Baaghi TV

Category: متفرق

  • 27 فروری سرپرائز ڈے  تحریر: غنی محمود قصوری

    27 فروری سرپرائز ڈے تحریر: غنی محمود قصوری

    یوں تو شروع دن سے ہی مار کھانا ہندوستان کا مقدر ہے جیسا کہ محمد بن قاسم ،شہاب الدین غوری،محمود غزنوی،ٹیپو سلطان و دیگر مسلمان جرنیلوں سے ہندوستان کی خوب درگت بنتی رہی مگر پچھلی صدی میں شاہ اسماعیل شہید،علامہ محمد اقبال و محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں نے جذبہ جہاد بلند کیا اور دو قومی نظریہ پیش کرکے اور پاکستان بنا کر ہندو کیساتھ انگریز کو بھی سرپرائز دیا
    مگر اپنی درگت بنوانے کا عادی ہندو سکون سے نا بیٹھ سکا اور مقبوضہ وادی کشمیر کو آزاد کرنے سے انکاری ہو گیا جس پر پاکستان کے غیور قبائلیوں،افواج پاکستان اور وادی کشمیر کے شیروں نے مل کر ہندو کی خوب درگت بنائی اور وادی کشمیر کے کل 84474 مربع میل میں سے 32093 مربع میل آزاد کروا کر اسے ایک زبردست ترین سرپرائز دیا جس پر ہندو وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو بھاگم بھاگ اپنے آقا انگریز کے پاس سلامتی کونسل پہنچا اور جنگ بندی کیلئے منت سماجت کی ورنہ یہ سرپرائز بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہی مکمل ہونا تھا
    6 ستمبر 1965 کو ایک مرتبہ پھر ہندو کو اپنی درگت بنوا کر سرپرائز لینے کی سوجھی اور اس نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کر دیا جس پر امت محمدیہ کی پاک فوج نے ایسا سرپرائز دیا کہ 17 روزہ جنگ میں ہندو تو پریشان ہونا ہی تھا پورا عالم کفر اس سرپرائز پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور یوں ایک مرتبہ پھر ہندو اپنے آقا انگریز کے پاس سلامتی کونسل میں پہنچا اور جنگ بندی کروائی
    دو مرتبہ سرپرائز لینے کے بعد ہندو نے اپنا طریقہ بدلا وہ جان چکا تھا مغربی پاکستان میں اسے دو مرتبہ سرپرائز بہت مہنگا پڑا ہے لہذہ اس مرتبہ اس نے مشرقی پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرکے کچھ غداران ملک و ملت کو اپنے ساتھ ملایا اور مکتی باہنی کے نام پر ایک مسلح لڑاکا تنظیم بنائی جس نے پاک فوج پر حملے شروع کر دیئے اور بنگلہ دیش کو الگ ملک بنانے کی تحریک شروع کر دی اس مرتبہ ہندو کا وار کچھ کارگر ہوا مکتی باہنی و انڈین فوج نے بنگلہ دیش کی عوام میں پاکستان کے خلاف خوب زہر بھرا اور یوں مکتی باہنی کی پاک فوج سے باقاعدہ جھڑپیں شروع ہو گئیں جس کی کمان اینڈ کنٹرول انڈین فوج کے ہاتھ تھی آخر مکمل جنگ چھڑ گئی مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان تک گولہ بارود کی رسد ختم ہو کر رہ گئی مگر پھر بھی پاک فوج کے شیروں نے وسائل کی کمی اور اپنوں کی غداری کا غم سہہ کر بھی مردانہ وار مقابلہ کیا مگر فوجی افسران و جوان ہتھیار پھینکنے کو تیار نا تھے جس پر مکتی باہنی اور انڈین فوج نے بنگلہ دیش کے پاکستانی حامی لوگوں و مغربی پاکستان سے آئے سول اداروں کے اہلکاروں کے خاندان کے لوگوں کو شہید کرنا شروع کر دیا جو کہ انتہائی تشویشناک بات تھی اس کے بعد بھارت نے ایک اور چال چلی اور جنگ بندی کا اعلان کردیا اور اپنی فوجیں ڈھاکہ میں لا کر ایسٹرن کمان کے امیر عبداللہ خان نیازی سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر دیا جس پر جوانوں و افسروں میں تشویش کی لہر ڈور گئی اور انہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا جس پر مکتی باہنی اور انڈین فوج نے دوبارہ عام شہریوں کو شہید کرنا شروع کردیا اس پر مجبور ہوتے ہوئے اور نا چاہتے ہوئے بھی ہماری فوج کو اپنوں کی غداری کی بدولت 6 دسمبر 1971 کو ہتھیار ڈالنے پڑے اور یوں 45000 فوجی اور 40000 سے کم سول محکموں کے اہلکار انڈین فوج کے ہاتھوں جنگی قیدی بن گئے مگر پاکستان کو فتح کرنے کا انڈین خواب پھر بھی شرمندہ تعبیر نا ہوسکا کیونکہ 1971 میں راجھستان کے محاذ لونگے والا میں انڈین فوج کو سخت جانی مالی نقصان اٹھانا پڑا اور انڈین فوج اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر پیچھے بھاگی جس کا اعتراف خود انڈین جرنیل بھی کرتے ہیں اسی طرح سلیمانکی کے محاذ پر میجر شبیر شریف شہید نے دشمن کو بہت پیچھے تک دھکیل دیا اور ان کی کئی پوسٹوں پر قبضہ کرلیا جبکہ قصور کے محاذ پر ایسی کاری ضرب لگائی گئی کہ کھیم کرن کا محاذ چھوڑ کر انڈین فوج پیچھے کو بھاگ نکلی اور اس طرح تاریخی شکست انڈیا کو 1971 میں قصور کے محاذ پر ہوئی زندہ دلان قصور نے اپنی پاک فوج کیساتھ مل کر کھیم کرن شہر پر قبضہ کرکے پاکستانی پرچم لہرایا جس کی تصویریں آج بھی انڈین فوج اور عوام کے ذہنوں پر سوار ہیں غیور قصوریوں نے کھیم کرن سے خوب مال غنیمت حاصل کیا جس کے ثبوت کے طور پر آج بھی اہلیان قصور کے گھروں میں لگے انڈین شہر کھیم کرن سے لائے گئے دروازے ،کھڑکیاں،برتن و دیگر سامان ضرورت لوگوں کے پاس موجود ہے حتی کہ رائیونڈ قصور روڈ جو کہ کچہ راستہ تھا اسی کھیم کرن سے لائی گئی مال غنیمت کی اینٹوں سے بنا
    28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان نے ایک بار پھر انڈیا کو بہت بڑا سرپرائز دیا مگر شاید مار کھائے بغیر سرپرائز کو قبول کرنا انڈیا کی عادت نہیں سو اس نے 1999 میں کارگل کے مقام پر پاکستانی فوج اور مجاھدین کشمیر سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی جس کے نتیجے میں 3 مئی 1999 کو باقاعدہ ایک جنگ کا آغاز ہوا جس میں انڈیا کے 30000 اور پاکستان کے 5000 فوجی آمنے سامنے ہوئے پہلے ہی ہلے میں انڈیا کے 1000 سے زائد سپاہی مارے گئے جبکہ 2000 کے قریب فوجی زخمی ہونے کیساتھ انڈین ائیر فورس کے 3 طیارے تباہ ہوگئے جس سے بھارتی فوج سخت گھبراہٹ کا شکار ہو گئی اور دونوں ملکوں پر ایٹمی قوت ہونے کی بدولت عالمی دباؤ بڑھ گیا اور یوں دونوں ملکوں کو بغیر کسی نتیجے کے جنگ بندی کرنی پڑی مگر نقصان کے لحاظ سے ایک بار پھر شکست انڈیا کی ہوئی
    14 فروری 2019 کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں انڈین فوج پر کشمیری مجاھدین کی مسلح آزادی پسند تحریک جیش محمد کی طرف سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 200 سے زائد انڈین فوجی مارے گئے جبکہ سرکاری طور پر انڈیا نے صرف 44 فوجیوں کی موت تسلیم کی پلوامہ حملے کے بعد اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کیلئے انڈیا نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی شروع کردی جس پر پاک فوج کی طرف سے بھرپور جواب دیا گیا جھڑپیں بڑھتی گئیں اور 26 فروری 2019 کو انڈیا نے ایک بار پھر رات کی تاریکی میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے طیارے پاکستانی حدود میں داخل کئے مگر ہمارے شاہینوں کی بروقت اڑان سے انڈین پائلٹ گھبرا گئے اور گھبراہٹ میں اپنے جنگی جہاز کا پے لوڈ لائن آف کنٹرول کے نزدیک بالا کوٹ کے مقام پر گرا کر بھاگ گئے اور دعوی کردیا کہ ہم نے پاکستانی علاقے میں جاکر جیش محمد کے ٹریننگ کیمپوں پر فضائی کاروائی کرتے ہوئے 350 سے زائد جیش محمد کے کارکنان شہید کر دیئے ہیں جس کے چند گھنٹوں بعد پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے انڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اس جھوٹ کو جلد بے نقاب کرینگے اور ایک سرپرائز بھی دینگے جنرل صاحب کے بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی پاکستانی ائیر فورس کے دو شاہینوں اسکورڈن لیڈر حسن صدیقی اور ونگ کمانڈر نعمان علی خان نے انڈین علاقے میں گھس کر اس کے دو طیارے مار گرائے جن میں سے ایک طیارہ مقبوضہ وادی کشمیر جبکہ دوسرا آزاد کشمیر کے علاقے میں گرا جس کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو کشمیری عوام نے گھیر لیا اور اس کی تاریخی دھلائی کرکے ایک بہت بڑا سرپرائز دیا اس کے بعد پاکستان نے انٹرنیشنل میڈیا کو بالاکوٹ کا دورہ بھی کروایا جس پر انٹرنیشنل میڈیا نے انڈین ائیرفورس کی ناکامی کا پول کھول کر اسے ایک اور ناکامی کا سرپرائز دیا
    ابھی نندن کی رہائی کیلئے انڈیا نے اقوام عالم کیساتھ پاکستان کی بھی منت سماجت شروع کر دی جس پر ونگ کمانڈر ابھی نندن کو اچھی چائے اور کھانا کھلانے کے سرپرائز کے بعد واہگہ کے راستے انڈیا بھجوا دیا گیا
    معرکہ 27 فروری پر میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کیا تھا کہ انڈین اس سرپرائز کو کبھی بھی نہیں بھلا سکیں گے اور ان شاءاللہ ایسا ہی ہے پچھلے سرپرائزوں کی طرح انڈیا اس سرپرائز ڈے 27 فروری کو کبھی بھول نہیں سکے گا

  • پاکستان میں فیلڈ کے بے روزگار صحافی اور ایک امید عمران خان۔۔۔۔۔!  تحریر: ملک محمد رفیع شاکر راجن پور

    پاکستان میں فیلڈ کے بے روزگار صحافی اور ایک امید عمران خان۔۔۔۔۔! تحریر: ملک محمد رفیع شاکر راجن پور

