Baaghi TV

Category: متفرق

  • یوکرین روس جنگ، فائدہ کس کو؟

    یوکرین روس جنگ، فائدہ کس کو؟

    مشرقی محاذ پہ روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان جاری تنازعہ نے یوکرین کے لیے خاصی تباہ کاری اور معاشی مشکلات پیدا کی ہیں۔ روسی حملوں میں خارکیف سمیت مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا ہے،جیسا کہ نائب وزیر دفاع حنا ملیار نے ٹیلی گرام [الجزیرہ] پر مطلع کیا۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کی جانب سے جوابی کارروائی کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔

    2022 میں، یوکرین پر روسی حملہ کے بعد، ملک کو شدید معاشی بدحالی کا سامنا کرنا پڑا۔ یوکرین کی جی ڈی پی میں 29.1 فیصد کمی ہوئی، اور اس کی سٹیل کی پیداوار میں 71 فیصد کمی ہوئی کیونکہ روسی افواج نے یا تو سٹیل پلانٹس کا کنٹرول سنبھال لیا، یا اسے تباہ کر دیا۔ گزشتہ مالی سال کے مقابلے برآمدات کی سطح میں 35 فیصد کمی ہوئی، جس سے افراط زراور قرضوں میں اضافہ ہوا۔ اس تنازعے نے زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کوئلے کی کان کنی، اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف صنعتوں پر بھی نقصان دہ اثر ڈالا ہے. کیونکہ یہ شعبے کام کرنے والے بنیادی نظام جیسے بجلی اور انٹرنیٹ تک رسائی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ امریکی ٹیک فرمیں روس-یوکرین تنازعہ سے نمایاں منافع کما رہی ہیں۔ نیشنل ڈیفنس میگزین کے مارچ میں شائع ہونے والے "یوکرین: اے لیونگ لیب فار اے آئی وارفیئر” کے عنوان سے مضمون نے اس تنازعے کو نیٹ ورک اور اے آئی پر مبنی میدان جنگ کی سمت میں بطور اہم پیش رفت کے بیان کیا گیا ہے۔ یوکرین نئی AI ٹیکنالوجی اور مصنوعات کا ایک تجربہ گاہ بن گیا ہے. جو مغربی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے تیزی سے منافع پیدا کرنے کا منفرد موقع ہے.
    ukarin1

    اگرچہ امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ آلات کا مقصد روس کے خلاف استعمال ہے، لیکن یہ واضح رہے کہ یوکرین کا تنازعہ نادانستہ طور پر تکنیکی ترقی کے حوالہ سے تجربہ کرنے کا ایک پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین میں فعال طور پر تصفیہ اور امن کی تلاش کے بجائے، ملک کو ترقی پذیر ٹیکنالوجیز کی جانچ کے لیے ایک تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
    بالاخر یوکرین-روس جنگ کے نتیجے میں یوکرین کے لیے شدید اقتصادی مشکلات پیدا ہوئیں. روس نے بنیادی نظام اور صنعتوں کو وسیع پیمانے پر تباہ کیا۔ دریں اثنا، کچھ امریکی ٹیک کمپنیاں تنازعات کا فائدہ اٹھا رہی ہیں. اور یوکرین کو اپنی AI ٹیکنالوجیز اور مصنوعات کے لیے تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ یہ تنازعات کے دوران کیے گئے اقدامات کے پیچھے حقیقی ارادوں، اور امن کی کوششوں پر تکنیکی ترقی کو ترجیح دینے کے بارے میں خدشات کو جنم دیتا ہے۔

    ukarin2

  • معاشرہ کی اصلاح میں میڈیا کا کردار ،تحریر،چوہدری محمد سرور

    معاشرہ کی اصلاح میں میڈیا کا کردار ،تحریر،چوہدری محمد سرور

    انسان کا جسم اس کے دماغ کے تابع ہے جبکہ دماغ رہنمائی لیتا ہے قوت بصارت اور قوت سماعت سے یعنی کانوں اور آنکھوں سے ۔ انسان جو کچھ کانوں سے سنتا ہے اور آنکھوں سے جو د کچھ دیکھتا ہے دماغ اس کااثر قبول کرتا ہے ۔جبکہ دماغ کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والا میڈیا ہے ، چاہے وہ الیکڑانک ہو یا پرنٹ میڈیا ۔ امر واقعی یہ ہے کہ میڈیامعلومات فراہم کرنے اور ذہنوں کو متاثر کرنے کا ایک طاقتور ترین ہتھیا ر بن چکا ہے ۔اسی لیے میڈیا کو ریاست کے پانچویں ستون کا درجہ قرار دیا گیا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ ریاست کا ایک یہ ستون نہ صرف دیگر اداروں اور ان کی پالیسیوں پر مسلسل نظر انداز ہورہا ہے بلکہ یہ طاقت کا ایک ایسا چشمہ ہے جو تمام دیگر اداروں کو اپنی رو میں بہا لے جارہا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ ریاست کے دیگر ستونوں میں حکومت مقننہ عدلیہ اور انتظامیہ شامل ہیں تاہم اپنی اثر انگیزی کی بنا پر میڈیا ان کے درمیان اپنی حیثیت کو منوا چکا ہے ۔ آیئے ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ میڈیا کس حد تک اپنی ذمہ داریوں کو نبھا رہا ہے اور اس کا ضابطہ اخلاق کیا ہے ؟ یا پھر یہ کہ میڈیا طاقت کے اندھے گھوڑے پر سوار سب کو روندے جا رہا ہے ۔ اس کی چکا چوند ہرچھوٹے بڑے ، مرد عورت کو متاثر کررہی ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا معاشرتی نظریاتی اصلاح اس کے پیش نظر ہے یا نہیں ؟ اور خصوصاََ نوجوانوں کے کردار پر اس کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔

    پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور اس کی اساس اسلام کے وہ سنہرے اصول ہیں جو زندگی کو متوازن بناتے ہیں اور افراد کی تربیت کا ایسا نظام مہیا کرتے ہیں جو نہ صرف معاشرے بلکہ تمام اداروں کے ہم آہنگ کرنے کا فریضہ سر انجام دہتے ہیں تاکہ زندگی کا حقیقی حسن برقرار رہے ۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اکثر چینلز دین کے نام پر ایسے پروگرام کررہے ہیں جو دین کی تعلیمات اور روایات سے بالکل متصادم ہیں ۔ پروگرام میں شریک خواتین کا لباس بھی پروگرام کی روح کے منافی ہوتا ہے ۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی پروگرامز میں ایسے علماءکو بلایاجائے اور ایسے اینکرز کا انتخاب کیا جائے جو خود بھی دین کو سمجھتے ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ کردار کے حامل بھی ہوں ۔ کیونکہ اسلام سب سے زیادہ کردار کی اصلاح پر زور دیتا ہے کردار میں تبدیلی در حقیقت معاشرتی توازن کو برقرار رکھنے کی ضمانت ہے اس لئے کہ انسان اپنے کردار سے ہی پہچانا جاتا ہے ۔

    اسی طرح چینلز پر دکھائے جانے والے ڈرامے نوجوانوں کے اخلاق وکردار کو تباہ کررہے ہیں، نام نہاد ماڈرن ازم کے چکر میں نئی نسل کو اپنی دینی اور معاشرتی روایات کا باغی بنا رہے ہیں نوجوان نسل کو سست اور آرام طلب بنا رہے ہیں ۔ ہمیں اس سیلاب کے آگے بند باندھنے ہونگے بصورت دیگر حالات بے قابو ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا ۔ جرائم سے بھرے ہوئے معاشرے میں میڈیا ایسے پروگرام پیش کررہا ہے جن میں تشدد اور جرائم میں ملوث افراد کو جرم کرنے کے نئے نئے انداز مل جاتے ہیںاور وہ اپنے حالات اور مواقع کے مطابق ان کا استعمال بھی کرتے ہیں جس سے جرائم میں اضافہ ہورہاہے ۔ اکثر مجرم یہ کہتے ہیں کہ ہم نے یہ جرم فلموں کو دیکھ کر کیے ہیں ۔ کیونکہ ان پروگراموں میں اکثر یہ دکھایا جاتا ہے کہ مجرم یا تو فرار ہوگئے یا انصاف نہیں ملا ۔ ان حالات میں یہ جاننا مشکل نہیں کہ جرم کی تشہیر کوئی مثبت نتائج نہیں دیتی ہے ۔ یہ پروگرام بچوں کی ذہنی نشونما پر بھی برے اثر ات ڈالتے ہیں جس سے بچے عدم تحفظ ، بے اعتمادی اور خوف کا شکا ر ہوتے ہیں ۔ کچھ ایسے پروگرام بھی پیش کیے جاتے ہیں جو قوم میں کنفیوژن پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔کچھ عرصہ پہلے ایک چینل پر پروگرام دیکھا گیا کہ پاکستان کا قومی ترانہ وہ نہیں جو قائد اعظم نے پاس کیا تھا ۔ ظاہر بات ہے کہ اب اس طرح کے ایشو اٹھانے اور ان پر بحث کرنے سے کنفیوژن ہی پیدا ہوگی ۔

