Baaghi TV

Category: متفرق

  • اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    نام کتاب : اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات
    مﺅلف : عبدالمالک مجاہد
    ناشر دارالسلام انٹرنیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    صفحات : 304
    برائے رابطہ : 042-37324034
    پیش نظر کتاب ” اخلاق نبوی ﷺ کے سنہرے واقعات اپنے موضوع پر شاندار ، لاجواب اور خوبصورت کتاب ہے جسے دارالسلام انٹر نیشنل کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد نے بڑی محبت ، محنت اور جانفشانی سے ترتیب دیا ہے ۔کتاب میں اخلاق نبوی کے چیدہ چیدہ 100واقعات جمع کردیے گئے ہیں ۔ نبی ﷺ کے اخلاق وکردار کو عام کرنے ، پڑھنے اور سمجھنے کا شوق رکھنے والوں کے لیے یہ بیمثال ہدیہ ہے ۔بات یہ ہے کہ سیرت النبی ﷺ کا اصل پیغام انسانوں کے اخلاق وکردار کی اصلاح ہے ۔سیرت النبی ﷺ کا پیغام دوسروں تک پہنچانے کی ہر دور میں ضرورت رہی ہے ۔ فی زمانہ اس کی ضرورت اس اعتبار سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے کہ معاشرے میں رواداری، تحمل اور برداشت کا فقدان ہے ۔بدتہذیبی اور بداخلاقی حد سے بڑھتی جارہی ہے اس کاحل صرف ایک ہی ہے کہ نبی ﷺ کے اخلاق وکردار کو عام کیا جائے ۔ پیش نظر کتاب اس موضوع پر رہنما کتاب کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اخلاق کے معنی بے حد وسیع ہیں ۔ تمام اچھی صفات کے مجموعے کا نام اخلاق ہے ۔ دنیا کے انسانوں میں پائی جانے والی تمام اعلیٰ و ارفع صفات کو جمع کیا جائے اور پھر ان کا اللہ کے رسول ﷺ کی مبارک زندگی کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ تمام خوبیاں اللہ کے رسول ﷺ کی ذات با بر کات میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں کیونکہ آپ کی تربیت خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی تھی ۔ آپ ﷺ کا تزکیہ اس خوبصورت انداز میں فرمایا کہ آپ اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اخلاق والے بن گئے ۔ سیرت کے حوالے سے قرآن و حدیث اور کتب سیرت و تاریخ میں بے شمار معلومات اور واقعات ملتے ہیں ۔ ان واقعات میں اللہ کے رسول ﷺ کے اخلاق کی جھلکیاں نظر آتی ہیں جن سے ہمیں آپ ﷺ کے اعلیٰ اخلاق کے بارے میں راہنمائی ملتی ہے ۔ سیرت سرور عالم ایک سدا بہار موضوع ہے ۔ ایسا موضوع جس کی خوشبو سے کبھی مسلمان سیر نہیں ہوتے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت مطہرہ پر صدیوں سے لکھا جارہا ہے اور قیامت تک لکھا جاتا رہے گا ۔ ہر مﺅلف اپنے انداز میں اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ محبت اور پیار کا اظہارکرتا ہے اور ان کی سیرت پاک کے مختلف پہلو نمایاں کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ بلاشبہ سیرت پاک پر مختلف زبانوں پر آج تک ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ کے ہر پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے ۔ آپ کی مبارک زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جسے سیرت نگاروں نے بیان نہ کیا ہو ۔

    یاد رکھیے ! کسی بھی شخصیت کے بارے میں جاننا ہوکہ اس کے اخلاق کیسے ہیں تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کا برتاﺅ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ، رشتہ داروں ، دوستوں ، گھر والوں ، ہمسایوں اور مخالفین کے ساتھ کیسا ہے ۔ سب سے پہلے اس کے اخلاق کے بارے میں معلوم کیا جاتا ہے ۔ جہاں تک اللہ کے رسول ﷺ کا تعلق ہے تو ان کی تربیت خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی تھی ۔ آپ کا تزکیہ اس خوبصورت انداز میں فرمایا کہ آپ ﷺ اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اخلاق والے بن گئے ۔اپنے اخلاق وکردار کو سنوارنے کے لیے زیر تبصرہ کتاب ” اخلاق نبوی ﷺ “ کے سنہرے واقعات “ ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔کتاب کے مﺅلف عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں میں نے پوری کوشش کی ہے کہ اس کتاب میں کوئی من گھڑت ، موضوع ، ضعیف یا خود ساختہ واقعہ درج نہ ہونے پائے ۔ دارالسلام کی اعلیٰ روایات کے مطابق یہ کتاب دیدہ زیب سرورق اور عمدہ جلد بندی کے ساتھ شائع کی گئی ہے ۔ یہ کتاب ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے مرد وخواتین ، بچوں اور جوانوں کےلئے لاجواب تحفہ ہے ۔کتاب کی اہمیت کااندازہ کتاب میں دیے گئے موضوعات سے کیا جاسکتا ہے ۔ کتاب میں شامل کئے گئے چند ایک واقعات کے عنوانات درج ذیل ہیں : ” پیارے بچے ! جاﺅ میرا یہ کام تو کر آﺅ ، جاﺅ بہن ! تمہاری خاطر ان مجرموں کو معاف کیا ، دشمن جاں پر مہربانی ونوازش ، پیارے ساتھی تم شادی کیوں نہیں کرلیتے ، جب بیٹا باپ کے سامنے تلوار سونت کر کھڑا ہوگیا ، انھیں جب بھی دیکھا آنکھیں بے اختیار بہنے لگیں ، بھٹکا ہوا خوش قسمت راہی ، غزوہ احد سے بھی زیادہ مشکل دن ، امام الانبیاءکی پاکیزہ جوانی ، میں تو نبوت کی نشانیاں تلاش کررہا تھا ، بچوں پر شفقت اعلیٰ اخلاق کی علامت ، معمولی چرواہے کے لیے منصب جلیل ، گھر میں آکر گالی دینے والوں کے لیے بھی معافی ، بہن کااکرام واحترام ، وہ جو اللہ کے رسول ﷺ کو قتل کردینا چاہتی تھی ، باوفااہلیہ کی یادیں ، غلاموں ، یتیموں اور مسکینوں کے والی “ ۔ کتاب میں دیے گیے باقی موضوعات بھی اسی طرح دلچسپی کے حامل ہیں ۔ موضوع اور واقعاتی اعتبار سے اس کتاب کا ہر گھر میں ہونا اور ہرفرد کے لیے اس کا مطالعہ بے حد ضروری ہے ۔
    نام کتاب : اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

  • ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کیجیے

    ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کیجیے

    پاکستان ،ان دنوں کئی مسائل کا شکار ہے، ایک طرف دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر ہے تو دوسری جانب مہنگائی، بے روزگاری نے غریب عوام کا جینا دو بھر کر دیا ہے، عوم سے غربت کے خاتمے کے وعدے کر کے حکومتیں کرنے والے عوام کے ساتھ ہر پانچ سال بعد وعدے ہی کرتے ہیں مگر عملی جامہ پہنانے کی توفیق نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام کے کسی بھی حکومت میں مسائل حل نہ ہوئے اور نہ ہی غربت، بے روزگاری میں کمی آ سکی،ایسے میں فلاح و رفاہی ادارے ، این جی اوز جو خدمت خلق کے جذبے سے سرشار عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہیں انکی خدمات لائق تحسین ہیں،

    ہیلپنگ ہینڈ کا معذور افراد کی بحالی کا پروگرام
    گزشتہ دنوں لاہور سے محترم سید امجد بخاری کی قیادت میں لاہور کے صحافیوں کے ہمراہ سوات کا دورہ کیا، دورے کے دوران جہاں وادی سوات کو دیکھنے کا موقع ملا وہیں ایک فلاحی تنظیم "ہیلپنگ ہینڈ” کے کام کو بھی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ، تین روزہ دورے میں ہیلپنگ ہینڈ کے تین مختلف پروگراموں میں شرکت کی، سب سے پہلے تالاش میں ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام معذور بچوں کے لئے بنائے گئے سنٹر کا دورہ کیا،معذوری رب کی طرف سے آزمائش،لیکن ہمارے معاشرے میں معذوری کو عیب سمجھا جاتا ہے ایسا ہر گز نہیں، میں خود دو ڈس ایبل بچوں کا والد ہوں، بڑے بیٹے نے سپیشل ایجوکیشن میں میٹرک کا امتحان رواں برس اے گریڈ میں پاس کیا ہے،چھوٹا بیٹا بھی زیر تعلیم ہے، سپیشل بچوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جائے تو وہ معاشرے کے کارآمد شہری ثابت ہوتے ہیں،ہیلپنگ ہینڈ بھی معذور بچوں کی فلاح کے لئے کام کر رہی ہے،تالاش میں وسیع و عریض مقام پر معذور بچوں کے لئے بنائے گئے سنٹر میں نہ صرف بچوں کا علاج معالجہ کیا جاتا ہے بلکہ انکی تعلیم و تربیت کا انتظام بھی کیا گیا ہے،سنٹر میں موجود ڈاکٹر طاہر نے اس موقع پر صحافیوں کو انتہائی مختصر بریفنگ دی اور سنٹر کا وزٹ کروایا، ڈاکڑوں کی ٹیم کیسے معذور بچوں کا علاج معالجہ دیکھ بھال کرتی ہے؟ اسکا بھی معائنہ کروایا گیا، ڈاکٹر طاہر نے بریفنگ میں بتایا کہ ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام پاکستان کے سات شہروں میں معذور بچوں کے لئے سنٹر ہیں، سماعت سے متاثرہ بچوں کا بھی علاج معالجہ کروایا جاتا ہے تو وہیں ذہنی معذور،چل نہ سکنے والے بچوں کا بھی علاج کیا جاتا ہے، تالاش،شہید بینطیر آباد، کراچی، کوئٹہ ، مانسہرہ ، لکی مروت بنوں، بہاولپور اور چکوال، مظفر آباد میں معذور بچوں کے لئے سنٹر ہیں جبکہ گلگت میں اگلے سال سنٹر بنانے کا پروگرام ہے جو جلد ہی کام شروع کر دے گا، ہیلپنگ ہینڈ کن علاقوں میں سنٹر بنا رہی ہے اس حوالہ سے ڈاکٹر طاہر کا کہنا تھا کہ ہم نے وہ علاقے منتخب کیے جہاں معذوری کی ریشو ہائی ہے۔ کے پی میں لوئر دیر میں معذوری کی ریشو زیادہ تھی اسلیے یہاں سنٹر بنایا،انہوں نے شکوہ کیا کہ معذور افراد کو وہ سہولیات معاشرے میں نہیں دی جاتیں جو انہیں ملنی چاہیے،معذور بچوں کے ب فارم تو بن جاتے ہیں لیکن انکا معذوری سرتفکیٹ نہیں بنوایا جاتا، معذور بچوں کا نارمل بچوں کی طرح خیال نہیں رکھا جاتا ، جو انکا حق ہے، ڈاکٹر طاہر نے تالاش میں سنٹر بارے مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ 1650 بچے معذور ہمارے پاس رجسٹرڈ ہیں ہمارے پاس ڈاکٹر ہیں جو بچوں کے علاج انکی ضروریات کا خیال کرتے ہیں بچوں کو واکر، ہیئرنگ ایڈ، وہیل چیئر فراہم کرتے ہیں، تھراپی بھی کروائی جاتی ہے،برتھ سرٹفکیٹ اور شناختی کارڈ بھی بنواتے ہیں ہمارے پاس جو 1650 بچے تھے ان میں سے 10 فیصد کے پاس کارڈ تھے،ہم نے باقیوں کے بھی بنوائے اب سب بچوں کے پاس ڈس ایبل کارڈ ہیں،جو بچے پڑھ سکتے ہیں انکو فری پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دیتے ہیں یونیفارم بھی دیتے ہیں، کوالیفائیڈ میڈیکل ڈاکٹر موجود ہیں جو ان بچوں کا علاج معالجہ کرتے ہیں،تالاش کے سنٹر میں 200 بچے ہیں، تمام سہولیات دیتے ہیں جو انکی ضرورت ہوتی ہے۔ڈاکٹر طاہر کا یہ بھی کہنا تھا کہ دنیا میں رہتے ہوئے اخروی زندگی بہتر کریں۔ ہیلپنگ ہینڈ اگر محدود وسائل کے ساتھ کام کر سکتا ہے تو حکومت کو بھی سوچنا چاہئے اور معذور افراد کی زندگی بہتر بنانے کے لئے کام کرنا چاہئے، معذوری کیوں ؟ اس پر ڈاکٹر طاہر کا کہنا تھا کہ معذوری کی ریشو مختلف ہیں کزن میرج بھی کہا جاتا ہے پانی کے ایشوز بھی ہو سکتے ہیں اس پر تحقیق کی ضرورت ہے،فیملی ان بچوں کو چھپا کر رکھتی ہے پڑھے لکھے لوگوں نے بچوں کو چھپا کر رکھا کیونکہ لوگ طعنے دیتے ہیں، جو بچے پڑھتے ہیں انکو پڑھائی کے ساتھ ساتھ ،سکل کے ساتھ ٹول بھی دیتے ہیں کمپیوٹر کی سکل، الیکٹریشن ، سیلز مین جو بچہ جو کام کر سکتا ہے اسکو کروایا جاتا ہے،تالاش کے سنٹر میں بریفنگ کے بعد ڈاکٹر معذور بچوں کا علاج کیسے کرتے ہیں؟ انکی تھراپی کیسے کی جاتی ہے؟ سب عملی طور پر صحافیوں کے سامنے کیا، سنٹر میں بچوں کے لئے تھراپی کے لئے مشینیں موجود ہیں ، ایکسرسائز بھی کروائی جاتی ہے، سماعت سے متاثرہ بچوں کو سپیچ تھراپی بھی کروائی جاتی ہے، سنٹر میں ایمبولینس بھی موجود ہے جو بچوں کو گھر سے سنٹر لانے اور واپس چھوڑنے کے لئے ہے، غرض معذور بچوں کے لئے ہیلپنگ ہینڈ مثالی کام کر رہی ہے

