Baaghi TV

Category: متفرق

  • ففتھ جینریشن وار فئیر کے شہید سپاہی سید غوث اللہ آغا…از…عثمان عبدالقیوم

    سکول میں پڑھایا جاتا ہے، یوم پاکستان ہو یا آزادی یہ شعر گائے جاتے ہیں اور خصوصا یوم دفاع و شہداء پر ملک کے کونے کونے پر بڑے بڑے بینرز آویزاں کیے جاتے ہیں۔
    ” شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے”

    ایک جگہ لفظ شہید پر بات ہو رہی تھی ایک صاحب سوال کرنے لگے کہ جیسے ہم لوگ اس کو شہید کہتے ہیں جو رب کی رضا میں جان دینے والے کو کہتے ہیں پوچھنے لگا کہ دنیا کے ہر ملک میں شہیدوں کے نام پر یادگاریں ہیں، سڑکیں ہیں، پارک ہیں، ان کی قربانی کو یاد کیا جاتا ہے، ان کا بھی احترام کیا جاتا ہوگا راقم نے یوں جواب دیا انکا احترام دنیا کے ہر مذہب و ثقافت ایسے ہی کیا جاتا ہے جیسے مقدس صحیفوں کا۔ مجھے یقین ہے کہ شہید کے متبادل دنیا کی ہر زبان، ہر مذہب اور ہر تہذیب میں موجود ہوں گے کیونکہ ہر قوم کو اپنی بقا کے لیے اور ہر تحریک کو اپنی نمود کے لیے ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو اپنی جان کا نذرانہ پیش کریں، یقینی موت کے طرف لپکیں اور اپنی زندگی دے کر قوموں کو اور تحریکوں کی نظریات کو دوام بخشیں۔

    اسی اثناء میں پاکستان کے شہیدوں کا تذکرہ شروع ہوا اے پی ایس ہو یا پولیس کے جوانوں کا یا پھر فوج اور ہزاروں گمنام شہیدوں کے تذکرے ہو رہے تطے اچانک بلوچستان کے والے عظیم بیٹے کی سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ ہو گیا انکی شجاعت اور بہادری کی باتیں چل رہیں تھیں کہ اتنے میں خبر ملی کہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والا پاکستان کا ایک اور بیٹا سید غوث اللہ آغا جس کو پی ٹی ایم اور این ڈی ایس کی غنڈہ گردی، دہشت آلود درندوں نے آزادی کے دن 14 اگست کو اغوا کیا اور نا جانے کتنے ظلم و جبر کے پہاڑ تھوڑے ہوں گے انکی درندگی کا شکار ہو کر موت کی وادی میں چلا گیا اور اج افغان سرحد کے قریب قلعہ عبداللہ سے اس غیور بیٹے کا جسد خاکی ملا اور معلوم ہوا پاک دھرتی کی حفاظت کرنے والوں میں اسے ایک نام شہر خاموشاں میں داخل ہوگیا اور بیٹا اس ملک پر جان قربان کر گیا۔

    سوچ رہا تھا اس کا جرم کیا ہوگا معلوم ہوا سوشل میڈیا نامی ایک بلا ہے جہاں وہ اپنے قلم سے اپنے موبائل سے پی ٹی ایم، بلوچ لبریشن آرمی سمیت ان تمام ملک دشمنوں کے خلاف برسرپیکار تھا پاکستان کا سرفروش مجاہد بن کر اور سچا بیٹا بن کر اپنی دھرتی ماں سے بے پناہ محبت کا سبق سکھاتا تھا آزاد بلوچستان کی بجائے پاکستان کا نعرہ بلند کرتا تھا بھارت کے ٹکڑوں پے پلنے والے ملک دشمنوں کی تراغیب کو رد کر نوجوانوں میں پاکستان زندہ باد پاکستان آرمی زندہ باد کے جذبے جگاتا تھا شہید غوث اللہ وہ مرد مجاہد تھا جو سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کے رستے پر چلتے ہوئے بلوچستان میں بدترین حالات میں بھی پاکستان کا جھنڈا سربلند رکھا۔

    غوث اللہ شہید ففتھ جینریشن وار کا سچا اور محب وطن سرفروش سپاہی تھا۔ یہی اس کا جرم تھا وہ ہماری طرح بلوچستان میں جاری بھارتی سازشوں سے بخوبی آگاہ تھا نوجوانوں اور بچوں کو آگاہ کرتا تھا اس لئے بھارت سے شدید نفرت رکھتا تھا۔ جس کا برملا اظہار کرتا تھا ہاں نفرت کی اظہار کی وجہ سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کہ بھارتی ترنگے کا جوتا بنا کر پہنتا تھا۔

