Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • پردہ، اقدار اور معاشرہ ۔۔۔ عبداللہ صالح جتوئی

    پردہ، اقدار اور معاشرہ ۔۔۔ عبداللہ صالح جتوئی

    لفظ عورت کا معنی ڈھکی ہوئی یا چھپی ہوئی چیز ہے یعنی سر سے لے کر پاؤں تک چھپی ہوئی چیز کو عورت کہا جاتا ہے.

    پردہ اسلامی معاشرے کا لازمی جزو ہے جس کا حکم رب العالمین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچایا تاکہ عورت معاشرے کے لیے فتنہ کی بجاۓ تعمیر و ترقی کا باعث بنے اور اس کی کوکھ سے پیدا ہونے والا بچہ دین کی سربلندی میں اپنا کردار ادا کرتے ہوۓ اسلام دشمنوں کی سازشوں کو بے نقاب کرے اور اسلام کا عَلم پوری دنیا میں اونچا کرے لیکن آج کل کے معاشرے میں سب کچھ الٹ چل رہا ہے۔ یہاں تو پردے کو دل کا پردہ کہہ کے اسلام کا مذاق اڑایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے عورت آج درندوں کی ہوس کا شکار ہے اور جابجا عصمت دری کا شکار ہے.

    پردے سے عورت محفوظ رہتی ہے جس کی مثال میں کچھ یوں گوش گزار کرنا چاہوں گا کہ جب بھی آپ قصاب کی دوکان پہ تشریف لے جاتے ہیں تو آپ اس کو اچھی طرح لفافے سے ڈھانپ لیتے ہیں تاکہ کوئی جانور یا پرندہ اس کو نقصان نہ پہنچا دے اور اگر آپ اسے کھلا چھوڑیں گے تو شاید آپ گھر تک بھی بحفاظت نہ پہنچ پائیں.

    میں نے جس معاشرے میں آنکھ کھولی وہ معاشرہ الحمدللہ اسلامی احکامات اور صوم و صلوٰۃ کا پابند تھا اور اللہ کے فضل سے پردہ بھی اس کا بہترین شعار تھا جس کی برکتیں میں ابھی تک سمیٹ رہا ہوں. ہمارے بڑے گھر میں ٹی وی نہیں رکھنے دیتے تھے کیونکہ ان کا یہ مؤقف تھا کہ یہی فساد کی جڑ ہے اور یہی عورت کو اس کے مقصد سے ہٹا کے اسے بے پردگی اور گمراہی کے رستے پر لے جاتا ہے. تب ہمیں بہت عجیب سا لگتا تھا کہ ہمیں گھر والے ٹی وی کیوں نہیں دیکھنے دیتے ہم کوئی بچے ہیں جو بگڑ جائیں گے۔ بھلا ٹی وی دیکھ کے بھی کوئی گمراہ ہوا ہے..

    اس سوال کا جواب ہمیں آج معلوم ہوا جب آج کے والدین یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ہم نے اپنے بچوں کو اس لیے گلوکار بنانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اسے فلاں گلوکار بہت اچھا لگتا ہے اور وہ بہت اچھا گاتا ہے یہ اس کی نقل بھی بہت اچھی کر لیتا ہے اس کا آئیڈیل فلاں اداکار یا اداکارہ ہے اس کو شوبز کا فلاں سٹار بہت اچھا لگتا ہے میری بیٹی نے جینز اور ٹی شرٹ پہننی ہے کیونکہ ہم نے ایک ڈرامہ میں دیکھا تھا کہ اس لڑکی کو بہت خوبصورت لگ رہی تھی فلاں فلاں..

    آج کبھی ٹی وی چینل پہ لڑکی بھگانے کے اشتہار تو کبھی داغ تو اچھے ہوتے ہیں کی آڑ میں ہونے والی فحاشی تو کبھی گھر کی چار دیواری کو داغ قرار دے کے معاشرے کو فحاشی و عریانی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اور کئی ایسے اشتہارات ہیں جو یہاں زیربحث لانا بھی مناسب نہیں ہے ان کا مقصد صرف اور صرف عورت کو اسلام اور پردہ سے دور کرنا ہے اور یہی سازشوں کی جنگ ہے جس میں ہمیں دھکیل کے ہم پر کافر مسلط ہونا چاہتے ہیں اور ہو بھی رہے ہیں.

    یہی وجہ ہے کہ آج ٹی وی ڈراموں اور فحش اشتہارات کی آڑ میں کفار ہماری اسلامی تہذیب میں بگاڑ پیدا کر رہے ہیں اور ہمارے بچے بگڑتے جا رہے ہیں اور اسلامی تہذیب سے کنارہ کشی اختیار کرتے جا رہے ہیں ہماری عورتوں کو پردہ کرنے سے گھبراہٹ ہوتی ہے اور طرح طرح کے بہانے بناۓ جاتے ہیں یہاں تک کہ مائیں بچوں کو ترغیب دینے کی بجاۓ اپنے بچوں کے ذہن میں ڈالنا شروع کر دیتی ہیں کہ اگر ابھی سے پردہ کرو گی تو لوگ ولون کہیں گے اور کسی نے دیکھنا تک نہیں ہے تمہیں اور کون تجھ سے شادی کرے گا جیسے طعنے مار مار کے اس کو اسلام سے دور کر لیتے ہیں.

    افسوس ہوتا ہے ان ماؤں پہ جنہوں نے عائشہ رضی اللہ عنھا و فاطمتہ الزھرا رضی اللہ عنہا کی مثالیں دینی تھی آج وہ اداکاراؤں کے نقش قدم پہ چل پڑی ہیں اور فحاشی و عریانی کو فیشن کا نام دے کر اپنی آنے والی نسلوں کو تباہ و برباد کر رہی ہیں.

    آج بچے بچے کو اداکاراؤں کے نام آتے ہیں اور ان کے کپڑے اور اسٹائل تک زیر بحث آتے ہیں لیکن مجال ہے کسی کو آخری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور ان کی قربانیوں کے متعلق بھی علم ہو آج جو بچی بھی دوپٹہ یا اسکارف لینے کی کوشش بھی کرتی ہے تو اسے اپنے گھر والے بھی طعنے مارنا شروع ہو جاتے ہیں کہ ابھی سے بوڑھی بننا ہے اتارو تمہیں بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا جب بڑی ہوگی تب پہن لینا اور پھر جب وہ بڑی ہوتی ہے تو اسے یہ عادت ہی نہیں ہوتی کہ دوپٹہ بھی سر پہ لینا ہوتا ہے یا یہ صرف گلے کی حد تک ہی رکھنا ہے..

    خدارا اپنے بچوں کو بچپن سے ہی اسلام سے محبت سکھائیں اور انہیں اداکاروں کی بجاۓ اصحاب نبی صل اللہ علیہ وسلم کی بہادری کے قصے سنایا کریں اور ٹی وی جیسی لعنت سے ان کو کوسوں دور رکھیں تاکہ آپ کا بچہ اس جاہلیت کا شکار ہو کر درندوں کی درندگی کا نشانہ نہ بن جاۓ..
    اللہ ہمیں اللہ کے احکامات کو صحیح معنوں میں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین یا رب العالمین..

  • ہماری خواتین ہی نشانے پر کیوں ؟؟؟ محمد فہیم شاکر

    ہماری خواتین ہی نشانے پر کیوں ؟؟؟ محمد فہیم شاکر

    کہا جاتا ہے کہ مرد کی تعلیم فرد کی تعلیم ہے جبکہ عورت کی تعلیم خاندان کی تعلیم ہے
    گذشتہ کچھ عرصے سے وطن عزیز پاکستان میں خواتین کے اندر بے چینی پیدا کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں
    اگر غور کریں تو کبھی خواتین مارچ کے نام پر عورتوں کو خاندان سے باغی کیا جاتا ہے
    تو کبھی بیکن ہاوس سکولوں میں لڑکیوں سے زیر جامہ کپڑوں کی خوب تشہیر کروائی جاتی ہے

    پھر لڑکیوں کو گھر سے بھاگنے کے لیے کریم کار بک کروانے کا مشورہ نما اشتہار چلایا جاتا ہے

    اور پھر لڑکیوں کو باپ کی بات ماننے سے انکار پر اکسایا جاتا ہے وہی باپ جو بیٹیوں کی پرورش کی خاطر زمانے کی سرد و گرم برداشت کرتا ہے

