Baaghi TV

Category: متفرق

  • کیا چین ایک بھی گولی استعمال کیے بغیر تائیوان پر قبضہ کر سکتا ہے؟

    کیا چین ایک بھی گولی استعمال کیے بغیر تائیوان پر قبضہ کر سکتا ہے؟

    کیا چین ایک بھی گولی استعمال کیے بغیر تائیوان پر قبضہ کر سکتا ہے؟
    یہ خدشات کہ کمیونسٹ پارٹی کسی دن ممکنہ طور پر طاقت کے ذریعے تائیوان پر قبضہ کر سکتی ہے، حالیہ برسوں میں چینی رہنما شی جن پنگ کے خود مختار جزیرے کے بارے میں بڑھتے ہوئے جارحانہ موقف کی وجہ سے اس بارے خدشات میں شدت سامنے آئی ہے۔ یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت کرنے سے چین کے انکار نے ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

    اس تناظر میں، تجزیہ کاروں اور عسکری حکمت عملیوں نے طویل عرصے سے دو اہم حکمت عملیوں پر غور کیا ہے جن کو چین استعمال کر سکتا ہے: ایک مکمل حملہ یا فوجی ناکہ بندی، سنٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز (CSIS) کی ایک نئی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، چین "گرے زون” کے حربے استعمال کر سکتا ہے، جس میں جنگ کی دہلیز سے بالکل نیچے کی کارروائیاں شامل ہیں،چین چائنا کوسٹ گارڈ، اس کی میری ٹائم ملیشیا، اور مختلف پولیس کو تعینات کر کے اور میری ٹائم سیفٹی ایجنسیاں تائیوان کے مکمل یا جزوی قرنطینہ کو نافذ کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، اس میں تائیوان کے 23 ملین باشندوں کے لیے بندرگاہوں اور توانائی جیسے ضروری سامان تک رسائی کو منقطع کرنا شامل ہو سکتا ہے۔

    حالیہ برسوں میں، چین نے تائیوان پر دباؤ بڑھایا ہے، ان خدشات کو بڑھایا ہے کہ تناؤ کھلے تنازع کا باعث بن سکتا ہے جب کہ حملے کا خطرہ بہت زیادہ ہے، بیجنگ کے پاس براہ راست حملے کے بغیر تائیوان کو مجبور کرنے یا الحاق کرنے کے دوسرے طریقے ہیں۔ ژی جن پنگ کے دور میں، تائیوان، جو کہ ایک خوشحال آزاد منڈی کی معیشت ہے، کے بارے میں چین کی فوجی اور اقتصادی دھمکی تیزی سے واضح ہو گئی ہے۔

    تائیوان پر کبھی حکومت نہ کرنے کے باوجود، حکمران کمیونسٹ پارٹی نے اس جزیرے پر دعویٰ کیا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو طاقت کے ذریعے اس کے ساتھ "دوبارہ اتحاد” کا عزم کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تائیوان کا ساحلی محافظ، صرف سمندر میں جانے والے دس بحری جہازوں اور تقریباً 160 چھوٹے جہازوں کے ساتھ، قرنطینہ کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے قانون کی ضرورت سے کہیں زیادہ مضبوط عزم کا اشارہ دیتے ہوئے بار بار کہا کہ وہ تائیوان کے دفاع کے لیے امریکی فوجی تعینات کریں گے۔ یہ مؤقف، جو کہ "اسٹریٹجک ابہام” کی پچھلی امریکی پالیسی سے ہٹتا ہے، وائٹ ہاؤس کے حکام نے کسی حد تک اعتدال کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم، اگر امریکی فوجی قوتیں اس میں مداخلت کرتی ہیں جسے چین قانون نافذ کرنے والی کارروائی سمجھتا ہے، تو اسے فوجی تنازعہ شروع کرنے کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

    سنٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ قرنطینہ، ناکہ بندی کے برعکس، چین کو آبنائے تائیوان تک رسائی کو محدود کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ بین الاقوامی قانون کے تحت مداخلت کے لیے واشنگٹن کے اہم قانونی دلائل میں سے ایک کو کمزور کر دے گا، جو کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھنا ہے۔
    لہذا، سرخی میں جو کہا گیا، وہی ایک حتمی ہاں ہے

  • آخری وقت بہت قیمتی ہے

    آخری وقت بہت قیمتی ہے

    آخری وقت بہت قیمتی ہے
    ازقلم غنی محمود قصوری
    انسان رب العالمین کی طرف سے ایک مخصوص وقت کے لئے دنیا میں پیدا ہو کر آتا ہے اور اپنا ٹائم پورا ہونے پر مر جاتا ہے،اس دنیا سے انسان مال و دولت تو اپنے ساتھ نہیں لیجا سکتا مگر اعمال کی صورت میں وہ جمع پونجی اس کے ساتھ ضرور جاتی ہے جو اس کو اگلے مستقل جہان میں جنت و جہنم کا مالک بناتی ہے

    اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو پرکھنے کے لئے اس دنیا میں بیجھا اور اسے مختلف چیزوں سے آزماتا ہے تاکہ پتہ چل سکے کون رب کا بندہ ہے اور کون شیطان کا پیروکار ہے

    اللہ رب العزت نے مقررہ وقت تک شیطان ملعون کو ایک خاص طاقت دے رکھی ہے جس سے انسانوں کی پرکھ ہوتی ہے،بعض اوقات ہم انسان کے اعمال دیکھ کر اس کے جنتی اور جہنمی ہونے کا خودساختہ فیصلہ قرار دے لیتے ہیں جو کہ درست بات نہیں،ہمیں ہر صورت شیطان سے پناہ مانگنی چائیے اور اپنی نیکیوں پر ناز و فخر نہیں کرنا چائیے بلکہ نیکی کرکے یہ محسوس کرنا چائیے کہ ہمارے پاس تو کوئی نیکی ہے ہی نہیں اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرتے جائیں مگر شرط نیت کا صاف ہونا ہے دکھلاوا نہیں وگرنہ وہ ساری نیکیاں بیکار ہیں اور کسی کام نہیں آئیں گیں

    ہمیں ہر وقت شیطان سے پناہ کی خاطر نماز روزہ و ذکر الہیٰ میں مشغول رہنا چائیے تاکہ ہم حالت ایمان میں شیطان سے بچ کر اس دار فانی سے کوچ کرکے آخری مستقل گھر میں اچھا ٹھکانا یعنی جنت میں بسیرہ کر سکیں،انسان کا آخری وقت بہت قیمتی ہوتا ہے کہ جس پر انسان کا خاتمہ ہوتا ہے اسی وقت خاتمہ پر اس کا فیصلہ کیا جاتا ہے

    اِنَّ العَبْدَ لَیَعْمَلُ عَمَلَ أَھلِ النَّارِ وَ انَّہُ مِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ وَیَعْمَلُ عَمَلَ أَھلِ الْجَنَّۃِ وَاِنَّہُ مِنْ أَھْلِ النَّارِ۔ الأعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِ (بخاری عن سھل بن سعد رضی اللہ عنہ)، وفی روایۃ للامام احمدؒ فی المسند: وَاِنَّمَا الأعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِ۔
    امام بخاریؒ کی روایت کردہ درج بالا حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ کسی بندہ کا عمل جہنمیوں کے عمل کے مطابق ہوتا ہے لیکن وہ جنتی ہوتا ہے اور کسی بندے کا عمل جنتیوں کے عمل کے مطابق ہوتا ہے لیکن وہ جہنمی ہوتا ہے اعمال کی حقیقت تو خاتمہ (کے وقت) کے اعمال ہیں، مسند احمد میں بھی یہ روایت آئی ہے اور اس کے آخری الفاظ ہیں وَاِنَّمَا الأعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِیعنی اعمال کا دارومدار خاتمہ کے اوپر ہے