    ایک اندازے کے مطابق پچھلے چھے سالوں میں پاکستان میں 30 کے قریب صحافی اپنی جان گنوا چکے ہیں اور سینکڑوں ایسے ہیں جن پر بااثر اور کرپٹ لوگوں کی طرف سے ناجائز ایف آئی آر درج کرائی گئی ہیں کئی ایسے بھی صحافی ہیں جو حقائق اور کرپشن اور ظلم و زیادتی کو بے نقاب کرنے کی وجہ سے دھمکیوں کا سامنا ہے اور ان صحافیوں کے خاندان آج فاقوں اور کسمپرسی کی حالت کو پہنچ چکے ہیں اور کئی ایسے بھی سینیئر ترین صحافی ہیں جنہوں نے اس ملک قوم اور معاشرے کے لیے اپنی زندگی لٹا دی مگر آج بھیک مانگنے پر مجبور ہیں اور میڈیا صحافتی اداروں سمیت وزارت اطلاعات اور حکومت سمیت کوئی بھی آن کو کسی قسم کی سپورٹ کرنے کو تیار نہیں ہے

    حقیقت یہ ہے کہ اگر یہی فیلڈ میں کام کرنے والے صحافی اپنی دو دن خبریں دینا ہی بند کردیں تو چینلز بند ہو جائیں گے اخبار تک نہیں چھاپے جاسکیں گے جبکہ ان میڈیا چینلز اور اخبارات کو شہرت اور بلندیوں پر پہنچانے والے ٹاپ سٹوری اور بریکنگ نیوز دینے والے سردی گرمی بھوک پیاس دن یا رات سفر اور دھمکیوں اور خطرات کے باوجود بریکنگ نیوز اور سٹوری دینے والے یہی فیلڈ میں کام کرنے والے صحافیوں کے ساتھ میڈیا مالکان کا رویہ دشمنوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویہ سے بھی بدتر ہے

    جب صحافتی ادارے صحافی کو اس کی محنت کا کوئی معاوضہ یا تنخواہ نہیں دیں گے تو آخر مرتا کیا نا کرتا پھر مجبور ہوکر اس نے کسی کرپٹ کو بلیک میل کرنا ہے یا کسی بھی غلط کام کا حصہ بن جانا ہے یا پھر اچھے سچے پڑھے لکھے لوگ صحافت چھوڑتے جائیں گے اور کرپٹ اور برے لوگ صحافت میں گھستے چلے جائیں گے یا پھر مجبور ہوکر فیلڈ میں کام کرنے والے بے روزگار صحافیوں نے کچھ نا کچھ تو کرنا ہے اپنے گھر کا چولہا جلانے اور بچوں کو پالنے کے لیے۔ ہمارے پاکستان میں سب سے زیادہ آج کا صحافی ہی مظلوم ہے جو درحقیقت سب سے زیادہ معاشی استحصال کا شکار ہے اور جھوٹ کا پردہ اوڑھ کر زندگی گزار رہا ہے۔

    پاکستان میں صحافت کے سسٹم اور حکومتوں اور محکمہ اطلاعات کی نااہلی یا منافقت یا اپنی ہی کرپشن کی وجہ سے آج تک اس شعبہ میں کسی قسم کی بہتری کے لیے کوئی اقدامات نہیں ہوسکے ہیں

    کیونکہ بڑے بڑے اخباروں اور ٹی وی چینلز کے مالکان جو سیٹھ نما دولت کے پجاری انسان اور اثرورسوخ والے ہیں ان کے خلاف اور فیلڈ میں کام کرنے والے بے روزگار صحافیوں کے لیے ستر سالوں سے کوئی اقدامات نہیں ہوسکے ہیں

    حقیقت یہ ہے کہ یہ میڈیا مالکان تمام حکومتوں سیاستدانوں بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ اور ججوں سمیت سب کے راز جانتے ہیں اور یہ کسی کے خلاف بھی اپنے اپنے اداروں میں موجود بڑے بڑے قابل لکھاریوں اور اینکرز جو کہ بے چارے اپنی نوکری بچانے کے لیے جب ان کو یہ میڈیا مالکان اشارہ کرتے ہیں تو حکومتوں بیوروکریسی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مہم چلانا شروع کردیتے ہیں جس کی وجہ سے ان میڈیا کے سیٹھوں کو کوئی چھیڑنے کو تیار نہیں ہوتا ہے

    کیونکہ اس حمام میں سب ننگے ہیں جس کی وجہ سے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے سیٹھ نما کرپٹ مالکان فیلڈ میں محنت کرنے والے صحافیوں کو تنخواہ مراعات تو دور کی بات ہے الٹا ان سے نمائندہ بننے کا ہزاروں لاکھوں روپے لیتے ہیں اور سالانہ ششماہی سہ ماہی بزنس اشتہارات کی مد میں علاوہ لیتے ہیں

    اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ایک دن یہ پڑھے لکھے با کردار صحافی جو کسی کو بلیک میل کرنے کے لیے پگڑی نہیں اتارتے بلکہ پروفیشنل طریقے سے مثبت رپورٹنگ کرنے والے ہیں چھوڑتے چلے جائیں گے اور حقیقت میں بھی ایسے ہی بلیک میلر کرپٹ دونمبری کے سرپرست ظالم کے حمایتی صحافی ہم آپ سب کو ملیں گے یا نظر آئیں گے جو واقعی میں بلیک میلر یا کرپٹ یا ان کرپٹ لوگوں کی سرپرستی کرنے والے ہوں گے جبکہ مظلوم کمزور کےے ساتھ کھڑے ہونے والے حق سچ کا ساتھ دینے والے صحافی دور دور تک نظر نہیں آئیں گے جس کے بہت زیادہ منفی اثرات اس ملک پاکستان اور اس معاشرہ پر پڑیں گے کیونکہ جو ارباب اختیار تک سچ کو سو پردوں سے نکال کر باہر لانے والے سچے اچھے اور قابل صحافی نہیں ہونگے تو معاشرے میں ایک بہت بڑا بگاڑ پیدا ہوگا جو پھر کسی سے بھی ٹھیک نہیں ہو پائے گا۔

    بظاہر تو ہم کو بلیک میلر فیلڈ کے صحافی نظر آتے ہیں مگر درحقیقت اصل بلیک میلر صحافتی اداروں کے یہ سیٹھ نما مالک ہوتے ہیں جو ان صحافیوں کو مجبور کردیتے ہیں کہ وہ ان کو کما کر کھلائیں

    ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ملک پاکستان کے خاص طور پر فیلڈ میں کام کرنے والے بے روزگار اور مظلوم صحافیوں کے لیے کچھ اچھے اور ٹھوس اقدامات کریں جس کی امید عمران خان اور فردوس عاشق اعوان مشیر اطلاعات سے آج ان کو لگ رہی ہیں اگر اب بھی ان فیلڈ میں کام کرنے والے بے روزگار مظلوم صحافیوں کی زندگی میں تبدیلی نا آئی تو شائد کبھی نا آسکے

  • مبشر لقمان اور حریم زادے ، بینش علی خان کی نظر میں

    مبشر لقمان اور حریم زادے ، بینش علی خان کی نظر میں

    مبشر لقمان کو مفت میں رگڑا جا رہا ہے مبشر لقمان کا یوٹیوب والا پروگرام میں نے خود دیکھا ہے جس میں راۓ ثاقب اینکر پرسن مہمان بن کر آئے ہیں اب ایک پروگرام میں ایک مہمان جو کچھ کہتا ہے اس کاحق ہے اس کو آزادی رائے کا پورا اختیار ہے۔
    مبشر لقمان کے پروگرام سے ایک دن پہلے سماء چینل کا 31 دسمبر کا پروگرام لائیو وِد ندیم ملک دیکھ رہی تھی جس میں اسد عمر اور زرتاج صاحبہ موجود تھے حریم شاہ کو کال پر لیا جاتا ہے اور وزارتِ داخلہ کے دفتر میں جانے کے بارے میں پوچھا جاتا ہے پاکستان کی حکومت ان دنوں صرف سرکس خانہ بن چکا ہے اس واقعے کے بعد تو اس لڑکی کو اصولاً حوالات میں ہونا چاہیے لیکن پیچھے ایک منسٹر دلال موجود ہو تو پھر قانون جوتی کی نوک پر ہوتا ہے حریم کی بات سننے کے بعد اسد عمر اور زرتاج گل سے اس بات پر جب رائے لی جاتی ہے تو صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کا رنگ اڑ جاتا ہے اور وہ خاندانی عورت ہونے کا کہہ کر اور پولیٹکس میں اپنے کوششوں کا حوالہ دے کر کوئی بھی رائے دینے سے انکار کرتی ہے یہاں صاف پتا لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے اور اس بات کی کڑی مبشر لقمان کے پروگرام سے ملتی ہے اور زرتاج گل کی بوکھلاہٹ سمجھ میں آتی ہے اور پھر زرتاج صاحبہ کا جان بوجھ کر معصوم احتجاج کامران شاہد کے پروگرام میں کہ مبشر لقمان نے اس پر الزام لگایا ہے کہ زرتاج صاحبہ کے پاس کسی عورت کی وڈیوز ہے اور وہ اس نے لیک کی ہے بی بی جذباتی ہو کر رونے لگتی کہ وہ کسی کے ساتھ ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی بھئی پروگرام تو دیکھو کہ الزام مبشر لقمان نے نہیں لگایا رائے ثاقب نے بات کی تھی اب مبشر لقمان کے پروگرامز میں اس سے پہلے بہت سے سیاسی جماعتوں کے لوگ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے آکر کچھ بھی بولتے تھے اس سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں تو یہاں وہ قصور وار کیسے ؟

    فواد چودھری کی مبشر لقمان سے بدتمیزی، اصل حقیقت کیا؟ مبشر لقمان نے جواب دے دیا

    حریم شاہ کی "لیکس” کا سلسلہ جاری، فیاض الحسن چوہان کی کال ریکارڈنگ شیئر کر دی

    شیخ رشید کی کردار کشی، حریم شاہ کو کس نے دیا ٹاسک؟ باغی ٹی وی سب سامنے لے آیا

    حریم شاہ نے کس ملک کی شہریت کے لئے اپلائی کر دیا؟ سن کر فیاض الحسن چوہان پریشان

    ننگے ہونے کے لئے تیار ہو جاؤ، حریم شاہ نے کس کو شرمناک دھمکی دی؟

    سراج الحق بھی……حریم شاہ نے کیا تہلکہ خیر انکشاف

    حریم شاہ کی کسی شخص کے گھٹنے پر بیٹھنے کی تصویر وائرل، وہ شخص کون؟ حریم نے خود بتا دیا

