Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • انسانیت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے گا….محمد فہد شیروانی

    انسانیت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے گا….محمد فہد شیروانی

    اسلام کا سب سے بڑا درس انسانیت ہے۔ لیکن اسلام کا نام استعمال کرنے والے پاکستان کے نام نہاد بنک ” مسلم کمرشل بنک” نے انسانیت کا ایسا جنازہ نکالا جس نے آج قلم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ مسلم کو کمرشل کرنے والے "MCB” نے اُس وقت دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا جب اس نے اپنے ایک ایسے اکاؤنٹ ہولڈر کو بنک میں آ کر اکاؤنٹ کی تصدیق کر نے کا کہا جو کہ اپنی علالت و لاغری کے باعث چلنے کے قابل نہ تھا۔ مگر MCB کی انتظامیہ نے روایتی بے حسی اور اذلی ہٹ دھرمی کا ثبوت دیتے ہوئے اکاؤنٹ ہولڈر کے کسی بھی عذر کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اکاؤنٹ بند کرنے کا مژدہ سنایا۔ مجبور و لاچار مریض کو بحالت مجبوری بنک آ کر اپنے اکاؤنٹ کی (بائیو میٹرک) تصدیق کرنا پڑی( تصویر، تحریر کے ساتھ منسلک ہے)۔
    MCB جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا اور مشہور بنک ہونے کا دعوی کرتا ہےہمیشہ اپنے لاکھوں صارفین کو تسلی بخش اور عمدہ سروسز دینے میں ناکام رہا ہے جو کہ MCB کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

    MCB کے رولز، سسٹم اور عملے کا رویہ دوستانہ و ہمدردانہ ہرگز نہ ہے۔ وہاں صارفین کو اپنے کام کے لئے گھنٹوں انتظار کی زحمت سے گزرنا پڑتا ہے اور جب اس اذیت بھرے انتظار کے بعد صارف کی باری آتی ہے تو بنک کے پاس فوٹو کاپی کی سہولت نہ ہونے کے باعث صارف کا کام ادھورا رہ جاتا ہے اور صارف کو اپنے شناختی کارڈ وغیرہ کی فوٹو کاپی کرانے لے لئے باہر جانا پڑتا ہے اور واپس آکر پھر اسی انتظار کی کیفیت سے دو چار ہونا صارف کی مجبوری بن جاتا ہے۔
    پاکستان میں دوسرے اداروں کی طرح بنکنگ کا معیار بھی اتنا گر چکا ہے کہ وہ اپنے صارفین کو سہولیات دینے کے بجائے ان کی مشکلات میں اضافہ کئے جا رہا ہے۔ سٹیٹ بنک کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعلامیے کے مطابق ہر بنک اکاؤنٹ ہولڈر کو اپنے اکاؤنٹ کے "بائیو میٹرک” تصدیق کرانا لازم ہوگی،جو کہ ملک کی معاشی پالیسی کے لئے ایک احسن قدم ہے لیکن اس کے لئے کوئی خاص طریقہ کار وضح نہیں کیا گیا جس کے باعث بنک صارفین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
    سٹیٹ بنک آف پاکستان کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق مختلف بنکوں کی کم و بیش 15 ہزار سے زائد برانچوں میں تقریباً 5 کروڑ پاکستانی بنک اکاؤنٹ ہولڈرز ہیں اور پاکستان میں بنک استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد دنیا کے درجنوں ممالک کی کل آبادی سے زیادہ ہے مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔

    MCB میں بزرگوں اور خواتین کے لئے دیگر پرائیویٹ بنکوں کی مانند کوئی خصوصی کاؤنٹر نہیں بنائے گئے MCB کی کچھ برانچز میں اگرچہ یہ کاؤنٹر موجود ہیں لیکن اس کا با قاعدہ طور پر صحیح استعمال نہیں کیا جاتا جس سے بزرگ اور خواتین اس سہولت سے محروم رہ جاتے ہیں۔سٹیٹ بنک کو چاہئیے کہ وہ ایسا طریقہ کار وضح کرے جس سے بزرگ اور بیمار صارفین کی “بائیو میٹرک” تصدیق کی سہولت انہیں ان کی گھر پر مہیا کی جائے۔ اس سے نا صرف صارفین کو سہولت ملے گی بلکہ بنکنگ سیکٹر کے لئے ان کے اعتماد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا

    بنکنگ سیکٹر کے تمام صارفین کی جانب سے سٹیٹ بنک آف پاکستان سے التماس ہے کہ MCB کے سسٹم اور خدمات کو بہتر سے بہترین کیا جائے اور اگر پرائیویٹ سیکٹر اس بنک کو صحیح طریقہ سے نہیں چلا سکتا تو اسے واپس حکومت کی تحویل میں لے کر اس کا نظام درست کیا جائے۔

    محمد فہد شیروانی

  • تبدیلی کیسے آتی ہے؟؟؟ محمد نعیم شہزاد

    تبدیلی کیسے آتی ہے؟؟؟ محمد نعیم شہزاد

    تبدیلی کیسے آتی ہےتبدیلی زندگی کی علامت ہے۔ تبدیلی ایک مستقل عمل ہے جو جاری رہتا ہے۔ وقت، موسم انسان، معاشرہ اور اقوام سب تبدیلی کا مظہر ہیں۔ عمرانی لحاظ سے تبدیلی سوچ و فکر کے زاویہ اور طرز عمل کے تبدیل ہونے کا نام ہے۔ تبدیلی مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں میں وقوع پذیر ہو سکتی ہے۔ بعض تبدیلیاں عارضی اور وقتی ہوتی ہیں اور کچھ تبدیلیاں مستقل ہوتی ہیں۔ بہت سے مواقع پر ہم تبدیلی کا محرک ہوتے ہیں اور کسی موقع پر ہمیں تبدیلی کے زیرِ اثر خود کو تبدیلی کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے۔ بعض تبدیلیاں اس قدر مستقل اور باقاعدہ ہوتی ہیں کہ ہم انہیں تبدیلیوں کو محسوس ہی نہیں کرتے۔ پھر یہ تبدیلیاں لوگوں کی زندگی پر مختلف طرح اثر انداز ہوتی ہیں اور ہر ایک کی حساسیت بھی مختلف ہوتی ہے۔ بعض افراد اس قدر ذکی الحس ہوتے ہیں کہ وہ آئندہ ہونے والی تبدیلیوں کا پیشگی اندازہ کر لیتے ہیں اور کچھ اس قدر غیر حساس ہوتے ہیں کہ بڑی سے بڑی تبدیلی کو محسوس نہیں کر پاتے۔
    اقوام اور معاشرے افراد سے وجود میں آتے ہیں اور افراد میں انفرادی و اجتماعی تبدیلیاں ہی قوم میں تبدیلی لاتی ہیں۔ اس حوالے سے قرآن مجید میں بیان کردہ اللہ تعالیٰ کا اصول بھی یاد رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتے جب تک افراد تبدیلی کے لیے کوشش نہیں کرتے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی مد نظر رہے کہ تبدیلی محض ہمارے منصوبہ، عمل اور فکر سے نہیں آنی بلکہ اس کے پیچھے ایک سوچ کارفرما ہوتی ہے۔ اگر حاکم وقت یا کسی ادارے کا سربراہ اپنے ملک یا ادارے میں اصطلاحات چاہتا ہے تو اس کے لیے جہاں اس کی منصوبہ بندی اور اس کے مطابق لیے گئے اقدامات اہم ہیں وہیں اس کی اور قوم کی انفرادی و مجموعی سوچ بھی اس پر اثر انداز ہوتی ہے۔
    تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو خیر القرون میں ہم ایک ایسا فکر انگیز واقعہ دیکھتے ہیں کہ جب حکمران قوم کی فلاح و بہبود اور انتظامی امور کی بہتری کے لیے رات کی تاریکی میں شہر کی گلیوں میں گشت کرتا ہے اور ایک گھر کے باہر سے گزرتے ہوئے اس کی سماعت سے پر فکر الفاظ ٹکراتے ہیں۔ یہ الفاظ ایک لڑکی کے ہیں جو اپنی والدہ کا دودھ میں پانی ملانے کا حکم بجا نہیں لاتی اور بتاتی ہے کہ خلیفہ نے اس کام سے منع کیا ہوا ہے۔ اس لڑکی کا اگلا جملہ ہماری عقل کے بند دریچوں کو وا کرنے کے لیے کافی ہے۔ جب ماں نے بیٹی سے کہا کہ خلیفہ کب ہمیں دیکھ رہا ہے تو دانا و زیرک اور خوفِ خدا رکھنے والی لڑکی نے جواب دیا کہ اللہ تو ہمیں دیکھ رہا ہے۔
    بس اس ایک جملے سے تبدیلی کا اصل محرک معلوم ہو جاتا ہے۔ ذرا غور تو کریں وہ کیا چیز تھی جس نے اس لڑکی کو ملاوٹ کے اس عمل سے روکا اور وہ کون سی قوت تھی جس نے لڑکی کو انکار کرنے کی اخلاقی جرأت دی؟
    جواب واضح ہے، خوفِ خدا اور بلا تفریق و تمیز احتساب کا احساس۔
    اب ہم دیکھتے ہیں وطن عزیز میں تبدیلی کے خواب کو۔ یقیناً حاکمِ وقت تبدیلی کے لیے پر عزم ہے اور اس کے لیے ضروری اقدامات بھی لیے جا رہے ہیں۔ مگر گزارش ہے کہ آپ جس قدر بھی احتساب اور قانون کے عمل کو سخت، شفاف اور مستعد کر لیں، چیک اینڈ بیلنس پر سو فیصد عملدرآمد مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ جتنے بھی ادارے اور ضابطے بنا لیں جب تک احساس ذمہ داری بیدار نہیں ہوتا حقیقی معنوں میں تبدیلی ناپید رہے گی۔ انفرادی اور مجموعی طور پر خوفِ خدا، تقویٰ اور احتساب کا احساس پیدا کیے بغیر تبدیلی کے اس خواب کی تعبیر ممکن نہیں ہے۔
    حکمران سے لے کر وطن کے ہر شہری کو یہ احساس بیدار کرنا ہو گا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ بے شک اللہ کا خوف ہی حکمت و دانائی کے اعلیٰ مقام پر ہونے کی علامت ہے۔