    جماعت اسلامی کے رہنما بھی ہیلپنگ ہینڈ کی خدمات کے معترف
    تالاش سے نکلے تو راستے میں جماعت اسلامی کے رہنما ،سابق صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ خان نے ظہرانہ دیا اور وہ بھی ہیلپنگ ہینڈ کے کاموں کی تعریف کئے بنا نہ رہ سکے، جماعت اسلامی کی اگرچہ الخدمت فاؤنڈیشن ملک بھر میں کام کر رہی ہے تا ہم عنایت اللہ خان ہیلپنگ ہینڈ کے بھی مداح نظر آئے اور انکے کام کو سراہا، عنایت اللہ خان کا کہنا تھا کہ ہیلپنگ ہینڈ اس علاقے میں بہت اچھا کام کر رہی ہے پانی کے منصوبوں پر کام جاری ہے ، انکا کام پھیلتا جا رہا ہے ، ہیلپنگ ہینڈ کے کوالٹی کے کام ہیں جن میں وسعت آ رہی ہے اس طرح کی آرگنائزیشن کو علاقے میں ویلکم کرتا ہوں ریاست ہر کام نہیں کر سکتی کچھ چیزیں کمیونٹی کو کرنی پڑتی ہیں پبلک ہیلتھ کی بڑی بڑی سکیمیں ہیں لیکن وہ فنکشنل نہیں۔ ہیلپنگ ہینڈ اور دیگر این جی اوز کے کام عوامی مدد سے ہوتے ہیں

    ہیلپنگ ہینڈ کا آرفن پروگرام،شائننگ سٹارز
    ہیلپنگ ہینڈ یتیم بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے بھی کام کر رہی ہے،کالام سے واپسی پر مدین میں دریا کنارے قیام کیا ، وہاں ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام یتیم بچوں کے اعزاز میں مینگو پارٹی تھی، جس میں صحافی بھی شریک ہوئے، جب پارٹی میں پہنچے تو ہال میں کرسیاں لگی ہوئی تھیں، اور معصوم بچے جن میں لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل تھیں،وہ کرسیوں پر ایک ترتیب سے بیٹھے تھے ،کوئی شور شرابا نہیں تھا، کوئی ہنگامہ نہیں تھا یہ ہیلپنگ ہینڈ کی تربیت کا ہی اثر تھا کہ بچوں نے صحافیوں کے پہنچنے پر انکا پرجوش استقبال کیا اور پھر اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے،اس موقع پر محترم سید عابد بخاری نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آج کی اس پارٹی میں موجود بچے صرف مدین کی ایک یونین کونسل سے آئے ہیں، مدین سے 200 یتیم بچوں کی کفالت ہیلپنگ ہینڈ کر رہی ہے، انکو شائننگ سٹار کہتے ہیں اور تین کیٹگری میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ ایج گروپ کے تحت انکی ایکٹوٹیز کی جاتی ہیں،بڑے بچوں کو سکل سکھاتے ہیں کورسز کرواتے ہیں وہ یونیورسٹی لیول پر جائیں تو بہتر سکل انکے پاس ہو،کچھ بچے حفظ بھی کر رہے ہیں دس ہزار چار سو بچوں کو پورے پاکستان میں سپانسر کر رہے ہیں ہیلپنگ ہینڈ کا آرفن کا پروجیکٹ 50 سے زائد شہروں میں چل رہا ہے، بچوں کی تعلیم، خوراک کا انتظام کیا جاتا ہے، یتیم بچوں کے لئے ہیلپنگ ہینڈ انکے گھر والوں کی مالی اعانت کرتی ہے اور انکی کفالت کرتی ہے،

    یتیم بچوں کی کفالت بلاشبہ نیک کام ہے اور اس نیک کام کو جاری و ساری رکھنے کے لئے ہیپلنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے،ہیلپنگ ہینڈ پاکستان میں قدرتی آفات میں بھی ریلیف و بحالی کے کام کر رہی ہے، بلوچستان سندھ کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر جاری ہے تو وہیں واٹر پروجیکٹ کے حوالے سے بھی منصوبے مکمل ہوئے ہیں، سوات میں بھی پانی کے منصوبے مکمل کئے گئے جس کی عنایت اللہ خان نے بھی تعریف کی،پاکستان کے دیگر دور دراز علاقوں جہاں شہریوں کو پانی کے مسائل ہیں وہان واٹر پروجیکٹ پر کام جاری ہے،

    ہیلپنگ ہینڈ کا غریب عوام کے لئے مفت بازار
    ہیلپنگ ہینڈ سفید پوش اور غریب عوام کے لئے ایک مال آف ہیومنٹی پروگرام بھی کرتی ہے، ایک ایسا بازار جہاں گاہک تو آتے ہیں خریدار تو ہوتے ہیں لیکن پیسے لینے والا کوئی نہیں ہوتا، سوات میں ہی ایک ایسا ہی بازار دیکھنے کو ملا، ایک سکول میں مہنگے کپڑے، جوتے، کھلونے موجود تھے، میزوں پر سامان موجود تھا ، بچوں کے لئے کھلونے بھی موجود تھے،اس بازار میں خواتین اور بچے آئے انہوں نے اپنی ضرورت کے مطابق کپڑے، جوتے، کھلونے لئے اور جاتے رہے، کوئی روکنے والا، کوئی پیسے لینے والا نہیں تھا بلکہ جو بھی آتا اپنی ضرورت کی چیز اٹھاتا اور ہیلپنگ ہینڈ کو دعائیں دیتا نکل جاتا، ٹوپی والے برقع میں آئی خواتین کی کثیر تعداد موجود تھی مگر اس مفت کے بازار میں کوئی دھکم پیل نظر نہیں آئی، اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام یہ بازار کئی شہروں میں لگایا جاتا ہے اور اسکے لئے علاقے میں سروے کیا جاتا ہے، مستحق خاندانوں کو سروے کے بعد ایک ٹوکن دیا جاتا ہے اور پھر انہیں بازار لگنے کی اطلاع دی جاتی ہے، شہری آتے ہیں اور ضرورت کی چیزیں لے کر چلے جاتے ہیں، لاہور کے بازاروں میں جو سوٹ،چھ سات ہزار کا مل رہا ہے وہ مفت بازار میں ہیلپنگ ہینڈ مفت دے رہی تھی

    ہیلپنگ ہینڈ کے رفاہی کام وسیع تر ہیں اور انکا نیٹ ورک ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے، ہیلپنگ ہینڈ کے پاکستان میں میڈیا ہیڈ سید عابد بخاری سے بات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ "ہیلپنگ ہینڈ خدمت کے جذبے کے تحت کام کر رہی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ غریب عوام کو خوشیاں دے سکیں انکے چہروں پرمسکراہٹ لا سکیں. ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام،یتیم بچّوں کی کفالت کا پروگرام، معذور افراد کی جامع بحالی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، ایمر جینسی ریلیف، تعلیمی معاونت، معذور بچّوں کا علاج،اسکلز ڈویلپمنٹ اورہیلتھ کیئر پروگرامز،منصوبے جاری ہیں،”

    آئیے، ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کریں
    مہنگائی اور نفسا نفسی کے اس دور میں خدمت خلق کرنے والوں کو جہاں رب کریم اجر دے گا وہیں دنیا میں انہیں غریب عوام کی دعائیں بھی مل رہی ہیں ، حکومتیں تو صرف دعوے کرتی ہیں لیکن ہیلپنگ ہینڈ جیسی این جی اوز اپنی استطاعت اور عوام کے تعاون سے عوام کی خدمت میں مصروف ہیں، اس میں انکا کوئی ذاتی مفادنہیں نہ ہی انہیں ووٹ یا کرسی کا لالچ ہوتا ہے بلکہ صرف رضائے الہی مقصود ہوتی ہے،بلا شبہ ہیلپنگ ہینڈ کے رضاکار ملک و قوم کی خدمت کر کے اللہ رب العزت کے ہاں سرخرو ہو رہے ہیں ۔خدمت کے اس عظیم کام کو جاری رکھنے کے لئے پاکستانی قو م کو چاہئے کہ خدمت کے اس کام کو مزید وسیع تر کرنے کے لئے ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کرے۔اہل پاکستان کو نیکی کے اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہو گا،تا کہ ہیلپنگ ہینڈ کے جو منصوبہ جات جاری ہیں انکو پورا کیا جا سکے۔

  • بھارت کی چاول کی برآمد پر پابندی، عالمی سطح پر اناج کی سپلائی پر دباؤ

    بھارت کی چاول کی برآمد پر پابندی، عالمی سطح پر اناج کی سپلائی پر دباؤ

    بھارت کا غیر سفید باسمتی چاول کی برآمد پر پابندی لگانے کا فیصلہ ممکنہ طور پر عالمی غذائی بحران کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ پابندی چاول کی گھریلو قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو کم کرنے کے لیے لگائی گئی تھی، شدید بارشوں سے فصلوں کو نقصان پہنچا اس اقدام سے بھارت سے چاول کی برآمدات کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ کم ہو جائے گا، جو عام طور پر عالمی اناج کی تجارت کا 40 فیصد ہوتا ہے۔

    بھارتی چاول کے اہم خریدار نائجیریا، چین اور فلپائن ہیں. جبکہ دیگر ممالک ضرورت پڑنے پر اپنی گھریلو پیداوار کو پورا کرنے کے لیے بھارتی چاول کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہرین کے تجزیے کے مطابق، پابندی کے نفاذ کے ساتھ، اناج کی قیمتوں میں 15 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

    صورتحال اس وجہ سے ابتر ہے کہ نئی فصل مزید تین ماہ تک دستیاب نہیں ہوگی۔ پاکستان جو چاول کا ایک اور بڑا برآمد کنندہ ہے میں بارشیں اور سیلاب ہے، بھارت میں بھی مون سون کی بارشیں، چاول کی پیداوار کے لیے اضافی مشکلات کا باعث ہیں۔ بھارت، دنیا کے دوسرے سب سے بڑے چاول پیدا کرنے والے ملک ہونے کی حیثیت سے، اس بات کا خدشہ ہے کہ غیر معمولی بارشیں چاول کی فصلوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے،
    rice02

    مزید یہ کہ درآمد کنندگان کو کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے پہلے ہی زیادہ اخراجات کا سامنا ہے۔ بھارتی چاول کی برآمدات پر پابندی سے سپلائی کرنے والے ممالک پر اس نازک دور میں چاول کی مانگ پوری کرنے کے لیے مزید دباؤ بڑھ جاتا ہے۔اس پابندی کا وقت خاص طور پر تشویشناک ہے، کیونکہ بھارت آنے والے مہینوں میں اہم ریاستی انتخابات، اور اگلے سال عام انتخابات کی تیاری کر رہا ہے۔ مودی کی زیر قیادت ہندوستانی حکومت اس حساس سیاسی وقت کے دوران اشیائے خوردونوش کی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے بے چین ہے۔

    پابندی بحیرہ اسود کے اقدام کی تجدید نہ ہونے، اور گندم کی سپلائی متاثر ہونے کے ساتھ موافق ہے. بھارت کے چاول کی برآمدات روکنے کے فیصلے سے عالمی اناج کی سپلائی میں مزید تناؤ آنے کی توقع ہے۔تاہم، بھارت نے پابندی کو نافذ کرنے میں حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے. کیونکہ اس نے کئی افریقی ممالک کوچاولوں کی کچھ اقسام برآمد کیے، اور ایک قسم کو بنیادی طور پر بنگلہ دیش کو برآمد کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بھارت اور دیگر افریقی ممالک کے درمیان کسی بھی منفی سفارتی اثرات سے بچنا ہے، جن کے ساتھ بھارت مثبت تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے

    rice04

  • درد ،ناکامی،اور تجربات ،تحریر:صدف ابرار

    درد ،ناکامی،اور تجربات ،تحریر:صدف ابرار

    درد ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی حسی اور جذباتی تجربہ ہے جو جسم کے لیے ایک وارننگ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ ایک ناخوشگوار احساس ہے جو عام طور پر ٹشو کو پہنچنے والے نقصان یا ممکنہ چوٹ سے منسلک ہوتا ہے، یہ انسان کو نقصان سے بچانے کے لیے کارروائی کرنے پر اکساتا ہے۔ درد مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے ، جیسے ہلکی تکلیف سے لے کر شدید اذیت تک، ہو سکتا ہے۔درد انسانی تجربے کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔ اپنی پوری زندگی میں، ہمیں درد کی مختلف شکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، چاہے وہ جسمانی ہو، جذباتی یا نفسیاتی ۔ اگرچہ درد سے بچنے کے طریقے تلاش کرنا ایک فطری عمل ہے، لیکن یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ درد ایک طاقتور استاد بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے درد تکلیف یا ناکامی کو قبول کرنا اور اس سے سیکھنا ذاتی ترقی، خود اعتمادی یا اپنے اور دوسروں کے بارے میں مزید جاننے کا باعث بن سکتا ہے، درد سے سیکھنے کا پہلا قدم ہماری زندگی میں اس کی موجودگی کو تسلیم کرنا ہے۔ درد ایسی چیز نہیں ہے جسے ایک طرف رکھ کر نظر انداز کیا جا سکے، لہذا اسے انسانی تجربے کے ایک درست اور ضروری پہلو کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ کیو نکہ درد یا ناکامی سے انکار، یا اسے دبانا جذباتی جبر اور حل نہ ہونے والے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

    درد کو زندگی کے ایک فطری حصے کے طور پر قبول کرنا ہمیں ہمت اور عزم کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنے کی قوت عطا ہوتی ہے، درد کی جانچ کرنا اپنے آپ اور ہمارے حالات کے بارے میں قیمتی بصیرت فراہم کرتا ہے۔ درد مختلف ذرائع سے ہوسکتا ہے، جیسے ماضی کے صدمات، ناکام تعلقات، مایوسی، یا جسمانی بیماریاں۔ بنیادی وجوہات کو سمجھنے سے، ہم یہ واضح کرسکتے ہیں کہ بعض واقعات یا حالات ہم پر کس طرح گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ جو سمجھ بوجھ اور ترقی کے دروازے کھولتا ہے، درد سے سیکھنا لچک کو فروغ دیتا ہے – جیسے مشکلات اور ناکامیوں سے واپس مقابلہ کی صلاحیت۔ جیسا کہ ہم درد کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس پر قابو پاتے ہیں، ہم طاقت اور موافقت پیدا کرتے ہیں۔ لچک ہمیں زیادہ اعتماد اور عزم کے ساتھ مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت دیتی ہے۔ درد پر قابو پانے کا ہر تجربہ ہماری زندگیوں کے لیے ایک لچکدار بنیاد بناتے ہوئے ایک عمارت کا حصہ بن جاتا ہے۔ درد کا تجربہ ہمارے اندر ہمدردی پیدا کر سکتا ہے۔ جب ہم خود درد کو جان لیتے ہیں نا تو ہم دوسروں کے دکھوں سے بھی زیادہ ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ ہمدردی کا یہ بلند احساس ہمیں لوگوں کے ساتھ گہری سطح پر جڑنے کے قابل بناتا ہے، اور دوسروں کی مدد اور سمجھ بوجھ کی پیشکش کرنے کی ہمت دیتا ہے۔ ہمارے درد کے تجربات ایک پل بن جاتے ہیں جو ہمیں مشترکہ انسانیت کے وسیع تر احساس سے جوڑتا ہے۔

    درد ذاتی ترقی کے لیے ایک طاقتور دوا کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ ہمیں اپنے کمفرٹ زون سے باہر دھکیلتا ہے اور ہمیں اپنے عقائد، انتخاب اور ترجیحات کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور کرتا ہے۔ جب ہم درد سے گزرتے ہیں، تو ہم خود سے آگاہی اور خود شناسی کا ایک نیا احساس پیدا کرتے ہیں۔ درد کے ساتھ ہر تصادم سیکھنے اور ذاتی ارتقاء کا موقع فراہم کرتا ہے۔
    ناکامی یا درد سے سیکھا ہوا سبق ہمیں اپنی زندگیوں اور دوسروں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ درد ہمیں مقصد یا جذبے کے گہرے احساس کو دریافت کرنے کی طرف لے جا سکتا ہے، جو ہمیں معاشرے میں بامعنی شراکت کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اپنے درد کو مقصد میں بدل کر، ہم اپنی جدوجہد میں معنی تلاش کرتے ہیں اور اپنے ارد گرد کی دنیا پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں،

    درد مشکل اور تکلیف دہ ہو سکتا ہے، لیکن یہ ایک طاقتور استاد بھی ہے۔ درد کا ہر تجربہ خود کی عکاسی اور ذاتی تبدیلی کا ایک موقع ہے۔ اپنے درد کو تسلیم کرنے اور اس سے سیکھنے سے، ہم مشکلات کو طاقت میں بدل سکتے ہیں اور اپنی زندگی میں مقصد کے نئے مواقعوں کو تلاش کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، درد سے جو سبق ہم سیکھتے ہیں وہ بالآخر ہمیں ایک مزید خود کو پہچاننے اور اپنی شخصیت کو مزید نکھارنے اور نہ ختم ہونے والی کا میابیوں کی طرف گامزن کر سکتا ہیں،

  • یوکرین ،امن کا عمل کامیاب ہو گا؟

    یوکرین ،امن کا عمل کامیاب ہو گا؟

    یوکرین ،امن کا عمل کامیاب ہو گا؟
    اقوام متحدہ کی ایک انتہائی تشویشناک رپورٹ کے مطابق، بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے نتیجے میں 136 بچے ہلاک ہوئے۔ یوکرین اپنے اختیار میں ہر چیز کے ساتھ لڑائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس انسانی تباہی کا واحد نتیجہ مزاکرات سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، میدان جنگ میں نہیں۔

    روس کے ساتھ جاری تنازعہ کے دوران شہریوں کی جانوں، اور بنیادی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے ساتھ یوکرین کی صورت حال بلا شبہ افسوسناک ہے۔ جدہ میں ہونے والےمزاکرات امن کے قیام اور جنگ کا حل تلاش کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ بھارت اس میں حصہ لینے والا ہے. جیسا کہ امریکہ میں بھارت کی سابق سفیر نروپما راؤ نے CNBC کو واضح طور پر کہا کہ، اس بات کا امکان نہیں ہے کہ نئی دہلی روس کی دفاعی صنعت کے ساتھ اپنے تعلقات ترک کرے، کیونکہ کریملن یوکرین میں اپنا مسلح تنازعہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

    جدہ میں ہونے والی آئندہ سمٹ میں جہاں مختلف ممالک کی شمولیت، مذاکرات میں شامل ہونے پر آمادگی کا اشارہ دیتی ہے، وہیں مذاکرات کے اس دور میں روس کی عدم شرکت کی بھی وجوہات ہوسکتی ہیں۔

    روس کے ان مخصوص مذاکرات کا حصہ نہ بننے کی دو ممکنہ وجوہات معلوم ہوتی ہیں۔ سب سے پہلے، اتحاد کا یہ ماننا ہو سکتا ہے کہ روس کو شروع سے شامل کرنا پرامن حل کے لیے حکمت عملی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ دوسرا، وہ روس کو اس وقت شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہوں گے جب کچھ اتفاق رائے ہو جائے اور ایک امن منصوبہ پیش کیا جا سکے۔

    جنگیں ختم کرنے کے لیے مذاکرات درحقیقت ایک بنیادی ذریعہ ہیں. لیکن ان کی تاثیر کا انحصار اس بات پر ہے کہ دونوں فریق ایک مشترکہ مقصد کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہیں، اور زیر بحث مسائل پر ایک ہی صفحے پر ہیں۔ روس کے خدشات کو نظر انداز کرنا کسی بھی امن عمل کی کامیابی کو ممکنہ طور پر خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ مذاکرات کی پچھلی کوششیں، جیسے کہ 2014 میں منسک معاہدے، ناکام ہو گئے کیونکہ انہوں نے کریملن کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل کو مناسب طریقے سے حل نہیں کیا۔

    روس یوکرین کو اپنی سلطنت کا حصہ سمجھتا ہے اور وہ اپنے دعوے کو آسانی سے ترک نہیں کرے گا۔ تاہم، برسوں کی جنگ اور کیف کی حمایت کے بعد، یوکرین کے حامیوں کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ تنازعہ کا پرامن حل تلاش کریں۔ امن عمل کی کامیابی کا بہت زیادہ انحصار مشترکہ بنیاد تلاش کرنے اور یوکرین اور روس دونوں کے بنیادی خدشات کو دور کرنے پر ہوگا۔

    یوکرائن کا منظم امن عمل، نتائج دے سکتا ہے اگر وہ تمام متعلقہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کا انتظام کرے، اور تنازعہ کو ہوا دینے والے بنیادی مسائل کو حل کرے۔ یہ ایک مشکل کام ہو گا، لیکن جنگ کی وجہ سے انسانی مصائب اور تباہی کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کے ذریعے امن کا حصول بہت ضروری ہے۔

  • ویل ڈن سمیرا صدیق مگر مستقبل میں احتیاط ،تحریر:- عزیزخان ایڈووکیٹ

    ویل ڈن سمیرا صدیق مگر مستقبل میں احتیاط ،تحریر:- عزیزخان ایڈووکیٹ

    دوستو آپ نے انڈین فلم کا ایک گانا تو ضرور سُنا ہوگا ”
    پاپا کہتے ہیں بڑا نام کرے گا بیٹا ہمارا ایسا کام کرے گا” اور اسی گانے کو چھانگا مانگا چوکی کوڑے سیال پیٹرولنگ پوسٹ کی کانسٹیبل سمیرا صدیق نے سچ کر دیکھایا سمیرا صدیق نے پاکستان کی تاریخ میں فرض شناسی کی انوکھی مثال قائم کردی۔

    خبر کے مطابق پنجاب ہائی وے پیٹرول پولیس کی ہیڈ کانسٹیبل سمیرا صدیق ناکے پر کھڑی چیکنگ کررہی تھیں کہ اسی دوران اچانک ان کے والد صاحب موٹر سائیکل پر رونما ہوئے سمیرا نے دیکھا کہ والد صاحب نے ہیلمٹ نہیں پہنا ہوا تو اُس کے دماغ میں پاسنگ آوٹ پریڈ پر اُٹھایا حلف گونج اُٹھا کہ "قانون کی راہ میں سگا باپ بھی آجائے تو اُسے معاف نہیں کرنا "چناچہ سمیرا نے فرض کی راہ میں سگے باپ کو قربان کرنے کا فیصلہ کرلیا اُس نے ساتھ کھڑی ساتھی کانسٹیبل کو کہا ویڈیو بناو میں زرا ابا جی کا چالان کر لوں اور پھر ہیلمٹ نہ پہننے کی پاداشت میں سمیرا نے اپنے والد کا چالان کردیا اس پر بھی سمیرا کا دل نہ بھرا ساتھ جرمانہ کی رقم مبلغ دو سو روپے بھی اباجی سے وصول کرلی جو صدیق والد سمیرا نے ہنسی خوشی بیٹی کو ادا کردی

    سمیرا صدیق کے والد نے کہا کہ میری بیٹی نے میرا چالان کیا اور 200 روپے بھی وصول کیے، مجھے خوشی ہوئی ہے میری بیٹی نے ایسا کیا قانون کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ باپ ہو یا ماما ہو سب کے لیے ایک ہی قانون ہونا چاہیے میں آئندہ میں رات کو بھی ہیلمٹ پہن کر سوں گا اور قانون کبھی نہیں توڑوں گا

    لیڈی کانسٹیبل کا کہنا تھا کہ اگر میرے گھر والے بھی قانون پرعمل درآمد نہیں کریں گے توان کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔

    میں لیڈی کانسٹیبل سمیرا کی فرض شناسی اور قانون پر عملدرامد کے اس جزبہ کی قدر کرتا ہوں اور ایک مشورہ بھی دیتا ہوں بیٹا یہ غریب تو آپ کا اپنا ابا تھا جس نے خاموشی سے چالان کروایا اور جرمانہ بھی ادا کردیا لیکن اگر تُم نے اسی طرح کی فرض شناسی میں کبھی کسی مریم نواز کے ابا،بلاول کے ابا،قاسم کے ابا،مولانا مسعود کے ابا یا اُنکی پارٹی کے دیگر اباوں کا چالان کرنے کی کوشش بھی کی تو نہ یہ چالان بک رہے گی اور نہ چالان کرنے والی سمیرا صدیق

  • "ایہہ پُتر روز نئیں جمدے” تحریر: اعجازالحق عثمانی

    "ایہہ پُتر روز نئیں جمدے” تحریر: اعجازالحق عثمانی

    قارئین کرام! جب پانچ ہزار طلب علموں کو ڈیجیٹل ہنر سکھانے والے اور لاکھوں ڈالرز کا زرمبادلہ پاکستان لانے والے استاد پر اپنے ہی ملک کی زمین تنگ کر دی جائیں۔ اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جائے کہ "ہم اپنا ملک چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں”۔ تو پھر لگتا ہے کہ جالب نے ٹھیک کہا تھا کہ

    یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
    اے چاند یہاں نہ نکلا کر

    تنویر نانڈلہ نامی نوجوان جو ملتان کے ایک گاؤں میں انتہائی متوسط گھرانے میں پیدا ہوا۔ تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا۔مگر مالی وسائل کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا رہا۔ مگر ہمت نہ ہاری۔ دیکھتے دیکھتے اس نوجوان نے آئی ٹی کی دنیا میں دھوم مچا دی۔ اپنی انتھک محنت کے باعث پاکستان کا نمبر ون بلاگر بنا، اور پھر اسے حکومت پاکستان نے "پرائڈ آف پاکستان” سے بھی نوازا۔ مگر مٹی سے محبت کرنے والے اس نوجوان کو، اب اپنے ہی ملک میں رہنے نہیں دیا جارہا۔ ملتان کے ایک مقامی ایم پی اے کی پشت پناہی رکھنے والا ایک قبضہ مافیا گروپ پچھلے کئے برسوں سے تنویر نانڈلہ اور ان کے خاندان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کررہا ہے۔ کچھ برس پہلے بھی تنویر نانڈلہ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا،مگر خوش قسمتی سے پاکستان کا یہ قیمتی آساثہ بچ نکلا۔ گزشتہ روز تنویر نانڈلہ نے فیس بک پر ایک ویڈیو اپلوڈ کی۔ جس میں انکا کہنا تھا کہ میرے بھائی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔مگر جب گولی انھیں نہ لگی تو تشدد کرکے ان کا سر پھاڑ دیا گیا۔اس ویڈیو میں تنویر نانڈلہ نے مزید کہا کہ پولیس بھی انہیں قانونی مدد فراہم نہیں کر رہی۔اور نہ ہی تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ تنویر جیسے ذہین نوجوان کی اس ملک میں حالت دیکھیے اور ماتم کیجیے کہ یہ وہ نوجوان ہے، جسے اس ملک کا خواب دیکھنے والے علامہ اقبال نے شاہین کہا تھا۔ اقبال نے ایسے ہی نوجوانوں کے لیے کہا تھا کہ:

    عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
    نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

    یہ نوجوان تنویر نانڈلہ بھی اقبال کے شاہین کی طرح اپنی منزل کےلیے محنت کرتا رہا۔اور اس نے نہ صرف اپنی منزل پر پہنچ کر اپنا نام روشن کیا، بلکہ دنیا بھر میں ملک پاکستان کے نام کے جھنڈے بھی گاڑے۔ مگر افسوس۔۔۔۔۔

    گزشتہ برس بھی ان پر قاتلانہ حملہ ہوا،مگر ایک طالب علم کی وجہ سے تنویر نانڈلہ اس حملے سے بچ گئے۔ ان کے خاندان کے لوگوں پر کئی جھوٹے مقدمات بھی درج کروائے گئے ہیں۔ادارے تو اس نوجوان کو انصاف دینے میں تاحال ناکام ہیں۔مگر پاکستانی عوام نے اپنا حق ادا کر دیا۔ تنویر نانڈلہ کے سوشل میڈیا پر ویڈیو اپلوڈ کرنے کے بعد چند گھنٹوں میں ٹوئٹر پر JusticeForTanveerNandla ٹاپ ٹرینڈ کرنے لگا۔ ورلڈ بینک سے نمبر ون بلاگر کا ایوارڈ لینے کے ساتھ ساتھ 23 مارچ کو آئی ٹی کے شعبے میں بے شمار خدمات پر حکومت پاکستان اور پاکستان آرمی کی جانب سے اسی تنویر نانڈلہ کو "پرائڈ آف پاکستان” کا اعزاز بھی دیا گیا۔ تنویر نانڈلہ پانچ ہزار سے زائد نوجوان کو ڈیجیٹل روزگار فراہم کرچکے ہیں۔اور یہ نوجوان اب تک ایک سو پانچ ملین ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ پاکستان میں لا چکے ہیں۔ مگر اس نوجوان کے ساتھ سیاسی طاقتوں کی زیادتیاں دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ہمیں اپنے ہیروں کی قدر ہی نہیں ہے۔ ہمارے ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے والا نوجوان انصاف مان رہا ہے۔مگر اسی کی محافظ پولیس اس کو تحفظ فراہم نہیں کرپارہی۔ جھوٹے مقدمات اور قاتلانہ حملوں کے باوجود یہ نوجوان آج بھی پاکستان میں ہے۔کیونکہ اسے پاکستان سے محبت ہے۔ "ایہہ پُتر روز نئیں جمدے”۔ پلیز ان کی قدر کیجیے۔

  • ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    پیش نظر کتاب”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“ محض بیان سیرت نہیں بلکہ امت کوبیدارکرنے اور ہمیں خانوادہ بنوت کے مہکتے پھولوں سے محبت کرنا سیکھاتی ہے۔ وہ مہکتے پھول جن کی تربیت رسول ﷺنے خود کی تھی۔یہ دونوں روضہ¿ نبوت کے خوشنما پھول ہیں جن کی مسحور کن خوشبو سے نبوی آنگن مہکتا تھا۔ اس کتاب کے ذریعے اسلام کی ان دو معتبر شخصیات سے شرفِ ملاقات کی جاسکتی ہے ۔سبط رسول جناب حسن و حسین رضی اللہ عنھما کے ساتھ محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ان شہزادوں کو اللہ کے رسول ﷺ چوما کرتے تھے۔ ہم تک اسلام کی نعمت اس معزز گھرانے کی بدولت ہی پہنچی ہے۔ اس عظیم گھرانے نے ہم تک اسلام پہنچانے کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ جناب سیدین حسنین کریمین رضی اللہ عنھماکے حالات زندگی پڑھناسعادت اوراہل ایمان کے لئے حلاوت ہے ۔ پیش نظر کتاب” سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“ اپنے موضوع پرنہایت ہی عمدہ کتاب ہے ۔اس کتاب کے مصنف سیدحسن حسینی ہیں ۔ وہ سید سادات میں سے ہیں۔ مملکت بحرین کے نامورسکالرہیں۔ وہاں کے دینی، عملی ،ادبی حلقوں میں نہایت ہی قدرومنزلت اورمحبت واحترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ فاضل مولف سیدحسن حسینی عرصہ دراز سے سیرت حسن و حسین بیان کرتے چلے آ رہے ہیں۔ انھوں نے برس ہا برس اس موضوع پر تحقیق کی ہے، وہ تاریخ اور سیرت سے خوب واقف ہیں۔ انھوں نے یہ کتاب روایتی انداز میں نہیں لکھی بلکہ اس کتاب کو لکھ کر انھوں نے صدیوں کا قرض چکایا ہے۔ زیر نظر کتاب میں سیدنا حسن وحسین رضی اللہ عنھما کی سیرت سے متعلقہ واقعات و حقائق کا احاطہ کیا گیا ہے۔سید حسن حسینی کہتے ہیں ”یہ کتاب میرے برسوں کے مطالعہ سیرت و تاریخ کا نچوڑ ہے جسے میں اپنی بساط کے مطابق خوبصورت طریقے سے عوام الناس کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے ۔

    اس گرانقدرکتاب کوشائع کرنے کی سعادت دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ ”دارالسلام “ کوحاصل ہوئی ہے ۔دارالسلام کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہدکہتے ہیں جہاں تک اس کتاب کے علمی مواد کا تعلق ہے تو قارئین اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ہی اس کا اندازہ کر سکیں گے۔ تاہم میں یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس موضوع پر لکھی ہوئی بہت ساری کتابوں میں سے یہ ایک لاجواب کتاب ہے۔ اس کا انداز بڑا آسان اور عام فہم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ قارئین ہماری دیگر مطبوعات کی طرح اس کتاب کو بھی پسند کریں گے۔ان شاءاللہ اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے اہل ایمان کی ہاشمی خاندان سے محبت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اس کتاب کو شائع کرتے ہوئے مجھے بڑا سکون اور روحانی مسرت ہو رہی ہے ۔ میں ہمیشہ اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ مجھے جناب سیدناحسن اورجناب سیدناحسین رضی اللہ عنھما کے گھرانے کے ساتھ محبت کرنے والوں میں شمار کرے۔“

    حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب پڑھنے والے کوخاندان اہل بیت اور سیدین حسنین کریمین رضی اللہ عنھماکی زندگی کے تمام گوشوں سے متعارف کراتی ہے۔ اس کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ دارالسلام انٹرنیشنل نے اسے اس موضوع کے مروجہ سٹائل سے ہٹ کر نئی طرز پر تیار کیا ہے۔ کتاب کی ظاہری خوشنمائی کی طرح اس کے باطن کی ثقاہت کا بھی بھرپور اہتمام کیا ہے۔ افراط و تفریط سے اجتناب کرتے ہوئے راہِ اعتدال کو اختیار کیاگیا ہے۔ یوں اپنے موضوع پر یہ مستند دستاویز ہے جو یقینااہل ایمان کو پسند آئے گی۔کتاب چودہ ابواب پرمشتمل ہے ۔ جن میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی منگنی ، حق مہر ،جہیز ، شادی کی تقریب ، تقریب ِ ولیمہ ، سیدہ فاطمہ کی رخصتی ، سیدہ فاطمہ کاگھر، سیدین حسنین کریمین کی ولادت باسعادت ، سیدین حسنین کے نانا ،دادا ،نانی دادی ، والد،والدہ، سیدین حسنین کریمین کے سگے اورسوتیلے بہن بھائی، سیدین کی بیویاں اوراولاد،سیدین کے اوصاف واخلاق،معاشرتی زندگی،اساتذہ وتلامذہ،فضائل سیدین حسنین کریمین،حادثہ کربلااورشہادت جیسے اہم موضوعات شامل ہیں ۔کتاب کی قیمت 890روپے ہے ۔نہایت ہی خوبصورت سرورق،مضبوط جلدبندی کے ساتھ عمدہ پیپرپرشائع کردہ یہ کتاب ہرگھر ، ہر مسجد ،لائبریریز اورتعلیمی اداروں کی ضرورت ہے ۔ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئرمال لاہور نزدسیکرٹریٹ سٹاپ ، کراچی ،اسلام آبادمیں دارالسلام کے شورومز یاملک بھرمیں دارالسلام کے سٹاکٹس سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔یاکتاب براہ راست حاصل کرنے کے لئے درج ذیل نمبر04237324034پررابطہ کیاجاسکتاہے ۔

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

  • امید سحر، چائلڈ لیبر سے سکول جانے تک کا سفر

    امید سحر، چائلڈ لیبر سے سکول جانے تک کا سفر

    چائلڈ لیبر ہمارے معاشرے کی بدترین بیماریوں میں سے ایک ہے۔ جو دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔اس معاشرے کے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔بچے کائنات کے وہ پھول ہیں جس سے کائنات کا حسن قائم ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ پھول گلیوں، سڑکوں کی دھول بن گئے ہیں۔ چائلڈ لیبر نے ان معصوم پھولوں کو روند دیا ہے بچے بلاشبہ قوم کے مستقبل کے معمار ہیں۔ ملک کا مستقبل موجودہ بچوں پر منحصر ہے۔ اگر بچوں کو صحیح طریقے سے تیار نہیں کیا گیا تو ملک کا مستقبل برباد ہو جائے گا۔ یہ بچے سکول جانے اور کھیلنے کی عمر میں اپنے خاندانوں کی بقاء اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مزدور کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

    شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے کوشش و کاوش جاری ہے، پاک فوج کی جانب سے کام کرنیوالے کمسن بچوں کو نہ صرف تعلیم دلوائی جا رہی ہے بلکہ انکی رہائش اور خوراک کا بندوبست بھی کیا جا رہا ہے، ایسے ہی دو بچوں کی کہانی ویڈیو میں بیان کی گئی ہے،

    میرا نام محمد ریحان ہے میں پالش کا کام کرتا ہوں، صبح جلدی اٹھتا ہوں، صبح بڑے لوگ جلدی دفتر جاتے ہیں اور سکول کے بچے بھی، کبھی مزدوری ملتی ہے کبھی نہیں،ہم دن میں جتنا کماتے اتنا آٹا خرید لیتے، اتوار کو لوگ دفتر نہیں جاتے تو روزہ رکھتے ہیں،امی کہتی ہیں کہ جب ہم جنت میں جائیں گے تو تین ٹائم کا کھانا کھائیں گے، جوتے بھی پالش نہیں کرنے پڑیںگے، اور ابو کو بھی مزدوری نہیں کرنی پڑے گی، سکول کے بچوں سے پیسے نہیں لیتا، میں بڑا ہو کر سائنسدان بننا چاہتا ہوں اور جوتے پالش کرنے کی مشین بنانا چاہتا ہوں،میرا دوسرا بڑا بھائی ہے وہ بھی جوتے پالش کرتا ہے،دوسرے بچے کی بھی یہی کہانی ہے،

    پاک فوج کے جوانوں نے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے محنت مزدوری کرنیوالے کمسن بچوں کو نہ صرف تعلیم دلوانے کا بیڑا اٹھایا بلکہ ہوسٹل میں انکی رہائش کا بھی انتظام کیا، کم عمری میں محنت کرنیوالے بچے اب نہ صرف تعلیم حاصل کر رہے ہیں بلکہ انکو انکا مستقبل بھی اچھا نظر آ رہا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے پاک فوج کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عملی اقدامات کئے جائیں

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    عثمان بزدار اور انکے بھائیوں سمیت انکے مبینہ فرنٹ مین طور بزدار کے خلاف انٹی کرپشن میں انکوائری شروع

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • کیا 2025 تک پاکستان خشک اور بنجر ہوگا؟

    کیا 2025 تک پاکستان خشک اور بنجر ہوگا؟

    کیا 2025 تک پاکستان خشک اور بنجر ہو گا؟اس آنیوالی تباہی کے پیچھے محرکات کافی زیادہ ہیں،پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پانی کی ضروریات بڑھ رہی ہیں،ایک اندازے کے مطابق موجودہ آبادی 220 ملین سے زیادہ ہے۔ ایشین لائٹ کی رپورٹ کے مطابق پانی کی طلب 191 ملین ایکڑ فٹ کے مقابلے میں 274 ملین ایکڑ فٹ تک پہنچ سکتی ہے۔

    دوسری وجہ گنے، کپاس، چاول اور گندم جیسی پانی زیادہ لینے والی فصلوں کی پیداوار ہے۔ وہ موجودہ پانی کی فراہمی کا 95% استعمال کرتے ہیں جبکہ جی ڈی پی میں 5% سے بھی کم حصہ ڈالتے ہیں۔پانی صارفین تک پہنچانے میں ضائع ہو رہا ہے۔ نہروں میں شگاف کے ساتھ پانی کی بچت کا بنیادی نظام بھی پرانا ہے۔ پاکستان اپنی فصلوں کے لیے بارش پر بھی بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ برسات میں ہونے والی تبدیلیاں، اور درجہ حرارت میں اضافہ، زرعی شعبے کے لیے کافی چیلنجز لا رہا ہے. خاص طور پر شمالی پاکستان، جہاں موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ پہلے ہی زیادہ ہے۔

    پانی کی قلت کے بحران کے اثرات 2023 کے وسط میں پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں جبکہ تقریباً 30 ملین آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ پاکستان کے 24 بڑے شہروں میں رہنے والے 80 فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔پانی اکثر آلودہ ہوتا ہے، جس سے صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان کے بہت سے شہروں میں زمینی پانی کی فراہمی ہی بنیادی ذریعہ ہے۔ "اس میں مختلف پیتھوجینز شامل ہیں جن میں بہت سے وائرل، بیکٹیریل، اور پروٹوزوئن ایجنٹس شامل ہیں، جس سے ہر سال اسہال کی بیماری پھیلتی اور اس سے 2.5 ملین اموات کا باعث بنتے ہیں۔” [ایم. کوسیک، سی. برن، اور آر ایل جیرنٹ، "اسہال کی بیماری کا عالمی بوجھ، جیسا کہ 1992 اور 2000 کے درمیان شائع ہونے والے مطالعات سے اندازہ لگایا گیا ہے” عالمی ادارہ صحت کا بلیٹن، جلد۔ 81، نمبر 3، صفحہ 197-204، 2003۔]

    پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ میونسپل سیوریج اور صنعتی گندے پانی کا مختلف مقامات پر جاری واٹر سپلائی میں شامل ہونا ہے۔ ٹریٹمنٹ پلانٹس میں پانی کی جراثیم کشی، اور پانی کے معیار کی جانچ کے موثر نظام میں بھی ناکامی ہے۔

    اگر ان مسائل کو مؤثر طریقے سے حل نہیں کیا گیا تو یہ قابل فہم ہے کہ پاکستان کو 2025 تک پانی کی شدید قلت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پانی کے بحران کو کم کرنے کے لیے، پاکستان کو پانی کے تحفظ، بنیادی نظام کی ترقی، زراعت، اور پانی کی صفائی میں نمایاں کوششیں کرنے کی ضرورت ہوگی۔ پانی کے پائیدار انتظام کو یقینی بنانے کے لیے ان اقدامات کے لیے حکومت، بین الاقوامی تنظیموں، اور عام شہریوں سے مربوط کارروائی کی ضرورت ہوگی۔

    پالیسی ساز اور اسٹیک ہولڈرز کے لیے پانی کی کمی اور اس کے منفی اثرات کے ممکنہ مستقبل کے منظر نامے کو روکنے کے لیے ان چیلنجوں کو فوری طور پر ترجیح دینا، اور ان سے نمٹنا بہت ضروری ہے۔ تاہم، اس طرح کے اقدامات کا نفاذ، اور کامیابی کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے. جن میں سیاسی رجحان، مالی وسائل، تکنیکی ترقی، اور سماجی تعاون بھی شامل ہیں۔.