2 روز قبل چند دوستوں کے ساتھ کرتار پور جانے کا اتفاق ہوا تقریباً 140 کلومیٹر سفر کرنے کے بعد جب گیٹ پر پہنچے تو پاکستان رینجرز کے جوانوں نے ہیمں فوراً روک لیا اور کہا کہ آپ کیمرہ لے کر اندر نہیں جا سکتے۔ کیمرہ یا مائیک اندر وہی لے کر جا سکتے ہیں جن کے پاس آئی ایس پی آر کا اجازت نامہ نا ہو یہ سننے کے بعد ہم نے سیکورٹی اہلکاروں سے بحث کرنا مناسب نا سمجھا اور اپنے کیمرے باہر رکھ کر اندر چلے گئے جب دربار کرتار پور صاحب میں داخل ہوئے تو وہاں کا منظر ہی کچھ نرالہ تھا ہم نے تقریباً 50 کے قریب کیمرے لوگوں کے پاس دیکھے جو وہاں کے مناظر کو محفوظ کر رہے تھے دوستوں نے استفسار کیا کہ یار ہمیں کیمرے کی اجازت نہیں دی گئی پر یہاں تو لاتعداد کیمرے ہیں یہ کیسے اندر ا گئے ہیں دوستوں کا کہنا تھا کہ یار سب باتیں ہیں پورا سسٹم ہی خراب ہے جس کی اپروچ ہوتی ہے وہ کیمرہ اندر لے آتا ہے ورنہ ایسا کون سا خطرہ ہے جو ہمارے کیمرے سے درپیش ہے اور دوسروں کے کیمرے اس سے استثنیٰ ہیں دوسری بات جس نے دلخراش کیا وہ یہ تھی کہ ہم عام شہریوں کی طرح لائن میں لگ گئے اور سیکیورٹی اہلکار بھی لوگوں کو لائنوں میں رہنے کا بار بار کہہ رہے تھے اسی دوران گاہے بگاہے چند لوگ اہلکاروں سے ا کر کچھ کہتے اور نظم و ضبط کے سارے اصول بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کو فوراً اندر بھیج دیا جاتا۔ یوں نظم و ضبط قائم کروانے والے ہی اس کی دھجیاں بکھیرتے رہے۔ واپسی پر جب گیٹ سے باہر نکلنے لگا تو سوچا ساری صورتحال پر اہلکاروں کا مؤقف ہی لے لوں جب سوال کیا کہ حضور ہمیں کیمرہ کی اجازت نہیں دی گئی لیکن اندر تو بے شمار کیمرے تھے وہ کس دستور کے تحت اندر گئے تو اہلکار کا جواب سن کر جو سکتا طاری ہوا وہ شائد ابھی بھی قائم ہے رینجرز اہلکار کا کہنا تھا کہ صاحب آپ کو پتا ہے جنگل کا قانون ہے جو پروٹوکول والی گاڑیاں ہوتی ہیں ان کو ہم چیک نہیں کرتے ۔ ان میں کیا کچھ اندر چلا جاتا ہے ہمیں کچھ پتا نہیں ہوتا۔ دوسری وجہ اوپر سے فون آنا ہوتا ہے جس کی کال ا جائے اس کو ہم منع نہیں کر سکتے۔ آپ کو ہماری مجبوریوں کو سمجھنا ہو گا اور گزارہ کرنا ہوگا آخر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میں جیسے شہری جو بڑی مشکل سے وقت نکال کر اور سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد جب محتلف سیاحتی یا مذہبی مقامات پر پہنچتے ہیں اور اپنے کیمرے سے پاکستان کا مثبت چہرہ دیکھانے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کو کیمرہ اندر لےجانے سے منع کیوں کیا جاتا ہے حالانکہ غیر ملکی سیاحوں کو کیمرہ اور ڈرون سے کبھی منع نہیں کیا گیا۔ کیا سیکورٹی خدشات صرف اور صرف میرے جیسے دیگر پاکستانی سیاحوں سے لاحق ہیں؟ اور سیکورٹی اہلکاروں کا پروٹوکول یا اپروچ والا رویہ درست ہے اگر ایسا ہے تو پھر سیاحت سے اور پاکستان کے مثبت چہرہ کو دیکھانے سے میری توبہ۔
Category: متفرق
-
غلام مصطفی خان جتوئی وفات پاگئے،تاریخ لوٹ آئی
کراچی :تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے،آج بھی تاریخ نےوہ دن دوبارہ دہرادیا اورباورکرادیا جس دن پاکستان کے سابق وزیراعظم اپنے خالق حقیقی سے جاملے،اسی سابق وزیراعظم کی تاریخپیدائش بھی بہت مشہوردن کی ہے،اسی دن چودہ اگست 1931ء کوپاکستان کے بزرگ سیاستدان اور سابق نگراں وزیراعظم غلام مصطفی خان جتوئی سندھ کی سرزمین میںپیدا ہوئے۔
غلام مصطفی خان جتوئی کے والد غلام رسول جتوئی کئی مرتبہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔انہوں نے 1956ء میں مغربی پاکستان اسمبلی کی رکنیت سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔ 1962ء اور 1965ء میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1967ء میں جب پاکستان پیپلزپارٹی کا قیام عمل میں آیا تو وہ اس کے اساسی ارکان میں شامل ہوئے۔ 1970ء میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1971ء میں جب ملک میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو وہ مرکزی کابینہ کے رکن بن گئے۔
