Baaghi TV

Category: متفرق

  • بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کے پیچھے محرکات

    بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کے پیچھے محرکات

    حالیہ مہینوں میں، حوثیوں نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے، حوثیوں نے اسرائیل جانے والے جہازوں کو نشانہ بنایا، ان حملوں کے پیچھے بنیادی محرک حوثیوں کی حماس کے لیے حمایت نظر آتی ہے، کیونکہ حوثیوں نے واضح اعلان کر رکھا ہے کہ اسرائیل کی طرف جانے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا، سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر ایک شدید حملے کے بعداسرائیل نے فلسطین پر حملہ کیا اور وہاں سے شروع ہونےوالی دشمنی اب بھی جاری ہے

    حوثیوں نے اپنی ابتدائی کوشش میں نومبر میں اسرائیل کے لیے ایک مال بردار جہاز پر قبضہ کیا،اس کے بعد کارگو جہازوں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے حملےکئے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں میں نومبر اور دسمبر کے درمیان 500 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے کئی بڑی تجارتی کمپنیوں نے خطے میں کارگو کی ترسیل روک دی۔ جس کی وجہ سے دسمبر سے کارگو کی قیمتوں میں دس گنا اضافہ ہوا ،

    حوثیوں کی کاروائیوں کو دیکھا جائے تو انہیں ایران کی بھی حمایت حاصل ہے، تاکہ عسکری صلاحیت کا مظاہرہ کیا جا سکے، ایک زیادہ قابل فہم مقصد ملکی حمایت حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔ خود کو اسرائیل کو چیلنج کرنے والی ایک مضبوط قوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے، حوثیوں کا مقصد یمنیوں کو متحد کرنا اور حریف گروپوں کو بے اثر کرنا ہے۔ یہ حکمت عملی خاص طور پر اہم ہو جاتی ہے کیونکہ دیگر عرب ممالک نے اسرائیل کے خلاف مضبوط موقف اختیار نہیں کیا ، جس سے حوثیوں کی علاقائی حیثیت میں اضافہ ہوا ہے۔

    بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت ،جارح حوثی موقف سعودی عرب کو سیاسی طور پر نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔حوثیوں کے حملوں کے وسیع جغرافیائی سیاسی اثرات ہو سکتے ہیں، ممکنہ طور پر ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو بڑھا کر اسرائیل کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ دوسری طرف یہ حملے مختلف پراکسیوں کا فائدہ اٹھا کر تہران کے جوہری پروگرام سمیت علاقائی تنازعات پر ایران کی مذاکراتی پوزیشن کو مضبوط کر سکتے ہیں۔

    اختتامی نوٹ: بحیرہ احمر کے بحری جہازوں پر حوثی حملوں کے پیچیدہ محرکات ہیں، جن میں حماس کی حمایت شامل ہے، ملکی سیاسی تحفظات ہیں اور ایران اور اسرائیل دونوں کے لیے ممکنہ جغرافیائی سیاسی فوائد ہیں۔ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کو سمجھنے کے لیے ان حرکیات کو سمجھنا بہت ضروری ہے

  • فنڈ ریزنگ اسکینڈل اور جاپان کا سیاسی منظر نامہ

    فنڈ ریزنگ اسکینڈل اور جاپان کا سیاسی منظر نامہ

    جاپان کے سیاسی منظر نامے کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب استغاثہ نے تحقیقات شروع کیں کہ آیا متعدد قانون سازوں کو چندہ جمع کرنے میں‌ غیر ظاہر شدہ فنڈز موصول ہوئے ہیں جن کی رقم لاکھوں ڈالر ہے جو کہ پارٹی کے سرکاری ریکارڈ میں موجود نہیں ، جاپانی وزیر اعظم فومیو کیشیدہ اس کے اثرات سے دوچار ہیں جسے ان کی حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو دہائیوں میں نشانہ بنانے کے لیے سب سے اہم مالیاتی سکینڈلز میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔

    اس اسکینڈل کی وجہ سے پہلے ہی کابینہ کے کئی وزراء مستعفی ہو چکے ہیں، جس سے جاپانی وزیراعظم کی انتظامیہ کے لیے عوامی حمایت میں زبردست کمی آئی ہے، جو اب 20% کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اکتوبر 2021 میں جاپانی وزیراعظم فومیو کیشیدہ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے یہ حمایت کی سب سے نچلی سطح ہے، جس نے ان کی قیادت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور ان کی حکومت کو انتشار میں ڈال دیا ہے،

    میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ تقریباً 500 ملین ین ($3.52 ملین) غائب فنڈز پچھلے پانچ سالوں میں کئی درجن قانون سازوں کو منتقل کیے گئے، جن میں اعلیٰ عہدے دار بھی شامل ہیں۔ یہ الزامات پہلی بار ایک سال قبل حزب اختلاف کی جاپانی کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ ایک اخبار کی رپورٹ میں سامنے آئے تھے۔ اس کے بعد، ایک ماہر تعلیم نے اس رپورٹ کی بنیاد پر ٹوکیو ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹرز آفس میں متعدد مجرمانہ شکایات درج کرائیں۔ [رائٹرز]

    جاپان میں سیاسی اسکینڈل حکمران جماعت کے منظر نامے کو نئی شکل دینے کے لیے تیار ہے، خاص طور پر اس دھڑے کو متاثر کرتا ہے جس نے تاریخی طور پر کافی مالیاتی محرک کی حمایت کی ہے۔ یہ پیشرفت بینک آف جاپان کے لیے کئی دہائیوں کی انتہائی کم شرح سود سے باہر نکلنے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

    بحران کا جواب دیتے ہوئے، جاپانی وزیر اعظم کشیدا نے اپنی کابینہ کو از سر نو بنانے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا، جس کا مقصد فنڈ ریزنگ اسکینڈل سے ہونے والے نقصان کو کم کرنا اور اپنی پریشان انتظامیہ کے لیے عوامی حمایت کو بحال کرنا ہے۔ جاپان میں جاری بحران جاپانی وزیراعظم کے پالیسی ایجنڈے کے لیے بھی خطرہ ہے، جو ووٹروں کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے بنائے گئے اقدامات کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑے دفاعی توسیع کے منصوبوں میں رکاوٹ ہے۔

    اہم سوال اب باقی ہے: کیا فومیو کیشیدا اس بحران کا مقابلہ کر سکیں گے، یا بڑھتا ہوا دباؤ انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کر دے گا، قوم کو نئی قیادت کی تلاش میں چھوڑ دے گا؟ سامنے آنے والے واقعات بلاشبہ جاپان کے سیاسی منظر نامے کے مستقبل کی سمت کا تعین کریں گے

  • سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    اگر آپ کا بچہ سنتا ہے، بولتا نہیں ہے تو گھبرائیے مت، اللہ پر امید رکھیں، دعا کریں، بچے کے ٹیسٹ کروائیں، اور کوکلیئر امپلانٹ کروا لیں، جس سے بچہ نہ صرف سننے لگے گا بلکہ بولنے بھی لگے گا اور عام بچوں کی طرح زندگی بسر کرے گا

    سماعت کا نہ ہونا، ایک معذوری، والدین پریشان ہو جاتے ہیں، چند برس تک اس کا کوئی علاج نہیں تھا، اب سائنس نے ترقی کی تو سماعت کے نہ ہونے کا ایسا علاج آ گیا جو مہنگا تو ہے تا ہم کامیاب ترین علاج ہے،پاکستان میں سینکڑوں بچے علاج کروا چکے اور اب نارمل زندگی گزار رہے ہیں،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، لاہور، کراچی میں ایسے کئی ہسپتال ہیں جہاں آپریشن کیا جاتا ہے اور اس کے بعد بچوں کی زندگی نارمل ہو جاتی

    سماعت سے محروم بچوں کا علاج کیسے؟
    سماعت سے محروم بچوں کے علاج کو "کوکلیر امپلانٹ” کہتے ہیں، اگر کسی بچے کی سماعت نہیں ہے تو سب سے پہلے اس کو آلہ سماعت کم از کم تین ماہ تک باقاعدگی سے لگوائے جاتے ہیں، آلہ سماعت سے بچہ نہ سنے تو پھر ڈاکٹر کوکلیر امپلانٹ کا کہتے ہیں، کوکلیر امپلانٹ ایک ایسا آپریشن ہے جس میں بچے کے سر میں کان کے پیچھے ایک ڈیوائس لگائی جاتی ہے، ایک ڈیوائس اس کے اوپر، یعنی باہر والی طرف لگائی جاتی ہے، اس آپریشن کے بعد بچہ سننے لگ جاتا ہے، کوکلیر امپلانٹ کاپاکستان میں خرچہ لاکھوں میں ہے، بلکہ اس وقت 25 سے تیس لاکھ ایک اندازے کے مطابق ایک آپریشن کا خرچ آتا ہے کیونکہ اس آپریشن کے دوران جو ڈیوائس بچے کو لگائی جاتی ہے وہ کافی مہنگی ہے.

    کوکلیر امپلانٹ
    سماعت کے قابل بنانے والے آلے کوکلیئر امپلانٹ کے ذریعے سماعت سے محروم بچے ہر آواز سے روشناس ہو سکتے ہیں اور ایسے بچے جو دونوں کانوں سے سن نہیں سکتے اور ہئیرنگ ایڈز بھی ان کے لیے مؤثر نہیں ہوتے وہ کوکلیئر امپلانٹ کی بدولت نارمل زندگی گزار سکتے ہیں،کوکلیئر امپلانٹ جدید آلہ ہے اور اگر کوئی بالکل بہرا بھی ہو جائے تو اس کی مدد سے وہ سن سکتا ہے، یہ کان کے اندر لگتا ہے اور ایک پیچیدہ آپریشن کے زریعے بچے کو سماعت کے قابل بنایا جاتا ہے۔ یہ آلہ صرف امریکہ، اسٹریلیا اور آسٹریا ہی بنا رہے ہیں

    سپیچ تھراپی
    کوکلیر امپلانٹ آپریشن کے بعد بچے کو سپیچ تھراپسٹ سے سپیچ کروانا پڑتی ہے، سپیچ کے بعد بچہ سننے اور پھر بولنے لگ جاتا ہے، کوکلیر امپلانٹ آپریشن کےبعد سپیچ تھراپی بہت ضروری ہے، اگر آپریشن کے بعد سپیچ نہ کروائی گئی تو یوں سمجھیں آپریشن کا مقصد فوت ہو گیا، سپیچ تھراپی کے ساتھ ساتھ بچے کو والدین کی توجہ کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے، والدین کو بھی چاہئے کہ آپریشن کے بعد بچے سے زیادہ سے زیادہ باتیں کریں.

    بچے کی عمر 5 برس سے کم
    کوکلیر امپلانٹ، پانچ برس سے کم عمر بچوں کا ہوتا ہے، اگر بچے کی عمر زیادہ ہو جائے تو ڈاکٹر آپریشن نہیں کرتے، اسلام آباد کے سی ڈی اے ہسپتال میں سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کرنیوالے ڈاکٹر جواد احمد کا کہنا ہے کہ ” پانچ سال سے بچے کی عمر زیادہ ہو جائے تو آپریشن کامیاب نہیں ہوتا، اس صورت میں زیادہ عمر کے افراد کا آپریشن ہو سکتا ہے اگر سماعت پیدائشی طور پر ہو بعد میں بیماری یا حادثے کی صورت میں سماعت ختم ہوئی ہو”

    بحریہ ٹاؤن نے بھی لاہور کے ہسپتال میں کوکلیر امپلانٹ شروع کئے تھے جو پہلے مفت کئے گئے، پھر والدین سے بھی قیمت وصول کرنا شروع کر دی گئی،اب اگر والدین قیمتا علاج کروانا چاہتے ہیں تو بحریہ ٹاؤن لاہور ہسپتال میں ہو سکتا ہے،

    اسلام آباد کے سی ڈی اے ہسپتال میں بھی کوکلیر امپلانٹ کا آپریشن کیا جاتا ہے، ڈاکٹر جواد احمد ایسے بچوں کا آپریشن کرتے ہیں، سی ڈی اے میں حکومت پاکستان کے تعاون سے سینکڑوں بچوں کے کامیاب آپریشن کیے جا چکے ہیں، نواز شریف کے سابقہ دور حکومت میں سماعت سے محروم بچوں کے لئے حکومت نے فنڈ دینا شروع کیا تھاجو ڈائریکٹ وزیراعظم ہاؤس سے منظور ہوتا تھا تا ہم عمران خان کی حکومت آنے کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے فنڈز ختم کر دیئے گئے اور یہ پروجیکٹ بیت المال منتقل کر دیا گیا، بیت المال کے تعاون سے آپریشن اب بھی جاری ہیں تا ہم اسکے لئے کافی تگ و د و کرنی پڑتی ہے کیونکہ بچے زیادہ ہیں، اور پیسے کم ہیں.

    لاہور میں گلبر گ میں ڈاکٹر ندیم مختار بھی سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن کرتے ہیں، ڈاکٹر ندیم مختار کا کلینگ گلبرگ میں حجاز ہسپتال کے سامنے ہے، قیمتا والدین یہاں سے بھی بچوں کا آپریشن کروا سکتے ہیں.

    لاہور کے گھرکی ہسپتال، چلڈرن ہسپتال سے بھی سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن کروایا جا سکتا ہے

    کراچی سے آغا خان ہسپتال، انڈس ہسپتال سے سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن کروایا جا سکتا ہے،

    پاک فوج بھی سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن کر رہی ہے، اگر بچے کے والدین فورسز میں ہیں تو انہیں اپنے بچے کا پاک فوج کے ہسپتال سے ہی آپریشن کروایا جانا چاہئے جو پنڈی سے ہوتا ہے،پاک فوج کے ہسپتال میں پہلا کوکلیر ایمپلانٹ ایک سپاہی کو 2017 میں نصب کیا گیا تھا اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر اس اہم طبی سہولت کا دائرہ پیدائشی طور پر سماعت سے محروم بچوں تک بڑھایا گیا اس موقع پر لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر نے کہا کہ 200 واں کامیاب کوکلیر ایمپلانٹ آرمی میڈیکل کور کی زبردست کارکردگی ہے،

    سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کرنیوالے ڈاکٹرجواد احمد نے خبر رساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے ہسپتال پاکستان بھر کا وہ پہلا سرکاری ہسپتال ہے جس میں مستحق افراد کے لیے یہ انتہائی مہنگی سرجری بالکل مفت کی جا رہی ہے، کیپیٹل اسپتال میں آڈیٹری امپلانٹ کا شعبہ 2016 میں قائم ہوا تھا اور اس میں اب تک سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا آپریشن کیا جا چکا ہے،

    ڈاکٹر جواد احمد
    ڈاکٹر جواد احمد

    کوکلیر امپلانٹ، جو کہ مہنگا ترین علاج ہے کے لئے، حکومت کی جانب سے یہ سہولت وفاقی ملازمین یا نادار افراد کے لیے فراہم کی جا رہی ہے جس کے لیے سرجن، ای این ٹی اسپیشلسٹ، سپیچ تھیرپسٹس اور آڈیولوجسٹس پر مشتمل ایک ٹیم مریض کا معائنہ اور ٹیسٹ کرتی ہے جس کے بعد اس کی سرجری کی جاتی ہے،ڈاکٹر جواد نے بتایا کہ پیدائش کے بعد دو سال تک بچے کے دماغ میں اسپیچ سینٹر تیار ہو جاتا ہے اگر بچہ سن نہیں رہا تو اس کا اسپیچ سنٹر تیار نہیں ہو گا، جس کے بعد وہ پوری زندگی نہ تو سن سکے گا اور نہ ہی بول سکے گا، اس لیے پہلے دو سال میں یہ تشخیص کرنا بہت ضروری ہوتا ہے کہ آیا بچہ سن رہا ہے یا نہیں۔

    سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کرنے والے ڈاکٹر جواد احمد کیا کہتے ہیں؟
    ڈاکٹر جواد احمدنے بتایا کہ” بہرے پن کے مریضوں کو تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے، ایک تو وہ جو پیدائشی طور پر سماعت سے محروم ہوتے ہیں جنہوں نے کبھی بھی نہ تو سنا ہوتا ہے اور نہ ہی وہ بول سکتے ہیں اگر ایک سے تین سال کی عمر تک یہ تشخیص ہو جائے کہ بچہ سن نہیں رہا اور اس کے سننے کا نظام کام نہیں کر رہا تو اس کے اندرونی کان میں سرجری کے ذریعے کاکلیہ یا وہ الیکٹرانک آلہ امپلانٹ کر دیا جاتا ہے جو کان کے اندرونی پردے سے آواز کو دماغ کے سمعی مرکز تک پہنچاتا ہے، اس کی مدد سے سماعت سے مستقل طور پر محروم افراد سننے کے قابل ہو جاتے ہیں،دوسری قسم ان افراد کی ہے جو پیدائشی طور پر سن تو نہیں سکتے لیکن وہ والدین یا سپیچ تھیرپسٹس کی مدد سے آوازیں نکالنا سیکھ جاتے ہیں، انہیں عام طور پر پندرہ سال سے قبل سرجری کے ذریعے ٹھیک کیا جا سکتا ہے،تیسرے گروپ میں وہ افراد آتے ہیں جو نارمل پیدا ہوتے ہیں اور ٹھیک طرح بول اور سن سکتے ہیں، لیکن کسی وجہ سے ان کی سماعت چلی جاتی ہے ایسے لوگوں کو بھی سرجری کے ذریعے دوبارہ سننے کے قابل بنایا جا سکتا ہے اور اس میں عمر کی کوئی حد نہیں ہوتی، کسی بھی عمر کے مریض کی یہ سر جری کی جا سکتی ہے،وہ ہر عمر کے مریضوں کی سرجری کر چکے ہیں لیکن سرجری کے لیے بہترین عمر تین سال ہوتی ہے”

    سرکاری سطح پر سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن کب شروع ہوا
    حکومت پاکستان کی جانب سے کوکلیر امپلانٹ کیسے شروع کیا گیا تھا؟ یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے،گیارہ جنوری2017ء کو اسلام آباد کے سکولوں کو بسیں فراہم کرنے کی تقریب تھی، تقریب میں اسوقت کے وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز بھی موجود تھے، تقریب میں ایک بچی بھی تھی جس کا نام ندا خان تھا،بچی نواز شریف کو ملی، مریم نواز نے بھی بچی کو اٹھایا ،پیار کیا،انکو بتایا گیا کہ بچی سن نہیں سکتی جس پر نواز شریف نے کہا کہ اس کا علاج میں کرواؤں گا، نواز شریف کے ہی حکم پر اس بچی ندا کا اسلام آباد کے سی ڈی اے ہسپتال میں آپریشن کیا گیا جو کامیاب ہوا،بچی کا تعلق مردان سے تھا، کامیاب آپریشن کے بعد نواز شریف نے وزیراعظم ہاؤس میں بچی ندا خان ،اسکے والدین اور آپریشن کرنیوالے ڈاکٹر جواد احمد سے ملاقات کی تھی

    nida khan

    بیت المال سے سماعت سے محروم بچوں کے آپریشن
    نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے بعد 2018 میں تحریک انصاف کی حکومت آئی، تحریک انصاف کی حکومت نے کوکلیر امپلانٹ کے فنڈز وزیراعظم ہاؤس سے بند کر دیئے اور بیت المال منتقل کر دیئے، جس کے بعد 22 نومبر 2019 کو بیت المال کے تعاون سے تحریک انصاف کی حکومت میں سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن ہوا.ملتان کے رہائشی 3 سالہ عبداللہ جان اور اسلام آباد کی رہائشی 3 سالہ کشف عمران کو پاکستان بیت المال کی جانب سے کاکلئیر امپلانٹ فراہم کردیئے گئے۔دونوں بچوں کا آپریشن سی ڈی اے ہسپتال میں کیا گیا جس کا مکمل خرچ پاکستان بیت المال نے برداشت کیا۔ اس وقت کے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے بچے کے کان میں اذان دے کر کوکلئیر امپلانٹ کا افتتاح کیا۔ 3 سالہ عبداللہ جان اور کشف عمران نے جو اپنی زندگی میں پہلی آواز سنی وہ آذان کی آواز تھی۔

     cochlear implants of two children

    اب بھی بیت المال کے تعاون سے نادار افراد کے بچوں کے آپریشن ہو رہے ہیں تا ہم ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس کے لئے الگ سے فنڈ مختص کرے، کیونکہ بیت المال کے فنڈز کا انتظا ر کرتے کرتے بچوں کی عمر پانچ برس سے زیادہ ہو جاتی ہے

    مخیر حضرات کو بھی چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں آگے بڑھیں، سماعت سے محروم بچوں کی سماعت کی بحالی کے لئے کردار ادا کریں،

    نوٹ، اگر اس ضمن میں کوئی رائے، تجاویز ہو ں تو 03349755107 پر واٹس ایپ نمبر پر پیغام بھیجا جا سکتا ہے

    ریاست مدینہ کی جانب حکومت کا پہلا قدم،غریب عوام کی دعائیں، علی محمد خان نے دی اذان

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

  • 2024 کا آغاز اور اہداف کا تعین

    2024 کا آغاز اور اہداف کا تعین

    جیسے ہی ہم پر نیا سال طلوع ہوتا ہے، ہماری خواہشات کے مطابق آنے والے مہینوں کے لیے اہداف طے کرنے کا رواج ہے۔ تاہم، اکثر و بیشتر، زندگی کی تیز رفتار فطرت ہمارے اچھے ارادے کے منصوبوں میں خلل ڈالتی ہے، جس سے ہمارے اہداف حاصل نہیں ہوتے۔مستحکم پیشرفت کو یقینی بنانے کے لیے حقیقت پسندانہ، وقت کے پابند معیارات قائم کرنے میں کلید مضمر ہے۔

    قراردادوں کو توڑنے کے مشترکہ نقصان سے بچنے کے لیے، زندگی کے بہت سے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے، عملی اہداف کا تعین کرنا بہت ضروری ہے۔ مختلف ذمہ داریوں کو متوازن کرنا ایک ساتھ ہوا میں بہت سی گیندوں کو اچھالنے کی طرح محسوس کر سکتا ہے۔ اس چیلنج پر قابو پانے کے لئے ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی اور انہیں ختم کرنا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کا مقصد چینی کی مقدار کو کم کرنا ہے، تو اپنے ماحول سے پرکشش میٹھے کو ختم کریں اور نظروں سے اوجھل رکھیں۔

    باہمی چیلنجوں سے نمٹنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ رشتوں میں ہچکی آسکتی ہے، خواہ وہ دوستوں کے ساتھ ہو یا عزیزوں کے ساتھ۔ الزام لگانے کے بجائے، کھلی بات چیت شروع کرنا زیادہ نتیجہ خیز ہے۔ ایک سادہ فون کال یا ایک نوٹ حیرت انگیز طور پر غلط فہمیوں کو دور کر سکتا ہے، دوست کے غیر ضروری ناراض ہونے سے رو ک سکتا ہے۔ میری نظر میں بات چیت تنازعات کے حل کا ذریعہ ہے.

    آپ کے اہداف کی طرف ہر چھوٹی سی پیش قدمی داد کی مستحق ہے۔ اپنی کامیابیوں کو تسلیم کرنا اور ان کی تعریف کرنا، چاہے وہ کتنی ہی معمولی کیوں‌نہ ہو، کامیابی کے احساس کو فروغ دیتا ہے اور آپ کو متحرک رکھتا ہے۔ ہر قدم آگے بڑھ کر آپ کو آپ کی خواہشات کے قریب لاتا ہے، ایک مثبت رفتار پیدا کرتا ہے جو آپ کو آگے بڑھاتا ہے۔

    ہم 2024 کے سفر کا آغاز کررہے ہیں، آئیے قابل حصول اہداف طے کرنے، رکاوٹوں کو توڑنے، رابطوں کو فروغ دینے، اور کامیابی کی طرف ہر قدم کا جشن منانے کا عہد کریں۔ ایسا کرنے سے، ہم عزم کے ساتھ آگے بڑھنے والے چیلنجوں کو نیویگیٹ کر سکتے ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ایک سال کامیابیوں سے بھرا ہو۔

  • اسلامی قانون میں خلع اور متعلقہ قوانین

    اسلامی قانون میں خلع اور متعلقہ قوانین

    اسلامی قانون میں خلع اور متعلقہ قوانین

    تعارف:
    شادی کو کنٹرول کرنے والے اسلامی قانون کی پیچیدگیوں میں خلع کا تصور بہت اہمیت رکھتا ہے، جسے اکثر نکاح نامے میں نہیں لکھا جاتا، یہ شق بیوی کو شوہر سے علیحدگی کا اختیار دیتی ہے،خلع بہت سے لوگوں کے علم میں نہیں،شادی کی تقریب کے دوران، ذمہ دار مذہبی شخصیت، جسے اکثر مولوی کہا جاتا ہے، عام طور پر اس شق کو چھوڑدیتے ہیں، خلع کی شق بظاہر نظر انداز ہوتی ہے تا ہم یہ خواتین کے لیے تحفظ کا کام کرتی ہے، شادی کی تحلیل کے لیے قانونی ذرائع کا سہارا لینے کی ضرورت کو ختم کیا جاتا ہے، جسے عام طور پر خلع کہا جاتا ہے۔

    خلع کی کارروائی میں چیلنجز:
    قانونی یقین دہانیوں کے باوجود کہ تین عدالتی تاریخوں کے بعد شوہر کی غیر موجودگی میں بھی طلاق دی جا سکتی ہے، عملی رکاوٹیں اکثر خلع کے مقدمات کے فوری حل میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ مخالف وکلاء کی جانب سے تاخیری حربوں کی وجہ سے ان کیسز میں طوالت ہوتی ہے، جس سے یہ عمل مزید پیچیدہ بن جاتا ہے.

    مالیاتی اثر:
    شادی کے معاہدے میں بیان کردہ 25% اثاثوں کی واپسی خلع کے معاملات میں لازمی تھی۔ تاہم، حالیہ ترامیم شوہر کو 100% اثاثوں کی مکمل واپسی کا حکم دیتی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ شادی کے دوران بیوی کو دیے گئے کوئی بھی تحائف، ان کی نوعیت سے قطع نظر، قانونی طور پر ناقابل واپسی ہیں، جو مالی تحفظ کا ایک پیمانہ پیش کرتے ہیں۔

    حق مہر اور عدالتی مداخلت:
    حق مہر شادی کا تحفہ جو قرآن مجید کی سورۃ النساء میں بیان کیا گیا ہے،اصولی طور پرشادی کی تکمیل سے پہلے بیوی کو پیش کیا جانا چاہئے، حالانکہ اس شرط پر عمل بہت کم ہوتا ہے۔ بہت سی خواتین کو انکا جائز حق، حق مہر نہیں دیا جاتا،سپریم کورٹ کے ایک اہم فیصلہ کے مطابق چھ برس تک بیویوں کو اگر حق مہر نہیں دیا جاتا تو ازالے کے لیے حق مہر جو واجب الادا ہے ،اسکے ساتھ شوہر کو ایک لاکھ جرمانے کی ادائیگی کے ساتھ ایک موقع فراہم کیا جاتا ہے، حق مہر شرعی تقاضا ہے اسے حق زوجیت ادا کرنے سے پہلے ادا کرنا چاہئے.

    قانونی مخمصے اور سماجی دباؤ:
    پاکستانی دیوانی مقدمات ،نہ حل ہونے والے، کئی دہائیوں پر محیط ،چلتے رہتے ہیں۔ اس تناظر میں، قانونی کاروائی کے دوران بیوی کو اس کے ازدواجی گھر سے نکالے جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ قانونی فریم ورک کے اندر ایک شق ایک عورت کو اجازت دیتی ہے کہ وہ شادی کے بعد کسی بھی وقت متفقہ رقم یا تحفہ کی درخواست کر سکتی ہے، جو مالی وسائل کے لیے متبادل راستہ پیش کرتی ہے۔ تاہم، زیادہ تر اس پر توجہ نہیں دی جاتی،

    نتیجہ:
    مساوی ،منصفانہ ازدواجی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے اسلامی قانون میں خلع کی پیچیدگیوں اور متعلقہ قانونی پہلوؤں کو سمجھنا ضروری ہے۔ اسلامی فقہ کے دائرہ کار میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بیداری اور وکالت کی اشد ضرورت ہے۔

    خلع کے مزید جاننے کےلئے یاسمین آفتاب علی کا وی لاگ ضرور سنیے

  • گوجرانوالہ میں قرآن وسنہ موومنٹ کاعظیم الشان جلسہ عام

    گوجرانوالہ میں قرآن وسنہ موومنٹ کاعظیم الشان جلسہ عام

    تحریر:ارشاد احمد ارشد
    شاعر مشرق ، حکیم الامت ، مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال نے کہا تھا
    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
    ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
    وہ افراد جن کو علامہ محمد اقبال نے ملت کا ستارہ قراردیا تھا ان میں سے ایک علامہ ابتسام الہی ظہر ہیں ۔ علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر جواں سال ، جواں عزم اور جواں ہمت ہیں ۔ وہ شہید ملت علامہ احسان الہیٰ ظہیر کے فرزند ہیں اس اعتبار سے وہ قائد ابن قائد ہیں ۔ اپنے والد گرامی کی طرح علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر کے لہجہ میں بھی وہی گھن گرج ، کلمہ حق کہنے کی وہی لگن ، اسلام کی سربلندی کی وہی تڑپ ، باطل کو للکارنے اور طوفانوں سے ٹکرا جانے کی وہی شدت وحدت اور امت کو بیدار کرنے کی وہی فکر موجزن ہے ۔ انھوں نے اپنی زندگی کلمہ حق کی سربلندی کےلئے وقف کررکھی ہے ۔ وہ اس وقت پاکستان کی سیاست کی ایک موثر اور توانا آواز ہیں ۔ تمام مذہبوں جماعتوں کے سٹیج کی رونق ہیں ۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں ، بات کرنے کا طریقہ اور سلیقہ رکھتے ہیں ۔۔۔۔وہ
    نرم دم ِ گفتگو ، گرم دم جستجو
    رزم ہو یا بزم ہو پاک دل وپاکباز
    کی عملی تصویر ہیں ۔ علامہ ابتسام الہیٰ ظہیراعلیٰ پائے کے خطیب ، ادیب ، مدبر ، سیاستدان اور قرآن وسنہ موومنٹ کے چئیرمین ہیں ۔ قرآن وسنہ موومنٹ کا قیام اگر چہ کچھ ہی عرصہ قبل عمل میں لایا گیا تھا لیکن علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر کی متحرک اور فعال شخصیت کے بدولت یہ اس وقت ایک ملک گیر جماعت بن چکی ہے ۔ پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں قرآن وسنہ موومنٹ نے کامیاب اور شاندار جلسے کرکے خود کو منوالیا ہے ۔ ایسا ہی ایک جلسہ گذشتہ دنوں پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ میں بعنوان” نفاذ اسلام واستحکام پاکستان“ منعقد کیا گیا ۔

    علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر خود بھی نوجوان ہیں ستاروں پہ کمند ڈالنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔ نوجوان ان کے گرویدہ اور ہراول دستہ ہیں ۔ قرآن وسنہ کے ملک میں جہاں بھی پروگرام ہوں اس میں نوجوان پیش پیش ہوتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ گوجرانوالہ کے جلسہ کو کامیاب کروانے اور اس کے انتظامات میں نوجوان پیش پیش تھے ۔ گوجرانوالہ کا منی سٹیڈیم تنگ داماں کا شکوہ کررہا تھا جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی، جن کے جذبات آسمان کی بلندیوں کو چھو رہے تھے ۔جلسہ سے کلیدی خطاب علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر کا تھا جو کہ بہت فکر انگیز اور ملک کو درپیش تمام مسائل کا احاطہ کئے ہوئے تھا۔ انھوں نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں کہا پاکستان کے حصول کا مقصد ایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا۔قیام پاکستان کے لیے نوجوانوں، بزرگوں اور خواتین نے تاریخ ساز قربانیاں دیں، اپنے گھروں کو، آبائی مکانات کو خیر باد کہا اور پاکستان آکر آباد ہوئے۔ان قربانیوں کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ایک ایسی ریاست حاصل کی جائے جس میں اسلامی قوانین کے علمبرداری ہواور اسلام کا پرچم سربلند ہو ، جس کے ہر شعبہ ہائے زندگی میں اسلام کا بول بالا ہو ۔یہ خواب تھے جو پاکستان بنانے والوں نے دیکھے تھے لیکن بدقسمتی اور بد نصیبی کی بات ہے کہ بانیان پاکستان کے یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے ۔اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے ملک میں ہر طرف فواحش ومنکرات کا دور درہ ہے ، شراب، جوئے، قمار بازی اور بدکاری کے اڈے کھلے ہوئے ہیں، بینکوں میں سودی لین دین کے کاونٹرزجاری و ساری ہیں۔ ان منکرات کے خاتمے کے لیے حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے لیکن حکومت ان کے خاتمہ کی بجائے ٹرانس جینڈر بل اور اس قسم کی دیگر خرافات کو پھیلانے میں مصروف ہے۔گذشتہ کچھ سالوں سے ملک میں” عورت مارچ “ کا انعقاد بھی شروع ہوچکا ہے جس سے ملک کے اسلامی ، تہذیبی، نظریاتی اور فکری ڈھانچے کو شدید قسم کے خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔” عورت مارچ “ جیسی خرافات کا نتیجہ ہے کہ ملک میں مختلف مقامات پر جنسی جرائم کے واقعات تشویشناک اور خوفناک حد تک بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ ایک عرصہ پہلے قومی اسمبلی میں بچوں کے ساتھ برائی کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے سزائے موت تجویز کی گی تھی لیکن تاحال اس پہ عمل نہیں ہو سکایہ اس لئے کہ حکومتوں کی ترجیحات میں برائی ، بے حیائی اور جنسی جرائم کا خاتمہ نہیں ہے ۔

    علامہ ابتسام الہی ظہیر نے مزید کہا کہ ملکی معیشت بھی ایک عرصے سے دھچکوں اور تنزلی کا شکار ہے۔جس کا نتیجہ ہے کہ غریب اور سفید پوش طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس گیا ہے ۔ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے پاکستان سے سودی نظام ختم کرنا ہو گا۔ اسی طرح ملک میں برآمدات اورصنعت کاری کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ حکومت تجارتی اعتبار سے تاجروں کو ریلیف دے ،ملک میں کاروبار کے ذرائع اور مواقع بڑھائے جائیں تا کہ ملک میں مقیم لوگ بیرون ملک جانے کی بجائے پاکستان ہی میں اچھا روزگار تلاش کریں۔ ٹیکسوں کی شرح کم کی جائے تاکہ پاکستان میں معاشی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ہو۔پاکستان کے دفاعی اثاثوں کا تحفظ کرنا جہاں عسکری اداروں کی ذمہ داری ہے وہیں دفاعی اثاثوں کی حفاظت کے لیے عوام کو بھی ہوشیار ،چوکنا اور بیدار رہنے کی بھی ضرورت ہے۔پاکستان کو بین الاقوامی تنازعات کے اندر بھی مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ جہاں جہاں مسلمان مظلوم ہیں ان کی حمایت کیلئے بھرپور طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے۔ پاکستان کو بین الاقوامی برادری کے ساتھ مساوی بنیادوں پر تعلقات رکھنے چاہئیں اور اپنی معیشت کو فروغ دینے لیے قرضوں کی بجائے خود داری کے راستوں پر چلنا چاہیے۔ پاکستان کی بقاءاور استحکام کے لیے اسلام اور آئین کی سربلندی انتہائی ضروری ہے۔

    پاکستان کا آئین۔۔۔۔ کتاب و سنت کی عملداری، پابندی اور سرفرازی کی ضمانت دیتا ہے لیکن بد نصیبی سے عرصہ دراز سے اس بات پر صحیح طریقے سے عمل نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے ملک میںنظریاتی اعتبار سے کشمکش کی کیفیت نظر آتی ہے۔ بڑی سیاسی جماعتوں نے کبھی بھی اسلامی قوانین کی افادیت کو اہمیت نہیں دی۔ان حالات میں ملک کی تمام دینی جماعتوں کو ایک پیج پر آکر اللہ تبارک وتعالیٰ کی دین کی سربلندی کے لیے یکسوئی سے اپنا کردار ادا کرناہوگا۔سامعین سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ قیم الہیٰ ظہیر ڈپٹی سیکرٹری جنرل قرآن وسنہ موومنٹ نے کہا کہ پاکستان کے نظریاتی استحکام ہی سے ملک ایمان و استحکام کے راستے پہ چلے گا۔نوجوانوں کو اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا ہوگا اگر نوجوان اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں گے تو اس صورت میں ہی پاکستان مستحکم ریاست کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا اسرائیل وفلسطین تنازعے کے حل کے لیے حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور مظلوم فلسطینیوں کی کھل کر حمایت کرنی چاہیے۔
    gujrawala
    جلسہ عام سے پروفیسر سیف الرحمن بٹ نائب صدر ، الشیخ عبدالرزاق اظہر چئیرمین قرآن وسنہ موومنٹ گوجرانولہ ، محمد نوریز ملک ناظم تعلقات عامہ قرآن وسنہ موومنٹ ، ڈاکٹر صلاح الدین چئیرمین قرآن وسنہ موومنٹ لاہور اور دیگر رہنماﺅں نے بھی خطاب کیا۔جلسہ میں درج ذیل قراردادیں بھی منظور کی گئیں کہ ناموس صحابہ بل پاس کیا جائے اور اس حوالے سے تمام دینی طبقات یکسو اور متحد رہیں۔ انتخابات کو ملتوی یا موخر کرنے کی بجائے ان کا بروقت انعقاد وقت کی ضرورت ہے۔ انتخابی دھاندلیوں کو روکنے کے لیے مضبوط اور ٹھوس منصوبہ بندی اختیار کی جائے۔ملک میں تمام ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں۔ایک قراردا کے ذریعے اسرائیلی مظالم کی بھرپور انداز سے مذمت کی گئی آخر میں فلسطینی بھائیوں کے لیے اظہار ِ یکجہتی کیا گیا اور نہایت ہی پر سوز طریقے سے فلسطین کے لیے دعا بھی کی گئی۔

  • روسی صدر کا مشرق وسطیٰ کا دورہ،رئیسی سے ملاقات

    روسی صدر کا مشرق وسطیٰ کا دورہ،رئیسی سے ملاقات

    روسی صدر کا مشرق وسطیٰ کا دورہ،رئیسی سے ملاقات
    روسی صدر ولادی میر پوتن نے حال ہی میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی۔ اسرائیل ٹائمز کے مطابق ان کی ملاقات کے دوران، پوتن نے ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے لئے ‘نیک خواہشات’ کا پیغام پہنچایا، اورگزشتہ سال کے دوران کی جانے والی حمایت پر شکریہ ادا کیا،

    دونوں رہنماؤں کے مابین جن اہم موضوعات پر بحث کی گئی ان میں سے ایک حماس اسرائیل تنازعہ تھا، جو غزہ میں شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ روسی صدر نے مشرق وسطیٰ کے ایک غیر معمولی دورے کے دوران اس جاری جنگ اور اس میں دوسرے ممالک کو شامل کرنے کی صلاحیت پر بات کی جس سے اسرائیل اور عرب ریاستوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ یوکرین پر روس کے بڑے حملے کے باوجود، وہ غزہ کے تنازعے کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں، جس سے غزہ میں مبینہ نسل کشی کے لیے اسرائیل اور اس کے مغربی اتحادیوں کے خلاف مہم میں اس کی شمولیت کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا روس، جو اس وقت یوکرین پر مغربی بلاک کے ساتھ جنگ میں ہے، متضاد موقف اپنا رہا ہے؟

    2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے، وہ ایران کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، دونوں ممالک کو مغرب کی طرف سے پابندیوں کا سامنا ہے

    مشرق وسطیٰ میں اقوام متحدہ کا کردار انتہائی کم قرار دیتے ہوئے تنقید کی جاتی رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار کے دفتر (یو این ایس سی او) کے حکام نے صورتحال کو حل کرنے کی کوشش میں اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا ہے تاہم، ان کوششوں کی تاثیر پر سوالیہ نشان لگا دیا گیا ہے، کیونکہ تنازعہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، اور اقوام متحدہ کے کردار کو روک تھام سے زیادہ رد عمل کا حامل قرار دیا ہے۔

    یوکرین اور مشرق وسطی کے تنازعات میں روس کی دوہری مصروفیت کے ساتھ، مشرق وسطی کی صورت حال پیچیدہ ہے، اس کے محرکات اور اتحاد کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی کوششیں جو اگرچہ موجودہ ہیں تا ہم کچھ لوگوں کے نزدیک خطے میں دیرینہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے ناکافی ہیں۔

  • روسی صدر کا 2030 تک حکمرانی کا ہدف

    روسی صدر کا 2030 تک حکمرانی کا ہدف

    روسی صدر ولادی میر پوتن نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں آئندہ 2024 کے صدارتی انتخابات لڑنے کا بھی اعلان کیا، یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس سے وہ کم از کم 2030 تک اقتدار میں رہیں گے۔ یہ انتخابات 15 سے 17 مارچ 2024تک ہوں گے، اور ان الیکشن میں تقریباً 110 ملین ووٹرز اپنی رائے دیں گے، تاہم، تاریخی رجحانات کم ٹرن آؤٹ دکھاتے ہیں، 2018 کے انتخابات میں 67.5 فیصد ووٹرز کی شرح ریکارڈ کی گئی۔

    پوتن نے 1999 میں بورس یلسن کی جگہ صدارت سنبھالی تھی اور اس کے بعد وہ جوزف اسٹالن کے بعد روس کے سب سے طویل عرصے تک صدر رہنے والے رہنما بن گئے ہیں۔ مارک گیلیوٹی کی کتاب، "Putin’s Wars” میں 2000 کی دہائی سے اب تک کی روس کی فوجی مصروفیات کا ایک جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ روسی سیاسی اور سلامتی کے امور کے معروف اسکالر Galeotti نے دو چیچن جنگوں، شامی تنازعے میں روسی مداخلت، جارجیا پر حملہ، کریمیا کا الحاق، اور یوکرین میں وسیع تنازعات کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
    Galeotti کا کام حالیہ تنازعات سے آگے بڑھتا ہے، جو روس کی اعلیٰ ترین اور فرسودہ مسلح افواج کو دوبارہ منظم کرنے میں کامیاب وزراء دفاع کو درپیش چیلنجوں کا جائزہ لے رہے ہیں، پوتن کے پہلے وزیر دفاع، سرگئی ایوانوف (2001–2007) نے فوجی جرنیلوں کی مزاحمت کا سامنا کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر بھرتی کرنے پر ایک کنٹریکٹ آرمی کی وکالت کی۔

    میں قارئین کی توجہ ایک نقطے کی طرف مبذول کرانا چاہوں گی، غزہ میں نسل کشی کی وجہ سے،ارد گردجانے کے لیے بہت کچھ ہے۔ یوکرین کے مغربی اتحادیوں کی طرف سے امداد بند ہو رہی ہے۔ حماس نے ایرانی مالی معاونت سے یہ حملہ شروع کیا جو آگ کی طرح پھیل گیا، غزہ کو قبضے میں لے لیا گیا، بالکل اسی وقت جب سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ ہونے والا تھا جس سے فلسطینیوں کو زیادہ فائدہ اور یقیناً ایران کو نقصان ہوگا، اس حملے کے بعد آگ پھیل گئی، اسرائیل کی طرف سے ردعمل کو شاید اچھی طرح سمجھا گیا تھا، اس تباہی کے گرد گھومنے کے لئے ابھی بہت کچھ باقی ہے جس نے دنیا کو ٹکرایا، یوکرین کو ذیلی متن میں لے گیا اور آخر کار اسے روس سے لڑنے کے لیے کمزور بنا دیا۔
    آخر سیاست ایک گندا کھیل ہے

  • بابری مسجد کاانہدام ۔۔۔غیرت ِ مسلم کا امتحان ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    بابری مسجد کاانہدام ۔۔۔غیرت ِ مسلم کا امتحان ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    6دسمبر1992ء …تاریخ کاوہ دلخراش اور افسوسناک دن ہے جب مسلمانوں کی عظمت کی ایک نشانی‘مغل بادشاہ وسپہ سالار ظہیرالدین بابرکے عہد(1528ء ) کی بنائی گئی 500 سالہ تاریخی بابری مسجد کوانتہاپسنداور جنونی ہندؤوں نے شہیدکردیا۔ان انتہاپسندہندؤوں کادعویٰ تھا کہ بابری مسجد ان کے خداراما(1500 ق م)کی جائے پیدائش ہے‘ یہاں گیارہویں صدی عیسوی میں مندرتعمیر کیاگیاتھا بعدمیں اسے گراکربابری مسجد بنائی گئی۔ ہندؤوں نے بابری مسجد کواپنے خداراما کی جنم بھومی قراردینے کادعویٰ سب سے پہلے 1855ء میں انگریزوں کے دورمیں کیا ‘گویاہندؤوں کوبابری مسجد بننے کے تقریباً350سال بعد اور راما کی پیدائش کے تین ہزار تین سو پچپن (3355)سال بعدپتہ چلا کہ یہ توان کے راماکی جائے پیدائش ہے۔اسی سے اندازہ ہو جاتاہے کہ ان کی تاریخی اور علمی تحقیق کی کیاحیثیت ہے۔ حالانکہ اگربابری مسجد واقعی ان کے خداکی جائے پیدائش ہوتی تویہ بہت مشہور اور یادگار جگہ ہوتی۔جیسا کہ تاریخ میں سومنات اوردیگر مندروں کاذکر توملتاہے لیکن مسلمانوں کے ہاتھوں راماکی جائے پیدائش والے مندر کے توڑنے اوراسے مسجد بنانے کاکہیں حوالہ نہیں ملتا۔ اگر مسلمانوں کے ہاتھوں سومنات اوریگرمندروں کے توڑنے کاذکر کتابوں میں جابجا موجود اور یقینا موجود ہے توپھرراما کی جائے پیدائش والے مندر کے توڑنے کی شہرت توسب سے زیادہ ہونی چاہئے تھی اور تاریخ کی کتب میں جابجا اس کا ذکر بھی ہونا چاہئے تھا ۔

    یہ طرفہ تماشہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک قوم کے خداکی جائے پیدائش پربناہوامندر ہو اوراس کی شہرت کاذکرتاریخ میں نہ ہونے کے برابر ملے‘اتنی بات ہی ہندؤوں کے دعوے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کافی ہے…ویسے ہندؤوں کایہ کیساخدا ہے جوخداہوکربھی اپنی جنم بھومی اورجائے پیدائش کی حفاظت نہ کرسکا اور وہاں اس کے دشمن مسلمان اپنی عبادت گاہ تعمیرکرنے میں بھی کامیاب ہوگئے۔

    بابری مسجد کی شہادت کو آج 31برس مکمل ہوچکے ہیں ۔ یہ مسجد جو کعبہ کی بیٹی تھی ، کبھی ایستادہ تھی ،عالی شان تھی ، اس کی مضبوط بنیادیں تھیں ، موٹی دیواریں تھیں ، گنبد تھے لیکن آج اس کانام ونشان بھی مٹ چکا ہے ۔بابری مسجد کو شہید لکھتے ہوئے قلم کانپتا ہے،دل لرزتا ہے ، آنکھیں بھیگ جاتی ہیں یہ سوچ کر کہ جب گائو ماتا اور بتوں کے پجاری اس کے گنبدوں پر چڑھے ، ان پر کدالیں چلانا شروع کیں تو مسجد چیختی رہی ، کعبے کی بیٹی چلاتی رہی کہ محمود غزنوی کے فرزند کدھر ہیں ؟ ظہیر الدین بابر کے گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں کیوں خاموش ہیں ؟ ہندو مجھ پر ہتھوڑے برساتا رہا ، بزدل بنیا مجھ پر لاٹھیاں مارتا رہا ، میرے ان گنبدوں پر چڑھ گیا جن میں کبھی قرآن مجید کی تلاوت اور احادیث کی آوازیں گونجا کرتی تھیں ۔ بابری مسجد چلاتی رہی کہ کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے ، کون ہے جو مجھے گائو ماتا کے پجاریوں سے بچائے ۔ صد حیف مجھے بچانے کیلئے کوئی بھی نہ پہنچا ۔ جس دن بابری مسجد کو شہید کیا گیا اس دن اترپردیش میں کرفیو لگا دیا گیا ۔ اس کے باوجود بھارت کے مسلمان اپنی طاقت ، وسائل اور استعداد کے مطابق جو احتجاج کرسکتے تھے کیا ۔۔۔۔۔۔لیکن 57اسلامی ممالک کے سربراہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہے ۔آخر مٹی اور پتھر سے بنے دیوی اور دیوتائوں کے پجاری مسجد کے سینے پر چڑھ گئے۔

    حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں ’’ ہندو توا ‘‘ کا عفریت برہنہ ناچ رہا ہے ۔ بھارت کی اکثریتی ہندو آبادی کی رگ رگ میں مسلم دشمنی سرایت کرچکی ہے یہی وجہ ہے کہ بھارت کے 25 کروڑ مسلمان بھی بے بس ہوگئے جو احتجاج کیلئے نکلے ان پر ہندو بلوائی ٹوٹ پڑے بابری مسجد کی شہادت کے خلاف احتجاج کرنے والے سینکڑوں مسلمان شہید کردیے گئے ۔ جنونی ہندو 75 برس سے مسلسل مسلمانوں کو ذلیل کر رہے اور ان پر حملے کررہے ہیں مگر بھارتی مسلمان اس حد تک کمزور اور بے بس ہوچکے ہیں کہ وہ کسی حملے کا جواب دینے کی ہمت بھی نہیں کرسکتے ۔ ۔ بیچارے بھارتی مسلمانوں سے کیا شکوہ یہاں تو آزاد پاکستان کے مسلمان حکمران بھی اپنے کلمہ گو بھارتی مسلمانوں کے حق میں آواز نہیں اٹھاتے ہیں ۔ان حالات میں بابری مسجد کہتی ہے کہ میں اپنی شہادت کی شکایت کروں تو کس سے کروں ۔۔۔۔۔۔؟ کیا مجال ہے جو تم نے جواب دینے کا سوچا ہو اور میرے لئے آواز اٹھائی ہو ۔ بابری مسجد کہتی ہے اے پاکستان کے مسلمانوں ! ذرا تم بھی تو بتلاؤ تم کیوں چپ سادھے بیٹھے رہے؟ ۔کیا تم نہیں جانتے کہ میں 1828 ء میں اس وقت بنی تھی جب بابر نے ایودیا کو فتح یاب کیا تھا تب بابر نے مجھے فتح کی یاد میں بنایا تھا۔ اس کا مطلب ہے میں اس وقت کی یادگار ہوں جب ہندوستان کے مسلمان مرد ِ میدان تھے مجاہدتھے اور موحد تھے ۔ بابری مسجد کے گرائے جانے کا یہ مطلب ہے کہ آج کے مسلمان مرد ِ میدان نہیں رہے اور ان میں سے جہادی روح ختم ہو گئی ہے ۔میں تو 1949 ء سے انتظار کر رہی ہوں اس وقت سے میرے در و دیوار نمازیوں کے رکوع وسجود اور قرآن کی تلاوت کو ترس گئے ہیں اب تو مجھے شہید ہوئے بھی 31برس ہونے کو آئے ہیں ۔تین عشرے گزرنے کے بعد بھی جب کوئی مسلمان میری مدد کو نہ آیا تو بتوں کے پجاریوں نے جان لیا کہ اب یہ قوم غزنوی اور بابر کی قوم نہیں یہ تو لتا کے گانے سننے والی قوم ہے۔ یہ ہماری معاشرتی رسموں مہندی ، تلک اور بسنت کی رسیا قوم ہے۔ یہ قراردادیں پیش کرنے ، اقوام متحدہ میں جانے ، جلوس نکالنے ، ٹائر جلانے اور نعرے لگانے والی قوم ہے۔ بھلا ایسی قوم سے خائف ہونے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔۔؟
    ان حالات میں مسلمانوں کے پاس آخری چارہ کار کے طور پر عدلیہ کا دروازہ تھا چنانچہ مسلمانوں نے بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کیا ۔ دلائل ، شواہد ، حقائق مسلمانوں کے حق میں تھے ۔ تاریخی کاغذات اور دستاویزات یہ چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں مذکورہ جگہ کبھی مندر نہیں رہا بلکہ ابتدا ہی سے یہاں مسجد ہی تھی ۔اسلئے مسلمانوں کو یقین تھا کہ عدلیہ ان کے حق میں فیصلہ کرے گی ۔ لیکن مسلمان بھول گئے تھے کہ بھارتی عدلیہ انصاف کی بالادستی نہیں بلکہ ہندوتوا کی بالادستی چاہتی تھی ۔ اسی لئے بھارتی سپریم کورٹ نے ٹھوس حقائق ہونے کے باوجود مسلمانوں کے خلاف فیصلہ دیا ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مودی حکومت کے حوصلے مزید بڑھ گئے اس کے بعد مندر کی تعمیر کے مذموم پروگرام پر عملدرآمد شروع کردیا گیا ۔

    جس جگہ کسی وقت میں مسجد تھی وہاں 70 ایکڑ کا رقبہ کمپلیکس کیلئے مختص کردیا گیا اور اس کمپلیکس کے اندر 2.67 ایکڑ کی جگہ پر نریندر مودی نے عین اس دن مندر کا سنگ بنیاد رکھا جس دن مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی تھی ۔اس طرح سے مودی حکومت نے یہ پیغام دیا کہ بھارت ہو یا مقبوضہ جموں کشمیر ہر دو جگہ مسلمان ہی اس کا ٹارگٹ ہیں ۔ اس کے بعد تیزی سے مندر کی تعمیر کاکام شروع کردیا گیا ۔سو 15ارب روپے کی خطیر رقم کی لاگت سے مندر کی پہلی منزل مکمل ہوچکی ہے جسے جنوری 2024ء میں پوجا پاٹ کیلئے کھول دیا جائے گا جبکہ مندر کی تعمیر کا دوسرا اور آخری مرحلہ دسمبر 2025 میں مکمل ہو گا ۔

    بابری مسجد کی شہادت اور مندر کی تعمیر بی جے پی کے انتخابی ایجنڈے اور وعدے میں شامل تھی ۔ بی جے پی نے جووعدہ کیا پورا کیا جو چاہا حاصل کرلیا اپنے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنا لیا ۔۔۔۔ان حالات میں سوال یہ ہے کہ ۔۔۔۔ ۔پاکستان کے حکمران کیا کررہے ہیں ، وہ پاکستان جو کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا جس کے قیام میں لاکھوں مسلمانوں کا خون شامل ہے ۔ جس کے بانیان نے بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں اور مساجد کی حفاظت کے وعدے کئے تھے ۔ بابری مسجد اور دیگر شہید کی جانے والی مساجد کے منبر ومحراب اور مینار ہم سے سوال کرتے ہیں کہ اے پاکستان کے مسلمانوں ، حکمرانوں تم نے ہماری مدد اور حفاظت کے جو وعدے کئے تھے ۔۔۔۔وہ وعدے کب پورے کرو گے !

  • بھارتی انتخابات میں کانگریس کی ناکامی،ایک جائزہ

    بھارتی انتخابات میں کانگریس کی ناکامی،ایک جائزہ

    بھارت میں ریاستی انتخابات ہو رہے ہیں،مدھیہ پردیش، راجستھان، اور چھتیس گڑھ کی ریاستوں میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج نے بھارت کی سابق حکمران جماعت کانگریس کودھچکا پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں انڈیا بلاک کے اندر اقتدار کی تقسیم کی حرکیات کا از سر نو جائزہ لیا گیا ۔ ان ریاستوں کے نتائج نے نہ صرف کانگریس کو مایوس کیا بلکہ اس کے اتحادی شراکت داروں کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں،جو خود کو نظر انداز کر رہے ہیں

    کانگریس کی جانب سے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مؤثر طریقے سے تعاون نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے کانگریس کو ناکامی ہوئی،بھارت میں سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے شراکت داروں نے انتخابات میں جیت کی صورت میں اقتدار کی تقسیم کے حوالہ سے قبل از وقت مکالمے کی خواہش کا اظہار کیا تھا تاہم کانگریس کی جانب سے ایسا نہیں کیا گیا،کانگریس وقت سے قبل سودے بازی نہیں کر رہی تھی،بلکہ انکی توجہ انتخابات کے نتائج پر تھی،اتحادیوں کی جانب سے عدم اطمینان اور اقتدار کی تقسیم کو لے کر کانگریس کو انتخابات میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا

    انتخابات کےبعد اتحادیوں نے کانگریس کی اہمیت پر سوال اٹھانے کا اشارہ کیا، کانگریس کو حزب اختلاف کی سب سے کمزور کڑی کے طور پر دیکھاجاتا ہے،قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے تین ریاستوں کرناٹک،ہماچل پردیش اور تلنگانہ میں کامیابی حاصل کی، کانگریس کی یہ کامیابی بعض علاقوں میں پارٹی کی موجودگی کوظاہر کرتی ہے

    دوسری جانب بھارت میں اس وقت کی حکمران جماعت بی جے پی نے راجھستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، بی جے پی نے 114 اسمبلی حلقے اور تقریباً 42 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں،میواڑ، برج، مارواڑ اور ہراوتی جیسے علاقوں میں بی جے پی کی کامیابی نے پارٹی کی تنظیمی طاقت کو نمایاں کیا ہے۔مروجہ رائے یہ ہے کہ راجستھان میں اشوک گہلوت کی زیرقیادت حکومت کے خلاف کوئی بری رائے سامنے نہیں آئے گی، کانگریس کو امید تھی کہ وزیراعلی گہلوت کی مقبولیت، انکی فلاحی سکیمز کی وجہ سے انتخابات میں کامیابی ملے گی تا ہم اس کے برعکس نتائج آئے،ووٹرزامن و امان کی صورتحال، کرپشن، خواتین پر مظالم سمیت دیگر اہم مسائل کو دیکھ رہے تھے جس کی وجہ سے کانگریس کو نتائج توقع کے برعکس ملے،وزیراعلیٰ گہلوت نے انتخابی نتائج کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ کہا کہ شکست کے اسباب پر غور کیا جائے گا،ہمارے منصوبے اچھے تھے اور پورے بھارت میں انکا تذکرہ تھا تاہم کامیابی نہیں ملی.

    بھارت میں ان انتخابات کے بعد کانگریس کو ایک مشکل دور کا سامنا ہے، اس لیے اس کی سیاسی حکمت عملی کے از سر نو جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے۔کانگریس کو ووٹر کے خدشات کو دور کرنا چاہئے اور انکی اہمیت کو تسلیم کرنا چاہیے، ابھرتے ہوئے سیاسی منظر نامے پر ،کھوئے ہوئے مقام کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے تازہ نقطہ نظر اور تخلیقی حل ناگزیر ہیں۔ کانگریس پارٹی کی انتخابی ناکامیوں نے انڈیا بلاک کے اندر اس کے کردار پر نظر ثانی کرنے پر تحریک دی ہے۔ جیسا کہ اتحادی عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہیں اور کانگریس پر سوال اٹھاتے ہیں،اب کانگریس پارٹی کو خود کا جائزہ لینا چاہیے، اپنے نقطہ نظر کو اپنانا چاہیے، اور اتحاد کے مقاصد میں بامعنی حصہ ڈالنے کے لیے اپنی سیاسی حیثیت کی تعمیر نو کے لیے فعال طور پر کام کرنا چاہیے۔