    اور پھر اب لڑکیوں ہی کو چادر اور چاردیواری سے متنفر کیا جا رہا ہے
    اور یہ سب اچانک نہیں ہوا اور نہ ہی کسی ایک فرد کا کام ہے
    اس کو نظریاتی جنگ کے طور پر دشمن لڑ رہا ہے اور ہماری خواتین کو خاندان، مذہب اور معاشرے سے بد ظن کر رہا ہے کیونکہ اپنا خاندانی نظام تو امریکہ و یورپ تباہ کروا بیٹھے ہیں اب پاکستان کے اس سسٹم کو تباہ کرنے کے در پر ہیں اسی لیے تو خواتین ان کا نشانہ ہیں، شاید خواتین سادہ لوح ہوتی ہیں اور جلدی کسی کا بھی شکار ہوجاتی ہیں، اس لیے ان کا انتخاب کیا گیا ہے
    امریکہ و یورپ میں سب سے زیادہ بکنے اور والی عمارت چرچ کی ہے اور سب سے زیادہ تباہ ہونے والا نظام خاندانی نظام ہے خاندانی نظام کی تباہی کا بہت سے یورپی وزیراعظم اقرار بھی کر چکے ہیں
    یہ خاندانی نظام خواتین اور بچوں کو معاشرتی دھوپ سے بچانے کے لیے ڈھال کا کام کرتا ہے اور اب یورپی و دیگر اقوام پاکستان کے اسی نظام کو تباہ کرنے کے در پے ہیں
    یاد رکھیے گا یورپ و امریکہ میں خواتین کو مردوں کے برابر حقوق چاہیں تھے لہذا انہوں نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا شروع کردیا سارا دن محنت مزدوری اور حقوق کے حصول کی دوڑ کے بعد تھکی ہاری عورت جب گھر پہنچتی تو بچوں کی دیکھ بھال اور خاوند کے جائز و ناجائز مطالبات پورے کرنا اور اس کی سیوا کرنے کی ذمہ داری نبھانا پڑتی، سارا دن عورت بن کر رہنے والی کو گھر آکر بیوی بننا پڑتا تھا اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ استحصال عورت ہی کا ہوا جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ اس عورت نے اپنے معاشرے سے الگ ہونا شروع کر دیا اور اب مغرب میں سب سے زیادہ اسلام عورتیں قبول کر رہی ہیں کیونکہ یہ اسلام ہی ہے جو خاوند کو عورت کا سربراہ بنانے کے ساتھ اس کی تمام تر ضرورتوں کی تکمیل کا ذمہ دار قرار دیا ہے ج کہ عورت اپنے گھر میں ملکہ کی طرح رہے گی
    لیکن مغرب پاکستان کے اندر جو کھلواڑ کر رہا ہے اس سے اس کا مقصود عورت تک پہنچنے کی آزادی حاصل کرنا ہے کیونکہ مغرب اب تازہ مال چاہتا ہے اسے یورپ کی استعمال شدہ عورت سے بےزاری محسوس ہونے لگ گئی ہے لہذا وہ اسلامی ممالک اور بالخصوص پاکستان کے اندر خوشنما نعروں کی آڑ میں خواتیں کی ذہن سازی کر رہا ہے بلکہ یوں کہیے کہ مسلمان خواتین میں انسٹالڈ سافٹویئر کو وائرس کے ذریعے کرپٹ کر رہا ہے تاکہ اپنی مرضی کا سافٹویئر انسٹال کر کے اس عورت پر غلبہ اور قابو پا سکے تاکہ اپنی مرضی کے مطابق اسے استعمال کر سکے اور بدقسمتی سے اس سارے دھندے کے لیے اسے پاکستان سے لبرلز کے نام پر چند ایسی فاحشہ عورتیں دستیاب ہو چکی ہیں جو اسلامی اقدار کو براہ راست نشانہ بنا کر مسلمان خواتین کو باور کرا رہی ہے کہ اسلامی حدود و قیود ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں لہذا آو اور ان حدود کو توڑ دو تاکہ تم ترقی کر سکو
    یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آسمان سے لگنے والی پابندی ترقی کی ضامن تھی لیکن آج فارمولے بدلے اور آسمانی پابندیوں کو پاوں کی ٹھوکر پر رکھنا ترقی کا ضامن قرار پایا ہے

    آپ ایریل ڈٹرجنٹ کا اشتہار دیکھ لیجیے کہ کس قدر ڈھٹائی سے خواتین کو سمجھایا جا رہا ہے کہ *چار دیواری میں رہو* یہ جملے نہیں داغ ہیں پر یہ داغ ہمیں کیا روکیں گے
    قرآنی آیت مبارکہ
    وقرن فی بیوتکن
    کا کھلم کھلا مذاق اڑایا گیا اور مسلم خاتون کو حوصلہ دیا گیا کہ وہ آسمانی حکم کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے چار دیواری کو توڑ کر باہر نکلیں اور شومئی قسمت سے اسے ترقی کا نام دیا جاتا ہے
    مورخ سوال کرتا ہے کہ آخر ہماری خواتین ہی نشانہ کیوں؟
    دوسری بات یہ ہے کہ انڈین ڈرامے جن کی اقساط تین تین سو تک جا پہنچتی ہیں لیکن وہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے
    ان سب کا مقصد بھی پاکستانی خاندانی نظام کو تباہ کرنا ہے
    آسٹریلیا ان ڈراموں کے اخراجات برداشت کرتا ہے تاکہ پاکستانی لڑکیاں شادی کے بعد اپنے خاوندوں کو الگ گھر لینے پر مجبور کر دیں
    اور جب الگ گھر ہوگا تو ظاہری سی بات ہے کہ فریج اے سی اوون واشنگ مشین و دیگر لوازمات کی ضرورت پڑے گی تو آسٹریلیا پھر ان کی مانگ پوری کرنے کے لیے اپنی پراڈکٹس مارکیٹ میں لاتا ہے

    یہ بھی ایک پہلو ہے
    لہذا خواتین کے ذہنی، نظریاتی اور فکری تحفظ کی جس قدر آج ضرورت ہے شاید اس سے پہلے نہ تھی
    مورخ پھر سوال کرتا ہے کہ آخر ہماری خواتین ہی نشانہ کیوں؟
    اور پھر مورخ خود ہی جواب بھی دیتا ہے کہ مرد کی تعلیم فرد کی تعلیم ہے اور عورت کی تعلیم خاندان کی تعلیم ہے لہذا عورت کو نشانہ بناکر دراصل مسلمانوں کے خاندانی نظام کی بنیادیں ہلانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ جب عورت ہی باغی ہو گی تو خاندانی نظام کہاں باقی رہے گا اور جب خاندانی نظام باقی نہیں رہے گا تو اولاد کی تربیت کرنا اور انہیں اطاعت الہی کا سبق ازبر کروانا، نیکی و بدی کا کانسپٹ دینا، جنت کے وعدے یاد دلانا اور جہنم سے ڈرانا، ایمان داری، ایفائے عہد، اور دیگر روشن اقدار کا سبق کون پڑھائے گا
    جب یہ بنیادی لوازمات ہی نہیں ہوں گے تو وہ مثالی اسلامی معاشرہ کیسے تشکیل پایے گا جو مظلوم مسلمانوں کی پکار پر لبیک کہنے والا ہوگا
    اور جب مائیں روشن خیال ہو کر ترقی کی دوڑ میں شامل ہوجائیں گی تو ابن قاسم، محمد بن اسماعیل البخاری، ابن تیمیہ، ثناء اللہ امرتسری کہاں سے پیدا ہوں گے
    تو سمجھ لیجیے کہ عورت کو روشن خیال کر کے چار دیواری سے باہر نکالنا دراصل اسلام کو نہتا اور بے سروپا کرنا ہے۔

  • "شادی” اور "دوسری شادی” ۔۔۔ عبدالرب ساجد

    "شادی” اور "دوسری شادی” ۔۔۔ عبدالرب ساجد

    مرد چاھے کنوارہ ھو یا شادی شدہ، شادی کی بجائے دوسری شادی کا ذکر ہر حال میں کیف آور ھوتا ہے۔۔۔

    اب کیا کریں، ہمارے ماڑے مقدر کہ ہم پیدا ھو گئے خالص مشرقی معاشرے میں۔۔۔ سنا تو ھے کہ پہلے پہل یہاں ‘پہلی’ شادی آسانی سے ھو جایا کرتی تھی۔۔۔ مگر اب کہ تو لوگ پہلی کو ترس رھے ھیں، دوسری کا کیا ذکر۔۔۔ خرچہ پورا ھوتا ھے نہ تعلیم۔۔۔ کوئی معیار پر پورا اترتا ھے نہ نظروں میں۔۔۔ کئی جھمیلوں کے بعد شادی ھو بھی جائے تو مشرقی معاشرے کا سب سے بھیانک تصور "جوائنٹ فیملی سسٹم” شادی کے ساتھ جڑے تمام ارمانوں پر پانی پھیر دینے کے لیے کافی ھے۔۔۔

