لوگ اپنی جان کے دشمن اور اپنے رب کے ایسے ناشکرگزار بندے ہیں جو اس کی عطا کردہ زندگی کی قدر کرنے کی بجائے اسے برباد کرنے پر تلے ہوتے ہیں اور منشیات فروش ملک و ملت کے وہ دشمن ہیں جو نوجوان نسل کو تباہ کرکے ملک کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں خداراہ اپنے بچوں پہ نظر رکھیں ان کی ہر ایکٹویٹی پر نظر رکھیں ۔۔۔وہ کہاں جارہے ہیں کیا کررہے ہیں ان کے دوست کون سے ہیں کہاں رہتے ہیں ۔یہ باتیں آجکل بہت چھوٹی لگتی ہے کیونکہ آج کہ دور کو جنریشن ماڈرن کہتی ہے اور والدین کا یوں پوچھنا ناگوار گزرتا ہے ان کو ۔۔دور کتنا ہی ماڈرن ہو جاے ایک وقت آتا ہے جب آپ کو پچھتاوا ہوتا ہے کہ والدین ٹھیک کہتے تھے ۔کاش ہم ان کی سن لیتے ۔۔لیکن پھر نہ والدین ہوتے ہیں اور نہ وہ لمحہ ۔۔سواے پچھتاوے کے۔۔

  • کووڈ 19 کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت تحریر  علی جویو

    کووڈ 19 کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت تحریر علی جویو

    میرا نام علی جویو ہے، میں مائیکروسافٹ پروفیشنل ہوں، اور گوگل سپورٹ سپیشلسٹ ہوں، یورپ، سوئٹزرلینڈ میں IT سروسز میں کام کرنے والا سائبر سیکیورٹی کنسلٹنٹ ہوں جو یورپی یونین میں آئی ٹی کے شعبے میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے کام کر رہا ہوں اور میں ایک پاکستانی سوئس ہوں، جس کا تعلق صوبہ سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے۔
    اس بلاگ میں COVID-19 کے بعد IT کی مجموعی اہمیت کے بارے میں لکھوں گا۔ میرا بلاگ بنیادی طور پر پاکستان میں آئی ٹی کے بارے میں آگاہی کے لیے ہے اور ممالک میں آئی ٹی سیکٹر کو فروغ دینا ہے۔
    آئیے پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر کی بات شروع کرتے ہیں!
    دنیا کی ٹاپ 100 Technology کمپنیوں کی فہرست پر جانے سے آپ کو کوئی پاکستانی Tech کمپنی نہیں ملے گی۔ جہاں امریکہ اور چین سرفہرست ہیں لیکن چند بہت چھوٹے ملک بھی اس فہرست میں شامل ہیں، جیسے کہ ناروے، آسٹریا، سنگاپور، ہانگ کانگ، سوئٹزرلینڈ، آئرلینڈ، تائیوان، یہ تمام ممالک ایک کروڑ سے بھی کم آبادی والے ہیں, جو کہ نصف بھی نہیں کراچی شہر کی آبادی کا.

    اگر میں آئی ٹی کی بات کروں اور ہندوستان کی بات نہ کروں تو یہ درست نہیں ہو گا! دنیا کی ٹاپ 100 Tech کمپنیوں میں، کم از کم دو ہندوستانی ٹیک کمپنیاں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز اور انفوسس شامل ہیں ۔
    ہندوستان میں عالمی سورسنگ مارکیٹ IT-BPM صنعت کے مقابلے میں تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے۔ ہندوستان پوری دنیا میں سورسنگ میں سرفہرست ہے، جو کہ 2019-20 میں US$200-250 بلین کے عالمی خدمات کے کاروبار کے تقریباً 55% مارکیٹ شیئر کا حصہ ہے۔
    ہندوستان کے بارے میں ایک چھوٹا سا تبصرہ۔ آج اگر ہندوستان کو دنیا بھر میں یہ مقام اور عزت حاصل ہے اور وہ Superpower دوڑ میں شامل ہونا چاہتا ہے تو یہ نریندر مودی صاحب کی وجہ سے نہیں ہے! یہ پالیسیوں میں تسلسل اور ان اعلیٰ کمپنیوں کی وجہ سے ہے، یہ CEO’s کی وجہ سے ہے، یہ ان شاندار ذہن رکھنے والے پیشہ ور افراد اور مزدوروں کی وجہ سے ہے۔ جو دنیا بھر میں کام کر رہے ہیں۔ (میں اس پر الگ بلاگ لکھوں گا)۔