    اپنی زندگی کی قیمت لگا کر ان تمام لوگوں کو پیغام دے گیا جو یہ کہتے ہے سوشل میڈیا بیکار ہے جو بوٹ پالشیت کا طعنہ دیتے ہیں جو وطن کی محبت کو ایمان کا حصہ نہیں مانتے ہیں سبز ہلالی پرچم کو لہراتے لہراتے آنے والی نسلوں کی خاطر قربانیوں کا ذکر چھوڑ گیا دشمنوں کے خلاف اتحاد کا سبق دے کر، حب الوطنی کا درس دے کر، سبز ہلالی پرچم کو لہرانے کا انداز سکھا کر،نظریہ پاکستان اور لا الہ الا اللہ کا مطلب سمجھا کر اسکی بنیاد کو سمجھاتے ہوئے ریاست سے غداری کرنے ،لوٹنے اور عیاشی کرنے والوں کو بتا گیا کہ وطنیت کیا ہے؟ شہادت پر غم نہ کرنے کا درس دے گیا اور پیسے کی لالچ کو پست کرتے ہوئے جان قربان کرتے ہوئے پاکستان سے عشق تا دم آخر پہچان بنا کر بالآخر اسی سبز ہلالی پرچم کو اوڑھ کر ابدی نیند تو سو گیا اور یہ پیغام دے گیا

    چادر میں نہیں ھم کوجھنڈے میں اُتارو
    مٹی کے عشق میں ہم، جوانی میں مَرے ہیں
    حرف آخر یہ
    مسافران راہ وفا کو شہید منزل دکھا گئے
    کٹا کے غیور اپنے سر کو غرور کا سر جھکا گئے ہیں
    اگر میرے بس میں ہوتا تو سید غوث اللہ آغا سمیت تمام شہداء کو نشانِ حیدر سے سرفراز کرتا جس سے اس عالی مرتبت تمغے کی شان دوبالا ہو جاتی کہ وہ شہیدِ وفائے پاکستان تھا”
    کیونکہ شہید سراج رئیسانی ہو یا غوث اللہ اپنے بلوچ جانبازوں کے ساتھ پاکستان کے لئے میدان جنگ میں لڑ رہا تھا۔وہ شہید وطن اپنی جان سے گذر گئے اور یہ پیغام دے گیا
    اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
    تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیں

    سوچ رہا ہوں

    اج پھر شہید وطن سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کی شہادت کی طرح غوث اللہ کا جسد خاکی بھی گواہی دے رہا تھا اور دھرتی گواہ بن گئی ہے کہ

    ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
    رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
    شہادت نے ان کی شخصیت کو نظریئے میں بدل دیا ہے پاکستان سے محبت کا نظریہ’ سرفروشی کی لازوال داستان بنادیا ہے۔
    سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

    ففتھ جینریشن وار فئیر کے شہید سپاہی سید غوث اللہ آغا…از…عثمان عبدالقیوم

  • ملکہ چیونٹی کی عمر کتنی ہوتی ہے،ماہرین نے بتادیا

    لندن :ملکہ چیونٹی تمام حشرات الارض میں سب سے لمبی عمر پاتی ہے اور خاندان میں نر و مادہ کی موجودگی کے باوجود تولید کام بھی صرف ملکہ چیونٹی ہی کرتی ہے۔کیا آپ نے کبھی چیونٹیوں کی قطار کو بغور دیکھا ہے؟ ایک سیدھی قطار میں ایک کے پیچھے ایک چلتی ہوئی یہ چیونٹیاں بظاہر بہت منظم معلوم ہوتی ہیں، لیکن اس کے علاوہ بھی یہ اپنے اندر بہت سی خصوصیات رکھتی ہیں۔

    کراچی کے رہائشی گیارہ سالہ ایماز کا نام گینیز بک آف ورلڈ میں درج کیسے ہوا؟

    غیر ملکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق چیونٹیوں میں بھی خاندان ہوتے ہیں اور ہر خاندان کی ایک ملکہ چیونٹی ہوتی جو پورے 30 برس تک زندہ رہتی ہے۔کیا آپ جانتے ہیں دنیا بھر میں پائے جانے والے حشرات الارض میں ملکہ چیونٹی کی عمر سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

    فاسٹ باؤلر جنید خان پر جرمانہ عائد ، کیوں ہوا؟ جانیئے اس خبر میں‌

    آئی سیک آن لائن کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کیڑے کا خاندان ہزاروں چیونٹیوں پر مشتمل ہوتا ہے جس میں نر و مادہ چیونٹیاں بھی موجود ہوتی ہیں لیکن تولید کا کام صرف ملکہ چیونٹی ہی کرتی ہے اس کے سوا کوئی تولید کا کام انجام نہیں دے سکتا۔

    پنجاب کے 6 اضلاع میں کیا ہونے جارہا ہے، ترجمان نے بتا دیا

    چیونٹی آپ کے باس سے بہتر مینیجر ثابت ہوسکتی ہے،تحقیقی رپورٹ کے مطابق خاندان میں مختلف شک و رنگ و روپ کی چیونٹیاں موجود ہوتی ہیں اور تمام ہی ملکہ کے حکم کی تابع ہوتی ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر چیونٹیوں کے کسی خاندان کی ملکہ چیونٹی مر جائے تو شہد کی مکھیوں کی طرح یہ کسی دوسرے چیونٹی کو اپنی ملکہ نہیں بناتی بلکہ دوسری کالونیوں میں بس جاتی ہیں