    ایک نکاح ھوتے بڑے مشکل سے ھیں اور ٹوٹ بڑی جلدی سے جاتے ھیں۔۔۔ ساس بہو کے پھڈے سے بچ گئے تو نند بھابھی کا جھگڑا۔۔۔ دوسروں کی ٹانگ نہ بھی اڑے تو تتی تاولی جوانی کے اپنے نخرے نہیں مان۔۔۔ اور تو اور آج کل کے مولوی بھی نکاح سے زیادہ طلاقیں کرواتے پھرتے ھیں۔۔۔

    تفصیل ھر امر کی بہت لرزہ خیز ھے۔۔۔ بات سے بات نکل جائے تو بہت پھیل جائے گی۔۔۔ مگر "شادیوں” یعنی ھمہ قسم نکاح کے حوالے سے ھمارے ھاں جو "معاشرتی آلودگی” پھیل رھی ھے وہ "آسودگی” نہیں سراسر "فرسودگی” اور حکومتی اقدامات تو خالص "بے ھودگی” پر مبنی ھیں۔۔۔

    ابھی کنوارے پہلی شادی پر لگے ٹیکس کو رو رھے تھے کہ شادی شہیدوں کو معلوم ھوا کہ انکے لئے اگلی منزلیں اور کٹھن بنا دی گئی ھیں۔۔۔ گویا اگر کوئی اپنی محبوبہ سے مزید محبت کی اجازت لے بھی لے تو اسے مصالحتی کونسل سے اس ایکسٹرا محبت کے لیے سند جواز بھی لینی ھوگی۔۔۔!!!

    کوئی سال بھر پہلے ایک انگریزی روزنامے کی رپورٹ کا عنوان تھا۔۔۔
    UN wants consensual sex decriminalised in Pakistan
    آسان لفظوں میں کہ اقوام متحدہ چاھتا ھے کہ سارے پاکستان کو ھیرا منڈی بنا دیا جائے۔۔۔ مزید بھی یونیسیف اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے وقتا فوقتا پاکستان سے ایسے مطالبات سامنے آتے رھتے ھیں کہ جس سے شادیوں کو مشکل بلکہ ناممکن بنایا جاسکے۔۔۔ نکاح سے بغاوت اور شادی سے نفرت مغربی معاشرت کے لیے سب سے بڑا زھر ثابت ھوئی۔۔۔ مگر جانے انجانے میں ھمارا معاشرہ انہی کی ھدایات اور نقالی پر عمل پیرا ھے۔۔۔

    ناولز، ڈراموں اور فلموں میں ایکسٹرا میریٹل افئیرز کو کوئی سنسر کرنے والا نہیں۔۔۔ تعلیمی اداروں میں چلنے والے عشق معشوقی کے چکر بھی کسی کو نہیں کھٹکتے۔۔۔ سمعی و بصری سہولتوں سے مزین موبائل سے مستفید ھو کر اپنی حرص و ھوس کو بجھانا بھی اب معیوب نہیں رھا۔۔۔ پھر انٹرنیٹ کے سمندر میں تیرتے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لیے پورنو اینڈ سیکسو گرافی بھی ایک آرٹ اور فیشن بن چکا ھے۔۔۔ راتوں کو سرعام لاھور کی سڑکوں پر پھرتے زنخوں اور طوائفوں پر بھی کوئی قانون لاگو نہیں ھوتا۔۔۔ جگہ جگہ پھیلتے مساج سنٹرز پر بھی کسی کو کوئی فکر دامن گیر نہیں ھوتی۔۔۔
    ویلنٹائن اب ایک ڈے سے بڑھ کر ویک بن چکا ھے، مگر کوئی خطرے کی بات نہیں۔۔۔!!!
    اس سب پر طرہ یہ کہ شادی اور نکاح کے بندھن سے بدظن کرنے کے لیے لطیفے، قصے، جگتیں، مزاحیہ ویڈیوز اور شارٹ سٹیٹسز۔۔۔ اس سب کو شئیر کر دینا اور آگے پھیلا دینا ھم بالکل بھی نقصان دہ نہیں سمجھتے۔۔۔

    مگر کوئی نوجوان ان سب غلاظتوں سے محفوظ رھنے کو اگر شادی کا ذکر ھی کر دے تو سب سے مہذب اور مسکت جواب یہ ھوتا ھے کہ "پہلے شادی کے قابل تو ھو جاؤ”۔۔۔ اور "تینوں بڑی اگ لگی اے” جیسا والا جواب تو اب کوئی نیا نہیں رھا۔۔۔

    کوئی استطاعت رکھنے والا اور انصاف کرنے والا اگر شریعت کے مطابق اپنی جائز ضرورت کے لئے دوسری شادی کا نام لے لے، پھر تو جہان سارا ای دشمن۔۔۔!

    ایک جاننے والے نے دوسری شادی کر لی تو اسکے برادر نسبتی (سالے) اس کے گھر آکر کہنے لگے:
    ” تیرا فلاں چکر وی اسی معاف کیتا۔۔۔ تیرا او رولا وی اسی چھڈ دتا۔۔۔ ھن تے توں حد ای مکا دتی۔۔۔ ویاہ ای کر لیا ای۔۔۔ ”

    بس۔۔۔ یہی ھمارا المیہ ھے کہ ایک نوجوان خود لذتی سے گناہ گار ھوتا رھے۔۔۔ کسی کے گھر کی عزت سے کھیلتا رھے۔۔۔ چاھے تو کوٹھے پر چلا جائے۔۔۔ مگر نکاح کا نام لے جب تک۔۔۔!!!
    اور شادی شدہ اپنی پہلوٹی بیوی کے ھاتھوں بلیک میل ھوتا رھے، اسکے ساتھ بیمار بنا رھے۔۔۔ مگر جائز طریقے سے کسی دوسری عورت کا نہ گھر بسنے پائے نہ اس مرد کا بھلا ھونے پائے۔۔۔

    اس مسئلے میں کسی دوسرے کا نہ بھی سوچو، کم ازکم ھم میں سے ھر کوئی اپنا ھی بھلا سوچے تو معاشرے کی سوچ اور ڈگر بدلی جا سکتی ھے۔۔۔

  • دوسری شادی جرم یا معاشرے پر احسان ؟؟  محمد عبداللہ

    دوسری شادی جرم یا معاشرے پر احسان ؟؟ محمد عبداللہ

    ویسے مزے کی بات یہ ہے کہ دوسری شادی پر لاگو شرائط مثلاً بیوی سے اجازت کے ساتھ ساتھ مصالحتی کونسل کی اجازت کے حوالے سے سب سے زیادہ آواز وہ اٹھا رہے ہیں جن کی ابھی ایک بھی نہیں ہوئی اور اگلے کئی سالوں تک دور دور تک ان کی کنوارگی ختم ہونے کے امکانات نظر نہیں آ رہے.

    بہر حال یہ شرائط کسی طور بھی مدینہ کی اسلامی ریاست میں لاگو نہیں تھیں. دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کرنا خالصتا کسی بھی فرد کا ذاتی، انفرادی اور خاندانی ایشو یا عمل ہے گورنمنٹ اور مصالحتی کمیٹیوں اور کونسل کو ان میں دخل دینے کا اختیار بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے. یہ ہمارے برصغیر کا ہی ایشو ہے جس میں دوسری، تیسری شادی کو برائی کی حد تک معیوب سمجھا جاتا ہے. یہاں پر سوکن اور دوسری شادی جیسے لفظوں کو گالی کی حد تک برا سمجھا جاتا ہے اور ان کے حوالے سے ہمارے مقامی معاشرے میں بالکل بھی برداشت یا قبولیت نہیں ہے.