    حریم شاہ کی "لیکس” زرتاج گل بھی میدان میں آ گئیں، کیا کہا؟ جان کر ہوں حیران

    زرتاج صاحبہ الزام یہ نہیں تھا کہ آپ نے کسی عورت کی ویڈیوز لیک کی ہے بات یہ ہے ک اس عورت کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس آپ کی ویڈیوز ہے پی ٹی آئی کے نائٹ ڈانس پارٹی میں بنا لی ہونگی اس نے اب رو دھو کر فیس سیونگ کرو۔
    اب آتے ہیں فواد صاحب کی طرف پہلے تو یہ بندہ انتہائی بدتمیز ہیں وہ اس قابل ہی نہیں کہ سکول میں ٹیچر بن سکے پیشے کے اعتبار سے وکیل اور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی عمران خان کے بلنڈرز میں سب سے بڑا بلنڈر آئے روز کسی نہ کسی کو تھپڑ مار رہے ہیں خاندانی لوگوں کا یہ شیوا نہیں اس بات پر وہ رپورٹ کرتے عدالت جاتے مبشر لقمان کے خلاف خیر مبشر لقمان کو میں زرا بھی قصور وار نہیں مانتی لیکن فواد صاحب نے قانون کو ہاتھ میں لینے کو بہتر جانا کیوں کہ ان کو پتا ہے کہ پاکستان کی عدالتوں کا خدا ہی حافظ ہے دوسرے ملک کے اخبار تو اِن کو امراء کی رنڈی لقب کا دے چکے ہے جو کے غلط نہیں ہے پاکستان میں قانون صرف طاقت وروں کی حفاظت اور غریب کو سزا دینے کے لئے ہے جس کو فواد جیسے بڑے لوگ پھاڑ کر نکل جاتے ہے۔

    حریم شاہ کی دبئی میں کر رہے ہیں بھارتی پشت پناہی، مبشر لقمان نے کئے اہم انکشاف

    حریم شاہ کو کریں گے بے نقاب، کھرا سچ کی ٹیم کا بندہ لڑکی کے گھر پہنچا تو اسکے والد نے کیا کہا؟

    مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    تیسری بات اس عورت کی سب کو کھیل سمجھ میں آگیا ہے ان کی ہر جگہ گھسنے ہر کسی تک رسائی کے پیچھے سوائے فیاض چوہان کے علاوہ کوئی اور نہیں ان کو صرف اس نے پلانٹ کیا سب سے پہلے ایسی جگہوں تک رسائی دے کر ویڈیو اپلوڈ کی جو عوام کی توجہ حاصل کرے اور عوام میں تشویش کی لہر دوڑائی گئی اور اپنے کام نکلوانے کے لئے ان کو بڑے بڑے مگرمچھوں کے بستر تک تب پہنچایا جب مشہور نہیں کروایا تھا اور ساتھ میں اُن کی وڈیوز بنوائی تاکہ وقت آنے پر کام آئے, اور اپنے سیاسی مخالفین یا جن کے ساتھ اختلافات تھے ان کو خراب کرنے کیلئے ان لڑکیوں کا استعمال کیا جیس کا ثبوت مبشر لقمان اور شیخ رشید ہے اور ساتھ میں جن کو خوش کرنا تھا اُن کو اِن لڑکیوں کے زریعے خوش کیا دنیا کا کوئی مرد تیار عورت کو نہیں چھوڑتا پھر اگر وہ ہمارے ٹھرکی رال ٹپکاتے سیاست دان اور بیوروکریٹس ہوں تو چھوڑنا ناممکن اس حریم بہتے گنگا میں سب نے دل کھول کر ہاتھ دھوئے بلکہ نہا لیے, تاریخ کی اوراق میں پی ٹی آئی کی پہلی حکومت کے وزراء اور ایک رنڈی والا باب نہایت سیاہ الفاظ میں لکھا جائے گا دعا ہے کہ اس لسٹ میں وزیراعظم کا نام نا ہو.
    بینش علی خان

  • جلد بازی اور منزل کا حصول ….از…ہمایوں شاہد

    جلد بازی اور منزل کا حصول ….از…ہمایوں شاہد

    لفظ جلدی جس کے لغت میں معنی ہیں کہ کام کو بغیر تاخیر  کے سر انجام دینا. آج ہم اس لفظ(جلدی) کا بغور جائزہ لیں گے وہ بھی بغیر تاخیر کے. ہم دیکھتے ہیں کے جو لوگ ناکام ہوتے ہیں ان کی ناکامی کا راز بھی یہی لفظ یعنی(جلدی) ہے. کیونکہ وہ جب کوئی کام شروع کرتے ہیں تو وہ یہ سوچ لیتے ہیں کے اب ان کا طوطی بولنے لگے گا اور شرق و غرب ان کے نام کے چرچے ہوں گے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے.

    انسان جب بھی کوئی کام یا کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو کامیابی میں منتقل ہونے کے راستے وہ خود اختیار کرتا ہے.اب یہ اس پر منحصر ہے اگر وہ طویل مدتی راستہ اختیار کرتا ہے جس میں سالوں کی محنت اور کوشش تو ہو تو مگر ہو جہد مسلسل۔۔۔۔۔تو عین ممکن ہے کہ واقعی اس کا طوطی بولنے لگے اور اگر وہ دوسرا راستہ اختیار کرتا ہے جس میں راتوں رات طوطی بولنے کی سکیم ہو اور وہ محنت کو قطع نظر کرکے غلط اور مختصر مدت کے راستے کو اختیار کرے گا تو عین ممکن ہے کہ منزل کے قریب اس کے قدم لڑکھڑا جائیں اور وہ منزل سے دور ہو جائے. اب ہم اسی بحث کو تھوڑا سیاسی نظر سے دیکھتے ہیں.

    ہم سب نے یہ دیکھا اور سنا ہو گا کہ یہی وہ لفظ (جلدی) ہے جس نے پاکستان کے دو ٹکڑے کروائے اور پاکستان کو بنگلا دیش کی صورت میں قربانی دینا پڑی. مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان دونوں کے سیاسی لیڈروں کو یہی جلدی تھی کہ فوراً سے پہلے ہی اقتدار ہماری مٹھی میں آجائے یہ سوچے بغیر کے مشرقی پاکستان کو واضح اکثریت حاصل تھی.

    اس لفظ کی اہمیت آپ کو اس بات سے معلوم ہوگی کے اکثر بھٹو یحییٰ خان سے کہتے رہتے تھے کہ جلدی سے اقتدار ہمارے حوالے کیا جائے اس کی دلیل بہت دلچسپ ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے خاندان کے لوگ کم عمر میں ہی فوت ہوجاتے ہیں . اس لیے ان کو اقتدار کی جلدی تھی.ویسے تو ہمیشہ آمریت جمہوریت پر غالب آتی رہی ہے ،

    حالیہ دنوں میں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب تو جمہوریت کے روح رواں دونوں جمہوری جماعتیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن ایک تیسری قوت جو کے جمہوریت میں ایک نئی تاریخ رقم کرکے اقتدار میں آئی ہے اس کے پہ در پے ہےاور یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ پرانی جماعتیں تیسری قوت کی شراکت قبول نہیں کر رہیں اس وجہ سے دونوں ہی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں وہ بھی جلدی.

    اگر ہم حالیہ دنوں میں دیکھے تو تمام اپوزیشن حکومت کا تختہ الٹنے میں سرگرم عمل نظر آتی ہے. اسی کی ایک جھلک ہم نے مولانا کے دھرنے میں دیکھی. پر یہ کوشش یہاں ہی ختم نہیں ہوتی بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ بیان سے تو اس کی جلدی نظر آئی کے اب تو بس اس حکومت کا خاتمہ ضروری ہے. موصوف کہتے ہیں کے متحدہ قومی موومنٹ سندھ حکومت کے ساتھ اتحاد کر کے اس موجودہ وفاقی حکومت کا تختہ الٹ دے .

    یہاں یہ بات زیر غور ہے کہ یہ بات کہہ بھی تو کون رہا ہے( بھٹو کا نواسا) ، جنھیں ہمیشہ اقتدار کی جلدی ہوتی ہے. جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ موجودہ حکومت کو کچھ وقت دینا چاہیے کہ وہ اپنی کوشش کر دیکھیں اور ممکن ہے کہ پاکستان کی ترقی میں وہ بھی کچھ اچھا کردار ادا کر سکیں کیونکہ جب بھی بھی کسی کام کی جلدی کی جاتی ہے تو اکثر اوقات انسان کو ندامت کا سامنا ہی کرنا پڑتا ہے۔

    تو نتیجتاً لفظ جلدی کو اگر ہم محاورہ میں ڈھالیں تو وہ محاورہ ہو گا کہ "جلدی کا کام شیطان کا”. ہم دیکھتے ہیں کے واقعی لفظ جلدی شیطان کا راستہ ہے کیونکہ یہ بات حدیث میں بھی موجود ہے کہ "شیطان” انسان کو جلدی میں ڈال کر نقصان کرواتا ہے۔ لہذٰا ہمیں بحیثیت مسلم و قوم مجموعی طور پر اس قسم کے شارٹ کٹ راستے اور لفظ(جلدی) سے پرہیز کرنا چاہیے

    جلد بازی اور منزل کا حصول ….از…ہمایوں شاہد

  • جنرل قاسم سلیلمانی کی موت کے اسباب ، ذمہ دار کون ؟–از.. ملک جہانگیر اقبال

    جنرل قاسم سلیلمانی کی موت کے اسباب ، ذمہ دار کون ؟–از.. ملک جہانگیر اقبال

    آج صبح اٹھتے ہی پہلی خبر ایرانی میجر جنرل سلیمان قاسمی کی عراق کے بغداد ایئرپورٹ میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کی ملی ، واضح رہے کہ میجر جنرل سلیمان قاسمی پاسدارانِ انقلاب کے یونٹ قدس فورس کے کمانڈر تھے

    سلیمان قاسمی کی قابلیت اور ایران میں انکی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ مشرقِ وسطٰی میں جاری ایران پالیسی انکے دماغ کا شاخسانہ ہے اور کچھ حلقے انہیں ایرانی صدر سے زیادہ طاقتور مانتے ہیں کہ یہ ڈائریکٹ رپورٹ ایرانی سپریم لیڈر کو کرتے تھے ، ایرانی صدر نہ ہی انکی بنائی پالیسی بدل سکتا تھا اور نہ ہی ان کے کسی کام میں مداخلت کرسکتا تھا ۔ اسکے علاوہ بیرونِ ممالک ایران دشمنوں کا صفایا کرنا انکی اولین ترجیح رہی تھی ۔

    اگر سادہ مثالوں سے سمجھاؤں تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی ملک ہماری پاکستانی خُفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کو ریاستی حملے میں قتل کردے اور باقاعدہ اُس ملک کا صدر فخر سے اس کا اعلان کرے ۔
    ایسے میں پاکستان کا کیا ردِعمل ہوگا ؟

    تو بس ٹھیک ایسا ہی ردِعمل اب ایران کا آنے والا ہے ، وہ تمام لوگ جو نئے سال کو امن کا گہوارہ بنانے کی دعائیں کر رہے تھے اُنہیں مطلع کرتا چلوں کہ سال کے آغاز کے تین دِن میں ہی اُنکی اربوں دعائیں لگ بھگ ریجیکٹ ہو چکی ہیں ، مشرقِ وسطیٰ میں آگ و خون کا بازار مزید گرم ہونے کا امکان ہے اور اسکی لپٹیں پاکستان سے سعودیہ عرب تک محسوس کیے جانے کے قوی امکانات ہیں .

    آج شام تک جنرل سلیمان قاسمی کی ہلاکت پہ ایرانی ، پاکستانی ، سعودی ، اسرائیلی و روسی ردِ عمل سامنے آجائے گا ۔ شنید ہے روس اپنی حمایت کا پلڑا ایرانی کھاتے میں ڈالے گا کہ شام میں روس اور جنرل قاسمی ایک دوسرے کا مضبوط دست و بازو بنے رہے ہیں ۔

    سعودیہ یقیناً اس پہ خوشی کا اظہار کرے گا اور کوشش کرے گا کہ پاکستان کو بھی "جانی سمائل” کا پیغام پہنچانے کا عندیہ دے جسے پاکستان ” سوری انکل آپکی آواز صاف نہیں آرہی ” کہہ کر نظر انداز کرے گا اور ایران کا نمبر بلاک لسٹ میں ڈال کر سوچے گا کہ کاش ہمارا اگر اگلا جنم ہوتا تو کوشش کروں گا کہ اس خطے سے بہتر ہے اگلی بار انٹارکٹیکا کے کسی برفیلی میدان میں پڑاؤ ڈالوں جہاں ہمسائے و برادر محض پینگوئن ہُوں نا کہہ کوئی "برادر” ممالک ۔

    اسرائیل یقیناً جنگِی پوزیشن میں آ چکا ہوگا ، یورپ اس وقت ڈونالڈ ٹرمپ کو گالیاں دیتا ہوا کچھ نہیں سوچ رہ ہوگا جبکہ امریکی ..

    خیر امریکی عوام نے ڈونالڈ ٹرمپ کو صدر چنا تھا لہذا ان سے کچھ سوچنے سمجھنے کی توقع کرنا بیکار ہے…
    بہرحال امریکہ و دنیا کو چلانے والی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس نامی عالمی اسٹیبلیشمنٹ بہت خوش ہوگی کہ دنیا جنگ و جدل کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جو جنگ عظیم سوئم میں بھی بدل سکتی ہے لہٰذا اسلحہ ہی اسلحہ بیچا خریدا جائے گا ، دودھ و روٹی کے پیسوں سے انسانوں کو مارنے والی گولیاں خریدی جائیں گی ، ہاتھ پیر کی انگلیاں گھی اور سر کڑاہی میں ہوگا وغیرہ وغیرہ وغیرہ ….

    جنرل قاسم سلیلمانی کی موت کے اسباب ، ذمہ دار کون

    تحریر:از —- ملک جہانگیر اقبال

  • پاکستان "سود خوری” کا نیا عالمی مرکز،مہنگائی کی اصل وجہ اورسرمایہ کاری کی حقیقت ..محمد عاصم حفیظ

    پاکستان "سود خوری” کا نیا عالمی مرکز،مہنگائی کی اصل وجہ اورسرمایہ کاری کی حقیقت ..محمد عاصم حفیظ

    کیا آپ کو پتہ ہے کہ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ شرح سود والے ممالک میں شامل ہو چکا ۔ روزبروز مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے اور عالمی سرمایہ کاری کی حقیقت کیا ہے آئیے اس صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    پاکستان میں اس وقت مہنگائی کی شرح تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح 19.7 فیصد سے 12.63 فیصد کے درمیان ہے ۔

    مجموعی مہنگائی کی شرح 12.63 فیصد ہے لیکن غذائی اجناس کی مد میں شہری علاقوں میں 16.7 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 19.7 فیصد مہنگائی کی شرح نوٹ کی کی گئی ہے ۔ مہنگائی کی شرح عالمی سطح پر ٹاپ دس ممالک میں شامل ہے جبکہ پاکستان کا نمبر آٹھواں ہے ۔ اس لسٹ میں زمبابوے جنگ زدہ ہیٹی سوڈان اور ایتھوپیا جیسے ممالک شامل ہیں ۔

    مہنگائی کی شرح میں اس تیزی سے اضافے کے باوجود حکومت ہر ماہ بجلی گیس اور دیگر ایشیائی ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے ۔ یہ انتہائی حیران کن ہے کہ کیوں کر حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے سے کوئی بھی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھا رہی۔
    آئیے اس کی سب سے بڑی وجہ سمجھتے ہیں ۔

    حکومت نے گزشتہ بجٹ میں انٹرسٹ ریٹ 13.25 فیصد تک بڑھا دیا تھا جو کہ عالمی سطح پر بلند ترین شرح سود والے ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان سے بلند شرح سود والے صرف پانچ سے چھ ممالک ہیں جن میں زمبابوے گھانا ملاوی جیسےممالک شامل ہیں۔

    دوسری جانب مغربی ممالک اور بہت سے ترقی پذیر ممالک بھی شرح سود کم کر رہے ہیں حتی کہ جاپان سمیت کئی ممالک میں شرح سود صفر کردیا گیا ہے۔اب ہو یہ رہا ہے کہ مقامی اور عالمی ساہو کار ۔ امیر افراد اور کمپنیاں جنہیں تیزی سے منافع چاہئے وہ اپنا پیسہ پاکستانی بینکوں میں رکھ رہی ہیں۔

    آپ نے بیرونی و اندرونی سرمایہ کاری میں اضافے کی خبریں پڑھی ہوں گی لیکن دراصل یہ سب کسی صنعتی ۔کاروباری یا معاشی سرگرمی کے لیے نہیں ہو رہا بلکہ صرف بینکوں میں پیسہ رکھا جارہا ہے اور اس کے لیے حکومت نے اب تک کی سب سے بڑی ایمنسٹی سکیم اور سرمایہ کاری میں آسانی کی پالیسی متعارف کرائی ہے ۔

    ملک میں پیسہ تو آ رہا ہے یا مقامی سرمایہ کار جمع کرا رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے کوئی بڑا منصوبہ نہیں شروع کیا گیا یا کارخانے نہیں لگ رہے فیکٹری نہیں لگائی جارہیں روزگار کے مواقع نہیں پیدا ہو رہے بلکہ صرف بینکوں میں پیسہ منتقل کرکے بلند شرح سود کے ذریعے منافع کمایا جارہا ہے۔ اب اسی بلند ترین شرح سود کے مطابق منافع دینے کے لیے حکومت ہر ماہ تیل اور گیس اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کرتی ہے کیونکہ جن بیرونی سرمایہ کاروں نے بینک میں پیسہ رکھا ہے انھیں ہر ماہ اپنا منافع چاہیے۔

    بدقسمتی سے اس سرمایہ کاری سے کوئی بھی مثبت معاشی سرگرمی جنم نہیں لے رہی ۔کیونکہ اگر تو بیرونی سرمایہ کاری سے بڑے منصوبے لگیں فیکٹریاں اور دیگر معاشی سرگرمیاں جنم لیں لوگوں کو روزگار ملے مارکیٹ کے حجم میں اضافہ ہو تو اس سے ملک میں معیشت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہو رہا

    ۔ملکی اور غیر ملکی دونوں قسم کے سرمایہ کار کاروباری و صنعتی سرگرمیوں کی بجائے بینکوں میں رقم رکھ کر اتنا منافع کما رہے ہیں جو کہ انہیں اصل مارکیٹ میں تجارت و صنعتت سے بھی حاصل نہیں ہوگا۔ دوسری جانب یہ حقیقی سرمایہ کاری نہیں ہے یہ سرمایہ کار جب چاہیں گے اپنی رقم نکال کر بیرون ملک لے جائیں گے جس سے مزید معاشی نقصان ہوگا۔ کیونکہ یہ کاروبار کے لیے نہیں آئے ان کی کوئی فیکٹری کارخانہ پراجیکٹ زمین پر موجود ہی نہیں ہے کہ جس کو سنبھالنا ان کے لیے مسئلہ بنے ۔ بس ایک بنک کی ٹرانزیکشن سے وہ اپنا سرمایہ واپس لے لیں گے ۔

    دنیابھر کے ممالک شرح سود کو کنٹرول کرتے ہیں بینک کا منافع کبھی بھی اتنا نہیں بڑھنے دیتے جس سے صنعت و تجارت متاثر ہو اور سرمایہ کار یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ وہ مارکیٹ میں پیسہ لگانے کی بجائے صرف بینک میں رکھ کر بڑا منافع کما سکتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہی ہو رہا ہے ۔ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے شرائط میں کہیں بھی صنعت و تجارت کے شعبے میں پیسہ لگانے کی ترویج نہیں کی گئی کوئی شرط نہیں لگائی گئی جس کی وجہ سے سرمایہ کار اپنا پیسہ بینکوں میں رکھ رہے ہیں اور دنیا کے بلند ترین شرح سود کے منافع سے مستفید ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں یہ اصول ہے کہ سرمایہ کاری کے لیے شعبہ جات مختص کیے جاتے ہیں اور سرمایہ کاروں کو مخصوص شعبہ جات میں ہی سرمایہ کاری کی اجازت دی جاتی ہے۔

    معاشی حوالے سے یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے کیونکہ بلند ترین شرح سود کے منافع کی ادائیگی کے لیے یے مہنگائی کی شرح میں میں روزانہ کی بنیاد پر پر اضافہ کرنا پڑتا ہے ہے غریب عوام سے سے بجلی و گیس کے بلوں پیٹرول و ادویات اشیائے خوردونوش کی مدت میں پیسہ اکٹھا کرکے سرمایہ کاروں کو منافع دیا جا رہا ہے۔

    حکومت کو اپنی پالیسی بدلنی ہوگی شرح سود کو کم کرنا ہوگا اور سرمایہ کاروں کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ صنعت و تجارت کے میدان میں سرمایہ کاری کریں صرف یہی صورت ہے جس سے ہم بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور عوام کو تھوڑا بہت روزگار و ریلیف مل سکتا ہے۔معیشت کو سود کی ترویج کےلئے استعمال کرنے کی بجائے سود سے بچنا بہترین ہیں کیونکہ کہ اللہ تعالی کے ساتھ جنگ ہے اور یہ کبھی بھی مفید نہیں ہو سکتا ۔

    پاکستان "سود خوری” کا نیا عالمی مرکز ۔ مہنگائی کی اصل وجہ اور سرمایہ کاری کی حقیقت ….محمد عاصم حفیظ

    (ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ )

  • میرٹ کا قبرستان سندھ پبلک سروس کمیشن–از–انشال راؤ

    میرٹ کا قبرستان سندھ پبلک سروس کمیشن–از–انشال راؤ

    جس طرح مودی کے بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو حقوق و آزادی کے حصول کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا بالکل اسی طرح پاکستان نیا ہو یا پرانا بالخصوص سندھ میں میرٹ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، گذشتہ کئی دہائیوں سے میرٹ کی بحالی اور میرٹ کی پامالی کے دعووں کو لیکر حکومتوں و اپوزیشن کے مابین الفاظی جنگ چلی آرہی ہے لیکن ہمیشہ سے پاکستان بالخصوص سندھ میں میرٹ کا جنازہ ہی نکلتا آرہا ہے،

    موجودہ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ حکومت میرٹ اور شفافیت پر یقین رکھتی ہے لیکن حکومت شاید بھول رہی ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی، اسی بات کا فائدہ اٹھا کر سندھ سرکار نے تو جدید بادشاہت کا نفاذ کر رکھا ہے، اٹھارہویں ترمیم کے فوراً بعد بادشاہ سلامت سندھ نے کراچی کے شہری اختیارات کے علاوہ یونیورسٹیز اور سندھ پبلک سروس کمیشن SPSC کو گورنر کی بجائے وزیراعلیٰ کے ماتحت کرلیا جسکے بعد سندھ کی سرزمین پر دھوم دھام سے میرٹ کا جنازہ نکالا گیا

    اب اسے میرٹ کا قبرستان قرار دیا جاسکتا ہے، اگر اس ابتری کا جائزہ لیا جائے تو اس کا لائسینس ایک طرف تو ریاست کے نظام نے دے رکھا ہے جبکہ دوسرا اسے عدلیہ نے جائز قرار دے رکھا ہے کیونکہ یہ جسٹس صاحبان ہی ہیں جو خائن بیوروکریٹس کے ساتھ نرم رویہ رکھتے ہیں جسکے نتیجے میں وہ کھل کر اندھیر نگری چوپٹ راج کو شد و مد کے ساتھ جاری رکھتے ہیں،

    کاش اگر سپریم کورٹ کے جسٹس صاحب SPSC کے ان افسران و ممبران کو عبرتناک سزا دے دیتی تو آج ایک بار پھر سے اہل افراد عدالت کے دروازے کھٹکھٹانے پہ مجبور نہ ہوتے، ہوتے، 2017 میں سپریم کورٹ نے SPSC میں میرٹ کے برخلاف بھرتی ممبرز کو باعزت واپسی کا راستہ دیا اور کمبائن کمپیٹیٹو ایگزام 2013 کو مختلف غیرقانونی و میرٹ کی دھجیاں اڑانے کی وجوہات کی بنا پر دوبارہ کروانے کا حکم دیا لیکن دلچسپ بات دیکھیں اس پورے کیس میں کسی ممبر یا افسر کو بدعنوانی و خیانت پر سزا نہیں دی گئی

    حتیٰ کہ کنٹرولر SPSC جمعہ خان چانڈیو کو بھی واپس سبجیکٹ اسپیشلسٹ بنادیا جبکہ وہ شخص لاکھوں خاندانوں کے مستقبل سے کھیل چکا تھا، ہزاروں نااہل افراد کو بھرتی کرنے والے SPSC کے ممبران و افسران کو بخش دیا گیا یہ جانتے ہوے بھی کہ ان ہزاروں نااہل بھرتی افراد نے اگلے تیس سال پاکستان کی ایسی تیسی کرنی ہے لیکن اس کے باوجود کسی کو سزا نہیں دی گئی الٹا ان غریب و اہل افراد کو بھینٹ چڑھادیا گیا جو محنت کرکے پاس ہوگئے تھے، ایسے میں جہاں سزا کا تصور ہی نہ ہو تو بھلا کوئی سوچ سکتا ہے کہ بدعنوانی اور خیانت رک پائیگی،

    ایک بار پھر سندھ پبلک سروس کمیشن میں میرٹ کا قتل عام ہونے پہ اہلیت سراپا احتجاج ہے اور اہل افراد انصاف کے حصول و میرٹ کے لیے عدالت کا سہارا لینے پہ مجبور ہیں لیکن ہوگا وہی جو روایت ہے متعدد پیشیاں ہونگی، پاریش راول اور امریش پوری کی طرح جسٹس صاحبان ڈائیلاگ ماریں گے کہ اگر ہم نے فلاں کچھ لکھ دیا تو تہماری نسلیں یاد رکھیں گی، ہم نے لال قلم چلادیا تو یاد رکھوگے، اپنے لیے خود ہی سزا منتخب کرلو اگر ہم نے کی تو تمہیں لگ پتہ جائیگا وغیرہ وغیرہ اور نظام بدستور کھڈے لائن ہی لگا رہے گا،

    زرا سوچئے کہ اگر عدلیہ دو تین بڑے افسران کو جرم ثابت ہونے پہ کڑی سزا دے دے تو پھر کوئی افسر بدعنوانی و خیانت کرے گا؟ کبھی نہیں، زرا سوچئے جب سابق کنٹرولر جمعہ چانڈیو پہ جرم ثابت ہوا اور اس کی بھرتی بھی میرٹ کے خلاف ثابت ہوگئی اس کے اثاثوں میں بھی بغیر کسی زریعے کے لاکھوں گنا اضافہ ثابت ہوگیا تو پھر عدالت کا اسے بخش دینا کیا دوسروں کو خیانت و بدعنوانی کا لائسینس دینا نہیں؟

    اگر اس وقت عدالت کی طرف سے ملوث افراد کو نشان عبرت بنادیا گیا ہوتا تو دوبارہ کسی کو جرات نہ ہوتی کہ وہ میرٹ سے کھیلواڑ کرے، نہ دنیا نیوز کو پروگرام کرنا پڑتا نہ ہی کسی کو عدالت جانا پڑتا، کبھی کبھی تو مجھے ایسا بھی لگنے لگتا ہے کہ ایسا جج صاحبان اس لیے بھی کرتے ہیں کہ اگر یہ حضرات کیسز کو جلدی جلدی نمٹادینگے اور سخت سزائیں دینے لگیں گے تو پھر لوگ غلط کام کرنا چھوڑ دینگے جب لوگ غلط کام نہیں کرینگے تو پھر ججز کو کون پوچھے گا،

    ان کا گزر پانی کیسے چلے گا، خیر کہا جاتا ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی میرٹ کے بغیر ممکن نہیں، ہاں بالکل مگر پاکستان کو ترقی نہیں چاہئے کیونکہ گزارا تو IMF یا ADB یا کسی ملک سے قرض لیکر ہی چلانا ہوتا ہے وہ بھی نہیں تو بیچاری عوام تو ہے ہی ٹیکسز بڑھادینگے بجلی مہنگی کردینگے گیس کا ریٹ بڑھادینگے سو یوں گاڑی چل جائیگی اس لیے میرٹ کی کیا ضرورت ہے، میرٹ آگیا تو عوام نے اوطاقوں اور ڈیروں پہ آنا جانا چھوڑ دینا ہے کیونکہ پالیسی ساز اہل افراد آجائینگے تو عوام آزاد ہوتی جائیگی،

    اس کے علاوہ آئے دن ہم سنتے ہیں کہ DG/ISPR صاحب پریس کانفرنس کررہے ہوتے ہیں کہ ملکی سلامتی کو خطرہ ہے دشمن ففتھ جنریشن وار مسلط کر رکھی ہے وغیرہ وغیرہ لیکن مجھے حیرت ہے کہ سالوں سے نیشنل سیکیورٹی کے نام پہ قوم کے پیسے کا بیڑہ غرق کیا جارہا ہے لیکن جنگلیوں کی طرح لڑنے کے سوا آج تک ایک کام بھی ایسا نہیں کیا گیا جس سے نوجوان نسل میں مایوسیاں ختم ہوں، نوجوان نسل وڈیروں و سیاستدانوں کی گرفت سے آزاد ہوں، ان کے ذہنوں میں غلط نظام و ناانصافیوں کی وجہ سے ریاست سے نفرت کا عنصر پیدا نہ ہو،

    مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس ملک کے تھنک ٹینک و پالیسی ساز چاہتے کیا ہیں، ایک بات تو طے ہے یا تو وہ بدنیت ہیں یا نااہل ہیں جو انہیں یہ تک نہیں پتہ کہ نیشنل سیکیورٹی کے لیے سب سے اہم ترین چیز میرٹ اور قانون کا عملی نفاذ ہے یاد رہے کہ میرٹ کے بغیر نہ تو قانون کا عملی نفاذ ممکن ہے نہ ہی کرپشن و بدعنوانی کا خاتمہ ہوسکتا ہے، اور یہ بات بچے بچے کو پتہ ہے کہ میرٹ کی کتنی اہمیت ہے اگر نہیں پتہ تو بس اسٹیبلشمنٹ کو نہیں پتہ یا پھر وہ بدنیت ہے وہ نہیں چاہتے کہ عوام آزاد ہو،

    حالانکہ میرٹ کا نفاذ کوئی راکٹ سائنس نہیں دو دن میں مکمن ہے ایک دن میں ہوسکتا ہے بس تھوڑا ڈنڈا اٹھانا پڑتا ہے یہ بدعنوان بیوروکریٹ مافیا تو ایسی سیدھی ہو کہ دنیا میں مثال دی جانے لگے گی مگر بات وہی ہے کہ نیت ٹھیک نہ ہو تو ایک صدی تک سسٹم ٹھیک نہیں ہوسکتا اس لیے پاریش راول و امریش پوری والے ڈائیلاگ چلتے رہتے ہیں،

    کپتان صاحب کہتے ہیں کہ میرٹ کا نفاذ انکی اولین ترجیح ہے تو بھائی کب کروگے 16 مہینے گزرنے کے بعد بھی نسٹ یونیورسٹی میں یہ کہنا پڑے تو پھر کیا الفاظ کہوں بس اللہ ہی حافظ، NTS یا دیگر نجی ٹیسٹنگ سروسز ہزاروں افراد کا تحریری ٹیسٹ لیتی ہیں اور چند گھنٹوں بعد حاصل کردہ نمبرز کیساتھ نتیجہ جاری کردیتی ہیں

    لیکن واحد انوکھا ادارہ سندھ پبلک سروس کمیشن ہے جو ایک تو نتیجہ دینے میں مہینے یا سال لگا دیتا ہے اور حاصل کردہ نمبر تو ان کو بھی معلوم نہیں ہوتے جو اپائنٹ ہوتے ہیں یا اپائنٹ کرنے والے ہیں، کپتان صاحب اگر آپکی ترجیح واقعی میرٹ کی بحالی ہے اور آرمی چیف صاحب واقعی آپ سنجیدہ ہیں ملکی سلامتی کے لیے تو خدارا اس طرف دھیان دیجئے سندھ میں لسانیت کارڈ کو ریاست مخالف استعمال کیا جاتا ہے

    خدا کے لیے میرٹ کے نفاذ کو یقینی بنائیے تاکہ یہ لسانیت کارڈ ہمیشہ کے لیے ختم ہو اور لوگوں کا ریاست پہ اعتماد بحال ہو، سندھ پبلک سروس کمیشن جوکہ میرٹ کا قبرستان ہے اسے آڑے ہاتھوں صحیح کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ میرٹ کا قبرستان نااہل افراد کو بھرتی کر کر کے ملکی اداروں اور معاشرے کو قبرستان بنادیگا جو آگے چل ملک و قوم کا قبرستان بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ

  • قائد اعظم ایک اصول پسند شخصیت–از–عبدالحمیدصادق

    قائد اعظم ایک اصول پسند شخصیت–از–عبدالحمیدصادق

    امریکی مورخ ’’سٹینلے والرٹ‘‘ اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’جناح آف پاکستان‘‘ کی ابتداء ان الفاظ سے کرتا ہے ’’بہت کم شخصیات تاریخ کے دھارے کو قابل ذکر انداز سے موڑتی ہیں اس سے کم وہ افراد ہیں جو دنیا کا نقشہ بدلتے ہیں اور ایسا تو شاید ہی کوئی ہو جسے ایک قومی ریاست تخلیق کرنے کا اعزاز حاصل ہو۔

    جناح نے یہ تینوں کام کر دکھائے۔‘‘ایسے تمام افراد جنہوں نے دنیا میں کچھ بڑے کام کیے ہوتے ہیں، ان میں کچھ ایسی خوبیاں پائی جاتی ہیں جو انہیں باقی لوگوں سے ممتاز رکھتی ہیں ۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا شمار بھی ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے تاریخ کو ایک نیا رخ دیا۔ ظاہری طور پر دبلے پتلے اورکمزور، لیکن اصول پسندی، پختہ عزم و یقین، صاف گوئی، انصاف پسندی، خوش مزاجی اور پابندی وقت جیسی عظیم خوبیاں ان کی زندگی کا حصہ تھیں۔ یہی وہ خوبیاں تھیں کہ جن کا اعتراف دشمن بھیکیا کرتے تھے۔

    یہی وجہ تھی کہ انگریزوں اور ہندوئوں کے بڑے بڑے کردار بھی آپ کے سامنے نظریں جھکا لیا کرتے تھے کہ ایک اصول پسند آدمی کے سامنے خود کو کس طرح بڑا بنا کر پیش کریں کیونکہ بڑا آدمی وہ نہیں جس کے پاس سلطنت یا پیسہ زیادہ ہو بلکہ بڑا آدمی وہ ہے جو اصول پسند اور وقت کا پابند ہو۔ قائداعظم محمد علی جناح کے اصول ان کی زندگی کی سب سے قابل قدر چیز ہیں۔ ان کی زندگی کے راہنما اصول ہمارے لیے واضح پیغام ہیں۔

    ان کی اصول پسندی کا ہی نتیجہ تھا کہ برٹش انتظامیہ اورکانگرس پارٹی کی راہ میں ایک یہی شخص سب سے بڑی رکاوٹ تھا، جس کا آ ہنی حوصلہ اور صبر و استقلال سب کے لیے باعث حیرت اور باعث تشویش تھا۔قائداعظم محمد علی جناح کی اصول پسند زندگی کے چند ایک واقعات آپ کی خدمت میں گوش گزار ہیں۔23 مارچ 1941ء کی بات ہے کہ قائداعظم کو لاہور ریلوے اسٹیشن کے سامنے والی مسجد میں نماز عصر ادا کرنا تھی ۔ جب وہ تشریف لائے تو مرزا عبدالمجید تقریر کر رہے تھے۔

    قائداعظم کو داخل ہوتے دیکھ کر لوگوں نے اگلی صف تک راستہ بنانا شروع کر دیا۔ اتنے میں ایک لیگی کارکن نے کہا :’’سر ادھر سے آگے بڑھیے‘‘ تو قائداعظم نے جواب دیا: ’’میں آخر میں آیا ہوں اس لیے یہاں آخر میں ہی بیٹھوں گا۔‘‘ قائداعظم چاہتے تو آگے بڑھ سکتے تھے لیکن انہوں نے آخر میں بیٹھنے کو ترجیح دی۔

    اسی طرح ایک بار قائداعظم گورنر جنرل ہاؤس کے جنوبی صحن میں چہل قدمی کر رہے تھے اور نیوی کے اے ڈی سی لیفٹیننٹ ایس ایم حسن تھوڑے فاصلے پر ان کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ سیر کے دوران وہ خلاف معمول ذرا آگے بڑھ گئے اور گورنر جنرل ہاؤس کے جنوبی گیٹ کے بالکل قریب جا نکلے جہاں ایک ایسا نیا سنتری کھڑا تھا جس نے قائداعظم کو روبرو نہیں دیکھا تھا۔ سنتری نے کہا یہیں رک جائیے جناب! آپ آگے نہیں جا سکتے، اجازت نہیں ہے۔ قائداعظم نے کہا
    ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔

    سنتری نے کہا نہیں جناب! یہ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ کسی شخص کو اس نشان سے آگے جانے کی اجازت نہیں، یہی آرڈر مجھے ملا ہے اور اس کی پابندی کروانا میرا فرض ہے، اس پر قائداعظم نے ہاں میں سرہلا دیا۔پاکستان بننے کے بعد قائداعظم کو سالگرہ کے موقع پر بے شمار خطوط موصول ہوئے، ان میں سے ایک خط پنجاب کے ایک پرانے مسلم لیگی خان بہادر کا بھی تھا۔

    سیکرٹری نے یہ خط آپ کو پیش کیا اور کہا کہ جناب یہ خط پنجاب سے خان بہادر نے بھیجا ہے، لکھا ہے آپ میرے مرشد ہیں اور مسلم لیگ میرا مذہب ہے، میں مسلم لیگ کے لیے ہر قربانی دینے لیے تیار ہوں، انہوں نے سالگرہ کا تحفہ بھی بھیجا ہے۔ اتفاق سے اس خط پر ٹکٹ نہیں لگے تھے۔۔ قائداعظم نے خط کے مندرجات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ جواب میں لکھو کہ آپ کے خط پر ٹکٹ نہیں تھا،

    بغیر ٹکٹ کے خط وصول نہیں کیے جاتے، سیکرٹری نے غلطی سے آپ کا خط لے لیا، ہر روز بے شمار بے رنگ خط وصول کیے جائیں تو مسلم لیگ کے پیسے کا ضیاع ہو گا۔1947ء کے اواخر کی بات ہے کہ قائداعظم کے بھائی احمد علی گورنر جنرل ہاؤس میں ان سے ملنے کے لیے آئے اور بڑے فخر سے اپنے ملاقاتی کارڈ پر اپنے نام کے ساتھ قائداعظم گورنر جنرل کا بھائی کے الفاظ لکھ کر کارڈ قائداعظم کے اے ڈی سی گل حسن کو دیا اور کہا کہ قائداعظم کا بھائی ہوں۔

    بھائی اور قائداعظم کا۔۔۔ اے ڈی سی کو کچھ لحاظ تو کرنا ہی تھا، انہوں نے کارڈ فوراً قائداعظم کو پیش کیا۔۔۔ اس کو توقع تھی کہ قائداعظم دیکھ کر بہت خوش ہوں گے لیکن قائداعظم نے اے ڈی سی سے پوچھا یہ ملاقاتی کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا سر آپ کے بھائی ہیں۔ قائداعظم نے پوچھا کیا انہوں نے وقت لیا تھا؟ جس پر گل حسن نے جواب دیا کہ سر انہوں نے وقت تو نہیں لیا تھا۔

    قائداعظم نے سرخ پنسل سے ’’قائداعظم گورنر جنرل کا بھائی‘‘ کے الفاظ کاٹنے کے بعد کہا
    ان سے کہوکہ کارڈ پر صرف اپنا نام لکھے۔ انہوں نے یہ کارڈ لے جا کر قائداعظم کے بھائی کو دیا اور کہا کہ یہ الفاظ قائداعظم نے خود کاٹے ہیں، وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہاں صرف اپنا نام لکھیں پھر ممکن ہے قائداعظم سے ملاقات کر لیں۔دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک پرجوش مسلم لیگی کارکن عبدالستار خیری کو حکومت نے گرفتار کر لیا۔ دوران قید قائداعظم کو بارہاخط بھی لکھتے رہے۔ جب رہا ہوئے تو قائداعظم کا شکریہ ادا کیا کہ آپ نے میری رہائی کے لیے بہت کوششیں کیں، جس پر قائداعظم فرمانے لگے کہ میں اصولاً یہ بات گوارا نہیں کر سکتا کہ بغیر مقدمہ چلائے اور بغیر عدالتی کاروائی کے کسی شخص کی آزادی صلب کرلی جائے۔

    جب کوئی فرد یا قوم اپنے وقت کی صحیح معنوں میں قدر کرنا جان جاتی ہے تو دنیا کی تمام کامیابیاں ان کے قدموں کی خاک بن جاتی ہیں۔ پہلے وہ وقت کو اپنے لیے اہم بناتے ہیں، پھر وقت ان کو لوگوں کے لیے اہم بنا دیتا ہے۔ وقت بڑی تیزی کے ساتھ گزر جاتا ہے اور جو شخص وقت کی اس تیزی سے فائدہ نہیں اٹھاتا وقت اس کو اٹھا کر کامیابیوں سے دور پھینک دیتا ہے۔

    قائداعظم محمد علی جناح کی سب سے بڑی خوبی جس نے انہیں کامیاب کیا وہ وقت کی پابندی تھی۔ اس بارے میں قائداعظم کے کئی واقعات بہت مشہور ہیں۔ سب سے دلچسپ اور انوکھا واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاکستان بننے کے بعد سٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کیا گیا۔قائداعظم اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ وہ ٹھیک وقت پر تشریف لائے لیکن کئی وزراء اور سرکاری افسران اس تقریب میں نہیں پہنچے تھے، جن میں وزیر اعظم لیاقت علی خان بھی شامل تھے۔

    اگلی قطار کی کرسیاں جو افسران اور وزراء کرام کے لیے مخصوص تھیں، خالی پڑی تھیں۔ یہ منظر دیکھ کر قائداعظم غصے میں آگئے اور حکم کیا کہ پنڈال سے تمام خالی کرسیاں اٹھا دی جائیں تا کہ جو حضرات بعد میں آئیں، انہیں کھڑا رہنا پڑے۔ اس طرح انہیں احساس ہو گا کہ پابندی وقت کتنا ضروری ہے۔ حکم کی تعمیل ہوئی۔ پروگرام شروع ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی جناب وزیر اعظم لیاقت علی خان تشریف لائے تو ان کے ساتھ چند وزرا ء بھی تھے۔

    پنڈال میں موجود کسی شخص کو جرأت نہ ہوئی کہ ان کے لیے کرسی لائے یا پنی نشست پر انہیں بٹھائے۔ تقریب کے دوران لیاقت علی خان اور ان کے ساتھ آنے والے وزرا کھڑے رہے۔ ان کا مارے شرمندگی برا حال تھا۔ اس واقعہ کے بعد کسی اعلیٰ افسر کو جرأت نہ ہوئی کی تقریب میں دیر سے آئے۔دسمبر1941 ء میں آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا اجلاس منعقد ہوا۔ سیشن کے آخری روز مقامی طلبا نے قائداعظم سے ملنے کا وقت لیا اور کسی وجہ سے پندرہ منٹ لیٹ ہو گئے۔

    قائداعظم نے اپنے سیکرٹری سے کہا
    ’’مطلوب الحسن!
    ان سے کہہ دو کہ تم لیٹ ہو گئے ہو۔ اب میں تم سے نہیں مل سکتا، کل وقت لے کر آئو۔‘‘ اگلے روز جب وہ طلبا حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی بہتری کے لیے ایسا کیا، آپ نوجوان ہیں، آپ کو وقت کی قیمت کا احساس ہونا چاہیے۔عزیز طلبا! آج ہم بھی نوجوان ہیں، کیا ہمیں بھی وقت کی قیمت کا احساس ہے؟’’

    آج ہمارے پاس وقت جیسی عظیم نعمت موجود ہے ہم اس کی قدر کر لیں گے تو یہ وقت آنے والے دنوں میں ہمیں عظیم بنا دے گا اور اگر آج وقت کی اہمیت کو نہ جانا تو کل بھی دنیا میں ہمیں کوئی پہچاننے والا نہ ہو گا۔‘‘لیڈر کبھی بھی آسمانوں سے نہیں اترتے بلکہ روئے زمین پر بسنے والے انسانوں میں سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے افراد جو اپنے اندر خدمت انسانیت کا جذبہ رکھتے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو غنی کر دیتے ہیں اور امت کی آسانی کے لیے ان کی راہیں ہموار کر دیتے ہیں۔

    قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی کو اگر ہم دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے وہ کس قدر، نڈر، بے باک، بے لوث، سچائی کے پیکر، نظم و ضبط کی اعلیٰ مثال، مخلص، اصول پسند، محنتی اور عوام دوست تھے۔ جب کسی انسان میں اتنی ساری خوبیاں اکھٹی ہو جائیں تو بلاشبہ وہ انسان کو انسانیت کے اعلیٰ درجے پر پہنچا دیتی ہیں۔ اسی لیے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے فرمایا تھا کہ

    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟
    قائد اعظم ایک اصول پسند شخصیت
    تحریر: عبدالحمید صادق

  • آنسوؤں کو دفاع میں بدلو!!!! تحریر: محسن نصیر

    آنسوؤں کو دفاع میں بدلو!!!! تحریر: محسن نصیر

    حمزہ نے کہا، میں فرسٹ ائیر میں تھا جب یہ دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا تھاایک دن پہلے سب کچھ نارمل تھاحملے کے دن فرسٹ ائیر کوچھٹی تھی_ میں نے سب کو بکھرے ہوئے اور آنسوؤں کی حالت میں بیدار پایامیں اپنے دوستوں کے بارے میں سوچ کر صدمے میں پہنچ گیاجو حملے کے دوران سکول میں موجود تھے_ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا اموات کی تعداد بڑھتی جا رہی تھیاور میں اپنے قریبی ساتھیوں کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کر سکا

    مجھے سکول میں رہ کر علم اور حکمت حاصل کرنا تھا اور مسائل پر قابو پانا تھا جسکا مجھے مستقبل میں سامنا کرنا تھا اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کونسی طاقت مجھے علم حاصل کرنے سے روکنے کی کوشش کرتی ہے ہمارے کاج کی عمارتوں کے ساتھ چلتے ہوئے یہ دہشت اب بھی ہمارے دل میں ہے لیکن یہ ہمیں مزید مطالعہ کرنے اور ہمارے حوصلے بلند کرنے کی ہمت دیتی ہے_

    احمد نے کہا، تعلیم کا مطلب ہر وہ چیز ہے وہ تمام یادیں اور احساس ہے اور دہشت گردوں کو میرا پیغام یہ ہے تم نے ہمیں قتل کرنے جی کوشش کی، اسکے بجائے آپ نے ہمیں لافانی بنایا_ ہماری یاد ہمیشہ زندہ رہے گی، اور سب کو حوصلہ، طاقت اور امید فراہم کرے گی_

    دونوں طلباء اے پی ایس کے حملے کا شکار ہیں وہ اپنے دوستوں کو 16 دسمبر 2014 کو صبح ساڑھے دس بجے کھو بیٹھے تھے، تحریک طالبان کے سات بندوق بردار اسکول میں داخل ہوئے اور طلباء اور عملے کو مارنا شروع کر دیا اس دن آٹھ سے اٹھارہ سال تک کے 140 سے زیادہ بچے اس دن شہید ہوئے اور متعدد زخمی ہوئے_

    بھائیو! دہشت گردی اب ہمارے لئے ایک بہت بڑا خطرہ بن گیا ہے اس نے ہم میں بڑھے پیمانے پر خوف کو جنم دیا ہے ہمیں پاکستان کے ایک وفادار شہری کی حیثیت سے اس طاقت اور بہادری کے ساتھ اس خطرہ اور خطرے کا سامنا کرنا چاہیے ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے اس طرح دہشت گردی کے اس خطرے کے کچھ موثر حل بھی ہیں اگر ان کا صحیح طریقے سے عمل کیا جائے گا_

    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :
    ” جن لوگوں نے کفر کیا وہ چاہتے ہیں کہ تم ذرا اپنے ہتھیاروں اور سامان سے غافل ہو جاؤ تو تم پر یکبارگی حملہ کر دیں اگر تم بارش کے سبب تکلیف میں یا بیمار ہو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ہتھیار اتار رکھو مگر ہوشیار ضرور رہنا اللہ نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے_(102:4)

    آج ہم 1990 کی دہائی کے آخر سے بدتر حالات کا سامنا کر رہے ہیں_ روزانہ نیوز چینلز اور اخبارات، جرائم کی کہانیاں، خودکش دھماکوں اور بہت سے چھوٹے چھوٹے حالات سے بھرا ہوا ہےجسکا مستقبل میں خطرہ ہو سکتا ہے اور متعصب میڈیا کے ذریعہ بھی انکی اطلاع نہیں ہے جسکی وجہ سے ہماری پوری قوم ناامیدی اور بالآخر بے عمدگی کی گہرائیوں میں جارہی ہے عمدگی کی ریڑھ کی ہڈی ہے آج ان وجوہات کی بنا پر نوجوان کچھ مایوس، ناامید اور بے بس ہیں لیکن ان سب کے علاوہ نوجوان ابھی بھی سرنگ کے اختتام پر روشنی کے منتظر ہیں یہاں تک کہ انہوں نے عملی میدانوں میں خود کو آگے بڑھایا ہے لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان کے پاس وہی کرنے کی طاقت نہیں ہوتی وہ جو کرنا چاہتے ہیں موجودہ منظر نامے سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ این سی سی (نیشنل کیڈٹ کور) کے لئے شہریوں کو تحفظ کے لیے متحرک کرنے کے لیے نوجوانوں کی تربیت کا اب سے موزوں وقت ہے جب خودکش حملے ہماری روزمرہ کی زندگی کا ایک حصہ بن چکے ہیں تو بھارت، بلوچستان، فاٹا اور کشمیر میں ہمارے خلاف غیر سرکاری جنگ لڑ رہا ہے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ انڈیا ہمارے پڑوسی افغانستان میں بیٹھ کر ہمارے خلاف کھیل کھیل رہا ہے
    جب بھارت نے ہمارے پانی کو دریائے چناب اور راوی میں روک دیا ہے، دفاعی اور تجویزاتی تجزیہ نگاروں کا نظریہ ہے کہ اگلی جنگ بہت جلد متوقع ہے اور اس جنگ کی وجہ پانی کا مسئلہ اور دیگر مسائل سرفہرت ہونگے_

    المیہ یہ ہے جب ہم اس قسم کی تربیت کی بات کرتے ہیں تو لوگ سوچتے ہیں ہم انتہاپسند ہیں ہم جنگ کو دعوت دے رہے ہیں خوابوں کی ناممکنات اور خیالات اور افعال کی منفی سمت کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے لیکن اس نقطہ نظر کے لوگوں کو اسرائیل میں یوتھ بٹالین کی تربیت کا علم نہیں ہو سکتا اسرائیل میں ایک طالبعلم کو دسویں جماعت کی ڈگری نہیں دی جاتی جب تک وی ایک ہفتہ کی ٹریننگ پاس نہ کرے ایک ماہ کی تربیت کے بغیر انٹرمیڈیٹ ڈگری اور گریجویٹ ڈگری کے لئے تین ماہ کی تربیت نہیں دی جاتی ہے اس تربیت کے تحت ہر بھرتی ایک بنیادی تربیتی پروگرام میں جاتا ہے جہاں انہیں فوج کے نظم و ضبط شوٹنگ، ابتدائی طبی امداد، کیمیائی اور حیاتیاتی جنگ سے متعلق معلومات اور جسمانی فٹنس کی تعلیم دی جاتی ہےیہ تربیت قومی دفاعی خدمت قانون 1986 کے تحت کچھ مستثنیات کے ساتھ مطلوب مرد اور خواتین دونوں کے لئے لازمی ہے یہ دنیا کا واحد ملک ہے جو خواتین کے لیے لازمی قومی خدمات کع برقرار رکھتا ہے اسرائیل جیسے چھوٹے سے ملک کی چستی کا راز اپنے نوجوانوں کے لیے لازمی فوجی تربیت کی پالیسی ہے اسرائیل نے بہت سی جنگیں لڑی ہیں 1948،1967 اور 1973 میں اور وہ ہمیشہ ان جنگوں کو جیتے اور اسکی وجہ یہی ہے کہ اسکی آخری آبادی اسکے آخری مرد اور عورت تک ایک سپاہی کی حیثیت سے لڑاکا ہے

    ہندوستان نے بھی اس طرح کی تربیت کا آغاز کیا ہے نیشنل کیڈٹ کارپس (دہلی) نے 1948 کے نیشنل کیڈٹ کور ایکٹ کے ساتھ تشکیل دی یہ ایک رضاکارانہ تنظیم ہے جو پورے ہندوستان میں ہائی اسکولوں اور کالجوں سے کیڈٹس کی بھرتی کرتی ہے _

    نیشنل کیڈٹ کور، جانباز، مجاہد فورس پاکستان میں وہ قسم کی فوجی تربیت ہے جو 2002 تک کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء کع دی جاتی تھی جب پرویز مشرف نے اس تربیت کا روکا تھا ان کے تحت، پاکستان کے محب وطن اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو ابتدائی طبی امداد کی سرگرمیوں بنیادی ہتھیاروں کے استعمال اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تربیت دی گئ تھی جس میں جنگ یا لڑائی سے متعلق حالات بھی شامل ہیں اس وقت ان خطرات، سازشوں اور غیر یقینی کی صورتحال بہتر جانتے تھے جنکا سامنا ہمارا ملک (داخلی دشمن) اور بین الاقوامی دشمنوں کی شکل میں بھی کر رہا ہے_

    اس قسم کی تربیت آرمڈ فورس اور سویلین کے مابین پائے جانے والے اختلافات کو کم کرتی ہے جنکو دشمن بدتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں_کیڈٹ کور /سویلین آرمی ایک مخصوص فوج کی حیثیت سے خدمات انجام دے سکتی ہے فوج کے ذخائر فوج کی افرادی قوت کی ضروریات کو پورا کریں گے _

    ریزرویونٹس فلسطینیوں کی حالیہ لہر میں اسرائیلیوں کی طرح دفاعی شیلڈ جیسے بہت سے آپریشن کرتی ہیں مزید برآں، تربیت یافتہ کیڈٹ عوامی سول ٹرانسپورٹ، تعلیمی اداروں، کھلی منڈیوں اور پارکنگ لاٹوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ چوکیوں پر مدد کرنے جیسے دیگر سول خدمات انجام دے سکتے ہیں_

    مزید یہ کہ این سی سی دفاع کی دوسری لائن کے طور پر کام کرتی ہے وہ آرڈیننس فیکٹریوں کی مدد کے لیے کیمپوں کا اہتمام کر سکتے ہیں محاذ کو اسلحہ اور گولا بارود کی فراہمی کرتے ہیں اور دشمن کے پیرا ٹروپرز کو پکڑنے اور مشتبہ خودکش بمباروں کی شناخت اور گرفتاری کے لئے پٹرولنگ ٹیم کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھااین سی سی بچاؤ کے کاموں اور ٹریفک کنٹرول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے لیے سول ڈیفینس حکام کے ساتھ بھی کام کرسکتے ہیں تاہم این سی سی کے پچھلے نصاب کو مزید جدید بنانے کے لیے نظر ثانی کی جانی چاہیےجیسے ہندوستان نے 1965 اور 1971 کی ہند پاک جنگ کے بعد این سی سی نصاب میں نظر ثانی کی تھی محض دفاع کی دوسری لکیر ہونے کی بجائے این سی سی کو اپ گریڈ کیا گیا تاکہ وہ قیادت والی خصوصیات کی نشوونما کو بڑھا سکیں_

    بھارت اور اسرائیل ہمارے خطرناک دشمنوں میں شامل ہیں دونوں ہی نوجوانوں کو این سی سی کی تربیت دے رہے ہیں پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں کیوں نہیں؟بحیثیت مسلمان ملک ہمیں ہر طرح کی صورتحال کے لیے تیار ہونا چاہیئے ہمارے مذہب کی بھی ضرورت ہے طاقت کو متوازن کرنا چاہیے اگر آج نہیں، اس ہنگامہ خیز دور میں تو پھر صحیح وقت کب آنے والا ہے؟

    اب وقت آگیا ہے کہ سول طرف سے بھی قومی محب فوج تیار کی جائے ان مشکل وقتوں میں ہمیں تعلیم اور دفاع کی وزارتوں کے اشتراک سے اپنے نوجوانوں کے لئے لازمی فوجی تربیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے

    ہمیں نوجوانوں کو جدید ہتھیاروں اور آلات کے استعمال کے لیے تیار کرنا ہوگا تاکہ نوجوان شہری جنگ کو سنبھالنے کی ذمہ داری بھی نبھا سکیں جو ہم پر عائد کی گئی ہے اور شہروں، قصبوں اور گلیوں کی حفاظت کی جاسکے ہماری فوج پہلے ہی بہت زیادہ دباؤ سے نمٹ رہی ہے وہ نہ صرف ہماری سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں بلکہ مساجد اور اداروں کی حفاظت بھی کر رہے ہیں نہ صرف سرحد پر جانیں دے رہے ہیں بلکہ ملک کے اندر بھی شہادتیں پیش کر رہے ہیں ہمیں اس پاک سر زمین کو بچانے کے لیے اپنی پاک فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا پڑے گا جب محب وطن، بصیرت، اچھی طرح سے لیس اور حوصلہ افزائی کرنے والے نوجوان فوج کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے، تو کبھی بھی کوئی بری طاقت ہمارے ملک اور عوام کے ساتھ بری نیت رکھنے کی جرت نہیں کرسکتی_

    ہمیں اپنی درخواست کو باضابطہ حکام کے سامنے پیش کرنے کے لیے کھڑا ہونا پڑے گا ہمیں آنے والے وقتوں کے لیے باضابطہ طور پر تیار ہعنے کی ضرورت ہے ہم بہترین کے لیے امید کرتے ہیں لیکن کسی بھی صورت میں ہمیں بد ترین کی تیاری کرنی ہو گی یہ ایکشن پلان ہے جو زندگی کے تمام فاتح تخیل کو حقیقت میں، تصور کو حقیقت میں بدلنے اور خوابوں کو اصل مقاصد میں اور بالآخر عمل میں بدلنے کے لئے استعمال کرتے ہیں نوجوانوں کے پاس آج خواب، محرکات اور امیدیں ہیں اور وہ پاکستان کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں ہمیں صرف اس مثبت توانائی کو کچھ نتیجہ خیز کاموں میں تبدیل کرنا ہے_

    آئیے سب پاکستان کے امن و خوشحالی کے لیے دعا کریں اور ہر سطح پر پاکستان کے دفاع کیلئے کچھ نہ کچھ اپنا کردار ضرور ادا کریں _

    پاکستان زندہ باد

  • ایک دن دو سانحے اور مجرم ایک!!!!تحریر: غنی محمود قصوری

    ایک دن دو سانحے اور مجرم ایک!!!!تحریر: غنی محمود قصوری

    16 دسمبر 1971 کو دشمن کی مدد سے اپنے ہی غداروں نے مکتی باہنی بنا کر پاکستان کو دولخت کر دیا تھا حالانکہ دنیا گواہ ہے کہ چند دن کے گولہ بارود ہونے کے باوجود ہماری بہادر افواج تقریبا سات ماہ تک لڑی اور آخر کار عالم اسلام کی وہ مایہ ناز فوج کے جس نے 1948 اور 1965 میں انڈیا کو چھٹی کا دودھ یاد کروایا تھا اور عرب اسرائیل جنگ میں کہ جب عالم اسلام کے کئی خلیجی ملک اسرائیل کے قبضے میں جا چکے تھے اس وقت تل ابیب کا خاک غرور میں ملایا تھا اس اسلامی جہادی فوج نے ورنہ یقینا اسرائیل ایک اٹامک پاور ہوتا اور دنیا کا نقشہ آج یہ نا ہوتا مگر افسوس کہ وہ فوج اپنوں کی غداری کی بدولت ہتھیار پھینکنے پر مجبور ہو گئی اور پھر ڈھاکہ ڈوب گیا
    ہم نہیں بھولے سقوط دھاکہ اور ہم نہیں بھولے سانحہ اے پی ایس 16 دسمبر 2014 کو ایک بار پھر ہمارے ازلی دشمن بھارت نے ہمارے ملک کے اندر سے ہی غداروں اور دین کے نام نہاد دعویداروں کو خریدا اور پشاور میں بچوں کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کرتے ہوئے ڈیڑھ سو سے زائد بچوں کو شہید کر دیا اور اس بار مکتی باہنی کا کردار دین کے نام نہاد دعویداروں ٹی ٹی پی یعنی تحریک طالبان پاکستان نے ادا کیا مگر میں قربان افواج پاکستان اور عوام پاکستان پر کہ جنہوں نے مل کر مقابلہ کیا اور ٹی ٹی پی کے تمام سورمے جہنم واصل کر دیئے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا کہ اب ارض پاک کے بچے سکول نہیں جائینگے
    میرے ملک کے دشمنوں دکھ تو ضرور ہوتا ہے ان گزرے واقعات کو یاد کر کے مگر ہمارا حوصلہ پھر بلند ہو جاتا ہے کہ ہمارے لئے رب نے ناکامی رکھی ہی نہیں کیونکہ ہم اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے مارے جائیں یا لڑتے ہوئے دشمن کو مار دیں ہر صورت ہم ہی کامیاب و کامران ہوتے ہیں وہ ہمارے پولیس و فوج کے جوان ہو یا آرمی پبلک سکول کے اساتذہ و نہتے معصوم بچے ان شاءاللہ کامیاب و کامران ہیں
    ہاں مگر دشمنوں خارجیوں دین و ملت کے باغیوں ناکامی صرف تمہارے لئے ہی ہے کہ تم نے مکتی باہنی بنا کر میرے اپنوں کو میرے خلاف کرکے ڈھاکہ کا سقوط تو کروا لیا مگر آج بھی دیکھ لو بنگلہ دیش کے اندر سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں لوگ پاکستان سے محبت کرنے والے موجود ہیں اور ان میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور دیکھ لو بنگلہ دیش بنانے والوں کا انجام بھی ذرا کہ کیسے اپنی ہی بنگلہ دیشی فوج کے ہاتھوں اپنے بیوی بچوں سمیت قتل ہو گئے اور نشان عبرت بن گئے اور تم نے اپنی اس حزیمت کا بدلہ لینے کیلئے پشاور میں ڈیڑھ سو کے قریب معصوم بچوں کو شہید کروا دیا اور تمہارا خیال تھا کہ اب پاکستان کے بچے ڈر جائیں گے اور سکول کی راہ نہیں لینگے مگر دیکھو ظالموں تم پھر ناکام ہو گئے
    اللہ کی قسم ایسی درندگی کی مثال نہیں ملتی تم نے سوچا تھا اے پی ایس کو ویران کرکے ملک کے باقی سکولوں میں دہشت کی فضا قائم کرکے بچوں کو سکول سے دور کر دو گے مگر آؤ دیکھو اسی اے پی ایس کے سکول کے بچوں کے حوصلے پہلے سے بھی زیادہ بلند ہیں اور اے پی ایس اسی شان و شوکت سے قائم و دائم ہے مگر اب تو ہمارے معصوم بچے بھی بے خوف ہو کر تمہیں للکار رہیں ہیں کہ جس عمر میں بچے ویڈیو گیم اور چاکلیٹ کھانے کی باتیں کرتے ہیں اب اے پی ایس کے بچے بلکہ پورے ملک کے بچے کہہ رہے ہیں مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
    کیا جب کبھی کوئی دہشت گرد مرتا ہے تب اس کے بچوں نے بدلہ لینے کی بات کی ؟ نہیں بلکل نہیں کیونکہ بچے بھی جانتے ہیں حق کیا ہے باطل کیا ہے دہشتگردوں خارجیوں اللہ کے دین کے دشمنوں تم نے بہت نہلایا اس ارض پاک کو خون سے مگر اللہ کی قسم ہمیشہ تم ناکام ہوئے اور ان شاءاللہ ہوتے ہی رہوگے کیونکہ آج بنگالی بھی مانتے ہیں کہ ہم پاکستان کیساتھ زیادہ مضبوط تھے اب تو پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگانے والے بھی کہہ رہے جیوے جیوے پاکستان مگر کہاں گئے وہ دہشت گرد اور ان کے یار آج وہ بیرون ممالک اور پہاڑوں غاروں میں منہ چھپائے بیٹھے ہیں
    دنیا نے دیکھا پاکستان کو توڑنے والے خود مٹ گئے کیونکہ اس ارض پاک کی بنیادوں میں سولہ لاکھ شہداء کا خون شامل ہے اور خون کی بنیاد بڑی مضبوط ہوتی ہے ان شاءاللہ تم جتنا مرضی زور لگا لو جتنا لگا چکے اس سے بھی زیادہ لگا کر دیکھ لو پاکستان تھا ہے اور قیامت تک رہے گا ان شاءاللہ کیونکہ اس ملک کے بچے بوڑھے اور جوان سب کا ایک اللہ پر ایمان
    اوہ مودی نجس میرے فوجیوں میرے اے پی ایس کے بچوں کے قاتل تو اب اپنے ہی ملک میں بنگال اور بھارت کے دیگر علاقوں میں اٹھتی ہوئی سونامی کو دیکھ اور ڈر اس وقت سے جب تیرے اس ہندوستان کے اندر کئی پاکستان بنے گے ان شاءاللہ