Baaghi TV

Category: متفرق

  • شیخوپورہ ٹرین حادثہ ۔ انسانیت کی اعلی مثال ۔  اقلیتوں سے پیار ۔۔ اور پروپیگنڈے کا جواب،،،،،(ذرا سی بات محمد عاصم حفیظ)

    شیخوپورہ ٹرین حادثہ ۔ انسانیت کی اعلی مثال ۔ اقلیتوں سے پیار ۔۔ اور پروپیگنڈے کا جواب،،،،،(ذرا سی بات محمد عاصم حفیظ)

    شیخوپورہ میں ٹرین حادثہ دور دراز دیہاتی علاقے میں ہوا ۔ ریسکیو اور دیگر اداروں کے آنے سے پہلے مقامی افراد مدد کو پہنچے۔ لاشوں اور زخمیوں کو کندھوں پر اٹھا کر ۔ چارپائیوں پر ڈال کر ۔ موٹر سائیکل غرض جسے جو ملا وہ ان سکھ بھائیوں کی مدد کو پہنچا ۔ سکھ سنگت کے اہم عہدیداران کی گفتگو سن لیں ۔

    جی ایسے کرتے ہیں اہل پاکستان اپنے اقلیتی بھائیوں کی مدد ۔ سب نے انہیں بھائی سمجھا اور ان کی مدد میں تن من دھن سب لٹا دیا ۔ مساجد میں اعلانات ہوئے ۔ کوئی پانی اٹھائے بھاگا ۔ کسی نے گرمی اور مشکل راستے کی پرواہ نہیں کی ۔ کسی نے نہ سوچا کہ حادثے کا شکار ہونیوالے تو دوسرے مذہب کے ہیں ۔ گرمی میں ان متاثرین کو کندھوں اور باہوں میں اٹھائے پہنچاتے رہے ۔

    ہمارے ہاں کچھ لبرل و سیکولر بعض خالصتاً مذہبی معاملات کو لیکر پروپیگنڈا کرتے ہیں ۔ یہ واقعہ ہی ان کے منہ پر زور دار تمانچہ ہے ۔ ہم اقلیتوں کی خدمت کو حاضر ہیں ۔ ہمارے لوگ سرکاری ادارے ہر کوئی کہیں بھی مذہبی تفریق نہیں کرتا ۔ مصیبت میں مذہب نہیں دیکھتا ۔ سب متحد ہو کر مقابلہ کرتے ہیں اور دکھ سکھ میں ساتھ بٹاتے ہیں ۔

    مسلمانان پاکستان نہ تو اقلیتوں کے خلاف ہیں ۔ ان سے تفریق نہیں رکھتے ۔ ان سے جینے اور عبادت کا حق نہیں چھینتے ۔۔ اسلام آباد مندر اور دیگر معاملات دراصل جب ایک ایجنڈے کے تحت بزور طاقت نافذ کئے جاتے ہیں ۔ تو غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں ۔

    شیخوپورہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اہل پاکستان کو اقلیتوں کو کیا مقام دیتے ہیں ۔ اس لئے کسی خالصتاً دینی مسئلے کو لیکر پروپیگنڈے سے گریز کرنا چاہیے ۔ بعض معاملات اقلیتوں کے جائز حقوق کی بجائے کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت ہوتے ہیں جس سے معاشرے میں انتشار و نفرت پیدا ہوتی ہے

  • امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی رپورٹ اور پاکستان ….از… محمد نعیم شہزاد

    امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آرایف) نے 28 اپریل 2020 کو اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ کے پاکستان چیپٹر کے مطابق کمیشن کے پاکستان میں مذہبی آزادی بارے اقدامات پر ردعمل ملاجلا تھا۔ گزشتہ سالوں کے مقابل 2019 اور مابعد حالات پر کافی تسلی بخش رائے کا اظہار کیا گیا۔ جبکہ کچھ اہم نکات ابھی توجہ طلب اور جلد حل کے متقاضی ہیں۔

    اس سالانہ رپورٹ کے بعد گزشتہ منگل 16جون کو واشنگٹن میں جاری ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان چاہتا ہے کہ اسے ان ممالک کی فہرست سے نکال دیا جائے جہاں مذہبی آزادی کو خطرہ لاحق ہے تو پاکستان کو امریکی حکومت کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کرنا چاہیے جس کے تحت پاکستان میں توہین رسالت کے تمام قوانین کے خاتمے یا ان پر نظرثانی کرنے کی یقین دہانی کروائے گا۔ اور شہریت کی شناختی دستاویزات اور نادرا شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کو بھی ختم کیا جائے۔

    سال 2002 سے کمیشن ہر سال پاکستان کو Country of Particular Concern یا سی پی سی کی لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کرتا آ رہا ہے تاہم امریکی محکمہ خارجہ (سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ) نے پہلی بار پاکستان کو 2018 کو اس فہرست میں شامل کیا۔

    کمیشن نے کہا ہے کہ اگرچہ اس نے اپنی اس سال کی رپورٹ میں پاکستان کوان ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی جہاں مذہبی آزادی کے حوالے سے واشنگٹن کو خاص تشویش ہے، تاہم کمیشن نے دیکھا ہے کہ پاکستان نے اس دوران مذہبی اقلیتوں کے حوالےسے کئی مثبت اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔

    کمیشن نے خاص طور پر سپریم کورٹ کی جانب سے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی، وجیہہ الحسن کیس، سیالکوٹ میں شوالہ تیجا سنگھ مندر کو ہندوؤں اور کرتارپور راہداری کو سکھ برادری کے لیے کھولنے اور سپریم کورٹ کی حمایت یافتہ قومی کمیشن برائے اقلیت کے قیام کو سراہا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے: ‘خارجہ پالیسی سے متعلق سفارشات کی روشنی میں کمیشن یہ سفارش کرتا ہے کہ عالمی مذہبی آزادی ایکٹ (ایفرا) کے تحت پاکستان اور امریکہ ایک ایسا معاہدہ کریں جس کے تحت حکومت پاکستان کو ایسے معنی خیز اقدامات اٹھانے کو کہا جائے جس سے مذہبی اقلتیوں کی حالت بہتر ہو۔ اس دوطرفہ معاہدے کا فائدہ یہ ہوگا کہ اس سے پاکستان میں مذہبی اقلتیوں کے حالات بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور خود پاکستان کو سی پی سی سے نکلنے کا راستہ واضح طور پرمعلوم ہو گا۔

    کمیشن نے پاکستان سےسی پی سی سے نکلنے کے لیے کئی قلیل مدتی، درمیانی مدت اور طویل مدتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

    اس خصوصی رپورٹ میں مطالبہ کیے گئے اقدامات کو تین درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں بنیادی طور پر دو باتیں ہی سامنے آتی ہیں۔ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے قادیانی مذہب کے پیروکاروں کی بات کی گئی ہے اور وہ خود کو غیر مسلم ماننے کو تیار ہی نہیں جبکہ آئین پاکستان ان کو واضح طور پر اقلیت قرار دیتا ہے۔ جب کہ رپورٹ میں یہ اصرار بھی کیا گیا ہے کہ اگر وہ خود کو مسلم قرار دیں تو ان کو روکنا یا اس عمل کو قابل تعزیر قرار دینا غلط ہے۔

    شاید اس رپورٹ کا ہی اثر ہے کہ پاکستان کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے استقبالیہ پر نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام (قادیانی) کی تصویر لگا دی گئی ہے۔ ایک آزاد ریاست کا شہری ہونے کے ناطے ارباب اختیار سے استدعا ہے کہ اپنی سالمیت اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ اگر کمیشن کو اپنے قوانین پسند ہیں تو ہماری ریاست کے قوانین کا احترام بھی لازم ہے۔ اور بالخصوص قادیانی گروہ کے حوالے سے مسئلہ کو الجھایا نہ جائے۔ قادیانی اگر پاکستان کے آئین کی رو سے مسلمان کی تعریف میں داخل نہیں ہیں تو بلا وجہ کیوں قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔ ریاست کا دیا ہوا درجہ قبول کریں اور بغاوت نہ کریں۔

    دوسرا اہم نکتہ جو اس رپورٹ میں پوری شد و مد سے اٹھایا گیا وہ قانون توہین رسالت کے حوالے سے ہے اور اس قانون کو بھی انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ شخصی آزادی یا آزادی اظہار رائے کسی دوسرے کی دل آزاری کی اجازت ہرگز نہیں دیتی بلکہ یہ ایک قبیح حرکت ہے۔ سوشل میڈیا سائٹس پر بھی لوگ offensive میٹیریل کو رپورٹ کرتے ہیں اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں۔ انسانی فطرت جس چیز کو ناپسند کرتے اس کا احترام کیا جاتا ہے۔ ریاست کا قانون جس چیز کی مخالفت کرے اس کا احترام بھی سر آنکھوں پر۔ تو ایک ایسا عمل جو ریاست پاکستان میں آئینی حیثیت رکھتا ہے کیا اسے صرف اس لیے رد کر دیا جائے کہ یہ مسلمانوں کے ایمان کی علامت ہے؟ یہ دو رنگی نہ تو انسانی حقوق کی منطق سے سمجھ آتی ہے اور نہ رواداری کے کسی تقاضے کی رو سے۔

    لہٰذا کمیشن کی رپورٹ کو قانون کا درجہ نہ دیا جائے بلکہ اپنی قومی و ملی امنگوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس رپورٹ کا جائزہ لیا جائے، قابل قبول امور کو اختیار کیا جائے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے امور کی طرف التفات نہ کیا جائے۔

    امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی رپورٹ اور پاکستان ….از… محمد نعیم شہزاد

  • کورونا میت سے خوف کیسا؟؟ احمد ندیم اعوان

    کورونا میت سے خوف کیسا؟؟ احمد ندیم اعوان

    محلے کی بزرگ خاتون فوت ہوگئیں۔ بہو نے اسٹیٹس لگایا۔ میری ساس کا قضائے الہی سے انتقال ہوگیا ہے۔ نماز جنازہ فلاں مسجد میں ادا کی جائے گی۔ ساتھ ہی کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ کا عکس لگایا گیا جو نیگیٹیو تھی۔

    چند روز قبل ایک دوست کے بھائی جنوبی پنجاب میں فوت ہوگئے۔ جنازے میں چند قریبی دوست و رشتہ داروں نے اس لیے شرکت نہیں کی کہیں کورونا سے نہ مرا ہو۔ کچھ نے تو کال کرکے پوچھ لیا کیسے فوت ہوئے؟ گھر میں سب خیریت ہے کسی کو بخار تو نہیں؟ گھر والوں کو اس رویہ پر شدید دکھ تھا۔

    ایسا کیوں ہے؟ ایک طرف ہم کورونا کو وبا مانتے نہیں؟ ہاتھ ملانے میں احتیاط کرتے ہیں اور نہ ہی عوامی مقامات پر جانے سے باز آتے ہیں۔ فیس ماسک کو زحمت سمجھتے ہیں اور دوسری طرف جنازوں میں شرکت سے خوفزدہ ہیں۔

    یہ خوف سرکاری اقدامات کی وجہ سے زیادہ بڑھا ہے کہ مرنے والے کی لاش مکمل حفاظتی انتظامات کے ساتھ صرف چند افراد جنازہ پڑھ کر دفن کریں۔

    ایسی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر کافی شیئر ہوئیں اور ٹی وی چینلز پر دکھائی گئیں جس سے خوف پروان چڑھا۔

    میڈیا پر آگاہی مہم میں بتایا جارہا ہے اگر عام افراد ماسک کا استعمال کریں۔ چھ فٹ کا فاصلہ رکھیں۔ بار بار ہاتھ دھوئیں۔ تو وہ کورونا سے بچ سکتے ہیں۔

    اگر کورونا مریض ماسک استعمال کرے تو وائرس پھیلنے کا خدشہ کم ہے اور دو طرفہ ماسک ہوتو خدشہ کافی کم ہوجاتا ہے۔

    یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر جیتے جاگتے مریض سے فاصلہ رکھا جائے اور ماسک پہن لیا جائے تو بچا جاسکتا ہے۔

    تو میت کا منہ تو کفن سے بند ہے۔ وہ بول رہی ہے نہ چھینک رہی ہے اور آپ نے بھی چہرے پر ماسک پہنا ہوا ہے تو پھر آپ اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟

    پانچ وقت نماز کی طرح سماجی فاصلے و دیگر احتیاط کے ساتھ نماز جنازہ پڑھنا کیوں ناممکن ہے؟؟؟

    کورونا سے بچاو کے لیے پوری احتیاط کیجئے۔ احتیاط نہ کرنا خودکشی ہے جو اسلام میں حرام ہے۔

    احتیاط کے ساتھ جہاں آپ اپنے دیگر ضروری کام سر انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح فوت ہونے والوں کی نماز جنازہ میں بھی ضرور شرکت کیجئے۔

    نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کے مسلمان پر 6 حق بتائے جن میں سے ایک نماز جنازہ ادا کرنا ہے۔

    ان دنوں فوت ہونے والے سب کورونا مریض نہیں۔ خدارا میت سے خوفزدہ ہونے کی بجائے مسلمان بھائی کا آخری حق ضرو ادا کیجئے۔ اللہ رب العزت سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور اس وبا سے بچائے۔ آمین

  • "وباٸیں،خطاٸیں اور دعاٸیں”—از—✍️#اخت_عمیر

    "وباٸیں،خطاٸیں اور دعاٸیں”—از—✍️#اخت_عمیر

    پاکستان ان دنوں وباٶں اور بحرانوں کی زد میں ہے۔ ایک طرف وبائی امراض اپنا قہر برسا رہے ہیں گزرتے وقت کے ساتھ کورونا بے قابو ہوتا جا رہا ہے۔ متاثرین کی تعداد 1لاکھ 32 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور اموات 2500 سے بڑھ چکی ہیں۔ تو دوسری طرف رواں سال کے صرف چند ماہ میں اچانک رونما ہونے والی شدید موسمیاتی تبدیلیوں نے فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ باقی کسر فصلوں پر ٹڈی دل کی یلغار نے پوری کردی ہے۔ دہشت گردی غیر محدود کرپشن اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے معاشی صورتحال پہلے ہی گھمبیر تھی۔ کہ کورونا وبا کے ہنگامے اور لاک ڈاون کی سختیوں نے ہماری معاشی مشکلات کو دو چند کر دیا ہے۔ تین ماہ سے جاری لاک ڈاون کے باعث پیداواری عمل معطل ہونے کی وجہ سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ سبزی اور فروٹ مارکیٹ کھلی رہنے کی وجہ سے امید کی جا رہی تھی کہ زرعی معیشت لاک ڈاون کے اثرات سے بچ جائے گی۔ لیکن بے موسمی بارشوں اور اور ٹڈی دل کی یلغار نے فصلوں کو ناقابل یقین حد تک نقصان پہنچایا ہے۔

    پاکستان بالخصوص پنجاب کے گندم کی کاشت کے علاقوں ملتان، ڈیرہ غازی خان، لاہور، گجرات، سرگودھا اور فیصل آباد کے علاقوں میں گندم کی کٹائی کے موسم میں ہونے والی بارشوں نے نہ صرف فی ایکڑ گندم کی پیداوار کو نقصان پہنچایا بلکہ سرکاری سطح پر گندم کی خریداری کا ہدف پورا کرنا بھی مشکل ہو گیا اس لیے کٹائی کے موسم میں ہی گندم کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگے۔۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق گندم کی کٹائی کا موسم آتے ہی گرمی کی شدت میں اضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ عموماً گندم کی کٹائی اور اسے سمیٹنے کا موسم خشک ہی رہتا ہے۔ گذشتہ دو سال سے عین کٹائی کے موسم میں شدید بارشیں ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ جس سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

    پاکستان کسان اتحاد کے سیکرٹری جنرل عمیر مسعود کے مطابق پنجاب کے بیشتر علاقوں میں فی ایکڑ پیداوار 50 سے 60 من کے درمیان ہوتی ہے۔ بے موسمی بارشوں کے باعث یہ کم ہو کر 30 سے 33 من رہ گئی جس سے رواں برس گندم اور آٹے کے بحران کا شدید خدشہ ہے۔ کپاس کی ڈیڑھ لاکھ بیلوں میں سے صرف 90 لاکھ بیلیں حاصل ہو سکیں مزید برآں مکئی کی پیداوار میں 40 فیصد اور چاول کی پیداوار میں 50 فیصد کمی ہو گئی ہے۔ بھکر جو کہ چنے کی کاشت اور پیداوار کے لیے دنیا بھر میں مشہور تھا بے موسمی بارشوں اور ژالہ باری نے اس فصل کو بھی تباہ کر دیا صرف کپاس کی بیلوں کی کم پیداوار کی وجہ سے ہونے والا نقصان ایک ارب ڈالر ہے۔ کسان بارشوں کے اس سلسلے کی وجہ سے شدید پریشان تھے کہ ایک اور بحران ٹڈی دل کی صورت میں پاکستان میں داخل ہو گیا یہ ٹڈی دل زراعت کے میدانوں پر اس قدر شدت سے حملہ آور ہوٸی کہ قحط کا خدشہ پیدا ہو گیا۔

    ٹڈی جمع ٹڈیوں کو عربی میں الجراد کہا جاتا ہے اور واحد کے لیےجَرَادَةٌ کا لفظ استعمال ہوتا ہےاس لفظ کا استعمال نر اور مادہ دونوں کے لیے ہوتا ہے۔ ٹدی دل ہجرت کرنے والا کیڑا ہے جو غول کی شکل میں ہجرت کرتا ہے ایک غول کئی لاکھ ٹڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

    ایک ٹڈی ایک وقت میں 1200 انڈے دیتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے خوراک کے مطابق اگر ان کو قابو نہ کیا گیا تو ان کی تعداد میں 20 سے 25 فیصد اضافہ ہو سکتاہے۔
    ٹڈی حشرات الارض میں سے فصلوں کو نقصان پہنچانے والی بے رحم اور خوفناک قسم ہے۔ یہ انتہائی منظم طریقے سے کسی تربیت یافتہ فورس کی طرح کھیتوں پر حملہ آور ہوتی ہیں اور کھیت کے ایک سرے سے داخل ہو کر دوسرے سرے تک پہنچتے ہوئے سارا کھیت اجاڑ دیتی ہیں یہ ایک دن میں 93.2 میل کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے چھال سے بیجوں اور پھولوں تک سب کچھ کھاتی ہیں۔اور اپنے پیچھے تباہی و بربادی کی ایک داستان چھوڑ جاتی ہیں۔

    ایک غول 35 ہزار انسانوں کی خوراک ایک دن میں کھا سکتا ہے۔ٹڈی دل کا انڈے دینے کا طریقہ بھی عجیب ہوتا ہے یہ انڈے دینے کے لیے سخت اور بنجر زمین کا انتخاب کرتی ہیں پھر اس زمین میں اپنی دم سے انڈے کے سائز کے برابر سوراخ کرتی ہیں۔ جس میں وہ انڈے دیتی ہیں۔ اس لیے یہ سپرے کے باوجود بھی دوبارہ افزائش کر جاتی ہیں کیونکہ زمین کی سطح پر کیا جانے والا سپرے زمین کے اندر موجود انڈوں پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ زمین کی گرمی سے ہی انڈوں سے ٹڈیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور جھنڈ بنا کر فصلوں پر حملہ آور ہو جاتی ہیں۔

    اپریل اور مئی میں جس وقت پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کپاس اور اور چاول کی کاشت اور گرمیوں کے میوہ جات خاص کر آم کے درخت پھل دے رہے ہوتے ہیں عین اسی موسم میں ٹڈی دل افریقہ سے یمن اور پھر سعودی عرب اور پھر عمان سے ایران اور وہاں سے پاکستان میں ایک خاموش قاتل اور دہشتگرد تنظیم کی شکل میں داخل ہوا اور یلغار کر کے چاول اور کپاس کی فصلوں اور اور میوہ جات کے وسیع باغ اجاڑ دیے۔ پنجاب کے میدانی علاقوں میں آم کے باغوں کے علاوہ جنوبی وزیرستان میں آلو بخارہ، آڑو،آلوچہ اور خرمانی کے باغ بھی ٹڈی دل کے حملوں سے نا بچ سکے۔

    ٹڈی دل چاروں صوبوں کے 60 اضلاع میں بڑی مقدار میں فصلوں کو کھا چکے ہیں۔ ان علاقوں میں بیشتر کسان یہ سمجھ رہے تھے کہ غیر موسمی بارشوں سے ہونے والے نقصان کو وہ کپاس کی فصل اگا کر پورا کر لیں گے مگر جیسے کپاس کے پتے نمودار ہوئے ٹڈی دل ان پر حملہ آور ہو گیا۔ ٹڈی دل نے تین سو ہزار مربع کلو میٹر علاقے کو متاثر کیا جو مملکت کے کل رقبہ کا 37 فیصد بنتا ہے۔

    اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان کے زراعت کے 38فیصد شعبے کیڑوں کی افزائش کے میدان ہیں۔ عالمی ماہرین نے پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ٹڈی دل کو روکنے کا بندوبست نہ ہوا تو تھرپارکر سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان تک پھیلے ہوئے وسیع رقبوں میں لگائی گئی فصلیں تباہ و برباد ہو جائیں گی۔اگر ٹڈی دل ربیع کی فصل کو 25 فیصد نقصان پہنچاتی ہے تو 400 ارب کا نقصان ہوگا اور فصل خریف کی صورت میں 600 ارب نقصان ہو گا اور 50 فیصد نقصان ہونے پر فصل ربیع کی صورت میں 700 ارب اور خریف کی صورت میں 900 ارب سے زائد نقصان کا خدشہ ہے۔

    ٹڈیوں نے پہلے ہی ملک بھر میں روئی، گنے اور سبزیوں کی فصلوں کو تباہ کر دیا ہے اگر یہ سبزیوں کی فصلوں پر بھی حملہ آور ہوتی ہیں۔ تو تباہی کی مقدار کئی گنا زیادہ ہو جائے گی۔

    پاکستان ایک زرعی ملک ہے زراعت پاکستان کی جی ڈی پی کا 20 فیصد ہے اور ٹڈیوں کے نقصان سے جون میں ختم ہونے والے مالی سال میں پاکستان کی معاشی نمو دو فیصد سے بھی کم ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

    محکمہ تحفظ نباتات کے ڈائریکٹر جنرل فلک ناز نے اردو نیوز کو بتایا کہ اس سال ٹڈیوں سے فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔پاکستان میں ٹڈی دل کا حملہ اس قدر شدید ہے کہ پاکستان نے ریاستی سطح پر اس حوالے سے فروری 2020 میں قومی ہنگامی صورتحال کا اعلان کر کے ٹڈی دل کے خلاف ریاستی جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔ ریاستی سطح کی ایمرجنسی ایک انتہائی اہم اقدام ہوتا ہے۔ جو قومی سطح کے کرائسز میں اٹھایا جاتا ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کہ پاکستان میں ٹڈی دل کا حملہ کس قدر بھیانک اور خطرناک ہے۔

    جس طرح کورونا کی وبا انسانیت کے لیے وبال بنی ہوئی ہے اسی طرح ٹڈی دل بھی انسانیت کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں کسانوں کے نائب صدر محمود نواز شاہ نے کہاکہیہ ٹڈی حملہ کورونا وائرس سے بڑا خطرہ ہے اگر آپ گھر میں رہ کر حفاظتی تدابیر اختیار کر لیں تو وائرس حملہ نہیں کرے گا لیکن بھوک آپکو کسی بھی طرح ہلاک کر دے گی

    اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوراک اور زراعت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اور ایگریکلچرل ورکنگ گروپ کے اسسٹنٹ کوآرڈینیٹر حبیب وردگ کے بقول پاکستان کے 34 اضلاع ایسے ہیں جن میں 40 فیصد لوگ شدید غذائی تحفظ یا درمیانے درجے کے غذائی تحفظ کا شکار ہیں لیکن اب معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے کیونکہ ٹڈی دل انسانوں اور مویشیوں کی خوراک کے علاوہ قدرتی چرا گاہوں پر بھی حملہ آور ہیں جس سے شدید غذائی بحران پیدا ہو سکتا ہےکیا کبھی سوچا ہم نے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم ایک آفت سے تو ابھی چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے کہ نئی آفت کا شکار ہو جاتے ہیں؟؟؟ ایک طرف کورونا کی وبا ہمارے لیے وبال جان بنی ہوئی ہے تو دوسری طرف ٹڈیوں کے غول فصلوں کو اجاڑ رہے ہیں جس کی وجہ سے بھوک اور خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں۔۔۔ہم سے وہ کون کون سے گناہ سرزد ہوئے کہ اللہ تعالی کی رحمت ہم سے روٹھ چکی ہے؟؟

    ہم نے اللہ تعالی کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی فلموں کے تھیٹروں میں ہم جاتے رہے، نمازوں کو ضائع ہم کرتے رہے، سودی لین دین ہم کرتے رہے، یتیموں کامال ہڑپ کرنا ہمارے معاشرے میں عام گناہ بن گیا فحاشی کے پروگرام ہم چلاتے رہے۔

    ان حالات میں ہم پر اللہ تعالی کی رحمت کا نزول ہو تو کیسے ہو؟؟ ایک طرف کشمیر میں ہندو بنیے نے دنیا کا بدترین کرفیو مسلط کیا لیکن عالم اسلام خواب غفلت میں مدہوش رہا۔کشمیر میں روز جنازے اٹھتے رہے معصوم بچے یتیم ہوتے رہے۔سہاگنوں کے سہاگ لٹتے رہے بہنیں اپنے بھائی اسلام اور پاکستان پرقربان کرتی رہیں مسلمان بیٹیوں کی عصمتیں پامال ہوتی رہیں دوسری طرف انڈین اداکار ہماری نوجوان نسل کے آئیڈیل بنے رہے اور انڈین فحش فلمیں ڈرامے اور گانے زندگی موت کا سوال مسلمان ممالک نے بھی اپنی اپنی معیشت کو بچانے کی خاطر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھی پاکستان بھی چند مذمتی بیانات سے آگے نا بڑھ سکا یہاں تک کہ مظلوموں کی آہوں نے عرش الہی ہلا دیا اور خواب خرگوش کے مزے لوٹتی ہوئی دنیا خود کورونا وائرس کا شکار ہو کر لاک ڈاون کی مصیبت میں پھنس گئی اور وہ معیشت تہس نہس ہو گئی جس کو بچانے کے لیے ظلم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھی ایسا محسوس ہوا جیسے اللہ رب العزت سوال کر رہے ہوں کہ کہاں گئی اب تمھاری معیشت جس کو بچانے کے تم نے قرآن پاک کی آیات سے منہ موڑا؟؟

    کاش کہ ہم اس وقت ہی سمجھ جاتے اور توبہ کا راستہ اختیار کر لیتے لیکن افسوس ہم نے اللہ تعالی کی پکڑ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود بھی اصلاح اور محاسبے کا راستہ نہیں اپنایا بلکہ کورونا وائرس کو ڈرامہ اور سازش کہنا شروع کر دیا ہم نے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ یہ سازش کامیاب کیسے ہو گئی ہمیں قرآن پاک کی آیت یاد نہیں رہی
    مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ
    کوئی مصیبت نہیں پہنچتی مگر اللہ تعالی کے اذن سے
    "سورہ التغابن آیت نمبر11”

    اور ہم حفاظتی تدابیر اختیار کرنے اور کورونا وائرس سے لڑ کر اس کو شکست دینے کی باتیں کرنے لگے۔۔ ہم بھول گئے حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کا قصہ جس نے عذاب کو آنکھوں سے دیکھ کر بھی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت نوح علیہ السلام کی اسلام کی دعوت دینے پر کہا کہ میں اس پہاڑ پر چڑھ کے بچ جاوں گا اور اللہ تعالی کے غضب کو دعوت دی اور عبرت کا نشان بن گیا ۔۔۔سوچیے اپنے آپ سے سوال کیجئے کیا ہم بھی اس نافرمان اور اور مشرک بیٹے کا عمل نہیں دھرا رہے تھے؟؟ کیا ہم بھی اپنی نافرمانی کے ذریعے اللہ تعالی کو نہیں للکار رہے تھے؟

    ہم نے اللہ تعالی کے غضب کو خود دعوت نہیں دی؟ ہماری ان اجتماعی نافرمانیوں کی وجہ سے ہم پر بے موسمی بارشوں اور ٹڈیوں کی مصیبت مسلط کر دی گئی اور اب قحط کے خوف سے پوری قوم پریشان ہے۔۔

    سوچ لینا چاہیے اگر یہ آفات سازش ہیں تو سازش کامیاب ہو چکی ہے۔ اگر وبا ہیں تو اثر انداز ہو چکی ہے اور اگر بلاء ہیں تو ہمارے سر پر آ چکی ہیں اور ان سے نجات کا واحد حل رجوع الی اللہ ہے۔۔
    توآئیے ہم پلٹ آئیں نماز کے راستے کی طرف، استغفار کے راستے کی طرف، توکل کے راستے کی طرف، صبر کے راستے کی طرف، توبہ کے راستے کی طرف، انابت الی اللہ کے راستے کی طرف، یہ راستے کھلے ہیں اگر ہم ان راستوں کے ذریعے پناہ طلب کریں تو اللہ تعالی بیماریوں کو مٹا دے آفات کو دور فرما دے گا ان شآءاللہ

    اللہ تعالی سے دعا ہے بیشک ہم گناہگار ہیں خطا کار ہیں لیکن آپکی طرف رجوع کرتے ہیں ہمیں اس آفت سے بچا لے یہ ہمارے لیے عذاب نا بنا اور ہمیں اس سے نجات دے دے۔۔۔۔۔۔۔
    آمییین یارب العالمین🤲
    ====================

    "وباٸیں،خطاٸیں اور دعاٸیں”

    ✒️✍️تحریر=”اخت عمیر”