  • نظریاتی اختلاف، جھوٹ اور عدم برداشت ۔۔۔ زین خٹک

    نظریاتی اختلاف، جھوٹ اور عدم برداشت ۔۔۔ زین خٹک

    موجودہ دور میں برداشت کا مادہ ختم ہوتا جارہا ہے۔ کیونکہ ہمارے نظام تعلیم میں اور نہ ہی ہمارے معاشرے میں برداشت کے حوالے سے کوئی رہنمائی اور ٹریننگ کروائی جاتی ہے۔ ہم ہمیشہ سے اس مغا لطے کے شکار ہیں کہ ہم سب سے بہتر ہیں اور دوسرے کم تر ہیں۔ اس سوچ کی بدولت ہمارے معاشرے میں عدم برداشت بڑھتا جارہا ہے۔ دوسری طرف آج کل سوشل میڈیا کی بدولت شہرت کی وبا پھیل رہی ہے۔ ہر دوسرا شخص سوشل میڈیا پر آ کر کسی دوسرے کے نظریے پر حملہ آور ہوتا ہے۔ نظریہ خواہ سیاسی ہو یا مذہبی ،کسی انسان کی زندگی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ دنیا میں زیادہ تر فسادات نظریاتی اختلافات کی بدولت ہی ہوئے ہے۔ نظریات پر حملہ آور کو منفی سوچ کے لوگوں سے زیادہ پذیرائی بھی ملتی ہے۔ اور لوگ بھی بغیر کسی تحقیق کے سچ مان لیتے ہیں۔ گذشتہ روز پی ٹی ایم کی طرف سے تین بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں کہ یہ بھوک کی وجہ سے مر گئے حلانکہ ان بچوں نے موسم سرما کے کپڑے پہنے تھے اور یہ ایک پرانی تصویر تھی لیکن اس کے باوجود بھی سوشل میڈیا پر لوگ دھڑا دھڑ پھیلا رہے تھے۔ اسی طرح چند دن پہلے عوامی نیشنل پارٹی نے ترکی میں جلوس کے تصاویر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی تھیں۔ کہ یہ عوامی نیشنل پارٹی کا بجٹ کے خلاف مظاہرہ ہے۔ حلانکہ اس تصویر میں، بلڈنگ، کپڑے، سب کچھ نمایاں تھیں۔ اج کل سوشل میڈیا پر بغیر دلیل و استدلال مغا لطے کی بنیاد پر نظریات زیر عتاب ہیں۔ کوئی بندہ آزادنہ طور پر اپنے نظریے پر بات نہیں کرسکتا۔ کیونکہ سوچ وشعور سے عاری مفتیان اور غازیانِ سوشل میڈیا فتویٰ کی بمباری شروع کرتے ہیں۔ ہر روز بے بنیاد اور دلیل کے بغیر خبریں جھوٹی خبریں معمول بن چکی ہیں۔ بغیر دلیل و شعور کے نظریات پر حملوں سے با ت گالیوں تک پہنچتی ہے۔ گالیوں سے بات معاشرے میں بگاڑ اور خون خرابے تک چلی جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ ہم کسی جھوٹی خبر کو نہیں پھیلائیں گے۔ کسی کے نظریات پر حملہ نہیں کریں گے۔ ہمیشہ مثبت تنقید کریں گے۔ کسی بندے کے ذاتی زندگی پر حملہ نہیں کریں گے اور کوئی بھی با ت ثبوت کے بغیر نہیں کریں گے۔ اسی سے معاشرے میں ایک مثبت مکالمے کی راہ ہموار ہو سکے گی اور دوسرے کے نظریات کو تحمل سے برداشت کرنے کی روش عام ہو گی۔

  • میری پہچان تم سے ہے ۔۔۔ محمد نعیم شہزاد

    میری پہچان تم سے ہے ۔۔۔ محمد نعیم شہزاد

    (سال کے مختلف ایام کو مختلف ناموں سے موسوم کر دیا گیا ہے جیسے آج کا دن "فادرز ڈے” کے نام سے معروف ہے۔ اس حوالے سے انتہائی اہم بات کہ بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ سال میں صرف ایک دن ہی باپ کے نام نہیں بلکہ ہر دن باپ کا احترام ہونا چاہیے تو اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ میری دانست میں اس دن کو منانے کا ہرگز یہ مقصد نہیں جو بعض لوگوں نے سمجھ لیا ہے۔ یہ تو محض یاد دہانی کے لیے ہے کہ اس دن غور و فکر کریں اور کچھ خاص کریں۔)
    (نوٹ: یہ ذاتی رائے کا اظہار ہے اس سے اتفاق یا اختلاف کیا جا سکتا ہے۔)

    وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
    ابو البشر سے ہی ہوتا ہے یہ جہاں پیدا

    اس کائنات کا نظام امداد باہمی کے اصول پر چل رہا ہے۔ ہر اک شے کسی دوسری چیز پر منحصر ہے اور کسی کو بھی افتراقِ انحصار حاصل نہیں ہے۔ مرد و زن نسلِ انسانی کے ارتقاء کے لیے بنیاد ہیں تو آدم ہی بنی آدم کی ابتدا۔ الغرض انسان کے لیے پدر و مادر دونوں اہم اور ضروری ہیں مگر آج کے دن کی مطابقت سے ہم باپ کے حوالے سے بات کریں گے ۔
    بنی نوع انسان کا آغاز وجود آدم سے ہی ہوا جو باپ کی مرکزی حیثیت اور اس کے کردار کو تسلیم کرنے کے لیے کافی ہے۔ باپ اس دنیا میں وہ واحد ہستی ہے جو انسان کی پیدائش سے پہلے بچے کے اس جہان میں آنے کا انتظام و انصرام کرتی ہے اور اسے یہ بھی فکر لاحق ہوتی ہے کہ میرے بعد میرے بچوں کی گزران کس طرح ہو گی۔ اپنا شباب، اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں اپنے اہل خانہ کے لیے صرف کر دینا ایک مرد کا شیوہ ہے۔ زمانے کے کٹھن حالات کا سامنا کرنا اور اہل خانہ کو راحت پہنچانا اس کا طرہ امتیاز ہے۔ باپ کی شفقت اور پیار مثالی ہے۔ یہ باپ ہی تو ہے جس کی تھپکی ایک بچے میں خود اعتمادی پیدا کر دیتی ہے اور زندگی میں آنے والے مشکل مراحل کا سامنا کرنے کی ہمت دیتی ہے۔
    باپ کی ان قربانیوں اور اس کردار کے پیش نظر ہی خالق کائنات نے باپ کو ایک اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمایا ہے کہ باپ کی رضامندی میں اپنی رضا اور باپ کی ناراضگی میں اپنی ناراضگی رکھ دی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے باپ کو جنت کا دروازہ قرار دیا۔
    ہمارے معاشرے میں ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک کسان گرمی کے موسم میں کھیت میں کام کر رہا تھا۔ جب اس کے باپ نے اپنے بیٹے کو پسینے میں شرابور دیکھا تو کہا بیٹا کچھ آرام کر لو۔ تھوڑی دیر میں سایہ ہوتا ہے تو کام پورا کر لینا۔ بیٹے نے باپ کو تسلی دی کہ مجھے گرمی نہیں لگ رہی اور بدستور کام میں جتا رہا۔ باپ کی روح کو سکون نہ ملا تو اس کو ایک ترکیب سوجھی۔ اس نے اپنے پوتے کے ساتھ دھوپ میں کھیلنا شروع کر دیا۔ اب بیٹے کو فوراً اپنے بیٹے کی فکر ہوئی اور کہنے لگا ابا جان اس چھوٹے کو سائے میں لے جائیں، دھوپ تیز ہے۔ تب بوڑھے باپ نے کہا واہ اپنے بیٹے کے لیے دھوپ تیز ہے اور میرے بیٹے لے لیے گرمی کی پرواہ ہی نہیں۔
    ایک باپ ہی کل کے معمار تعمیر کرتا ہے اور ایسے باغ کی آبیاری کرتا ہے جس کا پھل شاید اسے خود کو میسر نہ آئے مگر وہ پوری تندہی سے اپنے کنبے کی پرورش کرتا ہے اور بغیر کسی صلہ کی خواہش کے اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے۔
    آئیے اب ہم جائزہ لیتے ہیں کہ بچے اپنے والد کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے تو والدین کا احترام اور ان کی فرمانبرداری نہایت ضروری ہے۔ جان لیں کہ والدین آپ کے خیرخواہ ہیں وہ ہمیشہ آپ کا بھلا ہی چاہیں گے۔ ان کے خواب آپ سے وابستہ ہیں اور وہ آپ کے روشن مستقبل کے لیے آپ سے زیادہ فکر مند ہیں ۔ انھوں نے اس وقت آپ کے مستقبل کے بارے میں سوچنے کا آغاز کیا جب آپ طفلِ ناداں اور نا سمجھ تھے۔
    والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں اور ان کی خواہشات کا احترام کریں۔ والدین سے مل کر خوشی کا اظہار کریں اور مسکرا کر ملیں۔ ان سے اپنے مسائل شئیر کریں، مشکلات میں ان سے رہنمائی لیں اور ان کو اپنا بہترین دوست سمجھیں۔
    والدین آپ سے اپنے لیے کچھ نہیں چاہتے وہ آپ سے جو بھی مطالبہ کرتے ہیں وہ آپ ہی کی ذات کے لیے ہوتا ہے۔ آپ اپنے عمل سے صرف ان کا نام بنا سکتے ہیں اور برا بھی کر سکتے ہیں ۔ آپ کی اچھائی والدین کی نیک نامی اور آپ کی برائی والدین کی بدنامی کا باعث بنتی ہے۔ مگر پھر بھی بہت سے نوجوان اپنے عمل کو اپنی ذاتی زندگی سے تعبیر کرتے ہیں جو انتہائی تکلیف دہ بات ہے ۔
    آج کے دن بالخصوص اور پورا سال بھی ایسے افراد جن کے والدین اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں سوچتے ہیں کہ ان کو والدین سے حسن سلوک کا موقع میسر نہیں آیا اور وہ والدین کی کماحقہ خدمت نہیں کر سکے تو ان کو چاہیے کہ اپنے والد اور والدہ کے قریبی رشتہ داروں، ان کے دوستوں اور ان کے قریب العمر افراد سے حسن سلوک کریں ایسا کرنے پر ان کو والدین سے حسن سلوک جیسا ہی اجر عطا ہو گا اور دل کو راحت بھی ملے گی۔
    آج کے دن کا یہی پیغام ہے کہ والدین کی قدر کریں اور ان کا خیال رکھیں اور اگر وہ دنیا میں نہیں رہے تو ان کو دعاؤں میں یاد رکھیں اور ان کے قریبی افراد سے ان جیسا ہی حسن سلوک کریں۔

  • رشوت ستانی اور کرپشن ۔۔۔ صالح عبداللہ جتوئی

    رشوت ستانی اور کرپشن ۔۔۔ صالح عبداللہ جتوئی

    رزق حلال عین عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو حرام ذرائع سے رزق کمانے سے منع فرمایا ہے انسان کی قسمت میں لکھا رزق اس کو مل ہی جاتا ہے اب یہ اس پہ منحصر ہے کہ وہ جائز طریقے سے محنت و کاوش سے حاصل کرتا ہے یا پھر ناجائز طریقوں سے چوری ڈکیتی سود کرپشن یا رشوت خوری سے حاصل کرتا ہے..

    رشوت خوری معاشرے کے لیے ناسور بنتا جا رہا ہے آپ جس ڈیپارٹمنٹ میں چلے جائیں آپ کا کام تبھی ہو گا جب آپ سے تحفے تحائف اور انعام کے نام پہ رشوت نہ لے لی جاۓ ورنہ آپ کا کام پڑا رہے گا اور کسی صورت بھی آپ کی فائل وغیرہ آگے نہیں جاۓ گی.

    رشوت انسانی معاشرے کے لیے خطرناک اور مہلک مرض ہے. جس معاشرے میں رشوت عام ہو جاۓ اس معاشرے میں حق و سچ کا خون ہو جاتا ہے اور باطل ہمیشہ رشوت کی آڑ میں بدمعاشی کرتے ہوۓ دندناتا پھرتا ہے جس کی وجہ سے انصاف سے اعتبار اٹھ جاتا ہے اور کئی لوگوں کی بغاوت کا باعث بن جاتا ہے.

    رشوت کے کئی نقصانات ہیں مگر سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے آپ کا اخلاق پستی کے دہانے پہ چلا جاتا ہے اور معاشرے میں اس کی کوئی عزت نہیں رہتی اور نہ ہی اس آفیسر میں کسی قسم کا رعب ہوتا ہے نہ دبدبہ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے بھیک مانگنے والوں کی طرح سب کے آگے ہاتھ پھیلانا ہوتا ہے تو وہ سر اٹھا کے کیسے چل سکتا ہے اور کیسے انصاف دے سکتا ہے وہ حاکم ہو یا محکوم پولیس والا ہو یا ملزم جج ہو یا وکیل پھر سب ہی غرباء اور ایمانداروں کے دشمن بن جاتے ہیں۔

    رشوت لینے والا پیسوں اور سٹیٹس کا پجاری بن جاتا ہے اور یہ چیز اس کی فطرت میں شامل ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ اسے برا سمجھنے کی بجاۓ اپنا حق سمجھنے لگ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اصول و قوانین کے احکام کی نافرمانی کرتے ہوۓ اللہ تعالیٰ کا باغی بن جاتا ہے اور دنیا کی رعنائیوں میں مگن ہو جاتا ہے.

    حرام کمانے اور حرام کھانے والوں کی نہ عبادت قبول ہوتی ہے نہ کوئی صدقہ خیرات اور نہ ہی کوئی نیکی قابل قبول ہے نہ ہی اس کی کوئی دعا سنی جاتی کیونکہ جس بندے کا کھانا لباس اوڑھنا بچھونا اور رگ رگ حرام کی کمائی سے تر ہے تو اس کا نہ عمرہ قبول ہے نہ حج نہ نماز نہ زکوۃ یہاں تک کہ وہ خانہ کعبہ کے غلاف تک کو پکڑ کے دعائیں مانگے میرا اللہ اس کو بھی ٹھکرا دیتا ہے کیونکہ اس کے احکامات کو پس پشت ڈال کر حرام کے پیسے کو گھر کی زینت بنا کر اسی رب سے دعا کرو گے تو وہ واپس ہی پلٹے گی کیونکہ حرام کمائی سے صدقہ کرنا کپڑے کو پیشاب سے دھو کے پاک کرنے کے مترادف ہے۔

    رشوت کے نام پہ تحفے تحائف دیے جاتے ہیں اور رشوت لینے والے نے اب یہ جواز ڈھونڈ لیا ہے کہ یہ رشوت نہیں ہے یہ تو گفٹ ہے اور اس کا کوئی گناہ نہیں لیکن میرا ان سے یہ سوال ہے کہ اگر آپ کسی جگہ پہ پولیس آفیسر تعینات ہوۓ ہیں اور لوگ آپ کو گفٹ دیتے ہیں تو کیا جب وہ اپنا ناجائز کام لے کر آئیں گے تو آپ اس کو ذلیل کرکے دھکے دے کے آفس سے نکالیں گے؟
    کیا گفٹ آپ کی ڈیوٹی میں رکاوٹ نہیں بنیں گے؟؟
    کیونکہ گفٹ وہی دیتے ہیں جنہوں نے اپنے کام نکلوانے ہوتے ہیں کوئی بھی ایماندار اور حلال رزق کمانے والا بندہ پولیس کو کبھی بھی گفٹ نہیں دیتا صرف وہی دیتے ہیں جو کرپٹ ہوں اور جن کو آۓ روز آپ سے کام پڑنے ہوں.
    اب آپ ہی بتائیں کیا ایک ایماندار آفیسر گفٹ لیتا ہے؟
    ہرگز نہیں کیونکہ ایسا گفٹ بھی رشوت کے زمرے میں آتا ہے۔
    رشوت ستانی دو جہاں مالِ ناحق کھانے کا ذریعہ ہے وہیں میرٹ کا بھی خاتمہ کر کے رکھ دیتی ہے اور اہل کو اس کے حق سے محروم کرنے کا باعث بنتی ہے۔

    قرآن مجید میں رشوت لینے والے کے لیے سخت وعید ہے اللہ پاک فرماتے ہیں.
    (اے پیغمبر) یہ لوگ جھوٹ سننے والے اور حرام مال (رشوت) کھانے والے ہیں.
    دوسری جگہ فرماتے ہیں
    اور ان میں سے تم بہت سوں کو دیکھو گے کہ گناہ و زیادتی اور حرام خوری پر دوڑتے ہیں بیشک یہ بہت برے کام کرتے ہیں۔
    (سورۃ المائدہ آیت نمبر 62)

    اللہ نے رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت فرمائی ہے اور دونوں کا ٹھکانا جہنم بنایا ہے.
    رشوت کی مختلف اقسام ہیں جیسا کہ میں نے اوپر بھی ذکر کیا ہے مثال کے طور پہ حق کو باطل کرنے اور باطل کو حق ثابت کرنے کے لیے پیسوں کا لین دین کرنا ظلم و جبر کا دفاع کرنے کے لیے رشوت دینا کسی منصب پہ فائز ہونے کے لیے پیسے وغیرہ دینااور یہ مختلف صورتوں میں لی جاتی ہے نقد رقوم کی صورت میں تحفے تحائف کی صورت میں اور کبھی دعوتوں کی صورت میں.. غرض کہ رشوت جس صورت میں بھی لی یا دی جاۓ وہ اسلام میں سراسر غلط اور ناجائز ہے اور یہ جہنم کی طرف لے جاتی ہے..

    ہمیں چاہیے کہ معاشرے کے اس ناسور سے چھٹکارہ حاصل کریں اور اپنی نسلوں کو بھی حرام کمائی سے محفوظ رکھتے ہوۓ ان کی تربیت پہ زور دیں نہیں تو یہ حرام مال سے جوان ہونے والی اولادیں بھی والدین کے لیے دنیا و آخرت میں عذاب بن جائیں گی اور آپ کے لیے آگ کا ایندھن ثابت ہوں گی اللہ سے رزق کی فراوانی کی بجاۓ اس رب سے رزق میں برکت طلب کریں اور اس پہ کامل بھروسہ کرتے ہوۓ حلال رزق پہ ہی اکتفا کریں کیونکہ اگر آپ کی ضرورتیں پوری نہیں ہو رہیں تو رشوت سے توبہ تائب ہوں اور اللہ سے رجوع کریں کیونکہ وہ حرام مال کی وجہ سے آپ سے ناراض ہے اور آپ کی کوئی عبادت، صدقہ، خیرات، نماز، روزہ یا دعا بھی قبول نہیں ہو رہی۔
    اللہ ہمیں رزق حلال کمانے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنا شکر گزار بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔

  • خوش اخلاقی، ایک نعمت ۔۔۔ ساجدہ بٹ

    خوش اخلاقی، ایک نعمت ۔۔۔ ساجدہ بٹ

    آپ نے اکثر لوگوں سے سنا ہوگا:
    فلاں شخص بہت خوش اخلاق ہے کبھی ملیے گا، جی خوش ہو جائے گا آپ کا۔
    یا فلاں تو بڑا بد اخلاق ہے، میں تو کبھی بات نہ کروں اس سے ۔
    اس کا مطلب ہے خوش اخلاقی بہت بڑی نعمت ہے۔

    خوش اخلاقی کے لفظ سے تو دنیا میں ہر کوئی واقف ہے۔ اور
    آپ کبھی غور کیجیے گا کہ جو شخص اچھے اخلاق کا مالک ہو سب ہی اُس سے محبت بھی کرتے ہیں۔ اُس انسان کی عزت و تکریم کرتے ہیں۔

    آئیے دیکھتے ہیں خوش اخلاقی ہے کیا چیز ؟؟؟

    خوش اخلاقی سے مراد ہے کہ بات کریں تو ہمارے لہجے میں نرمی ہو، چہرے پہ مسکراہٹ سجی رہے۔ دوسروں کے ساتھ ادب و احترام سے پیش آئیں۔کسی کی نفرت کا جواب بھی محبت سے دیں۔
    ہمارا دین اسلام ایک مکمل دین ہے ۔ جس سے ہمیں ہر طرح کی رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔ آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ پوری انسانیت کے لیے ایک عمدہ نمونہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کو مسلمانوں کے لیے ‘اُسوہ حسنہ’ قرار دیا۔

    ترجمہ۔
    البتہ تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔(الاحزاب)

    اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی ہے
    بیشک ہم نے آپ کو اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز کیا ہے۔

    حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے پھرتے قرآن تھے۔

    ایک جگہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
    لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق کے ساتھ معاملہ کرو۔

    ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا

    اگر تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہیں پسند کریں تو تمہیں چاہیے کہ اگر کوئی تمہارے پاس امانت رکھے تو حفاظت کرو. جب بات کرو تو سچی کرو اور اپنے پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرو ۔

    اسی طرح ڈھیروں اسلامی تعلیمات ہمیں اخلاق کے بارے میں ملتی ہیں اس کی اہمیت کے بارے میں ملتی ہیں۔
    ہمارے لئے مشعل راہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہے جو خوش اخلاقی کے عظیم الشان مرتبے پر فائز ہیں

    اب بات یہ آتی ہے کہ خوش اخلاقی کو پسند تو ہر کوئی کرتا ہے لیکن اس پر از خود عمل بہت کم کیا جاتا ہے۔
    ہم لوگ اپنے ہر معاملے میں خاص طور پر ملنے جلنے کے معاملات میں انا کو سامنے رکھتے ہیں جو ہمارے اخلاق کی دھجیاں اڑا دیتا ہے۔
    چاہے تو رشتے داروں کے معاملات ہو دفتروں میں میل جول کو لیجیے یا تعلیمی اداروں کو ہی لیجیے ہر جگہ پہ ہم لوگ اکثریت ہی خوش اخلاقی سے بے بہرہ ہی نظر آتے ہیں۔
    فرحت کیانی کا ایک شعر ہے کہ

