Baaghi TV

Category: متفرق

  • رشتے کی حقیقی مضبوطی، تحریر: نور فاطمہ

    رشتے کی حقیقی مضبوطی، تحریر: نور فاطمہ

    ہماری زندگی میں بے شمار لوگ آتے ہیں، کچھ لمحوں کے لیے، کچھ سکھ ،تکلیف،دینے کے لیے، اور کچھ ہمیشہ کے لیے۔ مگر اُن سب میں سے "کسی کو چُننا” یہ کوئی سادہ فیصلہ نہیں ہوتا۔ یہ صرف ایک چہرے، ایک آواز، یا کسی مسکراہٹ کو چُننا نہیں ہوتا۔یہ دراصل ایک مکمل انسان کو، اُس کی مکمل ذات کے ساتھ اپنانے کا عمل ہے۔ اور یہی بات تعلقات کی اصل روح ہے۔جب ہم کسی کو چُنتے ہیں تو ہم اُس کی پسندیدہ عادتوں، اُس کی مسکراہٹ، اُس کے اندازِ گفتگو، اور اُس کی موجودگی سے ملنے والی خوشی کو اپناتے ہیں۔مگر اصل چناؤ تب ہوتا ہے جب ہم اُس کی ناپسندیدہ باتوں، اُس کی چپ، اُس کے ماضی کے زخموں، اور اُس کی کمزوریوں کو بھی اُسی اپنائیت سے قبول کرتے ہیں۔قبولیت صرف خوبصورت پہلوؤں کی نہیں ہوتی، بلکہ ہر اُس ٹوٹ پھوٹ، ہر اُس تلخی، ہر اُس کمزوری کی ہوتی ہے جو ایک انسان کو مکمل بناتی ہے۔

    اکثر رشتے اِس غلط فہمی میں قائم ہوتے ہیں کہ دوسرا انسان ہمیشہ خوش رہے گا، ہمیشہ محبت دے گا، اور کبھی نہیں بدلے گا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک اندرونی جنگ چل رہی ہوتی ہے، وہ کبھی ہار رہا ہوتا ہے، کبھی تھک جاتا ہے، کبھی خود سے بھی بات نہیں کر پاتا۔وہ لمحے جب وہ چپ ہو جاتا ہے، جب اُس کے چہرے پر مسکراہٹ غائب ہوتی ہے، جب وہ خود سے دور ہو جاتا ہے ، یہی اصل وقت ہوتا ہے اُسے اپنانے کا، اُسے سمجھنے کا، اور اُس کا ساتھ دینے کا۔

    ہم اکثر رشتوں کو خوشیوں کا ذریعہ سمجھتے ہیں، لیکن سچا رشتہ وہ ہوتا ہے جہاں آنسو بھی قبول کیے جاتے ہیں۔
    جہاں صرف "میں تمہارے ساتھ ہوں” کہنا کافی نہیں، بلکہ ساتھ بیٹھ کر، خاموشی سے اُس کا ہاتھ تھام کر، اُس کے دُکھ میں شریک ہونا ضروری ہوتا ہے۔کسی کی تکلیف میں اُس کے قریب ہونا، صرف لفظوں سے نہیں، احساسات سے اُسے تھپکی دینا یہی” محبت "ہے۔جب ہم کسی کو اپناتے ہیں، تو اُس کے ماضی کو بھی اپناتے ہیں۔ اُس کے پرانے زخم، اُس کی تلخیاں، اُس کی کہانیاں ، یہ سب اُس کی موجودہ ذات کو تشکیل دیتے ہیں۔
    اگر ہم کسی کے ماضی کو رد کر دیتے ہیں، تو ہم اُس کی مکمل شناخت کو مسترد کر رہے ہوتے ہیں۔رشتے میں اعتماد تب قائم ہوتا ہے جب ہم ماضی کو سنبھالنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، نہ کہ اُس پر طعنہ دیتے ہیں۔

    محبت اور تعلق صرف ایک جذباتی بندھن نہیں، بلکہ ایک روحانی سفر ہے۔جب دو لوگ ایک دوسرے کی تکلیفیں، کمزوریاں، خوشیاں، اداسیاں سب کچھ بانٹتے ہیں تو وہ ایک ایسا رشتہ بناتے ہیں جسے وقت، فاصلہ، یا حالات بھی کمزور نہیں کر سکتے۔ایسے رشتے میں "میں” اور "تم” ختم ہو جاتے ہیں، اور صرف "ہم” باقی رہ جاتا ہے۔کسی کو چننے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے ایک کامل شخص چُنا ہے۔بلکہ آپ نے ایک ایسا شخص چُنا ہے جس کے اندر خوبیاں بھی ہیں اور خامیاں بھی ، اور آپ نے اُسے ہر صورت میں اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔محبت صرف یہ نہیں کہ آپ اُس کے ساتھ اچھے وقت گزاریں، بلکہ یہ کہ آپ اُس کے برے وقت میں بھی اُسی شدت سے اُس کے ساتھ رہیں۔اسی میں اصل انسانیت، اصل رشتہ، اور اصل محبت چھپی ہے۔

    noor fatima

  • ریاستیں اپنے شہریوں ہی کی بدولت قائم رہتی ہیں

    ریاستیں اپنے شہریوں ہی کی بدولت قائم رہتی ہیں

    ریاستیں اپنے شہریوں ہی کی بدولت قائم رہتی ہیں
    افغانستان میں اماراتِ اسلامی کی حکومت افغان مہاجرین کی دوبارہ آباد کاری کر کے ہی دنیا میں نام کما سکتی ہے

    نصیب شاہ شینواری
    افغانستان کی پچھلی چار دہائیوں کی تاریخ جنگ و جدل اور امن و امان کی مخدوش صورتِ حال سے دوچار رہی ہے۔ سال 1979 میں جب روس نے افغانستان پر قبضہ کرنے کی ٹھان لی تو افغانستان سے لاکھوں کی تعداد میں افغان شہری مہاجرین بن کر ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

    1980 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان میں پناہ لینے والے افغان مہاجرین کی تعداد تقریباً 30 لاکھ تھی جبکہ 1980 کے آخر تک یہ تعداد 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ 1990 کی دہائی میں کچھ افغان مہاجرین روس کے انخلا کے بعد واپس افغانستان چلے گئے لیکن 1995 کے دوران طالبان کی حکومت آنے کے بعد ایک دفعہ پھر افغانستان سے بڑی تعداد میں ہجرت ہوئی۔ اسی طرح سال 2001 میں افغانستان پر امریکی قیادت میں نیٹو فورسز کے حملے کے بعد افغان مہاجرین کی ایک اور بڑی ہجرت واقع ہوئی اور لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستان آئے۔ پاکستان نے مہاجرین کو پناہ گزین کیمپوں میں جگہ دی جبکہ کئی شہروں میں بھی افغان برادریاں آباد ہو گئیں خاص طور پر خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں۔

    تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو پاکستان وہ واحد مسلم ہمسایہ ملک تھا جس نے افغان شہریوں کے لیے پاک افغان بارڈر کھلا رکھا اور افغان مہاجرین بغیر کسی رکاوٹ کے پاکستان ہجرت کر کے پاکستان آگئے۔ پاکستان نے ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے افغان مہاجرین کو خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں کیمپوں میں پناہ دی۔ پاکستان وہ واحد اسلامی ملک تھا جہاں افغان مہاجرین کو کیمپوں سے باہر کاروبار کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کی آزادی تھی۔ اسی کاروباری اور تعلیمی آزادی کی وجہ سے آج افغان مہاجرین بڑی بڑی کمپنیوں اور کاروباروں کے مالک ہیں اور وہ اب بھی پاکستان میں آزادانہ طور پر کاروبار کر رہے ہیں۔

    یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں افغان مہاجرین نے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اپنے ہی ملک کی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ افغانستان کی تقریباً ہر وزارت اور دیگر حکومتی اداروں میں کام کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اب بھی وہ افغانستان کی حکومت اور عوام کی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جب کبھی پاکستان کی حکومت کسی ناگزیر وجوہات کی بنا پر افغان مہاجرین کو عزت کے ساتھ واپس اپنے ملک بھیجنا چاہتی ہے تو یہی افغان مہاجرین جنہوں نے یہاں پاکستان میں تعلیم حاصل کی اور کاروبار کیا اسی پاکستان کے خلاف ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جن سے نفرت اور تعصب کی بو آتی ہے۔

    اگر دنیا کے دیگر ممالک جیسے امریکا اور یورپی ممالک کی مہاجرین کے حوالے سے پالیسیوں پر نظر ڈالی جائے تو آئے روز امریکا جیسا ترقی یافتہ اور خوشحال ملک بھی مہاجرین اور تارکینِ وطن کے حوالے سے سخت پالیسیاں نافذ کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک افغان مہاجرین کے حوالے سے وطن واپسی کی پالیسی کا اعلان کرتا ہے تو پھر انگلی صرف پاکستان کی طرف اٹھائی جاتی ہے حالانکہ ہر ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسی آزاد ہوتی ہے اور ہر ریاست اپنے ملک و عوام کی بقا کے لیے پالیسیاں وضع کرتا اور ان پالیسیوں کو نافذ بھی کیاجاتا ہے۔

    یہاں ایک اہم نقطہ کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ کسی بھی ریاست کے لیے آبادی یعنی شہری ایک لازمی جزو ہیں اور ریاستوں کا شہریوں کے بغیر وجود ناممکن ہے۔ ایسے میں جب افغان شہری پاکستان سے واپس اپنے ملک جاتے ہیں تو ذمہ داری افغانستان کی حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی دوبارہ آباد کاری کے لیے ایمرجنسی بنیادوں پر کام کرے۔ افغانستان کی حکومت کو چاہیے کہ پاکستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کے فیصلے کو دل و جان سے قبول کرے اور اس کی تعریف کرے کیونکہ انہی افغان شہریوں کی وجہ سے افغانستان ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ جس ملک میں شہری آباد نہ ہوں وہاں حکومت اور ریاست کا نام بے معنی رہ جاتا ہے۔

    افغانستان کے لیے ایک اہم قدم یہ بھی اٹھانا ہوگا کہ وہ امریکا اور دیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کر کے افغان شہریوں کو اپنے ہی ملک میں دوبارہ آباد کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

  • زندگی کے دو دن…تحریر:نور فاطمہ

    زندگی کے دو دن…تحریر:نور فاطمہ

    زندگی ایک مسلسل امتحان ہے، جہاں خوشیاں اور غم، کامیابیاں اور ناکامیاں، دونوں کا ایک اہم کردار ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جو ہر انسان کو مختلف مراحل سے گزار کر ایک خاص مقصد تک پہنچاتا ہے۔ زندگی کے بارے میں ایک حقیقت یہ ہے کہ یہ دو دنوں پر مشتمل ہوتی ہے، ایک آپ کے حق میں ہوتا ہے اور دوسرا آپ کے خلاف۔

    یہ وہ دن ہوتا ہے جب سب کچھ اچھا چل رہا ہوتا ہے۔ آپ کی دعائیں قبول ہو رہی ہوتی ہیں، ہر کام آسان لگ رہا ہوتا ہے اور دنیا کی تمام خوشیاں آپ کے قدم چوم رہی ہوتی ہیں۔ ایسے دنوں میں انسان کو خوشی ملتی ہے اور وہ ہر لمحہ کا لطف اٹھاتا ہے۔ لیکن یہاں ایک بہت ضروری بات یہ ہے کہ انسان کو کبھی بھی اپنے کامیاب دنوں پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔جب آپ کے حق میں سب کچھ ہو رہا ہو، تو آپ کو اپنے رب کا شکر گزار رہنا چاہیے اور اپنی خوشیوں میں دوسروں کو بھی شریک کرنا چاہیے۔ غرور انسان کو زمین پر لا کر اس کی حقیقت دکھا دیتا ہے۔ کامیاب دنوں میں بھی انسان کو ہمیشہ عاجزی اور انکساری اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ کی رضا اور رحمت کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہوتا۔

    یہ وہ دن ہوتا ہے جب آپ کو زندگی کی تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آپ کی محنت ضائع ہو جاتی ہے، حالات آپ کے خلاف ہو جاتے ہیں اور آپ کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے دنوں میں انسان کو غم، مایوسی اور افسوس کا سامنا ہوتا ہے۔ لیکن یہی وہ وقت ہوتا ہے جب انسان کو صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتا ہے کہ جب آپ کے خلاف حالات ہوں، تو ان پر صبر کرو۔ یہ دن بھی ایک امتحان ہوتا ہے۔ اللہ کا حکم ہے کہ ہم جو بھی حالات میں ہوں، اس پر صبر کریں کیونکہ یہ ہمارے ایمان اور قوت کا امتحان ہوتا ہے۔ جو دن آپ کے خلاف ہوں، وہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہیں، اور ان سے نکل کر ہی انسان کا کردار مضبوط ہوتا ہے۔

    شیطان انسان کو ہر لمحہ گمراہی کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا پہلا حملہ انسان کی زبان پر ہوتا ہے۔ وہ انسان کو اللہ کے ذکر سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ جب انسان اللہ کا ذکر کرتا ہے، تو اس کی روح سکون پاتی ہے اور وہ دنیا کی پریشانیوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اگر انسان اپنی زبان پر اللہ کا ذکر جاری رکھے، تو شیطان اسے اپنے جال میں نہیں پھانس سکتا۔جب انسان اللہ کے ذکر سے دور ہو جاتا ہے، تو اس کا دل اور دماغ پریشان ہو جاتے ہیں، اور پھر جسمانی طور پر بھی انسان کی حالت خراب ہو جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر حال میں اللہ کے ذکر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، کیونکہ یہی ہمارے دل کی سکونت اور شیطان کی شکست کا ذریعہ ہے۔

    زندگی کے دونوں دنوں میں ہمیں توازن قائم رکھنا چاہیے۔ جب ہم خوش ہوں تو غرور سے بچنا چاہیے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، اور جب حالات ہمارے خلاف ہوں تو صبر کرنا چاہیے اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ شیطان کی کوششوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہمیشہ اللہ کے ذکر میں مشغول رہیں، کیونکہ ذکر اللہ کے ذریعے انسان کا دل سکون پاتا ہے اور شیطان کی تمام رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں۔یاد رکھیں کہ زندگی کا مقصد صرف کامیابی یا خوشی حاصل کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مسلسل سفر ہے جس میں انسان کی شخصیت اور ایمان کی آزمائش ہوتی ہے۔ ہر دن ایک نیا امتحان ہوتا ہے، اور ہمیں ان امتحانوں کا صبر اور شکر کے ساتھ سامنا کرنا چاہیے۔

  • دریائے سندھ سب کا ہے.تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    دریائے سندھ سب کا ہے.تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    یہ عجیب سا المیہ ہے کہ جب کراچی کی سڑکوں پر جرم، لاقانونیت، اور بے یقینی کا راج ہوتا ہے، پانی کی قلت اور کوٹہ سسٹم پر احتجاج ہوتا ہے تو کچھ لوگ بے حس نظر آتے ہیں۔ اور جب ہمارے دیہات ڈوبتے ہیں، کارونجھر پہاڑ خطرے میں ہوتا ہے یا دریائے سندھ کی سانسیں گھٹتی ہیں، تو کچھ دوسرے لوگ خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔

    تقریباً اٹہتر سال ساتھ رہنے کے باوجود ہم ایک دوسرے کے دکھوں میں شریک کیوں نہیں ہو پاتے؟
    اس کا سبب یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو اپنی نہیں، سیاست دانوں کی عطا کردہ عینک سے دیکھتے ہیں۔ وہ عینک جو برسوں سے ہمیں پہنائی ہوئی ہے اور ہم اب اس عینک کو ہی اپنی آنکھیں سمجھنے لگے ہیں۔ یہ عینک ہمیں دکھاتی ہے کہ "ہمارے سب مسائل اور استحصال کی جڑ وہ ہیں!” لیکن خود سوچیے کہ اگر ایسا ہوتا تو ہم میں سے کوئی تو خوش حال ہوتا، چین کی بانسری بجاتا۔ خوش حال تو مقتدر طبقہ ہوا جاتا ہے، چین کی بانسری تو وہ بجاتا ہے۔ مگر مل کر اس کا گریبان پکڑنے کے بجائے ہم برسوں سے آپس میں دست و گریباں ہیں۔

    یاد رکھیے، غریب چاہے اردو بولتا ہو یا سندھی، سب ایک جیسے مسائل کا شکار ہیں۔

    نہ کوٹہ سسٹم نے انصاف دیا، نہ روزگار نے برابر مواقع۔ کوٹہ سسٹم ہو یا روزگار کا بحران، کسی غریب کو اس کا حقیقی فائدہ کبھی نہیں ہوا۔ نہ کشمور کے غریب نوجوان کو، نہ ناظم آباد کے غریب طالب علم کو۔ اس حقیقت کو اب سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس تقسیم سے دراصل فائدہ کسے ہو رہا ہے۔

    ہم سب جانتے ہیں کہ اس تقسیم کا ہتھیار زبان ہے۔ حالاں کہ ایک دوسرے کی زبان سیکھنے سے اپنی زبان، تہذیب اور ثقافت مر نہیں جاتی۔ ہم دوسرے ملکوں جا کر تو فوراً ان کی زبان سیکھ لیتے ہیں اور منہ ٹیڑھا کر کر کے درست زبان بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور اس وقت نہ سندھی زبان و ثقافت کو کوئی خطرہ ہوتا ہے اور نہ اردو زبان و ثقافت کو۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس تقسیم کی سازش کو سمجھیے، ایک دوسرے کی زبان کو دشمن نہ مانیے۔ ایک دوسرے کی زبان سیکھیے تاکہ ایک دوسرے سے مکالمہ کر سکیں، ایک دوسرے کو جان سکیں اور دلوں کے بند دروازے کھل سکیں۔
    ہم لوگوں کو اس سچ کو سمجھنا چاہیے کہ کسی بھی زبان کی حفاظت دوسروں کو خاموش کر کے نہیں ہوتی، بلکہ مکالمے، محبت، اور ایک دوسرے کو سمجھنے سے ہوتی ہے۔
    کوئی دریائے سندھ کہے یا سندھو دریا مگر زندگی سب کی اسی سے جڑی ہوئی ہے۔
    یہ دریا جب بہتا ہے تو نہ ذات دیکھتا ہے، نہ زبان، نہ مذہب، نہ شہر، اور نہ دیہات، بس سب کو سیراب کرتا ہے تو پھر اس کی حفاظت بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ وہ دریا جو اپنے آپ میں کوئی تعصب نہیں رکھتا اسے بچانے میں تعصب کیوں؟
    یاد رکھیے سندھ دریا زبانوں کا نہیں انسانوں کا ہے اور اس کی بقا ہم سب کی بقا ہے۔

  • متنازع ترین "پرموشن بورڈ”   تحریر:ملک محمد سلمان

    متنازع ترین "پرموشن بورڈ” تحریر:ملک محمد سلمان

    متنازع ترین "پرموشن بورڈ”

    جناب شہباز شریف میں جب کبھی بھی آپ کے حوالے سے کالم لکھتا تھا تو سب سے زیادہ فیڈبیک بیوروکریسی کی طرف سے آتا تھا اگر کوئی پہلو ڈسکس نہیں ہوتا تھا تو یہی افسران تفصیل سے اگاہ کرتے کہ شہباز صاحب یہ اصلاحات اور کام بھی کررہے ہیں اگلی دفعہ ان اقدامات کو لازمی مینشن کریے گا۔ جب سے ہائی پاور اور سینٹرل سلیکشن بورڈ ہوا ہے ہر طرف خاموشی ہے، جواب میں اداس ایموجیز کا ہی ریپلائی ملتا ہے۔ مایوسی اور نا امیدی کی یہ لہر صرف ترقی سے محروم افسران تک محدود نہیں رہی بلکہ بیوروکریسی کی اکثریت شدید پریشان ہے اور ایسی بے توقیر اور بے یقینی والی نوکری سے رخصت لیکر بیرون ملک جانے کا سوچ رہے ہیں۔ ہائی پاور بورڈ سے لیکر سینٹرل سلیکشن بورڈتک “پک اینڈ چوز“ نے اہم ترین بورڈز کو ”سلاٹر ہاؤس“ میں بدل دیا۔

    جن افسران کو ناحق ترقی سے محروم کیا گیا ہے وہ سخت اذیت اور صدمے میں ہیں۔ بیوروکریسی کی اکثریت چہہ مگوئیاں کرتی پھر رہی ہے کہ شہباز شریف نے بیوروکریسی کو فلاں سابق افسر کو ٹھیکے پر دے دیا ہے۔ جناب شہباز شریف آپ جیسا باخبر، ذہین اور میرٹ پسند حاکم پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کی حامل بیوروکریسی کے معاملات کو چند افراد کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑ سکتا ہے۔ جناب وزیراعظم آپ کے بارے تو بیوروکریسی کا پختہ یقین رہا ہے کہ شہباز شریف کے ہوتے ہوئے ہمیشہ میرٹ کا بول بالا ہوتا ہے۔

    جناب شہباز شریف جب آپ ناحق قید تھے تو افسران کو آپ کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے اور ثبوت فراہم کرنے کے بدلے اچھی پوسٹنگ آفر ہوتی تھیں تو یہ وہی افسران ہیں جو اصولی مؤقف پر ڈٹ گئے تھے کہ جب شہباز شریف نے انہیں کبھی خلاف میرٹ کوئی کام کہا ہی نہیں تو وہ صرف اچھی پوسٹنگ کے حصول کیلئے پنجاب کی تعمیروترقی کے ریکارڈ قائم کرنے والے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے خلاف کیونکر بیان دیں، اگر حکومت کو پوسٹنگ دینی ہے تو قابلیت کی بنیاد پر دیں، وہ میرٹ پر بہترین کام کرکے دکھائیں گے۔

    آج ان تمام افسران کو اس اصول پسندی کا یہ صلہ ملنا تھا؟
    جناب وزیراعظم آپ کے خلاف وعدہ معاف گواہ نہ بننے والے افسران کی پی ٹی آئی حکومت میں رپورٹس خراب کیں گئیں۔ اس وقت کی رپورٹ کی بنیاد پر آج ان افسران کا پرموشن لسٹ میں نہ ہونا وفاداری کرنے والوں کیلئے بھی سوالیہ نشان بن گیا ہے. کچھ افسران کی ”ٹارگٹ کلنگ“ کیلئے نئی رپورٹس کی بجائے پرانی رپورٹس پیش کی گئیں جو اس گریڈ میں ترقی کیلئے ریلیوینٹ ہی نہیں تھیں جبکہ کچھ افسران کو ترقی سے محروم کرنے کیلئے خود سے”فرمائشی رپورٹیں“ تیار کروائی گئیں۔ بیوروکریسی کا یہ مطالبہ ہے کہ فرضی اور جعلی رپورٹس کی بجائے سب کو قابل قبول سپیشل ویٹنگ ایجنسی کے طور پر آئی ایس آئی کی رپورٹ پر فیصلہ کریں۔

    ڈی جی آئی بی فواد اسد اللہ کے حوالے سے بیوروکریسی کے گروپس میں شدید بحث اور تنقید کی جارہی ہے بیوروکریسی نے وزیر اعظم اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ہائی پاور سلیکشن بورڈ اور سینٹرل سلیکشن بورڈ کے فیصلوں پر نظر ثانی کی درخواست کرتے ہوئے متنازع ترین ڈی جی آئی بی اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کی برطرفی کا مطالبہ کیا ایسے حالات میں جب وطن عزیز کو معاشی اور ملکی سلامتی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے اور ان مسائل سے نمٹنے کیلئے یہی بیوروکریسی ہراول دستہ ہیں۔

    جناب وزیراعظم اگر افسران خود ترقی سے محروم ہوں گے تو عام عوام کیلئے خلوص نیت سے کیسے کام کر سکیں گے؟ جناب وزیراعظم، پاکستان کی تاریخ کے متنازع ترین پرموشن بورڈ کا ”ریویو“ کیے بنا یہ بورڈ سیاست اور سول سروس کے نام پر کلنک کا داغ بن کر رہ جائے گا۔

    وزیر اعظم کو مسئلے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے سول سروس اور پاکستان کو تباہی سے بچانے کیلئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
    ملکی باگ ڈور چند افراد کے حوالے کرنے کی بجائے ہر کسی کے اختیارات کا تعین کیا جائے۔ پختہ شواہد کے بغیر کسی کو بھی ترقی سے محروم نہ کیا جائے۔ صوبائی سروس کے افسران کی بیچارگی بھی ختم کرنا ہوگی جو ٹریننگ مکمل کرنے کے باوجود پرموشن بورڈ کی راہ تک رہے ہیں۔

    چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر اور ان کی ٹیم پاکستان کو ترقی و کامیابی کی منزلوں پر لے جانے کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں خدارا! چیف آف آرمی سٹاف کی کوششوں کو رائیگاں نہ کریں۔

    پی ٹی آئی کا قریبی ہونے جیسے بیہودہ الزامات لگا کر پرموشن اور پوسٹنگ سے محروم رکھنا، ارباب حکومت کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ اس وقت بھی فیصلہ سازی سے لیکر کمائی والی تمام سیٹوں پر تو بزدار حکومت میں اہم سیٹوں پر رہنے والے براجمان ہیں پھر پرموٹ نہ ہونے والے، او ایس ڈی اور کھڈے لائن کیے افسران کا کیا قصور ہے؟

    حالیہ تعیناتیوں میں ٹریفک پولیس سمیت جو افسران فرائض سے غفلت برت رہے ہیں اور کرپشن کے ریکارڈ توڑ رہے ہیں انکو عہدے سے کیوں نہیں ہٹایا جارہا۔ جو کرپٹ ہے اس کی سزا صرف ترقی نہ دینا کیوں؟ کرپٹ افراد کو نہ صرف نوکری سے نکالا جائے بلکہ لوٹی ہوئی رقم جرمانہ سمیت واپس لی جائے۔

    ملک محمد سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • دنیا کی اوپن ائر جیلیں،تحریر:غنی محمود قصوری

    دنیا کی اوپن ائر جیلیں،تحریر:غنی محمود قصوری

    جیل کا لفظ سنتے ہی ذہن میں سب سے پہلے بہت بڑی اور اونچی چار دیواری کے پیچھے بند انسانوں کا تصور آتا ہے جنہیں کسی نا کسی جرم کرنے پر سزا کے طور پر قید کیا جاتا ہے اور ان پر مسلح لوگ نگران بنے ان کی رکھوالی کرتے ہیں اور ان سے جبری مشقت کے طور پر کام بھی لیا جاتا ہے،تاہم اس وقت کرہ ارض پر دو اوپن ائر جیلیں بھی ہیں جن کا نام فلسطین اور کشمیر ہے اور دونوں مسلمان ریاستیں ہیں،عام طور پر جرم کرنے والے شحض کو سزا دی جاتی ہے تاہم یہ جیلیں اس لئے معرض وجود میں آئیں کہ ان کے باشندے مسلمان ہیں اور اپنی آزادی کی آواز بلند کرنے پر بطور سزا بغیر بڑی بڑی دیواروں کے کھلے آسمان تلے بنی جیلوں میں قید ہیں

    ان کو اوپن ائر جیل اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں ان مملکتوں کے باشندوں کو انہی کی ریاستوں میں قید کرکے رکھا گیا ہے جس کی کوئی چار دیواری تو نہیں مگر چار دیواری کی جگہ سرحدیں ہیں اور یہ لوگ آسمان تلے ہوا کے دوش پر قائم جیلوں میں قیدیوں کی سی زندگیاں بسر کر رہے ہیں جہاں قابض ریاستوں کی فوجیں ان پر نگران بن کر ظلم و ستم ڈھا رہی ہیں
    ان دونوں ریاستوں کی غلامی کا عرصہ تقریباً ایک جتنا ہی ہے
    ان ریاستوں میں سے ایک پر یہود کا قبضہ ہے تو دوسرے پر ہنود یعنی ہندو کا
    پہلے بات کرتے ہیں کشمیر کی
    تقسیم ہند کے فارمولے کے خلاف انگریز نے الکفر ملت واحدہ کا عملی ثبوت پیش کرتے ہوئے مسلم اکثریتی علاقہ کشمیر کو ہندوستان کو سونپ دیا جس میں بہت بڑا کردار اس وقت کے راجہ نے بھی ادا کیا،غیور کشمیری قوم نے اس پر احتجاج کیا اور الحاق پاکستان کیلئے صدائیں بلند کیں تاہم ظلم و جبر سے اسے کچل دیا گیا اور بھارتی فوجوں نے کشمیریوں کی آواز کو دبانا شروع کر دیا

    اپنی شہہ رگ کو چھڑوانے اپنے بھائیوں کو اس جیل سے چھڑوانے کی خاطر نومولود پاکستان کے غیور قبائلیوں اور پاکستان کی نومولود فوج نے کشمیر پر یلغار کی اور طاقت کے زور سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور دنیا کی واحد ہندو ریاست سے مقبوضہ کشمیر کا بہت بڑا علاقہ چھین لیا اور اسے ایک الگ مملکت آزاد جموں و کشمیر کے نام سے دنیا کے سامنے رکھا جہاں ریاست آزاد جموں و کشمیر کا الگ صدر و وزیراعظم اور سپریم کورٹ ہے جبکہ اس کے برعکس ہندو نے مقبوضہ کشمیر پر اپنا جبری قبضہ رکھنے کی غرض سے اسے ہندوستان کا ایک صوبہ قرار دیا اور بجائے کشمیری پرچم کے وہاں ہندوستانی پرچم لہرایا اور کشمیری پرچم کو ختم کر دیا گیا ،اگر آپ آزاد کشمیر میں جائیں تو آپکو سب سے پہلے آزاد کشمیر کا پرچم نظر آئے گا اور ساتھ پاکستان کا بھی نظر آئے گا جبکہ اس کے برعکس مقبوضہ کشمیر میں محض ہندوستانی پرچم ہی نظر آئے گا،کشمیر کا پرچم مقبوضہ وادی کشمیر میں لہرانے نہیں دیا جاتا

    پاکستان نے وادی کشمیر کی خودمختاری کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی خصوصی حیثیت یعنی آرٹیکل 370 اے اور 35 اے کو بحال رکھا جس کے تحت کشمیر کے باشندوں کو خودمختاری کی خاص حیثیت حاصل ہے جبکہ بھارت نے اس حیثیت کو ختم کیا اور ہندوستان بھر سے ہزاروں ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر میں لا کر بسانے کا سلسلہ شروع کیا تاکہ مقبوضہ کشمیر کو ہندو اکثریتی علاقہ ظاہر کرکے اس پر جبری قبضے کو قانونی حیثیت دی جائے اور اس کام میں ہندو سرکار کے ایجنڈے کیلئے مقبوضہ وادی کشمیر میں 10 لاکھ بھارتی فوج تعینات ہے

    دوسری طرف بات کرتے ہیں دنیا کی دوسری اوپن ائر جیل فلسطین کی جس پر دنیا کی واحد ناجائز یہودی ریاست نے قبضہ کیا ہوا ہے اور دنیا کی 15 ویں بڑی اسرائیلی 1 لاکھ 70 ہزار ریگولر اور 4 لاکھ 65 ہزار ریزرو فوج نہتے مظلوم فلسطینی عوام کو قید کئے ہوئے ہیں اور اسے امریکہ،برطانیہ اور فرانس سمیت دیگر کئی ممالک کی سرپرستی حاصل ہے
    امریکہ کی سرکاری خارجہ امور کے متلعق دستاویزات میں ایک بات آج بھی لکھی ہوئی ہے جس کا بطور پروف میں آپکو یہ لنک دیتا ہوں

    https://history.state.gov/historicaldocuments/frus1945v08/d660

    اس پر کلک کرکے آپ پڑھیں گے کہ 1945 میں امریکی صدر روز ویلٹ نے سعودی فرمانروا شاہ عبدالعزیز سے ملاقات کی اور اس بات کا مطالبہ کیا کہ اگر یہودی سٹیٹ اسرائیل بنتی ہے تو سعودی عرب اس پر حملہ نہیں کرے گا تاہم شاہ عبدالعزیز نے اس مطالبے پر ٹھوکر ماری اور سرعام کہا کہ میں فلسطین کیلئے میدان جہاد میں لڑ کر شہید ہونا پسند کرونگا مگر تمہاری یہ بات نہیں مانوں گا،اور پھر 1948 کو جب فلسطین کے اندر اسرائیل نامی ناجائز ریاست دنیا کے بڑے بڑے ملکوں کے آشیر باد سے قائم ہو گئی تو شاہ عبدالعزیز نے عرب فوج کو اسرائیل پر حملے کا حکم دیا اور سعودی عرب کے حملے بعد امریکی،فرانسیسی اور برطانوی فوجوں نے کھل کر اسرائیل کا ساتھ دنیا اور سعودیہ کی فوج کی فلسطین میں اینٹ سے اینٹ بجا دی

    اس وقت پاکستان اپنی نومولود اور کشمیر جنگ کے باعث پھنسا ہوا تھا تاہم دنیا کے کسی ملک نے سعودی عرب کی خاص مدد نا کی جس کی وجہ سے سعودیہ یہ جنگ ہار گیا اور اس کے سینکڑوں فوجی شہید ہوئے جن کی قبریں آج بھی فلسطین میں موجود ہیں،پہلی سعودی اسرائیل جنگ 1948 میں ہوئی پھر اس کے بعد دوسری جنگ 1956 اور تیسری جنگ 1967 میں لڑی گئی جس میں سعودی عرب کیساتھ شام،اردن،لبنان،عراق،کویت اور سوڈان و پاکستان نے بھی فلسطینی قوم کی آزادی کیلئے سعودیہ کا ساتھ دیا جبکہ دوسری جانب ناجائز یہودی ریاست اسرائیل کیلئے تعاون کرنے والے ممالک کی تعداد بڑھتی ہی چلی گئی اور آج دن تک یہ صورتحال برقرار ہے

    اللہ رب العزت نے تمام انسانوں،جماعتوں اور ملکوں کو آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا
    انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ”
    نکل کھڑے ہو، خواہ ہلکے ہو یا بھاری، اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہـاد کرو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو ۔۔سورہ توبہ

    کاش جسطرح کافر ممالک ایسے دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں ناجائز ریاستوں کے قیام کیلئے بلکل اسی طرح تمام جماعتیں اور تمام ممالک بھی درج بالا حکم ربی کے تحت جہاد کی تیاری کرتے اور مظلوم ریاستوں کیلئے ایک جماعت بن کر یلغار کرکے کفار کے تسلط سے غلام ریاستوں کو آزاد کرواتے،جہاں جہاد ملکوں اور جماعتوں پر فرض ہے وہیں عام و خاص انسانوں پر بھی فرض ہے ،کاش آج کا مسلمان ایک دوسرے کو طعنے مارنے کی بجائے افرادی طور پر تیاری کرکے اجتماعی قوت بن کر کافروں پر جھپٹ پڑے

  • عزت کریئے اور عزت کروائیے۔ تحریر:ملک سلمان

    عزت کریئے اور عزت کروائیے۔ تحریر:ملک سلمان

    ایک ایڈیشنل سیکرٹری مجھ سے ملنے آئے اور کہا کہ بھائی آپ سے ایک درخواست کرنی ہے کہ بیوروکریسی میں سنئیر افسران کی اخلاقی تربیت پر بھی آرٹیکل لکھیں۔ آفیسر کا کہنا تھا کہ وہ ایک بڑے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا ہے صرف عزت کیلئے سول سروس جوائن کی تھی لیکن وہ سنئیر افسران کے رویے سے شدید مایوس ہے کیونکہ دو تین بیج سنئیر افسر بھی اپنے سے جونئیر کو تحقیر امیز انداز میں بائی نام بلاتا ہے۔ زیادہ برا اس وقت لگتا ہے جب کسی عوامی جگہ یا ماتحتوں کے سامنے بھی سنئیر افیسر صرف نام لیکر بلاتا اور آرڈر کرتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ کم از کم بیوروکریسی کے افسران کو باہم اتنی تمیز اور شرم تو ہونی چاہئے کہ اپنے افسر کو بائی نام بلانے کی بجائے تھوڑی عزت دیتے ہوئے نام کے ساتھ صاحب لگا لیں۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے جونئیر افسر نہیں سیکرٹری کا ذاتی ملازم ہوں۔ ہم تحصیل اور ضلع کمانڈ کرچکے ہیں اتنے بھی جونئیر نہیں کہ "فار گرانٹڈ” لیا جائے۔
    میں نے اسے کہا کہ میں اس پر ایک دفعہ پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔

    مذکورہ آفیسر نے کہا کہ اسی لیے آپ کے پاس آیا ہوں کہ آپ نے اس ٹاپک پر لکھا تھا میں چاہتا ہوں کہ آپ دوبارہ سے لکھیں سوکالڈ سنئیرز کو تھوڑی شرم دلائیں کہ ”ایس او پی“ ہونی چاہئے کہ کم از کم پی ایم ایس اور سی ایس ایس افسران اپنی کمیونٹی کے جونئیرز کو صرف نام لیکر بلانے کی بجائے صاحب لگا لیں اس سے ان کی شان اور سنیارٹی میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

    میں نے اسے کہا کہ آپ جس کا ذکر کررہے ہیں اسے تو خود اپنے سنئیر افسران کا بچہ کہلانے پر فخر ہے۔ ایسے بہت سارے نمونے ہیں جو سیاسی شخصیات، اہم ادارے کے عہدیداران اور سنئیر افسران کا ناصرف بچہ کہلانا پسند کرتے ہیں بلکہ خود مشہور کرتے ہیں کہ وہ فلاں کا تعلق دار ہے اور دوسری طرف باقی افسران کے ساتھ ”تم“ کہہ کر بات کرتے ہیں۔

    میں نے اسے بتایا کہ بھائی افسران کی تو مجبوری ہے کہ وہ تم اور بائی نام بلانے والوں کو منہ پر جواب نہیں دے سکتے پیچھے ضرور گالیاں دیتے ہیں کہ گھٹیا انسان کو بولنے کی تمیز نہیں۔
    میں تو زیروٹالرینس کا عادی ہوں جو جس لہجے میں بات کرے اسی لہجے میں جواب دیتا ہوں۔
    احترام سے بلائے تو ڈبل احترام، چکڑ چوہدری بنے تو اسی کے لہجے میں ”اوئے توئے“
    میں نے پہلے بھی ایک دفعہ ٹیلیفونک کال کے حوالے سے ذکر کیا تھا
    ایک سنئیر آفیسر کی کال آئی کیا حال ہے۔
    میں نے کہا کہ الحمد اللہ۔
    وہ دوبارہ مخاطب ہوا۔۔کہاں گم ہو تم آج کل؟
    میں نے کہا جی۔۔۔
    اس نے دوبارہ رپیٹ کرتے ہوئے بھائی کا اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ بھائی تم کہاں لاپتہ ہو
    میں نے کہا کہ یہیں، کہاں جانا، تم سناؤ
    اس دفعہ سرپرائز ہونے کی باری اس کی تھی
    ذرا شرمندہ ہوتے ہوئے دوبارہ مخاطب ہوا۔۔۔ تو چھوٹا بھائی ہے
    میں نے پھر ریپلائی کیا۔۔۔۔ تیری مہربانی ہے اگر تو سمجھتا ہے تو۔اگر تم بھائی سمجھتے ہو تو میں بھی تمہیں بالکل ویسے ہی سمجھتا ہوں۔
    وہ سمجھ گیا اور فوری تم سے آپ پر آگیا۔
    ایسے ہی ایک دفعہ ایک اور خودساختہ سنئیر کو ”شٹ اپ“ کال دے کر بلاک کیا۔

    ہمارے ہاں روٹین میں یہ سننے کو ملتا ہے کہ وہ اپنا چھوٹا بھائی ہے، تابعدار ہے اپنا، برخوردار ہے، بچہ ہے اپنا۔
    اگر کوئی آپ کی عزت کرتا ہے تو اس کو ڈائجسٹ کرنا سیکھیں نا کہ اس طرح کی فضولیات بکنا شروع کردیں۔
    ایم پی اے، ایم این اے، منسٹر، بیوروکریٹ، جج، اینکر، کالم نویس، آرمی آفیسر یا بزنس ٹائیکون غرض اگر آپ کسی بھی اچھی جگہ ہیں تو ہر کوئی آپ کا رشتہ دار ہے۔ضروت طے کرتی ہے کہ اس نے کس کو، کونسا رشتہ دینا ہے اور مشہور کرنا ہے کہ فلاں تو میرا چاچا، ماما، پھوپھا ہے حتٰی کہ بوقت ضرورت اسے بہنوئی اور تایا ابو بھی بنا لیتے ہیں تایا مجبوری کی وجہ سے لگاتے ہیں ورنہ وہ ابو کہنے کیلئے بھی ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں۔

    ہمیں اس منافقت اور احساس کمتری سے باہر نکلنا ہو گا خود کو اہم ثابت کرنے کیلئے دوسروں کو ان کو غیر موجودگی میں نیچا دکھانا چھوڑ دیں۔جیسی عزت آپ منہ پر کرتے ہیں ویسی ہی عزت انکی غیر موجودگی میں کریں۔ اہم کا وہم پالے ہم اس قدر احسان فراموش اور بے شرم ہوجاتے ہیں کہ اپنے ہی دوستوں اور رشتہ داروں کو پہچاننے سے انکاری ہوتے ہیں۔جس سے آپکی متعدد ملاقاتیں اور تعلق ہو لیکن اس کی غیر موجودگی میں اس طرح ڈرامے کریں گے کہ جیسے اسے جانتے ہی نہیں۔
    آج کے دور میں کوئی بھی برخوردار اور تابعدار کہلانا تو دور، بھائی یا صاحب جیسے تکریمی القابات کے بغیر ڈائریکٹ بائی نام بلانا بھی توہین اور گستاخی سمجھتا ہے۔ اس لیے حقیقت پسندی کی طرف آئیے عزت کریئے اور عزت کروائیے۔

    ملک سلمان

  • ڈاکٹر عافیہ صدیقی، ایک قربانی کی کہانی،تحریر: شہزادی ثمرین

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی، ایک قربانی کی کہانی،تحریر: شہزادی ثمرین

    پاکستان کی تاریخ میں بہت سی اہم ہستیاں گزری ہیں جن کے نام آج بھی ہمارے ذہنوں میں زندہ ہیں، لیکن ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا نام ایک الگ ہی نوعیت کی کہانی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ عافیہ صدیقی ایک ایسی شخصیت ہیں جو نہ صرف اپنے ملک کی بلکہ پوری دنیا کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔ ان کی زندگی کا قصہ ایک ایسی المیہ کہانی ہے جس میں ظلم، بربریت اور بے گناہی کے تمام پہلو سامنے آتے ہیں۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تعلق کراچی کے ایک تعلیم یافتہ اور معتبر گھرانے سے تھا۔ 1972 میں کراچی میں پیدا ہونے والی عافیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی۔ ان کی ذہانت اور محنت نے انہیں تعلیم کے میدان میں نمایاں مقام دلایا۔ 1992 میں عافیہ نے امریکہ جانے کا فیصلہ کیا اور وہاں ٹیکساس میں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔عافیہ نے امریکہ میں رہ کر ایک ایسی اہم تحقیق کی جس کے بعد وہ عالمی سطح پر شناحت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ ان کی تحقیق میں ایک ایسا فارمولا دریافت کیا گیا جو کہ مہلک ہتھیار تیار کرنے کی بنیاد بن سکتا تھا۔ عافیہ کی اس تحقیق کو امریکہ کے لیے اہمیت حاصل تھی، لیکن عافیہ نے اس فارمولا کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر یہ فارمولا امریکہ کے ہاتھ لگ گیا تو یہ اسلام اور اسلامی ممالک کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔عافیہ کی ذاتی زندگی بھی اتنی آسان نہیں تھی۔ 1995 میں ان کی شادی ایک پاکستانی سائنسدان امجد محمد خان سے ہوئی۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی، لیکن اس کے باوجود ان کی شادی کامیاب نہ ہو سکی۔ 2002 میں ان کے درمیان اختلافات شدید ہو گئے اور بالآخر طلاق ہو گئی۔ ان اختلافات کے دوران امجد خان نے عافیہ پر مختلف الزامات عائد کیے۔

    عافیہ کا سفر ایک سنگین موڑ پر 2003 میں آیا جب امریکہ نے پاکستان سے عافیہ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ جس کے بعد عافیہ کو پاکستان سے گرفتار کر کے افغانستان پھر امریکہ منتقل کر دیا گیا۔عافیہ کی گرفتاری کے پانچ سال بعد، اس بات کی تصدیق ہوئی کہ وہ امریکی جیل میں قید ہیں، لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس دوران امریکہ نے عافیہ پر شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کیا تاکہ وہ اپنے فارمولا کے بارے میں بتائے۔ عافیہ نے اپنے عزم کو قائم رکھا اور امریکہ کے سامنے سر نہیں جھکایا۔عافیہ کو اتنے سخت سزاؤں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا کہ اس کی ذہنی حالت مفلوج ہو گئی۔ امریکہ نے بار بار کوشش کی کہ وہ عافیہ سے اس تحقیق کا فارمولا حاصل کرے، مگر عافیہ کا جواب ہمیشہ یہی رہا کہ وہ یہ فارمولا کسی قیمت پر نہیں دے گی۔

    دوران قید، امریکہ نے پاکستان سے عافیہ کی رہائی کے لیے بات کی، اور 2012 میں امریکہ کے صدر بارک اوباما نے پاکستان سے کہا کہ وہ عافیہ کی واپسی کے لیے تیار ہیں، مگر پاکستانی حکومت نے اس مسئلے میں کوئی دلچسپی نہ دکھائی۔ اس طرح عافیہ آج بھی امریکہ کی قید میں ہیں، اور ان کے خاندان والے ان کی واپسی کے منتظر ہیں۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی زندگی نہ صرف ظلم اور جبر کی کہانی ہے، بلکہ اس میں ایک ایسی عورت کی قربانی کی داستان بھی چھپی ہوئی ہے جس نے اپنے وطن، اپنے نظریات اور اپنی قوم کے لیے اپنی زندگی کا سب سے قیمتی حصہ قربان کر دیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس کی رہائی کے لیے آواز اٹھائیں اور عالمی سطح پر اس کی آزادی کے لیے کوششیں کریں۔عافیہ کے خاندان کی جدو جہد اور ان کے صبر و استقلال نے دنیا کو یہ دکھا دیا ہے کہ ظلم کے باوجود سچ اور اصول کی جیت ہوتی ہے۔ ہمیں ان کی رہائی کے لیے آواز اٹھانی چاہیے تاکہ ان کی قربانی رائیگاں نہ جائے۔

  • جاتی عمرہ چوک بھی محفوظ نہیں .تحریر:ملک سلمان

    جاتی عمرہ چوک بھی محفوظ نہیں .تحریر:ملک سلمان

    دنیا بھر میں سرکاری ملازم قانون کا پاسدار اور آئین کا پابند ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں سرکاری ملازم آئین شکنی اور لاقانونیت کو اپنا استحقاق سمجھتا ہے۔

    انتظامی افسران کہتے پھر رہے ہیں کہ روزے اور عید ہے اس لیے تجاوزات کے خلاف ہم سختی نہیں کر رہے جبکہ جہاں جہاں نرمی کی جا رہی ان تمام تجاوزات مافیا کا کہنا ہے کہ یہ نرمی اللہ واسطے نہیں بلکہ انتظامیہ کو "ایڈوانس عیدی” دے کر ہی بازاروں اور سڑکوں پر دکانداری کی اجازت دی جاتی ہے۔ سرکاری ریڑی بازار کی ریڑھیاں فٹ پاتھ سے سڑک پر آچکی ہیں جبکہ دیگر رکشہ ریڑی والے تو بیچ سڑک دکان چلا رہے ہیں۔ افطاری کے نام پر ویڈیوشوٹ اور دکھاوا کرنے والے گلیوں اور سڑک کی ایک سائیڈ بند کردیتے ہیں کہ افطاری ہورہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر اور ٹریفک پولیس ان جعل سازوں کو کس کپیسٹی میں چار سے سات تین گھنٹے کیلئے مین شاہراہ بند کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔

    تجاوزات اور غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے بیس منٹ کا فاصلہ پچاس منٹ میں طے ہورہا ہے۔انہی وجوہات سے رمضان میں ٹریفک حادثات کے ریکارڈ بن رہے ہیں۔ ایک دوست کی طرف افطاری پر گیا تو دیکھا کہ پنجاب پولیس کے تھانوں میں دی گئی گاڑی بغیر نمبر پلیٹ کھڑی تھی۔ گاڑی کے چاروں اطراف پنجاب پولیس کا لوگو اور نام لکھا تھا لیکن گاڑی نمبر یا کوئی شناخت نہیں تھی میزبان سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ آئی جی آفس کی ایک برانچ کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہے۔ اس وقت لگ بھگ پچاس اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ایک سو کے قریب سپرنٹنڈنٹ ہیں جن میں سے بہت ساروں کو ایسے پولیس ڈالے دیے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نان یونیفارم ملازمین/آفس ورک نوکری والوں کو یونیفارم پولیس کا ڈالہ دینا اختیارات سے تجاوز اور لاقانونیت کی انتہا نہیں۔

    میں کم از کم پانچ دفعہ لکھ چکا ہوں کہ بلانمبر پلیٹ گاڑیاں سنگین جرم ہے جس پر وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزیراعلیٰ پنجاب نے سخت کاروائی کا حکم دیا لیکن موثر کاروائی نہیں ہو رہی۔ گذشتہ دنوں ایک سنئیر آفیسر کے ساتھ رائیونڈ جانے کا اتفاق ہوا تو جاتی عمرہ چوک پٹرول پمپ کے بالکل سامنے کم از بیس بغیر نمبر پلیٹ لوڈر اور مسافر بردار رکشے کھڑے تھے۔ یہ تین دفعہ کے وزیراعظم نواز شریف اور موجودہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے گھر کی طرف جانے والے سڑک کے چوک کا عالم ہے۔ کیا بنا نمبر پلیٹ رکشے اور گاڑیاں سکیورٹی ٹھریٹ نہیں؟ مجھے اس آفیسر نے بتایا کہ رمضان سے چند روز قبل وزیراعلیٰ پنجاب نے اندرون لاہور کا دورہ کیا تو بے ہنگم ٹریفک جام پر وزیراعلیٰ نے سی ٹی او لاہور کو Displeasure بھیجنے کو کہا۔ وزیراعلیٰ آفس کی طرف سے Displeasure کے جواب میں دو دو عہدے انجوائے کرنے والے سی ٹی او نے وزیراعلیٰ آفس کے متعلقہ آفیسر کو وربل جواب دیا کہ وزیراعلیٰ رش والے ٹائم آئیں تو میں کیا کرتا۔ جو سی ٹی او اپنی غلطی تسلیم کرنے اور ٹریفک پولیس کے معاملات میں بہتری کی بجائے یہ کہے کہ رش والے اوقات میں وہ کیا کرے وہاں ٹریفک پولیس میں بہتری کی امید چھوڑ دیں۔ ایسا لگتا ہے پنجاب ٹریفک پولیس نے پورے پنجاب میں سڑکوں کو تجاوزات مافیا اور ناجائز پارکنگ کے اڈے اور بنا نمبر پلیٹ سفر کرنے والے دہشت گردوں کی جنت بنا دیا ہے۔

    پولیس ناکوں پر تعینات اہلکار ایک ایک گاڑی کو روک کر سونگھتے ہیں اور ہر گزرنے والے کا ایکسرے کرتے ہیں انکو بلانمبر پلیٹ گاڑیاں کیوں نظر نہیں آتی۔ بغیرنمبر پلیٹ گاڑی چاہے سرکاری ہو یا غیر سرکاری رکشہ ہو یا موٹر سائیکل سب کے خلاف ایف آئی آر دے کر پابند سلاسل کیا جائے۔اسسٹنٹ کمشنر، اے ڈی سی آر پولیس اور ٹریفک پولیس کی اپنی گاڑیاں بغیر نمبر پلیٹ ہیں جن کی نمبر پلیٹ ہیں انہوں نے بھی نمبر کے آگے راڈ لگا کر نمبر کو چھپایا ہوتا ہے ۔ کیا یہ سول ملازمین کوئی خفیہ ایجنسی ہیں جو نمبر پلیٹ نہیں لگا رہے ؟آنکھوں کو چندیا دینے والی غیر نمونہ فلیشر لائٹ سے حادثات ہو رہے ہیں لیکن کاروائی نہیں ہو رہی۔

    جناب چیف آف آرمی سٹاف آپ کے افسران اور جوان ان سول افسران کی لاقانونیت کی وجہ سے دہشت گردوں کا سافٹ ٹارگٹ بن کر شہید ہو رہے ہیں۔ جناب چیف آف آرمی سٹاف آپ ان افسران اور جوانوں کی شہادتوں کا بدلہ دہشت گردوں سے تو لے رہے ہیں لیکن فرائض سے غفلت کرکے اور بنا نمبر پلیٹ قانون شکن اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا کب تنگ کریں گے؟۔
    جناب چیف آف آرمی سٹاف اور وزیراعظم آپ دونوں کی کوششوں سے غیر ملکی سرمایہ کاری آرہی ہے لیکن سرکاری ملازمین کی مجرمانہ غفلت، کرپشن اور لاقانونیت سے تنگ آکر مقامی سرمایہ کار بھی ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں تو بیرونی سرمایہ کاروں کو کیسے اعتماد دلائیں گے۔

  • پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی اور اس کا حقیقی حل.تحریر: قاضی کاشف نیاز

    پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی اور اس کا حقیقی حل.تحریر: قاضی کاشف نیاز

    گزشتہ چند ماہ سے ملک عزیز پاکستان میں دہشت گردی خطرناک حد تک روز افزوں ھے۔۔۔صوبہ بلوچستان اور کے پی کے میں سکیورٹی فورسز پر حملے تو آئے دن معمول تھے ہی۔۔بےگناہ لوگوں کو بسوں سے اتار کر شناختی کارڈ دیکھ کر شہید کرنے کے دلسوز واقعات بھی آئے روز ھو رھے تھے لیکن 11مارچ کو پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا واقعہ ھوا جس میں کوئٹہ سے چلنے والی جعفر ایکسپریس کو بولان مچھ کے علاقے میں دہشت گردوں نے ہائی جیک کر لیا۔۔ دہشت گردوں نے 400سے زائد مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔۔اور 24مسافروں کو شہید کر دیا جن میں کئی مسافر سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔۔۔۔۔۔یہ تو اللہ کا شکر ھوا کہ سکیورٹی فورسز نے بڑی مہارت سے کامیاب آپریشن کو مکمل کرتے ھوئے باقی تمام مسافروں کو دہشت گردوں کے چنگل سے بخیریت بازیاب کرا لیا۔۔۔اس آپریشن میں صرف ایک سکیورٹی اہلکار شہید ھوا۔۔۔
    تاھم اس کے بعد بھی یہ سلسلہ نہیں تھما اور روزانہ سکیورٹی اہلکاروں پر ایسے حملے جاری ہیں۔۔۔

    پاکستان کے دشمن روز اول سے پاکستان کو ختم کرنے کے ہمیشہ درپے رھے ہیں۔۔اس کے لیے ہمارا دشمن ایک دن بھی آرام سے نہیں ںیٹھا۔۔وہ کھلی جنگ میں تو ہماری بہادر افواج سے ہمیشہ شکست فاش کھاتا رہا جیسا کہ 1965 کی جنگ میں پاک فوج نے اپنے سے پانچ گنا بڑی طاقت کے دانت کھٹے کر دیئے تھے۔۔۔اس وقت کے بعد چانکیائی سیاست کے ماہر ہمارے اس مکار دشمن نے اچھی طرح سوچ لیا کہ وہ پاکستان کو کھلی جنگ میں تو کبھی شکست نہیں دے سکتا لیکن سازش،جھوٹا پروپیگنڈہ اور قوم کو باہم تقسیم کر کے اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلا کر وہ یہ جنگ آسانی سے جیت سکتا ھے۔۔چنانچہ 1965 کے بعد وہ پوری تندہی سے اسی ایجنڈے پر پوری تیزی اور سنجیدگی سے اور بڑی برق رفتاری سے عمل کرنے لگا۔۔سب سے پہلے اس نے مشرقی پاکستان میں لسانیت کے نام پر نفرت کی آگ لگائی اور ہمارے بنگالی بھائیوں کو مغربی پاکستان،پنجاب اور پاک فوج کے خلاف کھڑا کر دیا۔۔دشمن کی اس سازش میں ہمارے اپنے ہی کچھ لیڈر اپنے مفادات کے لیے اس کے آلہ کار اور سہولت کار بن گئے۔۔۔ ۔یقینا اس میں مغربی پاکستان کے لیڈروں،اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں سے بھی غلطیاں ھوئی ھوں گی،ممکن ھے ان سے بھی کچھ استحصال ھوا ھو لیکن ایسا استحصال تو ہندو بنیا اس سے بھی کئی گنا زیادہ بھارت کی مختلف قوموں کے ساتھ شروع دن سے برت رہا ھے جیسا کہ دلت،سکھ اور مسلم کمیونیٹیز کو وہاں دیوار کے ساتھ لگا کے رکھا گیا ھے۔۔۔ان کا قتل عام وہاں معمول ھے۔۔۔نہ ان کی عبادت گاہیں محفوظ نہ ان کی جان و مال۔۔۔یہ قومیں ہندو بنیے کے ساتھ ایک برتن میں پانی تک نہیں ہی سکتیں۔۔۔اس سے بڑا استحصال کسی قوم کا اور کیا ھو سکتا ھے۔۔۔دلت اور بڑی ذات کے ہندؤوں کے مندر تک الگ ہیں۔۔۔دنیا میں خط غربت کی انتہائی شرح سے بھی نیچے لوگ بھارت میں رہتے ہیں ۔۔پاکستان میں بھی یقینا غربت بہت ھے لیکن جتنی غربت انڈیا میں ھے اور جتنے لوگ انڈیا کے بڑے شہروں میں فٹ پاتھوں پر لاکھوں کی تعداد میں سوتے ہیں،پاکستان میں الحمدللہ پھر بھی اتنے کربناک حالات نہیں۔۔انڈیا میں غربت کا یہ عالم ھے کہ وہاں گھروں میں لیٹرین کا نہ ھونا سب سے بڑا مسئلہ ھوتا ھے اور وہاں سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا منشور ہی یہ ھوتا ھے کہ وہ ہر گھر میں لیٹرین مہیا کریں گے۔۔وہاں اکثر ایسے محلے اور کالونیاں ھوتی ہیں جہاں پورے محلے کے لیے اجتماعی طور پہ صرف دو لیٹرینیں ھوتی ہیں لیکن افسوس پاکستان نے انڈیا کی اس قدر غربت اور محروم قوموں کے کارڈ کو کبھی استعمال نہیں کیا۔۔۔حالانکہ انڈیا کی یہ محروم قومیں بھارت کے اسی استحصال اور غربت کے خلاف ایک عرصہ سے علم بغاوت بلند کیے ھوئے ہیں۔۔ ناگا لینڈ،میزورام،آسام، تامل ناڈو وغیرہ کے بے شمار ضلعے ایسے ہیں جہاں حکومت بھارت کی رٹ تک نہیں لیکن پاکستان نے کبھی بھارت کے ان حالات سے فائدہ نہیں اٹھایا ۔۔۔کشمیریوں کی بیداری اور تحریک آزادی ہمارے لیے کافی مددگار ثابت ھوئی جس سے بھارت کو پہلی بار اپنی پڑ گئی اور یوں پاکستان کے لیے کشمیری ایک ڈھال بن کے کھڑے ھو گئے لیکن افسوس یہ ڈھال بھی ہمارے ہی حکمران طبقہ نے کمزور کر دی اور اس میں سب ہی نے اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالا۔۔۔چنانچہ انڈیا نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اس نے اپنی روایتی پروپیگنڈہ سازشوں کے ذریعے پاکستان میں نفرت کی آگ ایک بار پھر لگانا شروع کردی، خاص طور پہ اس نے ہمارے دو صوبوں بلوچستان اور کے پی کے کو اپنا اھم ہدف بنا لیا۔۔
    اب ضرورت اس امر کی ھے کہ حکمران طبقہ سے لے کر عوام تک سبھی اپنے دشمن کی سازشوں کو سمجھیں اور ملک کی مضبوطی اور دفاع کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔۔کشمیر کی تحریک کو پھر مضبوط کرنے کی ضرورت ھے۔۔اسلام پاکستان کی 99فیصد اکثریت کا دین ھے جو ہم سب کو متحد رکھنے کے لیے ایک مضبوط مشترکہ بنیاد ھے۔۔ھم سب اپنے اختلافات رنگ،نسل اور قومیت کی بجائے اسلام کے پرچم تلے متحد ھو کر ختم کر سکتے ہیں۔۔ہمیں دشمن کے ناپاک عزائم کو سمجھنے کی اشد ضرورت ھے۔۔۔وہ ہمیں باہم لڑا کر ملک کو ایک بار پھر توڑنے کا اپنا ناپاک مشن پورا کرنا چاہتاھے۔۔ہمارا یہ فرض ھے کہ ھم کسی بھی بہانے اور کسی بھی نعرے کی اڑ میں دشمن کے ان عزائم کو پورا نہ ھونے دیں اور ایسی کسی سرگرمی میں شریک نہ ھوں جس سے ملک کے استحکام پر ضرب پڑے کیونکہ ملک ھے تو ھم ہیں۔۔۔اگر ملک ہی نہ رہا تو پھر کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔۔۔دشمن ہمیں بے دست و پا کر کے ہمارا حال فلسطین و کشمیر ،برما اور عراق و شام اور لیبیا جیسا کرنا چاہتا ھے۔۔ہمارا دشمن زبردست سیاہ پروپیگنڈہ کا ماہر ھے۔۔ابھی حالیہ ٹرین واقعہ میں بھی اس نے کتنی ہی فیک وڈیوز پھیلائیں۔۔کہیں اس نے پوری ٹرین کو جلتا ھوا دکھایا تو کہیں اس نے پاک فوج میں بغاوت کی جھوٹی وڈیوز پھیلائیں۔۔۔اسی سے اندازہ لگا لیں کہ اس ساری دہشت گردی کے پیچھے اصل ہمارا یہی دشمن چھپا ھے۔۔۔اسی دشمن نے ٹرین دہشت گردوں کے حق میں سافٹ امیج بھی پیدا کرنے کی پوری کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ دہشت گردوں نے عام مسافروں کو خود جانے دیا اور صرف سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنایا۔۔حالانکہ یہی دشمن بلوچستان میں شناختی کارڈ دیکھ کر بے گناہ لوگوں کو مارتا رہا ھے۔۔سوال یہ ھے کہ یہ دہشت گرد اگر اتنے ہی رحمدل اور انسان دوست ہیں تو اس وقت اس کا سافٹ امیج اور انسانیت کہاں تھی۔۔۔اس لیے دشمن کے ایسے کسی بھی پروپیگنڈہ سے ہمیں خبردار رہنا چاہیے ۔۔ ائیے آگے بڑھیں۔۔اپنی آنکھیں کھولیں اور اپنے اصل دشمن کو پہچان کر اس کے خلاف سیسہ پلائی ھوئی دیوار بن جائیں ۔ھم اپنے غیر متزلزل اتحاد سے ہی دشمن کے عزائم کو ناکام بنا سکتے ہیں۔۔اج ہمارے بنگالی بھائیوں کی بھی آنکھیں کھل چکی ہیں اور وہ اپنے اس مکار دشمن کو پہچان کر ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ اپنی محبتیں نچھاور کر رھے ہیں لیکن ہمارے لیے ابھی وقت ھے کہ اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے اور دشمن اپنا وار کر جائے،ھم اپنے مسائل مل بیٹھ کر حل کریں اور دشمن کی ہمیں باھم لڑا کر ملک تباہ کرنے کی جو گہری سازش ھے،اس کو اپنے اتحاد سے ناکام بنا دیں۔۔۔۔۔