Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ظلم رہے اور امن بھی ہو تحریر سیدہ اُمِ حبیبہ

    قائین محترم جہالت کی ضد علم ہے 

    تاریکی روشنی کو مات دیتی ہے

    صبح و شام ایک ساتھ ضم نہیں ہو سکتے.

    ہماری قوم کی یاداشت کمزور ہے یا ہماری جمہوریت کے پیچھے متحرک قوتیں ملک کے وسیع تر مفادات میں قوم کو ذہنی ہیجان سے گزارنے میں اور یاداشت کو مسخ کرنے میں ماہر ہیں.

    اور ہم بھی ایسی قوم ہیں کہ یہ کہہ کر بھول جاتے ہیں کہ

    چلو اچھا ہوا ہم بھول گئے

    ہماری قوم جابجا یہ بھی کہتی دکھائی دیتی ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے.

    ہم نے بہت قربانیاں دیں ہیں .

    مگر ساتھ ہی یہ بھی کیا کہ ان ہی دہشت گردوں کی عام معافی کے اعلانات کیے جائیں؟ کس سے پوچھ کر ؟

    کیا اس ماں سے پوچھا گیا جسکا نازوں سے پالا نوخیز جوان ذبح کر کے اس کے سر سے فُٹ بال کھیلا گیا؟

    اس بہن سے پوچھا جسکا اکلوتا بھائی سہرا سجانے اے چند دن پہلے وردی میں ہی دفنانا پڑ جائے؟

    اس قوم سے پوچھا جس نے دہشت گردی کے لیبل کے ساتھ گلی گلی اور ملکوں ملکوں رسوائی برداشت کی پابندیاں برداشت کیں؟

    ملک کا ایسا کونسا مفاد ہے کہ اے پی ایس کے شہداء کے قاتل ہنس ہنس کر آپ کے ٹی وی چینل پہ بیٹھے ہوں اور شہیدوں کی مائیں اپنے بچوں کے ہنستے قاتل کو دیکھ کر خون رو رہی ہوں.

    کل نیوزی لینڈ کی ٹیم میچ سے عین پہلے دورہ ختم کر کے نکل جاتی ہے. قوم تڑپ اٹھتی ہے کہ 18 سال بعد کرکٹ کے رنگ وطن لوٹے ہی تھے کہ سب ایکا ایکی ختم ہو گیا.

    تمام تبصرے قابلِ بحث نہیں ..کچھ آستین کے سانپ زہر اگلتے رہے اور کچھ نمک حلال اپنے نہ ہو کر بھی ہمت بنے رہے.

    مدعے کے بات یہ تھی کہ دورے کی منسوخی میں کہیں نہ کہیں طالبان کی حمایت وجہ بن رہی تھی اور سر دھنیے افغان طالبان نہیں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی حمایت اور وہ بھی عام معافی جیسی بات وہ بھی ان درندوں کے لیے جن کے سر پہ ستر ہزار پاکستانیوں کا بے گناہ خون ہو.

    دشمن وار جانے نہیں دیتا مگر ان کا کیا کریں جو دارالحکومت کے دامن میں دہشتگردی کی دکان سجائے بیٹھے ہیں.اور آج اسلام آباد کی پولیس کو لیکچر دیتا مہتمم کہتا ہے 

    "پاکستانی طالبان آئیں گے تمہارا حشر نشر کریں گے”

    ریاستی ادارے کو دہشتگردوں کی دھمکی پہ وزیرِ داخلہ خاموش وزیرِ دفاع ناپید ؟ 

    ہمارے وطن کے کرتا دھرتا یہ سمجھتے ہیں ناں کہ مقتولین کے حق میں بھی نغمات جاری کر لیں اور قاتلوں کو بھی معافی دے کر قومی دھارے میں شامل کر لیں تو ان اے کہدیجیے…

    ظلم رہے اور امن بھی ہو 

    کیا ممکن ہے تم ہی کہو

    اپنے ہونٹ سیے تم نے 

    میری زباں کو مت روکو 

    تم کو اگر توفیق نہیں 

    مجھکو ہی سچ کہنے دو 

    ظلم رہے اور امن بھی ہو…

    @hsbuddy18

  • لاوارث ضلع (چنیوٹ ) تحریر : مہر توقیر منظور گھگھ

     

    کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کہاں سے شروع کیا جائے اور کہاں پر ختم۔ہم ایسے بے حس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں رہنماؤں کی بے حیائی اور بدعنوانیاں منظر عام پر آنے کے بعد بھی انہیں معتبر سمجھتے ہیں کیا ہم بھی اس جرم کے طرف دار ہیں ۔

    لاوارث ضلع چنیوٹ پہلے ضلع جھنگ کا حصہ تھا تقریبا 2008 میں اسے علیحدہ ضلع کا درجہ دے دیا گیا ۔ضلع چنیوٹ 2020 تک تو صرف فرنیچر کی وجہ سے مشہور تھا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ ضلع چنیوٹ انتظامیہ کی ناقص کارکردگی اور افسران بالا کی لاپرواہی کی وجہ سے اجتماعی زیادتی اور درندگی میں پہلے نمبر پر آنے والے ضلع کے طور پر جانا جائے گا ۔بچے تو بچے ٹھہرے یہاں تو اب نوجوان اور بوڑھے بھی غیر محفوظ ہیں ۔کچھ دن پہلے بھوانہ کا واقعہ سن کر اوسان خطا ہو گئے جہاں پر ننھی کلی اقصیٰ کو جسمانی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا ۔قتل کے بعد جب نعش ملی تو ایس ایچ او بھوانہ اور ڈی ایس پی بھوانہ موقع پر پہنچ گئے ۔اپنے انداز میں حسب ضابطہ کارروائی میں مصروف ہوگئے ۔ٹیسٹ کروائے گئے سیمپلز لیے گئے۔اور ادھر کئی ٹی وی چینلز اور اخبارات میں خبریں نشر ہونے لگی ۔ہمارے معزز وزیراعلی صاحب نے نوٹس بھی لیا ۔اے آر وائی کے مشہور پروگرام criminal most wanted کی ٹیموں نے آکر پروگرام بھی کیے ۔لیکن آخر کیا ہوا ؟؟ چند دن گزرنے کے بعد تھانہ چناب نگر کی حدود میں حاملہ عورت سے زیادتی کی گئی مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس ملزمان سے ساز باز رہیں اور کوئی گرفتاری عمل میں نہ لائی جاسکی ۔

    اب بات کرتے ہیں لاوارث ضلع کے لاوارث تھانہ کانڈیوال کی ۔تھانہ کانڈیوال کی حدود موضع کلور شریف جو کہ صرف نام کی شرافت تک محدود رہ چکا ہے جنسی درندگی میں نمبر ون بن گیا ۔12 سالہ بچے سے زیادتی کی گئی ۔ملزمان اور پولیس آپس میں بھائی چارہ نبھانے لگے اور مقدمہ درج نہ ہونے کی وجہ سے مدعیان نے مجبورا صلح کرلی۔بعد میں زیادتی کی پوری ویڈیو وائرل کردی گئی ۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملزمان سے بڑھ کر تو پولیس ملزم ہے لیکن کون پوچھے گا۔۔دو دن بعد کلور شریف میں عورت سے زیادتی کا واقعہ جس کا ڈراپ سین بھی کچھ اسی طرح ہوا کہ مدعی کو انصاف نہ ملنے پر مجبورأ صلح کرنی پڑی۔اس کہانی کا اختتام ابھی نہیں ہوا تھا کہ موضع کلور شریف کے تین اوباش لڑکوں نے مل کر ایک اور حوا کی بیٹی کی زندگی برباد کر دی ۔اس مقدمہ نے تو افسران کی فرض شناسی اور کالے کرتوتوں پر سے پردہ اٹھا دیا جہاں پر زیادتی ایک بھائ نے کی اور پولیس نے اپنی جیب گرم کرکے ایف آئی آر میں دوسرے بھائی کا نام لکھ کر پورے مقدمے پر پانی پھیر دیا ۔جبکہ لڑکی کے گھر والے ابھی تک انصاف کی فراہمی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔

    اب تو چنیوٹ ٹرینی ضلع کے نام سے مشہور ہو چکا ہے جہاں پر افسران اور ملازمین کو ٹریننگ کے لئے ایس ایچ او لگا دیا جاتا ہے ۔تو کہیں ہیڈ کانسٹیبل کو سی ائی اے سٹاپ کا انچارج لگا دیا جاتا ہے۔اور پھر بعد میں ان کی شراب نوشی کی ویڈیوز پر انہیں معطل کر دیا جاتا ہے۔یہاں پر سی آئی اے سٹاف بھوانہ کے انچارج کی شراب نوشی کی وائرل ویڈیو پر اسے معطل کیا گیا حالانکہ اسے نوکری سے فارغ کر دینا چاہیے تھا ۔