    عورت اور اسلامی معاشرہ ….. محمد عبداللہ

    حالانکہ دوسری شادی کرنے والا نہ تو جہیز وغیرہ کا طالب ہوتا اور نہ ہی دیگر سخت شرائط عائد کرتا ہے جن کی وجہ سے بیٹیوں کے والدین کی زندگیاں عذاب بنی ہوتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ فضول رسموں اور رواجوں میں بھی دوسری شادی کے وقت پیسہ اور وقت برباد نہیں کیا جاتا ہے دوسری طرف کیفیت یہ ہے کہ سینکڑوں یا ہزاروں نہیں لاکھوں بیٹیاں اور بہنیں وطن عزیز میں ایسی ہیں جو جہیز اور لڑکے والوں کی سخت ترین شرائط پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے دل میں لاکھوں ارمان لیے والدین کے گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں. پاکستان میں خواتین کی ویسے ہی ماشاءاللہ سے کثرت ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ دوسری شادی پر پہلے ہی والدین ڈرتے رہتے ہیں. ایسے میں جب آپ دوسری ، تیسری شادی کے حوالے سے اتنی سخت شرائط عائد کردو گے تو اس سے معاشرے میں انصاف نہیں پھیلے گا صاحب بلکہ شادیوں کی شرح کم ہوگی اور جس معاشرے میں شادی کی شرح کم ہوتی ہیں وہاں بے حیائی اور زناء کی شرح بڑھ جاتی ہے.

    اس کے ساتھ ساتھ گھروں اور خاندانوں کے عائلی مسائل جب آپ ان مصالحتی کونسلوں کے سپرد کرو گے تو اس سے بھی گھروں اور معاشروں میں اصلاح کی بجائے بگاڑ ہی پیدا ہوں گے. کوئی بھی بندہ یہ نہیں چاہتا کہ اس کی بہن، بیوی اور بیٹی کا مسئلہ باہر کے لوگ حل کرتے پھریں.
    ہاں آپ اس پر چیک اینڈ بیلنس رکھو کہ کہیں کوئی شوہر اپنی بیوی سے ناروا سلوک تو نہیں کرتا، ظلم و زیادتی کا رویہ تو نہیں روا رکھتا.

    لہذا جو صاحب استطاعت ہیں ان کو کسی بھی شرط کے بغیر دوسری یا تیسری شادی وغیرہ کی اجازت ہونی چاہیے بلکہ اس عمل کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے. سب سے بڑھ کر جب اسلام نے دوسری شادی پر کوئی قدغن، پابندی یا شرط نہیں لگائی بلکہ کتاب و سنت سے اس پر واضح احکام ملتے ہیں اور اسلام اس عمل کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں اسلام سے بھی آگے نکل کر یہ شرائط اور پابندیاں لگانے والے؟؟

    Muhammad Abdullah
  • حمزہ عباسی اور آئٹم سانگ، نوید شیخ کا بلاگ

    حمزہ عباسی اور آئٹم سانگ، نوید شیخ کا بلاگ

    پاکستان میڈیا انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے حمزہ علی عباسی آج کل ایک نجی ٹی وی چینل سے رئیلٹی شو کو جج کر رہے ہیں۔ اس شو میں ایک بچی کی پاکستانی آئٹم سانگ "مجھے کہتے ہیں بلی” پر کی گئی پرفارمنس کو حمزہ علی عباسی نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ حمزہ نے لڑکی کو پرفارمنس کے دوران ہی روک دیا اور بھاشن دیتے ہوئے کہا ” میں پاکستانی فلم ڈائریکٹرز و پروڈیوسرز کی منتیں کرتا ہوں کہ ہماری فلموں میں آئٹم سانگ نہ رکھا کریں ہماری بچیاں ان گانوں پر پرفارم کرتی ہیں جو کہ مناسب نہیں ہے”۔

    مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    حمزہ علی عباسی کے اس رویے کو مختلف شعبہ ہائے زندگی تعلق رکھنے والے افراد نے مختلف طریقے سے جج کیا۔ جہاں بعض حلقوں نے حمزہ کی اس بات کو سراہا وہاں کئی حلقوں نے اسے کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ خصوصا سوشل میڈیا پر ان کی اس رائے کو خوب آڑھے ہاتھوں لیا گیا۔
    شوبز کے اندرونی حلقوں نے حمزہ کی رائے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حمزہ عباسی اپنی فلم میں نازیبا اور فحش سین بھی فلما چکے ہیں۔ فلم "جوانی پھر نہیں آنی” میں انہوں نے مختصر لباس میں موجود لڑکی کے ساتھ سوئمنگ پول میں اور ساحل سمندر پر ایسے سین عکسبند کئے جن پر آج وہ تنقید کر رہے ہیں۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    شوبز کی بعض حلقوں میں تو یہ چہ مگوئیاں بھی ہیں کہ اس آئٹم سانگ "مجھے کہتے ہیں بلی” پر فلم میں صدارتی ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلمسٹار مہوش حیات نے پرفارم کیا تھا اور چونکہ حمزہ علی عباسی اور مہوش حیات کی آپس میں بنتی نہیں ہے تو حمزہ علی عباسی نے موقع کا فائدہ اٹھا کر در پردہ مہوش حیات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    رئیلٹی شو میں حمزہ علی عباسی کے اس رویے اور لڑکی کے آئٹم سانگ پر کی گئی پرفارمنس کی تنقید کو "پبلسٹی سٹنٹ” بھی کہا جا رہا ہے تاکہ اس سے رئیلٹی شو اور چینل کی ریٹنگ میں اضافہ ہو۔ اگر چینل اور ججز آئٹم سانگ پر کی گئی پرفارمنس کے خلاف تھے تو وہ گانا اس سٹیج پر کیوں چلایا گیا اور ظاہر ہے یہ گانا چینل کی مینجمنٹ کی اجازت اور پروڈیوسر/ڈائریکٹر کی مرضی سے ہی چلایا گیا ہوگا۔ اگر چینل اور ججز کی پالیسی میں ایسے گانے نہیں تھے تو ایسا گانا منتخب کیوں ہوا اور اس پر پرفارمنس کیسے ہو گئی، یہ ایک ایسا سوال ہے جو حمزہ عباسی کی تنقید کے بعد ججز اور انتظامیہ کے کردار کو مشکوک بناتا ہے کیونکہ شو میں حصہ لینے والی بچی اور گانا تو پہلے سے ہی فائنل کیا جا چکا ہوتا ہے تو پھر پرفارمنس کی بعد ایسی دوغلی پالیسی کیوں ؟
    امید ہے کہ چینل انتظامیہ اور حمزہ علی عباسی اس کی وضاحت ضرور دیں گے۔

     

     

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

     

  • متاعِ کارواں ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    متاعِ کارواں ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    بچپن میں جب سنتے تھے کہ شہروں کے اندر کچھ ایسے سینما بھی ہوتے ہیں جن میں بہن بھائی، باپ بیٹی ، ماں بیٹا اکٹھے بیٹھ کر فلمیں دیکھتے ہیں تو کافی حیرانگی ہوتی تھی. سن شعور کو پہنچا تو ایک دن اپنی بڑی بہن سے پوچھ بیٹھا کہ یہ سب اکٹھے بیٹھ کر دیکھنا کیسے ممکن ہے بھلا…ان کو شرم و حیا نہیں آتی. بہن کہنے لگی تم بھی تو سب کے سامنے بیٹھ کر عینک والا جن، انگار وادی، الفا براوؤ چارلی، آہن وغیرہ دیکھتے رہتے ہو اور صرف یہی نہیں بلکہ ابرارالحق کا دسمبر ، حدیقہ کیانی کی بوہے باریاں، شہزاد رائے کا کنگنا اور عدنان سمیع خان کی ڈھولکی نہ صرف سنتے ہو بلکہ گنگناتے بھی ہو…. تو ایک بار واقعی چلو بھر پانی کی ضرورت محسوس ہوئی تھی.

    میں نے پھر بھی ڈھیٹ بن کر سوال داغا کہ اس کے اندر تو اتنا کچھ برا نہیں ہوتا لیکن سینما فلموں میں تو سنا ہے بہت فحاشی ہوتی ہے…. بہن کہنے لگی جس طرح تم یہ سوچتے ہو کہ یہ کوئی اتنی برائی والی بات نہیں… ٹی وی پر فحاشی کم ہے فلموں میں زیادہ… تو اسی طرح شہروں والے لوگ بھی یہ سوچتے ہیں کہ پاکستانی فلموں میں اتنی فحاشی نہیں ہوتی انڈین اور انگریزی فلموں میں فحاشی زیادہ ہوتی ہے. اس دن کے بعد مجھے سمجھ آ گئی کہ اگر کوئی بری چیز آپ میں رچ بس چکی ہے تو وہ آپ کو بری نہیں لگے گی بالکل اسی طرح جیسے بھیڑ بکریوں کے ساتھ رہنے والا چرواہا ان کے پیشاب و مینگنی کی بدبو سے پریشان ہوئے بغیر سکون کے ساتھ ان کے قریب سو سکتا ہے….!