1973ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں صوبہ سندھ کا وزیراعلیٰ مقرر کیا ۔ 1977ء میں وہ بلامقابلہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعدازاں متفقہ طور پر وزیراعلیٰ بھی بن گئے۔ 1977ء میں ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کے لئے بڑا فعال کردار ادا کیا اور 1983ء میں ایم آر ڈی کی تحریک کی قیادت بھی کی۔
مارچ 1986ء میں جب بے نظیر بھٹو نے ان سے مشورہ کئے بغیر سندھ پیپلزپارٹی کی قیادت میں بنیادی تبدیلیاں کی تو انہوں نے اسے بڑا محسوس کیا اور وہ پاکستان پیپلزپارٹی سے علیحدہ ہوگئے۔ 1986ء میں ہی انہوں نے اپنی سیاسی جماعت نیشنل پیپلزپارٹی قائم کی۔ 1988ء کے عام انتخابات میں وہ کامیاب نہ ہوسکے مگر اگلے ہی برس وہ کوٹ ادو کی ایک نشست پر ضمنی انتخابات میں منتخب ہوکر نہ صرف قومی اسمبلی کے رکن بنے بلکہ متحدہ اپوزیشن کے سربراہ بھی بن گئے۔
6 اگست 1990ء کو بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ نگراں وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ وہ 1990ء، 1993ء اور 1997ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تاہم 2002ء اور 2008ء کے عام انتخابات میں انہوں نے حصہ نہیں لیا۔20 نومبر 2009ء کوغلام مصطفی خان جتوئی لندن کے سینٹ میری اسپتال میں وفات پاگئے۔وہ نیو جتوئی کے مقام پر آسودۂ خاک ہیں
-
سانحہ تیز گام ایکسپریس ۔ کیاعمران خان اپنی بات پر عمل پیراہوں گے؟..از…عرفان قیوم
سانحہ تیز گام ایکسپریس پاکستان کی تاریخ کا ایک رقت انگیز واقعہ ہے۔ اس واقعے کا تعلق کراچی سے چلنے والی تیز گام ایکسپریس سے ہے۔ سچی بات ہے اس تحریر کا مقصد کراچی کے نشیب و فراز کو بیان کرنا نہیں بلکہ سو چا ذکر آیا ہے توکچھ نہ کچھ لکھتا جاؤں۔ شہر کراچی جوکہ کبھی پاکستان کے دارالخلافہ کے طور پرہی نہیں بلکہ کاروباری عروج کے اعتبار سے بھی اپنی مثال آپ تھا ۔مزید یہ کہ اسے روشنیوں کے شہر کے طورپر بھی جانا جاتا تھا۔ روزگار کے حصول کے لیے پاکستان کے طول و عرض سے لوگوں کی اکثریت اس شہر کی طرف سفر کرتی تھی ۔ مگر اب اس شہر کے حالات پہلے کی نسبت قدرے مختلف ہیں ۔ جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر، بدبودار گندا پانی اگلتے گٹر، ٹوٹ پھوٹ کی شکار سڑکیں ،سفر کے لیے ہچکولے لیتی جان لیوا پرانی بسیں جن سےشہریوں کی زندگیاں اجیرن ہی نہیں بلکہ اس شہر کا حسن بھی ماند پڑگیا ہے۔ شاعر کے الفاظ میں
بس میں لٹک رہا تھا کوئی ہار کی طرح
کوئی پڑا تھا سایۂ دیوار کی طرح
سہما ہوا تھا کوئی گناہ گار کی طرح
کوئی پھنسا تھا مرغ گرفتار کی طرحاس شہر کے مکین پینے کے لیے صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت کے حصول کے لیے بھی مارے مارے پھرتے نظر آتے ہیں جو کہ حکومت سندھ کی حسن کارکردگی پر ایک سیا ہ دھبہ ہے۔کہنے کے لیے بہت کچھ ہے خیر اس پر پھر کبھی تفصیلی بات کریں گے اور اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ افسوسناک سانحہ تیز گام ایکسپریس اس وقت رو پذیر ہوا جب پاکستان کے سیاسی میدان میں ایک عجیب سی ہلچل مچی ہوئی ہے ۔اقتدار کی کرسیوں پر جلوہ افروز حکمران اورحکومت مخالف تمام سیاسی ومذہبی پارٹیاں ایک دوسرے پر بھرپور تنقید کررہی ہیں۔ مگر اس واقعے نے تمام سیاسی و مذہبی پارٹیوں کے باہمی اختلافات کو بھلا کر ہر ذی شعور کو انسانی ہمدردی میں یکجا ہی نہیں بلکہ ہر آنکھ کو اشکبار بھی کر دیا ہے۔ ہاں ہاں ہر طرف سے سانحہ تیز گام ایکسپریس کی لپیٹ میں آنے والوں کے لیے غم کا اظہار کیا جارہا ہے۔
معاملہ کچھ یُوں ہے کہ فلسفہ زندگی ایک ہی جگہ سکونت پذیر اختیار کرنے کا نام نہیں ہےبلکہ معاملات زندگی کو نمٹانے کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کا نام ہے۔ یہ معاملات زندگی نوعیت کے اعتبار سے مختلف اشکال میں ملتے ہیں جن میں عبادات، کاروباری لین دین ، رشتہ داروں سے میل جول یا گھریلو مصروفیات وغیر ہ سر فہرست ہیں۔ اسی فلسفہ زندگی کے تحت کچھ لوگ کراچی سے تیز گام ایکسپریس پر سوار ہوئے جن میں تبلغی جماعت سے تعلق رکھنے والوں کی بھی اکثریت تھی
یہ اسلام پسند لوگ جو کہ محمد عربیﷺ کے مشن پر چلتے ہوئے پروردرگار کے ہاں سجدہ ریز ہونے نکلے تھے بس ذہن میں ایک ہی خیال سمیٹے ہوئے تھے کہ رب کبریا سے گناہوں کی بخشش کروا لیں گے، رسول خدا کی حدیث سے سینے منوّر کرلیں گے۔ اسی خوبصور ت آرزو کے پیش نظر کعبہ کے رب کی خوشنودی کےلیے نہ مہنگائی سے بڑھتے ہوئے کرایوں کو دیکھا نہ گزرتے ہوئے وقت کو بتانے والی گھڑی کی ٹک ٹک پر کان دھرےاور نہ ہی اس بات کو سوچا کہ خود کی غیر موجودگی سے کاروبار اور دیگر معاملات زندگی متاثر ہوسکتےہیں۔ بس الرزّاق اور المھیمن کو ہی بڑا مانتے ہوئے اپنے بوری بسترے کو گول کیا اور کچھ استعمال کی چیزوں کو ہمراہ لیا۔ جن میں بدلتے ہوئے موسم کے پیش نظر رضائیاں ، گدے، رومال ،خشک راشن، کھانا پکانے کےلیے دیگچیاں اور سیلنڈر شامل تھے۔
تیزگام ریل گاڑی منزل مقصود کی طرف روانہ ہوئی تویہ بھلے مانس مسافر نہیں جانتے تھے کہ یہ سفر ان کی زندگی کا آج آخری سفر ثابت ہوگا۔ بہرحال ریل گاڑی چلتے چلتے جب ساہیوال کے قریب پہنچی تو اس میں خطرناک قسم کی آگ بھڑک اُٹھی جس نے مختصر وقت میں ریل گاڑی کی کم وبیش تین بوگیوں کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ بجھانے والے آلات کی عدم دستیابی کے باعث اس کی شدّت و حدّت میں آضافہ ہوتا چلا گیا۔ہنستی مسکراتی زندگیاں تڑپنے لگیں، دم گھٹنے لگے ،اور دیکھتے ہی دیکھتے لقمہ اجل بن گئے۔ یقین جانیے یہ سماں کس قدر ہیبت ناک ہو گا ؟ اناللہ وانا الیہ راجعون۔
ہائے زندگی تو ہر کسی کو محبوب ہوتی ہے جس کے پیش نظر کچھ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زندگی بچانے کے لیے چلتی ریل گاڑی سے چھلانگیں لگانا شروع کردیں کچھ کے بازوؤں کی ہڈیاں چُور چُور ہو گئیں، کچھ کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں اور طرح طرح کے زخم آئے ۔ جو لوگ خود کو آگ کے نکلتے ہوئے دہکتے شعلوں سے بچانے میں ناکام رہے ان کے جسم مکمل طور پر جھلس گئے جو کہ پہچان کے قابل بھی نہیں ہیں ۔ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد پر نظردوڑائی جائے تو تقریباً پچھتر لوگ جان سے گئےاور ساٹھ کے لگ بھگ شدید زخمی حالت میں ہسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں زیر علاج ہیں۔
پاک فوج کے ساتھ ساتھ دیگر فلاحی تنظیموں نے اس کام میں بھرپور حصہ لیا۔ اور حکومت وقت نے جاں بحق ہونے والے کے لواحقین کے لیے 15،15 لاکھ اور زخمیوں کے لیے 5 لاکھ فی کس دینے کا اعلان کیاہے۔ جو کہ مالی معاونت تو ثابت ہوسکتی ہے مگر لوگوں کے اصل زخم نہیں بھرے جا سکتےہیں۔
بہرحال اس درد بھرے سانحے سے کئی گھروں میں صف ماتم بچھ گئی ہے ۔ ابو ابو پکارنے والےبچے یتیم ہو گئے، عورتیں بیوہ ہوگئیں، ماں باپ کی آنکھوں کے تارے ٹوٹ گئےاور لوگ اپنے پیاروں کی راہیں تکتے رہ گئے۔ مگر ریل گاڑی کے یہ سوار ہمیشہ کے لیے دنیا فانی سے رخصت ہوگئےاور اس کے ساتھ ہی رب کبریا کے پیغام کی ترجمانی بھی کرتے چلے گئے۔قرآن حکیم میں ارشاد ہے۔
جو کوئی زمین پر ہے فنا ہوجانے والا ہے۔ اور آپ کے پروردگار کی ذات باقی رہے گی جو بڑی شان اور عظمت والا ہے (سورہ الرحمان آیت 26-27)
اس سانحےنے دنیا فانی کے مال و دولت سےخود کو آراستہ کرنے کی لالچ میں لوٹ مار کا بازار گرم رکھنے والوں کے لیے ، لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کے لیے،نفرت کو ہوا دینے والوں کے لیے، ایک دوسرے کو بے جا اذیت کا نشانہ بنانے والوں کے لیے بھی ایک سبق چھوڑا ہے ۔شاعر کے الفاظ میں
زندگی سے اتنا پیار نہ کر
چلے تجھ کو بھی جانا ہے زمین کے اندرساتھ ہی ساتھ اس درد ناک واقعے نے سیاستدانوں کے لیےبھی کئی سوالات ہی پیدا نہیں کیے بلکہ ایک امتحان میں بھی ڈال دیا ہے۔ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ سلینڈر پھٹنے سے ہوا ہے ۔ جبکہ سوشل میڈیا پر چلنے والی دیگر ویڈیوز کے مطابق عینی شاہدین کا یہ کہنا ہے کہ یہ واقعہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہواہے۔ اگر سلینڈر پھٹنے سے دھماکہ ہوتا تو زور دار آواز سنائی دیتی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا
بہرحال عینی شاہدین اور وزیر ریلوے کے بیانات میں خوب تضاد پایا جاتا ہے۔ دونوں اعتبار سے ریلوے انتظامیہ کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے جس پر عام عوام ایک دوسرے سے سوال کرتے نظر آتے ہیں۔ گیس سے بھرے سلینڈر ریل گاڑی میں کیوں لے جانے دیے گئے؟۔اگرشارٹ سرکٹ سے ہوا تو عوام کے خون پسینے کا پیسہ کس جگہ خرچ ہورہاہے؟ حکمران عوام سے سنجیدہ کیوں نہیں ہیں؟
رہی بات اس سانحے کی شفاف تحقیقا ت کی تو اس حوالے سےوزیر اعظم عمران خان کے ماضی کے بیانات ملتے ہیں جو کہ ریلوے حادثے پر ڈنکے کی چوٹ کہا کرتے تھے کہ یہ تحقیقات اتنی دیر تک شفاف نہیں ہوسکتیں جب تک ریلوے کا وزیر اپنے عہدے سے مستعفی نہ ہو۔ شیخ رشید صاحب کی وزارت میں متعدد بار ریلوے حادثات ہو چکےہیں مگر کوئی استعفی عمران خان صاحب نے نہیں مانگا اور نہ ہی وزیر ریلوے نے اس بارے میں کچھ سوچا۔معاف کرنا انسان ہوں سوچ سوچی جا سکتی ہے فی الحال اب بھی ایسا ہی لگتا ہے۔ اقبال نے اسی لیے کہا تھا۔
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی توبنا ،کردار کا غازی بن نہ سکاسانحہ تیز گام ایکسپریس ۔ کیاعمران خان اپنی بات پر عمل پیراہوں گے؟..از…عرفان قیوم
-
ففتھ جینریشن وار فئیر کے شہید سپاہی سید غوث اللہ آغا…از…عثمان عبدالقیوم
سکول میں پڑھایا جاتا ہے، یوم پاکستان ہو یا آزادی یہ شعر گائے جاتے ہیں اور خصوصا یوم دفاع و شہداء پر ملک کے کونے کونے پر بڑے بڑے بینرز آویزاں کیے جاتے ہیں۔
” شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے”ایک جگہ لفظ شہید پر بات ہو رہی تھی ایک صاحب سوال کرنے لگے کہ جیسے ہم لوگ اس کو شہید کہتے ہیں جو رب کی رضا میں جان دینے والے کو کہتے ہیں پوچھنے لگا کہ دنیا کے ہر ملک میں شہیدوں کے نام پر یادگاریں ہیں، سڑکیں ہیں، پارک ہیں، ان کی قربانی کو یاد کیا جاتا ہے، ان کا بھی احترام کیا جاتا ہوگا راقم نے یوں جواب دیا انکا احترام دنیا کے ہر مذہب و ثقافت ایسے ہی کیا جاتا ہے جیسے مقدس صحیفوں کا۔ مجھے یقین ہے کہ شہید کے متبادل دنیا کی ہر زبان، ہر مذہب اور ہر تہذیب میں موجود ہوں گے کیونکہ ہر قوم کو اپنی بقا کے لیے اور ہر تحریک کو اپنی نمود کے لیے ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو اپنی جان کا نذرانہ پیش کریں، یقینی موت کے طرف لپکیں اور اپنی زندگی دے کر قوموں کو اور تحریکوں کی نظریات کو دوام بخشیں۔
اسی اثناء میں پاکستان کے شہیدوں کا تذکرہ شروع ہوا اے پی ایس ہو یا پولیس کے جوانوں کا یا پھر فوج اور ہزاروں گمنام شہیدوں کے تذکرے ہو رہے تطے اچانک بلوچستان کے والے عظیم بیٹے کی سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ ہو گیا انکی شجاعت اور بہادری کی باتیں چل رہیں تھیں کہ اتنے میں خبر ملی کہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والا پاکستان کا ایک اور بیٹا سید غوث اللہ آغا جس کو پی ٹی ایم اور این ڈی ایس کی غنڈہ گردی، دہشت آلود درندوں نے آزادی کے دن 14 اگست کو اغوا کیا اور نا جانے کتنے ظلم و جبر کے پہاڑ تھوڑے ہوں گے انکی درندگی کا شکار ہو کر موت کی وادی میں چلا گیا اور اج افغان سرحد کے قریب قلعہ عبداللہ سے اس غیور بیٹے کا جسد خاکی ملا اور معلوم ہوا پاک دھرتی کی حفاظت کرنے والوں میں اسے ایک نام شہر خاموشاں میں داخل ہوگیا اور بیٹا اس ملک پر جان قربان کر گیا۔
سوچ رہا تھا اس کا جرم کیا ہوگا معلوم ہوا سوشل میڈیا نامی ایک بلا ہے جہاں وہ اپنے قلم سے اپنے موبائل سے پی ٹی ایم، بلوچ لبریشن آرمی سمیت ان تمام ملک دشمنوں کے خلاف برسرپیکار تھا پاکستان کا سرفروش مجاہد بن کر اور سچا بیٹا بن کر اپنی دھرتی ماں سے بے پناہ محبت کا سبق سکھاتا تھا آزاد بلوچستان کی بجائے پاکستان کا نعرہ بلند کرتا تھا بھارت کے ٹکڑوں پے پلنے والے ملک دشمنوں کی تراغیب کو رد کر نوجوانوں میں پاکستان زندہ باد پاکستان آرمی زندہ باد کے جذبے جگاتا تھا شہید غوث اللہ وہ مرد مجاہد تھا جو سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کے رستے پر چلتے ہوئے بلوچستان میں بدترین حالات میں بھی پاکستان کا جھنڈا سربلند رکھا۔
غوث اللہ شہید ففتھ جینریشن وار کا سچا اور محب وطن سرفروش سپاہی تھا۔ یہی اس کا جرم تھا وہ ہماری طرح بلوچستان میں جاری بھارتی سازشوں سے بخوبی آگاہ تھا نوجوانوں اور بچوں کو آگاہ کرتا تھا اس لئے بھارت سے شدید نفرت رکھتا تھا۔ جس کا برملا اظہار کرتا تھا ہاں نفرت کی اظہار کی وجہ سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کہ بھارتی ترنگے کا جوتا بنا کر پہنتا تھا۔
اپنی زندگی کی قیمت لگا کر ان تمام لوگوں کو پیغام دے گیا جو یہ کہتے ہے سوشل میڈیا بیکار ہے جو بوٹ پالشیت کا طعنہ دیتے ہیں جو وطن کی محبت کو ایمان کا حصہ نہیں مانتے ہیں سبز ہلالی پرچم کو لہراتے لہراتے آنے والی نسلوں کی خاطر قربانیوں کا ذکر چھوڑ گیا دشمنوں کے خلاف اتحاد کا سبق دے کر، حب الوطنی کا درس دے کر، سبز ہلالی پرچم کو لہرانے کا انداز سکھا کر،نظریہ پاکستان اور لا الہ الا اللہ کا مطلب سمجھا کر اسکی بنیاد کو سمجھاتے ہوئے ریاست سے غداری کرنے ،لوٹنے اور عیاشی کرنے والوں کو بتا گیا کہ وطنیت کیا ہے؟ شہادت پر غم نہ کرنے کا درس دے گیا اور پیسے کی لالچ کو پست کرتے ہوئے جان قربان کرتے ہوئے پاکستان سے عشق تا دم آخر پہچان بنا کر بالآخر اسی سبز ہلالی پرچم کو اوڑھ کر ابدی نیند تو سو گیا اور یہ پیغام دے گیا
چادر میں نہیں ھم کوجھنڈے میں اُتارو
مٹی کے عشق میں ہم، جوانی میں مَرے ہیں
حرف آخر یہ
مسافران راہ وفا کو شہید منزل دکھا گئے
کٹا کے غیور اپنے سر کو غرور کا سر جھکا گئے ہیں
اگر میرے بس میں ہوتا تو سید غوث اللہ آغا سمیت تمام شہداء کو نشانِ حیدر سے سرفراز کرتا جس سے اس عالی مرتبت تمغے کی شان دوبالا ہو جاتی کہ وہ شہیدِ وفائے پاکستان تھا”
کیونکہ شہید سراج رئیسانی ہو یا غوث اللہ اپنے بلوچ جانبازوں کے ساتھ پاکستان کے لئے میدان جنگ میں لڑ رہا تھا۔وہ شہید وطن اپنی جان سے گذر گئے اور یہ پیغام دے گیا
اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیںسوچ رہا ہوں
اج پھر شہید وطن سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کی شہادت کی طرح غوث اللہ کا جسد خاکی بھی گواہی دے رہا تھا اور دھرتی گواہ بن گئی ہے کہ
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
شہادت نے ان کی شخصیت کو نظریئے میں بدل دیا ہے پاکستان سے محبت کا نظریہ’ سرفروشی کی لازوال داستان بنادیا ہے۔
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہےففتھ جینریشن وار فئیر کے شہید سپاہی سید غوث اللہ آغا…از…عثمان عبدالقیوم
-
ملکہ چیونٹی کی عمر کتنی ہوتی ہے،ماہرین نے بتادیا
لندن :ملکہ چیونٹی تمام حشرات الارض میں سب سے لمبی عمر پاتی ہے اور خاندان میں نر و مادہ کی موجودگی کے باوجود تولید کام بھی صرف ملکہ چیونٹی ہی کرتی ہے۔کیا آپ نے کبھی چیونٹیوں کی قطار کو بغور دیکھا ہے؟ ایک سیدھی قطار میں ایک کے پیچھے ایک چلتی ہوئی یہ چیونٹیاں بظاہر بہت منظم معلوم ہوتی ہیں، لیکن اس کے علاوہ بھی یہ اپنے اندر بہت سی خصوصیات رکھتی ہیں۔
کراچی کے رہائشی گیارہ سالہ ایماز کا نام گینیز بک آف ورلڈ میں درج کیسے ہوا؟
غیر ملکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق چیونٹیوں میں بھی خاندان ہوتے ہیں اور ہر خاندان کی ایک ملکہ چیونٹی ہوتی جو پورے 30 برس تک زندہ رہتی ہے۔کیا آپ جانتے ہیں دنیا بھر میں پائے جانے والے حشرات الارض میں ملکہ چیونٹی کی عمر سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
فاسٹ باؤلر جنید خان پر جرمانہ عائد ، کیوں ہوا؟ جانیئے اس خبر میں
آئی سیک آن لائن کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کیڑے کا خاندان ہزاروں چیونٹیوں پر مشتمل ہوتا ہے جس میں نر و مادہ چیونٹیاں بھی موجود ہوتی ہیں لیکن تولید کا کام صرف ملکہ چیونٹی ہی کرتی ہے اس کے سوا کوئی تولید کا کام انجام نہیں دے سکتا۔
پنجاب کے 6 اضلاع میں کیا ہونے جارہا ہے، ترجمان نے بتا دیا
چیونٹی آپ کے باس سے بہتر مینیجر ثابت ہوسکتی ہے،تحقیقی رپورٹ کے مطابق خاندان میں مختلف شک و رنگ و روپ کی چیونٹیاں موجود ہوتی ہیں اور تمام ہی ملکہ کے حکم کی تابع ہوتی ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر چیونٹیوں کے کسی خاندان کی ملکہ چیونٹی مر جائے تو شہد کی مکھیوں کی طرح یہ کسی دوسرے چیونٹی کو اپنی ملکہ نہیں بناتی بلکہ دوسری کالونیوں میں بس جاتی ہیں
-

کام ، نام پھر مقام ، قطرے سے جہان —از —انعام الرحمن طاہر
آپ لوگوں نے جہاز کو ائیرپورٹ کی حدود میں ٹیکسی کرتے عموماً دیکھا ہوگا۔ اس وقت جہاز کی رفتار بہت مدھم اور سست ہوتی ہے۔ کیونکہ اس وقت جہاز اپنے انجنوں کی پوری قوت استعمال نہیں کررہا ہوتا
جہاز سست رفتاری سے رینگتا ہوا مین رن وے کے شروعاتی پوائنٹ تک پہنچتا ہے، اپنی سمت کو درست کرتا ہے اور اسکے بعد بھرپور طاقت سے اپنے انجن کو اسٹارٹ کرکے ٹیک آف اسپیڈ پکڑتا ہے۔ یہ رفتار اور طاقت کچھ ہی سیکنڈز بعد اسے آسمان کی بلندیوں تک لے جاتی ہے۔
کاروبار کی بھی بلکل یہی مثال ہے۔۔۔
کاروبار کی شروعات سست ہوتی ہے۔ کیش فلو بہت کم ہوتا ہے، منافع کی دھار ہلکے ہلکے بن رہی ہوتی ہے۔ آپ دھیرے دھیرے قدم جما رہے ہوتے ہیں۔ لمبی اڑان (بڑے منافع) کے لیے رن وے (صحیح سمت اور موقع) پر آرہے ہوتے ہیں۔
کاروبار کے رن وے پر کامیابی سے پہنچنے کے بعد آپ کو "انجن” پوری طاقت کے ساتھ اسٹارٹ کرنا ہوتا ہے۔۔۔
بہت سے کاروباری، کامیابی سے رن وے تک پہنچنے کے باوجود "انجن” کو اسٹارٹ نہیں کرپاتے۔ یہ رن وے پر بھی سست رفتار سے دوڑتے رہتے ہیں۔ جب کہ اسمارٹ اور زہین کاروباری، رن وے پکڑتے ہی، انجن اسٹارٹ کرکے آسمانوں کی بلندیوں پر نکل جاتے ہیں
کیا آپ جانتے ہیں کہ کاروبار کی اصطلاح میں، انجن اسٹارٹ کرنے سے کیا مراد ہے؟
نہیں جانتے؟
میں آپ کو بتاتا ہوں۔۔۔
کاروباری اصطلاح میں، انجن اسٹارٹ کرنے سے مراد ہے،
کاروبار کے مختلف پراسسز کو delegate کرنا۔۔۔
آسان الفاظ میں، اپنے کام خود کرنے کی بجائے، دوسروں سے کروانا
مثال کے طور پر، مائیکروسافٹ کے شروعاتی دور میں، بل گیٹس اپنے سافٹ ویئر خود کوڈ کرتا تھا لیکن مائیکروسافٹ کے جہاز کے رن وے پر چڑھتے ہی اس نے developers ہائیر کرنا شروع کئیے جو مائیکروسافٹ کی پروڈکٹس کو کوڈ کرتے اور بل گیٹس کی ساری توجہ بزنس گروتھ پر لگنے لگی۔
کے ایف سی کے فاؤنڈر، کرنل سینڈرز خود فرائیڈ چکن بنایا کرتے تھے، لیکن پھر انھوں نے کاروبار کے پھیلتے ہی ورکرز رکھنے شروع کئیے اور خود کو بزنس کی گروتھ کے لیے وقف کرلیا۔
پاکستانی چیف جسٹس کوویزا جاری نہیں کریں گے، امریکہ
آپ Elon Musk کو دیکھ لیجیے۔ وہ صرف گروتھ اور نت نئے بزنس آئیڈیاز پر کام کرتا ہے، باقی ہر کام کے لیے اس نے ٹیمیں تشکیل دی ہوئی ہیں۔
یہ تو بلین ڈالر کمپنیوں کی مثالیں تھیں۔ چھوٹے بزنس اس کو کیسے اپلائی کرسکتے ہیں؟
مثال کے طور پر، آپ نے چھوٹے پیمانے اور کم بجٹ سے ای کامرس میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بجٹ محدود ہونے کی بناء پر، سارے کام آپ کو خود کرنے پڑتے ہیں۔
آپ ہول سیل پر پراڈکٹ خرید کر لاتے ہیں، پھر انھیں پیک کرتے ہیں، کسٹمر کی کالز اور میسجز کو خود مینج کرتے ہیں، پیک کرکے ڈیلیوری کمپنی تک پہنچاتے ہیں۔ باقی فیس بک پیج یا ویب سائٹ بھی آپ مینج کررہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
شروع میں یہ سب کچھ آپ ہی کو مینج کرنا پڑے گا۔ لیکن، کچھ عرصے پرافٹ میں چلنے کے بعد آپ کو ان تمام پراسس ورک کے لیے کسی کو ہائیر کرنا ضروری ہے تاکہ آپ اپنا "تمام” فوکس بزنس گروتھ اور ڈیویلپمنٹ پر لگاسکیں۔
اپنےآپ کو خودکش دھماکے میں اڑانے والے کون تھے ؟
جتنا بھی ممکن ہوسکے، ہر شعبے کے لیے ہیلپر یا ماہر افراد رکھتے جائیے۔ اگر کسی کام کے لیے فل ٹائم بندہ ہائیر نہیں کرسکتے تو پارٹ پوزیشن آفر کیجیے۔ یہ بھی مشکل لگتا ہے تو آؤٹ سورسنگ کی طرف جائیے۔ اسکے علاوہ کسی کو پارٹنر بنا کر یا اسٹیک آفر کیجیے اور اپنے کام میں ساتھ ملا لیجیے۔
دھیرے دھیرے ٹیم ڈیویلپ کرنا، پراسسز کو delegate کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اسکے بناء آپ بڑا کاروبار نہیں کھڑا کرسکتے۔
یاد رکھئیے، چھوٹا بزنس delegation، مطلب کے دوسروں کو کام سونپنے سے ہی بڑا بنتا ہے یعنی کے ٹیک آف کرپاتا ہے۔ اگر آپ صرف پیسے بچانے کے لیے سارے کام خود سے کرنے پر لگے رہیں گے تو کئی سالوں بعد بھی رن وے پر ہی رینگ رہے ہوں گے۔۔۔!!!
کام ، نام پھر مقام ، قطرے سے جہان —از —انعام الرحمن طاہر
-

مودی ، وزیراعظم ہے یا خاکروب
ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت وائرل ہے جس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو تامل ناڈو کے شہر مامل پور کے بیچ سے کچرہ اٹھاتے دیکھا جا سکتا ہے، اس ویڈیو پر پاکستانی و بھارتی خوب رائے کا اظہار کر رہے ہیں، کچھ کے نزدیک بھارتی وزیر اعظم اپنی عوام میں شعور پیدا کرنے کیلئے ایسا کر رہے ہیں اور کچھ کا کہنا ہے کہ یہ صرف دکھاوے کیلئے کیا جا رہا ہے،
ٹوئٹر صارفین کہہ رہے ہیں کہ پڑوسیوں نے کیا وزیراعظم پایا ہے 130 کروڑ بھارتی شہریوں کا وزیراعظم یا چائے بناتا ہے یا کچرہ اٹھاتا ہے، سمجھ سے بالا تر ہے کہ اتنی بڑی آبادی والے ملک کا وزیراعظم اپنی رعایا کیلئے کچھ کرنے کے بجائے ہمیشہ اپنے امیج کیلئے کام کرتا رہتا ہے ، مودی بیچ سے کچرہ اٹھا رہا ہے اور پھر شعور پھیلانے کے نام پر پہلے سے بیوقوف عوام کی بیوقوفی میں مزید اضافہ کر رہا ہے، کہ دیکھو بھارتیو تمھارے وزیراعظم کو جو کام آتا ہے وہ کس قدر دل لگی سے کر رہا ہے ،
#WATCH PM Narendra Modi: Plogging at a beach in Mamallapuram this morning. It lasted for over 30 minutes. Also handed over my ‘collection’ to Jeyaraj, who is a part of the hotel staff. (source: PM Modi's Twitter) pic.twitter.com/At0iEQQogm
— ANI (@ANI) October 12, 2019
-

منزل ہے آسمان تو بے بال و پر نہ جا۔۔۔از –جویریہ چوہدری
صدائے ضمیر:
"نشانِ راہ”۔
مسافر جب سفر کرتا ہے تو راہ میں۔۔۔۔
نشیب بھی آتے ہیں۔۔۔
فراز بھی۔۔۔۔
سمندر بھی صحرا بھی۔۔۔۔
سایہ دار درخت بھی تو۔۔۔۔
کڑکتی دھوپ بھی۔۔۔۔
مگر منزل کا متلاشی مسافر ان سبھی کا سامنا خندہ پیشانی اور ایک ایسی تیز دھار مسکراہٹ سے کرتا ہے کہ۔۔۔۔۔
جس سے اس سفر کی ہر مشکل کٹتی چلی جاتی ہے۔۔۔۔
اکثر یہ ہوتا ہے کہ ہم ذرا سی بلندی کی طرف بڑھنے سے پہلے ہی مغرور ہو جاتے ہیں۔۔۔۔
خود کو بہت بلندیوں پر سمجھتے ہوئے دوسروں کے استحصال شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔
وہ استحصال لوٹ مار کے ذریعے ہی نہیں ہوتا بلکہ۔۔۔۔
عاجزی
اظہارِ دانش
اخلاق و مروت
اخلاص و ہمدردی کو بیچ کر۔۔۔۔۔
غرور وتکبر کی ردا اوڑھ کر۔۔۔
مگر یاد رکھیئے کہ
زندگی میں ترقی کرتے کرتے آپ کسی بھی عہدہ یا منصب پر فائز ہو جائیں۔۔۔
ان چیزوں کی عدم موجودگی آپ کی منزل کی دوری کا باعث بن جائے گی۔۔۔۔۔
آپ منزل تک پہنچ کر بھی بے منزل ہی رہیں گے۔۔۔۔
وجہ یہی ہو گی کہ اس سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہو گی۔۔۔۔
کسی کا دل دکھا کر۔۔۔۔
کسی کو حقیر سمجھ کر۔۔۔۔
کسی کو جھٹک کر۔۔۔۔۔
کسی کے ساتھ مزاج کی درشتی سے پیش آ کر۔۔۔۔
لوگوں کی تحقیر۔۔۔۔
اور ناحق خوش فہمی میں مبتلا ہو کر۔۔۔۔۔ہم اپنی منزل کو کھوٹا کر دیتے ہیں۔۔۔۔!!!!!!!!
چونکہ سعادت و فلاح کی کچھ نمایاں علامتیں ہیں۔۔۔۔۔
اور یہ نشانِ راہ ہی آپ کی بلند خلقی،عاجزی، انکساری اور سوچ کا پتہ دیتے ہیں۔۔۔۔!!!!!!
فلاح کی نشانی یہ ہے کہ علم بڑھا تو تواضع و رحمدلی میں بھی اضافہ ہو گیا۔۔۔۔
ایسا آدمی محسوس کرے گا کہ یہ علم کی دولت اللّٰہ تعالی کی عطا کردہ ہے۔۔۔۔
میں نے اس دوشنی سے ارد گرد کی جہالتوں کا سدباب کرنا ہے۔۔۔۔
جتنا علم بڑھے گا،اُتنا ہی خوف بھی بڑھے گا۔۔۔۔۔
کیونکہ لغزش قدم،زبان ودل منزل کے کھو جانے کا سبب بن سکتے ہیں۔۔۔۔
تو یہی سوچ کر وہ ہر اٹھتا قدم احتیاط سے رکھے گا۔۔۔۔
ایسے شخص کاجاہ و منصب جتنا ترقی کرے گا وہ لوگوں کے قریب ہو کر انہیں مستفید کرنے کی کوشش کرے گا۔۔۔۔
ان کی ضروریات پوری کرے گا،
تواضع سے پیش آئے گا۔۔۔۔
کہ وہ جانتا ہے کہ علم،مال،منصب دینے والا امتحان لے رہا ہے،،،،
مہلت ختم ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔
موت قریب آ گئی ہے۔۔۔۔
جبکہ اس کے برعکس انسان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ۔۔۔۔
ان چیزوں کے اضافے کے ساتھ ہی۔۔۔۔
دل خالی ہونے لگا۔۔۔۔
مزاج میں گرمی آنے لگتی۔۔۔۔
انداز میں درشتی در آتی ہے۔۔۔۔۔
دل پھولنے لگتا۔۔۔۔
خوش فہمیوں کے سلسلے دراز ہو جاتے ہیں۔۔۔۔
یہ سب چیزیں ہمیشہ کے لیئے اپنی ملکیت سمجھ بیٹھتا ہے۔۔۔۔
علم،مال،منصب پا کر۔۔۔
بس خود کو نجات یافتہ سمجھ کر۔۔۔۔۔
اپنا بیڑا پار۔۔۔۔۔
باقی سب منجدھار میں۔۔۔۔سوچنے لگتا ہے۔۔۔!!!!!!!
قدر و منزلت کے بڑھنے سے تکبر و غرور کی چادر بھی وسیع ہوتی چلی جاتی ہے۔۔۔!!!!!!!
اور بالآخر تکبر کا انجام خاک نشین ہو جانا ہی ہوتا ہے ناں۔۔۔؟؟؟؟
غیب سے کوڑا برستا۔۔۔۔۔اور
کسی کی حق تلفی۔۔۔۔
کسی کی تحقیر۔۔۔۔کی آہ عرش سے جا ٹکراتی ہے اور تکبر کے برج زمین بوس ہو جاتے ہیں۔۔۔۔
یہی تو ناکامی ہے۔۔۔۔ !!!
وجہ منزل کے نشانات کو سمجھنے سے عاری ہونا ہے۔۔۔۔
کیونکہ اس راہ میں اس کا واسطہ ہر نوع کے انسانوں سے پڑتا ہے۔۔۔۔
جو مثلِ دھوپ وسایہ ہوں گے۔۔۔۔
جو سمندر و صحرا ہوں گے۔۔۔۔
جو نشیب و فراز ہوں گے۔۔۔۔
مگر انسان کو ملے کسی بھی منصب کا تقاضا ہے کہ وہ ان کی اصلاح کرتا چلا جائے۔۔۔۔
تکبر سے کبھی نہ جھڑکے۔۔۔۔
تحقیر نہ کرے۔۔۔۔
بلند ہمتی سے چلے۔۔۔۔
کیونکہ کسی بھی سفر میں مسافر کی ہمت ہی اس کی شخصیت میں اثبات ونفی کا مرکز ہے۔۔۔۔
یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ عاجزی،علو ہمتی اور محبت انسانیت ہمیشہ اوپر اٹھاتی،،،،،،
اور کبر ہمیشہ نیچے گرا دیتا ہے۔۔۔۔!!!!!!
سفر کوئی بھی منتخب کریں مگر نشانِ راہ سے دامن خالی نہ ہو کیونکہ ہمارے اضطراب و بے چینی کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ہم یکبارگی سب کو روند کر بہت بلند ہونا چاہتے ہوتے ہیں۔۔۔
اپنی منزل کے مراحل طے ہی نہیں کرتے۔۔۔۔
تدریج کے اصول کو یکسر جھٹک دیتے اور گہری غلطیوں کی دلدل میں جا پھنستے ہیں۔۔۔۔اور پھر منزل کے قریب پہنچ کر بھی منزل سے دور ہو جاتے ہیں۔۔۔۔
یہی ہے ناں قدرت کا قانون۔۔۔۔؟؟؟؟؟
اور یہ نشانِ راہ ہی کسی مسافر کو درجہ کمال سے سرفراز کرتے ہیں۔۔۔۔
اور ان سے قدم ہٹا لینا ہی اس کے زوال کی وجہ بھی۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!
اپنے دامن میں ایمان،محبت،عاجزی،اصلاح کے پھول کسی بھی میدان میں کبھی ختم نہ ہونے دیجیئے۔۔۔۔
کہ
>منزل ہے آسمان تو بے بال و پر نہ جا۔۔۔!!!!!!!!!!!!
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
بقلم:(جویریہ چوہدری)۔

-

خواجہ سرا ، لوگ کیوں دوررہتے ہیں ، زبردست جواب آگیا
لاہور: معاشرے میں خواجہ سراوں سے لوگ کیوں دور رہتے ہیںیا ڈرتے ہیں،سوشل میڈیا پر ایک ویڈیوسے اس بات کا پتہ چل جاتاہے ، ویسےتویہ ویڈیو قربانی کے دنوں کی ہے مگر اس وقت چونکہ سوشل میڈیا پر بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے اس لیے اس پر بھی کچھ صارفین کے تاثرات سامنے آئے ہیں
ہماری بھی مراعات بڑھائی جائیں ورنہ سب کی بند کردی جائیں ، پنجاب حکومت کے اپنے ہی…
باغی ٹی وی کے مطابق قربانی کے دنوںمیںاس وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خواجہ سرا بعض مواقع پر قربانی کا جانور ذبح کرنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے ،یہ خواہش اس لیے کرتا ہے کہ عید قربان کے موقع پر پروفیشنل قصائی کم پڑجاتے ہیں اور وہ اس کا موقع کا فائدہ اٹھا کر لوگوںسے جانور ذبح کرنے کی پیش کش کرتا ہے
واجب الاحترام اساتذہ کرام قوم کے محسن اور پیغمبری پیشہ سے وابستہ ہیں،اساتذہ کی…
ویڈیو دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ پروین نامی خواجہ سرا ایک کیمرہ مین کو اپنی کہانی بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ بہت سے لوگ اس سے قربانی کا جانور ذبح کرواتے ہیں ، بعض لوگ اس لیے اس سے ڈرتے ہیںکہ یہ تو خواجہ سرا ہے اور اس کا ذبح کیا ہوا جانور حلال ہو گا یا نہیں، بعض لوگ تو اس قدر خائف ہوتے ہیں کہ وہ اس کے قریب سے بھی نہیں گزرتے ،
کیا ہائی کورٹ پان کھانے اور تھوکنے پر پابندی لگاسکتی ہے ؟ اور کیا عمل درآمد بھی…
-

جب ڈاکو نے ڈکیتی سے پہلے اپنے دوست کو پہچان لیا
دنیا مفاد پرستوں کی اماجگاہ ہے جس شخص کو جس چیز میں اپنا فائدہ نظر اتا ہے وہ اس کی طرف لپکتا ہے اگرچہ اس سے کسی دوسرے کا نقصان ہی کیوں نہ ہو رہا ہو، لیکن مفاد پرست شخص کے راستے میں بھی کبھی کبھار ایسی چیزیں آ جاتی ہیں کہ وہ پریشان ہو جاتا ہے کہ کس چیز کو فوقیت دے ،
اسی طرح کا ایک واقعہ روسی ٹیلی ویژن نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شئیر کیا ، جس میں دو ڈاکو ایک موٹر بائیک پر آتے ہیں اور ایک راہگیر کو لوٹنے کیلئے پستول اس کے سر پر تان لیتے ہیں ، اسی اثنا میں ڈاکو اس راہگیر کو پہچان جاتا ہے کہ یہ تو میرا اپنا دوست ہے ، پھر ڈاکو اپنے دوست سے معذرت بھی کرتا ہے اور جاتے ہوئے کہتا ہے اپنی امی کو میری طرف سے ہائے بولنا ،
یہ ایک ایسا واقع ہے جو سننے اور دیکھنے والے کو بھی پریشان کر دے کہ آیا وہ اس پر ہنسے یا اس سوچ پر روئے جو ترقی یافتہ معاشروں کو بھی نگل رہی ہے ، بحرحال سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے روسی ٹیلی ویژن کی پوسٹ کو کافی پسند کیا جا رہا ہے ، اور ٹوئٹر صارفین اس ویڈیو پر دلچسپ تبصرے بھی کر رہے ہیںThat moment when you try to rob someone but it turns out to be your friend pic.twitter.com/A1ZPLKKsuO
— RT (@RT_com) October 1, 2019