    ہر شخص اخلاق کا ایک معیار بنا لیتا ہے

    اپنے لیے کُچھ اور زمانے کے لیے اور

    خوش اخلاقی اگر فطری طور پر آپ میں موجود ہے تو یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت ہے۔
    لیکن اگر قدرتی طور پر یہ نعمت موجود نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کرنے کی صلاحیت انسان کو دے رکھی ہے۔
    سب سے پہلے انسان کو اپنے نفس پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔مثال کے طور پر انسان کو غصے کی حالت میں خود پر قابو ہونا چاہیے۔
    اگر ہم لوگ چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری عزت و تکریم کریں۔ لوگوں میں ہمارا ایک معیار قائم ہو اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں اچھے الفاظ میں لوگ یاد کریں ۔
    تو پھر ہمیں خوش اخلاقی جیسی عظیم ترین صفت کو اپنے اندر پیدا کرنا ہو گا۔
    یہ صفت اپنے اندر پیدا کرنا مشکل کام نہیں ہے۔ اس خوبی کو اپنانے کے لیے ایک شخص کو دوسرے شخص سے حسد نہیں کرنا چاہیے۔ بہت بڑی بڑی خواہشات کے پیچھے ہر وقت نہیں بھاگنا چاہیے ۔اپنی زندگی میں آنے والی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو ہی بھرپور انداز سے اپنا لینا چاہیے ۔
    یاد رکھیں کہ اس دنیا میں صرف دولت ہی سب کچھ نہیں بلکہ جس شخص میں خوش اخلاقی جیسی نعمت اللہ تبارک وتعالیٰ نے عطا فرمائی ہے وہ شخص سب سے امیر ترین شخص ہے۔ کیوں کہ اس کی دنیا اور آخرت دونوں ہی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سنور جائیں گے۔
    آئیے آج ہم بھی یہ عہد کریں اپنے آپ کو بہتر بنانے کے لیے ہم لوگ خود کو وقت دیں۔ دو گھڑی فرصت کے لمحات میں اپنے کردار میں تبدیلی لانے کے بارے میں سوچیں۔
    تا کہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جائیں۔

  • ملک ترقی کیسے کر سکتا ہے…. فیصل ندیم

    ملک ترقی کیسے کر سکتا ہے…. فیصل ندیم

    کیا آپ کو یہ بات مذاق نہیں لگتی کہ ہم ایٹم بم بنا چکے ہیں طیارے بنا رہے ہیں ٹینک بنا رہے ہیں دنیا کا بہترین میزائل سسٹم بھی ہم نے ہی تخلیق کیا ہے کل ہم دفاعی ضروریات پوری کرنے کیلئے دنیا کے محتاج تھے آج ہم دنیا کو یہ چیزیں برآمد کررہے ہیں اگر ہم یہ سب کرسکتے ہیں تو سب کچھ کرسکتے ہیں ۔۔۔۔۔

    ایک ایسا ملک جو ہمیشہ درآمدی بل کے خسارہ کا شکار رہتا ہے وہ کیسے ترقی کرسکتا ہے اگر اس کے ہر بازار کی ہر دکان کی ہر الماری غیر ملکی مصنوعات سے بھری ہوگی گاڑیاں بسیں ہیوی ٹرک تو بڑی شے ہے بچوں کیلئے بنایا گیا پلاسٹک کا کھلونا بھی ہم کسی اور ملک سے درآمد کررہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ق
    ایسا نہیں ہے کہ ہم میں صلاحیت نہیں ہے اگر صلاحیت نہ ہوتی تو دفاعی سازوسامان کے ساتھ دنیا کے بہترین سرجیکل آئٹمز ، اسپورٹس کا بہترین سامان ، معیاری الیکٹریکل اپلائنسز اور بہترین سینیٹری آئٹمز ہم نہ بنا رہے ہوتے ۔۔۔۔۔
    اس پوری کیفیت کی سب سے بڑی ذمہ دار ہمیشہ سے ہماری حکومتیں رہی ہیں جو صنعتکار کو اپنی صنعت چلانے کیلئے بہتر سہولیات اور ماحول دینے میں ناکام رہی ہیں چھوٹے چھوٹے اجازت ناموں کیلئے لمبے اور تھکا دینے والے طریقہ کار اور ہر منظوری پر رشوت کا بھاری بھرکم بوجھ کبھی بھی صنعتی ترقی کے فروغ کو سبب نہیں ہوسکتا مہنگی بجلی مہنگی گیس اور سازگار ماحول کی غیر موجودگی میں درآمدات کوگھٹا کر برآمدات بڑھانا مشکل نہیں ناممکن ہے ۔۔۔۔

    بھاری بھرکم بیرونی و اندرونی قرضہ ،بجٹ خسارہ ، گردشی قرضہ جات ہمیشہ ہر حکومت کا مسئلہ رہے ہیں بدقسمتی سے ہر آنے والی حکومت نے اپنی سیاست اور ووٹ بنک کو تحفظ دینے کیلئے حقیقی مسائل حل کرنے کے بجائے ان کے شارٹ ٹرم حل کی جانب توجہ کی ہے نتیجتاً ہر آنے والی حکومت میں ہم مسائل کے حل کے بجائے مسائل کی دلدل میں مزید دھنستے چلے گئے ہیں ۔۔۔۔۔
    ان مسائل کے حل کا ایک ہی طریقہ ہے درآمدی اشیاء کی آمد کے طریقہ کار کو مشکل سے مشکل تر بنایا جائے غیرملکی اشیاء پر ڈیوٹیوں میں اضافہ کیا جائے جبکہ ملکی صنعت کو سازگار ماحول سستی بجلی سستی گیس فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک موجود سفارتخانوں کو استعمال کرتے ہوئے اس کیلئے نئی منڈیاں تلاش کی جائیں ( یہ بھی ایک المیہ ہے کہ بیرون ممالک پاکستان کی نمائندگی کیلئے بننے والے سفارتخانوں میں تقرریاں سیاسی رشوت کے طور پر کی جاتی ہیں نتیجتاً سفارتخانے عیاشی کے اڈے کے طور پر تو استعمال ہوتے ہیں پاکستان کی نمائندگی کیلئے نہیں ) ۔۔۔۔
    ملکی صنعت کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ اس کیلئے خام مال کی فراہمی کو نہایت آسان اور سہل بنایا جائے ضرورت پڑنے پر حکومت ان اشیاء پر سبسڈی بھی فراہم کرے تاکہ صنعتکار کی دلچسپی بڑھائی جائے سکے پاکستان میں کارخانے لگانے والے ہر بیرونی سرمایہ کار کو ضروری سہولیات فوری اور آسانی کے ساتھ فراہم کرنے کے ساتھ انہیں پابند کیا جائے کہ وہ ٹیکنالوجی بھی ٹرانسفر کریں گے ٹیکنالوجی کے حصول کے بغیر اغیار کی محتاجی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ۔۔۔۔۔

    جان لیجئے حکومتیں عوامی تعاون کے بغیر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی اس لیے عوامی سطح پر شعور کی بیداری کی مہم چلانا ضروری ہے ہر دکان ہر مارکیٹ میں میڈ ان پاکستان اشیاء کو نمایاں کرکے رکھنا ضروری ہے عوام کو سمجھانا ضروری ہے کہ آپ کے شوق کی تکمیل یا چند روپوں کی بچت ملک و قوم کی بہت بڑی تباہی کا سبب ہے اس لئے میڈ ان پاکستان اشیاء کا انتخاب کیجئے تاکہ ہم غیرملکی قرضہ جات سے نجات حاصل کرکے غیروں کے تسلط سے حقیقی آزادی حاصل کرسکیں ۔۔۔۔
    ململ شعور کے ساتھ ہم یہ سمجھتے ہیں تمام کاموں سے پہلے یہ کام ضروری ہے پورا زور لگا کر اپنی عوام کو میڈ ان پاکستان پر لانا چاہئے پاکستان کیلئے پاکستانیوں کیلئے اپنے لئے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے ضروری ہے پاکستانی میڈ ان پاکستان اشیاء کا استعمال کریں ۔۔۔۔
    اس مقصد کے حصول کیلئے نصاب تعلیم میں باقاعدہ مضامین شامل کئے جائیں جن میں طلبہ کو اس مسئلہ کی حساسیت سمجھائی جاسکے اور وہ عملی میدان میں اترنے کے بعد خود غرضی کا شکار ہوکر غیروں کے آلۂ کار بننے کے بجائے محب وطن اور مفید شہری بن سکیں ۔۔۔۔
    علماء اور مساجد کے خطیب حضرات اس مسئلہ میں بہت زیادہ معاونت کرسکتے ہیں ان کی باقاعدہ ورکشاپس کروائی جائیں تاکہ وہ میڈ ان پاکستان کو ایک قومی و ملی مسئلہ سمجھ کر اپنے متعلقین کو قائل کرسکیں ۔۔۔۔
    میڈیا ( پرنٹ الیکٹرانک سوشل ) کو عوامی شعور کی بیداری کیلئے بھرپور طور پر استعمال کیا جائے تاکہ عام پاکستانی جان سکے کہ اس کا حقیقی نفع نقصان کہاں پر ہے ۔۔۔۔۔

