Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ذرا ٹھہریئے۔۔۔۔۔!!!!!!!!!! جویریہ چوہدری

    ذرا ٹھہریئے۔۔۔۔۔!!!!!!!!!! جویریہ چوہدری

    قارئین !!!!
    پرانے وقتوں میں کسی شادی بیاہ کے موقع پر۔۔۔۔جو زیادہ ہی انجوائے منٹ کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔وہ ناچنے گانے والے بلا لیا کرتا تھا۔۔۔۔ !!!!!
    یعنی یہ کام شرفاء کو زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ خود ایسے کام کرنے لگ جائیں۔۔۔۔
    اور جو حد سے بڑھ کر ناچنے کودنے والیوں کو بلانے پر مصر ہوتا تو گھر کا کوئی بزرگ اس بات کو اپنی توہین تصور کرتے ہوئے ناراضگی کا عندیہ دے دیتا تھا کہ۔۔۔۔اگر تم ایسا کرو گے۔۔۔۔تو میں نے ایسی محفلوں میں بیٹھنا ہی نہیں ہے۔۔۔۔!!!!!!
    یعنی تم جانو اور تمہارے کام۔۔۔۔
    بلکہ بعض اوقات تو گھر سے چلے جانے کی دھمکی بھی دے دی جاتی تھی۔۔۔۔
    چنانچہ اس بات کو بھی اپنی توہین تصور کرتے ہوئے کہ اگر اس موقع پر بزرگ نہ ہوں تو لوگوں کو کیا منہ دکھائیں گے۔۔۔۔؟؟؟
    تو نو جوان ایسی سوچ و حرکت سے باز رہ جاتے تھے۔۔۔۔

    رفتہ رفتہ ہم ترقی کی منازل طے کرنے لگ گئے۔۔۔۔اور ہر کام میں مہارت اور سب فن خود سیکھنے لگ گئے۔۔۔۔
    سو آج کسی بھی شادی کے موقع پر یہ سارا کام ہم خود ہی کر لیتے ہیں ناں؟
    گھر کی بیٹیاں۔۔۔۔۔کزنیں۔۔۔رشتہ دار خواتین دھرتی کو ہلاتی خود ہی یہ کام کر سکتی ہیں۔۔۔۔
    بلکہ بعض اوقات تو ماں جیسے عظیم اور قابل احترام رشتے سے بھی کہا جاتا ہے کہ:
    محفل تاں سجدی۔۔۔۔جے نچے منڈے دی ماں۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
    اور مرد کزنز اور دولہا کے دوست اپنوں کے روپ میں آنکھوں کی تسکین کے ساتھ ساتھ وڈیو آپریٹنگ میں مصروف نظر آتے ہیں۔۔۔؟؟؟

    ہر ہاتھ میں موجود موبائل فون نے یہ کام اور بھی آسان اور ممکن کر دیا ہے۔۔۔
    اور یہ سب کندھے جھٹک کر جواب دیا جاتا ہے کہ:
    Its our culture…no problem….!!!!
    لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلامی ثقافت کے فروغ اور بقاء کے لیئے ہمارے آباء نے اتنی عظیم قربانیاں دی تھیں تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو اپنی شناخت اور ثقافت برقرار رکھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔۔۔۔
    مگر وہ نسلیں آج بھی انڈین گانوں کی دھن پر ناچنا اپنا وقار سمجھتی ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟

    پہلے وقتوں میں مووی والا بلایا جاتا تھا۔۔۔۔اور اسے بھی شرفاء اپنی عزت کے خلاف سمجھتے تھے کہ ہماری بہنوں،بیٹیوں کی تصاویر کوئی اجنبی کیوں لیتا پھرے۔۔۔۔؟؟؟
    اور سائیڈ پر۔۔۔ذرا ہٹ کر بیٹھنے کو ترجیح دی جاتی تھی۔۔۔
    مگر رفتہ رفتہ ہم نے آگے بڑھنا سیکھ لیا اور شادی اٹینڈ کرنے والی خواتین نے یہ فریضہ سنبھال لیا۔۔۔۔مخلوط نظام میں مرد بھی پیچھے نظر نہیں آتے۔۔۔۔ اور ایک دن میں ہزاروں تصاویر ایک دلہن کی بآسانی لے لی جاتی ہیں۔۔۔۔۔ !!!!
    گھر جا کر جس جس کو دکھائیں۔۔۔۔جس جس سے شیئر کریں۔۔۔۔کچھ غلطی تصور نہیں کی جاتی۔۔۔اسے خیانت قطعاً نہیں کہا جاتا۔۔۔!!!!!!
    آج ہماری اور غیر مسلموں کی شادی میں کوئی واضح فرق نظر نہیں آتا۔۔۔۔فلموں اور ڈراموں کے مکمل سین آزمائے جاتے ہیں۔۔۔
    ہم فتویٰ بازی اور تنقید کرنے میں بس ماہر ہو گئے ہیں۔۔۔۔
    برائیوں کے سدباب کے لیئے ہمارے پاس پلان نہیں ہیں۔۔۔۔!!!!
    آج بزرگ دھیمے لہجے میں کہتے نظر آتے ہیں جی کیا کریں۔۔۔۔بس بچوں کی مرضی تھی۔۔۔۔
    یعنی طوفان مچائے رکھا۔۔۔۔ہماری اب کون سنتا ہے۔۔۔؟وغیرہ

    ایک وقت تھا کہ والدین کی مرضی کے خلاف کچھ کرنا اولاد کی رسوائی سمجھی جاتی تھی۔۔۔
    مگر رفتہ رفتہ ہم نے ترقی کر لی اور والدین کو اپنی خواہشات کے سامنے جھکا کر آگے لگا لیا۔۔۔۔؟؟؟
    ہماری تعلیم تو یہ ہے کہ پیارے رسول حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "بے شک ہر دین کی ایک خصلت ہوتی ہے،اور اسلام کی خصلت حیاء ہے۔۔۔۔”
    (رواہ ابن ماجہ)۔

    یاد رکھیئے کہ ہر انسان آزاد ہے۔۔۔
    اور اپنی منشا کے مطابق جینے کا حق دار بھی۔۔۔۔
    مگر امت محمدیہ کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک اچھائی سے محبت اور تلقین اور برائی سے نفرت و بچانے کی بھی سخت تاکید کی گئی ہے۔۔۔!!!

    سب سے اوّل ذمہ داری تو والدین کی ہوتی ہے۔۔۔۔
    کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت اس انداز میں کریں کہ وہ تا حیات ان کے لیئے باعث فخر اور سرمایہ افتخار بنیں۔۔۔۔
    اسلام کی حقیقی تصویر اور وقار کہلائیں۔۔۔۔
    اور اس فطری و آسان۔۔۔با برکت اور باعث فلاح پیغام کی عملی تصویر بن جائیں۔۔۔۔
    اگر ہم خود ہی اپنی تہذیب و ثقافت کو بیچنے والے بن گئے۔۔۔۔
    تو ہماری ثقافتی اقدار کے بقاء کا ذمہ دار کون ہو گا۔۔۔۔
    تعلیمی ادارے اپنی قوموں کی اصل پہچان کے ضامن ہوتے ہیں۔۔۔۔
    اور ذرائع ابلاغ قوم کی تربیت اور رائے عامہ ہموار کرنے کا باعث۔۔۔۔
    کسی بھی قوم کی نسل نو کی تربیت کے یہ تین ستون ہیں۔۔۔
    اگر ایک ستون میں بھی لرزش پیدا ہو گی تو سمجھیئے کہ تربیت کی عمارت لرزاں رہے گی۔۔۔!!!!!!!!
    آج ہماری تربیت کی کمی کے ہی المیے ہیں کہ کوئی کسی بے بس کی توہین کرتے ہوئے وڈیو بنا رہا ہوتا ہے۔۔۔۔تو کوئی تشدد اور جان سے مار دینےکے واقعات کی اپ لوڈ۔۔۔۔
    ہمارے اخلاق و اقدار کہاں کھو گئے۔۔۔۔؟؟؟
    ہم خود ہی خود کو تماشہ بنا دینے پر کیوں بضد ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟آئیے!
    اخلاق کے سب سے بڑے علمبردار اسلام۔۔۔اور داعی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے اپنے روح و بدن کو منور کرنے کی کوشش کریں۔۔۔
    حیا کا لبادہ اوڑھ لیں۔۔۔۔
    اور دوسروں کے لیئے بھی آسانیاں بانٹنے والے۔۔۔۔نقصان ہٹانے والے۔۔۔اور عزتوں کے محافظ بن جائیں۔۔۔۔
    اللّٰہ تعالی کے پیغام کو مکمل سمجھنے کی کوشش کریں۔۔۔۔ادھوری نہیں۔۔۔۔
    اپنے گھر سے معاملات کی درستگی کا بیڑہ اٹھائیں۔۔۔۔کہ پہلی مملکت آپ کی وہی ہے۔۔۔۔
    بنی اسرائیل پر اللّٰہ تعالی نے بے شمار انعامات کیۓ تھے۔۔۔۔
    مگر وہ ایسی قوم تھی کہ اللہ کے احکامات میں ردوبدل کرنے اور اپنی خواہشات کے تابع کرنے سے باز نہ آتی تھی۔۔۔۔
    تو اللّٰہ غضب کا شکار ہوئی۔۔۔ان کی اسی خرابی کو یوں بیان کیا گیا۔۔۔۔
    ارشاد ربانی ہے:
    "کیا تم لوگوں کو بھلائیوں کا حکم دیتے ہو،
    اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو۔۔۔۔باوجود یہ کہ تم کتاب پڑھتے ہو۔۔۔کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں۔۔۔؟؟؟”
    (البقرۃ:44)

    کہیں فرمایا:
    "کیا تم بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو۔۔۔؟
    تو جو بھی ایسا کرے اس کی سزا اس کے سوا کیا ہو کہ دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذابِ شدید۔۔۔۔اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں۔۔۔”
    (البقرۃ:85)
    اور ہمیں اللّٰہ تعالی کے احکامات کے عموم کو سمجھنا ہو گا۔۔۔۔
    کیونکہ اللّٰہ تعالی کے احکامات پر ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کا ہی یہ امتحان ہے۔۔۔۔
    بہت آگے بڑھتے بڑھتے۔۔۔۔ہمیں اپنی اقدار۔۔۔۔اخلاقیات۔۔۔۔تعلیمات کو کسی بھی میدان میں پسِ پشت نہیں ڈالنا۔۔۔۔۔
    تہذیب،جدت اور حیا و کردار کا اسلام سے بڑھ کر کوئی پیامبر ہے ہی نہیں۔۔۔۔۔
    جو ہر خلافِ تہذیب بات کو مہذب ہی نہیں کہتا۔۔۔۔۔۔ !!!!!
    اپنے گریبان میں جھانک کر۔۔ذرا ٹھہر کر۔۔۔۔کچھ سوچیں تو سہی۔۔۔۔
    کیا خبر ہمارے دلوں کے بند دریچے اس امن و بہار بھرے پیغام کے جھونکوں سے کھل جائیں۔۔۔۔اور ہم حقیقی خوشی کی تلاش میں نکل کھڑے ہوں۔۔۔۔
    ہاں حقیقی خوشی۔۔۔۔
    اپنے پروردگار کی رضا والے کاموں پر عمل کی خوشی۔۔۔۔۔
    ہمارے دلوں کو اطمینان سا مل جائے۔۔۔۔
    اور ارد گرد ایک سکون سا چھا جائے۔۔۔۔۔
    اور اس سکون کا بدلہ۔۔۔۔”ابدی سکون”ہو گا۔۔۔۔ان شآ ء اللّٰہ۔۔۔ !!!!
    ¤¤¤¤¤ ¤¤¤¤¤

  • موروثیت ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    موروثیت ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    مشرق خصوصاً انڈو پاک میں موروثیت ہر شعبۂ زندگی میں نفوذ کرگئی ہے۔ موروثیت صرف سیاست میں نہیں بلکہ ہر شعبے میں موجود ہیں۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں معاشی، معاشرتی اور سماجی انصاف نہیں۔ ہم عموما سنتے ہیں کہ آباؤ اجدا کی روایات اور نقش قدم نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔ مولوی کا بیٹا مولوی، کلرک کا بیٹا کلرک، استاد کا بیٹا استاد، چوکیدار کا بیٹا چوکیدار، پیر کا بیٹا پیر، چیئرمین کا بیٹا چیئرمین ،سیاست دان کا بیٹا سیاست دان یہ سب موروثیت کی مثالیں ہیں۔ جن کو عام زبان میں خاندانی پیشہ کہا جاتا ہے۔ چونکہ ہمارے معاشرے میں سوچ وفکر کی کمی ہے۔ لہذا ہم ہر شعبۂ زندگی میں روایات پسند واقع ہوئے ہیں۔ روایات کو آگے بڑھاتے ہیں۔اور یہ سب سے آسان کام ہے۔ کیونکہ ہر کردار نے روابط پیدا کیے ہیں۔ ان آسانیوں کی وجہ سے بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کو ایڈجسٹ کرنا آسان ہو تا ہے۔ مثال کے طور پر چوکیدار ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنے بیٹے کو با آسانی اپنی جگہ ایڈجسٹ کرسکتا ہے۔ بیٹے کے لیے بھی چوکیداری آسان ہوتی ہے۔ مولوی صاحب اپنی جگہ بیٹے کو ایڈجسٹ کرتے ہیں تاکہ یہ سیٹ کسی اور کے ہاتھ میں نہ چلی جائے۔ اسی طرح سیاست دان بھی اپنے بچوں کو سیاسی میدان میں اتارتے ہیں۔ تاکہ جانشین کا کردار ادا کریں۔ اس وقت پاکستان کی اسمبلیوں میں 53 فیصد موروثی سیاست دان موجود ہیں۔ ان موروثی سیاست دانوں کی وجہ سے ملک کے مسائل حل نہیں ہوتے کیونکہ ان کا تعلق عوام سے نہیں۔ بلکہ یہ اسلام آباد ، پشاور ، لاہور، کراچی اور کوئٹہ کے پوش علاقوں کے بنگلوں میں عالی شان زندگی گزارتے ہیں۔ الیکشن کے دنوں میں فصلی بٹیروں کی طرح نازل ہوتےہیں۔ مقامی لوگوں اور مسائل سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ پہلے زمانے میں ہر گاؤں میں چند کرائے کے ایجنٹ ملتے تھے۔ آج کل سوشل میڈیا نے آسانی پیدا کردی۔ ان موروثی سیاست دانوں کی وجہ سے سیاست اور سیاسی پارٹیاں فروغ نہیں پاتیں۔ یوں یہ موروثی سیاست دان ہر پارٹی کی ضرورت بن جاتے ہے۔ یہ موروثی سیاست دان الیکشن سے پہلے پارٹیاں تبدیل کرتے ہیں۔ عوام بھی ذہنی طور پر موروثیت کی شکار ہوتی ہیں لہذا موروثیت جیت جاتی ہے۔ موروثیت ہمارا موروثی مسئلہ ہے۔ موروثیت کی شکست اس صورت ممکن ہے جب معاشرے میں معاشی، معاشرتی اور سماجی انصاف ہو اور سوچنے کے زاویوں کو بدل کر کے رکھ دے۔

  • قادیانیت اور سوشل میڈیا پر ایک نظر ۔۔۔ حافظ عبدالرحمٰن منہاس

    قادیانیت اور سوشل میڈیا پر ایک نظر ۔۔۔ حافظ عبدالرحمٰن منہاس

    پہلے کبھی اخبارات کا دور تھا جو کچھ ہوتا تھا سامنے آ جاتا تھا لیکن آج کل سائنس و ٹیکنالوجی نے ہم کو سوشل میڈیا کا زمانہ دے دیا نہ جانے آگے چل کر اور کیا کیا ایجاد ہو گا نہ جانے اس لیے کہا کہ ہم لوگ صرف فرقہ واریت ، لسانیت اور نہ جانے کن کن لڑائی جھگڑوں میں پڑے ہوئے ہیں اور جن کو ہم اپنا دشمن کہتے ہیں وہ سائنس و ٹیکنالوجی میں دن بہ دن ترقی کرتے جا رہے ہیں ہم اس معاملے میں کوئی مقابلہ نہیں کر پا رہے

    _______________________
    خیر بات تھی قادیانیوں کی تو میرے دوستو سوشل میڈیا پر فیس بک ہو یا پھر ٹویٹر ہر جگہ ہمارے پاکستانیوں کے اکاونٹ ہیں اور شاید نماز بھی پڑھیں یا نہ پڑھیں لیکن فیس بک اور ٹویٹر پر اکاونٹ بنانے والے ہم لازمی اپنا سٹیٹس اپڈیٹ کرتے ہیں یا پھر کسی نہ کسی کی پوسٹ پر کمنٹ اور لائک تو لازمی کرتے ہیں دیکھا جائے تو ہر طرح کے گروپس اور پیجز بنے ہیں اور ہر طرح کی آئی ڈیز بھی بنی ہیں اب اگر ہم آئی ڈیز کے ناموں پر غور کریں تو لازمی بات ہے اپنے نام پر ہی آئی ڈی بنائیں گے یعنی میں مسلمان ہو تو میرا نام بھی اسلامی ہو گا تو میری آئی ڈی اسلامی نام سے ہی بنے گی اور میں جہاں بھی کسی بھی گروپ یا پیجز میں کمنٹ یا لائک کروں گا تو دیکھنے والے یا میرے کمنٹ کا جواب دینے والے سمجھ جائیں گے کہ یہ مسلمان ہے

    بالکل اسی طرح قادیانی جن کو الحمد اللہ پاکستان کے قانون کے مطابق غیر مسلم قرار دے دیا گیا تھا جو آج بھی اسی قانون کے اندر آتے ہیں پاکستان کے قانون کے تحت کافر ہی ہیں ___________مگر قادیانی خود کو کافر نہیں سمجھتے بلکہ وہ خود کو مسلمان ہی سمجھتے ہیں لہذا اسی کی بنیاد پر قادیانی اپنے نام بھی مسلمانوں کے ناموں کی طرح ہی رکھتے ہیں تو جس طرح ہم مسلمان فیس بک ٹویٹر استعمال کرتے ہیں بالکل ایسے ہی قادیانی بھی کرتے ہیں اب نام ہمارے اور قادیانیوں کے ایک جیسے ہی ہیں اسی بات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے قادیانی سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹوں پر کمنٹ کرتے ہیں اور ایسے پیجز اور گروپس بھی چلاتے ہیں جو مسلمانوں میں فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہوں جو پاک فوج کے خلاف باتیں کرتے ہوں لیکن ہم کو علم نہیں ہوتا کہ یہ قادیانی ہے یا نہیں جس کی وجہ سے ہم بھی مسالے دار فرقہ واریت کی باتوں میں آ کر قادیانیوں کا ساتھ بھی دیتے ہیں اور اپنی آخرت بھی خراب کرتے ہیں

    اب یہ کام بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے بلکہ قادیانیت کے زیر سایہ ایسے ادارے بھی چلائے جا رہے ہیں جن کا کام ہی صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو جتنا ہو سکے آپس میں لڑواؤ کیوں کہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جو قادیانی نہیں وہ مسلمان ہی نہیں

    لہذا میرے دوستو فرقہ واریت ،لسانیت ،مذہب ، پاکستان اور پاک آرمی پر تنقید کرتے ہوئے یا بحث کرتے ہوئے اس بات کا خیال بھی رکھا کریں کہ جو بات میں کر رہا ہوں کیا اس بات سے یا اس کو آگے پھیلانے سے میرے دین اسلام میرے وطن پاکستان کو نقصان تو نہیں ہو گا یہ سوچ کر کمنٹ ،لائک اور شئیر کیا کریں کہ جو پوسٹ میں شئیر کر رہا ہوں کیا اس سے مسلمانوں کا آپس میں نقصان تو نہیں ہو گا ،اور مسلمانوں میں آپس میں نفرتیں تو نہیں بھریں گی ان ساری باتوں کا خاص خیال رکھنا بہت لازمی ہے

    کیوں کہ ہم بلاوجہ ہی کفار کی سازشوں کا شکار ہو رہے ہیں اگر کوئی ایک ادارہ چلا رہا ہے مسلمانوں کو آپس میں لڑوانے کے لیے تو ہم سب مل کر اُن کی سازشوں کو پروان چڑھا رہیں ہیں

    ہم کو سوچنا ہو گا بلکہ قدم قدم سوچ رکھنا ہو گا کیوں کہ ہمارے بڑوں نے بہت زیادہ قربانیاں دے کر یہ وطن عزیز پاکستان حاصل کیا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کو پاکستان ایک خاص تحفہ دیا ہے اب تحفے کی حفاظت ہمارا کام ہے۔

  • نوجوانان پاکستان اور اقبال ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    نوجوانان پاکستان اور اقبال ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    کچھ روز پہلے سفر کیلئے نکلا گھر سے تو دوران سفر اک تعلیمی ادارے کی دیوار پر لکھے گئے شاعر مشرق کے اشعار اور اک ملی نغمہ کے جملے پڑھے،

    شاعر مشرق کے اشعار

    نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر

    تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

    اقبال کے شاہین اور قائداعظم کی امیدوں کے محور و مرکز نوجوان جنہیں قائداعظم اور اقبال ؒ قوم کا سرمایہ قوم کا معمار اور قوم کا مستقبل کہتے تھے ، اقبال اور قائد کو اس ملک کے نوجوانوں سے بہت سی توقعات وابستہ تھی ، قائداعظم چاہتے تھے کہ نوجوان سیاست میں شامل ہو کر ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں لیکن افسوس قیام پاکستان کے بعد ہماری وڈیرہ شاہی اورہماری اشرافیہ نے نوجوان نسل کوروکنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے ان کو اپنے ذاتی مفادات کی خاطر تعلیمی اداروں میں بھی استعمال کیا گیا ان کو استعمال کرکے اپنی گندی سیاست کا بازار چمکایا گیا نوجوان نسل کو ایسے مشغلے ایسا نصاب اور ایساکلچر دیا گیا کہ وہ قیام پاکستان کا مقصد ہی بھول گئے ہندو دوستی کا ایسا راگ الاپا گیا کہ ہمارے نوجوان یہ سوچنے پر مجبورہوگئے کہ اگر ہندو اتنے ہی اچھے تھے تو اتنی قربانیاں دے کر علیحدہ وطن حاصل کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔ ہمارے نوجوان جن کے ہیروز قائداعظم ، علامہ اقبال ؒ خالد بن ولید اور محمد بن قاسم ہونے چاہیے تھے آج ان کے ہیروز غیر مسلم ہیں آج وہ ہندو کلچر کے دلدادہ بن چکے ہیں آج کا نوجوان اس ملک کے حالات کو دیکھ کر صرف کڑھ سکتا ہے کیونکہ اسے مجبوریوں میں ایسے مقید کردیا گیا کہ وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتا اعلی ڈگریاں لے کر اسے سڑکوں پر ذلیل کیا جارہا ہے حالانکہ اسی ملک میں جعلی ڈگریوں والے اونچی اونچی اقتدار کی کرسیوں پر فائز ہیں 
    آج کا نوجوان اس ملک سے دور بھاگنے کی کوشش کرتا ہے آج ہماری نوجوان نسل بیرون ملک کے خواب دیکھتی نظرآتی ہے رشوت ، سفارش ، اور اقربا پروری کے زہر نے اسے ملک سے بدظن کر دیا ہے،
    حالانکہ یہ ملک ٹیلنٹ کے لحاظ سے بہت زرخیز ہے ارفع کریم جیسے نام ہماری نوجوان نسل کیلئے تابندہ مثال ہیں بس آج کے نوجوان کو اچھی اور مخلص لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ اچھی لیڈر شپ ہی نوجوانوں کو قومی دھارے میں لا سکتی ہے اور ان شاءاللہ میں اس بات سے بالکل مایوس نہیں آج کا نوجوان ضرور اس ملک کو دشمنوں کی سازشوں اور اپنوں کی عنایتوں سے بچائے گا اور ہم من حیث القوم آپس کے تمام اختلافات کو چاہے و ہ فرقہ بندی کے ہو لسانی ہو جیسے بھی ہو بھلا کر ایک ہو کر اس کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں اور یہ وقت دور نہیں

    اور دوسرا ملی نغمہ شعر تھا

    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں

    اور میں سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ ہم اس پرچم کے سائے تلے کہاں کہاں ایک ہیں؟
    ہم تو اپنی اپنی برادریوں اور سیاسی وابستگیوں میں الجھے ہوئے ہیں اور ہم غیر برادری اور سیاسی کارکنوں سے الجھنے والے اور سیاسی تماش بینوں کے لیڈروں کے دفاع میں ملکی مفاد اور ملک کی املاک کو نقصان پہنچانے کا سبب بن کر
    نعرہ لگانے والے ہیں کہ
    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں،

    ہم سب کو اپنی اپنی اصلاح کرکے ملکی ترقی کیلئے کام کرنا چاہئیے تاکہ
    ہم یہ کہنے میں ذرا بھی شرم اور جھجک محسوس نا کریں
    نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر

    تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

    اور۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں

  • صوفی ازم، وقت کی اہم ضرورت ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    صوفی ازم، وقت کی اہم ضرورت ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    صوفی ازم لفظ کے بارے میں محتلف روایات موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق صوفی عربی لفظ ‘صوف’ سے ہے جس کے معنی اون کے ہیں۔ کیونکہ شروع میں مسلمان اون کے بنے ہوئے کپڑے استعمال کرتے تھے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ لفظ ‘صفہ’ سے ماخوذ ہے جو صحابی حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں علم حاصل کرتے اور ذکر کرتے تھے۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ یونانی Sophia سے ماخوذ ہے۔جو معاشرے میں عقل شعور کی ترویج کرتے تھے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ عربی لفظ صفا سے ہے جسکی معنی خالص اور صاف کے ہیں۔ کیونکہ صوفی دلوں کو بغض، گناہوں، اور برائیوں سے پاک صاف کرتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق صوفا جو لوگ اسلام سے پہلے خانہ کعبہ کی خدمت کرتے تھے۔ المختصر صوفی وہ لوگ ہیں۔ جو بغیر کسی لالچ اور، ذاتی مفاد کے تمام انسانوں کے دلوں کو پاک و صاف کرنے کی کوشش کریں۔ دل کی صفائی و اصلاح صوفی ازم کا کام ہے۔ بنیادی طور پر صوفی ازم کسی مذہب کا محتاج نہیں کیونکہ صوفی ازم بین المذاہب سوچ وفکر ہے۔ صوفی ازم مختلف ناموں سے ہر مذہب میں موجود ہے۔ صوفی کا کام پیار، محبت، امن، بھائی چارہ اور قربانی کا درس دینا ہے چاہے مذہب ہندو ازم ہو، عیسائیت ہو یا اسلام، سکھ ازم ہو یا بدھ مت۔ لہذا موجود دور میں نفرتوں، لالچ،خود غرضی، انتہا پسندی اور دیگر معا شرتی بیماریوں کے خاتمہ کے لیے صوفی ازم کی ترویج وقت کی ضرورت ہے۔

  • جائیں تو کہاں جائیں؟ — احمد ندیم اعوان

    جائیں تو کہاں جائیں؟ — احمد ندیم اعوان

    پاکستانی میڈیا کو اب تک 4 ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

    پہلا دور سرکاری میڈیا ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی کا تھا۔ جس کے خبرنامہ میں صدر، وزیر اعظم کی سرکاری تقریبات، وزیر اطلاعات وغیرہ کے پالیسی بیان، ملک میں ہونے والا بڑا حادثہ، کھیل، شوبز کی خبریں اور آخر میں موسم کا حال سنا کر سب امن سکون کی شنید سنائی جاتی تھی۔ اس دور میں مالاکنڈ ڈویژن میں زیادہ بارش اور بلڈ پریشر کے مریض کم ہوتے تھے۔

    پھر اخبارات کا دور آیا۔ حکومت مخالف خبریں شایع ہونا شروع ہوئیں اور ساتھ ہی سینسر شپ بھی۔ قلم کے مزدور باز نہ آتے۔ روز کسی نئے انداز سے معلومات عوام تک پہنچا دیتے۔ آزادی صحافت کے لیے کوڑے کھانے والوں کے قلم کی کاٹ سے ایوانوں میں رہنے والے پریشان ہوجاتے۔ گرفتاریاں، کریک ڈاون اور اخبارات کو بند کرنے کے احکامات روز کا معمول تھا۔
    سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کا دفتر خارجہ کے نام کھلا خط … محمد عبداللہ

    پھر نجی ٹی وی چینلز کے آنے کے بعد نہ صرف میڈیا فاسٹ ہوا بلکہ کمرشل بھی ہوگیا۔ صحافیوں کی تنخواہیں بہتر ہونے کے ساتھ صحافت نایاب ہوگئی۔ یار دوستوں کو کہتے سنا۔ پہلے اخبار میں صحافت کرتے تھے۔ اب چینل میں نوکری کرتے ہیں۔ چینل بھی تقسیم ہیں۔ ایک حکومت کا حامی تو دوسرا مکمل مخالف، ایک پرو آرمی تو دوسرا آرمی مخالفت میں کوئی موقع جانے نہیں دیتا۔ ایسے میں کس پر اعتبار کریں
    سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    سب چھوڑیں اب بات کرتے ہیں دور حاضر کی۔ موبائل نے سب کو فوٹوگرافر اور سوشل میڈیا نے سب کو صحافی بنادیا ہے۔ حقائق کیا ہیں اسے چھوڑیں بس اپنے لیڈر کو درست اور مخالف کو ننگا کرنا مشن ہے۔ مشرقی اقدار، روایات، اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے۔ کبھی بیٹیاں سانجھی ہوتی تھیں اب مخالف سیاسی پارٹی کی ہوگئی ہیں۔

    کبھی دنیا بہت بڑی ہوا کرتی تھی۔ بھی گلوبل ویلیج بن گئی اور اب سوشل میڈیا نے اسے ایک اندھیرا کنواں بنا دیا ہے۔ جہاں ہمیں اپنے جیسے ہی نظر آتے ہیں جو خوش فہمی یا مایوسی میں مبتلا کردیتے ہیں۔

    ماضی کے میڈیا پر الزام تھا کہ وہ مرضی کی خبریں دکھاتے ہیں۔ مگر آج سوشل میڈیا کے کسی اسٹیٹس یا ٹوئیٹ پر آنکھ بند کر کے اعتبار کریں تو معلوم ہوتا ہے فیک اکاونٹ ہے۔

    اب آپ ہی بتائیں۔ ہم جائیں تو کہاں جائیں؟

  • شرم و حیا ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    شرم و حیا ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    اک گانے کے بول ہیں

    ملاؤ نا یوں نگاہ ہم سے
    ہو نا جائے کوئی گناہ ہم

    مطلب یہ تو مان لیا گیا ان بے حیائی کو عام کرنے والوں نے کہ نگاہ ملے گی تو گناہ ہونے کے چانس بڑھ جاتے ہیں، اور یہی نگاہ ملانے اور بے حیائی اور عزتوں کا جنازہ کیلئے بے پناہ محنت کی گئی اور اب بھی جاری ہے، موویز، گانوں، لباس کے چناؤ، بے پردہ ہو کر نکلنا، مردوں کے بے حیا ہوجانے کی صورت، اور ہر اک حربہ استعمال کیا جا رہا ہے کہ نوجوان نسل کو بے حیا کر کے دین اسلام سے دور کر دیا جائے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جب حیا ختم ہوجائے تو پھر انسان جو مرضی کرتا پھرے،
    اک اور اہم بات ان گانوں کے اشعار پر غور کرنا جو حقیقت سے بالکل دور اور افسانوی شاعری پر مبنی ہونگے، جس کا اصل زندگی سے کوئی واسطہ نہیں، بلکہ یہ جتنے محرم رشتے ہونگے ان سے متنفر اور باغی کرنے، خاندانی نظام کو توڑنے پر مبنی، اور خیالی دنیا میں جانے کا ساماں کرنے پر مشتمل ہونگے، اور ایسا انسان غیر ذمہ دار، رشتوں کی اہمیت کو پس پشت ڈالنے والا ہوگا، اپنے خیر خواہوں کو اپنا دشمن سمجھنے والا ہوگا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے مسائل کا شکار ہوگا۔

    اب رستے کا انتخاب کرنا اس شخص پر ہے جو یہ تحریر پڑھ کر ان الفاظوں کی گہرائی کو سمجھ رہا ہے۔
    کہ وہ کس رستے کا انتخاب کرتا ہے۔

  • شوہر کے موبائل سے میسجز کاپی کرنا جرم قرار،کس ملک میں جانیئے اس خبر میں‌

    شوہر کے موبائل سے میسجز کاپی کرنا جرم قرار،کس ملک میں جانیئے اس خبر میں‌

    دوبئی:خاوند اور بیوی کے درمیان نفرت کو پیدا ہونے سے بچانے کے لیے عرب امارات نے شوہروں کو خاوندوں کی جاسوسی سے روک دیا . متحدہ عرب امارات میں شوہروں کی جاسوسی کرنے والی خواتین کیلئے نئی مشکل پیدا ہوگئی۔ شوہر کے موبائل سے میسجز کاپی کرنا جرم قرار دے دیا گیا ۔ خلا ف ورزی کرنے پر خواتین کو تین ہزار درہم ادا کرنا ہونگے۔

    ۔ شوہر کے موبائل پیغامات کو کاپی کرنے پر اگر شوہر نے بیوی کیخلاف شکایت درج کردی کہ ان کی بیگم نے موبائل ان کی بغیر اجازت سے استعمال کیا اور پرایوسی میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔اس فیصلے مقصد خاوند اور بیوی کو باہمی اختلاف سے بچانا ہے جو آگے بڑھ کر بڑے مسائل پیدا کردیتے ہیں

    اس فیصلے کی روشنی میں کہا گیا ہے کہ اگر بیوی نے اپنے خاوند کا موبائل سے میسج کیا یا اس کو چیک کرنے کی کوشش کی تو پھربیگم صاحبہ کو اس جرم میں تین ہزار درہم ادا کرنا ہونگے جبکہ عدالت کے مطابق خواتین کو ایک سو درہم وکالت فیس اور دیگر چارجز بھی ادا کرنے ہونگے۔

  • ڈاکیومینٹیش لازمی، مگر کیوں؟ ؟؟ فرحان شبیر

    ڈاکیومینٹیش لازمی، مگر کیوں؟ ؟؟ فرحان شبیر

    اگر ہماری اکانومی ایک ڈاکیومینٹڈ اکانومی ہوتی جس میں برسوں سے لوگوں کا سارا ڈیٹا ان کی ساری انکم اور اثاثے یعنی منی ٹریل ہر لمحہ مرتب ہورہی ہوتی تو کسی بھی جعلی رسید ، اووربلنگ یا انڈر انوائیسنگ کو ایک دو چیکس لگا کر کراس چیک کیا جانا مشکل نہ ہوتا اور ہمارے لین دین کے معاملات میں اتنے گھپلے ، اتنی دو نمبریاں اور اتنی پیچیدگیاں نہ ہوتیں ۔

    سب سے پہلے تو اس طرح سے ملزم عاطف کے پاس کروڑوں روپے جمع ہی نہیں ہو پاتے ۔ بینکنگ چینل سے اتنی اتنی بڑی بڑی رقوم کا ایک ہی شخص کے اکاونٹ میں ٹرانسفر ہونا پہلے دن ہی نوٹس میں آجاتا ۔ FBR سے لیکر اسٹیٹ بنک کے اینٹی منی لانڈرنگ یونٹ تک نوٹسز آچکے ہوتے کہ میاں کونسا کام ہورہا ہے کہ ڈیڑھ دو سالوں میں ہی آپکے اکاونٹ میں یہ پانچ کروڑ ، دس کروڑ یا پچپن کروڑ تک کیسے آگئے۔ دوسری طرف دینے والوں کے پاس بھی پہلے تو اس طرح اتنا پیسہ جمع ہی نہیں ہوتا اور اگر کسی کے پاس گھر یا گاؤں کی زمین بیچ کر آتا بھی تو وہ اسے اس طرح بغیر کسی لکھت پڑھت کبھی کسی عاطف کے حوالے نہ کرتا ۔

    مرید کا دوسرا قاتل ہمارا اخلاقی طور پر زوال پذیر معاشرہ بھی ہے جس نے نفسا نفسی کو اس قدر زور دے رکھا کہ ہر شخص بہت کچھ بہت جلدی کرنے کے چکر یا خواہش میں ہے ۔ سب کو بہت کچھ فورا فورا چاہیے ۔ کیونکہ معاشرے نے یا ریاست نے بنیادی ذمہ داریوں کو اپنی ترجیح نہیں بنایا لہذا مستقبل کے خدشات نے ہم سب کو پروفیشنل وولچرز بنا دیا ہے ایک عاطف ہی کیا یہاں پر شخص ہی ایک دوسرے کا مال غلط طریقے سے کما رہا ہے No wonder کے ہم دنیا کی چند بدعنوان ترین قوموں میں سرفہرست ہیں باوجود اسکے کہ سب سے زیادہ زکوۃ ، خیرات ، صدقات، حج ، عمرے ، کرنے میں بھی ہماری ہی قوم آگے ہے ۔ سارا رمضان زیادہ پرافٹ لینے والے حاجی صاحب شب قدر کی راتوں میں حرم شریف میں بھی سب سے آگے ہوتے ہیں ۔ اور اسکے ساتھ ساتھ ڈاکیومینٹیشن سے بھی انکاری ہیں ۔

    دیکھا جائے تو ڈاکیومینٹیشن کا ایمانداری سے براہ راست اور گہرا تعلق ہے۔ اور یہ دین اسلام کا بڑا شدید تقاضہ بھی ۔ آپکو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ قرآن کریم میں سب سے طویل آیت مبارک مبارکہ ، سورہ بقرہ کی آیت نمبر 282 ہے اور یہ نماز روزہ حج یا زکوۃ سے متعلق نہیں بلکہ لین دین ، قرض دینے لینے ، یعنی پیسے کی ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقلی کی Documentaion یعنی باقاعدہ لکھت پڑھت کے متعلق ہے ۔ زبانی قول و قرار نہیں بلیک اینڈ وائٹ میں کاغذ کے اوپر تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت ثبوت کے طور پر کام آئے ۔ اسی سے کام کاج میں شفافیت پیدا ہوتی ہے اور کسی کے لیے بھی اپنی بات سے پھرنا یا مکرنا مشکل ہوتا ہے ۔ قرآن کریم نے لکھنے کے ساتھ ساتھ گواہوں کی موجودگی کی بھی شرط رکھی ہے گواہوں کو کہا گیا کہ کبھی شہادت نہ چھپانا اور گواہوں کا معیار تک بتایا ہے لکھنے والے کاتب تک حکم کہ جو قرض لینے والا لکھے ویسا ہی ایمانداری سے لکھو ۔ کیونکہ ڈاکیومینٹیشن کو اپنا کر ہی کوئی سوسائٹی ہر وقت کی جھک جھک سے بچ سکتی ہے اور افراد معاشرہ بھی ایک دوسرے سے لوٹے جانے یا ڈز کھانے کے ڈر سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔

    جس معاشرے میں ہر چیز ڈاکیومینٹڈ اور written فارم میں ہوگی وہاں بے ایمانی اور دھوکے بازی کے چانسز اتنے ہی کم ہوں گے ۔ چھوٹے سے چھوٹے فرد سے لیکر بڑے سے بڑے عہدیدار کو بھی اگر یہ احساس ہو کہ اس سے کسی بھی وقت چیک اینڈ بیلنس سے گزرنا پڑ سکتا ہے تو وہ بھی کسی بلیک اکانومی کا حصہ بننے سے کنی کترائے گا ۔ اس لینڈ کروزر کا کیا فائدہ جسے روڈ پر لے کر نکلتے ہی پوچھا جائے کہ SHO صاحب رسیداں کڈھو ، کدھر سے لی اور کیسے لی تو پھر کون جلتی میں ہاتھ ڈالے گا ۔ ظاہر ہے مکمل خاتمہ شاید نہ ہو پائے لیکن ایک بند تو بندھے گا ۔ بات لمبی ہونے کا ڈر ہے ورنہ تو اپنے گلی محلوں میں ہونے والی بے ہنگم تعمیرات، پارکوں کے اجڑنے یا اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں اضافے کے پیچھے جائیں تو کہیں نہ کہیں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا رشوت خور اہلکار یا تھانے کا ایس ایچ او ہی ہوگا ۔ کیونکہ ان سب کو پتہ ہے بھلے ان کی تنخواہیں تیس پینتیس چالیس پچاس ہزار روپے ہیں اور ان کا لائف اسٹائل کسی بھی طرح لاکھوں روپے کمانے والے لوگوں سے کم نہیں بلکہ کئی سولہ سترہ گریڈ کے اہلکاروں کو بادشاہوں والی زندگی گذارتے ہوئے تو ہم سے اکثر لوگ دیکھتے ہی رہتے ہیں ۔ بابو کو بھی ڈر نہیں کہ کوئی پوچھے گا کیونکہ کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا ۔ اور اگر پوچھے تو گاڑی اماں کے نام پلاٹ ، بنگلہ بیوی کے نام فلاں چیز اس کے نام تو فلاں چیز اسکے نام دکھا کر کھاتا پورا کرکے دکھا دو ۔ دو کروڑ کی گاڑی تیس لاکھ کی شو کر دو ۔ کون پوچھے گا پلٹ کر ۔
    جو بیچنے والا ہے وہ بھی ڈبل ڈبل کھاتے بنا کر چل رہا ہے ۔ ایک گنگا ہے جس میں ہر کوئی ہاتھ دھو رہا ہے ۔

    اب بھی وقت ہے کہ ہم نوشتہ دیوار کو پڑھ لیں اور اپنی اکانومی کو ڈاکیمینٹڈ بنانے میں پورا ساتھ دیں ۔ کیونکہ اس بلیک یا undocumented economy کے دیمک نے ہمارے معاشرے کے اخلاقی وجود کے تار و پود کو بکھیر کر رکھ دیا ۔ اسی بلیک اکانومی کی وجہ سے رشوت لینے والے ، زیادہ منافع کما کر کم ٹیکس دینے والے اور کسی بھی غلط طریقے سے زیادہ سے زیادہ wealth accumulateکرنے والے کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی کہ وہ اتنی ویلتھ کہاں پارک کرے گا ۔ یہ اسی بے فکری کا ہی نتیجہ ہے کہ پولیس سے لیکر عدلیہ اور تعلیم سے لیکر صحت تک کے ادارے میں اس کرپشن کے ناسور نے ایسے پنجے گاڑے ہیں کہ ڈاکیومینٹیشن کا سوچ کر سب کی جان نکلے جارہی ہے ۔ ڈاکیومینٹیشن ہوگی تو ریاست اور ادارے کسی بھی بندے سے پوچھ سکیں گے کہ بھائی آپ کی تنخواہ ، دکان کی کمائی ، سرکاری نوکری میں تو آپ کا یہ طرز زندگی یہ ہائی فائی لائف اسٹائل اور بڑی بڑی Gatted societies میں رہنا تو افورڈ ہی نہیں ہو سکتا تو یہ سب کیسے چل رہا ہے ؟ ذرا وضاحت کردیجیے ۔ اور دل پر ہاتھ رکھ کر سوچا جائے تو اس میں کیا برا ہے ؟ ۔ کسی بھی صحیح انسان کو اس میں تو کوئی مسئلہ ہونا ہی نہیں چاہئیے کہ وہ ڈاکیومینٹڈ اکانومی کا حصہ بنے اور ہر ٹرانسیکشن کا ایک بلیک اینڈ وائٹ ثبوت لے بھی اور دے بھی ۔

    اس کوشش اور جدوجہد میں سیاسی وابستگی یا لبرلز اور مذہبی کی تخصیص رکھنا اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ ظلم کرنا ہوگا ۔ ڈاکیومینٹیشن تو ہر معاشرے کی ضروت ہے چاہے سیکولر ہو یا وحی کا ماننے والا ۔ ڈاکیومینٹشن تو ہر طرح کی سوچ رکھنے والے کی زندگی کو امن سکون تحفظ اور بہتر ماحول دے سکے گی ۔امن اور سکون ہوگا تو سب کو اپنی دوسری خامیوں کو دور کرنے اور اپنے اندر نئی خصوصیات پیدا کرنے کا وقت بھی مل سکے گا اور حوصلہ بھی ہوگا کہ اب مقابلہ محنت کا محنت ، ذہانت کا ذہانت اور Creativity کا Creativity سے ہوگا ۔

  • معاشرے میں بڑھتا بگاڑ، ذمہ دار کون؟؟؟ زین اللہ خٹک

    معاشرے میں بڑھتا بگاڑ، ذمہ دار کون؟؟؟ زین اللہ خٹک

    موجودہ دور میں ہر جگہ بگاڑ ہے۔ عام آدمی سے لیکر اعلیٰ سطح تک ہر جگہ اور ہر کوئی ذاتی فرائض کی انجام دہی کی بجائے دوسروں کے کاموں میں مداخلت کو باعث ثواب سمجھتا ہے۔ کلینک میں ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے خدمت خلق پر ایک گھنٹہ لیکچر دیا۔میں متاثر ہوا ۔لیکن کلینک میں دوسروں کا چمڑا ادھیڑ لی جاتی ہے۔ بے جا ادویات کی لمبی چوڑی فہرست، مختلف ٹیسٹ، اور مخصوص سٹور سے ادویات کی خریداری کی تلقین بھی باعث ثواب سمجھتے ہیں۔ تبلیغ میں دن رات گزارنے کے بعد امیر صاحب ‘دنیاوی’ کمائی کی خاطر ہر چیز کی اضافی قیمت وصول کر رہا تھا۔ استفسار پر بتایا کہ یہی تجارت ہے۔ مولوی صاحب فروٹ فروش ہیں۔ مسجد کے سامنے کھوکھا کھولا ہے۔ خوب دینی اور دنیاوی کمائی کررہے ہیں۔ بازار سے چالیس فیصد زیادہ قیمت پر فروٹ فروخت کرتے ہیں۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ غیر اسلامی ملک میں اس طرح کی تجارت کی اجازت ہے۔ (ان کے بقول پاکستان اسلامی ملک نہیں)۔ تاجر رہنما نے تاجروں کے حقوق پر لیکچر دیا۔جب ٹیکس کی ادائیگی کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے کہ ہمیں پہلے حقوق دیں تب ہم ٹیکس دیں گے۔ مولوی صاحب ہر جمعہ مساوات کا درس دیتے ہیں لیکن بچوں کو قاعدہ پڑھاتے وقت توجہ صرف امیر بچوں کو دیتے ہیں۔ اساتذہ کرام کلاسز میں صرف سیاسی باتیں کرتے ہیں۔ اور کلاس کے آخر میں ٹیوشن سنٹر کا پتہ بتاتے ہیں۔ٹیوشن سنٹرز سے پڑھائی کی صورت میں بہترین رزلٹ جبکہ سکول میں پڑھائی پر بدترین رزلٹ ۔سوزوکی سٹاپ پر سارے ڈرائیورز اور کنڈکٹروں کو ایک سوزوکی میں بیٹھا کر دن کا آغا ز کیا جاتا ہے۔ جب ٹریفک پولیس والے اور لوڈنگ اور غلط سٹاپ پر جرمانہ کریں تو حلال روزی اور محنت کی باتیں۔ اڈے پر اے سی گاڑی میں لگا کر سواریوں سے اے سی کا کرایہ وصول کرکے تین کلومیٹر بعد اے سی بند کرکے نعتوں کی کیسٹ لگا کر سواریوں کی ہمدردیاں سمیٹی جاتی ہیں۔ پرائیویٹ سکولوں میں اساتذہ کو چند ہزار روپے پر رکھ کر سات کلاسز کی پڑھائی کرائی جاتی ہے۔ صبح اسمبلی میں بچوں سے پہلے اساتذہ کی موجودگی لازمی ہوتی ہے۔ اور انھی چند ہزار روپے میں امتحانات میں نقل کی درآمد وبرامد کی ذمہ داری بھی سونپی جاتی ہے۔ المختصر ہر شعبہ زندگی میں بگاڑ پیدا ہوا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام شعبہ ہائے زندگی کو ازسرنو تشکیل دیا جائے۔حقوق وفرائض کی تجدید نو کی جائے۔تاکہ انسانیت کو نئی روح و زندگی دی جائے۔