    لبرل طبقے نے پہلے ہمیں یہ سکھایا کہ عورت گھر میں قید نہیں کی جا سکتی… پھر مزید دو قدم آگے بڑھ کر پردے پر حملہ کیا کہ یہ معاشرتی ترقی میں رکاوٹ ہے اور اب اس سے اگلا قدم کہ پردے کے احکامات کو ہی داغ قرار دے دیا گیا… تضحیک کا نشانہ بنایا گیا. دکھ یہ نہیں کہ معاشرے میں بےپردگی و بے حیائی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے بلکہ دکھ یہ ہے کہ برائی کو برائی ہی نہیں سمجھا جا رہا… اور اسے معاشرتی ترقی کا نام دیا جا رہا ہے. اور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ یہ داغ ہمیں نہیں روک سکتے.

    وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا….!
    کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

    بات سیدھی سی ہے کہ پردہ اس لیے ضروری ہے تا کہ اگر عورت گھر سے باہر نکلے تو کرے… گھر کے اندر رہتے ہوئے تو اس نے چہرہ کھلا ہی رکھنا ہے . لیکن اب اگر عورت کو مستقل بنیادوں پر گھر سے باہر نکال دیا جائے… اسے ہر وہ کام کرنے کی ترغیب دی جائے جو مردوں کے کرنے والے ہیں… ماڈلنگ سے لیکر کرکٹ کھیلنے تک… گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ائیر ہوسٹس سے لیکر سیلز گرل بنانے تک… تو یہ سارے کام کم از کم اسلام کے طریقوں کے مطابق نہیں. اسلام نے صرف مجبوری کی حالت میں یا چند فرائض کی بنیاد پر عورت کو گھر سے باہر آنے کی اجازت دی ہے (پردہ کر کے ).. ورنہ عمومی حکم تو گھر میں ہی رہنے کا ہے لیکن ان داغ دار دماغوں نے نہ صرف گھر میں ٹکنے کو داغ قرار دے دیا بلکہ پردہ کر کے گھر سے باہر آنے کو بھی. ان کی خواہش ہے کہ عورت گھر میں رہنے کی بجائے مرد کے شانہ بشانہ چلے اور ہر وہ کام کرے جو مرد کر سکتے ہیں اور یہ وہ ذہنی لیول ہے جب سوچا جاتا ہے کہ اس میں کون سی برائی ہے بھلا… صرف چہرہ ہاتھ اور پاؤں ننگے ہیں… شرم گاہ، سینہ، ٹانگیں وغیرہ تو ڈھانپی ہی ہوئی ہیں. انا للہ وانا الیہ راجعون.

    میں اس پر لکھنا نہیں چاہتا تھا لیکن صورتحال کافی تکلیف دہ محسوس ہو رہی تھی جس کی وجہ سے قلم اٹھانا پڑا. معاشرے میں بگاڑ اسی طرح پیدا ہوتا ہے کہ ایک برائی کو اچھائی یا روشن خیالی سمجھ کر اپنایا جاتا ہے اور جب وہ برائی برائی محسوس ہی نہ ہو تو اس کا مطلب یہ کہ بگاڑ کی ابتداء ہو چکی. کل تک معاملہ عورت کے گھر سے باہر نکل کر جاب کرنے کا تھا… آج کھیل میں عورت شامل ہو چکی ہے… صرف شامل نہیں ہو چکی بلکہ اسے اپنانے کی دعوت بھی دے رہی ہے. اور مستقبل کی تصویر کیا ہو سکتی ہے.. وہ آپ چشمِ تصور سے دیکھ لیں. یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب آپ کے معاشرے کی رائے عامہ آپ کو پرانے زمانے کا انسان قرار دے کر لات مارنے کے درپے ہوتی ہے تو ایسے موقع پر سب سے مناسب بات یہی ہے کہ ایسی رائے عامہ قائم نہ ہونے دی جائے ورنہ کل آپ بھی یہی کہیں گے کہ پاکستانی فلموں میں تو کوئی فحاشی نہیں ہوتی بہ نسبت انڈین اور انگریزی فلموں کے اس لیے یہ فلمیں اور ڈرامے اپنی بہنوں بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے جا سکتے ہیں.

    ہو سکتا ہے کوئی یہ بھی سوچ رہا ہو کہ وہ پرانے وقتوں کی بات تھی جب سینما میں اکٹھے جانا مجبوری تھی یا ٹی وی پر بہنوں کے ساتھ بیٹھ کر ہی ڈرامے فلمیں دیکھی جاتی تھیں تو اب تو اپنا موبائل ہے جو مرضی دیکھیں… دوسروں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے والی بات ہی نہیں کوئی. تو ان کے لیے اتنا عرض کروں گا کہ مان لیا جو کچھ آپ موبائل پر بند کمرے میں دیکھتے ہیں وہ اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں معلوم لیکن جو واٹس اپ یا فیس بک سٹیٹس آپ لگاتے ہیں وہ بشمول خاندانی افراد ساری دنیا دیکھتی ہے مگر مزید یہ بھی کہ آپ کے گھر میں، آپ کی فیملیز کے ہاتھوں جو جو موبائل پر دیکھا جا رہا ہے وہ بھی اللہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں.

    میرا بات کرنے کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ اپنی بہنوں بچوں سے موبائل چھین لیے جائیں… یا اپنا موبائل توڑ دیا جائے. اس کا یہ حل ہرگز نہیں. حل ہے تو بس یہی ہے کہ خود احتسابی کا عمل رکنے نہ پائے اور احساس بیدار رہے۔ ایسی رائے عامہ قائم کی جائے جو برائی کو برائی ہی سمجھے. اپنے ذاتی اعمال کا ہر بندہ خود ذمہ دار ہے لیکن یہ نہایت تکلیف دہ بات ہے کہ جس طرح میں بچپن میں سوچتا تھا.. کوئی یہ نہ کہے کہ ایک تیس سیکنڈ کا کلپ ہی تو تھا گانے کا اس کو واٹس اپ اسٹیٹس لگانے سے کیا ہوتا ہے بھلا…. جو ویسے بھی چوبیس گھنٹے کے بعد غائب ہو جائے گا.

  • ماں، ایک عظیم نعمت ۔۔۔ ملک صداقت فرحان

    ماں، ایک عظیم نعمت ۔۔۔ ملک صداقت فرحان

    عورت کو ماں کے روپ میں سب سے زیادہ عزت و مقام حاصل ہے۔ ماں کے روپ میں عورت کا کردار ہمیشہ سے زبردست اور قابل تعریف رہا ۔ اگر عورت کو اللہ پاک ماں نہ بناتا تو شاید آج دنیا آباد نہ ہوتی۔ دنیا میں موجود کوئی ایسی جاندار چیز نہیں جو ماں کے بغیر وجود میں آئی ہو۔ ماں اللہ پاک کی عظیم نعمت ہے۔ ماں اتنی عظیم نعمت ہے کہ دنیا کی کوئی بھی نعمت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
    نپولین بونا پاٹ کا کہنا تھا کہ ”مسرتوں کے ہجوم اور خوشیوں کے تلاطم میں ماں کی عظمت کو دیکھو“۔ چارلس ڈکنز کا کہنا تھا کہ ”ماں کا پیار سب سے خوبصورت اور بہترین ہے“۔ فردوسی کا کہنا تھا کہ ”اگر مجھ سے ماں چھین لی جائے تو میں پاگل ہوجاﺅں گا“۔ افلاطون کا کہنا تھا کہ ”ماں باپ سے زیادہ شفیق ہوتی ہے“۔ حضرت لقمان علیہ السلام کا قول ہے کہ ”ماں کا پیار کسی کو بتانے اور سکھانے کا نہیں“۔ سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ ”تمہاری جنت تمہاری ماں کے قدموں تلے ہے“۔
    ماں کے ہم پر بہت سے احسانات ہیں جو کہ ہم کبھی بھی نہیں چکا سکتے۔ انسان اگر جوان ہوتا ہے تو ماں کی دیکھ بھال کی بدولت۔ انسان اگر دنیا میں سر اٹھا کر چلتا ہے تو صرف ماں کی کی ہوئی اچھی تربیت کی بدولت۔ اگر انسان ماں کے احسانات کو بھول کر اس کے ساتھ بدسلوکی کرے تو اس جیسا بدبخت انسان کوئی نہیں۔ اگر کوئی انسان ماں کی خدمت کرے اس کا احترام کرے تو اس جیسا خوش نصیب انسان بھی کوئی نہیں۔ ماں کی خدمت کرنے والوں میں سب سے بڑا نام حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کا ہے۔ حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ بننے کی خواہش دل میں لیے پھرتے تھے مگر بزرگ ماں کی موجودگی کی وجہ سے اس عظیم سعادت سے محروم رہے۔ ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے پاس ایک شخص آئے گا جس کا تعلق یمن کے شہر قرن سے ہوگا ماں کا خدمت گزار ہوگا اس سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کروانا“ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ملاقات حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ سے ہوئی تو انہوں نے ان سے اپنے لیے دعا کروائی۔ تاریخ میں اور بھی بہت سے لوگوں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے ماں کی خدمت کی اور خوب عزت پائی۔ ماں کبھی بچوں کو بد دعا نہیں دیتی۔
    مشہور واقعہ ہے احمد پور شرقیہ کا کہ ایک ماں نے اپنے بیٹے سے کچھ پیسے مانگے تو اس نے ماں کو مارا ماں زمین پر گرگئی زمین پر بیٹھے ہوئے اس خاتون نے دعا کی کہ اےاللہ اس سے ناراض نہ ہونا اس سے راضی ہو اس پر رحم کر۔ ماں بد دعا نہیں دیتی بچے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے انجام کو پہنچتے ہیں۔ ماں اگر دعا کرے تو اس کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی۔ آپ کو چاہیے کہ زندگی میں اگے بڑھنے کے لیے ماں کی دعائیں لیں۔ قران پاک میں اللہ پاک تین مقامات پر ماں کے ساتھ احسان کا حکم دیتا ہے۔
    ہمیں چاہیے کہ ماں کا احترام کریں، ان کی خدمت کریں ، ان کی فرمانبرداری کریں۔ اے اللہ پاک سب کو ماں کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما اور ان خوش نصیبوں میں شامل فرما جو ماں کی خدمت کی بدولت عروج تک پہنچے۔ اللہ ہمیں اچھا بیٹا بننے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

