ناقد
اس نے میرے بالکل درست شعر کا وزن بگاڑ کر بولا کہ اگر یوں لکھتے تو ٹھیک تھا.
میں نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے سوچا شاید کے یہ عروض کا ماہر ہو، بمشکل سوال کیا کہ جناب آپ اس کی بحر کے بارے میں بتا سکتے ہیں.
موصوف فوراً بولے. بحر کا مجھے کچھ پتا نہیں. میں تو ناقد ہوں. اور کیڑے نکالنا میرا کام ہے. قریب تھا کہ اگر وہ قریب ہوتے تو اپنے کمزور ہاتھوں کو جنبش دے کہ ان کے گال کو گلاب کر دیتا. مگر بھلا ہو اس واٹس ایپ کا…
میرے لیے ناقد کی یہ تعریف بالکل نئی تھی. دوستوں ویسے تو ناقد کہتے ہی تنقید کرنے والے کو ہیں. مگر تنقید سے ہماری اکثر مراد یہی ہوتی ہے کہ نقائص کو واضح کرنا. مگر یہ کیا کہ ہر بات پر تنقید…. ایک دن یونہی دل چاہا کہ تخیل میں ایسے ہی ایک ناقد سے گپ شپ کروں.
اور وہی مکالمہ آپکے سامنے پیش کیے دیتا ہوں
.
میں: السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ.
ناقد: وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ.
میں: جناب آپ کیسے ہیں؟؟
ناقد: بس جی گزر رہی ہے گزار رہے ہیں. حالات مندے ہیں. اخراجات زیادہ ہیں. ہلکا پھلکا گھٹنوں میں درد رہتا ہے. بیوی ناراض ہے، بچے وقت نہیں دیتے. حکومت کسی اقدام میں سنجیدہ نہیں، غریب کی تو کوئی زندگی نہیں.
.
اتنے میں ہی کھانے کا وقت ہوا.. موصوف نے طرح طرح کے بازاری کھانے آڈر دیے. جو مزکورہ بالا تمام اعتراضات کا بذات خود رد تھے.
میں نے استفسار کیا کہ جناب: مالی حالات مندے، اخراجات زیادہ، یورک ایسڈ بڑھا ہوا، بیوی ناراض، غریب بے حال، اور یہ کھانا….. ارے جناب میں ناقد ہوں. اگر میں سب اچھا کی گردان رٹ لوں گا تو معاملات کیسے سیدھے ہونگے. آخر غریب کا بھی تو کسی نے سوچنا ہے.
میں چکرا کر: مگر یہ کھانا آپکی صحت اور جیب کے لیے بہت مہنگا ثابت ہو سکتا ہے؟
آو جی چپ کرو ناقد میں ہوں. سدھارنے کا کام حکومتوں کا ہے. آپ کھانا شروع کریں اور اگلا سوال کریں.
.
میں: آپ کب سے ناقد ہیں؟؟
ناقد: میرا خیال ہے ہر انسان پیدائشی طور پر ناقد ہوتا ہے. شکم مادر میں میرے ہاتھ پیر آزاد تھے مگر میری ناف سے بندھی ایک زنجیر نے مجھے قید کر رکھا تھا. میں نے علم بغاوت بلند کیا. میرے بس میں ہوتا تو اس زنجیر کو اپنےہاتھ سے توڑتا اور اس غلامی سے نجات حاصل کرتا. مگر میرے پاس صرف ایک ہی آپشن تھا تنقید، سو میں نے مزاحمتی عمل جاری رکھا اور کچھ عرصہ بعد اس زنجیر سے رہائی پائی. مگر اب دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ میں آزاد ہونے کے بعد کسی کے ہاتھوں میں کھیل رہا تھا. جو کہ میری فطری غیرت کو گوارہ نہ تھا. مگر میرے بس میں کیا تھا. میں نے پھر اپنا ازلی حق تنقید استعمال کیا. اور رونا شروع کر دیا، آپ سمجھ رہے ہیں نا کہ میں جو کہہ رہا ہوں،؟
ناقد کی باتوں میں غرق تھا جب اس نے ہاتھ کا اشارہ دے کر مجھے ہلایا، اور کہا کہ آپ کھانا نہیں کھا رہے، میں نے نوالہ توڑا اور کہا کہ یعنی آپ نے اپنا مدعا سمجھا دیا. کہ آپ پیدائشی طور پر ناقد ہیں.
جی جی بالکل ناقد نے جواب دیا…
میں نے اگلا سوال اس لیے جلدی پوچھ لیا کہ مزید مثالیں سننے کی سکت نہیں تھی.
میں: تنقید کیوں ضروری ہے؟
ناقد: آپ نے میرا پچھلا جواب پورا نہیں ہونے دیا. دیکھیں اب اس کا جواب بھی اسی میں دیے دیتا ہوں. یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے کہ وہ یہ سوچے کہ اس کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے. اب جب مجھے ختنے کروانے لے کر گئے تو پہلی دفعہ یہ سوال تب پیش آیا. آپ ہی بتائیں تب میں سوال پوچھنے کا مجاز نہیں تھا کہ کیا میرا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے؟ . محفوظ ہاتھوں کی تلاش میں ہر ہاتھ پر تنقید کی جائے گی تاکہ سب سے محفوظ ہاتھوں تک پہنچا جا سکے..
میں نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا. اور دل میں سوچا یہ موصوف نائی یا سرجن کے بجائے درزی یا موچی سے ختنے کروانے چلیں جائیں گے. کیونکہ ان کا اعتراض انہی لوگوں پر ہوتا ہے جو اس کام کے ماہر ہوتے ہیں. گوکہ خود اس کام سے مکمل نابلد ہی کیوں نا ہوں.
خیر اسی سوچ میں اگلا سوال داغا
میں: پاکستان کے موجودہ حالات کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
ناقد: دیکھو عزیز یہاں سب کچھ غلط ہو رہا ہے. تعلیم صحت، انصاف، تمام نظام خراب ہیں. داخلہ و خارجہ امور کا بیڑہ غرق ہے. معیشت زوال کا شکار ہے، ڈالر آسمان کو ہاتھ لگانے کی کوشش میں ہے. اللہ غارت کرے ہمارے حکمرانوں کو انہیں مثال کی سنگینی کا ہی علم نہیں. یہ بس تقریریں کرتے ہیں، یہ سب امریکہ کے غلام ہیں. کیسی آزادی کاہے کی آزادی، فوج یہاں جمہوریت چلنے نہیں دیتی، جمہوریت یہاں ڈلیور نہیں کرتی، پولیس کرپشن کی ماری ہے. فوج ڈالروں پر پلتی ہے. 80٪ بجٹ فوج کو چلا جاتا ہے. گندگی ہی گندگی ہے. کوڑا اٹھانے والا کوئی نہیں. خالص چیز نہیں ملتی، ملاوٹ ہی ملاوٹ ہے. عورتیں بے حجاب ہیں، مرد بے رقاب ہیں..
وہ ایک تلاطم میں بولے جا رہے تھے کہ میں نے زبردستی روک کر سوال پوچھا
میں : جناب ان سب کا حل کیا ہے؟
ناقد: حل میں نے نہیں دینا حکومت نے دینا ہے. میں ناقد ہوں میرا کام تنقید کرنا ہے. اچھے سے اچھے کام میں بھی کیڑے نکالنا ہے. تاکہ حکومتیں اپنی اصلاح کر سکیں.
میرے ذہن میں ملاقات کا ابتدائی منظر چل رہا تھا. اور جان چکا تھا موصوف کا مسئلہ کیا ہے. سو میں نے اگلا سوال کر لیا.
میں: کیا یہ بات اچھی نہیں کہ ہم ناقد کے بجائے مصلح بن جائیں. تنقید کے بجائے اصلاح کرنا شروع کر دیں؟
ناقد: وہ کیسے جناب یہ کیسے ممکن ہے. یہ کام حکومتوں کے ہیں، ہم کیسے کر سکتے ہیں؟ ہمیں کون کرنے دے گا؟ آپ ہی بتا دیں؟
.
میں: دیکھیں اللہ نے انسان کو ناقد نہیں بنایا تنقید صرف وہاں کی جاتی ہے جہاں اس کے علاوہ کچھ نہ ہو سکتا ہو. ہر مسئلے کا حل تنقید نہیں. کچھ ہماری زمہ داریاں بھی ہیں. آپ سے ہی شروع کرتے ہیں. آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں اپنا ڈائٹ پلان لیں. آپکی صحت بھی ٹھیک ہوگی اور جیب بھی زیر عتاب نہیں آیا کرے گی. جب میں پیسے اور جوڑوں میں دم ہوگا تو آپ کیسی کے محتاج نہیں ہونگے. ورزش کو اپنا معمول بنائیں گے تو طبیعت کی خشکی ختم ہوگی. یہ سب کو عوامل ہیں جن کے لیے حکومت کی کسی پالیسی کی ضرورت نہیں. سرکار کوئی اقدامات بھی نہ کرے پھر بھی آپ یہ سب کر سکتے ہیں.
موبائل سے سندھ کے ایک ماڈل ویلیج کی ویڈیو دکھائی اور بتایا کہ یہاں سندھ میں انسانیت پس رہی، علاج، تعلیم، انصاف ہر شے ناپید ہے. مگر اس گاؤں کو دیکھ کر آپ کو یقین آ جائے گا کہ آپ غلط سوچتے ہیں تنقید کسی مسئلے کا حل نہیں.، دیکھیں گلیاں صاف ہیں.، سکول، مدرسہ، مسجد بہترین ہے. پر امن لوگ ہیں. بیماریاں کم ہیں. یہاں بھی سندھ کے انہی وڈیروں کی حکومت ہے. مگر وہ خوشحال ہیں. وجہ جانتے ہیں؟ وجہ بس یہی ہے کہ انھوں نے تنقید کو اپنا بنیادی حق سمجھ پر اس پر اکتفا نہیں کیا. چند دوستوں نے مل کر انیشیٹو لیا. اور سکون سے زندگی بسر کر رہے ہیں. یہ ہے تنقید اور اصلاح کا فرق.
مزید یہ عرض کر دوں کہ تنقید کوئی فرض چیز نہیں. اصلاح ہم پر لازم ہے. اپنے معاملات کی اپنے گرد و پیش کے معاملات کی. یونہی معاشروں میں امن و سکون، صحت و سلامتی آتی ہے. صرف تنقید سے کچھ نہیں ہوتا.
اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور بات کرتا کھانا ختم ہو چکا ہے. اور ہم نے سلام کیا اور اپنی راہ لے لی.
والسلام