    امید ہے جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہوکر لکھی گئی اس تحریر کو آپ تحریک بنا کر آگے چلائیں گے پاکستان اللہ کا انعام ہے اس انعام کی قدر اسی طرح ممکن ہے کہ اسے ہر طرح سے غیر ملکی تسلط سے آزاد کروایا جائے

    پاکستان زندہ باد
    پاکستانی قوم پائندہ باد

  • رمضان اور ہماری منافقت … نوید شیخ

    رمضان اور ہماری منافقت … نوید شیخ

    رمضان مسلمانوں کے لیے سب سے متبرک مہینہ ہے ۔ اسی ماہ میں قرآن پاک کا نزول ہوا۔مگر پاکستان میں ہر سال اس ماہ میں لڑائی جھگڑے اور دیگر غلط کاموں میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ اس ماہ میں شیطان تو قید ہو جاتاہے مگر ہمارانفس آزادہوجاتاہے ۔ بے شک بابا بلھے شاہ نے درست فرمایاتھا کہ – میری بُکل دے وچ چور – یعنی میری چادر میں ہی چور چھپا ہے۔

    رمضان آتے ہی سب نماز،تروایح، باقاعدہ قرآن پاک تلاوت میں مشغول ہو جاتے ہیں . مساجد میں حاضری میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہو جاتاہے ۔ داڑھیاں بڑھا لی جاتی ہیں۔ہاتھ میں تسبیح اورسر پر ٹوپیاں بڑے اہتمام سے پہنی جاتی ہیں۔جو کہ بہت اچھی بات ہے ۔مگر جھوٹ،چغل خوری، سود ، حرام کمانا، ملاوٹ،ذخیرہ اندوزی،جعلی دوائیاں، رشوت لینا ، رشوت دینا،چوری چکاری،دھوکہ دہی،لعن طعن کرنا نہیں چھوڑتے ۔کسی کا حق مارنا ہو تو ہم میں سے کو ئی پیچھے نہیں رہتا۔ بھائی بھائی کاحق مار لیتا ہے بیٹا باپ کو مار دیتا ہے بھائی بہن کی زمین پر قبضہ کر لیتا ہے ۔

    مزید پڑھیے : ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

    بڑے بڑے رئیس۔ امیر کبیر۔ روزانہ سینکڑوں لوگوں کو سحری اور افطاری کروا کر نیکیاں تو کماتے ہیں مگر اپنے ورکروں کو وقت پر تنخواہ دیتے وقت ان کو موت پڑ جاتی ہے۔امیر تو پھر امیر ہیں- عام آدمی بھی کچھ کم نہیں ۔ورکر طبقہ روزہ رکھ کر اگر کام پر آہی جائے تو ایسا محسوس کروا تا ہے کہ جیسے اس کا کام پر آنا احسان ہو ،روزہ رکھ کر کام میں ڈنڈی مارنا ، جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا ، گالی گلوچ کرنا اُس نے سب روضے کے نام پر حلال کر لیا ہے۔

    دکان دار جہاں افطاریاں کرواتے ہیں وہیں قوم شعیب علیہ السلام کے وطیرہ پر پوری طرح عمل پیرا ہیں۔ ناپ تول میں کمی، مہنگائی، ملاوٹ پہلے سے بھی زیادہ کرتے ہیں۔ کیونکہ نیکیوں کے ساتھ ساتھ سیزن بھی تو سمیٹنا ہے۔ دوکانداروں کے لیے رمضان کی برکتیں ایسی ہوتی ہیں کہ باقی گیارہ مہینوں کے برعکس صرف اس ماہ میں ہر چیز دو گنا،تین گنازیادہ قیمت پر بیچی جاتی ہے۔جگہ جگہ گھٹیا تیل سے بنے پکوڑے، سموسے ، جلیبیاں، گلے سڑے پھلوں والی فروٹ چاٹ روزہ رکھ کر دھڑلے سے لوگوں کو بیچی جاتی ہیں ۔

    مزید پڑھیے: پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

    صدقہ ، زکوة، خیرات دیتے وقت ذاتی تشہیر پر زورزیادہ رہتا ہے ۔فیس بک ،ٹویٹر، اخبارات ایسی تصویروں سے بھرے ہوتے ہیں جس میں کبھی کوئی راشن تو کبھی عیدکے کپڑے غربیوں میں تقسیم کررہا ہوتا ہے۔ مسجدوں کی رونقیں خوب بحال کی جاتی ہیں ہر کوئی اس تیزی میں رہتا ہے کہ ہر حال میں نماز باجماعت ادا کی جائے ۔مگر کوئی یہ فکر نہیں کرتاکہ دن بھر اس نے روزہ رکھ کرکیسے کیسے دونمبریاں کی ہیں ۔ کتنے جھوٹ بولے ہیں ۔کتنے لوگوں کا حق مارا ہے ۔رمضان کے آخری عشرے میں جب ہر کوئی عید کے لیے نئے کپڑے اور جوتے خریدتا ہے ۔ لاری اڈوں پر پردیسیوں کا رش بڑھ جاتا ہے ۔ تب کاروباری حضرات اپنے ریٹس ایسے بڑھاتے ہیں جیسے یہ عید ان کی زندگی کی آخر عید ہو۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ”جو آدمی روزہ رکھتے ہو ئے باطل کام اور باطل کلام نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔(صحیح بخاری،جلدنمبر 1،صفحہ نمبر:255)

    رمضان کا مقدس مہینہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم کھانے پینے سے ہاتھ روک کے اپنے اردگرد بسنے والے غریبوں،مسکینوں اور بے سہاروں کا خیال کریں۔یہ سمجھنا ہوگا کہ اللہ پاک اپنے حقوق تو معاف کردے گا مگر جو دھوکا،مکر و فریب ، چور بازاری اور منافع خوری ہم اپنے بھائیوں سے کرتے ہیں وہ اللہ پاک ہر گز معاف نہیں کرے گا۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • یو نٹی آف اپوزٹ (جنس مخالف کا اشتراک) ۔۔۔ فرحان شبیر

    یو نٹی آف اپوزٹ (جنس مخالف کا اشتراک) ۔۔۔ فرحان شبیر

    مسئلہ یہ ہے کہ ہم مردوں نے فطرت کے تقسیم کار یعنی Distribution of work کی بنا پر مرد اور عورت میں پائے جانے طاقت اور قوت کے فرق ، جسمانی و ذہنی ساخت کے فرق کو عورت پر غلبہ اور تسلط کا ہتھیار بنا لیا ہے ۔ وہی جو ہر طاقتور کمزور کے ساتھ کرتا ہے وہی ہم مردوں نے عورت کے ساتھ کیا ۔ لیکن دنیا میں کسی جاندار کے نر نے مادہ کے ساتھ یہ سلوک نہیں رکھا جو نوع انسان میں مرد نے عورت کے ساتھ کیا ۔ بلے اور بلی میں نہ بلا برتر ہے نا گھوڑے اور گھوڑی میں گھوڑی کمتر ۔ کبھی ہم نے سوچا کہ آخر جانوروں میں یہ پھٹیک کیوں نہیں ہے کہ کتیا ، کتے کی محتاج ہو یا بلی ، بلے کے کھانے کے لئیے اچھی اچھی بوٹیاں الگ کر رہی ہے ۔