    آئیے پاکستان کی بات کریں! آئی ٹی پاکستان کا سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ ہے جو پاکستان کے جی ڈی پی میں تقریباً 3.5 بلین امریکی ڈالر کا تقریباً 1% حصہ ڈالتا ہے۔یہ اچھا لگتا ہے! لیکن اگر ہم کہیں کہ یہ حکومت کی سنجیدہ کوششوں کی وجہ سے ہے? تو میں اس بات سے متفق نہیں ہوں. لیکن! اگر حکومت ایسا کر رہی ہے تو یہ اور بہتر ہو سکتا ہے۔
    پاکستان میں آئی ٹی کی وزارت کو "کھڈا لائن منسٹری” کہا جاتا ہے۔اگر آپ مجھ سے متفق نہیں ہیں! تو آئی ٹی کی وزارت سے رابطہ کریں۔ آپ کو آئی ٹی کے ایسے وزیر ملیں گے جن کا آئی ٹی سے کوئی تعلق نہیں! کوئی آئی ٹی کا پس منظرنہیں ، درحقیقت اس وزارت میں زیادہ تر وزراء سیاسی ایڈجسٹمنٹ سے ہوتے ہیں۔ مختلف سرکاری محکموں میں چیک کریں آپ کو شاید مل جائے گا: میڈیکل ڈاکٹر بطور آئی ٹی سربراہ یا شاید پلمبر، یا ڈینٹسٹ، یا بینکر، یا سول انجینئر وغیرہ۔ آپ سب میرٹ کے نظام سے بخوبی واقف ہیں۔!میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا.

    آگے بڑھتے ہوئے! میں تجویز کروں گا کہ اگر حکومت پاکستان آئی ٹی کے شعبے کو سنجیدگی سے لے تو ہم دنیا کے لیے آئی ٹی کی برآمدات، خدمات کو اتنا بڑھا سکتے ہیں جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ آئی ٹی واحد شعبہ ہے جو نہ صرف آپ کو آمدنی بلکہ دنیا بھر میں مثبت امیج، اور کام کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ آپ کو سائبر سیکیورٹی کے بارے میں نہیں بھولنا چاہئے! جتنا ہم ڈیجیٹل ہوتے جائیں گے ہمیں سائبر سیکیورٹی کے خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ سائبر سیکیورٹی بھی میرا موضوع ہے، میں اس پر بھی لکھوں گا۔
    شکریہ

  • ایک منظم زندگی کے لیے روزانہ کا معمول.تحریر :ام سلمیٰ

    ایک منظم زندگی کے لیے روزانہ کا معمول.تحریر :ام سلمیٰ

    جس تیزی سے وقت گزر رہا دن با دن ھماری معمولات بھی خراب ہوتی جہ رہی ہیں بلکہ اب شاید والدین کے پاس بھی وقت نہں رہا کے بچوں کو ضروری معمولات کی تربیت دیں بچے اسکول چلے جاتے ہیں ان کی اسکول کی تعلیم ہو رہی ہے یہ بھی کافی لگتا لیکن ان زندگی کی تیزیوں میں ہمیں اپنے سکون کو اپنی زندگی کو منتظم بنانے پر بلکل بھی توجہ نہں دے رہے اگر آپ اپنی زندگی کے معمولات کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہے تو آپ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کے کب اور کیا اہم ہے آپ کے لیے اگر وہ وقت کے ساتھ آپ اپناتے جائیں گے تو زندگی آسان ہوتی جائے گی اور آپ دماغی طور پر سکون میں آجائیں گے.تو سب سے پہلے اٹھے ہی آپ اپنی روٹین کی چیزوں کو ٹھیک کریں صبح کے آغاز پر کیا کرنا ضروری ہے تفصیل سے جانیں.