نعمان علی ہاشم
Category: معاشرہ و ثقافت
-

حضرت ناقد سے تخیلاتی ملاقات کا احوال !!! تحریر : نعمان علی ہاشم
-

ذہنی سکون کس چیز کا نام ہے؟؟؟ تحریر: فہیم شاکر
ذہنی سکون کس چیز کا نام ہے؟
کیا فکرِ فردا سے رہائی ذہنی سکون کا باعث ہے یا مالی آسودگی؟
کیا دنیا میں ٹھاٹھ باٹھ سکون کی علامت ہے یا کوئی ایسی چیز جو اس کی زندگی کو مسکراہٹ سے ہمکنار کر دے
اللہ تعالی کارساز ہے وہ انسان کے کاموں کے لیے خود انسان سے زیادہ متفکر رہتا ہے. انسان جب خود اپنے کاموں، مرادوں اور تمناوں کے لیے بے چینی و بے قراری کی روش اختیار کرتا ہے تو اس سے وہ ذہنی سکون چھن جاتا ہے جو زندگی کی مسکراہٹ کا باعث ہوتا ہے. اور فکرِ فردا سے رہائی اس کے لیے خواب بن جاتی ہے
انسان کو چاہیے کہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہے اور اس میں کوتاہی نہ کرے اگر وہ عطا کردہ نعمتوں پر صبر بھی کر لے تو سونے پر سہاگہ والی بات ہو گی
انسان بنیادی طور پر ناشکرا ثابت ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ جو چیز مل جائے اس کی قدر نہیں کرتا اور جو تمنا پوری نہ ہو اس پر شکوے شکایات ہر وقت نوکِ زباں پر رکھتا ہے
اور اگر ایسے انسان سے عطا کردہ نعمتوں میں سے کچھ یا ساری واپس لے لی جائیں تو اس کا چیخنا دیدنی ہوتا ہے
حالانکہ اس نے عطا ہوئی نعمتوں کا شکر تو ک ھی ادا کیا نہیں تھا
نجانے کیوں انسان خوب سے خوب تر کی تلاش میں کفرانِ نعمت کا مرتکب ہوتا ہے
قدرت انسان کو برابر اشارات دیتی رہتی ہے لیکن انسان نعمتوں کی تکفیر میں ایسا پڑتا ہے کہ قدرت کے اشارات کو سمجھتا ہی نہیں اور ذہنی سکون تباہ کر بیٹھتا ہے
اللہ سے بہتر کون حکیم و علیم ہے یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ عطا کردہ نعمتوں سے کسی کو واپس لے کر اس سے بہتر عطا کرنا چاہتا ہو لیکن اس پر یہ انسان ایسا دلگرفتہ ہوتا ہے کہ اللہ جیسے خالق و مالک کی شکایات اپنے ہی جیسے انسانوں سے کرنے لگتا ہے
شاید یہی وجہ ہے کہ وہ فکرِ فردا سے رہائی کے لیے ترستا رہتا ہے
غم ہمیشہ ماضی سے منسلک ہوتا ہے اور اور خدشے کے تعلق مستقبل سے ہوتا ہے
کیونکہ جو وقت ابھی آیا نہیں اس پر غم کرنا بنتا نہیں لہذا غم کا تعلق ماضی سے ہے
لیکن ماضی کے غم کو لے کر ہم مستقبل سنوار نہیں سکتے اس کے لیے ضروری ہے کہ بندہ ماضی سے صرف سبق حاصل کرتے ہوئے اسے یکسر فراموش کر دے اور مستقبل کی فکر کرے لیکن یہ فکر اسے ہلاک نہ کر ڈالے فکر کا مطلب جہاں ایک طرف بہتر پلاننگ کرنا ہے وہیں دوسری طرف اللہ سے بہتر امید لگانا اور اسی پر یقین رکھنا بھی ہے کہ اس کی مرضی ومنشاء کے بغیر مستقل بہتر نہیں ہو سکتا
ماضی کے غم اور مستق ل کی بے جا فکر سے ہم حال سے بھرپور طریقے سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے
ننکانہ کے ایک مقامی سکول کے ذمہ دار سے ایک ملاقات میں طلبہ کی پڑھائی کا ذکر چلا تو انہوں نے بتایا کہ ہمارے سکول کے طلبہ دوپہر 2 بجے چھٹی کے بعد گھر چلے جاتے ہیں اور زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں پھر جس نے اکیڈمی وغیرہ جانا ہوتا ہے وہ چلا جاتا ہے لیکن ہمارے اور ایک دوسرے سکول کے جماعت نہم کے طلبہ کے نمبر ایک آدھ نمبر کے فرق سے 505 میں سے 500 ہی آئے ہیں لیکن سوچنے کی بات ہے کہ ہمارے طلبہ نے پڑھائی بھی کی اور زندگی سے لطف اندوز بھی ہوئے اور نمبر 500 پائے لیکن مذکورہ سکول کے طلبہ نے سارا دن اور رات کو بھی پڑھائی کر کے اتنے ہی نمبرز حاصل کیے تو گویا اس ادارے کے طلبہ بھی طریقہ بدل کر پڑھائی کرنے سے زیادہ نمبر لے سکتے ہیں اور زندگی سے لطف بھی، لیکن ایسا ہو نہیں رہا
یہاں سمجھ یہ آتا ہے کہ مستقبل کی فکر میں وہ طلبہ اپنے آج کو تباہ کر رہے ہیں، یہی حال انسان کا بحیثیت انسان بھی ہے
زندگی مسکرائے گی یا تلملائے گی اس کا انحصار انسان کے رویے پر ہے
ذہنی سکون مل جائے گا یا ذہنی کرب جان لے لے گا اس کا انحصار انسان کی سوچ و عمل پر ہے
یقین جانیے کہ صبر و شکر سے ہی ذہنی سکون نصیب ہوتا ہے اور زندگی کِھلکھلا اُٹھتی ہے
تو آئیے! اگر ہم فکرِ فردا سے رہائی کے طلب گار ہیں اور ذہنی سکون کے خواہشمند تو اللہ کے کام اللہ پر چھوڑ دیں کہ وہ ہمارے بھلے کے کام ہی کرے گا اور ہم ہر حال میں صبر و شکر سے کام لیتے رہیں
وما توفیقی الا باللہ

-

"دو نہیں ایک پاکستان ” نعرے کی حقیقت کیا ؟ علی چاند
حالیا الیکشن کے دوران حکمران جماعت نے جو نعرہ سب سے ذیادہ لگایا وہ تھا دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام نے پچھلے 70 سالوں میں صرف اور صرف نعرے ہی سنیں ہیں ۔ وہی سیاسی جماعتیں ، وہی چہرے ، وہی نعرے ہاں اگر ان میں کچھ نیا تھا تو وہ تھا یہ نعرہ کہ دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام یہ نعرہ سن کر یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ شاید اب کی بار ہی ہماری قسمت بدل جاٸے ، شاید اب کی بار ہی ہمیں وہ حقوق مل جاٸیں جن پر برسوں سے ہمارا حق تھا ، شاید اب ہماری دعاٸیں رنگ لے آٸیں جو ہم برسوں سے اپنی غریبی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے مانگ رہے تھے ۔ عوام تو سمجھ رہے تھے کہ شاید اب ہمارے وزیر اور مشیر ہمارے ساتھ عوامی گاڑیوں میں سفر کریں گے ، ان وزیروں کے بچے ہمارے بچوں کے ساتھ ایک ہی جگہ ، ایک ہی سکول ، ایک ہی نصاب ، ایک ہی طریقہ تدریس ، ایک ہی استاد سے تعلیم حاصل کریں گے ۔ لیکن کیا فرق آیا ابھی تک ۔ وہی جو کچھ پرانی حکومتوں میں حکمران اور وزیر مشیر کرتے تھے ۔ آج بھی غریب کا بچہ فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہا ہے بلکہ کچھ جگہوں پر تو فرش بھی میسر نہیں ۔ استاد کا دل کرے پڑھاٸے دل کرے تو نہ پڑھاٸے ۔ جبکہ امیر کا بچہ دنیا کا مہنگا ترین نصاب ، سکول اور جدید ترین طریقہ تدریس کے مطابق قابل اساتذہ کی زیر نگرانی تعلیم حاصل کر رہا ۔ امیر تو آج بھی اپنے علاج مہنگے ترین پراٸیویٹ اسپتالوں سے کرواتے ہیں جبکہ غریب کا بچہ آج بھی کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے کمشنر آفس کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ہے ۔ کسی ایم پی اے یا ایم این اے نے آج بھی کسی سکول یا کالج کا دورہ کرنا ہو تو غریب کی بیٹیاں اب بھی گھنٹوں روڈز پر کھڑی ہوتی ہیں تاکہ ان عوامی نماٸیندوں کا استقبال بہترین طریقے سے کیا جاسکے۔ آج بھی بڑے بڑے چور ڈاکو مقدمات ہونے کے باوجود پروٹوکول کے ساتھ اسمبلی میں آتے ہیں ، آج بھی سرکاری خرچ پر علاج کروا رہے ہیں ، قوم کے پیسے سے عیاشیاں کر رہے ہیں جب کہ دوسری طرف صلاح الدین جیسے غریب کو تفتیش کے دوران ایسی اذیت ناک موت دی جاتی ہے کہ اللہ کی پناہ ۔ 500 روپے چوری کرنے والے کو تو مار مار کر قتل کر دیا جاتا ہے جبکہ قوم کا خون تک نچوڑ کر اپنی اولاد پر لٹا دینے والے کو جیلوں میں بھی عیاشیاں کرواٸی جا رہی ہیں ۔
قصور کی زینب کو انصاف نہ مل سکا کیونکہ پاکستان میں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ نظام تھے لیکن قصور کے بچے تو اب بھی زینب کی طرح دردناک موت کا سامنا کر رہے ہیں جن کا کوٸی پرسان حال نہیں ۔ ساہیوال جیسے واقعات جہاں فیڈر ہاتھوں میں پکڑے بچے دہشت گرد قرار دے دٸیے جاتے ہیں جن کے سامنے ان کے والدین کو شہید کر دیا جاتا ہے کیا انہیں انصاف مل پایا ؟ کیا صلاح الدین جیسے لوگوں کو انصاف مل پایا ؟ کیا اب عدالتی نظام ، سکول کا نظام ، پولیس کا نظام امیر اور غریب کے لیے ایک جیسا ہے ؟ کیا اب عام وزیر سے لے کر وزیر اعظم تک مدینہ کے سربراہ کی طرح زندگی گزار رہے ہیں ۔ کیا اب عوامی نماٸیندے عوام کے ساتھ سفر کرتے ہیں ؟ کیا وزیر اعظم پاکستان اب ایک مزدور کے برابر تنخواہ لیتا ہے ؟ کیا امیر اور غریب کے بچے کا معیار تعلیم ، معیار خوراک ، معیار ادویات ایک جیسا ہوگیا ہے ؟ کیا اب گستاخوں کو اسلامی شریعت کے مطابق سزاٸیں دی جاری ہیں یا پھر تحفظ دیا جارہا ہے ؟ کیا اب حکمرانوں کے بچے پاکستان میں ہی رہ کر یہی کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ؟ کیا یہ عوامی نماٸیندے اب عوام کی طرح سرکاری ہسپتالوں میں دھکے کھا کر ہی اپنا علاج کرواتے ہیں ؟ قصور وار کون ؟ ہم ہیں قصور وار ۔ ہاں ہم عوام ہی قصور وار ہیں کیونکہ ہم شخصیت پرست ہے دو دو چار چار سو میں پرچی بیچ دینے والی عوام ، دو دو چار چار سو کے لیے اپنا ضمیر بیچ دینی والی قوم ، اپنی زبان ، اپنی ٹویٹ ، اپنی پوسٹ بیچ دینے والی عوام ۔ جنہوں نے کبھی ان عوامی نماٸیندوں ، ان وزیروں مشیروں کا گریبان نہیں پکڑا ، ان سے سوال پوچھنا تو دور جو سوال پوچھے اسے ہم بیچ چوراہے ایسا ذلیل و رسوا کرتے ہیں کہ وہ انسان دوبارہ کسی حکمران سے سوال پوچھنے کی غلطی نہیں کرتا ۔
اللہ کرے کہ کبھی ان شہدا کا پاکیزہ خون رنگ لے آٸے جنہوں نے پاکستان بنانے سے لے کر اب تک اس پاک دھرتی کے لیے قربانیاں دی ہیں ، جانیں لٹاٸی ہیں تاکہ یہ پاک وطن حقیقی معنوں میں اسلامی ریاست بن سکے ۔ آمین
-