  • کام ، نام پھر مقام ، قطرے سے جہان —از —انعام الرحمن طاہر

    کام ، نام پھر مقام ، قطرے سے جہان —از —انعام الرحمن طاہر

    آپ لوگوں نے جہاز کو ائیرپورٹ کی حدود میں ٹیکسی کرتے عموماً دیکھا ہوگا۔ اس وقت جہاز کی رفتار بہت مدھم اور سست ہوتی ہے۔ کیونکہ اس وقت جہاز اپنے انجنوں کی پوری قوت استعمال نہیں کررہا ہوتا

    جہاز سست رفتاری سے رینگتا ہوا مین رن وے کے شروعاتی پوائنٹ تک پہنچتا ہے، اپنی سمت کو درست کرتا ہے اور اسکے بعد بھرپور طاقت سے اپنے انجن کو اسٹارٹ کرکے ٹیک آف اسپیڈ پکڑتا ہے۔ یہ رفتار اور طاقت کچھ ہی سیکنڈز بعد اسے آسمان کی بلندیوں تک لے جاتی ہے۔

    کاروبار کی بھی بلکل یہی مثال ہے۔۔۔

    کاروبار کی شروعات سست ہوتی ہے۔ کیش فلو بہت کم ہوتا ہے، منافع کی دھار ہلکے ہلکے بن رہی ہوتی ہے۔ آپ دھیرے دھیرے قدم جما رہے ہوتے ہیں۔ لمبی اڑان (بڑے منافع) کے لیے رن وے (صحیح سمت اور موقع) پر آرہے ہوتے ہیں۔

    کاروبار کے رن وے پر کامیابی سے پہنچنے کے بعد آپ کو "انجن” پوری طاقت کے ساتھ اسٹارٹ کرنا ہوتا ہے۔۔۔

    بہت سے کاروباری، کامیابی سے رن وے تک پہنچنے کے باوجود "انجن” کو اسٹارٹ نہیں کرپاتے۔ یہ رن وے پر بھی سست رفتار سے دوڑتے رہتے ہیں۔ جب کہ اسمارٹ اور زہین کاروباری، رن وے پکڑتے ہی، انجن اسٹارٹ کرکے آسمانوں کی بلندیوں پر نکل جاتے ہیں

    کیا آپ جانتے ہیں کہ کاروبار کی اصطلاح میں، انجن اسٹارٹ کرنے سے کیا مراد ہے؟

    نہیں جانتے؟

    میں آپ کو بتاتا ہوں۔۔۔

    کاروباری اصطلاح میں، انجن اسٹارٹ کرنے سے مراد ہے،

    کاروبار کے مختلف پراسسز کو delegate کرنا۔۔۔

    آسان الفاظ میں، اپنے کام خود کرنے کی بجائے، دوسروں سے کروانا

    مثال کے طور پر، مائیکروسافٹ کے شروعاتی دور میں، بل گیٹس اپنے سافٹ ویئر خود کوڈ کرتا تھا لیکن مائیکروسافٹ کے جہاز کے رن وے پر چڑھتے ہی اس نے developers ہائیر کرنا شروع کئیے جو مائیکروسافٹ کی پروڈکٹس کو کوڈ کرتے اور بل گیٹس کی ساری توجہ بزنس گروتھ پر لگنے لگی۔

    کے ایف سی کے فاؤنڈر، کرنل سینڈرز خود فرائیڈ چکن بنایا کرتے تھے، لیکن پھر انھوں نے کاروبار کے پھیلتے ہی ورکرز رکھنے شروع کئیے اور خود کو بزنس کی گروتھ کے لیے وقف کرلیا۔

    پاکستانی چیف جسٹس کوویزا جاری نہیں کریں گے، امریکہ

    آپ Elon Musk کو دیکھ لیجیے۔ وہ صرف گروتھ اور نت نئے بزنس آئیڈیاز پر کام کرتا ہے، باقی ہر کام کے لیے اس نے ٹیمیں تشکیل دی ہوئی ہیں۔

    یہ تو بلین ڈالر کمپنیوں کی مثالیں تھیں۔ چھوٹے بزنس اس کو کیسے اپلائی کرسکتے ہیں؟

    مثال کے طور پر، آپ نے چھوٹے پیمانے اور کم بجٹ سے ای کامرس میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بجٹ محدود ہونے کی بناء پر، سارے کام آپ کو خود کرنے پڑتے ہیں۔

    آپ ہول سیل پر پراڈکٹ خرید کر لاتے ہیں، پھر انھیں پیک کرتے ہیں، کسٹمر کی کالز اور میسجز کو خود مینج کرتے ہیں، پیک کرکے ڈیلیوری کمپنی تک پہنچاتے ہیں۔ باقی فیس بک پیج یا ویب سائٹ بھی آپ مینج کررہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

    شروع میں یہ سب کچھ آپ ہی کو مینج کرنا پڑے گا۔ لیکن، کچھ عرصے پرافٹ میں چلنے کے بعد آپ کو ان تمام پراسس ورک کے لیے کسی کو ہائیر کرنا ضروری ہے تاکہ آپ اپنا "تمام” فوکس بزنس گروتھ اور ڈیویلپمنٹ پر لگاسکیں۔

    اپنےآپ کو خودکش دھماکے میں اڑانے والے کون تھے ؟

    جتنا بھی ممکن ہوسکے، ہر شعبے کے لیے ہیلپر یا ماہر افراد رکھتے جائیے۔ اگر کسی کام کے لیے فل ٹائم بندہ ہائیر نہیں کرسکتے تو پارٹ پوزیشن آفر کیجیے۔ یہ بھی مشکل لگتا ہے تو آؤٹ سورسنگ کی طرف جائیے۔ اسکے علاوہ کسی کو پارٹنر بنا کر یا اسٹیک آفر کیجیے اور اپنے کام میں ساتھ ملا لیجیے۔

    دھیرے دھیرے ٹیم ڈیویلپ کرنا، پراسسز کو delegate کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اسکے بناء آپ بڑا کاروبار نہیں کھڑا کرسکتے۔

    یاد رکھئیے، چھوٹا بزنس delegation، مطلب کے دوسروں کو کام سونپنے سے ہی بڑا بنتا ہے یعنی کے ٹیک آف کرپاتا ہے۔ اگر آپ صرف پیسے بچانے کے لیے سارے کام خود سے کرنے پر لگے رہیں گے تو کئی سالوں بعد بھی رن وے پر ہی رینگ رہے ہوں گے۔۔۔!!!

    کام ، نام پھر مقام ، قطرے سے جہان —از —انعام الرحمن طاہر 

  • مودی ، وزیراعظم ہے یا خاکروب

    مودی ، وزیراعظم ہے یا خاکروب

    ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت وائرل ہے جس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو تامل ناڈو کے شہر مامل پور کے بیچ سے کچرہ اٹھاتے دیکھا جا سکتا ہے، اس ویڈیو پر پاکستانی و بھارتی خوب رائے کا اظہار کر رہے ہیں، کچھ کے نزدیک بھارتی وزیر اعظم اپنی عوام میں شعور پیدا کرنے کیلئے ایسا کر رہے ہیں اور کچھ کا کہنا ہے کہ یہ صرف دکھاوے کیلئے کیا جا رہا ہے،

    ٹوئٹر صارفین کہہ رہے ہیں کہ پڑوسیوں نے کیا وزیراعظم پایا ہے 130 کروڑ بھارتی شہریوں کا وزیراعظم یا چائے بناتا ہے یا کچرہ اٹھاتا ہے، سمجھ سے بالا تر ہے کہ اتنی بڑی آبادی والے ملک کا وزیراعظم اپنی رعایا کیلئے کچھ کرنے کے بجائے ہمیشہ اپنے امیج کیلئے کام کرتا رہتا ہے ، مودی بیچ سے کچرہ اٹھا رہا ہے اور پھر شعور پھیلانے کے نام پر پہلے سے بیوقوف عوام کی بیوقوفی میں مزید اضافہ کر رہا ہے، کہ دیکھو بھارتیو تمھارے وزیراعظم کو جو کام آتا ہے وہ کس قدر دل لگی سے کر رہا ہے ،

  • منزل ہے آسمان تو بے بال و پر نہ جا۔۔۔از –جویریہ چوہدری

    منزل ہے آسمان تو بے بال و پر نہ جا۔۔۔از –جویریہ چوہدری

    صدائے ضمیر:

    "نشانِ راہ”۔
    مسافر جب سفر کرتا ہے تو راہ میں۔۔۔۔
    نشیب بھی آتے ہیں۔۔۔
    فراز بھی۔۔۔۔
    سمندر بھی صحرا بھی۔۔۔۔
    سایہ دار درخت بھی تو۔۔۔۔
    کڑکتی دھوپ بھی۔۔۔۔
    مگر منزل کا متلاشی مسافر ان سبھی کا سامنا خندہ پیشانی اور ایک ایسی تیز دھار مسکراہٹ سے کرتا ہے کہ۔۔۔۔۔
    جس سے اس سفر کی ہر مشکل کٹتی چلی جاتی ہے۔۔۔۔
    اکثر یہ ہوتا ہے کہ ہم ذرا سی بلندی کی طرف بڑھنے سے پہلے ہی مغرور ہو جاتے ہیں۔۔۔۔
    خود کو بہت بلندیوں پر سمجھتے ہوئے دوسروں کے استحصال شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔
    وہ استحصال لوٹ مار کے ذریعے ہی نہیں ہوتا بلکہ۔۔۔۔
    عاجزی
    اظہارِ دانش
    اخلاق و مروت
    اخلاص و ہمدردی کو بیچ کر۔۔۔۔۔
    غرور وتکبر کی ردا اوڑھ کر۔۔۔
    مگر یاد رکھیئے کہ
    زندگی میں ترقی کرتے کرتے آپ کسی بھی عہدہ یا منصب پر فائز ہو جائیں۔۔۔
    ان چیزوں کی عدم موجودگی آپ کی منزل کی دوری کا باعث بن جائے گی۔۔۔۔۔
    آپ منزل تک پہنچ کر بھی بے منزل ہی رہیں گے۔۔۔۔
    وجہ یہی ہو گی کہ اس سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہو گی۔۔۔۔
    کسی کا دل دکھا کر۔۔۔۔
    کسی کو حقیر سمجھ کر۔۔۔۔
    کسی کو جھٹک کر۔۔۔۔۔
    کسی کے ساتھ مزاج کی درشتی سے پیش آ کر۔۔۔۔
    لوگوں کی تحقیر۔۔۔۔
    اور ناحق خوش فہمی میں مبتلا ہو کر۔۔۔۔۔ہم اپنی منزل کو کھوٹا کر دیتے ہیں۔۔۔۔!!!!!!!!
    چونکہ سعادت و فلاح کی کچھ نمایاں علامتیں ہیں۔۔۔۔۔
    اور یہ نشانِ راہ ہی آپ کی بلند خلقی،عاجزی، انکساری اور سوچ کا پتہ دیتے ہیں۔۔۔۔!!!!!!
    فلاح کی نشانی یہ ہے کہ علم بڑھا تو تواضع و رحمدلی میں بھی اضافہ ہو گیا۔۔۔۔
    ایسا آدمی محسوس کرے گا کہ یہ علم کی دولت اللّٰہ تعالی کی عطا کردہ ہے۔۔۔۔
    میں نے اس دوشنی سے ارد گرد کی جہالتوں کا سدباب کرنا ہے۔۔۔۔
    جتنا علم بڑھے گا،اُتنا ہی خوف بھی بڑھے گا۔۔۔۔۔
    کیونکہ لغزش قدم،زبان ودل منزل کے کھو جانے کا سبب بن سکتے ہیں۔۔۔۔
    تو یہی سوچ کر وہ ہر اٹھتا قدم احتیاط سے رکھے گا۔۔۔۔
    ایسے شخص کاجاہ و منصب جتنا ترقی کرے گا وہ لوگوں کے قریب ہو کر انہیں مستفید کرنے کی کوشش کرے گا۔۔۔۔
    ان کی ضروریات پوری کرے گا،
    تواضع سے پیش آئے گا۔۔۔۔
    کہ وہ جانتا ہے کہ علم،مال،منصب دینے والا امتحان لے رہا ہے،،،،
    مہلت ختم ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔
    موت قریب آ گئی ہے۔۔۔۔
    جبکہ اس کے برعکس انسان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ۔۔۔۔
    ان چیزوں کے اضافے کے ساتھ ہی۔۔۔۔
    دل خالی ہونے لگا۔۔۔۔
    مزاج میں گرمی آنے لگتی۔۔۔۔
    انداز میں درشتی در آتی ہے۔۔۔۔۔
    دل پھولنے لگتا۔۔۔۔
    خوش فہمیوں کے سلسلے دراز ہو جاتے ہیں۔۔۔۔
    یہ سب چیزیں ہمیشہ کے لیئے اپنی ملکیت سمجھ بیٹھتا ہے۔۔۔۔
    علم،مال،منصب پا کر۔۔۔
    بس خود کو نجات یافتہ سمجھ کر۔۔۔۔۔
    اپنا بیڑا پار۔۔۔۔۔
    باقی سب منجدھار میں۔۔۔۔سوچنے لگتا ہے۔۔۔!!!!!!!
    قدر و منزلت کے بڑھنے سے تکبر و غرور کی چادر بھی وسیع ہوتی چلی جاتی ہے۔۔۔!!!!!!!
    اور بالآخر تکبر کا انجام خاک نشین ہو جانا ہی ہوتا ہے ناں۔۔۔؟؟؟؟
    غیب سے کوڑا برستا۔۔۔۔۔اور
    کسی کی حق تلفی۔۔۔۔
    کسی کی تحقیر۔۔۔۔کی آہ عرش سے جا ٹکراتی ہے اور تکبر کے برج زمین بوس ہو جاتے ہیں۔۔۔۔
    یہی تو ناکامی ہے۔۔۔۔ !!!
    وجہ منزل کے نشانات کو سمجھنے سے عاری ہونا ہے۔۔۔۔
    کیونکہ اس راہ میں اس کا واسطہ ہر نوع کے انسانوں سے پڑتا ہے۔۔۔۔
    جو مثلِ دھوپ وسایہ ہوں گے۔۔۔۔
    جو سمندر و صحرا ہوں گے۔۔۔۔
    جو نشیب و فراز ہوں گے۔۔۔۔
    مگر انسان کو ملے کسی بھی منصب کا تقاضا ہے کہ وہ ان کی اصلاح کرتا چلا جائے۔۔۔۔
    تکبر سے کبھی نہ جھڑکے۔۔۔۔
    تحقیر نہ کرے۔۔۔۔
    بلند ہمتی سے چلے۔۔۔۔
    کیونکہ کسی بھی سفر میں مسافر کی ہمت ہی اس کی شخصیت میں اثبات ونفی کا مرکز ہے۔۔۔۔
    یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ عاجزی،علو ہمتی اور محبت انسانیت ہمیشہ اوپر اٹھاتی،،،،،،
    اور کبر ہمیشہ نیچے گرا دیتا ہے۔۔۔۔!!!!!!
    سفر کوئی بھی منتخب کریں مگر نشانِ راہ سے دامن خالی نہ ہو کیونکہ ہمارے اضطراب و بے چینی کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ہم یکبارگی سب کو روند کر بہت بلند ہونا چاہتے ہوتے ہیں۔۔۔
    اپنی منزل کے مراحل طے ہی نہیں کرتے۔۔۔۔
    تدریج کے اصول کو یکسر جھٹک دیتے اور گہری غلطیوں کی دلدل میں جا پھنستے ہیں۔۔۔۔اور پھر منزل کے قریب پہنچ کر بھی منزل سے دور ہو جاتے ہیں۔۔۔۔
    یہی ہے ناں قدرت کا قانون۔۔۔۔؟؟؟؟؟
    اور یہ نشانِ راہ ہی کسی مسافر کو درجہ کمال سے سرفراز کرتے ہیں۔۔۔۔
    اور ان سے قدم ہٹا لینا ہی اس کے زوال کی وجہ بھی۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!
    اپنے دامن میں ایمان،محبت،عاجزی،اصلاح کے پھول کسی بھی میدان میں کبھی ختم نہ ہونے دیجیئے۔۔۔۔
    کہ
    >منزل ہے آسمان تو بے بال و پر نہ جا۔۔۔!!!!!!!!!!!!
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
    بقلم:(جویریہ چوہدری)۔

  • خواجہ سرا ، لوگ کیوں دوررہتے ہیں ، زبردست جواب آگیا

    خواجہ سرا ، لوگ کیوں دوررہتے ہیں ، زبردست جواب آگیا

    لاہور: معاشرے میں خواجہ سراوں سے لوگ کیوں دور رہتے ہیں‌یا ڈرتے ہیں‌،سوشل میڈیا پر ایک ویڈیوسے اس بات کا پتہ چل جاتاہے ، ویسےتویہ ویڈیو قربانی کے دنوں کی ہے مگر اس وقت چونکہ سوشل میڈیا پر بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے اس لیے اس پر بھی کچھ صارفین کے تاثرات سامنے آئے ہیں‌

    ہماری بھی مراعات بڑھائی جائیں‌ ورنہ سب کی بند کردی جائیں‌ ، پنجاب حکومت کے اپنے ہی…

    باغی ٹی وی کے مطابق قربانی کے دنوں‌میں‌اس وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خواجہ سرا بعض مواقع پر قربانی کا جانور ذبح کرنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے ،یہ خواہش اس لیے کرتا ہے کہ عید قربان کے موقع پر پروفیشنل قصائی کم پڑجاتے ہیں اور وہ اس کا موقع کا فائدہ اٹھا کر لوگوں‌سے جانور ذبح کرنے کی پیش کش کرتا ہے

    واجب الاحترام اساتذہ کرام قوم کے محسن اور پیغمبری پیشہ سے وابستہ ہیں‌،اساتذہ کی…

    ویڈیو دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ پروین نامی خواجہ سرا ایک کیمرہ مین کو اپنی کہانی بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ بہت سے لوگ اس سے قربانی کا جانور ذبح کرواتے ہیں‌ ، بعض لوگ اس لیے اس سے ڈرتے ہیں‌کہ یہ تو خواجہ سرا ہے اور اس کا ذبح کیا ہوا جانور حلال ہو گا یا نہیں‌، بعض لوگ تو اس قدر خائف ہوتے ہیں کہ وہ اس کے قریب سے بھی نہیں گزرتے ،

    کیا ہائی کورٹ پان کھانے اور تھوکنے پر پابندی لگاسکتی ہے ؟ اور کیا عمل درآمد بھی…

  • جب ڈاکو نے ڈکیتی سے پہلے اپنے دوست کو پہچان لیا

    جب ڈاکو نے ڈکیتی سے پہلے اپنے دوست کو پہچان لیا

    دنیا مفاد پرستوں کی اماجگاہ ہے جس شخص کو جس چیز میں اپنا فائدہ نظر اتا ہے وہ اس کی طرف لپکتا ہے اگرچہ اس سے کسی دوسرے کا نقصان ہی کیوں نہ ہو رہا ہو، لیکن مفاد پرست شخص کے راستے میں بھی کبھی کبھار ایسی چیزیں آ جاتی ہیں کہ وہ پریشان ہو جاتا ہے کہ کس چیز کو فوقیت دے ،
    اسی طرح کا ایک واقعہ روسی ٹیلی ویژن نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شئیر کیا ، جس میں دو ڈاکو ایک موٹر بائیک پر آتے ہیں اور ایک راہگیر کو لوٹنے کیلئے پستول اس کے سر پر تان لیتے ہیں ، اسی اثنا میں ڈاکو اس راہگیر کو پہچان جاتا ہے کہ یہ تو میرا اپنا دوست ہے ، پھر ڈاکو اپنے دوست سے معذرت بھی کرتا ہے اور جاتے ہوئے کہتا ہے اپنی امی کو میری طرف سے ہائے بولنا ،
    یہ ایک ایسا واقع ہے جو سننے اور دیکھنے والے کو بھی پریشان کر دے کہ آیا وہ اس پر ہنسے یا اس سوچ پر روئے جو ترقی یافتہ معاشروں کو بھی نگل رہی ہے ، بحرحال سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے روسی ٹیلی ویژن کی پوسٹ کو کافی پسند کیا جا رہا ہے ، اور ٹوئٹر صارفین اس ویڈیو پر دلچسپ تبصرے بھی کر رہے ہیں

  • انشاء اللہ سعودی عرب کو کچھ نہیں ہوگا،،،،، از —عبدالرب

    انشاء اللہ سعودی عرب کو کچھ نہیں ہوگا،،،،، از —عبدالرب

    بعض لوگ اس امکان پر پھولے نہیں سما رہے کہ خدانخواستہ سعودی عرب پر کوئی برا وقت آنے والا ہے۔ ہم تو ضیا نماؤں کے حامی سعودی عرب کے مشرف سے کیا ہمدردی رکھیں گے، لیکن یہ بات بتاتا چلوں کہ خدانخواستہ سعودی عرب کی حکومت مشکل میں آتی ہے تو 10 ارب ڈالر کی ترسیلات زر کو فاتحہ پڑھ لیجیے گا۔

    ترسیلات زر میں کمی کا مطلب یہ ہوگا کہ انصافی حکومت اپنے سوا سال کی کارکردگی کا خلاصہ جس کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کو بتا رہی ہے، یہ واحد حاصل بھی ختم ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ رعایتی پٹرول اور دیگر جو مراعات سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات سے ہم حاصل کرتے ہیں، ان سے یکسر محروم ہونا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ بیروزگاری کا ایک نیا طوفان آئے گا جس کے آگے بند باندھنا ناممکن ہوگا۔ یاد رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں 40 لاکھ پاکستانی رہائش پذیر ہیں۔ اگر ان میں سے 5 فیصد پاکستانیوں کے لئے وہاں رہائش مشکل ہو جائے تو کیا ہمارے پاس ان کے لیے کوئی متبادل موجود ہے؟

    یاد رہے کہ چند سال پہلے لیبیا میں 20000 کے قریب پاکستانی آباد تھے جو ہر سال لاکھوں ڈالر پاکستان بھیجا کرتے تھے۔ جب لیبیا کو کرپٹ قذافی سے نجات ملی تو نتیجتاً یہ 20 ہزار بے دخل ہو گئے۔ ہماری حکومت ان کیلیے سوائے جہاز بھیجنے کہ کچھ نہ کر سکی۔ کسی کو پتہ ہے آج ان پاکستانیوں کے ساتھ کیا گزر رہی ہے؟

    ترتیب غلط رکھنے کے لئے معذرت، ہمیں تو سعودی عرب سے اس لیے محبت ہیکہ ہماری عقیدتوں کے تمام تر محور اسی زمین پر ہیں۔ اس لیے ہمیں یہ بھی گوارا نہیں کہ گرم ہوا کے جھونکے گزریں، لیکن جو لوگ اس خواہش میں ہلکان ہوئے جارہے ہیں کہ آل سعود اپنے مآل تک پہنچے ان کے لیے اطلاعا عرض ہے،

    کیا آپ کو خطہ سعودی عرب میں کہیں بھی کوئی ایسا گروپ نظر آتا ہے جو پاکستان کے لیے آل سعود سے زیادہ دوستانہ رویہ رکھتا ہو؟ کوئی ایسا گروپ جس کے بارے میں آپ یہ توقع رکھ سکیں کہ وہ آپ کے کہنے پر انڈیا سے تجارت منقطع کر سکتا ہے، یا کوئی ایسا گروپ جو امت کا درد رکھتے ہوئے پاکستان سے بڑھ کر کشمیریوں کی وکالت کرسکتا ہے، تو بڑے شوق سے اس کی حمایت کیجیے۔

    یاد رکھیں کہ اگر پورے عرب میں ڈھونڈے سے آپ کو کوئی غمخوار نہ ملے، تو جان لیجیے یہی والی آل سعود ہی آپ کی نجات کی ضمانت ہے، چاہے آپ کو جتنے برے لگتے ہوں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ خلیفتہ اللہ علی الارض ہیں بلکہ اس لیے کہ اس وقت پاکستانیوں کے مفادات کی ضمانت یہی ہیں

    انشاء اللہ سعودی عرب کو کچھ نہیں ہوگا،،،،، از —عبدالرب

  • جنگ نہ ہونے دیں گے—– از تحریر اٹل بہاری واجپائی ، سابق وزیراعظم کی جنگ نہ کرنے کی خواہش

    جنگ نہ ہونے دیں گے—– از تحریر اٹل بہاری واجپائی ، سابق وزیراعظم کی جنگ نہ کرنے کی خواہش

    اٹل بہاری واجپائی 25 دسمبر 1924کو پیدا ہوائے ، وہ تین بار بھارت کے وزیر اعظم رہے۔ بھارت کے سابق وزیراعظم نے 16 اگست 2018 کو وفات پائی ، اٹل بہاری واجپائی نے 2016 میں ایک نظم لکھی تھی جس کا مرکزی خیال پاکستان سے جنگ نہ کرنا اور خطے کی عوام کو پرامن زندگی گزارنے کا درس تھا ، وہ نظم کچھ اس طرح‌ہے ، اٹل بہاری واجپائی کہتے ہیں‌کہ!

    جنگ نہ ہونے دیں گے
    ہم جنگ نہ ہونے دیں گے
    وشوشانتی کے ہم سادھک ہیں جنگ نہ ہونے دیں گے
    کبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گی
    کھلیانوں میں نہیں موت کی فصل کھلے گی
    آسمان پھر کبھی نہ انگارے اگلے گا
    ایٹم سے ناگاساکی پھر نہیں جلے گا
    ہتھیاروں کے ڈھیروں پر جن کا ہے ڈیرا
    منہ میں شانتی بغل میں بم، دھوکے کا پھیرا
    کفن بیچنے والوں سے یہ کہہ دو چلا کر
    دنیا جان گئی ہے ان کا اصلی چہرا
    کامیاب ہوں ان کی چالیں ڈھنگ نہ ہونے دیں گے
    جنگ نہ ہونے دیں گے
    ہمیں چاہیے شانتی، زندگی ہم کو پیاری
    ہمیں چاہیے شانتی سرجن کی ہے تیاری
    ہم نے چھیڑی جنگ بھوک سے بیماری سے
    آگے آکر ہاتھ بٹائے دنیا ساری
    ہری بھری دھرتی کو خونی رنگ نہ لینے دیں گے
    جنگ نہ ہونے دیں گے
    بھارت پاکستان پڑوسی ساتھ ساتھ رہنا ہے
    پیار کریں یا وار کریں دونوں کو ہی سہنا ہے
    تین بار لڑ چکے لڑائی کتنا مہنگا سودا
    روسی بم ہو یا امریکی، خون ایک بہنا ہے
    جو ہم پر گزری بچوں کے سنگ نہ ہونے دیں گے
    جنگ نہ ہونے دیں گے

    از تحریر :اٹل بہاری واجپائی

  • عجیب اور جدید تحقیق : مچھلیوں کو بھی انسانوں کی طرح درد ہوتا ہے

    عجیب اور جدید تحقیق : مچھلیوں کو بھی انسانوں کی طرح درد ہوتا ہے

    کراچی : انسانوں‌کی طرح مچھلیوں‌بھی درد محسوس کرتی ہیں، اب ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ مچھلیوں کو درد محسوس نہ ہونے والی بات غلط ہے۔ فلاسفیکل ٹرانسیکشنز آف دی رائل سوسائٹی میں شائع ہونے والے نتائج بتاتے ہیں کہ چھوٹی بڑی تمام مچھلیوں کو بالکل ویسے ہی درد محسوس ہوتا ہے جیسے انسانوں کو ہوتا ہے۔

    وطن واپسی پرسفیر کشمیر وزیراعظم پاکستان عمران خان مطالعہ کرتے رہے،خوبصورت انداز، یادگار لمحے ،

    طبی ماہرین نے جال یا کانٹے میں پھنسنے والی مچھلیوں کو زندہ حالت میں دافع درد کی ادویات بھی دیں جس کے بعد اُن کی حالت بہتر ہوئی۔ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ سنیڈانس کہتی ہیں کہ ہم شکار کرنے کے عمل سے خبردار رہنا چاہیے، کیونکہ جب ہمیں درد محسوس ہوتا ہے تو ہم اُن کے ساتھ ایسا کیوں کریں۔

    “آو چلیں مقبوضہ کشمیر کے محاصرے کی تحقیقات کرنے ،دولت مشترکہ کے فیصلے سے بھارت سخت پریشان” لاک ہے

    آو چلیں مقبوضہ کشمیر کے محاصرے کی تحقیقات کرنے ،دولت مشترکہ کے فیصلے سے بھارت سخت پریشان

    مطالعے کے دوران سنہری مچھلی کے شکار اور اُسے کرنٹ لگا کر پکڑنے کے عمل کا بھی مشاہدہ کیا گیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ مچھلیاں پھنسنے یا مرنے سے قبل ایسے ہی درد اور کیفیت محسوس کرتی ہیں جیسے انسان حادثے کے وقت کرتے۔

    غیرت مند وزیراعظم کے غیرت مند سپوت : عمران خان کے بعد یو این میں پاکستانی مندوب ذوالقرنین چھینہ بھارت کا چہرہ بے نقاب کرنے میں مصروف

    اس تحقیق میں‌کہا گیا کہ مچھلیوں کی جلد انسانوں سے زیادہ نازک ہوتی ہے، انہیں قتل کرکے نقصان نہ پہنچائیں۔مطالعے میں مچھلیاں پکڑنے اور اُن کے کانٹے مین پھنسنے کے دورانیے کو نوٹ کیا گیا علاوہ ازیں جال میں پھنسنے والی مچھلیوں کے ردعمل کو بھی نوٹ کیا گیا۔