    اپنا بستر بنائیں۔
    اپنا بستر بنا کر دن کی تیاری کریں۔

    یہ ایک فوری کام ہے جو آپ کو ایک پیداواری ، منظم فریم میں ڈالے گا۔

    اگر آپ طالب علم ہیں یہ ملازمت پیشہ ہیں تو یہ اہم ہے کے آپ اپنے سامان اور کپڑے رات کو تیار کر کے رکھو.
    اگر آپ ورزش کرنا پسند کرتے ہیں تو ، صبح کرنے کا بہترین وقت ہے! یہ آپ کو توانائی سے بھرپور محسوس کرے گا اور گھر سے نکلنے سے پہلے آپ کو کامیابی کا احساس دلائے گا۔ چاہے آپ چہل قدمی کرنا پسند کریں ، جم کلاس لیں ، یا اپنے بیڈروم میں یوگا کریں ۔

    ہر چیز کو واپس رکھو جہاں سے آپ نے اٹھایا ہے.
    جب آپ اپنا ناشتہ بنا لیتے ہیں تو ، ہر چیز کو بالکل وہی جگہ رکھ دیں جہاں آپ نے انکو پہلے سے ترتیب سے رکھا ہے، کیونکہ اس سے صبح کے بعد ہر چیز آسان ہو جاتی ہے۔ اگر آپ دیکھتے ہیں کے کوئی چیز ان میں۔ ختم ہو رہی تو اس کو نوٹ بوک میں لکھ لیں تاکہ جب بھی بازار جانا ہو تو اس کی خریداری کر لی جائے ، اس فہرست میں شامل کریں جسے آپ اگلی بار گروسری سٹور سے گزرتے وقت اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔

    ضروری اشیاء کی فہرست بنایا کریں.
    گھر سے نکلنے سے پہلے ، اپنی ضروری اشیاء کی فہرست ساتھ لے لیں، جیسے آپ کا پرس ، ملازمت کا کارڈ یہ اسکول یہ یونیورسٹی کا ، پانی کی بوتل ، وغیرہ۔ ان اشیاء کی ایک فہرست اپنے سامنے والے دروازے کے قریب رکھیں تاکہ آپ اپنے روزمرہ کے معمول کے حصے کے طور پر دروازے سے باہر جانے سے پہلے اپنا پرس یا بیگ جلدی سے چیک کر سکیں۔

    اپنے کاموں کو ترجیح دیں۔
    کاموں کی ایک فہرست بنائیں اور فیصلہ کریں کہ کیا وہ اہم ، فوری ، دونوں ہیں یا نہیں۔ فوری اور اہم کاموں سے شروع کریں ، اہم اور غیر ضروری کاموں کی طرف بڑھیں ، پھر غیر اہم لیکن فوری کاموں کو سب سے پہلے کر کے ختم کریں.

    اس کے لیے آپ لائف پلانر کا استعمال کرسکتے ہیں تاکہ آپ اپنے دن کو بہتر طریقے سے ترتیب دے سکیں۔ آج کے ضروری کام لسٹ میں لکھنا ہمیشہ آپ کے لیے آسانی کا سبب بنتا ہے اور آپ کو ہر چیز کنٹرول کا احساس دلاتا ہے۔

    اپنے ای میلز کو ترجیح دیں۔
    اپنا دن شروع کرنے سے پہلے جب آپ اپنے کام پے نکلنے لگے ہیں اپنے ای میلز کو ترجیح دیتے ہوئے 10 منٹ گزاریں۔ یہ فیصلہ کرنے کی عادت ڈالیں کہ کونسی چیزوں کو آپ کی فوری توجہ کی ضرورت ہے ، کون سی اہم ہیں ، کون سی ہیں اور کون سی نہیں۔

    اپنے ای میلز فون سوشل میڈیا کو ہر چند منٹ کے بجائے ہر دو گھنٹے چیک کریں کیونکہ بار بار رکاوٹیں آپ کی دن کی ہر کام میں رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں اور پیداواری صلاحیت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

    اپنے مالی معاملات کو چیک کرتے رہیں
    اپنے مالی معاملات کو روزانہ کے معمول کے حصے کے طور پر چیک رکھنے کے لیے چند منٹ نکالیں۔ اپنا بینک بیلنس چیک کریں اور یقینی بنائیں کہ آپ اپنے بجٹ پر قائم ہیں۔

    رات کے کا منصوبہ بنائیں
    کیا آپ کو گھر جاتے ہوئے گروسری اسٹور سے کچھ لینے کی ضرورت ہے؟ کیا آپ کو کوئی نسخہ دیکھنے کی ضرورت ہے؟ اس میں صرف چند منٹ لگتے ہیں ، لیکن تھوڑی سی منصوبہ بندی بعد میں بہت وقت بچا سکتی ہے۔

    دن کے آخر میں اپنا ڈیسک صاف کریں۔
    اپنے وقفے کے لیے جانے سے پہلے اپنے کام کی میز کو صاف کرنے کے لیے پانچ منٹ نکالیں۔ دوسرے دن صبح جب آپ واپس آئیں گے تو آپ کو زیادہ منظم محسوس کرنے میں مدد ملے گی۔

    ڈنر کے فورا بعد اپنا کچن صاف کریں
    بصورت دیگر ، آپ کو ٹی وی کے سامنے بیٹھنے اور مشغول ہونے کا لالچ ہوسکتا ہے۔

    سونے سے پہلے اگر آپ کے دماغ میں کوئی کام ہے تو نوٹ کریں تاکہ آپکو یاد رہے.اگلے دن آپ کو کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک بار جب آپ نے انہیں لکھ دیا ہے ، آپ یہ جان کر سو سکتے ہیں کہ جب آپ جاگتے ہیں تو آپ فہرست کا حوالہ دے سکتے ہیں۔

    بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن بہت اہم اگر ہم اپنی زندگی کو منتظم بنانے کے لیے انکو اپنا لیں تو یہ باتیں ہماری زندگی کو پرسکون کر سکتی ہیں اور ہماری زندگی سے گھر اہم چیزوں کو ختم کرتے ہوئے سکون سے نیند لینے میں مدد کر سکتی ہیں.
    Twitter handle
    @umesalma_

  • پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ؟ تحریر: نوید شیخ

    پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ؟ تحریر: نوید شیخ

    پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ؟ تحریر: نوید شیخ
    ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان سے اچھی خبریں ختم ہوگئی ہیں۔ ابھی سانحہ سیالکوٹ کی گرد نہیں بیٹھی تھی کہ فیصل آباد ، لاہور اور کراچی سے دل دہلا دینے والی خبریں سامنے آگئی ہیں ۔ ان تینوں اسٹوریز سے آپ اندازہ لگا سکیں گے کہ عمران خان کی تبدیلی نے کیسے اس ملک کو ایک جہنم بنا دیا ہے ۔ جہاں نہ کوئی قانون ہے ۔ نہ قانون کا کوئی ڈر اور خوف ۔ جس کا جو دل چاہ رہا ہے وہ کر رہا ہے ۔ سب سے پہلے ملت ٹاؤن فیصل آباد میں کاغذ چننے والی خواتین پر مشتعل افراد نے تشدد کیا اور برہنہ کرکے ویڈیوز بھی بنا ئیں۔ متاثرہ خواتین کی جانب سے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا گیا ہے کہ وہ ملت ٹاؤن کے علاقے میں کاغذ چننے کے لیے گئی تھیں جہاں چاروں خواتین پانی پینے کے لیے ایک الیکٹرک اسٹور میں داخل ہو ئیں۔

    ۔ اس کے بعد الیکٹرک اسٹور کے مالک صدام اور تین ملازمین نے انہیں چوری کے الزام میں محبوس بنا لیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بناتے رہے، اس دوران مزید افراد بھی وہاں آگئے اور تشد د کے دوران انہیں دکان سے باہر بازار میں لے گئے جہاں انہیں برہنہ کر دیا گیا اور ملزمان برہنہ حالت میں ویڈیو بناتے رہے۔ پولیس کے مطابق مقامی افراد کی جانب سے اطلاع ملنے پر کارروائی کرکے الیکٹرک اسٹور کے مالک سمیت تین ملزمان کو حراست میں لے لیا جب کہ سی پی او فیصل آباد کے حکم پر خواتین کو محبوس بنانے اور تشدد کے الزام میں چار نامزد اور 8 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آس پاس کھڑے درجنوں مردوں میں سے کوئی ایک بھی انسان نہیں تھا کہ انسانیت کی تذلیل کرنے والے ان بدمعاشوں کو روکتا ؟ اب تو لگتا ہے کہ ایسا سلسلہ چل پڑا ہے کہ ہر روز ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں کہ سرشرم سے جھک جاتا ہے ۔ پر آپ دیکھیئے گا کہ آج کل تو اس معاملے کی میڈیا کوریج کررہا ہے ۔ پر کچھ عرصے بعد آپ دیکھیں گے کہ یہ سب باعزت بری ہوجائیں گے ۔ کیونکہ ہمارا نظام انصاف ہی ایسا ہے ۔ تھکا ہوا ۔ اجڑا ہوا ۔ ظلم کا دوست ۔ مظلوم کا دشمن ۔۔۔

    ۔ ایسے واقعات کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے کہ ملک میں نظام عدل تباہ ہوچکا ہے ۔ جب آپ کو یقین ہو کہ ریاست کسی مجرم کو سزا نہیں دیتی تو آپ اپنا بدلہ خود لیتے ہیں یا خود اپنی ہی عدالت لگا کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ پھر کراچی کے اورنگی ٹاؤن میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں 14 سالہ طالب علم کو ہلاک کردیا گیا ہے ۔ مشکوک پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے طالب علم کے لواحقین کا دعویٰ ہے کہ ارسلان کے پاس سے کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا اور اسے جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی ویسٹ ناصر آفتاب نے بتایا کہ اورنگی ٹاؤن میں ہونے والے مبینہ مقابلے میں ملوث کانسٹیبل توحید کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ایس ایچ او کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی سینٹرل، ایس ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل اور ایس پی گلبرگ پر مشتمل ایک تین رکنی کمیٹی بنا دی ہے جو 24 گھنٹوں میں رپورٹ دے گی۔ مشکوک پولیس مقابلے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کراچی پولیس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور لواحقین کو انصاف دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یوں نقیب اللہ محسود کے بعد ایک اور باپ نے اپنے معصوم بچے کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں کھو دیا ہے ۔ مجھے نہیں پتہ کس کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے؟ مجھے بس یہ معلوم ہے کہ جنہوں نے قتل کیا ہے وہ آج یا کل چھوٹ ہی جائیں گے کیونکہ ہمارا نظام انصاف ہی ایسا ہے ۔ ایسے دسیوں ہزاروں کیس پہلے بھی آچکے ہیں مگر کبھی کسی کو انصاف ملتے نہیں دیکھا ۔ ملالہ یوسفزئی کے والد ضیا الدین یوسفزئی نے بھی اس معاملے پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ بارہویں جماعت کے اس نو خیز طالب علم ارسلان محسود کو آج کراچی کے پولیس اہل کاروں نے شہید کیا ہے۔ دنیا بھر کی پولیس شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرتی ہے مگر ہمارے ہاں محافظ قاتل بن گئے ہیں۔ یہ صورتِ حال انتہائی مایوس کن اور قابل مذمت ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ پنچاب پولیس پیچھے رہ جائے ۔ گزشتہ روز لاہورکی ماڈل ٹاؤن کچہری میں قیدیوں کے گروپوں میں جھگڑا ہوا جسے روکنے کیلئے پولیس نے بخشی خانےکا دروازہ کھولا تو قتل کے دو ملزمان سمیت 10 قیدی فرار ہوگئے تھے۔

    ۔ ٹیوب لائٹ اور لاٹھی اٹھائے ملزمان اسلحہ تھامے اہلکاروں پر حاوی نظر آئے جبکہ قیدیوں کے حملے میں 2 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ جو اس حوالے سے ویڈیو وائرل ہوئی ہے اس نے تو کلی کھول کر رکھ دی ہے ۔ کہ ہماری پولیس کتنی جوگی ہے ۔ یہ صرف مظلموں اور کمزوروں پر ہی ظلم کر سکتی ہے ۔ جب ایسے سماج دشمن عناصر سامنے ہوں تو پھر یہ دم دبا کر بھاگ جاتے ہیں ۔ اب ان تمام اسٹوریز کے بعد یہ سوال اُٹھایا جانے لگا ہے کہ ہمارا معاشرے کس جانب گامزن ہے ۔ پھر حکومت کہاں ہے ۔ عملاً تو سب ہی جانتے ہیں کہ یہ حکومت کہیں نہیں ہے ۔ پورے ملک میں لاقانونیت کا ایک دور دورہ ہے ۔ یوں لگ رہا ہے کہ ملک میں جنگل کے قانون سے بھی برا حال ہوچکا ہے ۔ کیونکہ جنگل میں بھی کوئی قانون ہوتا ہے ۔ مگر اس وقت پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ، کرسی کا نشہ اور نااہلی کا دور ہے ۔ یہ اتنی لمبی تمہید میں نے اس لیے باندھی ہے کہ جو کچھ فیصل آباد میں ہوا ہے جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں ۔ اس کے بعد میں سوچنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ کیا واقعی ہی ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں ۔ جس کے حکمران اس ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار ہیں ۔ یہ تینوں ایسی اسٹوریز ہیں جو صرف پاکستان کے اندر ہی وائرل یا بہت زیادہ چل نہیں رہی ہیں بلکہ پاکستان سے باہر بین الاقوامی میڈیا بھی اس کو خوب کوریج دے رہا ہے ۔ اب اس کے بعد آپ جتنا مرضی دنیا کو کہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں ۔ ہم بڑے مہمان نواز ہیں ۔ ہم امن پسند ہیں ۔ پر جو جو یہ خبریں پڑھے گا یا دیکھے وہ پاکستان آنے بارے دس بار سوچے گا ضرور۔۔۔ ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں نماز کے وقت، مسجدیں بھر جاتی ہیں، ہر گلی میں مدرسہ بنتا جا رہا ہے۔ روزانہ لاکھوں قرآن ختم ہو رہے ہیں، ہر بچے کو قرآنی تعلیم لازمی دی جاتی ہے، اس کے علاوہ، لاکھوں کی تعداد میں ہر سال ڈاکٹر، انجنیئر، گریجوئیٹ بن رہے ہیں، مگر انسان کوئی نہیں بن رہا ہے۔ سوچنے کی بات ہے ۔

  • ” مجھے ڈر لگتا ہے ” .تحریر : زیاد علی شاہ

    ” مجھے ڈر لگتا ہے ” .تحریر : زیاد علی شاہ

    تمباکو کی پیداوار میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے کسان اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح یہ پیداوار بڑھائے اور منافع زیادہ سے زیادہ حاصل کریں کسان بیچارہ کیا کریں ان کی دو وقت کی روٹی اسی سے ہی پیدا ہوتی ہے لیکن ان کی کمائی کیلئے متبادل طریقے بھی موجود ہیں ایک دن میں ایک ریسرچ کے مطابق بارہ سو بچے سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں اور خاطر حواہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ایک سروے کے مطابق پختونخوا میں پچاس فیصد تمباکو پیدا ہوتی ہے یعنی سب سے زیادہ وہاں ہوتی ہے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کے مطابق روزانہ چار سو پچاس لوگ سگریٹ کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں اتنی تمہید باندھنے کی ضرورت اسلئے پڑ گئی کہ "مجھے ڈر لگ گیا” کہ پاکستان کی آدھی آبادی تو سگریٹ کی وجہ سے متاثر ہو جائیگی پھر میں اسی کوشش میں تھا کہ سگریٹ کو ختم کرنے کیلئے کوئی عملی اقدام کئے جائے صحافت کے طالب علم ہونے کی وجہ سے گھومتا پھرتا ہوں ادھر ادھر دیکھتا ہوں مشاہدہ کرتا ہوں کہ اس کی اصل جڑ کیا ہے ؟ پھر معلوم ہوتا ہے کہ اس کی اصل تو ہم ہی ہے میں ایک نوجوان ہو کر اس میں اپنا کردار کیسے ادا کرسکتا ہوں ؟