    ایک مشہور پرانا واقعہ پیش خدمت ہے
    بہت پرانے زمانے کی بات ہے ایک عبادت گزار کسی سلطنت میں رہتا تھا جو ہر وقت ریاضت وعبادت میں مصروف رہتا تھا اور اپنی نیکیوں پر فخر بھی کرتا تھا،اس نے سوچا اس جگہ ان لوگوں میں رہتے ہوئے زیادہ عبادت نہیں کی جا سکتی لہذہ اس نے اپنا ضرورت کا سامان پکڑا اور جنگل میں بسیرا کر لیا،بہت عرصہ اس نے ریاضت و عبادت کی اور بلآخر شیطان نے اسے بہکانے کی خاطر ایک چال چلی تاکہ اسے گمراہ کر سکے،

    شیطان نے سلطنت کی شہزادی کو جادو سے سخت بیمار کر دیا جو کہ کسی بھی علاج سے صحت مند نا ہو رہی تھی الٹا مذید بیمار ہوتی چلی جا رہی تھی
    شہزادی کے بھائی اور دیگر رشتہ دار سخت پریشان تھے اور اس کا بہت علاج کروا رہے تھے مگر سب بے سود ،ایک دن وہ شہزادی کو لے کر کہیں جا رہے تھے کہ شیطان انسانی شکل میں نمودار ہوا اور ان سے حال احوال پوچھا اور انہیں بتایا کہ اس شہزادی کا علاج فلاں جنگل میں ایک عبادت گزار نیک بندے کے پاس ہے جو دم کرے گا تو یہ شہزادی ٹھیک ہو جائے مگر شرط ہے کہ آپکو شہزادی کو اس کے ہاں چھوڑ کر آنا پڑے گا یہاں تک کہ وہ مکمل صحت مند نہیں ہو جاتی

    مگر دوسری طرف وہ عبادت گزار بھی بہت سخت مزاج ہے کسی کی مانتا ہی نہیں اگر تم اس کو قائل کر لو گے تو شہزادی ٹھیک ہو جائے گی
    شہزادوں نے اس سے کہا فکر نا کرو ہم اس سلطنت کے مالک ہیں اور اس شحض کو قائل کر لیں گے،شہزادے مطلوبہ پتہ لے کر اس شحض کے پاس پہنچے اور مدعا بیان کیا کہ ہماری بہن کو آپ کے دم سے آرام ائے گا اور آپ اسے صحت مند ہونے تک اپنے پاس رکھیں گے
    وہ شحض دم کرنے پر تو راضی ہوا مگر شہزادی کو اپنے پاس رکھنے پر راضی نہ ہوا ،کافی منت سماجت کے بعد اس نے شہزادی کو اپنے پاس رکھنے کی حامی بھر لی

    اس شحض نے شہزادی کو دم کیا وہ کچھ بہتر ہوئی تو شیطان نے اس نیک عبادت گزار شحض پر غلبہ کیا اور اسے شہزادی ساتھ بدفعلی پر مجبور کیا
    اس نے شہزادی کیساتھ بدفعلی کی تو شیطان اس کے پاس انسانی شکل میں نمودار ہوا اور اسے کہنے لگا واہ جی اب پتہ چل کہ تم تو اس جنگل میں اس لئے پناہ لئے ہوئے تھے تاکہ لوگوں سے چھپ کر حرام کاریاں کر سکو اور اپنی نیک نامی بھی بنائے رکھو سو آج تمہارا پتہ چل گیا،وہ شحص ڈر گیا اور اس کی منت سماجت کرنے لگا کہ خدا کے واسطے کسی کو کچھ مت بتانا ورنہ میں بدنام ہو جاؤں گا،اس پر شیطان نے اسے مشورہ دیا کہ میری مان اور اب اس شہزادی کو قتل کرکے لاش دفنا دے اور جب اس کے ورثاء آئیں گے تو کہنا وہ تو بیمار تھی چل بسی ،اس نے شیطان کی بات مانی اور لڑکی کو ذبح کیا اور قریبی جگہ پر دفنا دیا،شیطان نے اس دوران شہزادی کا ڈوپٹہ مٹی سے باہر نکال دیا اور اب وہ شہزادی کے بھائیوں پاس پہنچا اور بتایا کہ اب شہزادی کو واپس لے آئیں

    شہزادے وہاں پہنچے تو دریافت کرنے پر بتایا گیا کہ وہ تو بیمار زیادہ ہو گئی اور جانبر نا ہو سکی جس کے باعث میں نے اسے وہاں دفنا دیا ہے
    شہزادے کہنے لگے ٹھیک ہے اگر فوت ہو گئی ہے تو ہمیں اس کی قبر پاس لے چلو ہم اس کی تدفین شاہی رسم و رواج سے کریں گے
    وہ اسے قبر تک لیجانے میں ہچکچانے لگا تاہم اصرار پر لے گیا،قبر کشائی ہوئی تو شہزادی کی شاہ رگ کٹی ہوئی تھی جس پراسے گرفتار کر لیا گیا اور سولی پر چڑھانے لگے،جب عین آخری وقت سولی پر چڑھانے لگے تو وہ شیطان انسانی شکل میں پھر نمودار ہوا اور کہنے لگا جان بچ سکتی ہے اگر کلمہ سے انکار کر دو تویہ شہزادے تمہیں چھوڑ دیں گے

    ساری زندگی ریاضت و عبادت کرنے والے نے کہا کہ میں کلمے سے انکار کرتا ہوں اور شہزادوں کے دین پر چلنے کا اعلان کرتا ہوں میری جان بخش دو مگر شہزادے نا مانے اور اسے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ،شیطان کے جال میں آکر زنا بھی کر بیٹھا قتل بھی کر دیا اور آخری وقت میں ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا

    قارئین اس تاریخی قصے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کبھی بھی اپنی نیکیوں پر فخر و تکبر نہیں کرنا چائیے اور شیطان مردود سے ہر وقت پناہ مانگنی چاہیے اور دعا مانگنی چائیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا خاتمہ ایمان پر کرے آمین

  • پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاذ , بچوں کیخلاف مقدمات کا اندراج و حکومتی نمائندوں کا کردار

    پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاذ , بچوں کیخلاف مقدمات کا اندراج و حکومتی نمائندوں کا کردار

    پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاذ , بچوں کیخلاف مقدمات کا اندراج و حکومتی نمائندوں کا کردار
    تحریر:ادریس نواز چدھڑ
    پنجاب بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ۔ جس کے تحت ندی نالوں میں نہانے پر پابندی لگائی گئی اور پولیس بھی متحرک دکھائی دے رہی ہے ۔ سرگودھا میں بھی حکومتی احکامات کی مطابق سکیورٹی برانچ سمیت پولیس نے نہر میں نہانے والوں کیخلاف کارروائی کی اور متعدد مقدمات کا اندراج کیا ۔ جس میں جن بچوں کے ابھی تک شناختی کارڈ بھی نہیں بنے ان پر بھی مقدمات کا اندراج کیا گیا ۔

    جس حکومت کو نوجوانوں کے مستقبل میں اہم کردار ادا کرنا چاہیئے ۔ وہی حکومت بچوں کیخلاف بھی مقدمات درج کروا رہی ہے ۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف حکومتی احکامات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنے بیٹے کیساتھ گرمی دور کرنے کیلئے نہر میں نہاتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ اور شہریوں کی بڑی تعداد یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئی۔ ان کیخلاف تو پولیس نے کوئی کارروائی نہ کی ۔ ہر قانون , اقدام و احکامات صرف غریب پر ہی لاگو ہوتا ہے ۔ بااثر کیخلاف کبھی قانون متحرک نہیں ہوتا ۔ یہ عوام کیساتھ کیسا بھونڈا مذاق ہے کہ عوام کے بچوں کیخلاف تو مقدمات درج کئے جا رہے ہیں ۔ اور انکا مستقبل تباہ کیا جا رہا ہے لیکن حکومتی نمائندے عوام کے سامنے سرعام حکومتی احکامات کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں ۔

    لگتا ھے ہمارے ملک میں دو ریاستی قانون ہے ۔ امیر کیلئے الگ اور غریب کیلئے الگ، نہر میں نہانے پر پابندی ہونی چاہیئے۔ کیونکہ ہرسال نہروں ندی نالوں میں نہانے کے دوران ڈوبنے سےکئی قیمتی جانیں لقمہ اجل بن جاتی ہیں لیکن کیا اسکا حل بچوں کیخلاف مقدمات درج کر کے کیا جا سکتا ہے ، بچوں کے مستقبل کو تباہ کر کے حکومتی اقدامات کو پورا کرنا کہاں کا قانون ہے ۔ حکومتی نمائندے و بااثر افراد کیخلاف قانون حرکت میں کیوں نہیں آ رہا ؟، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ہر گاؤں میں بذریعہ اعلان عوام کو آگاہ کیا جاتا کہ حکومت نے نہر میں نہانے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اس لئے خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کی جائیگی تاکہ عوام کو پتہ ہوتا اور وہ نہروں میں نہانے سے اجتناب کرتے ، دوسرا ان بچوں کے والدین کو بلا کر انہیں وارننگ دیکر چھوڑا جا سکتا تھا تاکہ دوبارہ ایسا کوئی بھی اقدام نہ کریں۔

    پولیس ہمیشہ حکومتی اقدامات پر ہی متحرک ہوتی ہے کاش منشیات فروشوں و دیگر جرائم پیشہ افراد کیخلاف بھی ایسے ہی کارروائیاں کی جاتیں تو کیا ہی بات تھی ۔ حکومت وقت کو اس بارے سوچنے کی اشد ضرورت ہے ۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کو اس پر فوری نوٹس لینا چاہیئے تاکہ بچوں کے مستقبل تباہ نہ ہوں.

  • زندگی کے چیلنجز پر قابو پانے کے لیے  قوتِ ارادی کا استعمال

    زندگی کے چیلنجز پر قابو پانے کے لیے قوتِ ارادی کا استعمال

    قوتِ ارادی، جسے اکثر طویل مدتی اہداف کے حصول کے لیے قلیل المدتی فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خود پر قابو کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، زندگی کے ہمارے راستے میں آنے والے بے شمار چیلنجوں پر قابو پانے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ خواہ ذاتی، پیشہ ورانہ یا جذباتی رکاوٹیں ہوں،قوتِ ارادی کو بروئے کار لانا ہار ماننے اور کامیابی کی طرف بڑھنے کے درمیان فرق کر سکتا ہے۔

    قوت ارادی کی سائنس
    قوتِ ارادی میں دماغ کے پیچیدہ افعال شامل ہوتے ہیں جو فیصلہ سازی اور تسلسل کے کنٹرول کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اس ذہنی طاقت کو سمجھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے سے، افراد مشکلات کو بہتر طریقے سے حل کر سکتے ہیں اور اپنے مقاصد پر اپنی توجہ مرکوز رکھ سکتے ہیں۔

    ذاتی چیلنجز پر قابو پانا
    صحت سے متعلق مسائل، جیسے متوازن غذا کو برقرار رکھنا یا ورزش کو معمول بنانا، کے لیے اہم قوت ارادی کی ضرورت ہوتی ہے۔ خود پر قابو رکھنے والے افراد ان صحت مند عادات پر عمل کرتے ہیں جس سےبالآخر انکی جسمانی اور ذہنی صحت بہتری کی طرف جاتی ہے۔ اسی طرح، تعلیم اور کیریئر سے متعلق چیلنجز، جیسے کہ مشکل پروجیکٹ کو مکمل کرنا یا امتحانات کی تیاری، مسلسل کوشش اور ارتکاز کا مطالبہ کرتے ہیں۔ قوتِ ارادی اس ضروری توجہ کو برقرار رکھنے میں مدد کرتی ہے، جس سے کارکردگی اور کامیابی میں بہتری آتی ہے۔

    جذباتی لچک
    جذباتی طور پر، قوتِ ارادی تناؤ، اضطراب اور غم کو سنبھالنے میں اہم ہے۔ زندگی کی ناگزیر مشکلات بہت زیادہ ہو سکتی ہیں، لیکن مضبوط قوتِ ارادی کے حامل افراد ان ہنگامہ خیز وقتوں کو زیادہ آسانی کے ساتھ بھلا سکتے ہیں،کیا آپ نے اپنے شریک حیات کو کھو دیا؟ آپ کا کام؟ کیا آپ کسی ایسے رشتے میں شامل تھے جس نے آپ پر توجہ نہیں دی.منفی جذبات کا شکار ہونے کی خواہش کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے، افراد ایک مثبت نقطہ نظر کو برقرار رکھ سکتے ہیں اور اپنے مقاصد کے لیے کام جاری رکھ سکتے ہیں۔

    قوت ارادی کو مضبوط کرنا
    قوتِ ارادی، مشق اور نظم و ضبط کے ذریعے مضبوط کی جا سکتی ہے۔ ذہن سازی کا مراقبہ، مخصوص اور قابل حصول اہداف کا تعین، اور صحت مند طرز زندگی کو برقرار رکھنے جیسی تکنیکیں کسی کے خود پر قابو کو نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہیں۔ یہ حکمت عملی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے درکار لچک پیدا کرنے میں مدد کرتی ہے۔

    نتیجہ
    قوتِ ارادی زندگی کے چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے ایک اہم اثاثہ ہے۔ اس کی اہمیت کو سمجھ کر اور اسے مضبوط بنانے کے لیے حکمت عملیوں پر عمل درآمد کرنے سے، افراد غیر معمولی رکاوٹوں کو ختم کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کی اپنی صلاحیت کو بڑھا سکتے ہیں، جس سے وہ زیادہ پرامن اور کامیاب زندگی کا باعث بن سکتے ہیں۔

  • 2024 کے بھارتی عام انتخابات: بی جے پی کی سادہ اکثریت سے محرومی کے عوامل

    2024 کے بھارتی عام انتخابات: بی جے پی کی سادہ اکثریت سے محرومی کے عوامل

    2024 کے بھارتی عام انتخابات: بی جے پی کی سادہ اکثریت سے محرومی کے عوامل

    2024 کے بھارتی عام انتخابات کے نتائج آ چکے،بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی اور اسے اہم دھچکا لگا، سیاسی، سماجی، اور اقتصادی حرکیات کے پیچیدہ تعامل کی عکاسی کرتے ہوئے کئی عوامل کی وجہ سے ایسا ہوا،

    سب سے پہلے، حکومت مخالف جذبات نے ایک اہم کردار ادا کیا۔ مودی دوبار کے لئے وزیراعظم رہ چکے ہیں، ووٹرتبدیلی کے لئے بیتاب تھے، انکے ساتھ جو وعدے کئے گئے پورے نہیں ہوئے، گورننس کے مسائل جیسے بے روزگاری، مہنگائی، اور زرعی بدحالی کی وجہ سے بھی ووٹر متاثر تھا. حکومتی کوششوں کے باوجود وبائی مرض کے معاشی نتائج نے معاش کو متاثر کرنا جاری رکھا جس کی وجہ سے درمیانی اور کم آمدنی والے گروہوں میں عدم اطمینان کا احساس پیدا ہوا۔

    دوم، اپوزیشن کے اسٹریٹجک اتحاد نے بی جے پی کی پوزیشن کو کافی حد تک کمزور کیا۔ علاقائی پارٹیاں، جو اپنی اپنی ریاستوں میں تاریخی طور پر مضبوط ہیں، نے انڈین نیشنل کانگریس اور دیگر اپوزیشن گروپوں کے ساتھ اتحاد قائم کیا۔ یہ متحدہ محاذ بی جے پی مخالف ووٹوں کو مضبوط کرنے میں کامیاب رہا، جو پہلے بکھرے ہوئے تھے، اس طرح حکمران پارٹی کے لیے ایک زبردست چیلنج بن گیا۔

    تیسرا، سماجی مسائل اور شناخت کی سیاست نے ووٹر کے رویے کو متاثر کیا۔ شہریت کے قوانین، مذہبی پولرائزیشن، اور ذات پات کی حرکیات سے متعلق تنازعات نے رائے عامہ کو ہلایا۔ بی جے پی کی پالیسیوں کو کچھ لوگوں نے تقسیم کرنے والی، اقلیتی برادریوں اور سماجی طور پر پسماندہ گروہوں کے طور پر دیکھا، اس طرح وہ اپوزیشن کو ووٹ دینے پر مجبور تھے.

    سادہ اکثریت حاصل کرنے میں بی جے پی کی ناکامی کے اثرات گہرے ہیں۔ اب بی جے پی اتحادیوں کے ساتھ ملکر مخلوط حکومت بنائے گی، جو اتحادی شراکت داروں کے درمیان مختلف ایجنڈوں کی وجہ سے پالیسی کے حوالہ سے مشکلات کا شکار ہو گی،یہ منظر نامہ فیصلہ سازی کے عمل کو سست ، اقتصادی اصلاحات اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو متاثر کر سکتا ہے۔اس سے قانون سازی کا عمل بھی متنازعہ ہو سکتا ہے، جس میں حزب اختلاف کی جماعتیں نمایاں فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ اہم قانون سازی کو پارلیمنٹ میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ممکنہ عدم استحکام اور حکمرانی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے بار بار مذاکرات کیے جاتے ہیں۔

    خلاصہ یہ کہ 2024 کے انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل کرنے میں بی جے پی کی ناکامی متنوع اور متحرک جمہوریت میں سیاسی غلبہ کو برقرار رکھنے کے چیلنجوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مخلوط حکومت، عوامی رائے کے ایک وسیع میدان کی عکاسی کرتے ہوئے، مربوط اور تیز پالیسی کے نفاذ کے حصول میں رکاوٹوں کا سامنا کر سکتی ہے۔

  • ایک مضبوط عورت کی کہانی

    ایک مضبوط عورت کی کہانی

    ایک مضبوط عورت کی کہانی

    دس سال پہلے جب میرے شوہر کا انتقال ہوا انکے بعد میں بالکل اکیلی ہو گئی، اور بہت ساری زمہ داریاں میرے کند ھوں پہ آنے والی تھی، لیکن میں ان خوش قسمت عورتوں میں سے تھی جن کی قسمت میں ایک خیال رکھنے والا اور ذمہ دار دیور تھا ۔ اس نے یقینی بنایا کہ میرے مرحوم شوہر کے (جو اس کے ساتھ کاروبار میں شریک تھے) تمام واجبات پورے کیے جائیں۔ مجھے مالی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا جن کا اکثر خواتین کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔لیکن پھر بھی کئی مسائل تھے۔ ہمارا بیٹا صرف چودہ سال کا تھا اور اچانک سے اسکے بہت سے’ دوست’ نمودار ہو گئے۔ یہ "دوست” پنجابی روایت کے مطابق سمجھتے تھے کہ اب یہ بچہ خاندان کا سربراہ ہے اور روایات کے مطابق مالی ذمہ داری اسی کی ہے۔ ہر کوئی اس سے اپنا مطلب نکالنا چاہتا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے، ماں یعنی میرے آڑے آنے سے ان کے منصوبے ناکام ہو گئے۔ میں ان کی قانونی سرپرست تھی اور ان کے ساتھ ایک مضبوط رشتہ بنانا ایک طویل عمل تھا کیونکہ وہ ہمیشہ ان والد سے زیادہ قریب تھا جو ہم سے جدا ہو چکے تھے۔ یہ "دوست” ہمارے درمیان جتنا ممکن ہو سکے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے تاکہ اپنا مطلب حاصل کر سکیں۔ یہ ایک لمبی لڑائی تھی جس نے واقعی میرے اعصاب خراب کر دیے۔ آخرکار، وہ لوگ آہستہ آہستہ دور ہو گئے۔

    میری زندگی بالکل بدل گئی تھی۔ ہر وہ طریقے سے جس طرح بدل سکتی تھی۔ میری 84 سالہ بیمار ماں کے علاوہ کوئی قریبی رشتہ دار نہ ہونے کی وجہ سے مجھے مختلف مردوں کی طرف سے پیش قدمیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھے احساس ہوا کہ شوہر کے بغیر مجھے صرف ایک ایسی عورت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، چاہے میری ساکھ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو۔ جب میں نے یہ بات اپنے ایک پرانے دوست سے شیئر کی تو اس نے آہستہ سے کہا، "ياسمین، پنجاب میں یہی تلخ حقیقت ہے کہ ایک عورت کسی کی زوجیت میں نہ ہو ، اکثر لوگ اسے اپنی بنانا چاہتے ہیں۔” ظاہر ہے، قانونی طور پر نہیں۔

    یہ کہنا غلط ہو گا کہ مجھے رشتے کی پیشکش نہیں ملیں – وہ تو بالکل عزت والی بات ہے، لیکن مجھے ابھی اپنے خاندان کے لیے بہت سارے جنگ لڑنے تھیں، اور اسی لڑائی میں کہیں نہ کہیں میں نے اپنی خوشی، اپنا نرم مزاج اور زندگی سے محبت کھو دی۔ سنجیدہ ہونا میری دوسری فطرت بن گیا۔ ایک بات کا میں نے اپنے مرحوم شوہر سے وعدہ کیا تھا، چاہے کچھ بھی ہو جائے، جو کوئی بھی میرے گھر کی طرف دیکھے گا، وہ تباہ ہو جائے گا۔ میں نے وہی کیا جو کرنا ضروری تھا۔میری بیٹی، جو اپنے بھائی سے چار سال بڑی ہے، اپنے والد کے انتقال کے وقت لاء کالج میں داخل ہوئی تھی۔ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ اپنے والد کا نام روشن کرے گی اور اس نے ایسا ہی کیا۔ وہ لندن یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری میں دنیا بھر کے 180 ممالک میں سرفہرست رہیں، اور انفرادی مضمون میں بھی دنیا بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ آج کم عمری میں ہی وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں سینئر لیگل ایسوسی ایٹ ہیں۔وہی وہ واحد تھی جو میرے روحانی ساتھی کو کھونے کے غم کو سمجھ سکتی تھی۔ ہمارے کردار بدل گئے۔ وہ میری نگہداشت کرنے والی بن گئیں۔ ان کی موجودگی مجھے اپنے شوہر کی موجودگی جیسا احساس دلاتی تھی، وہی پیار، وہی بے لوث قربانی، انہوں نے مجھے ہر چیز رکھنا،
    اس پوری جدوجہد میں ، میں نے اپنے بہت سارے دوست کھو کر تنہائی کو گلے لگا لیا، کیونکہ مجھے اپنے بچوں اور گھر کے لئے ہی کرنا تھا جو بھی کرنا تھا ،

  • تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

    تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

    تمباکو نوشی مضر صحت ہے…سگریٹ کی ہر ڈبی پر یہ لکھاہوتا ہے لیکن اسکے باوجودسگریٹ خرید کرپی جاتی ہے اور اپنی صحت کا نقصان کیا جاتا ہے، سوال یہ ہے کہ جب سگریٹ مضر صحت ہے تو مضر صحت چیز کی معاشرے میں فروخت کیوں ہو رہی ہے؟ مضر صحت چیز پر حکومت پابندی کیوں نہیں لگاتی؟ کیوں ایسے قوانین نہیں بنائے جاتے کہ انسانی صحت کو نقصان پہنچانے والی چیزوں بمعہ سگریٹ پر سخت قانونی پابندیاں ہوں.لیکن جب قانون سازی کرنیوالے خود ہی سگریٹ کی تشہیر کر رہے ہوں تو ان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے، شیخ رشید کو لے لیجیے جو کئی بار وزیر رہ چکے ہیں اب فروری کے انتخابات میں انہیں شکست ہوئی اور وہ اسمبلی نہیں پہنچ سکے انکی اکثر تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے موصوف سگار پی رہے ہوتے ہیں، ایسی تصاویر کا کیا مقصد ہے؟ تمباکو مضر صحت ہے تو اسکی اتنی تشہیر کیوں؟

    ابھی 31 مئی کو انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن گزرا، اس روز ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وفاق اور تمام صوبوں میں تقریبات ہوتیں اور انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے بھر پور آگاہی مہم چلائی جاتی ،لیکن وزیراعظم شہباز شریف ، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے صرف بیانات پر ہی اکتفا کیا ہے،اگرچہ مسلم لیگ ن ، پی ڈی ایم کی گزشتہ ڈیڑھ سالہ حکومت کے دوران تمباکو پر ٹیکس عائد کیا گیا جس سے سگریٹ کی قیمتیں بڑھیں اور فروخت میں کمی ہوئی،تاہم اب بھی بجٹ آ رہا ہے بجٹ میں حکومت کو چاہئے کہ تمباکو پر مزید ٹیکس لگایا جائے ، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کہہ چکے ہیں کہ تمباکو انڈسٹری تین سو ارب سے زائد کا ٹیکس چوری کر رہی ہے اور ہم ادھر آئی ایم ایف کی منتیں کر رہے ہیں،ایسے میں کونسا امر مانع ہے کہ تمباکو انڈسٹری پر ٹیکس کیوں نہیں بّڑھایا جاتا، قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ، تمباکو انڈسٹری من مانی کر رہی اور ٹیکس چوری کر رہی،وہ بھی اربوں کا، اگر ایک غریب سو روپے کا ٹیکس نہ دے تو کیا اسکے ساتھ بھی صرف بیان دے کر ہی سلوک کیا جاتا یا اس پر ڈنڈے کے زور پر قانون لاگو ہوتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی کالی بھیڑیں جو تمباکو انڈسٹری کے ساتھ ملی بھگت کر کے ٹیکس چوری میں ملوث ہیں انکو بے نقاب کر کے کاروائی کی جائے اور تمباکو پر مزید ٹیکس عائد کیا جائے.

    chromaic

    پنجاب حکومت انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے پنجاب میں متحرک ہو چکی ہے. گزشتہ دنوں تمباکو نوشی کیخلاف کام کرنیوالی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان، طیب رضا نے لاہور کا دورہ کیا اور پنجاب کے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر، وزیر تعلیم رانا سکندر و دیگر سے ملاقاتیں کیں ، بعد ازاں پنجاب کے محکمہ تعلیم و صحت کے زیر اہتمام دو الگ الگ سیمینار بھی ہوئے جن میں سی ای او کرومیٹک شارق خان نے خصوصی طور پر شرکت کی،خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر جو پنجاب میں صحت کے شعبے کے وزراء ہیں نے اعلان کیا کہ وہ تمباکونوشی کیخلاف کرومیٹک کی مہم کو نہ‌صرف سراہتے ہیں بلکہ پنجاب میں انکے ساتھ ملکر آگاہی مہم پر بھی کام کریں گے، وزیراعظم کو تمباکو پر مزید ٹیکس لگانے کی بھی سفارش کریں گے،خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی سے ہر سال 70 لاکھ افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سالانہ 347 ارب روپے کی رقم تمباکو نوشی میں ضائع کرنا انتہائی افسوس ناک ہے۔ شیشہ یا تمباکو نوشی کی دیگر اقسام بھی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ نوجوان نسل کو چاہئے کہ وہ اپنی تعلیمی اور مثبت سرگرمیوں پر توجہ دیں۔دوسرے پروگرام میں پنجاب کے تعلیمی اداروں میں تمباکو نوشی کے خلاف بھر پور مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا،پاکستان میں روزانہ بارہ سو سے زائد بچوں کا تمباکو نوشی شروع کرنا تشویشناک ہے۔ سکول کے بچوں کو تمباکو نوشی سے محفوظ بنانا انتہائی ضروری ہے اور اس حوالے سے پنجاب حکومت تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔صوبائی وزیرتعلیم رانا سکندر حیات کی خصوصی ہدایت پر اساتذہ اور والدین کی رابطہ کاری کے لئے بنائے گئے واٹس ایپ گروپس میں تمباکو نوشی کے نقصات اور بچوں پر اس کے اثرات کے حوالے سے آگاہی پیغام کو پھیلایا جائے گا تاکہ لاہور کے سرکاری اور پرائیویٹ سکولز میں زیرتعلیم 20 لاکھ سے زائد بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

    tobacco day

    تمباکو نوشی کیخلاف مہم کو قومی مہم بنا کر "تمباکو سے پاک پاکستان” کا نعرہ بلند کرنا ہو گا ، گو وزیراعظم شہباز شریف نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ تمباکو سے پاک پاکستان بنائیں گے،تاہم اس کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، کرومیٹک جیسی این جی اوز محدود وسائل کی وجہ سے آگہی مہم محدود پیمانے پر چلا سکتی ہیں تاہم حکومت اس ضمن میں وسیع پیمانے پر وسائل کی وجہ سے کام کر سکتی ہے، کرومیٹک کی آگاہی مہم کی وجہ سے کئی نوجوان سگریٹ نوشی ترک کر چکے ہیں،سوشل میڈیا پر کرومیٹک کی آگاہی مہم جاری رہتی ہے تو وہیں مختلف تقریبات کا انعقاد،سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلہ جات بھی کروائے جاتے ہیں، کرومیٹک کے سی ای او شارق خان انتہائی متحرک ہیں، قوم کو بچوں کو تمباکو سے بچانے کے لئے وزیراعظم سے لے کر اراکین اسمبلی تک انکی ملاقاتوں کا مقصدصرف ایک ہوتا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس لگایا جائے، تا کہ قوم کے بچے، قوم کا مستقبل سگریٹ سے محفوظ ہو، سگریٹ مہنگا ہو گا تو اسکی خریداری کم ہو گی،اور یہ تجربہ ہو چکا کہ سگریٹ مہنگا ہونے کی وجہ سے اسکی خریداری میں کمی آئی ہے.کرومیٹک کی انسداد تمباکو نوشی مہم میں پنجاب حکومت کی شمولیت انتہائی خوش آئند امر ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ کرومیٹک کی آگہی مہم کے ساتھ حکومت عملی اقدامات کرے، سگریٹ نوشی کے خلاف جو قوانین بنائے گئے ہیں ان کا نفاذ یقینی بنایا جائے، سگریٹ پر ٹیکس عائد کیا جائے،تعلیمی اداروں کے نواح میں سگریٹ کی فروخت پر مکمل پابندی ہونی چاہئے، تمباکو کی ایڈورٹائزمنٹ پر پابندی ہونی چاہئے. سگریٹ پینے والوں کی معاشرے میں بھی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے.سگریٹ پینے والا نہ صرف اپنا نقصان کر رہا ہے بلکہ ساتھ بیٹھنے والوں کا بھی نقصان کر رہا ہے. پاکستان میں تمباکو نوشی میں کمی لانے کیلئے ضروری ہے کہ قیمتوں میں اضافے کیساتھ ساتھ اس کے نقصانات کے حوالے سے خصوصی آگاہی مہم شروع کی جا ئے تاکہ عوام اس کے جان لیوا اثرات سے محفوظ رہیں اور اپنے ہاتھوں اپنی زندگیوں کا خاتمہ نہ کریں۔ پاکستان کو ٹوبیکو فری بنانے کیلئے ضروری ہے کہ سگریٹ سازی کی صنعت پر مزید بھاری ٹیکسز عائد کئے جائیں، پاکستان میں روزانہ 1200 سے زیادہ بچے تمباکو کا استعمال شروع کر رہے ہیں، اور اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں الیکٹرانک تمباکو اور نکوٹین کی مصنوعات کے پھیلاؤ کے ساتھ پاکستان کے اعداد و شمار اور بھی تشویشناک ہیں۔ تمباکو کی صنعت نوجوانوں کو ہدف بناتی ہے، تمباکو کی صنعت تمباکو کی مصنوعات کو فروغ دینے والے اشتہارات کے ذریعے گمراہ کن ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔انکو بھی روکنے اور ٹیکس لگانے کی ضرورت ہے.

    iqbal anjum

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • دہشت گردی کے نفسیاتی اثرات

    دہشت گردی کے نفسیاتی اثرات

    دہشت گردی سے سماجی رویوں خصوصا سرکاری اداروں پر اعتماد،ہجرت کے بارے میں خیالات، اور شہری آزادی بارے گہرا اثر ہوتا ہے،دہشت گردی کی کارروائیاں شہریوں میں منفی جذبات جیسے بے چینی، غم و غصہ، کمزوری ،بے بسی کو جنم دیتی ہیں،

    دہشت گردی کا مقصد پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے ہونے والی فوری جسمانی تباہی اور نقصان سے بھی بڑھ کر ہے۔ دہشت گرد معاشرے کو کمزور اور غیر مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی اخلاقی اقدار، اتحاد اور انتظامی ڈھانچے کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ دہشت گردوں کا مقصد وسیع پیمانے پر ذہنی اور جذباتی تناؤ کو جنم دینا ہے، جس سے معاشرے کو عدم برداشت اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ یہ سماجی و نفسیاتی نتیجہ ان کے مقاصد کے حصول کے لیے اہم ہے۔

    پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی سے نبرد آزما ہے، جس کے نتیجے میں اہم سماجی اور نفسیاتی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ تاہم دہشت گردی کے بعد ہونے والی بات چیت میں اکثر گہرے سماجی و نفسیاتی اثرات کو نظر انداز کیا جاتا ہے، اور پاکستانی معاشرے میں ان اثرات کو حل کرنے پر محدود توجہ دی گئی ہے۔

    سوات، جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان جیسے علاقوں میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی فوجی کارروائیوں نے مقامی باشندوں بالخصوص خواتین اور بچوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان افراد کو شدید سماجی، ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی صدمے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔مسائل کی وجہ سے بہت سے شہریوں کو اپنا گھر بار چھوڑ نا پڑا، انہوں نے نقل مکانی کی، جس سے ان کے خوف اور بے بسی کا احساس مزید بڑھ گیا ہے، نقل مکانی روزمرہ اورسماجی معاملات میں خلل ڈالتی ہے، جس سے پریشانیاں مزید بڑھ جاتی ہیں

    پاکستان معتدل اور متحرک معاشرے کے طور پر جانا جاتا ہے جو مذہبی انتہا پسندی کو مسترد کرتا ہے۔ پاکستان اعتدال پسند اسلام اور صوفی روایات کو اپناتا ہے، جو رواداری، امن اور بقائے باہمی پر زور دیتے ہیں۔ ان اقدار کی جڑیں پاکستان کی تاریخ اور ثقافت میں گہری ہیں۔ منفرد چیلنجوں کا سامنا کرنے کے باوجود، پاکستانی معاشرے نے لچک کا مظاہرہ کیا ہے اور مشکلات کا بھرپور جواب دیا ہے۔تاہم، دہشت گرد گروہوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے معاشرے کے معتدل طبقات کو تیزی سے پسماندہ کر دیا ہے۔ جیسے جیسے دہشت گرد میدان میں اترتے ہیں، وہ خوف اور تباہی کا ماحول پیدا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں اعتدال پسند عوام کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

    دہشت گردی کے سماجی و نفسیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومت کو معاشرتی رویے پر دہشت گردی سے پیدا ہونے والے دباؤ کا مکمل جائزہ لینا چاہیے۔ اسے ڈیزاسٹر پلاننگ اور ٹاؤن اور ضلع کی سطح پر ٹراما سینٹرز کے قیام کے ساتھ جوڑا جانا چاہیے۔ نہ صرف دہشت گردی سے براہ راست متاثر ہونے والوں کو مدد کی ضرورت ہے، بلکہ پورا معاشرہ اس کے اثرات کو محسوس کرتا ہے، جس کے نتیجے میں معیشت متاثر ہوتی ہے اور اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری بھی رک جاتی ہے،دہشت گردی سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے مضبوط اور متحرک پالیسیاں ضروری ہیں۔ ایک جامع نقطہ نظر نفسیاتی مدد، سماجی ہم آہنگی اور اقتصادی استحکام ، پاکستان کے معاشرے پر دہشت گردی کے طویل مدتی اثرات کو کم کرنے میں مدد کرے گا۔ ان شعبوں پر توجہ مرکوز کرکے، حکومت اپنے لوگوں کو مضبوط کر سکتی ہے اور زیادہ پرامن اور مستحکم ماحول کو فروغ دے سکتی ہے۔

  • مرکزی مسلم لیگ کا یوم تکبیر کارواں،تحریر:ارشاد احمد ارشد

    مرکزی مسلم لیگ کا یوم تکبیر کارواں،تحریر:ارشاد احمد ارشد

    28مئی ۔۔۔۔پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے کہ جب بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بنا ۔28مئی کو یوم تکبیر کانام دیا گیا ۔ یوم تکبیر بہت مبارک اور خوبصورت نام ہے۔ اس نام میں جوش بھی ہے جذبہ ہے ۔ جرأت بھی ہے اور ہمت بھی ہے۔تکبیر کا مطلب ہے ۔۔۔۔اللہ کی کبریائی، بڑائی اور عظمت ۔ قرون اولیٰ کے مسلمان جب تکبیر کا نعرہ بلند کرتے تو کفر کے ایوان لرز جاتے اور صنم منہ کے بل گرکے ھواللہ احد کہتے تھے ۔ آج مسلمان جھاگ کی طرح ہیں ان میں ہمت ہے اور نہ جرأت ہے اسلئے کہ دل جذبہ ایمان سے خالی ہیں ۔ جب تک دلوں میں ایمان نہیں ہوگا کوئی ہتھیار کارگر نہیں ہوسکتا ۔ کہنے کی حد تک پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے لیکن قوم میں تکبیر جیسا جذبہ پیدا کرنے کیلئے کچھ بھی عملی اقدامات نہ کیے گئے ۔ ضرورت اس امر کی تھی قوم میں تکبیر جیسا جذبہ بھی پیدا کیا جاتا ۔اسلئے کہ اسلحہ کے ساتھ جذبہ نہ ہوتو کوئی قوم نہ تو جنگ لڑ سکتی ہے اور نہ ہی جیت سکتی ہے ۔امسال اگرچہ سرکاری سطح پر یوم تکبیر کااہتمام کیا گیا تھا ۔ اسی طرح کچھ جماعتوں نے یوم تکبیر کی تقریبات کا اہتمام کیا ہوا تھا تاہم اس طرح کے مواقع پر مرکزی مسلم لیگ ہی واحد جماعت ہے جو بکھری قوم کو مجتمع کرنے ، منزل کا تعین کرنے ، دو قومی نظریہ کا سبق یاد کروانے اور تکبیر کا جذبہ پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال 28مئی کے موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام ملک بھر میں شایان شان طریقے سے ’’ یوم تکبیر ‘‘ کی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ اس دفعہ بھی کراچی سے پشاور تک ہر شہر میں یوم تکبیر کی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا دارالحکومت لاہور ہے اور لاہور کا دل مال روڈ ہے ۔دیگر شہروں کی طرح لاہور میں بھی تکبیر کارواں کا انعقاد کیا گیاجس میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت۔
    تکبیر کارواں سے مرکزی مسلم لیگ کے قائدین نے خطاب کیا ۔ مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر چوہدری محمد سرورنے کہا کہ ایٹم بم تو ہم نے بنالیا اس کے بعد ایٹمی دھماکے بھی کرلیے اور جس دن ایٹمی دھماکے کیے گئے اس دن کانام ’’ یوم تکبیر ‘‘ رکھ دیا گیا لیکن المیہ یہ ہے کہ قوم تکبیر جیسا جذبہ پیدا کرنے کیلئے کچھ نہیں کیا گیا ۔ سال میں ایک بار یوم تکبیر منالینا کافی نہیں اصل بات یہ ہے کہ قوم کو اس امر سے آگاہ کیا جائے کہ پاکستان کو ایٹم بم بنانے اور دھماکے کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔۔۔۔؟ وہ عوامل جن کی وجہ سے پاکستان کو ایٹمی اسلحہ بنانا پڑا ۔۔۔۔وہ عوامل اور خطرات آج بھی اسی طرح موجود ہیں ۔ ہمارے دشمن بھارت نے صرف طریقہ کار بدلا ہے ۔دشمنی ختم نہیں کی ۔ وہ پہلے سے بھی زیادہ پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں کروارہا ہے ۔ان حالات میں جہاں پاکستان کو عسکری اعتبار سے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے وہاں تکبیر کو جذبوں کو بھی سمجھنے اور عام کرنے کی بے حد ضرورت ہے ۔

    ہم نے یوم تکبیر منانے کا اعلان کیا تو ہمیں ملامت کی گئی ڈرایا دھمکایا گیا لیکن ہم نہ ہی ڈرے اور نہ ہی پیچھے ہٹے ہیں ۔ہم آج سے اپنی تحریک کا آغاز کررہے ہیں کہ اس وطن کو لا الہ الا اللہ کا ملک بنائیں گے۔سیاسی معاشی اعتبار سے ملک کے حالات بہت ناگفتہ بہ ہیں تاہم وطن عزیز کی صورتحال پارٹیاں یا چہرے بدلنے سے تبدیل نہیں ہوگی، اسلام پر عمل سے بدلے گی۔ ہم نے صرف ووٹ کی نہیں بلکہ نظریہ کی جنگ لڑنی ہے۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے حکمران اپنوں کو پس زنداں ڈال رہے ہیں اور غیروں کے سامنے بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں۔ ہمارا دشمن تقسیم در تقسیم کے ذریعے ہمیں تباہ کرنا چاہتا ہے۔ مرکزی مسلم لیگ پاکستان کی بقا اور سالمیت کا معرکہ سر کرے گی۔ ہم پارٹی اور دھڑے بازی کی بجائے خدمت کی سیاست کا علم لے کر نکلے ہیں ۔

    تکبیر کارواں کے ایک اہم ترین مقرر فلسطین سے آنے والے معزز مہمان الشیخ ابو عبیدہ تھے ۔ حاضرین وسامعین نے الشیخ ابوعبیدہ کا استقبال پرجوش نعروں سے کیا ۔ فلسطینی رہنما نے رقت آمیز انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ ماہ سے غزہ میں جنگی جرائم اور فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے۔اہل غزہ نے جانیں دے کر استقامت کی انمٹ مثالیں پیش کی ہیں ۔فلسطین صرف فلسطینیوں کا نہیں یہاں قبلہ اول ہے ، فلسطین انبیاء علیھم السلام کی سرزمین ہے لیکن انبیاء علیہ السلام کی سر زمین یہودیوں کے ہاتھوں لہولہان ہے ۔ فلسطینی مسلمان غزہ کی نہیں قبلہ اول کے دفاع کی جنگ لڑرہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ پورا عالم اسلام فلسطینیوں کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہوجائے ۔مرکزی مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن جرأ ت، دلیری بہادی اور شجاعت کا دن ہے۔ ہم پاکستان کے دشمنوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے وطن کے دفاع کے لئے زندہ وبیدار ہیں ۔پاکستان محمد بن قاسم ، طارق بن زیاد ، قتیبہ بن مسلم ، صلاح الدین ایوبی کے جانثاروں اور قبلہ اول سے محبت کرنے والوں کا وطن ہے ۔پاکستان کے غیور وجسور اور بہادر عوام کسی صورت بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں ہونے دیں گے۔آج جو شیخ مجیب کو ہیرو ثابت کرنا چاہتے ہیں اپنا قبلہ درست کریں۔ہم ہر چور اور ڈاکو کو کہنا چاہتے ہیں کہ تمہارا وقت پورا ہوا۔اب یہ وقت پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ لاہور کے صدر انجنئیر عادل خلیق کا کہنا تھا کہ ابن الوقت سیاستدانوں نے اپنے اپنے مفادات کی خاطر ملک میں مایوسی کی فضا پیدا کررکھی ہے۔ ایک سازش کے تحت حالات ایسے بنائے جارہے ہیں کہ نوجوان ملک سے مایوس ہوجائیں ، ہم نے ان مفاد پرست سیاستدانوں کا بھی مقابلہ کرنا ہے اور ملک کو بھی مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف گامزن کرنا ہے ۔تکبیر کارواں سے ریاض احمد احسان،عمر عبداللہ ، ادریس فاروقی ، چوہدری مختار گجر،شیخ صداقت ،ڈاکٹر عمران، امین بیگ،حافظ عثمان اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایٹمی پروگرام پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے سے باز رہے، معاشی استحکام کے لیے حکومت کفایت شعاری اور خود انحصاری کی پالیسی بنائے۔ ایٹمی صلاحیت کی بنیاد پر ہر بیرونی دشمنوں سے ہم محفوظ ہیں لیکن حالیہ بڑھتی ہوئی منافرت اور تقسیم تباہ کن ہے۔ مقتدرہ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز مل کر وطن عزیز کو اس بحران سے نکالیں۔ اپنی اناؤں کو پس پشت ڈال کر وطن عزیز کے استحکام کے لیے کردار ادا کریں۔

    مرکزی مسلم لیگ کی ملک بھر میں یوم تکبیر کی تقریبات سے دلوں کو اک ولولہ تازہ ملا ہے، قوم کو حوصلہ ملا ہے اور دشمنوں کو یہ پیغام ملا ہے کہ پاکستانی قوم زندہ وبیدار ہے ، ہوشیار ہے ۔ اس میں شک نہیں قوم تو زندہ ہے مگر ستم یہ ہے کہ ہمارے حکمران خواب غفلت کا شکار ہیں ۔ بدقسمتی سے حکمرانوں کی ترجیحات میں ملک اور قوم نہیں بلکہ ان کی اپنی ذات اور اقتدار ہے ۔ حالانکہ یہ وقت سیاست نہیں ملک بچانے کا ہے اقتدار نہیں اقدار کے فروغ کا ہے ۔ اسلئے کہ ملک ہے تو ہم ہیں ۔ ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر شخص ملک کو بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے ۔
    irshad arshad

  • بلوچستان پولیس کی کرپشن کہانی ،تحریر: آغاز نیاز مگسی

    بلوچستان پولیس کی کرپشن کہانی ،تحریر: آغاز نیاز مگسی

    قصے اور کہانیاں \ آغا نیاز مگسی

    بلوچستان کے محکمہ پولیس میں کرپشن کے انداز ہی نرالے ہیں ۔ ویسے اگر اس کا دیگر صوبوں سے موازنہ کیا جائے تو اخلاقیات کے لحاظ سے سندھ اور پنجاب پولیس کی نسبت بلوچستان پولیس بہت بہتر بلکہ قابل ستائش فورس ہے ۔ سندھ اور پنجاب پولیس کا عام شہریوں کے ساتھ رویہ انتہائی غیر مناسب ہوتا ہے جبکہ گرفتار یا زیر حراست ملزمان کے ساتھ ان کا رویہ غیر اخلاقی بلکہ غیر انسانی سلوک ہوتا ہے گالی گلوچ اور کرپشن تو ان کے منشور کا حصہ ہوتا ہے زیر حراست یا گرفتار ملزمان کو بدترین تشدد کے علاوہ” ہاف فرائی اور فل فرائی “کی اصطلاح کے تحت زخمی اور ہلاک کرنے کے عمل کو پولیس کے ساتھ مقابلہ قرار دینا ان کے معمول کا حصہ ہے لیکن اس کی نسبت بلوچستان پولیس کا عام شہریوں خواہ ملزمان دونوں کے ساتھ دوستانہ رویہ ہوتا ہے ہاف فرائی اور فل فرائی کا یہاں تصور ہی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود کرپشن کے حوالے سے بلوچستان پولیس بھی کسی سے کم نہیں ہے ۔ چیک پوسٹ ، قومی شاہراہ ، اسمگلنگ اور تھانوں ، منشیات و قماربازی اور فحاشی کے اڈوں سے روزانہ یا ماہانہ بھتہ وغیرہ ان کے روز و شب کے معمولات کا حصہ ہیں ۔ قومی شاہراہ پر تعینات پولیس افسران اور اہلکاروں کی چاندی ہوتی ہے وہ دن رات پیسہ بٹورنے میں مشغول رہتے ہیں منشیات ، ایرانی پیٹرول و دیگر اشیاء اور گاڑیوں کے اسمگلرز سے ان کا لین دین ہوتا ہے ایک اندازے کے مطابق بلوچستان بھر کی قومی شاہراہوں اور چیک پوسٹوں سے پولیس کو مجوعی طور پر روزانہ کروڑوں روپے کی آمدن ہوتی ہے اور یہی صورتحال صوبے کے شہروں اور قصبات میں قائم منشیات اور قمار بازی کے اڈوں کی ہے جہاں پولیس اور مذکورہ اڈہ مالکان کے درمیان معاملات طے شدہ ہوتے ہیں جن کے خاموش معاہدے کے نتیجے میں معاشرے میں مختلف قسم کی برائیاں جنم لیتی ہیں جن کی ذمہ داری پولیس پر عائد ہوتی ہے ۔ مشیات کے کاروبار اور استعمال سے ہماری نئی نسل بری طرح متاثر ہو کر اپنے خاندان اور ملک و قوم پر بوجھ بن جاتا ہے جس سے وہ اخلاقی پستی میں داخل ہو جاتی ہے جس سے بےشمار برائیوں کو فروغ مل رہا ہوتا ہے ۔

    بلوچستان کا صوبہ کافی عرصہ سے دہشت گردی کا شکار ہے جس میں عام شہریوں کے علاوہ پولیس افسران اور اہلکاروں کی بھی بڑی تعداد نشانہ بنتی ہے جس کے نتیجے میں وہ شہید اور زخمی بن جاتے ہیں اور دہشت گردی کے اکثر واقعات سیکورٹی کے ناقص انتظامات کے باعث پیش آتے ہیں ۔ ایک اطلاع کے مطابق بلوچستان کے چار اضلاع کوئٹہ ، گوادر ، حب اور لسبیلہ 2020 سے 2600 پولیس اہلکار سرکاری ڈیوٹی دینے کے بجائے بااثر سیاسی و قبائلی شخصیات گن مین یا سیکورٹی گارڈ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور تنخواہ سرکار سے وصول کر رہے ہیں ان کی تخواہوں کی مد میں سالانہ ڈھائی ارب روپے کی رقم قومی خزانے سے جاری ہوتی ہے یہ وہ اہلکار ہیں جو پہلے لیویز فورس میں تھے 2020 میں بلوچستان پولیس میں ضم کر دیئے گئے اور اس وقت سے اب تک کھاتے پہ چل رہے ہیں جن کی تنخواہوں کا بڑا حصہ ان کے افسران کی جیب میں چلا جاتا ہے لیکن اس کا نقصان بلوچستان پولیس میں نفری کی کمی کے باعث چوری ،ڈکیتی اور دہشت گردی کے واقعات کی صورت میں بلوچستان کے شہریوں کا ہوتا ہے۔ یہ تو صرف چار اضلاع کے 2600 پولیس اہلکار ہیں جو کھاتے پر چل رہے ہیں صوبے کے باقی اضلاع کی کھاتے پر چلنے والے پولیس اہلکاروں کی مجموعی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جن میں سے نصف تعداد سیاسی و قبائلی شخصیات کے ذاتی محافظ بنے ہوئے ہیں اور نصف تعداد اپنے ذاتی کاروبار میں مشغول رہتی ہے ۔ یہ وہ صورتحال ہے جس کی وجہ سے بلوچستان پولیس کا محکمہ نفری کی کمی کا سامنا کر رہا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی جان و مال اور قومی املاک کا مناسب تحفظ نہیں ہو رہا ہے چناں چہ بلوچستان کو ایک ایسے چیف ایگزیکٹو کی ضروت ہے جو حقیقی معنوں میں بااختیار اور اپنے صوبے اور مخلص و دیانتدار ہو تب ہی بلوچستان پولیس میں اصلاحات ممکن ہو سکیں جس سے کرپشن میں کمی اور سیکورٹی کی صورتحال بھی بہتر ہو سکے گی ۔