  • ایریل سرف اور ایریل شیرون ، تہذیب کے دشمن ۔۔۔ اختِ عبداللہ

    ایریل سرف اور ایریل شیرون ، تہذیب کے دشمن ۔۔۔ اختِ عبداللہ

    سابق اسرائیلی وزیرِاعظم (اس کی قبرمیں اللہ کی لعنت ہو)آمین کہہ دیں جوجویہودیوں کےلیےدل میں نرم گوشہ نہیں رکھتے….
    اس لعین ایریل شیرون کےنام پہ ایریل سرف ہے …
    اس بدبخت بھڑئیےنمایہودی کایہ مشغلہ تھاکہ یہ فلسطین کی گلیوں میں نکل جاتااورچن چن کےفلسطینی بچوں کوماردیتااورپھرشیطانی قہقہےبلندکرتا..اس مقصدکےلیےاس خونخواردرندےنےایک اسپیشل پستول خریداہواتھاجس سےاس نے150سےزائدمعصوم صحت مندکھیلتےفلسطینی پھول جیسےبچوں کومارااورکتنی ہی ماؤں کی گودوں کواجاڑا,باپوں کوبےآسراکیااوربہن بھائیوں کوتڑپتاچھوڑگیا…
    اللہ کی لاٹھی بےآوازہے…اس کےقہرکاکوڑاجب برستاہےتوپھرخوب برستاہےاوراک عالم دیکھتاہے….اس وحشی کاانجام پھردنیانےدیکھا….آٹھ سال تک یہ قومےمیں رہا…کوئی نرس,کوئی ڈاکٹروارڈمیں علاج کی غرض سےاس کےپاس جانےکوتیارناہوتاتھااگرہوبھی جاتاتوفورابھاگ کرواپس آجاتا..کیوں کہ اس کےجسم سےاس قدرگھٹیا..گندی اورزہریلی قسم کی بوآتی تھی کہ جس سےڈاکٹراور نرسیں اپنےمونہوں کواچھی طرح لپیٹ لینےکےباوجودبھی بچ ناپاتےتھے …
    آخر…آج سےکوئی ڈیڑھ دوسال پہلےاس جہنمی کی روح نکلی ..اوراس کےاپنےملک کےہی ڈاکٹروں اورنرسوں سےسکھ اورچین کاسانس لیا…
    یہ ہواانجاممسلمانوں کےمعصوم بچوں کواپنےپستول سےبھوننےوالےکا…
    اورآج…………
    پھر..اس اسرائیلی ..یہودی کپمنی نےقرآنِ پاک کی آیت کاایریل سرف کےاشتہارمیں مذاق اڑاناشروع کردیاہے…اللہ کی مارہواس لعنتی قوم پہ …اللہ نےخودقرآن میں اس قوم کولعنتی کہاہے…جن پراللہ کاغصہ ہوا…وہ ذلت اورمحتاجی لےکرلوٹے …..
    اورافسوس تواپنےمسلمانوں اوربرہنہ سروسینہ بیٹیوں پہ ہےجواس دنیاکےچندفانی ڈالروں کےعوض قرآن کی آیات کاسوداکررہےہیں جوکہ ان کولےڈوبےگا…
    آپ سب اپنی آوازقرآن کےحق میں ..قرآن کےدفاع میں اٹھائیں …اس کمپنی کامکمل بائیکاٹ کریں …
    قرآن انسان کےحق میں بھی اورخلاف بھی گواہی دےگا…لہذاوقت ہےکہ …اپنےحق میں گواہی لینےوالےبن جائیں …
    خودتوان کی اپنی عورتیں سڑکوں پہ اورگھروں سےنکل کےذلیل ورسواہوہی رہی ہیں اوراب یہ آزادئ نسواں کےنام پہ مسلمان بیٹیوں,بہنوں اورماؤں کوبھی سڑکوں پہ لاکہ ذلیل کرناچاہتےہیں …
    جب کہ مسلمان عورتوں کی عزت وعافیت اورنجات اپنےگھروں میں ٹکےرہنےپہ ہے…یہ شدیدترین حاسدقوم ہے …جس حاسدقوم نےآج تک ہمارےآخری نبی …پغمبرالزماں محمدالرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوصرف اورصرف حسد کی وجہ سےتسلیم نہیں کیاوہ اس پیارےنبی کی امت کوکیسےخوش حالی اورنجات کےراستےپہ چلتےبرداشت کرسکتی ہے؟؟؟؟؟
    لہذا…میری اپنی تمام بہنوں سےگزارش ہےکہ …آپ سب اپنااحتجاج جس جس پلیٹ فارم پہ ہیں ضرورریکارڈکروائیں …
    اورسب اپنی اپنی اصلاح کریں ..گھروں میں ٹکی رہیں …اورسڑکوں پہ نکل کےمردوں کےشانہ بشانہ چلنےکی روش کوترک کردیں …
    کیوں کہ …یہ چیزفطرت کےسخت خلاف ہے…
    جب کہ فطرت یہ ہےکہ ..قرآن کہتاہے:
    وللرجال علیہن درجۃ …
    اورمردوں کوان(عورتوں)پرایک درجہ فضیلت دی گئی ہے …اورویسےبھی عورت مردسےچندقدم پیچھےچلتی ہی اچھی لگتی ہے۔
    …ایک اورجگہ اللہ نےفرمایاہے:
    الرجال قوامون علی النسآء…
    مردعورتوں پرنگران ہیں ….توعورت بی کب سےمردوں کےبرابریاان کےاوپرنگران بننےلگ گئی؟؟؟
    جس جس نےآج تک اس
    میدان میں قدم رکھاہےہمیشہ ذلیل ورسواہواہے …اورویسےبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاس قوم کےلیےتباہی اوربربادی کی وعیدسنائی ہےجس کےمعاملات مردوں کی بجائے اس کی عورتوں کےہاتھوں میں ہوں …
    ابھی وقت ہے …اللہ سےڈرجائیے اپنےمردوں کوعزت دیجیئےان کےصحیح فیصلوں کاحترام کیجیئے…اپنی بہترین دنیااورآخرت کےلیےاصلاح کیجیئےاوراس نام نہادخواتین کی آزادی کوبحرِاوقیانوس میں پھینک آئیے …
    اللہ عمل کی توفیق عطاءفرمائےاورہم سب کاحامی اورناصرہو…
    آمین اللہم آمین
    اسلام میں ہرعورت ملکہ ہےکیوں کہ اسلام ہرنےعورت کواپنےگھرکی ملکہ بنایاہے…اورملکہ …آپ سب جانتےہیں …کہ کبھی سڑکوں ..گلی ..کوچوں اوراشتہاروں یااسکرین پہ آکےخودکوبےوقعت نہیں کیاکرتی …
    میں جانتی ہوں کہ میری باتیں بہت ساروں کوبہت کڑوی لگی ہوں گی …اوربہت چبھی بھی ہوں گی …لیکن بہت معذرت کےساتھ …
    یہ میری نہیں اللہ کی مقدس ترین کتاب قرآن کی ہیں …
    اوران پراگرکسی کوغصہ آیاہےتو…میں ہرگزمعذرت نہیں کروں گی …کیوں کہ یہ اللہ کاکلام ہے …
    قدم بڑھائیے!!!
    نجات پائیے!!!
    اسلام راستہ ہےنجات کا
    کوئی فرق نہیں یہاں
    ذات پات کا
    آقاوغلام ایک ہیں
    بندےاللہ کےسبھی,نیک ہیں
    اسلام راستہ ہےفوزوفلاح کا
    جورکھےذوق اس کی چاہ کا
    دی ہےاس نےیہ ضمانت سدا
    لےجوشرف چلنےکااس کی راہ کا
    قدم بڑھائیے!!!!
    نجات پائیے!!!!
    اسلام راستہ ہےنجات کا
    کوئی فرق نہیں یہاں ذات پات کا…

  • معاشرہ اور ایک شرمناک پہلو ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    معاشرہ اور ایک شرمناک پہلو ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    دور جہالت میں عورتوں کو عزت و احترام دینا عیب سمجھا جاتا تھا اور معاشرے میں عورت ذات سب سے حقیر طبقہ کا حصہ تھی۔
    عورتوں پر ظلم وبربریت کو وہ وحشی اور دردندہ صفت لوگ اپنا اولین فرض سمجھتے تھے اگر کسی کے گھر میں بیٹی پیدا ہوجاتی تو وہ شرم کے مارے منہ چھپاتا پھرتا اور غم و غصے سے دن رات گزارتا سب قبیلے والے لوگ اسکا مزاق اڑاتے ہر طرح کے طعنے دیتے جن سے تنگ آ کر وہ اپنی بیٹیوں سے شدید نفرت کرتا اس نفرت کی آگ کو بیٹیوں پر تشدد کرکے بجھاتا اور بعض لوگ تو بدنامی کے ڈر سے اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے۔
    بیچاری ننھی معصوم سی جانوں کو زندہ ہی دفنا دیا جاتا۔
    عورتوں کے کوئی حقوق نہیں تھے ان پر ظلم و ستم کی ایسی ایسی داستانیں رقم کیں جاتیں کہ تاریخ کے اوراق آج بھی چیخ چیخ کر ان کے مظالم بیان کرتے ہیں۔
    لیکن اسی اثناء میں بہت ہی خوبصورت اور بہت پیارا دین اسلام جو کہ شاہ عربی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت پوری دنیا میں پھیلا اس دین نے عورتوں کو عزت بخشی ان کو ہر روپ میں حقوق عطا فرمائے عورت کے ہر رشتے چاہے وہ بیٹی ہے یا بیوی ، ماں ہے یا بہن الغرض ہر روپ میں عورت کو معزز اور عزت دار بنایا۔
    اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو عورتوں کے تمام حقوق کا محافظ ہے۔
    عورت شرم و حیا کا پیکر ہے اور ڈھکی چھپی ہوئی چیز ہے بازاروں میں بکنے والی نہیں ہے دین اسلام جہاں حقوق کا تحفظ کرتا ہے وہیں عورت کی عزت و آبرو کے بچاؤ اور رب العزت کی رضا مندی کے حصول کے لیے حدود و قیود بھی متعین کرتا ہے۔
    جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حدود کو توڑ کرنا فرمانی کر کے اس کو ناراض کیا جائے گا اور شیطانوں کو خوش کیا جاۓ گا تو ذلت و رسوائی ہمارا مقدر بنے گی۔
    اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی بدولت ہی پچھلی قوموں پر عذاب آیا اور صف ہستی سے مٹا دی گئیں۔
    اگر آج ہم بھی کفار کی مشابہت اختیار کر کے ان کے نقش قدم پر چلیں گے تو ہم بھی رب العالمین کی رحمت سے دور ہو جائیں گے
    اور عذاب الہٰی سے دوچار ہوں گے۔

    کفار مسلط ہم پر ہوۓ
    اسلام سے جب ہم دور ہوۓ
    اب دین رہا جب ہم میں نہیں
    دنیا میں ہم کمزور ہوۓ

    عورت جب تک گھر میں ہے محفوظ ہے ہر قسم کے شیطانی ہتھکنڈوں سے لیکن جب یہ اسلام کو چھوڑ کر بے پردگی کرتی ہے اپنا حسن غیر محرم پر عیاں کرتی ہے تو معاشرے میں بہت سی برائیوں کا سبب بنتی ہے جبکہ اسی سے عورتوں پر زیادتی کے امکانات بڑھ گئے ہیں جب عورت نے اپنا مقام ہی نہیں پہچانا اور زمانہ جہالت کی طرح بے دریغ اور بے پردہ ہوکر فحاشی پھیلا رہی ہے تو شیطان کو بھی وار کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

    دنیا میں سب سے بدترین ہے وہ عورت جو اپنی خوبصورتی غیر محرموں پر ظاہر کرتی ہے۔
    آزادی کے نام پر چند کھوٹے سکوں کی خاطر اپنی عزت و آبرو کی دھجیاں بکھیرنے والی اور "میرا جسم میری مرضی”
    کے نعرے لگانے والی عورت جب سج دھج کر خوشبوؤں میں نہا کر اور اسلامی تعلیمات کا جنازہ نکال کر گھر سے باہر نکلتی ہے تو سمجھتی ہے کہ وہ محفوظ ہے تو ایسا بالکل نہیں ہے درندہ صفت شیطان انسانوں کے روپ دھارے ان کے تعاقب میں ہوتے ہیں اور موقع پاتے ہی ان پر وار کر دیتے ہیں تب اس عورت کو مظلوم بنا دیا جاتا ہے جبکہ وہ خود اسکی زمہ دار ہوتی ہے۔

    جب گوشت کو سر عام بازار میں رکھ دیا جاۓ گا تو مکھیاں اور درندے تو اس پہ ضرور آئیں گے تو قصور مکھیوں اور درندوں کا نہیں بلکہ گوشت کو سر عام رکھنے والوں کا ہے۔

    اسلام میں پہلے عورت کو پردہ کرنے اور اپنی حدود میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے اس کے بعد مرد کو نظریں نیچی کرنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن عورت سمجھتی ہے کہ وہ جیسے چاہے باہر نکلے لیکن مرد اپنی نظریں نیچی رکھے تو ایسی عورتوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت ہے۔
    عورت باپردہ ہوکر گھر سے نکلے گی تو مرد کو بھی غیرت آۓ گی وہ بھی اپنی نظریں نیچی رکھے گا اور اسکا عزت و احترام کرے گا۔

    آج کل عورتوں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ پردہ تو دل کا ہوتا ہے چہرے کا نہیں تو وہ اس بات کا جواب دیں کہ کیا تمام صحابیات اور امہاتُ المومینین کے دل صاف نہیں تھے کیا انکے دلوں کا پردہ نہیں تھا جبکہ ان کو بھی پردے کا حکم دیا گیا حالانکہ اس وقت تو مرد بھی عمر اور صدیق جیسے تھے۔
    اور آج کے دور میں نہ کوئی عمر ہے نہ صدیق پھر بھی نادان عورت سمجھتی ہے کہ پردہ تو دل کا ہوتا ہے۔
    جب پردے کو دلوں تک محدود رکھا جاتا ہے تو وہ معاشرہ گناہوں کی دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔

    آج کل میڈیا کے ذریعے بھی فحاشی اور عریانی کو فروغ دیا جا رہا ہے عورتوں کو آزادی کے نام پہ دین سے دور کیا جارہا ہے جس سے عورتوں نے اپنی حدود کو توڑنا شروع کردیا ہے آج کل ایک سرف بنانے والی کمپنی نے عورت کے گھر کی چار دیواری میں ٹھہرنے ایک داغ قرار دیا ہے جو کہ اسلامی معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے کیا دین اسلام یہ سکھاتا ہے؟؟؟؟
    اسلامی ریاست جو کہ لا الہ الاللہ کے نام پر حاصل کی گئی تھی اس میں اس طرح سر عام فحاشی پھیلانا نا قابل برداشت ہے۔ نوجوان نسل کو بھٹکایاجا رہا ہے تاکہ وہ دین سے دور ہو جاۓ۔