    آج صبح کا سورج ایک اور ظلم اور بربریت کی داستان لے کر ابھرا ۔ایسی داستان جو سننے پر انسانی روح کانپ اٹھی . جسم لرزا گیا ۔جو واقعہ سن کر انسانیت بھی شرما گئی ۔لاوارث ضلع چنیوٹ کی تحصیل بھوانہ کے علاقہ محمد شاہ میں اقبال باٹا نامی شخص نے پچاس 50 سالہ ذہنی معذور محمد عارف کو دو ساتھیوں سے ملکر جنسی درندگی کا نشانہ بناڈالا اور ویڈیو بنا کر وائرل کردی عارف کے بھائی کی مدعیت میں درخواست دائر کر دی گئی ۔بھوانہ پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہے مگر کوئی ان صاحبان سے پوچھنے والا ہی نہیں کہ ٹیم کس لیے تشکیل دی آپ نے کوئی لادی گینگ یا چھوٹو گینگ پکڑنا ہے۔

    اگر لکھنا شروع کیا جائے تو کتاب بھر جائیں مگر لاوارث ضلع کی داستان ختم نہ ہوں ۔ڈی پی او چنیوٹ آر پی او فیصل آباد اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی جاتی ہے کہ خدارا کچھ نظر کرم اس لاوارث ضلع پر بھی ڈال دیں ۔تحریر : مہر توقیر منظور گھگھ 

    لاوارث ضلع (چنیوٹ)

    کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کہاں سے شروع کیا جائے اور کہاں پر ختم۔ہم ایسے بے حس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں رہنماؤں کی بے حیائی اور بدعنوانیاں منظر عام پر آنے کے بعد بھی انہیں معتبر سمجھتے ہیں کیا ہم بھی اس جرم کے طرف دار ہیں ۔

    لاوارث ضلع چنیوٹ پہلے ضلع جھنگ کا حصہ تھا تقریبا 2008 میں اسے علیحدہ ضلع کا درجہ دے دیا گیا ۔ضلع چنیوٹ 2020 تک تو صرف فرنیچر کی وجہ سے مشہور تھا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ ضلع چنیوٹ انتظامیہ کی ناقص کارکردگی اور افسران بالا کی لاپرواہی کی وجہ سے اجتماعی زیادتی اور درندگی میں پہلے نمبر پر آنے والے ضلع کے طور پر جانا جائے گا ۔بچے تو بچے ٹھہرے یہاں تو اب نوجوان اور بوڑھے بھی غیر محفوظ ہیں ۔کچھ دن پہلے بھوانہ کا واقعہ سن کر اوسان خطا ہو گئے جہاں پر ننھی کلی اقصیٰ کو جسمانی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا ۔قتل کے بعد جب نعش ملی تو ایس ایچ او بھوانہ اور ڈی ایس پی بھوانہ موقع پر پہنچ گئے ۔اپنے انداز میں حسب ضابطہ کارروائی میں مصروف ہوگئے ۔ٹیسٹ کروائے گئے سیمپلز لیے گئے۔اور ادھر کئی ٹی وی چینلز اور اخبارات میں خبریں نشر ہونے لگی ۔ہمارے معزز وزیراعلی صاحب نے نوٹس بھی لیا ۔اے آر وائی کے مشہور پروگرام criminal most wanted کی ٹیموں نے آکر پروگرام بھی کیے ۔لیکن آخر کیا ہوا ؟؟ چند دن گزرنے کے بعد تھانہ چناب نگر کی حدود میں حاملہ عورت سے زیادتی کی گئی مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس ملزمان سے ساز باز رہیں اور کوئی گرفتاری عمل میں نہ لائی جاسکی ۔

    اب بات کرتے ہیں لاوارث ضلع کے لاوارث تھانہ کانڈیوال کی ۔تھانہ کانڈیوال کی حدود موضع کلور شریف جو کہ صرف نام کی شرافت تک محدود رہ چکا ہے جنسی درندگی میں نمبر ون بن گیا ۔12 سالہ بچے سے زیادتی کی گئی ۔ملزمان اور پولیس آپس میں بھائی چارہ نبھانے لگے اور مقدمہ درج نہ ہونے کی وجہ سے مدعیان نے مجبورا صلح کرلی۔بعد میں زیادتی کی پوری ویڈیو وائرل کردی گئی ۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملزمان سے بڑھ کر تو پولیس ملزم ہے لیکن کون پوچھے گا۔۔دو دن بعد کلور شریف میں عورت سے زیادتی کا واقعہ جس کا ڈراپ سین بھی کچھ اسی طرح ہوا کہ مدعی کو انصاف نہ ملنے پر مجبورأ صلح کرنی پڑی۔اس کہانی کا اختتام ابھی نہیں ہوا تھا کہ موضع کلور شریف کے تین اوباش لڑکوں نے مل کر ایک اور حوا کی بیٹی کی زندگی برباد کر دی ۔اس مقدمہ نے تو افسران کی فرض شناسی اور کالے کرتوتوں پر سے پردہ اٹھا دیا جہاں پر زیادتی ایک بھائ نے کی اور پولیس نے اپنی جیب گرم کرکے ایف آئی آر میں دوسرے بھائی کا نام لکھ کر پورے مقدمے پر پانی پھیر دیا ۔جبکہ لڑکی کے گھر والے ابھی تک انصاف کی فراہمی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔

    اب تو چنیوٹ ٹرینی ضلع کے نام سے مشہور ہو چکا ہے جہاں پر افسران اور ملازمین کو ٹریننگ کے لئے ایس ایچ او لگا دیا جاتا ہے ۔تو کہیں ہیڈ کانسٹیبل کو سی ائی اے سٹاپ کا انچارج لگا دیا جاتا ہے۔اور پھر بعد میں ان کی شراب نوشی کی ویڈیوز پر انہیں معطل کر دیا جاتا ہے۔یہاں پر سی آئی اے سٹاف بھوانہ کے انچارج کی شراب نوشی کی وائرل ویڈیو پر اسے معطل کیا گیا حالانکہ اسے نوکری سے فارغ کر دینا چاہیے تھا ۔

    آج صبح کا سورج ایک اور ظلم اور بربریت کی داستان لے کر ابھرا ۔ایسی داستان جو سننے پر انسانی روح کانپ اٹھی . جسم لرزا گیا ۔جو واقعہ سن کر انسانیت بھی شرما گئی ۔لاوارث ضلع چنیوٹ کی تحصیل بھوانہ کے علاقہ محمد شاہ میں اقبال باٹا نامی شخص نے پچاس 50 سالہ ذہنی معذور محمد عارف کو دو ساتھیوں سے ملکر جنسی درندگی کا نشانہ بناڈالا اور ویڈیو بنا کر وائرل کردی عارف کے بھائی کی مدعیت میں درخواست دائر کر دی گئی ۔بھوانہ پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہے مگر کوئی ان صاحبان سے پوچھنے والا ہی نہیں کہ ٹیم کس لیے تشکیل دی آپ نے کوئی لادی گینگ یا چھوٹو گینگ پکڑنا ہے۔

    اگر لکھنا شروع کیا جائے تو کتاب بھر جائیں مگر لاوارث ضلع کی داستان ختم نہ ہوں ۔ڈی پی او چنیوٹ آر پی او فیصل آباد اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی جاتی ہے کہ خدارا کچھ نظر کرم اس لاوارث ضلع پر بھی ڈال دیں

  • میڈیا کی بے لگام آزادی،تحریر: ارم شہزادی

    میڈیا کی بے لگام آزادی،تحریر: ارم شہزادی

    میڈیا کی بے لگام آزادی،تحریر: ارم شہزادی

    بین الاقوامی انسانی حقوق کے آرٹیکل نمبر 10 کے تحت ہر کسی کو بولنے اور آواز بلند کرنے کا حق ہے اور ہر ملک کے آئین میں اس بات کو شامل کیا گیا ہے کہ بنا کسی فرق کے ہر فرد کے پاس تنقید یا تعریف کا حق موجود ہے
    لیکن
    یہاں پھر کچھ باتیں ایسی جنم لیتی ہیں جن سے اس حق کا غلط استعمال ہوتا دیکھا جاتا ہے۔

    ہر کسی کے پاس بولنے کا حق موجود ہے لیکن کیا کسی کی ذاتی زندگی پر بنا ثبوت کے کیچڑ اچھالنے کا حق بھی ہے؟ کیا قومی حساس معاملات پر ان لوگوں کا بولنا بھی حق ہے ہے جو اسکا بلکل بھی ادراک نہیں رکھتے یا پھر جھوٹی خبر یا جھوٹ پر مبنی بنائی گئی کہانی گھڑنا بھی آزادی اظہار رائے میں آتا ہے؟تو جواب ہے بلکل نہیں۔ ہر بات اور ہر لفظ کا ذمہ دار اسکا بولنے والا استعمال کرنے والا ہوتا ہے اور ان الفاظ سے پیدا ہونیوالے اثرات کا بھی وہی ذمہ دار ہوتا ہےفرض کریں ایک شخص مزہبی منافرت کو ہوا دے رہا ہو جس سے فسادات برپا ہونے کا خدشہ ہو تو کیا اس فرد کو اس لئے بولنے دینا چاہیے کہ اسے انسانی حقوق نے یہ حق دیا ہے؟ آزادی اظہار رائے کا مطلب یہ ہے کہ ان معاملات میں بولنا چاہیے جو آپکا سرکل ہے۔ اپنے دائرہ کار سے باہر نکل کر کسی دوسرے کے دائرے میں بولنا دوسرے کی ناصرف حق تلفی ہے بلکہ ایک سوچ کی خرابی کو جنم لیتا ہے جسے کہتے ہیں ڈس انفارمیشن۔ تعلیم اور پیشہ ور معاملات کی ہی مثال لے لیجئے کہ ایک استاد جسکا پیشہ اور تعلیم ایک مخصوص شعبے کو پڑھانا ہے وہ کسی دوسرے شعبے کو نہیں پڑھا سکتا تو کیسے وہ اس پر رائے دینے کا بھی حقدار ہوگا؟