    یہ ہم انسانوں نے عجب تیر مارا ہے اس ساری کائینات کی انواع و اقسام کی حیات میں ۔ ہم نے حیات کے اس سفر میں اپنے ہی ہم سفر کو اپنے قدموں تلے روندھنا شروع کردیا اور یہ بھول گئے کہ فطرت کے اس توازن کو بگاڑنے کا نتیجہ مرد کی پرواز کو بھی متاثر کریگا ۔ آج گھر کی گاڑی چل تو رہی ہے لیکن اک پہیہ گول اور ایک چوکور ۔ ایک محکوم شخصیت کی عورت کیسے زندہ و آزاد مرد کی پرورش کر پائیگی ۔ مرد کے اسی جذبہ تغلب نے مرد اور عورت دونوں کو ہی حاکم اور محکوم کی نفسیات کا اسیر بنا کر ان دونوں کی آپسی زندگی کو ہزار الجھاووں میں گرفتار کر رکھا ہے ۔

    ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ مرد اور عورت میں طاقت کا توازن ہو یا عقل اور جذبات کے کم زیاددہ استعمال کا معاملہ ۔ خواتین کا زیادہ بولنا ہو یا مردوں کا دوستوں میں چائے پر دو دو گھنٹے ، بھلے خاموشی میں ہی گزار دینا ۔ یہ مرد اور عورت کے different ہونے ، دو الگ الگ جزبات ، احساسات رکھنے والی ذاتوں اور پرسینیلیٹیز ہونے کو ظاہر کرتا ہے نہ کہ انکی inequality یا عدم برابری کو ۔ اس جسمانی اور جذباتی اختلاف سے کوئی حاکم اور محکوم نہیں بن جاتا ۔ کسی کو برتری اور کمتری کا سرٹیفیکیٹ نہیں مل جاتا ۔

    مرد اور عورت میں ان اختلافات کا ذمہ دار فطرت کا وہ تقسیم کار رہا ہے جس کے لحاظ سے مرد کا کردارlunch chaser کا ہوتا تھا اور ہے ۔ یعنی گھر کے معاش کا ، بچوں کے کھانے کا انتظام کرنا ۔ اب چاہے وہ جنگل میں بھالے سے ہرن کا شکار کرنا ہو یا پھر سنگلاخ زمینوں کا سینہ چیر کر خوشہ گندم کو اگانا۔ اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئیے مرد کو جس طرح کی صلاحتیں چاہئیے تھی اس میں انہی صلاحیتوں کا ارتقا ہوتا چلا گیا ۔ جنگل میں خونخوار درندوں کا شکار ہو یا پہاڑ کھود کر فصل اگانا ۔ چوڑا سینہ ، مضبوط کاٹھی ، Tunnel vision کا زیادہ ہونا ، شکار کو تیر اور بھالے سے نشانہ بنانے کے لئیے دماغ میں اسپیشیل (spatial ) کیلکولیشن کا خانہ بڑا ہونا یا مردوں کی دیگر صلاحیتیں اسی لنچ چیسنگ ٹاسک کو پورا کرنے کے لئیے درکار ہوتی تھی ۔

    اور فطرت کے اسی تقسیم کار کی رو سے عورت کا کردار Nest defender کا رہا ہے یعنی جس نے اپنے بچوں کی ، غاروں سے لیکر جنگلات میں جھونپڑیوں اور زمینوں پر بنے پکے مکانوں میں رینگنے والے حشرات الارض سے محفوظ رکھنے سے لیکر اپنے بچوں کو طرح طرح کے invaders سے بچانا تھا ۔جہاں عورت نے تنگ و تاریک اندھیرے غاروں میں کھانا پکانے کے ساتھ ساتھ بیک وقت چار پانچ بچوں پر نظر بھی رکھنی ہوتی تھی ۔ گھر کو سجانا بھی تھا اور بچوں کی رونے کی آواز سے انکی پرابلم بھی سمجھ لینا بھی لازمی ۔یہی وجہ ہے کہ خواتین کا spherical vision زیادہ ہوتا ہے ۔ یعنی خواتین کو ذرا سائیڈ دیکھنے کے لئیے نظر گھمانی نہیں پڑتی ۔ خواتین جذبات کو emotions کو بہت اچھی طرح sense کرتی ہیں ۔ ظاہر ہے ایک دودھ پیتے بچے کو سمجھنے کے لئیے دماغ میں emotional faculty کا بڑا ہونا ضروری ہے ۔

    اسی طرح خواتین سرگوشی یا آواز سننے میں مردوں سے آگے ہوتی ہیں لیکن آواز کی سمت یا ڈائریکشن بتانے میں مرد زیادہ بہتر ہوتے ہیں ۔ ظاہر ہے جنگلات میں شکار کرتے ہوئے خود کو بھی جانوروں سے بچانا ہوتا تھا اور اسکے لئیے ایک ایک آہٹ پر کان لگانے ہوتے تھے کہ نہ جانے کس سمت سے کوئی سانپ یا چیتا دبوچ لے ۔ اسکے لئیے فوکس یااٹینشن کا ہونا لازمی ہے زرا سی distraction سے زندگی داو پر لگ سکتی تھی ۔ No wonder کہ ہم مرد گاڑی چلاتے ہوئے فون پر بات کرتے وقت ٹیپ کا والیم بھی کم کرتے ہیں اور سب سے چپ رہنے کی التماس بھی جبکہ ہماری بیگمات اور امائیں کھانا پکانے کے ساتھ ساتھ ، ڈرامہ سیریل ، فون پر آدھے خاندان کے ساتھ Gossips اور آپکو بھی نمٹا رہی ہوتیں ہیں .خواتین multi tasking میں اسی لئیے مردوں سے بہتر ہوتی ہیں کہ وہ ہزاروں سال سے یہی ملٹی ٹاسکنگ کرتی آرہی ہیں ۔ آج بھی جب گھر میں بچہ روتا ہے ماں کو رونے سے پتہ چل جاتا ہے کہ بچہ بھوکا ہے یا کان میں درد ہے جبکہ مرد حضرات کا ایک ہی جملہ ہوتا ہے ” یار یہ روئے جا رہا ہے چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے ، آخر اسکا مسلہ کیا ہے ، دودھ پی لیا اب سو جا بھائی ۔ وغیرہ وغیرہ ”

    خواتین اور مردوں کا مختلف professions کا چننا اور subjects choice میں بھی دونوں کا یہ difference نظر آتا ہے ۔ generally خواتین ڈے کئیر ، پرائمری و سیکینڈری ایجوکیشن ، آرٹس ، ایموشنل انٹیلیجنس ، لینگویجز، لٹریچر، ڈیزائننگ (اور لڑکوں کے شکوں کے مطابق رٹے?) میں بہتر ہوتی ہیں ۔جبکہ مرد عمومی طور پر پیور سائینسز ، گیمز ، گیجٹز، انجینئرنگ، کشتی ، گھڑسواری ، وار فئیر، بلو کالر جابس میں زیادہ رجحان رکھتے ہیں ۔ ( واضح رہے کہ یہ لازم نہیں کہ کوئی خاتون انجینئر نہیں بن سکتی یا مرد میک اپ آرٹسٹ یا ڈے کئیر پر جاب نہیں کر سکتا ۔ لیکن عموما یہ تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم ہوتی ہے ۔ حتی کہ یورپ اور امریکہ میں بھی ایسا نہیں کہ جتنے مرد انجینئر یا پائلٹ ہیں اتنے ہی خواتین بھی یا ڈے کئیر میں بھی اتنے ہی مرد ہوں جتنی کہ خواتین )

    جب تک انسان غاروں ، پہاڑوں اور جنگلات کی زندگی گذارتا رہا تب تک تو غالبا ٹھیک ہی چلا ہوگا لیکن جس دن انسان نے اپنی محنت کا سودا کیا اور دوسرے انسان نے اسکی محنت کا مول لگایا اس دن سے جہاں معاشرے میں دو طبقات ، دو کلاسز نے جنم لے لیا وہیں فیملی یونٹ میں بھی پیسے کمانے والے اور نہ کمانے والے کی بنیاد پر درجہ بندی ، غالب و مغلوب ، برتر و کمتر کی تقسیم در آئی ۔ گو کہ فطرت کا منتہا و مقصود مرد اور عورت دونوں کا اپنی اپنی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرنا اور ایک دوسرے کی کمیوں کو پورا کرتے ہوئے حیات (life) کے اس سفر میں نسل انسانی کو بہتر سے بہتر بناتے چلے جانا ہے ۔ لیکن مرد نے اپنی طاقت اور کمائی کو عورت پر غالب ہونے ، اس پر حکم چلانے اور اپنا مطیع و فرمانبردار بنانے میں استعمال کیا ۔