    اس میں شک نہیں کہ میڈیا کی اپنی ترجیحات اور مقاصد ہیں ۔ کاروباری دنیا میں سرمایہ کار صرف اپنے منافع کے لئے سرمایہ کاری کرتا ہے ۔ نقصان اسے کسی طور پر برداشت نہیں ۔سرمایہ کار چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ بنایا جائے اس کےلئے چاہے انہیں کسی بھی حد تک جانا پڑے ۔ ریٹنگ کے لئے ایک بری خبریں بار با ر پیش کرکے سنسنی پھیلائی جاتی ہے تاکہ لوگ ان کے چینلز کو دیکھیں اور ان کی ریٹنگ بڑھے۔ یہ معلوم نہیں کہ اس عمل سے چینلز کی ریٹنگ بڑھتی ہے یا نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ اس عمل سے معاشرے میں جرائم بڑھ رہے ہیں، نفسیاتی مسائل پیدا ہورہے ہیں ، جنسی بے راہ روی ، تشدد ، ڈکیتی ، چوری ، مستقبل کا خوف ، بے اعتمادی ، نافرمانی ا ور بے صبری و خوف و ہراس جیسے نفسیاتی مسائل جنم لے رہے ہیں جو کسی طور خوش آئند نہیں ۔ بلکہ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ کیا ہمارا مستقبل ایسے ہی ضائع ہوگا ؟ اس کے تدارک اور اصلاح کے لئے ضروری ہے کہ ایک اعلیٰ سطحی تھنک ٹینک بنایا جائے جس میں میڈیا کے اہم سر کردہ لوگ ، دانشور ، صحافی ، سکالرز ، ججز ، حکومتی نمائندے ، والدین ، چینلز کے مالکان اور اساتذہ شامل ہوں ۔۔۔جو میڈیا کےلئے کی تر جیحات اور ضابطہ اخلا ق طے کرے ۔آخر میں ہم میڈیا مالکان سے پھر یہ کہنا چاہئیں گے کہ خدا ۔۔۔را اپنے چینلز پر ایسے پروگرام پیش کریں جو نظریہ پاکستان اور ہماری اخلاقی روایات واقدار سے ہم آہنگ ہوںجن میں نوجوانوں کو محنت اور لگن کاسبق ملے ۔ اپنی ثقافت کو پروان چڑھایاجائے تاکہ اپنی مذہبی و معاشرتی روایات ، ثقافت کو بچایاجاسکے اور پاکستانی ہونے پر فخر کیا جا سکے ۔ ۔ کھیلوں کے پروگراموں کو فروغ دیا جائے اور ان پروگرام میں نوجوانوں کو شرکت کے مواقع فراہم کیے جائیں ۔ بچوں کے پروگرام پیش کیے جائیں ۔ اخلاقیات پر مشتمل چھوٹے چھوٹے پیغامات مختصر وقفوں میں پیش کئے جائیں تاکہ بچوں کی تربیت کی جاسکے ۔ ہر چینل کے لیے لازمی ہوکہ وہ اس طرح کے پیغامات لازمی نشر کرےں تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا عمل شروع ہوسکے ۔ ہمارا میڈیا تنقید تو کرتا ہے لیکن تربیت کا اہتمام نہیں کرتا لہذا ضروری ہے کہ تربیتی پرگروام پیش کئے جائیں ۔ تعلیمی پروگراموں کو اپنی نشریات کا مستقل حصہ بنایا جائے ۔ اسلامی ممالک کا تعارف ، ثقافت و کلچر پیش کیا جائے تاکہ امت مسلمہ کا تصور راسخ کیا جاسکے ۔ انٹرنیشنل ایشوز پر پروگرام کئے جائیں اور ڈاکومنٹریز پیش کی جائےں تاکہ انٹرنیشنل افئیر ز سے لوگ آگاہ ہوسکیں ۔ اس وقت ہمارا ملک بہت سے مسائل کا شکار ہے جن میں سے ایک اہم ترین مسئلہ معاشرتی تفریق اور خیلج ہے ۔ ان حالات میں میڈیا کو اداروں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جائے ، یہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے اور ہمارا قومی مفاد بھی ہے ۔ میڈیا کو اپنا مثبت رول ادا کرنے کے لئے اپنا لائحہ عمل ضرور ترتیب دینا چاہیے تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کاا مستقبل محفوظ ہوسکے ۔

  • اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں مسجد جامع الا مام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کا افتتاح

    اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں مسجد جامع الا مام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کا افتتاح

    ارشاداحمد ارشد

    مسجد ایک ایسا مقام عالی شان ہے جو روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔اسی محبت کا ثمر ہے کہ مسلمان انفرادی سطح پر بھی مساجد تعمیر کرتے ہیں اوراجتماعی طور پر بھی مساجد تعمیر کرتے ہیں۔اسی طرح وہ مسلمان ممالک جہاں صحیح معنوں میں اسلامی حکومتیں قائم ہیں وہ بھی سرکاری سطح پر مساجدکی تعمیر اور آبادکاری کااہتمام کرتی ہیں۔ اس وقت اسلامی دنیا میں مساجد کی تعمیر اور آباد کاری کے معاملے میں مملکت سعودی عرب اور سعودی این جی اوز یا سعودی جامعات سے فیض یافتگان سر فہرست ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب کاقیام حقیقی معنوں میں کلمہ توحید کی بنیاد پر عمل میں لایا گیا ہے۔ سعودی حکمرانوں نے جس طرح سے حرمین الشریفین کی خدمت وتوسیع اور تزئین کو اپنا شعار بنا رکھا ہے اس پر وہ بجا طور پر ’’ خادم الحرمین الشریفین ‘‘ کے لقب کے مستحق ہیں۔اس کے علاوہ بھی دنیا کے ہر ملک میں آل سعود نے مساجد تعمیر کروائی ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی اذان کی آواز بلند ہورہی ہے ان میں سے بیشتر مقامات ایسے ہیں جہاں سعودی حکومت کے تعاون سے مساجد بنائی گئی ہیں۔ پاکستان کے ہر صوبے اور شہر میں بلا تفریق مسلک سعودی عرب کے تعاون سے تعمیر کی گئی مساجد سے پانچ وقت اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔ اب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں بھی سعودی عرب کے مختلف موسسات (این جی اوز ) کے تعاون سے 8 مساجد کی تعمیر کا پروگرام بن چکا ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی کاشمار پاکستان کی اہم ترین جامعات میں ہوتا ہے۔ اس کی بنیادریاست بہاولپور کے مسلمان عباسی حکمرانوں نے اسلامی نقطہ نظر سے رکھی تھی۔اس کی ابتدا ’’مدرسہ صدر علومِ دینیات ‘‘ کے نام سے کی گئی۔ بعد ازاں 1925ء اس کانام جامعہ عباسیہ رکھا گیا۔ریاست بہاولپور کے نواب اسے جامعہ الازہر مصر کے پائے کاایک علمی ادارہ بنانا چاہتے تھے۔ 1950ء میں والئی ریاست ہز ہائنس سر صادق محمد خان عباسی پنجم کے حکم پر صادق ایجرٹن کالج سے متصل ایک عظیم الشان عمارت تعمیر کی گئی اس طرح سے جامعہ عباسیہ کا مرکزی کیمپس وجود میں آیاجو اس یونیورسٹی کی پہچان ہے۔ 1963ء میں صدرِ پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان نے جامعہ عباسیہ کا دورہ کیا اور اسے جامعہ اسلامیہ کے نام سے موسوم کیاگیا ۔ 1975ء میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے طور پر پنجاب اسمبلی سے چارٹر قرار پائی۔جہاں تک شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کا تعلق ہے وہ امریکی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں،نامور ماہرِ تعلیم ہیں اور مثالی منتظم ہیں۔وہ ہمہ وقت یونیورسٹی کا علمی وتحقیقی معیار بلند کرنے اور اسے اسم بامسمیٰ بنانے کیلئے مصروف عمل رہتے ہیں۔وہ اس بات کے خواہشمند ہیں کہ یونیورسٹی کے ہر کیمپس میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نام کی صدا گونجے اور ہر کیمپس میں مساجد تعمیر کی جائیں۔

    چنانچہ بارش کے پہلے قطرے کے طور پر اسلامیہ یونیورسٹی کے عباسیہ کیمپس شعبہ امتحانات میں پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب اور سعودی سفارت خانہ کے اسلامی شعبہ ’’الملحق الدینی،، کے نمائندہ خصوصی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشیداظہر ڈائریکٹر پاکستان اسلامک کونسل وایڈیشنل ڈائریکٹر انٹرنیشنل لنکجز اسلامیہ یونیورسٹی و ڈائریکٹر جامعہ سعیدیہ سلفیہ خانیوال نے اپنے دست مبارک سے ستمبر 2022 ء میں جامع مسجد امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ‘‘ کا سنگ بنیاد رکھا اس ایمان افروزتقریب میں اہل علم اور معززین علاقہ نے بڑی تعداد شرکت کی تھی۔سنگ بنیاد رکھے جانے کے بعد یہ مسجد صرف پانچ ماہ کے قلیل عرصہ میں پایہ تکمیل کوپہنچی ہے۔تکمیل کے بعدپروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے فضیلۃ الشیخ قاری صہیب احمد میر محمدی رئیس کلیۃ القرآن والتربیۃ الاسلامیہ اور فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر کے ہمراہ مسجد کا افتتاح کیا۔افتتاح کے بعد گھوٹوی ہال عباسیہ کیمپس میں ایک شاندار تقریب منعقد کی گئی۔

    افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر انجینئر ڈاکٹر اطہر محبوب نے کہا ہماری کوشش ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی کو ایک اسم بامسمیٰ تعلیمی ادارہ بنایا جائے۔یہ ادارہ اسم بامسمیٰ اسی وقت بنے گا جب اس میں کثرت سے مساجد تعمیر ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی۔ آج ہمارے لئے خوشی کا مقام ہے کہ اس سلسلہ کی پہلی عالی شان مسجد بنام’’جامع الا مام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ ‘‘ کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے۔ ڈاکٹر اطہر محبوب نے اس موقع پر حاضرین مجلس کو یہ خوش خبری بھی سنائی کہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشیداظہر کی کوششوں سے بہت جلد اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ایک بڑی مرکزی جامع مسجد اور فیکلٹی آف اسلامک لرننگ اینڈ عریبک کی تعمیر بھی ہونے جارہی ہے یہ مسجد حقیقتاََ مسجد قوت الاسلام ہو گی۔

    تقریب ِ افتتاح کے ایک اہم ترین مہمان قاری صہیب احمد میر محمدی تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر اطہر محبوب دین سے ، قرآن سے ، علما سے اور مساجد سے گہری محبت کرنے والے انسان ہیں۔ ان کے دور میں اسلامیہ یونیورسٹی نے تعمیر وترقی اور علمی مدارج کی تاریخی مزلیں طے کی ہیں نجیب الطرفین فضیلۃالشیخ ڈاکٹرحافظ مسعود اظہر بھی وطن عزیز کی نامور شخصیت ہیں اور تن تنہا دین حنیف اور تعلیم و تربیت کا کام کام سر انجام دے رہے ہیں، آپ امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی ریاض سعودی عرب سے عقیدہ، قرآن، فقہ میں سپسلائزیشن کے ڈگر ھولڈر ہیں جبکہ ماسٹر، ایم فل ، پی ایچ ڈی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے عربی زبان وادب میں مکمل کی ہے اس کے ساتھ ساتھ آپ ٫٫لجنة الافتاء والبحث العلمي٫٫ جو پاکستان کے کبار علماپر مشتمل فتوی کی کمیٹی ہے اس کے بھی رکن ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جامع الامام ابن کثیر اسلامی فن تعمیر کا شاہکار اور خوبصورتی ووسعت میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس کا مینار مسجد نبوی کے مینار کی طرز پر تعمیر کیا گیا ہے اس کی تعمیر پر تقریباََ دو کروڑ روپے سے زائد لاگت آئی ہے۔ بہت جلد اسی طرز پر مزید مساجد بغداد الجدید کیمپس اور بہاولنگر کیمپس میں بھی تعمیر کی جائیں گی۔ انھوں نے سلسلہ گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جامع الامام ابن کثیر معروف عالمی سکالرقاری المقری قاری صہیب احمد میر محمدی کے زیر سایہ چلنے والے ادارہ کلیۃ القرآن الکریم والتربیۃ الاسلامیہ پھولنگراور،،المجلس الاسلامی باکستان ، یعنی پاکستان اسلامک کونسل کے باہمی اشتراک سے تعمیر کی گئی ہے۔ یہ ایک عظیم الشان مسجد ہے جس میں 1000نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ اس سے پہلے صرف 300نمازی اس چھوٹی سی بوسیدہ اور قدیم مسجد میں نماز ادا کر سکتے تھے۔ اس مسجد کی تعمیر سے عباسیہ کیمپس کے دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ شعبہ قانون، شعبہ امتحانات اور ابوبکر ہال کے رہائشی طالب علم مستفید ہوں گے۔انھوں نے سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے مزید بتایا کہ سعودی موسسات اور سعودی سفارت خانہ کے تعاون سے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں مساجد اور فیکلٹیز کے قیام سے جہاں ایک طرف ہزاروں کی تعداد میں طلباء اور ملازمین مستفید ہوں گے وہاں دوسری طرف فرقہ واریت سے بالا تر خالصتا قرآن وسنت پر مبنی دینی تعلیمات کی نشرواشاعت کے مزید مواقع بھی میسر آئیں گے جس سے عمومی معاشرہ اور بالخصوص طلبہ علم میں برداشت ، رواداری ، تحمل اور مسلکی ہم آہنگی پیدا ہوگی۔انہوں نے اپنی گفتگو میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب ، خزانہ دار جناب ابوبکر صاحب ، بہاولپور پریس کلب کے سابق صدر جناب نصیر ناصر, چیئرپرسن شعبہ عربی ڈاکٹر راحیلہ خالد قریشی، ایڈیشنل کنٹرولر شعبہ امتحانات جناب عرفان غازی، سابق ایڈیشنل کنٹرولرشعبہ امتحانات غلام محمد ، ڈاکٹر عبیدالرحمان لیکچرار پوسٹ گریجویٹ کالج بہاولپور کا مسجد کے تعمیری کاموں کی نگرانی اور دیکھ بھال پر خصوصی شکریہ ادا کیا

    ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی شعبہ عربی کی چئیرپرسن ڈاکٹر راحیلہ خالد قریشی کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ انھوں کہا اللہ کا کرم ہے کہ آج ہم مسجد کے افتتاح کی تقریب میں جمع ہیں۔اس مسجد کی تعمیر وترقی کے لیے ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے دن رات ایک کئے رکھا۔کبھی بھی سفری مشکلات کی پرواہ نہ کی بلکہ وہ مسجد کی تعمیر کیلئے خانیوال اور بہاولپور کے درمیان مسلسل اس طرح سفر کرتے رہے جیسے ہم اولڈ کیمپس سے نیو کیمپس آتے جاتے ہیں۔دعاہے کہ ڈاکٹر مسعود اظہر نے کاوشوں کو قبول فرمائے۔

    تقریب کے ایک انتہائی اہم مقررپروفیسر ڈاکٹر اکرم چوھدری بھی تھے۔ ڈاکٹر اکرم چوہدری سرگودہا یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر اکرم نے کہا وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب نے یونیورسٹی کی تعمیر وترقی کے لیے جو اقدامات کئے ہیں تاریخ انہیں کبھی فراموش نہیں کرسکتی ہے ان تاریخ ساز اقدامات کا میں ذاتی طور پر گواہ ہوں میں گورنر پنجاب میاں بلیغ الرحمن کی پنجاب کی تمام جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ میٹینگ میں موجود تھا۔ میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ گورنر پنجاب تمام وائس چانسلرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ آپ سب اپنا روڈ میپ اسی طرح سے بنائیں جس طرح کہ ڈاکٹر اطہر محبوب نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کابنا رکھا ہے۔ بعد ازاں وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کی طرف سے مہمانان گرامی پروفیسر ڈاکٹر اکرم چوھدری ، ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشیداظہر ، اور قاری صہیب احمد میر محمدی کی خدمت میں یادگاری شیلڈ پیش کی گئیں۔تقریب کے بعد مہمان گرامی کے اعزاز میں وائس چانسلر کی طرف سے پر تکلف ظہرانہ دیا گیا۔ اس طرح سے یہ روحانی وایمانی اور خوبصورت تقریب بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوئی۔

  • ہنسنے کا مطلب پھنسنا، نہیں ہوتا…..

    ہنسنے کا مطلب پھنسنا، نہیں ہوتا…..

    بھارت میں خواتین کی آبادی مردوں سے زیادہ ہے، خواتین کو آبادی کے حساب سے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، زندہ رینے کی تگ و دو کے لئے خواتین نہ صرف گھروں سے نکلتی ہیں بلکہ محنت و مشقت بھی کرتی ہیں، خواتین کو گھروں سے باہر نکلنے کے لئے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے .معاشرے میں خواتین کو گھروں کی دیکھ بھال کرنے والی،ماں ، بہن، بیوی ، بیٹی سمیت دیگر کردار ادا کرنے ہوتے ہیں، بھارت کی ترقی میں خواتین کا کردار بھی نمایاں تا ہم انکے ساتھ صنفی امتیاز برتا جا رہا ہے

    بھارت میں خواتین کو جہاں ایک طرف دیوی کے طور پر جانا جاتا ہے وہیں، جہیز کے لئے خاتون کو جلا دیا جاتا ہے،لڑکیاں شادی کے لئے انتظار کرتے کرتے جوانی کھو دیتی ہیں تا ہم جہیز کی وجہ سے شادی نہیں ہو پاتی، خواتین کے ساتھ جب زیادتی، ریپ ، تشدد کے واقعات ہوں پھر بھی خواتین کو ہی اپنی عزت بچانے کے لئے بھی چپ ہی رہنا پڑتا ہے کیونکہ واویلا کرنے سے اسی کی عزت پر ہی حرف آنا ہے.

    مودی سرکار کی طرف سے بیٹی بڑھاؤ، بیٹی بچاؤ کا نعرہ تو لگایا گیا لیکن صنف نازک کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی، مجموعی طور پر دیکھا جائے تو خواتین کو ایک ’سامان‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے حد تو یہ ہوگئی ہے کہ کسی وقت یا موقع پراگر لڑکی نے کسی کو مسکرا کر دیکھ لیا تو وہ جناب فوری یہ تنیجہ آخذ کر لیتے ہیں کہ لڑکی ان پر فدا ہوگئی ہے

    انسان تو پھول، بادل، موسم، اپنے پسندیدہ جانور، چھوٹے بچوں، قوسِ قزح اور کسی بھی چیز کو مسکرا کر دیکھ سکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو بالکل نہ ہوا کہ اگر کسی حضرت کو مسکرا کر دیکھ لیا تو وہ خاتون یا لڑکی اس پر فریفتہ ہوگئی ہےسماج کو ’ہنسی تو پھنسی‘ والی مضحکہ خیز اور ہتک آمیز سوچ میں تبدیلی لانے کی اشد ضرورت ہے ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کو بے وقوف سمجھ کر یا آپ کی سوچ کو ہنس کر ٹالنا چاہتی ہو یا پھر آپ کو ہنس کر نظر انداز کر رہی ہو یا آپ سے اپنی جان چھڑانا چاہتی ہو۔ خواتین کے خلاف ایسے رویے ہمارے معاشرے کا مشترکہ مسئلہ ہی نہیں، بلکہ المیہ ہیں

    تحریر:نواب علی اختر

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • محب العلما، محب المساجد عبدالمجید غازی۔  سعادت کی زندگی سعادت کی موت

    محب العلما، محب المساجد عبدالمجید غازی۔ سعادت کی زندگی سعادت کی موت

    محب العلما، محب المساجد عبدالمجید غازی۔ سعادت کی زندگی سعادت کی موت
    ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر
    انسان کی زندگی خواہ کتنی ہی لمبی ہی کیوں نہ ہو وہ ختم ہونے والی اور زوال پذیر ہے، بقاءوہمیشگی اللہ کی ذات کو ہے اور آخرت کی زندگی کو ہے جو ابدی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: البتہ آخرت کے گھر کی زندگانی ہی حقیقی زندگی ہے، کاش! یہ جانتے ہوتے۔رسول اللہ ﷺ نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی حالت اور اس کی کمتری کو بیان کرتے ہوئے بتایاکہ وہ مسافر کی طرح ہے جس نے تھوڑی دیر کے لیے آرام کیاپھر کچھ دیردرخت کے سایہ کے نیچے سو گیا پھر وہاں سے کوچ کیا اور اس جگہ کو چھوڑدیا۔البتہ بہترین زندگی وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں گزرے اور بہترین موت وہ ہے جو اسلام کی حالت میں آئے جیسا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا وقت ِ آخرت ہے وہ اپنی ساری آل اولاد کو جمع کرتے ہیں اور ان سے پوچھتے ہیں کہ میرے مرنے کے بعد تم کس کی عبادت کرو گے تو سب نے ( بالاتفاق ) جواب دیا کہ ہم اس کی عبادت کریں گے کہ جس کی آپ اور آپ کے بزرگ ابراہیم واسماعیل واسحاق عبادت کرتے آئے ہیں یعنی وہی معبود برحق جو وحدہ لاشریک ہے اور ہم اس کی ( اطاعت ) پر قائم رہیں گے ۔ اپنے بیٹے کو دین اسلام پر قائم رہنے اور اعمال صالحہ کی تلقین حضرت لقمان علیہ السلام نے بھی کی تھی بلکہ سورة لقمان اس لحاظ سے پورے قرآن مجید میں ممتاز ہے کہ اس میں درمند والد کانمونہ ہے جو اپنے بیٹے کو دین وایمان پر قائم رہنے کی تاکید کرتا ہے اور اس کو دین کے اہم اصول بتاتا ہے کہ اس پر چل کر وہ اپنی دینی اور دنیوی دونوں قسم کی زندگی سنوار سکتا ہے ۔

    ہمارے بہت ہی پیارے عزیز از دل وجان دوست اور بھائی جناب عبدالمجید غازی بھی اپنی ذاتی زندگی اور اولاد کے معاملے میں ایک ایسے ہی انسان تھے۔ انھوں نے ساری زندگی شریعت کی پاسداری اور دین کی علمبرداری میں گزاری۔ وہ حقیقی معنوں میں علماکے خادم تھے ۔بہت ہی نیک ، صالح اور بے لوث انسان تھے ،ان کا دل مساجد اور علما کے ساتھ ایسے تھا جیسے شمع کے ساتھ پروانہ اور پھول کے ساتھ خوشبو ہوتی ہے ۔ انھیں مملکت سعودی عرب کے ساتھ بھی جنون کی حد تک محبت تھی۔ وہ 1992 ءسے یعنی عرصہ 30 سال سے جامع الامیر فیصل بن فہد الریاض سعودی عرب کے خطیب فضیلة الشخ عبدالسلام کے ہاں مشرف العمال کے طور پر مصروف عمل تھے۔غازی عبدالمجید دین کے رشتے اور تعلق کی بنا پر مملکت سعودی عرب سے بے لوث محبت کرتے اور اسے اپنا اصلی گھر قرار دیتے تھے ، وہ آرزو مندتھے کہ زندگی کی آخری سانس تک مملکت سعودی عرب کا ساتھ نہ چھوٹے۔

    عبدالمجید غازی چند ماہ قبل اولاد کے شدید اصرار پر پاکستان تشریف لائے تو یہاں ان کی طبیعت ناساز ہوگئی فوراََ واپسی کی خواہش کا اظہار کیا اولاد، دوست احباب کے شدید اصرار کے باوجود بھی پاکستان میں رکنے پر رضامند نہ ہوئے۔ فرمایا کرتے تھے سعودی عرب کلمہ طیبہ کا ملک ہے ، اس کے پر چم پر بھی کلمہ طیبہ جگمگا رہا ہے، میں اسی پاک سر زمین پر زندگی کے آخری ایام گزار کر دفن ہونا پسند کروں گا ۔غازی عبدالمجید کی سعودی عرب کے ساتھ درحقیقت دین کی وجہ سے تھی ۔ مجھ سمیت تمام دوست احباب نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح علاج معالجہ کے لیے ہی چند دن پاکستان رک جائیں لیکن مصر رہے کہ میں نے ہر صورت واپس جانا ہے۔اولاد اور دوست واحباب کے شدید اصرار کے باوجود بھی رکنے پر آمادہ نہ ہوئے واپس کی ٹکٹ کنفرم کروائی اور سعودی عرب تشریف لے گئے ۔

    رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں جناب عرفان غازی جو کہ ہمارے عزیز از جان دوست عبدلمجید غازی کے فرزند ارجمند ہیں اس اعتبار سے وہ ہمارے بھتیجے بھی لگتے ہیں اور ہمارے ساتھ ہمیشہ محبت واحترام سے پیش آتے ہیں ۔۔۔اپنے دوستوں جناب غلام محمد، جناب ڈاکٹر عبید الرحمان اور جناب نصیر احمد ناصر میری خصوصی دعوت پر بہاولپور سے خانیوال افطاری کے لیے تشریف لائے تو عرفان غازی کو ہم نے بہت افسردہ ، رنجیدہ اور نمدیدہ سا پایا۔ استفسارپر فرمانے لگے کہ والد گرامی ریاض میں شدید علیل ہیں اور میں فوری طور پر سعودی عرب جانا چاتاہوں۔ ہم نے پوچھا کب رخت ِ سفر کاارادہ ہے ؟ فرمانے لگے کہ اگر آج ہی ویزہ لگ جائے تو میں ابھی ہی روانہ ہونا چاہتا ہوں۔اسلئے کہ والد گرامی کی بیماری کے بعد ایک پل بھی ان سے دور رہنا میرے لئے ممکن نہیں ہے ۔بلاشبہ سعادت مند اولاد کی اپنے ماں باپ سے ایسی ہی محبت کرتی ہے ۔ میں نے عرض کیا کہ ان شاءاللہ العزیز پہلی فرصت میں ویزہ لگوانے کی کوشش کرتا ہوں چنانچہ تین چار دن کے اندر اندر ویزہ لگوایا اور پہلی میسر فلائیٹ کی ٹکٹ اوکے کرواکر غازی صاحب کو اطلاع دی کہ سفر کی تیاری کریں آپ کا ویزہ اور ٹکٹ اوکے ہے۔

    25 اپریل کوعرفان غازی والد گرامی کی عیادت اور خدمت کے لیے الریاض سعودی عرب تشریف لے گئے۔اس کے کچھ ہی دن بعدہمارے دوست جناب غلام محمد اور جناب ڈاکٹر عبید الرحمان نے یہ جانکاہ خبر سنائی کہ عرفان غازی صاحب کے والد گرامی سعودی عرب میں بقضائے الہی وفات پاگئے ہیں۔۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔۔۔۔خبر سنتے ہی دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش کسی طرح اڑ کر الریاض پہنچ جاو¿ں اور مشکل وقت میں میں پیارے بھائی عرفان غازی کا غم بانٹ سکوں انہیں دلاسہ دے سکوں اور انکی معاونت کرسکوں۔ لیکن ویزہ اور سیٹ کی مشکلات کی وجہ سے یہ خواہش دل میں ہی دفن ہوگئی۔۔تاہم میں اپنے بھائی اپنے دوست کو کہنا چاہوں گا کہ اگر چہ آپ کے والد گرامی کی جدائی کے وقت ہم کوسوں دور بیٹھے تھے لیکن ہم تینوں دوست (راقم الحروف حافظ مسعود اظہر ، جناب غلام محمد صاحب ، جناب ڈاکٹر عبیدالرحمان صاحب) دلی طور پر آپکے ساتھ ہی تھے ۔۔آ پ کایہ۔۔۔۔ غم ہم سب کا غم ہے۔آپ ہمیشہ ہماری دعاوں میں شامل رہتے ہیں او ر اب بھی خصوصی طور پر شامل ہیں۔ بس ہمیں ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہنا چاہیے۔

    عرفان غازی چونکہ زندگی میں پہلی مرتبہ الریاض سعودی عرب تشریف لے گئے تھے ۔ وہ عربی زبان سے بھی زیادہ واقفیت نہیں رکھتے تھے پہلی بار بیرون ملک سفر درپیش ہو اور زبان سے بھی زیادہ واقفیت نہ ہو تو مشکلات کااحتمال ہوتا ہے ۔۔ چنانچہ میں نے اس موقع پر سعودی عرب میں مقیم اپنے دوست احباب بالخصوص مادر علمی جامعة الامام محمد بن سعود الاسلامیہ الریاض کے محترم طلبہ سے گزارش کی کہ عرفان غازی صاحب کیساتھ رابطہ کرکے ان کے والد گرامی کی تدفین اور دیگر معاملات میں ان کی معاونت کریں، حوصلہ دیں اور نماز جنازہ میں شرکت کریں۔۔۔تاکہ۔۔۔دیار غیر میں انہیں اجنبیت کا احساس بھی نہ ہو۔ویسے الحمد للہ عرفان غازی صاحب کے چچا جان اور ان کے کزن بھی الریاض میں موجود ہیں۔۔ لہذا وہ بھی لمحہ بلمحہ عرفان غازی کے ساتھ ساتھ رہے اور سارے معاملات دیکھ رہے ہیں۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالی جناب عبدالمجید غازی (رحمہ اللہ تعالیٰ رحمة واسعة) کی مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے ، ان کی قبر کو منور فرمائے، جنت کے باغیچوں میں سے باغیچہ بنائے، ان کے لواحقین بالخصوص ہمارے عزیز از دل وجان دوست بھائی اور محسن جناب عرفان غازی کو صبر جمیل عطا فرمائے