    اسی طرح کچھ میڈیا ہؤسسز ہیں جو اس آرٹیکل کو اپنی جھوٹی من گھڑت اور غلط معلومات پر منحصر خبریں نشر کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں اور اگر انہیں کوئی اس بات سے روکے تو میڈیا کی آزادی پر قدغن قرار دی جاتی پے۔ پاکستان بھی آجکل انہی حالات سے گزر رہا ہے۔ ٹالک شوز میں معیشیت پر اینکرز حضرات اپنا تجزیہ دے رہے ہوتے ہیں جنکی نہ تو تعلیم معیشیت پر ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی ایسا تجربہ۔ کورٹ روم کے باہر اگر دس سال کوئی کیمرہ مین کوریج کرتا رہا ہے تو اسے قانونی امور پر تجزیے کے لئے بٹھا لیا جاتا ہے۔ اسی طرح ملک کے دفاعی اور حساس معاملات پر ایسے عجیب و غریب تجزئیے پیش کیے جاتے ہیں جیسے کل ہی دشمن ہمارے ملک پر قبضہ کرلے گا اگر ان جناب کا تجزیہ نہ مانا تو۔

    اصل میں پاکستان کا میڈیا خود کو بے لگام گھوڑا بنانا چاہتا ہے اور جھوٹی خبر اپنا حق سمجھنے لگا ہے۔ کچھ دن پہلے فیک نیوز پر قانون سازی کے کچھ پیپر ورک ہوا حکومت کیطرف اور میڈیا یونینز سے انکے نمائندے پیش کرنے کے لئے کہا گیا کہ اس قانون کے نکات پر اپنی رائے دیں تاکہ مزید بہتری آسکے۔ وہ سب بجائے ان نکات کو پڑھتے ان پر کام کرتے وہ سب دھرنےپر بیٹھ گئے کہ جھوٹی خبر دینا تو ہمارا حق ہے اور لوگوں میں افراتفری پھیلانا بھی۔ اس سے پاکستان کا امیج دُنیا میں ایک میڈیا پر پابند سلاسل لگانے والا ملک شو کیا گیا حالانکہ وہ قانون صرف اور صرف جھوٹی خبر پھیلانے والے کے خلاف تھا۔ مطلب میڈیا کو اس قدر آزادی چاہیے کہ اگر وہ جھوٹ بولیں تو ان پر کوئی قدغن نہ لگے اور نہ ہی ان سے کوئی پوچھنے والا ہو۔ سبھی ترقی یافتہ ممالک میں یہ قانون موجود ہے اور کڑھے جرمانے رکھے گئے ہیں جھوٹی خبروں پر۔ پاکستانی میڈیا ناصرف ملک کے اندرونی معاملات ہر جھوٹ پر مبنی خبریں پھیلانے میں ملوث ہے بلکہ خارجہ پالیسی جیسے حساس معاملات پر بھی کچھ صحافی جھوٹ بولنے میں پیش پیش ہیں

    پچھلے سال اقوام متحدہ کے ڈس انفارمیشن سیل نے اس بات کو واضح کیا کہ کس طرح بھارتی میڈیا کی جانب سے غلط انفارمیشن پھیلائی گئی پاکستان کے متعلق اور ان جھوٹی معلومات پر پاکستانی صحافیوں نے تجزئیے بھی پیش کیے ان سبھی معاملات کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ میڈیا کی بے لگام آزادی کسی بھی ملک کے لئے مفاد میں نہیں ہے کیونکہ ہر بات اگر نشر ہونے لگی تو حساس قومی معاملات کو نقصان پہنچے گا۔ آج کی ففتھ جنریشن وار میں سب سے بڑا ہتھیار میڈیا کا غلط استعمال کروانا ہے اور بدقسمتی سے پاکستان میں کچھ نام نہاد صحافی انہیں ایجنڈوں پر کام کررہے ہیں۔ دنیا میں مختلف وارداتوں کے علاوہ بچوں کے ریپ ہوں یا قتل میڈیا حکومت کی اجازت کے بغیر خبر نشر نہیں کرسکتا ہے۔ لیکن یہاں پولیس بعد میں پہنچتی ہے اور میڈیا تک خبر پہلے جاتی ہے جس کا، نقصان یہ ہوتا ہے کہ جب تک حقائق پتہ چلتے ہیں تب میڈیا کی وجہ سے ایک ایسی رائے عامہ تیار ہوچکی ہوتی ہے کہ پھر اسے کنٹرول کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے، اس کی ایک مثال یہ بھی ہے "‏فرانس کمیشن مطابق وہاں چرچ 50 سالوں میں ساڑھے تین لاکھ بچوں ساتھ ریپ ہوئے جو سالانہ قریبا 5000 کیسز ماہانہ 400 روزانہ قریبا 14 child abuse کیس بنتے ھیں” اب یہی کیس اگر پاکستان میں ہو تو پوری دنیا میں پاکستان بدنام ہوجائے گا میڈیا کی بےلگامی کی وجہ سے، لیکن فرانس میں اسے میڈیا، پر اسے زیر بحث لانے کی اجازت ہی نہیں ہے۔ اگر پاکستان میں بھی ملک کو نیشنل اور انٹرنیشنل پر بدنامی سے بچانا ہے تو میڈیا کو ریگولیٹ کرنا ہوگا۔کچھ پابندیاں لگانا ہونگی خاص طور پر ملکی مفاد کے خلاف کوئی بات زیربحث نہیں لائی جاسکتی۔۔
    تحریر ارم شہزادی
    @irumrae

  • زندگی جہد مسلسل تحریر فروا منیر

    زندگی جہد مسلسل تحریر فروا منیر

    ت

    ایک آدمی غروب آفتاب کے وقت درختوں کے سامنے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے” آپ کا خیال حقیقت کے بارے میں آپ کے نقطہ نظر کو رنگ دیتا ہے۔ "سب سے خوبصورت لوگ جن کو میں جانتا ہوں وہ وہ ہیں جنہوں نے آزمائشوں کو جانا ہے، جدوجہد کو جانا ہے، نقصان کو جانا ہے، اور گہرائیوں سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا ہے۔” — الزبتھ کیبلر-راس

    ہم جدوجہد کرتے ہیں۔ ہم کوشش کرتے ہیں۔ ہم ایک بہتر زندگی کی خواہش رکھتے ہیں۔ زندگی ایک خوبصورت جدوجہد ہے یا کچھ بھی نہیں۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ زندگی چیلنجوں یا ناکامیوں کے بغیر ہو؟ اگر ایسا ہوتا تو آپ بغیر جدوجہد کے اپنی صلاحیت کو کیسے محسوس کریں گے؟ نشوونما کے بغیر زندگی ادھوری اور خوفناک ہے۔ ہم کوشش کرتے ہیں اور جدوجہد کرتے ہیں تاکہ ہم اس پر قابو پا سکیں، کیونکہ غالب آنے میں ہم اپنی عظمت کو محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے پاس بڑھنے اور پھلنے پھولنے کی اندرونی دعوت ہے۔ یہ ہمارے وراثت میں شامل ہے تاکہ ہم اپنے آپ کے بہتری کی جانب لائیں۔

    جیسے جیسے آپ مزید بننے کے لیے پہنچتے ہیں، آپ اپنی لامحدود صلاحیت کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم جسمانی کائنات میں رونما ہونے والے واقعات کے بڑے آرکیسٹریشن میں ایک چھوٹا سا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کوئی اہم کردار ادا نہیں کرتے، بلکہ آج جو فیصلے ہم کرتے ہیں اس کا ہماری زندگیوں اور دوسروں کی زندگیوں پر اثر پڑتا ہے۔ ہم سب شعور کے ذریعے گہری سطح پر جڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے عقائد ہمارے خیالات کو مرتب کرتے ہیں۔ ہمارا خیال حقیقت کے بارے میں ہمارے نقطہ نظر کو رنگ دیتا ہے، لہذا ہم جس چیز کی توقع کرتے ہیں وہی ہمیں ملتا ہے۔ یہ ایک جاری بحث ہے کہ زندگی ایک کے بعد ایک جدوجہد ہے۔ پھر بھی ضروری نہیں کہ ایسا ہو۔

    زندگی میں اس کے بارے میں ہمارے تاثرات سے زیادہ ہے۔ غور کریں کہ میں نے تاثر کا لفظ استعمال کیا ہے، کیونکہ جس طرح سے ہم دنیا کو دیکھتے ہیں وہ ہمارے مشاہدے سے واضح ہے۔ زندگی کو لامتناہی جدوجہد، بلوں کی ادائیگی اور کسی کے کام سے مطمئن ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیا اپنی زندگی کو کسی مختلف فلٹر سے دیکھنا آپ کے لیے معنی خیز ہے؟ کیا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایسا کرنے سے آپ کو دنیا کو مختلف طریقے سے دیکھنے کی صلاحیت کیسے ملتی ہے؟

    ۔ جب ہم محبت میں ہوتے ہیں اور دوسروں کی خدمت کے لیے پرعزم ہوتے ہیں تو ہماری جدوجہد بے معنی نہیں ہوتی۔ زندگی کو سفر کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ وہ تجربات ہیں جن پر ہم سفر کرتے ہیں جو ہماری زندگیوں پر دیرپا اثر ڈالتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی عروج و پستی کا سلسلہ ہے۔ خوشی کے لمحات یا اذیت کی اقساط تجربہ ہونے کے کافی عرصے بعد ایک فوکل پوائنٹ ہیں۔ ہمیں یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ زندگی ٹوپی کے قطرے پر ہماری خواہشات کے مطابق ہو جائے گی، بلکہ ہمیں زندگی کو بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے اندر سے گزرنے دینا چاہیے۔

    ہم ایسا کرتے ہیں جو ظاہر ہوتا ہے اسے قبول کرتے ہوئے، چاہے ہم دوسری صورت میں یقین رکھتے ہوں۔ اس مضمون کا عنوان زندگی کی تفریق کو واضح کرتا ہے۔ جدوجہد کے بغیر، زندگی ہمارے ذاتی ارتقاء میں کوئی کردار ادا نہیں کرتی۔ زندگی کا مقصد ہر لمحہ خود کو نئے سرے سے تخلیق کرنا ہے۔ افراتفری کے ذریعے زندگی جنم لیتی ہے، جو اس کے تخلیقی اظہار کے لیے تحریک کا کام کرتی ہے۔ ہم اس ایپلی کیشن کو فطرت میں دیکھتے ہیں۔ ہیرے شدید دباؤ، گرمی اور تحریک کے تحت بنتے ہیں۔ موسم بہار اور خزاں کے مہینوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے ہنگامہ خیز موسم کے نمونے کم ہو جاتے ہیں۔

    ہم ان موسموں کو معمولی سمجھنے کے بجائے ان کا انتظار کرتے ہیں۔ تصور کریں کہ کیا ہمارے پاس سال کے بارہ مہینوں میں ایک ہی موسم ہوتا؟ متضاد موسمی تبدیلیوں کی جتنی تعریف کی جائے کم ہوگی۔ تضاد فطرت میں ابھرتا ہے لہذا ہم مختلف حقائق کا تجربہ کرسکتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے، میں آپ کو مدعو کرتی ہوں کہ آپ اپنے چیلنجوں کو موسمی تبدیلیوں کے مطابق بنائیں۔ کچھ بھی مستقل نہیں ہے۔ تکلیف دہ تجربات آتے اور جاتے ہیں اگر ہم انہیں اپنے ذریعے سے گزرنے دیتے ہیں۔ زندگی کو لامتناہی جدوجہد کے سلسلے کے طور پر دیکھنے کے بجائے، اس بات پر بھروسہ کریں کہ آپ کی ذاتی لڑائیاں آپ کو اپنی گہری حکمت کے ادراک کی طرف لے جا رہی ہیں۔ یہ حکمت آپ کو اسی ذہانت سے جوڑتی ہے جو ہر لمحہ آپ کی خدمت کرتی ہے۔ یہ آپ کی توقع کے مطابق ظاہر نہیں ہوسکتا ہے، پھر بھی یہ ہمیشہ پردے کے پیچھے کام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی خوبصورت جدوجہد کا ایک سلسلہ ہو سکتی ہے یا کچھ بھی نہیں۔

  • قسمت، محنت اور دعا تحریر: فضل عباس

    قسمت، محنت اور دعا تحریر: فضل عباس

    قسمت نام ہے تقدیر کا جس کے ذریعے اللّہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کرتا ہے قسمت مقدر کا دوسرا نام ہے مقدر میں خوشیاں بھی شامل ہوتی ہیں غم بھی آتے ہیں آزمائش بھی مقدر کا حصہ ہوتی انعام بھی قسمت کا حصہ ہوتا ہے لیکن کیا قسمت بدلی جا سکتی ہے؟ قسمت میں جو لکھ دیا جاۓ وہ بدلا جا سکتا ہے؟ جی بالکل اگر اللّہ چاہے تو قسمت بھی بدل سکتی ہے آج ہم اس پر بات کریں گے کہ انسان قسمت کیسے بدل سکتا ہے
    قسمت بدلنے کے دو طریقے ہیں ایک محنت دوسرا دعا
    محنت کرنے والے لوگ اللّہ تعالیٰ کو پسند ہوتے ہیں ایسے لوگوں کو اللّہ تعالیٰ ان کی محنت کا اجر دیتا ہے اگر لوگ محنت کرتے رہیں تو ان کی قسمت میں آئیں مشکلات راہ سے ہٹ جاتی ہیں یہ ان کی محنت کا ثمر ہوتا ہے لیکن جہاں تک میرا خیال ہے کہ محنت سے آپ قسمت میں ایک حد تک تبدیلی لا سکتے ہیں آپ محنت کر کے چیزیں حاصل کر سکتے ہیں وہ چیزیں جو آپ کی قسمت میں نہیں تھی لیکن آپ نے محنت کی اور اللّہ تعالیٰ نے آپ کی محنت کا ثمر دیا اور وہ چیزیں آپ کو مل گئیں لیکن کیا محنت کرنے سے آپ کو وہ لوگ بھی مل سکتے ہیں جو آپ سے کھو گئے ہیں؟ جو آپ کو دکھ دے کر ایک طرف ہو گئے ہیں؟ کیا وہ لوگ آپ کے بھی ہو سکتے ہیں جو آپ کو نظر انداز کر کے آپ کے مخالف کی طرف کھڑے ہو گئے تھے؟ شاید نہیں
    اگر آپ اپنی قسمت میں لوگوں کو شامل نہیں کر سکتے تو محنت کا کیا فائدہ؟ یہ سوال یقیناً ہر ایک شخص کے ذہن میں آتا ہے اس کا جواب اس طرح دیا جا سکتا ہے کہ ہر چیز کی مختص طاقت ہوتی ہے محنت کی اتنی ہی طاقت ہوتی ہے کہ یہ آپ کو چیزیں دلا سکتی ہیں لوگ نہیں اگر آپ لوگ کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس سے ایک قدم آگے بڑھنا ہو گا اس منزل پر پہنچ کر آپ وہ حاصل کر سکتے ہیں جو آپ کی قسمت میں بھی نہیں ہے جی یہ منزل ہے دعا!!!

    اب آتے ہیں دعا کیا ہوتی ہے اور دعا قسمت کیسے بدل سکتی ہے دعا ایک مقدس جذبہ ہے جو آپ کا تعلق اللّہ تعالیٰ سے جوڑتا ہے اس تعلق میں وسیلہ نہایت اہم ہوتا ہے وسیلہ پاک ہستییاں ہوتی ہیں وہ ہستیاں جو اللّہ تعالیٰ کے نزدیک فضیلت والی ہوتی ہیں اس طرح دعا آپ کا تعلق پاک ہستیوں کے ذریعے اللّہ تعالیٰ سے جوڑتی ہے اور یہی تعلق انسان کے لیے بہت زیادہ طاقت والا ہوتا ہے

    دعا ایک طاقت ہوتی ہے وہ طاقت جو مایوسی کو امید اور امید کو یقین میں بدلنے کا فن جانتی ہے یہ طاقت مایوسی ختم کرنے کا ہنر جانتی ہے مایوسی کا ختم ہونا انسان کی سب سے بڑی جیت ہوتی ہے

    اب آتے ہیں اس بات پر کہ دعا انسان کی قسمت کو کیسے بدلتی ہے انسان جب خالق کائنات کے سامنے اپنی بات دعا کی صورت یقین کے ساتھ رکھ دیتا ہے تو خالق کائنات اس دعا کو قبول کرتا ہے چاہے انسان کی قسمت میں پہلے سے نہ لکھا ہو کیوں کہ ہوتا وہی ہے جو اللّہ چاہے قسمت بھی اللّہ تعالیٰ لکھتا ہے تو اللّہ تعالیٰ سے دعا کرو گے تو اللّہ تعالیٰ آپ کی قسمت بدل دے گا اللّہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے اللّہ تعالیٰ معاف کر دینے والا ہے اللّہ تعالیٰ انسان سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے تو دعا کی قبولیت میں شک بنتا ہی نہیں کیوں کہ جب ایک ماں اپنے بچے کی خواہش پوری کرنے کے لیے سب کچھ کر گزرتی ہے تو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا انسان کا خالق جس کی قدرت میں سب کچھ ہے وہ انسان کی دعا کو رد کر ہی نہیں سکتا

    اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان کی زندگی میں قسمت کا عمل دخل ہوتا ہے قسمت انسان کی زندگی میں ایک واضح مقام رکھتی ہے لیکن قسمت بدلی بھی جا سکتی ہے قسمت اتنی سخت نہیں ہوتی کہ بدلی نہ جا سکے قسمت بدلتے دیر نہیں لگتی بس آپ محنت جاری رکھو جو چیز محنت سے بھی نہ ملے اسے دعا میں مانگو چاہے وہ کچھ بھی ہو اگر آپ کے لیے وہ چیز، وہ لوگ اچھے ہوں گے تو اللّہ تعالیٰ آپ کو لازمی وہ دے گا اگر آپ کی دعا قبول نہیں ہوتی تو دوبارہ دعا کرو اللّہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کی دعا سنے گا اور جو آپ کے لیے بہتر ہو گا وہ آپ کی قسمت میں لکھ دے گا

  • اولاد کی تربیت کیسے کریں   تحریر: فضیلت اجالہ 

    اولاد کی تربیت کیسے کریں  تحریر: فضیلت اجالہ 

    آپ میں سے اکثر لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ابابیل (پرندہ) کنویں میں اپنا گھونسلہ بناتی ہے ،بچوں کو اڑان کی تربیت دینے کے لیے نا تو اس کے پاس وسیع احاطہ میسر ہوتا ہے اور نا ہی وہ اپنے بچوں کو نا کافی تربیت کے ساتھ اڑنے کی اجازت دے سکتی ہے ،کیونکہ وہ جانتی ہے کہ دوسرے پرندوں کی طرح اس کے بچوں کو گر کے سنبھلنے اور دوبارہ اڑان بھرنے کا موقع نہیں ملے گا، بلکہ اگر پہلی اڑان نا کام ہوئ تو اسکا نتیجہ موت ہوگا۔ بچوں کو اس درد ناک موت سے بچانے کے لیئے ابابیل تربیت کی یہ مشقیں بھی اپنی زات پہ کرتی ہے ،بچوں کی ولادت سے پہلے جو ابابیل دن میں 25 اڑانیں بھرتی تھی بچوں کی ولادت کے بعد وہ اپنی اڑانوں کی تعداد تین گنا بڑھا کر 75 کر دیتی ہے ،اور یوں ایک مکمل دن میں دونوں والدین 150 اڑانیں بھرتیں ہیں جس سے بچوں کے دل میں یہ عقیدہ راسخ ہو جاتا ہے کہ یہاں سے اڑ کہ سیدھا باہر جانا ہے کیونکہ بچے انسان کے ہو یا حیوان کہ وہ وہی عادات و انداز اپناتے ہیں جو والدین کو کرتے دیکھتے ہیں ۔اسی طرح ہمارے بچے بھی کل کو وہی کریں گے جو آج ہم انہیں اپنے عمل سے سکھائیں گے ۔

    اچھی اولاد صدقہ جاریہ ہوتی ہے اور اچھی اولاد اچھی تربیت سے بنتی ہے،

    بچے کی تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے کیونکہ ماں کی گود بچے کے لیئے پہلی درسگاہ ہوتی ہے ،بچوں کو اسکول ،کالج یا مدرسہ بھیج کر آپ اسکی تربیت سے بری الزماں نہیں ہو سکتے ،اسے نمازی،پرہیزگار ،سچا اور اچھا انسان نہیں بنا سکتے۔

    اگر ہمیں اپنے بچوں کو نمازی بنانا ہے تو اسکے لیئے سختی کرنا یا زبردستی مسجد بھیجنا کافی نہیں ہے بلکہ ہمیں انہیں نماز پڑھ کے دکھانا ہے انکے لیئے ایک مثال بننا ہے کہ نماز ہر کام سے ضروری ہے ۔

    بچوں کے سامنے چھوٹے چھوٹے سچ بولنے کی پریکٹس کریں ۔

    بچوں کے دل میں اللہ کا ڈر نہیں بلکہ اللہ سے محبت پیدا کریں ،انہیں بتائیں کہ اللہ آپ سے بہت محبت کرتے ہیں لیکن جس طرح کوئ بھی غلط کام کرنے پر ہم آپ سے ناراض ہو سکتے ہیں بلکل اسی طرح اللہ تعالی بھی ناراض ہو جاتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتائیں کہ اللہ پاک انتہائ رحیم و کریم ہیں اگر تم ان کے سامنے سچ بولو گے اپنے گناہ پہ شرمسار ہو گے تو وہ آپ کو معاف کر دیں گے، یقین کیجیئے آپکا بچہ سچ بولنے کا عادی ہوتا جائے گا ۔

    سارے دن کے بعد رات سونے سے پہلے کچھ وقت بچوں کے ساتھ گزاریں ان سے دن بھر ہونے والے واقعات کے متعلق پوچھیں اس سے آپ کافی حد تک اپنے بچے کی سر گرمیںوں سے آگاہ رہیں گے ،بچوں سے تمام دن میں ملنے والی کوئ سی تین نعمتوں کے باریں میں پوچھیں تاکہ ان میں اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کے متعلق احساس شکر گزاری پیدا ہو۔

    بچوں کو ڈائری لکھنے کی عادت ڈالیں جس میں وہ دن بھر ہونے والے اچھے اور غلط کام لکھیں ،اس سے ان میں اپنی کوتاہیوں کو قبول کرنے کا اور انہیں سدھارنے کا وصف پیدا ہوگا ۔

    بچوں کو زرا زرا سی بات پر روک ٹوک نا کریں ،دینی یا دنیاوی جو بھی معاملات ہوں کبھی بھی بچوں سے بہت زیادہ پرفیکشن کا مطالبہ نہ کریں،خاص کر عبادات کے سلسلے میں بہت زیادہ حدود و قیود نا لگائیں کیونکہ یہ باتیں اسے دین سے متنفر کر دیں گی ،پہلے بچے کو اس کام کا یا عبادت کا عادی بنائیں ،جب اس کی عادت پختہ ہو جائے گی ِتو وہ اپنا تجزیہ خود کرے گا۔جب سکول میں تمام سلیبس ایک ساتھ نہیں پڑھایا جاتا تو ہم سارا دین ،سارے ادب و آداب اسے ایک ساتھ کیسے پڑھا سکتے ہیں ۔

    آج کے فتنہ پرور دور میں جب قدم قدم پہ بہکنے کا سامان موجود ہے تو بحیثیت والدین آپ کی ڈیوٹی مزید سخت ہو جاتی ہے ،آپ انہیں برائ سے دور نہیں رکھ سکتے لیکن برائ اختیار کرنے سے روک سکتے ہیں ،لیپ ٹاپ ،موبائل نا دینا مسلے کا حل نہیں ہے آج کے دور میں ان چیزوں تک رسائ مشکل نہیں،آپکا کام ان کے دل میں حرام اور حلال کا فرق واضح کر دینا ہے ،ان کہ اندر جواب دہی کا احساس پیدا کرنا ہے پھر وہ خود ان چیزوں سے دوری اختیار کریں گے جن کی اسلام میں ممانعت ہے ۔

    بچے میں یہ احساس پیدا کیجیئے کہ اس کا ہر عمل اللہ اور اس کے درمیان ہے اور وہ ہر عمل کے لیئے خالص اللہ کے آگے جواب دہ ہیں ،جب وہ اس بات کو سمجھ لے گا تو پھر دنیا کہ ڈر سے کوئ کام چھپ کر نہیں کرے گا بلکہ وہ اللہ کے ڈر سے کوئ غلط کام کرے گا ہی نہیں ۔

    یاد رکھیئے قانون قدرت ہے کہ ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے ،اس کےقلب میں اللہ سے لگاؤ کا شعلہ ٹمٹا رہا ہوتا ہے 

    ہمیں اس شعلے کو جلا دے کر مشعل بنانے کی ضرورت ہے ۔چھوٹے بچے کی پرورش کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ کہ نرم و نازک پودے کی کانٹ چھانٹ کرنا ،معاشرے میں نمو پاتی مزہب سے دوری اور نسل نوجواں کو بے راہ روی کی تاریکیوں سے نکالنے کے لیئے دیا بننے کی کوشش کیجیئے اپنی اور دوسروں کی اولاد کے لیئے صراط مستقیم کی دعا ضرور کیجیئے ۔

    @_Ujala_R

  • فیصلہ پارٹ نمبر 5 تحریر سکندر علی 

    پریشان نہ ہوں ۔ آپ اچھی طرح سے ڈھک گئے ہیں ۔

    نہیں جارج کی بات کاٹتے ہوئے اس کا باپ چیخ کر بولا۔ اس نے پوری قوت سے بل پر سے کمبل پرے پھینکے کہ وہ وہ فورا ہی 

    پرے جاگرے۔ پھر وہ بستر پرتن کر کھڑا ہوگیا۔ صرف ایک ہاتھ سہارے کے لیے معمولی سا چھت کو چھورہا تھا۔

    تم مجھے ڈھک دینا چاہتے ہو۔ میں جانتا ہوں میرے چھوٹے بچے لیکن میں آسانی سے ڈھک دیئے جانے والا

    نہیں ہوں۔ اگر یہ میرے جسم کی قوت کی آخری لہر ہے تو بھی نبی نہیں سنبھالنے کے لیے کافی ہے۔ بلکہ اس سے کہیں زیادہ

    ہی ہے۔ ہاں، میں تمھارے دوست کو جانتا ہوں۔ وہ میرا بیٹا ہوتا تو پسند بیرا بیٹا ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان تمام برسوں میں تم

    مجھ سے دھوکہ کرتے رہے اور اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ کیا تمھارے خیال میں مجھے اس کا دکھ نہیں ہے؟ تم خود کو اپنے دفتر

    میں بند کر لیتے تھے کہ چیف صاحب مصروف ہیں، انہیں پریشان نہ کیا جائے ۔ صرف اس لیے کہ تم روس میں جھوٹ کے

    پلندے کو لکھ کر یہ کولیکن خوش قسمتی سے کوئی کسی باپ کو نہیں سکھا سکتا کہ وہ کیسے اپنے بیٹے کے اندر جائے اور اب جب

    کہ تمھارا خیال ہے کہم اسے مات دے چکے ہو اور اتنا بیوگرا چکے ہو کہ اس پر سوار ہو سکو اور اس پر بیٹھ جاؤ اور وہ ذراسی چوں

    چراں بھی نہیں کرے گا تو اب میرا چالاک بیٹا فیصلہ کرتا ہے کہ شادی کر لینی چاہیے۔

    جارج اپنے باپ کے اس خوف زدہ کرنے والے روپ کو مبہوت ہو کر دیکھنے لگا۔ سینٹ پیٹرز برگ میں اس کے دوست نے، جسے اس کا باپ اچانک اتنے اچھے طریقے سے جانتا تھا، اس کے حواس کو یوں اپنی گرفت میں لیا کہ پہلے کبھی

    ایسانہیں ہوا تھا۔ وہ اسے روس کی وسعت میں کم دکھائی دیا۔ وہ اسے ایک خالی، لئے پٹے گودام کے دروازے پرکھڑادکھائی

    دیا۔ اپنے شوکیسوں کے ملبے ، اپنے مال کی شکستہ باقیات گیس کے ٹوٹے پھوٹے بریکٹوں کے درمیان و سیدھا کھڑا دکھائی

    دیا۔ اسے کیوں اتنی دور جانا پڑ گیا۔

    میری طرف دیکھو اس کا باپ پکارا اور جارج تقریبا ایک دم سے چونکتے ہوئے بستر کی طرف بڑھا تا کہ اس

    معاملے سے نمٹ سکے لیکن پھر آدھے راستے ہی میں ٹھٹھر کا ۔

    کیوں کہ اس نے اپنا سکرٹ اوپر اٹھا لیا ہوگا۔ اس کا باپ گنگناتے ہوئے بولا کیوں کہ اس نے اپنا سکرت

    اوپراٹھایا ہوگا اس طرح اس فاحشہ نے ۔ اور اس کی منگیتر ینقل اتارنے کے لیے اس نے ان میں آتی اور افعال کے

    جی کے زمانے کا اس کی ران کا زخم دکھائی دینے لگا ” کیوں کہ اس نے اپنا سکرٹ اوپر اٹھا لیا ہوا ہوں اور نہیں ، اور تم نے

    اس سے عشق بگھارا، اور اس سے کسی رکاوٹ کے بغیر بے تکلف ہونے کے لیے تم نے اپنی ماں کی یاد کو پامال کیا، اپنے

    دوست کو دھو کر دیا اور اپنے باپ کو یوں بستر میں لا چا که دوترکت کرنے کے قائل تیار ہے میں وہ حرکت کر سکتا ہے کیا میں

    کرسکتا اور وہ بغیر کسی سہارے کے کھڑا ہو گیا اور اپنی جان میں ہوا میں پلانے لگا۔ شدت جذبات سے اس کے چہر سے کہا

    سر کردیا تھا۔

    جارج ایک کونے میں سکڑ کر کھڑا ہو گیا اپنے باپ سے کن حد تک فاصلے پر۔ بہت عرصہ پہلے اس نے کا ارادہ کیا تھا

    کہ ہر معاملے پر گہری نظر رکھے گا تا کہ اگر کوئی اس پر پیچھے سے یا کسی اور طرت سے بالواسط حملہ کر ے، اس پر بھی تو دان

    کے لیے تیار ہو۔ اب اسے پھر سے اتنے عرصے سے پھولا ہوا فیصلہ یاد آیا اور اسے وہ پھر سے کھول دیا جیسے کوئی سوئی کے

    ناکے میں دھاگہ ڈالنے کی کوشش کرے۔

    لیکن تم اپنے دوست کو دھوکہ نہیں دے سکے۔ اس کے باپ نے چیخ کرکہا، اپنی شہادت کی انگلی کے اشارے سے

    اپنی بات پر اصرار کرتے ہوئے میں یہاں اس موقع پر اس کا نمائندہ ہوں ۔

    تم مسخرے جارج خودکوچنے سے روک نہیں سکا لیکن فورأی بی احساس ہونے پر کہ اس سے کیسی تھی سرزد ہوئی ، اس

    کی آنکھیں باہر بل پڑیں اور اس نے زبان دانتوں تلے دبلی لیکن اب دیر ہو چکی تھی ۔ تکلیف سے اس کے گھٹنے جواب دے گئے۔

    ہاں بے شک میں یہاں مسخره کین ہی کر رہا ہوں ۔ مسخرہ پن ۔ ایک عمدو لفظ ۔ ایک بوڑھے ریڈ وے کی تشفی کے لیے

    اور بچا ہی کیا ہے۔ مجھے بتا اور جواب دیتے ہوئے یہ مت بھولنا کہ تم ابھی تک میرے اکلوتے بیٹے ہو ۔ میرے لیے بھائی

    کیا ہے، میرے پچھلے کمرے میں، بے ایمان نوکروں کے ہاتھوں تنگ، اپنی ہڈیوں کے گودے تک بوڑھا؟ اور میرا بیا ساری دنیا میں خوشی سے دندناتا پھرتا تھا، کاروباری معاملات نمٹاتا ہوا جنھیں میں نے ہی اس کے لیے تیار کیا ہوتا ہے۔

    فاتحانہ خوشی سے پھولے نہیں سماتا اور اپنے باپ کے سامنے سے ایک معزز کاروباری انسان کی طرح بھنچے ہوئے ہونٹوں

    والے چہرے کے ساتھ گزر جاتا ہے۔ کیا تم سوچتے ہو کہ مجھے تم سے محبت نہیں ہے، مجھے، جس سے تم پیدا ہوئے ۔

    اب آگے جھکے گا’ جارج نے سوچا کہیں پر خود کو گرانہ لے، اور ٹوٹ پھوٹ جائے ۔ یہ الفاظ اس کے دماغ

    میں سے سرسراتے ہوئے گزرے۔

    اس کا باپ آگے جھکا لیکن گرانہیں ۔ جب چارج قریب نہیں آیا جیسا کہ اسے توقع تھی تو اس نے پھر سے خودکو سیدھا

    وہیں شہر و جہاں ہو۔ مجھے تمھاری ضرورت نہیں ہے تمھیں غلط بھی ہے کہ تم میں اتنی طاقت ہے کہ یہاں تک آسکو

    اور یہ کیتم اپنی مرضی سے خود کو وہاں روکے ہوئے ہو کسی بھول میں مست رہنا۔ مجھ میں اب بھی تم سے زیادہ ہی طاقت

    ہے۔ صرف خود پر بھروسہ کرتا تو شاید گر چکا ہوتا لیکن تمھاری ماں نے اپنی طاقت میں سے تاحصہ حصہ مجھے دیا کہ میں نے

    تمھارے دوست کے ساتھ شان دا تعلق قائم کیا اور تمھارے سارے گا یک بھی میری جیب میں ہیں ۔

    اس کی قمیض میں جیبیں بھی ہیں ۔ جارج نے خود سے کہا اور اسے یقین ہو گیا کہ اس بات سے وہ اسے دنیا بھر کے

    لیے ایک مشکل آدی کے طور پر پیش کر دے گا۔ یہ خیال بس لیے بھر کے لیے اس کے ذہن میں آیا اس لیے کہ وہ مستقل طور پر

    ہر بات بھولتا جارہا تھا۔

    ذرا اپنی منگیتر کو بانہوں میں لے کر میرے سامنے سے گزر کر تو دیکھو، میں اسے تمھارے پہلو سے اچک لوں گا۔تم مجھ ہی نہیں پا گئے کہ کیسے؟

    ( جاری ہے )

  • انسانی خواہشات اور زندگی تحریر: ابوبکر ہشام 

    انسانی خواہشات اور زندگی تحریر: ابوبکر ہشام 

    ہر انسان کے اندر خواہشات کا جنم لینا ایک فطری عمل ہے -اور اس حقیقت سے کوئی انکار بھی نہیں کر سکتا کہ بنی نوع انسان کی خواہشات اُس کے ہوش سنبھالنے سے لے کر قبر میں اترنے تک جاری رہتی ہیں – 

    دنیا کی رونقیں اور رنگینیاں دیکھنے کے بعد انسان کا اپنے اندر خواہشات کا سمندر لئے پھرنا اک عام سی بات ہے – اُس کی خواہشات عمر کے ہر حصے میں مختلف ہوتی ہیں ۔ وہ اپنا بچپن اس چاہ میں گزارتا ہے کہ وہ جلد بڑا ہو گا اور اپنے بڑھے بھائیوں کی طرح وہ سب کچھ کرے گا جو وہ کرتے ہیں ۔ اسی بات کا انتظار کرتے کرتے وہ وہ اپنی جوانی میں پہنچ جاتا ہے اور عمر اس حصے میں پہنچنے کے بعد اس کی تمناؤں کا جال پھیلتا ہی چلے جاتا ہے –

    وہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس اچھا گھر ہو  ، گاڑی ہو ، عزت ہو ، شہرت ہو ، رعب و دبدبہ ہو اور وہ سب کچھ جس کی وہ آرزو کرے ۔ 

    وہ نا چاہ کر بھی ان خواہشات کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتا ہے – اور انکی طلب میں وہ اپنی زندگی گزار دیتا ہے – لیکن اس کی خواہشات نہ تو کم ہوتی ہیں اور نہ کہ ختم – یہ بات انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ ایک چیز کو حاصل کرنے کے بعد دوسری کی تمنا رکھنے لگتا ہے – وہ چاہتا ہے کہ اگر اس نے اپنے کاروبار سے سو کڑوڑ کما لیا ہے تو وہ اب مزید سو کڑوڑ کیسے کمائے – غرض یہ کہ انسان کی خواہشات اور زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی حوس اس کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتی – 

    اس ساری کشمکش کے دوران انسان یہ بھول جاتا ہے کہ اس نے ایک دن مرنا بھی ہے – اِس کاسب کچھ ادھر دنیا میں اس کے ساتھ دفن ہو جانا ہے -اس دنیا کی محبت اور رنگینی اُسے اس قدر اپنے اندر جکڑ لیتی ہے کہ اسے یہ سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا کہ اگر میں ہی نہ رہا تو میری یہ سب دنیاوی تگ و دو کس کام کی ؟ 

    اس مختصر زندگی میں جس کے اگلے لمحے کا کسی کو اندازہ تک نہیں ہوتا کہ اس نے زندہ بھی رہنا ہے یا نہیں وہ ایسے منصوبے بناتا ہے کہ جیسے اسے مرنا ہی نہ ہو ۔ لیکن حقیقت اس کے باکل برعکس ہے – اللہ قرآن کریم میں اشاد فرماتے ہیں : 

    ‏كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ

    ‏ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے

    ‏آل عمران 3-185″

    انسان کااپنی خوہشات کے آگے بے بس ہونے کی ایک بڑی وجہ اللہ کے دئیے ہوۓ پر صبر و شکر ادا کرنے کی بجائے لالچ و ہوس میں مزید کی طلب رکھنا ہے – 

    انسان کی زندگی تو ختم ہو جاتی ہے لیکن اسکی خواہشیں مرنے تک اُس کے ساتھ رہتی ہیں – انسان کی خواہشات اور لالچ و حوس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : 

    اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہو تو وہ تیسری کا خواہشمند ہو گا اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی – اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو (دل سے ) سچی توبہ کرتا ہے ۔ 

    (صحیح بخاری ۶۴۳۶)

    بعض اوقات خواہشات انسان کے اندر اس قدر بے چینی اور اضطراب کی سی کیفیت پیدا کر دیتی ہیں کہ وہ ان کی آرزو میں ہر جائز اور ناجائز ذریعہ بھی استعمال کر لیتا ہے – اس کی سوچ ، اُس کے خیالات ہر وقت صرف اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ وہ کسی طرح ان کو پورا کرے لیکن انسان کی یہ خواہشات اُس کا پیچھا مرنے تک نہیں چھوڑتی اور شاید ان سے نجات اور انسان کے دل کو سکون موت کے بعد ہی ملتا ہے ۔ بقول غالب 

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے 

    بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکل

  • فیصلہ پارٹ نمبر 4 تحریر سکندر علی

    نہیں ابوجان، میں کسی ڈاکٹر کو بلاتا ہوں اور ہم اس کی ہدایات پرمل کریں گے۔ ہم یہ کمرہ ہی بدل لیں گے۔ آپ

    سامنے کے کمرے میں منتقل ہو سکتے ہیں ۔ میں یہاں آجاؤں گا۔ آپ کو اس تبدیلی کا معمولی ساہی احساس ہوگا ۔ ہر چیز آپ

    کے ساتھ ہی وہاں منتقل ہو جائے گی لیکن یہ سب کچھ بعد میں ہوگا، پہلے تو میں آپ کو کچھ دیر کے لیے بستر میں لٹا دیتا

    ہوں۔ مجھے یقین ہے آپ کو مل آرام کی ضرورت ہے۔ میں کپڑے اتارنے میں آپ کی مددکروں گا۔ آپ دیکھئے گا کہ

    میں ایسا کروں گا۔ اگر آپ فورا ہی سامنے کے کمرے میں منتقل ہونا چاہیں تو آپ فی الحال میرے بستر میں جا کر لیٹسکتے ہیں ۔ یہی سب سے بہتر رہے گا۔

    جارج اپنے باپ کے قریب کھڑا تھا جس کا الجھے ہوئے سفید بالوں والا سر اس کی چھاتی سے جالگا تھا۔

    جارج اس کے باپ نے بغیر ہلے مدھم آواز میں کہا۔

    جارج فورا ہی اپنے باپ کے ساتھ نیچے جھک گیا۔ اس نے اپنے باپ کے تھکے ہوئے چہرے پر پھیلی ہوئی پتلیاں

    دیکھیں جو آنکھوں کے کناروں سے اسی پر جمی ہوئی تھیں ۔

    سینٹ پیٹرز برگ میں تمھارا کوئی دوست نہیں ہے۔ تم ہمیشہ سے ایسے ہی فریبی ہو اور مجھ سے فریب کرنے سے باز

    نہیں آتے۔ وہاں تمھارا کوئی دوست ہوئی کیسے سکتا ہے؟ مجھے یقین نہیں آتا ۔

    ابو جان ز را یاد کرنے کی کوشش کئے جاری اپنے باپ کو آرام کری سے بلند کرتے ہوئے بولا اور جونہی وہ

    نقاہت سے سیدھا کھڑا ہو تو اس کا شب خوابی کا لباس اتارایا۔ تھوڑے ہی عرصے بعد اس بات کو تین سال ہو جائیں گے

    جب میرا دوست آخری مرتبہ یہاں آیا تھا۔ مجھے یاد ہے آپ کو خاص طور پر وہ پیش نہیں تھا۔ کم ازکم دو بار میں نے آپ کو اس

    سے ملنے سے رد کے حالاں کہ تب وہ میرے ہی کمرے میں بیٹا ہوا تھا۔ میں اس سے آپ کی نفرت کو اچھی طرح سے مجھ سکتا

    ہوں ۔ میرا دوست بھی بہت عجیب ہے لیکن پھر بعد میں آپ کی ایک سے گاڑھی چھنے گی۔ مجھے یہ سوچ کر فخر محسوس ہوتا کہ

    آپ نے اسے سنا، ہاں میں سر ہلایا اور اس سے سوال پر تھے۔ دماغ پر زور دیں تو ضرور آپ کو یاد آ جائے گا۔

    وہ میں روی انقلاب کے بارے میں بہت کی غیر معمولی کہانیاں سنایا کرتا تھا۔ مثال کے طور پر جب وہ کیو کے

    دورے پر تھا اور ایک نادی جلوس سے اس کی ٹڈ بھیڑ ہوئی تھی اور اس نے ایک پادری کو بالکونی میں دیکھا تھا جس نے اپنے

    ہاتھ میں خون میں لتھڑی ہوئی صلیب کا زخم بنایا تھا اور ہاتھ بلند کے ہجوم سے درخواست کر رہا تھا ۔ آپ نے اس واقعہ کا خود

    کبھی ایک سے زائد بار ذکر کیا۔

    اس اثنا میں جاری اپنے باپ کو پھر سے وہاں بٹھانے اور احتیاط سے اس کا سوتی پاجامہ اتارنے میں کامیاب ہو گیا

    جو اس نے اپنے لینن کے بنے ہوئے زیر جامہ اور جرابوں کے اوپر پہنا ہوا تھا ۔ زیر جامہ کی غلاظت کو دیکھ کر اس نے اپنے

    آپ کو ملامت کی کہ وہ اپنے باپ کو نظر انداز کیے ہوئے تھا۔ بی واقعتا اس کی زمہ داری تھی کہ وہ خیال رکھے کہ اس کے باپ

    نے زیر جامہ بدلا تھایا نہیں ۔ اس نے ابھی تک واضح انداز میں اپنی منگیتر سے بھی اس بارے میں بات نہیں کی تھی کہ وہ

    مستقبل میں اپنے باپ سے تعلق کیا انتظامات کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ انھوں نے اپنے طور پر فرض کرلیا تھا کہ شادی کے

    بعد اس کا باپ یونہی اس پرانے اپارٹمنٹ میں رہتا ہے لیکن اب اس نے فورآنی یہ پکا ارادہ کیا کہ وہ باپ کو نئے گھر میں

    اپنے ساتھ لے جائے گا۔ ذرا سوچئے تو صاف معلوم ہوتا کہ جو د کھ ر کھ وہ اپنے باپ کی کرنا چاہتا تھا، اس کے لیے دیر ہو چکی تھی۔

    وہ اپنے باپ کو بازوں میں اٹھا کر بستر تک لے گیا لیکن چند قدم ہی بستر کی طرف بڑھا ہوگا کہ دیکھ کر اس کا

    پاپ اس کے سینے میں بندھی کھڑی کی زنجیر سے کھیل رہاتھا

    ، اسے دہشت کا احساس ہوا۔ وہ اپنے باپ کو بستر پر انہیں لٹا سکا 

    کیوں کہ زنجیر پر اس کی گرفت بہت مضبوط تھی لیکن جوہی وہ بستر پرلیٹا، باپ نے زنجیر چھوڑ دیا۔ اس نے خود کھیل میں

    اچھی طرح ڈھانپ لیا بلکہ اسے اپنی عادت کے بکس کافی اوپر اپنے کندسوں تک لیا۔ وہ جاری کو نامهربان نظروں سے

    دیکھ رہا تھا۔

    آپ کو میرا دوست یاد آنے لگا ہوگا یا نہیں؟’ جارج نے حوصلاف انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔

    کیامیں اچھی طرح سے ڈھک گیا ہوں ۔ اس کے باپ نے پوچھا جیسے وہ انداز نہیں لگا پارہا تھا کہ اس کے پیری

    طور پر بلا سے ڈھکے ہوئے تھے یانہیں ۔

    کیا آپ بستر میں آرام محسوس کررہے ہیں؟ جارج بولا اور باپ کے گرد بستر کو ہموار کر دیا۔

    کیا میں اچھی طرح سے ڈھک گیا ہوں ؟ اس کے باپ نے ایک بار پھر پوچھا اور لگتا تھا جیسے اسے جواب سنے

    میں دی تھی۔

    جارج ہے۔

  • شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی پر ایک نظر  تحریر :ساجد علی

    شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی پر ایک نظر تحریر :ساجد علی

    شہید بے نظیر بھٹو کسی بھی اسلامی ملک کی پہلی ہیڈ آف اسٹیٹ ہیں ان کی کہانی شہید ذوالفقار علی بھٹو سے شروع ہوتی ہے شہید الفقار علی بھٹو جو آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں یہ پاکستان کے پہلے الیكٹڈ وزیراعظم ہیں بھٹو صاحب ایک زبردست سیاست دان تھے 

    جب بھٹو صاحب کو پھانسی ہوئی تو اس وقت بھٹو صاحب کے بیٹے مرتضی بھٹو ضیاء حکومت کے خلاف ایک تحریک بھی چلا رہے تھے 

    اس تحریک کا نام تھا "الذوالفقار”

    مرتضی بھٹو سیاست میں بہت مشہور ہو رہے تھے اور دوسری طرف ان کی بہن بے نظیر بھٹو کو ضیاء حکومت نے نظر بند کر رکھا تھا جس کی وجہ سے سیاست میں وہ بھی بہت مشہور ہو رہی تھی آخر کار 1984 میں جب بے نظیر کو رہائی ملی تو ملک سے باہر باہر چلی گئیں اپنے والد کی طرح بے نظیر دنیا کی بہترین یونیورسٹیز میں گریجویٹ کر چکی تھی جس میں "ہاؤورڈ اور آکسفورڈ” یونیورسٹیز شامل ہیں ۔

    پاکستان سے باہر رہ کر بھی بے نظیر کافی مشہور ہو چکی تھی 

    1986 میں جب بے نظیر وطن واپس آئیں تو لاہور میں ان کا زبردست استقبال کیا گیا جس کی مثالیں آج بھی دی جاتی ہے 

    اور استقبال کے بعد واضح ہو گیا کہ پاکستان کی اگلی وزیر اعظم بے نظیر ہی ہوگی اور بالکل ایسا ہی ہوا 1988 میں جب ضیاء الحق کا طیارہ تباہ ہوا تو اس کے بعد ہونے والے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی ۔

    پاکستان دنیا کے پہلے ممالک میں سے ہے جنہوں نے ایک فیمیل ہیڈ آف اسٹیٹ سلیکٹ کی ہے جبکہ امریکا آج تک ایسا نہیں کر سکا 

    الیکشن سے پہلے بے نظیر کو مشورہ دیا گیا کہ آپ شادی کر لیں 

    ایک نوجوان لڑکی کی بجائے ایک شادی شدہ عورت زیادہ بردبار ذہین اور عوام سے جڑی ہوئی لگے گی اور بے نظیر اس مشورے کو مان گئی ۔

    اور بے نظیر نے فیصلہ کیا کہ وہ ارینج میرج کریں گے جس کے بعد ان کی والدہ نے اس کی شادی حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری سے کروائیں اور یہ شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی جس میں دو لاکھ سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔

     بے نظیر بھٹو وزیراعظم تو بن گئی لیکن پنجاب میں ان کی حکومت نہیں آئی اور بیوروکیسی کی بھی پیپلزپارٹی کو کوئی خاص سپورٹ نہیں تھی کیونکہ ضیاء دور میں پاکستان پیپلزپارٹی کی پاکیات کو چن چن کر ختم کیا گیا تھا ۔

    اس لیے بے نظیر بھٹو کا پہلا دور تو حالات سنبھالتے سنبھالتے ہی نکل گیا کیونکے پنجاب کے وزیر اعلی نواز شریف نے بے نظیر کی ناک میں دم کر رکھا تھا اور جب سارے ہیں آپ کے پیچھے پڑ جائے تو حکومت کیا چلے گی اور بینظیر بھٹو کی حکومت تقریبا 20 ماہ کے بعد ختم ہوگئی 

    اور اسی طرح 1993 میں بینظیر بھٹو ایک بار پھر الیکشن جیت گئی اور اس بار وہ بہت میچور ہو گئی تھی اور اس بار وہ حالات سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو چکی تھی اسی دور میں بے نظیر کے بھائی مرتضی بھٹو کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا ۔ 

    آخر کار نتیجہ یہ نکلا کہ بے نظیر کے تین سالہ حکومت کے بعد بے نظیر کے اپنے ہی لگائے ہوئے صدر فاروق لغاری نے ان کی حکومت توڑ دی 

    اور اگلی بار الیکشن میں شکست ہونے پر بے نظیر بھٹو صاحبہ ملک سے باہر چلی گئی ۔

    1999 میں مشرف نے ملک پر مارشل لاء لگا دیا تو 2000 میں نواز شریف بھی ملک چھوڑ کر چلے گئے ۔

    اور مشرف سکون سے حکومت کرتے رہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ہی بنائی ہوئی مسلم لیگ ق سے تنگ آنے لگے  

    اور 18 اکتوبر 2007 کو بینظیر نے ملک میں واپسی قدم رکھا اور بے نظیر کا بھرپور استقبال کیا گیا لیکن استقبال کے ساتھ ساتھ ایک بم دھماکا بھی ہوا جس میں 200 سے زیادہ لوگ مارے گئے اور 500 سے زیادہ زخمی ہوئے 

    اور شہدائے کارساز کے دھماکے کے بعد بھی ان کا حوصلہ بہت بلند تھا اور اس دھماکے سے صرف دو ماہ بعد 27 دسمبر 2007 کو بے نظیر کا لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک جلسہ تھا اور یہ وہی جگہ تھی جہاں پر پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو ایک افغان شہری نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا اور اسی مقام پر محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ جب جلسہ ختم کرکے واپس جا رہی تھی تو اپنے کارکنوں کو داد دینے کے لیے وہ اپنی گاڑی سے باہر نکل کر کارکنوں کو ہاتھ ہلا کر داد دینے لگی اس کے بعد ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی اور پھر بم دھماکا ہوا اس طرح کچھ ظالموں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی شہید کر دیا ۔ 

    ہم سب کو وہ دن یاد ہے وہ وقت یاد ہے جب ان کو شہید کیا گیا خاص طور پر وہ لوگ جو بے نظیر صاحبہ کے ساتھ جلسے میں تھے پیپلز پارٹی کے تمام کارکن سڑکوں پر نکل آئے تھے اور حالات تمام خراب ہونے لگے تھے مگر پیپلز پارٹی کے لیڈر نے بات بگڑنے نہیں دی اور اپنےکارکنوں کو حوصلہ دیا 

    یہ بات تو سچ ہے بے نظیر ایک مضبوط لیڈر تھیں ان کو بہت مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی لگا دی گئی اور ان کو کئی بار جیل کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر بھی وہ ڈٹی رہی اور اپنے ملک کے لیے لڑتی رہی ایک باہمت اور ثابت قدم خاتون تھیں 

    دعا ہے اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین