Baaghi TV

Category: متفرق

  • فرقہ وارانہ لیڈر کی خیالی چال

    فرقہ وارانہ لیڈر کی خیالی چال

    ایک فرقے کے رہنما کی ایک ابتدائی حکمت عملی ہوتی ہے کہ اپنے پیروکاروں کو خاص یا مظلوم ہونے کا احساس دلائے، جبکہ باہر کے لوگوں کو گمراہ، بے راہ روی کا شکار یا بدعنوان کے طور پر پیش کیا جائے۔ اس سے فوری طور پر بیرونی اثرات کے خلاف ایک دیوار قائم ہوتی ہے، اور گروہ اندرونی طور پر مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جب باہر کے لوگ مذاق اڑاتے ہیں، غصے کا اظہار کرتے ہیں، یا فرقے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، تو اس سے فرقے کا حفاظتی دائرہ اور مضبوط ہو جاتا ہے۔ ان ردعمل سے فرقے کے رہنما کی جانب اپنے پیروکاروں کو دی گئی دنیا کے بارے میں وارننگز کو سچ مانا جاتا ہے۔
    کسی بھی فرقے کے رہنما اکثر اس عمل سے بخوبی واقف ہوتے ہیں لہذا وہ غیر متوقع رویے اختیار کرنے لگتے ہیں، بڑے بڑے سازشی نظریات گھڑتے ہیں، یا بدسلوکی پر اتر آتے ہیں، جو باہر کے لوگوں کو قدرتی طور پر پریشان کرتا ہے۔ لیکن اس سےعام لوگوں کی تنقید اور غصہ یا نفرت کو مزید تقویت ملتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پیروکاروں کی اپنے رہنما اور گروہ سے وفاداری اور بھی مضبوط ہو جاتی ہے۔ اس طرح ایک شیطانی چکر شروع ہو جاتا ہے جس میں دونوں فریق پھنسے رہتے ہیں۔ لیکن تنگ آکر کچھ پیروکار آخر کار فرقہ چھوڑ دیتے ہیں ، جبکہ دیگر پیروکار اس کے برعکس مزید وفادار ہو جاتے ہیں، یا تو رہنما کے لیے ہمدردی کے باعث یا باہر کے لوگوں کے خلاف بڑھتی ہوئی بے اعتمادی اور نفرت کے احساس سے۔
    فرقے کے اراکین اکثر اپنے رہنما کے خراب رویے کا جواز پیش کرتے ہیں، یا تو انہیں ایک مقدس شخصیت مانتے ہیں یا بیرونی عوامل کو ان پر زیادہ دباؤ ڈالنے کا الزام دیتے ہیں۔ اس طرح کا تصور رہنما کے مرکزی کردار کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ جیسا کہ نیو مین (نیا انسان ایک یوتوپیائی تصور ہے جس میں ایک نئے مثالی انسان یا شہری کی تخلیق کی بات کی جاتی ہے، جو غیر مثالی انسانوں یا شہریوں کی جگہ لے ) نے بیان کیا، ایسی تحریکوں کے مرکز میں ایک رہنما ہوتا ہے جس کے گرد ایک قریبی اندرونی حلقہ ہوتا ہے، جو ایک خفیہ ماحول پیدا کرتا ہے اور لیڈر کی طاقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ یہ اندرونی حلقہ جان بوجھ کر غیر مستحکم رکھا جاتا ہے تاکہ گروہ کا انحصار رہنما پر مزید گہرا ہو جائے

  • اوچ شریف: کپاس کی فصل پر سفید مکھی کا شدید حملہ، کاشتکار پریشانی میں مبتلا

    اوچ شریف: کپاس کی فصل پر سفید مکھی کا شدید حملہ، کاشتکار پریشانی میں مبتلا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) جنوبی پنجاب میں کپاس کی فصل پر سفید مکھی کے حملے میں تیزی آنے سے کاشتکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس حملے کی وجہ سے سینکڑوں ایکڑ پر کاشت کی گئی کپاس کی فصلیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، اور کاشتکار معاشی دباؤ میں مبتلا ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ سفید مکھی کے علاوہ ناقص زرعی ادویات اور غیر معیاری سپرے بھی فصل کی بربادی کا سبب بن رہے ہیں۔

    کئی کسانوں نے بتایا کہ انہیں مناسب معلومات اور حکومتی امداد کی کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے وہ درست علاج یا حفاظتی اقدامات نہیں کر پا رہے۔ فصلوں کی حالت مزید بگڑتی جا رہی ہے، اور کسانوں کی پریشانی بڑھ رہی ہے۔ کاشتکاروں نے الزام لگایا کہ محکمہ زراعت کی جانب سے غیر معیاری ادویات کی فروخت کے حوالے سے کی گئی شکایات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    کاشتکاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ زراعت فوری مداخلت کرے اور کسانوں کو مناسب مشاورت اور رہنمائی فراہم کرے تاکہ وہ اپنی فصلوں کو بچانے کے لیے موثر سپرے اور دیگر حفاظتی اقدامات کر سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہیں کیے تو انہیں بھاری مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا، جو ان کی معیشت کو برباد کر سکتا ہے۔

    کاشتکاروں نے حکومت سے فوری طور پر مسائل کو سنجیدگی سے لینے اور مناسب حل فراہم کرنے کی امید ظاہر کی ہے، تاکہ وہ اپنی محنت سے حاصل ہونے والی فصل کو بچا سکیں اور معاشی تباہی سے محفوظ رہ سکیں۔

  • وقت تمام زخموں کو بھر دیتا ہے ، کیا ایسا ہوتا ہے؟

    وقت تمام زخموں کو بھر دیتا ہے ، کیا ایسا ہوتا ہے؟

    وقت تمام زخموں کو بھر دیتا ہے ، کیا ایسا ہوتا ہے؟
    پرانی کہاوت "وقت تمام زخموں کو مندمل کرتا ہے” یا "بس کچھ وقت دو” واقعی ایسا ہے یا نہیں؟جذباتی زخموں سے بھرنے کے لیے یہ جان لیں کہ وقت حل نہیں ہے۔ جذباتی شفایابی ایک بہت زیادہ پیچیدہ عمل ہے جس میں صرف وقت گزرنے سے زیادہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ زخم جو ہمارے جذبات میں گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں، جیسا کہ کسی پیارے کا کھو جانا وقت کے گزرنے سے مندمل نہیں ہو سکتا۔ جسمانی زخموں کے برعکس جذباتی زخم پیچیدہ ہوتے ہیں۔کوئی آپ پر مرتاہے۔ یہ آپ کا باپ، آپ کا شوہر، بیوی،کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے پدرسری معاشرے میں شوہر کی موت کے بعد مالی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں، بیواؤں کو اکثر اپنے غم پر کارروائی کرنے کا وقت نہیں ملتا ہے اس سے پہلے کہ حقیقت ان کے چہرے سے ٹکرا جائے۔ کچن کیسے چلے گا؟ بچوں کی تعلیم کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے، جذباتی غم بے خبر ہو جاتا ہے۔

    آپ کے شوہر کی موت پر آپ کی "سماجی حیثیت” ختم ہو گئی ہے۔ خاص طور پر اگر آپ گھریلو خاتون ہیں۔
    نئی حقیقتیں سخت اور بہت اچانک ہیں۔ بچے، اپنی عمر کے لحاظ سے صدمے سے گزرتے ہیں۔یہ بہت بڑا خلا ہے اورمختلف سطحوں پر تعلیم، شادی و دیگر امور پر ان کے مستقبل سے سمجھوتہ کیا جاتا ہے۔

    آپ کے پیارے کی موت کے چند ہفتوں کے بعد،تعزیت کا سلسلہ، اس کے بعد لوگ اپنی زندگی میں واپس چلے جاتے ہیں۔ حالات معمول پر آ ئے اور سوگوار خاندان کے علاوہ سب کے لیے وقت ساکت کھڑا ہے۔
    آپ دیکھتے ہیں کہ زندگی گزر رہی ہے۔ خوش لوگ، چہرے، آپ ان چیزوں سے تعلق روک سکتے ہیں جو انہیں خوش کرتی ہیں۔ زندگی کے بارے میں آپ کا نقطہ نظر ڈرامائی طور پر بدل جاتا ہے۔ جن چیزوں کو آپ نے اہم سمجھا وہ غائب ہو جاتے ہیں۔

    حل نہ ہونے والے صدمات اضطراب، افسردگی کا باعث بنتے ہیں، یہاں تک کہ آپ کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں جذباتی صدمے ترجیح کے کم درجے پر ہوتے ہیں، پیسے خرچ کرتے وقت مدد حاصل کرنا ایک مہنگا آپشن ہو سکتا ہے۔ عام طور پر، اسے ایک نان ایشو کے طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے اور، "وقت تمام زخموں کو بھر دیتا ہے”۔ ایسا نہیں ہوتا۔

  • مستقل مزاجی ایک کامیاب کیریئر بنانے کی کنجی

    مستقل مزاجی ایک کامیاب کیریئر بنانے کی کنجی

    آجکل بہت سے نوجوان صحیح کیریئر کا فیصلہ کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی، وہ اکثر اس بارے میں غیر یقینی محسوس کرتے ہیں کہ آیا انہوں نے جس فیلڈ کا انتخاب کیا ہے وہ واقعی ان کے لیے موزوں ہے یا نہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں مستقل مزاجی کی طاقت ضروری ہو جاتی ہے۔مستقل مزاجی بنیادی عادات کو فروغ دینے کے بارے میں ہے۔ چاہے وہ کسی ہنر کا احترام کرنا ہو، فٹنس روٹین کو برقرار رکھنا ہو، یا روزانہ کی مصروفیات پر عمل کرنا ہو، مسلسل کوششیں دیرپا مثبت عادات کا باعث بنتی ہیں۔ ان عادات کو طویل مدتی اہداف کے حصول کی طرف روزانہ کے اقدامات کے طور پر سوچیں۔ ہم جتنا زیادہ مشق کرتے ہیں اور برقرار رہتے ہیں، ہم اپنے عزائم کو سمجھنے کے اتنے ہی قریب پہنچ جاتے ہیں۔

    کسی بھی کام میں مہارت راتوں رات نہیں ہوتی ،اس کے لیے لگن، صبر اور مسلسل کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔ چاہے آپ مالی کامیابی، پیشہ ورانہ مہارت، یا ذاتی ترقی کا ہدف رکھتے ہوں، تمام کامیابیاں وقت اور مستقل مشق کا تقاضا کرتی ہیں۔ کامیابی چھوٹے، بڑھتے ہوئے قدموں پر قائم ہوتی ہے،مستقل مزاجی کو برقرار رکھنے کے لیے حقیقت پسندانہ اہداف کا تعین بہت ضروری ہے۔ طویل مدتی خواہشات کو توڑ کر، جیسا کہ آپ پانچ سالوں میں کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں، روزانہ، ہفتہ وار اور ماہانہ اہداف میں، آپ قابل انتظام سنگ میل بناتے ہیں جو اعتماد کو بڑھاتے ہیں اور کامیابی کا احساس فراہم کرتے ہیں۔ قلیل مدتی جیت مقصد اور سمت کے زیادہ احساس میں حصہ ڈالتی ہے۔

    مستقل مزاجی رفتار کو بڑھانے میں بھی مدد کرتی ہے۔ جیسا کہ آپ اپنے منصوبوں پر قائم رہتے ہیں اور اپنے شیڈول کے ساتھ متحرک رہتے ہیں، جس کے بعد ہر قدم آگے بڑھنا آسان ہو جاتا ہے، جس سے آپ اپنی ترقی کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ مزید برآں، مستقل مزاجی رہنما کے طور پر آپ کی صلاحیتوں پر اعتماد کو فروغ دیتی ہے، اگر لوگ آپ کو اپنے اصولوں کو مستقل طور پر لاگو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو لوگ آپ کے فیصلوں پر بھروسہ کرنے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ باکس سے باہر سوچنے سے انکار کرتے ہیں۔ بعض اوقات کسی مسئلے کا بہترین حل انتہائی غیر روایتی ہو سکتا ہے۔ اس پر غور کریں۔ اسے آزمائیں.
    جیسا کہ ای جیمس روہن نے ایک بار کہا تھا، "کامیابی نہ تو جادوئی ہے اور نہ ہی پراسرار۔ کامیابی بنیادی اصولوں کو مستقل طور پر لاگو کرنے کا قدرتی نتیجہ ہے۔”

  • آپ سب سے زیادہ کس چیز سے خوفزدہ  ہیں؟

    آپ سب سے زیادہ کس چیز سے خوفزدہ ہیں؟

    اکثر لوگ مختلف چیزوں سے ڈرتے ہیں۔ یہ بہت حد تک ہماری زندگی کے تجربات سے متعلق ہو سکتا ہے۔ کبھی کبھی ہم اتنے خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں۔ہر کوئی کسی نہ کسی چیز سے ڈرتا ہے۔ آپ سب سے زیادہ کس چیز سے ڈرتے ہیں؟ کیا آپ تبدیلی سے ڈرتے ہیں؟ کبھی کبھی ہم اپنے کمفرٹ زون میں اتنے راسخ ہو جاتے ہیں کہ تبدیلی کا خیال ہی خوفناک لگنے لگتا ہے۔ اس کی وجہ مستقبل کی غیر یقینی صورتحال کا خوف ہوتا ہے، حالات کے بدلنے کا ڈر۔ یہ خوف اکثر ناکامی کے ڈر سے جڑا ہوتا ہے،یہ سوچ کہ شاید ہم اپنے مقصد کو پورا نہیں کر پائیں گے یا اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال نہیں کر سکیں گے۔ حتیٰ کہ اگر آپ کامیاب بھی ہو جائیں، تو یہ سوال ذہن میں اٹھتا ہے: کیا آپ نے واقعی یہ کامیابی اپنے دم پر حاصل کی، یا یہ صرف خوش قسمتی کا نتیجہ تھا؟ ہمارے ماضی کے تجربات بھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔ کیا آپ کا موازنہ کسی زیادہ ذہین بھائی، بہن، یا دوست سے کیا گیا تھا؟ کیا آپ سے توقع کی گئی کہ آپ ان سے بہتر کارکردگی دکھائیں؟ بہن بھائیوں یا دوسروں کے درمیان مقابلے کی حوصلہ افزائی اکثر غیر صحت مند والدین کا رویہ ہوتا ہے۔

    ہر شخص کی اپنی منفرد صلاحیتیں ہوتی ہیں، اور بچوں کو اپنی منفرد خصوصیات کے ساتھ پروان چڑھنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔عام طور پر ہم اپنے خوف کی وجوہات پر غور نہیں کرتے، حالانکہ ایسا کرنا ضروری ہے۔ خود احتسابی سے ذہنی وضاحت میں مدد ملتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہوا خوف نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کامل نہیں ہیں،اور نہ ہی کوئی اور ہے۔ اگر آپ کمال کے پیچھے دوڑیں گے، تو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم، ناکامی بھی سیکھنے اور آگے بڑھنے کا ایک حصہ ہے، اور یہ وہ طریقہ ہے جس سے ہم ترقی کرتے ہیں،اپنی غلطیوں سے سبق لے کر۔اپنے خوف کے بارے میں بات کرنے سے وہ کم خوفناک محسوس ہوتا ہے۔ اپنی زندگی کو جئیں؛ کل کے خوف سے اپنے آج کو برباد نہ کریں۔

    جان لینن نے کہا: "دو بنیادی محرکات ہیں: خوف اور محبت، جب ہم ڈرتے ہیں، تو ہم زندگی سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ جب ہم محبت کرتے ہیں، تو ہم جوش، جذبے، اور قبولیت کے ساتھ زندگی کی تمام پیشکشوں کے لیے اپنے دل کھول دیتے ہیں۔ ہمیں سب سے پہلے خود سے محبت کرنا سیکھنا چاہیے، اپنی تمام خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ۔ اگر ہم اپنے آپ سے محبت نہیں کر سکتے، تو ہم نہ دوسروں سے محبت کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا پورا ادراک کر سکتے ہیں۔ ایک بہتر دنیا کے لیے تمام امیدیں ان لوگوں کی بے خوفی اور کھلے دل پر مبنی ہیں جو زندگی کو پورے دل سے گلے لگاتے ہیں۔”

  • ڈاکٹر اطہر محبوب ۔۔۔یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    ڈاکٹر اطہر محبوب ۔۔۔یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    شاعر مشرق علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا
    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
    ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
    دو حاضر میں جو افراد ملت کے مقدر کا ستارہ ثابت ہوئے ان میں سے ایک پروفیسرڈاکٹر اطہر محبوب ہیں ۔ وہ ممتاز ماہر تعلیم ہیں ، مثالی منتظم اور صنعتی ماہر کے طور پر منفرد مقام رکھتے ہیں ۔ تعلیمی خدمات کے عوض تمغہ امتیاز بھی حاصل کرچکے ہیں۔ کوئی بھی انسان جو کسی شعبے سے منسلک ہو اس کی اہلیت اور قابلیت کا اندازہ اس کے کام اور کام کے نتائج سے کیا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر اطہر محبوب کاکام اس امر کا اعلان ہے کہ وہ اپنے شعبے کے ساتھ بے حد مخلص ہیں ۔ ان کی علمی اور تدریسی مہارت کو دیکھنا ہو تو خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجیئنرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ( رحیم یار خان ) اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کو دیکھا جاسکتا ہے ۔خواجہ فرید یونیورسٹی کا تو ڈاکٹر اطہر محبوب کو بانی وائس پرنسپل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ یہ بات معلوم ہے کہ رحیم یار خان ایک پسماندہ علاقہ ہے ، جو عرصہ دراز سے تعلیم اور شعور سے محروم چلا آرہا ہے۔جب حکومت نے رحیم یار خان میں یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ کیا تو اس کا پہلا وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کو مقرر کیا گیا ۔ یونیورسٹی کا بانی وائس چانسلر بننا جہاں ایک اعزاز تھا تو وہاں ایک بہت بڑا چیلنج بھی تھا ۔ اس لیے کہ یہاں مسائل و مشکلات کے پہاڑ تھے ۔ایک ایسا ملک جہاں سرکاری کام چیونٹی کی رفتار سے رینگتے ہیں اور کسی بھی پراجیکٹ کی تعمیر پر برسوں لگ جاتے ہیں ایسے ملک میں ڈاکٹر اطہر محبوب نے کام کرنے کی ایک نئی روایت متعارف کروائی ۔ 29مئی 2014ءکو یونیورسٹی کے قیام کا ایکٹ جاری کیاگیا جبکہ چار ماہ بعد ہی ڈاکٹر اطہر محبوب نے کلاسز کا آغاز بھی کردیا ۔جب شیخ الجامعہ علم کا ایسا شیدائی ہو تو اسے علم سے محبت کرنے والے ساتھی اور شاگرد بھی مل جاتے ہیں۔ چنانچہ
    یہ دو دن میں کیا ماجرا ہوگیا
    کہ جنگل کا جنگل ہرا ہوگیا
    کے مصداق چند ہی مہینوں میں طلبہ وطالبات کی تعداد ہزاروں تک جا پہنچی ۔ کم وقت میں یونیورسٹی میں باقاعدہ تدریس کا آغاز۔۔۔۔اور ہزاروں کی تعداد میں طلبہ وطالبات ۔۔۔۔؟ یہ یقینا پاکستان کی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ تھا ۔ اس واقعہ نے ثابت کردکھایا کہ ڈاکٹر اطہر علم کے فروغ اور کام سے لگن کا جذبہ رکھتے ہیں ۔ وہ قرون اولی کی علم دوست شخصیات کی طرح پاکستان میں تعلیمی انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی طرح ” کام ۔۔۔۔۔کام ۔۔۔۔۔اور کام “ پر یقین رکھتے ہیں ۔

    پروفیسر ڈاکٹر اطہر کی علم سے محبت اور خدمت کا دوسرا شاہکار اور یادگار واقعہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ہے ۔انھوں نے اپنے دور میں یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کےلئے بیشمارتاریخی اقدامات کئے ۔۔۔مثلاََ طلبہ وطالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کےلئے روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئیں ، لائق اور ذہین طلبہ کی حوصلہ افزائی کےلئے وظائف جاری کئے گئے،ایسے مفید ڈگری پروگراموں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا جن کی معاشرے میں بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے ، طلبہ وطالبات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر متعدد شفٹوں میں کلاسوں کا اجراء کیا گیا ، مختلف کیمپس میں ضروریات کے مطابق سہولیات میں اضافہ ہوا ، آمدو رفت کےلئے پہلے سے موجود ٹرانسپورٹ کی سہولیات میں اضافہ بھی کیا گیا ، صحت مند سرگرمیوں کے لئے کھیلوں اور دیگر ہم نصابی سرگرمیاں جاری کی گئیں ، طلبہ وطالبات کے دین کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے جامع الامام ابن کثیر سمیت یونیورسٹی کے مختلف کیمپس میں عالی شان مساجد بنائی گئیں ۔ ڈاکٹر اطہر محبوب برملا یہ بات کہا کرتے تھے میں ” اسلامیہ یونیورسٹی کو ایک اسم بامسمی تعلیمی ادارہ بنانا چاہتا ہوں ۔“
    یہ وہ اقدامات تھے جنھوں نے یونیورسٹی کے معیار تعلیم کو چار چاند لگا دیے اور اس کی مقبولیت میں بھی بے حد اضافہ ہونے لگا ۔ کلاسیں تنگی داماں کا شکوہ کرنے لگیں ۔فیکلٹیز جو پہلے صرف چھ تھیں وہ13تک جاپہنچی ۔ پہلے کل وقتی اساتذہ 400تھے پھر ایک وقت آیاجب یہ تعداد 1400تک جاپہنچی ۔ پہلے طلبہ وطالبات کی تعداد صرف 13,000تھی جو 65,000ہزار تک جاپہنچی ۔

    یہاں میں خصوصی طور پر ایک واقعہ بطور خاص قارئین کے گوش گزار کرنا چاہوں گا ۔ اس واقعہ کے راوی ڈاکٹر اکرم چوہدری ہیں جو سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ” میں گورنر پنجاب میاں بلیغ الرحمن کی پنجاب کی تمام جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ میٹینگ میں موجود تھا۔ میں نے اپنے کانوں سے سنا گورنر پنجاب وائس چانسلرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ آپ سب اپنی اپنی جامعات کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے روڈ میپ اسی طرح سے بنائیں جس طرح ڈاکٹر اطہر محبوب نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کابنا رکھا ہے “ ۔

    یہ ہیں ڈاکٹر اطہر محبوب۔۔۔۔! اور یہ ہے۔۔۔۔ ان کی تعلیمی کاوشوں کا مختصر تذکرہ !
    حقیقت یہ ہے کہ خواجہ فرید یونیورسٹی کی طرح ڈاکٹر اطہر نے اسلامیہ یونیورسٹی کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے بے حد محنت ہے ۔یہاں تک کہ اسلامیہ یونیورسٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے علاقے میں موجود بعض نجی تعلیمی اداروں اور مافیاز کے کاروبار مانند پڑنے لگ گئے ۔ اس کے ساتھ یہ خبریں بھی گردش کررہی تھیں کہ ڈاکٹر اطہر محبوب کو بطور وی سی مزید توسیع دی جائے گی ۔ چنانچہ ڈاکٹر اطہر محبوب کا دوسری ٹرم کےلئے راستہ روکنے کی خاطر ۔۔۔ایک بھیانک سازش تیار کی گئی ۔تاہم وہ جو کہتے ہیں جھوٹ کو دوام نہیں یہاں بھی یہی کچھ ہوا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے جسٹس سردار محمد ڈوگر کو بطور ٹربیونل جج نامزد کیا تو انھوں نے تحقیقات کے بعد یہ بتا دیا تھا کہ آئی یو بی ، ڈاکٹر اطہر محبوب اور انکی ٹیم کو بدنام کرنے کےلئے جو سکینڈل بنایا گیا وہ سب جھوٹ تھا اور اس میں جن افراد کو ٹارگٹ کیا گیا وہ سب شفاف کردار کے مالک ہیں ۔ڈاکٹر اطہر محبوب اور انکی ٹیم کو سازشیوں کی طرف سے لگائے گئے تمام الزامات سے بری الذمہ قرار دیا گیا ،اور انتہائی تکلیف دہ بات ہے کہ ڈاکٹر اطہر محبوب کے بعد صرف ایک سال میں یونیورسٹی ویران ھوکر رہ گئی ہے۔ طلبہ کی تعداد نہ ھونے کے برابر ہے ۔
    رکاوٹیں ہمیشہ باصلاحیت لوگوں کے راستے میں ہی کھڑی کی جاتی ہیں جیسا کہ ڈاکٹر اطہر محبوب ہیں ۔ وہ بہت باصلاحیت ہیں جبکہ اس وقت پنجاب کی بہت سی جامعات وائس چانسلرز شپ سے محروم چلی آرہی ہیں جن میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور بھی شامل ہے ۔ اچھی بات یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے جامعات میں وائس چانسلرز کی تعیناتی کے لیے انٹرویوز شروع کیے ہیں ۔اہلیان جنوبی پنجاب کی خواہش ہے، کہ یونیورسٹی کی گرتی ھوئی ساکھ کو بحال کرنے،اور یونیورسٹی کو نئے سرے سے آباد کرنے کے لیے دوبارہ ڈاکٹر اطہر محبوب کو اسلامیہ یونیورسٹی کا وی سی مقرر کیا جائے ۔اسلئے کہ
    یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی
    ڈاکٹر اطہر محبوب نے اس یونیورسٹی کو اپنے خون سے سینچا اور کی آبیاری کی ہے ۔ یونیورسٹی میں ان کی دوبارہ تعیناتی ان کی خدمات کا اعتراف بھی ہوگا اور یونیورسٹی کے لیے اعزاز بھی ہوگا۔ یونیورسٹی کا ہر گوشہ زبان حال سے ڈاکٹر اطہر محبوب کو کہہ رہا ہے
    پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
    جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

  • اسرائیل اور حزب اللہ جنگ نہیں چاہتے لیکن…

    اسرائیل اور حزب اللہ جنگ نہیں چاہتے لیکن…

    اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ دشمنی جاری تنازعہ میں ایک قابل ذکر اضافہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ اتوار کی صبح، اسرائیلی فوج نے ایک فضائی مہم شروع کی، جس میں تقریباً 100 لڑاکا طیارے تعینات کیے گئے تاکہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے اہداف پر پہلے سے حملہ کیا جا سکے۔ یہ حملہ اگر رپورٹ کردہ اعداد و شمار درست ہیں، تو یہ 2006 کی اسرائیل حزب اللہ جنگ کے بعد لبنان میں سب سے زیادہ بڑی اسرائیلی کارروائی ہے۔ یہ حملے مقامی وقت کے مطابق تقریباً 04:30 (01:30 GMT) پر ہوئے، اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ صرف 30 منٹ بعد اسرائیل کے سب سے بڑے شہر تل ابیب کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی،اسرائیلی حملے کے جواب میں کاروائی کرتے ہوئے حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں فوجی مقامات پر 300 سے زیادہ راکٹ اور میزائل داغے، جس سے پورے خطے میں فضائی حملے کے سائرن بج گئے۔ اس اقدام نے ممکنہ ہمہ گیر جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے 30 جولائی کو بیروت میں سینیئر کمانڈر فواد شکر کے قتل کے بدلے کا صرف پہلا مرحلہ ہے، جس کی بڑی وجہ اسرائیل سے منسوب کی جاتی ہے۔ اگلے دن تہران میں حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ھنیہ کے قتل سے صورتحال مزید بھڑک اٹھی، اس کا ذمہ دار بھی اسرائیل کو ہی ٹھہرایا جا رہا ہے

    غزہ کے تنازعے کو وسیع تر علاقائی جنگ میں پھیلنے سے روکنے کے لیے کئی ہفتوں سے سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن اب تک یہ اقدامات جنگ بندی یا یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسرائیل کی فوج نے غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ دونوں کے خلاف دو محاذوں پر جنگ میں حصہ لینے کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے، تاہم 150,000 راکٹوں اور بہترین تربیت یافتہ جنگجوؤں کے ہتھیاروں کی وجہ ایک زیادہ اہم چیلنج ہے۔جن میں سے بہت سے شامی تنازعے کا جنگی تجربہ رکھتے ہیں
    یہ اس تنازعہ سے کیسے نکلیں گے، وقت بتائے گا
    نوٹ: بی بی سی کی خصوصی رپورٹ سے تحقیق کی گئی ہے

  • لبنان کے خلاف جنگ اور مسائل

    لبنان کے خلاف جنگ اور مسائل

    حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعہ لبنان میں گہرے مالی اور سیاسی عدم استحکام کے پس منظر میں سامنے آ رہا ہے۔ ملک اب بھی 2019 کی مالی تباہی کے شدید نتائج سے دوچار ہے، جس نے اس کی معیشت کو ابتر حالت میں چھوڑ دیا ۔ اس تنازعے کی وجہ سے جنگ میں بڑھنے کے امکانات کی وجہ سے لبنان کے لیے اہم خطرات لاحق ہیں، جو اس کی پہلے سے نازک صورت حال کو مزید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

    لبنان دنیا میں پناہ گزینوں کی فی کس سب سے بڑی آبادی میں سے ایک ہے، ملک میں تقریباً 1.5 ملین شامی باشندے رہتے ہیں۔ ان پناہ گزینوں میں سے تقریباً نصف سرکاری طور پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین میں رجسٹرڈ ہیں۔ تقریباً 4 ملین کی مقامی آبادی کے ساتھ، پناہ گزینوں کی آمد نے لبنان کے وسائل اور بنیادی ڈھانچے پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا ہے۔ جیسے جیسے عالمی توجہ دیگر بحرانوں کی طرف مبذول ہو رہی ہے، شامی مہاجرین کی صورتحال کے لیے بین الاقوامی امداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ مختلف سیاسی نظریات کے باوجود، لبنانی رہنماؤں کے درمیان اس بات پر اتفاق ہے کہ شامی پناہ گزینوں کو بالآخر شام واپس جانا چاہیے۔ "جیسا کہ افغان مہاجرین کو افغانستان واپس بھیجا جا رہا”

    حال ہی میں اسرائیل کی فوج کی طرف سے حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ذخیرے کو نشانہ بنانے کے دعوے کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا ۔ تاہم، لبنان کی وزارت صحت نے اطلاع دی ہے کہ حملے میں ایک رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور اس کے دو بچے ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہوئے۔ جواب میں حزب اللہ نے اسرائیل پر جوابی راکٹ فائر کئے اور ڈرون حملے شروع کیے۔

    اکتوبر 2023 میں غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے،جوحماس اور دیگر فلسطینی گروپوں کے اسرائیل پر حملوں کا ردعمل تھا، تقریباً 200,000 لوگ بلیو لائن کے ساتھ بے گھر ہو چکے ہیں جو جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل کو الگ کرتی ہے۔ 2024 تک لبنان میں انسانی امداد کے محتاج افراد کی تعداد بڑھ کر 3.7 ملین ہو گئی تھی، جن میں بحران سے متاثرہ لبنانی، شامی، فلسطینی اور دیگر تارکین وطن شامل تھے۔ جاری تنازعہ نے لبنانی ریاست کی اپنے سیاسی، اقتصادی اور سیکورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو بری طرح کمزور کر دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس صورتحال سے بچا جا سکتا ہے اور اگر ایسا ہے تو خطے میں امن قائم کرنے کے لیے ثالث کے طور پر کون آگے بڑھے گا؟

  • اخلاقی اور عملی ذمہ داریاں

    اخلاقی اور عملی ذمہ داریاں

    اخلاقیات کے تصور سے مراد یہ طے کرنے کے لیے کہ انسانی معاشرے کے اندر مناسب طرز عمل کیا ہے۔ یہ بنیادی انسانی اقدار کے ایک سیٹ کی وضاحت کرتا ہے، یہ بتاتا ہے کہ ان اقدار کو کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے، اور قائم شدہ قدر کے نظام اور طریقوں کے لیے جواز فراہم کرتا ہے

    اخلاقی ذمہ داری اس تصور سے متعلق ہے کہ افراد اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہیں اور انہیں اخلاقی ضابطے کی پابندی کرنی چاہیے، اس میں کسی شخص کی جوابدہی، اور کس حد تک اعمال کو ان سے منسوب کیا جا سکتا ہے اس کا اندازہ لگانا شامل ہے۔

    قابل ذکر بات یہ ہے کہ کانٹ ان میں فرق کرتا ہے جسے وہ کامل اور نامکمل فرائض قرار دیتا ہے۔ کامل فرائض مخصوص ذمہ داریاں ہیں جن کو بغیر کسی استثناء کے پورا کیا جانا چاہیے، جب تک کہ دیگر اخلاقی ذمہ داریوں سے کوئی متصادم نہ ہو۔ یہ فرائض اخلاقی تقاضوں کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، نامکمل فرائض، چاہے وہ اپنی ذات کے لیے ہوں یا دوسروں کے لیے، ان میں عمومی اصول شامل ہوتے ہیں جن کے لیے فیصلہ سازی میں سماجی اثرات سمیت سیاق و سباق کے عوامل پر غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    جب ہم عملی ذمہ داریوں کی بات کرتے ہیں، تو ہم نظریہ کے بجائے حقیقی دنیا کے اطلاق میں ذمہ داریوں کا حوالہ دیتے ہیں۔ اس میں ایک ایسے فرد کی نشاندہی کرنا شامل ہے جو کسی عمل یا بے عملی اور اس کے بعد ہونے والے نتائج کے لیے براہ راست ذمہ دار ہے۔
    کیا اخلاقی ذمہ داریاں اور عملی ذمہ داریاں ایک دوسرے سے متصادم ہو سکتی ہیں؟ بالکل، کانٹ کہتا ہے [میٹا فزکس آف مورلز اک 6:224]:
    "فرائض کا تصادم ان کے درمیان ایک رشتہ ہوگا جس میں ان میں سے ایک دوسرے کو مکمل یا جزوری طور پر منسوخ کردے گا لیکن چونکہ فرض اور ذمہ داری ایسے تصورات ہیں جو بعض اعمال کی معروضی عملی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے مخالف دو قاعدے بیک وقت ضروری نہیں ہو سکتے، اگر ایک قاعدہ کے مطابق عمل کرنا فرض ہے تو اس کے مطابق عمل کرنا، مخالف قاعدہ فرض نہیں ہے بلکہ فرض کے خلاف بھی ہے، لہذا فرائض اور ذمہ داریوں کا ٹکراؤ ناقابل فہم ہے۔

    کئی بار، ہم سب کو دو مختلف سمتوں میں کھینچا جاتا ہے۔ اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ اخلاقی فرض کیا ہے، ہم اکثر عملی ذمہ داری کا ساتھ دیتے ہیں کیونکہ یہ عملی ہے۔ کئی بار ہمارے اخلاقی فرض میں ناکامی کا احساس ہمیں راتوں کو بیدار رکھ سکتا ہے .اخلاقی ذمہ داری کو بدل کر عملی انتخاب کی قربانی دینا "غیر عملی، احمقانہ یا جذباتی” سمجھا جا سکتا ہے، لیکن یہ ہے؟

  • ایران میں موساد کے قدموں کے نشانات

    ایران میں موساد کے قدموں کے نشانات

    جون 2023 میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے ایران کے اندر کیے گئے ایک خفیہ آپریشن کی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے موساد کے مطابق، اس کے کارندوں نے حال ہی میں اسلامی انقلابی گارڈز کور کے ایک رکن سے تحقیقات کی تھی جو قبرص میں اسرائیلی شہریوں کو قتل کرنے کی سازش کر رہا تھا۔ اسرائیل نے پہلے ہی اس سازش کو ناکام بنانے میں قبرص کے کردار پر اظہار تشکر کیا تھا۔ مزید شواہد کے طور پر، موساد نے یوسف شہبازی عباسیلو کے اعترافی بیان کی ویڈیو فوٹیج جاری کی، جس میں ایک بورڈنگ پاس بھی تھا جس میں اس کے استنبول سے ایران کے سفر کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اگر یہ صحیح ہے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ موساد ایران میں کتنی آسانی کے ساتھ کام کر رہی ہے، وہ نہ صرف انٹیلی جنس اکٹھا کرتی ہے بلکہ ایرانی سرزمین پر حکومت کے کارندوں کو گرفتار اور تحقیقات بھی کر رہی ہے

    یہ انکشاف چونکا دینے والا اور حیران کن ہے،
    جیسا کہ یہ ناممکن لگتا ہے، یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ موساد نے اس طرح کی کارروائی کرنے کا دعوی کیا ،درحقیقت گزشتہ اٹھارہ ماہ میں یہ تیسرا واقعہ ہے۔ 2024 میں اسماعیل ہنیہ چوتھے نمبر پر تھے جنہیں قتل کیا گیا، حالانکہ اسرائیل نے ابھی تک اس قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی،موساد آسانی کے ساتھ ایرانی سرزمین پر کام کر رہی ہے ، ایجنسی نے ایرانی سیکیورٹی کے متعدد سطحوں میں دراندازی کی ہے، موساد نے انٹیلی جنس جمع کرنے کے علاوہ ٹارگٹ سٹرائیکس بھی کی ہیں۔ ایک قابل ذکر مثال نومبر 2020 میں ایران کے معروف ایٹمی سائنسدان محسن فخر زادہ کا قتل ہے۔ انہیں اے آئی کی مدد سے ریموٹ کنٹرول مشین گن کا استعمال کرتے ہوئے قتل کیا گیا۔ ایران کے وزیر انٹیلی جنس محمود علوی نے کہا کہ انہوں نے دو ماہ قبل ہی سیکیورٹی فورسز کو فخر زادہ کو اسی مقام پر نشانہ بنانے کے لیے ایک قاتلانہ سازش کے بارے میں خبردار کیا تھا جہاں وہ بالآخر مارے گئے تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مجرم اسلامی انقلابی گارڈز کور کا ایک اعلیٰ درجہ کا رکن ہو سکتا ہے، جو انتباہ کو نظر انداز کرنے اور پہلے سے طے شدہ وقت اور جگہ پر منصوبہ پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی حکومت پاسداران انقلاب کی ساکھ کے تحفظ کے لیے ایسے افراد کے نام اور دیگر معاملات کو ظاہر نہیں کرتی.