    ہم حکومت وقت سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے اشتہارات پر پابندی لگائی جاۓ تاکہ معاشرے میں بدکاری نہ پھیلے اور اسلامی مملکت اپنے دینی احکامات کی پابندی کرکے اپنے رب کو راضی کرنے کے مواقع میسر آئیں نہ کہ نافرمانی اور معصیت کے۔

  • فحاشی کا علمبردار، نہیں چلے گا

    فحاشی کا علمبردار، نہیں چلے گا

    "اسلامی جمہوریہ پاکستان” نام ہے اس ملک کا۔ جب بنا تھا تو اس کا نعرہ تھا پا کستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔ دو قومی نظریہ اس کی بنیاد تھی۔
    اس کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح پہلے کانگرس کے حامی تھے جو بظاہر ہندو مسلم کے مشترکہ مفاد کے لیے کام کر رہی تھی لیکن جلد ہی قائداعظم جیسے زیرک لیڈر نے جان لیا کہ کانگرس ہندوؤں کے حقوق کی پاسدار جماعت ہے مسلمانوں کو کچھ نہیں ملنے والا بلکہ انگریز کے جانے کے بعد مسلمان ہندوؤں کی غلامی میں چلے جائیں گے تو وہ کانگرس چھوڑ کر مسلم لیگ میں آ گئے ۔
    پھر مسلمان اور ہندو دو واضح گروہ بنے یعنی ایک طرف اسلام تھا ایک طرف ہندو ازم۔ جو اپنے اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہے تھے ۔
    پا کستان کو بنانے کا فیصلہ ہی اس بنیاد پہ ہوا تھا کہ جن علاقوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں انھیں ملاکر مسلمانوں کا ایک ملک بنا دیا جائے ۔
    قائد اعظم کی کئی ایک تقاریر و بیانات بھی ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایک اسلامی ملک ہے ۔
    جب آپ نے کہا تھا ہمارا قانون تو چودہ سو سال پہلے بن چکا ہے۔ جب آپ نے پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ قرار دیا تھا۔
    لیکن لبرلز، جو اسلام اور پاکستان دونوں کے دشمن ہیں، جو پیسہ لے کر لبرلز بنے وہ لبرلز ازم پھیلانا چاہتے ہیں وہ پا کستان سے اسلام کی چھٹی کروانا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں پاکستان ایک اسلامی ملک نہیں اس کی بنیاد دو قومی نظریہ پہ نہیں۔
    حالانکہ تھوڑی سی بھی عقل و شعور ہو تو سوچا جاسکتا ہے پھر پا کستان بنا ہی کیوں ؟
    قائد اعظم محمد علی جناح نے کانگرس کو چھوڑا ہی کیوں؟
    ایک مشترکہ ملک بن جاتا بھلا دو کی کیا ضرورت تھی ؟
    لیکن یہاں سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
    آئے دن نئے شوشے چھوڑے جاتے ہیں ۔ٹی وی پہ ایسے ٹاک شوز چلائے جاتے ہیں اب کہ مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم و ستم ہوئے وہ جھوٹ ہے ۔یہاں تک کہا گیا کہ کوئی ایک آدھ واقعہ ہوا بھی تو مسلمانوں نے بھی ہندوؤں پہ ظلم کیے تھے لیکن وہ کوئی بتاتا نہیں ہے ۔
    مطلب نئی آنے والی نسل کے ذہن میں جو ڈالا جاتا ہے وہ کبھی امن کی آشا کے نام سے تو کبھی لبرل ازم کے فوائد کے نام سے اسلام سے دوری کے سوا کچھ نہیں ۔
    اب دو قدم اور بڑھتے ہوئے پاکستان میں بزنس کے نام سے اس انداز سے ہماری نئی نسل پہ وار کیا جارہا ہے کہ کوئی سمجھ بھی نہ پائے ۔
    پاکستان میں آن لائن رائڈ دینے والی ایک کمپنی نے اشتہار دیا جس پہ دلہن بنی ہوئی تھی
    اشتہار تھا کہ
    شادی کے دن بھاگنا ہو تو کریم بلا لو۔
    ہمارے معاشرے میں یہ ایک گالی سمجھی جاتی ہے کہ گھر سے بھاگ گئی لیکن کریم نے اسے معمولی بات بناناچاہا۔
    اب پاکستان میں ایک واشنگ پاوڈر کمپنی نے تو حد ہی کر دی۔
    اس کمپنی نے قرآن پاک کی آیت کی توہین کرتے ہوئے اللہ رب العزت کی شان میں گستاخی کی ہے ۔
    ایک داغ پہ لکھ دیا ہے
    "چاردیواری میں رہو”
    آگے لکھا ہے یہ داغ ہمیں کیا روک پائیں گے ؟
    جبکہ یہ میرے رب کا فرمان ہے
    وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى وَاَقِمۡنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيۡنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ؕ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞
    ترجمہ:
    اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکٰوۃ دیتی رہو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اپنے نبی کی گھر والیو ! تم سے وہ گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔(احزاب 33 )

    میرے رب کے فرمان کو استغفراللہ داغ کہنے والے لبرلز نہیں گستاخ رب العالمین ہیں جنھوں نے رب کے فرمان کو داغ کہا ۔
    اس اسلامی معاشرے میں اس قسم کی گستاخی کیونکر برداشت کی جاسکتی ہے ۔
    ہم اپنے رب کی اپنے خالق کی یہ گستاخی برداشت نہیں کریں گے
    حکومت وقت کو اس پہ ایکشن لینا ہوگا ۔ان کمپنیز کے لئے کوئی اصول و ضوابط رکھنے ہوں گے ۔
    اور ایسا کرنے والی کمپنیز کو سزا ‘جرمانہ اور بین کرنا ہوگا ۔
    مغرب اور بھارت میں بھی آئے دن اسلام کی گستاخی کے واقعات ہو رہے ہیں ادھر پیسے کے لالچ میں نہ تو اشتہار بنانے والے کچھ کہتے ہیں نہ ہی ماڈلز اور نہ ہی ٹی وی چینلز اس بات کی پرواہ کرتے ہیں ۔ان سب کو صرف پیسہ نظر آتا ہے ۔اور لبرل ازم کے نام پہ دھول جھونکتے ہیں لوگوں کی آنکھوں میں ۔
    دوسری طرف آپ ذرا اس معاشرے کی روایات بھی دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے معاشرےکی عورتیں داغ کی وجہ سے نہیں بلکہ شرم و حیا اور اپنے رب کے حکم کی وجہ گھر سے نہیں نکلتی ۔
    اسلام نے عورت کو اس قدر بھی پابند نہیں کیا کہ اس کی آزادی سلب ہو جائے بلکہ اسلام نے عورت کی حفاظت کی ہے اسلام نے عورت کو بلا وجہ گھر سے نکلنے سے منع کیا تو اس کے پیچھے اس کی عصمت کی حفاظت ہے ۔ورنہ عورت ضروری کام ‘علاج ‘درس و تدریس ‘فلاحی کام حتی کہ جنگ میں بھی شریک ہو سکتی ہے۔
    مسلمان عورت مسجد میں جاتی ہے ۔حج کرتی ہے ۔عید کے دن بھی نماز پڑھنے کے لیے جانے کا کہا گیا ہے ۔
    بس بلا وجہ گھر سے نکلنے سے منع کیا ہے اور مردوں کے ساتھ اختلاط سے ۔
    ورنہ اہل مغرب کے اصول و ضوابط دیکھو تو آج چند ماہ کی بچی بھی محفوظ نہیں ہے ۔
    آئے دن جو ہماری معصوم بچیوں پہ وار ہو رہے ہیں یہ سب اہل مغرب کا ڈالا ہوا گند ہے جس کی وجہ سے آج بنت حوا محفوظ نہیں ہے ۔ اہل مغرب ہماری معاشرتی اور اسلامی روایات دونوں کے خلاف محاذ کھڑا کیے ہوئے ہیں ۔
    میری تمام پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ ایسی مصنوعات ک مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے اس کے مالک اس اشتہار کی ماڈل و دیگر لوگوں کو سزا دلوانے تک چین سے نہ بیٹھیں ۔کیونکہ یہ اشتہار اسلام کے خلاف ہے۔ ہمیں اپنے رب ‘ رحیم و کریم ‘خالق و مالک کی کے فرمان کی گستاخی ناقابل قبول ہے ۔