Baaghi TV

Category: متفرق

  • اپیل بنام وزیر اعلیٰ پنجاب ، انصاف دو، میرا صفدر علی مجھ سے چھین لیا گیا،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    اپیل بنام وزیر اعلیٰ پنجاب ، انصاف دو، میرا صفدر علی مجھ سے چھین لیا گیا،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    محترمہ وزیر اعلیٰ پنجاب، مریم نواز صاحبہ!
    آج میں ایک باپ کی حیثیت سے آپ کے در پر انصاف کی بھیک مانگنے آیا ہوں۔ میرا دل زخمی ہے، میری دنیا اجڑ چکی ہے، میری امیدوں کا چراغ بجھا دیا گیا ہے۔ میں حیدر علی، ایک مظلوم باپ، جس کے جگر کا ٹکڑا، 23 سالہ معصوم صفدر علی، ناحق قتل کر دیا گیا۔ وہ میرا خواب تھا، میری امید تھا، میرے بوڑھے کندھوں کا سہارا تھا، مگر اسے بے دردی سے چھین لیا گیا۔
    یہ کیسا انصاف ہے؟
    سمن آباد، فیصل آباد کی وہ سڑکیں، جو کبھی میرے بیٹے کے قدموں کی آہٹ پہ مسکراتی تھیں، آج سسک رہی ہیں۔ میرے صفدر کو نانا پاپا پیزا شاپ کے مالک کے حکم پر ایک بے حس سیکیورٹی گارڈ نے گولی مار دی۔ ایک ایسی گولی جو میرے بیٹے کے سینے میں اتری اور میرے دل کو چھلنی کر گئی۔ کیا یہ ہے قانون؟ کیا ایسے قتل عام کا کوئی حساب نہیں؟ کیا میرے بیٹے کا خون اتنا سستا تھا کہ کوئی بھی طاقتور شخص اپنی مرضی سے اسے بہا سکتا تھا؟صفدر علی کوئی بدمعاش یا جرائم پیشہ فرد نہیں تھا، وہ تو صرف اپنی محنت کی کمائی سے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا پیٹ پال رہا تھا۔ اس کی مسکراہٹ، اس کے خواب، اس کے ارمان، سب ایک لمحے میں چھین لیے گئے۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ میرے بچے کا قصور کیا تھا؟ وہ کیوں مارا گیا؟

    وزیر اعلیٰ صاحبہ، کیا میرا بیٹا قصوروار تھا؟
    آپ بھی ایک ماں ہیں، آپ بیٹے،بیٹیوں کی عزت کی داعی ہیں، آپ نے ہمیشہ خواتین، نوجوانوں اور محروم طبقات کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کو معلوم ہے کہ ایک ماں کے دل پر کیا گزرتی ہے جب اس کا لخت جگر اس کے سامنے خون میں لت پت ہو۔ مگر میں ایک باپ ہوں، اور میرا دل اس دکھ سے دوہرا ہو چکا ہے۔وزیر اعلیٰ صاحبہ! میری اہلیہ کا برا حال ہے، وہ دن رات اپنے بیٹے کے لیے رو رہی ہے۔ میری بیٹیاں اپنے بھائی کو یاد کر کے تڑپ رہی ہیں۔ ہم سب کو انصاف چاہیے۔ ہمیں بس یہی پوچھنا ہے کہ کیا ہمارے بچوں کا خون اتنا ارزاں ہو چکا ہے کہ کوئی بھی اثر و رسوخ والا شخص، کسی بھی دن، کسی بھی وقت ان کی جان لے سکتا ہے؟

    قاتلوں کو نشانِ عبرت بنایا جائے!
    ہمیں بتایا گیا ہے کہ قاتل گرفتار ہو چکے ہیں، لیکن کیا ان پر واقعی وہی قانون لاگو کیا جا رہا ہے جو کسی عام مجرم پر ہوتا؟ یا پھر وہ بااثر ہونے کی بنا پر کسی رعایت کے منتظر ہیں؟ بتانے والے بتاتے ہیں کہ حوالات میں وہ مہمانوں کی طرح بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔میں یہ نہیں چاہتا کہ صرف مقدمہ درج ہو، میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ صرف زبانی تسلیاں دی جائیں۔ میں انصاف چاہتا ہوں، وہ انصاف جو کھلی آنکھوں سے نظر آئے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے بیٹے کے قاتلوں کو سرعام پھانسی دی جائے، تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص کسی ماں کے لعل کو یوں چھیننے سے پہلے ہزار بار سوچے۔یہ کیس صرف صفدر علی کا نہیں ہے، یہ ہر محنت کش کا کیس ہے، ہر اس باپ کا کیس ہے جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے رات دن ایک کرتا ہے۔ اگر آج صفدر کے قاتل آزاد گھومتے رہے، اگر آج ان کو ان کے جرم کی سخت ترین سزا نہ دی گئی، تو کل کوئی اور صفدر علی مارا جائے گا، کوئی اور ماں اپنا بیٹا کھو دے گی، کوئی اور بہن اپنے بھائی کی جدائی میں آنسو بہائے گی۔میری اپیل، میری آخری امید
    محترمہ مریم نواز صاحبہ، میں آپ کے انصاف پر بھروسہ کرتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ اس کیس کو نظر انداز نہیں کریں گی۔ آپ کو اپنے صوبے کے شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرنی ہے، اور میرے بیٹے کے قاتلوں کو عبرتناک سزا دلوا کر ثابت کرنا ہے کہ پنجاب میں قانون سب کے لیے برابر ہے۔میں آپ سے دست بستہ التجا کرتا ہوں:صفدر علی قتل کیس کو فوری طور پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں لایا جائے۔
    ملزمان کو سرعام پھانسی دی جائے تاکہ دوسروں کے لیے نشانِ عبرت بنیں۔اس کیس کو فاسٹ ٹریک عدالت میں سنا جائے تاکہ میرے بیٹے کے خون کے ساتھ انصاف میں تاخیر نہ ہو۔نانا پاپا پیزا شاپ کو فوری طور پر سیل کیا جائے اور اس کے مالکان کو بھی برابر کی سزا دی جائے کیونکہ انہوں نے ایک معصوم جان کے قتل کا حکم دیا تھا۔سیکیورٹی گارڈز کے غلط استعمال پر سخت قانون سازی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی غیر ذمہ دار شخص کسی کی زندگی سے نہ کھیل سکے۔

    وزیر اعلیٰ صاحبہ، میں ٹوٹ چکا ہوں، مگر انصاف کے لیے ابھی بھی کھڑا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ آپ میری فریاد سنیں گی اور میرا دکھ بانٹیں گی۔ اگر آج انصاف نہ ملا تو کل یہ آگ کسی اور کے گھر پہنچے گی۔
    میں انصاف مانگتا ہوں، میں انصاف کا حق دار ہوں!
    اللہ آپ کو اس آزمائش میں سرخرو کرے اور آپ کو وہ ہمت دے کہ آپ ایک مظلوم باپ کے آنسو پونچھ سکیں۔حیدر علی، والد صفدر علی

  • باغی ٹی وی کی نمائندگی ،قصور میں دفتر کا افتتاح،ایک یادگار سفر.تحریر: طارق نوید سندھو

    باغی ٹی وی کی نمائندگی ،قصور میں دفتر کا افتتاح،ایک یادگار سفر.تحریر: طارق نوید سندھو

    باغی ٹی وی پاکستان کا سب سے بڑا ڈیجیٹل میڈیا نیٹ ورک ہے، جس کی شہرت اس کی بے باک اور سچی صحافت کی بدولت ہے۔ میرے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں نے باغی ٹی وی کی نمائندگی لینے کا فیصلہ کیا اور قصور سے باغی ٹی وی کا حصہ بننے کی سعادت حاصل کی۔ باغی ٹی وی کے سی ای او، سینئر صحافی اور اینکر پرسن، مبشر لقمان صاحب، جو کہ سچائی اور حقائق پر مبنی تجزیے اور تبصروں کے لیے جانے جاتے ہیں، میرے لئے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی پہچان "کھرا سچ” ہے، اور یہی وہ فلسفہ ہے جس پر باغی ٹی وی کا پورا نیٹ ورک قائم ہے۔ مبشر لقمان صاحب کی رہنمائی اور ان کے حوصلہ افزائی کے ساتھ کام کرتے ہوئے، میں نے ہمیشہ سچائی کی راہ اپنائی اور مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانے کی کوشش کی۔

    اگرچہ باغی ٹی وی کی نمائندگی کرتے ہوئے مجھے چار سال ہو چکے ہیں، لیکن میری مبشر لقمان صاحب سے پہلی ملاقات تقریباً ایک ماہ قبل ہوئی۔ وہ ملاقات میرے لئے ایک بہت اہم موقع تھی میں نے ان سے کہا کہ میں قصور میں باغی ٹی وی کا دفتر قائم کرنا چاہتا ہوں۔ مبشر لقمان صاحب نے نہ صرف میری خواہش کو سراہا بلکہ مجھے بھرپور حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ "آپ دفتر بنائیں، اور میں خود آ کر اس کا افتتاح کروں گا۔” ان کی یہ بات میرے لئے ایک تحریک کا باعث بنی اور یہ میرے لئے ایک خواب کی طرح تھا کہ ایک دن وہ خود ہمارے دفتر کا افتتاح کرنے کے لئے قصور آئیں گے۔

    بالآخر وہ دن آیا جب مبشر لقمان صاحب نے قصور آ کر ہمارے دفتر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ موقع نہ صرف ہمارے لئے بلکہ قصور کے صحافیوں اور عوام کے لئے بھی ایک خاص لمحہ تھا۔ افتتاحی تقریب میں باغی ٹی وی اور روزنامہ قدامت کے دفتر کا افتتاح کیا گیا، جس میں وکلا، صحافیوں، اور مقامی دوستوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ یہ تقریب نہایت پروقار اور یادگار تھی جہاں پھولوں کی پتیوں کو نچھاور کر کے دوستوں کا استقبال کیا گیا اور مالا پہنا کر انہیں عزت دی گئی۔

    افتتاحی تقریب کے دوران، مبشر لقمان صاحب نے قصور کے صحافیوں کو اہم نصیحتیں دیں اور انہیں ہمیشہ سچ کا ساتھ دینے کی تلقین کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافت کا مقصد صرف سچ کو اجاگر کرنا اور عوام کی خدمت کرنا ہے، خواہ وہ کسی بھی رائے یا طاقتور طبقے کے خلاف ہو۔ ان کی باتوں نے ہم سب کو نئی توانائی اور حوصلہ دیا کہ ہم سچائی کو ہمیشہ مقدم رکھیں اور اپنے ضمیر کے مطابق کام کریں۔

    میں باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ممتاز اعوان اور انچارج نمائندگان ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی کا بھی شکر گزار ہوں۔ ان دونوں کی رہنمائی اور حمایت کی بدولت ہی میں نے اپنا کام بہتر طور پر انجام دیا ہے۔ جب بھی کسی خبر کی اشاعت کی ضرورت ہوتی، ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی نے اسے بروقت شائع کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان کی محنت اور ٹیم ورک کی بدولت، باغی ٹی وی کی کامیابی کو مزید جلا ملی ہے۔ہمیں یقین ہے کہ قصور کے عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور انہیں حل کروانے میں اہم کردار ادا کرنا ہمارا فرض ہے۔ باغی ٹی وی کے ذریعے ہم عوام کی آواز بن کر ان کے مسائل کو اٹھائیں گے اور مبشر لقمان صاحب کی نصیحت کے مطابق، مظلوم کا ساتھ دیں گے۔ ہمیں اس بات کا پختہ عزم ہے کہ ہم اپنے شہر اور معاشرتی مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے، سچ اور حق کی طرف قدم بڑھائیں گے۔

    ایک بار پھر میں باغی ٹی وی کے سی ای او، سینئر صحافی اور اینکر پرسن، مبشر لقمان صاحب کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمیں اپنے دفتر کے افتتاح کے لیے قصور آنے کا وقت دیا۔ ان کی موجودگی نے ہمارے عزم کو مزید مضبوط کیا اور ہمیں یہ باور کرایا کہ سچائی کی راہ پر چلنا ہی صحافت کا اصل مقصد ہے۔باغی ٹی وی کے سی ای او، مبشر لقمان صاحب کی رہنمائی اور ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ، ہم نے اپنے کام کا آغاز کیا اور آگے بھی اسی جذبے کے ساتھ عوام کے حقوق اور مسائل کو اجاگر کرتے رہیں گے۔ ان کی نصیحتوں کے مطابق، ہم ہمیشہ سچ کا ساتھ دیں گے اور مظلوموں کے لئے آواز اٹھائیں گے۔ قصور میں باغی ٹی وی کے دفتر کے افتتاحی موقع پر ملنے والے حوصلے اور اعتماد کو ہم ہمیشہ یاد رکھیں گے اور اس پر عمل کرتے ہوئے اپنے کام کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔

    baaghitv

  • سماعت سے محروم بچوں کے والدین کے لئے  خوشی کی خبر

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین کے لئے خوشی کی خبر

    پاکستان میں سماعت سے محروم بچوں کے والدین کے لئے ایک خوشی کی خبر ہے۔ پنجاب حکومت نے غریب والدین کے لیے کوکلیئر امپلانٹ آپریشن کی سہولت شروع کر دی ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کو سننے اور بولنے کی صلاحیت دے سکیں۔ کوکلیئر امپلانٹ ایک جدید ٹیکنالوجی ہے جو سماعت سے محروم بچوں کو آوازوں کو سننے اور بولنے کے قابل بنا دیتی ہے۔کوکلیئر امپلانٹ ایک چھوٹا الیکٹرانک ڈیوائس ہے جو کان کے اندر لگایا جاتا ہے۔ یہ آلہ آوازوں کو ڈیجیٹل سگنلز میں تبدیل کرتا ہے اور براہ راست دماغ تک پہنچاتا ہے۔ اس سے وہ بچے جو پیدائشی طور پر یا کسی حادثے کی وجہ سے سماعت سے محروم ہیں، وہ دنیا کی آوازیں سننے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس کے ذریعے نہ صرف وہ سن سکتے ہیں بلکہ بولنے کی صلاحیت بھی حاصل کرتے ہیں، جو ان کے معاشرتی اور تعلیمی ترقی کے لئے اہم ہے۔

    پنجاب حکومت نے غریب والدین کے لئے یہ ایک بڑا اور اہم قدم اٹھایا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس پروگرام کا آغاز کیا ہے تاکہ وہ والدین جو اپنے بچوں کو سننے اور بولنے کی صلاحیت دینے کے خواہشمند ہیں، ان کی مدد کی جا سکے۔ یہ پروگرام خاص طور پر اُن والدین کے لیے ہے جو مالی طور پر مضبوط نہیں ہیں اور جو اپنے بچے کو اس علاج کی سہولت دینے میں قادر نہیں ہیں۔کوکلیئر امپلانٹ سے بچوں کی زندگی بدل جاتی ہے۔ اس آپریشن کے بعد بچے نہ صرف سماعت اور بولنے کی صلاحیت حاصل کرتے ہیں، بلکہ ان کی تعلیمی اور سماجی زندگی میں بھی اہم تبدیلی آتی ہے۔ وہ دیگر بچوں کے ساتھ بہتر طریقے سے بات چیت کر سکتے ہیں اور معاشرتی طور پر بھی بہتر ترقی کر سکتے ہیں۔آپریشن کے ذریعے بچے نہ صرف آوازیں سننا شروع کرتے ہیں بلکہ اس کے ذریعے زبان سیکھنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ والدین کی خوشی دیکھنے کے لائق ہوتی ہے جب ان کے بچے پہلی بار سننے اور بولنے لگتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ہمیشہ غریب عوام کے حقوق کے لئے کام کیا ہے اور یہ اقدام بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سماعت سے محروم بچوں کے لیے یہ پروگرام ایک اہم قدم ہے تاکہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنے حقوق حاصل کر سکیں۔ ان کے اس اقدام سے غریب والدین کی مشکلات میں کمی آئے گی اور وہ اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل کی امید رکھتے ہیں۔ کوکلیئر امپلانٹ آپریشن مہنگا ہوتا ہے، اس لئے بہت سے والدین اسے افورڈ نہیں کر پاتے۔ لیکن اب پنجاب حکومت نے اس آپریشن کی سہولت غریب والدین کے لئے مفت فراہم کی ہے، جس سے ان کے لئے یہ ایک سنہری موقع بن گیا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف بچوں کی زندگی بہتر ہو گی بلکہ پورے خاندان کی زندگی میں بھی خوشی کا ساما آ سکے گا۔

    پنجاب حکومت کا یہ اقدام یقینی طور پر سماعت سے محروم بچوں کے لیے ایک انقلاب ثابت ہو گا۔ اس کے ذریعے نہ صرف ان بچوں کو سننے اور بولنے کی صلاحیت ملے گی بلکہ ان کی زندگی کے دروازے بھی کھلیں گے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی یہ کاوشیں غریب عوام کے لئے ایک نعمت کی مانند ہیں اور ان کی اس مدد سے بچے بہتر زندگی گزار سکیں گے۔ہمیں امید ہے کہ یہ قدم مزید صوبوں میں بھی اُٹھایا جائے گا تاکہ ہر بچے کو اس سہولت کا فائدہ پہنچ سکے

  • سول نافرمانی،پی ٹی آئی کا بیانیہ”وڑ”گیا. تحریر: جان محمد رمضان

    سول نافرمانی،پی ٹی آئی کا بیانیہ”وڑ”گیا. تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے مختلف حکومتوں نے متعدد اقدامات کیے ہیں، تاہم سیاست میں آنے والی پیچیدگیاں اور بعض سیاسی جماعتوں کے بیانیے نے ملک کی معیشت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہے، پی ٹی آئی نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ پاکستان میں ترسیلات زر بھیجنے سے گریز کریں۔ تاہم جنوری 2025 کے اعداد و شمار اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اس بیانیے کے اثرات کم ہو گئے ہیں اور بیرون ملک پاکستانی اپنے وطن کی مدد کے لیے سرگرم ہیں۔سول نافرمانی ایک ایسا سیاسی عمل ہے جس میں عوام کسی حکومتی پالیسی یا فیصلے کے خلاف غیر قانونی طور پر مزاحمت کرتے ہیں۔ عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی نے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلائی تو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ترسیلات زر نہ بھیجنے کی کال بھی دی گئی تھی، تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ اس بیان میں ان کی کوشش تھی کہ پاکستانی عوام حکومت کی غیر مقبول پالیسیوں کا مقابلہ کریں۔تاہم، جنوری 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلات زر میں اضافہ ایک واضح پیغام دے رہا ہے کہ عوام اس قسم کے بیانیے سے متاثر نہیں ہوئے اور وہ اپنے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ یہ اضافے نہ صرف حکومت کے پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار ہیں بلکہ اس بات کا بھی اشارہ ہیں کہ پاکستانی قوم کی محبت اپنے وطن کے ساتھ کبھی کم نہیں ہوتی۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، جنوری 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلات زر 3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو کہ 25 فیصد کا بڑا اضافہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ پیسہ پاکستان بھیجا ہے۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی بیرون ملک اپنے وطن کی حالت بہتر بنانے کے لیے تیار ہیں۔یہ اضافہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کی علامت ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بیرون ملک پاکستانی اپنے پیسوں کو پاکستان بھیجتے ہیں، تو اس کا مقصد صرف مالی امداد نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک علامت ہوتی ہے کہ وہ اپنے وطن کی معاشی ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔ جنوری 2025 میں بھیجی جانے والی 3 ارب ڈالر کی رقم صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کے عوام اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ معاشی بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 میں سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب سے آئیں، جہاں پاکستانیوں نے 72.83 کروڑ ڈالر بھیجے۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات سے 62.17 کروڑ ڈالر، برطانیہ سے 44.36 کروڑ ڈالر، اور امریکہ سے 29.85 کروڑ ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اپنے وطن کی معیشت کے لیے بھرپور تعاون کر رہی ہے۔ماہرین معاشیات اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترسیلات زر میں اضافے کا ایک اہم سبب حکومت کی معاشی پالیسیوں پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اعتماد ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب حکومت نے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے، تو اس کا اثر بیرون ملک پاکستانیوں کی سوچ اور رویوں پر بھی پڑا۔یہ تمام ترسیلات زر اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ لوگ حکومت کی موجودہ پالیسیوں پر اعتماد کرتے ہیں اور وہ اپنے پیسوں سے پاکستان کی معاشی ترقی میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کا "ملک دشمن بیانیہ” اب اپنی موت آپ مر چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں نے اس بات کو سمجھا ہے کہ پاکستان کی معیشت کے لیے ہر شخص کا کردار اہم ہے، اور وہ کسی سیاسی جماعت یا بیانیے کے اثرات سے بالاتر ہو کر اپنے ملک کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    جنوری 2025 میں ترسیلات زر میں اضافہ ایک اہم سنگ میل ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی عوام اپنے ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بیرون ملک پاکستانی کسی بھی سیاسی یا جذباتی بیانیے سے متاثر ہوئے بغیر اپنے وطن کی ترقی کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ تمام اعداد و شمار اس بات کا غماز ہیں کہ پاکستان کے عوام اپنے وطن کے مستقبل کے لیے یکجا ہیں اور اپنے ملک کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے اپنی مدد فراہم کر رہے ہیں۔یہ ایک پیغام ہے کہ اگر حکومت اور عوام کے درمیان ایک مثبت تعلق قائم ہو، تو ملک کو معاشی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

  • افغانستان میں افراتفری اور اس کے علاقائی اثرات

    افغانستان میں افراتفری اور اس کے علاقائی اثرات

    اگست 2021 میں امریکہ کی واپسی کے بعد سے، واشنگٹن نے افغانستان کے لیے 3.71 بلین ڈالر کی امداد مختص کی ہے، جس میں سے 64.2% اقوام متحدہ کے ایجنسیوں، UNAMA اور ورلڈ بینک کے ذریعے تقسیم کی گئی،

    طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے، ان کی جابرانہ حکمرانی مزید سخت ہو گئی ہے، جس کا سبب ان کی حکومتی پالیسیوں اور دہشت گرد گروپوں جیسے فتنے الخوارج (فاك ٹی ٹی پی)، داعش (ISIS) اور القاعدہ کی حمایت ہے۔ طالبان کی حکمرانی نے خواتین کی تعلیم، ملازمت اور نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں، جس سے بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ SIGAR نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد گروہ افغانستان سے بے خوف ہو کر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جیسا کہ ISIS-K نے 2024 میں افغانستان، ایران، روس، پاکستان اور ترکی میں 60 حملے کیے، جو 2023 کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہیں۔

    پاکستان نے 2024 میں 640 سے زیادہ (ٹی ٹی پی) حملوں کا سامنا کیا، جن میں دہشت گردی سے متعلق واقعات میں 2,500 سے زائد افرادکی موت ہوئی، جو 2023 کے مقابلے میں 66 فیصد اضافہ ہے، پاکستان کی حکومت نے طالبان کے جابرانہ دور حکومت کی جانب سے (ٹی ٹی پی) کے انتہاپسند گروپ کو خاموشی سے سپورٹ کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جو افغان سرزمین پر بے خوف پناہ گزین ہیں۔ پاکستان نے یہ بھی ثبوت فراہم کیا ہے کہ (ٹی ٹی پی) کے جنگجو امریکی اسلحہ استعمال کر رہے ہیں، جو امریکہ کی واپسی کے بعد افغانستان میں چھوڑا گیا تھا۔

    امریکی محکمہ دفاع نے اندازہ لگایا ہے کہ افغانستان میں 7 بلین ڈالر کا فوجی سامان چھوڑا گیا تھا، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مستقبل کی امداد اس بات پر مشروط کی کہ امریکی فوجی سامان واپس کیا جائے۔ چار ملکی گروپ (پاکستان، چین، ایران اور روس) نے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان سے دہشت گرد گروپوں کے خلاف قابل تصدیق اقدامات کریں۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغان سرزمین سے کوئی بڑا حملہ ہوا تو اس کا فوری جواب دیا جائے گا اور (ٹی ٹی پی) کے محفوظ ٹھکانوں کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی رپورٹس سے تصدیق ہوئی ہے کہ (ٹی ٹی پی) طالبان کی حکمرانی سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہا ہے، جس میں 6,000 سے 6,500 جنگجو پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ پاکستان کی حکمت عملی سفارتی تعلقات کو مضبوط کرنے اور طالبان پر دباؤ ڈالنے کے لیے چین اور دیگر علاقائی کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر مضبوط دفاعی اقدام پر مرکوز ہے۔ اسلام آباد اپنے اقتدار اعلیٰ اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور یہ بھی یقینی بناتا ہے کہ افغانستان کو دہشت گردی کا مرکز نہ بننے دیا جائے۔

  • ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری سائنسدان ،تحریر :   ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری سائنسدان ،تحریر : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری یکم جولائی 1903ء کو مشرقی پاکستان کے ضلع روہتک کے ایک گاؤں کہنور میں پیدا ہوئے ۔
    ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری وائسرائے روفس آئزکس کے وظیفے پر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں زیر تعلیم رہے ۔ یہیں سے Msc فزکس میں ٹوپ کیا اور باقی تمام سائنسی مضامین میں اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر طلائی تمغے حاصل کیے ۔ڈاکٹر صاحب کی کامیابیوں سے متاثر ہو کر بھوپال کے نواب حمیداللہ خان نے انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے کیمبرج یونیورسٹی برطانیہ بھیج دیا ، وہیں کیونڈش لیبارٹری میں” ماہر طبیعات مارک اولیفانٹ” نے نیوکلیئر فزکس کی طرف مائل کیا ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے 1932ء میں” کیمسٹری میں نوبل انعام یافتہ سائنسدان ارنسٹ ردرفورڈ "کی نگرانی میں نیوکلیئر فزکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ کیونڈش کا یہ ایک شاندار دور تھا کیونکہ وہاں اس دوران ایٹم اور نیوکلیئرفزکس میں بہت پیش رفت ہوئی ۔ کیونڈش لیبارٹری میں اس وقت سر جے جے تھامسن ، لارڈ ردرفورڈ ، آسٹن ولسن ، کک روفٹ والٹن اور سر جیمز چیڈ ویک جیسے سائنسدان کام کر رہے تھے ۔ ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری ہمیشہ اس بات پر فخر کرتے تھے کہ وہ کیونڈش کے سنہری دور میں” ردرفورڈ” کے طالب علم ر ہے ۔

    تیس سال کی عمر میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری برطانوی ہندوستان واپس آئے اور اسلامیہ کالج لاہور میں فزکس کی تعلیم دینے لگے ۔ 1935ء سے 1938ء تک وہ یہیں شعبہ فزکس کے چیئرمین بھی رہے ۔1938ء میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری شعبہ طبیعات کے سربراہ کی حیثیت سے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ تشریف لے گئے جہاں” اولیفانٹ” کی دعوت پر دوبارہ برمنگھم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس میں بطور نوفلیڈ فیلو کام کرنے کے لئے برطانیہ چلے گئے ۔برطانوی میگزین "ڈاروینین”کے مطابق 1947ء میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری برمنگھم میں "اولیفانٹ” کی لیبارٹری میں ایک سال گزارنے کے بعد کہنور واپس آ گئے ۔

    قیام پاکستان کے فوراً بعد "اولیفانٹ” نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے نوزائیدہ ملک میں سائنس ، خصوصاََ ایٹمی اور نیوکلیئر فزکس کی تدریس و تحقیق کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا ، اور لکھا کہ "اس پروگرام کے کامیاب اطلاق کے لئے پورے برصغیر میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری سے بہتر کوئی مسلمان سائنسدان نہیں ہے اور انہیں فوری طور پر پاکستان بلانے پر زور دیا ۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے "اولیفانٹ” کے کہنے پر ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو خط لکھ کر پاکستان آنے کی دعوت دی اور ساتھ ہی گورنمنٹ کالج لاہور میں شعبہ فزکس کی سربراہی کی پیش کش کی ۔بھارت کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو نیشنل فزکس لیبارٹری میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی پیشکش کردی ، لیکن ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا ، اور1948ء میں حکومت پاکستان کے دعوت نامے پر اپنے خاندان سمیت پاکستان آگئے ، اور گورنمنٹ کالج لاہور جوائن کر کے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے استعفیٰ دے دیا ۔

    پاکستان کی ایٹمی سرگرمیوں کی پہلی دہائی کیمبرج یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم یافتہ تین طبیعیات دان ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری ، نذیر احمد اور ڈاکٹر عبدالسلام پر مشتمل ہے ۔1954ء میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے جوہری تحقیق کے لئے گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبہ فزکس میں” ہائی ٹینشن لیبارٹری "کی بنیاد رکھی ۔”ہائی ٹینشن لیبارٹری "میں ایک ایٹم ایکسلریٹر لگایا گیا ہے ، جس میں اعلیٰ سطح پر تحقیق ممکن ہوئی۔ہائی ٹینشن لیبارٹری بہت تیزی سے بین الاقوامی سطح پر جانی پہچانی جانے لگی ، جب غیر ملکی سائنسدان پاکستان کے دورے پر آتے تو اس لیبارٹری کو دیکھنے کی خواہش ضرور کرتے ۔1958ء میں پرنس فلپ نے اس لیبارٹری کا دورہ کیا اور بیس سے زیادہ تجربات کا مشاہدہ کیا ،اور کہا کہ "یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ یہاں کیونڈش کی طرح کا ماحول ہے ۔””ہائی ٹینشن لیبارٹری "کا نام بعد میں تبدیل کر کے "سنٹر فار ایڈوانسڈ سٹڈیز ان فزکس”رکھ دیا گیا ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے نیوکلیئر پارٹیکل ایکسلریٹر کی تنصیب میں اہم کردار ادا کیا ، 1967ء میں انہوں نے سائنسدانوں کی ایک ٹیم تشکیل دی جس نے کامیابی سے” ریڈیو آئسو ٹوپس”کی پہلی کھیپ تیار کی ۔اس لیبارٹری سے تربیت حاصل کرنے والے طلباء پاکستان اور بیرون ملک اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں ۔Msc فزکس کے طلباء تقریباً بیس سے تیس کی تعداد میں جوہری فزکس میں تحقیقی کام کرنے کے لئے لیبارٹری آتے ۔ تمام طلباء کو پروجیکٹ دئیے جاتے ، جن کی نگرانی ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کرتے ۔تحقیقی کام کرنے والے طلباء نے یونیورسٹیز اور راولپنڈی کے قریب نئے بننے والے "پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی”میں پوزیشنیں سنبھال لیں ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے سائنسدانوں کی ایک ٹیم تیار کی جو اب پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی قیادت کر رہی ہے ۔ ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو سائنس میں "استادوں کے استاد”کا خطاب ملا ۔خوارزمی سوسائٹی اور انٹرا ایکٹ کے زیرِ اہتمام 30نومبر 1998ء کو اپنے لیکچر میں ڈاکٹر ثمر مبارک مندنے انہیں "پاکستانی ایٹمی پروگرام کا حقیقی خالق” قرار دیا ۔
    1958ء میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری 55سال کی عمر میں فزکس ڈیپارٹمنٹ کے عہدے سے ریٹائر ہو گئے ، اور اس کے بعد” ہائی ٹینشن” اور” نیوکلیئر ریسرچ لیبارٹری” کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری "تجرباتی نیوکلیئر فزکس” کے سر خیل بنے اور اپنے شاگرد مصطفیٰ یار خان کے ساتھ مل کر پاکستان کے کامیاب "نیوکلیئر پروگرام "کی بنیاد رکھی ۔1970ء کے اوائل میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے پنجاب یونیورسٹی کے "سنٹر فار سالڈ سٹیٹ فزکس”کو اپنا مسکن بنا لیا ، اور یہاں پر انہوں نے” پلازما فزکس” کی نئی ریسرچ لیبارٹری قائم کی ۔اس لیبارٹری میں انہوں نے یونیورسٹی کے متعدد طلباء کو Msc اور M phill کے لئے تربیت دی ۔ اس کام سے متعلق بڑی تعداد میں مقالہ جات اور تحریریں شائع کروائی گئیں ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کی پنجاب یونیورسٹی سے وابستگی شروع ہی سے تھی ۔1960ء سے 1977ء تک پنجاب یونیورسٹی میں اعزازی پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ۔1977ء میں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے انہیں تاحیات پروفیسر ایمریطس مقرر کیاگیا ۔

    پروفیسر ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے 1932ء سے 1988ء کے دوران 53 تحقیقی مقالہ جات لکھے ، جو مختلف بین الاقوامی جرائد کی زینت بنے ۔شاندار سائنسی خدمات پر متعدد ملکی اور غیر ملکی اداروں کی تنظیموں نے ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو رکنیت ، "چئیر مین شپ” سے نوازا ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو پاکستان کی خدمات کے اعتراف میں ستارہ خدمت 1964ء ، ستارہ امتیاز 1982ء اور 2005ء میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا ۔ بلآخر 4 دسمبر 1988ء کو مختصر علالت کے بعد ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری انتقال کر گئے ۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو پاکستان کے لئے گراں قدر خدمات کے صلے میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔(انشاء اللہ)

  • بلوچستان پر دشمنوں کا پھربزدلانہ وار، تحریر: جان محمد رمضان

    بلوچستان پر دشمنوں کا پھربزدلانہ وار، تحریر: جان محمد رمضان

    بلوچستان کے علاقے قلات میں 31 جنوری 2025 کی شب دہشت گردوں نے ایک بزدلانہ حملہ کیا، جس میں انہوں نے منگوچر کے علاقے میں سڑکیں بند کرنے کی کوشش کی اور مسافر بسوں پر فائرنگ کی۔ اس حملے کے دوران 18 سیکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہو گئے۔ تاہم، سیکیورٹی فورسز کی فوری اور مؤثر کارروائی نے اس حملے کو ناکام بنا دیا اور دہشت گردوں کو بھاری نقصان اٹھانے کے بعد بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ جوابی کارروائی کے دوران 12 دہشت گرد بھی مارے گئے۔

    قلات میں دہشت گردوں نے اس حملے میں اپنی بزدلانہ کارروائیوں کا مظاہرہ کیا۔ دہشت گردوں نے مسافر بسوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں شہریوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع کا خدشہ تھا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ایک نجی بینک کو بھی نذر آتش کرنے کی کوشش کی، تاکہ علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا جا سکے۔ ان دہشت گردانہ کارروائیوں کا مقصد علاقے میں ترقی اور امن کو سبوتاژ کرنا اور عوام میں خوف پیدا کرنا تھا۔یہ حملے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر کو فروغ دینے کی سازش کا حصہ ہیں۔ ان کارروائیوں کے پیچھے بیرونی قوتوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے، جو بلوچستان میں امن و سکون کو تباہ کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

    دہشت گردوں کی کارروائیاں ناکام بنانے میں بلوچستان کی سیکیورٹی فورسز نے بھرپور کردار ادا کیا۔ فورسز نے فوراً علاقے کا محاصرہ کیا اور دہشت گردوں کو مؤثر جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی جرات و بہادری کی بدولت دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے اور انہیں اپنے حملے کی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔شہید ہونے والے 18 جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاکہ عوام کی حفاظت کی جا سکے، اور ان کی قربانیاں بلوچستان کی سرزمین پر امن قائم رکھنے کے لیے ایک سنہری مثال بن گئیں۔

    دہشت گردوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا پھیلایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں دہشت اور خوف پیدا کیا جا سکے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دہشت گرد کمزور ہیں اور ان کے تمام تر حربے ناکام ہو چکے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیاں اور عوام کی حمایت سے یہ دہشت گرد اپنے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہو سکے۔جب بھی ان دہشت گردوں کو پکڑا گیا، تو انہوں نے بے بسی کا مظاہرہ کیا اور حقیقتاً ان کی تمام تر طاقت جھوٹے پروپیگنڈے اور خوف کو پھیلانے تک محدود ہے۔ بلوچستان میں اب عوام اور سیکیورٹی فورسز کے تعاون سے ان دہشت گردوں کی کمر توڑ دی جائے گی اور علاقے میں دیرپا امن قائم کیا جائے گا۔

    بلوچستان کے علاقے قلات میں 31 جنوری 2025 کو ہونے والا دہشت گرد حملہ ایک اور مثال ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں نہ تو عوام کے حوصلے کو توڑ سکتی ہیں اور نہ ہی سیکیورٹی فورسز کی عزم و ہمت کو کم کر سکتی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے ان دہشت گردوں کی کارروائی کو ناکام بنایا اور بلوچستان میں امن قائم رکھنے کے لیے ایک اور قدم اٹھایا گیا۔ ان حملوں کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا تھا، لیکن بلوچستان کے عوام اور فورسز کی ہم آہنگی نے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔یہ وقت ہے کہ ہم سب بلوچستان میں امن و سکون کے قیام کے لیے مل کر کام کریں اور دہشت گردوں کے تمام منصوبوں کو ناکام بنائیں۔

    jaan

  • کشمیر اور بھارت کا نام نہاد جمہوری چہرہ .تحریر: جان محمد رمضان

    کشمیر اور بھارت کا نام نہاد جمہوری چہرہ .تحریر: جان محمد رمضان

    بھارت اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر پیش کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا جمہوری چہرہ دن بدن زیادہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ یہ صرف ایک دھوکہ ہے۔ بھارت میں جمہوریت، سیکولرازم اور انسانی حقوق کی دعوے صرف لفظوں تک محدود ہیں اور ان دعووں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور اقلیتوں کے ساتھ بدترین سلوک نے بھارت کے جمہوری دعووں کو ایک کھلا جھوٹ ثابت کر دیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارت کی فورسز کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈھا رہی ہیں۔ 7 دہائیوں سے کشمیری عوام بھارت کی حکمرانی کے تحت نہ صرف اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں بلکہ ان کے انسانی حقوق کی بدترین پامالی بھی کی جا رہی ہے۔ ہر روز کشمیری عوام کو بھارتی فورسز کی جانب سے طاقت کا استعمال، گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور تشدد کا سامنا ہے۔

    ان تمام مظالم کے باوجود کشمیری عوام نے کبھی بھی اپنی آزادی کی جدوجہد سے پیچھے قدم نہیں اٹھایا۔ بھارت نے انہیں اپنے حقِ خودارادیت سے محروم کیا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسلسل نظرانداز کیا ہے جو کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیتی ہیں۔جب بھارت یومِ جمہوریہ مناتا ہے، تو یہ دن کشمیری عوام کے لئے یومِ سیاہ بن چکا ہے۔ بھارت کی جمہوریت کا دعویٰ کشمیری عوام کے لئے ایک مذاق بن چکا ہے، کیونکہ بھارت نے ان کے جمہوری اور انسانی حقوق کو مسلسل غصب کر رکھا ہے۔ کشمیری عوام نے تیسری نسل تک اپنی آزادی کی جدوجہد کو جاری رکھا ہے اور اس دوران بے شمار جانوں کی قربانی دی ہے۔

    کشمیری عوام کا ایک ہی مطالبہ ہے: اپنے حقِ خودارادیت کا حق حاصل کرنا۔ اس حق کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت تسلیم کیا جا چکا ہے، لیکن بھارت نے مسلسل اس مطالبے کو نظرانداز کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارتی مظالم کا نوٹس لیں اور کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کے لئے فوری اقدامات کریں۔کشمیری عوام کی یہ جدوجہد عالمی سطح پر ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ بھارت کی جانب سے جاری ظلم و ستم کو روکنا اور کشمیری عوام کو ان کے حقوق دینا عالمی برادری کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔

    بھارت کا جمہوریت اور سیکولرازم کا دعویٰ صرف ایک دکھاوا ہے، جو کشمیری عوام اور بھارت کی اقلیتوں کے حقوق کو پامال کرنے کے عمل کو چھپانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یومِ جمہوریہ کا دن کشمیری عوام کے لئے ایک لمحہ افسوس ہے کیونکہ اس دن بھارت اپنی جمہوریت کے دعوے کے بجائے کشمیریوں کی آزادی کو نظرانداز کرتا ہے۔ عالمی برادری کو بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی اور کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت دلانے کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالنا ہوگا۔

    jaan

  • بی ایل اے،بی ایل ایف،بلوچستان کی ترقی کی دشمن.تحریر: جان محمد رمضان

    بی ایل اے،بی ایل ایف،بلوچستان کی ترقی کی دشمن.تحریر: جان محمد رمضان

    دہشت گرد تنظیمیں، جیسے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)، نہ صرف پاکستان کے امن و سکون کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں، بلکہ یہ تنظیمیں بلوچستان کی ترقی کی دشمن بھی ہیں۔ ان تنظیموں کی دہشت گردانہ سرگرمیاں اور ان کے حملوں نے نہ صرف بلوچستان کے عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کیا ہے بلکہ پورے پاکستان میں خوف و ہراس پھیلایا ہے۔ ان تنظیموں کے وحشیانہ حملوں کی حقیقت اب روز روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے۔

    9 نومبر 2024ء کو کوئٹہ میں ہونے والے حملے میں 2 معصوم شہریوں کی شہادت نے ایک بار پھر بی ایل اے اور بی ایل ایف کے وحشیانہ عزائم کو بے نقاب کیا۔ ان شہریوں کے بھائیوں کی آہ و پکار اور دل دہلا دینے والے حقائق نے بلوچستان میں جاری دہشت گردی کے اسباب کو واضح کیا۔ ان حملوں کی حقیقت نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے عوام کے سامنے آ چکی ہے کہ یہ دہشت گرد تنظیمیں صرف انسانیت کے دشمن ہیں۔

    29 ستمبر 2023ء کو مستونگ میں ایک مسجد کے قریب ہونے والے دھماکے میں 50 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ اس دھماکے میں شہید ہونے والی ایک کمسن بچی کا والد اپنی بیٹی کی تصویر ہاتھ میں لیے غم سے نڈھال تھا۔ بی ایل اے نے اس حملے کی ذمے داری خود قبول کی، جو ان کے دہشت گردانہ عزائم کو مزید واضح کرتا ہے۔ اس حملے نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ تنظیمیں انسانیت کے خلاف ہیں اور اپنے سیاسی مقاصد کے لیے بے گناہ انسانوں کو نشانہ بناتی ہیں۔

    2024ء میں 33 بلوچوں کی شہادت،گزشتہ برس بھی بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشت گردوں نے 33 معصوم بلوچوں کی زندگیوں کا خاتمہ کیا۔ بلوچ عوام، طلبہ اور روتی ہوئی مائیں ان دہشت گرد تنظیموں کی درندگی کی شدید مذمت کر رہی ہیں۔ ان واقعات نے بلوچستان کے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ان تنظیموں کی حقیقت کیا ہے اور وہ کس مقصد کے لیے یہ جانی نقصان کروا رہے ہیں۔

    4 جنوری 2025ء کو تربت میں ہونے والے بس حملے میں ایک نوجوان کی شہادت ہوئی۔ اس حملے کی ذمے داری بھی بی ایل اے نے قبول کی۔ اس نوجوان کی والدہ نے اپنی آہ و پکار کے ذریعے یہ سوال اٹھایا کہ ’’بی ایل اے کے دہشت گردوں نے میرے بیٹے کو بے دردی سے کیوں مارا؟‘‘، اس سوال نے اس بات کو مزید تقویت دی کہ یہ دہشت گرد تنظیمیں بے گناہ انسانوں کی زندگیوں سے کھیل رہی ہیں۔

    بی ایل اے کے دہشت گرد بشیر نے حال ہی میں گرفتاری کے بعد اپنی تنظیم کے بارے میں انکشافات کیے ہیں۔ اس نے بی ایل اے کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا کہ اس تنظیم کا مقصد صرف تباہی اور خونریزی ہے۔ بشیر کی گواہی نے ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف عوامی شعور کو مزید بیدار کیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کی کارروائیاں کسی بھی طور پر بلوچ عوام کی خدمت نہیں کر رہیں، بلکہ یہ ان کے خون سے کھیل کر اپنے مقاصد پورے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طالب علم، طلعت عزیز، کو بھی بی ایل اے کے دہشت گردوں نے جھانسا دے کر پہاڑوں میں لے گئے۔ ان دہشت گردوں نے اس معصوم طالب علم کی زندگی کو خطرے میں ڈالا اور اس کا اغوا کیا۔ اس واقعے نے اس بات کو مزید اجاگر کیا کہ یہ تنظیمیں صرف بلوچوں کے حقوق کی بات نہیں کر رہیں، بلکہ ان کا مقصد عوامی تعلیم اور ترقی کو بھی روکنا ہے۔

    11 جنوری 2025ء کو بی ایل اے نے تمپ میں 2 بے گناہ شہریوں کو بے دردی سے قتل کیا۔ اس حملے میں 15 سالہ معراج وہاب کی موت نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ معراج کے والدین نے اس قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور بی ایل اے کے ’’ریاستی ڈیتھ سکواڈ‘‘ جیسے جھوٹے الزامات کی تردید کی۔ اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ ان دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیاں بے بنیاد الزامات اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔

    ان تمام واقعات کے بعد بلوچستان کے عوام کا عزم مزید مضبوط ہوا ہے کہ وہ ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ بلوچ عوام اب خاموش نہیں رہیں گے اور اپنی سرزمین کو دہشت گردوں سے آزاد کرنے کے لیے جدوجہد کریں گے۔ سکیورٹی فورسز بھی اب پوری قوت سے ان دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور انہیں انجام تک پہنچائیں گی۔دہشت گرد تنظیمیں بی ایل اے اور بی ایل ایف نے جس طرح بلوچستان اور پاکستان کے دیگر حصوں میں معصوم عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا ہے، اس کی حقیقت اب پوری دنیا کے سامنے آ چکی ہے۔ ان دہشت گردوں کے وحشیانہ حملے بلوچ عوام کی ترقی اور خوشحالی کے دشمن ہیں، اور ان کی بربریت کا جواب دیا جائے گا۔ سکیورٹی فورسز اور عوام کا عزم مضبوط ہے، اور وہ ان دہشت گردوں کے خلاف اپنا حق چھیننے کے لیے لڑیں گے۔آخر میں، یہ ضروری ہے کہ ہم سب مل کر ان دہشت گرد تنظیموں کی سازشوں کا مقابلہ کریں اور ایک پرامن اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے متحد ہو جائیں۔

    jaan

  • حافظ عبدالرحمان مکی  کی شان و جلالت اور بھارتی میڈیا،تحریر:قاضی کاشف نیاز

    حافظ عبدالرحمان مکی کی شان و جلالت اور بھارتی میڈیا،تحریر:قاضی کاشف نیاز

    حافظ عبدالرحمان مکی رحمہ اللہ کی شان و جلالت اور بھارتی میڈیا
    تحریر: قاضی کاشف نیاز
    میں اس کے مقام کا کیا اندازہ لگاؤں جس کی موت پر دشمن بھی بڑھ چڑھ کر خوشیاں منا رہا ہو۔ ایسے عظیم شخص کے مقام کی حد کو میں پا ہی نہیں سکتا۔ ذرا دیکھیں تو سہی کہ کفر کے ایوانوں میں کس قدر شادیانے بج رہے ہیں۔ انڈیا کا شاید ہی کوئی چینل ہو جو مکی رحمہ اللہ کو اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دے کر بغلیں نہ بجا رہا ہو۔ این ڈی ایم انڈیا نیوز سے لے کر زی نیوز، نیوز نیشن، بھارت 24، ہندوستان ٹائمز، سنسکرتی ایاز (Iuyas Sanskrit) رتام انگلش نیوز (Ritam English News) اور انڈیا ٹوڈے تک، انڈیا کے تقریباً سبھی نیوز چینلز حافظ عبدالرحمان مکی رحمہ اللہ کی وفات کو ایک بہت بڑی خبر اور اس دن کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز بنا کر چیخ چیخ کر، چلا چلا کر اور گلا پھاڑ پھاڑ کر دنیا کو بتاتے رہے کہ ہمارا ایک سب سے بڑا دشمن، 26/11 کا ماسٹر مائنڈ، ہماری جان چھوڑ چکا۔

    خیر، یہ تو اس کی ایک اور بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح اس کی جان چھوٹ گئی ہے۔ اسے اندازہ ہی نہیں کہ ایک مکی رحمہ اللہ کے جانے سے اس کی جان نہیں چھوٹی بلکہ مکی رحمہ اللہ کی موت تو پہلے سے بھی کئی گنا زیادہ "مکی” پیدا کر چکی ہے۔ پہلے صرف ایک جماعت اور اس سے وابستہ لوگ ہی مکی رحمہ اللہ کو جانتے تھے۔ اب پاکستان کا شاید ہی کوئی طبقہ ہو جو مکی رحمہ اللہ کی شان میں رطب اللسان نہ ہو۔

    آج تو بڑے بڑے لبرل دانشور اور اے این پی جیسی لبرل سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی ان کی عظمت بیان کر رہے ہیں اور بڑے بڑے وفود کی صورت میں تعزیت کے لیے ان کے در پر پہنچے ہیں۔

    واہ مکی رحمہ اللہ! تیرے کیا کہنے۔ تو جب تک زندہ رہا، دعوت و جہاد اور انبیاء علیہم السلام کی سیاست کے مشن کو آسمان تک پہنچایا اور مرا بھی تو اس طرح کہ اس مشن کو اوجِ ثریا تک پہنچا گیا۔ وہ رخصت ہوئے تو یہ کہتے ہوئے کہ وقت بہت کم ہے اور پھر کلمہ پڑھتے ہوئے یہاں تک بتا گئے کہ فرشتے ان کی روحِ سعید کے استقبال کو اور لینے کو آ پہنچے ہیں۔

    اسی قابل رشک موت کی وجہ سے ہی آج کفر کا ہر ایوان مکی رحمہ اللہ کی گونج سے لرز رہا ہے۔ ان کی خوشیاں بتا رہی ہیں کہ اندر سے یہ بزدل کفار حافظ عبدالرحمان مکی رحمہ اللہ سے کس قدر خوفزدہ اور دہشت زدہ تھے۔ وہ تھی ہی ایسی شخصیت۔

    ان کے ہم عصر ساتھی بتاتے ہیں کہ اپنے طالب علمی کے زمانے میں بھی وہ سرخوں اور ملحدوں کے لیے ہمیشہ دہشت کی علامت رہے۔ جب اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ تھے اور سرخوں سے مقابلہ ہوتا تو انہیں ہی سب سے آگے کیا جاتا۔

    ایک دفعہ سرخوں کا پورا جلوس اپنی مار دھاڑ دکھا رہا تھا تو اسلام پسندوں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ان سے کیسے نمٹا جائے۔ آخر مشورہ ہوا کہ کسی طرح حافظ عبدالرحمان کو لایا جائے تو وہ ان کا آسانی سے توڑ کر لیں گے۔ چنانچہ وہ آئے تو پھر اس طرح شیر کی طرح آئے کہ اکیلے ہی اپنے موٹر سائیکل پر سوار پوری تیزی سے سرخوں کے جلوس کی طرف رخ کر لیا۔

    کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
    رن تو رن ہے، چرخ کہن کانپ رہا ہے

    کا مصداق بن کر جوں ہی موٹر سائیکل ان کی طرف چڑھائی، سرخوں کا سارا جلوس ہی آناً فاناً تتر بتر ہو گیا۔

    پھر باقی ساری زندگی بھی کفر کا ہر ایوان ان سے یوں ہی لرزتا رہا اور آج تک لرز رہا ہے۔ اپنی موت سے بھی انہیں ایسا لرزایا اور ڈرایا کہ وہ اسے کبھی بہت بڑا دہشت گرد کہتے ہیں، کبھی بہت بڑا انتہا پسند، اور کبھی 26/11 کا سب سے بڑا سرغنہ قرار دے رہے ہیں۔

    یہ دراصل مکی صاحب رحمہ اللہ کے لیے وہ خطابات ہیں جو انہیں کفر کے ایوانوں سے مل رہے ہیں اور یہ خطابات انہیں جس قدر مل رہے ہیں، اسی قدر یہ خطابات ان کے لیے اعزاز بن کر اللہ کی بارگاہ میں جرأت اور بہادری کے تمغوں میں ڈھلتے جا رہے ہیں۔

    اللہم اغفر لہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ واکرم نزلہ ووسع مدخلہ وادخلہ الجنہ الفردوس۔ آمین ثم آمین!