    مجھے بار بار جناب عرفان غازی جیسے بیٹے پر رشک آرہا ہے،کتنی محبت کرتے تھے اپنے والد گرامی کے ساتھ ، بچوں کی طرح ان کا خیال رکھتے تھے جونہی والد گرامی کی علالت کی خبر ملی تو فرمانبردار اور باپ سے بے لوث محبت کرنے والے بیٹے عرفان غازی سے صبر نہ ہوسکا ۔۔۔تمام مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یونیورسٹی سے ایک ماہ کی چھٹی لیکر فوراََ سے پہلے اپنے والد محترم کی خدمت ،انکی عیادت اور جنت کمانے کے لیے الریاض روانہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس فرمانبردار بیٹے کو چند دن باپ کی خدمت کی سعادت بھی عطا فرمادی۔دعا ہے کہ اللہ تعالی تمام والدین کو جناب عرفان غازی صاحب جیسی نیک ، صالح ، والدین سے محبت اور انکی خدمت کے جذ بات سے سرشار اولاد نصیب فرمائے۔۔۔آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

  • آسرا…… سفید پوشوں کا،تحریر: محمد نورالہدیٰ

    آسرا…… سفید پوشوں کا،تحریر: محمد نورالہدیٰ

    ہم روز مرہ زندگی میں متعدد واٹس ایپ گروپوں میں ایڈ کئے جاتے ہیں۔ جو واٹس ایپ گروپ غیر متعلقہ لگتا ہے اسے فوراً لیفٹ کر دیتے ہیں۔ تاہم بعض دفعہ ہم ایڈ کرنے والی ہستی کو بھی دیکھ لیا کرتے ہیں کہ کس نے گروپ میں شامل کیا ہے۔ ان میں سے بعض ایڈ کرنے والے افراد ایسے ہوتے ہیں جن کا نام دیکھ کر ہم بوجوہ گروپ چھوڑنے سے ہچکچاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک بڑے نام نے مجھے گذشتہ دنوں ایک واٹس ایپ گروپ میں ایڈ کیا۔ وہ معروف ڈرامہ رائٹر اور ادبی حلقہ میں نمایاں مقام کی حامل شخصیت ہیں۔ اس نام کی وجہ سے میں چاہتے ہوئے بھی گروپ سے خود کو خارج نہ کر پایا۔ بعد ازاں گروپ میں ہونے والے سرگرمیاں میرے نظر سے گزری، تو نہ صرف گروپ کی اہمیت کا اندازہ ہوا بلکہ گروپ نہ چھوڑنے کا اپنا فیصلہ بھی درست معلوم ہوا۔

    یہ گروپ سفید پوش ادبی شخصیات کیلئے ایک ”آسرا“ تھا۔ جس کا بنیادی مقصد ادبی برادری کو ان کا پردہ رکھتے ہوئے معاشی کرائسز میں سہارا دینا تھا۔ معروف ڈرامہ رائٹر و شاعرہ سدرہ سحر عمران نے اپنی سماجی ترقی کیلئے متحرک دوست مومنہ وحید کے ساتھ مل کر ایک چیلنج قبول کیا۔ جب انہیں معلوم ہو اکہ ایک ان کے حلقہ احباب میں موجود ایک ادبی شخصیت قرض کا بوجھ لئے دنیا سے رخصت ہو گئی اور اس کے لواحقین کو اس قرض کی ادائیگی میں اپنی آمدن کا واحد سہارا بھی فروخت کرنا پڑ رہا ہے۔ سدرہ اور مومنہ نے ادبی و سماجی حلقوں پر مشتمل اہم افراد کو ایک واٹس ایپ گروپ میں اکٹھا کر کے ان کے ساتھ مذکورہ خاندان کی پریشانی کا اظہار کیا، جس پر تمام افراد نے اپنا اپنا کردار ادا کر کے اس خاندان کے واحد ذریعہ آمدن کو بچایا۔

    سدرہ سحر عمران اور مومنہ وحید کا موقف تھا کہ ”ہمارے ادیب،شاعر،فنکار اپنے اپنے فن سے ”ریٹائرمنٹ“ کے بعد جس اذیت،افلاس،بیماری، غربت اور گمنامی کا شکار ہوکر مرتے ہیں ہمیں اس کی خبر ہی نہیں ہوپاتی۔ یہ الگ بات ہے کہ شہرت اور پیسے کے عروج کے اوقات میں لوگوں کو اپنا مشکل وقت بھی یاد رکھنا چاہئے، لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو یہ ان کا فعل ہے۔ بوقت ضرورت ان کے زخموں پر مرہم رکھنا ہمارا ظرف ہے“۔
    معاشرے کے مختلف ضرورت مند طبقات کیلئے تو بہت سے ادارے اور لوگ اپنی اپنی حد تک کوششیں کر رہے ہیں لیکن ادبی برادری بالکل نظر انداز ہے۔ ایک خاص وقت میں اس طبقے کو درپیش کرائسز سے نکالنے کیلئے انفرادی و اجتماعی کوششیں بہت ضروری ہیں۔ یہی سوچ لے کر سدرہ عمران اور مومنہ وحید نے سفید پوش آرٹسٹوں کا ”آسرا“ بن کر پہلا قدم اٹھایا ہے۔ محض گنتی کے چند گروپ ممبران کی مدد سے انہوں نے مذکورہ ادبی شخصیت کے خاندان کو لاکھوں روپے قرض کے بوجھ سے نکالا۔ مجھے ایک خاص بات یہ لگی کہ جیسے ہی مطلوبہ ٹارگٹ مکمل ہوا، مومنہ وحید اور سدرہ سحر کی جانب اعلان کیا گیا کہ گروپ ممبران مزید کوشش نہ کریں۔ وگرنہ میں نے ایسے افراد بھی دیکھے ہیں جو مطلوبہ ہدف حاصل کرنے کے بعد بھی لوگوں کو مزید امداد بھیجنے سے منع نہیں کرتے۔ یہی ”آسرا“ کی خاصیت تھی۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ ادبی برادری کیلئے اس اقدام کا آغاز سدرہ سحر عمران اور مومنہ وحید نے انفرادی طور پر شروع کیا ہے اور وہ اسے انفرادی ہی رکھنے کے قائل ہیں، اسے باقاعدہ کسی این جی وغیرہ کی شکل نہیں دینا چاہتے۔

    ہمارے ارد گرد کئی سفید پوش ایسے ہیں جو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا گوارہ نہیں کرتے بلکہ اپنی مشکل سے خود نبٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر ملک کے معاشی حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، یہاں سے واپسی ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ ایسے میں عام آدمی کے کرائسز میں اضافہ ہونا یقینی امر ہے۔ ہمیں اپنے اپنے ادبی سرکل میں بے شمار ایسے افراد ملیں گے جو حالات کی ستم ظریفی کا شکار ہونے کے باوجود اپنی خود داری کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے گریزاں ہیں۔ گذشتہ دنوں کئی دہائیاں ٹی وی سکرین پر راج کرنے والے معروف اداکار راشد محمود فالج اور دل کے عارضے کی وجہ سے مشکل حالات سے گزرے۔ نظر انداز کرنے کے حوالے سے راشد محمود کا شکوہ سوشل میڈیا پر آیا تو زمانے کو ان کے معاشی حالات کا علم ہوا۔ ذرائع ابلاغ وقتاً فوقتاً ایسی کتنی ہی کہانیاں ہمارے علم میں لاتے ہیں جن میں اپنے اپنے ادوار کی نامی گرامی شخصیات کسمپرسی سے گزر رہے ہوتے ہیں لیکن ان کے حالات ہماری نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ ان میں کھیل، ادب، صحافت، شوبز میں نمایاں رہنے والے انمول ہیرے شامل ہیں۔
    کہتے ہیں کہ جب کوئی معاشرہ اپنے مجبور و بے کس لوگوں کو خودانحصار بنانے کی جانب توجہ دے، تو یہ اس کے مہذب ہونے کی دلیل ہے۔ متوسط اور غریب طبقے کے ساتھ ساتھ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے والے سفید پوش لوگوں کی زندگی بہتر کرنے کیلئے ہر فرد کا انفرادی سطح پر کردار ہی قوم میں یکجہتی اور عروج لائے گا۔ حالات ایسے ہی تبدیل ہوتے ہیں، حقیقی تبدیلی بھی یونہی آتی ہے ……ضرورت صرف ذمہ داری محسوس کرنے کی ہے، وگرنہ احساس تو ہم خوب رکھتے ہیں۔ اس احساس کو خود میں سے مرنے مت دیں۔

    میں سدرہ سحر عمران اور مومنہ وحید کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ وہ ادبی برادری کا درد محسوس کرتے ہوئے ان کیلئے ”آسرا“ بنی۔ مجھے یقین ہے کہ ان دونوں نے مل کر جو ذمہ داری اٹھائی ہے، وہ اس پر ثابت قدم رہیں گی اور ہماری گمنام اور سفید پوش ادبی برادری کو حالات کے دھارے پر نہیں چھوڑیں گی، بلکہ اخلاقی و معاشی طور پر صحیح معنوں میں ان کیلئے ”آسر“ا ثابت ہوں گی۔ اور اس میں درد مند دل رکھنے والی ادبی و سماجی شخصیات کا بھرپور ساتھ انہیں حاصل رہے گا۔
    پلکیں ہیں بھیگی کسی کی، رخسار ہے نم کسی کا
    گر ہوسکے تو مداوا، کیوں نہ کریں ہم کسی کا

  • انسانی سمگلنگ سے موت

    انسانی سمگلنگ سے موت

    پاکستان میں انسانی اسمگلنگ ایک مشہورو معروف مسئلہ ہے. بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کی جبری شادیوں سے متعلق جنہیں ملک سے باہر لے جا کر جنسی مشقت پر مجبور کیا جاتا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان اسمگلنگ کے وسیع جال کے پریشان کن معاملات سامنے آئے تھے۔ بڑھتا ہوا مسئلہ نوجوان پاکستانی خواتین اور چینی شہریوں کے درمیان جعلی شادیوں کی وجہ سے تھا۔ یہ چینی شہری پاکستانی خواتین کو دھوکہ دیتے ہیں، جس سے وہ یہ سمجھتی ہیں کہ وہ قانون کے پاسدار، اور مالی طور پر مستحکم افراد ہیں۔ تاہم، چین پہنچتے ہی، بہت سی خواتین کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے "شوہروں” نے انہیں بطور جنسی غلام استحصال اور فروخت کی نیت سے خریدا ہے [ماخذ: پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کا مقابلہ]۔ https://borgenproject.org/human-trafficking-in-pakistan/

    اس معاملے کو بڑھتا ہوا دیکھ کر پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے 52 چینی سمگلروں کو گرفتار کرکے ان پر فرد جرم عائد کی [ماخذ: بروکنگز انسٹی ٹیوٹ: مدیحہ افضل، مارچ 2022]۔ تاہم، مسئلہ ان گرفتار افراد سے آگے بڑھ گیا ہے۔

    طلبا کی بھی پریشان کن کہانیاں ہیں جو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے بے چین ہیں لیکن مطلوبہ تعلیمی نتائج اور وسائل کی کمی کے باعث، ایسے طلبہ کو داخلے دلانے والی ایجنسیوں کے بھیس میں انسانی اسمگلنگ کی اسکیموں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ کمزور افراد اس استحصال کا آسان ہدف بن جاتے ہیں۔

    اس انسانی سمگلنگ کے بحران کی بنیادی وجوہات مستقبل کے ناامید امکانات، بے روزگاری کی بڑھتی شرح، اور کام کے غیر مساوی مواقع کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ عوامل ایسے ماحول میں ہوتے ہیں جہاں افراد ہیرا پھیری اور جبر کا آسان نشانہ بنتے ہیں۔
    boat hadsa

    ابھی حال ہی میں یونان کے جنوبی ساحل پہ ایک المناک واقعہ پیش آیا. جہاں ایک کشتی ڈوب گئی جس میں بشمول درجنوں پاکستانی، دیگر قومیتوں کے افراد مثلا شامی، افغان، مصری اور فلسطینی بھی شامل تھے۔ مقامی میڈیا رپورٹس اشارہ کرتی ہیں کہ 298 تصدیق شدہ ہلاکتیں پاکستانوں کی تھیں۔

    اگرچہ پاکستانی ایجنسیاں 10 مبینہ انسانی سمگلروں کو پکڑنے میں کامیاب ہوگئیں، لیکن یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اس مسئلے کا دائرہ، حکام کے تسلیم شدہ، اور فراہم کردہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔

    انسانی سمگلنگ کا مسئلہ ایک بہت بڑا المیہ ہے، جسے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے۔ یونان کے ساحل پر رونما ہونے والا المیہ اس بڑے مسئلے کی محض ایک چھوٹی سی جھلک ہے۔

    لیبیا کشتی حادثہ میں ملوث انسانی سمگلر کو گرفتار 

    حادثے کے مرکزی ملزم ممتاز آرائیں کو وہاڑی سے گرفتار کیا گیا

    انٹر ایجنسی ٹاسک فورس کا ساتوں اجلاس ایف آئی اے ہیڈ کواٹر میں منعقد ہوا

    شہری ڈوب چکے، کئی کی لاشیں ملیں تو کئی ابھی تک لاپتہ ہیں،

    کشتی واقعے کے ذمہ داران کو جلد کیفرِ کردار تک پہنچانے کی ہدایت

  • سسکیوں بھرا لطف اندوز اللہ تک کا سفر۔۔۔۔

    سسکیوں بھرا لطف اندوز اللہ تک کا سفر۔۔۔۔

    سسکیوں بھرا لطف اندوز اللہ تک کا سفر۔۔۔۔

    اصل کی طرف نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے
    "کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے”
    مزے کی بات یہ کہ کوئی اسے رو کر پہچانتا ہے ،کوئی ہنس کر پہچانتا ہے اور کوئی پہلے تو اس کا ہوتا ہے مگر پھر بھٹک جاتا ہے مگر پھر دوبارہ لوٹ آتا ہے ۔۔۔۔۔لیکن چل پھر کر دوبارہ آ ہی جا تا ہے۔۔۔۔۔

    سوال پیدا ہوتا ہے کس کی طرف آتا ہے ؟؟؟

    مخلوق کے رب کی طرف وہ جسے اللہ کہتے ہیں ،وہ جسے دو دن کا بچہ بھی جانتا ہے وہ جسے سو سال کا بوڑھا بھی جا نتا ہے۔

    دنیا میں انسانوں کے دلوں کا مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ٹھوکریں کھایا ہوا دل صحیح سالم دل سے دیکھنے میں اگرچہ بہت اچھا ہے ،مگر بہت سستا ہے کیونکہ ایسا دل جسے ضربیں بہت لگی ہوں اللہ کے بڑے قریب ہوتا ہے اور جس دل میں اللہ ہے وہی تو اصل میں دل ہے

    میرے پیارے جامعہ "سودۃ بنت ذمعہ رضی اللہ عنہا” کے بانی و مہتمم ہمارے استاد حضرت اقدس مفتی محمود الحسن شاہ مسعودی دامت برکاتہم العالیہ فرمایا کرتے ہیں

    "جس دل میں دل کا دل یعنی اللہ نہیں وہ دل دل نہیں فقط سل ہے”

    اس لیے یوں کہنا کہ ((ٹھوکریں اور ناکامیاں اچھی بلکہ بہت اچھی ہوا کرتی ہیں تو غلط نہیں سو فیصد صحیح ہے))
    کیونکہ یہی رب سے باتیں کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں ،انہیں سے بندہ رب کو پہچانتا ہے اس لیے ٹوٹا دل بڑا قیمتی ہے ہاں اگر کوئی بغیر ٹھوکریں کھائیں بھی اللہ کے قریب ہے تو یہ رب کا بندے پر سراپا انعام ہے پھر بندے کو اس نعمت کے زائل ہو جانے سے ڈرنا چائیے اللہ کا شکر بھی ادا کرنا چائیے اور دعا بھی کرنی چائیے کہیں اس ٹھیک راستے سے پھسل نا جائے

    میرے ابو جان محترم جناب پروفیسر قاضی سخاؤالدین صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے ایک موقع پر مجھے ایک عربی کہاوت یاد کروائی تھی
    "ما کل ما یتمنی المرء یدرکہ
    لان الریاح تجری بما لا تشتھی السفن”
    ہر وہ چیز جس کی بندہ تمنا کرے اسکو پا نہیں سکتا اس لیے کہ ہوائیں کشتیوں کی خواہش کے خلاف چلتی ہیں
    میں نے مانا ہوائیں کشتیوں
    کی خواہش کے خلاف چلتی ہیں لیکن ان ہواؤں کو جو کشتیوں کی خواہش کے خلاف چلتی ہیں انہیں دل کی داستان سنائے کون اور کیسے ،درد کی شدت بتائے کون اور کیسے خیر اسی کشمکش میں کوئی رب کو پہچان گیا گویا وہ منزل کو پا گیا

    سوچنےکی بات ہے؟ یہ تمنا کیا چیز ہے جس کے لیے بندہ کیا کچھ نہیں کرتا ؟یہی وہ چیز ہے جس کے لیے بندہ اللہ سے مانگتا ہے،کوشش کرتا ہے،اور کچھ نیک لوگوں سے بھی یہ کہتا ہے
    "میرے لیے دعا کرنا”

    دیکھیں بات یہ ہے کہ دعائیں بندے کو ضرورت ہوتی ہیں ۔۔۔۔
    ایسا ہے ناں؟
    ضرورت ہوتی ہیں ناں؟
    مجھے تو ہوتی ہے اور دعائیں کرانے کے لیے سب سے بہترین اور قبولیت کی گارنٹی والا زریعہ والدین ہیں مگر والدین ایسی چیز ہیں جنہیں ہم کچھ پریشانی والی بات بتائیں تو وہ دکھی ہوتے ہیں ،پریشان ہوتے ہیں،اگر صرف دعا ہی کا کہہ دیں پھر بھی وہ سوچتے ہیں بچے کو کیا ہوا پھر دعا تو کروانی ہے ۔۔۔۔۔
    اب والدین کے بعد جو دوسری سہولت اگر موجود ہے تو وہ بہن بھائی ہیں جنہیں درد تو ضرور ہو گا مگر والدین والی فکر اور درد نہیں اور بعض تو وہ ہیں جن کے بہن بھائی بھی نہیں ۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔رکیں ۔۔۔۔۔ہر نعمت کا نعم البدل ہوتا ہے اگر بہن بھائی نہیں تو رکیں۔۔۔۔انتظار کریں۔۔۔۔آپ کے ساتھ احساس و محبت کرنے والے اور بہت ہیں۔۔۔

    اس لیے اگر اللہ نے آپ کو ایسے مخلص رشتے جن کو آپ دعاؤں کا کہتے ہیں یا کہہ سکتے ہیں ان کی قدر کریں ، اور وہ رشتے بعد از والدین آپ کے شیخ ہیں جو آپ کو ان سیڑھیوں کو عبور کرنا سکھاتے ہیں جن تک ہر ایک کی رسائی نہیں بلکہ ان کی عقل و شعور کے مطابق وہ سیڑ ھیاں ِسِرے سے وجود ہی نہیں رکھتی۔ پھر استاد جیسا عظیم رشتہ ہے جس نے آپ کو انسان بنایا جس نے آپ کو یہ سکھایاکہ دعائیں کروائی جاتی ہیں دعائیں اپنے بڑوں کا دل خوش کر کے لی جاتی ہیں

    اور اس کے بعد شاید آپ کے ساتھی ایسے ہوں جو آپ کے لیے اچھا سوچتے ہیں جو آپ کے لیے اچھا مانگتے ہیں ۔
    ویسے بات یہ ہے ہم جیسے جیسے اللہ کی مانتے جاتے ہیں اتنا ہی ہمیں سکون آتا جاتا ہے اتنا ہی ہمارا دل مطمئن ہوتا جاتا ہے اسکا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی زندگی میں کوئی پریشانی،کوئی مشکل باقی نہیں رہتی بلکہ وہ مشکلیں اور پریشانیاں ساتھ ہوتے ہیں مگر پھر بھی آپ مطمئن ہوتے ہیں وہ اللہ کی نظر میں ہونے کا احساس آپکے دل کو سکون میں رکھتا ہے ,ماحول کی آزمائشیں ،مشکلیں بھی آپکے دل کا سکون نہیں چھین سکتی اگر ایک وقت میں آپ ہمت ہارتے ہیں مگر دوسرے وقت میں آپ کو ایسے لگتا ہے کہ دنیا میں آپ جیسا بہادر انسان نہیں۔ یہ احساس اور خیال نصیب ہو جانا بڑی نعمت ہے اس نعمت کو تلاش کریں اس نعمت کے ملنے کی دعا کریں اور کوشش کریں اللہ عزوجل آپ سے راضی رہیں،اللہ جس بھی حال میں رکھے آپ مطمئن ہوں اور یہ بھی یقین ہو کہ وہ آپ سے محبت کرتا ہے

    اللہ کی ذات بڑی مہربان ذات ہے اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ عزوجل آپ کی ہر بات مانیں تو آپ کو بھی اللہ کی ہر بات ماننی پڑے گی ۔اگر ماننے کے باوجود بھی کھبی آپ کسی بات سے دکھی ہوتے ہیں ،آپ کی کوئی خواہش پوری نہیں ہوتی تو تسلی رکھیں آپ کا شمار اللہ کے ان بندوں میں ہے جن کامانگنا ربِ کعبہ کو پسند ہے ،آپ کا شمار ان برگزیدہ بندوں میں ہے کہ جن کے بارے میں وہ چاہتا ہے یہ ہاتھ مجھ سے بار بار مانگیں عنقریب آپ کو آپ کی دعاؤں کی قبولیت (اجراًعظیما ) کی صورت میں آخرت میں مل جائے گی( انشاءاللہ )وہ اس لیے کہ اللہ دعاؤن کو رد تو نہیں فرماتے وہ تو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والی ہے
    اور پھر اسی مانگنے کے بعد جب آپ کسی چھوٹی یا بڑی بات سے چکنا چور ہوتے ہیں کیونکہ آپ نے معاملے کا حق بھی ادا کیا ہوتا ہے ،آپ نے دعائیں بھی کی ہوتی ہیں ،آپ نے سب کا دل بھی خوش کیا ہوتا ہے تو آپ کے اس ٹوٹے دل میں آپ سے بہت پیار کرنے والی ذات اچھلتی گیند کی طرح ذور ذور سے اپنی طرف آنے کے لیے بلا رہی ہوتی ہے اور اسی بلانے پر انسان اللہ کے پاس چلا بھی آتا ہے گویا دل اس کی طرف جانے کے لیے اچھلتا گیند بنا ہوا ہے اور کہہ رہا ہے

    "احساس کر اللہ تمہیں پیار سے دیکھ رہا ہے”

    اسی ساری داستان اور سفر کے متعلق ایک دفعہ ابو جان نے حضرت علی رضی اللہ کا ایک قول بیان کیا :
    "عرفت ربی بفسخ العزائم”
    "میں نے اللہ کو ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا ”

    خیر حقیقت میں کامیابی آخرت کی کامیابی ہے بس۔۔۔۔۔اللہ رب العزت دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرمائےیقین جانئیے اگر اللہ راضی ہو تو پرواہ نہیں ہے۔بس وہ آخرت کے امتحان میں کامیاب کر دے ہم تو سراپا محتاج ہے وہ عطا کرنے کا خزانہ ، وہ جسے چاہے عزت دے، وہ گدا کو بادشاہ بنا دینے پر قادر ،بادشاہ کو گدا بنانے پر قادر اس سے کوئی پوچھ نہیں سکتا۔
    خیر ۔۔۔۔۔

    بات ہو رہی تھی اللہ تک کے سفر کی تو اللہ سے دعا ہے
    "اللھم کن لی وجعلنی لک ”
    اے اللہ آپ میرے ہو جائیں مجھے اپنا بنا لیں آمین

    والسلام
    بنت قاضی سخاؤالدین

  • پھول۔۔۔۔۔احساس محبت۔۔۔۔اور اللہ کی قدرت

    پھول۔۔۔۔۔احساس محبت۔۔۔۔اور اللہ کی قدرت

    ایک پھول کی کلی ہے ،وہ ہر وقت پھولوں سے لگی رہتی ہے ،کھبی تو بس گہری سوچ میں انہیں تکتی رہتی ہے اور پھر تکتی ہی رہ جاتی ہے،اور کھبی خوشبو لے لے کر سکون پاتی رہتی ہے اور کھبی نرم نرم ہاتھوں سے پھولوں کی نرمی محسوس کرتی رہتی ہے اور بے اختیار اس کا دل کہہ جاتا ہے
    "سبحان اللہ بقدرتہ ”

    اور ایک اور مزے کی بات پھر ان پیارے پیارے پھولوں کو دیکھ کر ایک دم خیال اللہ کے کچھ خوبصورت ،مقرب بندوں کی طرف چلا جاتا ہے
    (ہمممم !!!سوچ رہی ہوں بتا دوں وہ کون ہیں چلیں بتا دیتی ہوں میرے استاد، میرے والدین ،میرے شیخ اور نیک ساتھی ہیں اور میری اکثر پوسٹ انہیں کے لیے ہوتی)
    اور پھر اس واقعہ کی طرف ذہن جاتا ہے جو خوبصورت مکالمہ اللہ اور حضرت موسی علیہ السلام کے درمیان ہوا تھا اور وہ واقعہ جب عاجزہ ایف ایس سی کے بعد جامعہ گئی تھی اور اسے کالج کے ماحول کے بعد مدرسہ کے پاکیزہ ماحول میں سیٹ ہونا مشکل لگتا تھا اور ظاہر ہے پاکیزہ ماحول اور گندہ ضمیر دل لگتا بھی کیسے ۔۔!!
    خیر اس وقت میرا دل لگانے میں جہاں کچھ کردار سا تھیوں کا
    تھا ،کچھ جامعہ میں لگی فریم
    "” احساس کر اللہ تجھے پیار سےدیکھ رہا ہے””
    کا تھا اور کچھ کردار با اخلاق ، با کمال ،با کردار ،صاحب بصیرت اساتذہ اکرام کا تھااور ادارے کی پرنسیپل ان کے لیے تو میرے پاس الفاظ نہیں جنہوں نےہمیشہ ،ہر وقت بڑی خندہ پیشانی سے مجھے گائیڈ کیا ،حتی کہ بسا اوقات اپنے ہاتھوں سے مجھے کھلایا ۔۔۔ میں یہ پاکیزہ تعلیمی سفر فقط اللہ سویٹ کے کرم ، امی جی کے شوق، ابو جی کی انتھک محنت ، حضرت جی کی دعاؤں اور اساتذہ کی لگن و توجہ سے کر پائی ،اللہ آپ سب کو دارین میں بھلائیاں عطا فرمائیں آمین

    خیر میں واقعہ کی سند بیان کر رہی تھی تو وہ ایک میری معلمہ جنہوں نے عالیہ ثانی میں مشکوۃ شریف پڑھائی محترمہ استانی صاحبہ ام پاکیزہ نے سنایا تھا اور اس کا ایسا اثر بھی میری ذات پر ہوا تھا کہ میں نے جامعہ پڑھنے کا حتمی فیصلہ کر لیا تھا
    انہوں نے بتایا تھا "” اللہ یہ ماحول ہر ایک کو نہیں دیا کرتے اللہ اس پاکیزہ پڑھائی کے لیے ہر ایک کو نہیں چنا کرتے بات وہی ہے” ایک دفعہ حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ سویٹ سے پوچھا تھا
    اللہ! سارے بندے نیک نہیں ہوتے آپ اس کام کے لیے کسی کسی کو کیوں چنتے ہیں ؟
    تو اللہ رب العزت نے فرمایا:
    موسی فلاں باغ سے میرے لیے پھولوں کا گلدستہ لاؤ
    جب موسی علیہ السلام گئے تو باغ میں پھول تو بہت زیادہ تھے اللہ پاک جانتے بھی تھے لیکن موسی علیہ السلام چند ہی پھولوں کو اتار کر ان کا گلدستہ بنا کر لے گئے
    اللہ سویٹ نے دریافت فرمایا : موسیٰ پھول تو اور بھی تھے آپ یہی کیوں لائے
    موسی علیہ السلام نے فرمایا:اللہ یہ پھول مجھے زیادہ اچھے لگے تھے اس لیے پہی لایا
    تو اللہ سویٹ نے فرمایا: موسی میں بھی اسی کو دین کے لیے چنتا ہوں اسے اس کام کے لیے منتخب کرتا ہوں جو مجھے پسند آئے”””