  • اکیلی جنت ہی نہیں دروازے کا بھی راضی ہونا لازم ہے!!!  تحریر :غنی محمود قصوری

    اکیلی جنت ہی نہیں دروازے کا بھی راضی ہونا لازم ہے!!! تحریر :غنی محمود قصوری

    اللہ رب العزت نے یہ کائنات ایک خاص مقصد کے تحت بنائی جس میں ان گنت مخلوق تخلیق کی اور اس ساری مخلوق میں سے اشرف المخلوقات حضرت انسان کو بنایا
    انسان کا دنیا میں آنے کا مقصد ایک اللہ کی بندگی ہے اور اس خالق مالک رازق نے جو حکم دے دیئے وہ ماننا ہم پر فرض ہیں
    اللہ تعالی نے ہمیں ایک مرد اور ایک عورت سے دنیا میں پیدا کیا اور حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے علاوہ پرندوں،چرندوں،درندوں غرضیکہ ہر مخلوق کے جوڑے بنائے اور ہمارے دنیا میں آنے کا سبب بھی یہی جوڑے یعنی ہمارے ماں باپ ہیں
    اللہ تعالی نے ایک خاص نظام کے تحت ایک نطفے سے ماہ کے رحم میں بچے کی پرورش کی اور اس نطفے کا ذریعہ والد کو بنایا اس کے بعد بچے کی ماہ کے پیٹ میں پرورش ہوئی اور پھر نو ماہ بعد دنیا میں آنے کے بعد اس کے کھانے کا انتظام بھی اسی ماں کی چھاتی سے کیا اور اسی ماں کی چھاتی کو بچے کی پرورش کرنے کیلئے دودھ کا ذریعہ بنایا اور اس ماں کے کھانے کا اہتمام والد کے ذمے لگایا یوں ماں اور باپ دونوں بچے کی پرورش میں برابر کے شراکت دار ہیں اسی لئے اللہ رب العزت نے جہاں اپنی بندگی ،عبادت کا حکم دیا وہیں والدین کیساتھ حسن و سلوک کا بھی حکم دیا جیسا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
    اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں وصیت کی کہ اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو سال ہے ،کہ تو میری اور اپنے والدین کی شکر گزاری کر اور تم سب کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔۔سورہ لقمان آیت 34
    یہ آیت ہم پر واضع کرتی ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی بندگی کا حکم دیا تو وہی والدین کے دکھ درد کا احساس دلاتے ہوئے ان کی شکر گزاری کا بھی حکم دیا اور کہا کہ ان پر احسان کرو کیونکہ تیری ماں نے دوران حمل ہزار ہا تکلیفیں برداشت کیں تیرے والد نے تیری والدہ کیلئے روٹی کپڑے کے علاوہ ادویات کا بندوست کیا تاکہ ماں کے پیٹ میں تو خوراک حاصل کر سکے اور دوران حمل لاکھ پرہیز کرکے تجھے تیری ماں نے جنم دیا اور دنیا میں آتے ہی تجھے ماں کی چھاتی سے دودھ کی صورت میں خوراک پہنچائی اور اس خوراک پہنچانے والی ماں کو تیرے والد نے روٹی کھلائی اچھے سے اچھا پھل کھلایا تاکہ وہ یہ چیزیں کھائے اور اپنے دودھ سے ان چیزوں کی طاقت تیرے جسم میں منتقل کرسکے
    اور اب تو بڑا ہونا شروع ہو گیا تیرے والد نے تیری فرمائشیں پوری کرنا شروع کر دیں تجھے پڑھایا لکھایا بڑا آدمی بنایا اور تیری شادی کر دی اور پھر تجھ سے بنی نوع انسان کی پرورش کا سلسلہ شروع ہو گیا اور اب وقت آ گیا کہ تجھے احساس ہونے لگا کہ تیری بیوی جسطرح دوران حمل تکلیف سے رہی اسی طرح تیری ماں بھی تکلیف سے تھی جسطرح تو اپنی بیوی کو ڈاکٹر کے پاس چیک کروانے لیجاتا ہے کہ تیرا بچہ مادر شکم میں تندرست رہے بلکل اسی طرح تیرا والد بھی تیری والدہ کو ڈاکٹر سے چیک کرواتا رہا اسے دوائی کیساتھ دودھ ،پھل لاکر دیتا رہا کہ میرے بچے کی پرورش اچھی ہو اس کیلئے جیسے تو محنت مزدوری کرتا ہے ویسے ہی تیرا والد تیری خاطر بغیر دن رات کی تمیز کئے محنت کرتا رہا اور تجھے اس قابل بنایا
    یقیناً بچے کی پرورش ماں اور باپ دونوں پر فرض ہے اسی لئے
    ماں کی گود کو بچے کی پہلے درسگاہ اور جنت ماں کے قدموں تلے بتائی گئی اور اس جنت کا دروازہ باپ کو قرار دیا گیا ہے
    سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں کہ
    وہ تمہارے پاس بڑھاپے میں پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نا کہو اور نا انہیں جھڑکو بلکہ ان کے ساتھ عزت سے بات کرو اور عجز و نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو
    اللہ تعالیٰ نے والدین کی خدمت کا خاص حکم دیا تاکہ جیسے بچپن میں انہوں نے تمہاری پرورش کی اسی طرح تم بھی بڑھاپے میں ان کو سکون و راحت پہنچاؤ
    ایک اور جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
    وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟آپ کہہ دو کہ جو مال تم خرچ کرو وہ والدین اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کیلئے ہیں اور جو بھلائی تم کرتے ہو یقیناً اللہ تعالی اس کو خوب جاننے والا ہے ۔۔سورہ البقرہ آیت 215
    اس آیت میں ہم غور کریں تو اللہ تعالی نے ہمیں مال کو بھلائی کی خاطر خرچ کرنے کا حکم دیا ہے اور اس حکم میں سب سے پہلے نام والدین کا لیا ہے اس کے بعد پھر رشتہ دار مساکین و یتیم وغیرہ ہیں یعنی بھلائی کرنے میں بھی سب سے پہلے حقدار والدین ہی ٹھہرے ہیں باقی سب بعد میں
    مذید احادیث رسول کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اگر والدین تمہاری ساری دولت یک مشت لے لیں تو یہ ان کا حق ہے تم ان کو برا بھلا نہیں کہہ سکتے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کے حقوق پر بہت زور دیا اپنے والدین تو اپنے کسی کے والدین کو بھی برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے
    رسول اللہ فرماتے ہیں یقیناً سب سے بڑے گناہوں میں سے یہ ہے کہ کوئی شحض اپنے والدین پر لعنت بیجھے اس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا یا رسول اللہ کوئی اپنے والدین پہ لعنت کیسے بیجھے گا؟ تو نبی ذیشان نے فرمایا وہ شحض دوسرے کے باپ کو برا بھلا کہے گا تو دوسرا بھی اس کے باپ کو اور اس کی ماں کو برا بھلا کہے گا ۔۔صحیح بخاری 5973
    یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذاق میں بھی کسی کے ماں باپ کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا کیونکہ اپنے ماں باپ کے بدلے وہ اس کہنے والے کے ماں باپ کو برا بھلا کہا گے اور کسی کے والدین کو برا بھلا کہنے والے کو اپنے والدین کو برا بھلا کہنے کے مترادف قرار دیا ہے
    آخرت میں جنت حاصل کرنے کیلئے اللہ تعالی کے ماں باپ کا بھی راضی ہونا لازمی ہے کیونکہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے اور باپ اس جنت کا دروازہ اب جنت میں جانے کیلئے جنت والے یعنی ماں کا راضی ہونا لازمی ہے اور جب جنت یعنی ماں راضی ہو گئی تو پھر اس داخلے کیلئے دروازے کا کھلنا لازمی ہے اور جنت کا دروازہ باپ ہے اور دروازہ تبھی کھلتا ہے جب آنے والے پر کوئی ناراضی نا ہو
    تو اگر جنت حاصل کرنی ہے تو اللہ رب العزت کو راضی کرنے کے بعد بندوں میں سے سب سے پہلے ماں باپ کا راضی ہونا لازم ہے پھر اس کے بعد دوسروں کے معاملات ہیں
    اللہ تعالی ہمیں اپنی جنت اور اس کے دروازے کی خدمت کرکے انہیں راضی کرنے کی توفیق عطا فرمائے جنہوں نے لاکھوں دکھ درد سہتے ہوئے ہمیں اللہ تعالی کے بعد پالا پوسا پڑھایا لکھایا اور اس قابل کر دیا کہ ہم دنیا میں عیش و عشرت حاصل کر سکیں
    جن کے ماں باپ حیات ہیں اللہ تعالی ان کی اولادوں کو انکی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے اور جن کے ماں باپ دنیا سے رخصت ہو چکے ان کی مغفرت فرمائے کیونکہ اسلام و توحید کے بعد یہ سب سے قیمتی اثاثہ ہیں
    آمین

  • اولاد باپ کی نافرمان کیسے بنتی ہے!!! سماجی مسائل کو اجاگر کرتی ساجد مقبول کی تحریر

    اولاد باپ کی نافرمان کیسے بنتی ہے!!! سماجی مسائل کو اجاگر کرتی ساجد مقبول کی تحریر

    دراصل باپ سمجھتا ہے میرا کام صرف کمانا ہے اور کما کر بچوں کو کھلانا ہے باپ یہ بھول ہی جاتا ہے میری اولاد میری دوست بھی ہے باپ دن رات محنت کرتا ہے جب بچے سو رہے ہوتے ہیں باپ کمائی کرنے نکل جاتا ہے اور جب باپ کمائی کر کے گھر لوٹتا ہے تو بچے سو چکے ہوتے ہیں نا باپ نے بچوں کا لاڈ دیکھا نا بچوں نے باپ کی شفقت دیکھی ماں گھر کے کام کاج میں اتنی مصروف ہوتی ہے کہ وہ بیچاری بچوں کی صحیح طرح تربیت نہیں کر پاتی البتہ پھر بھی ماں گھر میں موجود ہوتی ہے تو اس لیے بچوں کو ماں کا پیار مل تو جاتا ہے لیکن باپ کی شفقت باپ کا پیار نہیں ملتا بچے باپ کی تربیت سے محروم ہو جاتے ہیں اور بچے آہستہ آہستہ باپ سے اور باپ بچوں سے اجنبی سا ہو جاتا ہے پھر جب بچے ماں کو زیادہ تنگ کرتے ہیں تو ماں تھک ہار کے باپ کو شکائیت لگاتی ہے تو باپ پہلے ہی روزی روٹی کما کما کر تھکا ہوتا ہے باپ کو پتہ ہی نہیں ہوتا میرے بچوں کو کس تربیت اور شفقت کی ضرورت ہے اور والد صاحب بیوی سے بچوں کی شکائتیں سن کر لنگوٹا کس لیتے ہیں اور بچوں کی مار کٹائی کر دیتے ہیں بچے تو پہلے ہی باپ کی شفقت اور دوستی سے محروم ہوئے ہوتے ہیں تو بچے اور زیادہ باپ سے دور بھاگنے لگ جاتے ہیں اور باپ سمجھتا ہے میرے بچے نافرمان ہیں لیکن اصل مجرم باپ ہی ہوتا ہے جو بچوں کھلاتا تو ہے لیکن تربیت اور اپنے پیار سے محروم رکھتا ہے لہذا اپنے بچوں کو اپنا دوست بنائیں ان سے دوستی کریں ان کے گلے شکوے سنیں ان کے ساتھ سیر و تفریح پر جائیں ہنسی مزاح گپ شپ کی محفل لگائیں اور بچوں کو کاروبار سے زیادہ ٹائم دیں کیونکہ باپ اولاد کے لیے وہ درخت ہوتا ہے جو چھاؤں بھی دیتا ہے اور پھل بھی ۔۔۔۔۔

  • سیاق و سباق نشست ہائے سوال و جواب (مورخہ سات اپریل دو ہزار بیس)—-از— بلال شوکت آزاد

    سیاق و سباق نشست ہائے سوال و جواب (مورخہ سات اپریل دو ہزار بیس)—-از— بلال شوکت آزاد

    کل ایک نشست ہائے سوال و جواب منعقد کی تھی جس میں سنجیدہ اور علم کے متلاشی احباب نے بھرپور شرکت کرکے حوصلہ افزائی کی اور بہت سے دلچسپ اور اہم سوالات کیے جن کے جواب دیکر مجھے بے خوشی, طمانیت اور علمی تازگی کا احساس ہوا۔

    میں ان سوالات اور جوابات کا سیاق و سباق بطور تحریر پیش کررہا ہوں تاکہ دیگر احباب بھی استفادہ لیں۔

    میں سوالات اور جوابات بالترتیب درج کررہا ہوں ضروری ترمیم اور نام حذف کرکے۔

    تو پہلا سوال کچھ یوں تھا کہ

    سوال: کیا خلافت کی جدوجہد کرنے کا حکم اسلام میں ملتا ہے ؟

    جواب: نہیں, میرے ناقص علم کے مطابق خلافت کوئی انسانی ساختہ نظام نہیں لہذا اسکے لیے جد و جہد کا کشٹ اللہ نے انسان کے ذمہ لگایا ہی نہیں۔

    خلافت تسلیم و رضا اور پیہم عمل اور فرمانبرداری کا نظام ہے جبکہ جس چیز کے حصول میں طمع لالچ اور جدوجہد آجائے وہ فتنہ بن جاتا ہے رحمت نہیں جبکہ ہم جانتے ہیں خلافت ناصرف مسلمانوں کے لیے بلکہ تمام انسانوں کے لیے رحمت ثابت ہوئی تھی۔

    جمہوریت اور وطن کے حصول میں جدوجہد کا عمل دخل ہے لہذا ان میں کمزوریاں اور فتنے بھی ان گنت ہیں۔

    قصہ مختصر خلافت کو جدوجہد کی ضرورت نہیں بلکہ یہ شریعت پر عمل کرنے سے خودبخود نافذ العمل ہوسکتی ہے۔

    بیشک ہم اہل القرآن کا یہ ایمان اور وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم تعامل مع الحکام پر زور دیں اور عمل کریں۔

    یہ بذات خود ایک فتنہ ہے کہ ہم خلافت کی خواہش اور جدوجہد کرتے پھریں۔
    ابھی تک جن جن نے خلافت کا نعرہ لگا کر جدوجہد کی انہوں نے کیا پایا اور مسلمانوں کو کیا فائدہ دیا؟

    ایک تنکے کا بھی نہیں۔

    سوال: کیا کورونا وائرس "نیو ورلڈ آرڈر” کی طرف اشارہ ہے؟

    جواب: پوری طرح نہیں, مبینہ اور خود ساختہ سپر پاورز اور سیکرٹ سوسائٹیز صرف موقع پیدا نہیں کرتی طاقت کے حصول کی خاطر بلکہ بعض اوقات قدرتی و فطرتی عوامل اور مصائب کا فائدہ بھی اٹھاتی ہیں۔

    نیو ورلڈ آرڈر دراصل کچھ بھی نہیں ماسوائے سپرمیسی کی دوڑ کے۔

    فلحال تو انسانی بقاء اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔کورونا وائرس صرف اللہ سے رجوع کرنے اور حقوق العباد نبھانے کا اشارہ ہے۔

    سوال: پاکستان اور پوری دنیا سے کورونا وائرس کا مکمل خاتمہ کب تک ممکن ہے؟ کوئی آئیڈیا یا تحقیق؟

    جواب: یہ ایک آفاقی وباء ہے, کسی انسان کی اختراع نہیں۔

    اور قرین قیاس یہی جواب بنتا ہے کہ جو چیز آفاق سے سر پر مسلط ہو وہ آفاق والے کو منا کر ہی سر سے اتاری جاسکتی ہے۔

    سردست آفاق والا یہی چاہتا ہے کہ ہم صلہ رحمی, اخوت, ایثار اور ایمان کامل کے ساتھ نہایت صبر اور تشکر سے رہیں۔

    البتہ دنیاوی لحاظ سے بتاتا چلوں کہ جب تک چین آف انفیکشن نہیں ٹوٹتی اور جب تک ویکسین تیار نہیں ہوتی یہ وباء ٹلنے یا ختم ہونے والی نہیں۔

    سوال: اس کے لیے کئی ویکسین تیار ہوئی بھی ہے یا صرف قیاس آرائیاں ہیں اور اگر نہیں تو کب تک ممکن ہے؟

    جواب: ویکسین کی دریافت اور تیاری میں اس وقت درجن سے زائد ممالک شامل ہیں۔
    دراصل ویکسین اسی وائرس یا بیکٹیریا کے کمزور جراثیم ہوتے ہیں جنہیں تھوڑی بہت ڈی این اے موڈیفیکیشن کے بعد انسان میں داخل کردیا جاتا ہے تاکہ اگر انسان کو کبھی متعلقہ وائرس یا بیکٹیریا لاحق ہو تو وہ بے اثر ہوکر زائل ہوجائے کیونکہ ویکیسن قوت مدافعت کو مستحکم کردیتی ہے اور مرض کمزور ہوجاتا ہے۔

    سوال: کیا ھمارے اداروں میں امتیازی عہدوں پر قادیانی قابض ہیں, اگر ہاں تو ایسا کیوں ہے اور جنکو پتہ ھے اس بارے تو وہ کیوں ایکشن نہیں لیتے یا عوام تک یہ بات کیوں نہیں پہنچاتے؟

    جواب: پہلے سوال کا جواب ہے کہ نہیں ہمارے اداروں میں سپر سیڈ یا امتیازی عہدوں پر اعلانیہ قادیانی تعینات نہیں تو قبضہ کی صورتحال ہی ندارد۔

    تو جیسا میں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ محض افواہ ہے تو ایکشن اور نوٹیفیکیشن کی ضرورت ہی نہیں بچتی۔

    سوال: بھائی اب اعلانیہ کون کہے گا کہ وہ قادیانی ہے؟

    جواب: تو آپ کس طرح کسی کے باطل میں جھانک سکتے ہیں؟, میرے ناقص علم میں ہے کہ ہمارے لیے ظاہر ہی کافی ہے جب تک اگلا اعلان نہ کردے کہ وہ کافر ہے وغیرہ وغیرہ۔

    سوال: اچھا دوسری بات اگناسٹکس کے خدا کے بارے میں کیا نظریہ ہے؟

    جواب: اگناسٹکس دراصل متذبذب اور متشکک ہوتے ہیں۔ مطلب یہ نا تو خدا کے مکمل طور پر انکاری ہوتے ہیں اور نا ہی مکمل طور پر اقراری, ان کا خدا پر یقین تحقیق سے مشروط ہوتا ہے اسی لیے انہیں اگناسٹکس کہا جاتا ہے۔

    جبکہ ایتھسٹ خدا کے صاف انکاری ہوتے ہیں اور انہیں خدا کے وجود سے کوئی سروکار نہیں ہوتا بیشک دلیل سے ثابت کردیا جائے تب بھی لیکن اگناسٹک دلیل ملنے پر خدا پر یقین کرنے کو تیار رہتے ہیں پر دلیل صیقل ہو تب۔

    سوال: مبشر زیدی کے بارے کیا خیال ہے, 100 لفظوں کی کہانی والا؟

    جواب: وہ دراصل متشکک یا اگناسٹک ہی ہے پر اس کا عمل ایتھسٹ ہونے کی چغلی کھاتا ہے باقی واللہ عالم بلصواب۔

    سوال: کچھ لوگوں کے نزدیک دجال کا ظاہری و جسمانی وجود نہیں اس پر آپ کا کیا کہنا ہے؟

    جواب: بلکل متضاد, کیونکہ میں قرآن و حدیث کا طالبلعلم اور ماننے والا ہوں۔ احادیث میں دجال کی بابت بہت واضح اشارے اور احکامات موجود ہیں۔

    دجال دراصل دجل یا دجلے کی جمع ہے جبکہ دجل یا دجلہ فریب اور دھوکے کو کہتے ہیں مطلب دجال ایک مخلوق ہوگی جو کثیر الفتنہ کردار ہوگا, باقی واللہ عالم بلصواب۔

    سوال: شریعت میں جمہوریت کی کیا حیثیت ہے ؟ نیز اگر ملک میں جمہوری نظام نافذ ہو تو امیر (جمہوری حکومت ) کے خلاف خروج کر کے اسلامی شریعتی نظام کے نفاذ کی کوشش کرنا درست ہو گا؟

    جواب: جمہوریت ایک باطل اور انسانی ساختہ نظام ہے جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں لیکن ہم اس وقت اضطراری کیفیت کا شکار ہیں اپنی خامیوں اور کمزوریوں کی بدولت تو ہم اس نظام کے تحت زندہ رہ سکتے ہیں "نفرت کی نگاہ” سے اس نظام کو دیکھتے ہوئے پر اس کا حصہ بننا صریح گمراہی اور عمل بد ہے۔

    اور جہاں تک بات ہے جمہوری حکومت کا دھڑن تختہ کرنا تو اسلام کا اصول واضح ہے کہ حکومت خواہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی, ہم پر خروج یا بغاوت حلال نہیں بلکہ حکومت جیسی بھی ہو ہمیں تعامل مع الحکام کا حکم ہے مطلب بلا چوں چراں اور لعن طعن کے حکمران اور امیر کی اطاعت فرض ہے ماسوائے شعار اسلام پر قدغن کے لیکن خروج کا حکم تب بھی موجود اور حلال نہیں, واللہ عالم بلصواب۔

    سوال: آپ کی ساری باتوں پر اتفاق کرتا ہوں پر جب اسلامی ملک ہو اور اس پر انسانوں کا بنایا ہوا قانون لاگو کیا جائے جبکہ اسلام اس چیز کی سخت مخالفت کرتا ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے قانون و آئین میں خامیاں ہو سکتی ہیں تو پھر ایسا کیوں ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے قانون کے خلاف آپ یا ہم بغاوت نہیں کر سکتے, تھوڑی وضاحت کر دیں؟

    جواب : کیونکہ بغاوت اور خروج اسلام کا مزاج نہیں۔ اسلام اگر افراد پر لاگو نہیں ہوسکتا تو کم سے کم فرد اسلام کو خود پر ضرور لاگو کرے۔

    اسی اصول کی بنیاد پر تعامل مع الحکام کا حکم وضع ہوتا ہے۔ ہماری ذاتی پسند ناپسند یا علمی ضد کے لیے اسلام کا مزاج اور فطرت نہیں بدلی جاسکتی۔

    اور ثانیاً بتادوں کہ خلافت اب کبھی نہیں آئے گی اور نہ ہی اسلامی ملوکیت کی گنجائش نظر آتی ہے اس لیے جو نظام رائج ہے اس کو پسند کیے بغیر نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اصطراری کیفیت میں ماننا اور اس کے تحت بنے حکمران کی اطاعت کرنا واجب ہے, واللہ عالم بلصواب۔

    سوال: اگر کوئی حکمران اور اس کے ماتحت ادارے عوام کی خدمت کرنے سے قاصر ہوں اور ایسا مسلسل ہو رہا ہو تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیئے؟

    جواب: صبر اور شکر اور اپنے کام سے کام رکھیں, اسلام کا یہی حکم ہے۔

    جہاد کی آٹھ وجوہات میں ایک بھی وجہ ایسی نہیں جو یہ بتائے کہ ہم جہاں رہتے ہیں وہیں ہتھیار اٹھا لیں, واللہ عالم بلصواب۔

    سوال: یہاں ہر دوسرا شخص یہ بات کر رہا ہے کہ کوئی کرونا نہیں ہے گورنمنٹ اپنے آقاؤں (امریکہ) کو خوش کرنے کے لیے یہ سب کُچھ کر رہی ہے, صرف میڈیا وار ہے, جسکا عملی نمونہ بھی نظر آیا, مطلب کسی کو کوئی فکر نہیں, بس عوامی مقامات بند ہیں, آپ کیا کہتے ہیں؟

    جواب: میں جز وقتی دانشور ہونے کے علاوہ کل وقتی طبی و ادویاتی نمائندہ بھی ہوں, سارا دن ہسپتال و ڈاکٹرز اور مریضوں میں گزرتا ہے۔کورونا کوئی ڈرامہ اور گریٹ گیم نہیں بلکہ فطرت کا انسان سے بدلہ ہے۔ کورونا ایک سنگین جان لیوا مرض ہے اور میں خود کافی مریضوں کا گواہ ہوں۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ کورونا کچھ نہیں وغیرہ وغیرہ وہ جاہل ہیں۔ اور کچھ اثرات سازشی تھیوریز اکا بھی ہے۔

    جہاں تک بات ہے لاک ڈاؤن میں تفاوت کا تو لاک ڈاؤن کا حکم سب کے لیے ایک جیسا ہے پر یہ عوام ڈنڈے کے بغیر نہیں سمجھتی۔

    جب تک بڑے شہروں میں کرفیو نہیں لگتا اور باقی شہروں کو سخت لاک ڈاؤن نہیں کیا جاتا اس وبا پر کنٹرول ناممکن ہے۔

    سوال: ہر سوال کا کوئی نا کوئی جواب ہوتا ہے, بس اتنا بتا دیں کہ (لفظ سوال) کا مطلب کیا ہے؟

    جواب: سوال کا لفظی مطلب ہے کہ پوچھنا ، معلوم کرنا ، دریافت کرنا جبکہ قران پاک میں ہے کہ یایھا الذین امنوا لا تسالوا عن اشیاء ان تبدلکم تسئوکم مطلب ایسی باتیں تم دریافت نہ کرو کہ تم کو بتادی جائیں تو تم کو ناگوار ہوں اور دوسری جگہ ہے کہ فاسال بہ خبیرا مطلب اسے کسی باخبر سے پوچھو۔

    سوال: لیڈر شپ کا فقدان کیوں ہے, کیوں مخلص قیادت نہیں؟ آپ کیا کہتے ہیں؟

    جواب: اللہ پر یقین کامل, سنت سے محبت, شریعت کی ضرورت اور اخلاق کی قدرو منزلت میں جب کمی آجائے اور انسان کو لگے کہ وہ عقل کل ہے تب قیادت اور مخلص قیادت کا بحران ہی جنم لیتا ہے۔

    مانو یا نا مانو جب اوپر مذکورہ عوامل پر ہماری گرفت تھی تب ہم مخلص قائدین سے قطعی محروم نہیں تھے۔

    سوال: نفس کی پاکیزگی کیا ہے؟

    جواب: نفس پاکیزگی یہ ہے کہ ہم دوسروں کے نفس مت ٹٹولیں مطلب ٹوہ اور تجسس سے گریز کرکے خوش گمان رہیں اور نیک اعمال کی دعوت دیں اور خود بھی نیک اعمال پر عمل کریں۔

    نفس ناپاک ہی تب ہوتا ہے جب ہم اس کو دوسرے کے نفس کی جاسوسی کرنے اور خودساختہ نتائج سمجھنے پر لگاتے ہیں۔

    سوال: کیا موجودہ نظام جمہوریت سے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے یا اس جمہوری نظام میں تبدیلی لا کر؟ کیا کہتے ہیں آپ اس پر؟

    جواب: پاکستان کی ترقی اب نظام سے زیادہ افراد اور ان کی ایمانداری سے جڑی ہے۔
    موجودہ زمانے میں نظام خواہ خلافت کا بھی ہوا لیکن افراد ایماندار نہ ہوئے تو ترقی کے بجائے تنزلی طے ہے۔

    سوال: عالمی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کی سیاست اور خود مختاری پر کیسے اثر انداز ہوتی ھے
    اور کتنا کنٹرول ھے عالمی اسٹیبلشمنٹ کا؟ اور سیاست میں کچھ ایسے لوگ جو اداروں کو بھی پتہ ھے کے یہ دشمن ملک کے الہ کار ہیں پھر بھی انکو دوسرے ممالک کی طرح کیوں نہیں پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچایا جاتا؟

    جواب: بہت سے طریقے ہیں عالمی اسٹیبلشمنٹ کے پاکستان پر حاوی ہونے کے لیکن ایک رائج طریقہ ہے گھر میں کمند ڈالنا یا سیندھ لگانا۔ غدار وہ واحد سہارہ ہیں عالمی اسٹیبلشمنٹ کا جو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ٹف ٹائم دیتے ہیں۔

    اور یہ کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ میں بھی انسان ہی ہیں جن سے صحیح غلط سب کی بعید ہے لہذا ان میں چھپی کالی بھیڑوں کی بدولت غدار اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے تاحال محفوظ اور کارگر ہیں۔

    ہمارے محب وطن اور ایماندار لوگ کام کررہے ہیں اور ان جونکوں کا صفایا خاموشی سے کرنے کی کوشش کررہے ہیں پر وقت لگے گا۔

    سوال: دنیا تو ہے ہی کافر, پاکستان میں بنے گستاخانہ پیجز اور پاکستان مخالف نعرے مارنے والوں کا اسٹیبلشمنٹ, سیکیورٹی ایجنسیز اور نمبر ون کچھ بھی نہیں اکھاڑ پاتی, آپکے خیال میں اس کی کیا وجہ ہے؟

    جواب: جواب ہے کہ بوجہ جمہوریت وہ قاصر یا معذور ہیں بہت سے معاملات پر سخت اور خودکار و رضاکارانہ ایکشن لینے میں۔ قصہ المختصر تمام ادارے اور ایجنسیز جمہوری ایوانوں کے ماتحت ہیں لہذا ان سے ہر کام کی توقع رکھنا سراسر کج فہمی اور بیوقوفی ہے۔

    سوال: ہم نے تو سنا ہے جمہوریت آتی ہی ان (اسٹیبلشمنٹ, سیکیورٹی ایجنسیز اور نمبر ون) سے ہے, کیا یہ جھوٹ ہے؟

    جواب: یہ کتنا جھوٹ ہے اور کتنا سچ ہے یہ میں نہیں بتاسکتا پر اتنا بتادوں کہ جمہوریت ایک عفریتی چکر ہے اور یہ دنیا کی طرح گول ہے, گھوم پھر کر وہیں واپس لاتی ہے جہاں سے سب شروع ہوتا ہے۔

    آخری سوال یہ تھا کہ

    سوال: آپ کے نذدیک کورونا وائرس خدا کا عذاب ہے یا اسرائیل کی سازش یا پھر چائینہ اس میں ملوث ہے؟ یہ کیا کہانی ہے؟

    جواب: یہ فطرت کا ایکو سسٹم ہے۔
    جب سے یہ کائنات بنی ہے اور دنیا سجی ہے تب سے کچھ بھی ایسا نہیں جس کی تخلیق اللہ نے نہیں کی۔

    بے جان اشیاء کی ایجاد تو انسان کرسکتا ہے پر جاندار مخلوق انسان کی ایجاد کبھی ہو ہی نہیں سکتی۔

    وائرس اور بیکٹیریا جیسا خوربینی جاندار تو بہت دور انسان ایک سانس خود نہیں بناسکتا جس پر یہ زندہ ہے۔

    البتہ یہ جو اس وقت ہورہا ہے یہ نہ عذاب ہے, نہ یہودی و اسرائیلی سازش اور نہ ہی کوئی جنگ۔

    یہ اللہ کی قدرت ہے کہ مبینہ طور پر ہر سو سال بعد بعد زمین خود کو ری سیٹ کرتی ہے اوپر اور نیچے سے تب وبائیں اور مصیبتیں پھوٹنا ایک عام سی بات ہے۔

    "محدود رہیے اور محفوظ رہیے”, یہ اللہ کا حکم نبیوں کو بھی ہوتا تھا جب اللہ واقعی عذاب مسلط کرتا تھا اب عذاب تو معلوم نہیں پر فطرت کا احتساب چلتا ہے تو کیفیت عذاب والی ہی بنتی ہے لہذا احتیاط اور محدود رہنے میں ہی عافیت ہے۔

    تو یہ تھے کچھ سنجیدہ نوعیت کے دلچسپ سوال جن کے ممکنہ جوابات دیکر مجھے بے حد خوشی اور طمانیت ہوئی اور میرا دماغ بھی تازہ ہوا۔

    امید ہے کہ احباب کو یہ نیا سلسلہ ضرور پسند آئے گا کیونکہ میں اس کو ایک دن چھوڑ کر مستقلاً چلانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔

    سیاق و سباق نشست ہائے سوال و جواب (مورخہ سات اپریل دو ہزار بیس)

    #سنجیدہ_بات

    #آزادیات

    #بلال #شوکت #آزاد

  • پانی سے ہاتھ ہرگز نہ دھوئیں—–از—- حفیظ اللہ سعید

    پانی سے ہاتھ ہرگز نہ دھوئیں—–از—- حفیظ اللہ سعید

    آپ سوچ میں پڑ گئے ہوں گے کہ پوری دنیا کے ڈاکٹرز حکومتی کرتا دھرتا اور میڈیا والے شور مچا رہے ہیں ہاتھ دھوئیں بار بار دھوئیں بلکہ 20 سے 30 سکینڈ تک لگاتار دھوئیں.جبکہ میں آپ کو بول رہا ہوں پانی سے ہاتھ ہرگز مت دھوئیں

    تو صاحبو! معاملہ کچھ یوں ہے کہ ہم کرونا سے بچاؤ کے لیے دن میں کافی بار ہاتھ دھو رہے ہیں اچھی بات ہے لیکن وہ کیا کہتے ہیں کہ اس سے بھی اچھی بات یہ ہے کہ آپ پانی کا استعمال محفوظ طریقے سے کریں کیونکہ صاف پانی اللہ تعالی کی عطا کردہ ایک بیش قیمت نعمت ہے اس کا بے جا استعمال اس کی مقدار کم کرنے کی ایک بڑی وجہ ہے.جیسا کہ ہم جانتے ہیں ہمارے شہری علاقوں میں پانی کی سطح دن بہ دن کم ہوتی چلی جا رہی ہے تو اس کا حل ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے جن کو دھونے کے لیے ہم فضول خرچی کی حد سے بھی بڑھ کر پانی استعمال کر رہے ہیں

    کرنا آپ کو بس یہ ہوگا کہ جب بھی آپ ہاتھ دھوئیں تو ہاتھوں کو گیلا کرنے کے بعد صابن لگائیں اور صابن لگے ہاتھ کے ساتھ نل ( ٹوٹی ) کے ہیڈ یا ہینڈل کو اپنے ہاتھ سے بند کر دیں اس سے ہوگا یہ کہ 20 سے 30 سیکنڈ کا جو وقت ہاتھ دھونے میں ہم صرف کریں گے

    اس دورانیہ میں پانی کا ضیاع نہیں ہوگا. اور جب آپ نل کو دوبارہ کھولیں گے تو نل کے ہیڈ پہ دوبارہ صابن لگے ہاتھ لگیں گے تو ہیڈ کے جراثیم اپنی موت آپ مر چکے ہوں گے ان شاء اللہ. اب آپ پانی کے ساتھ ہاتھوں پہ لگا صابن صاف کریں اور نل کے ہیڈ پہ بھی چلو بھر کے پانی ڈال دیں اور لگے ہاتھوں نل کو بند کر دیں. اس ساری مشق کے دوران ہمیں دو فائدے حاصل ہوں گے ایک تو پانی ضائع نہیں ہوگا

    دوسرا نل بند کرتے ہوئے اس کے ہیڈ پہ لگے جراثیم آپ کے ہاتھوں پہ منتقل نہیں ہوں گےاب سمجھ آئی کہ میں کیوں بول رہا ہوں پانی سے ہرگز ہاتھ مت دھوئیں

    #سچیاں_گلاں
    پانی سے ہاتھ ہرگز نہ دھوئیں
    حفیظ اللہ سعید

  • کرونا وائرس،علماء اور حکمرانوں کے پھڈے. تحریر: انجینئر ذیشان وارث

    کرونا وائرس،علماء اور حکمرانوں کے پھڈے. تحریر: انجینئر ذیشان وارث

    علماء اور حکمرانوں کے پھڈے

    دنیا بھر میں کرونا نے خوف و ہراس پھیلایا ہوا ہے۔ طبی ماہرین نے اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے جو طریقے بتائے ہیں، ان میں سب سے موثر آئسولیشن یعنی افراد کا ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہنا بتایا گیا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ اگر کسی ایک بندے کو بیماری ہے وہ یا تو اپنا علاج کروالے گا یا شہادت سے سرفراز ہو جائے گا۔ کسی دوسرے میں بیماری منتقل نہیں کرے گا۔

    اب اس بات پر حکمرانوں نے کہا کہ عوام میل ملاپ کم کر دیں۔ میل ملاپ کی جگہوں میں مساجد بھی آتی ہیں۔ اب علما کو لگا کہ اگر دو چار ہفتے کیلئے مساجد بند ہو گئیں تو شاید اسلام کا وجود مٹ جائے گا۔ لہٰزا کچھ علما نے اس فیصلے کا بائیکاٹ فرمادیا۔ ایک ویڈیو سوشل میڈیا پہ وائرل ہوئی ہے جس میں مولوی صاحب فرمارہے آیسولیشن اور سوشل ڈسٹینسنگ دی پین سی سری۔ اور یہ کہ "دوری نا رہے کوئی آج اتنے قریب آؤ”۔ کندھے سے کندھا اور گٹے سے گٹا ملاؤ۔

    علماء اور حکمرانوں کے یہ پھڈے آج کے نہیں ہیں شروع سے چلے آرہے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ علماء کا کام صرف فتوٰی لگانا ہوتا ہے۔ زمینی حقائق یا فتوے کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال سے حکمرانوں کو ہی نمٹنا پڑتا ہے۔ تاریخ اسلام میں بہت مرتبہ ایسا ہوا کہ علماء اور حکمرانوں میں ٹھن گئی۔ حجاج بن یوسف کی سختی مشہور ہوئی۔ اس کے پیچھے وجہ یہ تھی ہ وہ ہر بات کا جواب تلوار سے دیتا تھا۔ اس کے زیرِنظر واحد مقصد سلطنت کا استحکام تھا۔

    یہی وجہ ہے کہ اس وقت محمد بن قاسم نے جب ہندوستان کے کچھ علاقے فتح کیے تو اس نے کچھ ایسے انتظامی فیصلے کیے جو کہ اگر علماء کی نظر سے دیکھے جائیں تو کالعدم ہوجائیں۔ مثلا کچھ جگہوں پہ جزیہ معاف کرنا یا غیرمسلموں کو عہدے دینا۔ دلی سلطنت کی بنیاد رکھی گئی تو علماء کو خصوصی مقام دیا گیا۔ لیکن کچھ ہی عرصے میں وہاں علماء نے حکمرانوں کے فیصلوں پر انگلی اٹھانا شروع کردی۔ شمس الدین التتمش کے دور میں حالات اتنے کشیدہ ہوئے کہ اس کے وزیراعظم نے علماء کو اکٹھا کرکے سمجھایا کہ حکومت کو بھی اسلام کا درد ہے لہٰزا آپ ہر کام میں مداخلت نا فرمائیں۔

    تاریخی طور پر یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ جہاں بھی مسلمانوں کی کامیاب سلطنتیں قائم ہوئیں وہاں حکمرانوں نے علماء کو انتظامی معاملات سے علیحدہ رکھا۔ جہاں جہاں علماء کو انتظامی معاملات میں مداخلت کا موقع ملا، اکثروبیشتر خرابی ہی ہوئی۔ مشہور مؤرخ ایس ایم اکرام نے ہندوستانی تاریخ پہ لکھی گئی اپنی کتاب میں بیان کیا ہے اورنگ زیب جب بادشاہ بنا تو اس نے علماء کے کہنے پہ اسی (80) کے قریب ٹیکس معاف کردیے اور جزیہ و زکات باقی رکھے۔ انتظامی لحاظ سے یہ فیصلہ دو دھاری تلوار ثابت ہوا کیونکہ اس سے ریاستی فنڈز بھی کم ہوئے اور ہندو رعایا میں بہت زیادہ بے چینی اور بغاوت پھیلی۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ یہ تنقید کرنے والے ایس ایم اکرام اورنگ زیب کے ممدوحین میں سے ہیں اور کچھ مؤرخین نے تو ان پر اورنگ زیب کا اپالوجسٹ ہونے کے الزامات بھی لگائے ہیں۔

    اس کے علاوہ پاکستان میں بھٹو نے علماء کے بہت سارے مطالبات کوتسلیم کیا۔ ختم نبوت ترمیم، شراب اور جوئے پر پابندی، جمعے کی چھٹی اور اسلامی کانفرنس کا انعقاد۔ مگر علما کے مطالبات ھل من مزید کے تحت بڑھتے گئے یہاں تک کے بھٹو پھانسی پہ جھول گیا۔ اس کے بعد ضاء نے اسلامائزیشن کا عمل شروع کیا تو قسما قسم کے جہادی برانڈز متعارف کروائے گئے۔ جنہوں آگے بڑھ کر حقیقت میں پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی، قتل و غارت گری کی وہ مثالیں قائم کیں کہ چنگیز خان کی روح خوش ہو گئی ہوگی۔ اس کے علاوہ خارجہ محاذ پہ پاکستان کو جو نقصان ہوا اسکا ازالہ آج تک پاکستان کررہا ہے۔

    سب سے بڑا ہاتھ سعودی عرب کے ساتھ ہوا۔ پوری دنیا میں جن لوگوں کو اس نے پیٹرول سے کمائے گئے پیسے کھلائے وہی اس کی گردن کو آگئے۔ جہیمین سے لیکر القاعدہ اور اخوان المسلموں سب سعودیہ کہ یہود سے بڑے کافر سمجھتے ہیں جبکہ ان سب کی پرورش سعودی ریالوں سے ہوتی رہی۔

    یہ کہانی بہت لمبی ہے شاید پوری کتاب کا موضوع ہے۔ مختصرا تجزیہ کیا جائے تو دو وجوہات سمجھ میں آتی ہیں کہ علماء ایس کیوں کرتے ہیں۔ ایک خبطِ عظمت، دوسری زعمِ تقوٰی۔ لب لباب یہ ہے مولوی صاحب جتنی مرضی جزباتی تقریریں فرمالیں، اگر گٹے سے گٹا ملاتے وقت آپ کو کرونا لگ گیا تو یہ آیسولیشن وارڈ میں آپ کے پاس بھی شاید نہ آئیں۔ اس وقت حکومت کو گالیاں نکالنے سے اچھا ہے کہ ابھی ان کی بات مان لیں۔

    آخر میں سوچنےوالی بات یہ ہے کہ آخر عوام علماء حضرات کے پیچھے چل کے حکومتوں کو کیوں یہودی ایجنٹ سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ وہ بدگمانی ہے جو حکمرانوں کے متعلق پید کی جاتی ہے کہ یہ لوگ شاید اسلام سے ویسی محبت نہیں رکھتے جیسی علماء رکھتے ہیں۔ مشرف اور حجاج بن یوسف جیسے حکمراں اس سوچ کو جواز بخشتے ہیں۔ یہ جھگڑے تو چلتے ہی رہیں گے۔ اس وقت لازمی چیز یہ ہے کہ اپنی حفاظت کی جائے۔ جس دن اسلام اتنا کمزور ہوگیا کہ اسے ہماری حفاظت کی ضرورت پڑجائے، اس سے پہلے قیامت آچکی ہوگی۔

    ذیشان وارث

  • کرونا وائرس، پاکستان سمیت دنیا بھر کی موجودہ صورتحال، اس سے بچنے کی احتیاطیں اور مسنون دعائیں

    کرونا وائرس، پاکستان سمیت دنیا بھر کی موجودہ صورتحال، اس سے بچنے کی احتیاطیں اور مسنون دعائیں

    کرونا وائرس کا حملہ اس وقت بہت شدید ہوچکا ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک میں اس کے اب تک 1,34,113 کنفرم کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں. جن میں سے 4968 لوگوں کی اموات ہوچکی ہیں جبکہ 67,003 لوگ اس مرض سے صحتیاب بھی ہوچکے ہیں.
    چین سے شروع ہونے والے اس وائرس کو شروع میں اتنا سنجیدہ نہیں لیا گیا جس کی وجہ سے یہ وائرس انسانوں سے دوسرے انسانوں میں منتقل ہوتا ہوتا اب مکمل گلوب پر پھیل چکا ہے. کینیڈا کے جسٹن ٹرڈو کی بیوی میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے. اسی طرح امریکی صدر ٹرمپ سے ملنے والے برازیلین شہری میں بھی کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آچکی ہے جبکہ امریکی صدر ٹرمپ ٹیسٹ سے تاحال انکاری ہیں.
    کئی ایک ممالک میں اعلیٰ سطحی لوگ اس کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے موجودہ صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے سبھی ممالک لاک ڈاؤن کا فیصلہ کر رہے ہیں. اٹلی میں بڑی تعداد میں کرونا وائرس کے ہاتھوں اموات کے بعد اٹلی کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے. سعودیہ نے گزشتہ شام بہتر گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا جس میں سے کئی گھنٹے گزر چکے ہیں اس مدت کے دوران عارضی آمد و رفت کو مکمل کرکے سعودیہ کو لاک ڈاؤن کردیا جائے گا.
    بھارت میں ایک بندے کی کرونا وائرس کی وجہ سے موت اور کئی دیگر کنفرم کیسز کے بعد بھارت نے ایران سے اپنے شہریوں کی واپسی کا پروگرام شروع کردیا ہے دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال نے دہلی میں دفع 144نافذ کردی ہے. امریکہ میں بھی کئی کیسز کرونا وائرس کے رپورٹ ہوئے ہیں جس کی وجہ سے امریکہ نے یورپ کے ساتھ فضائی رابطے منقطع کردیے ہیں امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر بڑی تعداد میں اس وقت خیمہ زن لوگ موجود ہیں.


    دنیا بھر میں کھیلوں کے بڑے مقابلے منسوخ کردیئے گئے ہیں، دہلی میں ہونے والے انڈین پریمیئر لیگ کے کرکٹ میچز کو بھی منسوخ کردیا ہے. پاکستان سپر لیگ کے بقیہ میچز کے حوالے سے بھی مشاورت جاری ہے جبکہ سندھ گورنمنٹ نے یہ اعلان کیا ہے کہ کراچی میں ہونے والے میچز میں شائقین نہیں آسکیں گے صرف ٹیمیں اور ان کے آفیشلز ہی شرکت کرسکیں گے. اسی طرح سندھ کے تعلیمی اداروں کو بھی تیس مئی تک بند کردیا گیا ہے اور اس دوران ہونے والے امتحانات کو ملتوی کردیا گیا ہے.
    بدقسمتی سے شروع میں پاکستان نے کرونا وائرس کو سنجیدہ نہیں لیا حالانکہ پاکستان کے اطراف و کنار میں کرونا وائرس گھوم رہا ہے. چین سے شروع ہوا جبکہ ایران میں بڑی تعداد میں اس سے متاثرہ لوگ موجود ہیں اور انڈیا میں بھی کئی کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں. اگر شروع میں ہی اس پر سنجیدگی دکھائی جاتی تو پاکستان اس سے بچ سکتا تھا. پاکستان میں اب تک کرونا کے 21 کنفرم کیسز ہیں جبکہ 2 لوگ اس مرض سے پاکستان میں صحتیاب ہوچکے ہیں اور بحمدللہ پاکستان میں کرونا سے تاحال کوئی موت واقع نہیں ہوئی ہے.
    لیکن ابھی بھی کرونا وائرس کو پاکستان میں اس طرح سے سنجیدہ نہیں لیا جارہا جس طرح سے دنیا بھر میں اس کو لے کر ایمرجنسی نافذ کی جا رہی ہے.پاکستان کی سرحدیں ایران کے ساتھ کچھ عرصے کے لیے بند ہوئی تھیں مگر پھر سے کھول دی گئی ہیں اور لمبی سرحدی پٹی پر اسکیننگ کے انتظامات بھی موجود نہیں جبکہ زائرین اور دیگر افراد کی آمد و رفت وسیع پیمانے پر جاری و ساری ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے لیے خطرات موجود ہیں.
    پاکستان میں تعلیمی ادارے بھی کھلے ہوئے ہیں اور چھوٹے بڑے اجتماعات بھی منعقد ہورہے ہیں اگرچہ رائیونڈ میں ہونے والا تبلیغی اجتماع موسم کی خرابی اور پنڈال میں پانی بھر جانے کے باعث دعا کروا کر ختم کردیا گیا ہے لیکن چھوٹے بڑے اجتماعات اور سیاسی جلسے جاری ہیں. جن پر فالفور پابندی عائد ہونی چاہیے. تعلیمی اداروں اور ملک میں جاری کھیلوں کے مقابلوں پر بھی فالفور کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اجتماعی صحت ے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے.
    اسی طرح عوام الناس کو بھی چاہیے کہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور دی گئی ہدایات پر عمل درآمد کریں. پبلک مقامات پر میل جول اور چیزوں کے استعمال سے گریز کریں. ماسکس ، ٹشوپیپرز اور گلوز کا استعمال کریں. عوامی اجتماعات میں شرکت سے بھی گریز کریں اور کسی بھی ناگہانی صورتحال میں اسپتال اور ڈاکٹرز سے رجوع کریں.
    یہ آفتیں اور بیماریاں انسانی اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں جو اللہ کی طرف سے مسلط کی جاتی ہیں تو ان آفتوں اور بیماریوں پر بجائے ٹھٹھہ و مذاق کرنے اور لطائف بنانے کے اللہ سے توبہ کرنی چاہیے یقیناً وہی شفا دینے والا اور بیماریوں اور آفتوں کو کنٹرول کرنے والا ہے. صحیح بخاری کتاب الطب میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نازل نہیں فرمائی جس کا علاج یا دوا نہ نازل فرمائی ہو یقیناً اس کرونا وائرس کی شفا بھی کسی نہ کسی چیز میں موجود ہوگی. اس کا علاج دریافت ہونے تک ہمیں چاہیے کہ ہم حتیٰ الامکان احتیاطیں اختیار کریں اور یہ دعائیں کثرت سے پڑھتے رہیں.
    أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
    "بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ
    اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
    یہ آفات انسان کی آزمائش بھی ہوتی ہیں تو اپنا ایمان اور توکل اللہ پر مضبوط کرنا چاہیے اور اس کرونا وائرس سے بچنے کی جو احتیاطیں دنیا بھر میں بتائی جا رہی ہیں ان سے اسلامی شعار طہارت، وضو، غسل وغیرہ کی حقانیت واضح ہوتی ہے.