Baaghi TV

Category: متفرق

  • غزہ کے شہیدوں کا خون رنگ لائے گا !تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    غزہ کے شہیدوں کا خون رنگ لائے گا !تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    ان دنوں مشرق وسطی تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں ہے سنگین خطرہ ہے کہ یہ معرکہ جو بلاشبہ حق و باطل کا معرکہ ہے عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ بظاہر یہ جنگ دو ہفتے قبل حماس کی جانب سے اسرائیل پر یک وقت 5 ہزار میزائل فائر کرنے سے شروع ہوئی مگر اس بات میں ہرگز دو آراء نہیں کہ حماس کا یہ رد عمل اسرائیل کے ان مظالم کے جواب میں سامنے آیا ہے جو اسرائیل نصف صدی سے فلسطین کے نہتے عوام پر ڈھا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ طے ہے کہ اسرائیل کا وجود مشرق وسطی کے لیے خطرہ ہے تو کیا اقوام متحدہ کا فرض نہیں کہ وہ اس مسئلے کو اپنی ہی قراردادوں کے مطابق حل کرے تاکہ مظلوم فلسطینیوں کو پرامن زندگی بسر کرنے کے مواقع میسر آسکیں ۔دوسری مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ اب یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی اپیلوں یا مسلم ممالک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے حل نہیں ہوگا اس کے لیے جارحیت کرنے والے کا ہاتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک پکڑنا ضروری ہے ۔ اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کا وہ بگڑا بچہ ہے جس نے خطے کا امن دائو پر لگا رکھا ہے ۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ اسرائیل کے مظالم پر دنیا خاموش ہے اگر کوئی بات کرتا بھی ہے تو وہ بے اثر رہتی ہے ان حالات میں حماس کی جانب سے جو قدم اٹھایا گیا وہ حالات کے تناظر میں ’’ تنگ آمد جنگ آمد ‘‘ کے مترادف ہے اس پر اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کا سیخ پا ہونا کسی طور پر بھی درست نہیں۔ اگر امریکہ اور برطانیہ واقعی انسانی حقوق کے علم بردار ہیں تو پھر انہیں چاہیے کہ وہ مسئلہ فلسطین کو حل کرائیں تاکہ یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں آنے سے محفوظ رہ سکے ۔ یہاں یہ حقیقت بھی امریکہ اور برطانیہ کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ اب اسرائیل مظالم کے نتیجے میں بہت سے ممالک فلسطینیوں کی حمایت میں کھڑے ہو چکے ہے ۔روس چین اور شمالی کوریا امریکہ کو خبردار کر چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کی حمایت سے باز رہے ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

    ایران اور ترکی کا موقف اس حوالے سے پہلے ہی واضح ہے چنانچہ اب جب کہ یہ جنگ غزہ کے ساتھ ساتھ لبنان اور شام تک پھیل چکی ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ وقت کا ’’ شیطان ثلاثہ ‘‘ ہوش کے ناخن لے اور جارح اسرائیل کی حمایت کرنے کے بجائے اسے راہ راست پر لانے کے لیے مثبت اقدام اٹھائے ۔ سعودی عرب جو اس خطے میں اثر و رسوخ رکھنے والا اہم ملک ہے وہ بھی حالیہ تناؤ کے نتیجے میں اسرائیل پر واضح کر چکا ہے کہ اسے فلسطینیوں کے لیے آزاد ریاست کے کام میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے ۔ چند ماہ قبل یہ خبر زبان زد عام تھی کہ مشرق وسطی کے بعض ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں مگر حقائق نے اس خبر کو فیک ثابت کر دیا ہے ۔ اسرائیل کو جان لینا چاہئے کہ اگر اس نے تباہی کا راستہ اختیار کیا تو وہ محفوظ خود بھی نہیں رہ سکے گافلسطنینوں کی شہادتوں کے نتیجے میں وہ خود بھی کھنڈر بنے گا ۔ دنیا بھر کے امن پسندوں کو ا نہی حقائق کی روشنی میں جاری جنگ رکوانے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ رہی بات ان کی دھمکیوں کی جو اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کو دے رہا ۔۔۔۔تو فلسطینی مسلمان ان دھمکیوں سے گھبرانے والے نہیں۔ اسلئے کہ جو سرفروش سر پر کفن باندھ کر میدان جنگ میں اترتا ہے وہ موت سے نہیں ڈرتا۔ اسرائیل نے غزہ پر بمباری کر کے اسے کھنڈر بنا دیا ہے اگر فلسطینی شہادت کے مرتبے پر فائز ہو رہے ہیں تو محفوظ اسرائیل بھی نہیں۔

    البتہ فرق یہ پڑا ہے کہ اب بہت سے انصاف پسند یہودی بھی اسرائیل کی صیہونی لیڈر شپ کے خلاف سراپا احتجاج نظر آتے ہیں ۔ امریکہ میں ہزاروں یہودیوں نے اسرائیل کی جارح صیہونی لیڈر شپ کے خلاف جلوس نکالا ۔ مظاہرین واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی عمارت میں گھس گئے ۔ مظاہرین ’’ غزہ کو جینے دو کے نعرے لگارہے تھے ‘‘ مظاہرین نے جنگ بندکرنیکا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نام پر لڑائی نہ کریں، فلسطینیوں کی نسل کشی بندکریں۔مظاہرین نے صدر جوبائیڈن سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی طاقت فلسطینیوں پر مظالم رکوانے کے لیے استعمال کریں۔ان بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں صیہونی ریاست کی قیادت کو سمجھ لینا چاہئے کہ اگر اس نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو مکمل تباہی ان کا مقدر بن سکتی ہے ۔

    یہاں ایک سوال انتہائی توجہ طلب ہے کہ نصف درجن کے قریب اہم ممالک کی جانب سے فلسطین کی حمایت کے باوجود پاکستان کھل کر کیوں نہیں بات کر رہا جبکہ پاکستان کو نہ صرف اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے بلکہ جب سے پاکستان ایٹمی طاقت بنا ہے اسلام دشمن طاقتیں ہماری ایٹمی طاقت کو اسلامی بم کے نام سے تعبیر کرتی چلی آرہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کمزور اسلامی ممالک درپیش خطرات کے مواقع پر پاکستان کی طرف دیکھتے اور امید ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان ہماری مدد کو آئے گا مگر جب ایسا نہیں ہوتا تو اس سے جہاں کمزور مسلم مبارک مایوسی کا شکار ہوتے ہیں وہاں اسلام دشمن طاقتیں بھی اظہار مسرت کرتی ہیں ۔ گو یہ حقیقت کے قریب صورتحال ہے مگر حقائق کو اس نظر سے دیکھنا چاہیے کہ اہل پاکستان کے دل اہل فلسطین کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اہل پاکستان ہر مشکل وقت میں اہل فلسطین سے اظہار ہمدردی اور اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ چنانچہ اسرائیل کو کسی خوش فہمی کا شکار نہیں رہنا چاہیے ۔ پاکستان میں عوامی سطح پر تو احتجاج ہوہی رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے صرف فلسطین پر مظالم کے خلاف ہی احتجاج نہیں ہو رہا بلکہ امید ہے کہ حکومت بھی اس حوالے سے ۔ اسلئے کہ پاکستان کا بچہ بچہ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے ان فرمودات کو پیش نظر رکھتا ہے جو وہ فلسطین کو تسلیم نہ کرنے کے پس منظر میں کہہ چکے ہیں۔ قائد اعظم علی جناح نے ہمیشہ فلسطینی مسلمانوں کے موقف کی دوٹوک حمایت کی تھی اور اسرائیل کو جارح ملک قرار دیا تھا اس اعتبار سے دیکھا جائے تو فلسطینی مسلمان بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ معاشی مسائل اور سیاسی مصلحتیں اپنی جگہ لیکن پاکستان کے حکمرانوں کو اس حوالے سے چشم کشا رہنا چاہیے کہ امت مسلمہ جسم واحد کی مانند ہے اگر جسم کا ایک حصہ متاثر ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ مسئلہ فلسطین صرف فلسطینیوں کا ہی نہیں عالم اسلام کا مسئلہ ہے لہذا پاکستان کو اسی تناظر میں فیصلہ کرنا ہوگا ۔اس حوالے سے کوئی بھی مصلحت وقتی تو ہو سکتی ہے مستقل نہیں ۔ جہاں تک ہمارے ہاں درپردہ اسرائیل کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کی بات ہے تو یہ عناصر آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ان عناصر کو جان لینا چاہئے کہ اگر یہ اپنی مذموم روش سے باز نہ آئے تو انھیں عوام کے سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مشرق وسطی کے لمحہ بے لمحہ بدلتے حالات عالم اسلام کو دعوت فکر دے رہے ہیں کہ وہ حق و باطل کے اس معرکہ میں متحد ہو جائیں اگر قبلہ اول کی آزادی کے لیے فیصلہ کن قدم نہ اٹھایا گیا تو پھر گزرا وقت ہاتھ نہیں آئے گا۔ غزہ کے محصور مسلمان مزید ظلم برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ غزہ سے اشیائے ضرورت اور ادویات تک ختم ہو چکی ہیں۔ اہل غزہ اس وقت مادی امداد کے ساتھ ساتھ افرادی اور عسکری امداد کے بھی منتظر ہیں ۔ ان حالات میں امت مسلمہ کو ہر وہ ممکن قدم اٹھانا ہوگا جس سے اہل فلسطین کے مصائب کم ہوں اور وہ نسل کشی سے محفوظ رہ سکیں ۔
    شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات !

  • حماس تحریک فلسطین پر قابض؟

    حماس تحریک فلسطین پر قابض؟

    دہشت گردی کی نئی لہر میں اسرائیلی حملوں میں فلسطینیوں کی تباہی اور بربادی کے حملے میں کوئی دو رائے نہیں ،اس کا آغاز غزہ کے عسکریت پسندوں نے 7 اکتوبر کو اسرائیلی قصبوں کی طرف ہزاروں راکٹ فائر کرنے کے ساتھ، تاروں کی بھاری باڑ کو توڑ کر اسرائیلی بستیوں میں اپنی فوج بھیجنے سےکیا

    حماس کے مینڈیٹ کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ محسوس کیا جا سکے کہ ایک انتہائی منصفانہ فلسطینی تحریک کو ‘مطلق پسند’ نقطہ نظر کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ حماس دو ریاستی نظریہ کے سیاسی حل کی حمایت نہیں کرتی۔ بنیادی طور پر فلسطینی ایسا چاہتے ہیں۔ اس لیے اسرائیل اور سعودی عرب کا معاہدہ جو اس وقت مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے تھا، یہ اب تاخیر کا شکار ہو چکا ہے۔ اگر مغربی کنارے میں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں طویل عرصے تک جاری رہیں تو یہ معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔

    حماس اسرائیل کو ایک غیر قانونی ریاست سمجھتی ہے اور اس نے ہمیشہ اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، ایسے نان سٹیٹ ایکٹرز یا تو بنائے جاتے ہیں یا بین الاقوامی میدان میں دوسرے اسٹیک ہولڈرز ان کی حمایت کرتے ہیں۔ ایران نے حماس اور فلسطین اسلامی جہاد سمیت مختلف فلسطینی عکسری گروپوں کو سالانہ 100 ملین ڈالر تک کا تعاون دیا ۔ سعودی عرب اور اسرائیل امن معاہدے کا مطلب ایران کے ساتھ جنگ ہے۔ "اگر سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے، تو ایران یہ سمجھے گا کہ ریاض اسرائیلی فوج کو ایران کے خلاف تیز حملے کرنے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرے گا، چاہے سعودی قیادت کا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہ ہو۔” [فارن پالیسی اگست 30، 2023]

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ صرف سعودی عرب ہی نہیں، بلکہ اگر کوئی اور خلیجی ملک اسرائیل کے ساتھ زیادہ نرمی اختیار کرتا ہے تو ایران کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آئے گا۔

    سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ طے پانے والا معاہدہ ایران کے مفاد میں نہیں ، جس کا مقصد غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کو مضبوط کرنا ہے، یہ معاہدہ حماس کے خلاف ہے کیونکہ وہ اسرائیل کے وجود کو قبول نہیں کرتا۔ اس مقام پر حملہ فلسطینیوں کے طویل المدتی مفاد میں نہیں.

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • جنت کی بشارت اورجہنم کی وعیدیں،دینی و اخلاقی بحران کی انتہا

    جنت کی بشارت اورجہنم کی وعیدیں،دینی و اخلاقی بحران کی انتہا

    ‏ہمارے دینی اور اخلاقی بحران کی انتہاء یہ ہو چکی ہے کہ سیاسی جلسوں اور جلوسوں میں جانے پر کچھ لوگ جنت کی بشارتیں اور کچھ لوگ جہنم کی وعیدیں سنا رہے ہیں !!

    ‏دونوں طرف کے لوگوں سے درخواست ہے کہ ایسی فتوے بازی سے گریز کریں۔ ایسے بیانات اللہ کے دین سے مذاق کے مترادف ہیں۔

    ‏حدیث : "من مشى مع ظالم ليعينه وهو يعلم أنه ظالم فقد خرج من الإسلام”

    ‏اوس بن شرحبیل ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص ظالم کے ساتھ چلتا ہے تا کہ وہ اس کو تقویت پہنچائے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے ، ایسا شخص اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ۔ البہقی فی شعبِ الایمان۔

    ‏کسی بھی لیڈر کی غیر مشروط معاونت اور اطاعت ہلاکت کا باعث ہوتی ہے۔ صرف خیر میں معاونت ہونی چاہیئے اور شر میں ایسے لیڈر کو روکنا اور اسکی مخالفت عین ایمان کا تقاضا ہے۔
    ‏اللہ ہمیں شعور اور دین اسلام کے ساتھ اخلاص عطا کرے۔ آمین

    واضح رہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے سابق لیگی ایم این اے اسد الرحمن کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں وہ ایک کارنر میٹنگ سے خطاب کر رہے ہیں، ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ میں تفصیل میں نہیں چاہتا،میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں‌کو حکم دیا کہ یہاں جتنے لوگ اکٹھے ہیں سب لاہور میں ہوں گے، اللہ نے فرشتوں کو کہاہے کہ یہان جتنے لوگ ہیں سب کے نام لکھ دو بغیر حساب کے سب جنت میں جائیں گے،جتنے آپ آ گئے وہ جنتی ہیں،میں سرٹفکیٹ دیتا ہوں کہ جو یہاں آئے وہ بھی جنتی اور جو لاہو ر جائیں گے وہ بھی جنتی، میں لکھ کر دیتا ہوں، میں ٹکٹ کی خاطر اس لئے نہیں کہہ رہا ، اسوقت ن لیگ سے بہتر کوئی قیادت نہیں، یہ فرشتے ہیں.

    نواز شریف نااہلی معاملہ دوبارہ عدالت میں جائے گا. ماہر قانون کا دعویٰ

    کیا نواز شریف انتخاب لڑ پائیں گے یا پھر تاحیات نااہل؟

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ فیصلے کا نواز شریف پر کوئی اثر نہیں ہوگا. شہباز شریف

    نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو وہ واپس نہیں آئیں گے . فیصل کریم کنڈی

    پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر فیصل کی نواز شریف سے الودعی ملاقات، ویڈیو لیک

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

    نواز شریف کی وطن واپسی، قانونی ٹیم نے حکمت عملی تیار کرلی

  • مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے کردار کے حوالے سے پاکستان کی دانشمندانہ سفارتکاری

    مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے کردار کے حوالے سے پاکستان کی دانشمندانہ سفارتکاری

    امت مسلمہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے عوامی بیانیٔے کی پیروی اور فلسطینیوں کی حالت زار کو بیان کرنا چاہئے جنہیں بلاشبہ سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی سیاست کے پیچیدہ منظر نامےکو دیکھتے ہوئے پاکستان کو انتہائی احتیاط برتنی چاہیے اور پاکستان کو اپنے قومی مفادات کو ہر چیز سے بالاتر رکھنے کی ضرورت ہے۔

    ایک جامع نقطہ نظر حاصل کرنے کے لیٔے،ماضی کی طرف جاتے ہیں اور وسیع تر سیاق و سباق پر غور کرتے ہیں۔ 2016-17 میں، مصر نے سینائی کے علاقہ میں اسلامک اسٹیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیٔے، حماس کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت کو تسلیم کیا، جو تنظیم کے متعلق، اس کے پچھلے موقف میں اہم تبدیلی تھی۔ اس نقطہ نظر کی وجہ سے مصر نے 2018 سے منتخب تجارتی سامان کو صلاح الدین بارڈر کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل کرنے کی اجازت دی۔ 2021 سے، خبروں کے مطابق، حماس غزہ میں مصری درآمدات پر ٹیکس کی مد میں ہر ماہ ایک اندازے کے مطابق 12 ملین ڈالر جمع کر رہی ہے۔

    امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق، ایران حماس کے ایک اہم فنانسر کے طور پر سامنے آیا ہے، جو حماس اور فلسطین اسلامی جہاد سمیت مختلف فلسطینی عسکری گروپوں کو سالانہ 100 ملین ڈالر تک کا تعاون کرتا ہے۔ اس کے برعکس، ٹائمز میگزین کے مطابقہ امریکی کانگریس نے حماس کے خلاف کوششوں کو تقویت دینے کے لیے تقریباً 2 بلین ڈالر کا امدادی پیکج تجویز کیا ہے۔

    حماس نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے بھی اہم فنڈنگ حاصل کی ہے، اسرائیلی حکام نے 2020 اور 2023 کے درمیان تقریباً 41 ملین ڈالر ضبط کیٔے، اسکو وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے۔ مزید 94 ملین ڈالر مبینہ طور پر متعلقہ ادارہ فلسطینی اسلامی جہاد کے پاس ہیں۔

    دشمنیوں میں حالیہ اضافہ، طویل عرصہ سے جاری کشیدگی جو کئی مہینوں سے بڑھ رہی تھی۔ جس کی وجہ سے معصوم جانوں کا المناک نقصان ہوا۔ اس تنازعے کی دل دہلا دینے والی تصاویر اور کہانیاں دنیا کو چونکاتی رہتی ہیں۔

    اس پیش رفت کو جاری سفارتی مذاکرات کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ سعودی عرب، امریکہ اور اسرائیل تین طرفہ مذاکرات میں مصروف ہیں، واشنگٹن نے یروشلم کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ریاض کو یقین دہانیاں کروائی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، اسرائیل تجارتی معاہدوں کی تلاش کر رہا ہے، جس میں یورپ کو گیس کی ممکنہ برآمدات، اور ترکی جیسی مختلف ریاستوں کے ساتھ تجارتی راہداری شامل ہیں۔ اسرائیل اور سعودی عرب کے ساتھ بات چیت میں مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کو مضبوط کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ تاہم، اگر مغربی کنارے میں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں طویل عرصے تک جاری رہیں تو یہ معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔ یہ الزامات کہ ایران نے حالیہ حملے میں مرکزی کردار ادا کیا، جیسا کہ اسرائیل کے حامی دھڑوں کی طرف سے کہا جا رہا ہے، معاہدے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حماس تقریباً ایران کے لیے ایک پراکسی ہے۔ الجزیرہ نے 15 اکتوبر 2023 کی رپورٹ میں کہا کہ ایران نے اسرائیل کو علاقائی کشیدگی سے خبردار کیا ہے اگر اسرائیلی فوج غزہ میں زمینی حملے کے لیے داخل ہوتی ہے تو ایران بھی اس جنگ میں کود پڑے گا.

    تازہ ترین خبروں کے مطابق، سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ معاہدے کو موقوف کر دیا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے، کیونکہ ریاض خطے میں کشیدگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ امریکہ اس معاہدے میں کتنی دلچسپی رکھتا ہے۔

    اس پیچیدہ سفارتی منظر نامے کے پیش نظر پاکستان کو غیر جانبدار رہنا چاہیے، اور فریقین کا موقف اپنالینے سے گریز کرنا چاہیے۔ عوامی بیانیہ کے آگے جھکنے کے بجائے، اسے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دینی چاہیے اور اس پیچیدہ بین الاقوامی منظر نامے پر احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    حماس کا وجود مٹانا ہو گا،تاہم غزہ پر اسرائیلی قبضہ غلطی ہو گی،امریکی صدر

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

  • افغان مہاجرین کی گھر واپسی

    افغان مہاجرین کی گھر واپسی

    حالیہ پیش رفت میں، پاکستانی حکومت نے تمام غیر قانونی تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو یکم نومبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کا الٹی میٹم جاری کیا ہے، جس کی تعمیل کرنے میں ناکام رہنے والوں کے لیے ممکنہ گرفتاریوں اور جبری ملک بدری کا انتباہ دیا گیا ہے۔ اس کے جواب میں، کابل میں طالبان انتظامیہ کے ترجمان نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان شہریوں کو پاکستان کے سیکیورٹی مسائل کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔

    اس فیصلے کے پیچھے محرک عوامل میں سے ایک پاکستان کے اندر دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہے۔ وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا تھا کہ رواں برس بڑی تعداد میں خودکش بم حملے ہوئے جن میں "24 میں سے 14” افغان شہریوں کی جانب سے کیے گئے۔

    اس صورت حال کے قانونی تناظر کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے، یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ پاکستان مہاجرین کی حیثیت سے متعلق 1951 کے کنونشن یا مہاجرین کی حیثیت سے متعلق 1967 کے پروٹوکول کا فریق نہیں ہے۔ نتیجتاً، پاکستان ان افراد کو غیر معینہ مدت تک پناہ دینے کا پابند نہیں ہے۔ تاہم، خیر سگالی اور ہمسائیگی کی حمایت کی علامت کے طور پر، پاکستان نے ابتدائی طور پر افغان مہاجرین کو پناہ گزینوں کا درجہ دیا [UNHCR، ‘افغانستان کی واپسی 2002’ پر 5؛ UNHCR، ‘حل کی تلاش؛ UNHCR کے 25 سال – افغان مہاجرین پر پاکستان کا تعاون، جون 2005 میں 17]۔

    اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ پناہ گزینوں کی یہ صورتحال ہمیشہ عارضی نوعیت کی رہی ہے کہ ان کے گھریلو حالات بہتر ہونے پر اسے واپس لیا جائے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، UNHCR اور پاکستان کے درمیان مسلسل معاہدوں کے نتیجے میں ان کے قیام کی مدت میں توسیع ہوئی ہے، لیکن کسی بھی موقع پر ان کی موجودگی کو مستقل کرنے کا نہیں کہا گیا

    مقامی رپورٹس کے مطابق پاکستان کا اس اقدام کا مقصد تمام افغانوں بشمول قانونی حیثیت اور پاکستانی رہائشی کارڈ کے حامل افراد کو ملک چھوڑنا ہے [BBC News]۔ اس اقدام کو پاکستان کے اندر سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیوں کہ بعض مہاجرین نے مبینہ طور پر دہشتگرد افراد کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی ہیں۔

    یہ واضح ہے کہ پاکستان نے ابتدائی طور پر افغان پناہ گزینوں کی مہمان نوازی کی، لیکن اب سیکورٹی کے بدلتے ہوئے منظر نامے نے صورتحال کا از سر نو جائزہ لیا ۔ یہ ضروری ہے کہ افغان مہاجرین کی روانگی منظم طریقے سے ہونی چاہئے، اس عمل کے دوران ان کی حفاظت اور بہبود کو یقینی بنایا جائے۔

    جب ہم ان چیلنجوں کا تذکرہ کرتے ہیں تو حضرت علی علیہ السلام کے ان الفاظ کو یاد رکھنا ضروری ہے: "جس کے ساتھ نیکی کرو اس کے شر سے بچو۔” تحفظ کے ساتھ صنفی توازن ایک پیچیدہ کام ہے، لیکن اس صورتحال میں ملوث تمام اسٹیک ہولڈرز کے خدشات کو دور کرنا ناگزیر ہے۔

  • ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

    ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

    تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
    ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

    شان الحق حقی
    شاعر ابن شاعر، ماہر لسانیات، محقق و مترجم

    11 اکتوبر : یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    60 سے زائد کتابوں کے مصنف ، ماہر لسانیات ، نقاد ، شاعر اور مترجم شان الحق حقی 15 ستمبر 1917 میں دہلی میں معروف شاعر اور مترجم مولانا احتشام الحق حقی المعروف ناداں دہلوی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ وہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی کے خانوادے کی تیرہویں پیڑھی سے تھے اور ڈپٹی نذیر احمد کے پڑ نواسے تھے۔ ان کے والد ایک عالم ، و شاعر اور مترجم تھے جنہوں نے دیوان حافظ شیرازی اور رباعیات عمر خیام کا فارسی زبان سے اردو زبان میں ترجمہ کیا۔ شان الحق حقی اڑھائی سال کی عمر کو پہنچے تو ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ہو گیا چناں چہ انہیں ان کی پھوپھی کے پاس پشاور بھیج دیا گیا مڈل تک انہوں نے پشاور میں تعلیم حاصل کی جس کے بعد واپس دہلی لائے گئے ۔ دہلی اور علی گڑھ سے اعلی تعلیم حاصل کی ۔ لندن میں ذرائع ابلاغ کا کورس بھی مکمل کیا۔ قیام پاکستان کے فوری بعد اگست 1947 میں وہ اپنے خاندان کے ہمراہ دہلی سے کراچی منتقل ہو گئے ۔ وہ کراچی سے شائع ہونے والے ” ماہ نو” کے دو سال تک چیف ایڈیٹر رہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن ، فلمسازی اور یونائٹڈ اشتہارات کراچی کے ڈائریکٹر اور آرٹس کونسل کی مجلس انتظامیہ کے رکن و دیگر کئی سرکاری و غیر سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے سب سے اہم علمی کام آکسفرڈ ڈکشنری کا اردو زبان میں ترجمہ کیا جو کہ 22 جلدوں پر مشتمل ہے جس کی اب تک 25 لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں ۔ ان کی دیگر تصانیف میں ، انتخاب کلام ظفر، انجان راہی (امریکی ناول گار جیک شیفر کے ناول SHANE کا ترجمہ) تار پیرہن(منظومات) دل کی زبان، پھول کھلے ہیں ، نکتہ راز، افسانہ در افسانہ(خود نوشت / سوانح حیات ) حرف دل رس (غزلوں کا مجموعہ)، شاخسانے، نقد و نگارش، ، آئینہ افکار غالب، درپن درپن(مختلف زبانوں کی شاعری کا ترجمہ)، لسانی مسائل و لطائف ، نوک جھونک ،سہانے ترانے، حافظ ایک مطالعہ، لسان الغیب، تیسری دنیا، صور اسرافیل(بنگالی شاعر قاضی نذرالسلام کی نظموں کا ترجمہ) ن، نوائے ساز شکن (ان کی شاعری کا آخری مجموعہ) و دیگر کتب شامل ہیں ۔ وہ اردو، عربی، فارسی، انگریزی ، ہندی ، سنسکرت ، ترکی اور فرانسیسی زبان پر عبور رکھتے تھے ۔
    حکومت پاکستان کی جانب سے شان الحق حقی صاحب کو ان کی اعلی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز اور قائد اعظم ایوارڈ ایوارڈ دیا گیا جبکہ اسلام آباد میں ایک سڑک ” شان الحق حقی روڈ” کے نام سے منسوب کیا گیا ۔ 11 اکتوبر 2005 میں کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے ایک ہسپتال میں داخل پھیپڑوں کے سرطان کے دوران علاج ان کا انتقال ہوا اس موقع پر ان کی اہلیہ سلمی Salma اور بیٹا شایان حقی وہاں پر موجود تھے ۔

    نمونہ کلام (جسے ناہید اختر نے خوب صورت آواز میں گایا ہے)
    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
    ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

    دل کے ماروں کا نہ کر غم کہ یہ اندوہ نصیب
    زخم بھی دل میں نہ ہوتا تو کراہے جاتے

    کم نگاہی کی ہمیں خود بھی کہاں تھی توفیق
    کم نگاہی کے لئے عذر نہ چاہے جاتے

    کاش اے ابر بہاری ترے بہکے سے قدم
    میری امید کے صحرا میں بھی گاہے جاتے

    ہم بھی کیوں دہر کی رفتار سے ہوتے پامال
    ہم بھی ہر لغزش مستی کو سراہے جاتے

    لذت درد سے آسودہ کہاں دل والے
    ہیں فقط درد کی حسرت میں کراہے جاتے

    ہے ترے فتنۂ رفتار کا شہرا کیا کیا
    گرچہ دیکھا نہ کسی نے سر راہے جاتے

    دی نہ مہلت ہمیں ہستی نے وفا کی ورنہ
    اور کچھ دن غم ہستی سے نباہے جاتے

    شان الحق حقی

  • پاکستان میں بنیاد پرستی کا ارتقاء

    پاکستان میں بنیاد پرستی کا ارتقاء

    انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کے درمیان واضح فرق کرنے کی ضرورت ہے۔ بنیاد پرستی انتہا پسندی کا پیش خیمہ ہے۔ بہرحال یہ ممکن ہے کہ کوئی بنیاد پرست ہو لیکن انتہا پسند نہ ہو۔ لیکن ایک انتہا پسند کا بیک وقت انتہا پسند اور بنیاد پرست دونوں ہونا ضروری ہے۔ ایک بنیاد پرست فرد یا بنیاد پرست لوگوں کا گروہ انتہائی مذہبی، سیاسی اور سماجی عقیدہ تیار کرتا ہے۔ تاہم، پرتشدد انتہا پسندی بنیاد پرست لوگوں کا ایک ایسا گروہ ہے جو دھمکیوں، خوف اور دہشت گردی کا استعمال کرکے تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔

    اگر ہم اسے وسیع تر معاشرتی نقطہ نظر سے دیکھیں تو بنیاد پرستی کو ایسے لوگوں کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے جو بہت مختلف عقائد پر یقین رکھتے ہیں لیکن "دوسروں” کی قیمت پر نظام کو تبدیل کرنے کے خواہاں نہیں ہیں۔ یہ ایسا کرنے کے لیے پرتشدد انتہا پسندانہ طریقوں کی تلاش نہیں کرتے، دوسری طرف انتہا پسندی اپنے سیاسی ایجنڈے کو دوسروں کی قیمت پر نافذ کی جاتی ہے،

    ہم اکثر دونوں اصطلاحات کو مترادف استعمال کرتے ہیں۔ لیکن واضح طور پر، وہ ایسے نہیں ہیں.

    پاکستان میں بنیاد پرستی کی بنیاد بڑے پیمانے پر رکھی گئی تھی، [میں لفظ "بڑے پیمانے پر” استعمال کرتی ہوں] اس ایک عمل سے: پاکستان کے آئین 1973 میں قرارداد مقاصد کو شامل کرنے سے قانونی الجھنیں پیدا کرنے میں ایک سنگ میل کے طور پر کام کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں منفی سماجی اثرات مرتب ہوئے۔

    ملک کا نام جمہوریہ پاکستان سے تبدیل کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کر دیا گیا۔ قلم کی ضرب سے قوم کے کردار میں ڈرامائی تبدیلی آ گئی۔ بحث چھڑ گئی کہ پاکستان کیسا ملک ہونا چاہیے۔ نئے فریم ورک میں فٹ ہونے کے لیے سمجھوتے کیے گئے۔

    اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیا گیا (آرٹیکل 2)۔ ریاست اور مذہبی کے درمیان تعلق ایک پرانی بحث ہے۔ تاہم، کسی بھی قانونی دستاویز میں دو عناصر جنہیں ایک دوسرے کے متوازن رکھنا چاہیے وہ مساوات اور مذہب کی آزادی کے اصول ہیں

    بدقسمتی سے، ریاست اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے اسلام کو سیاسی طور پر استعمال کیا گیا، جس کی وجہ سے مختلف مذہبی تنظیموں اور مختلف فرقوں کے علماء کی حمایت کی گئی۔ ان قانونی الجھنوں اور پھیلاؤ کے اثرات نے پاکستان کو ایک جدید فعال ریاست کے طور پر کام کرنے کے لیے سخت آزمائش میں ڈالا ہے۔

    ان الجھی ہوئی گرہوں کو کھولنے کے لیے سنجیدہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کسی بھی طرح سے کثیر داخلی اور خارجی عوامل کی تردید نہیں کرتا، جو پیچیدہ معاملات رکھتے ہیں لیکن یہ ایک نئے دن کے لئے ایک نئی بحث ہے۔

  • کو ن تنازعات  کو حل کروائے گا؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    کو ن تنازعات کو حل کروائے گا؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    امریکہ سمیت عالمی طاقتوں ، اقوام متحدہ ،او آئی سی ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے سامنے صدیوں سے فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔لاکھوں انسان موت کی آغوش میں چلے گئے۔ جنگ کا خمیازہ ہمیشہ عوام کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان تازہ ترین جنگ میں عام لوگ ہی اس کی زد میں ہیں۔ مخلوق خدا کا خون سڑکوں ، گلیوں ، محلوں میں بہہ رہا ہے ۔ عورتوں اور بچوں کا بھی خون اور لاشیں سڑکوں پر نظر آرہی ہیں۔

    فلسطین اوراسرائیل کا تنازعہ صدیوں سے چلا آرہا ہے اگر امریکہ سمیت عالمی طاقتیں اور دیگر عالمی ادارے صدیوں پر مشتمل یہ تنازعات حل نہیں کروا سکے تو پھر کو ن تنازعات کو حل کروائے گا؟ ۔ عراق ، افغانستان ، شام ، لیبیا ، فلسلین ، کوسوو ، بو سنیا اور میانمار لاکھوں مکانوں کو شہید کردیا گیا موجودہ دور کو تاریخ کا بدترین دور کہا جا سکتا ہے ۔ ان ممالک میں سب کچھ عالمی دنیا اور عالمی اداروں اور امیر ترین مسلم ممالک کے سامنے ہو ا۔ مسلمان ممالک کی اکثریت کو یہ اُمید ہوتی ہے کہ امیر ترین عرب ممالک ان کی مدد کریں گے۔ مگر آج عرب ممالک خود اپنی پالیسیوں کی بدولت مال و دولت کے باوجود مصیبت زدہ ہیں۔ دنیا بھر کے مسلم ممالک غور کریں مسلمان ممالک دنیا کی کمزور ترین قوم کیوں ہیں؟ علم سے دوری بیشتر ممالک ، دوسری قوتوں کے رحم وکرم پر ہیں۔

    جذباتی تقریر یں نہیں عمل کی ضرورت ہے۔ علماء کرام کا عالم یہ ہے جو اپنے مائیک کی تار ٹھیک نہیں کر سکتا وہ اغیار کو نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں ۔ دنیا پر غالب آنے کی بات کرتے ہیں۔ مسلمان ابھی تک استنجا خانے صاف رکھنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ رَبِ زِدنِی علماکو چھوڑ دیا ۔ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کو چھوڑ دیا۔ جہاں تک تازہ ترین فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازعات طول پکڑ رہے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں بھی تو عالمی دنیا کو سمجھنا چاہیئے کہ اگر غزہ میں زندگی جہنم ہو تو اسرائیل کبھی جنت نہیں ہوگا اور یہی کچھ بھارت کے لئے بھی ہے۔

  • کینیڈا اور بھارت کے درمیان بڑھتے تنازعات

    کینیڈا اور بھارت کے درمیان بڑھتے تنازعات

    کینیڈا اور بھارت کے درمیان تناؤ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، بھارت نے تقریباً 40 کینیڈین سفارتی عملہ کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے، اور متنبہ کیا ہے کہ جو لوگ 10 اکتوبر کے بعد رہیں گے ان کا سفارتی استثنیٰ ختم ہو جائے گا

    یہ لڑائی تب شروع ہوئی جب کینیڈا نے خدشات کا اظہار کیا کہ کینیڈا کی سرزمین پر سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل میں بھارت ملوث ہو سکتا ہے۔ بھارت نے سختی کے ساتھ قتل میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کی، کینیڈا نے بھارتی حکومت کو اس افسوسناک واقعے کے پیچھے سچائی سے پردہ اٹھانے کے لیے تحقیقات میں تعاون کرنے کی پیشکش کی۔ لیکن افسوس کے ساتھ، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت نے اس پیشکش کو ٹھکرایا۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود، کینیڈا اپنی سرحدوں کے اندر بھارتی شہریوں کو قونصلر خدمات فراہم کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

    کینیڈا میں بھارتی تارکین وطن کی کافی آبادی ہے، جس میں تقریباً 20 لاکھ بھارتی شہری مقیم ہیں۔ جاری سفارتی تنازعہ کے درمیان اس آبادیاتی گروپ کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے

    مونٹریال کی یونیورسٹی آف کیوبیک میں اسٹریٹجک اور سفارتی مطالعات کے پروفیسر چارلس-فلپ ڈیوڈ کہتے ہیں، "اوٹاوا کو اپنی سرزمین پر غیر ملکی مداخلت کے بارے میں "طویل عرصے سے” وارننگ سگنل مل رہے ہیں۔ [مونٹریال AFP بذریعہ FRANCE24 dtd 09/21/2023]

    اگر ڈیوڈ کے مشاہدات درست ثابت ہوتے ہیں تو، نجار کے قتل کے معاملے میں پہلے کینیڈا کو فعال اقدامات کرنے سے بہتر طور پر پیش کیا جا سکتا تھا۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ آخر کار نجار کو کس نے قتل کیا اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہی نہیں، بلکہ اس مقام سے آگے بڑھنے کے لیے دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت ہوگی۔ موجودہ حالات کے پیش نظر، دونوں ممالک بھارت اور کینیڈا کے آپسی مسائل کے حل کی کوششوں کو تیز کرنا اور مزید پیچیدگیوں سے بچنا ہی سمجھداری کا کام ہے۔ کیوں نہ بہانے چھوڑیں اور منزل پر پہنچیں اور سب کو کثیر پریشانی سے بچائیں؟

  • پاکستان میں افغان مہاجرین کے خطرے کا از سر نو جائزہ

    پاکستان میں افغان مہاجرین کے خطرے کا از سر نو جائزہ

    2007 میں، پاکستان نے اپنی سرحدوں کے اندر افغان مہاجرین کے لیے رجسٹریشن کا عمل شروع کیا، رجسٹریشن کا ثبوت (POR) کارڈ جاری کیا۔ ان کارڈز میں عارضی قانونی حیثیت، نقل و حرکت کی آزادی، اور فارنرز ایکٹ 1946 سے استثنیٰ کی پیشکش کی گئی تھی۔ اصل میں یہ 2017 تک جاری رہنے کا ارادہ تھا، افغانستان میں جاری عدم استحکام کی وجہ سے اس انتظام کو بڑھایا گیا تھا۔ اس کے بعد، کسی بھی نئے افغان پناہ گزین کو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) کے ذریعے کیے گئے مہاجرین کی حیثیت کے تعین کے طریقہ کار سے گزرنا پڑا۔

    یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ پاکستان میں افغان مہاجرین کو مستقل رہائش کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک پر جو پہلے ہی معاشی اور سیاسی چیلنجز سے نبرد آزما ہیں، مہاجرین کی آمد سے مزید بوجھ نہیں بڑھ سکتا۔ مہاجرین کی آڑ میں پاکستان میں داخل ہونے والے افرادسے معاشی دباؤ میں اضافہ ہواجو ممکنہ طور پر اضافی مسائل کا باعث بن سکتے ہیں۔

    اس پروگرام کا بنیادی مقصد افغانوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنا تھا جنہیں امریکہ کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے طالبان کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس میں وہ لوگ شامل ہیں جو اسپیشل امیگریشن ویزا (ایس آئی وی) پروگرام کے لیے اہل نہیں ہیں، جس میں مترجموں اور دیگر لوگوں کو شامل کیا گیا ہے، جنہوں نے امریکہ کی حکومت کے لیے کام کیا

    اکتوبر 2020 کی UNHCR کی رپورٹ کے مطابق، تقریباً 50 لاکھ افغان اپنے آبائی ملک سے باہر بے گھر ہوئے، جن میں سے 90 فیصد کی میزبانی پاکستان اور ایران نے کی۔ (ماخذ: UNHCR. CITATON: "ایران میں پناہ گزین،” https://www.unhcr.org/ir/refugees-in-iran/

    تاہم افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان کے اندر دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ افغان پناہ گزینوں کی موجودگی سے پیدا ہونے والے سیکورٹی خطرات ایک سنگین تشویش کا باعث بن چکے ہیں۔

    مزید افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کا اسمگلروں نے فائدہ اٹھایا۔ اس غلط استعمال میں اہم کردار ادا کرنے والا ایک اہم عنصر پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے اکتوبر 2022 میں کراچی کی بندرگاہوں اور پورٹ قاسم پر "ان ٹرانزٹ ٹو افغانستان” کے طور پر سامان کی مہر لگانے کو روکنے کا فیصلہ تھا۔ دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ کے مطابق، اس معطلی نے ایک خامی پیدا کر دی ہے، جس سے افغانستان کے لیے تیار کردہ مصنوعات پر ٹیکس اور کسٹم فیس بغیر ادائیگی کی جا سکتی ہے جب انہیں پاکستان واپس کیا جاتا ہے۔

    پاکستان میں افغان مہاجرین کی صورتحال پیچیدہ اور کثیر الجہتی ہے۔ جہاں ایک انسانی پہلو پر غور کرنا ہے، وہیں سیکورٹی اور اقتصادی خدشات کو بھی دور کرنا ہوگا۔ پاکستان کو پناہ گزینوں کی اس آبادی کو سنبھالنے میں اہم چیلنجز کا سامنا ہے، اور ایک متوازن اور پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے UNHCR جیسی بین الاقوامی تنظیموں کی مشاورت سے صورتحال کا از سر نو جائزہ لینا ضروری ہے۔