    اللہ اکبر۔۔اللہ تیری شان واہ واہ

    اور میری معلمہ جنہوں نے مجھے ہدایہ شریف پڑھائی محترمہ استانی صاحبہ ام محمد اکثر فرمایا کرتی تھیں” اللہ رب العزت ستر بار محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں تو دین کے لیے کسی کو چنتے ہیں”
    تو پھر میں نے بھی کہا کہ وردہ ذرا سوچو تو سہی کس کی محبت کی نظر تم پر پڑی؟ ایک تو محبت کی نظر جو تمہیں ویسے بھی اچھی لگتی دوسرا محبت کی نظر بھی کس کی ۔۔؟ اللہ کی ؟ اللہ سویٹ کی بس اب تو تم پڑھو گی

    پھر الحمدللہ آج وہ وقت ہے اللہ نے وہ لقب عطا فرمایا کہ جس کی نسبت اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف جاتی ہے اس کے محبوبﷺ کی طرف جاتی ہے
    اللہ ﷻان نسبتوں کی لاج رکھنے کی توفیق فرمائے اللہ قبول فر ما لیں اللہ سویٹ دارین میں بھلائیاں عطا فرمائیں حقیقی معنوں میں والدین، استاد اور شیوخ کے لیے صدقہ جاریہ بنائیں اور رب اندرونی و بیرونی ملک میں احسن طریقے سے دین کا کام لیں رب اتنا قابل بنائے کہ دین سے نفرت کرنے والے دیکھ کر محبت کرنے لگ جائیں, اللهﷻ سنت مصطفیٰﷺ کا شیدائی بنا دیں اور آخرت میں آپﷺ کے ہاتھوں حوض کوثر سے پانی پینا نصیب ہو آمین ثم آمین
    والسلام
    بنت قاضی سخاؤالدین

  • حج عام آدمی کی پہنچ میں کیسے آئے گا……؟ تحریر:محمد نورالہدیٰ

    حج عام آدمی کی پہنچ میں کیسے آئے گا……؟ تحریر:محمد نورالہدیٰ

    ایک اکانومی عمرہ فقط 3 سے 4 لاکھ روپے میں ہو جاتا ہے۔ جبکہ حج کیلئے اس سے کم از کم 5 گنا زیادہ (ابتدائی) بجٹ درکار ہوتا ہے۔ حج میں عمرہ کی نسبت چند اضافی عبادات شامل ہوتی ہیں، جن میں منیٰ، عرفات (وقوف عرفہ) اور قربانی شامل ہیں۔ مزدلفہ کا قیام، رمی بھی عمرہ سے اضافی عبادات ہیں جو حج کا حصہ ہیں۔ مسجد الحرام سے فرض کی تکمیل کے بعد مذکورہ اسفار و قیام بھی حج کے دیگر اراکین میں شامل ہیں۔

    سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان ”اضافی“ عوامل کی مد میں حاجیوں کو لاکھوں روپے اضافی دینا پڑتے ہیں۔ مذکورہ ارکان کے بغیر ہونے والا عمل یعنی، عمرہ، جس میں رہائش، ائیرپورٹ سے آنے اور واپس جانے کا سفر، مکہ سے مدینہ اور مدینہ سے واپس مکہ کا سفر وی آئی پی پیکج کے ساتھ بھی زیادہ سے زیادہ 5 لاکھ سے اوپر نہیں جاتا۔ اگر آپ نارمل (اکانومی) عمرہ پیکج کا انتخاب کریں گے تو وہ بھی زیادہ سے زیادہ ساڑھے 3 لاکھ سے 4 لاکھ تک ہوگا، اس سے زیادہ نہیں۔

    اگر حج کو دیکھا جائے تو اضافی عوامل کے ساتھ یہ بھی اتنا مہنگا نہیں ہونا چاہئے جتنا اسے کر دیا گیا ہے۔ شارٹ اور لانگ حج پیکجز کے ٹکٹ سے لے کر منیٰ، عرفات، مزدلفہ، مدینہ کے اسفار، رہائشی اخراجات اور دیگر سہولیات کا اصل ریٹس پر بریک اپ بنائیں تو یہ رقم زیادہ سے زیادہ بھی 9 لاکھ روپے سے اوپر نہیں جائے گی۔ وی آئی پی حج بھی ہو، تو زیادہ سے زیادہ 11لاکھ روپے تک بآسانی ہو جانا چاہئے۔ موجودہ حج ریٹس مکمل پیکج کے ساتھ 14 لاکھ سے شروع ہو کر 30 لاکھ تک جا رہے ہیں۔ گو، کہ عالمی مہنگائی کے باعث رہائش، مکاتب و مشائر اور دیگر کے اخراجات بڑھے ہیں۔ لیکن مختلف مدات میں ٹیکسز کے اضافے نے حج کی خواہش رکھنے والوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال کی نسبت فی حاجی 1 لاکھ روپے خرچہ بڑھا ہے۔ رہائشی اخراجات میں 80 فیصد، طعام میں 100 فیصد، ہوائی سفر کے کرایہ جات کی مد میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی ڈبل ہوئے ہیں جبکہ ویزہ فیس اور دیگر سہولیات کا خرچ بھی بڑھا ہے۔ یوں حج عام آدمی کی پہنچ سے مسلسل دور ہو رہا ہے۔

    حج کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر ہوشربا اضافہ کے تناظر میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ ایک طرف، لیکن سعودی عرب میں ٹیکسوں میں اضافہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ 2021 ء میں کورونا کی وجہ سے جب حج کو صرف سعودی باشندوں کیلئے محدود کر دیا گیا تھا، تب بھی عمومی حج حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی حساب سے تقریباً 9 لاکھ روپے کا تھا۔ جبکہ اس سے محض ایک سال قبل تک یعنی 2020ء میں حج کی پاکستانی قیمت 5 سے 6 لاکھ روپے تھی۔ بعد ازاں 2 سالوں میں اب یہ کم از کم 15 لاکھ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ گو، کہ مشکل معاشی صورتحال کے باوجود حکومت پاکستان ہر سال حجاج کی سہولت کیلئے زر مبادلہ کا انتظام کرتی ہے۔ حاجیوں کو پیکج میں اچھی خاصی سبسڈی بھی دیتی آئی ہے۔ تاہم، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدات کی وجہ سے بھی کافی مشکلات درپیش ہیں۔ اس کے باوجود حکومت پاکستان اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے کہ حجاج کو محدود بجٹ میں حج کا موقع دیا جائے۔ لیکن پاکستانی حکومت بھی آخر کتنی کوشش کر سکتی ہے، جب تک دوسرے ملک کی حکومت زائرین کیلئے ٹیکس فری انتظامات کے سلسلے میں تعاون نہ کرے۔
    یہ کس قدر بدقسمتی ہے کہ پاکستان کو اس مرتبہ حج کا کوٹہ واپس کرنا پڑا؟۔ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا مقامی ہوٹلز کو کنٹرول کرنے کیلئے وہاں کی حکومت کوئی حکمت عملی نہیں بنا سکتی؟ …… ہوٹلز کو سارا سال کمانے کا موقع ملتا ہے۔ عمرہ کی ادائیگی کیلئے پوری دنیا سے لاکھوں لوگ 24/7 بلا کسی تعطل کے اور مسلسل جا رہے ہیں۔ اکثر ایسا وقت بھی آتا ہے جب ہوٹلوں میں عمرہ زائرین کیلئے رہائشی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔ جبکہ وہاں کے کاروباری معاملات بھی ہر وقت رننگ میں رہتے ہیں۔ یعنی وہاں کے لوگ روزانہ کی بنیاد پر اچھا خاصہ کما بھی رہے ہیں اور منافع بھی لے رہے ہیں۔ اگر ان مخصوص دنوں (حج کے ایام) میں انتظامی اور دیگر متفرق اخراجات حکومتی سطح پر کم بھی کر دئیے جائیں تو اس قدر منافع ہو جاتا ہے کہ اہلیان سعودیہ کئی سال آرام سے بیٹھ کر کھا سکتے ہیں۔ لہذا اگر حج کیلئے بھی عمرہ کے دنوں والے ریٹ قائم رکھے جائیں، تو رہائش گاہوں کے ”مالی استحکام“ میں فرق نہیں آئے گا، نہ ہی کاروباری سرگرمیوں میں کمی یا عدم استحکام پیدا ہو گا …… لیکن نجانے کیوں حج اور عمرہ کو سیاحت سے منسوب کرتے ہوئے اسے منافع بخش کاروبار کے طور پر لیا جانے لگا ہے۔ دنیا میں کوئی ایک ملک، کوئی ایک مقام، کوئی ایک سفر تو ایسا ہونا چاہئے جو غیر منافع بخش اور ٹیکس فری ہو، بالخصوص اس مقدس اور مبارک سفر کو تو آسان اور قابل رسائی ہونا چاہئے۔ متعلقہ ملک کے ارباب اختیار کو اس پر سوچنا اور مثبت کردار ادا کرنا چاہئے۔

    noorulhuda
    سفرِ حجاز…… چند مشاہدات …… تجاویز (محمد نورالہدیٰ)