پلاسٹک بیگز سے چھٹکارہ کس صورت ممکن ہے!!! تحریر: نعمان علی ہاشم
قارئین کرام ہم نے جس دور میں ہوش سنبھالا وہ دور کپڑے کے تھیلوں کا آخری دور تھا. کانچ کی پراڈکٹ پلاسٹک میں تبدیل ہو رہی تھیں. مٹی اور چینی کے برتنوں کی جگہ میلامائن کے برتن لے رہے تھے. ابتدائی زمانے میں ہم نے اسے نعمت جانا، برتنوں کے وزن سے جان چھوٹی، کپڑے کے تھیلے کی جگہ شاپر آیا. مجھے یاد ہے جب نئے نئے گوجرانوالہ شفٹ ہوئے تو شاپر میں دودھ دیکھ کر بڑی حیرت ہوتی. کیونکہ ہمارا عقیدہ بن چکا تھا کہ دودھ ڈول میں لایا جاتا اور پتیلی میں اوبالا جاتا ہے. دہی جمانے کے لیے مٹی کی چاٹی یا سلور کی گاگر ہوتی تھی. دیکھتے ہی دیکھتے مٹی کے کنڈوں کی جگہ سٹیل نے لے لی.. فریج کی بہتات ہوئی تو مٹی کے گھڑے گئے اور پلاسٹک کی بوتلوں میں پانی یخ کیا جانے لگا. دیکھتے ہی دیکھتے پانچ سات سالوں میں ایک پوری ثقافت کو لپیٹ کر ہم نے جدت سے لعنت خاص اٹھا کر منہ پر مل لی..
.
ماضی کے ایک واقعے کو یاد کروا کر بات آگے چلاتے ہیں.. ماضی میں پہلے تمباکو اور چائے کو عام کیا گیا. اور جب لوگ عادی ہونے لگے تو ان کے مضمرات سامنے آنے لگے.
.
پلاسٹک پراڈکٹس کے چند سالہ استعمال کے بعد جب لوگوں میں یہ چیز سرایت کر گئی تو اس کے مضمرات عوام کے سامنے لائے جانے لگے. میڈیا کی آزادی کے بعد ہمیں اسی کے توسط سے معلوم ہوا کہ یہ پراڈکٹس ہماری صحت کے لیے کس قدر نقصان دہ ہیں. مگر زہر رگوں سرایت کر چکا تھا. اب ہم اس سے جان چھڑوانے سے رہے. اور ظاہری سے بات ہے کہ جب انسان رنج میں راحت محسوس کرنے لگے تو اسے خوشی کی حاجت ہی کیا؟
یہ تو ہو گئی تمہید. اب چلیے زرا مدعے پر.. ہم پچھلے پانچ سال سے اکثر و بیشتر جگہ اس بات کا اظہار کرتے رہے کہ اس پلاسٹک کو ختم ہونا چاہیے، یہ زندگی نگل رہا ہے. اور اس میں کوئی دو رائے بھی نہیں. ماضی میں بھی حال کی طرح کوششیں ہوتی رہیں مگر کچھ عرصہ بعد یہ شور ختم ہوتا اور پلاسٹک ہماری زندگیوں میں زندگیاں تباہ کرنے کے لیے چلتا رہا.
خیر حالیہ چند دنوں کے اقدامات دیکھ کر میں نے مناسب سمجھا کہ آپ لوگوں کو اس مسئلے کی سنگینی سے آگاہ کر دوں.
یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ آپ گراونڈ سیٹ کیے بغیر شریعت بھی نافذ کریں گے تو نقصان آپکا ہی ہوگا. اس کے لیے لازم ہے قوم کی اخلاقی و اسلامی تربیت، جمہور کا صالح ہونا، گرد و پیش کے سازشی عناصر کے مقابل ڈٹ جانے کی قوت ہونا. جس طرح سب سے افضل کام آپ گراونڈ سیٹ کیے بغیر نہیں کر سکتے اسی طرح چھوٹے سے چھوٹا کام بھی گراونڈ سیٹ کیے بغیر نہیں کیا جا سکتا.
خیر بات یہ ہے کہ
انٹرنیشنل ہیلتھ آرگنائزیشنز کے مطابق عصر حاضر میں 35 فیصد بیماریوں کی وجہ یہ پلاسٹک ہے. کمال یہ ہے کہ اسی پلاسٹک کے مضمرات میں کینسر جیسی بیماری بھی ہے. ہیپاٹائٹس اور جلدی امراض کی طویل لسٹ، اس سے زیادہ حیران کن بات یہ کہ اس پلاسٹک نے پچھلے بیس سالوں میں 18 فیصد آبی مخلوق کو سرے سے ختم کر دیا.
اور صرف پاکستان کی بات کریں تو دریائے راوی میں آبی مخلوق کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے. مچھلیاں تو ایک طرف اب تو مینڈک بھی اس شاپر کی موت مر رہے ہیں. یہاں نالوں اور شہروں کا گندہ پانی پھینک کر پلاسٹک کئی فٹ موٹی تہہ بنا دی گئی ہے جو اگلے دو سو سال تک بھی مٹی میں نہیں ملے گی. یعنی اگلے تو سو سال کے لیے زندگی ناپید..
.
ان برتوں میں ٹھنڈا گرم کرنے کی بیماریاں، ان میں صفائی کے بعد بھی جراثیم کی افزائش، اور تو اور اگر ان برتنوں کو ابالا جائے تو اندر سے مزید جراثیم زندہ ہو کر انسانی صحت کا نقصان کرتے ہیں.
اس پلاسٹک کے عمل دخل کی بات کی جائے تو بچے کے منہ میں لگی چوسنی سے لے کر، 80 سالہ بابے کی چارپائی تک پلاسٹک کی بنی ہے.
اب سوال یہ ہے کہ اس سے جان کیسے چھڑائی جائے؟
ایک بات ذہن میں رکھیں اب اس پلاسٹک سے جان چھڑوانا ناممکنات میں سے ہے. البتہ اس کا استعمال 80 فیصد تک روکا جا سکتا ہے. اور یہ ہماری نسلوں کی بقا کے لیے کافی ہوگا.
سب سے پہلی بات آگاہی، لوگوں کو جہاں پلاسٹک کے مضمرات بتانے کی ضرورت ہے وہیں کپڑے، شیشے اور مٹی کی فضیلت پر بھی لیکچرز دینے کی ضرورت ہے.
.
جس چیز کو رائج کرنا ہے اسے فیشن بنا دیں. شوبز، میڈیا کھلاڑی سب مل کر اس کو پروموٹ کریں.
.
دوسرا اہم کام یہ کریں کہ پلاسٹک بنانے والی فیکٹریوں کو کپڑے یا ایسے میٹیریل کے بیگ بنانے کے لیے فنڈز جاری کریں جو ماحول اور انسان دوست ہوں. تاکہ وہ ہنسی خوشی قوم کے لیے یہ خدمات سرانجام دیں
.
شہروں کے کوڑے کی ریفائنگ پر کام کریں. تمام پلاسٹک پگلا کر ایسی پراڈکٹس بنائیں جو دوبارہ مارکیٹ میں چلتی رہیں اور وہ چیزیں زمین یا پانی کی نذر نہ ہوں.
.
شاپر کا ریٹ بڑھا دیں، اور اسے کباڑ میں خریدنے اور بیچنے کی تجویز دیں. یوں پلاسٹک میٹیریل گلیوں نالیوں میں نہیں جائے گا. گھر کی خواتین ان بیگز کو سنبھال کر رکھیں. جس طرح لوہا، لیلن، سوکھی روٹیاں اور ہیل والی جوتیاں خراب ہو جانے کے بعد بھی سنبھالی جاتی ہیں. اور کباڑیے کو بیچ کر پیسے کمائے جاتے ہیں. اسی طرح استعمال شدہ پلاسٹک شاپر بھی بیچے اور خریدے جائیں
.
جب آپ یہ تمام اقدامات کر لیں گے تو پھر پلاسٹک بیچنے والوں کی باری آئے گی. اب یہاں پر بھی بتا دوں کہ اگر آپ مافیاز کو پکڑ نہیں سکتے تو آپ محض بوتل اور شاپر پر بھی یہی لکھ سکیں گے.. "خبردار..! پلاسٹک کا استعمال کینسر کا باعث ہے”
جس طرح آپ سگریٹ پر ٹیکس لگا کر عام آدمی کے لیے اسے مشکل کر کے سمجھ رہے ہیں کہ تمباکو نوشی ختم ہو جائے گی اسی طرح شاپر کا معاملہ ہو گا. جس طرح سگریٹ جن کو لگ چکا ہے، ان کے لیے انتباہ، اور ٹیکس کوئی مسئلہ نہیں بلکہ آپ دن بہ دن تباکو بیچنے والوں کی کمائی میں اضافہ کر رہے ہیں. اسی طرح شاپر کے معاملے میں ہوگا. لوگ جس آسائش کے پیچھے چل پڑے ہیں، وہ چار پانچ روپے زیادہ خرچنے کو ترجیح دیں گے.
.
یہاں ایک بات یاد رکھیں کہ آجکل مارکیٹ میں مختلف اقسام کے بیگز آ رہے ہیں، جنہیں ماحول دوست ثابت کر کے مارکیٹنگ کی جا رہی ہے. مگر یہ بیگز کسی صورت بھی پلاسٹک بیگز جتنے فنگشنل نہیں. پلاسٹک بیگ میں آپ بہت سے اقسام کا میٹیریل ڈال سکتے ہیں. جبکہ ان بیگز میں مخصوص طرح کا میٹیریل ڈل سکتا ہے.
یعنی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اپنی فنگشنلیٹی کے اعتبار سے بھی پلاسٹک بیگ کا کوئی ثانی نہیں.
.
عوام کو بھی چاہیے کہ ہر ممکن کوشش کرے کہ جہاں تک اس پلاسٹک بیگ سے بچ سکتی ہے بچے. جو پراڈکٹس کسی دوسری چیز میں لائی جا سکتی ہیں، ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں میں اسی چیز کو شاپر میں لانے سے پرہیز کریں. دودھ، دہی سالن جیسی پراڈکٹس کے لیے برتن. اور خشک پراڈکٹس کے لیے کپڑے کے تھیلے استعمال کریں. آپ سیدھی راہ پر ہونگے تو ملک بھی سیدھی راہ پر ہوگا. ٹھیک ہے پالیسیاں سرکار نے بنانی ہیں. مگر آپ کو اپنی جانب سے اقدامات کرنے پر کوئی روک نہیں. آپ خود باز آئیں اور اپنے جاننے والوں کو پلاسٹک سے پرہیز کا مشورہ دیں. اگر ہم بحیثیت قوم کسی نیک مقصد کے لیے خود کو پیش کر دیں تو یہ مافیاز خود بخود بھاگ جائیں گے. جنہوں نے ملک پاکستان کے سسٹم کو ہائی جیک کیا ہوا.

-

میر حسن تو مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے:علی چاند
میر حسن ابڑو بیٹا ہمیں معاف کرنا ہم نے کبھی اس پاک وطن سے بھٹو کو کبھی مرنے ہی نہیں دیا ۔ ہم نے تو آپ جیسے غریبوں ، بے بس لاچاروں کے ٹیکس کا پیسہ وہ ٹیکس جو آپ لوگ ایک روپے کی ٹافی ، پانچ روپے کی چاکلیٹ پر دیتے ہو وہ سارے کا سارا پیسہ بھٹو کو زندہ رکھنے پر لگا دیا ہے ۔ ہم نے ساری محنت بھٹو کو زندہ رکھنے پر لگا دی ہے ۔ بیٹا معاف کرنا ہم نے تو تمہارے ایک روپے کی ٹافی سے بھی ٹیکس لیا اور پھر وہ سارا ٹیکس بھٹو کے نواسے نواسیوں کے کتے پالنے پر لگا دیا ۔ میر حسن ابڑو بیٹا اس بات کا قصور وار کون ہے ؟ وہ لوگ جو آج بھی دو دو سو لے کر جٸیے بھٹو کا نعرہ لگا رہے ہیں یا وہ لوگ قصور وار ہیں جن کا آج بھی کہنا ہے کہ اگر کبھی سنو کے پی پی پی کا صرف ایک ہی ووٹر ہے تو یقین کر لینا کہ وہ میں ہی ہوں ۔
سندھ کا میر حسن ابڑو جسے کتے نے کاٹا اور کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ملنے پر وہ کمشنر آفس کے سامنے سسک سسک کر ماں کی گود میں ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سو گیا ۔ دکھ صرف میر حسن ابڑو کی موت کا نہیں دکھ تو اس بات کا ہے کہ میر حسن کی سسکیاں ، اس کی ماں کی آہیں ، اس کی والدہ کی تڑپ بھی بے ضمیر اور بے شرم حکمرانوں کو نہیں جگا سکی ۔ میر حسن جیسے بچے تو موت کے منہ میں چلتے جارہے ہیں ، تھر میں ہزاروں بچے خوراک کی کمی کا شکار ہو کر موت کی وادی میں پہنچ گٸے لیکن بے ضمیر اور مردہ دل والوں کا آج بھی یہی نعرہ ہے کہ بھٹو کل بھی زندہ تھا ، بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔ بھٹو کے نواسے نواسیوں کو ان کے کتوں کے ساتھ دیکھ کر ، ان کتوں کے ساتھ ان کا پیار محبت دیکھ کر بھی کیا سندھ کے لوگوں کو کبھی خیال نہیں آیا کہ لوگ یہی سمجھ لیں کہ ان لوگوں کے نزدیک اہم کون ہے ۔ اپنے ایک ایک روپے کے ٹیکس ادا کرتے ہوٸے کبھی خیال نہیں آیا کہ یہ ٹیکس بھٹو کے نواسے نواسیوں کے کتوں پر تو خرچ ہو گا لیکن سندھ کی عوام پر حرام سمجھا جاٸے گا ۔
میر حسن ابڑو کی سسکیاں بھی اگر ہم لوگوں کو ہمارے حکمرانوں کی اوقات دکھا کر ہمارے مردہ ضمیروں کو نہ جگا سکیں تو سمجھ جانا کہ کل کو ہمارا اپنا خون ، ہمارا اپنا لخت جگر ، ہماری گود میں پلنے والا میر حسن بھی ایسی اذیت سے گزر سکتا ہے ۔ آج اگر میر حسن کی آہیں ہمیں نہ جگا پاٸیں تو سمجھ لینا کہ ہم نے بھی اپنی اولاد کو اذیت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ میر حسن کی موت یہ پیغام دے کر جا رہی ہے کہ آٶ پکڑو ان مردہ ضمیر حکمرانوں کے گریبان اور لو ان سے اپنے بچوں کی ایک ایک روپے کی ٹافی پر دٸیے گے ٹیکس کا حساب ، لو ان سے اپنے بچوں کی پانچ پانچ روپے والی چاکلیٹ کے ٹیکس کا حساب ۔ اگر آج نہیں بولو گے تو کل بھگتو گے ۔ میر حسن کی سکیاں بتا رہی ہیں کہ ہمیں بھٹو کو مارنا ہوگا ورنہ ہماری نسلیں اسی طرح تڑپ تڑپ کر جان دیں گی اور حکمرانوں کے کتے عیاشیاں کریں گے ۔ میر حسن ابڑو کی تڑپ بتا رہی ہے کہ آنکھیں کھولو اس سے پہلے کہ تمہارے بچوں کی آنکھیں بند ہوجاٸیں ۔
کیا قیامت گزر رہی ہوگی اس ماں کے دل پر جس کا بھٹو زندہ تھا مگر اس کا پیارا بیٹا اس کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے رہا تھا اور بے بس ماں اپنے لخت جگر کے لیے کچھ کر نہیں پا رہی تھی ۔ میر حسن کی ماں بھی سوچ رہی ہوگی کاش بھٹو اس کے سامنے ہوتا تو اسے خود اپنے ہاتھوں سے مار دیتی تاکہ اس کے جگر کا ٹکڑا آج ایسی بے بسی کی موت نہ مرتا ۔ ماں بھی سوچ رہی ہوگی کہ کاش بھٹو کے نواسے نواسیاں اس کے سامنے ہوتے یہ بھی ان کو ایسے تڑپاتی ، یہ بھی ان کو ایسی اذیت سے گزارتی تاکہ انہیں بھی پتہ ہوتا کہ انہیں ووٹ ان کے پالے ہوٸے کتے نہیں بلکہ سندھ کے غریب عوام دیتے ہیں ۔ عوام خوراک کی کمی سے مرتی ہے تو مرے ، عوام ادویات نہ ہونے کی وجہ سے مرتی ہے تو مرے لیکن سندھی عوام کے ووٹ سے جیتنے والی جماعت کا ایک ہی منشور ، ایک ہی مقصد ایک ہی نعرہ ہے کہ بھٹو زندہ ہے ۔ خدا جانے کب بھٹو مرے گا اور سندھ کی عوام کی طرف توجہ دی جاٸے ۔
اپنے ووٹ کا جسے پاکستانی عوام محض ایک پرچی سمجھتی ہے اس کا سوچ سمجھ کر استعمال کریں ۔ تاکہ ہم سب کے میر حسن کبھی ہماری گودوں میں اس طرح دم نہ توڑیں ۔ ووٹ ڈالنے سے پہلے کبھی سوچا ہے کہ جسے ووٹ دے رہے ہو اس کا منشور کیا ہے ، اس کے بچے پاکستان میں ہیں یا کسی انگریز ملک میں کتوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ۔
نہیں سوچا تو آٸیندہ ضرور سوچنا کیونکہ کتوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے کتوں کا تو خیال رکھیں گے لیکن آپ کا نہیں ۔
اللہ پاک ہمارے پیارے پاکستان پر مسلط ایسے لوگوں کو نیست و نابود کرے اور پاکستان کی عوام کو کوٸی ایک ہمدرد عطا فرما دے جو ان کے دکھ درد کا ازالہ کر سکے ۔ آمین
-

قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کا مقصد : علی چاند
انتہاٸی پروقار ، دلفریب ، بلند حوصلہ ،جرأت مند ہستی ، جو نہ کبھی کسی کے آگے جھکے ، نا کبھی ہمت ہاری ، نہ کبھی حوصلہ کم ہوا ، جس بات پر ڈٹ گٸے اس سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے ،اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ پروقار انسان ایسا بہادر ، قوی ، جرأت مند نکلا کہ مسلمانوں نے ان کی قیادت میں صرف چند ماہ میں ہی پاکستان جیسا عظیم ملک بنا لیا ۔
کون جانتا تھا کہ 25 دسمبر 1876 کو پونجا جناح کے گھر پیدا ہونے والا بچہ ایک دن اپنا نام اتنا روشن کرے گا کہ دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے جیتی جاگتی زندہ مثال بن جاٸے گا ۔ لوگ غلامی سے چھٹکارا پانے کے لیے اس عظیم انسان کی مثالیں دیں گے ۔ کون جانتا تھا کہ مظلوموں کو آزادی دلوانے والے اس عظیم لیڈر کو اپنا راہنما اور مشعل راہ سمجھیں گے ۔قاٸد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو ایک تاجر پونجا جناح کے گھر پیدا ہوٸے ۔ والدین نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی جس کے اثرات پھر پوری دنیا نے دیکھے ۔ والدین نے چھ سال کی عمر میں آپ کو مدرسے میں داخل کروا دیا ۔ پراٸمری تعلیم کے لیے آپ کو گوگل داس پراٸمری سکول میں داخل کروایا گیا ۔ میٹرک کا امتحان آپ نے اعلی نمبروں کے ساتھ سندھ مدرسة السلام ہاٸی سکول سے پاس کیا ۔ 1892 میں آپ نے وکالت کا امتحان پاس کیا ۔ پھر اعلی تعلیم کے لیے انگلستان چلے گے اور بیرسٹر بن کر واپس آٸے ۔ پہلے آپ نے کراچی اور پھر ممبٸی میں وکالت کر کے بہت نام کمایا ۔ آپ کو سیاست سے بہت دلچسپی تھی ۔ شروع میں قاٸد اعظم ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے اس لیے آپ نے 1906 میں کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی ۔ کچھ مسلمان راہنماٶں نے آپ کومسلم لیگ میں شمولیت کی دعوت دی اور آپ کو اس پر راضی بھی کر لیا بالآخر آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی ۔ 1913 میں آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی ۔ مسلم لیگ پہلے صرف بڑے لوگوں کی جماعت سمجھی جاتی تھی لیکن آپ کی مسلم لیگ میں شمولیت کے بعد لوگ اسے عام مسلمانوں یعنی اپنی جماعت سمجھنا شروع ہوگے ۔
1929میں قاٸداعظم نے اپنے مشہور چودہ نکات پیش کٸیے جو درج ذیل ہیں :
ہندوستان کا آئندہ دستور وفاقی نوعیت کا ہو گا۔
تمام صوبوں کو مساوی سطح پر مساوی خود مختاری ہو گی۔
ملک کی تمام مجالس قانون ساز کو اس طرح تشکیل دیا جائے گا کہ ہر صوبہ میں اقلیت کو مؤثر نمائندگی حاصل ہو اور کسی صوبہ میں اکثریت کو اقلیت یا مساوی حیثیت میں تسلیم نہ کیا جائے۔
مرکزی اسمبلی میں مسلمانوں کو ایک تہائی نمائندگی حاصل ہو۔
ہر فرقہ کو جداگانہ انتخاب کا حق حاصل ہو۔
صوبوں میں آئندہ کوئی ایسی سکیم عمل میں نہ لائی جائے جس کے ذریعے صوبہ سرحد، پنجاب اور صوبہ بنگال میں مسلم اکثریت متاثر ہو۔
ہر قوم و ملت کو اپنے مذہب، رسم و رواج، عبادات، تنظیم و اجتماع اور ضمیر کی آزادی حاصل ہو۔
مجالس قانون ساز کو کسی ایسی تحریک یا تجویز منظور کرنے کا اختیار نہ ہو جسے کسی قوم کے تین چوتھائی ارکان اپنے قومی مفادات کے حق میں قرار دیں۔
سندھ کو بمبئی سے علاحدہ کر کے غیر مشروط طور پر الگ صوبہ بنا دیا جائے۔
صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان میں دوسرے صوبوں کی طرح اصلاحات کی جائیں۔
سرکاری ملازمتوں اور خود مختار اداروں میں مسلمانوں کو مناسب حصہ دیا جائے۔
آئین میں مسلمانوں کی ثقافت، تعلیم، زبان، مذہب، قوانین اور ان کے فلاحی اداروں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔
کسی صوبے میں ایسی وزارت تشکیل نہ دی جائے جس میں ایک تہائی وزیروں کی تعداد مسلمان نہ ہو۔
ہندوستانی وفاق میں شامل ریاستوں اور صوبوں کی مرضی کے بغیر مرکزی حکومت آئین میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔
یہ چودہ نکات تحریک پاکستان میں سنگ میل کی حثیت رکھتے ہیں ۔ 1940 میں لاہور منٹو پارک ( موجودہ نام اقبال پارک ) میں ایک قرار داد پیش کی گٸی جسے قرارد داد پاکستان بھی کہا جاتا ہے اس قرار داد میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا ۔ ہندوٶں اور انگریزوں کی طرف سے اس قرارداد کا بہت مذاق اڑایا گیا لیک مسلمان ارادے کے پکے اور ایمان کے سچے تھے انہوں نے قاٸد اعظم جیسے عظیم لیڈر کی راہنماٸی میں 14 اگست 1947 کو مسلمانوں نے الگ وطن حاصل کر لیا ۔ اس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔ قاٸد اعظم نے پاکستان بننے کے بعد مہاجرین کی آباد کاری ، پاکستانی معیشیت اور اداروں کی بحالی کے لیے انتھک محنت کی جس کی وجہ سے آپ بہت زیادہ علیل ہوگے ۔
آپ کو ڈاکٹرز کے مشورے سے زیارت کے مقام پر بھیج دیا گیا تاکہ آپ کی صحت کچھ سنبھل سکے ۔ لیکن آپ کی صحت جواب دیتی جارہی تھی ۔ 10 ستمبر کو کرنل الہی بخش نے قاٸد اعظم کی صحت کے حوالے سے فاطمہ جناح کو جواب دے دیا ۔ اگلی صبح قاٸد اعظم کو کوٸٹہ سے کراچی اٸیرپورٹ لایا گیا ۔ وہاں سے ایک ایمبولینس میں آپ کا سٹریچر رکھا گیا ۔ ایمبولیس میں آپ کی بہن فاطمہ جناح بھی بیٹھ گٸی ۔ جب ایمبولینس مہاجروں کی ایک گنجان آباد بستی سے زرا آگے پہنچی تو ایمبولینس چلنا رک گٸی ۔ فاطمہ جناح کو بتایا گیا کہ پیٹرول ختم ہوگیا ہے ۔ ایک گھنٹہ بعد دوسری ایمبولینس آٸی اور پھر قاٸد اعظم کو دوسری ایمبولینس کے ذریعے قاٸد اعظم گورنر ہاٶس پہنچایا گیا جہاں انہوں نے کلمہ پڑھتے ہوٸے اپنی جان خالق حقیقی کے حوالے کر دی ۔
کیا ایمبولینس کا واقعی پیٹرول ختم ہوا تھا یا پھر یہ بھی ایک سازش تھی ۔ اگر پیٹرول واقعی ختم ہوا تھا تو کیا ایمبولینس روانہ کرتے وقت چیک نہ کیا گیا تھا ۔ کیا کوٸی اس قدر احمق بھی ہوسکتا ہے کہ اپنے محسن کی حالت کو جانتا ہو پھر بھی ایسا کرے ۔ اور اگر یہ ایک سازش تھی تو قاٸد اعظم اور پاکستان کے ساتھ غداری تھی ۔ دونوں صورتوں میں کیا کبھی کسی نے اس سازش کے پیچھے چھپے چہرے تلاش کرنے کی کوشش کی ۔ کیا کسی نے ان چہروں کو بے نقاب کر کے انہیں سزا دلوانے کی کوشش کی ۔ اگر نہیں تو کیا ہم ایک بے حس قوم نہیں ہیں جنہوں نے اپنے عظیم لیڈر کے احسانات کو بھلا دیا اور کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ آخر کون لوگ تھے جو پاکستان سے دشمنی میں اس قدر آگے نکل گے کہ انہوں نے قاٸد اعظم کی جان کی پرواہ بھی نہ کی ؟
کیا ہم میں سے کوٸی اس بہن کا درد محسوس کر سکتا ہے جس کے بھاٸی کو ڈاکٹرز جواب دے چکے ہوں اور اس ایمبولینس کو جان بوجھ کر روکے رکھا گیا ہو جس میں ایک بہن کے سامنے اس کا بھاٸی زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہو ۔ جو کہتے ہیں پیٹرول ختم ہو گیا تھا ،ان کی عقل کو داد دیں یا پھر اپنی قوم کی بے حسی کو ۔ اگر پٹرول ختم ہوگیا تھا تو گنجان آبادی قریب تھی وہاں سے کسی گاڑی کا انتظام کیوں نہ ہوا ۔ اس آبادی سے کسی کی گاڑی سے کہیں سے بھی پٹرول مل سکتا تھا پھر ایک گھنٹے تک کیوں اس بہن کو اذیت میں رکھا گیا جس کے بھاٸی نے اپنی بہن کے ساتھ اپنی تمام تر زندگی اس وطن کے نام کر دی ۔ آخر کیوں کون سے وجوہات تھی کہ ہم نے باباٸے قوم اور مادر ملت کو اذیت دینے والوں کے گریبان نہیں پکڑے ۔ آخر کیوں ہم اتنے بے حس ہوگے کہ محسن پاکستان محمد علی جناح کے ساتھ ان کی بہن کے ساتھ ایسا ظلم کرنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا گیا ۔ وہ بہن جو مادر ملت تھی کہتی ہیں زندگی میں جتنی بھی مشکلات آٸیں یہ ایک گھنٹہ ان سب مشکلات سے بھاری تھا ، تکلیف دہ تھا ۔ آخر کیوں اس بات کو جاننے کی کوشش نہیں کی گٸی کہ آخر کون تھا جس پر قاٸد اعظم کی سانسیں باعث تکلیف تھی ، آخر ایمبولینس کو جان بوجھ کر روکنے میں کسی کا کیا فاٸدہ تھا ؟ ہمیں بحثیت قوم ان حقاٸق کو جاننا ہوگا ۔ ان کالی بھیڑوں کو ڈھونڈنا ہوگا جو تب سے لے کر آج تک وطن پاکستان اور اس سے جڑے ہر مخلص انسان کو نقصان پہنچا رہی ہیں ۔
-

ہمیں 65 کی زبان بھی آتی ہے : علی چاند
پاکستان 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا تھا ۔ پاکستان بنانے کا مقصد ایک الگ اسلامی معاشرے کی تشکیل تھا جہاں مسلمان اسلامی قوانین پر آزادی کےساتھ عمل کر سکیں ۔ لیکن بھارت کو کبھی بھی یہ بات گوارا نہیں ہوٸی کہ مسلمان پر امن طریقےسے زندگی گزاریں ۔ بھارت نے پاکستان کو ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کی الگ پہچان ختم کرنے کے لیے 6 ستمبر 1965 کو پاکستان پر حملہ کر دیا ۔ پاکستانی افواج نے اپنی غیور اور بہادر عوام کے ساتھ مل کر دشمن کے ناپاک عزاٸم کو خاک میں ملا دیا اور اپنے دشمن کو ایسی ذلت سے دوچار کیا جس کا داغ اگر دشمن دھونا بھی چاہے تو بھی صدیوں میں بھی نا دھو پاٸے گا ۔ پاکستان میں یہ دن یعنی 6 ستمبر کا دن یوم دفاع پاکستان کہلاتا ہے اور تمام پاکستانی ہر سال یوم دفاع پاکستان پورے جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں اور اس دن بھارت کو دوبارہ باور کرواتے ہیں کہ اگر تم نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم تمہارا وہی حال کریں گے جو 1965 کی جنگ میں کیا تھا ۔ پاکستانی افواج اور عوام نے 6 ستمبر 1965 کی جنگ میں ثابت کردیا کہ ہم بدر و حنین والوں کے وارث ہیں جو نہ تو ڈرتے ہیں نہ بزدلی دیکھاتے اور نہ ہی اپنے کسی دشمن سے خوف زدہ ہوتے ہیں ۔ اس جنگ میں بھی پاکستانیوں نے مسلمانوں کی تاریخ دہراتے ہوٸے دشمن کا تکبر خاک میں ملا دیا اور اپنے سے کٸی گنا بڑے دشمن کو سر اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا ۔
اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم دشمن ہر واضع کر دیں کہ ہم اپنے دشمن کا نام و نشان مٹانا جانتے ہیں ، اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں اور اپنے وطن کی طرف میلی نگاہ ڈالنے والے کو نیست و نابود کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔ یوم دفاع پاکستان پاکستان کی غیور ، بہادر اور پر عزم افواج اور عوام کا دن ہے جس دن سب پاکستانی چاہے ان کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے وطن پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے اور پاکستان کی حفاظت میں سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے ۔ یوم دفاع پاکستان شجاعت و بہادری کا دن ہے وہ دن جس دن پاکستانی افواج نے اپنی عوام سے مل کر اپنے سے کٸی گنا دشمن کا غرور و تکبر نیست و نابود کر دیا ۔ یوم دفاع پاکستان وہ دن ہے جس دن کی ذلت کا داغ دشمن کبھی نہیں دھو سکتا ۔ یہ دن ناقابل تسخیر جذبوں کا دن ہے ، یہ دن ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کرنے کا دن ہے ، یہ دن ہماری آن ، بان ، شان اور وطن سے محبت کے ثبوت کا دن ہے ۔ یہ میرے شہیدوں غازیوں ان کے گھر والوں کے زندہ و جاوید جذبوں اور بہادری و جرات کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ مسلمان ماٸیں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو میدان جنگ میں بھیجتے ہوٸے ذرا بھی خوف نہیں کھاتیں ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ ایک بہن اپنے بھاٸی کو وطن کی محبت میں کیسے وطن پر لٹا دیتی ہے ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ ایک باپ اپنا جوان خون اور ایک بھاٸی اپنا بازو ( بھاٸی ) کیسے وطن پر قربان کرتا ہے ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ یہاں لڑکیاں جوانی میں بیوہ تو ہوسکتی ہیں لیکن کبھی شوہر کو جہاد سے غافل نہیں ہونے دیتی ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ یہاں بچے یتیم تو ہو سکتے ہیں لیکن اپنے پیارے وطن پاکستان پر کوٸی آنچ نہیں آنے دیں گے ۔ اس دن نے ثابت کیا کہ یہاں ماتم کر کے اپنے بچوں کے لاشے وصول نہیں ہوتے بلکہ ایک جوان کی شہادت باپ اور بھاٸی کا سینہ فخرسے اور بھی چوڑا کر دیتی ہے ۔ اس دن نے ثابت کیاکہ یہاں ایک جوان کی شہادت بوڑھی ماں کو جوانی کی طاقت ، اور یتیموں کو وقت سے پہلے جوان کر دیتی ہے ۔ اس دن نے ثابت کیا کہ یہاں ایک گھر میں اگر ایک جوان شہیدہو کر آٸے تو اس پر ایسا فخر ہوتا ہے کہ اسی گھر سے دو تین مرد اور رتبہ شہادت پانے کو نکلیں گے ۔ پاکستانی افواج اور عوام نے اس دن دنیا کو ثابت کر دیکھایا کہ ہاں ہم زندہ قوم ہیں ، پاٸیندہ قوم ہیں ۔
اس دن پاکستانیوں نے ثابت کر دیا کہ دنیا کی کوٸی طاقت ہمیں ہرا نہیں سکتی ، دنیا کی کوٸی طاقت ہمیں بزدل نہیں بنا سکتی ۔
پاکستان نے اس سال اپنایوم دفاع پاکستان اپنی شہہ رگ کشمیر کے ساتھ یوم یکجہتی کے طور پر منانے کا علان کیا ہے ۔ بھارت جب پاکستان سے منہ کی کھاتا ہے تو وہ پاکستان کا غصہ مجبور اور بے بس کشمیریوں پر نکالتا ہے ۔ نہ صرف کشمیریوں بلکہ انڈیا میں بسنے والی اقلیتوں کا بھی جینا حرام کر دیا جاتا ہے ۔ اب بھی ایک ماہ ہونے کو ہے بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگایا ہوا ہے کشمیری عوام کو بنیادی انسانی حقوق تک میسر نہیں ۔ ادویات اور غذا کی انتہاٸی شدید قلت ہے ۔ عالمی میڈیا چیخ چیخ کر مودی کی ظلم و بربریت دنیا والوں کو دیکھا رہا ہے کہ کیسے بھارتی افواج کشمیری جوانوں ، بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں ۔ پاکستان نے یوم دفاع پاکستان کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منانے کا اعلان اس وجہ سے کیا ہے تاکہ دنیا بھر کی نظریں کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کی طرف دلاٸی جاسکے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت پر یہ بھی واضح کیا جاٸے گا کہ ہم نے جس طرح تمہارا غرور 1965 میں خاک میں ملایا تھا اب بھی ہم تم سے اپنہ شہہ رگ چھڑوا کر تمہیں خاک میں ملاٸیں گے ۔ ابھی ہم پر امن اس لیے ہیں تاکہ یہ مسلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق پر امن طریقے سے حل ہوجاٸے لیکن اگر بھارت نے ہماری امن کی زبان نہ سمجھی تو پھر اسے اسی زبان میں سمجھاٸیں گے جو ہم ان 1965 کی جنگ میں استعمال کی تھی ۔
اللہ پاک میرے وطن کے تمام شہیدوں اور ان کے گھر والوں کے درجات بلند فرماٸے ۔ ہمیں وطن پر مر مٹنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ ہمارے پیارے پاکستان کو شاد و آباد رکھے اور ہمیں ملی غیرت عطا فرماٸے ۔ کشمیر کو آزاد فضاٸیں نصیب فرماٸے ۔ آمین
-

"نشان حیدر” پانے والے گیارہ شہیدوں کی لازوال داستان: علی چاند
” نشان حیدر ” مطلب شیر کا نشان ، یہ پاکستان کا سب سے بڑا فوج اعزاز ہے جو دشمن کے مقابلے میں بہادری کے شاندار جوہر دیکھانے والے پاک فوج کے جوانوں کو ملتا ہے ۔ نشان حیدر جنگ میں دشمن سے حاصل ہونے والے اسلحے کو پگھلا کر بنایا جاتا ہے جس میں 20 فیصد سونا بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔
اب تک نشان حیدر پانے والوں میں سے سب سے زیادہ عمر طفیل محمد شہید ہیں جنہوں نے 44 سال کی عمر میں شہادت پاٸی اور سب سے کم عمر نشان حیدر پانے والے راشد منہاس شہید ہیں جنہوں نے 20 سال 6 مہینے میں شہادت کی عمر پاٸی ۔نشان حیدر پانے والے بہادر جوانوں کے نام اور کارنامے درج ذیل ہیں

راجہ محمد سرور شہید :
ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ سب سے پہلے نشان حیدر پانے والے جوان ہیں ۔ 1948 میں راجہ محمد سرور شہید کو کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا ۔ 27 جولاٸی کو آپ نے اوڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر حملہ کیا تو معلوم ہوا کہ دشمن نے اپنے مورچوں کو خار دار تاروں سے محفوظ کیا ہوا ہے ۔ آپ نے اپنے 6 جوانوں کے ساتھ مل کر شدید گولیوں کی بوچھاڑ میں ان خار دار تاروں کو کاٹ دیا ۔ آپ پر بیشمار گولیاں برساٸی گٸیں جن میں سے ایک آپ کے سینے پر لگی اور آپ جام شہادت نوش کیا ۔ آپ کے جذبہ شہادت کو دیکھتے ہوٸے آپ کے جوانوں نے دشمن پر بھرپور حملہ کیا جس کی وجہ سے دشمن اپنے مورچے چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔

میجر طفیل محمد شہید :
آپ صوبہ پنجاب میں ہوشیار پور میں پیدا ہوٸے ۔ اگست 1958 میں آپ کو چند بھارتی مورچوں کا صفایا کرنے کا کام سونپا گیا ۔ 7 اگست کو آپ نے دشمن کے ایک مورچے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ۔ جب بھارتیوں نے اپنی مشین گن سے فاٸرنگ شروع کیا تو اس فاٸرنگ کا نشانہ بننے والے سب سے پہلے جوان طفیل محمد شہید تھے ۔ بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے آپ نے دشمن کی مشین گنوں کو مکمل خاموش کروا دیا ۔ اور شدید زخمی ہونے کے باوجود آپ اپنے جوانوں کی قیادت کرتے رہے یہاں تک کے دشمن اپنی چار لاشیں اور تین قیدی چھوڑ کر فرار ہوگے ۔ شدید زخموں کی وجہ سے آپ جام شہادت پی گے ۔

میجر عزیز بھٹی شہید :
6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں کمپنی کی کمان کررہے تھے ۔
12 ستمبر کی صبح عزیز بھٹی شہید نے دیکھا کہ ہزاروں دشمن سپاہی برکی کے شمال کی طرف درختوں میں چھپے ہوٸے ہیں ۔ آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر فاٸرنگ شروع کی جس سے دشمن کے سپاہی وہیں ڈھیر ہوتے گے ۔ عزیز بھٹی دوبارہ دشمن کی نقل و حرکت کا جاٸزہ لینے لگے تو دشمن نے گولہ باری شروع کر دی ۔ایک گولہ عزیز بھٹی شہید کے سینے میں لگا جس سے آپ وہی شہید ہوگے ۔

راشد منہاس شہید :
آپ کراچی میں پیدا ہوٸے ۔ راشد منہاس نے اپنے ماموں سے متاثر ہو کر پاک فضاٸیہ کا انتخاب کیا ۔ 20 اگست 1971ء کو راشد کی تیسری تنہا پرواز تھی۔ وہ ٹرینر جیٹ طیارے میں سوار ہوئے ہی تھے کہ ان کا انسٹرکٹر سیفٹی فلائٹ آفیسر مطیع الرحمان خطرے کا سگنل دے کر کاک پٹ میں داخل ہو گیا ۔ وہ تیارے کو اغوا کر کے بھارت لے جانا چاہتا تھا ۔ راشد منہاس کو ماڑی پور کنٹرول ٹاور سے ہدایت دی گٸی کہ طیارے کو ہر صورت اغوا ہونے سے بچایا جاٸے ۔ جب اپنے آفیسر سے کشمکش کے درمیان راشد منہاس نے محسوس کیا کہ طیارے کو کسی محفوظ جگہ لینڈ کرنا ناممکن ہے تو راشد منہاس نے اپنے طیارے کا رخ زمین کی طرف کر دیا ۔ جس کی وجہ سے راشد منہاس نے جام شہادت نوش کیا اور نشان حیدر جیسے اعزاز کے حق دار قرار پاٸے ۔
میجر شبیر شریف شہید :
میجر شبیر شریف پنجاب کے ضلع گجرات میں ایک قصبے کنجاہ میں پیدا ہوٸے ۔ 3 دسمبر 1971 میں سلیمانکی ہیڈ ورکس پر آپ کو طعینات کیا گیا تاکہ آپ اونچی زمین پر قبضہ کر سکیں جو کہ اس وقت دشمن کے قبضے میں تھی ۔6 دسمبر کو دشمن نے شدید حملہ کر دیا جس کی وجہ سے میجر شبیر شریف شہید نے اپنی اینٹی ٹنیک گن سے دشمن پر حملہ کر دیا ۔ دشمن کی فاٸرنگ کے نتیجے میں آپ نے جام شہادت نوش کیا ۔
سوار محمد حسین شہید :سوار محمد حسین 18 جون 1949 کو ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ نے بطور ڈراٸیور پاک فوج جواٸن کی اس کے باوجود جنگ میں عملی طور پر حصہ لیا ۔ آپ نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ۔ آپ نے بہادری کے عظیم جوہر دیکھاٸے ۔ دس دسمبر 1971 کی شام دشمن کی مشین گن سے نکلی گولیاں آپ کے سینے پر پیوست ہوگٸی اور آپ جام شہادت نوش فرما گٸے ۔
میجر محمد اکرم شہید :
آپ ضلع گجرات کے گاٶں ڈنگہ میں پیدا ہوٸے ۔ 1971 کی پاکستان اور بھارت جنگ میں ہلی کے مقام پر آپ نے اپنے جوانوں کے ساھ مل کر دشمن کا بھاری جانی اور مالی نقصان کیا اور بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے جام شہادت نوش کر لیا ۔

لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید :
آپ ضلع راولپنڈی کے گاٶں پنڈ ملکاں میں 25 اکتوبر 1944 میں پیدا ہوٸے ۔ 1962 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی ۔ لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ان کا یونٹ واہگہ اٹاری سیکٹر پر تعینات تھا اور بہادری و شجاعت کے عظیم جوہر دیکھاتے ہوٸے دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا ۔ آپ نے دشمن کے بنکر میں گھس کر ایک دشمن فوجی کی گردن دبوچ لی اور اسے جہنم واصل کر دیا جب کہ دوسرے دشمن فوجی نے آپ پر حملہ کرکے آپ کو شہید کر دیا ۔

کرنل شیر خاں شہید :
آپ ضلع صوابی کے ایک گاٶں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ کارگل تنازعہ کے دوران عظم وہمت اور شجاعت کی ایک نٸی علامت بن کر ابھرے ۔ آپ نے بہادری کی نٸی مثالیں قاٸم کیں اور دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ۔ آپ نے دشمن کی چوکیوں پر قبضہ کے دوران مشین گن کا نشانہ بم گے اور آپ نے شہادت کا رتبہ پالیا ۔

حوالدار لالک جان شہید :
گلگت بلتستان کی وادی یاسین میں پیدا ہوٸے ۔ 1999 میں جب کارگل تنازعہ چل رہا تھا تو لالک جان کو ایک اہم ترین چوکی پی حفاظت کا ذمہ سونپا گیا ۔ 5 اور 6 جولاٸی کی درمیانی شب دشمن نے اس چوکی پر بھرپور حملہ کیا ۔لالک جان اور ان کے جوانوں نے دشمن کا بھرپور مقابلہ کیا اور دشمن کا کافی جانی اور مالی نقصان کیا جس پر دشمن پسپا ہوکر چلا گیا ۔ اگلی رات دشمن نے پھر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں لالک جان شدید زخمی ہوگے لیکن پھر بھی علاج کروانے کی بجاٸے دشمن سے مقابلہ کرتے رہے ۔ اگلی صبح زخموں کی تاب نا لاتے ہوٸے آپ شہید ہوگے ۔

سیف علی جنجوعہ :
انہوں نے اپنی ایک پلاٹون کی نامکمل اور مختصر نفری سے ایک بریگیڈ فوج کا اس وقت تک مقابلہ کیا اورثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اُن کی پوسٹ پر دشمن نے ٹینکوں اورتوپخانے اور جنگی جہازوں سے حملہ کیا دشمن نے تمام حربے استعمال کیے مگر تمام بے اثر رہے دشمن نے اُن کی پوسٹ پر ہر طرف سے دباؤ ڈال دیا مگر سیف علی جنجوعہ ڈٹے رہے اس طرح انہوں نے مشین گن سے دشمن کا ایک جہاز بھی مار گرایا ۔جب تک مزید پاکستانی فوج نہیں پہنچی آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر دشمن کو ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھنے دیا ۔ بم گرنے کی وجہ سے آپ جام شہادت نوش فرما لیا ۔اس وقت پاکستان کے تمغے نہیں بنے تھے اس لئے حکومت پاکستان نے “ہلال کشمیر” اعزاز کو برطانیہ کے “وکٹوریہ کراس” کے برابر لکھا تھا ۔جب پاکستان کے تمغے بنے تو سیف علی جنجوعہ شہید کے کمپنی کمانڈ ر لیفٹیننٹ محمد ایاز خان (ستارہ سماج) صدر پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے حکومت پاکستان کو مسلسل اڑتالیس سال لکھا کہ نائیک سیف علی شہید کو نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا جائے۔ پی ایس اے کی سفارش پرچیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے6ستمبر 1999کو نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کیلئے نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا ۔ -

غریب کی بیٹی کا دوپٹہ : علی چاند کا بلاگ
مسجد میں قالین بچھانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، مسجد میں پتھر لگوانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، میلاد پر پیسہ لگانے سے بہتر ہے کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، حج پر اتنے پیسے لگانے سے بہتر ہے انسان غریب کی بیٹیوں کو چادر لے دے ، عمرہ پر جانے سے بہتر ہے کہ انسان غریب کی بیٹیوں کو کپڑے لے دے انہیں چادریں لے دے ۔
یہ ہیں وہ چند جملے جو آٸے دن ہمیں سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ یہ ہیں وہ چند جملے جن کا پرچار کچھ نام نہاد مسلمان کرتے نظر آتے ہیں ۔ میں ان لوگوں کو پوچھنا چاہوں گا کہ آخر تکلیف مسجد ، عمرہ ، میلاد اور حج کی ہے یا پھر واقعی غریب کی بیٹی کا درد ہے دل میں ۔ اگر تو درد ان لوگوں کو مسجد ، منبر ، محراب ، حج اور عمرے کا ہے تو میں ایسے لوگوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ کسی عالم دین کی صحبت میں بیٹھیں ، اللہ کے احکامات پڑھیں ، دین سیکھیں تاکہ ان لوگوں کو پتہ چلے کہ جب حکم خدا ماننا ہوتا ہے تو پھر آدم کو سجدہ بھی کرنا پڑتا ہے ورنہ انکار پر سب سے بڑا عبادت گزار بھی مردود کہلاتا ہے ۔ جہاں حکم ربی آجاتا ہے وہاں یہ نہیں دیکھنا ہوتا کہ اس کی بجاٸے یہ کر لیں یا اس کی بجاٸے وہ کر لیں ۔ پھر صرف اور صرف اللہ کا حکم ماننا ہوتا ہے ۔
رہی بات غریب کی بیٹی کے دوپٹے اور چادر کی تو اللہ پاک ان غریبوں کی بیٹیوں کی عزتیں سلامت رکھے ۔ جو یہ بھی اچھی طرح جانتی ہیں کہ پھٹی ہوٸی چادر سے سر کیسے ڈھانپنا ہے اور یہ بھی جانتی ہے کہ اسے نامحرم مردوں سے اپنی عزت کو کیسے بچانا ہے ۔ یہ جو لوگ ایسی باتیں کر کے اپنی دانشوری کے جوہر دیکھاتے ہیں کہ غریب کی بیٹی کے سر پر چادر دو ، عمرہ چھوڑو ، حج چھوڑو ، میلاد چھوڑو ، مسجد چھوڑو ، مسجد کا خیال نہ کرو صرف اور صرف غریب کی بیٹی کی چادر کا سوچو تو میں ایسے دانشوروں سے کہنا چاہوں گا کہ اپنی آنکھوں اور عقل پر بندھی پٹی کو کھول کر دیکھو کسی غریب کی بیٹی بغیر چادر کے نظر آگٸی تو کہنا ، کسی غریب کی بیٹی پھٹی ہوٸی جینز میں نظر آگٸی تو کہنا ، کسی غریب کی بیٹی بغیر دوپٹے کے نظر آگٸی تو کہنا ، اگر غریب کی بیٹی اپنی عزت کا سودا کرتی نظر آگٸی تو کہنا ، غریب کی بیٹی اگر کسی سے محبت بھی کرے گی ، اسے ٹوٹ کر چاہے گی بھی تو بھی کبھی بھی اس کے سامنے بغیر دوپٹے پھٹی ہوٸی جینز اور عریاں لباس پہن کر نہیں جاٸے گی ۔ خدارا بند کرو یہ تماشا غریب کی بیٹی ، غریب کی بیٹی ، غیب کی بیٹی ، خدا کے لیے مت بناو تماشا غریب کی بیٹی کے دوپٹے کا کیونکہ غریب ہے تو کیا ہوا اس کے پاس غیرت مند باپ ، عزت دار بھاٸی ، عزت دار شوہر موجود ہے اس کی فکر کرنے کے لیے جو اس کےسر پر سے کبھی چادر اترنے نہیں دیتے ، غریب کی بیٹی کے پاس چار محافظ موجود ہیں جو اس کی عزت کے رکھوالے ہیں ۔
غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والے دانشوروں فکر کرنی ہے تو آٶ فکر کرتے ہیں ، اس بیچاری غریب لڑکی کا جس کے پاس نا تو غیرت مند باپ ہے نا عزت دار بھاٸی اور شوہر ، آٶ فکر کریں اس بیچاری عورت کی جسے روز نیم عریاں لباس پہن کر ، کبھی چند روپے کے شیمپو اور صابن کے لیے ٹی وی پر آ کر نہانا پڑتا ہے سب کے سامنے ، کبھی اسے چند منٹ کے ڈرامے کے لیے کسی نامحرم کے بستر پر اس کے ساتھ لیٹنا پڑتا ہے ، کبھی اسے عریاں لباس پہن کر ایوارڈ شو میں نامحرم کی بانہوں میں ناچنا پڑتا ہے ، تاکہ اس بیچاری کے باپ ، بھاٸی ، شوہر کو اس کا بوجھ نا اٹھانا پڑے بلکہ یہ خود کما کر انہیں کھلاٸیں ۔ غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والو ! ان امیروں کی بیٹیوں کے دکھ سمجھو ، انہیں اپنی زکوة ، خیرات اور صدقات میں سے حصہ دیں تاکہ یہ بیچاریاں پھٹی ہوٸی جینز ، عریاں لباس اور بغیر دوپٹے کے گھومنے کی بجاٸے با پردہ اور پورا لباس خرید کر پہن سکیں ۔ غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والے مفکرو ! آٶ امیر کی بیٹی کا درد سمجھیں تاکہ اسے دو دو ٹکے کے نامحرم لوگوں کے ساتھ ناجاٸز ڈرامے اور اشتہار نا کرنے پڑیں ، آٶ بنو سہارا ان امیروں کی بیٹیوں کا جن کے تم دیوانے ہو ، جن کے تم فین ہو ، جن کی ذات سے تم متاثر ہو کر ان کی Ids کو فالو کرتے ہو ، ان کی فضول پوسٹس پر پاگلوں کی طرح کمنٹ کرتے ہو تاکہ وہ کسی طرح تم لوگوں کو رپلاٸے دیں ۔ پھر اگر کوٸی رپلاٸے دے دے تو کمنٹ کو سیو کر کے اسے پوسٹ کر کے اپنے چھوٹے پن کاثبوت دیتے ہو ، اور ایسا کرنے سے پہلے یہ بھی نہیں سوچتے کہ یہی ہیں وہ عورتیں جو تماری نسلوں میں بے حیاٸی پھیلا رہی ہیں ، یہی ہیں وہ عورتیں جن کی وجہ سے غریب کی بیٹی کی زندگی عذاب ہورہی ہے ، یہی ہیں وہ عورتیں جن کی وجہ سے غریب کی بیٹی کے باپ کو جہیز کے لیے لمبی لمبی لسٹیں ملتی ہیں ۔ خدارا غریب کی بیٹی کا تماشا نا بناٸیں ،
، غریب کی بیٹی اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ وہ نا صرف اپنا سر ڈھانپنا جانتی ہے بلکہ اپنی ، اپنے باپ ، اپنے بھاٸی ، اپنے شوہر اور اپنے بیٹے کی عزت کی حفاظت کرنا بھی جانتی ہے ۔اللہ پاک نام نہاد امیروں کی بیٹیوں کو ہدایت عطا فرماٸے اور سب بیٹیوں کی عزت و آبرو کی حفاظت فرماٸے ۔ آمین
-

پیسے کا دور۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟ جویریہ چوہدری
"پیسے کا دور۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟”
پڑوس سے ایک آنٹی آئیں کہ بیٹا دو ہزار روپے چاہئیں۔۔۔میری تنخواہ مل نہیں رہی۔۔۔۔جونہی تنخواہ ملتی واپس کر جاؤں گی،
رمضان کا مہینہ ہے تو ضرورت پڑ جاتے۔۔۔۔۔
میں نے پکڑاتے ہوئے تسلی دلائی کہ آپ بے فکر رہیں،
آسانی سےہو گئے تو ٹھیک، نہیں تو کوئی ضرورت نہیں واپسی کی۔۔۔
صرف دو سو روپے ہوں گے آپ کے پاس۔۔۔۔۔بیٹے نے کام پر جانا تھا،تو کرائے کے لیئے چاہیئے تھے۔۔۔۔۔دوسری آنٹی آئیں۔۔۔۔ !!!!آج کا دور واقعی پیسے کا دور ہے۔۔۔۔
میں نے امی جی سے مجلس سجاتے ہوئے کہا۔۔۔۔!!!!!
کیونکہ امی جی آج تو ہر چیز پیسے کی ہو گئی ہے۔۔۔۔تعلیم،صحت،خوشی،غمی۔۔۔ چند قدم تک جانا ہو تو پیسے کے ساتھ۔۔۔
بچوں کو تعلیم دلانے کا خواب سجے تو لاکھوں کی فیسیں ایڈوانس بینک میں موجود ہوں تب۔۔۔۔
صحت کی بات آئے تو ہزاروں جیب میں موجود ہوں تب کسی ڈاکٹر کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔۔۔۔
خوشی کا موقع آئے تو ہوٹلوں کے اخراجات لاکھوں میں۔۔۔۔
ملبوسات،زیورات اور جہیز کی مد میں کروڑوں کو چھوتے بِل۔۔۔
غمی کا لمحہ آئے تو پہلی فکر مہمانوں کو ڈیل کرنے کی،،،
ان کی چائے،پانی کے بندوبست کی۔۔۔۔
ہر فنکشن کے لیئے نیا جوڑا۔۔۔۔
ہر ملاقات کے لیئے الگ سوٹ۔۔۔۔
ہر روز نئی ڈشز،اور اخراجات۔۔۔
بچوں کے روزانہ کے الگ حساب۔۔۔
واقعی ماں جی یہ دور پیسے کا آ گیا ہے ناں۔۔۔
اس کے بغیر تو اب اک قدم بھی چلنا مشکل ہو گیا ہے۔۔۔۔؟؟؟؟
صحیح کہا تم نے۔۔۔۔
اب تو رشتہ داریاں بھی پیسے کے بل بوتے پر ہی ہیں۔۔۔۔
جس کے پاس دولت ہے اس سے سب کے تعلقات۔۔۔۔اور جس کا ہاتھ ذرا تنگ اس سے ایک گھر کے بندے بھی اجنبی اجنبی۔۔۔۔
مائیں،بہنیں بھی اس بیٹے،بھائی کے ساتھ رہتی اور چلتی ہیں جو زرا عیش کرا دے۔۔۔۔!!!!!
لیکن ماں دیکھیں ناں پہلے وقتوں میں بھی لوگ گزارا کرتے تھے ناں؟
تو کیسے ہو جاتا تھا۔۔۔؟؟؟؟؟
بیٹی!!!!
تب لوگ کپڑوں کے اندر رہتے تھے۔۔۔۔پھٹ کر باہر نکلنے کے عادی نہ تھے۔۔۔
عاجزی و شکر کے پیکر تھے۔۔۔
ہزاروں ایکڑ زمینیں رکھنے کے باوجود بطور فصل ہونے والی دال پر گزارا کر لیتے تھے۔۔۔۔
بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھا لیتے تھے کہ جس نے پڑھنا ہے وہ جہاں بھی جائے پڑھ لے گا۔۔۔۔اس کے لیئے پرائیوٹ ادارے یا بھاری فیس سٹیٹس نہ تھی۔۔۔
سبزی روزانہ لانے کا رواج ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔دال پہ دل نہ کرتا تو دیسی مرغ ذبح کر کے بھون لیتے۔۔۔۔مٹن لے آتے تھے یا پھر گھر میں ہی موجود بکری کا چھوٹا موٹا بچہ ذبح کر لیا جاتا تھا۔۔۔۔
دن میں دہی،لسی کا استعمال کرتے تھے اور صحتمند و توانا رہتے تھے۔۔۔۔
لباس عزت والا پہنتے تھے۔۔۔۔سادہ زیب تن کرتے تھے
اور ہر فنکشن پر پیسے پھونکنے کا رواج کوئی نہیں تھا بلکہ ایک ہی سوٹ سے کئی تقریبات اٹینڈ ہوتی تھیں۔۔۔
بڑے بڑے سرداروں کے گھر بھی ہر وقت پیسہ ہی پیسہ کی کوئی رٹ نہ ہوتی تھی۔۔۔۔
اور بمشکل چند روپے ہی گھر میں موجود ہوتے تھے۔۔۔۔!!!!!!
خوشی،غمی کے مواقع مل جل کر ڈیل کیئے جاتے تھے اور ایک دوسرے کی مالی معاونت بھی کر دی جاتی تھی،
کسی کے مہمانوں کو سنبھال لیا جاتا۔۔۔۔کسی کے لیئے کھانے کی ذمہ داری اٹھا لی جاتی تھی۔۔۔!!!!!
بیماریاں تھیں ہی بہت کم کہ لوگوں کو اسپتالوں کا رخ کرنے کی نوبت ہی کم آتی تھی۔۔۔۔
اور گھر کے ہر ہر فرد کے لیئے الگ الگ مہنگے ڈاکٹروں کے علاج کی رسم ایجاد نہ ہوئی تھی۔۔۔
بلڈ پریشر تھے،نہ شوگر کی پریشانی،
آلودگی کے مسائل تھے نہ ڈپریشن کے عارضے۔۔۔۔خاندانی نظام مضبوط تھا،
سب کی عزت سانجھی تھی۔۔۔۔
ایک کا دکھ سب کا دکھ تھا
اور ایک کی پریشانی سب کی پریشانی ہوتی تھی۔۔۔۔۔
ایک دوسرے کے پیچھے قربانی کا جذبہ موجود تھا۔۔۔۔
بچوں کو گھر پر ہی مائیں خالص خوراک کھلا پلا دیتی تھیں،
جو ان کے توانا،مضبوط،قد بڑھنے میں معاون ثابت ہوتی تھی،
آج کی طرح پیسے کے بل بوتے پر،برگر،پیزا اور جنک فوڈز کے کاروبار نے ترقی نہیں پکڑی تھی،،،
اور بچوں کی کم عمری میں ہی صحت کو سنجیدہ خطرات لاحق نہیں ہوتے تھے۔۔۔۔!!!!!
بچے کس کو پیارے نہیں ہوتے مگر ان کی تربیت کا تقاضا ہوتا تھا کہ
ہزاروں کے ڈریسز لے کر پھر انہیں ایک ہی بار پہن کر الماریوں کی زینت بنا دینے کا رواج نہیں تھا۔۔۔بلکہ ایسے اچھے لباس تو شاذ و نادر ہی تیار ہوتے تھے۔۔۔
اور ایک بار لے کر پھر کئی کئی مواقع پر وہی زیب تن کیۓ جاتےتھے۔۔۔۔۔بڑے بھی اسی اصول پر چلتے تھے۔۔۔
تکلف،بناوٹ،ریا نہیں تھا۔۔۔۔!!!!
مجھے یاد آئی کہ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کی وہ بات یاد آگئی کہ جو انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے کہی تھی کہ:
"جو چادریں میں نے لپیٹ رکھی ہیں،مجھے انہی میں کفنانا۔۔۔۔۔کیونکہ نئی چادریں زندہ مسلمانوں کا حق ہیں”۔۔۔۔رضی اللّٰہ عنہ۔۔۔
آج ہم نے اپنی پریشانیاں خود تخلیق کر لی ہیں۔۔۔۔میں سوچ میں ڈوبتی چلی جا رہی تھی۔۔۔۔
واقعی ماں وہ دور تو بہت اچھا تھا پھر۔۔۔۔!!!!!!
سکون،آشتی والا۔۔۔۔۔حسد بغض سے دور،
سادگی اور اخلاص والا۔۔۔!!!
آج اگر امیر امیر ترین ہے،
تو غریب،غریب تر واحساس کمتری میں مبتلا۔۔۔۔
عدم توازن کا شکار زندگیاں ہیں۔۔۔
اور ہر شئے کی فراوانی کے باوجود جزو بدن بننے سے انکاری۔۔۔!!!!
ہم آج خالص غذا سے محروم ہیں،
کھادوں والی خوراک،لذت و ذائقہ سے خالی،،،
مہنگائی کے جن نے لوگوں کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔۔۔
بجٹ میں توازن آنے کا نام نہیں لیتا۔۔۔۔ایک کام نمٹاؤ،دوسرا تیار۔۔۔واقعی ماں جی۔۔۔
یہ سچ ہے اب آپ صرف سبزی،فروٹ کی مد میں مہینہ کے ہزاروں روپے خرچ کر دیتی ہیں،
اور دال کا پکنا ہمیں پسند نہیں ہوتا،
لیکن سچ پوچھیں تو روٹی تو اسی دن مزے سے کھائی جاتی ہے۔۔۔۔جس دن آپ اپنے خاص طریقہ سے دال بنا کر دیتی ہیں۔۔۔میں نے مزاح کرتے ہوئے کہا
ہاں !!!
بچے یہ بھی خوراک کا حصہ ہے اور انسان کو متفرق اشیاء استعمال کرنی چاہئیں۔۔۔۔
لیکن امی جی!
مجھے اکثر سوچ آتی ہے کہ
وہ غریب آدمی جو دن کا بمشکل پانچ سو روپیہ کما لائے تو اس سے کیا کیا ضرورت پوری ہوتی ہو گی۔۔۔۔؟؟؟؟
بجلی،گیس کے اخراجات،
آسمان کو چھوتی اشیائے خوردونوش کی قیمتیں۔۔۔۔
سبزی فروٹ کے استعمال کی خواہش،،،
مکانوں کےکرائے،
گاڑی کا کرایہ،
گھر میں بچوں کی معصوم فرمائشیں یا چھوٹی چھوٹی چیزوں پر قیمت کے برابر لگے ٹیکسوں کی ادائیگی۔۔۔۔؟؟؟
بچوں کے تعلیمی اخراجات یا والدین کی بیماریوں کا علاج۔۔۔۔؟
اور نفسا نفسی کے عالم میں یہ جنگ ہر کوئی خود ہی لڑ رہا ہے۔۔۔۔
اور دل تو ہر ایک کا ہوتا ہے ناں۔۔۔؟؟؟؟ہم تو اڑوس پڑوس سے بھی بے خبر رہتے ہیں۔۔۔
مصروف دور ہے ناں۔۔۔۔
پیسے کا دور ہے۔۔۔۔۔
اپنے کاموں سے ہی فرصت کہاں؟میرے پاس سب اپنا ہے،
کوئی ضرورت نہیں کسی کی۔۔۔
مجھے بھلا کیا تَک ہے کسی کی؟؟؟
یہ ہوتے ہیں وہ الفاظ جو ہمارا تکیہ کلام ہوتے ہیں اکثر۔۔۔
ہم بے حسی کے دور میں جی رہے ہیں ناں۔۔۔۔۔
بے سکونی کے دور میں۔۔۔۔
پیسے کے دور میں۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟
بس یہی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے ناں؟
ہمارے پاس دولت کی کمی نہیں ہے،،،
ہاں ہم نے دولت کے خرچ کا فن تاحال نہیں سیکھا،،،
یہی وجہ ہے کہ نیچے سے اوپر تک کرائسز کا رونا ہماری فطرت میں شامل ہو گیا ہے۔۔۔۔
اور بہتری کی امید پر ہی ہمارے روز و شب گزر رہے ہیں۔۔۔۔؟؟؟
کئی سالوں سے۔۔۔۔۔
عشروں سے۔۔۔۔
نصف سے زائد صدی سے۔۔۔۔
مگر مرض بڑھتا گیا،جوں جوں دوا کی والی صورت حال سے دوچار و نبرد آزما رہتے ہیں۔۔۔۔
کیا واقعی آج کا دور پیسے کا دور ہے؟
کیا پیسے کے بغیر اک پل بھی جینا ناممکن ہے۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟
کیا ہمارے آباء و اجداد ہم سے بھلے چنگے باعزت وقت گزار کر نہیں گئے۔۔۔۔؟؟؟
اس سب پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔۔۔۔
قوم کے نوجوانوں کے لیئے باعزت روزگار کے حصول کو آسان و یقینی بنانا بھی۔۔۔۔
کہ اپنے ہاتھ سے کمائے گئے چند لقمے سب سے بہترین کمائی ہے۔۔۔۔!!!!!
یہی وجہ ہے کہ آج ہماری ڈگریوں کا مقصد بھی صرف آگے نکل کر کچھ کما لینے کے سوا کچھ نہیں رہا۔۔۔۔؟؟؟؟
سوسائٹی کے ضرورت مندوں کا خیال واحساس سب سے اول ذمہ داری ہے۔۔۔۔۔
کہ یہ دور تو بلاشبہ پیسے کا ہے۔۔۔اور اس کے بغیر اک قدم بھی چلنا مشکل ہے ناں۔۔۔۔؟؟؟؟
اورسہولیات و آسانیوں کی فراہمی ہی اس کے بخار کے ٹمپریچر کو کم کر سکتی ہے۔۔۔!!!!
کیونکہ ہمارے کچھ انداز بدل گئے ہیں۔۔۔کچھ کردار۔۔۔۔۔؟
اور منزل کے حصول کے لیئے ان دونوں کی اصلاح ازحد ضروری ہے۔۔۔ہم جس قدر زیادہ کے چکر میں گھومتے رہتے ہیں۔۔۔۔
ہم سے آگے بٹورنے والے ہم سے بھی زیادہ مستعد نظر آئیں گے۔۔۔ !!!
ہم نےاس سوچ کوبھی پروان چڑھانا ہے کہ ہر کام کے لیئے پیسہ ہی نہیں چاہیئے ہوتا۔۔۔۔بلکہ کردار،ٹیلنٹ ، فن،سکون اور اخلاقیات بھی اس دنیا کی رونقوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔۔۔۔ہر وقت پیسہ کے فوبیا میں ہی مبتلا ہو کر ہم حقائق سے بہت دور تو نہیں نکلتے جا رہے ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