    آج اللہ نے موقع دیا کرومیٹک کے زیر انتظام تمباکو کو روکنے کیلئے کانفرنس میں مدعو کیا گیا وہ لوگ اس پر بہت کام کر رہے ہیں مختلف ریسرچ کرتے ہیں یوتھ کو اپنے ساتھ اینگیج رکھتے ہیں اب یوتھ کیا کر سکتی ہے ؟ مختلف یونیورسٹیوں میں طلباء سگریٹ کو سٹائل کے طور پر پیتے ہیں بلکہ فخر کرتے ہیں پھر یہی طلباء پاکستانی ڈراموں کو دیکھتے ہیں تو ڈراموں میں بھی سگریٹ نوشی سٹائل کیلئے پیتے ہیں جو کہ طلباء پر برا اثر پڑتا ہے آج کل ” ہم نیوز ” پر ایک ڈرامہ نشر ہو رہا ہے اس کا نام ہے ” پری زاد ” اس میں مرکزی کردار سگریٹ نوشی محض ٹینشن کو دور کرنے کیلئے کرتا ہے تو نوجوان اس چیز کو کافی کرتی ہے اس پر حکومت بھی غیر سنجیدہ بلکہ خوش تماشائی بن کے بیٹھے ہیں اب اس یوتھ کو سگریٹ روکنے کیلئے بھی ہم استعمال کر سکتے ہیں نوجوان پاکستان کی طاقت ہے اور سوشل میڈیا کا پاکستانیوں پر بہت اثر ہوتا ہے اگر پاکستانی یوتھ نشے کے خلاف نکلے اور اس کا نام جہاد ہوگا کیونکہ سگریٹ (تمباکو) سے انسانوں کا قتل عام ہو رہا ہے ہم اس سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں ایک آواز بننا بہت ضروری ہے

    کانفرنس میں مختلف بلاگرز نے اس کو روکنے کیلئے مختلف تجاویز دئے کہ کیسے اس کو روکا جا سکتا ہے لیکن میں اپنی بات کرونگا میں نے کچھ تجاویز پیش کی کہ طلباء کو اٹھا لینگے کہ سگریٹ روکنے کیلئے کردار ادا کریں قیامت کے دن ہم سے یہی پوچھا جائیگا کہ دنیا میں جو کر سکتے تھے وہ کیوں نہیں کیا دوسری تجویز یہی تھی کہ پختونخوا میں تمباکو کثیر مقدار میں پیدا ہوتے ہیں تو میں بذات خود گھر گھر گلی گلی جاؤنگا اس کو روکنے کیلئے بلکہ اپنے گھر سے شروع کرونگا تیسری تجویز یہی تھی کہ ہماری یوتھ کی آواز بہت توانا ہے اور اتنی طاقتور ہے کہ وہ چاہے کچھ بھی کرسکتے ہیں کیوں نہ ہم اس پر کمپینز کریں اور لوگوں کو اس بات پر یقین دلائے کہ یہ ایک خاص پلان کے تحت ہو رہا ہے اور اس میں ہمارے دشمن بڑھ چھڑ کر حصہ لے رہے ہیں اور ہم پاکستانی اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں ہم اپنا آواز خود ہی بلند کرینگے

    سگریٹ کا مسلہ صرف یونیورسٹیوں تک محدود نہیں بلکہ فیکٹریوں میں بھی بہت کثیر تعداد میں مزدور سگریٹ نوشی کرتے ہیں یوتھ جا کر اگر ان شہریوں کو ان کی نقصانات گننا شروع کرینگے اور ان کو اس بات کی یقین دلائنگے کہ یہ ہمارے ملک و صحت دونوں کیلئے نقصان دہ ہے شاید وہ ہمارے بات کا یقین کر لیں بد قسمتی سے یہاں حکومت کچھ مافیاز کے سامنے جھک جاتی ہے گھٹنے ٹیک دیتی ہے محض کچھ مفادات کی خاطر اور انہی سگریٹ انڈسٹریز کے جانب سے ان کو ڈونیشن کی شکل میں رشوت ملتی ہے تاکہ ان کے کاروبار پر کوئی اثر نہ پڑ جائے ہر چیز پر اس حکومت نے ٹیکس بڑھائی لیکن سگریٹ پر نہیں

    نوجوان اس ملک کا اثاثہ ہے اگر چاہے تو سگریٹ کا صفایا بھی اس ملک سے کر سکتی ہے ایک شاعر بہت خوب فرماتے ہیں

    بخت کے تخت سے یکلخت اتارا ہوا شخص
    آپ نے دیکھا ہے کھبی جیت کے ہارا ہوا شخص

    نوجوان اس ملک میں ان مافیاز کی جیت کو ہار میں بدل سکتی ہے اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو