Baaghi TV

Category: متفرق

  • پاکستان میں نوجوان وکلا کے لیے پیشہ ورانہ چیلنجز  .تحریر:صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی

    پاکستان میں نوجوان وکلا کے لیے پیشہ ورانہ چیلنجز .تحریر:صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی

    پاکستان میں وکالت کا شعبہ ہمیشہ سے ایک عزت اور فخر کا ذریعہ رہا ہے، لیکن نئے وکلا کے لیے اس شعبے میں اپنی جگہ بنانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ خاص طور پر وہ نوجوان وکیل جو اس شعبے میں حال ہی میں قدم رکھتے ہیں، انہیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل کی جڑیں نہ صرف پیشہ ورانہ مشکلات میں بلکہ پاکستان کے معاشی اور سماجی نظام میں بھی موجود ہیں۔

    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں وسائل کی کمی اور معاشی حالات پیچیدہ ہیں، نوجوان وکلا کے لیے اپنی جگہ بنانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ یہاں سرمایہ دارانہ نظام اور سیاسی اثرورسوخ رکھنے والی اشرافیہ کی موجودگی میں، جو وسائل کے مکمل قابض ہیں، نئے آنے والے وکلا کے لیے مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔پاکستان میں وکالت کا شعبہ اکثر ایک مخصوص طبقے کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر وہ نوجوان جو وکیل خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر کسی نوجوان کا والد، دادا یا چچا وکیل نہ ہو، تو اس کے لیے وکالت کے میدان میں کامیابی حاصل کرنا ایک مشکل کام بن جاتا ہے۔ اس کے باوجود، اگر وہ نوجوان محنت اور لگن سے اس شعبے میں آنا چاہے تو اسے کئی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے۔ ایک طرف تو، کارپوریٹ سیکٹر میں اگر ہم دیکھیں تو اکثر کمپنیوں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے قانونی معاملات کے لیے کسی وکیل کو بطور مشیر رکھیں، لیکن دوسری طرف، وہ وکلا جو سیاسی تعلقات رکھتے ہیں، انہیں کئی کمپنیوں کی قانونی مشاورت کا موقع ملتا ہے۔

    پاکستان میں نئے وکلا کے لیے سیکھنے کے مواقع بہت کم ہیں۔ ایک نوجوان وکیل کو ایل ایل بی مکمل کرنے کے بعد کسی تجربہ کار وکیل کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ عملی میدان میں اپنی صلاحیتوں کو آزما سکے۔ تاہم، اکثر سینئر وکلا کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ نئے وکلا کو مکمل تربیت دے سکیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے سینئر وکلا پہلے ہی اپنی پریکٹس میں مصروف ہوتے ہیں اور ان کے پاس نئے وکلا کو سکھانے کا وقت نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے اکثر نوجوان وکلا کو اپنی جگہ بنانے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔پاکستان میں وکلا کی سیاست بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ نئے وکلا جو بار کے انتخابات میں حصہ نہیں لیتے، انہیں اپنی جگہ بنانے میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وکلا کی سیاست میں بہت زیادہ پیسہ خرچ ہوتا ہے اور نوجوان وکلا کے لیے یہ رقم سیاست میں حصہ ڈالنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ سے وکلا کی سیاست میں صرف وہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو پہلے سے مالی طور پر مضبوط ہوتے ہیں۔

    پاکستان میں بہت سے نوجوان وکلاء اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ وکالت کا پیشہ صرف قانون کا علم رکھنے کا نہیں بلکہ اس میں اخلاقی اصولوں کی پیروی کرنا بھی ضروری ہے۔ وکلا کے پیشے میں بے شمار چیلنجز ہوتے ہیں جن میں سے ایک بڑی چیلنج پیشہ ورانہ ساکھ کا ہے۔ بہت سے وکلا فیس کا معاملہ، کیسز کی مقدار اور دیگر مالی معاملات پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں پیشہ ورانہ معیار میں کمی آتی ہے۔اگرچہ پاکستان میں نوجوان وکلا کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود اس شعبے میں کامیابی کے لیے کئی مواقع بھی موجود ہیں۔ ان مواقع کا فائدہ اٹھا کر نوجوان وکیل اپنے لیے ایک کامیاب مستقبل بنا سکتے ہیں۔

    پاکستان کے بڑے شہروں میں جہاں پہلے سے بڑی وکیل برادری موجود ہے، وہاں نوجوان وکلا کے لیے مقابلہ بہت سخت ہے۔ لیکن دیہاتی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں ابھی تک وکالت کے شعبے میں اتنی ترقی نہیں ہوئی۔ ایسے علاقوں میں نوجوان وکلا کے لیے اپنی جگہ بنانا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، دیہاتی علاقوں میں عدالتیں بھی کم ہیں اور وہاں کی عوام کو قانونی مدد کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے، جس سے نوجوان وکلا کو کام کے مواقع ملتے ہیں۔دنیا بھر میں وکالت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ رہا ہے اور پاکستان میں بھی یہ رجحان بڑھ رہا ہے۔ نوجوان وکلا آن لائن وکالت کے ذریعے اپنے کیسز کو موثر انداز میں حل کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر وکالت کی خدمات فراہم کرنے کے ذریعے نئے وکلا اپنے آپ کو مارکیٹ کر سکتے ہیں۔ لیکن بار کونسل کی طرف سے پابندی کے وکیل اپنی مارکیٹ نہیں کر سکتا جب کہ ہورپ امریکہ میں ایسا نہیں ہے۔

    پاکستان میں نئے وکلا کو مزید سہولت دینے کے لیے حکومت یا مختلف وکلا کی تنظیمیں اسکالرشپ اور تربیتی پروگرامز فراہم کر سکتی ہیں۔ یہ پروگرامز نہ صرف مالی مدد فراہم کرسکتی ہیں بلکہ نئے وکلا کو تربیت دینے کا بھی موقع فراہم کرسکتے ہیں۔ نوجوان وکلا اگر ان پروگرامز کا حصہ بنیں، تو ان کے لیے سیکھنے اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع مل سکتا ہے۔اس حوالے سے پنجاب بار کونسل نے ٹریننگ پروگرام شروع کیا جو کہ خوش آ ئندہے۔پاکستان میں نوجوان وکلا کے مسائل کا حل ممکن ہے، لیکن اس کے لیے چند اہم اقدامات کی ضرورت ہے۔ نوجوان وکلا کے لیے انٹرنشپ پروگرامز کا آغاز کیا جانا چاہیے تاکہ وہ عملی میدان میں کام کرنے کا تجربہ حاصل کر سکیں۔ جیسے ہی کوئی نوجوان وکیل وکالت کے پیشے میں قدم رکھتا ہے، اس کو ایک ماہانہ سکالرشپ دی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے مالی مسائل سے نمٹ سکے اور اپنی تعلیم اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنا سکے۔نوجوان وکلا کو اخلاقی اصولوں کی تربیت دی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے پیشے میں صرف قانونی علم پر ہی انحصار نہ کریں بلکہ اپنے کام میں ایمانداری اور پیشہ ورانہ ساکھ کو بھی برقرار رکھیں۔وکلا کی سیاست میں روپے کے استعمال اور سیاسی تعلقات کی بجائے پیشہ ورانہ معیار کو اہمیت دی جانی چاہیے تاکہ صرف اہل وکلا کو ہی اہمیت ملے۔

    پاکستان میں نوجوان وکلا کے لیے پیشہ ورانہ چیلنجز اور مواقع دونوں موجود ہیں۔ اگر ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں، تو یہ نوجوان وکلا نہ صرف اپنے لیے کامیاب کیریئر بنا سکتے ہیں بلکہ پورے معاشرے میں انصاف کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ نوجوان وکلا کو صرف قانونی علم ہی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ اخلاقی تربیت اور مالی مدد کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ اس شعبے میں اپنی جگہ بنا سکیں اور اپنے خاندانوں اور ملک کے لیے مفید ثابت ہو سکیں۔

  • وقت کبھی واپس نہیں آتا.تحریر:نبیلہ اکبر

    وقت کبھی واپس نہیں آتا.تحریر:نبیلہ اکبر

    دنیا میں سب سے قیمتی چیز وقت ہے، کیونکہ وقت وہ چیز ہے جو کبھی واپس نہیں آتا، جو گزرا وہ ہمیشہ کے لئے گزر گیا۔ زندگی میں سب سے قیمتی چیز وہ وقت ہوتا ہے جو ہم کسی کو دیتے ہیں، وہ لمحے جو ہم کسی کی خوشی میں شریک ہونے کے لئے وقف کرتے ہیں، وہ لمحے جو ہم کسی کی مدد کرنے یا اُس کے ساتھ گزارنے کے لئے نکالتے ہیں۔ اور وہ وقت جو ہم اپنے عزیزوں، دوستوں یا کسی دوسرے انسان کے ساتھ گزارتے ہیں، وہ وقت جو ہمارے لئے نہ صرف ایک یاد بن کر رہ جاتا ہے بلکہ ایک نشان بن کر ہمارے دل میں محفوظ ہو جاتا ہے۔

    وقت کی قیمت کا اندازہ تب ہوتا ہے جب ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ وہ شخص جس کے ساتھ ہم نے اپنا وقت گزارا، وہ دراصل ہمارا وقت ضائع کرنے والا نہیں، بلکہ ہمارے لئے اہم اور قیمتی ہے۔وقت ہمیشہ اسی کو دیا جاتا ہے جس کی اہمیت ہو، کیونکہ انسان ہمیشہ اپنی ترجیحات کے مطابق وقت گزارتا ہے۔ اگر آپ کسی کے لیے اہم ہیں، تو وہ شخص آپ کے ساتھ وقت گزارنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا، چاہے وہ کتنی ہی مصروفیت میں کیوں نہ ہو۔ ہم سب کے پاس دن کے 24 گھنٹے ہیں، لیکن ہر شخص کے لئے وقت کی قدر مختلف ہوتی ہے۔ جو لوگ ہمارے لئے اہم ہوتے ہیں، وہ ہمیں وقت دیتے ہیں، اور جو ہم سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، وہ ہمارے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

    اگر کوئی شخص آپ سے محبت کرتا ہے، تو وہ کبھی بھی آپ سے بات کرنے کے لئے وقت نکالنے میں عذر نہیں کرے گا۔ محبت میں وقت کی کمی نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک ترجیح ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص آپ سے محبت کرتا ہے اور وہ ہمیشہ آپ کو اپنی مصروفیات کا بہانہ دے کر آپ سے وقت نہیں گزارتا، تو پھر یہ ایک سنگین بات ہے کہ اس کی محبت میں سچائی کہاں ہے۔دیکھا گیا ہے کہ جو شخص آپ سے محبت کے بجائے وقت کی کمی کا بہانہ بناتا ہے، وہ دراصل آپ کی اہمیت کو کم سمجھتا ہے۔ ایسی صورتحال میں جب آپ کسی کے لئے اہم نہیں ہوتے، تو آپ کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ وہ شخص دراصل آپ کے ساتھ وقت گزارنے کی بجائے دوسری ترجیحات میں مصروف ہے۔اگر کوئی شخص آپ کے ساتھ وقت گزارنے میں دلچسپی نہیں رکھتا، تو یہ سوچنے کا وقت ہے کہ کیا واقعی وہ شخص آپ کی زندگی میں اہم ہے؟ یا وہ صرف وقت گزاری کے لئے آپ کے ساتھ ہے؟ زندگی میں ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں جو اپنی مصروفیتوں کے باوجود آپ کے ساتھ وقت گزاریں اور اس وقت کو آپ کی خوشی میں بدل دیں۔

    اگر آپ سے کسی کی محبت سچی ہو، تو وہ شخص کبھی نہیں کہے گا کہ وہ آپ سے بات کرنے یا آپ کے ساتھ وقت گزارنے کے لئے مصروف ہے۔ محبت کا رشتہ وقت کی فراہمی کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ آپ کا وقت کسی کے لئے سب سے قیمتی تحفہ ہوتا ہے، اور اگر وہ شخص آپ کو اپنا وقت دے رہا ہے، تو وہ دراصل آپ کی زندگی میں اپنی اہمیت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔یاد رکھیں، محبت اور وقت کا رشتہ بہت گہرا ہے۔ اگر کوئی آپ سے محبت کرتا ہے، تو وہ آپ کے ساتھ وقت گزارے گا، اور اگر کوئی آپ کے ساتھ وقت گزارنے سے گریز کرتا ہے، تو یہ ایک اشارہ ہے کہ وہ شاید آپ کی زندگی میں اتنی اہمیت نہیں رکھتا جتنا آپ نے سوچا تھا۔

    آخرکار، وقت کی قیمت کا اندازہ ہمیں اُس وقت ہی ہوتا ہے جب ہم اسے گنوا چکے ہوتے ہیں۔ ہم اپنے قریبی لوگوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں وقت دیں گے، لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر ہم کسی سے وقت نہ لیں، تو پھر ہم بھی اس کی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔اگر آپ کو کسی کا وقت نہیں مل رہا، تو اسے بہانہ سمجھیں اور اس شخص سے اپنے تعلقات کا دوبارہ جائزہ لیں۔ دنیا میں محبت کے رشتہ کو صرف وقت کی فراہمی سے ناپا جا سکتا ہے۔ اس لئے وقت کی قدر کریں اور وہ وقت گزاریوں میں نہ گم ہوں جو آپ کی اہمیت کو کم کریں۔یاد رکھیں، "وقت کبھی واپس نہیں آتا”، لہذا اس کا استعمال درست طریقے سے کریں۔ اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں اور ان لوگوں کے ساتھ تعلقات استوار کریں جو آپ کی اہمیت اور وقت کو قدر دیں۔

  • ہوشیار باش : سائبر کرائم ایکٹ کا ترمیمی بل تیار ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ہوشیار باش : سائبر کرائم ایکٹ کا ترمیمی بل تیار ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نےدھرنوں میں قانون پامال کرنے والوں کو سزائیں دینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔احتجاج کے نام پر جلاؤ گھیراؤ،تشدد آتشیں اسلحہ کا استعمال کرنے والوں کی لسٹیں جدید ترین جیو فینسنگ اور متعلقہ اداروں کی مدد سے بنائی جارہی ہیں۔اور اسکے بعد سوشل میڈیا پر جن جن اندرونی و بیرونی "کرداروں” نے اداروں کے خلاف فیک نیوز پوسٹیں لگائیں یا لگا رہے ہیں اور شیئر کی ہیں یا کر رہے ہیں،انکے خلاف حکومت نے سائبر کرائم ترمیمی بل کا ابتدائی مسودہ بھی تیار کر لیا، نئے مسودے میں اہم تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔مسودے میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹی کے پاس ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے سے متعلق مواد کو بھی ہٹانے کا اختیار حاصل ہو گا، جان بوجھ کر جھوٹی معلومات پھیلانے، خوف و ہراس پیدا کرنے والوں کو 5 سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔اتھارٹی کے پاس فوج اور عدلیہ کے خلاف آن لائن مواد کو ہٹانے کا اختیار حاصل ہوگا، مذہبی فرقہ وارانہ یا نسلی بنیادوں پر نفرت پھیلانے سے متعلق شیئر کیے گئے مواد کو ہٹانے کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔مسودے کے مطابق کسی شخص کو ڈرانے، جھوٹا الزام لگانے اور پورنو گرافی سے متعلق مواد کو بھی ہٹایا جا سکے گا، ریاست یا اس کے اداروں کے خلاف دہشت گردی اور تشدد کی دیگر اقسام کو فروغ دینے سے متعلق مواد بھی ہٹایا جا سکے گا۔مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اتھارٹی کا ایک چیئرمین اور 6 اراکین ہوں گے، اتھارٹی کے فیصلے کے خلاف ٹربیونل سے رجوع کیا جا سکے گا۔

    فیک نیوز یا جھوٹی خبریں موجودہ دور کا ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہیں۔ ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی آسانی نے جہاں معلومات تک رسائی ممکن بنائی ہے، وہیں غلط معلومات یا افواہوں کا پھیلاؤ بھی بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ فیک نیوز نہ صرف عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرتی ہیں بلکہ یہ سماجی، سیاسی، اور معاشی استحکام کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں فیک نیوز کے اثرات زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں کیونکہ یہاں خواندگی کی شرح کم ہے اور سوشل میڈیا کا استعمال غیر ذمہ دارانہ حد تک بڑھ چکا ہے۔ جھوٹی خبریں اکثر مذہبی منافرت، سیاسی پولرائزیشن، اور فرقہ واریت کو بڑھاوا دیتی ہیں، جس سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔سودے کے تحت ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی قائم کی جائے گی، اتھارٹی کو سوشل میڈیا سے مواد بلاک کرنے یا ہٹانے کا اختیار ہو گا، اتھارٹی قانون نافذ کرنے والے اداروں یا کسی شخص کے خلاف مواد ہٹانے کے احکامات جاری کر سکتی ہے۔اس ترمیمی بل کا مقصد فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہے۔

    بل میں دی گئی تفصیلات کے مطابق:1. تعریف اور دائرہ کار: بل میں فیک نیوز کی واضح تعریف کی گئی ہے، جس کے تحت ایسی تمام معلومات شامل ہیں جو جان بوجھ کر جھوٹ یا گمراہ کن ہوں۔2. سزائیں: فیک نیوز پھیلانے والوں کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں، جن میں بھاری جرمانے اور قید شامل ہیں۔3. آن لائن پلیٹ فارمز پر کنٹرول: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نگرانی کو مزید سخت کرنے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔4. ریگولیٹری باڈی: ایک نئی ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو جھوٹی خبروں کے معاملے کی نگرانی کرے گی۔1. قومی مفاد کا تحفظ: اس بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ فیک نیوز قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، اور یہ اقدام عوام کو غلط معلومات سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔2. عوامی آگاہی: بل کے ذریعے عوام کو درست معلومات فراہم کرنے اور افواہوں سے بچانے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا۔3. بین الاقوامی مثالیں: کئی ممالک، جیسے سنگاپور اور فرانس، پہلے ہی فیک نیوز کے خلاف قوانین متعارف کر چکے ہیں۔تاہم، اس بل پر تنقید بھی کی جا رہی ہے:1. آزادی اظہار پر قدغن: تنقید کرنے والے اس بل کو آزادیِ اظہار پر حملہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت فیک نیوز کے بہانے مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے اس قانون کا غلط استعمال کر سکتی ہے۔2. اختیارات کا غلط استعمال: اس بات کا خدشہ ہے کہ حکومتی ادارے اپنی مرضی سے کسی بھی خبر کو فیک نیوز قرار دے کر تنقیدی صحافیوں اور کارکنوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔3. بل میں فیک نیوز کی تعریف اگرچہ دی گئی ہے، مگر یہ اتنی وسیع ہو سکتی ہے کہ اس کا اطلاق حقائق پر مبنی رپورٹنگ پر بھی ہو جائے۔4۔ پاکستان میں پہلے سے ہی ریگولیٹری اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں، اور ایک نئی اتھارٹی کے قیام سے مزید بیوروکریسی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں. عوام کو ڈیجیٹل آگاہی فراہم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ پاکستان میں یہ ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں میڈیا لٹریسی کو فروغ دیا جائے تاکہ لوگ جھوٹی خبروں کی پہچان کر سکیں۔اس کے علاوہ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی اس سلسلے میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، جیسے کہ جھوٹی خبروں کی نشان دہی کے لیے الگورتھم بہتر بنانا اور ایسے اکاؤنٹس بند کرنا ہونگے جو مسلسل غلط معلومات پھیلاتے ہیں تاکہ ملک میں افراتفری کی صورت حال پیدا نہ ہونے دی جائے۔

    پاکستان کا سائبر کرائم ترمیمی بل فیک نیوز کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک اہم قدم ہو سکتا ہے، مگر اس کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ اس پر عملدرآمد کس حد تک شفاف اور منصفانہ ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس بل پر تنقید کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں مزید اصلاحات کرے تاکہ یہ آزادیِ اظہار کے حق کو محدود کیے بغیر فیک نیوز کو روک سکے۔اس کے ساتھ ساتھ، یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت عوام کو ڈیجیٹل میڈیا کے صحیح استعمال کی تربیت دے تاکہ معاشرہ ہی جھوٹی خبروں کے خلاف مزاحمت کر سکے۔ قانون سازی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن فیک نیوز جیسے پیچیدہ مسئلے کا مستقل حل عوامی شعور کی بیداری میں مضمر ہے۔

    ۔بحرحال ! ملکی وسیع تر مفاد میں انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان میں فیک نیوز کے مسئلے کے حل کے لئے سخت قوانین نہ صرف بنانے کی حدتک محدود رہیں، بلکہ ان پر آہنی ہاتھوں سے عملدرآمد بھی ضروری ہے۔۔

  • پاکستان میں لیک ویڈیوز کاپھیلاؤ اور حکومتی ذمہ داری

    پاکستان میں لیک ویڈیوز کاپھیلاؤ اور حکومتی ذمہ داری

    پاکستان میں جہاں پورن سائٹس پر پابندی ہے، وہیں نجی ویڈیوز کے لیک ہونے کا مسئلہ بھی دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ یہ سوال اب تک کئی بار اٹھ چکا ہے کہ اگر پورن مواد غیر اخلاقی اور غیر قانونی سمجھا جاتا ہے تو پھر نجی ویڈیوز کی شیئرنگ اور ان کا بے رحمی سے پھیلاؤ کیوں کسی کے لیے کوئی مسئلہ نہیں بنتا؟ کیا ہم اس دوہری سوچ کا شکار ہیں؟

    پاکستان میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ پورن دیکھنا ایک اخلاقی غلطی ہے اور اس پر قانونی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ تاہم، نجی ویڈیوز یا "نائیڈ” ویڈیوز کا لیک ہونا اور ان کا سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر تیزی سے پھیلنا ایک الگ نوعیت کا مسئلہ ہے۔ اکثر یہ ویڈیوز مختلف افراد کی رضا مندی کے بغیر انٹرنیٹ پر اپلوڈ ہو جاتی ہیں، اور ان ویڈیوز کے شیئر ہونے کے بعد متاثرہ افراد کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔

    پاکستان میں جب کسی نجی ویڈیو کا لیک ہونا ہوتا ہے، تو اکثر افراد اس ویڈیو کو دیکھنے اور شیئر کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ یہ دوہرا معیار واضح طور پر موجود ہے کہ لوگ پورن ویڈیوز کو اخلاقی طور پر غلط سمجھتے ہیں لیکن جب بات کسی کی نجی ویڈیو کی ہو تو وہ اسے شیئر کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ اس سے نہ صرف متاثرہ فرد کی ذاتی زندگی کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ ان ویڈیوز کے پھیلاؤ سے معاشرتی سطح پر بھی بے شمار مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

    نجی ویڈیوز کے لیک ہونے کی صورت میں فرد کی عزت اور ساکھ پر حملہ ہوتا ہے، جس کا اثر ان کے خاندان، دوستوں اور پورے معاشرے پر بھی پڑتا ہے۔ اکثر اوقات یہ معاملہ ذہنی و نفسیاتی مسائل کا سبب بنتا ہے اور متاثرہ افراد اپنے آپ کو تنہائی، شرمندگی اور بے عزتی کا شکار محسوس کرتے ہیں۔

    پاکستانی حکومت کو اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ حکومت کی جانب سے وی پی این (VPN) پر پابندی لگانے کا اقدام ایک طرف تو انٹرنیٹ پر مواد کی کنٹرولنگ کی کوشش ہے، لیکن اس سے نجی ویڈیوز کے پھیلاؤ کو روکنا ممکن نہیں۔ حکومت کو اس مسئلے کے جڑ تک پہنچ کر اس کے اصل اسباب کا تجزیہ کرنا ہوگا۔نجی ویڈیوز کے لیک ہونے کا مسئلہ صرف افراد کی ذاتی آزادی یا انٹرنیٹ کی آزادی سے متعلق نہیں ہے، بلکہ یہ معاشرتی، اخلاقی اور قانونی مسائل بھی ہیں جنہیں بہتر طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو ایسی پالیسیاں تشکیل دینی ہوںگی جو اس نوعیت کے مواد کی تشہیر کو روکے اور ان افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے جو اس قسم کے ویڈیوز کو جان بوجھ کر شیئر کرتے ہیں۔

    حکومت کو اس مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے خلاف سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔ لیک ہونے والی ویڈیوز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومتی سطح پر سخت سزا کا تعین کیا جانا چاہیے۔حکومت کو ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کی ضرورت ہے جس سے لیک ہونے والی ویڈیوز کو فوراً ڈیلیٹ کیا جا سکے اور ان کی تشہیر کو روکا جا سکے۔ سوشل میڈیا کمپنیز کو اس بات کی ذمہ داری دینی چاہیے کہ وہ ایسے مواد کی فوراً نشاندہی کریں اور اسے ہٹا دیں۔ اس سلسلے میں ان کمپنیز کو پاکستانی قوانین کے مطابق کارروائی کرنے کے لیے مجبور کیا جائے۔عوام میں اس بات کا شعور پیدا کرنا بہت ضروری ہے کہ نجی ویڈیوز کا شیئر کرنا صرف اخلاقی طور پر غلط نہیں ہے، بلکہ یہ ایک جرم بھی ہے جو دوسرے انسان کی زندگی کو تباہ کر سکتا ہے۔

    پاکستان میں نجی ویڈیوز کے لیک ہونے کا مسئلہ ایک سنگین نوعیت کا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کو اس مسئلے کے جڑ تک پہنچ کر اس کا مؤثر حل نکالنا ہوگا۔ صرف وی پی این پر پابندی لگا کر اس مسئلے کا حل نہیں نکلے گا، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک جامع حکمت عملی بنائی جائے تاکہ اس طرح کی ویڈیوز کی تشہیر کو روکا جا سکے اور ان کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

  • متحدہ عرب امارات کا قومی دن اور پاکستان یو اے ای تعلقات

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن اور پاکستان یو اے ای تعلقات

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن ہر سال 2 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن نہ صرف امارات کی آزادی اور ترقی کی داستان سناتا ہے بلکہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان گہرے تاریخی، اقتصادی، اور ثقافتی تعلقات کی علامت بھی ہے۔ متحدہ عرب امارات کا قومی دن 2 دسمبر 1971 ، جب چھ مختلف امارات — ابوظہبی، دبئی، شارجہ، عجمان، اُم القوین اور الفجیرہ — نے ایک وفاقی یونٹ کے طور پر متحد ہو کر یو اے ای کی بنیاد رکھی۔ ان امارات میں ساتواں امارات "راس الخیمہ” بعد میں 10 فروری 1972 میں شامل ہوا۔

    یو اے ای کا قومی دن ایک یادگار موقع ہے جس پر امارات کی کامیابیوں اور ترقی کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ اس دن کو عوامی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے، جس میں مختلف تقریبات، جشن، اور رنگا رنگ پروگرامز شامل ہوتے ہیں۔ اس دن کو نہ صرف مقامی طور پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انتہائی اہمیت دی جاتی ہے، کیونکہ یو اے ای نے اپنے مختصر عرصے میں عالمی سطح پر اقتصادی، تجارتی، اور ثقافتی لحاظ سے غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے۔

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات: ایک تاریخی پس منظر
    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات تاریخی طور پر مضبوط اور دوستانہ رہے ہیں۔ یہ تعلقات مختلف پہلوؤں پر محیط ہیں جن میں اقتصادی تعاون، ثقافتی روابط، اور انسانی سطح پر تعاون شامل ہیں۔پاکستان اور یو اے ای کے درمیان اقتصادی تعلقات انتہائی اہم ہیں۔ یو اے ای پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور پاکستان کے لیے ایک اہم سرمایہ کاری کا ذریعہ بھی ہے۔ لاکھوں پاکستانی شہری یو اے ای میں کام کرتے ہیں اور وہاں کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے بدلے میں، پاکستان کو مختلف شعبوں میں اہم مالی مدد اور امداد حاصل ہوتی ہے۔یو اے ای پاکستان کو تیل کی فراہمی، تجارت، اور دیگر مالی امداد فراہم کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم سالانہ اربوں ڈالرز تک پہنچتا ہے، اور یہ تعلقات مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔پاکستانی مزدوروں کی بڑی تعداد یو اے ای میں کام کر رہی ہے۔ یہ افراد تعمیراتی صنعت، ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ یو اے ای میں پاکستانیوں کی موجودگی نے دونوں ممالک کے درمیان انسانی تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔ پاکستانی تارکین وطن کی محنت و لگن نے یو اے ای کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یو اے ای میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد مختلف علاقوں میں آباد ہے، اور ان کے ثقافتی، سماجی اور اقتصادی روابط دونوں ممالک کی دوستی کی ایک اور نشانی ہیں۔

    پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دفاعی اور سفارتی تعلقات بھی انتہائی مضبوط ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور عالمی سطح پر مختلف فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ یو اے ای نے پاکستان کے ساتھ مل کر مختلف فوجی مشقیں بھی کی ہیں اور دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔
    پاکستان اور یو اے ای کے درمیان ثقافتی تعلقات بھی کافی گہرے ہیں۔ یو اے ای میں پاکستانی ثقافت کی ایک واضح موجودگی ہے، خاص طور پر پاکستانی کھانے، موسیقی، اور تہوار۔ ہر سال مختلف پاکستانی تہوار، جیسے عید الفطر، عید الاضحیٰ، اور یوم پاکستان یو اے ای میں بڑی دھوم دھام سے منائے جاتے ہیں۔پاکستانی فلم انڈسٹری کے مشہور اداکار اور گلوکار بھی یو اے ای میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، پاکستان کی مشہور آرٹس، دستکاری اور تہذیب بھی یو اے ای میں مقبول ہے۔

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن نہ صرف اس ملک کی آزادی اور ترقی کا جشن ہے بلکہ یہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان گہرے روابط کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی، ثقافتی، اور دفاعی تعلقات مستحکم ہیں اور مستقبل میں ان تعلقات میں مزید بہتری کی امید کی جاتی ہے۔پاکستانی عوام یو اے ای کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ دونوں ممالک کی دوستی وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہو گی۔ یو اے ای کا قومی دن پاکستانیوں کے لیے ایک ایسا موقع ہے جب وہ اپنے دوست ملک کی کامیابیوں کا جشن مناتے ہیں اور ان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔

  • کرم ایجنسی میں اموات، کیا صوبائی حکومت کافی اقدامات کر رہی ہے؟

    کرم ایجنسی میں اموات، کیا صوبائی حکومت کافی اقدامات کر رہی ہے؟

    کرم کا علاقہ شیعہ اور سنی کمیونٹیز کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد کی ایک طویل اور دردناک تاریخ رکھتا ہے۔ سب سے خونریز سال 2007 سے 2011 کے دوران تھے، جب 2,000 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
    یہ پہاڑی علاقہ جو افغانستان کے خوست، پکتیا اور ننگرہار صوبوں کے ساتھ متصل ہے، اب شدت پسند گروپوں کے لیے پناہ گاہ بن چکا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش جیسی تنظیمیں یہاں حملے کرتی رہتی ہیں، جس سے علاقے میں مزید عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔

    حالیہ تشدد ایک اراضی کے تنازعے سے شروع ہو کر قبائلی اور فرقہ وارانہ تنازعے میں تبدیل ہوگیا ہے، جس سے مقامی آبادی میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ محسود، ایک قبائلی سردار، نے کہا، "یقیناً علاقے میں لوگوں میں بہت غصہ اور نفرت ہے تاہم، ہمیں کرم کے علاوہ دیگر علاقوں کے قبائلی عمائدین کی مکمل حمایت حاصل ہے۔”

    اس صورتحال کے جواب میں، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے تناؤ کو کم کرنے اور اس پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جن میں ایک قبائلی جرگہ کو دوبارہ فعال کرنا شامل ہے تاکہ امن کی کوشش کی جا سکے۔ ایک نیا صوبائی ہائی وے پولیس فورس بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ اہم نقل و حمل کے راستوں کی حفاظت کی جا سکے۔ ان اقدامات کے باوجود، ایک اعلی سطحی وفد جس میں خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری بھی شامل تھے، عارضی فائر بندی پر بات چیت کرنے میں کامیاب ہوا، لیکن اس کے بعد تشدد دوبارہ بھڑک اٹھا۔

    یہ تنازعہ تاریخی، جغرافیائی اور مذہبی پیچیدگیوں میں گہرا جڑا ہوا ہے جس کا حل ایک دن میں ممکن نہیں۔ تاہم، جیسا کہ بانی پاکستان کے ویژن تھا ریاست کی بنیادی ذمہ داری قانون اور انصاف کی بحالی ،لیکن یہاں کیا ریاست کرم میں یہ ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو چکی ہے؟اس بڑھتے ہوئے بحران کے باوجود، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے دارالحکومت میں سیاسی لڑائیوں پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہے، جس کی وجہ سے کرم کے عوام حکومت کی غفلت کا سنگین نتیجہ بھگت رہے ہیں۔

  • فلسطینیوں کی پکار اور ہمارا رویہ.تحریر:ارم ثناء

    فلسطینیوں کی پکار اور ہمارا رویہ.تحریر:ارم ثناء

    آج کل جو مسلمانوں کے ساتھ سلوک ہورہا ہے فلسطین، لبنان، کشمیر، برما، ہندوستان وغیرہ ممالک میں۔ کیا اب بھی مسلمانوں پر جہاد فرض نہیں ہے؟ کیا اب جو مسلم آزاد ممالک ہیں کیا ان پر جہاد فرض نہیں ہے؟ جہاد کیا ہے؟ جہاد صرف تلوار سے لڑنے کو تو نہیں کہتے جہاد کی مختلف اقسام بتائی گئی ہیں ہمیں۔ یہ جو پاکستان کی آدھی سے زیادہ عوام کہتی ہے کہ ہم کیا کر سکتے؟ یہ سب تو حکمرانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ آپ کیوں نہیں کچھ کر سکتے؟ آپ لوگ اسرائیل کی پروڈکٹس کا بائیکاٹ تو کر سکتے ہیں نا ؟ آپ کا دل کوک یا lay’s وغیرہ کھانے کو کر رہا ہے لیکن آپ لوگ رک جائیں، نہیں ہم نے نہیں کھانا اپنے دل کو سمجھائیں کہ نہیں کھانا، خود کو کہیں کہ میں اسرائیل کی معیشت کو کیوں مضبوط کروں؟ میں کیوں فلسطین کے خون سے اپنے ہاتھوں کو رنگوں، ظاہر ہے میرے ہی دیے پیسوں سے وہ ہتھیار یا جنگ کا باقی سامان خریدتے ہیں۔ یہ ہوگا آپ کا جہاد با لنفس۔ آپ نے یہاں اپنے نفس کو روکا ہے اللہ کےلئے اللہ کے بندوں کےلئے۔

    اب جو ناول نگار ہیں جو سارا دن بیہودہ ناول لکھتے ہیں وہ لکھیں وہ اپنی قوم کو جہاد کے بارے میں بتائیں یہ ہوگا قلم سے جہاد۔ جو لوگ جسمانی طور پر مضبوط ہیں یہ جو لیڈرز ہیں یہ سب اپنی اپنی پارٹی کے لوگوں کو کہیں کہ آئیں ساتھ دیں ہمارا، ہم جہاد کریں گے جب سب پاکستان کی عوام سڑکوں پر نکلے گی تو کیوں نا حکمران مانیں گے؟ یہ ہوگا آپ کا تلوار سے جہاد۔ اب اس وقت جہاد ہم پر فرض ہے اب جو مائیں ہیں یہ اپنے بچوں کی تربیت اس طرح کریں کہ ان میں شروع سے جنون ہو اللہ کی راہ میں قربان ہونے کا،

    یاد رکھیں اگر آپ لوگ اسرائیل کی پروڈکٹس استعمال کرتے ہیں تو قیامت کے دن آپ سے بھی پوچھا جائے گا کہ کیوں اسرائیل کا ساتھ دیا؟ کیوں تم لوگوں نے اسرائیل کی معیشت کو مضبوط کیا؟ کیوں تم لوگوں نے اپنے بہن بھائیوں کا ساتھ نہیں دیا؟ کیوں تم لوگوں نے اپنا قبلہ اول آزاد کرانے کی کوشش نہیں گی؟ یہ جو پاکستان کی عوام کہتی ہے کہ عمران خان نے، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان یا حکومت نے ان کی مدد کی ہے تو یہ سب جھوٹ ہے پاکستان کی عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔ اگر انہوں نے ساتھ دیا ہوتا تو اب فلسطین آزاد ہوتا اگر انہوں نے ساتھ دیا ہوتا تو یہ جو فلسطین کےلئے آواز اٹھا رہے ہیں ان کو جیل میں قید نا کرتے۔

    اب مسلمانوں کو چاہیے کہ ایک ہو جائیں چھوڑ دیں پاکستانی، سعودیہ، ترکی، پنجابی، سندھی، پلوجی، اہل سنت، اہلحدیث، شعہہ، وہابی اب چھوڑ دو یہ سب فرقہ واریت کا پرچار ،اب ایک ہو جاؤ جسد واحد کی طرح اب اٹھ جاؤ۔
    آپ کو پتا ہے؟ کہ یہودی پوری دنیا میں بہت کم ہیں ان کی تعداد لاکھوں میں ہے جبکہ مسلمانوں کی تعداد اربوں میں ہے۔ یہ یہودی اپنے مسیح دجال کےلئے راہ صاف کررہے ہیں اور عیسائی حضرت عیسیٰ کےلئے۔ مسلمانوں آپ لوگ کیا کررہے ہو؟ اپنی ہی بیٹوں کو نچا کر خوش ہورہے ہو، اپنی ہی بیٹیوں کی عمر کی لڑکیوں پر تبصرے کرکے خوش ہو رہے ہو ،خدار لوٹ آؤ اسلام کی طرف، لڑکیو چھوڑ دو بے پردگی، چھوڑ دو غیر محرم کی آنکھوں کو سکون دینا ،چھوڑ دوغیر محرم کو اپنا جسم دکھانا، خدار اب اپنی نسل کو ایسے تیار کرو کہ اللہ ان کو حضرت امام مہدی کے لشکر میں شامل کردے

  • ہمٹی ڈمٹی سے سیکھنے کا سبق

    ہمٹی ڈمٹی سے سیکھنے کا سبق

    ہمٹی ڈمٹی بچوں کے لیے ایک قیمتی سبق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی کبھار آپ کچھ چیزیں ٹوٹنے یا گم کرنے کا سامنا کرتے ہیں، اور چاہے آپ یا کوئی اور جتنا بھی کوشش کرے، وہ چیز واپس نہیں آ سکتی یا ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ یہاں تک کہ "بادشاہ کے تمام گھوڑے اور بادشاہ کے تمام سپاہی” بھی اُسے واپس نہیں لا سکے۔

    جب آپ خطرات مول لیتے ہیں، تو اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ آپ مسئلے کے فائدے یا نقصانات کا اچھی طرح سے جائزہ لیں۔ بغیر سوچے سمجھے، محض تیز فیصلوں پر نہ چھلانگ لگائیں۔ جو لوگ آپ کو جلدی سے مشورہ دینے کے لیے بے چین ہوں، ان کی باتوں پر نہ جائیں کیونکہ وہ یا تو آپ کی طرح بے عقل ہو سکتے ہیں، یا وہ چاہتے ہیں کہ آپ ناکامی کا سامنا کریں۔ کیا آپ نے کبھی "مفاد کے مصلحت” کا سنا ہے؟

    یہ بات اہم ہے کہ ہمٹی ڈمٹی کے معاملے میں، بادشاہ کے تمام گھوڑے اور تمام سپاہیوں نے غریب انڈے کے سر کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی، لیکن زیادہ تر حالات میں بادشاہ کے گھوڑے اور سپاہی آپ پر چھلانگ لگا کر آپ کو چکنا چور کر سکتے ہیں۔شاید وہ آپ پر حقیقتاً چھلانگ نہ لگائیں، لیکن ہاں، وہ آپ کو مجازی طور پر کچل سکتے ہیں۔ اور یہ ایک نئی مصیبت بن سکتی ہے جو کبھی ختم نہیں ہو گی۔آپ کو اپنے چہرے پر دراڑ کے ساتھ زندگی گزارنی پڑے گی، ممکن ہے ناک غائب ہو اور آپ کے پاس ناکام خطرے کے نتائج کا سامنا کرنے کی ہمت نہ ہو۔لہٰذا احتیاط کریں کہ آپ اپنا ہوم ورک نہ چھوڑیں، یا دوسرے انڈے کے سر والوں کی باتوں پر کان نہ دھریں۔ سمجھ گئے؟

  • پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی میں دھرنوں، جلسوں، اور مظاہروں کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے، مگر حالیہ دنوں میں نہ صرف پی ٹی آئی احتجاجی سرگرمیاں کمزور پڑتی نظر آ رہی ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پارٹی کا وہ اثر نظر نہیں آ رہا جو ماضی میں ہوتا تھا۔

    پی ٹی آئی نے ماضی میں سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے بیانیے کی ترویج اور مخالفین پر تنقید کے لیے یہ پلیٹ فارم مرکزی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوا۔ یہ ایک ایسی جماعت کے طور پر ابھری جو روایتی میڈیا کی بجائے ڈیجیٹل میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے میں مہارت رکھتی تھی۔ تاہم حالیہ دنوں میں نہ صرف زمینی احتجاج میں کمی دیکھی جا رہی ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پارٹی کا رنگ پھیکا پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ وہ جماعت جو ٹویٹر پر ٹرینڈز بناتی تھی، فیس بک پر لاکھوں کی ریچ حاصل کرتی تھی، اور یوٹیوب پر لاکھوں ویوز جمع کرتی تھی، آج کل کمزور دکھائی دے رہی ہے۔پی ٹی آئی اب سوشل میڈیا پر وہ بیانیہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی جو پہلے بناتی تھی،پی ٹی آئی کی پارٹی کی اندرونی تقسیم اور اہم رہنماؤں کی گرفتاری یا خاموشی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں،حکومتی سطح پر سوشل میڈیا پر عائد کردہ ممکنہ پابندیوں کی وجہ سے بھی پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم مشکلات کا شکار ہے،انتشار اور نفرت کی سیاست کی وجہ سے عوام، خاص طور پر نوجوان، ماضی کی طرح سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے رہے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر بہت پیچھے جا چکی ہے

    پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا محاذ پر اثر کم ہونے کی وجوہات میں تنظیمی مسائل، حکومتی دباؤ، اور عوامی دلچسپی میں کمی شامل ہو سکتی ہے وہیں پی ٹی آئی رہنماؤں کے آپسی اختلافات، علیمہ، بشریٰ کی لڑائی، گنڈا پور ،بشری کی لڑائیاں اور پارٹی رہنماؤں کی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کی وجہ سے بھی سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کارکنان مایوس ہو چکے ہیں،کارکنان کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ کس کے بیانئے کو لے کر چلیں،عمران خان تو جیل میں ہیں اور ان سے ملاقاتیں کرنے والے پارٹی رہنماؤں کا مؤقف الگ الگ ہوتا ہے، جس سے پی ٹی آئی کو بیانیہ بنانے میں مشکل پیش آتی ہے.

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    برطانیہ،عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی کا تاریخی احتجاج

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

  • مودی اور سیکولر بھارت

    مودی اور سیکولر بھارت

    بھارت میں ہندو قوم پرستی نے ہمیشہ ان اہم لمحات میں زور پکڑا جب سیاسی رہنماؤں نے جو خود کو سیکولر ظاہر کرتے ہیں، انتخابات میں فائدہ اٹھانے کے لیے مذہب کا سہارا لیا۔ گزشتہ صدی کے دوران یہ رجحان اپنے عروج پر پہنچ چکا ، جس کی ایک بڑی مثال بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ہیں، جنہوں نے سیکولرازم کو ترک کرتے ہوئے مذہب پر مبنی قومی شناخت کو ترجیح دی ہے۔

    1923 میں ونائیک دامودر ساورکر نے ایک جارحانہ ہندو مرکزیت پر مبنی ہندوتوا کا نظریہ پیش کیا۔ ہندو دھرم کی برابری کے روحانی اصولوں سے ہٹ کر، ساورکر نے لوگوں کو "دوستوں” اور "دشمنوں” میں تقسیم کیا۔ دوست وہ تھے جو نسب اور وفاداری کے ذریعے بھارت سے جڑے تھے، جبکہ دشمن وہ تھے جنہیں غیر ملکی یا غیر وفادار سمجھا جاتا تھا۔ لگ بھگ ایک دہائی بعد، جرمن نازی نظریہ ساز کارل شمٹ نے سیاست کو اسی طرح دوستوں اور دشمنوں میں تقسیم کیا۔

    1925 میں ساورکر سے متاثر ہو کر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) قائم کی گئی جو اس تحریک کا عسکری ونگ تھا۔ آر ایس ایس نے نوجوانوں کو عسکری تربیت دی اور ایک مثالی ہندو ماضی پر فخر کرنے کا جذبہ پیدا کیا، جس کا مقصد ایک متنازع نظریہ کو فروغ دینا تھا۔ نریندر مودی، آر ایس ایس کے نمایاں ارکان میں سے ایک ہیں اور وہ اسی تحریک سے کھل کر سامنے آئے،

    دوسری جانب، انڈین نیشنل کانگریس، مہاتما گاندھی کی قیادت میں، ایک سیکولر اور متحدہ بھارت کی حمایت کرتی رہی، جس کا مقصد برطانوی تسلط سے آزادی حاصل کرنا تھا۔ تاہم، ہندوتوا کے حامیوں نے گاندھی کے مذہبی ہم آہنگی کے پیغامات کو مسلمانوں کے لیے رعایت سمجھا۔جس کے نتیجے میں 1948 میں ساورکر کے نظریے کے پیروکار کے ہاتھوں گاندھی کا قتل ہوا۔

    آزادی کے بعد وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے بھارت کے لیے ایک سیکولر وژن کی وکالت کی، جو معاشی اور سماجی ترقی کی خواہشات پر مبنی تھا۔ لیکن نہرو کی 1964 میں وفات کے بعد، کمیونل نظریات کانگریس کے اندر اور باہر دونوں جگہ مقبول ہونے لگے۔ سیکولرازم کو ایک بڑا دھچکا 19 اپریل 1976 کو لگا، جب وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بیٹے نے ایمرجنسی کے تحت مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔ اس دن دہلی کی جامع مسجد کے قریب جبری نس بندیوں سے آغاز ہوا اور ترکمان گیٹ پر مسلمانوں کے انخلاء اور قتل عام پر ختم ہوا۔1976 کے ترکمان گیٹ کے تشدد کے 16 سال بعد، 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے واقعے نے ایک اور لہر کو جنم دیا، جس سے بھارت کے سیکولر نظریات مزید کمزور ہو گئے۔

    آج، ہندوتوا،جو ہندو دھرم کی پرامن تعلیمات سے بہت مختلف ہے، اکثر بھارت کے ایلیٹس کی خاموش حمایت کے ساتھ سیاست اور ثقافت میں سرایت کر چکا ہے، مودی، جو ایک پجاری جیسا عوامی کردار اپناتے جا رہے ہیں، کے دور میں ایک سیکولر بھارت کا خواب ایک مذہبی طور پر متعین ریاست کے عروج سے دھندلا ہوتا نظر آ رہا ہے۔