    حقیقت تو یہ کہ کمہار کے ایک ہی چاک سے بنے برتنsize اور shapes میں الگ ہوتے ہیں لیکن انکی مٹی انکا substance ایک ہی ہوتی ہے ۔ کوئی نہیں کہتا کہ گھڑا چونکہ بڑا ہے پانی اسٹور کرتا ہے لہذا اس
    کی مٹی برتر ہے اور پیالہ چونکہ چھوٹا ہوتا ہے لہذا اسکی مٹی کمتر ۔ یہ دونوں فطرت کے ایک تقسیم کار کے تحت لازم و ملزوم ہیں ۔ ایک کے بغیر دوسرے کا وجود ادھورا ہی رہتا ہے اور استعمال کرنے والا بھی مشکل میں ۔ اسی طرح مرد ہو یا عورت جب تک ایکدوسرے کے فزیکل ، ایموشنل اور کھوپڑی کے مختلف ہونے کا برابری کی بنیاد پر احترام نہیں کرینگے تب تک غلبہ و تسلط کی یہ جنگ دونوں ذاتوں یعنی مرد اور عورت میں ایک حقیقی پیار ، محبت اور احترام کا تعلق پیدا کرنے میں رکاوٹ ڈالتی رہیگی ۔

    ہم مردوں کو بھی چاہئیے کہ پہلے خواتین کو ایک ذات، ایک شخصیت ، ایک پرسینیلیٹی ، ایک آزاد شعور تو سمجھیں ۔ عورت کی جس نرم و نازک جسمانی ساخت کو ہم نے اسکی کمزوری سمجھ رکھا ہے وہ رحم مادر میں جنین سے لیکر ایک بچہ کی پرورش کے لئیے لازمی درکار تھی جیسے ہم مردوں کا سخت جان ہونا ہماری کوئی فضیلت نہیں ہمارے آبا و اجداد نے جس کام کا ذمہ اپنے سر لیا یعنی lunch chasing کا ، یہ اسی کا نتیجہ ہے ۔ غلبہ اور تسلط کی اس جنگ میں کبھی ہم نے سوچا ایک قوت فیصلہ سے محروم ، زمانے کے سرد و گرم سے ناآشنا ، کچلی ہوئی ، پسی ہوئی ، کبھی باپ ، تو کبھی بھائی اور پھر شوہر اور اولاد کے سہاروں پر زندگی گزارے جانے کا احساس لے کر جینے والی عورت کس طرح ایک ، مضبوط ، خوش باش ، پراعتماد قسم کی اولاد کی تربیت کر پائیگی ۔ اگر انسان نے شاہراہ حیات پر اپنے سفر کو خوشگوار بنانا ہے تو اسے اپنے شریک سفر کو سمجھنا ہوگا عورت کے opposites کو مرد کے opposites کے ساتھ unite کرنا ہوگا ۔

  • ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

    ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم ہے کہ جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ۔
    کیونکہ ملاوٹ کرنے والا انسانوں کو دھوکہ دیتا ہے اور ایک دھوکہ بار شخص منافق تو ہو سکتا ہے مومن نہیں ۔
    مگر معاشرے میں جہاں دوسری برائیوں کو برائی نہیں سمجھا جاتا وہاں ملاوٹ بھی آجکل کا روبار کا لازم جزو بن چکا ہے ۔ دودھ ۔ گوشت۔ گھی ۔ آٹا۔ دالیں ۔ مرچیں ۔ چائے کی پتی ۔ غرض ہر چیز میں ملاوٹ کرکے انسانی جانوں سے کھیلا جاتا ہے ملاوٹ کے ایسے ایسے گھنآنے طریقے اپنائے جاتے ہیں عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔ ملاوٹ کرتے وقت حلال اور حرام کے تصور کو بھی پس پشت ڈال دیا جاتا ہے ۔ گڑوں کی گندگی سے چربی نکال کر بیوٹی سوپ ۔ کپڑے اور برتن دھونے کے صابن کی تیاری میں بڑی بڑی فیکڑیاں ملوث ہیں ۔ حرام جانوروں کا گوشت دوسرے گوشت کے ساتھ ملا کر فروخت کرنا تو عام سی بات ہو گئی ہے ۔ جب ٹی وی لگاو ایسی خبریں نظر آتی رہتی ہیں ۔ گوشت کا وزن بڑھانے کے لیے جانور کے دل میں پانی بھرنا بھی قصائیوں کی روٹین کا حصہ ہے ۔ برائیلر مرغیوں کی خوراک کی تیاری میں جانوروں کا خون ۔ آنتین اور غیر حلال مادوں کے استعمال کا سب کو پتہ ہے ۔ مگر برائیلر کھانا سب کی مجبوری ۔۔۔ کیوں ؟

    پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

    دودھ میں پہلے گوالہ پانی ملاتا تھا جس سے دودھ پتلا ہو جاتا اور ملاوٹ پہچان لی جاتی تھی ۔ مگر اب گوالہ اتنا سائنٹیفک ہوگیا ہے کہ ایک کلو دودھ میں بلیچنگ پاوڈر، یوریا اور دوسرے زہریلے مادے ڈال کر ایک من دودھ اتنا گاڑھا تیار کیا جاتا ہے کہ اس کے سامنے خالص دودھ بھی شرما جا ئے ۔ کہا جاتا تھا زندہ ہاتھی لاکھ کا اور مردہ سوا لاکھ کا ۔ مگر پاکستان میں یہ مثال ہر جانور پر ٹھیک بیٹتھی ہے جہاں مردہ جانور چاہے حلال ہو یا حرام ضائع نہیں جاتا ۔ بلکہ اسکی آنتوں ، ہڈیوں اور دیگر اعضاء کو ابال ابال کر ان میں سے ساری چربی نکال لی جاتی ہے جس سے تیار ہونے والا خالص تیل اور دیسی گھی فوڈ ایسنز ڈال کر بازار میں کھلے عام ملتا ہے ۔
    مرچ اور مصالحے جن کے بغیر ہمارے کھانوں میں مزہ نہیں ہے ان میں لکڑی کا برادہ ۔ اینٹوں کا چورہ تو ملایا ہی جاتا تھا مزید یہ کہ انھیں سیمنٹ کی بوریوں کو کاٹ کر بنائے گئے لفافوں میں بھر کر فروخت کیا جا تا ہے ۔ اس طرح سیمنٹ کا فلیور بھی ہمارے مصالحوں میں شامل ہو جا تا ہے ۔ چائے کی پتی میں بھی پرانی استعمال شدہ پتی ۔ خون اور رنگ ملا کر مقدار کو اتنا بڑھا دیا جاتا ہے کہ ابالنے پر رنگ بھی زیادہ آنا شروع ہوجا تا ہے ۔


    عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    پرانی ادرک اور لہسن کو تیزاب سے دھویا جاتاہے جس سے وہ نہ صرف تروتازہ نظر آتی ہے ۔ بلکہ اس کا وزن بھی کافی بڑھ جاتا ہے ان حالات میں اگر یہ کہا جائے کہ آج کل زہر بھی خالص نہیں ملتا تو غلط نہ ہو گا کیونکہ کاشتکاروں کو کیڑے مار ادویات میں پانی بھر کر مہنگے داموں بیچا جاتا ہے جس سے کیڑے تو نہیں مرتے البتہ فضل ضرور مر جاتی ہے ۔
    بے حس ناجائز منافع خور راتوں رات امیر سے امیر تر بننے کے نشے میں ناقص سے ناقص مضر صحت اجزائ کی ملاوٹ سے گریز نہیں کرتے ۔ انھیں نہ قانون کا ڈر ہے نہ خوف خدا انکا ضمیر بالکل مردہ ہو چکا ہے اور وہ پاکستان کی نسلیں برباد کرنے پر تلے ہو ئے ہیں ۔
    یہ سب کچھ اتنا حیران کن اور ناقابل یقین ہے کہ دل تسلیم ہی نہیں کرتا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ سب کچھ کوئی کیسے کرسکتا ہے زیادہ سے زیادہ نفع کمانے اور راتوں رات امیر بننے کے چکر میں ہم سب مرنا بھول چکے ہیں ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں