Baaghi TV

Category: متفرق

  • خاموش فون . ایک بڑا نقصان!

    خاموش فون . ایک بڑا نقصان!

    خاموش فون. ایک بڑا نقصان!
    تحریر:حسن معاویہ جٹ

    کبھی بھی گھر والوں کی کال آئے تو نظر انداز نہ کریں۔ میسجز آئے ہوں تو لازماً دیکھ لیں، اگر بات کرنے کا دل نہیں بھی چاہ رہا تو بھی ضروری بات کو نظر انداز کرنے کی غلطی نہ کریں۔ بعض اوقات انسان اتنا تھکا ہوتا ہے کہ جی چاہتا ہے کوئی بات نہ کرے، کوئی کال نہ آئے اور بس بے فکری سے سو جائے۔ اسی سوچ کے تحت کئی لوگ اپنا فون سائلنٹ موڈ پر لگا کر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جاتے ہیں۔ لاکھ کوئی فون کرتا رہے مگر جب جواب نہ ملے تو کرنے والا تھک ہار کر رک جاتا ہے۔

    میرا ایک بچپن کا دوست جو اب اپنی فیملی سمیت لاہور منتقل ہو چکا ہے، کبھی اپنے گھر میں ٹھہرتا تو کبھی کام کی جگہ کے قریب کرائے کے کمرے میں رکتا۔ اس کی عادت تھی کہ جب تھکاوٹ ہوتی یا موڈ خراب ہوتا تو فون سائلنٹ کر دیتا تاکہ آرام میں خلل نہ آئے۔

    اُس روز بھی اس نے یہی کیا۔ مغرب کے بعد کمرے میں جا کر فون سائلنٹ کیا اور گہری نیند سو گیا۔ نیند اتنی گہری تھی کہ اگلے روز دوپہر بارہ بجے آنکھ کھلی۔ فریش ہو کر اس نے موبائل اٹھایا تو سینکڑوں مسڈ کالز دیکھ کر دل زور سے دھڑکنے لگا۔

    یہ تمام مسڈ کالز اس کے بھائی، کزنز اور دیگر رشتے داروں کی تھیں۔ گھبراہٹ کے عالم میں اس نے گھر فون کیا تو روتے ہوئے بتایا گیا: "عابد، فجر کے وقت تمہارے ابو کا انتقال ہو گیا ہے۔ ہم تمہارا انتظار کر کر کے میت چنیوٹ لے آئے ہیں اور یہاں چار بجے جنازہ ہے۔۔۔”

    عابد پر جیسے بجلی گر گئی تھی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیا کرے۔ اکیلا تھا، کوئی تسلی دینے والا موجود نہیں تھا۔ وہ دھاڑیں مار کر رویا۔ کورونا کے دن چل رہے تھے جس کی وجہ سے جانے آنے میں بھی مسائل تھے۔ عابد نے فوراً ایک دوست کو آگاہ کیا۔ دوست نے ٹیکسی بک کروا دی۔ عابد ٹیکسی میں سوار چنیوٹ پہنچا جہاں اس کی غیر موجودگی کے باعث جنازہ مؤخر کرنا پڑا۔ جیسے ہی اس کے چنیوٹ میں داخل ہونے کی اطلاع موصول ہوئی خاندان والوں نے میت اٹھانے کی تیاری کر لی۔ جب وہ بھاگتا ہوا پہنچا تو جنازہ لے جایا جا رہا تھا۔ راستے میں عابد شامل ہوا تو چارپائی روک کر اسے آخری دیدار کروایا گیا۔ وہ لمحہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ سطور لکھتے ہوئے بھی میری آنکھیں نم ہو رہی ہیں۔

    اس واقعے کے بعد میں نے ہمیشہ کے لیے فون سائلنٹ پر لگانے سے توبہ کر لی۔ مسجد جاتا ہوں تو بھی فون کی آواز بند کرنے کے بجائے مدھم کر دیتا ہوں، وجہ یہ کہ اگر کوئی کال کرے کم از کم ہلکی محسوس ہو جائے تاکہ بعد میں رابطہ کرنا یاد رہ جائے۔

    ایک بات اور کال کرنے والوں کو بھی سمجھنا چاہیے کہ اگر کوئی بار بار کال کرنے پر بھی فون نہیں اٹھا رہا تو اس کی کوئی مجبوری ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں بار بار کال کرنے کے بجائے واٹس ایپ پر میسج چھوڑ دینا بہتر ہوتا ہے، کیونکہ آج کل لوگ جلدی یا ذرا دیر سے واٹس ایپ پر آئے پیغامات ضرور دیکھتے ہیں۔

    ایک ضروری بات یہ بھی کہ کچھ لوگ نئے نمبر سے کال اٹھانے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں حالانکہ ممکن ہے کہ نئے نمبر سے کال کرنے والا کسی ایسی خبر سے آگاہ کرنا چاہتا ہو جو زندگی بچانے یا کسی بڑے نقصان سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکے۔ سو ہمیں اپنی پختہ عادات سے ہٹ کر بھی بعض کام کر لینے چاہئیں تاکہ وہ لمحہ زندگی میں نہ آئے جب کہنا پڑے: "اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔”

    رہے نام اللہ کا۔

  • بولان حملہ اور ڈیجیٹل دہشت گردی ،تحریر :ملک سلمان

    بولان حملہ اور ڈیجیٹل دہشت گردی ،تحریر :ملک سلمان

    بولان کے علاقے مشکاف ٹنل ڈھاڈر کے قریب امن دشمن دہشت گردوں نے منظم کاروائی کرتے ہوئے ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑا کر کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو روک کر مسافروں اور عملہ کو یرغمال بنا لیا۔ تین سو سے زائد مسافروں کو یرغمال بنانے کی خبر نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونی دنیا کیلئے بھی بریکنگ نیوز تھی۔ ٹرین پر قبضے کے وقت بیس کے قریب مسافروں کی ہلاکت کی اطلاع، جدید اسلحہ سے لیس دہشت گرد، نوسگنل ایریا، سرنگ اور پہاڑی علاقہ ان مشکل حالات میں انٹرنیشنل میڈیا اور بیرونی دفاعی تجزیہ کاروں کی اکثریت کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے مطالبات ماننے کے علاوہ کوئی حل ممکن نہیں جبکہ باقی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا انسانیت دشمن دہشت گردوں کے چنگل سے مسافروں کا ذندہ بچنا مشکل ہے۔

    ہمیشہ کی طرح مشکل کی اس گھڑی میں افواج پاکستان نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے فوجی آپریشن کے زریعے انتہائی جرات و بہادری اور کامیابی سے ناصرف تمام یرغمال مسافروں کو بازیاب کروایا بلکہ تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا۔

    افواج پاکستان نے انتہائی احتیاط اور حکمت عملی سے دوران آپریشن تمام 300کے قریب مسافروں کومحفوظ رکھتے ہوئے تمام 33دہشت گردوں کو بھی ابدی نیند سلاتے ہوئے واضح پیغام دیا کہ افواج پاکستان اس وطن عزیز کی ایک ایک انچ اور ہر شہری کی حفاظت کیلئے موجود ہیں اس لیے ملک دشمنوں کے عزائم کبھی پوری نہیں ہوسکتے۔ مشکل ترین حالات میں ناممکن کو ممکن بنانا افواج پاکستان کا ہی اعزاز ہوتا ہے۔اس دوران سوشل میڈیا پر ٹرین حادثے کے حوالے سے مسافروں کی شہادت، افواج مخالف پروپیگنڈا، سنگین الزامات اور من گھڑت تجزیوں کی بھرمار رہی۔

    اس میں کوئی دورائے نہیں کہ محض ڈالروں کی خاطر سنسنی پھیلا کر ملکی سلامتی کو داؤ پر لگا کر پیسہ اکٹھا کرنے والے جسم بیچ کر کمائی کرنے والوں سے بھی زیادہ غلیظ ہیں۔ڈس انفارمیشن، فیک نیوز اور پراپیگنڈا کی تشہیر ان ڈیجیٹل دہشت گردوں کا وطیرا بن چکا ہے۔ہمسایہ ملک بھارت کئی ماہ پہلے سوشل میڈیا کا کنٹرول آرمی کے حوالے کرچکا ہے کیونکہ ڈیجیٹل دہشت گردی کو بھی فوج کے سوا کوئی کنٹرول نہیں کرسکتا۔ سوشل میڈیا کے زریعے سنسنی پھیلانے والے شرپسند عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا۔ ملکی سلامتی اور استحکام کے خلاف کام کرنے والے عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے، اندرون و بیرون ملک جہاں کہیں سے بھی شر پسند اکاؤنٹس چلائے جارہے ہیں انکو عبرت ناک سزائیں دی جائیں تا کہ آئندہ کوئی بھی شخص فیک نیوز اور جھوٹے پراپیگنڈا کے زریعے امن و امان کی صورت حال کو خراب کرنے کی جرات نا کر پائے۔
    شرپسند گروہوں اور ان کے حامی تجزیہ کاروں کی جانب سے پاک فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، من گھڑت افواہیں اڑائی جاتی ہیں، ہتک آمیز اور اشتعال انگیز ریمارکس دیے جاتے ہیں۔
    ”سائبرکرائم اور ڈیجیٹل دہشت گردی“ روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ان ڈیجیٹل دہشت گردوں کو پاتال سے بھی تلاش کرنا پڑے تو نکالا جائے اورکڑی سے کڑی سزا دے کر نشان عبرت بنا دیں۔ جھوٹ کا کاروبار کرنے اور عوام میں نفرت کا زہر گھولنے والے ڈیجیٹل دہشت گردوں کوسخت سزائیں دیے بن گزارا نہیں۔ قوم کو گمراہ کرنا، ورغلانا اور ذاتی مفادات کیلئے ملک میں فساد برپا کرنا ملک دشمنی نہیں تو اور کیا ہے؟

    سوشل میڈیا قوانین کے حوالے سے چین، روس، ترکی، ایران، سعودی عرب سمیت بہت سے ممالک میں سخت قوانین نافذ ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے قانون کے مطابق ایسی اشاعت جو ریاستی مفادات، سلامتی، خودمختاری، امن عامہ، خوشگوار تعلقات کو نقصان پہنچا سکتی ہو، نفرت کے جذبات کو ہوا دے، ریاستی ادارے پر عوام کے اعتماد کو کم کرے ایسی اشاعت کرنے والے کو تین لاکھ درہم سے ایک کروڑ درہم تک جرمانہ اور قید کیا جا سکتا ہے۔
    پیکا کو مذید سخت کرنا ہوگا، متحدہ عرب امارات جیسے قوانین لاگو کرنا ہونگے جہاں سوشل میڈیا تو درکنار کوئی ہوٹل، ریسٹورنٹ اور گھر کی چار دیواری میں بھی ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید کا نہیں سوچ سکتا۔

    میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ میں سائبر کرائم کے چند افسران کو جانتا ہوں جو ناقص تفتیش کرکے حکومت اور ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید کرنے والے ملزمان کو سزاؤں سے بچاتے رہے ہیں۔ سائبر کرائم کے کچھ افسران نے ایک گینگ بنا رکھا ہے جو مدعی اور ملزم دونوں کا موبائل لیکر فرانزک کی آڑ میں پرسنل ڈیٹا حاصل کرکے شہریوں کو بلیک میل کرتے ہیں لڑکے سے پیسے اور لڑکی سے عصمت کی سودے بازی ہوتی ہے۔
    سائبر کرائم جیسے اہم ادارے کو صرف پولیس اور ایف آئی اے کے افسران کے حوالے کرنے کی بجائے اس کی”سپرویژن“ کیلئے آرمی افسران تعینات کیے جائیں تا کہ ناصرف سوشل میڈیا کے دہشت گردوں کو نکیل ڈالی جائے بلکہ ہر طرح کے استحصال کا بھی خاتمہ ممکن ہوسکے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ سائبر کرائم کیلئے الگ سے ججز مقرر ہونے چاہئے جو خود سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کو سمجھتے ہوں، پروفیشنلی ٹرینڈ ججز نہ ہونے کی وجہ سے ڈیجیٹل دہشت گردی میں ملوث ملزمان عدالت سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔

  • درخت لگائیں، آنے والی نسلوں کو بچائیں

    درخت لگائیں، آنے والی نسلوں کو بچائیں

    درخت لگائیں، آنے والی نسلوں کو بچائیں
    تحریر:ملک ظفراقبال
    درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کی بقا ہے

    مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ہر پروجیکٹ کو فائلوں میں ثابت کر دیا جاتا ہے کہ سب اوکے ہے، مگر ایسا نہیں ہوتا۔ بلکہ ہم خود اپنے آپ کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں، جو اس وقت ہمیں محسوس نہیں ہوتا۔ اس طرح شجرکاری مہم زور و شور سے جاری تو ہو جاتی ہے، مگر 76 سالوں سے اس مہم سے وہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکے جس کی امید تھی۔ وجہ یہ تھی کہ ہم ذمہ داری سے کام نہیں کرتے، بلکہ خانہ پُری ہی ہمارا منشور ہوتا ہے۔ ایک طرف ہم حکومتی اداروں سے نالاں نظر آتے ہیں اور دوسری طرف ہمارا اپنا کوئی منشور نہیں ہوتا، بلکہ حکومتی اقدامات کے ساتھ سول سوسائٹی کو مل کر اس طرح کی مہم میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔

    مجھے اچھی طرح یاد ہے اوکاڑہ میں 2019 میں محکمہ جنگلات کے ایک ایس ڈی او افتخار احمد جنجوعہ تھے جو شجرکاری مہم کو بھرپور انداز میں شروع کرتے تھے۔ ان کے دور میں اوکاڑہ کے گرد و نواح میں درخت ہی درخت نظر آنے لگے۔ آج بھی ان کی ٹیم کی طرف سے لگائے گئے درخت نہروں اور سڑکوں پر نمایاں نظر آتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اس طرح کا افسر ہر ضلع میں ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اپنے مقرر کردہ اہداف حاصل نہ کرے۔

    آئیں اب بات کرتے ہیں کہ درخت ہمارے لیے کیوں ضروری ہیں؟
    درخت نہ صرف انسانی زندگی بلکہ پورے کرۂ ارض کے لیے ناگزیر ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور ان کی حفاظت کریں تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک صحت مند اور خوشحال ماحول فراہم کیا جا سکے۔درخت زمین کے لیے نہایت ضروری ہیں کیونکہ وہ ماحول، معیشت، صحت اور حیاتیاتی تنوع پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔ ان کی اہمیت کو درج ذیل نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے:

    درخت آکسیجن پیدا کرتے ہیں جو زندگی کے لیے ضروری ہے۔ ایک بڑا درخت سالانہ ہزاروں لیٹر آکسیجن فراہم کر سکتا ہے، جو انسانوں اور جانوروں کی بقا کے لیے لازم ہے۔درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں، جو گلوبل وارمنگ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ وہ دھول، دھوئیں اور دیگر زہریلی گیسوں کو بھی جذب کرکے ہوا کو صاف رکھتے ہیں۔درخت ماحول میں نمی برقرار رکھتے ہیں اور بادلوں کی تشکیل میں مدد دیتے ہیں، جس سے بارشوں میں اضافہ ہوتا ہے اور خشک سالی کے اثرات کم ہوتے ہیں۔درختوں کی جڑیں زمین کو مضبوطی سے تھامے رکھتی ہیں، جس سے مٹی کا کٹاؤ اور زمین کی زرخیزی میں کمی روکی جاتی ہے۔ یہ کھیتوں اور زرعی پیداوار کے لیے نہایت مفید ہیں۔
    درخت جانوروں، پرندوں اور کیڑوں کے لیے قدرتی مسکن فراہم کرتے ہیں۔ کئی اقسام کے جانور درختوں پر انحصار کرتے ہیں، جن میں شہد کی مکھی، پرندے اور مختلف جنگلی حیات شامل ہیں۔

    درخت گرمیوں میں ٹھنڈک فراہم کرتے ہیں اور درجہ حرارت کو کم کرتے ہیں۔ شہروں میں درختوں کی موجودگی گرمی کی شدت کو کم کرتی ہے، جس سے ایئر کنڈیشنرز کا استعمال بھی کم ہوتا ہے۔درخت ذہنی اور جسمانی صحت پر اچھے اثرات ڈالتے ہیں۔ درختوں سے بھرپور ماحول میں رہنے والے لوگ کم تناؤ محسوس کرتے ہیں اور ان میں بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔درخت لکڑی، پھل، ادویاتی پودے، شہد اور دیگر قدرتی وسائل فراہم کرتے ہیں، جو معیشت کے لیے فائدہ مند ہیں۔درخت قدرتی ساؤنڈ پروفنگ کا کام کرتے ہیں اور ٹریفک، فیکٹریوں اور دیگر شور کے ذرائع سے پیدا ہونے والے شور کو کم کرتے ہیں۔

    اسلام سمیت دنیا کے کئی مذاہب میں درختوں کو اہمیت دی گئی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے درخت لگانے کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے، جس سے ان کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے: درخت لگانا اسلام میں ایک عظیم نیکی اور صدقہ جاریہ ہے۔ قرآن و حدیث میں درختوں کی اہمیت اور ان کے فوائد پر زور دیا گیا ہے۔ درج ذیل دلائل اس کی وضاحت کرتے ہیں:

    اللہ تعالیٰ نے درختوں کو اپنی عظیم نعمتوں میں شمار کیا ہے:
    (سورہ الانعام: 99) میں ارشاد ربانی ہے:ترجمہ: "اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس سے ہر قسم کی نباتات اگائیں.”
    (سورہ الرحمن: 6) میں ارشاد ربانی ہے:ترجمہ: "اور سبزہ اور درخت (اللہ کو) سجدہ کرتے ہیں۔”

    حدیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہےحضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا،اگر کسی مسلمان نے کوئی درخت لگایا یا کھیتی کی، پھر اس میں سے انسان، جانور یا پرندہ کھائے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوگا۔(بخاری: 2320، مسلم: 1553)

    قیامت کے قریب بھی درخت لگانے کی ترغیب:
    نبی کریم ﷺ نے فرمایا”اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کوئی پودا ہو تو اگر وہ اس کو لگا سکتا ہے تو ضرور لگائے۔”(مسند احمد: 12902)حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا”جو مسلمان درخت لگاتا ہے اور اس میں سے کوئی بھی مخلوق کھاتی ہے، تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔”(مسلم: 1552)

    آئیں سب مل کر حکومت کا ساتھ دیں اور سول سوسائٹی اس شجرکاری مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ یہ وطن ہم سب کا ہے۔

    درخت لگانا نہ صرف زمین کی خوبصورتی اور ماحولیاتی بہتری کا ذریعہ ہے، بلکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ ایک مستقل نیکی اور صدقہ جاریہ بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں تاکہ دنیا میں فائدہ پہنچے اور آخرت میں ثواب حاصل ہو۔

  • صحت میں بہتری کے لیے عملی اقدامات اور چیلنجز.تحریر:ملک سلمان

    صحت میں بہتری کے لیے عملی اقدامات اور چیلنجز.تحریر:ملک سلمان

    مریم نواز شریف کے میو ہسپتال والے وزٹ سے اب تک میں نے لاہور اور پنجاب کے درجنوں ہسپتالوں میں داخل مریضوں کا فیڈ بیک لیا تو 100فیصد کی رائے تھی کہ مریم نواز کے میو ہسپتال کے ایم ایس کی معطلی کے بعد باقی ہسپتالوں میں بھی فوری بہتری آئی ہے تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ ڈاکٹروں کو بھی احتساب کا ڈر ہوا ہے۔ خاص طور پر میو ہسپتال کے مریضوں اور لواحقین کا کہنا تھا وزیراعلیٰ پنجاب ان کی دل کی آواز بنی ہیں، مریم نواز کے وزٹ سے پہلے ڈاکٹرسرنج اور برنولہ تک باہر سے منگواتے تھے جبکہ محکمہ صحت کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق دو لاکھ سرنج اور اتنے ہی برنولہ میو ہسپتال کے پاس موجود تھے۔
    پاکستان میں شعبہ صحت کیلئے گذشتہ تیس سالوں میں ہم نے ورلڈ بینک سے 2ارب20کروڑ ڈالر سے زائد کے پراجیکٹس لیے۔
    دیگر بین الاقوامی تنظیموں کی فنڈنگ اور حکومت کا سالانہ بجٹ اس کے علاوہ ہے۔ اس کے باوجود شعبہ صحت میں تنزلی کی وجہ صرف یہی ہے کہ کروڑوں اور اربوں کے فنڈز ڈاکٹرز کے حوالے کردیے۔ انتظامی معاملات کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے اربوں کھربوں روپے بدانتظامی اور کرپشن کی نظر ہو گئے۔
    میں نے گذشتہ کالم میں بھی لکھا تھا کہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح ہمیں بھی ایم ایس کی سیٹ کوختم کرکے ایڈمنسٹریٹر لگانا ہوں گے۔
    ٹیچنگ ہسپتالوں کیلئے آرمی کے ریٹائرڈ لیفٹنٹ کرنل، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس کے گریڈ انیس کے افسران کو ایڈمنسٹریٹر بنایا جائے،ان افسران کے ہوتے ہوئے کسی بھی ہسپتال میں ڈاکٹروں کی بلیک میلنگ اور ہڑتال ہوجائے تو پھر کہیے گا۔
    ڈائریکٹر فنانس پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس اور فنانس ڈیپارٹمنٹ سے ہونے چاہئے۔ایڈمنسٹریشن اور فنانس کی سیٹوں پر کسی بھی صورت ڈاکٹر کو نہیں لگانا چاہئے۔
    تمام اضلاع کے چیف ایگزیکٹو ہیلتھ کیلئے گریڈ 18کے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس افسران بہترین انتخاب ثابت ہوسکتے ہیں جبکہ تحصیل لیول اور چھوٹے ہسپتالوں کیلئے گریڈ 17اور 18کے ایڈمنسٹریٹو تجربے کے حامل ایڈمن افسران کی بھرتی کی جائے۔
    شعبہ صحت میں بہتری کا واحد حل یہی ہے کہ ڈاکٹرز کو انتظامی عہدوں سے مکمل الگ کر کے صرف علاج معالجہ پر فوکس کرنے کا کہا جائے اور انتظامی سیٹوں پر انتظامی افسران کی تقرری کی جائے۔
    شعبہ صحت میں بہتری کے لیے پریکٹیکل اقدامات پر جہاں عام عوام مریم نواز کو دعائیں دے رہی ہے وہیں چند سرکاری ڈاکٹر سوشل میڈیا پر مریم نواز کے خلاف محاذ بنائے ہوئے غلیظ کمپین کر رہے ہیں ۔
    میں بارہا توجہ دلا چکا ہوں کہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف صحافی اور یوٹیوب پوڈکاسٹر بنتے جا رہے ہیں۔ سرکاری ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی صحافتی سرگرمیوں اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں پریکٹس پر پیڈا ایکٹ لگایا جائے جبکہ حکومت مخالف پروپیگنڈا کرنے والے باقی افراد پر پیکا ایکٹ لگانا ہی واحد ہے۔

  • موبائل فون اور انٹرنیٹ، دور جدید کی اہمیت اور چیلنجز.تحریر : شہزادی ثمرین

    موبائل فون اور انٹرنیٹ، دور جدید کی اہمیت اور چیلنجز.تحریر : شہزادی ثمرین

    موبائل فون آج کے دور کی ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اگر ہم تاریخ کے صفحات پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ انسانوں کے درمیان رابطہ قائم رکھنے کے لیے مختلف ذرائع کا استعمال کیا گیا تھا، لیکن یہ ذرائع ہمیشہ محدود اور مشکل ہوتے تھے۔ اگر کسی کا رشتہ دار گھر سے طویل سفر پر نکلتا تو ہفتوں یا مہینوں تک اس کی خبر نہیں ملتی تھی، جب تک کہ وہ واپس نہ آ جائے۔ اس دور میں خط و کتابت کا آغاز ہوا، جس سے لوگ ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرتے تھے، لیکن پھر بھی خط بھیجنے کا عمل وقت لیتا تھا۔

    وقت کے ساتھ ساتھ پیغام رسانی کے نئے ذرائع سامنے آنا شروع ہوئے۔ ٹیلیفون کا استعمال اس حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہوا، جس سے لوگ فوراً ایک دوسرے تک اپنا پیغام پہنچا سکتے تھے۔ لیکن آج کل موبائل فون نے ٹیلیفون کی جگہ لے لی ہے اور یہ ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ اب پاکستان میں ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون ہوتا ہے، چاہے وہ مرد ہو، عورت ہو، بچہ ہو یا بزرگ، ہر عمر کے افراد اس کا استعمال کرتے ہیں۔

    موبائل فون نے ہماری زندگیوں کو بے حد آسان بنا دیا ہے۔ اس کے ذریعے ہم دنیا بھر سے جڑ سکتے ہیں، بات چیت کر سکتے ہیں، اور مختلف کاموں کو آسانی سے انجام دے سکتے ہیں۔ موبائل فون کی کچھ اہم خصوصیات یہ ہیں،موبائل فون پر پیغام بھیجنا ایک انتہائی آسان عمل ہے۔ وٹس ایپ اور دیگر ایپس کے ذریعے ہم تیزی سے پیغامات ارسال کر سکتے ہیں۔موبائل فون کی بدولت ہم نہ صرف آواز، بلکہ کسی دوسرے شخص کی شکل بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے دور دراز کے رشتہ داروں یا دوستوں کے ساتھ رابطہ کرنا بہت آسان ہوگیا ہے۔موبائل میں مختلف گیمز، موویز، اور ویڈیوز کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے جس سے لوگ اپنے فارغ وقت میں تفریح حاصل کرتے ہیں۔موبائل فون میں کیلکولیٹر، کلینڈر، موسم کی معلومات، اور سڑکوں کے نقشے جیسی بہت سی سہولتیں شامل ہیں، جو ہمیں روزانہ کی زندگی میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

    اگرچہ موبائل فون اور انٹرنیٹ نے ہماری زندگیوں کو بہت آسان بنایا ہے، مگر ان کے کچھ نقصانات بھی ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بچے موبائل پر گیمز کھیلنے، ویڈیوز دیکھنے اور دیگر تفریحی مواد میں غرق ہو جاتے ہیں جس سے ان کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ بہت سے بچے موبائل کی وجہ سے اپنی پڑھائی پر توجہ نہیں دے پاتے، جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی میں کمی آتی ہے۔ انٹرنیٹ پر لوگوں کے ساتھ فراڈ کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ بعض لوگ آن لائن کام کے جھانسے دے کر لوگوں سے پیسہ وصول کرتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال بچوں اور بڑوں دونوں پر نفسیاتی اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ہمارے ذہنوں کو انتشار کی طرف لے جا رہی ہے۔ موبائل فون کا زیادہ استعمال فیملی تعلقات کو کمزور کر رہا ہے۔ والدین اور بچے ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں، اور اس کا برا اثر گھریلو ماحول پر پڑ رہا ہے۔آج کل ٹک ٹاک جیسی ایپس نے نوجوانوں میں ایک نیا رجحان پیدا کیا ہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سارا دن ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس سے ان کی پڑھائی اور دیگر ضروری کام متاثر ہو رہے ہیں۔ والدین اکثر اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ ان کے بچے کیا کر رہے ہیں۔

    موجودہ حالات میں حکومت کو انٹرنیٹ اور موبائل فون کے استعمال کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ صورتحال ایسے ہی رہی تو آنے والے سالوں میں ہماری قوم کی ترقی خطرے میں پڑ جائے گی۔ بچوں اور نوجوانوں کو انٹرنیٹ اور موبائل فون کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے مناسب قوانین بنانا ضروری ہے۔موبائل فون اور انٹرنیٹ نے ہماری زندگی کو بے حد سہولت بخشا ہے، مگر ان کے استعمال میں اعتدال ضروری ہے۔ ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو ان ٹیکنالوجیز کے صحیح استعمال کے بارے میں آگاہی دینی چاہیے تاکہ وہ ان کا فائدہ اٹھا سکیں، نہ کہ ان سے نقصان پہنچے۔

  • امریکی صدر کا دنیا تباہ کرنے کا دعویٰ .تحریر:غنی محمود قصوری

    امریکی صدر کا دنیا تباہ کرنے کا دعویٰ .تحریر:غنی محمود قصوری

    اس وقت امریکہ پر ایک 78 سالہ بڈھا حاکم وقت ہے یعنی امریکی صدر ہے جس کا دماغی توازن بھی کسی حد تک درست نہیں لگتا..دنیا کے اندر بہت سے مذاہب ہیں جن کے مختلف عقیدے ہیں تاہم موت بارے ہر کسی کا یہی واحد عقیدہ ہے کہ مرنا لازم ہے چاہے جتنی دیر مرضی جی لو آخر موت قبر تک لے کر ہی جائے گی .ویسے تو پیدا ہوتے بچے کی زندگی کا بھی علم نہیں مگر جب انسان بڑھاپے کی طرف چلا جاتا ہے تو موت اس کے بہت قریب ہو جاتی ہے اس لئے اسے زندہ رہنے کی چاہت تو ہوتی ہے مگر اسے موت کی قربت بھی بہت محسوس ہو رہی ہوتی ہے سو وہ مرنے سے جوان لوگوں کی نسبت کم ڈرتا ہے

    امریکی نیویارک ملٹری اکیڈمی اور پینسلوانیا یونیورسٹی کے وارٹن سکول آف فنانس اینڈ کامرس کا تعلیم یافتہ 78 سالہ بڈھا صدر ٹرمپ جو کہ امریکہ کا 47 واں صدر ہے، اب پوری دنیا کو خاص کر مسلمان ممالک کو دھمکیاں لگا رہا ہے اور اس نے پچھلے مہینے اپنے بیان میں کہا کہ ہم دنیا کو سو مرتبہ تباہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں جس پر پوری دنیا میں سراسیمگی پھیل گئی ہے

    جب کوئی غنڈہ بدمعاش کسی کو دھمکی لگاتا ہے تو وہ اپنی طاقت و اسلحہ کی بنیاد پر ہی دھمکی لگاتا ہے سو اسی لئے امریکی ایٹمی ملک کے سربراہ نے پوری دنیا کو للکارا ہے

    اس بارے جائزہ لیتے ہیں کہ دنیا کہ کل 9 ایٹمی ممالک ہیں
    جن میں 1 امریکہ 2 روس 3 فرانس 4 چین 5 برطانیہ 6 بھارت 7 پاکستان 8 اسرائیل اور نواں ملک شمالی کوریا ہے اور ان تمام ممالک کے پاس لگ بھگ 13000 ایٹمی ہتھیار موجود ہیں تو امریکہ نے آخر اتنی بڑی دھمکی لگائی کیوں؟

    اس بات میں بلکل شک نہیں کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا اب تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے تاہم اب جہاں دیگر چیزوں میں ترقی ہوئی ہے وہاں ایٹمی ہتھیاروں میں بھی جدت آئی ہے اب وہ دور نہیں رہا کہ امریکہ جاپان کے شہروں ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بم مار کر نکل جائے گا

    اب حالات بدل چکے ہیں
    اب ایٹمی جنگ ہونے کی صورت میں First Strike یعنی پہلے حملے کے بعد جوابی طور پر Second Strike اور پھر Third Strike یعنی تیسرے جوابی حملے کی ٹیکنالوجی موجود ہے

    پہلے حملے کی صلاحیت تو تمام 9 ایٹمی ممالک کے پاس موجود ہے تاہم

    Second Strike Capability

    کی صلاحیت اسی ملک کے پاس ہوتی ہے جب وہ دشمن کے پہلے ایٹمی حملے کے بعد بھی جواب دینے کی قوت رکھتا ہو جس کا مقصد دشمن کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ اگر وہ پہل کرے گا تو بھی اسے تباہ کن جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا
    مثال کے طور پر اگر ایک ملک پر ایٹمی حملہ ہوتا ہے لیکن اس کے پاس زمینی، سمندری، یا فضا میں محفوظ ایٹمی ہتھیار موجود ہیں تو وہ جوابی ایٹمی حملہ کر سکتا ہے

    Third Strike Capability
    یعنی تیسرے جوابی حملے کی عمومی طور پر ابھی عام اصطلاح استعمال نہیں ہوتی لیکن اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی ملک پہلے ایٹمی حملے کے بعد دوسرا جوابی حملہ کرتا ہے اور پھر بھی اس کے پاس مزید جوابی حملے کیلئے Third Strike کی صلاحیت موجود ہے تو اسے Third Strike Capability کا حامل کہا جا سکتا ہے اور عموماً زیادہ ایٹمی ہتھیار رکھنے والے طاقتور ممالک کے پاس ہی ایسا ہونا ممکن ہے

    اس وقت امریکہ کے پاس زمین، سمندر اور فضا میں ایٹمی ہتھیاروں کی وسیع صلاحیت یعنی Nuclear Triad موجود ہے اور
    روس ایٹمی آبدوزیں، میزائل سسٹمز، اور فضائی بمبار طیارے رکھتا ہے
    چین موبائل میزائل لانچرز، آبدوزیں، اور جوابی حملے کے قابل جوہری ہتھیار رکھتا ہے
    فرانس بھی آبدوزوں اور فضائی بمباروں کے ذریعے Second Strike دے سکتا ہے

    برطانیہ کے پاس بنیادی طور پر آبدوزوں پر مبنی ایٹمی حملے کی صلاحیت موجود ہے
    جبکہ ہمارے پڑوسی اور دشمن ملک بھارت نے حالیہ دہائیوں میں Second Strike صلاحیت حاصل کر لی ہے خاص طور پر اس کے پاس آبدوزوں میں بیلسٹک میزائل رکھنے کے صلاحیت ہے

    اور ہمارے واحد ایٹمی اسلامی ملک پاکستان نے بھی حالیہ اطلاعات کے مطابق اپنی پہلی ایٹمی آبدوز تیار کر لی ہے جس سے وہ دنیا کا ساتواں ملک بن گیا ہے جو دوسرے جوابی حملے کی صلاحیت رکھتا ہے اور
    یہ پیش رفت پاکستان کی بحری دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرتی ہے اور خطے میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتی ہے
    نیز پاکستان نے آبدوز سے لانچ کئے جانے والے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری پر بھی کام شروع کیا ہے جو اس کی جوابی حملے کی صلاحیت کو مضبوط بناتے ہیں

    اسرائیل کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس بھی محدود Second Strike کی صلاحیت موجود ہے لیکن یہ مکمل طور پر یقینی نہیں ہے کیونکہ آبدوزوں میں ایٹمی میزائلوں کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے

    پہلے حملے کے جواب میں دوسرے جوابی حملے کی
    صلاحیت رکھنے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ دشمن کو جنگ شروع کرنے سے روکا جائے کیونکہ اگر ایک ملک جانتا ہو کہ وہ جوہری حملہ کرکے بھی خود محفوظ نہیں رہ سکے گا تو وہ حملہ کرنے سے باز رہے گا یہ Mutually Assured Destruction یعنی
    (MAD)
    کا بنیادی نظریہ ہے

    اب جنک ممالک پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں ان کے لئے دوسرے جوابی حملے کی طاقت حاصل کرنا لازم ہے اور پھر اس کے بعد تیسرے جوابی حملے کی ٹیکنالوجی بھی لازم ہے
    اور تیسرے جوابی حملے کی طاقت اس وقت صرف امریکہ کے پاس ہی ہے اس کے پاس 5 ایسے طیارے ہیں جو ایٹمی حملے کی صورت میں زمین سے بہت اوپر فضاء میں کئی مہینے رہ سکتے ہیں نیز امریکہ کا دعوی ہے کہ خلاء میں بنایا گیا اس کا خلائی اسٹیشن بھی زمین پر ایٹمی بم برسانے کی صلاحیت رکھتا ہے اس لئے وقت کے فرعون ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ دنیا کو سو مرتبہ تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
    ان باتوں میں شک نہیں مگر بطور مسلمان ہمارا ایمان ہے قئامت وقت سے پہلے نہیں آئے گی اور نا ہی موت وقت سے پہلے آسکتی ہے
    دوسری بات امریکہ یہ سب تب ہی کرے گا جب اس پر حملہ ہو گا اور دنیا کے 9 ایٹمی ممالک میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا کہ وہ دوسرے ملک پر ایٹمی حملہ کرے کیونکہ اب اگر ایک ملک ایسا کرے گا تو دوسرا مجبوراً جوابی حملہ کرے گا جس کا مطلب دو طرف تباہی اور تیسری عالمی جنگ ہے
    ان ایٹمی ہتھیاروں کیلئے بے انتہاء پیسہ لگانا پڑتا ہے اس لئے اب امریکہ کی مجبوری بن گئی ہے کہ وہ مقروض ہو کر بھی ایٹمی ٹیکنالوجی کو بڑھاتا چلا جائے
    اسی طرح دو غریب ممالک بھارت اور پاکستان کی بھی مجبوری ہے کہ وہ اپنی بقاء اور سلامتی کیلئے ایک دوسرے سے بڑھ کر ٹیکنالوجی حاصل کریں
    آپ اسرائیل کی مثال لے لیں اس نے حماس سے طویل جنگ لڑ لی مگر ایٹمی قوت ہوتے ہوئے بھی وہ فلسطین پر ایٹمی حملہ نا کر سکا اور یہی حال بھارت ہے کہ جس سے 77 سال قبل ہم نے مقبوضہ کشمیر چھین کر موجودہ آزاد کشمیر بنایا مگر بھارت کی جرات نہیں کہ وہ پہلے ایٹمی حملہ کرے کیونکہ اسے معلوم ہے اس جیسا توازن پاکستان موجود ہے
    نیز وہ ممالک جو ایٹمی قوت نہیں ان کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی بقاء کی خاطر کسی نا کسی ایٹمی ملک سے جڑ کر رہیں یا پھر خود ایٹمی قوت بنیں

  • کتاب، بارش اور پلاؤ،لفظوں میں بسی ایک شام.تحریر:رضوانہ چغتائی

    کتاب، بارش اور پلاؤ،لفظوں میں بسی ایک شام.تحریر:رضوانہ چغتائی

    باہر سنبل کے درخت کی شاخیں بوجھل ہو رہی ہیں، .. بارش کی نرم بوندیں کھڑکی کی جالی سے چھن کر اندر آ رہی ہیں، ہلکی سی ٹھنڈک بھی ہوا میں گھلی گھلی سی ہے۔۔۔۔ سنبل کے درخت پر بارش کا پانی موتیوں کی طرح چمک رہا ہے، مٹی کی سوندھی خوشبو جیسے پورے ماحول کو اپنے سحر میں جکڑ چکی ہے۔…
    میں کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوں, گلابی سنبل کے پھول بارش میں بھیگ کر اور زیادہ نکھر گئے ہیں۔۔۔کہنی کھڑکی کی لکڑی پر ٹکاتی ہوں اور ریشم کے پھول بغور دیکھتی ہوں۔۔۔ سبحان اللہ۔۔۔اس قدر خوبصورت۔۔۔ سوال ابھرتا ہے ذہن میں کیا واقعی ان سے ریشم نکلتی ہے۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔، دل جواب دیتا ہے ، اللہ کے حکم سے۔۔۔ جیسے اللہ رات میں سے دن کو طلوع کرتے ہیں ،ویسے ان میں سے ریشم بھی بنانے پر قادر ہیں۔۔۔۔میرے سامنے کی سڑک پانی میں بھیگی ہے۔۔۔۔ تارکول کی سیاہ سڑک پہ نگاہیں جمائے دوبارہ سوچتی ہوں شاید دور کسی گھر کی کھڑکی سے بھی ایک اور روح شاید اسی منظر کو دیکھ رہی ہو، اپنے انداز میں، اپنے خیالات میں۔۔۔۔ محبت کے کئی اور رنگ اوڑھ رکھے ہوں شاید۔۔۔۔۔

    میرے سامنے پلاؤ کی ایک پلیٹ رکھی ہے، گرم چاولوں سے اٹھتی بھاپ میں زیرہ، دارچینی اور لونگ کی خوشبو ملی ہوئی ہے۔ ایک نوالہ لیتے ہی زبان پر نمکین سا ذائقہ بکھر جاتا ہے، اور دل بےاختیار کہتا ہے۔۔۔۔الحمدللہ! کیسا کرم ہے رب کا کہ زمین سے پیدا ہونے والے دانے یوں ذائقہ، خوشبو اور تسکین میں ڈھل جاتے ہیں۔

    بارش کے موسم میں پلاؤ کا مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے، خاص طور پر جب ہر نوالے کے ساتھ باہر کا بھیگا منظر اور اندر کی خاموشی ایک ساتھ محسوس ہو۔ لیکن اس پورے منظر میں جو سب سے قیمتی چیز ہے، وہ میرے ہاتھ میں کھلی کتاب ہے۔۔۔۔

    کوئی بھی کتاب صرف صفحات کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جہاں لفظ زندہ ہیں، جہاں کہانیاں سانس لیتی ہیں، اور جہاں حقیقت اور تخیل کے درمیان کی سرحد مدھم ہو جاتی ہے۔ میں جیسے جیسے ورق پلٹتی ہوں، لفظ میرے اندر اترتے جاتے ہیں، میرے خیالات میں، میری روح میں، میرے وجود میں۔۔۔۔کبھی کسی جملے پر دل ٹھہر جاتا ہے، کبھی کسی کہانی میں خود کو پا لیتی ہوں، اور کبھی کوئی لفظ مجھے وہ جواب دے دیتا ہے جس کی تلاش میں جانے کب سے تھی۔۔۔۔۔ یا شاید کتاب مجھے تلاش کرتے کرتے مجھ تک پہنچ جاتی ہے۔۔۔ یا ہم میں سے ہر کسی کے پاس اس کے نصیب کے لفظ پہنچ جاتے ہیں ۔۔۔۔ راستہ دکھانے ۔۔۔ ہے نا

    کتابیں صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہوتیں، یہ وہ روشنی ہوتی ہیں جو زندگی کے اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہیں۔ یہ وہ خاموش دوست ہوتی ہیں جو بغیر کسی صدا کے بولتی ہیں، بغیر کسی شرط کے ساتھ دیتی ہیں، اور بغیر کسی رشتے کے زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔

    الحمدللہ! کیسے خوبصورت ہیں یہ لفظ، کیسی سائبان ہیں یہ کہانیاں، اور کیسا مہربان ہے وہ رب، جس نے لفظوں میں بھی روشنی رکھ دی۔۔۔۔ یہ لمحات ، یہ تصویر کہیں میرے اندر جذب ہو گئی ہے،ایسا لگا ہے جیسے کہ وقت نے میرے لئے کچھ دیر کے لیے اپنی رفتار سست کر دی ہو۔ باہر موسم شاعری جیسا ہے، اور اندر دل کسی ان کہی کہانی کے سحر میں گرفتار، کتاب کی گفتگو، اور میرے اردگرد اللہ کی بےشمار نعمتیں— مٹی کی سوندھی خوشبو اور پلاؤ کا ذائقہ ۔۔۔۔ الحمدللہ ، ثم الحمدللہ۔۔۔۔!!!!
    دل بے اختیار سرگوشی کر رہا ہےنا۔۔۔۔
    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
    (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟)
    بقلم خود: رضوانہ چغتائی

  • مرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    مرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    (قصہ درد 2)
    کچھ روز پہلے قلم سے سر قلم کروانے کا شوق اچانک انگڑائی لے کر بیدار ہوا تو قصہ درد کہہ ڈالا، پنجاب حکومت، محکمہ تعلیم اور وزیر تعلیم کو مخاطب کر کے اساتذہ کا مقدمہ لڑنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد ایک معاشرتی موضوع پر لکھنے کی کوشش کی لیکن طبیعت میں وہ روانی نہ تھی۔ کچھ کمی تھی۔ تبھی عنوان بہ ہیت شعر آیا
    میرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں میری وفاوں پے انگلی اٹھا رہا ہے کوئی آج دوبارہ سوچا تو خیال آیا کہ قصہ درد ایک نہیں یہ تو داستان امیر حمزہ سے طویل اور بلبل ہزار داستاں سے ضخیم ہے۔ سابقہ تحریر پر کچھ قارئین نے رائے دی ہے کہ الفاظ کا انتخاب آسان کریں ۔ ان کی رائے کا بھی شکریہ۔ شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے کے مصداق کچھ ایسا ہی انتخاب
    پچھلی تحریر میں الفاظ ہوا
    خیر قصہ مختصر آج کا موضوع مالی معاملات حکومت اور اساتذہ سے جڑا ہے۔ سرکاری سکولز میں بیس روپے ماہانہ فروغ تعلیم فنڈ کے نام سے ہر طالب علم سے لیا جاتا ہے۔ جن طلباء کے بارے ہیڈ ماسٹر کو علم ہو وہ یہ 20 روپے کی خطیر رقم بیک جنبش قلم معاف بھی کر سکتا ہے۔ آہ ہمارے چھوٹے چھوٹے اختیارات اب وصولی ایف ٹی ایف یعنی فروغ تعلیم فنڈ حکومت و محکمہ کے احکامات ہیں کہ اسے بینک میں جمع کرایا جائے 5000 روپے سے زائد رقم چوبیس گھنٹے سے زائد پاس رکھنا محکمانہ اجازت نہ ہے. اس رقم کو سکول کے اکاونٹ میں جمع کرایا جاتا ہے پھر اخراجات کے لیے دوبارہ بذریعہ چیک نکلوایا جاتا ہے۔ ایک اور اکاونٹ نان سیلری بجٹ NSB ہے ، جو کہ سکول کے نام پر بینک میں کھولا جاتا ہے۔ یہاں سے وہ رام کہانی شروع ہوتی ہے جس کو پڑھ کر بقول مشتاق یوسفی( مرد قتل کردیتے یا ہیں خودکشی) سکول مینیجمنٹ کونسل کے نام سے مقامی افراد کی ایک کمیٹی ہر سکول میں موجود ہے جس کا ہر ماہ اجلاس ہوتا ہے اس کمیٹی کا مقرر کردہ رکن این ایس بی اور ایف ٹی ایف فنڈز دونوں اکاونٹس کا شریک دستخط یعنی کو سگنیٹری ہوتا ہے۔ شریک چئیرمین کے دستخط بینک میں جوائنٹ اکاونٹ میں اپ ڈیٹ کرانے کے لیے نئی بینکنگ پالیسی کے تحت ہیڈ کی سیلری سلپ اور کو سگنیٹری کی آمدن کے ثبوت کے لیے اس کی زمین زرعی کا فرد یا کوئی بھی آمدن کا ثبوت دینا ہوتا ہے۔ اب لطیفہ یہ ہے کہ دونوں اکاونٹس کی آمدن گورنمنٹ کے فنڈَز سے ہے لیکن بینک پتہ نہیں کیا سمجھ کر ڈیل کر رہے ہیں۔

    خود پر بیتی ایک داستاں سناتا کہ چند سال پہلے ایک بینک منیجر نے این ایس بی اکاونٹس کے بارے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ یہ بے نامی اکاونٹس عنقریب بند کر دیے جائیں گے عرض کی یہ پنجاب حکومت کے بی ہاف پر کھولے گئے ہیں ارشاد ہوا ہیں تو بے نام اکاونٹس سے ملتے جلتے نہ کوئی انسانی اکاونٹ ٹائٹل نہ آمدن کا کوئی واضح ذریعہ۔ خیر یہ تو حکومت پنجاب، اور تعلیم کے محکمہ میں وزارت کے لیول کی نا اہلی ہے۔ آگے چلتے ہیں۔ ہر خریداری جو ان اکاونٹس سے کی جائے اس پر مختلف رقم پر مختلف ٹیکس دینا لازمی ہے۔ یعنی پہلے لاہور سے رقم سکولز کے اکاونٹس میں اور پھر اسی رقم پر ٹیکس باالفاظ دیگر حکومت ہی حکومت سے ٹیکس لے رہی۔ اساتذہ ٹیکس نہ دیں تب بھی مرتے اور دیں تو ایک نئی داستاں۔ چلیں یہ تو ہوئی انتطامی نا اہلی۔ اب رقم بینک سے بذریعہ چیک نکلوانے کے لیے سب سے پہلے تو سکول کونسل کا اجلاس منعقد ہوتا ہے جس میں اس امر کی توثیق کی جاتی ہے کہ پیسے نکلوانے کی واقعی ضرورت ہے اس کے بعد اس اجلاس سے ایک دو یا تین رکنی کمیٹی برائے خریداری بذریعہ منظور شدہ رقم تشکیل پاتی ہے۔ پھر ہیڈ یا کو سگنیٹری بینک جا کر رقم نکلواتے ہیں اب چونکہ 5000 سے زائد کیش پاس رکھنا ممنوع ہے لہذا رقم نکلوانے کے فوراً بعد مطلوبہ شے کو تلاش کر کے اس کی خرید و ادائیگی ہوتی ہے ساتھ سی نیا کام شروع اب بل لینا ہے اور بل پر رقم سکول کانام پتہ مقدار شے نرخ۔ الگ و واضح درج ہوں دوسرے بل پر رسید ادائیگی ہو اب ان دونوں بلز کو لاکر اخراجات کے بلز کی فائل میں محفوظ کرنے سے پہلے بل کی پشت پر ایک مرتبہ پھر چند ایس ایم سی ممبران اور ہیڈز دستخط کریں گے اور رسیدی ٹکٹ بھی لگایا جائے گا۔ جو چیز جس مقصد کے لیے خریدی گئی اگلے اجلاس میں وہ کمیٹی کو معائنہ و ملاحظہ کرائی جائے گی اور اجلاس کی کاروائی تحریر کر کے اس پر ایک بار پھر دستخط ہوں گے۔

    اب چلتے ہیں حکومتی و محکمانہ ہدایات کی طرف کہ خریداری صرف اس دکان سے کریں جو این ٹی این رجسٹرڈ ہو ٹیکس کے معاملات میں ایڈوانس ٹیکس ادا کر رہی ہو اور جب ان کے ہاتھ سکول ہیڈز آتے تو وہ ایڈوانس ٹیکس جمع کرا چکے ہوتے لہذا وہ رقم بھی اوور چارجنگ کر کے پوری کی جاتی یا اشیاء کی کوالٹی کم کر دی جاتی۔ اگر خریداری خود کی تو شرح ٹیکس کے حساب سے اس شے کی قیمت کے ساتھ ٹیکس الگ جمع کرانا لازمی ہے۔ یعنی پہلے ایک ادارہ یعنی محکمہ تعلیم اپنے زیر سرپرستی چلنے والے اداروں کو رقم دیتا ہے۔ اس رقم کو بینک اپنی پالیسی کے تحت الگ سے ماہانہ یا سہ ماہی 49 روپے، 35 روپے کٹوتی کرتا ہے پھر وہی رقم کیش ہو کر حکومت کو کچھ حصہ ٹیکس کی شکل میں واپس کر دیا جاتا ہے۔ بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔ قصہ درد جاری ہے۔ درخت کاٹنا وہ بھی سکول میں پرانے اساتذہ کے مطابق بندہ مارنے کے برابر جرم ہے۔ اب بڑا درخت بعض دفعہ کٹوانا لازم ہو تو،
    (کیونکہ چاردیواری کے قریب یا پانی کے بور کے نزدیک جڑیں و ٹہنیاں مسائل بناتی ہیں ) اب اس جرم ضعیفی کی سزا سنیں۔

    سب سے پہلے وہی اجلاس سکول کونسل، پھر من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو کے مصداق اجلاس میں تائید اس کے بعد چین آف کمانڈ کو ملحوظ خاطر رکھ کر اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر کو درخواست اس کی منظوری کے بعد ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن سے منظوری۔ ٹھہریں۔۔۔۔۔ دلی ہنوَز دور است۔ اب ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محکمہ جنگلات کو لیٹر لکھے گا اس کے بعد محکمہ جنگلات اپنے سٹاف کے ذریعے سکول کا وزٹ کرے گا اور درخت کو جانچ کر اس کی متوقع قیمت مقرر کر کے ڈپٹی ڈی ای او کو تحریری رپورٹ دے گا اب ہیڈ کو کم از کم مقررہ ریٹ پردرخت بیچنے کی اجازت بذریعہ دفتر ایجوکیشن آفس ملے گی اور درخت کو (لکڑی) بیچ کر جو رقم ملے گی اسے اکاونٹ میں جمع کرانا لازمی چاہے کتنی ہی ضروری پیمنٹ ہو ایک دفعہ پیسے اکاونٹ ایف ٹی ایف میں جائیں گے پھر نکلوا لیجئے۔

    تماشا دیدنی ٹھہرا مگر دیکھے گا کون؟

    اب چلتے ہیں آڈٹ کی جانب اصول یہ ہے کہ مالی سال کے بلز باترتیب ایک فائل میں ہوں۔ فائل میں موجود بل پر مالک دکان کی مہر و دستخط ہوں۔ بل کی پشت پر ہیڈ اور کو سگنیٹری سمیت دیگر اراکین کے دستخط یوں۔ جس رقم کا آڈٹ ہو رہا ہے اس کو خرچ کرنے کی منظوری کا تحریری اجلاس ایس ایم سی درج ہو۔ سٹاک رجسٹر پر تحریر ہو ساتھ ہی ساتھ SIS سکول انفارمیشن سسٹم ایپ پر بھی چیک نمبر، تاریخ اور خریداری یا خرچ تحریر ہو۔ اس سارے لایعنی اور بے مقصد عمل سے مالی بے ضابطگی سے بچنے اور اخراجات شفاف کرنے میں مدد ملتی ( بقول بلکہ بحکم محکمہ تعلیم ). اس سارے عمل میں اتنی پیچیدگی ہے کہ شفاف ادائیگی بھی ضابطے کی کاروائی میں کے داو پیچ کی تاب نہ لاکر مشکوک ٹھہرتی جس سے ایک اور مسئلہ لاینحل کھڑا ہوتا ہے آڈٹ آبجیکشن۔ جس کے بعد ہیڈ ٹیچر کو لاہور، ضلع اور تحصیل کے درمیان شٹل کاک بنا دیا جاتا ہے ۔ اتنی زیادہ بے ترتیب اور لایعنی ہدایت کے بعد پڑھانے کے لیے نہ وقت ملتا ہی ہمت۔ تھک ہار کے جب سونے کو لیٹتے تو کسی نہ کسی نے سوشل میڈیا پر لکھا ہوتا اساتذہ کی تنخواہیں بہت زیادہ اور کام کم ہے۔ اللہ کے بندے ٹیچرز کی اوسط تنخواہ اس تمام عمل سے گزرنے کے باوجود، نوکری پر روز ایک شرط، پینشن غیر یقینی پھر بھی اگر زیادہ ہے تو بند کر دیں ویسے بھی بچتا تو کچھ نہیں بس دل کے بہلانے کو ہم بھی یہ نوکری کر رہے۔ اساتذہ کو ریلیف دینا ہے تو خدارا مشکل مبہم اور بے کار وقت ضائع کرنے والے ان کاموں سے ان کی جان چھڑوائیں بلکہ خود بھی چھوڑ دیں۔ خواتین ہیڈذ کبھی بینک کبھی آڈٹ میں پھنس کر گھر میں کام چھوڑ کر یہ تمام ضابطے کی کاروائی مکمل کرتے کئی مرتبہ دیر سے واپس جاتی ہیں غیر معمولی مسائل اور خانگی مسائل کے حوالے سے جس مشکل کا سامنا کرتی ہیں اس کا بھی احساس کم از کم حکومت کو نہیں۔ ویسے بھی حکومت کا تو کام ہی وہ کروانا کہ بندہ کرپٹ نہ ہوکر بھی جب ان بھول بھلیوں میں پھنسے تو مجبوراً کرپٹ ہوجاتا۔ آخری بات کہ خدا را اس عمل کو آسان کیجیے آڈٹ کا طریقہ بدلیں چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی بدلیں اس کے بعد جو کرپشن کرے بے شک نوکری سے نکال دیں لیکن یہ جو کچھ ہو رہا یہ ختم کریں
    اس کا جواب ایک ہی لمحے میں ختم تھا (پالیسی میٹرز)
    پھر بھی مرے سوال کا حق دیر تک رہا

    قوم کے معمار،ظلم وجبر کا شکار

  • شہید ابن شہید، مولانا حامد الحق،امت مسلمہ پھر سے یتیم،تحریر:عائشہ ندیم

    شہید ابن شہید، مولانا حامد الحق،امت مسلمہ پھر سے یتیم،تحریر:عائشہ ندیم

    چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گے
    چمن میں آۓ گی فصل بہاراں ہم نہیں ہوں گے

    28 فروری بروز جمعہ کا دن ایک دلخراش خبر کے ساتھ طلوع ہوا۔ جمعہ کی رات فیس بک پر سکرولنگ کے دوران دارالعلوم ثانی جامعہ حقانیہ میں ہونے والے المناک دھماکے کی خبر نظروں سے گزری۔ پہلے تو یقین نہ آیا، فوراً سرچ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ سچ ہے۔ دل پر جیسے بجلی سی گر گئی اور پورا دن انتہائی سوگوار گزرا۔ پھر دھماکے کے بعد کی ویڈیوز دیکھیں، وہ معصوموں اور بے گناہوں کے بکھرے وجود کا منظر، جو آنکھوں کے سامنے سے ہٹانا ناممکن لگتا تھا۔

    دل غم کی شدت سے تڑپتا رہا کیونکہ مدارس والوں کو تو مدارس سے عشق ہوتا ہے۔ آج تک عالمِ اسلام میں مولانا سمیع الحق کی کمی پوری نہیں ہو پائی تھی کہ ایک اور سانحہ امت مسلمہ پر ٹوٹ پڑا۔ شہید ابن شہید، مولانا حامد الحق کی شہادت امت مسلمہ کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ آہ! امت مسلمہ پھر سے یتیم ہوگئی۔

    کاش کہ اسلام کو مٹانے کی کوشش کرنے والے یہ سمجھ سکیں کہ ان کی سازشیں امت مسلمہ کے دل میں انتقام کی آگ سلگانے کے سوا کچھ حاصل نہیں کر سکتیں۔ کیونکہ اللہ کا قانون ہے کہ اسلام کو جتنا دبانے کی کوشش کی جائے گی، یہ اتنا ہی ابھر کر پھیلے گا۔وہ تو جنت کے باسی تھے، راہِ حق میں قربان ہونے کے لیے جان ہتھیلی پر لیے پھرتے تھے، جو اللہ کے سوا کسی سے ڈرنے کو کفر سمجھتے تھے۔ یقیناً جب وہ اللہ کے حضور پہنچے ہوں گے، تو فرشتوں نے ان کا استقبال کیا ہوگا۔ لیکن ان کے اہلِ خانہ اور ان تمام لوگوں کا کیا قصور تھا جنہیں ان کی ضرورت تھی؟ کیوں ہمیں رمضان المبارک کی شروعات میں لاشوں کا تحفہ دیا گیا؟

    اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو اور ہم سب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔آمین

    دیوانے گزر جائیں گے ہر منزل غم سے
    حیرت سے زمانہ انھیں تکتا ہی رہے گا
    آتی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
    گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا

  • جامعہ حقانیہ خود کش حملہ،دہشتگردی کی بزدلانہ کاروائی.تحریر: جان محمد رمضان

    جامعہ حقانیہ خود کش حملہ،دہشتگردی کی بزدلانہ کاروائی.تحریر: جان محمد رمضان

    دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں حالیہ خودکش حملہ ایک سنگین دہشت گردی کا واقعہ ہے جو فتنہ الخوارج اور ان کے سرپرستوں کی مذموم کارروائی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس حملے میں مولانا حامد الحق حقانی کو نشانہ بنایا گیا، جو اس وقت ایک اہم دینی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ مولانا حامد الحق حقانی نے حالیہ دنوں میں رابطہ عالم اسلامی کی ایک کانفرنس میں خواتین کی تعلیم کے بارے میں واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا تھا، جو انہیں فتنہ الخوارج کے گروہ کا نشانہ بننے کی وجہ بنا۔ مولانا حامد الحق حقانی نے خواتین کی تعلیم پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسلامی تعلیمات کے مطابق قرار دیا تھا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روکنا اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اس بیانیے کی وجہ سے انہیں فتنہ الخوارج کی جانب سے متعدد دھمکیاں بھی ملیں۔

    دارالعلوم حقانیہ میں نماز جمعہ کے بعد ہونے والے اس خودکش دھماکے نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ اس حملے کا مقصد مولانا حامد الحق حقانی کو نشانہ بنانا تھا۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ فتنہ الخوارج کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ گروہ اسی طرح کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے دینِ اسلام کے خلاف اپنی نفرت کو پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔فتنہ الخوارج کی طرف سے اس نوعیت کی دہشت گردی کے حملے نئی بات نہیں ہیں۔ اس گروہ نے ماضی میں بھی مساجد، امام بارگاہوں اور مزارات کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔ ان دہشت گردوں نے 17 مساجد، 32 امام بارگاہوں اور 21 مزارات کو بم دھماکوں کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ، کئی اہم مذہبی شخصیات جیسے مولانا حسن جان، مولانا نور محمد، علامہ ناصر عباس، اور خالد سومرو کو بھی شہید کیا گیا۔یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ فتنہ الخوارج اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے دین کا لبادہ اوڑھ کر انسانیت کے دشمن بن چکے ہیں۔

    خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کو اس دہشت گردی کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر امن دشمنوں کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔ حکومت کو اپنی سیاست کو عوامی مفادات پر ترجیح دینے کے بجائے صوبے میں امن قائم کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔ حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس حکمت عملی اپنائے اور عوام کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرے۔یہ خودکش حملہ نہ صرف ایک دہشت گردانہ کارروائی ہے بلکہ یہ ایک بار پھر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح بعض انتہاپسند گروہ دین اسلام کی اصل تعلیمات سے ہٹ کر دہشت گردی کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ ان دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کریں اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

    دارالعلوم حقانیہ میں ہونے والے اس حملے کے بعد، یہ وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر اس دہشت گردی کا مقابلہ کریں اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کو فروغ دیں تاکہ ملک میں امن قائم ہو سکے۔